<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اسلام Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/اسلام/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Sep 2024 11:24:43 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>اسلام Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/اسلام/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>دعوتِ اسلام، چند واقعات (شعیب محمد)</title>
		<link>https://laaltain.pk/dawat-e-islam-chand-waqiat/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/dawat-e-islam-chand-waqiat/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[شعیب محمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 18 Mar 2019 07:15:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[arab]]></category>
		<category><![CDATA[dawat]]></category>
		<category><![CDATA[Islam]]></category>
		<category><![CDATA[muhammad]]></category>
		<category><![CDATA[tableegh]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[تبلیغ]]></category>
		<category><![CDATA[تبلیغ اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[جہاد]]></category>
		<category><![CDATA[دعوت]]></category>
		<category><![CDATA[عرب]]></category>
		<category><![CDATA[محمد]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24079</guid>

					<description><![CDATA[<p>1) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی اور وہاں پہنچنے کے بعد یہودیوں کے ساتھ پہلی باقاعدہ ملاقات ہوئی اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے اسلام لانے کے لئے پہلی دعوت دی گئی۔ چنانچہ حضرت انس سے روایت ہے: “نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/dawat-e-islam-chand-waqiat/">دعوتِ اسلام، چند واقعات (شعیب محمد)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>1) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی اور وہاں پہنچنے کے بعد یہودیوں کے ساتھ پہلی باقاعدہ ملاقات ہوئی اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے اسلام لانے کے لئے پہلی دعوت دی گئی۔ چنانچہ حضرت انس سے روایت ہے:</p>
<p>“نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیغام بھیجا تو وہ آئے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: “اے جماعت یہود! تمھاری خرابی ہو، اللہ سے ڈرو۔ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ بلاشبہ تم خوب جانتے ہو کہ یقیناً مَیں اللہ کا رسول ہوں اور تمھارے پاس حق لے کر آیا ہوں، لہٰذا تم اسلام لے آؤ۔” انہوں نے کہا کہ ہم تو اس بات کو نہیں جانتے۔ یہ بات انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تین مرتبہ کہی۔”<br>
(صحیح بخاری، کتاب مناقب الانصار، باب ہجر النبی صلی اللہ علیہ وسلم، و اصحابہ الی المدینۃ، رقم 3911)</p>
<p>2) حضرت ابوہریرۃ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: “یہود کی طرف چلو۔” ہم آپ کے ساتھ نکلے حتیٰ کہ ان کے ہاں پہنچ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، بلند آواز سے انہیں پکارا اور فرمایا:</p>
<p>“اے یہود کی جماعت! اسلام قبول کر لو، سلامتی پاؤ گے۔” انہوں نے کہا: اے ابوالقاسم! آپ نے پیغام پہنچا دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے (پھر) فرمایا: مَیں یہی چاہتا ہوں، اسلام قبول کر لو، سلامتی پاؤ گے۔” انہوں نے کہا: اے ابوالقاسم! آپ نے پیغام پہنچا دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے (پھر) فرمایا: “مَیں یہی چاہتا ہوں۔” آپ نے ان سے تیسری مرتبہ کہتے ہوئے (ساتھ) فرمایا:</p>
<p>“جان لو! یہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور مَیں چاہتا ہوں کہ تمھیں اس زمین سے جلا وطن کر دوِ، تم میں سے جسے اپنے مال کے عوض کچھ ملے وہ فروخت کر دے، ورنہ جان لو کہ یہ زمین اللہ کی اور اس کے رسول کی ہے۔”<br>
(صحیح مسلم، کتاب الجہاد و السیر، باب اجلاء الیہود من الحجاز، رقم 1765، دارالسلام 4591)</p>
<p>یہ حکم بعد میں پورے جزیرہ عرب کے لئے بھی دیا گیا۔ چنانچہ حضرت عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: : “مَیں یہود و نصاریٰ کو ہر صورت جزیرہ عرب سے نکال دوں گا، یہاں تک کہ مَیں مسلمانوں کے سوا کسی اور کو نہیں رہنے دوں گا۔”<br>
(صحیح مسلم، کتاب الجہاد و السیر، باب اخراج الیہود و النصاریٰ من جزیرۃ العرب، رقم 1767، دارالسلام 4594)</p>
<p>3) دعوتِ دین کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے کئی خطوط بھی مختلف قبائل اور بادشاہوں کو لکھے گئے۔ ایسے ہی ایک خط میں درج تھا:</p>
<p>“محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بنی زہیر بن اُقیش کے لئے۔ تم لوگ اگر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دو، نماز قائم کرو، غنیمت میں سے پانچواں حصہ (خمس) اور نبی کا خاص حصہ (صفی) ادا کرو تو اللہ اور اس کے رسول کی امان میں سے امن میں ہو۔”<br>
(سنن ابو داؤد، کتاب الخراج، باب ما جاء فی سھم الصفی، حدیث 2999 / صحیح ابن حبان بمطابق الاحسان، رقم6557 / مصنف ابن ابی شیبۃ، رقم 37790)</p>
<p>4) عمان والوں کی جانب جو خط لکھا گیا، وہ کچھ یوں تھا: “اللہ کے رسول محمد کی طرف سے اہل عمان کی طرف، سلام ہو۔ اما بعد! تم لوگ یہ گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور مَیں اللہ کا رسول ہوں، زکاۃ ادا کرو اور فلاں فلاں طریقے سے مسجدیں بناؤ، ورنہ مَیں تم پر حملہ آور ہوں گا۔”<br>
(اعلام السائلین لابن طولون: ص101–102، رقم 24 / معرفة الصحابة لأبي نعيم، رقم 6354)</p>
<p>5) رعیہ السحیمی یمامہ کا رہنے والا اور بنو حنیفہ سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے بارے میں موجود ہے کہ “نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رعیہ السحیمی کی طرف (چمڑے کے ٹکڑے پر) خط لکھا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پکڑا اور اس کے ساتھ اپنے ڈول کو پیوند لگا لیا (مطلب کہ کوئی پرواہ نہ کی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا۔ انہوں نے (جا کر) اس کے اہل و عیال اور مال پر قبضہ کر لیا۔”</p>
<p>پھر یہ بڑی ندامت کے ساتھ ذلیل و رسوا ہو کر مدینہ منورہ پہنچا اور بیعت اسلام کی اور اپنے اہل و عیال بچا لئے۔</p>
<p>نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: “اے لوگو! یہ رعیہ السحیمی ہے، جس کی طرف مَیں نے خط لکھا تو اس نے میرا خط لے کر اسی سے اپنا ڈول سی لیا، اب اسلام لے آیا ہے۔”<br>
(مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 37794، دوسرا نسخہ 36639 / المعجم الكبير للطبراني، رقم 4635 / مسند احمد، رقم 22365 / مجمع الزوائد، رقم 10348 / الاصابۃ فی تمییز الصحابہ، رقم 2661)</p>
<p>6) حضرت خالد بن ولید نے اہل فارس کے نام خط لکھا، جس میں موجود تھا کہ “ہم تمھیں اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں، اگر تم انکار کرو تو تم اپنے ہاتھوں جزیہ ادا کرو اس حال میں کہ تم ذلیل ہو کیونکہ میرے ساتھ ایسے لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں قتال کو ایسے پسند کرتے ہیں جیسے فارسی شراب پسند کرتے ہیں۔”<br>
(مستدرک حاکم، ج3 ص299 / المعجم الكبير للطبراني، ج4 ص105 / مسند علی بن الجعد، رقم 2304 / مجمع الزوائد، ج5 ص310)</p>
<p>7) حضرت جریر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم پر یمن بھیجا۔ اس تفصیلی واقعہ میں موجود ہے کہ “ذوالخلصہ یمن میں قبیلہ خثعم اور بجیلہ کا ایک گھر تھا جس میں بُت نصب تھے جن کی عبادت کی جاتی تھی۔، اسے کعبہ کہا جاتا تھا۔ حضرت جریر نے اسے آگ لگا دی اور گرا دیا۔ جب حضرت جریر یمن پہنچے تو وہاں ایک شخص تیروں کے ذریعے فال نکال رہا تھا۔ اسے کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد یہاں آ پہنچا ہے، اگر تُو اس کے ہتھے چڑھ گیا تو وہ تیری گردن اڑا دے گا۔</p>
<p>چنانچہ ایک دن ایسا ہوا کہ وہ فال نکال رہا تھا، اتنے میں حضرت جریر وہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے فرمایا: تُو فال کے ان تیروں کو توڑ کر کلمئہ شہادت پڑھ لے بصورت دیگر مَیں تیری گردن اڑا دوں گا، چنانچہ اس نے تیر توڑ کر کلمہ شہادت پڑھ لیا۔”<br>
(صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ ذی الخلصۃ، رقم 4357)</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/dawat-e-islam-chand-waqiat/">دعوتِ اسلام، چند واقعات (شعیب محمد)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/dawat-e-islam-chand-waqiat/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسلامی ریاست اور غیرمسلم (شعیب محمد)</title>
		<link>https://laaltain.pk/islami-riyasat-aur-ghair-muslim-kafir/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/islami-riyasat-aur-ghair-muslim-kafir/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[شعیب محمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 26 Dec 2018 11:18:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Islam]]></category>
		<category><![CDATA[islam and minorities]]></category>
		<category><![CDATA[islam and non muslim]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام اور اقلیتیں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام اور غیر مسلم]]></category>
		<category><![CDATA[اسلامی ریاست]]></category>
		<category><![CDATA[جزیہ]]></category>
		<category><![CDATA[ذمی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23878</guid>

					<description><![CDATA[<p>کچھ عرصہ قبل ایک فاضل دوست سعدی جان نے “اسلامی ریاست، ذمی اور سیکولر حضرات کی غلط فمہیاں” کے عنوان سے ایک تحریر لکھی اور اس میں کچھ دیگر دعووں کے ساتھ درج ذیل نکات پیش فرمائے: ٭ اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری ریاست کے وہ ’خصوصی‘ اور ’وی آئی پی‘ شہری ہیں، جن [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/islami-riyasat-aur-ghair-muslim-kafir/">اسلامی ریاست اور غیرمسلم (شعیب محمد)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>کچھ عرصہ قبل ایک فاضل دوست سعدی جان نے “<a href="http://www.humsub.com.pk/12936/saadi-jaan/" target="_blank" rel="noopener">اسلامی ریاست، ذمی اور سیکولر حضرات کی غلط فمہیاں</a>” کے عنوان سے ایک تحریر لکھی اور اس میں کچھ دیگر دعووں کے ساتھ درج ذیل نکات پیش فرمائے:</p>
<p>٭ اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری ریاست کے وہ ’خصوصی‘ اور ’وی آئی پی‘ شہری ہیں، جن کی خصوصیت، اہمیت اور حساسیت کی بنا پر اسلام نے انہیں ایک الگ معزز نام الاٹ کیا ہے، یعنی ذمی۔</p>
<p>٭ اسلامی ریاست کے غیر مسلم شہری بھی مسلم شہریوں کی طرح مکمل حقوق کے حامل شہری ہوتے ہیں، جو آج کی جدید دنیا میں شہریت کے لوازم سمجھے جاتے ہیں۔</p>
<p>عرض ہے کہ قرآن و حدیث کے صریح نصوص اور آثار خلفائے راشدین و صحابہ کرام کی موجودگی میں یہ تمام نکات تو محلِ نظر ہی ہیں۔ ایک طرف اسلامی ریاست کی بات کی جاتی ہے جو کہ قرآن و حدیث اور خلفائے راشدین کے طریق پر ہو اور مثالوں میں ان مسلم حکمرانوں کا برتاؤ بھی پیش کر دیا جاتا ہے جسے خود ہمارے علماء و مشائخ مثالی حکومتیں قرار نہیں دیتے۔</p>
<p>کہا گیا ہے کہ مسلم ریاست میں “غیر مسلم بھی ریاست کی نظر میں دوسرے شہری کی طرح ہوتے ہیں” یا انہیں بھی برابر کا باعزت شہری ہونا تسلیم کیا جاتا ہے حالانکہ یہ واضح اسلامی احکامات کے خلاف بات ہے۔ چنانچہ قرآن میں غیرمسلم کفار سے جزیہ کا حکم بیان ہی اس صورت میں ہوا ہے کہ</p>
<p>“یہاں تک کہ وه ذلیل وخوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔” (التوبہ: 29)</p>
<p>یہ صریح آیت ہے، اس کے ترجمے پر چونکہ اعتراض کر کے ہمارے مذہبی دوست مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی لئے یہ مشہور ترین تراجم ملاحظہ فرمائیں:</p>
<p>٭جب تک اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دیں ذلیل ہوکر۔ (مولانا احمد رضا خان بریلوی)</p>
<p>٭یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔ (مولانا مودودی)</p>
<p>٭یہاں تک کہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔ (مولانا احمد علی لاہوری)</p>
<p>٭یہاں تک کہ ذلیل ہوکر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔ (مولانا فتح محمد جالندھری)</p>
<p>٭یہاں تک کہ اپنے ہاتھوں سے ذلّت کے ساتھ تمہارے سامنے جزیہ پیش کرنے پر آمادہ ہوجائیں۔ (علامہ جوادی)</p>
<p>٭یہاں تک کہ وه ذلیل وخوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔ (مولانا محمد جوناگڑھی)</p>
<p>٭یہاں تک کہ وہ چھوٹے بن کر (ذلیل ہوکر) ہاتھ سے جزیہ دیں۔ (محمد حسین نجفی)</p>
<p>لہٰذا دوسرے درجے کا بلکہ ذلت رسوائی کے ساتھ شہری بن کر رکھنا ہی جزیہ لینے کا مقصد ہے۔ تمام بڑے بڑے مترجمین و مفسرین نے ہرگز آیت کو مداہنت کے ساتھ گول مول کرنے کی کوشش نہیں کی، یہ آج کے دور میں ہی مطلب بدل رہے ہیں۔ امام المفسرین ابن کثیر رح نے اسی آیت کی تفسیر میں بھی لکھا:</p>
<p>“پس (اللہ) فرماتا ہے کہ جب تک وہ ذلت و خواری کے ساتھ اپنے ہاتھوں جزیہ نہ دیں انہیں نہ چھوڑو۔”<br>
(تفسیر ابن کثیر مترجم، ج2 ص550، مکتبہ اسلامیہ لاہور)</p>
<p>حضرت خالد بن ولید نے بھی اہل فارس کے نام خط میں لکھا: “ہم تمھیں اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں، اگر تم انکار کرو تو تم اپنے ہاتھوں جزیہ ادا کرو اس حال میں کہ تم ذلیل ہو کیونکہ میرے ساتھ ایسے لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں قتال کو ایسے پسند کرتے ہیں جیسے فارسی شراب پسند کرتے ہیں۔”<br>
(مجمع الزوائد: 310/5، امام ہیثمی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔)</p>
<p>لہٰذا ایک اسلامی ریاست و حکومت کے زیر اثر غیر مسلموں کی ذلت حربی و غیر حربی ہونے سے بھی ہرگز مشروط نہیں بلکہ راہ چلتے غیر مسلموں کو بھی ذلیل کرنا اسلامی احکامات میں شامل ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا گیا ہے:</p>
<p>“یہود و نصاریٰ کو سلام میں پہل نہ کرو اور جب ان میں سے کوئی راستے میں مل جائے تو اُسے تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔”<br>
(صحیح مسلم، حدیث 5546 طبع دارالسلام)</p>
<p>امام ترمذی لکھتے ہیں: “بعض اہل علم کہتے ہیں: یہ اس لیے ناپسند ہے کہ پہلے سلام کرنے سے ان کی تعظیم ہوگی جب کہ مسلمانوں کو ان کی تذلیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح راستے میں آمنا سامنا ہو جانے پر ان کے لیے راستہ نہ چھوڑے کیوںکہ اس میں بھی ان کی تعظیم ہے۔”<br>
(سنن ترمذی، تحت حدیث 1602)</p>
<p>گویا اسلامی ریاست میں تو غیر مسلم شہریوں کو راستے میں آتے جاتے ذلیل و رسوا کرنا تعلیمات میں شامل ہے اور اسلامی ریاست کے عروج میں پائے جانے والے ہمارے بڑے بڑے آئمہ انہی احکامات کے قائل رہے ہیں۔</p>
<p>ہمارے دوست فاضل کالم نگار نے یہ لکھا کہ حضرت امیر معاویہ، حجاج، عبدالملک مروان وغیرہ کچھ مسلمان حکمرانوں نے غیر مسلموں کو اہم عہدے سونپے تھے تو عرض ہے کہ یہ کام کرنے کو تو صحابی رسول حضرت ابوموسیٰ اشعری نے بھی کیا تھا کہ ایک غیر مسلم کو اپنا کاتب مقرر کیا لیکن خلیفہ راشد دوم حضرت عمر فاروق نے اس پر شدید ردعمل دیا۔ ملاحظہ ہو۔ چنانچہ حضرت عمر نے کہا:</p>
<p>“تجھے کیا ہوا، اللہ تجھے تباہ کرے، کیا تو نے اللہ کا فرمان نہيں سنا: {اے ایمان والو ! تم یہود ونصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں، تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی ایک کے ساتھ دوستی کرے گا وہ بلاشبہ انہیں میں سے ہے ، ظالموں کو اللہ تعالی ہرگز راہِ راست نہیں دکھاتا } المائدۃ ( 51 )۔ تو نے ملت حنیفی پر چلنے والے کو حاصل کیوں نہ کیا ( یعنی مسلمان کاتب کیوں نہ رکھا)؟”</p>
<p>ابو موسی رضي اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں میں نے کہا: اے امیرالمومنین! مجھے تو اس کی کتابت چاہیے اور اس کے لیے اس کا دین ہے، عمر رضي اللہ عنہ فرمانے لگے :</p>
<p>“جب اللہ تعالی نے ان کی توہین کی اور انہیں ذلیل کیا ہے تو مَیں ان کی عزت و احترام نہيں کرونگا ، اورجب اللہ تعالی نے انہیں دور کیا ہے تو مَیں انہیں قریب نہیں کروں گا۔”</p>
<p>(مجموع الفتاویٰ: 326/25، السنن الکبریٰ للبیہقی: 204/9، أحكام أهل الذمة لابن القيم: 1/ 454، إرواء الغليل: 256/8، محدث و امام ابن تیمیہ نے اس روایت کو صحیح اور محدث علامہ البانی نے “اسنادہ حسن” قرار دیا ہے۔)</p>
<p>باقی مزید کیا کیا عرض کیا جائے؟ جب ایک غیرمسلم کی جان تک کو اسلامی ریاست میں کسی مسلمان کی جان کی برابری حاصل نہیں۔ ہمارے فاضل دوست یہ فرماتے ہیں کہ “غیر مسلم شہریوں کی جان اور ان کا مال ایک مسلمان کی طرح مکمل قانوناً محفوظ ہوتا ہے۔”</p>
<p>یہ بالکل واضح احادیث کے خلاف مئوقف ہے کیونکہ اسلامی احکامات میں ایک مسلمان اور غیر مسلم کی جان بھی ہرگز ایک برابر نہیں اور مسلمان اور غیر مسلم افراد کی جانوں کا فیصلہ بھی برابری کی سطح پر نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ ایک مسلمان اگر کسی غیر مسلم کو قتل بھی کر دے تو اس کے بدلے اس مسلمان کو ہرگز قتل کی سزا نہیں دی جا سکی۔ حدیث میں واضح حکم موجود ہے کہ “کسی مومن کو کسی کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا۔” (سنن ابو داؤد، حدیث 4530)</p>
<p>اسی طرح خلیفہ سوم حضرت عثمان کے بارے صحیح روایت موجود ہے کہ “ایک مسلمان نے ایک ذمی کو جان بوجھ کر قتل کر دیا تو حضرت عثمان کے پاس فیصلہ آیا تو آپ نے اسے قتل نہ کیا بلکہ اس پر (صرف) مسلمان جیسی دیت رکھی۔”<br>
(سنن بیہقی، رقم 15931)</p>
<p>امام بیہقی نے تو اس موضوع پر کئی صحابہ سے روایات جمع کر رکھی ہیں، جن سے یہ ثابت کیا ہے کہ مسلمان کو کسی ذمی کافر کے بدلے ہرگز قتل نہ کیا جائے گا اور خود جمہور فقہاء کا بھی یہی موقف ہے۔</p>
<p>آخر میں صرف حضرت عمر بن عبدالعزیز جو پانچویں خلیفہ راشد کہلاتے ہیں کا ایک خط ان کے عامل کے نام پیشِ خدمت ہے جس سے ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کی مجموعی صورتحال پر خوب روشنی پڑتی ہے:</p>
<p>“اما بعد، جو صلیبیں اعلانیہ نصب ہیں ان کو توڑ دیا جائے۔ اور یہودیوں اور عیسائیوں کو اجازت نہیں کہ وہ سواری کے لیے زین کا استعمال کر سکیں بلکہ انہیں سامان ڈھونے والی کاٹھی رکھ کر ہی سواری کرنا ہو گی اور ان کی خواتین بھی زین پر بیٹھ کر سواری نہیں کر سکتیں بلکہ انہیں بھی سامان ڈھونے والی کاٹھی ہی استعمال کرنی ہے۔ اس کا باقاعدہ فرمان جاری کرو اور عوام کو اس کی نافرمانی نہ کرنے دو اور فرمان جاری کرو کہ کوئی عیسائی قبا نہیں پہن سکتا اور نہ ہی نفیس کپڑا پہن سکتا ہے اور نہ ہی عمامہ پہن سکتا ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ تمہاری عملداری میں بہت سے عیسائی عمامہ پہننے کی رسم میں دوبارہ مبتلا ہو گئے ہیں اور وہ کمر کے گرد پیٹی (زنار) بھی نہیں باندھ رہے ہیں اور اپنے آگے کے سر کو گنجا بھی نہیں کر رہے ہیں۔ اگر تمہاری موجودگی میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو اس کی وجہ تمہاری کمزوری ہے، تمہاری نااہلی ہے اور تہمارا خوشامدیں سننا ہے، اور یہ لوگ جانتے ہیں کہ وہ کیسے اپنے پرانے رسوم کو جاری کریں۔ تم کس قسم کے انسان ہو؟ ان تمام چیزوں کا خیال رکھو جن کی میں نے ممانعت کی ہے اور ان لوگوں کو ایسا کرنے سے بالکل روک دو۔ والسلام”<br>
(کتاب الخراج لأبي يوسف، صفحہ 145، المكتبة الأزهرية للتراث)</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/islami-riyasat-aur-ghair-muslim-kafir/">اسلامی ریاست اور غیرمسلم (شعیب محمد)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/islami-riyasat-aur-ghair-muslim-kafir/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>غیر مسلموں کی عبادت گاہوں پر پابندی لگانا اور انہیں گرانا</title>
		<link>https://laaltain.pk/ghair-muslim-ki-ibadat-gahon-per-pabandi/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/ghair-muslim-ki-ibadat-gahon-per-pabandi/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 16 Jun 2018 04:36:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Islam]]></category>
		<category><![CDATA[islam and minorities]]></category>
		<category><![CDATA[jihad]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام اور اقلیتیں]]></category>
		<category><![CDATA[جہاد]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23634</guid>

					<description><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”] مسلم اکثریتی علاقوں میں غیر مسلموں (یا ایسے مسلم فرقے جنہیں مسلمان تسلیم نہیں کیا جاتا) کے خلاف مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک، نفرت آمیز تحریر و اشاعت اور قتل و غارت معمول ہے۔ مسلم اکثریتی علاقوں میں اسلامی نظام کے داعی عموماً یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ اس قسم کے واقعات [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/ghair-muslim-ki-ibadat-gahon-per-pabandi/">غیر مسلموں کی عبادت گاہوں پر پابندی لگانا اور انہیں گرانا</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">مسلم اکثریتی علاقوں میں غیر مسلموں (یا ایسے مسلم فرقے جنہیں مسلمان تسلیم نہیں کیا جاتا) کے خلاف مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک، نفرت آمیز تحریر و اشاعت اور قتل و غارت معمول ہے۔ مسلم اکثریتی علاقوں میں اسلامی نظام کے داعی عموماً یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ اس قسم کے واقعات اسلامی خلافت کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ مسلم مبلغین یہ تاثر بھی عام کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام غیر مسلموں کو مکمل تحفظ اور حقوق عطا کرتا ہے۔ تاہم یہ نقطہ نظر اسلام کے ابتدائی دنوں کے ان واقعات سے مطابقت نہیں رکھتا جن میں غیر مسلموں کی عبادت گاہوں پر پابندیاں عائد کی گئیں بلکہ انہیں نقصان بھی پہنچایا گیا۔ درحقیقت تمام شہریوں کی برابری اور مساویانہ حقوق کا تصور ایک جدید قومی ریاست کا تصور ہے، مسلم خلفاء کے زمانے میں غیر مسلموں (یا جنہیں مسلمان تسلیم نہیں کیا جاتا) کو دوسرے درجے کا فرد ہی سمجھا جاتا رہا ہے۔ یقیناً بعض مسلم حکمرانوں نے غیر مسلموں کو عہدے بھی دیئے اور مراعات بھی، تاہم اسلام کا غیر مسلموں سے متعلق حکم انہیں سماجی، سیاسی اور مذہبی اعتبار سے مسلمانوں سے کم تر خیال کرنے کا ہی ہے۔ ذیل میں دیئے گئے حوالے اس ضمن میں اہم اور چشم کشا ہیں اور یقیناً ان واقعات کو پڑھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اسلام کو ایک سیاسی نظام یا حکومت کی بنیاد خیال بنانا تمام انسانوں کی مساوی حیثیت اور تمام شہریوں کے یکساں حقوق کے اصول کے کس قدر برعکس ثابت ہو سکتا ہے۔ ان واقعات کو شائع کرنے کا مقصد مسلمانوں کی دل آزاری نہیں بلکہ تاریخ کو اس کے درست تناظر میں پیش کرنا ہے۔</div>
<p>[/blockquote]<br>
1) حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ “زمانہ جاہلیت میں ایک گھر تھا جسے ذوالخلصہ، کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ کہا جاتا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: “کیا تم مجھے ذوالخلصہ سے آرام نہیں پہنچاؤ گے؟” میں ایک سو پچاس سوار لے کر گیا۔ اسے ہم نے توڑ پھوڑ دیا اور اس کے مجاوروں کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سارا قصہ بیان کیا تو آپ نے ہمارے اور قبیلہ احمس کے لئے دعا فرمائی۔”<br>
(صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ ذی الخلصۃ، حدیث 4355)</p>
<p>دوسری روایت میں ہے: ““ذوالخلصہ یمن میں قبیلہ خثعم اور بجیلہ کا ایک گھر تھا جس میں بُت نصب تھے جن کی عبادت کی جاتی تھی۔، اسے کعبہ کہا جاتا تھا۔ حضرت جریر نے اسے آگ لگا دی اور گرا دیا۔”<br>
(صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ ذی الخلصۃ، حدیث 4357)</p>
<p>2) عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس سے دریافت کیا گیا: کیا مشرکین کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ عرب کی سرزمین پر اپنے عبادت خانے بنائیں؟ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا: جو شہر مسلمانوں کے ہیں، اُن میں کوئی عبادت خانہ یا گرجا گھر یا آگ کا عبادت خانہ یا صلیب نہیں بنائے جا سکتے۔ وہاں بوق نہیں بجایا جا سکتا، وہاں ناقوس نہیں بجایا جا سکتا۔ ان میں شراب یا خنزیر کو نہیں لایا جا سکتا۔ (ہاں) جب کسی علاقے کے (غیر مسلم) لوگوں کے ساتھ مصالحت ہو گئی ہو تو مسلمانوں پر یہ بات لازم ہے کہ انہوں نے ان کے ساتھ جو صلح کی ہے اسے پورا کریں۔” (راوی) بیان کرتے ہیں: مسلمانوں کے علاقے کی وضاحت یہ ہے کہ جو علاقے عرب کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں یا مشرکین کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہوں اور (مسلمانوں نے) انہیں مقابلہ کر کے حاصل کیا ہو۔<br>
(مصنف عبدالرزاق، 60/6، کتاب اہل الکتاب، باب هدم كنائسهم وهل يضربوا بناقوس؟، رقم 10002)</p>
<p>3) حرام بن معاویہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے ہمیں خط لکھا کہ “تمھارے علاقہ میں کوئی خنزیر نہ آنے پائے اور نہ ہی تمھارے علاقہ میں صلیب کو بلند کیا جائے۔۔۔۔”<br>
(مصنف عبدالرزاق، 60/6، کتاب اہل الکتاب، باب هدم كنائسهم وهل يضربوا بناقوس؟، رقم 10003)</p>
<p>4) وہب بن نافع بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن عبدالعزیز نے عروہ بن محمد کو خط میں لکھا کہ وہ مسلمانوں کے علاقوں میں موجود گرجا گھروں کو منہدم کر دیں۔ راوی بیان کرتا ہے: مَیں عروہ بن محمد کے پاس موجود تھا، وہ سوار ہو کر گرجا گھر کے پاس گئے، پھر انہوں نے مجھے بلایا، مَیں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے خط کے بارے میں گواہی دی تو عروہ نے اُس گرجا گھر کو منہدم کر دیا۔<br>
(مصنف عبدالرزاق، 59/6، کتاب اہل الکتاب، باب هدم كنائسهم وهل يضربوا بناقوس؟، رقم 9999)</p>
<p>5) مشہور امام حسن بصری سے مروی ہے کہ “سنت یہ ہے کہ شہروں میں موجود پرانے یا نئے تمام گرجا گھروں کو منہدم کر دیا جائے۔”<br>
(مصنف عبدالرزاق، 60/6، کتاب اہل الکتاب، باب هدم كنائسهم وهل يضربوا بناقوس؟، رقم 10001)</p>
<p>6) اسماعیل بن امیہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ وہ (مشہور تابعی) ہشام کے ساتھ حدہ سے گزرے، جہاں ایک نیا گرجا گھر بنا تھا، انہوں نے اسے منہدم کرنے کے بارے مشورہ لیا اور پھر ہشام نے اسے منہدم کروا دیا۔<br>
(مصنف عبدالرزاق، 59/6، کتاب اہل الکتاب، باب هدم كنائسهم وهل يضربوا بناقوس؟، رقم 10000)</p>
<p>ان تمام روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو ہرگز ان کے عبادت خانے بنانے یا اپنے مذہبی شعائر بجا لانے کی اجازت حاصل نہیں تھی۔ اسی طرح مسلمانوں کے ہاں غیر مسلموں کے عبادت خانوں کو گرانے اور ڈھانے کا عام معمول تھا۔</p>
<p>شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ عیسائیوں کے گرجا گھروں کو ڈھانے کے بارے میں فرماتے ہیں: “مسلمانوں میں سے کوئی ایسا نہیں جو اس پر انکار کرے کہ مفتوحہ علاقوں کے گرجا گھروں کا گرانا جائز ہے، اگر اس میں مسلمانوں کو کوئی نقصان نہ ہو۔” (مسألة في الكنائس، 122–123)</p>
<p>دیگر معاشرتی و سماجی پابندیوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کے عبادت خانوں کی اس تباہی سے صرف وہی علاقے مستثنیٰ تھے جہاں دیگر اقوام نے اسی شرط پر مسلمانوں سے صلح کی تھی۔</p>
<p>7) عمر بن میمون بن مہران بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خط میں لکھا کہ شام میں موجود عیسائیوں کو ناقوس بجانے سے منع کر دیا جائے۔ کہا: انہیں اس بات سے بھی منع کر دیا گیا کہ وہ (بالوں کی) مانگ نکالیں یا پیشانی کے بال کاٹیں یا اپنے مخصوص قسم کے پٹکے باندھیں۔ وہ زین پر سوار نہیں ہو سکتے، وہ پٹیاں نہیں پہن سکتے۔ ان کے عبادت خانوں کے اوپر صلیب کو بلند نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کوئی (غیر مسلم) شخص اس میں سے کسی جرم کا مرتکب ہو اور اس سے پہلے اس کی طرف حکم آ چکا ہو تو جو شخص اس پر حملہ کرے گا، اس کا ساز و سامان حملہ کرنے والے شخص کو مل جائے گا۔ کہا: حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ ان (غیر مسلموں) کی عورتوں کو اس بات سے منع کر دیا جائے کہ وہ پالکیوں پر سوار ہوں۔<br>
عمر بن میمون بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ان لوگوں کے عبادت خانے ڈھانے کے بارے مجھ سے مشورہ کیا تو مَیں نے کہا: “انہیں منہدم نہ کریں کیونکہ اس پر ان کے ساتھ صلح ہوئی تھی تو حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس (ارادے) کو ترک کر دیا۔<br>
(مصنف عبدالرزاق، 61/6، کتاب اہل الکتاب، باب هدم كنائسهم وهل يضربوا بناقوس؟، رقم 10004)</p>
<p>معلوم ہوا کہ غیر مسلموں پر ناقوس بجانے، بالوں کی مانگ نکالنے، کاٹھی و زین وغیرہ پر سواری کرنے حتیٰ کہ ان کی عورتوں کے پالکیوں پر سوار ہونے تک کی پابندی عائد تھی اور اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے لئے یہ افعال جرم سمجھے جاتے تھے جس کی خلاف ورزی پر کسی کو بھی حق حاصل تھا کہ وہ اس کے مرتکب غیر مسلم پر حملہ آور ہو اور اس کا ساز و سامان لوٹ لے۔ یہاں یہ بھی پیشِ نظر رہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ہمارے ہاں پانچویں خلیفہ راشد مانے جاتے ہیں اور انتہائی رحمدل اور انصاف پسند اسلامی حکمران کے طور پر جانے جاتے ہیں۔</p>
<p>علاوہ ازیں شام یا کچھ دیگر علاقوں میں غیر مسلموں کے عبادت خانوں کو گرانا ترک کیا گیا یا انہیں قائم رہنے دیا گیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے مسلمانوں سے اس پر صلح کی تھی۔ مگر اس میں بھی پابندی تھی کہ وہ نئی عبادت گاہیں نہیں بنا سکتے اور اپنے پہلے سے موجود پرانے عبادت خانوں پر ہی اکتفا کریں گے حتیٰ کہ پرانے اور خستہ ہونے پر ان کی مرمت تک نہیں کر سکتے۔</p>
<p>8) چنانچہ حضرت عمر کے دور میں اہل شام کے محاصرے کے بعد ان کے ساتھ جن شرائط پر صلح نامہ لکھا گیا، ان میں سرفہرست ان سے یہ شرائط لکھوائی گئی تھیں:<br>
★ ہم اپنے ان شہرں میں اور ان کے آس پاس کوئی گرجا گھر اور خانقاہ نئی نہیں بنائیں گے۔<br>
★ مذہبی عبادتگاہوں اور نہ ایسے کسی خرابی والے مکان کی اصلاح کریں گے اور جو پرانے ہو کر گرنے والے ہیں ان کی مرمت نہیں کریں گے۔<br>
(تفسیر ابن کثیر: تحت سورۃ توبہ آیت 29، إرشاد الفقيه لابن کثیر: 340/2، المحلی لابن حزم: 346/7، الاحکام الصغریٰ لعبدالحق الاشبیلی: 600، أحكام أهل الذمة: 1149/3)</p>
<p>یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ غیر مسلموں کے لئے اگر پرانی ہوتی خستہ حال اپنی عبادت گاہوں کو درست کرنے اور ان کی مرمت کرنے پر بھی پابندی عائد تھی تو پھر اس کا نتیجہ بھی بالآخر ان کے گرنے اور تباہ ہونے کی صورت میں ہی نکل سکتا تھا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/ghair-muslim-ki-ibadat-gahon-per-pabandi/">غیر مسلموں کی عبادت گاہوں پر پابندی لگانا اور انہیں گرانا</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/ghair-muslim-ki-ibadat-gahon-per-pabandi/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مسئلہ تقدیر اور خدا</title>
		<link>https://laaltain.pk/masla-e-taqdeer-aur-khuda/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/masla-e-taqdeer-aur-khuda/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[شعیب محمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 09 Jun 2018 11:34:05 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[determinism]]></category>
		<category><![CDATA[fatalism]]></category>
		<category><![CDATA[Islam]]></category>
		<category><![CDATA[problems of islam]]></category>
		<category><![CDATA[Quran]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[تقدیر]]></category>
		<category><![CDATA[تقدیر پرستی]]></category>
		<category><![CDATA[خدا]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23602</guid>

					<description><![CDATA[<p>شعیب محمد: اسلامی لحاظ سے تقدیر کا معاملہ ہرگز صرف خدا کے علم میں ہونے کا مسئلہ نہیں اور نہ عمل کے لحاظ سے غیرجانبدار آزادی کا اختیار ہے بلکہ یہ محض خدا کی اپنی چاہت اور منشاء پر مبنی ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/masla-e-taqdeer-aur-khuda/">مسئلہ تقدیر اور خدا</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>تقدیر کا معاملہ اسلام سمیت بہت سے مذاہب کو درپیش نہایت مشکل معاملات میں سے ایک ہے۔ جو کچھ ہونے والا ہے سب خدا کے علم اور ارادے سے ہے تو انسان کے اچھے بُرے ہونے کا کیا مطلب؟ پھر پہلے سے معلوم افعال پر خدا کا راضی و ناراض ہونا، پہلے سے طے شدہ و متعین نتیجے پر خدا کی تخلیق اور سزا جزا کا یہ سارا معاملہ بھی محض خدا کی اسی صفت کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ قادر مطلق ہے سو جو چاہے کرے۔</p>
<p>اسلام کے حوالے سے بات کی جائے تو مسئلہ تقدیر کی جو بھی تعبیر مسلمان متکلمین پیش کرتے آئے ہیں، آپس میں اس قدر گنجلک ہیں کہ جو بھی پہلو اختیار کیا جائے خود قرآن و حدیث کے دیگر دلائل اس کے خلاف آن کھڑے ہوتے ہیں۔ مذہبی دانشور و مفکرین جو بھی تفہیم اختیار کرتے ہیں کہیں نہ کہیں آ کر یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ “انسان اپنی محدود سی عقل سے خدا کی لامحدود ذات و صفات کا احاطہ نہیں کرسکتا۔” اگر نتیجہ حاصل یہی ماننا ہے تو پھر سمجھنے سمجھانے کا تکلف کیسا؟ انسان کو خود ایسی محدود عقل کے ساتھ پیدا کرنا کہ وہ ان معاملات کو سمجھ ہی نہ سکے اور پھر انہی مسائل کو بنیادی ترین ایمان کا حصہ بنانا، کیا یہ ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں کہ عقیدہ و نظریہ سمجھ سے بالاتر محض مان لینے کا نام ہے اور اسی کو “غیب پر ایمان لانا” کہا جاتا ہے۔</p>
<p>مگر یہاں سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ چیز جو سمجھ سے بالاتر ہو اسے ماننا اور آنکھیں بند کئے تسلیم کرنا یا اس پر سوال نہ اٹھانا ہی خدائی منشاء و ہدایت ہے تو پھر یہ سہولت کیا دیگر مذاہب کو بھی حاصل ہے؟ دیگر مذاہب و قدیم یونانی دیومالائی قصے کہانیاں اور ان پر مبنی عقائد پر ایمان لانا بھی کیا اس بنیاد پر ہدایت ہو سکتا ہے کہ انسان اپنی محدود عقل و فہم سے ان معاملات کا احاطہ نہیں کر سکتا؟</p>
<p>ان فلسفیانہ مباحث کو چھوڑتے ہوئے آئیے ایک نظر تقدیر سے متعلقہ آیات و احادیث پر ڈالتے ہیں:</p>
<p>قرآن میں ارشاد ہوا: “کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب میں لکھ نہ رکھا ہو ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان کام ہے۔” (سورة الحديد: 22)</p>
<p>حضرت ابوہریرۃ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جو کچھ تمھارے ساتھ ہونے والا ہے اس پر قلم خشک ہو چکا ہے۔”<br>
(صحیح بخاری، کتاب القدر، قبل حدیث: 6596)</p>
<p>ہمارے مذہبی علماء و مفکرین اکثر یہ تعبیر اختیار کرتے ہیں کہ اس سے مراد صرف خدا کا علم اور ارادہ ہے نا کہ کسی انسان کو اس علم کی بنیاد پر مجبور کیا جاتا ہےجبکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن و حدیث کی اکثر نصوص اس تاویل کے خلاف ہیں۔ قرآن و حدیث میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ تقدیر ہی انسان پر غلبہ پاتی ہے وہ اعمال کچھ بھی کر رہا ہو، اس کی پہلے سے طے شدہ متعین تقدیر کے مطابق اسے سہلوت دی جاتی ہے اور اس سے وہی عمل کروایا جاتا ہے۔</p>
<p>“پس خدا جسے ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام کے لئے کشادہ کردیتا ہے اور جس کو گمراہی میں چھوڑنا چاہتا ہے اس کے سینے کو ایسا تنگ اور دشوار گزار بنادیتا ہے جیسے آسمان کی طرف بلند ہورہا ہو ‚وہ اسی طرح بے ایمانوں پر ان کی کثافت کو مسّلط کر دیتا ہے۔” (سورة الأنعام: 125)</p>
<p>یہ آیت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خدا جسے خود ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے سینے کو ہدایت کے لئے کھول دیتا ہے اور اس کے مقابل جسے گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کے سینے کو تنگ کر دیتا ہے۔ اب جس کا سینہ خود خدا نے کھولا ہو اسے ہدایت ملنا محض خدا کا اس پر خصوصی و امتیازی فضل ٹھہرا اور جس کا سینہ خود خدا نے تنگ کر دیا ہو کہ خود خدا اسے گمراہی میں ہی چھوڑنا چاہتا ہے تو بتائیں اسے ہدایت کیسے اور کہاں سے ملے؟</p>
<p>حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “عائشہ! اللہ تعالیٰ نے جنت میں رہنے والے لوگ پیدا کئے، انہیں اس وقت جنت کے لئے تخلیق کیا جب وہ اپنے باپوں کی پشت میں تھے اور دوزخ کے لئے بھی رہنے والے بنائے، انہیں اس وقت دوزخ کے لئے تخلیق کیا جب وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے۔”<br>
(صحیح مسلم، کتاب القدر، باب معنیٰ کل مولود یولد علی فطرۃ۔۔۔، حدیث:2662)</p>
<p>یہ حدیث بھی واضح ثبوت ہے کہ جنتیوں کو پیدا ہی جنت کے لئے کیا گیا اور جہنم میں جانے والوں کو پیدا ہی جہنمی اور جہنم جانے کے لئے کیا گیا۔</p>
<p>حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم میں سے ایک شخص اہل جہنم کے سے عمل کرنے لگتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر اس پر غالب آ جاتی ہے اور وہ اہل جنت کے کام کرنے لگتا ہے، پھر وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص اہل جنت کے کام کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک یا دو ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر اس پر غالب آ جاتی ہے اور وہ اہل جہنم کے کام کرنے لگتا ہے اور دوزخ میں چلا جاتا ہے۔” (صحیح بخاری، کتاب القدر، حدیث: 6594)</p>
<p>گویا کہ کوئی انسان اعمال کیسے بھی کر لے، آخر میں تقدیر اس پر غلبہ پاتی ہے اور وہ اسی کے مطابق جنتی و جہنمی بنتا ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جنتی کا خاتمہ جنتی کے عمل پر ہو گا اگرچہ اس سے پہلے وہ جو بھی عمل کرے اور جہنمی کا خاتمہ جہنمی کے عمل پر ہو گا اگرچہ اس سے پہلے جو بھی عمل کرے۔”<br>
(سنن ترمذی، کتاب القدر، حدیث: 2141)</p>
<p>حضرت عمران بن حصین سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے یا جو اس کے لئے آسان کیا گیا ہے۔” (صحیح بخاری، کتاب القدر، حدیث: 6596)</p>
<p>حضرت عمر سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ہر ایک کے لئے وہ کام آسان کر دیا گیا ہے (جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے) چنانچہ جو آدمی سعادت مندوں میں سے ہے وہ سعادت والا کام کرتا ہے اور جو بد بختوں میں سے ہے وہ بد بختی والا کام کرتا ہے۔” (سنن ترمذی، کتاب القدر، حدیث: 2135)</p>
<p>حضرت عبداللہ بن مسعود کہا کرتے تھے: “بد بخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بد بخت تھا۔”<br>
(صحیح مسلم، کتاب القدر، باب کیفیۃ خلق الادمی فی بطن امہ۔۔۔، حدیث: 2645، طبع دارالسلام 6726)</p>
<p>یہ تمام احادیث بھی یہ حقیقت کھول کر بیان کر دیتی ہیں کہ تقدیر پہلے سے متعین نتیجہ ہے اور اسی کے مطابق سہولت اور آسانی دے دی جاتی ہے۔ گویا جسے پہلے سے جنتی لکھ دیا گیا اس کے لئے نیک اعمال کو آسان کر دیا اور جسے جہنمی لکھا گیا اسے بدی کی طرف آسانی اور سہولت دی جاتی ہے۔ ہر ایک کرتا ہی وہ ہے جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا ہے۔ کیا اس معاملے کو صرف پہلے سے جانا گیا علم و ارادہ کہا جا سکتا ہے؟</p>
<p>حضرت ابوہریرۃ سے مروی حدیث میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ نے حضرت آدم سے مناظرہ کیا۔ حضرت موسیٰ نے حضرت آدم سے جب کہا: “پھر آپ نے لوگوں کو گمراہ کیا اور ان کو جنت سے نکالا۔ حضرت آدم نے جواب دیا: “آپ میرے ایسے کام پر مجھے ملامت کرتے ہیں جو اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کرنے سے بھی پہلے میرے لیے لکھ دیا تھا۔” آدم موسیٰ سے دلیل میں جیت گئے۔<br>
(سنن ترمذی، کتاب القدر، حدیث: 2134)</p>
<p>صحیح مسلم کی روایت (2652) میں وضاحت موجود ہے کہ یہ مناظرہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ہوا تھا۔ معلوم ہوا کہ خود انبیاء کا عقیدہ و نظریہ بھی یہی تھا کہ ان سے جو اعمال صادر ہوئے وہ سب لکھی ہوئی تقدیر کی وجہ سے ہی تھے۔ یہاں پر ایک اور شبہ کا جواب بھی ضروری ہے کہ شاید کوئی یہی سمجھے کہ اعمال تو چلو تقدیر سے ہیں اور اسی کے مطابق سہولت اور آسانی دی جاتی ہے لیکن یہ اعمال کا صدور ہوتا تو انسان کی اپنی چاہت سے ہے تو عرض ہے کہ قرآن کے مطابق تو انسان کا کسی عمل کی طرف رغبت اور چاہت اختیار کرنا تک خود اس کے اختیار میں نہیں۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا: “اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے۔” (سورة التكوير: 29)</p>
<p>گویا عمل کی توفیق ہے نہ کسی عمل چاہنے کی آزادی بلکہ جو خدا نے لکھ رکھا ہے اسی کے مطابق سب ہو گا کیونکہ وہ مالک و مختار ہے اور مخلوق میں سے جنتی جہنمی سب طے شدہ ہیں اور خدا کی کسی نامعلوم خواہش کے سامنے بے بس و لاچار جو وہ کم عقل انسانوں کو بتانے کا ہرگز پابند نہیں۔</p>
<p>“جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں تو وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہو جاتا ہے اور ہم اسے برباد کر کے رکھ دیتے ہیں.” (سورة الإسراء: 16)</p>
<p>اس آیت میں بھی بالکل وضاحت سے بیان کر دیا گیا ہے کہ اللہ خود کسی بستی کو تباہ کرنا چاہتا ہے تو اس بستی کے خوشحال لوگوں کو خود حکم دیتا ہے تو وہ نافرمانیاں کرتے ہیں تاکہ اللہ نے ان بستی والوں کے لئے پہلے سے جو تباہی و بربادی کا فیصلہ کر رکھا ہے وہ ان پر نافذ ہو جائے۔ یہ کہنا پھر کیونکر غلط ہو گا کہ اعمال کی آزادی کا نظریہ کم از کم قرآن کے مطابق ہرگز نہیں؟ بھلا مخلوق کہاں اتنی سکت رکھتی ہے کہ خدا کے اتارے حکم و امر سے منہ موڑے، جہاں ایک پتا بھی اس کی مرضی کے بغیر نہیں ہل سکتا۔</p>
<p>صرف یہی نہیں کہ خدا نے لکھی ہوئی تقدیر کے مطابق اعمال کو پہلے سے طے شدہ نتیجے کے مطابق سہولت دی یا خود جس کو برباد کرنا مقصود تھا انہیں نافرمانی و گمراہی کا حکم دیا تاکہ خدا کا فیصلہ نافذ ہو بلکہ ایسے نصوص بھی موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اعمال کرنا یا کسی سے کسی عمل کا سرزد ہونا بھی ضروری نہیں بلکہ محض اللہ کا علم ہی جزا و سزا کا باعث ہو سکتا ہے۔</p>
<p>چنانچہ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ مَیں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مشرکوں کی اولاد کا انجام کیا ہو گا؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: “وہ اپنے آباء میں سے ہیں۔” مَیں نے کہا: عمل کے بغیر ہی؟ فرمایا: “اللہ کو بہتر علم ہے جو وہ عمل کرنے والے تھے۔”<br>
(سنن ابو داؤد، کتاب القدر، باب فی ذراری المشرکین، حدیث 4712)</p>
<p>گویا جزا و سزا کا تعلق ہونے والے اعمال سے ہرگز نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے پہلے سے طے شدہ علم کے نتیجے پر ہے۔ بھلا جو ہوا ہی نہیں اس کا علم سوائے خدا کی اپنی منشاء و مرضی کی لکھی تقدیر کے کیا ہے؟ اس ضمن میں قرآن میں موجود حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کا واقعہ انتہائی غور طلب ہے کہ جس میں خضرت خضر نے ایک لڑکے کو اللہ کے دیے ہوئے علم کے مطابق قتل کر ڈالا۔ دیکھئے سورۃ الکہف (آیت 74) پھر اس کی وضاحت یہ بتائی کہ اس لڑکے کے ماں باپ مومن تھے ہمیں خطرہ ہوا کہ یہ لڑکا ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے۔ دیکھئے سورۃ الکہف (آیت 80)</p>
<p>یہاں دیکھئے کس طرح اللہ کے دیے ہوئے علم کی ہی بنیاد پر ایک لڑکے کو قتل کر دیا گیا اور اسے اس جُرم پر سزا دے دی گئی جو محض اللہ کے علم میں تھا ابھی ہوا نہیں تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس لڑکے کو طبعاً کافر بھی خود ہی بنایا گیا تھا۔ چنانچہ حضرت ابی بن کعب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جس لڑکے کو حضرت خضر نے قتل کیا تھا وہ طبعاً کافر بنایا گیا تھا، اگر وہ زندہ رہتا تو زبردستی اپنے ماں باپ کو سرکشی اور کفر کی طرف لے جاتا۔”<br>
(صحیح مسلم، کتاب القدر، باب معنیٰ کل مولود یولد علی فطرۃ۔۔۔، حدیث:2661، طبع دارالسلام 6766)</p>
<p>ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “وہ لڑکا جس دن پیدا کیا گیا، کافر پیدا کیا گیا تھا۔”<br>
(سنن ابو داؤد، کتاب السنۃ، باب فی القدر، حدیث 4706)</p>
<p>غور طلب ہے کہ اس لڑکے کو طبعاً پیدا ہی کافر کیا گیا اور پھر اپنے ہی لکھے ہوئے کے مطابق اپنے علم کی بنیاد پر اللہ نے اپنے نبی کے ہاتھوں اس عمل پر سزا بھی نافذ کروائی جو ابھی ہوا ہی نہیں تھا۔</p>
<p>یہ تمام نصوص سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اسلامی لحاظ سے تقدیر کا معاملہ ہرگز صرف خدا کے علم میں ہونے کا مسئلہ نہیں اور نہ عمل کے لحاظ سے غیرجانبدار آزادی کا اختیار ہے بلکہ یہ محض خدا کی اپنی چاہت اور منشاء پر مبنی ہے۔ یہ امتحان کا معاملہ نہیں کہ جہاں سب کو برابری کے مواقع میسر ہوں بلکہ سیدھا سادا پہلے سے طے شدہ نتیجے پر خدا کی قدرت و اختیار کا مسئلہ ہے، جہاں وہ کسی کو جوابدہ نہیں کہ وہ جسے چاہے پسند کرے تو جنتی لکھ دے اور جسے ناپسند کرے تو جہنمی بنا دے۔ تمام اعمال تو خود اس کی مرضی بلکہ ان اعمال کا چاہنا تک اسی کی مرضی و منشاء پر ہے۔ جنتی و جہنمی طے شدہ ہیں۔</p>
<p>گویا دنیا ایک سٹیج ہے جہاں پہلے سے لکھے اسکرپٹ کے مطابق سب اداکاری کے لئے مجبور ہیں، جنہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ اس سب کا مقصد و فائدہ کیا ہے؟ کیونکہ خدا نے جن کو پیدا کیا ان کے اوپر مکمل قدرت صرف اسی کی ہے اور کوئی اس سے جواب طلب نہیں کر سکتا کہ کس کو کس تقدیر کے ساتھ کیوں پیدا کیا؟ وہ جو چاہتا ہے سو کرتا ہے۔</p>
<p>“جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اُس روز اِن سے کہا جائے گا کہ اب چکھو جہنم کی لپٹ کا مزا۔ ہم نے ہر چیز ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کی ہے۔” (سورۃ القمر: 48–49)</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/masla-e-taqdeer-aur-khuda/">مسئلہ تقدیر اور خدا</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/masla-e-taqdeer-aur-khuda/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دشمن پر حملے میں بلا ارادہ عورتوں اور بچوں کا مارا جانا</title>
		<link>https://laaltain.pk/hamlay-me-aurato-bcho-ki-maut/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/hamlay-me-aurato-bcho-ki-maut/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[شعیب محمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 06 Apr 2018 06:50:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Islam]]></category>
		<category><![CDATA[jihad]]></category>
		<category><![CDATA[Women and Islam]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[بچے اور اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[جہاد]]></category>
		<category><![CDATA[عورت اور اسلام]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23336</guid>

					<description><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”] حال ہی میں قندوز میں ایک مدرسے پر حملے میں بچوں اور عام شہریوں کی ہلاکت کا اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ جنگ یا حالت امن کے دوران بچوں، عورتوں، بزرگوں اور عام شہریوں کی ہلاکت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس کے ذمہ داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیئے۔ [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/hamlay-me-aurato-bcho-ki-maut/">دشمن پر حملے میں بلا ارادہ عورتوں اور بچوں کا مارا جانا</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">حال ہی میں قندوز میں ایک مدرسے پر حملے میں بچوں اور عام شہریوں کی ہلاکت کا اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ جنگ یا حالت امن کے دوران بچوں، عورتوں، بزرگوں اور عام شہریوں کی ہلاکت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس کے ذمہ داروں کو سخت سزا دی جانی چاہیئے۔ اس واقعے پر بحث کے دوران بعض حلقوں کی جانب سے اس قسم کے حملوں کو جدید دور کی پیداوار اور ایک “غیر مسلم رواج” کے طور پر پیش کیا گیا۔ گو جدید جنگی ٹیکنالوجی کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خطرات اور واقعات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے تاہم اس موقع پر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ مسلم فقہاء اور آئمہ کرام بھی جنگ کے دوران بلاارادہ بچوں اور عورتوں کی ہلاکتوں کی تاویلات پیش کرتے آئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، جنگ جہاں بھی ہوئی اس کے نتیجے میں بچے اور عورتیں ہی سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ ہمارے نزدیک جنگ کوئی بھی ہو، کہیں بھی ہو، کبھی بھی ہو، کسی بھی عقیدے کے افراد کے مابین ہو، اس کے دوران عام شہریوں خاص کر بچوں اور عورتوں کی ہلاکتیں غیر انسانی فعل ہیں اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔ درج ذیل حوالے شعیب محمد کی تحقیق کے ذریعے سامنے آئے ہیں، ان حوالوں کا مطالعہ قندوز کے حملے میں مارے جانے والے عام شہریوں کی ہلاکت کا غم تو کم نہیں کر سکتا مگر اس حملے نتیجے میں ہونے والی بحث کا معیار بہتر کرنے کے لیے ضرور مفید ثابت ہو گا۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<p>1) جلیل القدر اسلامی فقیہ و امام شافعی فرماتے ہیں: “جب دشمن پہاڑ، قلعے، خندق، کانٹے دار جھاڑیوں یا کسی بھی محفوظ جگہ پناہ لے تو اس پر منجنیق یا عرادہ کے گولے، آگ، بچھو، سانپ اور تکلیف دینے والی کوئی بھی چیز پھینکنا جائز ہے۔ اسی طرح انہیں غرق کرنے یا کیچڑ میں دھنسانے کے لئے ان پر پانی کھول دینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ ان کے ساتھ عورتیں، بچے یا راہب ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”<br>
( کتاب الام ، ج4 ص257)</p>
<p>امام شافعی کفار پر اچانک حملہ کرنے کی بابت فرماتے ہیں: “یہ ممکن ہے کہ شبِ خون یا اچانک حملہ میں بچے اور عورتیں بھی کام آ جائیں (یعنی مارے جائیں)، لہٰذا ان کے بارے میں گناہ یا کفارہ یا دیت و قصاص ساقط متصور ہو گا کیونکہ شبِ خون اور اچانک حملہ ان کے لئے مباح کر دیا گیا ہے اور ان کے حق میں اسلامی حرمت نہیں رکھی گئی۔”<br>
(کتاب الرسالہ مترجم، ص191، طبع محمد سعید اینڈ سنز کراچی)</p>
<p>2) فقہ حنفی کے مشہور امام علامہ سرخسی فرماتے ہیں: “اہل حرب کے شہر میں پانی چھوڑنے، انہیں آگ سے جلا ڈالنے اور ان پر منجنیق سے گولے برسانے میں کچھ حرج نہیں، اگرچہ ان کے درمیان بچے اور مسلمان قیدی یا مسلمان تاجر موجود ہوں۔”<br>
(المبسوط، ج10 ص64)</p>
<p>3) فقہ مالکی کے عالم امام ابو عبداللہ المواق لکھتے ہیں: “ابن القاسم نے فرمایا: کفار کے قلعوں پر منجنیق سے گولہ باری کرنے اور ان کی خوراک اور پانی روک دینے میں کچھ حرج نہیں ، خواہ ان کے درمیان مسلمان یا چھوٹے بچے ہی کیوں نہ موجود ہوں۔یہی بات (امام) اشہب نے بھی فرمائی ہے۔”<br>
(التاج والإكليل لمختصر خليل، ج4 ص544)</p>
<p>4) قفہ حنبلی کے عالم علامہ منصور بن یونس البہوتی منجنیق کے بارے لکھتے ہیں: “امام احمد بن حنبل کی رائے سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا استعمال ضرورتاً اور بلا ضرورت دونوں طرح جائز ہے۔ (اور) ان پر (آگ کے) گولے پھینکنا جائز ہے، (ان کا راستہ کاٹنا) جائز ہے۔ ان کا (پانی) کاٹنا یا کھول دینا جائز ہے۔ (ان کی آباد عمارتوں کو منہدم کرنا) بھی جائز ہے خواہ عورتیں اور بچے وغیرہ بھی ضمناً مارے جائیں کیونکہ یہ شبِ خون مارنے کی ہی مانند ہے۔”<br>
(شرح منتهى الإرادات، ج1 ص623)<br>
نوٹ: اس عبارت میں بریکٹوں کے الفاظ خود عبارت کا ہی حصہ ہیں کہ جن کی تشریح بریکٹ کے باہر ساتھ ساتھ علامہ بہوتی نے کی ہے۔</p>
<p>5) مشہور امام ابن حجر الہیتمی لکھتے ہیں: “(کفار کو ان کے علاقوں میں محصور کرنا جائز ہے) اور ایسے ہی دیگر حصار (نیز ان پر پانی چھوڑ دینا) اور ان کا پانی کاٹ دینا ، (ان پر آگ یا منجنیق کے گولے برسانا) اور ایسے دوسرے افعال جائز ہیں، اگرچہ ان میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہوں اور خواہ ہم یہ سب تدبیریں استعمال کئے بغیر بھی ان پر قبضہ پا سکتے ہوں۔”<br>
(تحفة المحتاج في شرح المنهاج، ج9ص241)<br>
نوٹ: اس عبارت میں بریکٹوں کے الفاظ خود عبارت کا ہی حصہ ہیں کہ جن کی تشریح بریکٹ کے باہر ساتھ ساتھ علامہ ابن حجر الہیتمی نے کی ہے۔</p>
<p>6) مشہور و معروف محدث امام بیہقی باب باندھتے ہوئے فرماتے ہیں: شبِ خون (اچانک حملہ) اور چھاپہ مار کاروائیوں میں عورتوں اور بچوں کا بغیر قصد قتل ہونا اور جو اس کے جواز کے بارے میں وارد ہوا ہے۔<br>
(سنن کبریٰ بیہقی، ج9 ص78، قبل حدیث 18091)</p>
<p>7) مشہور محدث و فقیہ امام نووی باب باندھتے ہوئے فرماتے ہیں: شبِ خون میں بلاارادہ عورتوں اور بچوں کے قتل ہو جانے کا جواز<br>
(صحیح مسلم، کتاب الجہاد والسیر، قبل حدیث 1745)</p>
<p>امام نووی مزید لکھتے ہیں: “ہمارا (یعنی شوافع)، امام مالک، امام ابوحنیفہ اور جمہور کا نظریہ یہ ہے کہ جب رات کو کافروں پر حملہ کیا جائے اور رات کے اندھیرے میں مردوں، عورتوں اور بچوں میں امتیاز نہ ہو سکے اور وہ اچانک مارے جائیں تو اس میں کچھ حرج نہیں ہے۔”<br>
(شرح صحیح مسلم،ج12ص49–50، تحت حدیث 1745،1746)</p>
<p>نوٹ: ان تمام عبارات و نظریات سے ہمارا ہرگز اتفاق نہیں ہے بلکہ ہماری نظر میں بلاامتیاز مذہب و مسلک یا رنگ و نسل معصوم عوام بالخصوص خواتین اور بچوں کا خون بہانا اور انہیں نقصان پہنچانا ہرگز کسی صورت کوئی جواز نہیں پا سکتا۔</p>
<p>درج بالا عبارات کا پیش کرنے کا مقصد محض تصویر کا وہ دوسرا رخ دکھانا ہے کہ جب ہم سُپر پاور تھے تو تب ہمارے اسلاف اور اکابرین جنگی اخلاقیات کا کون سا نظریہ پیش فرماتے تھے۔ واللہ اعلم</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
مندرجہ بالا حوالوں کی عربی عبارات<br>
1) وإذا تحصن العدو في جبل أو حصن أو خندق أو بحسك أو بما يتحصن به فلا بأس أن يرموا بالمجانيق والعرادات والنيران والعقارب والحيات وكل ما يكرهونه وأن يبثقوا عليهم الماء ليغرقوهم أو يوحلوهم فيه وسواء كان معهم الأطفال والنساء والرهبان أو لم يكونوا</p>
<p>2) ولا بأس بإرساله الماء إلى مدينة أهل الحرب وإحراقهم بالنار ورميهم بالمنجنيق وإن كان فيهم أطفال أو ناس من المسلمين أسرى أو تجار</p>
<p>3) ابن القاسم: لا بأس أن ترمى حصونهم بالمنجنيق ويقطع عنهم المير والماء وإن كان فيهم مسلمون أو ذرية وقاله أشهب.</p>
<p>4) فظاهر كلام أحمد جواز مع الحاجة وعدمها.(و) يجوز رميهم (بنار، و) يجوز (قطع سابلة) أي طريق.(و) قطع (ماء) عنهم (فتحه ليغرقهم، و) يجوز (هدم عامرهم) وإن تضمن إتلاف، نحو نساء وصبيان ; لأنه في معنى التبييت۔</p>
<p>5) (ويجوز حصار الكفار في البلاد والقلاع) وغيرها (وإرسال الماء عليهم) وقطعه عنهم. (ورميهم بنار ومنجنيق) وغيرهما وإن كان فيهم نساء وصبيان ولو قدرنا عليهم بدون ذلك</p>
<p>6) باب قتل النساء والصبيان في التبييت والغارة من غير قصد، وما ورد في إباحة التبييت</p>
<p>7) باب جواز قتل النساء والصبيان في البيات من غير تعمد</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/hamlay-me-aurato-bcho-ki-maut/">دشمن پر حملے میں بلا ارادہ عورتوں اور بچوں کا مارا جانا</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/hamlay-me-aurato-bcho-ki-maut/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسلام میں شادی کی کم سے کم عمر</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c-%da%a9%d9%85-%d8%b3%db%92-%da%a9%d9%85-%d8%b9%d9%85%d8%b1/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c-%da%a9%d9%85-%d8%b3%db%92-%da%a9%d9%85-%d8%b9%d9%85%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[شعیب محمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 15 Jan 2018 13:55:36 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Islam]]></category>
		<category><![CDATA[Shoaib Muhammad]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[بلوغت]]></category>
		<category><![CDATA[شعیب محمد]]></category>
		<category><![CDATA[عدت]]></category>
		<category><![CDATA[قرآن]]></category>
		<category><![CDATA[کم عمری کی شادی]]></category>
		<category><![CDATA[نابالغ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22847</guid>

					<description><![CDATA[<p>شعیب محمد:علامہ ابن عبدالبر کہتے ہیں: "علماء کرام کا اس پر اجماع ہے کہ والد کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنی چھوٹی بچی سے مشورہ کیے بغیر اس کی شادی کر دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے چھ یا سات برس کی عمر میں نکاح کیا اور یہ نکاح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے والد نے کیا تھا۔"</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c-%da%a9%d9%85-%d8%b3%db%92-%da%a9%d9%85-%d8%b9%d9%85%d8%b1/">اسلام میں شادی کی کم سے کم عمر</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="_1dwg _1w_m _q7o">
<div>
<div id="js_a" class="_5pbx userContent _22jv _3576" data-ft="{&quot;tn&quot;:&quot;K&quot;}">
<div class="_5wj-" dir="rtl">
<p>ہمارے یہاں عام مسلمان تو ایک طرف بڑے بڑے علماء تک اب یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ اسلام نے شادی کے لئے کوئی عمر تو مقرر نہیں کی لیکن شادی کے لئے بلوغت شرط ہے حالانکہ شرعی طور یہ بات بالکل ثابت نہیں بلکہ علماء و فقہاء قدیم میں سے اس کا کوئی قائل نہیں رہا کہ شادی کے لئے بالغ ہونا بھی ضروری ہے۔ علماء و فقہاء کے نزدیک تو چھوٹی بچی کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح اور رخصتی اس کے ولی کی مرضی سے جائز اور درست ہے۔&nbsp;یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسلامی قوانین کو انسانی حقوق کے جدید تصورات سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>چنانچہ علامہ ابن عبدالبر کہتے ہیں: “علماء کرام کا اس پر اجماع ہے کہ والد کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنی چھوٹی بچی سے مشورہ کیے بغیر اس کی شادی کر دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے چھ یا سات برس کی عمر میں نکاح کیا اور یہ نکاح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے والد نے کیا تھا۔” (الاستذکار، ج16 ص49–50)</p>
<p>اس اجماع کو کثیر علماء نے ہمیشہ بیان کیا ہے اور کسی سے کبھی کسی دور میں اس کی مخالفت ثابت نہیں۔ چنانچہ اس اجماع کو امام احمد (المسائل: 129/3)، امام مروزی (اختلاف العلماء: ص125)، علامہ ابن المنذر (الاجماع: ص91)، امام بغوی (شرح السنۃ: 37/9)، امام نووی (شرح صحیح مسلم: 206/9) اور حافظ ابن حجر عسقلانی (فتح الباری: 27/12) جیسے جید اور مستند آئمہ محدثین نے بھی نقل کر رکھا ہے۔</p>
<p>شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں: “عورت كى اجازت كے بغير كوئى بھى عورت كى شادى نہيں كر سكتا، جيسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے حكم ديا ہے، اور اگر وہ اسے ناپسند كرے تو اسے نكاح پر مجبور نہيں كر سكتا، ليكن چھوٹى عمر كى كنوارى بچى كو، اس كى شادى اس كا والد كرے گا، اور اس (بچی) كو اجازت كا حق نہيں۔” (مجموع الفتاوىٰ، ج32 ص39)</p>
<p>برصغیر کے مشہور اسلامی دارالعلوم دیوبند سے جاری ہونے والے فتویٰ میں کہا گیا: “نابالغوں کا نکاح جو ولی کریں صحیح ہے، نابالغوں کو سمجھنے کی ضرورت نہیں۔ اولیاء کا سمجھنا اور اجازت دینا کافی ہے، عمر کی کچھ تحدید لازمی نہیں ہے۔” (فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، ج7 ص48، دارالاشاعت کراچی)</p>
<p>مزید مئودبانہ عرض یہ ہے کہ نکاح ہی نہیں بلکہ رخصتی اور ہمبستری کے لئے بھی بلوغت کی کوئی شرط ہرگز ثابت نہیں بلکہ خلافِ قرآن ہے۔ سورۃ نساء کی جو آیت نکاح کے لئے بلوغت کی شرط کے طور پر پیش کی جاتی ہے، اس میں ہرگز کسی شرط کا بیان نہیں بلکہ صرف عرف کی بات کی گئی ہے کہ عام طور پر جو شادی کی عمر سمجھی جاتی ہے، اس آیت میں کہیں یہ نہیں کہ اگر اس سے چھوٹی عمر میں شادی ہو جائے تو ہمبستری نہیں ہو سکتی یا وہ شادی مانی نہیں جائے گی بلکہ الٹا اس کے خلاف قرآن سے ثابت ہے۔ جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔</p>
<p>یہی وجہ ہے کہ سورۃ نساء کی اس آیت (6) سے متقدمین مفسرین نے کہیں نکاح اور شادی کے لئے بلوغت کی شرط اخذ نہیں کی بلکہ اس کے برخلاف سورۃ طلاق کی آیت (4) سے نابالغ اور چھوٹی بچی کی عدت ثابت کی ہے۔</p>
<p>چنانچہ قرآن میں لکھا ہے:</p>
<p>وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ ۚ</p>
<p>“اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہو چکی ہوں ان کے معاملہ میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو (تمہیں معلوم ہو کہ) ان کی عدت تین مہینے ہے اور یہی حکم اُن کا ہے جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو۔” (سورۃ الطلاق: 4)</p>
<p>1) مشہور تابعی قتادہ نے “لم یحضن (جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو)” کی تشریح میں کہا: “وہ باکرہ دوشیزائیں جو ابھی حیض کی عمر کو نہ پہنچیں۔” (تفسیر دُرِ منثور مترجم، ج6 ص614، ضیاء القرآن پبلشرز لاہور)</p>
<p>2) تیسری صدی ہجری کے مشہور اور قدیم ترین مفسر امام طبری (متوفی310ھ) نے اس سے مراد ایسی چھوٹی بچیاں ہی لیا ہے کہ جنہیں چھوٹی عمر کی وجہ سے ابھی تک حیض نہیں آیا اور ہمبستری کے بعد طلاق ہوئی ہو۔ “وكذلك عدد اللائي لم يحضن من الجواري لصغر إذا طلقهنّ أزواجهنّ بعد الدخول۔” (جامع البیان فی تفسیر القرآن / طبری)</p>
<p>3) تیسری صدی ہجری کے مشہور محدث امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری (المتوفی 256ھ) نے اپنی صحیح میں باب باندھا ہے: باب إِنْكَاحِ الرَّجُلِ وَلَدَهُ الصِّغَارَ (آدمی اپنی نابالغ بچی کا نکاح کر سکتا ہے۔) اس کے بعد سورۃ الطلاق کے اسی آیت کے لفظ کوٹ کرتے ہوئے کہا: ” لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَاللاَّئِي لَمْ يَحِضْنَ} فَجَعَلَ عِدَّتَهَا ثَلاَثَةَ أَشْهُرٍ قَبْلَ الْبُلُوغِ”<br>
یعنی اللہ تعالیٰ نے عورت کی بلوغت سے پہلے اس کی عدت تین ماہ مقرر کی۔ (صحیح بخاری، کتاب النکاح، قبل حدیث 5132)</p>
<p>4) تیسری چوتھی صدی ہجری کے مشہور فقیہ امام طحاوی (متوفی321ھ) نے بھی اس سے مراد وہی چھوٹی بچیاں لی ہیں، جنہیں حیض نہیں آیا۔ “و کانت الصغیرۃ التی لم تحض ازا طلقت فدخلت فی العدۃ” (احکام القرآن للطحاوی ج2 ص402، طبع استنبول)</p>
<p>5) چوتھی پانچویں صدی ہجری کے امام ثعلبی (متوفی427ھ) نے بھی چھوٹی عمر والی ہی بیان کیا۔ “{ وَٱللاَّئِي لَمْ يَحِضْنَ } يعني بهنّ الصّغار.” (تفسير الكشف والبيان / ثعلبی)</p>
<p>6) پانچویں صدی ہجری کے امام ابو الحسن واحدی (متوفی468ھ) نے بھی چھوٹی بچیاں ہی مراد لی ہیں کہ جنہیں ابھی حیض نہیں آیا۔ “{ فعدتهنَّ ثلاثة أشهر واللائي لم يحضن } يعني: الصِّغار” (الوجيز في تفسير الكتاب العزيز / واحدی)</p>
<p>7) پانچویں صدی ہجری کے ہی مشہور محدث و مفسر امام بغوی (متوفی 516ھ) نے بھی یہی لکھا کہ اس سے مراد وہ چھوٹی بچیاں ہیں جنہیں ابھی حیض آیا ہی نہیں تو ان کی عدت بھی تین ماہ ہے۔ “يعني الصغار اللائي لم يحضن فعدتهن أيضاً ثلاثة أشهر” (تفسیر معالم التنزیل / بغوی)</p>
<p>8) پانچویں و چھٹی صدی ہجری کے ماہر لغت و کلام مفسر علامہ زمخشری (متوفی 538ھ) نے بھی یہی کہا ہے کہ جنہیں حیض نہیں آیا کیونکہ وہ عمر میں چھوٹی ہیں۔ ” وَٱلَّٰۤئى لَمْ يَحِضْنَ هن الصغائر” (الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل / زمخشری)</p>
<p>9) ساتویں صدی ہجری کے ممتاز مفسر امام قرطبی (متوفی671 ھ) نے بھی اپنی تفسیر میں یہی شرح کی کہ اس سے مراد چھوٹی بچیاں ہیں کہ ان کی عدت بھی تین ماہ ہو گی۔ “يعني الصغيرة ـ فعدّتهن ثلاثة أشهر” (تفسير الجامع لاحكام القرآن / قرطبی)</p>
<p>10) ساتویں صدی ہجری کے ہی امام الکلام ابو البرکات نسفی (متوفی710ھ) نے بھی اس کی تفسیر میں یہی لکھا ہے کہ وہ چھوٹی بچیاں جن کو ابھی حیض نہیں آیا ان کی عدت بھی تین ماہ ہے۔ “هن الصغائر و تقديره واللائي لم يحضن فعدتهن ثلاثة أشهر۔” (تفسير مدارك التنزيل وحقائق التأويل / نسفی)</p>
<p>11) ساتویں آٹھویں صدی ہجری کے مفسر امام خازن (متوفی 725ھ) نے بھی یہی شرح بیان کی کہ اس سے مراد ایسی چھوٹی بچیاں ہیں کہ جنہیں حیض ابھی نہیں آیا۔ “يعني الصغائر اللاتي لم يحضن بعد فعدتهن أيضاً ثلاثة أشهر” (تفسير لباب التأويل في معاني التنزيل / خازن)</p>
<p>12) آٹھویں صدی ہجری کے مشہور نحوی و مفسر امام ابوحیان الاندلسی (متوفی 754ھ) نے بھی اس میں ان بچیوں کو شامل کیا ہے جنہیں کمسنی کی وجہ سے ابھی حیض آتا ہی نہیں۔ “والظاهر أن قوله: { واللائي لم يحضن } يشمل من لم يحض لصغر، ومن لا يكون لها حيض البتة۔” (تفسير البحر المحيط / ابو حیان)</p>
<p>13) آٹھویں صدی ہجری کے مشہور و معروف محدث امام المفسرین ابن کثیر (متوفی774ھ) نے بھی اس آیت کی تفسیر میں صاف لکھا ہے کہ اس سے وہ چھوٹی بچیاں مراد ہیں جو ابھی اس عمر کو پہنچی ہی نہیں کہ انہیں حیض آئے۔ “وكذا الصغار اللائي لم يبلغن سن الحيض” (تفسير القرآن العظيم / ابن کثیر)</p>
<p>دور قدیم ہی نہیں دورِ جدید میں بھی علماء نے اس آیت کی تفسیر میں اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں چھوٹی بچیوں کی مدت عدت بیان ہوئی ہے کہ جنہیں ابھی حیض نہیں آیا۔</p>
<p>14) ماضی قریب کے مشہور سلفی عالم و مفسر شیخ عبدالرحمٰن ناصر السعدی اسی آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں: “یعنی چھوٹی لڑکیاں جن کو ابھی حیض نہیں آیا۔۔۔۔ ان کی عدت بھی تین ماہ ہے۔” (تفسیر السعدی اردو، دارالسلام لاہور)</p>
<p>15) بریلوی مکتبہ فکر کے حکیم الامت احمد یار خان نعیمی “جنہیں ابھی حیض نہ آیا” کی تشریح میں لکھتے ہیں: “(یعنی) بچپن کی وجہ سے، ان کی عدت بھی تین مہینے ہیں۔” (تفسیر نور العرفان)</p>
<p>16) دیوبندی مکتبہ فکر کے مفتی محمد شفیع (سابق مفتی اعظم پاکستان) نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا: “اور اس طرح جن عورتوں کو (اب تک بوجہ کم عمری کے) حیض نہیں آیا (ان کی عدت بھی تین مہینے ہے)۔” (معارف القرآن)<br>
نوٹ: عبارت میں بریکٹ والے الفاظ خود مفتی صاحب کے ہیں۔</p>
<p>17) برصغیر پاک و ہند کے مشہور عالم و مفسر مولانا ابو الاعلیٰ مودودی اس آیت کی تشریح میں کم سنی کو بھی شمار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: “اس عمر میں نہ صرف لڑکی کا نکاح کر دینا جائز ہے بلکہ شوہر کا اس کے ساتھ خلوت کرنا بھی جائز ہے۔ اب یہ بات ظاہر ہے کہ جس بات کو قرآن نے جائز قرار دیا ہو اسے ممنوع قرار دینے کا کسی مسلمان کو حق نہیں پہنچتا۔” (تفہیم القرآن، ج5 ص571)</p>
<p>18) ہمارے ہاں عام طور جدت پسند سمجھے جانے والے اور غیر روایتی عالم شمار کئے جانے والے علامہ امین احسن اصلاحی اسی آیت کی تشریح میں صغیرہ (چھوٹی بچی) کی عدت کو تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:<br>
“یہی صورت اس کو بھی پیش آ سکتی ہے جس کو ابھی اگرچہ حیض نہیں آیا ہے لیکن وہ مدخولہ ہے۔ چنانچہ اسی بنیاد پر آئسہ غیرمدخولہ اور صغیرہ غیرمدخولہ کے لیے تو کسی عدت کی ضرورت نہیں ہے لیکن آئسہ یا صغیرہ، جس کو حیض نہ آیا ہو، اگر مدخولہ ہوں تو ان کے بارے میں چونکہ شبہ کا امکان ہے اس وجہ سے ان کے لیے عدت ہے۔” (تدبر قرآن، ج8 ص442)</p>
<p>سورۃ طلاق کی آیت (4) میں ‘لم یحضن’ کی تشریح میں آج کچھ لوگ معنوی تحریف کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس لئے تفصیل سے ہر دور کے علماء و مفسرین سے اس کی تشریح پیش کر دی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر دور کے آئمہ مفسرین و علماء کا یہی مئوقف رہا ہے کہ اس سے مراد وہ نابالغ اور چھوٹی بچیاں ہیں جنہیں ابھی حیض نہیں آیا اور ان کی مدت عدت بھی قرآن نے تین مہینے مقرر کی ہے۔ اس آیت کی اس تشریح میں تابعین اور امام طبری سے لے کر موجودہ دور میں مولانا مودودی تک کوئی ایک مفسر میرے علم میں نہیں جس نے اس آیت میں نابالغ بچی کی عدت کا انکار کیا ہو۔</p>
<p>چنانچہ وزارت اوقاف و اسلامی امور، کویت کی زیر نگرانی سینکڑوں علماء و محققین کی محنت سے تیار ہونے والے اسلامی فقہ کے انسائیکلوپیڈیا میں کہا گیا:<br>
“فرمان باری ” وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ ” سے مراد نابالغ بچیاں ہیں، لہٰذا ان کی عدت تین ماہ ہو گی، اس پر فقہاء کا اتفاق ہے۔” (موسوعہ فقہیہ، ج27 ص60، مجمع الفقہ الاسلامی الہند)</p>
<p>اس تفصیل سے تو بالکل واضح ہے کہ نکاح ہی نہیں بلکہ رخصتی و ہمبستری کے لئے بھی بچی کی بلوغت ہرگز کوئی شرط نہیں کیونکہ یہ بات طے ہے کہ عدت صرف اسی پر ہو سکتی ہے جس کا نکاح ہونے کے بعد ہمبستری بھی کی جا چکی ہو۔ دیکھئے سورۃ الاحزاب (آیت: 49) کہ جس کی رُو سے جس کے ساتھ ہمبستری نہ ہوئی ہو اس پر تو سرے سے کوئی عدت ہی نہیں۔</p>
<p>مشہور محدث و امام نووی لکھتے ہیں: “وأما وقت زفاف الصغيرة المزوجة والدخول بها : فإن اتفق الزوج والولي على شيء لا ضرر فيه على الصغيرة : عُمل به” (شرح مسلم للنووی: 206/9)</p>
<p>یعنی چھوٹی بچی کی شادی کے بعد جہاں تک رخصتی اور ہمبستری کے وقت کا تعلق ہے تو جب دولہا اور بچی کا ولی کسی چیز پر اتفاق کر لیں جس میں بچی کے لئے کچھ حرج نہیں تو اس پر عمل کیا جائے گا۔</p>
<p>مشہور اہل حدیث مفسر مولانا عبدالرحمٰن کیلانی اسی آیت کی تشریح میں نابالغ لڑکیوں کو شمار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: “یا وہ نابالغ لڑکیاں جنہیں ابھی حیض آنا شروع ہی نہیں ہوا ہو۔۔۔۔۔ ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نابالغ بچیوں کی شادی بھی جائز ہے اور ان سے صحبت کرنا بھی جائز ہے۔” (تیسیر القرآن، ج4 ص475)</p>
<p>جب یہ ثابت شدہ ہے کہ نکاح و ہمبستری کے لئے کسی عمر یا بلوغت کی کوئی شرط ہی نہیں بلکہ یہ تو محض لبرلز اور سیکولرز کے دباؤ کا نتیجہ کہ آج منبر و محراب سے بھی بلوغت بلوغت کی صدائیں آنا شراع ہو گئیں تو پوچھنا صرف یہ کہ کیا چھوٹی سے چھوٹی کسی بھی عمر کی حد اور شرط کسی دلیل سے ثابت کی جا سکتی ہے؟</p>
</div>
</div>
<div class="_3x-2" data-ft="{&quot;tn&quot;:&quot;H&quot;}"></div>
<div></div>
</div>
</div>
<div></div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c-%da%a9%d9%85-%d8%b3%db%92-%da%a9%d9%85-%d8%b9%d9%85%d8%b1/">اسلام میں شادی کی کم سے کم عمر</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b4%d8%a7%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c-%da%a9%d9%85-%d8%b3%db%92-%da%a9%d9%85-%d8%b9%d9%85%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>میں نے مذہب کیوں چھوڑا؟</title>
		<link>https://laaltain.pk/mein-ne-mazhab-q-chora/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/mein-ne-mazhab-q-chora/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[خادم حسین]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 14 Dec 2017 15:15:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Islam]]></category>
		<category><![CDATA[religion]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[الحاد]]></category>
		<category><![CDATA[مذہب]]></category>
		<category><![CDATA[میں نے مذہب کیوں چھوڑا]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22763</guid>

					<description><![CDATA[<p>خادم حسین: سوال کا کیڑا عقیدت کی عمارت چاٹ جاتا ہے۔ سوال اٹھے تو پہلے ماخذات کا رخ کیا، بخاری شریف پڑھنی شروع کی، نام نہاد علماٴ سے سوالات کئے، اسرار احمد کے راستے غامدی تک آئے اور پھر مذہب اور سیاست کی ملاوٹ اور اس کے موذی اثرات کے باعث مذہبی عقائد کو خیر باد کہا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/mein-ne-mazhab-q-chora/">میں نے مذہب کیوں چھوڑا؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>فیض کی پنجابی نظم، ربا سچیا توں تے آکھیا سی (اے سچے رب، تو نے وعدہ کیا تھا) ٹینا ثانی کی آواز میں گاڑی کے سپیکر سے نمودار ہو رہی تھی اور میں خیالات کے گردباد میں ڈوبتا جا رہا تھا۔فیض خدا سے مکالمے کے دوران جب کہتا ہے کہ اے خدا اگر تو میری بات نہیں مان سکتا تو کیا پھر میں کوئی اور رب ڈھونڈ لوں، اس موقعے پر گویا دماغ کےاندر کوئی شےچٹخ گئ۔ کیا انسان کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ ایک نیا خدا ڈھونڈ لے، یا کم ازکم پرانے سے چھٹکارا حاصل کر لے؟ اس سوال کا جواب ہر ذی شعور انسان نے اپنی بساط کے مطابق دینا ہے۔ صدیوں پرانے خیالات، معاشرتی روایات اور گھریلو ذہن سازی جیسی طاقتوں سے ٹکر لینا سہل نہیں ہوتا۔ ایک ایسے نظریے سے نجات پانا جو آپ کی زندگی کا بڑا حصہ ہو، اذیت طلب کام ہے۔ انکار مشکل اور تقلید آسان ہوتی ہے۔ کبھی ایسے بھٹکے ہوئے اور بھٹکانے والے خیالات دماغ میں آئیں تو عربی زبان میں کچھ پڑھ کر پھونک دینے سے وقتی طور پر ایسے جھنجھٹ سے بچا جا سکتا ہے، لیکن یہ نسخہ ہمیشہ بارآور نہیں ہوتا۔ تشکیک کا مرض موزی ہے، انسان کو اعتقاد کی دنیا سے کوچ کرواتا ہے اور فکری تنہائی کے کنویں میں پھینک دیتا ہے۔ ناپختہ اذہان کے لئے اس کیفیت کو سمجھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اچھے بچے اور بچیاں بغاوت نہیں کرتے، چپ چاپ روایت کے بلی چڑھ جاتے ہیں۔ مینڈک جب اپنے کنویں سے باہر نکلتا ہے تو باقی دنیا اجنبی دکھائی دیتی ہے۔ عقائد کے کھونٹوں سے بندھ کر جو اطمینان نصیب ہوتا ہے وہ انکار اور تشکیک کے بیابانوں میں بھٹکنے کی آزادی سے اجتناب کی بڑی وجہ ہے۔</p>
<p>بچپن پنجاب کے ایک چھوٹے شہر میں مذہبی ماحول میں گزرا۔والد صاحب حافظ تھے، تو برخوردار کو بھی اس راہ پر لگانے کی کوشش کی گئی۔ برخوردار نماز روزے کے معاملے میں سستی نہیں کرتا تھا لیکن روایتی تعلیم سے مدرسےتک کا سفر کٹھن تھا لہٰذا جلد ہی مزاہمت کا راستہ اپنایا اور روایتی تعلیم کا سلسلہ بحال ہوا۔ فجر کی نماز کے معاملے میں کوتاہی پر پہلی دفعہ مار پڑی اور مختصر دورانیے کے لئے گھر بدری برداشت کرنی پڑی۔ اس روز تہیہ کر لیا کہ زور زبردستی سے مذہب پر عمل نہیں کرنا۔ لڑکپن میں رضاکارانہ طور پر گھر چھوڑا تو مزید مذہبی ماحول میں پہنچ گیا۔ہاسٹل میں بھی نماز کی سختی تھی۔ وہاں مذہب سے فائدہ اٹھایا۔ موذن بننے کی کوشش کی اور کئ سال کچھ دوستوں سے مقابلہ رہا کہ کون نماز سے قبل مسجد پہنچ کر آذان دے گا اور پہلی صف کا حصہ بنے گا۔ اس مقابلے میں خاکسار کثرت سے اول آتا رہا۔ اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی مذہب کی بدولت امتیاز حاصل کیا کیونکہ سینکڑوں کے ہجوم میں نمایاں ہونا آسان نہیں تھا۔ قریبی دوست تبلیغی جماعت میں تھے لہٰذا خاکسار بھی ان کے ساتھ “بیان” میں بیٹھنے لگا اور ایک آدھ مرتبہ “فضائل اعمال” سے پڑھنے کا موقعہ بھی ملا۔مخصوص دنوں میں مغرب کے بعد “گشت” منعقد ہوتا تو اس میں بھی شریک ہوتا۔ کالج پہنچا تو ہاسٹل میں باقاعدہ مسجد نہیں تھی لیکن ایک جگہ مختص تھی۔ وہاں مغرب کی نماز کی امامت خاکسار کے ذمے تھی۔ اس دوران ذہن میں بہت سے سوال تھے جن کے جوابات تلاش کرنے کی لگن عمر گزرنے کے ساتھ بڑھتی گئی۔</p>
<p>یہ بات سمجھ آئی کہ مذہب، عقل اور منطق کی بجائے جذبات اور اعتقاد سے سمجھ آتا ہے۔ سوال کا کیڑا عقیدت کی عمارت چاٹ جاتا ہے۔ سوال اٹھے تو پہلے ماخذات کا رخ کیا، بخاری شریف پڑھنی شروع کی، نام نہاد علماٴ سے سوالات کئے، اسرار احمد کے راستے غامدی تک آئے اور پھر مذہب اور سیاست کی ملاوٹ اور اس کے موذی اثرات کے باعث مذہبی عقائد کو خیر باد کہا۔ بیرون ملک جانے کا موقعہ ملا تو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ لوگ مذہب کے بغیر خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ اور ہم ہیں کہ مذہب کے بغیر سانس لینا بھی گوارا نہیں۔جس چیز پر مذہب یا عقیدت کا ملمع چڑھے، اس پر تنقید محال۔اور یہ حال ظاہری طور پر پڑھے لکھوں کا ہے، کم پڑھے لکھے یا ان پڑھ بے چارے یوں ہی بدنام ہیں۔</p>
<p>مذہب کے نام پر دہشت گردی شروع ہوئی تو اپنے نظریات پر نظر ثانی کی۔ سلمان تاثیر کی شہادت نے گویا اونٹ کی کمر پر آخری تنکے کا کردار ادا کیا۔ سلمان تاثیر، شہباز بھٹی، ڈاکٹر علی حیدر، مفتی سرفراز نعیمی اور کئی ہزار بے گناہ ہم وطنوں کی ہلاکت نے جھنجوڑ کے رکھ دیا۔ سوالات بڑھتے گئے۔ اگر اسلام امن کا مذہب ہے تو اسلام کے ماننے والے اپنے مذہب کا نام لینے والے دہشت گردوں کی مذمت کیوں نہیں کرتے؟ مرنے والے اور مارنے والے دونوں کلمہ گو ہیں تو قصوروار کون ہے؟ سلمان تاثیر واقعے کے بعد مقامی مسجد میں مغرب کی نماز ادا کرنے گیا اور فرض نماز کے بعد نمازیوں سے گزارش کی کہ اس واقعے کی مذمت کی جائے۔سنت ادا کر کے باہر نکل رہا تھا تو تین نمازیوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ میرا موقف کیا ہے۔ ان کے مطابق سلمان تاثیر کے ساتھ جو ہوا، بالکل ٹھیک تھا۔ کچھ دیر ان سے بحث کی لیکن ان کا موقف عقلیت کی بجائے عقیدت پر مبنی تھا لہٰذا بحث بے معنی تھی۔ اس رات ایک دوست کی طرف گیا تو اس کی وکیل والدہ کے خیال میں بھی سلمان تاثیر کے قتل کا قانونی جواز موجود تھا۔ اس دن مجھے اپنے بہت سے سوالات کا جواب مل گیا مگر کچھ سوالات کی پتنگیں تجربے اور مشاہدے کی بجائے تحقیق اور تخیل کے آسمان پر اڑانے کو تھیں۔</p>
<p>جون ایلیا کو پڑھا۔ کوئی رہتا ہے آسماں میں کیا؟ ہم تو وہ ہیں جو خدا کو بھول گئے، تو مری جاں کس گمان میں ہے؟ علی عباس جلالپوری کی تصنیف شدہ مذاہب کی تاریخ اور فکری مغالطے پڑھنے کا موقعہ ملا۔ خدا کی وحدانیت کا نظریہ یہودیوں نے پہلی بار کب اپنایا؟ کعبہ اور اللہ کو نام نہاد “دور جاہلیہ” میں کیا مقام حاصل تھا؟ تمام بڑے مذاہب میں خدا کا تصور ایک جیسا کیوں ہے؟ کیا مذاہب ایک دوسرے کا چربہ ہیں؟ پیٹریشیا کرون کو پڑھا۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ کے متعلق صرف عرب، مسلمان تاریخ نویسوں پر ہی کیوں بھروسہ کیا جائے؟ رابرٹ ہوئلینڈ کو پڑھا۔ اسلام بطور مذہب اور عرب سامراج کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ کیا اسلام نے عرب سامراج کے پھیلاوٴ میں کردار ادا کیا یا سامراج نے سیاسی مقاصد کے لئے مذہب کو جنم دیا؟ لسانیات کے موضوع سے استفادہ کیا۔ انگریزی میں جہنم کا لفظ سکینڈینیون زبانوں سے آیا ہے اور اس کا مطلب ہے برف سے بھرپور جگہ۔ عربی والوں کی جہنم آ گ سے بنی ہے۔ علم آثار قدیمہ پر نظر ڈالی۔ جدید تحقیق کے مطابق عربی زبان کی جس شکل میں قرآن موجود ہے ، مکہ اور مدینہ میں وہ زبان کبھی بولی ہی نہیں جاتی تھی۔ جس علاقے میں اس زبان کے آثار ملے ہیں وہ حجاز سے کئی سو میل شمال میں ہے۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ اگر مذہبی کتب میں سب سوالوں کے جواب موجود ہیں تو نت نئ ایجادات کے متعلق کیا کہا جائے؟ سائنس کی ترقی کے بعد “معجزے” ہونا بند کیوں ہو گئے؟ الہامی کتب میں جو تاریخی اور منطقی سقم ہیں، ان کا کیا جواز ہے؟ تاریخ کے ایک استاد کہتے تھے کہ مذاہب اپنے ادوار کے انقلابات تھے۔ مذاہب جس دور میں ظہورپذیر ہوئے اس دور میں بغاوت کہلائے۔ کیا زمانہٴ حال میں مذہب سے روگردانی ہی مذہب بن جائے گی یہ تو ابھی نہیں کہا جا سکتا مگر ایک بات طے ہے کہ اب زیادہ دیر تک لوگوں کو موت کے مذہبی کنووں میں عقیدت کے موٹر سائیکل چلانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، جلد یا بدیر یہ سرکس بھی لپیٹ لیا جائے گا اور یہ قصے بھی بھلا دئیے جائیں گے یا عجائب گھروں میں نمائش کو رکھ دیئے جا ئیں گے۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>خادم حسین</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/mein-ne-mazhab-q-chora/">میں نے مذہب کیوں چھوڑا؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/mein-ne-mazhab-q-chora/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>2</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کبھی تصویر بھی حرام تھی</title>
		<link>https://laaltain.pk/%da%a9%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%aa%d8%b5%d9%88%db%8c%d8%b1-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%ad%d8%b1%d8%a7%d9%85-%d8%aa%da%be%db%8c/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%da%a9%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%aa%d8%b5%d9%88%db%8c%d8%b1-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%ad%d8%b1%d8%a7%d9%85-%d8%aa%da%be%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[شعیب محمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 29 Nov 2017 07:43:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Barelvi]]></category>
		<category><![CDATA[Deoband]]></category>
		<category><![CDATA[Islam]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام اور تصویر]]></category>
		<category><![CDATA[بریلوی]]></category>
		<category><![CDATA[دیوبندی علماء]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی علماء]]></category>
		<category><![CDATA[کیا تصویر حرام ہے]]></category>
		<category><![CDATA[مذہب]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22673</guid>

					<description><![CDATA[<p>شعیب محمد: ہمارے علماء کرام انتہائی مہارت سے قرآن و حدیث کی انہی آیات و روایات سے انہی چیزوں کی حلت نکال لیتے ہیں جو اس سے پہلے عین حرام قرار پاتی تھیں۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%aa%d8%b5%d9%88%db%8c%d8%b1-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%ad%d8%b1%d8%a7%d9%85-%d8%aa%da%be%db%8c/">کبھی تصویر بھی حرام تھی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>ہمارے مذہبی طبقے کا بلا استثناء کسی مسلک و جماعت یہ المیہ رہا ہے کہ ہر دور میں جدید مسائل سے نا واقفیت کے باوجود اپنی من چاہی سمجھ کو عین خدا و رسول کی منشاء و حکم باور کرواتے ہیں اور جو ان سے اختلاف کرے اسے گمراہ و کافر کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔ ہر نئی آنے والی چیز پہلے حرام قرار پاتی ہے اور پھر درجہ با درجہ ترقی کرتے ہوئے مکروہ سے مباح اور پھر عین شرعی ضرورت کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔ چھاپہ خانہ سے لے کر تصویر اور لاؤڈ اسپیکر سے لے کر ٹیلی ویژن تک ہر چیز کا شرعی حکم زمانے کے ساتھ اسی طرح بدلا ہے۔</p>
<p>ہمارے علماء کرام انتہائی مہارت سے قرآن و حدیث کی انہی آیات و روایات سے انہی چیزوں کی حلت نکال لیتے ہیں جو اس سے پہلے عین حرام قرار پاتی تھیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بعد میں بھرپور ڈھٹائی سے اس بات کا انکار بھی کیا جاتا ہے کہ پہلے کبھی ان چیزوں کا شرعی حکم یہی علماء کرام کچھ اور بیان کرتے آئے ہیں۔</p>
<p>ایسا ہی ایک معرکۃ الآراء مسئلہ تصویر کا بھی ہے جس کی شدید حرمت پر تمام مسالک کا بھرپور اتفاق موجود تھا اور یہ حرمت ہر طرح کی تصاویر کو شامل تھی چاہے وہ ہاتھ سے بنائی گئی ہوں یا کسی کیمرے سے۔ مگر آج یہ حرمت خود مذہبی رہنماؤں اور علماء کرام کے ہاتھوں رخصت ہو چکی کیونکہ اب یہ حلال ہو چکی ہے۔ اب یہ تصویر وہ تصویر ہی نہیں رہی جو حرام تھی بلکہ یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ علماء کرام جن تصویروں کو حرام کہتے تھے وہ صرف ہاتھ سے بنائی جانے والی تصاویر تھیں اور کیمرے سے بنائی گئی تصاویر اس حرمت میں کبھی شامل ہی نہیں سمجھی گئیں۔ یہ بات سراسر حقائق کو جھٹلانے اور دھوکہ دینے کے مترادف ہے کیونکہ تمام کے تمام مسالک کے علماء ہر طرح کی تصاویر کو حرام سمجھتے تھے اور کیمرے کی تصاویر پر بھی شرعی وعیدوں کا اطلاق فرماتے تھے۔ اس مسئلہ میں شاید ہی کسی مسلک کے جید علماء میں سے کسی نے پہلے اختلاف کیا ہو لیکن آج جب تصویریں بنانا خود ان کی اپنی ضرورت بھی بن گیا تو تصویر اور فوٹو کا شرعی حکم بھی بدل دیا گیا۔</p>
<p>اس سلسلے میں تصویر اور فوٹو کی شدید حرمت کے بارے تمام مشہور مسالک و جماعتوں کے جید و معتبر علماء کرام کے شرعی فتاویٰ پیش کئے جا رہے ہیں تاکہ سند رہیں اور بوقت ضرورت کام آئیں۔ یاد رہے کہ تمام فتاویٰ صرف وہی پیش کئے گئے ہیں جو کیمرے سے بنی ہوئے تصاویر کے بارے پوچھے گئے سوالات پر دیے گئے تھے۔ اکثر فتاویٰ میں خود اس بات کی وضاحت بھی موجود ہے۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">بریلوی علماء</div>
<p>☆ بریلوی جماعت کے مرکزی دارالافتاء بریلی سے جاری ہونے والے فتویٰ میں کہا گیا: “کہیں بھی کسی بھی ذی روح کی تصویر کھینچنا کھنچوانا سخت حرام اور بد انجام ہے۔” (فتاویٰ بریلی، ص201)</p>
<p>☆ بریلوی جماعت کے مفتی اعظم ہالینڈ حضرت مولانا مفتی عبدالواجد قادری لکھتے ہیں: “تصاویر کھینچنے اور کھینچانے کی حرمت احادیث مشہورہ و متواترہ سے ثابت ہے اور نصوصِ ممانعت کے ہوتے ہوئے بغیر عذر شرعی کے اس کی اباحت کی کوئی صورت نہیں بنتی ہے۔ لہٰذا جن نام نہاد اسلامی ممالک کے سربراہوں نے اپنی رضا سے تصویریں کھینچوائیں اور انہیں عام کیا وہ سب اس حرام کے مرتکب ہوئے۔ ہاں اگر وہ اس کی اباحت کے بھی قائل ہوں تو اس کا حکم نہایت سنگین ہو گا۔ العیاذ باللہ تعالیٰ” (فتاویٰ یورپ، ص259–260)</p>
<p>☆ بریلوی اعلیٰ حضرت کے صاحبزادہ مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مصطفیٰ رضا قادری فتویٰ دیتے ہیں: “جاندار کا فوٹو کھینچنا کھینچوانا حرام ہے۔” (فتاویٰ مصطفویہ، ص449)</p>
<p>☆ بریلوی جماعت کے مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی وقار الدین قادری چھپی ہوئی تصویروں کے بارے فتویٰ دیتے ہوئے لکھتے ہیں: “تصویر بنانا بہرحال حرام ہے۔ وہ کعبہ میں ہوں یا کہیں اور۔ اور تصویر کو اعزاز کے ساتھ رکھنا اور لٹکانا بھی حرام ہے۔” (وقار الفتاویٰ، ج2 ص509)</p>
<p>مزید ایک جگہ لکھتے ہیں: “جاندار کی تصویر کھینچنا اور کھچوانا حرام ہے۔ کوئی عالم کھنچوائے یا غیر عالم، سب کے لئے ایک ہی حکم ہے۔” (وقار الفتاویٰ، ج2 ص513)</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">دیوبندی علماء</div>
<p>☆ سوال کیا جاتا ہے کہ “زید عالم ہے، وہ کہتا ہے کہ تصویر دستی یعنی قلم (سے ہاتھ) کی بنی ہوئی کا بنوانا یا مکان میں رکھنا حرام ہے لیکن فوٹو کا لیا جانا اور مکان میں رکھنا حرام نہیں، بدیں دلیل کہ فوٹو آئینہ عکس ہے۔”</p>
<p>اس کے جواب میں دیوبندی حکیم الامت اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں:</p>
<p>“زید کا قول بالکل غلط ہے اور یہ قیاس مع الفارق ہے۔ آئینہ کے اندر کوئی انتقاش باقی نہیں رہتا، زوال محاذہ کے بعد وہ عکس بھی زائل ہو جاتا ہے، بخلاف فوٹو کے اور یہ بالکل ظاہر ہے اور پھر صنعت کے واسطے سے ہے، اس لئے بالکل مثل دستی تصویر کے ہے۔” (امداد الفتاویٰ، ج4 ص253–254)</p>
<p>☆ اسی طرح بائسکوپ وغیرہ پر متحرک فلم چلانے اور دیکھنے کے بارے فتویٰ دیتے ہوئے حضرت تھانوی صاحب فرماتے ہیں: “شریعت اسلامیہ میں جاندار کی تصویر بنانا مطلقاً معصیت ہے، خواہ وہ کسی کی تصویر ہو اور خواہ مجسمہ ہو یا غیر مجسمہ۔” (امداد الفتاویٰ، ج4 ص258)</p>
<p>☆ مشہور دیوبندی دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے مولانا سمیع الحق کی زیر نگرانی شائع ہونے والے مجموعہ فتاویٰ میں بیان کیا گیا ہے کہ “ذی روح اشیاء کی فوٹو گرافی کرنا یا شبیہ بنانا تخلیق خداوندی کے مترادف ہے جو کہ گناہ کبیرہ ہے، اس لئے جاندار اشیاء کی تصاویر بنانا شرعاً حرام و ناجائز ہے۔” (فتاویٰ حقانیہ، ج2 ص428)</p>
<p>☆ مفتی رشید احمد لدھیانوی فتویٰ دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: “تصویر کھنچوانا باجماع امت حرام ہے۔۔۔۔ عوام کے مقابلہ میں کسی عالم یا مفتی کا تصویر کھنچوانا کئی وجوہ سے زیادہ شنیع اور قبیح ہے۔” (احسن الفتاویٰ، ج8 ص191)</p>
<p>☆ تصویر کی حرمت علماء کس قدر شدید سمجھتے تھے، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ایک شخص نے سوال کیا کہ کرایہ پر جو سائیکل ملتی ہے اس پر تصویریں لگی ہوتی ہیں تو کیا ایسی سائیکل کا استعمال جائز ہے؟ اس پر مفتی رشید احمد لدھیانوی لکھتے ہیں:</p>
<p>“ایسی سائیکل پر سوار ہونا جائز نہیں، اگر بغیر تصویر سائیکل نہ ملتی ہو اور ضرورت شدیدہ ہو تو گنجائش ہے مگر تصویر کو کسی چیز سے چھپا دے، یہ بھی نہ ہو سکے تو تصویر سے حتی المقدور اغماض واجب ہے۔” (احسن الفتاویٰ، ج8 ص196)</p>
<p>☆ ٹیلی ویژن دیکھنے کو حرام قرار دینے کی ایک علت تصویر کو ہی قرار دیتے ہوئے مفتی صاحب فرماتے ہیں: “ٹی وی دیکھنا بہرحال وجوہ ذیل کی بنا پر حرام ہے۔۔۔۔ اس میں عموماً اصل کی بجائے فلم آتی ہے جو تصویر ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور جس مجلس میں تصویر ہو وہاں جانا بھی حرام ہے۔ حدیث میں تصویر والوں پر لعنت وارد ہوئی ہے، جہاں تصویر ہوتی ہے وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔” (احسن الفتاویٰ، ج8 ص191–200)</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">اہلِ حدیث علماء</div>
<p>☆ نماز وغیرہ سیکھنے سکھانے کے لئے فوٹو لے کر رسالہ شائع کرنے کی اجازت پوچھنے پر مشہور اہل حدیث عالم فقیہ العصر محدث عبداللہ روپڑی نے لکھا:</p>
<p>“تصویر کا بنانا تو کسی صورت درست نہیں اور (پہلے سے) بنی ہوئی کا استعمال دو شرطوں سے درست ہے ایک یہ کہ مستقل نہ ہو، کپڑے وغیرہ میں نقش ہو۔ دوم نیچے رہے بلند نہ لٹکائی جائے۔” (فتاویٰ اہلحدیث، ج3 ص345)</p>
<p>☆ جماعت اہل حدیث کے محدث العصر شیخ محب اللہ شاہ راشدی فرماتے ہیں: “آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاندار کی تصویر بنانے سے منع فرمایا ہے اور جو ایسا کرتا ہے اس پر لعنت فرمائی ہے اور ساتھ میں یہ بھی فرمایا کہ تصویر بنانے والے اللہ کی مخلوق میں سے بدترین لوگ ہیں۔۔۔۔ اور یہ عمل کبیرہ تباہ کرنے والا گناہ ہے اگرچہ یہ آج پورے عالم اسلام میں بھی پھیلا ہوا ہے۔” (فتاویٰ راشدیہ، ص495، نعمانی کتب خانہ لاہور)</p>
<p>☆ مشہور اہل حدیث مفتی مبشر احمد ربانی لکھتے ہیں: “یہ بات درست ہے کہ شریعت اسلامیہ نے جاندار اشیاء کی تصاویر کو حرام قرار دیا ہے۔ تصاویر کو مٹانے کے حکم کے ساتھ جاندار اشیاء کی تصاویر بنانے والے پر لعنت کی گئی ہے اور قیامت کے دن کے سخت ترین عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔۔۔۔” (احکام و مسائل، ص625، دارالاندلس لاہور)</p>
<p>☆ سوال کیا جاتا ہے کہ “تصویر کے بارے میں شریعت نے سختی سے روکا ہے۔ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اس جدید دور میں جو تصویر کیمرہ کے ساتھ لی جاتی ہے وہ اس ضمن میں نہیں آتی بلکہ یہ ممانعت ان تصاویر کے بارہ میں ہے جو ہاتھ سے بنائی جاتی ہیں اور کیمرہ کی تصویر تو ایک عکس ہے۔ لہٰذا یہ جائز ہے؟”</p>
<p>اس کے جواب میں جماعت اہل حدیث کے نامور شیخ الحدیث و مفتی حافظ ثناء اللہ مدنی صاحب فرماتے ہیں: “اسلام میں بلااستثناء ہر ذی روح کی تصویر حرام ہے۔ چاہے جونسی بھی صورت میں تصویر کشی کی جائے۔۔۔۔ معلوم ہوا کہ سائے دار یا غیر سائے دار ہر طرح کی تصویر حرام ہے۔ کیمرہ سے بنی ہو یا غیر کیمرہ سے۔” (فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ، ج1 ص533، دارالارشاد لاہور)</p>
<p>☆ نامور اہل حدیث عالم و مفتی حافظ عبدالمنان نور پوری فرماتے ہیں: “ٹی وی، وی سی آر اور فلموں کا کاروبار شرعاً درست نہیں کیونکہ ان میں جاندار کی تصویر بنتی ہے اور تصویر کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بالکل واضح ہیں کہ تصویروں والے روزِ قیامت عذاب دیے جائیں گے۔” (احکام و مسائل، ج1 ص377، المکتبۃ الکریمیہ لاہور)</p>
<p>مزید ایک جگہ حافظ نورپوری لکھتے ہیں: “ہر ذی روح کی تصویر خواہ ہاتھ سے بنائی گئی ہو خواہ کیمرہ سے ممنوع تصویر میں شامل ہے۔” (احکام و مسائل، ج2 ص771)</p>
<p>☆ جماعت اہل حدیث کے معتبر مفتی شیخ عبدالستار الحماد لکھتے ہیں: “شریعت میں تصویر کشی حرام ہے، اس بنا پر فوٹوگرافی کا پیشہ اختیار کرنا بھی حرام ہے، حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن لوگوں میں سب سے سنگین عذاب تصویر بنانے والوں کو ہو گا۔” (فتاویٰ اصحاب الحدیث، ج3 ص470، مکتبہ اسلامیہ لاہور)</p>
<p>مزید ایک جگہ لکھتے ہیں: “آج امت مسلمہ جن فتنوں میں بڑی شدت سے مبتلا ہے، ان میں ایک فتنہ تصویر بھی ہے حالانکہ دینِ اسلام میں تصویر کشی کی بہت حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔۔۔۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔ صورت مسئولہ میں سیاسی راہنماؤں کی قد آور تصاویر آویزاں کرنا انتہائی گھناؤنا فعل ہے، علماء حضرات بھی اس فتنہ میں پوری طرح ملوث ہیں، اضطراری و مجبوری کی بات زیربحث نہیں کیوں کہ بوقت ضروت تو خنزیر اور مردار بھی کھایا جا سکتا ہے، اگرچہ اس کی بھی حدود و قیود ہیں، تاہم پاسپورٹ، شناختی کارڈ اور کرنسی نوٹوں کی آڑ میں شوقیہ تصاویر کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔” (فتاویٰ اصحاب الحدیث، ج1 ص450)</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">سعودی علماء</div>
<p>☆ سعودی عرب میں شیخ عبدالعزیز بن باز، شیخ محمد بن صالح عثیمین اور شیخ عبداللہ الجبرین جیسے کبار علماء پر مشتمل و زیر نگرانی کام کرنے والی فتویٰ کمیٹی “اللجنۃ الدائمۃ للافتاء والارشاد” نے لکھا:</p>
<p>“ہر جاندار کی تصویر حرام ہے خواہ وہ انسان ہو یا حیوان اور تصویر خواہ برش سے بنائی جائے یا بُن کر یا رنگ سے یا کیمرہ سے یا کسی اور چیز سے اور خواہ وہ مجسم ہو یا غیر مجسم۔ تصویر ہر طرح حرام ہے، کیونکہ تصویر کی حرمت پر دلالت کرنے والی احادیث کے عموم سے یہی ثابت ہے۔” (فتاویٰ اسلامیہ، ج4 ص384، دارالسلام ریاض)</p>
<p>☆ یہ فتویٰ کمیٹی مزید ایک جگہ لکھتی ہے: “جس طرح دلائل تصویریں بنانے والوں پر لعنت اور آخرت میں ان کے لئے جہنم کی وعید کے بارے میں ہیں، اسی طرح یہ تمام دلائل اس شخص کے لئے بھی ہیں جو اپنے آپ کو تصویر بنوانے کے لئے پیش کرے۔” (فتاویٰ اسلامیہ، ج4 ص384)</p>
<p>ان تمام فتاویٰ سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ ان سب مسالک و جماعتوں کے ہاں بالاتفاق کسی جاندار کی ہر طرح کی تصاویر بشمول کیمرہ سے کھینچی گئی فوٹوز حرام تھیں اور ایسی تصاویر کے کھینچنے کھنچوانے والوں پر لعنت کا استعمال بھی وافر مقدار میں کیا جاتا تھا۔ مگر آج آہستہ آہستہ یہ سب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔</p>
<p>جہاں آج کے علماء اپنی ضرورت بننے پر اس فہم تک آ پہنچے ہیں کہ یہ تصویر وہ نہیں جو حرام ہے اور جس پر لعنت و وعید کی بشارتیں سنائی جاتی تھیں تو امید کی جانی چاہئے کہ آنے والے دور میں موسیقی، رقص اور سُود کی کچھ شکلیں بھی ‘گنجائش’ پا جائیں گی کہ موجودہ موسیقی، رقص یا سود بھی وہ نہیں جو حرام تھا۔ حرام سے حلال کے اس سفر کی علت تو ایک ہی ہے بس دیکھئے کہ ہمارے علماء اس حد تک جانے میں اور کتنا وقت لیتے ہیں۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%aa%d8%b5%d9%88%db%8c%d8%b1-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%ad%d8%b1%d8%a7%d9%85-%d8%aa%da%be%db%8c/">کبھی تصویر بھی حرام تھی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%da%a9%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%aa%d8%b5%d9%88%db%8c%d8%b1-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%ad%d8%b1%d8%a7%d9%85-%d8%aa%da%be%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ملاحدہ دور حاضر کے نقطہ نظر سے</title>
		<link>https://laaltain.pk/malahida-daur-e-hazir-k-nuqta-nazar-se/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/malahida-daur-e-hazir-k-nuqta-nazar-se/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 26 Sep 2017 09:21:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[الحاد]]></category>
		<category><![CDATA[انسان اور مذہب]]></category>
		<category><![CDATA[علامہ نیاز فتح پوری]]></category>
		<category><![CDATA[مذہب]]></category>
		<category><![CDATA[مذہب کی حقیقت]]></category>
		<category><![CDATA[مذہب کیا ہے]]></category>
		<category><![CDATA[معجزات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22185</guid>

					<description><![CDATA[<p>علامہ نیاز فتح پوری: مذہب کی بنیاد اس خیال پر قائم ہے کہ عالم فطرت کا کوئی ایک مالک ہے، خود دعاؤں کو سنتا ہے، اپنی تعریف سے خوش ہوتا ہے اور جزا و سزا دیتا ہے، لیکن افسوس ہے کہ واقعات کی دنیا میں ایک بھی مثال ایسی نہیں ملتی جس سے ہمیں ان اعتقادات کی تصدیق ہوسکے۔  </p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/malahida-daur-e-hazir-k-nuqta-nazar-se/">ملاحدہ دور حاضر کے نقطہ نظر سے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">پاکستان میں ہمیں جس مذہبی جبر کا سامنا ہے وہ بہت حد تک مذہب سے ایک غیر علمی اور غیر محققانہ تعلق کی پیداوار ہے۔ مسلمانوں بالخصوص پاکستانی مسلمانوں کا اپنے مذہب سے تعلق مقدس شخصیات، عبادات اور عقائد سے جذباتی لگاؤ اور اندھے اعتقاد تک محدود ہے۔ اس غیر عالمانہ مذہبیت کے باعث سوال کرنے، تحقیق کرنے اور اختلاف کرنے کی گنجائش ختم ہوتی جا رہی ہے۔ سید امجد حسین کی ترتیب دی کتاب “کب کا ترک اسلام کیا” لالٹین پر قسط وار شائع کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے کا مقصد ایسی آوازوں کو توانائی بخشنا ہے جو مذہب پر تنقید، اعتراض اور اختلاف کو آزادی اظہارِ رائے کا جزو سمجھتی ہیں۔ اس سلسلے کا مقصد مذہبی افراد کی دل آزاری نہیں بلکہ تنقید و تحقیق جیسے بنیادی علمی فریضے کی انجام دہی ہے۔ اس کتاب میں شامل مضامین بہت سے قارئین کے لئے ناگوار یا ناقابل برداشت ہو سکتے ہیں، ایسے قارئین ان مضامین پر تنقید کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ لالٹین کے صفحات اختلافی آراء کے لئے بھی کھلے ہیں۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<p>مصنف: علامہ نیاز فتح پوری<br>
حوالہ:<br>
[”من و یزداں“، حلقہ نیاز و نگار، کراچی، طبع دوم،۱۹۹۴]</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">مذہب کی حقیقت</div>
<p>علم و مذہب کی جنگ کوئی نئی چیز نہیں، کیوں کہ مذہب کا مطالبہ یہ ہے کہ جو کچھ وہ کہتا ہے اسے بغیر چون و چرا تسلیم کرلینا چاہیے اور اہل علم کی حجت یہ ہے کہ جب تک کوئی بات سمجھ میں نہ آجائے ، اس پر یقین لانا ممکن نہیں۔ اہل مذاہب اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ عقل انسانی بہت ناقص ہے اور اس سے یہ توقع نہیں ہوسکتی کہ وہ کسی کامل شے کا تصور کر سکے۔ فریق ثانی کہتا ہے کہ جس چیز کو تم ”شے کامل“ سے تعبیر کرتے ہو، اسی کا ثبوت تمھارے پاس کیا ہے کہ ہماری عقل ناقص کو اس کے سمجھنے سے باز رکھتے ہو۔ الغرض اہل علم و مذاہب کا یہ نزاع بہت قدیم چیز ہے اور باختلاف نوعیت اب بھی اسی طرح بلکہ زیادہ شدت کے ساتھ نظر آتی ہے لیکن فرق یہ ہے کہ پہلے حکومت و مذہب دونوں ایک چیز تھی، اور اس لیے اہل مذاہب بزور شمشیر اپنے مخالفین کو خاموش کرسکتے تھے ، اب ایسا نہیں کرسکتے اور معاندین مذہب کی جماعت بڑھتی جارہی ہے۔ یورپ اور خصوصیت کے ساتھ امریکہ میں جہاں خدائے قادر مطلق کے بجائے Almighty Dollar کی پرستش کی جاتی ہے، الحاد نہایت تیزی سے ترقی کررہا ہے اور اہل کلیسا حیران ہیں کہ ”آسمانی بادشاہت“ کے وجود کو کیوں کر قائم رکھ سکیں گے۔</p>
<p>ہندوستان میں بھی یہ رو کافی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے اور یہاں کے حلقہ ہائے مسجد و خانقاہ میں بھی ان کی کفر سامانیوں کو نہایت تشویش کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے لیکن اس وقت تک کسی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس طوفان سے بچنے کی صورت کیا ہے؟</p>
<p>اہل مذاہب کی طرف سے جو تدبیر دفاع اختیار کی جاتی ہے، وہ زیادہ تر اس لیے بے اثر رہتی ہے کہ انھیں یہ معلوم نہیں کہ ملاحدہ کہتے کیا ہیں اور وہ کن دلائل کی بنا پر خدا اور مذہب سے انکار کرتے ہیں۔ امریکہ وغیرہ میں تو اہل مذہب ان کے لٹریچر کو شاید کبھی پڑھ لیتے ہوں لیکن ہندوستان میں تو اس کا دیکھنا ہی گناہ سمجھا جاتا ہے اور اس لیے یہاں کے اہل مذاہب قطعاً ناواقف ہیں کہ اس زمانہ کا الحاد کس قسم کا الحاد ہے اور اس کے مقابلے کے کن نئی تیاریوں کی ضرورت ہے؟</p>
<p>مسلمانوں میں اس وقت صرف دو چار رسائل ایسے ہیں جنھوں نے اپنا مقصود الحاد کی مخالفت اور اسلام کی حمایت قرار دے رکھا ہے لیکن حقیقتاً ان میں کوئی ایک رسالہ بھی ایسا نہیں ہے جو اس بیسویں صدی کے منکرین خدا کو خاموش کرسکے اور اس کا سبب صرف یہ ہے کہ جو راہ انھوں نے خدمت اسلام کی اختیار کی ہے، وہ نہ صرف یہ کہ بالکل غلط ہے بلکہ اور زیادہ دہریت پھیلانے والی ہے، کیوں کہ اگر ہم کسی کی بات نہ سنیں اور اپنی ہی کہے جائیں تو ظاہر ہے کہ ہم کو بہرا ہی کہا جائے گا۔ پھر چونکہ پیروان اسلام اپنے مذہب کو سب سے زیادہ مکمل اور عین فطرت کے مطابق کہتے ہیں ، اس لیے ان کی طرف سے جب اس نوع کی جاہلانہ کوششٰیں دیکھتا ہوں تو مجھے سخت حیرت ہوتی ہے۔علمائے اہل اسلام کی طرف سے ایک عام طریقہ جواب کا یہ اختیار کیا جاتا ہے کہ مذہب کے خلاف جو اعتراض کیے جارہے ہیں ، وہ نئے نہیں ہیں بلکہ بہت پرانے ہیں اور ان کا جواب دیا جا چکا ہے۔ اول تو مجھے اس میں کلام ہے کہ ان پر انے اعتراضات کا کبھی رد کیا گیا ہے یا نہیں اور اگر اسے مان بھی لیں تو انھوں نے یہ کیوں کر جان لیا کہ موجودہ ذہنی انقلاب وہی ہے جو اس سے پہلے پایا جاتا تھا اور اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔</p>
<p>اگر اہل مذاہب واقعی الحاد کا سد باب کرنا چاہتے ہیں تو ان کا فرض یہ ہے کہ پہلے ملحدین کے بیانات کو نہیں، بغیر کسی جذبہ غیظ و انتقام کے ٹھنڈے دل سے سنیں اور پھر غور کریں کہ ان کے دلائل کا کوئی مسکت جواب ان سے ممکن ہے یا نہیں، صرف گالیاں یا بددعائیں دینے سے کام نہیں چلتا ۔ چنانچہ میں ایک لامذہب (ملحد)کے پانچ مقالے سلسلہ وار پیش کررہا ہوں تاکہ اہل مذہب کو معلوم ہوجائے کہ دنیا میں الحاد پیدا ہونے کے اسباب کیا ہیں اور پھر اگر ممکن ہو تو اس کا علاج سوچا جائے۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">مذہب کیا ہے؟</div>
<p>خدا ہی نے تمام چیزیں پیدا کی ہیں اور وہی ان کا مدبر ہے، اس لیے مخلوق کافرض ہے کہ وہ اپنے خالق کی مطیع رہے، یعنی اگر اس کی طرف سے کوئی حکم نافذ کیا جائے تو اس کی تعمیل کرنا ہر شخص پر لازم ہے۔</p>
<p>یہ ہے اصل مفہوم مذہب کا جو صدیوں سے رائج چلا آتا ہے اور تمام قوموں نے اسی اعتقاد کے تحت یقین کرلیا کہ خدا ہم سے قربانیاں چاہتا ہے۔ چنانچہ اول اول لوگوں نے اپنی اولاد تک بھینٹ چڑھانے سے عذر نہ کیا، اور پھر صرف بیل، بھیڑ، بکری کے خون سے خدا کو راضی رکھنے کی کوشش کی گئی، کیوں کہ وہ اگر ایسا نہ کرتے تو خدا ان کی فصلیں خراب کردیتا، پانی برسانا بند کردیتا، بیماریاں پھیلاتا، زلزلے لاتا اور قحط و وبا کی مصیبت میں مبتلا کردیتا۔ اس اعتقاد قربانی کی آخری جھلک عیسوی مذہب میں بھی پائی جاتی ہے اور اسلام میں بھی۔ وہاں خدا اپنے بیٹے کی قربانی قبول کر کے ہمیشہ کے لیے چین سے بیٹھ گیا، اور یہاں ابراہیم خلیل اللہ کے تہیہ قربانی سے خوش ہو کر آئندہ کے لیے؛ صرف جانوروں کی قربانی پر راضی ہوگیا۔</p>
<p>اہل مذاہب کا یہ اعتقاد بھی بہت قدیم ہے کہ خدا ہماری التجائیں سنتا اور ان کو پورا کرتا ہے، اس لیے ان اعتقادات کے پیش نظر قدرتاً چند سوال پیدا ہوتے ہیں جو اصل بنیاد ہیں لا مذہبیت کے، اور چونکہ اس وقت تک اہل مذہب کو نئی تشفی بخش جواب نہیں دے سکے ہیں ، اس لیے ملحدین خود ہی اس سے ایک نتیجہ اخذ کرلیتے ہیں اور اس پر مطمئن ہوجاتے ہیں۔ شبہات ملاحظہ ہوں:</p>
<p>کیا مذہب کی بنیاد کسی حقیقت معلومہ پر قائم ہے؟<br>
کیا واقعی کوئی ایسی ہستی پائی جاتی ہے جسے خدا کہتے ہیں؟<br>
کیا واقعی خدا سب کا خالق ہے؟<br>
کیا واقعی اس نے کبھی ہماری دعاؤں کو سنا ہے؟<br>
کیا واقعی قربانیوں سے خوش ہو کر اس نے کسی قوم کے ساتھ کوئی خاص رعایت روا رکھی ہے؟</p>
<p>(۱) اگر واقعی اسی نے انسان پیدا کیا ہے تو کیوں ایسے افراد اس نے پیدا کیے جو مسخ و قبیح ہیں، مفلوج و محتاج ہیں اور ذہنی حیثیت سے حددرجہ پست؟ مجرموں، دیوانوں اور بے عقل لوگوں کو پیدا کرنے میں اس کی کیا مصلحت تھی، کیا کوئی ایسی قوت کی طرف سے جسے فراست کل اور قوت مطلق کہتے ہیں، ان نقائص تخلیق کی کوئی معقول توجیہہ پیش کی جا سکتی ہے؟<br>
(۲) اگر خدا تمام امور عالم کا مدبر و منظم ہے تو کیا وہ ان بادشاہوں کے افعال کا ذمہ دار نہیں ہے جنھوں نے دنیا میں سوا ظلم کے اور کچھ نہیں کیا؟ کیا وہ ان تمام لڑائیوں کا ذمہ دار نہیں ہے جن میں لاکھوں بے گناہوں کا خون بہایا جاتا ہے؟<br>
(۳) کیا وہ دور غلامی اس کی مرضی کے موافق نہ تھا جب صدیوں تک ہزاروں بے گناہ انسانوں سے ان کے بلکتے ہوئے بچے جدا کرکے قتل و زبح کرادیے گئے؟<br>
(۴) کیا وہ ان مذہبی تعذیبات کا ذمہ دار نہیں جو بے گناہ انسان کے ناخنوں میں کیلیں ٹھونک دینے اور شکنجے میں تان تان کر ایک ایک جوڑ علیحدہ کردینے پر مشتمل تھے؟<br>
(۵) خدا نے کیوں ظالموں اور بدکرداروں کو مہلت دی کہ وہ بہادروں اور نیک کرداروں کو پامال کریں؟<br>
(۶) خدا نے کیوں کافروں کو اس کا موقع دیا کہ اس کے خاص بندوں کو عذاب میں مبتلا کریں۔ اگر ایک رحم و کرم والا خدا واقعی کائنات کا مدبر ہے تو یہ آئے دن کے طوفانوں، زلزلوں ، وباؤں اور خشک سالیوں کی کیا توجیہ ہوسکتی ہے؟ سل و دق، سرطان و خناق اور اسی طرح کی سیکڑوں بیماریاں پیدا کرنے کا کیا سبب ہوسکتا ہے جس سے نہ معصوم بچے جانبر ہوسکتے ہیں ، نہ زاہد و مرتاض انسان؟<br>
(۷) درندوں کا انسانوں کو پھاڑ کر کھاتے رہنا، زہریلے سانپوں کا لوگوں کو ڈستے رہنا اور خدا کا کچھ نہ کہنا عجیب معمہ ہے۔کیا اس نے ناخن و چنگال اسی لیے پیدا کیے کہ وہ گوشت کے ریشے جدا کرتے رہیں، کیا اس نے پر و بال اسی لیے بنائے ہیں کہ معذور و بے کس آسانی سے گرفت میں آ سکیں ، کیا اس نے جراثیم اسی لیے پیدا کیے ہیں کہ وہ انسانوں کو اندھا، کوڑھی، مسلول و مدقوق بنا کر اپنی بھوک مٹائیں؟<br>
(۸) کیا کائنات کی تنظیم اسی طرح ممکن تھی کہ ایک جاندار کی زندگی دوسرے جاندار کے گوشت و خون پر منحصر ہو اور کیا تدبیر عالم آہ و کراہ کا ہنگامہ پیدا کیے بغیر محال تھی؟ پھر ان واقعات و حالات پر غور کرو اور سمجھو کہ مذہب کیا ہے؟<br>
(۹) دراصل وہ نام ہے صرف ایک بے بنیاد خوف کا، جو خود ہی ایک قربان گاہ بناتا ہے اور خود ہی اس پر قربانیاں چڑھاتا ہے، خود ہی ایک معبد تیار کرتا ہے اور خود ہی وہاں جھک جاتا ہے۔<br>
(۱۰) مذہب ہمیں وہی باتیں سکھاتا ہے جو صرف غلام ہی کے لیے موزوں ہیں، یعنی اطاعت، فرمانبرداری، نفس کشی، صبر و تحمل، عدم مقادمت اور اپنے آپ کو مٹادینا۔<br>
(۱۱) خود مختاری، سرفرازی، خود اعتمادی، جرأت و اقدام کا وہاں کوسوں پتہ نہیں۔ مذہب کہتا ہے کہ خدا مالک ہے اور انسان اس کا غلام، لیکن مالک چاہے کتنا ہی بڑا ہو ، غلام کو خوشگوار نہیں بنا سکتا۔ اگر خدا کا وجود ہے تو ہم کیوں کر جان سکتے ہیں کہ وہ رحم وکرم والا بھی ہے، وہ دیکھتا ہے کہ لاکھوں کروڑوں غریب و جفا کش، انسان ہل چلا رہے ہیں، کھیتیاں بو رہے ہیں اور ان کی زندگی کا انحصار صرف اسی محنت پر ہے لیکن وہ پانی نہیں برساتا، کھیتیاں مرجھا رہی ہیں لیکن پانی کا ایک قطرہ نہیں گراتا، کروڑوں انسان اپنی مایوس و منتظر آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں لیکن سوا جھلسا دینے والے آفتاب کے بادل کا ایک ٹکڑا بھی انھیں کسی جگہ نظر نہیں آتا۔ خدا ان کے دل کے اضطراب کو دیکھتا ہے اور رحم نہیں کھاتا، ان کی اشک آلود آنکھوں کو دیکھتا ہے اور خاموش ہے۔ بچے ماؤں کی خشک چھاتیوں سے لگے ہوئے بلک رہے ہیں اور دودھ نہیں پاتے، مائیں آنچل پھیلا پھیلا کر اپنے بھوکے بچوں کا واسطہ دے دے کر دعائیں مانگ رہی ہیں، لیکن کوئی سننے والا نہیں۔ پھر کیا خدا کا رحم و کرم ثابت کرنے کے لیے باد سموم کے ان جھونکوں کو پیش کیا جائے گا، جو بستیوں کی بستیاں تباہ کرجاتے ہیں اور میدانوں کو لاشوں سے بھر دیتے ہیں؟ کیا اس کی شفقت و محبت کی ثبوت میں زلزلوں کو پیش کیا جا سکتا ہے جب زمین ہزاروں انسانوں کو نگل جاتی ہے؟ کیا آتش فشاں پہاڑوں کو پیش کیا جا سکتا ہے جن کے شعلے بچے بوڑھے کی بھی تمیز نہیں کرتے؟</p>
<p>کیا اگر یہ تباہ کاریاں نہ پائی جائیں تو ہم کو یہ شک کرنے کا موقع ملے گا کہ خدا اپنے بندوں کی طرف سے غافل ہے ؟ کیا اگر زلزلہ و طوفان، قحط و وبا کی مصیبتیں نازل نہ ہوں تو ہم کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ خدا مہربان نہیں ہے؟</p>
<p>الہٰیات والے کہتے ہیں کہ خدا نے تمام انسانوں کو یکساں پیدا نہیں کیا۔ اس نے قد وقامت ، رنگ و صورت، ذہن و فراست کے لحاظ سے قوموں کو ایک دوسرے سے متمایز کردیا ہے، تو کیا بلندقوموں کو خدا کا شکر نہ ادا کرنا چاہیے کہ اس نے انھیں پست نہیں بنایا۔ یقینا شکر کی بات ہے لیکن اس صورت میں کیا پست قومیں اس بات کا شکریہ ادا کریں گی کہ خدا نے انھیں جانور نہیں بنایا؟</p>
<p>جب خدا نے بلند و پست قوموں کو بنایا تھا تو کیا یہ بات اس کے علم میں نہ تھی کہ بلند قومیں پست قوموں کو اپنا غلام بنائیں گی، ان کو ایذا پہنچائیں گی اور تباہ و برباد کردیں گی؟کیا وہ نہ جانتا تھا کہ یہ بلند و پست کا امتیاز دنیا میں کتنا خون بہائے گا؟ نوع انسانی کو کن کن مصائب میں مبتلا کرے گا، کتنے میدان لاشوں سے پاٹ دے گا، کتنے غلاموں کے جسم کا گوشت کوڑوں کی ضرب سے پارہ پارہ کرے گا، کتنی ماؤں کے دل ان کے بچوں کو جدا کرکر کے تڑپائے گا؟ پھر اگر یہ سب کچھ اس کے علم میں تھا تو کیا اس کا رحم و کرم اس سے زیادہ دلدوز مناظر کا منتظر تھا؟</p>
<p>وہ قید خانے، جن کی سنگین دیواروں سے سرٹکرا کر دنیا کے بہت سے بلند اخلاق والے انسانوں نے اپنی جانیں دے دیں، وہ سولیاں جو مقدس انسانوں کے خون سے رنگین بنائے جانے کے لیے نصب کی گئیں، وہ غلاموں کی جماعتیں جن کی پیٹھ کے زخموں کو خشک ہونے کا کبھی موقع نہیں دیا گیا، وہ مقدس ہستیاں جن کا ایک ایک جوڑ شکنجہ تان تان کر علیحدہ کیا گیا، جن کی کھالیں کھنچوا کھنچوا کر بھس بھر وایا گیا، وہ بے شمار انسان جو قحط و وبا کا شکار ہوئے ، جن کو زمین نے نگل کر ڈکار تک نہ لی، جن کو سانپوں نے ڈسا، آتش فشاں پہاڑوں نے جھلسایا اور لاتعداد بدکار ظالم انسان جنھوں نے دنیا میں مظالم توڑے اور کامیاب زندگیاں بسر کیں، کیا یہ اور اسی طرح کے تمام سمجھ میں نہ آنے واقعات ، رحم و کرم والے خدا کے علم سے باہر تھے؟ اور یہ سب کچھ بغیر اس کی مرضی کے ہوا؟</p>
<p>انسان نے ہمیشہ کسی نہ کسی مافوق الفطرت ہستی کا دامن پکڑنا پسند کیا۔ اگر اس نے پتھر کو پوجنا چھوڑا تو ایک اور غیر معلوم قوت کے سامنے جھک گیا جس کو وہ صحیح راہ دکھانے والا باور کرتا ہے لیکن حقیقت کیا ہے؟</p>
<p>انسان فطرتاً اقدام پسند واقع ہوا ہے، وہ ہمیشہ آگے قدم بڑھاتا ہے اور تجربات اس کو بتاتے ہیں کہ اس نے جو قدم اٹھایا تھا وہ صحیح تھا یا غلط۔</p>
<p>ایک آدمی کسی جگہ کا ارادہ کرکے چل پڑتا ہے۔ وہ ایک ایسی جگہ پہنچتا ہے جہاں دو راستے پھٹتے ہیں، وہ بایاں راستہ اختیار کرلیتا ہے لیکن اسے کچھ دور چل کر معلوم ہوتا ہے یہ راستہ غلط تھا، وہ واپس آتا ہے اور داہنے ہاتھ کا راستہ اختیار کر کے منزل تک پہنچ جاتا ہے، اس کے بعد وہ اس جگہ پہنچنے میں غلطی نہیں کرتا اور ہمیشہ سیدھا راستہ اختیار کرتا ہے۔ تو کیا یہ رہنمائی خود اس کی جستجو کا نتیجہ نہ تھی؟</p>
<p>ایک بچہ شعلہ کی چمک دیکھ کر اس کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے اور جل جاتا ہے، اس کے بعد پھر یہ جرأت وہ کبھی نہیں کرتا۔ تو کیا یہ سبق اس کو اس قوت نے دیا یا خود اس کے تجربہ نے؟</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے تجربات میں خود وہ قوت پنہاں ہے جو صحیح راستہ بتانے والی ہے، یہ قوت و ادراک و ارادہ سے بالکل معرا ہے اور اس کا نام ہے تجربہ۔</p>
<p>بہت سے لوگ ضمیر اور احساس اخلاق کے وجود کو وجود خدا کی دلیل بتاتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان فطرتاً تمدن پسند واقع ہوا ہے اور خانوادوں، قوموں اور قبیلوں کی صورت میں ہمیشہ زندگی بسر کرتا چلا آیا ہے، پھر قبیلہ کے جن افراد نے خاندانی و عائلی مسرتوں میں اضافہ کیا، وہ اس کے اچھے اعضا شمار کیے گئے اور جنھوں نے تکلیفیں پہنچائیں، انھیں برا سمجھا گیا اور یہیں سے اخلاق کے اچھے برے ہونے کا معیار قائم ہوا۔</p>
<p>وحشی قوموں میں ہمیشہ فوری نتائج پر غور کیا جاتا ہے لیکن ترقی یافتہ قوموں نے میں نتائج بعیدہ کو سامنے رکھا جاتا ہے اور اس طرح اخلاق کا معیار بلند تر اور فرض شناسی کا احساس قوی تر ہوتا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس میں کسی مافوق الفطرت قوت کا کوئی دخل نہیں ہے۔</p>
<p>مذہب کیا ہے؟ انگرسول عیسوی مذہب کو سامنے رکھ کر پوچھتا ہے کہ عیسویت نے دنیا کو کیا فائدہ پہنچایا؟ جب اس کا اقتدار قائم کیا تھا تو کیا اس نے انسان کو زیادہ بہتر انسان بنا دیا؟ اس کا اثر اطالیہ، اسپین، پرتگال اور آئر لینڈ پر کیا ہوا؟ ہنگری اور آسٹریا کو کیا فائدہ اس سے حاصل ہوا؟ انگلستان، امریکہ، ہالینڈ اور اسکاٹ لینڈ نے کیا تمتع اس سے حاصل کیا؟ اگر عیسویت کے سوا وہ کسی اور مذہب کے پیرو ہوتے تو کیا وہ اس سے زیادہ خراب ہوجاتے؟</p>
<p>کیا ٹورکسٹمد، زرتشتی مذہب کا پابند ہوتا تو کیا اور زیادہ خراب انسان ہوجاتا؟ کیا کالون اور زیادہ خونخوار بن جاتا ، اگر وہ یہودی ہوتا؟ کیا ڈچ اور زیادہ احمق ثابت ہوتے اگر وہ تثلیث مسیحیت کے قائل نہ ہوتے؟ کیا جان ناکس اور زیادہ برے اخلاق کا ہوجاتا، اگر بجائے مسیح کے وہ کنفوشش کا ماننے والا ہوتا؟</p>
<p>مذہب کا ہر زمانہ اور ہر ملک میں بہت کافی تجربہ ہوچکا ہے اور اب اس ناکامی پر مزید حجت پیش کرنے کے لیے کسی اور جدید تجربہ کی ضرورت نہیں ہے۔</p>
<p>مذہب کبھی انسان کے دل میں جذبٔہ رافت والفت پیدا نہیں کر سکا اور اس کے ثبوت میں مذہبی تاریخ کے دو اوراق پیش کیے جا سکتے ہیں جن کا ایک ایک حرف خون سے رنگین ہے۔</p>
<p>مذہب علم و تحقیق کا ہمیشہ دشمن رہا ہے اور اس نے کبھی ذہنی آزادی کا ساتھ نہیں دیا۔<br>
مذہب کبھی انسان کو محنتی، جفا کش اور ایمان دار بنانے میں کامیاب نہیں ہوا، چنانچہ وحشی اقوام کی برائیوں کا سبب صرف ان کی مذہبی واہمہ پرستی ہے۔</p>
<p>وہ لوگ جو فطرت کی یکسانیت کے قائل ہیں، ان کے لیے مذہب کا خیال کسی طرح قابل قبول نہیں ہو سکتا۔</p>
<p>کیا انسان ؛ فطرت اور صفات مادہ کو اپنی دعاؤں سے متاثر کرسکتا ہے، کیا ہم طوفان کو پوجا پاٹ کے ذریعہ سے کم و بیش کرسکتے ہیں، کیا ہم قربانیاں پیش کرکے ہواؤں کارخ بدل سکتے ہیں، کیا ہم آہ وزاری سے بیماری کا علاج کرسکتے ہیں، کیا عزت و سربلندی ہمیں بھیک مانگنے سے مل سکتی ہے؟</p>
<p>وہ چیز جسے نفس کہتے ہیں، کیا وہ قانون قدرت کا اسی طرح پابند نہیں جس طرح ہمارا جسم؟</p>
<p>مذہب کی بنیاد اس خیال پر قائم ہے کہ عالم فطرت کا کوئی ایک مالک ہے، خود دعاؤں کو سنتا ہے، اپنی تعریف سے خوش ہوتا ہے اور جزا و سزا دیتا ہے، لیکن افسوس ہے کہ واقعات کی دنیا میں ایک بھی مثال ایسی نہیں ملتی جس سے ہمیں ان اعتقادات کی تصدیق ہوسکے۔<br>
جب ہم کوئی نظریہ قائم کرتے ہیں تو اس کے لیے کوئی نہ کوئی بنیادی حقیقت ضرور ہوا کرتی ہے، محض وہم و قیاس پر کوئی اصول مرتب نہیں ہوسکتا، اس لیے اگر ہم لا مذہبیت کا نظریہ پیش کرتے ہیں تو اس کے لیے چند بنیادی حقائق بھی اپنے پاس رکھتے ہیں۔</p>
<p>مثلاً یہ کہ مادہ وقوت فنا نہیں ہو سکتے، دوسرے یہ کہ مادہ و قوت ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں ہو سکتے، تیسرے یہ کہ جو چیز غیر فانی ہے وہ غیر مخلوق ہے، قدیم ہے۔</p>
<p>دنیا میں ذہانت و ذکاوت کا وجود صرف قوت کی وجہ سے ہے اور قوت بغیر مادہ کے ممکن نہیں، اس لیے معلوم ہوا کہ ذکاوت صرف قوت و مادہ کی ممنون ہے اور اس باب میں کسی ایسی مافوق الفطرت ہستی کے تسلیم کرنے کی ضرورت نہیں ہے جسے مدبر کائنات کہا جائے۔<br>
اگر مادہ و قوت ازلی و ابدی ہیں تو جو کچھ ممکنات میں تھا، وہ واقع ہوا۔ جو ممکنات میں ہے ، وہ ظاہر ہو رہا ہے اور آئندہ بھی رونما ہوتا رہے گا۔ کائنات میں اتفاق کوئی چیز نہیں ، جو کچھ ہوتا ہے اس کا کوئی نہ کوئی سبب ضرور پایا جاتا ہے۔ جس چیز کو ہم حال کہتے ہیں ، وہ ماضی کی پیداوار ہے اور جس کا نام مستقبل ہے وہ نتیجہ ہوگا حال کا۔ انسان سے لے کر رینگنے والے کیڑے کی حرکت تک سب اسی قانون کے جکڑے ہوئے ہیں اور اس کے خلاف کسی بات کا ظاہر ہونا ناممکن ہے۔</p>
<p>ہزاروں سال سے دنیا کی اصلاح کی کوشش کی جا رہی ہے اور اسی غرض کے لیے دیوتا، دیویاں، بہشت، دوزخ، الہامات و معجزات ، کلیسا و خانقاہ، قیدخانے اور شکنجے، سیکڑوں چیزیں پیدا کی گئیں۔ ایک بادشاہ کو تخت سے اتار کر دوسرے کو بٹھایا ، ایک ملکہ کی گردن مار کر دوسری کو تخت نشین کیا، آدمیوں کو زندہ جلایا۔ فوج کشیاں کی گئیں، دعائیں مانگی گئیں ، ڈرایا گیا، لالچ دی گئی۔ الغرض مذہب نے سبھی کچھ کیا لیکن مقصد آج تک پورا نہ ہوا۔ کیوں کہ مذہب غلامی ہے ذہن و دماغ کی، اور جب تک انسان کا ذہن آزاد و بیدار نہ ہو، نوع انسان کی فلاح مجموعی حیثیت سے ناممکن ہے۔</p>
<p>یہ ہیں وہ خیالات اس زمانے کے ملحد و لامذہب کے جو اخباروں، رسالوں اور لکچروں کے ذریعہ سے تمام دنیا میں اشاعت پا رہے ہیں اور ہندوستان کے جدید تعلیم یافتہ طبقہ میں بھی مقبول ہوتے جاتے ہیں۔ اس لیے اگر ہم دہریت و الحاد کے اس بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنا چاہتے ہیں تو ہمارا سب سے پہلا فرض یہ ہے کہ ہم دنیا کی اس ذہنی تشویش و تذبذب کو دور کریں۔ پھر اس کی تدبیر یہ نہیں ہے کہ ہم منطق و فلسفہ کی پیچیدہ باتوں میں الجھا کر فریق مخالف کو خاموش کرنے کی کوشش کریں، کیوں کہ اس طرح اس کی زبان تو بند ہوسکتی ہے لیکن دل مطمئن نہیں ہوسکتا؛ بلکہ ضرورت ہے اس مذہبی روح کی تلقین کی جو ظاہری شعائر و مراسم سے بے نیاز ہے اور جس میں سوا بلند تعلیم اخلاق کے کوئی اور چیز ایسی نہیں پائی جاتی جو ہمیں الہام و معجزات، بہشت و دوزخ، حشر و نشر، قیامت و آخرت کے تسلیم کرنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔ یہی وہ تنگ نظری تھی جس نے اہل مذاہب کو ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار رکھا اور یہی وہ چیز ہے جو مذہب کے اقتدار کو مٹا کر رہے گی۔ دنیا میں اب کوئی ایسا مذہب نہیں چل سکتا جو تمدنی ضروریات، بین الاقوامی تعلقات، اقتصادی مشکلات، اخلاقی اصول عامہ کو پس پشت ڈال کر صرف ”امید فردا“ پر اپنی کارگاہ تبلیغ قائم کرے۔ وہ وقت گذر گیا جب مذہب کسی ایک قوم کے لیے مخصوص ہوا کرتا تھا، اب کہ کرئہ زمین کی ۴۲ ہزار میل کی وسعت کو انسان چند دن میں طے کرلیتا ہے، تخصیص نسل و جغرافیہ کا سوال بالکل لایعنی چیز ہے، اور مذہب کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ کوئی ایسا لائحہ عمل پیش کرے جو تمام آبادی کو کسی ایک مشترک پلیٹ فارم پر جمع کرسکتا ہو اور یہ ممکن نہیں جب تک مذہب کے اعتقادی حصہ کو علیحدہ کر کے اسے ہیئت اجتماعی کے اصول پر صرف ”سوشل آرگنائزیشن“ کی حیثیت نہ دی جائے۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">صراط مستقیم</div>
<p>ہمارے سامنے دو راستے ہیں، ایک وہ جو فطرت اور عالم اسباب کی طرف رہنمائی کرنے والا ہے، اور دوسرا وہ جو مافوق الفطرت باتوں کی جانب مائل کرتا ہے۔ یعنی ایک وہ ہے جو ہمیں تحقیق و جستجو ، اکتشافات و اختراع، سعی و کاوش اور رشتہ علت و معلول کی طرف متوجہ کر کے راحت و آسائش، امن و سکون کے ساتھ زندگی بسرکرنا سکھاتا ہے اور دوسرا وہ جو ہمیں بتاتا ہے کہ اصل دنیا یہ نہیں ہے بلکہ کوئی اور ہے اور اسی غیر معلوم دنیا کے لیے بلا حیلہ و حجت ہم کو قربانیاں ، دعائیں اور عبادتیں کرتے رہنا چاہیے۔<br>
ان دونوں راستوں میں اور کیا فرق ہے؟</p>
<p>ایک بتاتا ہے کہ زندگی نام ہے اپنے اور دیگر ابنائے جنس کے ساتھ ہمدردی رکھے اور ان کے لیے اسباب راحت و سکون فراہم کرنے کا، دوسرا کہتا ہے کہ حیات انسانی کا مقصد خداؤں اور دیوتاؤ ں کی پرستش ہے جو دوسری دنیا میں ہمارے اس تمام عجز و انکسار کا ابدی معاوضہ دیں گے۔ ایک عقل و حقائق پر اعتماد کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور دوسرا صرف عقائد پر بھروسہ کرنے کی۔ ایک کہتا ہے کہ اپنے حواس و ادراک کی اس روشنی سے کام لو جو خود تمھارے اندر پائی جاتی ہے، دوسرا کہتا ہے کہ اس مقدس روشنی کو گل کردو۔</p>
<p>اس میں شک نہیں کہ ہمارے اسلاف نے جو کچھ کیا، وہ اس سے زاید کچھ نہ کرسکتے تھے۔ وہ ایک مافوق الفطرت قوت پر یقین رکھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اگر وہ طاعت و عبادت، دعا و قربانی نہ کریں گے تو نہ بارش وقت پر ہوگی اور نہ ان کی کھیتیاں بار آور ہوں گی۔ وہ یقین کرتے تھے کہ خدا ایک مستبد بادشاہ ہے جس کو ذرا ذرا سی بات ناگوار ہوجاتی ہے اور جو برہم ہو کر سزا دینے پر اتر آتا ہے۔ وہ خدائے خیر کے ساتھ خدائے شر کے بھی قائل تھے اورانھی دو خداؤں کے درمیان بیم و رجا کی ”رعشہ براندام“ زندگی بسر کیا کرتے تھے۔ ان کی حیات کا کوئی لمحہ خوف سے خالی نہ گذرتا تھا اور ہر وقت وہ اسی ڈر سے کانپتے رہتے تھے کہ مبادا کوئی ان سے خفیف سی خفیف گستاخی سرزد ہوجائے اور خدا ناراض ہو کر انھیں بڑی سے بڑی سزا کا مستوجب قرار دے۔</p>
<p>طوفان آتا تھا تو وہ سمجھتے تھے کہ یہ نتیجہ ہے انھیں کی بد اعمالیوں کا، زلزلہ آتا تھا تو وہ یقین کرتے تھے کہ خدا ان پر برہم ہورہا ہے۔ وبائی بیماریاں پھیلتی تھیں تو وہ اسے بھی اپنی گناہوں کا پاداش سمجھتے تھے، اور جب چاند سوچ کر گرہن لگتا تھاتو اسے بھی اپنی خطاؤں کا نتیجہ باور کرتے تھے ، تمام فضا انھی فرشتوں اور روحوں سے معمور نظر آتی تھی، اور شب و روز صرف لیے آہ وزاری کیا کرتے تھے کہ خدا ان سے خفا ہو کر تباہ و برباد نہ کردے ، قدرت ان کے نزدیک گویا ایک سوتیلی ماں تھی جو پیشانی پر شکنیں ڈالے ہوئے ہر وقت انھیں خونچکاں آنکھوں سے دیکھتی رہتی تھی۔</p>
<p>آخر کار ایک زمانہ آیا جب بعض افراد سوچنے والا دماغ لے کرپیدا ہوئے اور انھوں نے تما م حوادث و واقعات پر غور کرنا شروع کیا۔ انھوں نے سمجھا کہ طوفانوں اور زلزلوں کے اسباب طبعی کچھ اور ہیں۔ سورج گرہن کے لیے ایک زمانہ معین ہے اور پہلے سے اس کے وقوع کی پیشین گوئی کی جا سکتی ہے، اسی طرح رفتہ رفتہ سیاروں کی گردش، کرئہ زمین کے جغرافی حالات، آب و آتش کے خواص، مظاہر فطرت کے اسباب، حیات انسانی کی خصوصیات، اعضائے جسم کے وظائف معلوم کیے گئے اور واہمہ پرستی کی زنجیر کی کچھ کڑیاں ٹوٹیں۔ اس کے بعد کچھ زمانہ اور گذرا ، یہاں تک کہ مدارس کی بنیادیں پڑیں۔ کتابیں تصنیف کی گئیں، مفکرین کی تعداد روز بروز بڑھنے لگی۔ علمی اکتشافات نے انسان کے دماغ کو منور کرنا شروع کیا، فکر و خیال کی آزادی بڑھی اور مافوق الفطرت کی جگہ فطرت اور اصول فطرت نے لے لی۔ پھر روح کے اس احساس آزادی کا جو نتیجہ ہونا چاہیے تھا وہ ظاہر ہو کر رہا، یعنی اختراع و ایجاد کے دروازے کھل گئے اور ارباب مذہب اپنی اور اپنے اعتقادات کی کمزوریوں کو بری طرح محسوس کرنے لگے۔</p>
<p>ظاہر ہے کہ مفکرین کے مقابلہ میں ”معتقدین“ کوئی علمی و عقلی دلیل تو پیش کر نہ سکتے تھے، کیوں کہ یہی ایک چیز ان کے دسترس سے دور تھی۔ اس لیے وہ اہل علم کے خلاف ملک میں نہایت مکروہ پروپیگنڈا کی اشاعت پر اتر آئے اور واہمہ پرستی کے پاس جہل و تعصب کے جتنے گندے حربے موجود ہیں، ان سب کا استعمال بیک وقت شروع کردیا گیا، ان کو ذریات شیطان بتایا گیا، خدا کا دشمن ظاہر کیا گیا۔ ان کو مٹادینے کا نام مذہبی جہاد قرار پایا، اور استعمال آتش و زنجیر اور تعذیب و تذلیل کی جتنی مہیب صورتیں ہیں وہ سب بروئے کار لائی گئیں۔<br>
پھر یہ سب کچھ چند دن کا ہنگامہ نہ تھا، بلکہ یہ خون آشامیاں صدیوں تک جاری رہیں اور اس سلسلہ میں کوئی جرم ایسا نہ تھا جس کا ارتکاب مذہب کے نام پر جائز و مستحسن نہ قرار دیا گیا ہو۔ ایک فریق کہتا تھا کہ جذبات انسانی کو فنا کردو اور ضروریات زندگی کو کم، اپنے آپ کو معذور سمجھو اور آسمانی قوت پر اعتماد کامل رکھ کر تمام کام اسی پر چھوڑ دو، دوسری جماعت کہتی تھی کہ جذبات انسانی اسی لیے پیدا کیے گئے ہیں کہ مناسب حدود میں ان کو تسکین پہنچائی جائے اور ضروریات زندگی کو بڑھانا بھی لازم ہے، کیوں کہ بغیر ان کے انسانوں کو اپنی قوتوں کا علم نہیں ہوسکتا اور دنیا میں کوئی ایجاد و اختراع معرض ظہور میں نہیں آسکتی۔</p>
<p>ایک فریق کا فلسفہ حیات یہ تھا کہ مال و دولت کو ٹھکرا دیا جائے اور اسباب راحت سے نفرت کی جائے، یہ لوگ فنون لطیفہ کے دشمن تھے؛ اچھی غذا، اچھے لباس، اچھے مکانوں سے متنفر تھے، گویا یوں سمجھیے کہ یہ حکما تھے؛ غربت و افلاس کے، تشنگی و گرسنگی کے، جھونپڑوں کے، چیتھڑوں کے، برہنہ پائی کے اور ایک ایسے آہستہ ردعمل خود کشکی کے جو دفعتاً نہیں بلکہ تدریجاً قوم کی قوم ہلاک کردینے والا ہے۔ ان کو اس دنیا میں سوا عذاب و مصیبت کے کچھ نظر نہ آتا تھا اور دوسری دنیا ہر قسم کے اسباب نشاط و راحت سے معمور نظر آتی تھی، وہ امرا اصحاب ثروت سے اور تمام ان لوگوں سے جو اپنی قوت بازو کی مدد سے راحت و آرام کی زندگی بسر کرتے ہیں ، نفرت کرتے تھے اور جنت میں سوا گداگروں اور بھکاریوں کے کسی اور کا درخور محال سمجھتے تھے۔ الغرض یہ تھے وہ لوگ جنھوں نے دنیا کو ویران و غیر دلچسپ رکھنے کے سیکڑوں سال تک جہاد کیا اور کچھ زمانہ تک انھیں کامیابی بھی حاصل رہی، لیکن ذہنی و عقلی آزادی بجائے خود ایسی زبردست لذت ہے کہ ایک بار چکھ لینے کے بعد اسے چھوڑنا محال ہے، اس لیے اس کا ذوق رفتہ رفتہ عام ہوتا گیا اور ذہن و خیال کی دنیا ہی بالکل بدل گئی۔</p>
<p>چنانچہ اب انسان اس جسم متحرک کا نام نہیں ہے جو ایک وقت معین تک حرکت کرتے رہنے کے بعد فنا ہوجاتا ہے بلکہ انسان نام ہے قوائے عقل و دماغ کی ترقی کا، حرکت و عمل کا، تحقیق و جستجو کا، اعتماد ذاتی کا اور آسمان سے لے کر زمین تک تمام مناظر قدرت پر چھا جانے کا۔ اب وہ اس کا قئل نہیں کہ طاعت و عبادت بجائے خود کوئی تقدس و پاکیزگی ہے اور انعام خداوندی کی مستحق، اب وہ یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ جزا و سزا مافوق الفطرت سے متعلق ہے بلکہ وہ تقدس کا مفہوم صرف حرکت و عمل کو قرار دیتا ہے اور یقین کرتا ہے کہ انسان کی دوزخ و جنت خود اسی کے اندر اور اسی دنیا میں موجود ہے اور اسے اختیار حاصل ہے ، خواہ وہ مجہول و بے کار زندگی بسر کر کے جہنم میں چلا جائے ، خواہ سعی و محنت سے کام لے کر فردوس حاصل کرے۔</p>
<p>یہ اعتقاد کہ بادشاہ کو خدا، بادشاہ بنا کر بھیجتا ہے اور رعایا کا کام صرف اس کی اطاعت ہے، اب ختم ہوگیا ۔ یہ عقیدہ کے مذہب خدا کی بنائی ہوئی چیز ہے اور اس کے بتائے ہوئے اصول و عقائد کو بغیر چون و چرا تسلیم کرنا ہمارا فرض ہے، بہت کچھ مٹ گیا ہے۔ خدا کے بھیجے ہوئے بادشاہ بھی رفتہ رفتہ فنا ہورہے ہیں اور مذہبی حکومتیں بھی محو ہوتی جارہی ہیں۔</p>
<p>انگلستان میں بجائے خدا کے اب پارلیمنٹ کی حکومت ہے اور امریکہ میں مذہبی اقتدار کی جگہ رائے عامہ نے لے لی ہے۔ فرانس اپنی آبادی کے سوا کسی اور مافوق الفطرت قوت کو حکومت میں دخل دینے کا مستحق قرار نہیں دیتا اور روس میں سب سے بڑا جرم خدا اور مذہب کا نام لینا ہے۔ یورپ میں صرف ایک قیصر ولیم (شاہ جرمنی) ایسا بادشاہ تھا جو اپنے آپ کو فرستادئہ خدا سمجھتا تھا ، سو گذشتہ جنگ میں وہ بھی ختم ہوگیا۔</p>
<p>انسان آزادیٔ کامل کی اس منزل تک سخت صعوبتیں اٹھانے کے بعد پہنچا ہے اور استعمال عقل کے استحقاق کو اب اس سے کوئی نہیں چھین سکتا ۔ جس وقت تک وہ اپنی فہم و فراست کو مشعل راہ بنانے سے باز رکھا گیا، بے شک وہ کہہ سکتا تھا کہ اصل نیکی صرف خوف جہنم سے کانپتے رہنا ہے اور حصول نجات کے لیے یہی کافی ہے لیکن جب اس نے دیکھا کہ تنہا یہ عقیدہ نہ اس کے لیے روزی فراہم کرسکتا ہے، نہ تن پوشی کے لیے لباس تو اس کی نگاہیں آسمان کی طرف سے زمین کی جانب مائل ہوئیں اور وہ یہ دیکھ کر متعجب ہوا کہ جو لوگ اپنے آپ کو مذہب کا پابند کہتے ہیں ، وہ بھی اسی کی طرح جرم و معصیت کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں۔ اس نے دیکھا کہ سقراط کو جس نے زہر کا پیالہ دیا ، وہ بھی مذہبی انسان تھا اور عیسیٰ کو جنھوں نے سولی پر چڑھایا ، وہ بھی خدا ہی کے ماننے والے تھے؛ اس لیے اس کی روح میں بغاوت پیدا ہوئی اور اس طرح سب سے پہلا جذبٔہ انتقاد جو مذہب کے خلاف رونما ہوا، وہ خود اہل مذہب ہی کا پیدا کیا ہوا تھا۔</p>
<p>آپ کسی مذہب والے سے دریافت کیجیے، وہ اپنے سوا تمام دنیا کو گمراہ بتائے گا اور اسی خدا کو قابل پرستش قرار دے گا جو اس نے وضع کیا ہے، دوسرے مذاہب واقوام کے خداؤں کو وہ جھوٹا بتائے گا۔ وہ سوا اپنے معبد کے کسی اور کی عبادت گاہ کی عزت نہ کرے گا۔ سو اپنے طریق عبادت کے وہ کسی اصول بندگی کا احترام نہ کرے گا، وہ اپنی قربانیوں کے مقابلے میں دوسرے مذہب کی قربانیوں کو لغو و بیکار بتائے گا۔ گویا اسی کا خدا ، خدا ہے اور اسی کا پیغمبر ، پیغمبر ، اسی کی کتاب الہامی صحیفہ ہے اور اسی کی دعائیں مقبول۔</p>
<p>اب خدا کے اس تصور کو دیکھیے جو الہامی مذاہب نے پیش کیا ہے، خدا کو قادر مطلق ، بے نیاز اور کسی چیز سے متاثر نہ ہو سکنے والا بتایا جاتا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ کتب مقدسہ کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو غصہ بھی آتا ہے، وہ انتقام بھی لیتا ہے اور اپنے بندوں میں سے ایک کے ساتھ رعایت اور دوسرے کے ساتھ ظلم بھی کرسکتا ہے۔</p>
<p>عدن میں آدم و حوا کو خود ہی پیدا کرتا ہے اور نافرمانی و سرکشی نہیں بلکہ معمولی سی غلطی پر خود ہی اس قدر برہم ہوجاتا ہے کہ عدن سے انھیں اٹھا کر زمین پر پھینک دیتا ہے اور نہ صرف ان کے لیے بلکہ ان کی اولاد کے لیے بھی تمام عمر غم وغصہ میں مبتلا رہنا مقسوم کردیتا ہے۔ خدا اور اتنا غصہ، خالق اور اپنی مخلوق پر اتنی برہمی! اگر وہ جانتا تھا کہ ان سے یہ غلطی سرزد ہوگی تو پیدا کرنے ہی کی کیا ضرورت تھی؟ اور اگر پیدا کیا تھا تو کیا اس کے اختیار میں نہ تھا کہ وہ غلطی نہ کرسکنے والی مخلوق پیدا کرتا، خود ہی ان کو پیدا کیا، خودہی برہم ہو کر انھیں مبتلائے آلام کردیا، عجیب تماشہ ہے۔</p>
<p>الہامی صحائف خدا کے غصے اور جنگ و قتال کے احکام سے بھرے پڑے ہیں ، قوموں کو اس نے برباد کیا، بستیوں کو اس نے ویران کیا، وبائیں اس نے مسلط کیں، آسمانی عذاب اس نے نازل کیے۔ حالاں کہ انسان کی سرکشی یا نافرمانی بھی اسی کی پیدا کی ہوئی چیز تھی اور خود اس کی مرضی تھی کہ وہ ایسا کرے ، پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ جب انسان کو (جن میں عورتین اور معصوم بچے بھی شامل تھے) تباہ کرنا ہی مقصود تھا تو ان کے پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی اور پیدا کیا تھا تو کیا اس کے اختیار میں نہ تھا کہ انھیں معصوم پیدا کرتا۔<br>
ایک بار ساری دنیا کو سوائے آٹھ آدمیوں کے طوفان میں غرق کردیتا ہے اور تمام زمین کو لاشوں سے پاٹ دیتا ہے ، اس کے بعد وہ صرف یہودیوں کو لطف و کرم کا مستحق سمجھتا ہے اور باقی تمام مخلوق کو بغیر کسی سبب کے مردود قرار دیتا ہے، نہ وہ اہل مصر کی طرف متوجہ ہوتا ہے، نہ اہل ایران کی طرف، نہ اسیریوں کو قابل اعتنا خیال کرتا ہے ، نہ یونانیوں کو (حالاں کہ ان سب کا خالق بھی وہی تھا) اور صدیوں تک صرف ایک فرقہ کا خدا بنا رہتا ہے؛ کیوں؟</p>
<p>خدا ایک قوم کو حکم دیتا ہے کہ وہ دوسری قوم سے جنگ کر کے ان کے مردوں ، عورتوں اور بچوں کو ہلاک کرے اور جو زندہ ہاتھ آجائیں ، انھیں لونڈی غلام بنائے۔ اس کے علاوہ وہ ادارئہ غلامی قائم رکھنے کے لیے ان کی خرید و فروخت کی بھی اجازت دیتا ہے۔ بادشاہوں کے جرائم کے عوض میں رعایا کو ہلاک کرنا مناسب سمجھتا ہے اور وہ بغیر کسی وجہ کے اپنے بندوں میں سے کسی ایک جماعت سے خوش ہوجاتا ہے اور دوسرے سے برہم؛ اس کا سبب؟</p>
<p>حقائق عالم کے لحاظ سے صحف مقدسہ نے جو معلومات انسان کے سامنے پیش کی ہیں، ان کا ذکر ہی فضول ہے۔ زمین کا چپٹا و مسطح بتانا، طبقات الارض کا انتہائی درس ہے اور تاروں کو آسمان میں جڑا ہوا ظاہر کرنا فلکیات کا بلند ترین نظریہ۔</p>
<p>صحت و امراض کے متعلق دو نظریے دنیا میں رائج ہیں؛ ایک مذہبی ، دوسرا علمی۔ مذہبی نظریہ یہ ہے کہ بیماریاں ارواح خبیثہ سے پیدا ہوتی ہیں جو جسم انسانی میں حلول کرجاتی ہیں اور ان ارواح خبیثہ کو مذہب کے نفوس مقدسہ ہی دور کرسکتے ہیں۔<br>
جب تک مسیح زندہ رہے، ان کی عمر شیاطین اور ارواح خبیثہ کے دور کرنے میں بسر ہوئی اور بعد کو ان کے مقدس راہبوں نے صدیوں تک یہ خدمت انجام دی، چنانچہ از منہ وسطیٰ میں لاکھوں کروڑوں شیاطین اسی طرح بھگائے جاتے رہے اور امراض کا علاج جھاڑ پھونک ، دعا تعویذ اور گنڈوں سے سے ہوتا رہا۔ امراض کے طبعی اسباب کا کوئی علم نہ تھا۔ مقدس اہل مذاہب دعاؤں کے بہانے سے ہزاروں روپے کماتے تھے (فقیروں کی روزی کا مدار اسی پر ہے)۔</p>
<p>آخر کار جب علم بڑھا تو آہستہ آہستہ امراض کے طبیعی اسباب کا بھی علم ہوا اور ان کے دور کرنے کی طبیعی تدابیر بھی رائج ہوئیں ، چنانچہ اس وقت سوائے جاہل ممالک کے جن میں ہندوستان کا مرتبہ سب سے بلند ہے،جنات یا شیاطین یا ارواح خبیثہ کا عقیدہ بالکل اٹھ گیا ہے اور جب کوئی بیمار ہوتا ہے تو بجائے دعا تعویذ کے علاج کی طرف توجہ کی جاتی ہے ۔</p>
<p>مذاہب عالم اور کتب مقدسہ کے متعلق بھی دو خیال ہیں۔ ایک جماعت (اہل مذہب) کہتی ہے کہ وہ بالکل الہامی ہیں اور انسانی فکر کو ان میں دخل نہیں اور دوسری جماعت کہتی ہے کہ صحف مقدسہ سب انسانوں کے دماغ کا نتیجہ ہیں اور مذہب رونما ہوا ہے صرف اس جذبٔہ خوف سے جو حوادث طبیعی و مظاہر قدرت کو دیکھ دیکھ کر انسان کے دل میں پیدا ہوتا تھا ، چنانچہ دنیا میں کوئی قدیم قوم ایسی نہ تھی جس کا کوئی مذہب نہ رہا ہو اور طاعت و عبادت کو اس نے اپنی حفاظت و نجات کا ذریعہ خیال نہ کیا ہو لیکن رفتہ رفتہ یہ واہمہ پرستی کم ہوتی گئی ، یہاں تک کہ اب ہر ذی فہم انسان جانتا ہے کہ دنیا میں ہر واقعہ کا ایک فطری سبب ہوا کرتا ہے اور قدرت بغیر اس خیال کے کہ انسان کیا چاہتا ہے اور کیا نہیں، اپنے کام میں مصروف ہے۔</p>
<p>اب مفکرین اچھی طرح واقف ہیں کہ دنیا کے تمام مذاہب خود انسانوں نے وضع کیے تھے اور خدا و الہام خداوندی سے انھیں کوئی تعلق نہ تھا ۔ جن کتابوں کو وہ الہامی کہتے ہیں ، وہ بھی انسان ہی کے دماغ کا نتیجہ تھیں اور اسی لیے ہر قوم و زمانہ کے لحاظ سے ان میں مختلف خیالات و تعلیمات پائی جاتی ہیں، نہ خدا کو طاعت و عبادت کی ضرورت ہے اور نہ وہ کسی کی دعا سنتا ہے۔ اہل دنیا پر ہزاروں مرتبہ قحط و وبا، طوفان و سیلاب کی مصیبتیں نازل ہوئیں اور کوئی دعا انھیں دو ر نہ کرسکی، زلزلے آتے رہے، جوالا مکھی آگ برساتے رہے، ہزاروں معصوم نفوس فنا ہوتے رہے اور انسان کی کسی گریہ وزاری نے خدا کو اس ہلاکت باری سے باز نہ رکھا، کھیتیاں سوکھتی رہیں اور انسان کی دعائیں ایک قطرہ پانی کا نہ حاصل کرسکیں، وبائیں پھیلتی رہیں اور خدا کے نام پر لکھے ہوئے تعویذ کسی ایک متنفس کو بھی ہلاکت سے بہ بچا سکے، غلاموں کی پیٹھ کوڑوں سے لہولہان ہوتی رہی ، عورتوں کی عصمت دری کو علی الاعلان جائز رکھا گیا، شیر خوار بچے ماؤں کی آغوش سے چھین چھین کر بازاروں میں فروخت کیے گئے اور ان کی فریاد، آہ و زاری ایک لمحہ کے لیے خدا کو متوجہ نہ کرسکی کہ وہ ظالم بادشاہوں کی حکومت کی بجائے آسمانی بادشاہت قائم کرتا۔</p>
<p>اخلاقیات کے باب میں اہل مذہب کا یہ عقیدہ ہے کہ خدا نے جس فعل سے باز رکھا ہے، وہی برا ہے اور جس کے کرنے کا حکم دیا ہے ، وہ اچھا ہے۔ خود بندہ کو اس کا کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ خود کسی فعل کے مستحسن یا قبیح ہونے پر رائے زنی کرے ، گویا مذہبی انسان کسی اچھے کام کو خود اچھا سمجھ کر انجام نہیں دیتا بلکہ فرمان خداوندی کی تعمیل سمجھ کر اس کو اختیار کرتا اور صرف اس خوف سے کہ مبادا خدا برہم ہوجائے اور اسے عذاب میں مبتلا کرے ۔</p>
<p>تقریباً تمام اہل مذہب کا عقیدہ ہے کہ ایک انسان اچھے اخلاق کا ہو ہی نہیں سکتا جب تک وہ وجود خدا کا قائل نہ ہوا ور اگر کسی میں یہ صفت پائی بھی جائے تو بغیر خدا کو مانے ہوئے وہ بالکل بے کار ہے۔</p>
<p>علمائے اخلاقیات کا نظریہ یہ ہے کہ نیکی و بدی اشیا کی فطرت میں موجود ہے، بعض افعال ایسے ہیں جو انسانی مسرت کا باعث ہوتے ہیں اور بعض آزار و مصائب کا سبب بن جاتے ہیں، چنانچہ اول الذکر افعال کو ہم اخلاق حسنہ کہتے ہیں اور موخر الذکر کو افعال قبیحہ یا معصیت سے تعبیر کرتے ہیں۔</p>
<p>اخلاق انسانی کا تعلق اسی دنیا سے ہے اور یہیں ان کے نتائج دیکھ کر ان کے برے یا اچھے ہونے کا اصول قائم کیا گیا ہے۔ نہ خدا ان سے متاثر ہوتا ہے اور نہ دوسری دنیا میں ان کا محاسبہ کر کے جزا و سزا دینے کی ضرورت۔ چوری کو برا سمجھنے کے لیے کسی الہام کی ضرورت نہ تھی۔ انسان کے تجربہ نے اس کے نقصانات دیکھ کر خود اسے برا قرار دیا، تمام وہ جرائم جو انسان کو جسمانی ، اقتصادی و عمرانی نقصان پہنچاتے ہیں ، ان سے اپنے آپ کو محفوظ رہنے کا احساس ہر شخص میں فطری طور پر پایا جاتا ہے اور یہی وہ احساس تھا جس نے اسے بتایا کہ نیکی کسے کہتے ہیں اور بدی کس کو۔</p>
<p>پھر جو چیز اس لحاظ سے بری ہے، وہ یقینا بری سمجھی جائے گی ، خواہ مذہب کے نزدیک اچھی ہو، واقعات و تاثرات کو کوئی قوت بدل نہیں سکتی جس طرح قدرت ایک مربع کو دائرہ ثابت کرنے سے عاجز ہے، اسی طرح وہ کسی بری بات کو اچھی اور اچھی کو بری نہیں بنا سکتی۔<br>
الغرض اہل مذہب نے جو نظریہ اخلاق قائم کیا ہے،ا س پر ایک انسان کبھی فخر نہیں کرسکتا۔ ایک شخص نیک کام کرتا ہے، صرف اس ڈر سے کہ خدا کا حکم ہے اور اس طمع سے کہ اس کا انعام دوسری دنیا میں ملے گا۔ دوسرا اچھے اخلاق اختیار کرتا ہے صرف اس بنا پر کہ یہ اس کا انسانی فرض ہے اور نیکی آپ اپنی جزا ہے؛ دونوں کے فرق کو ہرشخص بآسانی سمجھ سکتا ہے۔</p>
<p>الغرض اس وقت دو راستے ہمارے سامنے ہیں۔ ایک وہ جو مذہب کی طرف ہم کو لے جاتا ہے اور دوسرا وہ جو عقل کی طرف رہبری کرتا ہے۔ سو اول الذکر کا تجربہ بہت کافی ہوچکا ہے اور ہمیشہ اس کا نتیجہ ایک ہی نکلا ہے۔</p>
<p>فلسطین میں اس کا تجربہ کیا گیا لیکن اہل فلسطین کی مذہبیت ان کو تباہ و برباد ہونے سے نہ بچا سکی، وہ مفتوح و مغلوب ہو کر خارج البلد کی گئی، صدیوں تک امداد خداوندی کا انتظار کرتے رہے اور اس توقع پر زندہ رہے کہ خدا انھیں پھر مجتمع کرے گا۔ ان کی بستیوں، ان کے معبدوں اور قربان گاہوں کو از سر نو تعمیر کرے گا۔ لیکن صدیاں پر صدیاں گذرتی گئیں اور ان کی یہ تمنا پوری نہ ہوئی۔</p>
<p>اس کا تجربہ سوئزلینڈ میں کیا گیا لیکن وہاں بھی سوا غلامی کے اور کوئی نتیجہ بر آمد نہ ہوا۔ ترقی کی تمام راہیں مسدود کردی گئیں اور صرف انھیں لوگوں کو آزادی کے ساتھ بولنے کا حق رہا جو صاحب جاہ و ثروت تھے، عوام سے ان کی معصوم مسرتیں چھین لی گئیں، ان کے لیے ہنسنا ممنوع قرار پایا اور سوائے رنج غلامی کے کچھ نہ ملا۔ ان لوگوں نے اور وظائف، روزہ صلوة، وعظ و پند کو بھی آزما کر دیکھ لیا، لیکن کوئی چیز انھیں مسرت و راحت سے آشنا نہ کرسکی۔</p>
<p>اسکاٹ لینڈ میں بھی مذہب کا تجربہ ہوا اور نتیجہ یہ ہوا کہ خدا کی ماننے والی تمام آبادی کو خوش قسمت لیکن ظالم کرکوں کا غلام بن کر ہنا پڑا۔ پادری ہر خاندان میں گھس جاتے تھے، اور خوف و واہمہ پرستی پھیلا پھیلا کر لوگوں کی عقلیں سلب کررہے تھے، وہ اپنی ہدایات کو الہام ربانی کہتے تھے اور ان سے انحراف کرنے والے عذاب خداوندی کا مستوجب قرار دیتے تھے، پھر اس مذہبی حکومت میں بھی وہی ہوا جو ہونا چاہیے۔ انسان غلام تھا اور غلامی کے ناقابل برداشت بار سے اس کی پیٹھ جھکی جارہی تھی۔</p>
<p>انگلستان میں مذہبی حکومت نے جو گل کھلائے، وہ بھی کسی سے مخفی نہیں۔ اس زمانہ کے قانون ، اس کے زمانہ کے اوہام و تعصبات اس قدر سخت تھے کہ خدا کی پناہ، پادری خدا کے بیٹے بنے ہوئے آسمان و زمین کی ملکیت کا دعویٰ کررہے تھے۔ بہشت و دوزخ کی کنجیاں ان کے ہاتھ میں تھیں اور جس کو جہاں جی چاہتا تھا دھکیل دیتے تھے؛ نہ ان کے دلوں میں رحم تھا، نہ آنکھوں میں مروت۔ ادنیٰ ادنیٰ سی غلطیوں پر خارج البلد کردینا، کوڑے لگوانا اور قید و بند میں ڈال دینا معمولی بات تھی۔</p>
<p>از منٔہ مظلمہ میں مذہبی زندگی کا جو نتیجہ ہوا ، وہ اور زیادہ ہادم انسانیت تھا۔ ہزاروں سولیاں ہر وقت خون سے تر رہتی تھیں اور بے شمار تلواریں انسانی سینے میں پیوست۔ قید خانے کھچا کھچ بھرے رہتے تھے اور سیکڑوں انسان دہکتی ہوئی آگ کے اندر پڑے ہوئے تڑپا کرتے تھے۔ کوئی ظلم ایسا نہ تھا جو خدا کے نام پر روا نہ رکھا گیا ہو اور کوئی معصیت ایسی نہ تھی جس کا ارتکاب مذہب کے پردہ میں نہ ہوتا ہو۔ الغرض یہ تھا مذہبی حکومتوں کا رنگ جو اہل مذہب نے دنیا کے سامنے پیش کیا۔</p>
<p>اب اس کے مقابلے میں اس راستہ کو دیکھو جس کی رہنمائی عقل نے کی ہے، کیسا صاف و ہموار راستہ ہے۔ کیسی کھلی ہوئی فضا ہے، کیسی پر بہار زمین ہے۔ ہر شخص دوسرے کا بوجھ ہلکا کرنے کی فکر میں ہے اور ہر دماغ اس فکر میں کہ بنی نوع انسان کی راحت و مسرت کا سامان بہم پہنچائے۔ نہ وہاں سولیاں ہیں، نہ قید خانے، نہ جہنم کے اژدہے ہیں نہ فرشتوں کے کوڑے ۔ قدرت کی وسیع فضا ہے جس سے ہر شخص یکساں فائدہ اٹھا رہا ہے۔ عقل و فراست کا ایک آفتا ہے جو سب کے برابر مستغیض کرنا چاہتا ہے۔ انسانیت کی بیڑیاں کٹ چکی ہیں، غلامی کا داغ اشرف المخلوقات کی پیشانی سے ہٹ چکا ہے، ذہنی آزادی نے مختلف قسم کے چمن کھلا رکھے ہیں اور ہر فرد دوسرے سے ہم آغوش و بغلگیر نظر آتا ہے۔</p>
<p>جس وقت میں تاریک ماضی کی طرف دیکھتا ہوں تو میرا ریشہ ریشہ کانپ اٹھتا ہے ۔ سب سے پہلے مجھے وہ تنگ و تاریک غار نظر آتے ہیں جہاں مقدس اژدہے کنڈلیاں مارے ہوئے قربانیوں کا انتظار کررہے ہیں۔ ان کے جبڑے کھلے ہوئے ہیں۔ ان کی زبانیں باہر نکلی ہوئی ہیں۔ آنکھیں چمک رہی ہیں اور زہریلے دانت خون آلود ہیں۔ جاہل ماں باپ اپنے معصوم بچوں کو اس افعی دیوتا کے حضور میں پیش کرتے ہیں، وہ اس چیختے تڑپتے ہوئے بچہ کو اپنے بل میں لپیٹ کر پیس ڈالتا ہے اور بے رحم والدین اس ہدیہ کے قبول ہونے پر خوش خوش واپس جاتے ہیں۔ اس کے بعد مجھے وہ عبادت گاہیں نظر آتی ہیں جن کو بڑے بڑے پتھروں سے تیار کیا گیا ہے لیکن یہاں ان کی قربان گاہیں بھی خون سے رنگین ہیں اور مقدس پجاریوں کے خنجر معصوم لڑکیوں کے سینوں میں یہاں بھی پیوست نظر آتے ہیں۔ اس کے بعد کچھ اور معبد سامنے آتے ہیں جہاں مقدس آگ کی روشنی کو انسانی گوشت و خون سے قائم رکھا جاتا ہے ، پھر چند عبادت گاہیں اور دکھائی دیتی ہیں جن کی قربان گاہیں بیلوں اور بھیڑوں کے خون سے تر ہیں ، اس کے بعد مجھے کچھ اور معبد، کچھ اور پجاری ، کچھ اور قربان گاہیں نظر آتی ہیں جہاں انسانی آزادی کی بھینٹ چڑھائی جاتی ہے۔ خدا کے معبد تو نہایت عظیم الشان ہیں لیکن کسانوں کے پاس جھونپڑا تک نہیں۔ پجاریوں اور بادشاہوں کے جسم زرکار عباؤں سے آراستہ ہیں لیکن رعایا کے پاس جسم ڈھانکنے کو بوسیدہ سا چیتھڑا بھی نہیں۔ اور کیا دیکھتا ہوں، یہ کہ قید خانے انسانوں سے بھرے ہوئے ہیں، خارج البلد خانماں برباد بوڑھے، بچے، عورتیں پہاڑوں اور صحراؤں میں سر ٹکرا رہی ہیں۔ آفات تعذیب حرکت میں آر ہے ہیں اور لاکھوں انسانوں کی چیخ سے خانقاہیں گونج رہی ہیں۔ اف، وہ تاریک قید خانے، وہ زنجیر کی جھنکار، وہ آگ کے بلند شعلے، وہ جھلسے ہوئے سیاہ چہرے، وہ اینٹھتے ہوئے اعضا، وہ شکنجوں میں کسے ہوئے ہزاروں معصوم انسان اور وہ ان رگوں کے ٹوٹنے کی آوازیں۔ اس کے بعد جو میری گناہ اٹھتی ہے تو افق میں مجھے ایک نئی روشنی نظر آتی ہے۔ انسانی جسموں کے راکھ کے ڈھیر سے ایک نیا آفتاب طلوع کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے یعنی عقل و مذہب آزادی، اب غلامی کی زنجیریں آہستہ آہستہ ٹوٹ رہی ہیں۔ قربان گاہیں فنا ہوتی جاتی ہیں، عبادت گاہیں مسمار ہورہی ہیں۔ زبان کی بندشیں اٹھتی جاتی ہیں اور ذہن و عقل کے قفل ٹوٹتے جارہے ہیں۔ اب میں پھر دیکھتا ہوں لیکن ماضی کی طرف نہیں بلکہ مستقبل کی طرف اور فرط مسرت سے اچھل پڑتا ہوں۔ اس وقت مجھے کیا کیا نظر آتا ہے، یہ کہ پجاری اور بادشاہ ختم ہوچکے ہیں۔ قربان گاہیں اور تخت و تاج خاک میں مل چکے ہیں۔ امارتیں نیست و نابود ہوچکی ہیں اور تمام دیوتا مفقود۔ ان کی جگہ ایک نیا مذہب رونما ہوا ہے، جس کا نام آزادیٔ ضمیر ہے اور ایک نئی سلطنت قائم ہوئی ہے جس کی ملکہ حریت فکر و رائے اور جس کی رعایا اخوت عامہ ہے۔ ہر جگہ امن و سکون ہے، اور ہر شخص مطمئن ، نہ کوئی قید خانہ ہے نہ بیمارستان، نہ عدالت گاہیں ہیں نہ جرم و معاصی کی داستان۔ ایک ایسی دنیا ہے جہاں سوا صداقت کے کسی چیز کا گذر نہیں۔ سوا حسن و جمال کے کوئی شے پیش نظر نہیں۔ جدھر دیکھو نور کی بارش ہے اور انسانی دماغ کی کھیتیاں لہلہا رہی ہیں۔ عقبیٰ کا خوف دنیا کی مسرتوں میں تبدیل ہوچکا ہے اور خدا کا ڈر انسانیت کے محبت میں۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">مذہب کا مستقبل</div>
<p>اس وقت دنیا مذہب کی طرف سے کافی بدگمان ہوچکی ہے اور اس کا مستقبل بہت تاریک نظر آتا ہے لیکن یہ خیال کرنا کہ یہ مغرب کے اسی عہد کی برکت ہے، درست نہیں۔ مذہب کی طرف سے انحراف کب اور کیوں کر شروع ہوا، اس کا سراغ لگانے کے لیے ہم کو یورپ کی ذہنی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔</p>
<p>اس دور میں جس کو ہم دور نشاة ثانیہ یا یورپ میں تہذیب و تمدن کی دوبارہ پیدائش کے نام سے یاد کرتے ہیں، زندگی کے مختلف مسائل پر بحث کرنا ایک عام تفریح ہوگئی تھی۔ اس زمانہ میں، علمی تحقیق و تجسس کا وہ جوش وولولہ پایا جاتا تھا جو یورپ میں روم کی قیصریت کے فنا ہونے کے بعد پھر کبھی نہیں دیکھا گیا۔ لوگوں کو اس وقت یہ پتہ چلا کہ دنیا میں ایسے بھی مسائل پائے جاتے ہیں جن کا نہ انجیل میں تذکرہ ہے اور نہ جن کے متعلق پادریوں کی زبانیں کھلتی ہیں، چنانچہ ایسے ہی مسائل زندگی پر لوگ اکثر آپس میں بحث کیا کرتے تھے۔ اس چیز کی ابتدا سب سے پہلے اٹلی میں ہوئی اور پھر یہ مباحث انگلستان اور فرانس تک پھیل گئے۔</p>
<p>اٹلی کا ایک مشہور اور سابق پادری گیارڈ نو برونو (Giordano Bruno) جب تک قتل ہونے سے محفوظ رہا، برابر پادریوں اور ان کی مہمل تعلیمات پر اعتراض کرتا رہا اور پھر اس نے لندن کو اپنا مستقل قیام گاہ بنا لیا۔ یہاں اس نے اور سر فلپ سڈنی نے (جسے انگلستان میں ایک ”بے داغ ہستی“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے) مفکرین کا ایک ایسا حلقہ بنا لیا جو انسان اور کائنات پر بحث کیا کرتا تھا۔</p>
<p>چونکہ اس دور کے اکثر افراد ملحدانہ خیالات کے بھی حامل تھے، اس لیے وہ مذہب کے مستقبل پر بھی بحث کیا کرتے تھے، ان میں سے مشہور ڈراما نویس کرسٹو فر مارلو اور ملکہ الزبتھ کا مشہور درباری سر والٹر ریلے ایک قسم کاکلب بنائے ہوئے تھے جہاں مذہب کے مستقبل پر انتقاد و تبصرہ ہوا کرتا تھا۔ ان میں سے اکثر لوگوں کو یہ یقین ہوگیا تھا کہ مذہب عیسوی باطل ہے، کیوں کہ علمی و تاریخی تحقیقات عیسویت کے افسانوں کو جھٹلارہی تھیں، جہاز راں ایسے ممالک دریافت کررہے تھے جو کبھی عیسیٰ کے خوب میں بھی نہ آئے تھے۔ منجم کائنات کے بارے میں ایسے انکشافات کررہے تھے جو عقل انسانی کی محدود چہاردیواری کی بنیادوں کو متزلزل کیے دے رہے تھے۔</p>
<p>لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی واقعہ ہے کہ وہ تحقیق و جستجو صرف ان لوگوں تک محدود تھی جن کے پاس فرصت تھی، دولت تھی اور جو تمام دنیاوی علائق سے بے نیاز ہو کر اپنا سارا وقت اسی قسم کی تحقیق و تجسس میں صرف کرتے، ورنہ قوم کے زیادہ افراد جاہل تھے، وہ مطلق نہیں جانتے تھے کہ تحقیق جدید کیا ہے اور جب کسی بے دین یا ملحد کو زندہ جلتے ہوئے دیکھتے تھے، تو خوش ہوتے تھے، بالفرض تعلیم یافتہ لوگ تو مذہب کو ناپسند کرتے تھے اور اس کے اصول سے انھیں اختلاف تھا لیکن قومی مصالح کی خاطر انھیں اپنے مذہب پر قائم رہنا پڑتا تھا۔</p>
<p>مگر ان تمام مباحث کے دوران ایک چیز کا فقدان تھا ور وہ ارتقا کا خیال تھا ۔ کسی کو یہ تصور بھی نہیں تھا نظام معاشرت کسی وقت بدل جائے گا ، حتیٰ کہ جب سر ٹامس مور نے اپنی مشہور کتاب ”یو ٹوپیا“ لکھی تو بھی اسے ”باغی“ نہیں سمجھا گیا، کیوں کہ اس کتاب کے تجویز کردہ نظام معاشرت کے قوانین بالکل بعید از قیاس سمجھے گئے، حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ اس نے انگریزی میں وہی چیز لکھی تھی جو اٹھارہ صدی قبل یونانی زبان میں افلاطون لکھ گیا تھا۔ تہذیب جدید کے نئے قوانین لوح آسمان پر لکھے جاچکے تھے مگر انسان کی آنکھیں اتنی ضعیف تھین کہ وہ انھیں نہیں دیکھ پاتی تھیں اور اوہام پرستی کی پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔</p>
<p>لیکن اب ہماری نگاہوں میں زیادہ بصیرت پیدا ہوگئی ہے اور ہم ان مسائل کو ایسی صداقت کے معیار پر پرکھتے ہیں جس سے پہلے لاعلم تھے، اب ”قانون وقت“ یا ”حقیقت“ لفظ ”ترقی“ (Progress) میں مضمر ہے۔</p>
<p>اگر واقعی نظام اشیا کا کوئی قانون ابدی ہوسکتا ہے تو صرف یہ کہ ایک نظام کو دوسرے نظام میں تبدیل ہونا پڑے گا جیسے رات دن میں تبدیل ہوتی ہے۔ بہار خزاں سے بدلتی ہے اور بچپن جوانی سے بدل جاتا ہے۔ ابھی تک ہم اپنے ”بزرگوں کی عقل“ کی مثالیں پیش کیا کرتے تھے مگر موجودہ زمانہ میں اس فقرہ کو جو استعمال کرے، اسے بالکل احمق سمجھنا چاہیے۔ ہمارے آبا و اجداد نہ ہوائی جہاز بنا سکتے تھے ، نہ ریل چلا سکتے اور نہ موٹر؛ تو پھر ہم انھیں اپنے سے زیادہ عقل مند کیوں تسلیم کریں؟</p>
<p>بہرحال مذہب کو بھی بدلنا ہے اور نصف سے زیادہ دنیا اس کو تسلیم کرچکی ہے، وہ لوگ جن میں غور کرنے کی استعداد و صلاحیت موجود ہے اور ہمارے زمانے کے وہ تعلیم یافتہ مرد و خواتین جن کو پڑھنے اور تصویر کے دونوں رخ دیکھنے کا موقع ملتا ہے، ان میں سے اکثریت کو اس امر کا یقین ہوچکا ہے کہ مذہب مٹ جائے گا۔ اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ انسانی آرا کی دوسری منزل کیا ہوگی؟</p>
<p>وہ پیشین گوئیاں جو ادبیات کی کتابوں میں بھری پڑی ہیں، قابل تسلیم نہیں۔ اٹھارویں صدی کے آغاز میں بالمیز (Balmes) نے کہا تھا کہ پروٹسٹنٹ تہذیب (جرمنی ،ہالینڈ وغیرہ) ختم ہو رہی ہے، دنیا کے لیے پروٹسٹنٹ مصلحین کا پیغام بے اثر ثابت ہوا ہے اور کیتھولک سلطنتیں مثلاً فرانس، اسپین، پرتگال، آسٹریا وغیرہ دراصل دنیا کی حکمراں بن رہی ہیں مگر اس پیشین گوئی کے نصف صدی بعد یہ دیکھا گیا کہ کیتھولک ممالک تنزل پذیر ہیں ، یا یہ کہ وہ اپنے سابقہ مذہب کو ترک کرچکے ہیں۔ عوام نے یہاں تک کہنا شروع کردیا کہ پیس ثانی (Pius II) آخری پاپائے رومہ ہے، اس کے نصف صدی بعد لارڈ میکالے نے لکھا کہ پاپائے روم کا جھنڈا اڑتا ہی رہے گا۔ آج سے بیس برس قبل ایک پیشین گوئی یہ کی گئی کہ کیتھولک مذہب سب سے پہلے نیست و نابود ہوگا۔ اس کے بعد ایچ۔جی۔ولس نے یہ کہا کہ آج سے ایک ہزار برس کے بعد جدید شہروں میں بھی پیادہ پا راہب چلتے ہوئے دکھائی پڑیں گے۔</p>
<p>لہٰذا اس قسم کی پیشین گوئیوں کو سچا تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ گذشتہ عہد کی پیشین گوئیاں سیاسی یا فوجی نقل و حرکات اور تحریکات کی وجہ سے غلط ثابت ہوچکی ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے اب جو پیشین گوئی کی جائے ، وہ بھی غلط ثابت نہ ہو۔ مذہب کے بارے میں آج یہی نظریہ ٹوکیو میں بھی پایا جاتا ہے اور پیکنگ میں بھی، بمبئی میں بھی اور قاہرہ میں بھی، قسطنطنیہ میں بھی اور میکسیکو میں بھی۔</p>
<p>غرضیکہ مقامی حالات کچھ ہوں، اقوام عالم ان مسائل پر اس وقت تک رائے زنی کرتی رہیں گی جب تک ان کا منطقی حل نہ معلوم ہوجائے مگر یہ بھی واقعہ ہے کہ اس منطقی حل کو معلوم کرنے کے شرائط ہر دس برس کے بعد بدل جاتے ہیں اور ان میں سب سے بڑی شرط ”علم“ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہر عہد میں ایک الحاد پسند قلیل اقلیت یونان، روم، قرطبہ، فلورنس اور تقریباً ہر مقام پر پائی گئی اور آخر میں اقلیت کا خاتمہ ہوگیا لیکن یہ نتیجہ تھا اس امر کا کہ ”کلچر“ صرف اعلیٰ طبقوں تک محدود تھا اور اب یہ ”کلچر“ جمہوری ہے۔ آج۵۰ کروڑ انسان پڑھ سکتے ہیں اور ۵۰ برس کے بعد ان کی تعداد دو چند ہوجائے گی۔</p>
<p>پھر یہ تو درست ہے کہ دنیا ہمیشہ مذہب کے بارے میں بحث کرتی رہے گی لیکن یہی کیوں فرض کر لیا جائے کہ ان مباحث کا منطقی نتیجہ الحاد و بے دینی کی صورت میں ظاہر ہوگا اور یہ کہ کیا یہ چیز ان پیشین گوئی کرنے والوں کا رسمی ”فریب“ (Fallacy) نہیں ہے۔</p>
<p>ہر پیشین گوئی کی سب سے بڑی کمزوری پیشین گوئی کی خودسری ہے، وہ اپنے آپ کو اتنا عقل مند تصور کرلیتا ہے کہ جو کچھ اس کے خیالات ہیں، آنے والی نسل ان کو بے چون و چرا قبول کرلے گی، خصوصاً سیاسی و اقتصادی نظریات کی دنیا میں کہ کتابوں اور واعظوں کے لکچروں کو جب کوئی شخص دیکھتا اور سنتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ کیتھولک کو یہ یقین رہتا ہے کہ ساری دنیا اسی کی ہم خیال بن جائے گی، موحد کا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ وقت آنے والا ہے جب وحدانیت تمام عالم کا ایمان بن جائے گا لیکن جب جارج برنارڈ شا آتا ہے تو وہ ان سب خیالات کو ٹھکرا کر ایک نئی بات کہتا ہے کہ مستقبل کا مذہب کیا ہوگا؟</p>
<p>الغرض ان معاملات میں صورت حال یکساں ہوتی ہے، پیشین گو کے دلائل بہت سادہ ہوتے ہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ حقیقت و صداقت سے میں ہی آشنا ہوں اور چونکہ تمام دنیا میری ہی طرح صداقت پرست ہونے والی ہے، لہٰذا میری بتائی ہوئی صداقت کو ضرور تسلیم کیا جائے گا۔<br>
مگر اپنے نظریہ کو اس طرح نہیں ثابت کرنا چاہتا ہوں۔ میرا خیال یہ ہے کہ مذہب اپنی ہر شکل میں ایک دھوکا ہے، ایک وہم ہے اور میرا عقیدہ یہ ہے کہ انسانی زندگی اور انسانی فطرت کے پاس وہ ذرائع و اختیارات موجود ہیں جن کو مذاہب عالم نے ہم میں بڑھنے سے روکا ہے اور جب یہ تمام مظالم اور تمام دھوکے ختم ہوجائیں گے اور جب انسان کو اپنی صحیح طاقت کا اندازہ ہوجائے گا تو ایک ایسا نظام تیار ہوگا جو موجودہ نظام سے کہیں زیادہ خوشگوار اور دلکش ہوگا۔</p>
<p>میں یہ اس وجہ سے نہیں کہتا کہ میرا یہ عقیدہ مجھے اصل ”صداقت“ یا حقیقت معلوم ہوتا ہے بلکہ میں یہ اس واسطے کہتا ہوں کہ دنیا اسی سمت جارہی ہے، آگے چل کر میں ”مذہب“ کی داستان مختصر الفاظ میں بیان کروں گا۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">تجربٔہ سابق</div>
<p>مذہب کی داستان کئی ہزار برس کی پرانی داستان ہے اور مذہب کی ابتدا تلاش کرنے کے لیے ہم کو ”عہد حجری“ سے بھی قدیم تر زمانہ کی طرف نظر دوڑانی پڑتی ہے لیکن یہان کسی مدت پر بحث کرنا مقصود نہیں بلکہ مدعا صرف یہ کہنا ہے کہ اپنے ابتدائی دور ہی سے مذہبی خیالات میں تدریجی ارتقا ہوتا رہا ہے۔ اس ارتقا میں کوئی تحریک جذبات نہ شامل تھی بلکہ تفکر و واقعات کا ایک منطقی تسلسل تھا یا جیسا کہ اعتدال پسند مذہبی لوگ کہتے ہیں، یہ ارتقا کسی بیرونی قوت کی طرف سے کوئی ”الہام“ نہیں ہے اور اقوام عالم کی معیار عقل کے مطابق خدا نے اپنے آپ کو مختلف شکلوں میں ظاہر کیا ہے لیکن واقعات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مذہب پہلے ایک مضرت رساں خیال تھا اور رفتہ رفتہ وہ بدتر ہوتا گیا۔</p>
<p>اگر تمام نسل انسانی برابر رفتار سے چلتی تو آج ہم مذہب کی ابتدا اور اس کے ارتقا کے بارے میں کچھ نہ جانتے ہوتے مگر انسان نے اپنے تجربات صرف پانچ چھ ہزار برس پیشتر سے محفوظ رکھنا شروع کیے، یہاں تک کہ فرضی داستانیں (Legends) بھی بہت پرانی نہیں ہیں لیکن انسانوں کی یہ داستان ہر واقعہ سے اتنا متاثر ہوئی ہے کہ نسل انسانی کے مختلف حصوں نے عام ارتقا میں ہر منزل پر ترقی نہیں کی۔ بہرحال آج ہم دو انسانی سلسلے (Series) شمار کراسکتے ہیں۔ ایک تو ان قبل تاریخ (Pre-Historic) قوموں کا سلسلہ جو لاکھوں برس پہلے گذررہی ہیں۔ دوسرے وحشیوں کا زمانہ، یہ دونوں مدتیں تقریباً یکساں ہیں، کیوں کہ دونوں زمانہ قبل تاریخ میں گذری ہیں، اور ان قوموں کے خیالات سے تفکر انسانی کے ارتقا کے گذشتہ منازل ہم کو معلوم ہوسکتے ہیں ، اس کے بعد تہذیب قدیم کے مذہب کا پرانی عمارتوں سے پتہ چلتا ہے اور پھر ادبیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مذہب کے بارے میں لوگوں کے کیا خیالات تھے۔ ادب سے گذشتہ تین ہزار برس قبل کے مذہبی ارتقا کا حال معلوم ہوتا ہے جو مختلف مذہبی مرکزوں مثلاً چین، ہندوستان، ایران، یونان، روم اور مصر وغیرہ میں عیسائیت کے قبل پایا جاتا تھا اور جو سبق اس سے ہم کو ملتا ہے، وہ اس کے بالکل مطابق ہے جو اس وقت سے اس وقت تک ہوتا رہا اور اب بھی ہورہا ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ ہر قسم کی آب و ہوا اور ہر قسم کی اقتصادی حالت میں مذہب کا ارتقا اتنا یک رنگ و یکساں رہا ہے کہ خود ایک مذہبی آدمی اس کا مستقبل دیکھ سکتا ہے۔ جن واقعات نے انسانی ترقی کو (ایسے ممالک میں جہاں ترقی کے وسائل تھے) روک دیا، وہ لڑائیاں یا ایسی غلطیاں تھیں جو ہمیشہ تہذیب کو مٹاتی رہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ الحاد اسی زمانہ میں پھیلا جب تہذیب اپنے انتہائی عروج پر ہوئی اور جب تخریبی قوتوں نے علم کو مٹادیا اور جہالت کا دور دورہ ہوا تو الحاد کا بھی خاتمہ ہوگیا ۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب علم کی ترقی ہوتی ہے تو مذہب کی بنیادیں کمزور ہوجاتی ہیں اور جو تہذیب مٹنے لگتی ہے تو اس میں پھر قوت آجاتی ہے۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">مذہب اور فطرت انسانی</div>
<p>میری رائے میں مذہب کی ابتدا کا حال بالکل ایسا ہے جیسے پرانے زمانے کے حبشی کا تصور اپنے سایہ کے بارے میں، میں نے دیکھا ہے کہ اگر کسی کتے کی عمر میں پہلی بار ژالہ باری سے سابقہ پڑے تو وہ بے انتہا حیرت زدہ ہوجاتا ہے یا گر کوئی بلی پہلی مرتبہ کسی کچھوے کو رینگتے ہوئے دیکھتی ہے تو وہ بہت متعجب ہوجاتی ہے ۔ اسی طرح زمانٔہ قدیم کے انسان میں ممکن ہے ایسے ردعمل ہوتے ہوں مگر ان کا مذہب سے اس وقت تک کوئی تعلق نہیں ہوا جب تک وہ یہ خیال کرنے لگا کہ جو چیز ان کا باعث ہے، وہ ایک غیبی طاقت ہے۔</p>
<p>اسی طرح یہ نظریہ بھی غلط ہے کہ انسان نے پہلے ایک مبہم طاقت کا تصور کیا اور پھر یہی چیز شخصی روحوں (Souls) میں تبدیل ہوگئی۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ روح کا سب سے پرانا نام ”سایہ“ (Shadow) ہے اور جب ہم اپنے آپ کو ایک قدیم وحشی کی جگہ دیکھتے ہیں تو ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ غالباً سایہ کا حیرت انگیز وجود پر غوروفکر پہلی چیز تھی جس نے قدیم انسان کے دماغ میں تصور کی جھلک پیدا کی۔ اب سے سو برس قبل جب مشنریوں اور سیاحوں نے وحشیوں کے خیالات کا ریکارڈ رکھنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ ان میں سے کسی کے خیالات اخلاق پر مبنی نہیں ہیں اور بعض کے تو مذہبی خیالات بھی نہیں، بعض ”ہمزاد“ یا ”سایہ“ پر یقین کرتے ہیں اور بعض انسان کے ”دوسرے حصے“ پر جو موت کے بعد بھی زندہ رہتا ہے، کامل اعتقاد رکھتا ہے۔</p>
<p>دوسری منزل یا حیات بعد الموت کا خیال بھی تمام دنیا میں متوازی نظر آتا ہے، یعنی کہ مردوں کی روحیں زندہ رہتی ہیں اور ان کی سرگرمیاں زیادہ بڑھ جاتی ہیں ، نیز یہ کہ ارواح بہت رنجیدہ اور خشک مزاج ہوتی ہیں ، گویا زندگی ترک کرنے سے ان کو تکلیف پہنچی ہے ، اس کا اظہار وہ خشونت سے کرتی ہیں یا یہ کہ چونکہ اب وہ کسی کو نظر نہیں آتیں، اس لیے وہ ایسے کام کرنے لگتی ہیں جو پہلے گوشت پوست کی زندگی میں راز کھل جانے کے ڈر سے نہ کرسکتی تھیں۔ بہرحال وجہ کچھ بھی ہو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مذہب نے ایک وحشی کی زندگی کو کچھ عرصہ بعد تکلیف دہ بنانا شروع کردیا تھا۔ ان ارواح کو تمام بیماریوں اور مصیبتوں کا ذمہ دار سمجھا جانے لگا اور چونکہ ہر آدمی کے مرنے کے بعد ایک خبیث روح بڑھتی ہے، لہٰذا انسانی آبادیاں انھیں ارواح سے معمور نظر آنے لگیں۔ بعد کو وہ زمانہ آیا جب ان ارواح کے لیے خاص جگہیں (مثلاً آسمان یا زمین) میں مقرر کردی گئیں، ان میں سے بعض ایسی بھی سمجھی جانے لگیں جو آدمیوں کی مدد کرتی ہیں لیکن عام نظریہ یہی تھا کہ وہ عموماً شر ہوتی ہیں۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">مذہبی ”مقدسین “ کا ظہور</div>
<p>مذہب کے اس ابتدائی دور میں زیادہ اظہار خیال کی حالت میں گریز کرے گا، جب کہ وہ عیسائی مذہب کو نہیں پسند کرتا۔ ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ وہ خدا پر ایمان رکھتا ہے اور دوسرا کہہ سکتا ہے کہ اس کا خدا پر کوئی اعتقاد نہیں مگر پھر بھی ایک عالمگیر قوت کا دونوں کو احساس ہوسکتا ہے۔ ایک آدمی مختلف علوم کا ماہر ہوسکتا ہے مگر اس کا بھی امکان ہے کہ اس نے مذہب پر کبھی غور نہ کیا ہو۔<br>
بہرحال یہ طے شدہ امر ہے کہ مذہب بحیثیت ایک مجموعٔہ عقائد کے تعلیم یافتہ طبقہ سے اپنا اثر زائل کرتا جارہا ہے اور چونکہ آج تعلیم عام ہوچلی ہے، اس لیے یہ بھی صحیح ہے کہ گویا عوام پر سے اس کا اثر زائل ہورہا ہے، یہ مسئلہ مذہب میں اصلاح کرنے کا نہیں ہے، کیوں کہ اگر اس نظریہ کو مان لیا جائے تو پیغمبروں پر حرف آتا ہے ، نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اصول مذہب سے انکار کر کے صرف اخلاقیات کو مانا جائے ، کیوں کہ اس نظریہ کو ایک قلیل اقلیت کے علاوہ اور کوئی نہ تسلیم کرے گا ۔ اور ان سب کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مذہب کا زوال یقینی ہے۔<br>
اسی کے ساتھ واقعات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ خدا پرستی کا زوال بھی لازمی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ گذشتہ پچاس برس سے وحدانیت کس طرح اپنی جگہ پر قائم ہے اور الحاد کتنا پھیل رہا ہے ، لہٰذا اب جب کہ علم عام ہورہا ہے ، مستقبل کا حال ظاہر ہے۔ خدا کے خیال کو ، خواہ کتنا ہی پاکیزہ کیوں نہ بنایا جائے، مگر اب وہ باقی نہیں رہ سکتا۔</p>
<p>گذشتہ نصف صدی میں کئی مذاہب پیدا ہوئے اور ان کے معتقدین کی تعداد بڑھانے کی کوشش کی گئی مگر پھر بھی ان کے پیروؤں کی تعداد میں بیس لاکھ سے زیادہ اضافہ نہیں ہوا۔ حالاں کہ ۲۰ کروڑ آدمی ایسے ہوگئے ہیں جو مذہب سے بالکل بے پروا ہیں، در آنحالیکہ ہمارے نصاب تعلیم میں مذہب پر خاص زور دیا جاتا ہے، بہرحال مذہب کا خاتمہ اب کچھ مدت کی بات ہے۔ اس کے ساتھ ہی ذرا صور ت حال پر نظر ڈالیے کہ (صرف عیسائی) ممالک میں مبلغین مذہب کی تعداد تقریباً پانچ لاکھ ہے اور ان کے مقابلے میں بے دینی پھیلانے والے ۵۰۰ کے تناسب سے زیادہ نہیں، اس پر طرہ یہ کہ مذہب کی طرف سے کروڑوں روپیہ بھی ہر سال خرچ ہوتا ہے ، کیا اس حالت پر غور کرنے کے بعد بھی مذہب کے مستقبل کے متعلق کوئی شک باقی رہ جاتا ہے۔ تعلیم یافتہ ممالک میں تو مذہب تقریباً ختم ہوگیا ہے ، البتہ جاہل ملکوں میں اکثریت مذہب کی پابند ہے مگر وہ بھی اس وقت تک اسے مانتی رہے گی جب تک وہاں تعلیم عام نہیں ہوتی، بہرحال کچھ بھی ہو اس صدی کے آخر میں اگر کہیں مذہب قائم بھی رہا تو وہ انتہائی نفرت خیز چیز ہوگی۔</p>
<p>یاد رکھیے کہ مذہب کا خاتمہ وہ مبارک گھڑی ہوگی جب ہم مردہ انسانوں سے مدد مانگنے کے بجائے اپنی عقل سے امداد کے طالب ہوں گے اور ہم میں ایک ایسی زندگی پیدا ہوجائے گی جو تمام زندگیوں سے لطیف تر، خوش گوار تر اور مرغوب تر ہوگی۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">روایت و معجزہ کی حقیقت</div>
<p>زندگی کا صحیح مقصد حصول مسرت ہے اور ذہن انسانی مجبور ہے کہ وہ مسرت کے واقعی اسباب و شرائط معلوم کرے۔ واضح رہے کہ مسرت سے مراد میری صر ف کھانا پینا نہیں، محض جسمانی راحت و آسائش نہیں بلکہ بلند قسم کی وہ مسرت ہے جو ادائے فرائض کے بعد حاصل ہوتی ہے، جو لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنے کے بعد محسوس ہوتی ہے جو فطرت کے مطالعہ اور حسن مجرد کے احساس سے پیدا ہوتی ہے اور جو آزادیٔ ذہن و ضمیر کی پیداوار ہے۔</p>
<p>لیکن آپ دیکھیں گے کہ دنیا میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو مسرت کی خواہش کو ٹھکراتا ہے جو حریت فکر و رائے کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور جس نے عقل انسانی کو شل کردینا ہی اپنی مقصود زندگی قرار دے رکھا ہے، یہ گروہ اپنے آپ کو اہل مذہب اور روحانیت پرست کہتا ہے۔ یہ گروہ وہ ہے جو احساسات مسرت کو وسوسٔہ شیطانی کہتا ہے، یہ اس دنیا کی زندگی سے نفرت کرتا ہے اور اس کی تمام خواہشات کا تعلق کسی دوسری دنیا سے ہے ، جس کا اصطلاحی نام اس نے ”حیات بعدالموت“ رکھا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ خدا نے اس کو اپنی ”تسبیح و تہلیل“ کے لیے منتخب کرلیا ہے، پیام ربانی کے لیے اس کی زبان مخصوص ہے اور صداقت و حقیقت کا نام ہے صرف اس چیز کا جو اس کے دل و دماغ سے پیدا ہو۔</p>
<p>اس جماعت نے ہمیشہ عقل و علم سے دشمنی کی، ”ذہن انسانی“ کو اس نے ہمیشہ کند رکھنا چاہا اور اس نے علم و یقین کا ماخذ ہمیشہ غیر فطری کرامات و معجزات کو قرار دیا ہے، اس لیے دنیا میں صرف نفرت، تعصب اور خوف کی اشاعت کی۔ اس نے مفکرین کو ہمیشہ اپنا دشمن سمجھا ، اس نے محنت و عمل سے ہمیشہ جی چرایا اور اسی کو برگزیدہ قوم سمجھا جس کے لیے غیب سے من و سلویٰ نازل ہوسکتا ہے۔</p>
<p>یہ جماعت اپنا ایک لٹریچر بھی رکھتی ہے جسے مختلف ناموں سے مختلف قوموں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور اس لٹریچر میں وہ سب کچھ ہے جسے عقل انسانی کبھی تسلیم نہیں کرسکتی۔ اس میں تخلیق کائنات کا بھی ذکر ہے اور آفرنیش انسان کا بھی۔ اس میں تاریخ قدیم کے ٹکڑے بھی نظر آتے ہیں اور اخلاق کے درس بھی لیکن بایں ہمہ یہ محض روایت و داستان ہے جس کو حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں یا پھر ان ہدایات کا مجموعہ ہے جو محض تعصب و تنگ نظری کی پیداوار ہیں۔</p>
<p>انھوں نے ہمیشہ خدا کا ڈر دکھا کر اپنا اثر قائم کیا۔ انھوں نے ہمیشہ دنیا کو یہی یقین دلایا کہ اگر ان کی دعائیں شامل حال نہ ہوں تو بارش بند ہوجائے۔ کھیتیاں برباد ہوجائیں، دنیا قحط و وبا سے فنا ہوجائے اور جب کبھی کوئی مصیبت نوع انسانی پر نازل تو انھوں نے اس کو اپنی ہی بددعاؤں کا نتیجہ بتایا۔ پھر انھوں نے صرف یہی نہیں کیا بلکہ جب کبھی انھیں اقتدار حاصل ہوا؛ علم کو روندا گیا۔ عقل پامال کی گئی ، آزادی کو مٹایا گیا۔ مفکرین عالم کو قید میں ڈالا گیا۔ ارباب فضل و کمال کو ذبح کیا گیا اورخدا کے نام پر وہ سب کچھ کیا گیا جسے شیطان بھی گوارا نہ کرسکتا تھا۔</p>
<p>لیکن مذاہب کا ظہور، مذہبی کتابوں کی پیداوار، خانقاہوں کی تعمیر اور اہل خانقاہ کا وجود، کوئی غیر فطری بات نہ تھی، بلکہ عہد وحشت کے غاروں سے لے کر موجودہ دور تہذیب تک انسان نے جو تدریجی ترقی کی ہے، اسی کے یہ لازمی مظاہر تھے۔ دنیا کی تاریخ میں اتفاق کوئی چیز نہیں ہے، نہ اس میں معجزہ و خرق عادات کو کوئی دخل ہے اور نہ غیبی مداخلت کو ہر شے اور ہر حالت و اقعات سے پیدا ہوتی ہے، اس لیے اگر ہمارے اسلاف کے دلوں میں مذہب و روحانیت کا خیال پیدا ہوا تو وہ بالکل فطری خیال تھا، کیوں کہ ان کی عقل زیادہ سے زیادہ یہیں تک پہنچ سکتی تھی اور وہ اس کو سچ سمجھ کر پیش کرتے تھے۔</p>
<p>تمام زمانوں میں انسان نے اپنے اور اپنے ماحول کے سمجھنے کی کوشش کی ہے، وہ دیکھتا تھا اور تعجب کرتا تھا کہ پانی کیوں برستا ہے، درختوں کا نشوو نما کیوں ہوتا ہے، بادل کیوں کر معلق فضا میں اڑتے ہیں، ستاروں کی چمک کہاں سے آتی ہے، چاند سورج کو کون اِدھر سے اُدھر لے جاتا ہے۔ وہ سوچتا تھا کہ زندگی کے بعد موت کا سکون کیا۔ بیداری کے بعد نیند کیسی، روشنی کے ساتھ تاریکی کیا معنی۔ بجلی اور کڑک کو دیکھ کر وہ سہم جاتا تھا۔ زلزلوں اور پہاڑوں کی آتش فشانیاں دیکھ کر وہ لرزہ براندام ہو جاتا تھا اور چونکہ وہ ان کے طبعی حدوث کے اسباب سے ناواقف تھا ، اس لیے وہ سمجھتا تھا کہ ان تما م حوادث کے پیچھے کوئی عظیم الشان، ذی حیات ہستی ضرور ایسی موجود ہے جو ان تمام مناظر و مظاہر کی پیدا کرنے والی ہے اور انھیں کو وہ دیوتا یا دیوی سمجھ کر ان سے ڈرنے لگا اور ان کی پوجا کرنے لگا۔<br>
طلوع صباح کو وہ سمجھنے لگا کہ یہ کوئی نہایت ہی حسین و جمیل دیوی ہے، آفتا ب کو اس نے ایک جنگجو عاشق مزاج دیوتا فرض کر لیا۔ رات کو اس نے سانپ یا ناگ سمجھ لیا اور ہوا کو مغنی، جاڑے کو اس نے ایک ایذا رساں درندے سے تعبیر کیا اور خزاں کو ایسی دیوی سے جو دنیا کے سب پھول چن کر لے جاتی ہے، الغرض اس طرح کی سیکڑوں تعبیریں، ہزاروں تفسیریں، اس نے مناظر فطرت اور حوادث طبعی کی اپنی ذہانت سے پیدا کیں اور ان کو حقیقت جان کر پھیلانا شروع کیا۔ اقوام عالم کی روایات مذہبی یا ”اساطیر الاولین“ پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ان کی بنیاد یکسر انھیں شاعرانہ تعبیروں اور اسی قسم کی قیاسات ضعیفہ پر قائم ہے ، چنانچہ باغ عدن کی روایت کو دیکھیے کہ وہ دنیا کی ہر قوم میں پائی جاتی ہے، کیوں کہ جب وہ مصائب سے گھبرا اٹھی تو اپنی تسکین کے لیے اس نے ایک ایسی دنیا کا تخیل پیدا کیا جہاں راحت ہی راحت ہے۔</p>
<p>اسی طرح طوفانوں کی روایت، ایشیا و یورپ کے تمام قدیم قوموں میں پائی جاتی ہے، انھوں نے گھونگھے، سیپیاں اور لہروں کے نشانات، پہاڑوں ، وادیوں اور میدانوں میں دیکھ کر خیال کیا کہ کسی وقت ضرور ساری دنیا پر طوفان آیا تھا جس سے سوا چند مقبول بندوں کے کوئی جانبر نہ ہوسکا۔ توریت، انجیل اور کلام مجید کے علاوہ ہندوں میں بھی یہ روایت موجود ہے کہ منو نے ایک بار گنگا میں کوئی ظرف ڈبو کر پانی لیا ، اس میں ایک مچھلی بھی آگئی۔ مچھلی نے التجا کی کہ مجھے پھر پانی میں چھوڑ دیجیے۔ منونے رحم کھا کر اسے چھوڑ دیا لیکن مچھلی نے اس احسان کے عوض میں ان کو بتایا کہ ایک بڑا زبردست طوفان آنے والا ہے۔ آپ ایک کشتی بنا کر اس میں اپنے ساتھیوں کو معہ مویشیوں کے بٹھا لیجیے۔ میں بروقت پہنچ کر آپ کی مدد کروں گی، چنانچہ منو نے اس کی تعمیل کی اور جب طوفان آیا تو مچھلی حاضر ہوئی لیکن اب وہ بڑی مچھلی ہوگئی تھی جس کے سر پر ایک سینگ بھی نکلا ہوا تھا۔ منو نے ایک رسی اس کے سینگ سے باندھ کر کشتی میں اٹکا دی اور وہ طوفان سے کشتی کو بچا کر ایک پہاڑ کی چوٹی پر لے گئی اور طوفان کے ختم ہونے تک منوجی یہیں ٹھہرے رہے۔ ان تمام روایات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان نے زندگی اور موت کے اسرار کو کس کس طرح سمجھنے کی کوشش کی اور ان کوششوں میں اس کے کتنے اندیشے، کتنی امیدیں، کتنی مسکراہٹیں اور کتنے آنسو شامل تھے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کا اولین مذہب ”آفتاب پرستی“ تھا اور یہ بالکل فطری بات تھی، کیوں کہ روشنی ہی زندگی ہے اور اسی سے زندگی میں حرارت قائم رہتی ہے۔ اپالو بھی سورج تھا جو رات کے ناگ کو شکست دے کر بھگا دیتا تھا۔ اگنی بھی سورج تھا جو انسان کے ہر ہر جھونپڑے کی حفاظت کرتا تھا۔ کرشن بھی سورج ہی تھے کہ ان کی ولادت کے وقت تمام درخت ہرے بھرے ہوگئے، ہرقلس بھی سورج دیوتا تھا، جونا (یونس) بھی وہی تھا اور یہ سب کے سب ۲۵ دسمبر ہی کے لگ بھگ پیدا ہوئے۔ سب نے چالیس دن کا روزہ رکھا۔ سب غیر طبعی موت سے مرے اور پھر زندہ ہوئے۔ اب مسیح کے حالات کا ان روایات سے موازنہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ وہاں بھی سب کچھ یہی ہے، ۲۵ دسمبر کو ایک غار میں پیداہوئے، ہیروڈ نے بہت سے بچوں کو ان کے دھوکے میں ہلاک کیا۔ چالیس دن (چالیس کا عدد مذاہب عالم کی تاریخ میں بہت نظر آتا ہے۔ طوفان سے پہلے چالیس دن بارش ہوتی رہی، موسیٰ چالیس دن کوہ سینا پر رہے۔ چالیس سال تک بنی اسرائیل صحراؤں میں پھرتے رہے) کا روزہ رکھا ۔ غیر طبعی موت سے مرے اور پھر زندہ ہوئے۔ عیسیٰ بھی سورج دیوتا تھے ، اور یقینا تمام مذاہب کی ابتدا آفتاب پرستی ہی سے ہوئی ، چنانچہ اس وقت بھی عبادت کے وقت لوگوںکا آنکھیں بند کر لینا اسی زمانہ کی یادگار ہے، کیوں کہ وہ سورج کو نہ دیکھ سکتے تھے اور آنکھیں بند ہوجاتی تھیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ جب ہم امم سابقہ کی دیگر مذہبی روایات کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ کے مذاہب میں کوئی نئی بات نہیں پائی جاتی۔ ان کے تمام مراسم و عبادات کا رشتہ عہد قدیم کے مذاہب ہی سے جا کر مل جاتا ہے۔</p>
<p>آپ نے دیکھا ہوگا کہ عیسائیوں میں بپتسمہ یا اصطباغ کی رسم پائی جاتی ہے، لیکن یہ عیسویت سے بہت پہلے کی چیز ہے۔ ہندوؤں، مصریوں، یونانیوں اور رومیوں میں بھی مقدس پانی کا وجود پایا جاتا تھا۔ صلیب کا خیال بھی نہایت قدیم خیال ہے ۔ یہ علامت تھی غیر فانی ہونے کی؛ زندگی کی، اگنی کی۔ قبر انسانی کی، اٹلی کی قدیم آبادی (رومیوں سے بہت پہلے کی) قبروں پر صلیب ہی کا نشان قائم کرتی تھی۔ وسطی امریکہ کے قدیم معبدوں میں صلیبی نشان کثرت سے دریافت ہوئے ہیں۔ بابل کی سرزمین سے جو اسطوانے یا نلکے دریافت ہوئے ہیں، ان پر بھی صلیب کا نشان موجود ہے۔ اسی طرح تثلیث کا خیال بھی بہت پرانا ہے اور قدیم مصر میں پایا جاتا تھا۔</p>
<p>ہم کو سمجھ لینا چاہیے کہ اساطیر و معجزات میں بہت فرق ہے۔ اساطیر نام ہے کسی بات کی خیالی تصویر پیش کرنے کا اور معجزہ کہتے ہیں کوئی بات گھڑ کر بیان کرنے کو۔ اگر تم کسی سے کہو کہ دوہزار سال قبل مردے زندہ ہوگئے تھے، وہ غالباً کہے گا ؛ ہاں ہوا ہوگا۔ اگر تم اس سے کہو کہ ایک لاکھ سال بعد تمام مردے زندہ ہوجائیں گے تو وہ کہے گا ، دیکھو کیا ہوتا ہے۔ لیکن اگر تم یہ کہوگے کہ کیا تم نے خود قبر کے اندر سے کسی مردے کو باہر نکلتے ہوئے دیکھا ؛ تو وہ تمھیں دیوانہ سمجھ کر کوئی جواب نہ دے گا۔</p>
<p>مذہبی کتابیں اسی قسم کے بیانات سے معمور ہیں۔ خدا نے یہودیوں کے لیے جتنے معجزات سے کام لیا، وہ سب کو معلوم ہیں۔ ان کو غلامی سے آزاد کرانا بھی معجزوں ہی کے ذریعے سے ہوا۔ جب وہ مصر سے باہر نکلے ہیں تو دن کو بادل اور رات کو روشنی کا ایک ستون آگے آگے رہنمائی کے لیے ہوتا تھا۔ دریائے نیل ان کے لیے شق کیا گیا ، من و سلویٰ ان کے لیے آسمان سے نازل کیا گیا لیکن یہودیوں نے ان میں سے کسی معجزہ کی پروا نہیں کی اور جب تک بچھڑا بنا کر پوج نہیں لیا، انھیں چین نہ آیا۔</p>
<p>اسی طرح مسیح نے بہت سے معجزے پیش کیے لیکن بالکل بے نتیجہ۔ وہی مردے جن کو انھوں نے زندہ کیا، وہی اندھے جن کو انکھیارا بنایا اور وہی کوڑھی جنھیں اچھا کیا، ان پر ایمان نہ لائے۔ آپ کو معلوم ہے کہ اس کا کیا سبب تھا۔ صرف یہ کہ معجزے کبھی ظاہر نہیں ہوئے بلکہ یہ سب داستانیں ہیں جو صدیوں بعد گھڑی گئیں۔</p>
<p>پانی کو شراب بنادینا، سیکڑوں آدمیوں کو صرف ایک روٹی سے سیر کردینا، اندھے کو مٹی لگا کر بینا بنا دینا، طوفان کو خاموش کردینا، پانی پر چلنا؛ یہ سب باتیں ہیں جنھیں انسان سوچتا تھا، جن کے پورا ہونے کی تمنائیں رکھتا تھا اور انھیں کی تکمیل کو سب سے بڑی نعمت سمجھ کر اظہار عظمت و تقدس کے لیے اس نے پیغمبروں سے منسوب کردیا۔</p>
<p>یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا جہل و خوف سے معمور تھی اور اپنی ہر مشکل میں مافوق الفطرت ہستی سے امداد کی توقع رکھتی تھی، چنانچہ انھوں نے ان مفروضہ غیر انسانی ہستیوں کو خوش کرنے کے لیے مندر بنائے، قربان گاہیں تیار کیں۔ ان کے سامنے رگڑی قربانیاں چڑھائیں اور وہ سب کچھ کیا جس سے وہ خود خوش ہوسکتے تھے لیکن ان آسمانی قوتوں نے ایک نہ سنی۔ ان میں سے کوئی انسان کی فریاد کو نہ پہنچا۔ طوفان بھی آئے، کھیتیاں بھی برباد ہوئیں، وبائیں بھی پھیلیں، جن کو برے حال جینا تھا، وہ برے حال ہی جیے اور جنھیں مرنا تھا وہ مرہی گئے۔</p>
<p>انسان یہ سمجھتا تھا اور اب بھی مذہبی انسان یہی سمجھتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ پیدا ہوا ہے وہ اسی کے لیے ہے۔ اسی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے کائنات وجود میں آئی ، چنانچہ وہ ہر چیز پر قابض ہونا چاہتا تھا اور جب ناکام رہتا تھا تو سمجھتا تھا کہ خدا ضرور اس کی مد د کرے گا، حالاں کہ اگر دنیا میں ایک انسان نہ ہوتا تو بھی سورج کا یہی طلوع و غروب ہوتا۔ یہی بہار و خزاں ہوتی، گلاب اسی طرح کھلتا۔ انگور کی بیلیں اسی طرح پھل لاتیں۔ وہی سمندر کا مدو جزر ہوتا اور وہی رات دن، وہی طوفانی ہوائیں ہوتیں اور وہی رعد و برق۔ جب ایک زمانہ، ایک غیر محدود زمانہ انسان پر اسی جہل و بے بصری کی حالت میں گذر گیا تو کچھ لوگ سوچنے والے پیدا ہوئے اور انھوں نے ان روایات و معجزات کو شک کی نگاہوں سے دیکھنا شروع کیا۔ انھوں نے غور کیا کہ کسوف و خسوف کیوں مقررہ وقفہ کے بعد ہوتا ہے اور آخر کار انھوں نے اس کی وجہ معلوم کر کے سمجھ لیا کہ اجرام فلکی کی گردش اولاد آدم سے بالکل بے نیاز ہے اور انسان خود بھی مظاہر طبیعی کا ایک معمولی مظہر ہے۔</p>
<p>گلیلیو ، کوپر نکس اور کپلر نے مذہب کی بتائی ہوئی ہیئت کو درہم برہم کردیا، زمیں چپٹی ہونے کے بجائے گول اور ساکن ہونے کے بجائے متحرک ہوگئی۔ آسمان بجائے ٹھوس ہونے کے خلا محض بن گیا اور سارا بنا بنایا کھیل مذہب والوں کا بگڑ گیا۔</p>
<p>ظاہر ہے کہ مذہب اپنی روایات کی اس تکذیب و توہین کی برداشت نہ کرسکتا تھا ، وہ تاریکی جو زمانٔہ معلوم سے دماغوں پر مسلط تھی، یوں آسانی سے دور نہ ہوسکتی تھی۔ آخر کار جہل نے علم کے خلاف ایک محاذ جنگ قائم کیا، اور مذہب کے درندہ نے جس کے پنجے ہمیشہ خون سے رنگیں رہے ہیں، برونو کے خلاف اپنا چنگل بڑھایا اور محض اس خطا پر کہ وہ اس کرہ کے علاوہ اور کروں کا بھی قائل تھا۔ اسے کافر و ملحد قرار دے کر سات سال کے لیے قید کرلیا گیا کہ اگر وہ اپنے الحاد سے باز آجائے تو رہا کیا جا سکتا ہے لیکن اس نے کہا کہ ایک حق بات سے انکار کیوں کر ممکن ہے اور آخر کار پا بہ زنجیر اسے قصاص گاہ میں لے گئے اور بہت سی لکڑیاں جمع کر کے چتا میں آگ لگا دی گئی اور وہ جل کر راکھ ہوگیا۔ الغرض مذہب نے عقل و علم کو شکست دینے کی ہر امکانی کوشش کی لیکن جہل کے پاؤں جب ایک بار اکھڑ جاتے ہیں تو پھر مشکل سے جمتے ہیں۔ عقل کی روشنی پھیلتی رہی اور مذہب کی تاریکی سمٹتی رہی۔</p>
<p>جانباز ان علم اٹھے اور انھوں نے سمندروں، پہاڑوں اور وادیوں میں جانیں دے دے کر وہ وہ باتیں دریافت کیں جو مذہب کی دسترس سے باہر تھیں۔ انھوں نے بخار و برق کی قوت سے دریافت کرکے انسان کو دیوتا بنا دیا، لیکن اہل مذہب بدستور دیوتاؤں کے غلام ہی بنے رہے۔ مذہب والے مفروضۂ معجزہ ہی بیان کرتے رہے اور انھوں نے انھیں پورا کرکے دکھادیا، یعنی انسان کی جن تمناؤں کو دیوتا پورا نہ کرسکے تھے، اسے علم و عقل نے پورا کردیا۔</p>
<p>سائنس بتاتی ہے کہ نہ تخلیق کوئی چیز ہے ، نہ فنا کوئی چیز، ایک لامحدود ہستی کا وجود، ایک لامحدود استحالٔہ عقلی ہے، کائنات کے تمام مظاہر و مآثر اسباب و نتیجہ سے وابستہ ہیں اور اشیا کے اسی فطری رابطہ کو ایک نے نہ سمجھا اور مذہب بن گیا، دوسرے سے سمجھ لیا اور علم کہلایا۔</p>
<p>مذہب کا تجربہ انسان نے ہزاروں سال کیا لیکن کوئی آسمانی مدد اسے نہ پہنچی، خدا کا رحم حاصل کرنے کے لیے ماؤں نے اپنے بچوں کی قربانیاں پیش کیں لیکن اسے ان پر رحم نہ آیا۔ برہنہ وحشی انسان کو لاکھوں کی تعداد میں درندوں نے کھایا، سانپوں نے ڈسا، طوفانوں نے ڈبویا، زلزلوں نے تباہ کیا لیکن خدا نے اپنا اصول کار نہ بدلا۔ انسان نے لاکھوں مندر بنائے، رات دن اس کی پوجا کی لیکن ظالموں کا ظلم بدستور قائم رہا اور غلاموں کی پیٹھ پر جو کوڑے پڑا کرتے تھے، بدستور پڑتے رہے؛ یہاں تک کہ انسان نے لاکھوں سال کے تلخ تجربات کے بعد سمجھا کہ خدا انسانی معاملات میں دخل نہیں دیتا اور اس کے نزدیک گھاس کی پتی اور انسان سب برابر ہیں، اس لیے اس کی ترقی کا انحصار صرف ا س کی محنت و کاوش اور رہبریٔ عقل پر ہے۔ آخر کار رفتہ رفتہ معجزات کا زمانہ گذرگیا، روایات مذہبی کا دور ختم ہوگیا؛ اور اب انسان اس کے لیے تیار نہیں کہ وہ مذہب کے بتائے ہوئے اصول نجات پر یقین رکھ کر اپنی دنیا کو تباہ کردے اور بے وقوف کہلائے۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">مذاہب عالم کی تاریکیاں</div>
<p>ترقی کرنا انسان کا فطری حق ہے لیکن ترقی کا حقیقی مفہوم کیا ہے، اس کو سمجھ لینا ضروری ہے۔ اس باب میں دو متضاد رائیں پائی جاتی ہیں ، کیوں کہ وہی ایک حالت ہے ، جسے ایک جماعت ترقی تہذہب سے تعبیر کرتی ہے اور دوسری وحشت و جہل سے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ ہر وہ چیز جو قدیم ہے، پرانی ہے ، قابل احترام ہے گویا جب تک کسی چیز کے جھاڑنے سے صدیوں کی جمی ہوئی خاک نہ اڑے قابل اعتنا نہیں ۔ ان کے نزدیک حکومتیں وہی تھیں جو ختم ہو گئیں، فرماں روا وہی تھے جو گذر گئے۔ سچے مصلح وہی تھے جو مرگئے۔ نہ ویسے شاعر اب پیدا ہوتے ہیں، نہ ویسے ادیب ، نہ ویسے سیاست داں اب نظر آتے ہیں، نہ ویسے حکما و فلاسفہ۔</p>
<p>دوسرا گروہ قدیم و قدامت کا دشمن ہے اور موجودہ زمانہ کا مداح۔ ان کے نزدیک زمانٔہ قدیم میں کوئی بات معقول تھی ہی نہیں اور قدرت نے اپنے تمام برکات زمانٔہ حال ہی کے لیے وقف کردیے ہیں۔ میری رائے میں دونوں غلطی پر ہیں ؛ نہ قدیم زمانہ کی ہر چیز بری تھی ، نہ زمانٔہ حال کی ہر بات اچھی، صداقت ہمیشہ ایک ہی رہی ہے اور اسے ہم قدیم و جدید نہیں کہہ سکتے۔ وہ ہر زمانہ میں یکساں رہی اور ہمیشہ اس کی جستجو کرنا چاہیے۔</p>
<p>اگر ہم اصولاً اس بات کو تسلیم کرلیں کہ ”فکر و عمل“ ہی ملک کی ترقی و مسرت کی بنیاد ہے اور یہ عمومی مسرت ہی فی الحقیقت فطری صداقت ہے تو پھر اس کا لازمی نتیجہ یہ ماننا پڑے گا کہ دنیا کے ”فکر و عمل“ کو بالکل آزاد ہونا چاہیے۔ آپ اس عہد قدیم کو نہ دیکھیے جب ایشیا ترتیب تاریک سے پہلے بھی تہذیب و تمدن کا گہوارہ بنا ہوا تھا بلکہ عہد وسطیٰ کو لیجیے اور غور کیجیے کہ اس وقت یورپ کی (جو اس وقت سب سے بڑا مدعی تہذیب و آزادی ہے) کیا حالت تھی، طبقہ عمال کو جانوروں سے بدتر سمجھا جاتا تھا۔ جہل کی تاریکی ہر طرف چھائی ہوئی تھی اور فکر انسانی نام تھا صرف اوہام پرستی کا۔ فضا میں ہر طرف ملائکہ و عفاریت چھائے ہوئے تھے اور ہر سمجھ میں نہ آنے والی بات معجزۂ خداوندی قرار دی جاتی تھی۔ اعتقادات نے عقل انسانی کو بے کار کر رکھا تھا اور مذاہب نے غور و فکر کو انسا ن کے لیے وجہ امتیاز صرف اس لیے قرار دیا تھا کہ یا تو وہ سپاہی ہو یا پادری، یعنی سوائے لڑنے اور جھوٹ بولنے کے لیے اور کوئی صورت انسانیت کی موجود نہ تھی۔ صنعت و حرفت کو ذلیل سمجھا جاتا تھا اور اس ذریعہ سے ایک شخص بھی اپنا پیٹ آسانی سے نہ بھر سکتا تھا۔ قومیں خریدو فروخت کے ذریعہ سے ضروریات زندگی حاصل نہ کرتی تھیں بلکہ لوٹ مار سے اور ہر مسیحی ملک غیر مسیحی قوم کے مال کو لوٹ لینا ثواب جانتا تھا ۔ لکھنا پڑھنا نہایت خطرناک بات سمجھی جاتی تھی اور اگر کوئی شخص بدقسمتی سے سیکھ لیتا تھا تو اسے ساحر یا کافر سمجھا جاتا تھا ۔ اس وقت تقریباً بالکل ناممکن ہے کہ ہم اس زمانہ کی جہالت ، واہمہ پرستی اور کور دماغی کا صحیح اندازہ کرسکیں۔ اس وقت انسان کے جسم و دماغ دونوں مقید تھے، ایک کے لیے لوہے کی زنجیریں تھیں اور دوسرے کے لیے وہم پرستی کی اور اس غلامی سے آزاد ہونے کی صورت سوا موت کے اور کوئی نہ تھی۔</p>
<p>پندرھویں صدی میں انگلستان کا قانون یہ تھا کہ اگر کوئی شخص انجیل مقدس کا مطالعہ اپنی مادری زبان میں کرے گا تو اس کی جائداد اور اس کے مویشی ہمیشہ کے لیے ضبط ہوجائیں گے اور وہ حکومت کا باغی قرار دیا جائے گا۔ چنانچہ اس قانون کے نفاذ کے بعد ایک دن۳۹ آدمی پھانسی پر لٹکائے گئے اور ان کی لاشیں سر بازار جلائی گئیں ، پھر یہ جہل صرف انگلستان ہی تک محدود نہ تھا بلکہ یورپ کے ہر حصہ میں پایا جاتا تھا۔ چنانچہ سولھویں صدی میں فرانس کی حکومت نے ایک شخص کو اس خطا پر آگ میں تڑپا تڑپا کر ہلاک کر ڈالا کہ وہ راہبوں کے ایک جلوس کے سامنے دو زانو نہ ہوا تھا۔ اب آئیے اس اجمال کی ذرا تفصیل سن لیجیے:</p>
<p>عہد وسطیٰ کے تمام انسان جاہل و عالم، آقا و غلام، پادری و غیر پادری سب کے سب جادو ٹونا اور ٹوٹکے کے قائل تھے، انھیں یقین تھا کہ شیطان نہ صرف انسان بلکہ جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کے اندر بھی حلول کرجاتا ہے اور چونکہ شیطان کا مقابلہ ایک مقدس فریضہ تھا۔ اس لیے کسی ایسے شخص کو جس کے متعلق خیال ہوتا تھا کہ وہ شیطان کا ہمراز و ندیم ہے، مارڈالنا یا زندہ جلادینا بہت معمولی بات تھی ۔ جس حد تک حقیقت یا واقعیت کا تعلق ہے، ظاہر ہے کہ اس سے زیادہ مہمل عقیدہ اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ کسی انسان کے اندر شیطان حلول کرجائے اور وہ اسے نجس و ناپاک افعال پر مجبور کرے لیکن اس عقیدہ کی مذہبی گرفت اتنی سخت تھی کہ وہ لوگ جو اس جرم میں گرفتار کیے جاتے تھے جن کے خلاف عدالت گاہوں میں مقدمے چلائے جاتے تھے اور جن سے دنیا نفرت کرتی تھی، خود بھی یقین رکھتے تھے کہ واقعی ان پر شیطان سوار ہے اور وہ اس کا اعتراف کرلیتے تھے۔</p>
<p>جیمس اول کے زمانہ میں ایک شخص اسکاٹ لینڈ کا رہنے والا اس جرم میں جلایا گیا کہ وہ شاہی خاندان کو ڈبو دینے کے لیے سمندر میں طوفان پیدا کررہا تھا۔</p>
<p>ایک بار سر میتھو ہیل کے سامنے جو انگلستان کا مشہور قانون داں جج تھا، ایک عورت پیش کی گئی کہ یہ بچوں سے سوئیوں کی قے کراتی ہے اور شیطان سے ساز باز رکھتی ہے۔ چنانچہ جج صاحب نے اس کو مجرم قرار دے کر زندہ جلوادیا اور فیصلہ میں لکھا کہ یہ جادوگرنی ہے اور جادو کا از روئے مذہب حق ہونا ثابت ہے۔ عام عقیدہ ایک یہ بھی تھا کہ بعض آسیب زدہ انسان بھیڑیے کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔ ایک مرتبہ کسی شخص پر بھیڑیے نے حملہ کردیا، اس نے مقابلہ کر کے اس کا ایک پنجہ کاٹ لیا اور جیب میں رکھ کر گھر پہنچا ، دیکھا کہ اس کی بیوی کا ایک ہاتھ کٹا ہوا ہے اور اس کے خون نکل رہا ہے۔ اس سے یہ یقین کیا گیا کہ اس کی بیوی بھیڑیا بن کر گئی تھی، چنانچہ اس نے اقرار کیا اور جلادی گئی۔</p>
<p>اس طرح لوگوں پر یہ الزام بھی لگایا جاتا تھا کہ وہ گرمیوں میں پالا گراتے ہیں، اولے برسا کر فصلیں تباہ کرتے ہیں، شرابیں ترش کردیتے ہیں اور گایوں کو بانجھ کردیتے ہیں ، اس زمانہ میں کسی کی زندگی محفوظ نہ تھی۔ کسی کا اپنے دشمن کے متعلق یہ کہہ دینا کہ ساحر ہے کافی تھا اور اس الزام کی تحقیق کوئی نہ کرتا تھا ۔ پھر طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہ الزام صرف انسانوں ہی ہر عائد نہ کیا جاتا تھا بلکہ جانور بھی اس سے محفوظ نہ تھے۔ ۴۷۴۱ءمیں ایک مرغ پر یہ الزام قائم کیا گیا کہ اس نے انڈا دیا ہے اور چونکہ مرغ عام طور پر انڈا نہیں دیتا ، اس لیے یقینا اس میں شیطان حلول کرگیا ہے۔ چنانچہ یہ مرغ مع انڈے کے عدالت گاہ میں پیش کیا گیا اور اس کو سر راہ جلا دیے جانے کا حکم صادر ہوا۔ اسی طرح ایک سور پر یہ الزام قائم کیا گیا کہ اس نے آدمی کو مار کر کھالیا ہے اور اسے بھی جلا دیا گیا۔ ایک گائے پر بھی آسیب زدہ ہونے کا الزام قائم کر کے اسے سزا دی گئی۔ جانوروں کو بطور شاہد کے طلب کرنا بھی اس وقت کا دستور تھا۔</p>
<p>ایک وقت میں یورپ کا قانون تھا کہ اگر کسی کے گھر میں کوئی شخص رات کو داخل ہوا اور وہ اسے قزاق سمجھ کر مار ڈالے تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن اس سلسلہ میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ممکن ہے کوئی شخص کسی بہانہ سے کسی کو بلا کر مار ڈالے اور اس طرح سزا سے بچ جائے۔ اس بنا پر قانون میں ترمیم کی گئی کہ مالک مکان اس وقت تک بے گناہ نہیں سمجھا جائے گا جب تک وہ گھر کے کتے، بلی یا دوسرے جانور کو پیش نہ کرے جس کے سامنے اس نے مارا ہے۔ پھر یہ ہوتا تھا کہ جب کوئی ایسا واقعہ پیش آجاتا تھا تو گھر والے کو کوئی پلاہوا جانور پیش کر کے اس کے سامنے اپنی بے گناہی کی قسم کھانا پڑتی تھی ، عقیدہ تھا کہ اگر وہ جھوٹ بولے گا تو ضرور کسی نہ کسی طرح جانور اس کا اظہار کردے گا۔</p>
<p>یہ بھی انگلستان کا قانون تھا کہ اگر کوئی شخص جرم کرے تو وہ اس متبرک پارئہ نان و پنیر سے اپیل کرے جو اس مقصد کے لیے الگ کردیا جاتا تھا یعنی مجرم اس روٹی کے ٹکڑے کو لے کر کہتا تھا کہ اگر میں جھوٹ بولوں تو خدا کرے میرے حلق میں پھنس جائے۔<br>
پانی اور آگ کے ذریعہ سے بھی گناہ و بے گناہی کی جانچ ہوتی تھی یعنی مجرم آگ میں تپایا ہوا سرخ لوہا ہاتھ میں لیتا تھا اور عقیدہ یہ تھا کہ اگر وہ گناہگار نہیں ہے تو اس کو کوئی ضرر نہ پہنچے گا (ہندوستان کے بھی بعض سید خاندان مدعی ہیں کہ آگ ان پر اثر نہیں کرسکتی کیوں کہ وہ معصوم ہیں، یہ جاہلانہ عقیدہ بھی اسی نوع کی مذہبی تاریکی کا نتیجہ ہے) ۔ اسی طرح مجرم کے ہاتھ پاؤں باندھ کر پانی میں ڈال دیا جاتا تھا اور سمجھا جاتا تھا کہ اگر وہ بے گناہ ہے تو ڈوبے گا نہیں۔</p>
<p>ان مثالوں کے دینے سے مدعا یہ ظاہر کرنا ہے کہ ان قوموں میں جو مذہب کی جاہلانہ گرفت میں مبتلا تھیں یا ہیں، کیا کیا بدتمیزیاں پائی جاتی ہیں اور عقل انسانی کا خون کرنے میں معتقدات مذہبی نے کتنا حصہ لیا۔ تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مذاہب کی اس لعنت میں صرف جاہل انسان ہی مبتلا نہ تھا بلکہ پڑھے لکھے، ذی فہم و ذی ہوش افراد بھی مبتلا نظر آتے تھے۔</p>
<p>کپلر دنیا کے مشہور بڑے آدمیوں میں سے تھا اور ہیئت دانی میں تو اس کا نظیر نہ تھا لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اس احمقانہ عقیدہ میں بھی مبتلا تھا کہ ستاروں کو دیکھ کر ایک شخص کے مستقبل کا حال معلوم ہوسکتا ہے۔ یہ عقیدہ اس کے دل میں مذہبی بنیاد رکھتا تھا اور اس کا سبب یہ تھا کہ ایسے ہی ماحول میں اس کی تربیت ہوئی تھی۔ تیخو براہی بڑ ا زبردست ہیئت داں تھا، یہ بہت سے مہمل الفاظ ایک جگہ لکھ کر پیشین گوئیاں کیا کرتا تھا اور ان کے پورا ہونے کا منتظر رہتا تھا۔</p>
<p>لوتھر کو یقین تھا کہ اس کی ملاقات شیطان سے ہوئی تھی اور بعض مذہبی مسائل پر اس سے مباحثہ بھی ہوا تھا۔ چارلس پنجم شہنشاہ جرمنی کے زمانہ میں اسٹو فلر بڑا مشہور ہیئت داں گذرا ہے، اس نے ایک بار ستاروں کو دیکھ کر حکم لگایا کہ ایک بہت بڑا طوفان آنے والا ہے اور اس کا اتنا یقین ہوگیا کہ ہزاروں آدمیوں نے جو نشیبی علاقہ زمین میں رہتے تھے، ترک وطن کردیا اور خانماں برباد ہوگئے۔ فرانس میں تو لوگوں نے دوسری کشتی نوح تیار کرلی اور ذخائر سے اسے بھردیا تاکہ طوفان میں کام آسکے لیکن طوفان نہ آنا تھا، نہ آیا۔</p>
<p>ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذہن انسانی کس درجہ غلامی میں مبتلا تھا اور مذہب کا مفہوم سوائے شیطان کی پرستش کے اور کچھ نہ تھا۔<br>
الغرض ان کی مذہبی روایات اسی طرح کی لغو باتوں سے بھری ہوئی تھیں۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انسانی معلومات کا ذریعہ صرف مذہبی ادارے تھے اور جن لوگوں کے ہاتھ میں یہ ادارے تھے وہ قصداً جھوٹ بولتے تھے اور ارادتاً خلاف عقل باتیں گھڑ لیتے تھے تاکہ لوگوں کی سمجھ میں نہ آئیں اور وہ اس کے جواب میں معجزات و کرامات وغیرہ بیان کر کے عوام کو مرعوب کرلیں اور اپنا اقتدار جمائیں۔</p>
<p>پھر جہل و ظلمت کا یہ اثر کسی ایک شعبہ تک محدود نہ تھا بلکہ تمام انسانی معلومات پر چھایا ہوا تھا۔ اس سلسلہ میں آپ زبان ہی کے مسئلہ کو لیجیے تو عجیب و غریب حقائق کا انکشاف ہوگا۔ اول اول عام طور پر یقین کیاجاتا تھا کہ عبرانی ہی اصل زبان ہے اور تمام زبانیں اسی سے نکلی ہیں (عربی کو بھی ام السنہ اسی لیے کہتے ہیں) بعد کو یہی دعویٰ اور زبانوں نے بھی کیا، اینڈرے کمپ نے ۱۵۶۱ءمیں ایک کتاب شائع کی جس کا مقصودیہ بتانا تھا کہ بہشت کی زبان کیا ہے، چنانچہ اس نے لکھا ہے کہ خدانے آدم سے سویڈن کی زبان میں باتیں کیں۔ آدم نے ڈنمارک کی زبان میں جواب دیا اور سانپ نے حواسے فرانسیسی میں باتیں کیں۔</p>
<p>ایرو نے اپنی کتاب میں جو میڈرڈ میں شائع ہوئی تھی، ظاہر کیا ہے کہ جنت عدن میں بکائی زبان (شمالی ہسپانیہ کی) بولی جاتی ہے۔ ۱۵۸۰ءمیں گردپیس نے ایک کتاب لکھی کہ یہ سب غلط ہے، بہشت میں تو ڈچ زبان بولی جاتی ہے۔</p>
<p>اب جغرافیہ کو لیجیے کہ اس میں کیا کیا گل کھلائے گئے، چھٹی صدی میں ایک راہب نے جس کا نام کاسماس تھا، ایک کتاب ہیئت و جغرافیہ کی ملی جلی لکھی اور ظاہر کیا کہ بائبل میں جو کچھ پایا جاتا ہے وہی بالکل صحیح ہے یعنی دنیا مشتمل تھی ایک مسطح قطعٔہ زمین اور اس کے بعد دائرہ دار ٹکڑوں پر ، یہ قطعٔہ زمین چاروں طرف پانی سے بھرا ہوا تھا جسے سمندر کہتے ہیں اور پانی کے اس حصہ سے آگے ایک اور حلقہ خشکی کا تھا اور طوفان سے قبل یہیں انسانی آبادی پائی جاتی تھی۔ یہیں ایک بلند پہاڑ تھا جس کے گرد سورج چاند طواف کرتے تھے اور جب سورج اس پہاڑ کے پیچھے چلا جاتا تھا تو رات ہوجاتی تھی اور سامنے آجاتا تو دن ہوجاتا تھا۔ اس راہب نے یہ بھی بتلایا کہ بیرونی دائرہ خشکی کے کنارہ سے آسمان بندھا ہوا تھا اور وہ کسی ٹھوس چیز کا بنا ہوا تھا، اور زمین کو ایک کڑھائی کی طرح ڈھکے ہوئے تھا۔<br>
ان بیانات کے ساتھ ہی اس کا بھی اہتمام تھا کہ بائبل میں کائنات کے متعلق یہ لکھا ہے کہ اس کے خلاف کوئی شخص کچھ نہ کہے نہ سمجھے ورنہ وہ کافر و بے دین قرار دیا جائے گا۔</p>
<p>علم کے خلاف مذہب کی اس جنگ کا یہ حال تھا کہ لکھنا پڑھنا ممنوع تھا اور جو کوئی ایسا کرتا تھا، اسے طرح طرح کی سزائیں دی جاتی تھیں۔ اگر کسی کے منھ سے نکل گیا کہ زمین ایک کرہ ہے تو اسے پکڑ کرجلادیا گیا۔ اگر کسی نے دعویٰ کیا کہ آفتاب نظام شمسی کا مرکز ہے تو اسے جلاوطن کردیا گیا۔ ایک عورت کو صرف اس لیے سولی پر چڑھا دیا کہ وہ بخار کی تکلیف کو گا گا کر کم کررہی تھی۔<br>
مگر چونکہ یہ عقیدہ عام تھا کہ انسان اپنی روح کا مالک نہیں ہے، اس لیے ساتھ ہی ساتھ یہ خیال بھی مرتسم ہوگیا کہ وہ اپنے جسم کا بھی مالک نہیں ہے اور اس طرح غلامی کی بنیاد قائم ہوئی۔ پھر جنھوں نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہے، ان سے مخفی نہیں کہ یونان و رومہ، فرانس وجرمنی وغیرہ میں غلامی کے کتنے وسیع و مہیب ادارے قائم تھے اور انسانوں کو جانور بنانے میں انھوں نے کتنا بڑا حصہ لیا۔</p>
<p>الغرض مذہب کے تاریک دور میں انسان کو جسم و ذہن دونوں انتہائی ذلیل غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور انسانیت کا مستقبل سخت تاریکی میں مبتلا تھا، لیکن چونکہ حقیقت و صداقت کو عرصہ تک دبایا نہیں جا سکتا اور فراست انسانی وہ چنگاری نہیں جو کسی نہ کسی وقت بھڑک نہ اٹھے؛ اس لیے رفتہ رفتہ ایک زمانہ آیا کہ علم کی روشنی پھیلی۔ مذہب نے اس کے لیے جگہ چھوڑی اور اس طرح انسانیت جو ہزاروں سال سے وحشت و درندگی کے بوجھ کے نیچے پڑی کراہ رہی تھی، آزاد ہوئی۔ پرانے جغرافیے بدلے، تاریخ بدلی، معتقدات بدلے اور آخر کار انسان مذہب کی گرفت سے چھٹ کر آزاد ہوگیا۔ علم وفن کسی کی ملکیت نہ رہا۔ سوچنے سمجھنے کا ہر شخص کو مجاز ہوگیا۔ غور و تدبر ہر شخص کا فطری حق قرار پایا۔ اختراعات و ایجادات کا دروازہ کھل گیا۔ آزادی فکر و رائے کے لیے کوئی مانع حائل نہ رہا اور انسان کو اس طرح سب سے پہلے ترک مذہب ہی کے بعد معلوم ہوا کہ وہ خلیفتہ اللہ فی الارض ہے۔</p>
<p>ترقی کا مفہوم کیا ہے، اس سوال کا مطالعہ آپ مذہبی نقطۂ نظر سے بھی کیجیے اور مذہب سے علیحدہ ہو کر بھی؛ آپ کو بالکل دو مختلف جواب ملیں گے۔ مذہب کے نزدیک ترقی کا مفہوم اس دنیا سے تعلق رکھتا ہے جہاں دنیاوی افعال و اعمال کے نتائج سے واسطہ پڑے گا اور عمل کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہوجائیں گے۔ پھر کیا یہ امر حیرت ناک نہیں کہ جس عالم کے کردار سے مذہب نے جزا و سزا کو متعلق بتایا ہے، اسی کو اندھوں کی طرح بسر کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔</p>
<p>اب ذرا مذہب کی پابندیوں سے ہٹ کر انسانیت کا مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس میں کتنی وسعت ہے، جدوجہد کا کتنا پھیلاؤ ہے اور اس کے مقاصد کتنے بلند ہیں، سب سے بڑی چیز جس پر انسان فخر کرسکتا ہے، وسعت نظر ہے اور اس کا پتہ عالم اخلاق میں چل سکتا ہے۔ پھر دیکھیے کہ اخلاقی حیثیت کس کی زیادہ بلند ہے۔ ایک مذہب کاپابند، خواہ وہ کتنا ہی بلند نظریہ اخلاق کا رکھتا ہو، دوسرے مذاہب والے کو تحقیر و استحقاق کی نظر سے دیکھنے پر مجبور ہے۔ یہ خیال کہ صرف میں راہ راست پر ہوں اور دوسرا گمراہ ہے، قدرتاً ایک شخص کے جذبٔہ تفوق کو پیدا کر کے دوسرے کو حقیر و ذلیل ٹھہرائے گا اور یہی وہ ایک جذبہ تھا جو ہمیشہ دنیا میں فساد و خوں ریزی کا باعث ہوا۔<br>
یوں تو مذہب نے ہمیشہ یہی دعویٰ کیا ہے کہ وہ دنیا میں امن و سکون پھیلانے آیا ہے لیکن عمل سے وہ اس دعویٰ کو کبھی صحیح ثابت نہ کرسکا اور اس لیے اگر واقعی ترقی کی راہوں پر غور کرنا ہے تو مذہب سے علیحدہ ہو کر غور کرنا چاہیے اور انسانیت کے کلی مفہوم کو سامنے رکھ کر شاہراہ عمل متعین کرنا چاہیے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/malahida-daur-e-hazir-k-nuqta-nazar-se/">ملاحدہ دور حاضر کے نقطہ نظر سے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/malahida-daur-e-hazir-k-nuqta-nazar-se/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اٹھتے ہیں حجاب آخر-حصہ چہارم</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%b9%da%be%d8%aa%db%92-%db%81%db%8c%da%ba-%d8%ad%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d8%a2%d8%ae%d8%b1-%d8%ad%d8%b5%db%81-%da%86%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%85/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%b9%da%be%d8%aa%db%92-%db%81%db%8c%da%ba-%d8%ad%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d8%a2%d8%ae%d8%b1-%d8%ad%d8%b5%db%81-%da%86%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%85/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈاکٹر عرفان شہزاد]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 15 Feb 2017 10:18:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Islam]]></category>
		<category><![CDATA[preaching]]></category>
		<category><![CDATA[tableegh]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[تبلیغ]]></category>
		<category><![CDATA[تبلیغی جماعت]]></category>
		<category><![CDATA[مولانا طارق جمیل]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=20167</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">ڈاکٹر عرفان شہزاد: یہ کون سی عقل مندی ہے کہ تبلیغی حضرات کو ایسے علاقوں اور ملکوں میں تبلیغ کرنے بھیج دیا جاتا ہے جن کی زبان بھی ان کو نہیں آتی۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%b9%da%be%d8%aa%db%92-%db%81%db%8c%da%ba-%d8%ad%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d8%a2%d8%ae%d8%b1-%d8%ad%d8%b5%db%81-%da%86%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%85/">اٹھتے ہیں حجاب آخر-حصہ چہارم</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">ادارتی نوٹ: اس تحریر کی اشاعت کا مقصد کسی بھی مسلک کے پیروکاروں کی دل آزاری یا انہیں غلط قرار دینا نہیں بلکہ مذہب اور عقیدے پر انفرادی رائے قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ پاکستانی مسلمانوں میں مذہب اور عقیدے کے معاملے پر سوچ بچار، تنقید، تحقیق اور علمی جستجو کا چلن مفقود ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر مسلک میں جہاد، ختم نبوت یا ناموس اہل بیت جیسے تصورات کی آڑ میں تشدد کو جائز سمجھا جاتا ہے۔ مذہب سے متعلق مروجہ تشریحات سے مختلف رائے قائم کرنا ہر فرد کا حق ہے، اس تحریر کی اشاعت ایسے افراد کو اعتماد بخشنے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کا باعث بنے گی۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urdutext"><strong>تبلیغی جماعت</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urduexcerpt">اس <a href="https://laaltain.pk/category/laaltain-categories/religion-philosophy/uthtay-hain-hijab-akhir/" target="_blank" rel="noopener">سلسلے</a> کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">دین کے نام پر ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے جو تبلیغی جماعت سے عمومًا اور مولانا طارق جمیل کی طرف سے خصوصًا، تبلیغی حضرات کے فہم دین کا حصہ بنائی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے ان کے طرزِ عمل میں کسی ممکنہ بہتری کے امکان معدوم ہو جاتے ہیں، وہ یہ کہ اگر تبلیغی حضرات کسی کمی کوتاہی کا شکار بھی ہیں تو ان کا تبلیغ کے راستے میں چلنے کا بے انتہا ثواب، جو ہر عمل کو کروڑوں میں بتاتا ہے، ان کی کمی کوتاہیوں کی تلافی کر دے گا اور خدا کے ہاں وہ ٹوٹل میں پاس ہو کر نجات یافتہ بلکہ انعام یافتہ قرار پائیں گے۔ اسے مولانا طارق جمیل سو میں تینتیس نمبر لے کر پاس ہونا کہتے ہیں۔ یہ خود ساختہ معیارِ فہم دین کی ناقص تفہیم سے پیدا ہوا ہے، اور یہ خود کو خدا کے درجے پر فائز کرنا ہے۔ دین کے فرائض اور مستحبات میں اور دین کے ضروری اور کم ضروری احکامات میں فرق کرنا اصل فہم دین ہے۔ مثلاً کوئی اپنے اپنے گھر کے افراد کی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کر کے تبلیغ کرنے نکل کھڑا ہو، تو ایسا کوئی مطالبہ خدا نے اس سے نہیں کیا ہے۔ اپنے جنونِ شوق میں خدا کی تعلیم، اصولوں اور ترتیب کو نظر انداز کر کے اپنے لائحہ عمل کو ترجیح دینا، خدا کی بجائے اپنی پالیسی کو اور اس کو پیش کرنے والوں کو خدا اور رسول کے درجے پر لا بٹھانا ہے، جیسا کہ یہود کے عوام، اپنے فقیہوں اور راہبوں کے ساتھ کرتے تھے۔ قرآن اس کی مذمت کرتے ہوئے کہتا ہے یہود کے عوام اپنے علماء اور راہبوں کو معبود بنا لیا، ان کی سنتے تھے، ان کے مقابلے میں اپنی کتاب کے صریح بیانات کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ یہاں بھی یہی حال ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اپنی دولت و جائیداد پیچ کر یا قرض لے کر تبلیغ پر جانا آپ کا اپنا انتخاب ہو سکتا ہے، دین نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا ہے۔ اپنے انتخاب سے ایک غیر فرض کو ایک فرض کے لیے چھوڑ دینا ایسا معاملہ نہیں ہے کہ خدا یہ دیکھے کہ ایک کام چھوڑ کر دوسری نیکی کر لی گئی ہے تو معاملہ برابر سرابر ہو گیا، ہر گز نہیں، درحقیقت دین کے بارے میں خدا کی ساری سکیم کو ہی الٹ دیا گیا ہے، دین کی ترتیب بدل دی گئی ہے اور جو نتائج خدا پیدا کرنا چاہتا تھا، وہ نتائج پیدا نہیں ہونے دیئے گئے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مسئلہ صرف یہ نہیں کہ لوگوں کو تبلیغ کرنی ہے، مسئلہ یہ بھی ہے کہ اپنے خاندان کو صالح روزی اور صالح تربیت بھی دینی ہے۔ اور یہ کام مسلسل حاضری اور نگرانی مانگتا ہے۔ کوئی مجبوری ہو تو معاملہ الگ ہے، لیکن خدا کبھی یہ نہیں چاہتا کہ گھر کے مرد، سال ہا سال اپنے گھر سے، اس کی ذمہ داریوں سے، اور اپنے گھر والوں کی تربیت سے دور، لوگوں کو تبلیغ کرتے رہیں جو ان پر خدا نے فرض بھی نہیں کی۔ خصوصاً ایسے لوگوں کو تبلیغ کرنا جن کی زبان سے بھی یہ واقف نہیں۔ یہ معاملہ سو میں سے تینتیس نمبر لینے کا نہیں، لازمی سوال چھوڑنے کا ہے، جس کی تلافی اختیاری سوالات کے زیادہ جوابات دینے سے بھی پوری نہیں ہو سکتی۔ تبلیغ کو جس طرح فرض سمجھا گیا ہے، اور جو تفصیلی لائحہ عمل اس کے لیے طے کر لیا گیا ہے کہ آپ گھر سے دور رہ کر اور بلاضرورت سفر کر کر کے لوگوں کو تبلیغ کریں اور کوئی اس کے علاوہ اگر تبلیغ کی کوئی صورت اختیار کرنا چاہے تو اسے دین کی خدمت سرے سے ماننے سے انکار کر دیا جائے، یہ سب دین میں ایک اور دین بنانے کی کوششیں ہیں جس کی غلطی سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ان غیر ضروری قربانیوں کو عزیمت گردانا جاتا ہے جب کہ درحقیقت یہ بڑی غلط فہمی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">معلوم ہونا چاہیے کہ خدا کے قوانین کسی کے فہم دین کی کجی سے بدل نہیں جاتے۔ یہ بات خدا نے قرآن میں واضح طور پر بتائی ہے:</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">(تم پر واضح ہونا چاہیے کہ نجات) نہ تمھاری آرزوؤں پر موقوف ہے نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ (اِس لیے) جو برائی کرے گا، اُس کا بدلہ پائے گا اور اللہ کے مقابلے میں وہ اپنے لیے کوئی حامی اور مددگار نہ پاسکے گا (سورہ النساء، 4:123)</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ان غیر ضروری قربانیوں کے جواز کے لیے جو واقعات سنائے جاتے ہیں، پہلے تو ان کی تصدیق کرانا ضروری ہے کہ کیا وہ واقعی درست ہیں یا نہیں۔ اور اگر درست ہیں تو کیا وہ قرآن مجید کی واضح نصوص اور دین کے واضح اصولوں کے مطابق بھی درست ہیں یا نہیں۔ دین کا معیار قرآن ہونا چاہیے نہ کہ واقعات۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس غیر متناسب حدود سے ماورا دین داری جس میں اپنی مرضی کے کسی دینی عمل کو چن کر باقی کو نظر انداز کرنے کی روش اپنا لی جاتی ہے، اس کے جواز کے لیے لوگوں میں پائے جانے والے بے دین رویوں سے جواز تلاش کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے کہ فلاں اگر جوا یا نشے کی لت میں پڑ کر یا کسی محبوب کی چاہ میں اپنا گھر بار لٹا سکتا ہے یا لوگ نوکری اور دولت کے لیے اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں، تو تبلیغی حضرات نے یا اور کسی دینی رویے میں پڑ کر کوئی حدود سے تجاوز کر رہا ہے تو کیا برا ہے، یہ تو اچھا ہے ہے نا کہ کسی بے دینی کی وجہ سے ایسا نہیں کر رہا۔ یہ جواز پیدا کرنا بہت نا درست ہے۔ دین پر عمل کرنے کے لیے بے دینی کے رویوں سے جواز کیسے لایا جا سکتا ہے؟ دین پر عمل کرنا ہے تو اسی تناسب اور شعور سے عمل کرنا ہوگا جو دین کا مقصود ہے۔ کیا میں چاہوں کہ سارا دن نمازیں پڑھا کروں اور اس کی لذت میں دین اور دینا کی باقی ذمہ داریوں سے جان چھڑا لوں تو کیا درست ہوگا؟ اسی طرح کوئی عشق رسول کو بنیاد پر کر باقی کاموں سے کنارہ کش ہو جائے تو کیا جائز ہوگا۔ ایسا جواز وہی لا سکتا ہے جو دین کے بنیادی تصورات سے بھی واقف نہیں۔ اسی بات کا افسوس ہے کہ تبلیغ میں برسوں گزار لینے کے باوجود دین کی بنیادی تعلیم سے آگاہی حاصل کرنا بالکل غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ان کے بڑوں کے بیانات سن کر دیکھا جا سکتا ہے کہ علم اور فہم دین کی طرف سرے سے کوئی رغبت نہیں دلائی جاتی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اور پھر یہ کون سی عقل مندی ہے کہ تبلیغی حضرات کو ایسے علاقوں اور ملکوں میں تبلیغ کرنے بھیج دیا جاتا ہے جن کی زبان بھی ان کو نہیں آتی۔ اس سے تو تبلیغ کا مقصد ہی حاصل نہیں ہو سکتا۔ خدا نے ہر قوم میں اسی کا ہم زبان پیغمبر بھیجا، لیکن یہاں بھی دین کی حکمت کے برعکس، غیر زبان والوں کو اشاروں یا مترجم کے ذریعے تبلیغ کی جاتی ہے۔ تبلیغ کا مقصد پیغام پہنچانا ہی نہیں ہوتا، بات کو دلوں میں اتارنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے تو نہ صرف یہ کہ ہم زبان ہونا ضروری ہے، بلکہ زبان دان ہونا ضروری ہے۔ تبلیغی جماعت کی یہ پالیسی، دعوت دین کی حکمت کے برخلاف ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">دین کا ہر حکم اپنی شرائط، آداب اور ضوابط کے ساتھ لاگو ہوتا ہے۔ یہ اہم بات تبلیغی حضرات کے سمجھنے کی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">(جاری ہے)</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%b9%da%be%d8%aa%db%92-%db%81%db%8c%da%ba-%d8%ad%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d8%a2%d8%ae%d8%b1-%d8%ad%d8%b5%db%81-%da%86%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%85/">اٹھتے ہیں حجاب آخر-حصہ چہارم</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%b9%da%be%d8%aa%db%92-%db%81%db%8c%da%ba-%d8%ad%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d8%a2%d8%ae%d8%b1-%d8%ad%d8%b5%db%81-%da%86%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
