<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>فزکس Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/%d9%81%d8%b2%da%a9%d8%b3/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/فزکس/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Sat, 01 Jun 2024 02:41:22 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>فزکس Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/فزکس/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>ذرات (تحریر: کارلو رویلی، ترجمہ فصی ملک، زاہد امروز)</title>
		<link>https://laaltain.pk/zarraat/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/zarraat/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 13 Dec 2018 06:56:31 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[carlo rovelli]]></category>
		<category><![CDATA[elementary particles]]></category>
		<category><![CDATA[particles]]></category>
		<category><![CDATA[طبعی ذرات]]></category>
		<category><![CDATA[فزکس]]></category>
		<category><![CDATA[فزکس کے سات اسباق]]></category>
		<category><![CDATA[کارلو رویلی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23851</guid>

					<description><![CDATA[<p>چوتھا سبق: ذرات کارلو رویلی ترجمہ: زاہد امروز، فصی ملک اسی سلسلے کے مزید اسباق پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔ اس کائنات میں موجود تمام اشیاء محوِحرکت ہیں۔ روشنی بھی ذرات پر مشتمل ہے جنہیں ہم ضیایئے یا فوٹون (Photon) کہتے ہیں. روشنی کا ذرات پر مشتمل ہونا بظاہر بعید القیاس لگتا ہے. روشنی کے [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/zarraat/">ذرات (تحریر: کارلو رویلی، ترجمہ فصی ملک، زاہد امروز)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>چوتھا سبق: ذرات<br>
کارلو رویلی<br>
ترجمہ: <a href="https://laaltain.pk/author/zahid-imroz/" target="_blank" rel="noopener">زاہد امروز</a>، <a href="https://laaltain.pk/author/fasi-malik/" target="_blank" rel="noopener">فصی ملک</a></p>
<p>اسی <a href="https://laaltain.pk/category/laaltain-categories/science/seven-brief-lessons-of-physics/" target="_blank" rel="noopener">سلسلے کے مزید اسباق</a> پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</p>
<p>اس کائنات میں موجود تمام اشیاء محوِحرکت ہیں۔ روشنی بھی ذرات پر مشتمل ہے جنہیں ہم ضیایئے یا فوٹون (Photon) کہتے ہیں. روشنی کا ذرات پر مشتمل ہونا بظاہر بعید القیاس لگتا ہے. روشنی کے اس ذراتی تصوّر کو آئن سٹائن نے قابلِ فہم بنایا۔ اسی طرح ہمارے ارد گرد موجود تمام چیزیں ایٹموں سے مل کر بنی ہیں۔ ہرایٹم کا ایک مرکز(Nucleus) ہے جو الیکٹرونوں (Electrons) سے گھرا ہوتا ہے. یہ الیکٹرون اس مرکزے کے گرد ہمہ وقت گھومتے رہتے ہیں۔ ہرایٹم کا مرکزہ مضبوطی سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے پروٹونوں(Protons) اورنیوٹرونوں(Neutrons) سے مل کر بنا ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ایٹم کے مرکزمیں یہ پروٹون اور نیوٹرون بذات خود مزید چھوٹے ذرات پر مشتمل ہوتے ہیں جنھیں ‘کوارکس’ (Quarks) کہا جاتا ہے. یہ عجیب سا نام کہاں سےآیا؟ اس کی حقیقت یہ ہے کو امریکی طبیعیات دان مرّے گیلمن(Murray Gell-Mann) نے ناول نگار جیمز جوائس کی کتاب ٖFinnegans wake میں موجود ایک بے معنی سے فقرے (Three quarks for Muster Mark!) میں موجود اس بے معنی لفظ سے متاثر ہو کراِن چھوٹے ذرات کو کوارکس کا نام دیا۔ لہذٰا اس مادی دنیا میں ہر وہ چیز جس کو ہم چھوتے ہیں الیکٹرونوں اور کوارکس سے مل کر بنی ہے۔</p>
<p>ایک مخصوص طبعی قوت پروٹونوں اور نیوٹرانوں میں موجود ان ‘کوارکس’ کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے. کوارکس کے مابین یہ قوت جن ذرات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، طبیعیات دان (قدرے مضحکہ خیزی کی ساتھ) ان ذرات کو گلوآن (Gluon) کا نام دیتے ہیں۔ یعنی گوند نما ذرات۔</p>
<p>الیکٹرون، کوارکس، فوٹون اور گلوآن- یہ چارعناصر(ذرات) ہراس چیز کے بنیادی تعمیری اجزاء ہیں جواس زمین اور ہمارے ارد گرد سپیس (Space) میں گھومتی ہے۔ ذراتی طبیعیات(Particle Physics) میں انہی ” بنیادی ذرات” کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ان میں کچھ مزید ذرات کو بھی شامل کیا گیا ہے جیسا کہ تعدیل نما یا نیوٹرینو(Neutrino) جوکائنات میں ہرجگہ بلا رکاوٹ گھومتے رہتے ہیں لیکن ہم سے بہت کم تعامل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اہم بنیادی زرہ ہگز بوزان (Higgs Boson) ہے جسے حال ہی میں جنیواشہرمیں موجود تحقیقاتی لیبارٹری ‘سرن’ (CERN) کے ‘لارج ہیڈران تصادم گر’(Large Hadron Collider) میں دریافت کیا گیا ہے۔ لیکن ان بنیادی ذرات کی کُل تعداد زیادہ نہیں ہے۔ درحقیقت ان کی دس سے بھی کم اقسام ہیں۔ یہ مٹھی بھر بنیادی اجزا ہیں جو اس عظیم الجثہ کائناتی لیگو(Lego) سیٹ میں اینٹوں(Building blocks) کا کام کرتے ہیں۔ انہی چند بنیادی ذرات سے ہمارے اردگرد موجود تمام مادی حقیقت بنی ہے۔</p>
<p>ان ذرات کی ماہیت اورحرکات کو کوانٹم میکانیات کی مدد سے بیان کیا جاتا ہے۔ یہ ذرات کنکریوں کی طرح ٹھوس اور بھاری نہیں ہیں بلکہ جس طرح ضیائیہ یا فوٹون برقناطیسی میدان کا کوانٹا ہے اسی طرح یہ ذرات متعلقہ قوت کے میدان (Field) کے کوانٹا ہیں۔ یہ فیراڈے (Faraday) اور میکسویل(Maxwell) کے برقی مقناطیسی فیلڈ کی طرح مادے میں حرکت کرتے زیرِتہہ (Substratum) فیلڈ کی بنیادی توانائی کی ہیجانی حالتیں (Excited states) ہیں۔ گویا حرکت کرتی ہوئی نہایت چھوٹی چھوٹی لہریں۔ یہ چھوٹے ذرات مشاہدے کے دوران کوانٹم میکانیات کےعجیب وغریب قوانین کے تحت کبھی اوجھل ہوتے ہیں اورکبھی نمایاں ہوتے ہیں۔ کوانٹم میکانیات کے اصولوں کے مطابق کوئی بھی شئے جس کا مادی وجود ہے،کبھی مسلسل مستحکم حالت میں نہیں رہتی۔ مادے کے ان بنیادی ذرات کی حرکت ایک مخصوص مقام سے دوسرے مخصوص مقام کے درمیان محض جست ہے۔ دراصل یہ ایک سے دوسرے تعامل تک ایک ادنیٰ چھلانگ کے سوا کچھ نہیں۔</p>
<p>حتیٰ کہ ہم خلا کے کسی ایسے بالکل خالی حصے کا مشاہدہ کریں جہاں بظاہرکوئی مادی جوہریا ایٹم موجود نہ ہو،تو بھی ہم ان ذرات کے گروہوں کو وہاں موجود پاتے ہیں۔ اس مشاہدے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ کائنات میں حقیقی خلا جیسی کوئی شئے نہیں ہے۔ مثلاً بالکل ساکت سمندرمیں بھی قریب سے دیکھنے پراس کی سطح پر خواہ کتنی ہی نحیف سہی، ہلکی ہلکی لہریں موجود ہوتی ہیں۔ اسی طرح اس مادی کائنات کو تعمیر کرنے والے قوّتی فیلڈز(Fields) میں بھی ایک تھرتھراہٹ موجود ہوتی ہے۔ اس بنیاد پر یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ یہ بنیادی ذرات اپنے متعلقہ قوت کے میدانوں (Fields) کے ارتعاش سے مسلسل پیدا اور فنا ہوتے رہتے ہیں۔</p>
<p>یہ کائنات کا وہ تصور ہے جس کو کوانٹم میکانیات(Quantum Mechanics) اورذراتی نظریہ(Particle Theory) تشکیل دینے والے سائنس دان پیش کرتے ہیں۔ کائنات کی اس تشریح تک آتے آتے ہم نیوٹن (Newton)اور لپلاس (Laplace) کی میکانیاتی دنیا(Classical Mechanics) کے تصوّر سے بہت دورنکل آتے ہیں جہاں اجسام ایک غیرتغیرپذیر سپیس(Space) میں جیومیٹری کے اصولوں کے طابع اپنے منتخب رستوں پر ہمیشہ محوحرکت رہتے ہیں جب تک کوئی خارجی قوت ان پر اثراندازنہ ہو۔ لیکن کوانٹم میکانیات اورذراتی طبیعیات کے تحت کیے گئے تجربات نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ دنیا ایک مسلسل اور سکوت سے عاری چیزوں کا ہجوم ہے۔ مسلسل پیدا اور فنا ہوتے اجسام کی دنیا۔ 1960ع کی دہائی میں رونما ہونے والی ہماری ملنگ طبع (Hippy) بے چین دنیا کی طرح ارتعاشات کا مجموعہ۔ واقعات کی دنیا، نہ کہ چیزوں کی۔</p>
<p>ذراتی نظریے (Particle Theory) کی تفصیلات کو 1950، 1960 اور 1970ع کی دہائیوں میں رچرڈ فائن مین(Richard Feynman) اور مرّے گیلمن (Murray Gell-Mann) جیسے عظیم طبیعیات دانوں نے تشکیل دیا۔ تشکیل سازی کے اس عمل میں ایک گنجلک نظریہ سامنے آیا جس کی اساس کوانٹم میکانیات تھی. اس نظریے کو “ذراتی طبیعیات کا معیاری ماڈل”(Standard Model of Elementary Particles) کہا گیا جو قدرے غیررومانوی نام ہے۔ کامیاب تجربات کے نتیجے میں اس نظریے کی پیش گوئیوں کے درست ثابت ہونے کی بنا پر 1970ع کی دہائی میں اس معیاری نمونے (Standard Model) کو حتمی شکل دے دی گئی۔ اگرچہ اس کی چند نظریاتی پیش گوئیاں ابھی تجرباتی طور پرثابت ہونا باقی تھیں. بالاخر 2013 ع میں “معیاری ماڈل” (Standard Model) کے ایک بنیادی ذرے ہگز بوزون (Higgs-boson) کی دریافت سے اس کی مکمل تصدیق ہو گئی.</p>
<p>کامیاب تجربات کی لمبی فہرست کے باوجود طبیعیات دانوں نے “معیاری ماڈل” (Standard Model) کو مکمل طور پر سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیا۔ اس کی کچھ وجوہات ہیں. یہ نظریہ پہلی نظرمیں پیوند شدہ لگتا ہے۔ یہ کسی واضح ترتیب کے بغیر بہت سارے ریاضیاتی ٹکڑوں اورمساواتوں کو جوڑکربنایا گیا ہے۔ “ذراتی طبیعیات کے معیاری ماڈل (Standard Model of Elementary Particles) کے مطابق مادے کی فطری قوتوں کے میدانوں(Fields) کی ایک خاص تعداد کچھ خاص قوتوں (Forces)کے تحت آپس میں تعامل کرتی ہے. ان تعاملات کو مخصوص مستقل اعداد (Constants) کی مدد سے ہی بیان کیا جا سکتا ہے. اس کے نتیجے میں خاص قسم کا تناسب یا تشاکل(Symmetries) پایا جاتا ہے۔ یہاں سائنسی اور نظریاتی اعتراض پیش کیا جا سکتا ہے کہ قوت کے یہی خاص میدان، ان کی یہی مخصوص تعداد ہی کیوں اور ان تعاملات کے لیے یہی مخصوص مستقل اعداد ہی کیوں؟ اور نتیجتاً یہی تشاکل کیوں؟ اس نظریہ میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس میں کوانٹم میکانیات (Quantum Mechanics)اورعمومی اضافیت (General Relativity) کی مساواتوں جیسی سادگی اور ترتیب کا فقدان ہے۔</p>
<p>معیاری ماڈل (Standard Model) کی مساواتوں کی بنیاد پرمادی دنیا کے بارے میں جو پیش گوئیاں کی جاتی ہیں وہ بھی انتہائی پیچیدہ ہیں۔ جب ان مساواتوں کا براہ راست اطلاق کیا جاتا ہے تو کسی بھی ماپی جانے والی طبعی مقدارکی قیمت ناقابلِ فہم حد تک لامتناہی (Infinity) آتی ہے۔ ان مساواتوں سے با معنی نتائج حاصل کرنے کے لیے یہ فرض کرنا پڑتا ہے کہ ان میں موجود متعین مقداریں (parameter) بذات خود لامتناہی ہیں تاکہ وہ بے ترتیب نتائج کو متوازن کرکے قابلِ قبول بنائیں۔ اس پیچیدہ اورغیرمعین ریاضیاتی عمل کو “رینارملائزیشن” (Renormalization) کا نام دیا گیا ہے۔ البتہ عملی طور پراِن مساواتوں سے درست جوابات حاصل ہوتے ہیں۔ لیکن یہ ہراُس شخص کے منہ کو بدذائقہ کر دیتی ہیں جو قدرت سے سادگی کی امید رکھتا ہے۔ آئن شٹائن کے بعد بیسویں صدی کے سب سے عظیم سائنسدان پال ڈیراک(Paul Dirac)، جو کہ کوانٹم میکانیات کا عظیم معمار اور معیاری ماڈل کی اولین اور اہم مساواتوں کا مصنف بھی ہے، نے اپنی زندگی کے آخری سالوں میں بار بار یہ کہتے ہوئے عدم اطمینان کا اظہار کیا کہ ہم ابھی تک اس مسئلے کو حل نہیں کر سکے۔</p>
<p>اس “معیاری ماڈل” کی مزید محدودیت (Limitation) کا حال ہی میں ادراک ہوا جب فلکیات دانوں نے مشاہدہ کیا کہ ہر کہکشاں کے گرد کچھ بادل نما مواد موجود ہے جو ستاروں پر کشِ ثقل کی صورت میں اپنی موجودگی کا اظہار کرتا ہے اوریہ روشنی کومنحرف کرتا ہے۔ لیکن یہ بادل نما جس کے تجاذبی اثرات کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں اس کو براہ راست نہیں دیکھا جا سکتا. لہٰذا ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ یہ بادل نما مواد کن عناصرسے بنا ہے۔ اس بارے میں بہت سے مفروضے پیش کیے گئے ہیں جن میں سے کوئی بھی اس کی مکمّل وضاحت نہیں کرتا۔ یہ واضح ہے کہ وہاں کچھ ضرورموجود ہے لیکن یہ کیا ہے، ہم ابھی تک نہیں جانتے۔ تاہم اس بادل نما مواد کو“تاریک مادہ” (Dark Matter) کہا جاتا ہے۔ ابھی تک دست یاب سائنسی علم یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ معیاری ماڈل اس تاریک مادے کی توجیح پیش نہیں کرتا وگرنہ ہم اسے اب تک تجربات سے دیکھ چکے ہوتے۔ یہ ایٹموں، نیوٹرینوں (Neutrinos) اور ضیائیوں (Photons) سے مختلف کوئی چیز ہے۔</p>
<p>یہ قطعی حیران کن بات نہیں کہ زمین اور آسمان میں ایسی لاتعداد چیزیں ہوں گی جن کا ہم نے اپنے فلسفے یا طبیعیات میں ابھی خواب بھی نہیں دیکھا۔ کچھ عرصہ پہلے تک ہم نے ریڈیائی لہروں (Radio Waves) یا نیوٹرینوں (Neutrinos) کے موجود ہونے کا گمان بھی نہیں کیا تھا جو اس کائنات میں ہر جگہ موجود ہیں. بہرحال اس محدودیت کے باوجود “تاریک مادہ” اور کشش ثقل (جس کو نظریہ اضافیت کے تحت زمان و مکاں کے انحنا کی صورت میں بیان کیا جاتا ہے) کے علاوہ ہماری قابلِ فہم دنیا کے تقریباً ہر پہلو کی سائنسی توجیح بیان کرنے کے لیے یہ “معیاری ماڈل ” بہترین ہے. اب اس کی تمام سائنسی پیش گوئیوں کی تجرباتی تصدیق ہو چکی ہے۔</p>
<p>متبادل نظریات بھی پیش ہوئے لیکن تجربات نے ان کو رّد کر دیا۔ ایک قابل ذکرنظریہ جو1970ع کی دہائی میں پیش کیا گیا اوراسے SU5 کا نام دیاگیا، نے معیاری ماڈل کی ناموافق مساواتوں کو نہایت سادہ اور خوبصورت ساخت میں بدل دیا۔ اس نظریے کے مطابق یہ احتمال قابل ِقیاس ہے کہ پروٹون(Proton) کا انحطاط ہو سکتا ہے اور یہ انحطاط کرتے ہوئے الیکٹرون اور کوارکس میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ پروٹون کے انحطاط کو طبعی طور پردیکھنے کے لیے بڑی مشینیں تیار کی گئیں۔ سائنس دانوں نے قابلِ مشاہدہ پروٹونوں کے انحطاط کو دیکھنے کے لیے اپنی زندگیاں صَرف کردیں۔ دراصل ہم ایک پروٹون کے انحطاط کا مشاہدہ نہیں کرسکتے کیوں کہ یہ انحطاط پذیر ہونے میں بہت وقت لیتا ہے۔ آپ کئی ٹن پانی لیتے ہیں اورپانی کے پروٹونوں کا انحطاط دیکھنے کے لیے اسے حساس سراغ دانوں (Detectors) کے درمیان رکھ دیتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ اس تجربے میں کسی بھی پروٹون کاانحطاط نہیں دیکھا گیا۔ یہ خوبصورت نظریہ (SU5) اپنی تمام تر خوبصورتی کے باوجود بھی “خدا” کو پسند نہیں آیا۔</p>
<p>کہانی اب خود کو نئے نظریات کی شکل میں دہرا رہی ہے۔ان نئے نظریات کو “مہا تشاکلی نظریات” (Supersymmetric Theories) کہتے ہیں۔ یہ نظریات نئے ذرات کی موجودگی کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ اپنی تمام پیشہ ورانہ زندگی کے دوران میں نے اپنے ہم عصرسائنس دانوں کو مکمل یقین کے ساتھ ان ذرات کے ظہور کا انتظار کرتے دیکھا ہے۔ دن، مہینے، سال اور دہائیاں گزر گئیں لیکن “مہا تشاکلی ذرات” کا ابھی تک ظہور نہیں ہوا۔ فزکس صرف کامیابیوں کی ہی تاریخ نہیں ہے۔</p>
<p>فی الوقت ہمیں معیاری ماڈل (Standard Model)کے ساتھ ہی گزارہ کرنا ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ اس کا ریاضی اور مساواتیں سادہ اور خوبصورت نہ ہوں لیکن یہ نظریہ ہماری کائنات کی نہایت احسن طریقے سے توجیح کرتا ہے۔ لیکن کُل حقیقت کی کس کوخبرہے؟یہ بھی عین ممکن ہے کہ یہ اس ماڈل میں ریاضیاتی دل کشی موجود ہو اور ہم نے ابھی اسے اس زاویے سے دیکھا ہی نہ ہو جو اس کی خوبصورتی کوعیاں کرتا ہے۔ فی الحال یہی کچھ ہے جو ہم اس مادی دنیا کے بارے میں جانتے ہیں۔</p>
<p>مٹھی بھر بنیادی ذرات کی اقسام جو مخصوص توانائیوں کے ساتھ مسلسل مرتعش ومتغیر ہیں اوروجود اورعدم وجود کے درمیان پیدا اور فنا ہوتی رہتی ہیں۔ یہ ذرات خلا میں وہاں بھی موجود ہوتے ہیں جہاں بظاہر لگتا ہے کو کچھ نہیں ہے. یہ ذرات کائناتی حروف تہجی کے الفاظ کی طرح آپس میں مل کر کہکشاؤں، سورجوں، ستاروں، پہاڑوں، جنگلوں اور کھیتوں کی تاریخ لکھتے ہیں. اسی طرح ضیافتوں اور دعوتوں پر ہنستے مسکراتے نوجوانوں کے چہروں اورستاروں جڑے آسمان کی تاریخ بھی ہمہ اوست موجود مادے کے یہی بنیادی ذرات بیان کرتے ہیں۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/zarraat/">ذرات (تحریر: کارلو رویلی، ترجمہ فصی ملک، زاہد امروز)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/zarraat/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>روشنی کے ذرّات (تحریر: کارلو رویلی، ترجمہ: فصی ملک، زاہد امروز)</title>
		<link>https://laaltain.pk/roshani-k-zarat/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/roshani-k-zarat/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 18 Jun 2018 12:16:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Fasi Malik]]></category>
		<category><![CDATA[Light]]></category>
		<category><![CDATA[Physics]]></category>
		<category><![CDATA[Quantum Physics]]></category>
		<category><![CDATA[time and space]]></category>
		<category><![CDATA[zahid imroz]]></category>
		<category><![CDATA[آئن سٹائن]]></category>
		<category><![CDATA[روشنی]]></category>
		<category><![CDATA[زاہد امروز]]></category>
		<category><![CDATA[زمان و مکاں]]></category>
		<category><![CDATA[فزکس]]></category>
		<category><![CDATA[فصی ملک]]></category>
		<category><![CDATA[کوانٹم فزکس]]></category>
		<category><![CDATA[ہائزن برگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23653</guid>

					<description><![CDATA[<p>دوسرا سبق: روشنی کے ذرّات (کوانٹا) کارلو رویلی ترجمہ: زاہد امروز، فصی ملک اسی سلسلے کے مزید اسباق پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔ بیسویں صدی کی فزکس کے دواہم ستون،آئن سٹائن کا نظریہ عمومی اضافیت (جس کے بارے میں میَں نے گزشتہ سبق میں بات کی) اورکوانٹم میکانیات (جس کے متعلق میَں اس سبق میں [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/roshani-k-zarat/">روشنی کے ذرّات (تحریر: کارلو رویلی، ترجمہ: فصی ملک، زاہد امروز)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>دوسرا سبق: روشنی کے ذرّات (کوانٹا)<br>
کارلو رویلی<br>
ترجمہ: <a href="https://laaltain.pk/author/zahid-imroz/" target="_blank" rel="noopener">زاہد امروز</a>، <a href="https://laaltain.pk/author/fasi-malik/" target="_blank" rel="noopener">فصی ملک</a></p>
<p>اسی <a href="https://laaltain.pk/category/laaltain-categories/science/seven-brief-lessons-of-physics/" target="_blank" rel="noopener">سلسلے کے مزید اسباق</a> پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</p>
<p>بیسویں صدی کی فزکس کے دواہم ستون،آئن سٹائن کا نظریہ عمومی اضافیت (جس کے بارے میں میَں نے گزشتہ سبق میں بات کی) اورکوانٹم میکانیات (جس کے متعلق میَں اس سبق میں بات کروں گا)، اپنے بنیادی تصوّرات میں اس قدر الگ تھے کہ ایک دوسرے سے مزید مختلف نہیں ہو سکتے تھے۔ البتہ دونوں نظریات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ فطرت کی ساخت ایسی نہیں ہے جیسی بظاہر نظرآتی ہے۔ یہ اس سے کہیں زیادہ لطیف ہے. عمومی اضافیت ایک ایسا جامع علمی گوہر ہے جس کو ایک تنہا دماغ نے جنم دیا۔ یہ نظریہ کششِ ثقل،زمان و مکاں(Space and Time) کا ایک مربوط تصورہے۔ جب کہ دوسری جانب کوانٹم میکانیات یا کوانٹم فزکس نے بھی اتنی ہی تجرباتی کامیابی حاصل کی ہے اور ایسے سائنسی اور تکنیکی اطلاقات دیے ہیں جس نے ہماری روزمرہ زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے. مثال کے طور پر یہ کمپیوٹر جس پر میں یہ تجریرلکھ رہا ہوں۔ تاہم اپنے جنم سے ایک سو برس بعد بھی یہ ناقابلِ فہم پیچیدگی اورتجسس سے بھری ہوئی ہے۔</p>
<p>کہا جاتا ہے کہ کوانٹم میکانیات کا آغازعین 1900ع میں ہوا اوراس سے ایک گہرےتفکّرکی صدی نے جنم لیا۔ جرمنی کے سائنس دان میکس پلانک نےایک فرضی سیاہ جسم میں موجود برقی میدان کی ریاضیاتی پیمائش کی جب وہ جسم حالت توازن میں ہو۔ ایسا کرنے کے لیے اس نے ہوشیاری سے کام لیا اورایک ترکیب سوچی۔ اس نے فرض کیا کہ اس میدان کی توانائی قدریوں (building blocks) یا کوانٹا(Quanta) میں منقسم ہے۔ یوں سمجھیں کہ توانائی کوئی بہتی ہوئی شے نہیں، بلکہ یہ چھوٹے چھوٹے ذرات (Quanta)یا پیکٹوں کی صورت میں اپنا وجود رکھتی ہے۔ اس تصور کی رو سے ریاضیاتی پیمائش نے بالکل وہی نتائج دیے جو تجرباتی طورپرحاصل کیے گئے تھے (اور لازماً صحیح تھے)۔ لیکن یہ نتائج مروجّہ سائنسی تصورات کے بالکل منافی تھے۔</p>
<p>توانائی کو ایسی چیز گمان کیا جاتا تھا جو ایک تسلسل سے تبدیل ہوتی ہے۔ ایسا سوچنے کی کوئی وجہ نہیں تھی کہ یہ چھوٹے چھوٹے قدریوں یا ذرات سے مل کر بنی ہو سکتی ہے۔ توانائی کو چھوٹے چھوٹے ذرات گمان کرنا پلانک کے لیے بھی محض ایک حسابی کلیہ تھا اوروہ خود بھی مکمل طور پر اس کی اہمیت کو نہیں سمجھا تھا۔ ایک مرتبہ پھر، یہ آئن سٹائن ہی تھا جس نے پانچ سال بعد ایک سادہ سے تجربے کے ذریعے یہ دیکھا کہ توانائی کے یہ چھوٹے چھوٹے ذرےدراصل حقیقی ہیں۔</p>
<p>آئن سٹائن نے ثابت کیا کہ روشنی محض مسلسل لہر نہیں بلکہ ذرات یا پیکٹوں سے مل کر بنی ہے۔انہیں ہم آج ضیائیہ یا فوٹان (Photon) کہتے ہیں۔ آئن سٹائن نے اپنے مضمون کے تعارف میں لکھا کہ:<br>
“مجھے یوں لگتا ہے کہ سیاہ جسمی شعاعیں (Blackbody Radiation)، روشنی کی دمک (Fluorescence)، بالائے بنفشی شعاؤں (Ultraviolet Rays)کے ذریعےمنفی شعاعوں (Cathode Rays)کی پیداواراورروشنی کے اخراج یا تبدیلیِ ہیت کے ساتھ منسلک دوسرے عوامل کوزیادہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ روشنی کی توانائی مکاں میں غیرمسلسل انداز میں منقسم ہے۔ اس مفروضے کی مطابق ایک نقطے سے خارج ہونے والی روشنی کی شعاع مکاں میں مسلسل بڑھتے تناسب کےساتھ مساوی طورپرمنقسم نہیں بلکہ محدود مقداری روشنی کے ذرات یعنی ‘کوانٹا’ پر مشتمل ہے جوعام ذرات کی طرح خلا میں ایک خاص مقام پر موجود ہوتے ہیں اور انہیں مزید تقسیم نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ مکمل اکائی کی شکل میں خارج یا جذب کیے جا سکتے ہیں”۔</p>
<p>یہ سادہ اور واضح سطور کوانٹم میکانیات کا پیدائشی سرٹیفیکیٹ ہیں۔ حیران کن بات ہے کہ آئن سٹائن کےاس ابتدائی جملے پرغور کریں “مجھے یوں لگتا ہے۔۔۔۔”، جوکہ چارلس ڈارون کے ابتدائی جملے “میں سوچتا ہوں۔۔۔” کی یاد دہانی کراتا ہے جب اس نے اپنی تحقیقی ڈائریوں میں انواع کے ارتقا کا تصورپیش کیا تھا۔ یا فیراڈے کی وہ “ہچکچاہت” جو اس نے مقناطیسی میدان کا انقلابی تصور متعارف کراتے ہوئے ظاہر کی تھی۔ یقیناً نابغے ہچکچاتے ہیں۔<br>
ابتدا میں آئن سٹائن کے سائنسی کام کو اس کے ہم عصروں کی طرف سے ایک بہت ہی ذہین نوجوان کا “لایعنی بچپنہ“سمجھا گیا۔ لیکن بعد میں اسے اسی کام پر نوبل انعام دیا گیا۔ اگرمیکس پلانک اس نظریے کا باپ ہے تو آئن سٹائن ان والدین میں سے ہے جس نے اس کی پرورش کی۔</p>
<p>اپنےاعتراضات کی وجہ سےآئن سٹائن نےاس نظریے کا مکمّل اعتراف نہیں کیا۔ لیکن تمام بچوں کی طرح یہ نظریہ بھی اپنے رستے پر چل پڑا۔ البتہ بیسویں صدی کی دوسری اورتیسری دہائی میں نیل بوہر نے اس نظریےکو مزید مستحکم کیا۔ نیل بوہرنے یہ آگہی حاصل کی کہ جوہروں(Atoms) کےاندربرقیوں یا الیکٹرانوں (Electrons) کی توانائی بھی روشنی کی توانائی کی طرح مخصوص قیمت ہی حاصل کر سکتی ہے۔ سب سے اہم نقطہ یہ کہ الیکٹران ایک مدار سے دوسرے مدار میں ایک خاص توانائی سے ہی چھلانگ لگا سکتے ہیں اورجب وہ ایسا کرتے ہیں تو دو مداروں میں توانائی کے فرق کےبرابرایک فوٹان خارج یا جذب کرتے ہیں۔ یہ مشہورکوانٹمی جستیں (Quantum Leaps) ہیں۔ ڈنمارک کے شہرکوپن ہیگن میں واقع یہ نیل بوہرکا انسٹی ٹیوٹ ہی تھا جہاں بیسویں صدی کے ذہین ترین دماغ اس نئی جوہری دنیا کی حیران کن خوبیوں پر ہونے والی تحقیق میں ایک نظم (Order) لانے کے لیے اکٹھے ہوئے اوراس سے ایک جامع ((Coherent نظریے نے جنم لیا۔ بالآخر1925ع میں اس نظریے کی ریاضیاتی مساواتیں ظہورپذیر ہوئیں جنہوں نے نیوٹن کی میکانیات کومکمل طور پر تبدیل کردیا۔</p>
<p>ایک کامیابی کا تصور کرنا کافی مشکل ہے۔ ایک ہی دھچکے میں ہر چیز قابلِ فہم بن جاتی ہے اور آپ ہر چیز کا حساب لگا سکتے ہیں۔ ایک مثال لیتے ہیں: آپ کو مینڈلیف کا بنایا ہوا دوری جدول یاد ہے؟ جس میں ہائیڈروجن سے لے کر یورینیم تک وہ تمام عناصردرج ہیں جن سے مل کر ہماری کائنات بنی ہے اور جوہمارے اسکولوں اور کالجوں کے بہت سارے کمروں کی دیواروں پرلٹکا ہوتا ہے؟ دوری جدول میں جو عناصر موجود ہیں وہ خاص طور پراسی جگہ پر کیوں ہیں جہاں وہ ہیں اور دوری جدول کی خاص طور پر یہی ساخت کیوں ہے جس میں پیریڈ ہیں اوران کیمیائی عناصر کی مخصوص خصوصیات ہیں؟ جواب یہ ہے کہ ہرعنصرکوانٹم میکانیات کی بنیادی مساوات کے ایک خاص حل سےمطابقت رکھتا ہے۔ تمام کی تمام کیمسٹری ایک ہی مساوات سے نکلتی ہے۔<br>
اس نئے نظریے کی مساوات جو کہ دماغ کو ماؤف کر دینے والے مشکل تصورات پر مبنی تھی، کا خالق جرمنی کا ایک نوجوان نابغہ وارنر ہائزن برگ تھا۔ ہائزن برگ نے فرض کیا کہ الیکٹران ہروقت اپنا وجود نہیں رکھتے۔ یہ صرف اس وقت وجود رکھتے ہیں جب کوئی شخص یا کوئی شئے انہیں دیکھتی ہے یا پھر جب وہ کسی دوسری چیز سے تعامل کرتے ہیں۔ جب یہ کسی دوسری چیز سے ٹکراتے ہیں تو اس جگہ پر کسی خاص امکان کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں جس کا حساب لگایا جا سکتا ہے۔ایک مدار سے دوسرے مدار تک کوانٹمی جستیں ان کے حقیقی ہونے کا وسیلہ ہیں۔ ایک الیکٹران ایک تعامل سے دوسرے تعامل تک جستوں کا مجموعہ ہے۔ جب کوئی چیز اس سے تعامل نہیں کر رہی ہوتی تو یہ کسی بھی خاص مقام پر موجود نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ کہیں بھی “موجود” نہیں ہوتا۔</p>
<p>یہ بالکل ایسے ہی جیسے خدا نے حقیقت کا خاکہ تیار کرنے میں مکمل اورگہرے خط کھینچنے کی بجائے محض دھندلی اورادھوری سی کچھ نیم مکمل لائنیں کھینچ دی ہیں۔</p>
<p>کوانٹم میکانیات میں کسی بھی جسم کا کوئی خاص مقام متعین نہیں ہوتا سوائے جب وہ کسی دوسرے جسم سے ٹکراتا ہے۔ ان دو تعاملات کے درمیانی وقفے میں اسے بیان کرنے کے لیے ایک تجریدی کلیے کا سہارا لینا پڑتا ہے جس کا وجود حقیقی کی بجائے تجریدی ریاضی میں ہے۔ لیکن ابھی اس سے زیادہ پیچیدہ مسئلہ باقی ہے۔ الیکٹرانوں کی ایک مقام سے دوسرے مقام تک ان تعاملاتی جستوں (Interactive Leaps) کی پیش گوئی ممکن نہیں بلکہ مجموعی طور پر یہ بے ترتیب ہوتی ہیں۔ صرف اس امکان (Probability) کا حساب لگانا ممکن ہے کہ الیکٹران کا ظہور یہاں ہو گا یا وہاں، نہ کہ اس کا کہ اس کا ظہور کسی خاص مقام پر ہوگا۔ ان امکانات کا سوال فزکس کی اساس تک جاتا ہے جہاں بظاہرہرچیزخاص قوانین کے تحت کام کرتی محسوس ہوتی ہے اورجو ہمہ گیراورناقابلِ تغّیر ہیں۔</p>
<p>کیا یہ لامعنی محسوس ہوتا ہے؟ یہ آئن سٹائن کو بھی بے معنی ہی لگا تھا۔ ایک طرف تواس نے ہائزن برگ کے اس نظریے کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا نام نوبل انعام کے لیے تجویزکیا کہ اس نے دنیا کے بارے میں کسی بنیادی چیز کو سمجھا ہے۔ جب کہ دوسری جانب اس نے کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جہاں وہ اس نظریے کے خلاف بڑبڑا نہ سکے کہ یہ تصوّر اس کے نزدیک قرین قیاس نہیں۔</p>
<p>کوپن ہیگن کے نوجوان افسردہ تھےکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آئن سٹائن ایسا سوچے؟ان کا روحانی باپ جس نے ناقابلِ تصورکو تصورمیں لانے کی جرّات کی، اس نامعلوم (Unknown) کی جانب ایک نئی جست لگانے سے گھبرا رہا تھا جس کی بنیاد اس نےخود رکھی تھی۔ وہی آئن سٹائن جس نے ثابت کیا تھا کہ وقت ہمہ گیر نہیں ہے اور مکاں منحنی ہے، اب کہہ رہا تھا کہ دنیا “اس قدر“عجیب نہیں ہو سکتی۔</p>
<p>بوہر نے نہایت تحمل سے آئن سٹائن کوان تصورات کی وضاحت پیش کی۔ آئن سٹائن نے اعتراضات کیے۔ اس نے ان نئےتصورات میں موجود تضادات ثابت کرنے کے لیے تخیّلی تجربات (Thought Experiments) ترکیب دیے۔ روشنی سے بھرے ایک ڈبے کا تصور کریں جس سے ہم صرف ایک فوٹان کوباہرآنے دیتے ہیں اوریوں آئن سٹائن کی مشہورمثال “روشنی کے ڈبّے والا تخیلی تجربہ” کا آغاز ہوتا ہے۔ لیکن ہر بار بوہر کوئی ایسا جواب دھونڈ لیتا جس سے ان اعتراضات کو رد کیا جا سکے۔ سالوں تک ان کا مکالمہ خطوط، دروس اور مضامین کے ذریعے جاری رہا۔ تبادلہ خیال کے دوران دونوں شخصیات کو اپنے خیالات پرنظرثانی کرنےاوران کوتبدیل کرنے کی ضرورت پڑی۔ آئن سٹائن کو بالآخر یہ ماننا پڑا کہ نئے تصورات میں تضادات نہیں ہیں اور بوہر کو یہ ماننا پڑا کہ چیزیں اتنی آسان اور سادہ نہیں ہیں جتنی اس نے پہلے سمجھی تھیں۔ آئن سٹائن اس پر بالکل نرمی نہیں برتنا چاہتا تھا جو اس کے لیے سب سے اہم مسلہ تھا: کہ اس سے بالاتر کہ کون سی چیز کس سے تعامل کرتی ہے، کائنات کی ایک معروضی حقیقت موجود ہے۔ جب کہ بوہرنے اس نئے نظریے پر، جس نے حقیقت کی عمیقیت کو نئے انداز میں تصور کیا، کوئی شک نہ کیا۔ بالآخر آئن سٹائن نے مان لیا کہ یہ نظریہ دنیا کے متعلق ہماری فہم میں بہت بڑی جست ہے۔ وو اس بات پربھی قائم رہا کہ چیزیں جتنی عجیب نظرآتی ہیں اتنی ہیں نہیں۔ یقیناً ان مظاہر کے پیچھے قابل فہم وضاحت موجود ہے۔</p>
<p>آج ایک صدی بعد بھی ہم اسی مقام پرکھڑے ہیں۔ کوانٹم میکانیات کی مساواتوں اوران کے مضمرات کو طبیعیات دان، کیمیا گر، انجینئراورحیاتیات دان روزمرہ زندگی کے بہت سارے مختلف علمی میدانوں میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ مساواتیں ہم عصر ٹیکنالوجی میں بہت کار آمد ہیں۔ کوانٹم میکانیات کے بغیر الیکٹرانکس مثلاّ ٹرانسسٹر کا کوئی وجود نہ ہوتا۔ ان کےعملی استمعال کے باوجود یہ مساواتیں پر اسرار اور کسی حد تک ناقابلِ فہم رہتی ہیں۔ کیوں کہ یہ محض یہ بتاتی ہیں کہ ایک طبعی نظام دوسرے طبعی نظام پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے، یہ نہیں بتا پاتیں کہ اس تعامل کے دوران اس طبعی نظام کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔</p>
<p>اس کا مطلب کیا ہوا ؟ کہ کسی نظام کی بنیادی حقیقت ناقابلِ بیان ہے؟ کیا اس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس اس پہیلی کو حل کرنے کے لئے ایک حصّے کی کمی ہے؟ یا کیا اس کا مطلب یہ ہے( اور جو مجھے بھی لگتا ہے) کہ ہمیں اس حقیقت کو مان لینا چاہیےکہ یہ تعامل ہی اصل حقیقت ہے۔ اس سے صحیح معنوں میں ہماراعلم بڑھے گا۔ ایسا مان لیںے سے ہم وہ کچھ کرنے کے قابل ہوں گے جس کے بارے میں ہم نے ابھی تک تصوّربھی نہیں کیا۔ لیکن اس سے نئے سوالات اور نئے اسرار جنم لیتے ہیں۔ اس کے باوجود، تجربہ گاہوں میں ان نظریات کی مساواتوں کواستعمال کرنے والے اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔ لیکن مضامین اورکانفرنسوں میں جو حالیہ سالوں میں کافی بڑھ گئی ہیں، طبیعات دان اورفلسفی اپنی تلاش جاری رکھتے ہیں۔ اپنے جنم کے ایک صدی بعد آج نظریہ کوانٹم کیا ہے۔۔۔ حقیقت کی اصل ماہیت میں ایک گہری ڈبکی؟۔۔۔۔ایک صریح غلطی (Blunder) جو محض حادثاتی طور پر کام کر گئی؟۔۔۔ یا پھر دنیا کی ساخت کے بارے کسی عمیق راز کی طرف اشارہ جس کو ہم ابھی مکمل طور پر سمجھ نہیں پائے؟</p>
<p>جب آئن سٹائن فوت ہوا تو اس کے سب سےبڑے نظریاتی حریف بوہر نے اس کے لیے نہایت جذباتی تعریفانہ کلمات کہے۔ جب کچھ سالوں بعد بوہرکی وفات ہوئی تو کسی نے اس کے کمرہ مطالعہ (Study Room) کے تختہ سیاہ کی تصویر لی۔ اس کے اوپر ایک ڈرائینگ بنی ہے۔ آئن سٹائن کے “روشنی کے ڈبّے والے تخیلی تجربے کی ڈرائینگ”۔ حرفِ آخر میں: خود کو للکارنے اور زیادہ سے زیادہ سمجھنے کی خواہش اورآخر میں سب سے اہم بات: شک۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/roshani-k-zarat/">روشنی کے ذرّات (تحریر: کارلو رویلی، ترجمہ: فصی ملک، زاہد امروز)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/roshani-k-zarat/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وقت کی مختصر تاریخ؛ ایک تلخیص (باب سوئم)</title>
		<link>https://laaltain.pk/a-brief-history-of-time-chapter-3/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/a-brief-history-of-time-chapter-3/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فصی ملک]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 27 Apr 2018 06:31:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[brief history of time]]></category>
		<category><![CDATA[expanding universe]]></category>
		<category><![CDATA[Fasi Malik]]></category>
		<category><![CDATA[Physics]]></category>
		<category><![CDATA[Stephen Hawking]]></category>
		<category><![CDATA[سٹیفن ہاکنگ]]></category>
		<category><![CDATA[فزکس]]></category>
		<category><![CDATA[فصی ملک]]></category>
		<category><![CDATA[کائنات]]></category>
		<category><![CDATA[وقت کی مختصر تاریخ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23430</guid>

					<description><![CDATA[<p>سٹیفن ہاکنگ: وحدانیت پر جا کر عمومی اضافیت بھی دم توڑ جاتی ہے اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک مکمل نظریہ نہیں ہے۔ اس پیمانے پر جا کر ہمیں بیسویں صدی کی دوسرے نظریے(کوانٹم میکانیات) کو بھی عمل میں لانا ہوگا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/a-brief-history-of-time-chapter-3/">وقت کی مختصر تاریخ؛ ایک تلخیص (باب سوئم)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><strong>پھیلتی ہوئی کائنات</strong></p>
<p>کائنات کے متعلق ہماری موجودہ تصویر 1924 سے شروع ہوتی ہے جب ایڈون ہبل نے یہ ثابت کیا کہ کائنات میں ہماری کہکشاں کے علاوہ اور بھی بہت ساری کہکشائیں موجودہیں اور ان کے درمیان بہت زیادہ فاصلے ہیں۔یہ ثابت کرنے کے لیے ہبل کو ان کہکشاؤں کے فاصلے درکار تھے۔ چونکہ یہ بہت دور تھیں اس لیے اسے بالواسطہ طریقے استعمال کرنے پڑے۔کسی ستارے کی ظاہری چمک دو چیزوں پر منحصر ہوتی ہے۔ اول یہ کہ وہ ہم سے کتنا دور ہے اور دوئم یہ کہ وہ کتنی روشنی خارج کرتا ہے۔قریبی ستاروں کے لیے ہم ان کا فاصلہ اور ظاہری چمک ناپ سکتے ہیں۔لہٰذا ان کی دمک (Luminescence) معلوم کی جا سکتی ہے۔اس کے برعکس اگر کسی دوسری کہکشاں میں ہمیں کسی ستارے کی دمک معلوم ہو تو ہم اس کی ظاہری چمک سے اس کا فاصلہ ناپ سکتے ہیں۔اس نے معلوم کیا کہہ کچھ خاص طرح کے ستاروں کی دمک ایک جیسی ہوتی ہے۔ لہٰذا اس نے دلیل دی کہہ اگر ہم ایسے ہی ستارے دوسری کہکشاؤں میں دھونڈ پائیں تو ان کی دمک سے ہم ان کا فاصلہ ناپ سکتے ہیں۔</p>
<p>اس طریقے سے ہبل نے نو کہکشاؤں کے فاصلے معلوم کیے۔اب ہم جانتے ہیں کہ ہماری کہکشاں چند سو ارب کہکشاؤں میں سے ایک ہے اور اس کے ایک سرے سے دوسرے تک کا فاصلہ ایک لاکھ نوری سال ہے۔اور اس کے مرغولے (Spiral) بازوؤں میں موجود ستارے آہستہ آہستہ اس کے مرکز کے گرد گھوم رہے ہیں۔ہمارا سورج ایک پیلا درمیانے سائز کا ستارہ ہے اور اس کے ایک مرغولی بازو کے اندرونی سرے پر موجود ہے۔</p>
<p>جب ستارے ہم سے اتنے دور ہیں کہ یہ ہمیں ایک نقطے کی طرح نظر آتے ہیں تو پھر ہم ان میں تفریق کیسے کر سکتے ہیں؟نیوٹن نے معلوم کیا کہ جب سورج سے آنے والی روشنی کو منشور(Prism) میں سے گزارا جاتا ہے تو وہ مختلف رنگوں میں منقسم ہو جاتی ہے۔اس کو ہم طیف (Spectrum) کہتے ہیں۔ہم کسی بھی ستارے یا کہکشاں سے آنے والی روشنی کا طیف معلوم کر سکتے ہیں۔مختلف ستاروں سے آنے والی روشنی کا طیف مختلف ہوتا ہے۔لیکن مختلف رنگوں سے نکلنے والی روشنی کی اضافی چمک ہمیشہ ایسی ہی ہوتی ہے جیسے ایک سرخ دمکتے ہوئے جسم سے نکلنے والی روشنی کی۔اور اس کا انحصار اس جسم کے درجہ حرارت پر ہوتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم کسی ستارے کے روشنی کے طیف سے اس کادرجہ حرارت بتا سکتے ہیں۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مختلف ستاروں کی روشنی کے طیف میں کچھ خاص رنگ موجود نہیں ہوتے اور یہ ہر ستارے کے لیے مختلف ہوتے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ ہر کیمیائی عنصر کچھ خاص رنگوں کے سیٹ کو جذب کر سکتاہے۔ اس سے یہ پتالگایا جا سکتا ہے کہ کس ستارے کے کُرہ ہوائی میں کون سے عناصرموجود ہیں۔</p>
<p>1920 میں جب ہیت دانوں نے کہکشاؤں کے طیف کی جانچ شروع کی تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے طیف میں بھی وہی رنگ غائب ہیں جو ہماری کہکشاں میں ہیں۔ لیکن وہ تمام کے تمام رنگ روشنی کے طیف کے سرخ سرے کی طرف منتقل ہو چکے ہیں۔اس بات کو سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے ڈاپلر اثر (Doppler effect)کو سمجھنا ہو گا۔ ہمیں پتا ہے کہ روشنی برقناطیسی امواج پر مشتمل ہےاور مرئی روشنی ان امواج کا چھوٹا سا حصہ ہے۔ہر موج کا ایک تعدد(Frequency) ہوتا ہے جو کسی کاص رنگ کو ظاہر کرتا ہے۔اگر روشنی کا ایک منبع ہم سے ایک مستقل فاصلے پر موجود ہے تو وہ جو امواج خارج کرے گا ان کا تعدد ہمارے لیے مستقل ہو گا۔یعنی ایک سیکنڈ میں ہم تک پہنچنے والی امواج کی تعداد مستقل رہے گی۔لیکن اگر منبع ہماری طرف حرکت کر رہا ہو تو یہ تعداد مستقل نہیں رہتی۔بلکہ ان کا تعدد بڑھنے لگتا ہے۔ اس وجہ سے جو روشنی ہم تک پہنچتی ہے وہ طیف کے نیلے سرے کی طرف منتقل ہو چکی ہوتی ہے۔ اس کو نیلا انتقال (Blue Shift) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر منبع ہم سے دور جا رہا ہو تو روشنی سرخ سرے کی طرف منتقل ہو جاتی ہے، اس کو سرخ انتقال (Red Shift) کہا جاتا ہے۔ رفتار اور تعدد کے درمیان اس تعلق کو ڈاپلر اثر کہا جاتا ہے۔</p>
<p>1929 میں ہبل نے یہ مشاہدہ کیا کہ وہ کہکشائیں جو ہم سے زیادہ دور ہیں وہ زیادہ رفتار سے ہم سے دور جا رہی ہیں۔یعنی کہکشاں کے فاصلے اور رفتار میں راست تناسب ہے۔اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ کائنات ساکن نہیں ہے بلکہ پھیل رہی ہے۔</p>
<p>نیوٹن کے تجاذبی نطریے سے یہ بات آسانی سے اخذ کی جا سکتی تھی کہ کائنات پھیل رہی ہے لیکن ساکن کائنات کے بارے میں ہمارہ عقیدہ اتنا پختہ تھا کہ سب اس کے ساکن ہونے کی تاویلیں تلاش کرتے رہے۔حتیٰ کہ آئن سٹائن بھی ساکن کائنات کا حامی تھا۔حالانکہ اس کی عمومی اضافیت کی مساواتیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کائنات پھیل رہی ہے۔لیکن اس نے اس کو ساکن بنانے کے لیے ایک نئی ٹرم(Term) متعارف کرا دی جو کونیاتی مستقل (Cosmological Constant) کہلاتی ہے۔یہ ایک رد تجاذبی قوت ہے جو یہ بتاتی ہے کہ زمان و مکان میں خود سے پھیلنے کی خوبی موجود ہے۔ جو مادہ اور توانائی سے پیدا ہونے والی کشش کو منسوخ کرتی ہے اور نتیجتاً ہمیں ایک ساکن کائنات ملتی ہے۔ان سب میں صرف ایک بندہ ایسا تھا جو عمومی اضافیت کی مساواتوں کو ایسے ہی لے رہا تھا جیسا مطلب وہ بتاتی ہیں۔اس نے ان کی وضاحت کا ذمہ اٹھایا۔</p>
<p>فرائیڈ مین نے دو سادہ سے مفروضے فرض کیے۔ اول یہ کہ ہم جس سمت بھی دیکھیں کائنات ایک جیسی ہی نطر آتی ہے۔ اور دوئم یہ کہ ہم کائنات میں جس جگہ پر بھی کھڑے ہو کے دیکھیں ایسا ہی دکھے گا۔</p>
<p>حال ہی میں ان دونوں مفروضوں کے بہت زبردست شواہد ملے ہیں۔1965 میں دو سائنسدان، آرنو پینزیاس (Arno Penzias)اور رابڑٹ ولسن (Robert Wilson) ایک خرد موجی شناسندے(Detector) کی آزمائش کر رہے تھے لیکن اس میں بار بار ان چاہا شور(Noise) موصول ہو رہا تھا۔ جب انہوں نے تمام ممکنہ خامیوں کو بھی دور کر دیا تب بھی یہ شور یا سگنل ویسے ہی رہے۔ انہیں اس بات کا اندازہ تھا کہ یہ سگنل کُرّہ ہوائی کے اندر سے نہیں آرہے کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تو اس وقت کم سگنل موصول ہوتے جب شناشندہ سیدھا اوپر کی جانب ہوتا بہ نسبت اس کے جب وہ افق کی طرف ہوتا کیوں کہ افق کی جانب سے آتے ہوئے ان کو زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا۔مزید یہ کہ یہ سگنل دن، رات، مہینے اور سال بھر ایک جیسے ہی تھے۔</p>
<p>اب ہم جانتے ہیں کہ چونکہ یہ سگنل ہر سمت سے ایک جیسے ہی موصول ہوتے ہیں لہٰذا یہ ساری مشاہداتی کائنات کا سفر طے کر کے آتے ہیں جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کائنات ہر سمت میں ایک جیسی ہی دکھائی دیتی ہے۔ آرنو پینزیاس اور رابڑٹ ولس کو اس دریافت پر 1978 میں نوبل انعام سے نوازہ گیا۔</p>
<p>فرائیڈمین کا پہلا مفروضہ اس بات کی طرف اشارہ دیتا ہے جیسے ہمارا کائنات میں کوئی خاص مقام ہو لیکن اس کی ایک متبادل تصریح بھی ہے کہ اگر ہم کسی اور کہکشاں سے دیکھیں تب بھی کائنات ایک جیسی ہی دکھے گی۔ جو کہ فرائیڈمین کا دوسرا مفروضہ ہے۔ہمارے پاس اس بات کو ماننے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ ہم اس کو صرف عاجزانہ طو پر مانتے ہیں کہ کائنات ہر نقطے سے ایک جیسی ہی دکھے۔ یہ صورتحال ایک ایسے غبارے کی طرح ہے جس پر مساوی فاصلے پر نشانات لگے ہوں۔ جب ایسے غبارے کو پھلایا جائے گا تو ہر نشان دوسرے سے دور ہوتا جائے گالیکن کسی کو بھی مرکز نہیں کہا جا سکتا۔ یہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ دو نقاط ایک دوسرے سے جتنے دور ہوں گے وہ اتنی ہی تیزی سے ایک دوسرے سے دور جائیں گے۔یعنی سرخ انتقال فاصلے کے راست متناسب ہے۔ اسی مظہر کو ایڈون ہبل نے بھی دریافت کیا۔</p>
<p>اپنے دو مفروضوں کو بنیاد بنا کر فرائیڈمین نے کائنات کا ایک ماڈل ڈھونڈا۔ لیکن حقیقت میں ایسا ایک نہیں بلکہ تین ماڈل ہیں۔<br>
پہلے ماڈل میں کائنات پھیل رہی ہے لیکن اس کے پھیلنے کی رفتار وقت کے ساتھ کم ہو رہی ہے۔باالفاظ دیگر کہکشاؤں کے درمیان موجود کششِ ثقل ان کہکشاؤں کو ایک دوسرے کی طرف کھینچنا شروع کرد ے گی۔ اس طرح کی کائنات میں کہکشائیں صفر فاصلے سے پھیلنا شروع کرتی ہیں پھر ان کے درمیان فاصلہ فاصل قیمت کو پہنچتا ہے اور پھر کم ہوتے ہوتے صفر کو پہنچ جاتا ہے۔ یہی ماڈل فرائیڈ مین نے بھی دیا تھا۔</p>
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/fried-man-model-1-Laaltain.jpg"><img fetchpriority="high" decoding="async" class="alignnone size-full wp-image-23470" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/fried-man-model-1-Laaltain.jpg" alt width="890" height="395" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/fried-man-model-1-Laaltain.jpg 890w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/fried-man-model-1-Laaltain-300x133.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/fried-man-model-1-Laaltain-768x341.jpg 768w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/fried-man-model-1-Laaltain-600x266.jpg 600w" sizes="(max-width: 890px) 100vw, 890px"></a></p>
<p>دوسری قسم کے ماڈل میں کائنات اتنی تیزی سے پھیل رہی ہے کہ کشِ ثقل کبھی اس کو روک نہیں پاتی۔ ایسی کائنات میں اجسام صفر فاصلے سے پھیلنا شروع کرتے ہی اور پھر یکساں رفتار سے پھیلتے ہی جاتے ہیں۔</p>
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/fried-man-model-2-Laaltain.jpg"><img decoding="async" class="alignnone size-full wp-image-23471" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/fried-man-model-2-Laaltain.jpg" alt width="890" height="395" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/fried-man-model-2-Laaltain.jpg 890w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/fried-man-model-2-Laaltain-300x133.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/fried-man-model-2-Laaltain-768x341.jpg 768w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/fried-man-model-2-Laaltain-600x266.jpg 600w" sizes="(max-width: 890px) 100vw, 890px"></a></p>
<p>تیسری قسم کے ماڈل میں جیسے جیسے کائنات پھیلتی ہے اس کے پھیلنے کی رفتار بتدریج کم ہوتی جاتی ہے لیکن یہ کبھی بھی اتنی کم نہیں ہوتی کہ کششِ ثقل ان کو واپس صفر فاصلے پر کھینچ سکے۔</p>
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/fried-man-model-3-Laaltain.jpg"><img decoding="async" class="alignnone size-full wp-image-23472" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/fried-man-model-3-Laaltain.jpg" alt width="890" height="395" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/fried-man-model-3-Laaltain.jpg 890w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/fried-man-model-3-Laaltain-300x133.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/fried-man-model-3-Laaltain-768x341.jpg 768w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/fried-man-model-3-Laaltain-600x266.jpg 600w" sizes="(max-width: 890px) 100vw, 890px"></a></p>
<p>پہلے فرائیڈمین ماڈل کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں کائنات سپیس میں لامتناہی نہیں ہے۔اور نہ ہی سپیس کہ کوئی حدہے۔اس میں تجاذب اتنا قوی ہے کہ سپیس کو خود پر ہی منحنی کر دیتا ہےیہ بالکل زمین کی سطح کی طرح ہے جس پر اگر آپ ایک سمت میں چلنا شروع کر دیں تو واپس اسی جگہ پر پہنچ جائیں گے جہاں سے چلنا شروع کیا تھا۔ لیکن یہ سطح سہ جہتی ہے۔</p>
<p>پہلی طرح کے فرائیڈ مین ماڈل میں سپیس زمین کی سطح کی طرح بندہے لہٰذا یہ وسعت میں محدود ہے۔دوسری طرز کے ماڈل میں اس کی شکل زین (Saddle) کی طرح ہے اور لہٰذا یہ وسعت میں لامتناہی ہے۔تیسرے اور آخری فرائیڈمین ماڈل میں یہ مستوی ہے اور وسعت میں لامتناہی ہے۔<br>
لیکن کون سا فرائیڈمین ماڈل ہماری کائنات کو بیان کرتا ہے یہ دیکھنے کے لیے ہمیں کائنات کے پھیلاؤ کی شرح اور اس کی اوسط کثافت کا پتا ہونا چاہیے۔اور اس کی کثافت ایک خاص قیمت (جس کا تخمینہ اس کی پھیلاؤ کی شرح سے ملے گا) سے کم ہوئی تو کششِ ثقل اس کو روکنے میں ناکام رہے گی اور یہ ہمیشہ پھیلتی جائے گی۔ اور اگر کثافت اس فاصل قیمت سے زیادہ ہوئی تو ثقل اس کو واپس کھینچ لے گی اور یہ منہدم ہو جائے گی۔</p>
<p>پھیلاؤ کی شرح کو ہم ڈاپلر اثر سے ناپتے ہیں کہ کہکشائیں ہم سے کس رفتار سے دور جا رہی ہیں۔ اس حساب سے کائنات ہر ایک ارب سال میں پانچ سے دس فیصد پھیلتی ہےتاہم اس کی اوسط کثافت میں غیر یقینیت بہت زیادہ ہے۔ اگر ہم اپنی اور دوسری کہکشاؤں میں موجود ستاروں کی کمیت کو جمع کریں تو یہ کمیت پھلاؤ کو روکنے کے لیے درکار کمیت سے ایک سو گنا کم ہے۔ تاہم ہم جانتے ہیں کہ ستاروں اور کہکشاؤں کے درمیان تاریک مادہ موجود ہے اور اس کی کمیت کو بھی شامل کر لیا جائے تب بھی یہ کمیت پھیلاؤ کو روکنے کے لیے درکار کمیت سے دس گنا کم ہے۔ لہٰذا ہمارا موجودہ اندازہ یہ ہے کہ کائنات پھیل رہی ہے۔</p>
<p>فرائیڈمین کے تمام حل یہ بتاتے ہیں کہ آج سے تقریباً دس سے بیس ارب سال قبل کہکشاؤں کے درمیان فاصلہ صفر رہا ہو گا۔ اور کائنات کی کثافت اور سپیس کا انحنا لامتناہی ہو گا۔ اس کو اب بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ چونکہ ریاضی لامتناہی اعداد کا حساب نہیں لگا سکتی اس لیے اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہاں پر عمومی اضافیت بذاتِ خود لایعنی ہو جاتی ہے۔اس نقطے کو ریاضی دان وحدانیت(Singularity) کا نام دیتے ہیں۔ہمارے تمام نظریات میں یہ فرض کیا گیا ہے کہ زمان و مکان مستوی ہےاس کا مطلب یہ ہوا کہ وحدانیت پر یہ تمام لایعنی ہو جاتے ہیں۔اس کا یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ وہ تمام واقعات جو بگ بینگ سے پہلے وقوع پذیر ہوئے ان کا بگ بینگ کے بعد والے واقعات پر کوئی اثر نہ ہو گا۔یاپھر جو کچھ بگ بینگ کے بعد ہوا ہے اس کو استعمال کر کے یہ معلوم نہیں کیا جا سکتا کہ بگ بینگ سے پہلے کیا ہوا تھا۔ لہٰذا وہ تمام واقعات جو بگ بینگ سے پہلے ہوئے ان کو کسی تھیوری کا حصہ نہیں ہونا چاہیے لہٰذا ہم یہ کہتے ہیں کہ وقت کا آغاز بگ بینگ سے ہوا۔</p>
<p>بہت سارے لوگوں کو بگ بینگ کا تصور پسند نہ آیااس کی ایک مثال مستقل حالتی کائناتی نظریہ (Steady State Universe)ہے جو 1948 میں ہرمن بونڈی، فریڈ ہوئل اور ٹامس گولڈ نے پیش کیا۔ اس کے مطابق جیسے جیسے کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں ان کے درمیان نیا مادہ تخلیق ہو رہا ہے۔جس کی وجہ سے کائنات ایک جیسی ہی دکھتی ہے۔تاہم 1950 اور 1960 میں ہونے والے ریڈیائی موجوں کے مطالعے سے پتا چلا کہ کائنات در حقیقت پھیل رہی ہے۔ اس مطالعے میں موجود سائنسدانوں نے زمین پر موصول ہونے والی ریڈیائی لہروں کا مطالعہ کیا۔ اس میں دیکھا گیا کہ کچھ سگنل بہت قوی جب کہ دوسرے نحیف ہیں۔ اس کی تاویل یوں کی گئی کہ قوی سگنل قریب جب کہ نحیف دور کی کہکشاؤں سے موصول ہو رہے ہیں۔ لیکن پھر یہ بھی دیکھا گیا کہ مشترکہ منبوں کے سپیس کے اکائی حجم میں قوی کی نسبت نحیف منبوں کے اشاروں کی شدت زیادہ ہے، اس کی تاویل یہ تھی کہ ماضی میں یہ نحیف اشاروں کے منبے بھی ہمارے قریب قریب تھے جو اب دور جا چکے ہیں۔ باالفاظِ دیگر کائنات پھیل رہی ہے۔ اس نے مستقل حالتی کائناتی نظریے کا خاتمہ کر دیا۔</p>
<p>اس سوال کا جواب کہ کیا عمومی اضافیت بگ بینگ اور وقت کے آغاز کی پیش گوئی کرتی ہے برطانوی سائنسدان راجر پین روز نے دیا۔ راجر پین روز نے 1965 میں یہ ثابت کیا کہ جب کوئی ستارہ اپنی ہی کشش کے تحت منہدم ہوتا ہے تو اس کاحجم صفر ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمان و مکان کا انحنا لامتناہی ہو جاتا ہے۔ باالفاظِ دیگر زمان و مکان میں واحدانیت موجود ہے جو بلیک ہول کہلاتا ہے۔</p>
<p>پہلے پہل یوں لگا کہ پین روز کا تھیورم صرف ستاروں پر لاگو ہوتا ہے اور اس کا بگ بینگ یا واحدانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔میں نے اس تھیورم کو 1965 میں پڑھا۔ میں نے دیکھا کہ یہ تھیورم تب بھی اپنی حالت برقرار رکھتا ہے اگر آپ وقت کی سمت بدل دیں۔مطلب اگر انہدام پھیلاؤ بن جائے تب بھی۔ یعنی اگر آپ یہ سوچیں کہ کوئی ستارہ منہدم ہو کر وحدانیت کی طرف جانے کی بجائے وحدانیت سے شروع ہو کر باہر کی طرف پھیل رہا ہے۔یہ دلیل یہ ثابت کرتی ہے کہ فرائیڈ مین کی طرح کی کوئی بھی کائنات وحدانیت سے شروع ہوئی ہو گی۔1970 میں پین روز اور میں ریاضیاتی طور پر یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ اگر عمومی اضافیت صحیح ہے تو کائنات کا آغاز درحقیقت بگ بینگ سے ہی ہونا چاہیے۔ شروع میں کچھ حلقوں سے اس کی مخالفت کی گئی لیکن ایک ریاضیاتی تھیورم کے سامنے یہ مخالفت زیادہ دیر نہ ٹھہر پائی۔ ا ب تقریباً تمام سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ بگ بینگ ہی کائنات کا نقطہِ آغاز ہے۔لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر میں نے اپنا ذہن بدل لیا ہے اور سائنسدانوں کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ کائنات کے آغاز میں کوئی وحدانیت نہیں تھی۔ اس پر مزید بحث بعد میں آئے گی۔</p>
<p>چونکہ وحدانیت پر جا کر عمومی اضافیت بھی دم توڑ جاتی ہے اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک مکمل نظریہ نہیں ہے۔ اس پیمانے پر جا کر ہمیں بیسویں صدی کی دوسرے نظریے(کوانٹم میکانیات) کو بھی عمل میں لانا ہوگا۔ اور پھر عمومی اضافیت اور کوانٹم میکانات کے سنگم سے کوانٹم تجاذبی نظریے یا نظریہِ کل کی طرف جائیں گے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/a-brief-history-of-time-chapter-3/">وقت کی مختصر تاریخ؛ ایک تلخیص (باب سوئم)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/a-brief-history-of-time-chapter-3/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وقت کی مختصر تاریخ؛ ایک تلخیص (باب دوئم)</title>
		<link>https://laaltain.pk/a-brief-history-of-time-chapter-2/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/a-brief-history-of-time-chapter-2/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فصی ملک]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 07 Apr 2018 10:31:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[A Brief History of Time]]></category>
		<category><![CDATA[Physics]]></category>
		<category><![CDATA[Stephen Hawking]]></category>
		<category><![CDATA[Time]]></category>
		<category><![CDATA[سٹیفن ہاکنگ]]></category>
		<category><![CDATA[فزکس]]></category>
		<category><![CDATA[وقت]]></category>
		<category><![CDATA[وقت کی مختصر تاریخ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23342</guid>

					<description><![CDATA[<p>سٹیفن ہاکنگ: مطلق سکون کے عدم وجود کا مطلب یہ ہے کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ دو واقعات جو مختلف مقامات پر وقوع پذیر ہوتے ہیں وہ ایک ہی مقام پر ہوئے ہیں یا نہیں۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/a-brief-history-of-time-chapter-2/">وقت کی مختصر تاریخ؛ ایک تلخیص (باب دوئم)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">باب دوئم<br>
زمان اور مکان</div>
<p>کائنات کے بارے میں ہمارے موجودہ تصورات گلیلیو اور نیوٹن سے شروع ہوتے ہیں۔اس سے قبل ارسطو کے تصورات رائج تھے۔ ارسطو کے مطابق اجسام کی فطری حالت سکون کی ہے اور وہ اسی وقت حرکت کرتے ہیں جب ان پر کوئی قوت عمل کرتی ہے۔ اس حساب سے بھاری اجسام زمین کی جانب زیادہ تیزی سے گریں گے کیوں کہ ان پر زیادہ قوت عمل کرتی ہے۔</p>
<p>ارسطاطالوی روایت کے مطابق کائنات کے قوانین کو محض تخیل سے سمجھا جا سکتا ہے اور اس کے لیے کسی مشاہدے کی ضرورت نہیں ہے۔شاید اسی وجہ سے گلیلیو تک کسی نے ارسطو کے عقائد کو تجربے کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش نہ کی۔ کہا جاتا ہے کہ گلیلیو نے مختلف اجسام کو پیسا کے مینار سے گرا کر ان کی رفتاریں ماپیں۔ لیکن یہ کہانی غیر مستند ہے۔ پر گلیلیو نے اس جیسا کچھ کیا ضرور تھا۔اس نے اجسام کو سلوپ(Slope) پر سے لڑکھڑایا تھا۔ مثال کے طور پر ایک سلوپ جو لمبائی میں دس میٹر ہو اوراونچائی میں ایک میٹر ہو تو اس پر سے لڑکھڑائے گئے اجسام کی رفتار ایک میٹر فی سیکنڈ کے حساب سے بڑھے گی۔یعنی ایک سیکنڈ کے بعد اس کی رفتار ایک میٹر فی سیکنڈ ہوگی، دو سیکنڈ کے بعد دو میٹر فی سیکنڈ اور اسی طرح بڑھتی جائے گی۔اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سیسے کا کُرہ ایک پر (Wing) کی نسبت زیادہ تیزی سے گرے گا لیکن یہ اس لیے ہے کیوں کہ اس پر ہوا کی زیادہ مزاحمت عمل کرتی ہے۔اگر مزاحمت کو ختم کر دیا جائے تو دونوں ایک ساتھ گریں گے۔</p>
<p>گلیلیو کے ان تجربات کو نیوٹن نے اپنے قوانینِ حرکت کی بنیاد بنایا۔گلیلیو کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ قوت کا اصل کام اجسام کی رفتار کو تبدیل کرنا ہے۔یعنی اس میں اسراع کا پیدا ہونا ہے۔ یہ نیوٹن کا دوسرا قانون کہلاتا ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ اگر کسی جسم پر قوت عمل نہ کرے تو وہ یکساں رفتار سے حرکت کرتا رہے گا۔یہ نیوٹن کا پہلا قانون ہے۔ یہ قوانین پہلی بار نیوٹن کی کتاب ریاضیاتِ فطری فلسفہ میں چھپے۔</p>
<p>ارسطو اور گلیلیو اور نیوٹن کے تصورات کے درمیان اہم فرق یہ ہے کہ ارسطو کے مطابق اجسام کی فطری حالت سکون کی ہے۔جب کہ نیوٹن کے قوانین یہ بتاتے ہیں کہ سکون کا کوئی حتمی میعار نہیں ہے۔ہو سکتا ہے ایک جسم جو مشاہد الف کے مطابق سکون میں ہے وہ مشاہد ب کے مطابق حرکت میں ہو۔مثال کے طور پر اگر ہم کچھ دیر کے لیے زمین کی محوری حرکت کو نظر انداز کر دیں تو کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ آیا کہ زمین ساکت ہے اور ریل گاڑی شمال کی طرف حرکت میں ہے یا ریل گاڑی ساکت ہے اور زمین جنوب کی طرف حرکت میں ہے۔مطلب یہ کہ اگر کوئی ریل گاڑی میں کچھ تجربات کرے تو اس پر بھی نیوٹن کے قوانین ایسے ہی لاگو ہوں گے جیسے زمین پر ہوتے ہیں۔لہٰذا یہ بتانے کا کوئی حتمی طریقہ نہیں ہے کہ ریل گاڑی حرکت میں ہے یا زمین۔</p>
<p>مطلق سکون کے عدم وجود کا مطلب یہ ہے کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ دو واقعات جو مختلف مقامات پر وقوع پذیر ہوتے ہیں وہ ایک ہی مقام پر ہوئے ہیں یا نہیں۔ فرض کریں ایک سم سم والا گیند ریل گاڑی کے اندر ایک جگہ پر دو ٹپے کھاتا ہے۔ ریل گاڑی میں موجود مشاہد کے مطابق گیند ایک ہی جگہ پر دو ٹپے کھائے گا جب کہ زمین پر موجود مشاہد کے مطابق گیند دو مختلف جگہوں پر ٹکرائے گا جو ایک دوسرے سے اتنا دور ہیں جتنا ایک سیکنڈ میں ریل گاڑی فاصلہ طے کرتی ہے۔مطلق سکون کا عدم وجود یہ بتاتا ہے کہ ہم اجسام کو مطلق مقام (یا مطلق سپیس )فراہم نہیں کر سکتے۔</p>
<p>ارسطو اور نیوٹن دونوں مطلق زمان پر یقین رکھتے تھے۔ ان کے مطابق وقت ہر مشاہد کے لیے ایک جیسا رہتا ہے۔ لیکن وقت مطلق اس وقت تک رہتا ہے جب تک اجسام بہت کم رفتار سے حرکت کرتے ہیں۔ جب اجسام کی رفتار روشنی کی رفتار کے قریب پہنچنے لگتی ہے تو وقت بھی مطلق نہیں رہتا۔<br>
اس بات کی تصدیق کہ روشنی کی رفتار متناہی ہے سب سے پہلے اولے روئمر نے1676 میں کی۔ اس کے دیکھا کہ مشتری کے چاند کا اس کے پیچھے جانے اور پھر دوبارہ سے ظاہر ہونے کا وقت ایک جیسا نہیں تھا۔ اس نے کہا کہ چونکہ زمین اور مشتری دونوں ہی سورج کے گرد چکر لگاتے ہیں اس لیے ان کا درمیانی فاصلہ بدلتا رہتا ہے۔جس کی وجہ سے بعض اوقات مشتری کے چاند جلدی نظر آتے ہیں جب کہ بعض دفعہ یہ کافی دیر سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اس نے اس وقت کے موجود ڈیٹا (Data)کی مدد سے روشنی کی رفتار کی پیمائش بھی کی جو کہ ایک لاکھ چالیس ہزار میل فی سیکنڈ تھی۔ یاد رہے کہ روشنی کی موجودہ رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے۔</p>
<p>روشنی کی اشاعت کی پہلی تھیوری 1865 میں جیمز میکسویل نے پیش کی۔ میکسویل کی مساواتیں یہ بتاتی ہیں کہ روشنی موجوں کی صورت میں ایک مستقل رفتار سے سفر کرتی ہے۔ نیوٹن کی تھیوری نے پہلے ہی مطلق مکان کے تصور کو جھٹلا دیا تھا تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ روشنی کی یہ مستقل رفتار کس کے حساب(relative) سے ہے۔ سائنسدانوں کا خیال تھا کہ روشنی کہ یہ رفتار ایتھر(Ether) کے ریلیٹو ہے۔ ایتھر ایک فرضی میٹیریل ہے جو ساری کائنات میں پھیلا ہوا ہے اور روشنی اس میں سے سفر کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمین بھی ایتھر کے اندر سے سفر کرتی ہے تو سورج کی طرف سے آنے والی روشنی کے رفتار زیادہ ہونی چاہیے جب زمین سورج کی طرف جا رہی ہو بہ نسبت اس کے جب یہ اس سے دور جا رہی ہے۔ اس چیز کو دیکھنے کے لیے مائکلسن اور مورلے نے 1881 میں ایک تجربہ کیا جس کا مقصد درج بالا پیش گوئی کو جانچنا تھا۔ لیکن اس کے تجربے کے نتائج کے مطابق روشنی کی رفتار مستقل رہتی ہے چاہے آپ (زمین) جس سمت میں بھی سفر کریں۔1887 اور 1905 کے درمیان اس تجربے کے نتائج کی بہت ساری تاویلیں پیش کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی بھی کارگر ثابت نہ ہوئی۔ 1905 میں البرٹ آئن سٹائن نے کہا کہ اگر ہم یہ مان لیں کہ وقت مطلق نہیں ہے تو ہمیں ایتھر کے تصور کی ضرورت نہیں پڑے گی۔</p>
<p>خصوصی نظریہ اضافیت یہ کہتا ہے کہ اس چیز سے بالا تر کہ وہ کس رفتار سے حرکت کر رہے ہیں، فزکس کے قوانین تمام مشاہدوں کے لیے ایک جیسے رہتے ہیں۔ یہ بات نیوٹن کا نظریہ پہلے ہی بتا چکا تھا لیکن اب اس میں میکسویل کے نظریے کو بھی شامل کر لیا گیا۔ یعنی تمام مشاہد ین کے لیے روشنی کی رفتار مستقل رہے گی۔ نظریہ اضافیت کے نہایت ہی شاندار نتائج ہیں۔ اس میں پہلا کمیت اور توانائی کی برابری ہے جس کو مشہور مساوات E=mc2 کی شکل میں لکھا جاتا ہے۔ ایک اتنا ہی شاندار نتیجہ وہ ہے جس نے زمان و مکان کے متعلق ہمارے تصورات کو یکسر بدل دیا۔ نیوٹن کا نظریہ یہ کہتا ہے کہ اگر آپ کوئی اشارہ یا سگنل ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجتے ہیں تو مختلف رفتار سے حرکت کرنے والے مشاہد ایک ہی وقت ماپیں گے کیوں کہ نیوٹن کے نظریے میں وقت مطلق ہے لیکن وہ اس بات پر متفق نہیں ہوں گے کہ روشنی نے کتنا فاصلہ طے کیا کیوں کہ سپیس یا مکان مطلق نہیں ہے۔ لہٰذا ان کے لیے روشنی کی رفتار جو کہ فاصلے اور وقت کا حاصلِ ضرب ہوتی ہے، مختلف ہو گی۔ لیکن آئن سٹائن کی تھیوری میں چونکہ روشنی کی رفتار مستقل ہے اس لیے مختلف مشاہد فاصلے کو ابھی بھی مختلف ہی ماپیں گے۔ لیکن چونکہ اب روشنی کی رفتار مستقل ہے اس لیے وہ وقت جو کہ فاصلے اور روشنی کی رفتار کا حاصلِ تقسیم ہے اس کو بھی مختلف ماپیں گے۔بالالفظِ دیگر نظریہِ اضافیت نے مطلق زمانے کے تصور کو ختم کر دیا۔</p>
<p>ذیل میں دی گئی شکل میں ایک واقعے (Event) کی پیمائش کی جاتی ہے۔ ریڈار سے ایک اشارہ اس جگہ پر بھیجا جاتا ہے جہاں پر کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے۔ اشارے کا کچھ حصہ منعکس ہوتا ہے اور ایک اور وقت پر اسے پھر سے ریڈار کی مدد سے حاصل کر لیا جاتا ہے۔ واقعے کا وقت کل وقت کا آدھا ہوگا (جیسا کہ شکل میں دیکھایا گیا ہے)۔ اور واقعہ کس جگہ پر رونما ہوتا ہے اس کو وقت اور روشنی کی رفتار کے حاصلِ ضرب سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ذیل میں دی گئی تصویر زمانی مکانی ڈائیگرام کی ایک مثال ہے۔ مختلف مشاہد جو ایک دوسرے کے لحاظ سے حرکت میں ہوں گے وہ اس واقعے کے رونما ہونے کی زمان اور مکان کی مختلف قیمتیں ماپیں گے اور کسی بھی مشاہد کی پیمائش کو کسی دوسرے کی پیمائش پر کوئی برتری حاصل نہ ہو گی۔</p>
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-1-Laaltain.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="alignnone size-full wp-image-23347" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-1-Laaltain.jpg" alt width="890" height="395" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-1-Laaltain.jpg 890w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-1-Laaltain-300x133.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-1-Laaltain-768x341.jpg 768w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-1-Laaltain-600x266.jpg 600w" sizes="(max-width: 890px) 100vw, 890px"></a></p>
<p>یہ ایک عام تجربہ ہے کہ ہم سپیس میں کسی بھی نقطے کو تین اعداد یا محددات سے ظاہر کرتے ہیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ نقطہ ایک دیوار سے اتنے، دوسری سے اتنے جب کہ فرش سے اتنے فاصلے پر موجود ہے۔ لیکن محدددات کا یہ نظام خالصتاً ہماری اپنی پسند ہے۔ہم اسی نقطے کے مقام کو ظاہر کرنے کیے کوئی اور اعداد یا محددات لے کر بھی اس نقطے کا بالکل صحیح مقام پتا لگا سکتے تھے۔</p>
<p>ایک واقعہ ایک ایسی شئے ہے جو سپیس میں کسی خاص مقام اور کسی خاص وقت پر رونما ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کے مقام کو چار محددات کی مدد سے جانا جا سکتا ہے۔ یعنی تین محدد سپیس کے اور ایک وقت کا۔ لیکن خصوصی اضافیت میں سپیس اور وقت میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔بالکل ایسے ہی جیسے سپیس کے دو محددات میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ اس لیے ہم کسی نقطے کے مقام کو بجائے سپیس اور ٹائم کے محددات میں معلوم کرنے کے ایک چہار جہتی سپیس میں ظاہر کرتے ہیں جو کہ زمان و مکاں یا سپیس ٹائم کہلاتی ہے- اس کتاب میں میں زمانے یا وقت کو عمودی جب کی مکان یا سپیس کے کسی ایک محدد کو افقی سمت میں ظاہر کروں گا (سپیس کے باقی دو محددات کو نظر انداز کیا گیا ہے)۔ یہ ڈائیگرام زمانی مکانی ڈائیگرامز کہلاتی ہیں۔</p>
<p>ذیل میں دی گئی ڈائیگرام میں وقت کو عمودی سمت میں سالوں میں جب کہ فاصلے کو افقی سمت میں میلوں میں ماپا گیا ہے۔ زمان ومکان میں سورج اور الفا قنطوری عمودی سمت میں حرکت کرتے ہیں۔سورج سے نکلی ہوئی ایک شعاع وتری راستہ لیتے ہوئے چار سال میں الفا قنطوری تک پہنچتی ہے۔</p>
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-2-Laaltain.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="alignnone size-full wp-image-23348" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-2-Laaltain.jpg" alt width="890" height="395" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-2-Laaltain.jpg 890w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-2-Laaltain-300x133.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-2-Laaltain-768x341.jpg 768w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-2-Laaltain-600x266.jpg 600w" sizes="(max-width: 890px) 100vw, 890px"></a></p>
<p>جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ میکسویل کی مساواتیں یہ بتاتی ہیں کہ چاہے روشنی کا منبہ کسی بھی رفتار سے حرکت کر رہا ہو، روشنی کی رفتار مستقل رہتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب روشنی کسی منبہ سے نکلتی ہے تو وہ ایک کرُے کی شکل میں ہر طرف پھیلتی ہے۔ ایک سیکنڈ کے دس لاکھویں حصے کے بعد اس کُرے کا رداس 300 میٹر جب کہ بیس لاکھویں حصے کے بعد یہ رداس بڑھ کر 600 میٹر ہو جائے گا اور اسی طرح بتدریج بڑھتا جائے گا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک ندی کی سطح پر لہریں پیدا ہوتی ہیں۔یہ لہریں وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ رداس کے دائرے کی صورت میں پھیلتی جائیں گی۔</p>
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-3-laaltain.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="alignnone size-full wp-image-23349" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-3-laaltain.jpg" alt width="890" height="395" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-3-laaltain.jpg 890w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-3-laaltain-300x133.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-3-laaltain-768x341.jpg 768w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-3-laaltain-600x266.jpg 600w" sizes="(max-width: 890px) 100vw, 890px"></a></p>
<p>اگر ہم تین ابعادی(Three dimensional) ماڈل کا تصور کریں جس میں دو ابعاد ندی کی سطح جب کہ تیسری وقت کی سمت کو ظاہر کرے تو یہ لہریں ایک مخرطیہ (Cone) بنائیں گی۔جس کی نوک اس وقت اور مقام پر ہوگی جب پتھر پانی میں گرا تھا۔ اسی طرح کسی بھی واقعے سے پھیلنے والی روشنی بھی چار ابعادی زمان و مکان میں تین ابعادی مخروطیہ بناتی ہے۔ یہ مخروط اس واقعے کی مستقبل کی نوری مخروط (Light Cone) کہلاتی ہے۔ اسی طرح ہم ایک مخروط بنا سکتے ہیں جو ماضی کی نوری مخروط کہلاتی ہے۔ یہ ان واقعات کا مرقع یا سیٹ ہوگی جن سے روشنی کی شعاع مذکورہ واقعے تک پہنچتی ہے۔</p>
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-4-Laaltain.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="alignnone size-full wp-image-23350" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-4-Laaltain.jpg" alt width="890" height="395" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-4-Laaltain.jpg 890w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-4-Laaltain-300x133.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-4-Laaltain-768x341.jpg 768w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-4-Laaltain-600x266.jpg 600w" sizes="(max-width: 890px) 100vw, 890px"></a></p>
<p>کسی واقعےP کے ماضی اور مستقبل کی نوری مخروطیں زمان و مکان کے کسی بھی خطے کو تین حصوں میں تقسیم کرتی ہیں۔کسی واقعے کا مطلق مستقبل وہ خطہ ہو گا جو مستقبل کی نوری مخروط کے اندر ہو گا۔ یہ ان واقعات کا سیٹ ہو گا جو ممکنہ طور پر اس بات سے اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ واقعے P پر کیا ہوا ہے۔ وہ تمام واقعات جو مستقبل کی نوری مخروط کے باہر رونما ہوتے ہیں ان پر P پر ہونے والے حادثات کا کوئی اثر نہیں ہوتا کیوں کہ ان تک روشنی ابھی نہیں پہنچ پاتی۔P کامطلق ماضی وہ خطہ ہے جو ماضی کی نوری مخروط کے اندر موجود ہوتا ہے۔یہ ان تمام واقعات کا سیٹ ہے جن سے اشارے روشنی یا اس سے کم رفتار سے سفر کرتے ہوئے P تک پہنچتے ہیں۔لہٰذا یہ ان واقعات کا سیٹ ہوا جو ممکنہ طور پر P پر وقوع پذیر ہونے والے واقعات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔یعنی اگر اگر آپ کو یہ پتا ہو کہ P کی ماضی کی نوری مخروط میں کیا ہوا تھا تو آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ Pپر کیا ہوگا۔ زمان و مکان کا وہ تمام خطے جو P کی ماضی یا مستقبل کی نوری مخروط کے باہر موجود ہیں ان پر یا ان کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا کہ P پر کیا ہوتا ہے۔</p>
<p>مثال کے طور پر اگر سورج ابھی چمکنا بند کر دے تواس کا فوری طور پر زمین پر اثر نہیں ہو گا۔ کیوں کہ زمین سورج کے مستقبل کی نوری مخروط میں نہیں آتی۔ بلکہ زمین پر اس کا پتا آٹھ منٹ کے بعد چلے گا کیوں کہ سورج کی روشنی آٹھ منٹ میں زمین پر پہنچتی ہے اور آٹھ منٹ کے بعد زمین سورج کے اس واقعے کی مستقبل کی مخروط میں ہوگی جب اس نے چمکنا چھوڑا تھا۔</p>
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-5-Laaltain.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="alignnone size-full wp-image-23351" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-5-Laaltain.jpg" alt width="890" height="395" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-5-Laaltain.jpg 890w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-5-Laaltain-300x133.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-5-Laaltain-768x341.jpg 768w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2018/04/image-5-Laaltain-600x266.jpg 600w" sizes="(max-width: 890px) 100vw, 890px"></a></p>
<p>اسی طرح دوردراز کے ستاروں سے آنے والی روشنی لاکھوں سال کا سفر طے کر کے ہم تک پہنچتی ہے۔ تو ایک لحاظ سے ہم ان ستاروں کے ماضی میں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔</p>
<p>خصوصی نظریہ اضافیت اس وقت صحیح نتائج دیتا ہے جب اجسام کی رفتار روشنی کی رفتار کے قریب قریب ہوتی ہے۔ لیکن یہ نیوٹن کے نظریہ تجاذب کے ساتھ یکساں نہیں ہے۔نیوٹن کا نظریہِ تجاذب یہ کہتا ہے کہ دو اجسام کے درمیان قوتِ کشش ان کے درمیان فاصلے کے مربع کے بالعکس متناسب ہوتی ہے۔ اس کو مطلب یہ ہوا کہ اگر اجسام کے درمیان فاصلے کو بدلا جائے تو اس کا اثر دوسرے جسم پر فوری محسوس کیا جائے گا۔جو کہ خصوصی اضافیت کے خلاف ہے جو یہ کہتا ہے کہ کوئی بھی چیز روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزی سے سفر نہیں کرسکتی۔1915 میں آئن سٹائن نے ایک تجاذبی نظریہ پیش کیا جو کہ خصوصی اضافیت کے ساتھ یکساں تھا۔ یہ اب عمومی نظریہِ اضافیت کے نام سے جانا جاتا ہے۔</p>
<p>عمومی نظریہ اضافیت یہ کہتا ہے کہ تجاذب ایک قوت نہیں ہے بلکہ زمان و مکان کے منحنی(curved) ہونے کا نتیجہ ہے۔ کمیت اور توانائی زمان و مکان میں انحنا پیدا کرتے ہیں۔ زمین اور دوسرے اجسام اس انحنائی زمان و مکان میں سیدھے راستے پر چلتے ہیں جو کہ جادیاتی (Geodesic) کہلاتا ہے۔ جادیاتی یا جیوڈیزک دو نقاط کے درمیان کم سے کم فاصلہ ہوتا ہے۔عمومی اضافیت میں اجسام چہار جہتی زمان و مکان میں ایک سیدھی قطار میں حرکت کرتے ہیں لیکن ہماری سہ جہتی زمان و مکان میں وہ منحنی راستوں پر چلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔سورج بھی اپنے اردگرد زمان ومکان میں اس طرح کا انحنا پیدا کرتا ہے کہ زمین اس کے گرد گھومتی ہوئی نظر آتی ہے۔</p>
<p>اس کا مطلب یہ ہوا کہ روشنی بھی زمان و مکان میں ایک جادیاتی یا جیوڈیزک پر چلے گی اور اس طرح ہمارے سہ جہتی(Three dimensional) زمان و مکان میں سیدھے راستے پر چلتی ہوئی نظر نہیں آئے گی۔عمومی اضافیت یہ پیش گوئی کرتی ہے کہ تجاذبی میدان کی وجہ سے روشنی اپنے راستے سے مڑ جائے گی۔اس لحاظ سے دور دراز کے ستارے سے آنے والی روشنی جب سورج کے پاس سے گزرے گی تو اپنے راستے سے مڑ جائے گی اور اس طرح اس ستارے کا ظاہری مقام بدل جائے گا۔ لیکن عام حالات میں سورج کی روشنی کی وجہ سے یہ دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔لیکن چونکہ سورج گرہن کے دوران سورج کی روشنی ہم تک نہیں پہنچ پاتی تو اس منظر کو آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔اس مظہر کی تصدیق 1919 میں لگنے والے سورج گرہن کے دوران کی جانے والے مشاہدات سے کی گئی۔</p>
<p>عمومی اضافیت کی ایک پیش گوئی یہ بھی ہے کہ بھاری اجسام کے پاس وقت سست روی سے گزرتا ہے۔اس کی وجہ توانائی اور تعدد(Frequency) کے درمیان راست تناسب ہے۔ جب روشنی کی ایک کرن اوپر کی جانب جاتی ہے تو اس کی توانائی کم ہوتی ہے۔ یعنی اس کا تعدد کم ہوتا ہے یا طولِ موج بڑھ جاتا ہے۔اس سے بلندی پر کھڑے ایک مشاہد کو یوں لگے گا جیسے نیچے واقعات بہت آہستہ آہستہ وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔اس امر کی تصدیق 1962 میں کیے گئی ایک تجربے میں کی گئی۔</p>
<p>نیوٹن کے قوانینِ حرکت نے مطلق مکان سے آزادی دلائی اور نظریہ اضافیت نے مطلق زمان سے۔1915 سے پہلے زمان و مکان کو ایک جامد سٹیج کی مانند سمجھا جاتا تھاجس میں حاثات وقوع پذیر ہوتے تھے لیکن ان کا اس زمان ومکان پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ عمومی اضافیت میں زمان و مکان متحرک مقداریں ہیں۔ جب اجسام حرکت کرتے ہیں یا ایک دوسرے پر قوت لگاتے ہیں تو وہ زمان و مکان پر اثر ڈالتے ہیں۔اور بدلے میں زمان ومکان اجسام کی حرکات پر اثر انداز ہوتا ہے۔جس طرح آپ کائنات میں ہونے والے واقعات کو زمان و مکان کے بغیر بیان نہیں کر سکتے اسی طرح عمومی اضافیت میں کائنات کے باہر زمان ومکان کا سوال ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/a-brief-history-of-time-chapter-2/">وقت کی مختصر تاریخ؛ ایک تلخیص (باب دوئم)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/a-brief-history-of-time-chapter-2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خوبصورت ترین نظریہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%a8%d8%b5%d9%88%d8%b1%d8%aa-%d8%aa%d8%b1%db%8c%d9%86-%d9%86%d8%b8%d8%b1%db%8c%db%81/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%a8%d8%b5%d9%88%d8%b1%d8%aa-%d8%aa%d8%b1%db%8c%d9%86-%d9%86%d8%b8%d8%b1%db%8c%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فصی ملک]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 19 Nov 2017 08:45:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[albert einstein]]></category>
		<category><![CDATA[Fasi Malik]]></category>
		<category><![CDATA[Space]]></category>
		<category><![CDATA[Theory of Relativity]]></category>
		<category><![CDATA[آئن سٹائن]]></category>
		<category><![CDATA[خلا]]></category>
		<category><![CDATA[سپیس]]></category>
		<category><![CDATA[فزکس]]></category>
		<category><![CDATA[نظریہ اضافیت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22634</guid>

					<description><![CDATA[<p>آئن سٹائن کی مساوات یہ بتاتی ہے کہ سپیس جامد نہیں رہ سکتی۔یہ لازماً پھیل رہی ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%a8%d8%b5%d9%88%d8%b1%d8%aa-%d8%aa%d8%b1%db%8c%d9%86-%d9%86%d8%b8%d8%b1%db%8c%db%81/">خوبصورت ترین نظریہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>مصنف: کارلو روالی<br>
ترجمہ: فصی ملک</p>
<p>اپنی جوانی میں البرٹ آئن سٹائن نے ایک سال فارغ رہ کر گزارا۔آپ وقت ضائع کیے بنا کسی مقام پر نہیں پہنچتے لیکن بدقسمتی سے یہ ایک ایسی بات ہے جو ٹین ایجرز(Teenagers) کے والدین نہیں سمجھتے۔وہ پاویہ (Pavia) میں تھا۔ اپنے ہائی سکول کی سختی کو برداشت نہ کر سکنے کے بعد وہ جرمنی میں تعلیم کو خیر باد کہہ کے اب اپنی فیملی کے ساتھ رہ رہا تھا۔</p>
<p>یہ بیسویں صدی تھی اور اٹلی میں صنعتی انقلاب کا آغاز۔ اس کا باپ جو کہ ایک انجینئر تھا، پادان(Padan) کے کھیتوں میں برقی طاقت گاہ (power plant) لگا رہا تھا۔البرٹ کانٹ(Kant) کو پڑھا کرتا اور محض نشاطِ دل کی خاطر یونیورسٹی آف پاویہ میں رجسٹر ہوئے یا امتحانات کا سوچے بنا اتفاقی لیکچر لیا کرتا تھا۔لہذٰا یہ وہ طریقہ ہے جس سے سائنسدان بنتے ہیں۔</p>
<p>اس کے بعد اس نے زیورخ یونیورسٹی میں داخلہ لے کر خود کو فزکس پڑھنے میں مگن کر لیا۔ کچھ سال بعد اس نے تین مضامین اس وقت کے فزکس کے سب سے محترم جرنل“اینلز دی فزکس” میں بھیجے۔ان میں سے ہر ایک نوبل انعام کا مستحق ہے۔پہلا یہ بتاتا ہے کہ جوہر واقعی وجود رکھتے ہیں، دوسرا کوانٹم میکانیات کی بنیاد فراہم کرتا ہے جس کو میں اگلے سبق میں بیان کروں گا اور تیسرا اس کے اضافیت کے تیسرے نظریے کو بیان کرتا ہے جو ان نظریہ خاص اضافیت کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ کیسے وقت ہر ایک کے لیے ایک جیسا نہیں گزرتا، کہ کیسے دو جڑواں بھائیوں کی عمر میں فرق آ جاتا اگر ان میں سے ایک رفتار سے حرکت میں ہو۔</p>
<p>آئن سٹائن ایک ہی رات میں مشہور سائنسدان بن گیا اور اسے بہت ساری یونیورسٹیوں سے نوکری کی پیش کشیں آنے لگیں۔لیکن کسی شئے نے اسے بے چین رکھا۔ نظریہ اضافیت اپنے فی الفور اوتراف کے بعد بھی تجاذب(gravitation) ، جو ہہمیں یہ بتاتا ہے کی چیزیں کیسے گرتی ہیں، کے ساتھ یکساں نہیں تھا۔اس نے ایسا اس وقت محسوس کیا جب وہ ایک مضمون میں اپنے نئے نظریہ اضافیت کا خلاصہ بیان کر رہا تھا۔اس نے دیکھا کہ قانونِ ہمہ گیر تجاذب(law of universal gravitation)، جسے جدید طبیعیات کے باپ آئزک نیوٹن نے خود ترکیب دیا تھا،اضافیت کے ساتھ یکسانیت کی خاطر نظرِ ثانی کی ضرورت میں ہے۔اس نے خود کو اس مسلے میں غرق کر لیا اور اسے حل کرنے میں اسے دس سال لگے۔کوششوں، غلطیوں، غلطی بھرے مضامین، شاندار اور غلط تصورات کے دس سال۔</p>
<p>بالاخر 1915 میں اس نے ایک مضمون چھاپا جس میں اس نے اس مسلے کا تجاذب(Gravitation) کا ایک نئے نظریے کی شکل میں مکمل حل فراہم کیا۔اس نے اسے عمومی نظریہ اضافیت(general theory of relativity) کا نام دیا۔جو اس کا ماسٹر پیس اور روسی طبیعیات دان لیو لنڈاو(Lev Landav) کے مطابق خوبصورت ترین نظریہ ہے۔</p>
<p>کچھ ایسے ماسٹر پیس ہوتے ہیں جو ہم پر بہت گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔جیسا کہ موزارٹ کی ریقویم(requiem of Mozart)، ہومر کی آڈیسی(Odyssey of Homer) سسٹین چیپل اور کنگ لیئر۔ ان کی خوبصورتی کو مکمل سراہنے کے لیے لمبی شاگردی کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن اس کا اجر خالص خونصورتی ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ ہماری آنکھیں دنیا کو ایک نئے نقطہ نظر سے دیکھنے لگتی ہیں۔آئن سٹائن کا گوہر—عمومی نظریہ اضافیت— بھی اسی درجے کا ماسڑ پیس ہے۔</p>
<p>مجھے وہ برانگیختگی اب بھی یاد ہے جب میں نے اس کا مطلب سمجھنا شروع کیا تھا۔ وہ گرمیوں کا موسم تھا۔ اپنی یونیورسٹی کے آخری سال میں میں کیلبریا(Calabria) میں کونڈوفری(Condofuri) کے ساحل پر Hellenic Mediterranean سورج کی دھوپ میں ڈوبا تھا۔پڑھائی سے مضطرب ہوئے بنا چھٹیوں میں سب سے بہتر پڑھا جاتا ہے۔میں ایک ایسی کتاب سے پڑھ رہا تھا جس کو کناروں سے چوہوں نے چبا ڈالا تھا۔کیوں کہ امبرین(Umbrian) پہاڑی کے دامن میں ایک خستہ حالت گھر میں ، جہاں میں بولوگنا(Bologna) میں یونیورسٹی کی کلاسوں سے تھا کر پناہ لیتا تھا، میں اس بدقسمت مخلوق کے سوراخ اس کتاب سے بند کر دیا کرتا تھا۔کبھی کبھار میں کتاب سے نظریں اٹھاتا اور دمکتے سمندر کو دیکھتا۔مجھے ایسا لگتا جیسے میں زمان و مکان کے انحنا(space time curvature) کو دیکھ رہا ہوں جس کا تصور آئن سٹائن نے کیا تھا۔جیسے کسی جادوئی طرح سے ایک دوست میرے کان میں ایک پوشیدہ سچ بتا رہا ہو۔جیسے سچائی کا پردہ ہٹا کر ایک سادہ اور عمیق ترتیب کو ظاہر کر دیا جائے۔جب سے ہم نے دریافت کیا ہے کہ زمین گول ہے اور ایک جنونی لٹو کی طرح گھومتی ہے تو ہم سمجھ گئے ہیں کی حقیقت وہ نہیں ہے جو ہمیں دکھائی دیتی ہے۔ہر بار ہم جب اس کے کسی نئے پہلو کا نظارہ کرتے ہیں تو یہ ہمارے لیے ایک عمیق اور جذباتی تجربہ ہوتا ہے۔ ایک اور پردہ ہماری آنکھوں سے ہٹ جاتا ہے۔</p>
<p>ان بہت ساری جستوں میں جو ہم نے کائنات میں اپنی فہم کو آگے بڑھانے کے لیے لیں، شاید کوئی بھی آئن سٹائن کے برابر نہیں ہے۔ کیوں؟<br>
اول یہ کہ جب آپ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ(نظریہ) کیسے کام کرتا ہے، اس میں دم بخود کر دینے والی سادگی ہے۔میں یہاں اس کا مرکزی خیال پیش کروں گا۔</p>
<p>نیوٹن نے یہ توضیح کرنے کی کوشش کی کہ چیزیں کیوں گرتی ہیں اور سیارے کیوں گھومتے ہیں۔ اس نے ایک ایسی قوت کا تصور کیا جو تمام مادی اجسام کو ایک دوسرے کی طرف کھینچتی ہے۔اس نے اسے کششِ ثقل یا گریوٹی کا نام دیا۔ایک دوسرے سے دور مادی اجسام میں، جن کے بیچ میں کوئی اور شئے موجود نہیں ہوتی، یہ قوت کیسے عمل کرتی ہے یہ معلوم نہیں تھا۔اور سائنس کا باپ اس کے بارے میں کوئی مفروضہ پیش کرنے میں بھی محتاط تھا۔نیوٹن نے یہ بھی فرض کیا کہ اجسام سپیس میں سے حرکت کرتے ہیں اور یہ کہ سپیس ایک بہت بڑے جار کی مانند ہے۔ایک ایسا ڈبہ جس نے ساری کائنات کو گھیرے میں لیا ہوا ہے۔ایک بہت بڑی ساخت جس میں اجسام اس وقت تک سیدھے حرکت کرتے ہیں جب تک کوئی قوت اب کے خطِ مرمی(trajectory) کو منحنی نہ کر دے۔نیوٹن یہ نہیں بتا سکا کہ یہ سپیس— یہ جار جو اس نے ایجاد کیا—کس چیز کا بنا ہوا ہے۔لیکن آئن سٹائن کی پیدائش سے کچھ سال قبل دو برطانوی سائندانوں، فیراڈے اور میکسویل، نے نیوٹن کی سرد دنیا میں ایک نہایت ہی اہم جز، برقناطیسی میدان(electromagnetic field)، جمع کر دیا۔</p>
<p>یہ میدان ایک حقیقی شئے ہے جس نے ہر جگہ پھیل کر ساری سپیس کو بھرا ہوا ہے۔یہ ندی کی سطح کی طرح مرتعش و اہتزاز (vibrate and oscillate) پذیر ہو سکتا ہے اور ریڈیائی امواج اور برقی قوت کی ترسیل کر سکتا ہے۔اپنے بچپن ہی سے آئن سٹائن نے اس برقناطیسی میدان کی طرف بہت کشش محسوس کی جو اس کے باپ کے بنائی ہوئی طاقت گاہوں میں روٹروں(rotors) کو گھماتا تھا۔اور جلد ہی اس نے یہ سمجھ لیا کہ برق کی طرح تجاذب کی ترسیل بھی ایک میدان (field) سے ہوتی ہے۔ایک برقی میدان کی طرح تجاذبی میدان کا بھی لازماً وجود ہونا چاہیے۔اس نے یہ سمجھنے کا ارادہ کیا کہ یہ تجاذبی میدان کس طرح کام کرتا ہے اور اسے ریاضی کی مساواتوں سے کس طرح بیان کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>یہ وہ لمحہ تھا جب ایک بہت ہی شاندار خیال اس مے دماغ میں آیا۔” تجاذبی میدان سپیس میں پھیلا ہوا نہیں ہے بلکہ تجاذبی میدان بذاتِ خود سپیس ہے”۔ یہ عمومی نظریہ اضافیت کا مرکزی خیال ہے۔نیوٹن کی سپیس جس میں سے چیزیں حرکت کرتی ہیں اور تجاذبی میدان درحقیقت ایک ہی چیز ہیں۔<br>
یہ ایک آگہی کا لمحہ ہے، دنیا کی ایک شاندار توضیح۔ سپیس مادہ سے کوئی جدا چیز نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کا ہی ایک مادی جز ہے۔ایک ایسی شئے جس میں ہلکورے(ripples) پڑ سکتے ہیں، جو کھنچ سکتی ہے،منحنی ہو سکتی ہے اور جس میں بل پڑ سکتے ہیں۔ہم کسی ٹھوس غیر مرئی (invisible) بنیادی ڈھانچے میں موجود نہیں ہیں۔ہم کسی بہت بڑے سنیل (snale) کے لچکدار خول میں موجود ہیں۔سورج اپنے اردگرد سپیس کو منحنی کرتا ہے اور زمین اس کے گرد کسی قوت کے زیرِ اثر نہیں گھومتی بلکہ وہ تو ایک ایسی سپیس مین سیدھا جانا چاہتی ہے جو منحنی ہے۔بالکل ایسے جیسے ایک پتھر قیف میں لڑکھتا ہے۔قیف کے مرکز پر کوئی نامعلوم قوت پیدا نہیں ہوتی بلکہ یہ اس قیف کی دیواروں کی منحنی فطرت (curved nature) ہے جو اس کو لڑکھنے پر مجبور کرتی ہے۔سیارے سورج کے گرد گھومتے اور چیزیں اس لیے گرتی ہیں کیوں کہ سپیس منحنی ہے۔</p>
<p>ہم سپیس کے انحنا کو کیسے بیان کر سکتے ہیں؟ انیسویں صدی کے سب سے ممتاز ریاضی دان کارل فریڈرک گاش(Carl Fredrick Gauss) ، جو کہ “ریاضی کا بادشاہ” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے دو ابعادی (two dimensional) سطحوں جیسا کہ پہاڑ وں کی سطح ہوتی ہے کو بیان کرنے کے لیے ایک کلیہ لکھا۔پھر اس نے اپنے سب سے ذہیں طالب علم کو یہ کہا کہ وہ اس کلیے کی اس طرح تعمیم (generalization) کرے کہ یہ تین یا اس سے زیادہ ابعادی سپیس کا بھی احاطہ کرے۔ اس طالب علم نے جو کی برنارڈ ریمان(Bernhard Riemann) تھا نے ایک ایسا اثر انگیز تھیسز لکھا جو بالکل بے کار دکھتا تھا۔ریمان کے تھیسز کا نتیجہ یہ تھا کہ کسی بھی منحنی سپیس (curved space) کی خصوصیات کو ایک خاص ریاضیاتی شئے سے بیان کیا جا سکتا ہے جو ریمانی منحنی(Riemann curvature) کہلاتی ہے اور اسے انگریزی کے حرفِ تہجی R سے ظاہر کیا جاتا ہے۔آئن سٹائن نے ایک مساوات لکھی جو یہ کہتی ہے کہ R مادہ کی توانائی کے برابر ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں مادہ موجود ہو گا وہاں سپیس منحنی ہو جائے گی۔یہ مساوات آدھی لائن میں سما سکتی ہے اور اس میں اور کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک خیال کہ سپیس منحنی ہو جاتی ہے ایک مساوات بن گئی۔</p>
<p>لیکن اس مساوات کے اندر ایک کائنات ذخیرہ ہے۔اور یہاں اس نظریے کی شادابی پیش گوئیوں کی تعبیر میں کھلتی ہےجو ایک دیوانے کی بڑ کے مشابہہ ہے لیکن وہ تمام کی تمام سچ ثابت ہوتی ہیں۔</p>
<p>یہ مساوات یہ بتاتی ہے کہ ایک ستارے کے اردگرد سپیس کیسے منحنی ہوتی ہے ۔ اس انحنا کی وجہ سے نہ صرف سیارے اس کے گرد گھومتے ہیں بلکہ روشنی بھی اپنے راستے سے منحرف ہو جاتی ہے۔آئن سٹائن نے پیش گوئی کی کہ سورج روشنی کو اس کے راستے سے منحرف کر دیتا ہے۔ 1919 میں اس انحراف کی پیمائش کی گئی اور یہ پیش گوئی کی تصدیق ہوگئی۔لیکن صرف سپیس ہی منحنی نہیں ہوتی بلکہ وقت بھی ہوتا ہے۔آئن سٹائن نے پیش گوئی کی کہ وقت زمین کی سطح کی نسبت بلندی پر زیادہ تیزی سے گزرتا ہے۔اس کی پیمائش کی گئی اور نتیجہ بالکل صحیح نکلا۔اگر ایک شخص جو ہمیشہ شطح سمندر پر رہا ہو اپنے جڑواں بھائی سے ملے جو پہاڑوں میں رہا ہو تو وہ دیکھے گا کہ اس کا بھائی اس کی نسبت زیادہ بوڑھا ہے۔اور یہ تو ابھی صرف شروعات ہے۔</p>
<p>ایک ستارہ جو اپنا سارا ایندھن(ہایئڈروجن) استعمال کر چکا ہوتا ہے اپنے ہی وزن کے تحت منہدم ہو کر سپیس میں اتنا انحنا پیدا کر دیتا ہے کہ اس سے سپیس میں ایک حقیقی سوراخ بن جاتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیوں کہ جلنے سے پیدا ہونے والا دباؤ اس انہدام کو روکنے کے لیے ناکافی ہوتا ہے۔یہ مشہورِ زمانہ بلیک ہول ہیں۔جب میں یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا تو ان کو ایک گپت نظریے کی قابلِ یقین پیش گوئی گمان کیا جاتا تھا۔آج ان کا آسمانوں میں سینکڑوں کی تعداد میں مشاہدہ کیا جا چکا ہے اور ہیت دانوں نے کافی تفصیل میں ان کا مطالعہ کیا ہے۔</p>
<p>بات ابھی ختم نہیں ہوئی، ساری کی ساری سپیس پھیل اور سکڑ سکتی ہے۔مزید آئن سٹائن کی مساوات یہ بتاتی ہے کہ سپیس جامد نہیں رہ سکتی۔یہ لازماً پھیل رہی ہے۔1930 میں کائنات کے پھیلاؤ کا حقیقتاً مشاہدہ کیا گیا۔یہی مساوات یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ پھیلاؤ ایک دھماکے کی صورت میں ایک نہایت چھوٹی اور گرم کائنات سے شروع ہوا جس کو اب ہم بگ بینگ کے نام سے جانتے ہیں۔پہلے پہل ایک بار پھر اس پر کسی نے بھروسہ نہیں کیا لیکن ثبوت کونیاتی پس منظری شعاعوں—جو کہ اصل دھماکے سے پیدا ہونے والی تپشی سعاعوں کی مدھم باقیات ہیں— کے مشاہدے تک جمع ہوتے رہے۔آئن سٹائن کی مساوات سے آنے والی ہ پیش گوئی سچ ثابت ہو گئی۔ ابھی بھی یہ نظریہ یہ کہتا ہے کہ سپیس سمندر کی سطح کی طرح حرکت کرتی ہے۔ان ثقلی امواج(gravitational waves) کا مشاہدہ آسمان میں موجود بائنری ستاروں پر کیا گیا۔اور یہ اس نظریے سے ایک سو ارب میں سے ایک درجے تک کی حیران کن درستگی تک مطابقت رکھتی ہے۔</p>
<p>قصہ مختصر یہ کہ یہ نطریہ ایک رنگا رنگ اور متحیرکر دینے والی دنیا کو بیان کرتا ہے۔جہاں کائنات پھٹتی ہے، سپیس ایک بے تہاہ سوراخ میں منہدم ہوتی ہے، وقت ڈھیلا پڑ کر سیارے کے قریب سست ہو جاتا ہے اور بین النجوم پھیلی بے انتہا سپیس میں ہلکورے پڑتے ہیں جو سمندر کی سطح کی طرح لہراتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہ سب کچھ جو ایک چوہوں کی چبائی گئی کتاب سے ظاہر ہوا ایک بے وقوف کی پاگل پن کی حالت میں سنائی گئی کوئی داستاں نہیں تھی اور نا ہی کیبلریا کے سمندر یا میڈٹرینین کے جلتے سورج کا فریبِ نظر۔ یہ حقیقت تھی۔</p>
<p>یا پھر حقیقت کی ایک جھلک جو ہمارے روز مرہ کے دھندلے اور عام نقطہ نظر سے کم پوشیدہ ہے۔ ایک حقیقت جو بالکل اسی مواد سے بنی ہوئی دکھائی دیتی ہے جس سے ہمارے خواب بنے ہیں۔لیکن یہ ہمارے دھندلے خوابوں کی نسبت زیادہ حقیقی ہے۔</p>
<p>یہ سب کچھ ایک بنیادی وجدان کا نتیجہ ہے کہ سپیس اور تجاذبی میدان درحقیت ایک ہی شئے ہیں۔اور ایک سادہ سی مساوات جس کو یہاں لکھے بنا میں نہیں رہ سکتا اور شاید ہی آپ اس کو سمجھ پائیں، لیکن پھر بھی پڑھنے والا اس کی حیران کن سادگی کا ضرور معترف ہو جائے گا۔</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-22639" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/11/Equation.jpg" alt width="746" height="267" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/11/Equation.jpg 746w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/11/Equation-300x107.jpg 300w" sizes="(max-width: 746px) 100vw, 746px"></p>
<p>یقیناً اس مساوات کو پڑھنے اور لاگو کرنے کے لیے آپ کو ریمانی ریاضی کی تیکنیک کو سمجھنا ہو گا۔ اس کے لیے تھوڑی سی کوشش اور حوالگی(commitment) کی ضرورت ہے لیکن یہ اس سے کم ہے جس کی آپ کو بیتھوون کی سٹرنگ کوارٹٹ کو سراہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن دونوں صورتوں میں اجر انتہائی خوبصورتی اور دنیا کو دیکھنے کی ایک نئی بصارت ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%a8%d8%b5%d9%88%d8%b1%d8%aa-%d8%aa%d8%b1%db%8c%d9%86-%d9%86%d8%b8%d8%b1%db%8c%db%81/">خوبصورت ترین نظریہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%a8%d8%b5%d9%88%d8%b1%d8%aa-%d8%aa%d8%b1%db%8c%d9%86-%d9%86%d8%b8%d8%b1%db%8c%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کائنات یا کائناتیں؟</title>
		<link>https://laaltain.pk/%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa-%db%8c%d8%a7-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa%db%8c%da%ba%d8%9f/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa-%db%8c%d8%a7-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa%db%8c%da%ba%d8%9f/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فصی ملک]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 20 Feb 2017 18:51:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Multiverse]]></category>
		<category><![CDATA[Philip Ball]]></category>
		<category><![CDATA[Quantum mechanics]]></category>
		<category><![CDATA[Quantum Physics]]></category>
		<category><![CDATA[Universe]]></category>
		<category><![CDATA[فزکس]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=20230</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">فلپ بال: متوازی کائناتوں کا تصور جو کبھی سائنس فکشن کا حصہ ہوتا تھا اب سائنسدانوں یا کم از کم طبیعیات دانوں—جن میں یہ اہلیت ہے کہ وہ تصورات کو حقیقت کی حدوں تک لے جاتے ہیں-- کے درمیان بھی قابلِ تعظیم بنتا جا رہا ہے۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa-%db%8c%d8%a7-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa%db%8c%da%ba%d8%9f/">کائنات یا کائناتیں؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">فلپ بال گزشتہ بیس برس سے معروف سائنسی جریدے “نیچر” کے مدیر ہیں اور سائنس کے موضوع پر متعدد مضامین کے مصنف ہیں۔ ان کا یہ <a href="http://www.bbc.com/earth/story/20160318-why-there-might-be-many-more-universes-besides-our-own" target="_blank" rel="noopener">مضمون</a> انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urdutext">متوازی کائناتوں کا تصور جو کبھی سائنس فکشن کا حصہ ہوتا تھا اب سائنسدانوں یا کم از کم طبیعیات دانوں—جن میں یہ اہلیت ہے کہ وہ تصورات کو حقیقت کی حدوں تک لے جاتے ہیں– کے درمیان بھی قابلِ تعظیم بنتا جا رہا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">درحقیقت یہاں بہت زیادہ دوسری ممکنہ کائناتیں ہیں۔ طبیعیات دانوں نے کثیرِنات(multiverse) کے لیے بہت سارے امیدوار تجویز کیے ہیں۔ جن میں سے ہر ایک کو طبیعیات کے قوانین کے مختلف پہلو ممکن بناتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مسئلہ یہ ہے کہ ہم ممکنہ طور پر کبھی بھی ان دوسری کائناتوں میں جا کر ان کے وجود کی تصدیق نہیں کر سکتے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا ہم کوئی ایسا راستہ نکال سکتے ہیں جن سے ہم ان تمام کائناتوں کے وجود کو پرکھ سکیں جن کو ہم دیکھ یا چھو نہیں سکتے۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">دنیاؤں کے اندر دنیائیں۔</div>
<div class="urdutext">یہ کہا جاتا ہے کہ ان متبادل کائناتوں میں سے کم از کم کچھ میں ہمارے جڑواں(doppelgangers) ہیں جو بالکل یا تقریباً ہماری ہی طرح کی کائنات میں رہ رہے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ تصور ہماری خودی کو جھنجھوڑتا ہے اور ہمارے تخیل کو بیدار کرتا ہے۔۔بلا شبہ یہی وجہ ہے کہ کثیرِنات کے نظریات کو نا آشنا ہو نے کے باوجود بھی مقبولیت کا درجہ حاصل ہے۔ہم نے متبادل کائناتوں کو فکشن کے کاموں جیسا کہ فلپ کے ڈک کے the man in high castle سے لے کر فلموں جیسا کہ sliding doors تک قبول کر لیا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مذہبی فلسفی میری جین روبنسٹائن(Mary-Jane Rubenstein) 2014 میں لکھی گئی اپنی کتاب بے کنار دنیائیں(Worlds without ends) میں وضاحت کرتی ہیں کہ تصورِ کثیرِنات کے بارے میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سولہویں صدی کے وسط میں کوپرنیکس(Copernicus) نے دلیل دی کہ زمین کائنات کا مرکز نہیں ہے۔ کچھ دہایئوں بعد گلیلیو نے اپنی دوربین سے ایسے ستاروں کو دیکھا جو پیمائش کی حدوں سے باہر تھے یہ کائنات کی وسعت کی ایک جھلک تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">لہٰذا سولہویں صدی کے آواخر میں اطالوی فلسفی گیاردانو برونو (Giordano Bruno) نے یہ شبہ ظاہر کیا کہ یہ کائنات لامتناہی ہےاور اس میں لامتناہی تعداد میں دنیائیں آباد ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_20234" aria-describedby="caption-attachment-20234" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-full wp-image-20234" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/Giordano-Bruno-laaltain.jpg" alt="سولہویں صدی کے آواخر میں اطالوی فلسفی گیاردانو برونو نے یہ شبہ ظاہر کیا کہ یہ کائنات لامتناہی ہے۔" width="800" height="450" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/Giordano-Bruno-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/Giordano-Bruno-laaltain-300x169.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/Giordano-Bruno-laaltain-768x432.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-20234" class="wp-caption-text">سولہویں صدی کے آواخر میں اطالوی فلسفی گیاردانو برونو (Giordano Bruno) نے یہ شبہ ظاہر کیا کہ یہ کائنات لامتناہی ہے۔</figcaption></figure>
<div class="urdutext">یہ خیال کہ کائنات میں بہت سارے نظامِ شمسی موجود ہیں اٹھارویں صدی میں عام موضوع بن چکا تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بیسویں صدی کے آغاز میں آئرش طبیعیات دان ایڈمنڈ فورنیئر دی البی(Edmund Fournier d’Albe) نے تجویز دی کہ ممکن ہے کہ زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم سائز کی متصل کائناتوں کا لامتناہی سلسلہ موجود ہو۔ اس تناظر میں ایک انفرادی جوہر(atom) ایک حقیقی آباد نظامِ شمسی کی طرح ہو سکتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">آج سائنسدان روسی گڑیا (Russian doll)کثیرِنات کے خیال کو ٹھکراتے ہیں مگر انہوں نے اور بہت سے راستے تجویز کیے ہیں جن میں یہ کثیرِناتیں(Multiverses) وجود پذیر ہو سکتی ہیں۔ ان میں سے پانچ کو اس رہنمائی کے ساتھ یہاں پیش کیا جا رہا ہے کہ وہ کیسی ہو سکتی ہیں۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">بارہ دوزی کائنات (Patchwork Universe)</div>
<div class="urdutext">سادہ ترین کثیرِنات ہماری اپنی ہی کائنات کے لامتناہی سائز کا نتیجہ ہے۔ حقیقت میں ہم نہیں جانتے کہ کیا واقعی کائنات لامحدود ہے مگر ہم اس کو خارج الامکان بھی نہیں کر سکتے۔اگر یہ لامتناہی ہے تو پھر یہ ایسے علاقوں سے مل کے بنی ہوئی ہے جو ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکتے۔ ایسا اس لیے ہے کہ یہ علاقے ایک دوسرے سے اتنے دور ہیں کہ روشنی اس فاصلے کو عبور نہیں کر سکتی۔ہماری کائنات صرف 13۔8 بلین سال پرانی ہے، لہٰذا وہ علاقے جو 13۔8 نوری سال سے زیادہ فاصلے پر ہیں مکمل طور پر منقطع ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تمام اغراض و مقاصد کےلیے یہ علاقے علیحدہ کائناتیں ہیں۔ لیکن ہمیشہ ایسا نہیں رہے گا، روشنی بالآخر ان فاصلوں کو عبور کر لے گی اور کائناتیں آپس میں ضم ہو جائیں گی۔ اگر کائنات حقیقت میں ہمارے جیسی جزیرہ نما کائناتوں کی لامحدود تعداد اپنے اندر رکھتی ہے جن میں ستارےاور سیارے اور مادہ موجود ہے تو دور کہیں لازمی طور پر ہماری زمین کی جیسی بہت ساری دنیائیں ہونی چاہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ ناقابلِ یقین حد تک غیر متوقع لگتا ہے کہ جواہر(atoms) اتفاقاً ایک دوسرے کے قریب آ کر ہماری زمین کی ہوبہونقل (replica)بنا دیں یا پھر ایک ایسی نقل بنائیں جو آپکی جرابوں کے رنگ کے علاوہ ایک جیسی ہو۔لیکن حقیقی لامتناہی دنیاؤں میں ایسی عجیب جگہیں ہونی چاہیں۔ بلکہ بہت ساری ہونی چاہیں۔ اگر ایسا ہے تو تصور سے بالاتر دور کسی جگہ پر میرے جیسا ہی کوئی شخص یہ الفاظ لکھ رہا ہو گا اور سوچ رہا ہو گا کہ ا اس کا مدیر اسے قطعی نظرثانی کا کہنے والا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اسی منطق سے، اس سے بھی دور ہماری ہی کائنات کے جیسی ایک مشاہداتی کائنات ہے۔اس کے فاصلے کا تخمینہ دس کی طاقت نما دس کی طاقت نما ایک سو اٹھارہ((〖10〗^(〖10〗^118 ) میٹر لگایا گیا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا بالکل نہ ہو۔ہو سکتا ہے کائنات لامتناہی نہ ہو۔اور اگر یہ ہو بھی تو ممکن ہے کہ تمام مادہ کائنات کے اس حصے میں مرکوز ہو گیا ہو جہاں ہم ہیں ۔اس حساب سے باقی بہت ساری کائناتیں خالی ہوں گی۔ لیکن ایسا ہونے کی کوئی ظاہری وجہ موجود نہیں ہے۔ اور جیسے جیسے ہم دور دیکھتے جا رہے ہیں ہمیں مادہ کے کم ہونے کے کوئی شواہد نہیں مل رہے۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">افراطی کثیرِنات(the inflationary multiverse)</div>
<div class="urdutext">کثیرِ نات کا دوسرا نظریہ اس خیال سے جنم لیتا ہے کہ ہماری اپنی کائنات کا آغاز کیسے ہوا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">انفجارِعظیم(Big Bang) کے سب سے غالب نقطہِ نظر کے مطابق کائنات کا آغاز ایک صغاری نقطے(infinitesimally small point) سے ہوا اورپھر وہ تقطہ ایک آتشی گولے میں پھیل گیا۔ اس پھیلاؤ کے آغاز کے بعد ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں یہ بہت زیادہ شرح سے اسراع پذیر(accelerated) تھی، روشنی کی رفتار سے بھی کہیں زیادہ۔ یہ دورانیہ افراط(Inflation) کہلاتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">افراطی نظریہ اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ ہم جس جانب بھی دیکھیں ہمیں کائنات اشاری طور پر یکساں کیوں نظر آتی ہے۔ اس سے پہلے کہ آتشی گولہ منجمدہوتا افراط نے اسے کائناتی سکیل تک پھیلا دیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تاہم یہ ابدی حالت(primordial state) ان اتفاقیہ تبدیلیوں کی وجہ سے تغیر پذیر ہوئی جو خود افراط کے وقت پیدا ہوئیں تھیں۔یہ تبدیلیاں(variations) اب پس منظری کائناتی خردموجی شعاعوں (cosmic microwave background radiations) میں محفوط ہیں۔ جو انفجارِ عظیم کے بعد میں بچ جانے والی مدہم روشنی ہے۔ یہ شعاعیں اب ساری کائنات میں پھیل چکی ہیں مگر یہ یکساں نہیں ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سیارچوں پر لگی بہت ساری دوربینوں نے ان تغیرات کی تفصیلات کا نقشہ بنا کر ان کا موازنہ اس سے کیا ہے جس کی پیشین گوئی افراطی نظریہ کرتا ہے۔ یہ مماثلت ناقابلِ یقین حد تک درست ہے،جو اس چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ افراط حقیقت میں وقوع پذیر ہوا۔ یہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انفجارِ عظیم کیسے ہوا، جس سے ہم مناسب طور پر یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ کیا یہ ایک سے زیادہ مرتبہ ہوا؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20235" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-2-laaltain.jpg" alt="multiverse-2-laaltain" width="800" height="450" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-2-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-2-laaltain-300x169.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-2-laaltain-768x432.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<div class="urdutext">موجودہ نقطہِ نظر یہ ہے کہ انفجارِ عظیم (big bang) اس وقت واقع ہوا جب حقیقی فضا(real space) کا ایک ٹکرا ایک دوسری طرح کی فضا میں ظاہر ہوا جسے “باطل خلا (false vacuum)” کہتے ہیں۔ اس فضا کے ٹکرے میں صرف توانائی موجود تھی اور کوئی مادہ موجود نہ تھا۔ پھر یہ ٹکرا ایک بلبلے کی طرح پھولتا گیا۔ لیکن اس نظریے کے مطابق باطل خلا کو بھی افراط سے گزرنا چاہیے جو اس کی بہت زیادہ رفتار سے پھیلائے۔ اسی دوران اس باطل خلا میں نہ صرف ہماری کائنات(جو صرف 13۔8 بلین سال پرانی ہے) بلکہ اور بھی بہت ساری کائناتوں کو یکساں شرح سے پیدا ہونا چاہیے۔<br>
یہ منظر نامہ دائمی افراط(eternal inflation) کہلاتا ہے۔ یہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ وقت میں ہر لمحے لامتناہی کائناتیں پیدا ہوتیں ہیں اور پھیلتی جاتی ہیں۔ لیکن اگر ہم ہمیشہ کے لیے روشنی کی رفتار سے بھی چلیں تو بھی ان تک نہیں پہنچ سکتے کیوں کہ یہ بہت زیادہ رفتار سے ہم سے دور جا رہی ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">برطانوی شاہی ہیئت دان(Astronomer Royal) مارٹن ریز(Martin Rees) کا کہنا ہے کہ افراطی نظریہ چوتھے کوپرنیکسی انقلاب کو ظاہر کرتا ہے۔چوتھی مرتبہ ہمیں آسمانوں میں اپنے درجے کو کم کرنا پڑا ہے۔کوپرنیکس(Copernicus) کے یہ بتانے کے بعد کہ ہماری زمیں بہت سارے دوسرے سیاروں میں سے ایک ہے ہمیں پتہ چلا کہ ہمارا سورج ہماری کہکشاں میں محض ایک ستارہ ہے اور دوسرے ستاروں کے بھی سیارے ہو سکتے ہیں۔ پھر ہم پر انکشاف ہوا کہ ہماری کہکشاں پھیلتی ہوئی کائنات میں بہت ساری کہکشاؤں میں سے ایک ہے۔ اور اب ممکن ہے ہماری کائنات بھی بہت ساری کائناتوں میں سے ایک ہو۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20236" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-3-laaltain.jpg" alt="multiverse-3-laaltain" width="800" height="450" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-3-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-3-laaltain-300x169.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-3-laaltain-768x432.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<div class="urdutext">ابھی ہم منطقی طور پر نہیں جانتے کہ افراطی نظریہ صحیح ہے یا غلط۔تاہم اگر دائمی افراط عظیم انفجاروں(big bangs)کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے میں کثیرِنات (multiverse) کو جنم دیتا ہے تو یہ جدید طبیعیات میں ایک بہت بڑے مشکلے(problem) کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کچھ طبیعیات دان بہت لمبے عرصے سے نظریہِ کل (theory of everything) کی تلاش میں ہیں جو کہ کچھ بنیادی قوانین یا ممکن ہے ایک مساوات پر مشتمل ہو اور اس سے طبیعیات کے باقی تمام اصول اخذ کیے جا سکیں گے۔ لیکن انہوں نے دیکھا کہ معلوم کائنات میں جتنے ذرات ہیں ان کی تعداد سے زیادہ کائناتیں موجود ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">وہ طبیعیات دان جو ان کی کھوج میں رہتے ہیں یہ یقین رکھتے ہیں کہ ایک تصور جو سٹرِنگ نظریہ (string theory) کے نام سے جانا جاتا ہے نظریہِ کل (theory of everything) کا سب سے بہترین امیدوار ہے۔لیکن اس کے تازہ ترین نسخے (latest version) کے بہت زیادہ (ایک کے بعد ٥00 صفر) جوابات(solutions) ہیں۔ ہر جواب اپنے طبیعی قوانین فراہم کرتا ہے اور ہمارے پاس بظاہر کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم ایک کے اوپر دوسرے کو ترجیح دیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">افراطی کثیرِنات ہمیں اس چناو سے چھٹکارہ دلاتی ہے۔ اگر پھیلتی ہوئی باطل خلا میں متوازی کائناتیں کروڑوں سالوں سے پیدا ہو رہی ہیں، تو ہر ایک کے مختلف طبیعی قوانین ہو سکتے ہیں جن کا تعین سترنگ نظریے کے بہت ساروں میں سے کوئی ایک حل(solution) کرے گا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اگر یہ درست ہے تو یہ ہمیں ہماری اپنی کائنات کی ایک عجیب خوبی کی وضاحت کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔<br>
طبیعیات کے قوانین کے بنیادی مستقلوں(fundamental constants) کی قیمتیں زبردست طریقے سے وہی رکھی گئی ہیں جو وجودِزندگی کے لیے ضروری ہیں۔]اس کو فائن ٹیوننگ(fine tuning) کہتے ہیں[</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_20237" aria-describedby="caption-attachment-20237" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-full wp-image-20237" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-4-laaltain.jpg" alt="طبیعیات کے قوانین کے بنیادی مستقلوں کی قیمتیں زبردست طریقے سے وہی رکھی گئی ہیں جو وجودِزندگی کے لیے ضروری ہیں۔" width="800" height="450" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-4-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-4-laaltain-300x169.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-4-laaltain-768x432.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-20237" class="wp-caption-text">طبیعیات کے قوانین کے بنیادی مستقلوں(fundamental constants) کی قیمتیں زبردست طریقے سے وہی رکھی گئی ہیں جو وجودِزندگی کے لیے ضروری ہیں۔</figcaption></figure>
<div class="urdutext">مثال کے طور پر اگر برقناطیسی قوت(electromagnetic force) کی مقدار تھوڑی سی بھی مختلف ہوتی تو جواہر مستحکم نہ ہوتے۔صرف چار فیصد کی تبدیلی ستاروں میں نیوکلیائی ایتلاف(nuclear fusion) کو روک دے گی، ایتلاف وہ عمل ہے جس میں کاربن کے وہ جواہر بنتے ہیں جن سے ہمارے جسم کا زیادہ تر حصہ بنا ہواہے۔ اسی طرح کششِ ثقل اور تاریک توانائی(dark energy) میں ایک نفیس توازن ہے۔ ثقل مادہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے جب کہ تاریک توانائی اسے اور زیادہ شرح سے پھیلاتی ہے۔اوربالکل یہی وہ ضرورت ہے جو ستاروں کا بننا ممکن بناتی ہے اور کائنات کو خودتصادم سے روکتی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس اور بہت ساری دوسری وجوہات کی بنا پر یوں لگتا ہے جیسے کائنات کو ہمارے رہنے کے لیے فائن ٹیونڈ(fine tuned) کیا گیا ہے۔ اس نے بہت سارے لوگوں کو اس شک میں مبتلہ کر دیا ہے کہ اس میں خدا کا ہاتھ شامل ہے۔<br>
تاہم ایک افراطی کثیرِنات جس میں تمام قابلِ فہم قوانین عمل کرتے ہیں ایک متبادل وضاحت بھی پیش کرتی ہے۔<br>
وجود دوست طریقے سے بنائی گئی ہر کائنات میں ذہین مخلوق اپنی خوش بختی کے ادراک کے لیے اپنا سر نوچ رہی ہو گی جب کہ دوسری بہت ساری کائناتوں میں جو مختلف طریقے سے بنائی گئی ہیں کوئی بھی یہ سوال کرنے کے لیے موجود نہیں ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ بشری اصول(anthropic principle) کی مثال ہے، جو یہ کہتا ہے کہ چیزیں جیسی ہیں ان کو ویسا ہی ہونا چاہیے تھا کیوں کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم یہاں موجود نہ ہوتے اور یہ سوال کبھی نہ پیدا ہوتا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بہت سارے طبیعیات دانوں اور فلسفیوں کے قریب یہ دلیل ایک دھوکہ ہے۔ فائن ٹیوننگ(fine tuning) مشکلے کی وضاحت کی بجائے اس سے جان چھڑانے کا ایک راستہ ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">وہ سوال کرتے ہیں کہ ہم ان دعووں کو کیسے جانچ سکتے ہیں؟یقیناً یہ قبول کرنا شکست ماننے کے مترادف ہے کہ اس کی کوئی وضاحت نہیں ہے کہ قوانینِ قدرت جیسے ہیں ویسے کیوں ہیں اور یہ کہ یہ دوسری کثیرِنات میں مختلف ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس فائن ٹیوننگ(fine tuning) کی کوئی اچھی وضاحت نہیں ہے تو کوئی بھی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ ان کو خدا نے اسےایسے سیٹ کیا ہے۔ماہر فلکی طبیعیات برنارڈ کر (Bernard Carr) نے اسے دوٹوک الفاظ میں یوں بیان کیا ہے کہ اگر آپ خدا سے چھٹکارا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس کثیرِنات(multiverse) ہونی چاہیے۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">کائناتی فطری چناؤ : (Cosmic Natural Selection)</div>
<div class="urdutext">ایک اور طرح کی کائنات بشری اصول(anthropic principal) کی مدد لیے بغیر فائن ٹیوننگ(fine tuning) کے مشکلے کا حل فراہم کرتی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس کی بنیاد واٹرلو کینیڈا(waterloo Canada) میں موجود پیری میٹر انسٹیٹیوٹ کے لی سمولن(Lee Smolin of Perimeter institute) نے ڈالی۔ اس نے 1992 میں تجویز دی کہ ہو سکتا ہے کائنات بھی زندہ چیزوں کی طرح تولید کرتی اور ارتقا پاتی ہو۔زمین پر فطری چناؤ کارآمد خصلتوں جیسا کہ تیز ڈور اور مخالف انگوٹھوں کے کے پنپنے میں مدد دیتا ہے۔سمولن دلیل دیتا ہے کہ کثیرِنات میں ایسا دباؤ موجود ہو سکتا ہے جو ہمارے جیسی کائناتوں کے بننے میں مدد دے۔وہ اسے کائناتی فطری چناؤ کا نام دیتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سمولن کا خیال یہ ہے کہ ایک مادر کائنات (mother universe)طفل کائناتوں(baby universes) کو جنم دیتی ہے جو اس کے اندر بنتی ہیں۔ مادر کائنات ایسا صرف اس وقت کر سکتی ہے جب اس کے اندر ثقب اسود(black holes) موجود ہوں۔<br>
ایک ثقب اسود اس وقت بنتا ہے جب کوئی ستارہ اپنے ہی انجذاب کے تحت منہدم ہو کر اپنے تمام جوہروں کو اس وقت تک بھینچتا ہے جب تک وہ لامتناہی کثافت کو نہ پہنچ جائیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20239" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-5-laaltain.jpg" alt="multiverse-5-laaltain" width="800" height="450" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-5-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-5-laaltain-300x169.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-5-laaltain-768x432.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<div class="urdutext">1960 کی دہائی میں سٹیفن ہاکنگ اور راجر پینروز (Stephen Hawking and Roger Penrose) نے نشاندہی کی کہ یہ انہدام ایک انفجارِ عظیم کی طرح ہی ہے جس کی سمت الٹ دی گئی ہو۔ اس سے سمولن کو خیال آیا کہ ایک ثقب اسود انفجارِ عظیم بن سکتا ہے جس نے اپنے اندر ایک پوری نئی کائنات کی افزائش کر رکھی ہو۔ اگر ایسا ہے تو اس نئی کائنات کی طبیعی خصوصیات اس کائنات سے تھوڑی مختلف ہوں گی جس نے اس ثقب اسود کو جنم دیا۔یہ ایک بے ترتیب جینیاتی تغیر کی طرح ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ بچے اپنے والدین سے مختلف ہوں گے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اگر کسی طفل کائنات کے طبیعی قوانین ایسے ہوں جو جوہروں، ستاروں اور زندگی کے بننے کی اجازت دیں تو اس میں لازمی طور پر ثقب اسود (Black holes) بھی موجود ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کی مزید اپنی طفل کائناتیں ہو سکتی ہیں۔وقت کے ساتھ یہ کائناتیں ان کائناتوں سے زیادہ عام ہو جائیں گی جن میں ثقب اسود نہیں ہوں گے اور جو افزائش نسل نہیں کر سکتیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ ایک واضح تصور ہے کیوں کہ پھر ایسی صورت میں ہماری کائنات کو محض ایک خالص اتفاق کا نتیجہ نہیں ہونا پڑے گا۔اگر ایک فائن ٹیونڈ(fine tuned) کائنات بہت ساری دوسری کائناتوں کے ساتھ جو فائن ٹیونڈ(fine tuned) نہیں ہیں اتفاقاً پیدا ہو سکتی ہے تو کائناتی فطری چناؤ کا مطلب ہو گا کہ آہستہ آہستہ فائن ٹیونڈ(fine tuned) کائناتیں میعار بن جائیں گی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20240" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-6-laaltain.jpg" alt="multiverse-6-laaltain" width="800" height="450" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-6-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-6-laaltain-300x169.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-6-laaltain-768x432.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<div class="urdutext">اس خیال کی تفصیلات ابھی دھندلی ہیں مگر سمولن اس کے ایک بہت بڑے فائدے کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم اسے پرکھ سکتے ہیں۔مثال کے طور پر اگر سمولن صحیح ہے تو ہماری کائنات کو ثقب اسود(black hole) بنانے واسطے خاص طور پر موزوں ہونا چاہیے۔ لیکن یہ اس سے بھی زیادہ تقاضہ طلب کسوٹی ہے کہ اس کو جوہروں کے وجود کی حمایت کرنی چاہیے۔لیکن ابھی تک اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ایسا ہی معاملہ ہے، اس بات کو تو چھوڑ ہی دیں کہ ثقب اسود اپنے اندر کائنات کی افزائش کر سکتا ہے۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">برین (جھلی) کثیرِنات(the brane multiverse)</div>
<div class="urdutext">جب 1920 کی دہائی میں آئن سٹائن کا عمومی نظریہ اضافیت عام لوگوں کے زیر بحث آنے لگا تو بہت ساروں نے چوتھی جہت(fourth dimension) کے متعلق قیاس آرائیاں کی جس کو آئن سٹائن نے متعارف کرایا تھا۔ اس میں کیا ہو سکتا ہے؟ کیا اس میں ایک مخفی کائنات ہو سکتی ہے؟ یہ فضول سوالات تھے۔آئن سٹائن ایک نئی جہت کا تصور نہیں دے رہا تھا، وہ صرف یہ کہہ رہا تھا کہ مکان (space) کی باقی تین ابعاد(dimensions) کی طرح وقت بھی ایک بعد ہے۔اور یہ چاروں ایک چادر میں بنی ہوئی ہیں جو زمان و مکاں (spacetime)کہلاتی ہے، مادہ جس کا حلیہ بگاڑ کر انجذاب(gravity) پیدا کرتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تاہم دوسرے طبیعیات دانوں نے پہلے سے ہی سپیس(space) کی نئی جہتوں(dimensions) کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا تھا۔مخفی ابعاد کے بارے میں پہلا اشارہ نظری طبیعیات دان تھیوڈور کیلوزا(Theodor Kaluza) کے کام سے ملا۔ 1921 میں لکھے گئے ایک تحقیقی مقالے میں اس نے ثابت کیا کہ اگر آئن سٹائن کی عمومی اضافیت کی مساواتوں میں ایک اور بعد ملا دی جائے تو ہمیں ایک زائد مساوات حاصل ہوتی ہے جو ضیا(light) کےوجود کی پیشین گوئی کرتی ہے۔<br>
یہ کافی معقول لگا پر پھر سوال یہ تھا کہ یہ زائد جہت ہے کہاں؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">1926 میں سویڈش طبیعیات دان آسکر کلائن(Oscar klein) نے ایک جواب پیش کیا۔ ہو سکتا ہے پانچویں بعد ناقابلِ تصور صغیر فاصلوں میں لپٹی ہو(curled up)۔جو کہ ایک سینٹی میٹر کا ایک بلین ٹریلین ٹریلین واں حصہ ہے۔<br>
ہو سکتا ہے کہ لپٹی بعد(curled up dimension) کا تصور عجیب لگے پر حقیقت میں یہ ایک معروف مظہر ہے۔ایک باغ نلی(garden hose) سہ ابعادی(three dimensional) جسم ہے مگر بہت زیادہ فاصلے سے دیکھنے پر یہ یک جہتی(one dimensional) معلوم ہوتی ہے کیوں کہ باقی دونوں جہتیں بہت چھوٹی ہیں۔اسی طرح کلائن(Klein) کی زائد جہت، جسکو ہم محسوس نہیں کرتے، کو سمجھنے میں بہت کم وقت لگتا ہے۔تب سے طبیعیات دان کیلوزا اور کلائن کے تصورات کو سترنگ نظریے میں بہت آگے تک لے کر گئے ہیں۔ یہ بنیادی ذرات کی وضاحت سترنگز (strings)کے اہتزازات(oscillations) کی صورت میں کرنے کی کوشش کرتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">جب 1980 میں سترنگ نظریے(string theory) کو مرتب کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ صرف زائد ابعاد(extra dimensions) کی موجودگی میں ہی کام کر سکتی ہے۔سترنگ نظریے کا جدید نسخہ،جو ایم نظریہ(M theory) کہلاتا ہے، میں سات مخفی ابعاد ہیں۔مزید یہ کہ ان ابعاد کو منضبط (compact) ہو نے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ یہ پھیلے ہوئے علاقے(extended regions) ہو سکتے ہیں جو جھلیاں(branes) کہلاتے ہیں اور ممکن ہےیہ کثیرجہتی(Multi-dimensional) ہوں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20241" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-7-laaltain.jpg" alt="multiverse-7-laaltain" width="800" height="450" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-7-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-7-laaltain-300x169.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-7-laaltain-768x432.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<div class="urdutext">ایک جھلی(brane) ایک مکمل کائنات کے چھپنے کے لیے معقول جگہ ہو سکتی ہے۔ایم تھیوری مختلف ابعاد کی جھلیوں(branes) کی کثیرِنات ہے جو آپس میں کاغذ کے گڈھی (stack of papers) کی طرح رہتی ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اگر یہ بات سچ ہے تو ہمارے پاس ذرات کی ایک نئی جماعت ہونی چاہیے جو کیلوزا کلائن(Kaluza-Klein) ذرات کہلاتے ہیں۔نظری طور پر ہم ان کو عظیم ثقیلہ تصادم گر(large hadron collider) جیسے اسراع گردوں(accelerator) میں بنا سکتے ہیں۔ان کے بہت واضح نشانیاں ہوں گی کیوں کہ ان کے میعارِ حرکت(momentum) کی کچھ مقدار مخفی ابعاد میں چلی جائے گی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ جھلی دنیائیں(brane worlds) ایک دوسرے سے جداجدا رہتی ہیں کیوں کہ تجاذب جیسی قوتیں ان کے درمیان سے نہیں گزرتی۔لیکن اگر دو جھلیاں ٹکراتی ہیں تو نتائج کافی شاندار ہو سکتے ہیں۔قرین قیاس ہے کہ ایسے ہی کسی تصادم سے ہمارے اپنے انفجارِ عظیم(big bang) کا آغاز ہوا ہو۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ ہو سکتا ہے تجاذب جھلیوں میں سے گزر جاتی ہو۔یہ بہاو اس چیز کی وضاحت کر سکتا ہے کہ بنیادی قوتوں میں تجاذب اتنا نحیف کیوں ہے۔جیسا کہ ہاورڈ یونیورسٹی کی لیزا رینڈل(Lisa Randall) کا کہنا ہے کہ اگر تجاذب زائد ابعاد (extra dimensions) پر پھیلی ہوئی ہو تو اس کی قوت کافی نحیف ہو گی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20242" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-8-laaltain.jpg" alt="multiverse-8-laaltain" width="800" height="450" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-8-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-8-laaltain-300x169.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-8-laaltain-768x432.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<div class="urdutext">1999 میں رینڈل اور اس کے ہم منصب رامن سندرم (Raman Sundrum) نے تجویز دی کہ جھلیاں نہ صرف تجاذب رکھتی ہیں بلکہ یہ سپیس کو منحنیٰ کر کے اسے پیدا کرتی ہیں۔نتیجتاً اس کا مطلب ہے کہ ایک جھلی تجاذب کو مرتکز کرتی ہے جس کی وجہ سے قریبی دوسری جھلی میں یہ نحیف دکھائی دیتی ہے۔یہ اس چیز کی بھی وضاحت کرتا ہے کہ ہم کسی لامحدود زائد جہتوں والی جھلی پر ان کو محسوس کیے بنا کیسے رہ سکتے ہیں۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">کوانٹم کثیرِنات(the Quantum Multiverse)</div>
<div class="urdutext">نظریہِ کوانٹم میکانیات سائنس کےکامیاب ترین نظریات میں سے ایک ہے۔یہ چھوٹی چیزوں جیسا کہ جوہر اور اس کے جزوِترکیبی ذرات کے رویوں کی وضاحت کرتا ہے۔یہ سالموں کی اشکال سے لے کر مادہ اور ضیا کے تعاملات تک ہر طرح کے عوامل کی پیشین گوئی بہت درستی سے کر سکتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کوانٹم میکانیات کے مطابق ہر ذرے کے ساتھ ایک موج منسلک ہوتی ہے جس کو ایک ریاضیاتی مساوات سے بیان کیا جاتا ہے جو موجی تفاعل(wave function) کہلاتا ہے۔موجی تفاعل کی سب سے مضبوط خوبی یہ ہے کہ یہ کسی بھی کوانٹم ذرے کو ایک ہی وقت میں بہت زیادہ حالتوں میں رہنے کی اجازت دیتا ہے۔یہ عمل انطباق(superposition)کہلاتا ہے۔لیکن جب ہم اس ذرے کی کسی بھی طرح سے پیمائش کرتے ہیں تو یہ انطباقات فنا ہو جاتے ہیں۔مشاہدہ اس ذرے کو کوئی ایک حالت پسند کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔پیمائش کے دوران انطباق سے کسی ایک حالت میں آنا “موجی تفاعل کا فنا ہونا” کہلاتا ہے۔ مسلہ یہ ہے کہ اس فنا کے عمل کو کوانٹم میکانیات سے بیان نہیں کیا جا سکتا اس لیے کوئی نہیں جانتا کہ یہ کیسے اور کیوں ہوا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">1957میں لکھے اپنے ڈاکٹری کے مقالے میں امریکی طبیعات دان ہف ایوریٹ(Hugh Everett) نے تجویز دی کہ ہمیں موجی تفاعل کے انہدام کی ناموزوں فطرت کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایوریٹ نے تجویز دی کہ جب چیزوں کی پیمائش یا مشاہدہ کیا جاتا ہے تو وہ بسیار حالتوں سے ایک حالت میں نہیں جاتیں بلکہ موجی تفاعل میں موجود تمام ممکنات برابر کی حقیقت رکھتی ہیں اور جب ہم پیمائش کرتے ہیں تو ہم ان میں سے صرف ایک حقیقت کو دیکھ سکتے ہیں حالانکہ باقی بھی وجود رکھتی ہیں۔ یہ کوانٹم میکانیات کی “کثیر دنیاوی تاویل(Many worlds interpretation)” کہلاتی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ایوریٹ اس بارے میں واضح نہیں تھا کہ یہ باقی حالتیں کہاں پائی جاتی ہیں۔لیکن 1970 کی دہائی میں طبیعات دان برائس دی وٹ(Bryce de Witt) نے دلیل دی کہ ہر متبادل نتیجے کو ایک متوازی حقیقت(دوسری دنیا) میں موجود ہونا چاہیے۔فرض کرو آپ برقیے(electron) کا راستہ دیکھنے کا ایک تجربہ کرتے ہیں۔ اس دنیا میں وہ ایک راستے پر چلتا ہے مگر ایک دوسری دنیا میں وہ کوئی اور راستہ اختیار کرے گا۔اگر ایسا ہے تو پھر برقیے کے گزرنے کے لیے آپ کو ایک متوازی پیمائشی سامان کی ضرورت ہو گی۔آپ کو ایک اپنے ہی متوازی جڑواں کی بھی ضرورت پڑے گی تا کہ وہ الیکٹران کی پیمائش کر سکے۔درحقیقت آپ کو اس الیکٹران کے گرد ایک پوری متوازی کائنات کی ضرورت ہو گی جو ہر طرح سے آپ کی کائنات کے جیسی ہو گی سوائے اس کے کہ اس میں الیکٹران کسی دوسری جگہ جائے گا۔قصہِ مختصر یہ کہ اگر آپ موجی تفاعل کو منہدم ہونے سے بچانا چاہتے ہیں توآپ کو ایک اور کائنات بنانا پڑے گی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20244" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-9-laaltain.jpg" alt="multiverse-9-laaltain" width="800" height="450" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-9-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-9-laaltain-300x169.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-9-laaltain-768x432.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<div class="urdutext">جب ہم پیمائش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو تصویر اور مبالغہ آرا ہو جاتی ہے۔ دی وِٹ کے مطابق کسی ستارے میں، کسی کہکشاں میں یا دور کسی کائنات میں ہونے والی کوانٹمی تبدیلی زمین پر ہماری مقامی دنیا کو بہت زیادہ نقلوں(copies) میں تقسیم کر رہی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہر کوئی ایوریٹ کی بسیار دنیاوی تاویل کو ایسے نہیں دیکھتا۔ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ ایک ریاضیاتی آسائش ہے اور ہم متوازی کائناتوں کے مندرجات کے بارے میں کوئی بھی معانی خیز رائے نہیں دے سکتے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">لیکن دوسرے لوگ اس تصور کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں کہ جب بھی کوئی کوانٹمی پیمائش کی جاتی ہے تو آپ کے لاتعداد جڑواں جنم لیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ چونکہ کوانٹم نظریہ آپ کو صحیح نتائج دیتا ہے لہٰذاکوانٹم کثیرِنات حقیقی ہونی چاہیے کیوں کہ کوانٹم نظریہ اس کا مطالبہ کرتا ہے ۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">آپ یا تو اس دلیل کو مان لیں گے یا نہیں۔ لیکن اگر آپ اسے مان لیتے ہیں تو آپ کو کچھ پریشان کر دینے والی چیز کو بھی ماننا پڑے گا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20245" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/schrodingers-cat-laaltain.jpg" alt="schrodinger's-cat-laaltain" width="800" height="450" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/schrodingers-cat-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/schrodingers-cat-laaltain-300x169.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/schrodingers-cat-laaltain-768x432.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<div class="urdutext">دوسری متوازی کائناتیں جیسا کہ وہ جو دائمی افراط(eternal inflation) میں پیدا ہوئیں، حقیقت میں دوسری کائناتیں ہیں۔وہ زمان اور مکان میں یا دوسری ابعاد میں کسی اور جگہ اپنا وجود رکھتی ہیں۔ممکن ہے وہاں آپ کی ہو بہو نقلیں موجود ہوں، پر وہ نقلیں مختلف ہوں گی بالکل ایسے جیسے کوئی جسم کسی دوسرے براعظم میں رہ رہا ہو۔<br>
اس تناظر میں کثیر دنیاوی تاویل کی دوسری کائناتیں(universes of many worlds interpretation) سپیس کی دوسری ابعاد یا مقامات میں نہیں ہیں۔بلکہ وہ بالکل یہیں ہیں اور ہماری کائنات کے ساتھ منطبق(superimposed) ہوئی ہیں لیکن نہ تو وہ نظر آتی ہیں اور نہ ہی قابلِ رسائی ہیں۔ اور ان میں جو آپ کے جڑواں موجود ہیں وہ حقیقی معنوں میں آپ ہی ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">درحقیقت “آپ” کا کوئی معانی خیز وجود ہی نہیں ہے۔ “آپ” ہر لمحے مضحکہ خیز تعداد میں تقسیم ہو رہے ہیں۔اس کے لیے آپ ان تمام کوانٹمی واقعات(quantm events) کا تصور کیجیے جو اس وقت واقع ہوتے ہیں جب کوئی برقی اشارہ(electrical signal) آپ کے دماغ میں ایک عصبیے (neuron) کے ساتھ سفر کرتا ہے۔ “آپ” ایک ہجوم میں گم ہو جاتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">دوسرے الفاظ میں ایک خیال جو ریاضیاتی آسانی کے طور پر شروع ہوا تھا یہ بتاتا ہے کہ انفرادیت جیسی کسی شئے کاکوئی وجود نہیں ہے۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">کثیرِنات کی جانچ(Testing the multiverse)</div>
<div class="urdutext">متوازی کائناتوں کے عجیب مضمرات کو مدِنظر رکھتے ہوئے آپ کے ذہن میں ان کے وجود پر شک جائز ہے۔لیکن ہم کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ کیا عجیب ہے اور کیا نہیں؟ سائنسی تصورات تجرباتی جانچ سے پروان چڑھتے ہیں یا ختم ہو جاتے ہیں نہ کہ اس سے کہ ہم ان کو لے کر کیسا محسوس کرتے ہیں۔ اور یہ ایک مسلہ ہے۔ ایک متبادل کائنات ہماری اپنی کائنات سے علیحدہ ہے اور تعریف کی حد تک یہ ہماری نظر اور پہنچ سے باہر ہے۔ قصہ ِ تمام یہ کہ کثیرِنات کے نظریات کی جانچ دوسری دنیاؤں کی تلاش سے نہیں ہو سکتی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اگرچہ دوسری کائناتوں کا براہِ راست مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا تاہم یہ ممکن ہے کہ ایسے ثبوت تلاش کر لیے جائیں جو ان کے وجود کے حق میں دیے جانے والے دلائل کی توثیق کرتے ہوں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مثال کے طور پر ہم انفجارِ عظیم (big bang) کے افراطی نظریے(inflation theory) کے لیے بہت ٹھوس ثبوت تلاش کر سکتے ہیں جو افراطی کثیرِنات (inflationary multiverse) کے مسلے کو( ثابت کیے بنا ) کافی تقویت بخشیں گے۔ کچھ کونیات دانوں(Cosmologists) نے تجویز دی ہے کہ افراطی کثیرِنات کی زیادہ براہِ راست طریقے سے جانچ کرنا بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری اور ایک اور پھیلتی ہوئی کائنات کے درمیان تصادم پس منظری کائناتی خردموجی شعاعوں (cosmic microwave background radiations) پر قابلِ پیمائش اثرات چھوڑے گا اور اگر ہم اس کے قریب ہوئے تو اس کو دیکھ سکیں گے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20246" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-10-laaltain.jpg" alt="multiverse-10-laaltain" width="800" height="450" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-10-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-10-laaltain-300x169.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-10-laaltain-768x432.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<div class="urdutext">اسی طرح عظیم ثقیلہ تصادم گر(large hadron collider) کے لیے جو تجربات سوچے گئے ہیں وہ زائد ابعاد(extra dimensions) اور ان ذرات کو تلاش کر سکتے ہیں جن کی پیشین گوئی جھلی دنیاوی نظریہ(braneworld theory) کرتا ہے۔<br>
کچھ کا یہ کہنا ہے کہ تجرباتی تصدیق کو بڑھا چڑھا کے پیش کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم کسی بھی سائنسی تصور کی معقولیت کا اندازہ دوسرے طریقوں سے بھی لگا سکتے ہیں جیسا کہ کیا اس کی بنیاد واضح منطق پر رکھی گئی ہے جو ایسے مقدمہِ تمہید(premises) سے جنم لیتا ہو جس کومشاہداتی امداد حاصل ہو۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">آخر میں ہم شماریاتی پیشین گوئی بھی کر سکتے ہیں۔مثال کے طور پر ہم افراطی کثیرِنات کے نظریے کو استعمال کرتے ہوئے بہت ساری کائناتوں میں طبیعیاتی مستقلوں(physical constants) کی قیمتوں کا اندازہ لگا کر یہ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ ہمارے والی قیمتوں کے قریب ہیں یا نہیں۔ ان بنیادوں پر ہمارے پاس کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم کثیرِنات میں خود کا خاص تصور کریں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ کسی بھی طور بہت عجیب نظر آتا ہے کہ ہم جس طرف بھی دیکھیں یہ کائنات پھیلتی ہوئی نظر آتی ہے۔۔ طبیعیات دان میکس ٹیگمارک(Max Tegmark) کا کہنا ہے کہ ایسا نظریہ بنانا بہت مشکل ثابت ہوا ہے جو بالکل ایسی کائنات دے جیسی ہم دیکھتے ہیں” اس کے باوجود یہ واضح نہیں ہےکہ آیا اخباروں کی سرخیاں مستقبل قریب میں کسی دوسری کائنات کی ایجاد کی خبر دیں گی۔فی الحال یہ تصورات طبیعیات اور مابعدالطبیعیات کی سرحد پر موجود ہیں۔<br>
کسی بھی ثبوت کی غیر موجودگی میں ذیل میں مختلف کثیرِنات کے امکانات کی درجہ بندی ہے۔ زیادہ ممکنہ کثیرِنات کو سب سے پہلے رکھا گیا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>بارہ دوزی کائنات:</strong> اگر ہماری کائنات حقیقت میں لامحدود اور یکساں ہے تو پھر بارہ دوزی کائنات سےجان چھڑانابہت مشکل ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>افراطی کثیرِنات:</strong> اگر افراطی نظریہ صحیح ہے تو افراطی کائنات زیادہ ممکنہ ہے اور فی الحال افراط(inflation) انفجارِ عظیم (Big Bang) کی ہماری سب سے اچھی وضاحت ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>کائناتی فطری چناو:</strong> ایک زبردست خیال ہے مگر اس میں بہت زیادہ تصوراتی طبیعیات موجود ہے اور بہت سارے ایسے سوالات ہیں جن کے جواب موجود نہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>جھلی دنیاؤں:</strong> کا نظریہ اور زیادہ تصوراتی ہے اور اس کا وجود تبھی ممکن ہے جب زائد ابعاد کا وجود ممکن ہو اور ابھی اس کا کوئی براہِ راست ثبوت نہیں ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>کوانٹم کثیرِنات:</strong> بحث کی حد تک کوانٹم نظریے کی سادہ تریں تاویل ہے مگر یہ بہت مبہم ہے اور انفرادیت کے ایک غیر مربوط نقطہِ نظر کی طرف لے جاتی ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa-%db%8c%d8%a7-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa%db%8c%da%ba%d8%9f/">کائنات یا کائناتیں؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa-%db%8c%d8%a7-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa%db%8c%da%ba%d8%9f/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
