<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>blasphemy Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/blasphemy/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/blasphemy/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Fri, 31 May 2024 22:36:27 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>blasphemy Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/blasphemy/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>مذہبی جذبات جنید حفیظ کی زندگی سے زیادہ قیمتی نہیں: اداریہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/mazhabi-jazbat-junaid-hafeez-ki-zindagi-se-ziada-qeemti-nahi-editorial/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/mazhabi-jazbat-junaid-hafeez-ki-zindagi-se-ziada-qeemti-nahi-editorial/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 22 Dec 2019 13:34:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اداریہ]]></category>
		<category><![CDATA[blasphemy]]></category>
		<category><![CDATA[Blasphemy Law]]></category>
		<category><![CDATA[junaid hafeez]]></category>
		<category><![CDATA[توہین مذہب]]></category>
		<category><![CDATA[توہین مذہب و رسالت کے قوانین]]></category>
		<category><![CDATA[جنید حفیظ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24836</guid>

					<description><![CDATA[<p>جنید حفیظ کو سزائے موت سنا دی گئی ہے اور یہ فیصلہ انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستانی تاریخ کا ایک اور سیاہ باب ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ اس ملک میں انسانی زندگی، آزادی اور تحفظ کی جدو جہد کرنے والے ہر فرد کے لیے تکلیف اور صدمے کا [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/mazhabi-jazbat-junaid-hafeez-ki-zindagi-se-ziada-qeemti-nahi-editorial/">مذہبی جذبات جنید حفیظ کی زندگی سے زیادہ قیمتی نہیں: اداریہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>جنید حفیظ کو سزائے موت سنا دی گئی ہے اور یہ فیصلہ انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستانی تاریخ کا ایک اور سیاہ باب ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ان کے اہل خانہ بلکہ اس ملک میں انسانی زندگی، آزادی اور تحفظ کی جدو جہد کرنے والے ہر فرد کے لیے تکلیف اور صدمے کا باعث ہے۔ جنید حفیظ کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کسی ایک شخص کو سزائے موت دینے کا حکم نہیں، یہ اس نقطہ نظر کی تائید ہے کہ مذہب اور نظریے کے نام پر کسی فرد، گروہ یا طبقے کا استحصال ، درست ہے، یہ اس کج فہمی کی تائید ہے جس کے مطابق عقائد کا تقدس انسانی جان سے زیادہ مجترم قرار پاتا ہے، اور یہ تاریخی انسانی میں کیے جانے والے ہر اس قتل کی ایک اورعدالتی تائید ہے جہاں افراد کو ان کے نقطہ نظر ، اظہار خیال یا نظریات کی بنیاد پر واجب القتل قرار دیا گیا۔ عدالت کا یہ فیصلہ ایک ہجوم یا ایک مذہبی جنونی کے ہاتھوں کسی فرد کے قتل سے کچھ بہت مختلف نہیں قرار دیا جا سکتا، سوائے اس کے کہ عین ممکن ہے کہ اس فیصلے کو قانون کا تحفظ اور گمراہ کن مذہبی جذبات کی تائید حاصل ہے۔ </p>
<p>جنید حفیظ کو دی جانے والی سزا ایک فرد کو دی جانے والی سزا نہیں، بلکہ ریاست اور نظام انصاف کے مذہبی گروہوں کے ہاتھوں یرغمال ہونے کی فردجرم ہے۔ یہ ہماری ریاست کے اس طرز حکمرانی کا واضح اظہار ہے جہاں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قانون ہاتھ میں لینے کوسزا دینے کی بجائے ان کی منشاء کے مطابق کمزور طبقات کو قربان کرنا درست خیال کیا جاتا ہے۔ اس فیصلے سے متعلق یہ بحث کہ آیا جنید حفیظ اس جرم کے مرتکب ہوئے یا نہیں جس کے لیے انہیں سزائے موت جیسی ظالمانہ اور غیر انسانی سزا دی گئی، یا کیا انہیں دفاع کا مناسب حق دیا گیا یا نہیں اور کیا ان کے خلاف کافی شواہد موجود تھے۔۔۔ اور کیا جو واقعات یا بیانات ان سے منسوب کیے گئے اگر وہ واقعتاً ان سے سرزد ہوئے بھی تو کیا وہ توہین مذہب و رسالت کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں اس پر آنے والے دنوں میں اعلی عدلیہ اور سماجی طبقات ہر جگہ بحث کی جائے گی تاہم اس بحث سے قطع نظر اس وقت یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر وہ توہین مذہب و رسالت کے مرتکب ہوئے بھی اور اگر مذہبی طبقات کے دباو میں اسے لائق تعزیر جرم خیال کر بھی لیا جائے تو بھی جنید حفیظ سزائے موت کے مستحق نہیں۔</p>
<p> اس موقع پر ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا جانا ضروری ہے کہ کیا کسی بھی مقدس شخصیت، نظریے یا مذہب کے ماننے والوں کے جذبات کو ایک شخص کی زندگی سے زیادہ اہمیت دی جا سکتی ہے؟ کیا کسی بھی مقدس شخصیت، نظریے یا مذہب پر تنقید، طنز یا توہین کو جرم قرار دیا جا سکتا ہے؟ اور اگر یہ جرم ہے بھی تو کیا یہ اس قدر سنگین جرم ہے کہ اس کے لیے سزائے موت کو لازم قرار دیا جائے؟ مقدس شخصیات ، مذہب اور نظریات کا احترام کیا جاسکتا ہے مگر انہیں تنقیدبالاتر قرار نہیں دیا جا سکتا، ان پر طنز کو نامناسب خیال کیا جا سکتا ہے مگر جرم نہیں قرار دیا جا سکتا، ان کی توہین کو غلط خیال کیا جا سکتا ہے اور ایسا کرنے والوں کو مہذب انداز میں منع کیا جا سکتا ہے مگر اسے جرم قرار دے کر سزائے موت جیسی ظالمانہ سزا سنایا جانا نہ صرف غلط ہے بلکہ صریحاً ظلم ہے۔ </p>
<p>عدالتی فیصلہ واضح ہے۔ اس میں کوئی ابہام نہیں کہ مذہبی جذبات ریاست اور عدالت کے لیے انسانی زندگی سے زیادہ اہم ہیں، قانون شکن ہجوموں کا خوف آزادی اظہار رائے کا تحفظ یقینی بنانے کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ ہے اور ریاست اور عدالتیں اپنی کمزوری کے باعث امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مذہبی جنونیوں کے آستانوں پر جنید حفیظ جیسوں کی بھینٹ چڑھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتی۔ </p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/mazhabi-jazbat-junaid-hafeez-ki-zindagi-se-ziada-qeemti-nahi-editorial/">مذہبی جذبات جنید حفیظ کی زندگی سے زیادہ قیمتی نہیں: اداریہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/mazhabi-jazbat-junaid-hafeez-ki-zindagi-se-ziada-qeemti-nahi-editorial/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آسیہ بی بی کی بریت؛ قابل تحسین فیصلہ مگر۔۔۔-اداریہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/asia-bibi-acquittal-but/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/asia-bibi-acquittal-but/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 31 Oct 2018 10:52:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اداریہ]]></category>
		<category><![CDATA[295 سی]]></category>
		<category><![CDATA[295-C]]></category>
		<category><![CDATA[Asia Bibi]]></category>
		<category><![CDATA[asif saeed khosa]]></category>
		<category><![CDATA[blasphemy]]></category>
		<category><![CDATA[آسیہ بی بی]]></category>
		<category><![CDATA[توہین مذہب و رسالت]]></category>
		<category><![CDATA[ثاقب نثار]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم کورٹ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23779</guid>

					<description><![CDATA[<p>عدالت عظمیٰ کی جانب سے آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف اپیل کا فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے۔ فیصلے کے مطابق آسیہ بی بی کو ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر، گواہان کے بیانات میں تضاد، ملزمہ کے غیر عدالتی اعتراف جرم پر انحصار اور ماتحت عدالتوں کی جانب سے آسیہ [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/asia-bibi-acquittal-but/">آسیہ بی بی کی بریت؛ قابل تحسین فیصلہ مگر۔۔۔-اداریہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>عدالت عظمیٰ کی جانب سے آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف اپیل کا فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے۔ فیصلے کے مطابق آسیہ بی بی کو ایف آئی آر  کے اندراج میں تاخیر، گواہان کے بیانات میں تضاد، ملزمہ کے غیر عدالتی اعتراف جرم پر انحصار اور ماتحت عدالتوں کی جانب سے آسیہ بی بی پر لگائے جانے والے الزامات کی صحت اور ان کے ماحول کے تناظر کو نظر انداز کرنے کے باعث بری کیا گیا۔  قریب آٹھ برس سے قید آسیہ بی بی اور ان کے اہل خانہ کے لیے یہ دن ہمیشہ جبر کی ایک طویل رات کے خاتمے کا دن ہے۔ مگر ابھی ریاست کو عدالتی فیصلے پر عملدرآمد اور آسیہ اور ان کے خاندان کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔</p>
<p>چیف جسٹس ثاقب نثار، جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل  پر مشتمل بنچ اس فیصلے پر تحسین کا مستحق ہے۔ یہ فیصلہ کئی اعتبار سے تاریخ ساز ہے اور پاکستان میں توہین مذہب و رسالت کے قانون کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے راہ ہموار کر سکتا ہے۔ یقیناً اس فیصلے کے بعد توہین مذہب و رسالت کے سیاہ قانون کے تحت گرفتار اور سزا پانے والے دیگر افراد بشمول جنید حفیظ بھی جلد رہا کیے جائیں گے۔ کیوں کہ یہ فیصلہ اس امر پر سند ہے کہ ہر ملزم کو خواہ وہ توہین مذہب و رسالت کے ارکاب کا ملزم ہی کیوں نہ ہو کو ایک غیر جانبدار عدالت میں اپنے قانونی و عدالتی دفاع کا مکمل حق ہے۔ اور جرم ثابت ہونے تک  توہین مذہب و رسالت کا مرتکب فرد بھی بے گناہ اور بے قصور ہے۔ آسیہ بی بی کے خلاف ٹرائل کورٹ کا فیصلہ توہین مذہب و رسالت کے مقدمات میں انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر سزائے موت جیسی غیر انسانی سزا سانے  کی ایک اور مثال ہے۔</p>
<p>فیصلہ اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ  توہین مذہب و رسالت کے قانون کے تحت سزا کا جواز  تبھی تک ممکن ہے جب اس  جرم کے تحت سزا  کے لیے  تفتیش اور فیصلے کے لیے ایک غیر جانبدار عدالتی نظام کے دائرہ اختیار کو  تسلیم کیا جائے۔  اس جرم کے لیے سزا دینے کا اختیار بھی فرد یا ہجوم کے پاس نہیں ریاست کے پاس ہے۔</p>
<p>یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کیوں کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت اپنے اختیارات سے تجاوز اور سیاسی اور جانبدارانہ طرزعمل  کے باعث اپنی ساکھ خراب کر چکی ہے، اس فیصلے کے ذریعے عدالت خصوصاً چیف جسٹس نے عدالت عظمیٰ کے اصل کردار یعنی آئین اور قانون کے تحت بنیادی حقوق کے تحفظ اورانصاف کی فراہمی کی جانب رجوع کیا ہے۔ عدالت کی جانب سے ماتحت عدلیہ پر برہمی بھی جائز ہے جو شواہد کی عدم موجودگی میں بھی سزائے موت جیسی سنگین سزائیں سنانے کی روش اختیار کیے ہوئے ہیں۔</p>
<p>یہ فیصلہ لائق تحسین ہے مگر اس فیصلے کے باوجود ابھی توہین مذہب و رسالت  کے سیاہ پاکستانی قانون اور الزامات کے تحت جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تدارک میں وقت لگے گا۔ اس قانون کے خاتمے یا اس میں انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں سے ہم آہنگ اصلاحات کے بغیر اس قانون کا غلط استعمال روکنا ممکن نہیں۔ عدالت کے ساتھ ساتھ پارلیمان کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے اور اس سیاہ قانون کے تحت لازمی سزائے موت کے خاتمے اور آزادی اظہار رائے اور انسانی حقوق کو توہین مذہب و رسالت پر مقدم قرار دینے کے لیے قانون سازی کرنی ہے۔</p>
<p>یہ بھی یاد رہے کہ محض آسیہ بی بی کی بریت کافی نہیں، محض اس ایک فیصلے کے ذریعے  توہین مذہب و رسالت کے الزامات کے تحت جاری تشدد کا خاتمہ ممکن نہیں بنا سکتا، اس مقصد کے لیے توہین مذہب و رسالت کو قابل تعزیر اقوال و افعال کی فہرست سے نکالنے کے علاوہ مذہبی اختلافات کو تسلیم کرنے، مذہب اور مذہبی شخصیات پر تنقید، طنز اور استہزاء کے حق کو تسلیم کرنا بھی ضروری ہے۔ یہ تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ مذہب اور مذہبی شخصیات کا تقدس انسانی جان، انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں پر مقدم نہیں۔</p>
<p>آج یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ایک طرف توہین مذہب و رسالت کے الزامات کے تحت 60 سے زائد افراد کو مشتعل ہجوم ماورائے عدالت قتل کر چکا ہے تو دوسری طرف عدالتوں ہی کی جانب سے توہین مذہب و رسالت کے لیے مزید سخت قوانین کے نفاذ اور آن لائن آزادی اظہار کو محدود کرنے کے احکامات بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔ یہ بھی ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ توہین مذہب و رسالت کے نام پر نفرت آمیز تقاریر اور تشدد عام ہے جس کا انسداد آزادی اطہار رائے اور مذہبی اختلاف کو کم کر کے نہیں انہیں تحفط دے کر ہی ممکن ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/asia-bibi-acquittal-but/">آسیہ بی بی کی بریت؛ قابل تحسین فیصلہ مگر۔۔۔-اداریہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/asia-bibi-acquittal-but/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مذہبی جبر کا ایک اور چہرہ-اداریہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ac%d8%a8%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c%db%81/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ac%d8%a8%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Jun 2017 08:51:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اداریہ]]></category>
		<category><![CDATA[295-C]]></category>
		<category><![CDATA[blasphemy]]></category>
		<category><![CDATA[social media]]></category>
		<category><![CDATA[توہین رسالت]]></category>
		<category><![CDATA[توہین رسالت کے مقدمات]]></category>
		<category><![CDATA[توہین مذہب]]></category>
		<category><![CDATA[سوشل میڈیا]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=21172</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">اداریہ: اس غیر انسانی فیصلے کے نتیجے میں انٹرنیٹ آزادی محدود ہو گی،  آزادانہ اظہار رائے  پر دباؤ میں اضافہ ہو گا اور اقلیتیں پہلے سے زیادہ غیر محفوط ہوں گی۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ac%d8%a8%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c%db%81/">مذہبی جبر کا ایک اور چہرہ-اداریہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">
 بہاولپور میں قائم انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سوشل میڈیا پرصحابہ سے متعلق <a href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan-40236023" target="_blank">‘توہین آمیز’ مواد پوسٹ کرنے کے ‘جرم’ میں سزائے موت سنائی ہے</a>۔ مقدس شخصیات، صحائف اور عقائد کی توہین جیسے معمولی واقعات کی دہشت گردی کی عدالتوں میں سماعت اور اس پر پھانسی جیسی سنگین اور غیر انسانی سزا مذہب کے نام پر جبر اور ظلم کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔یہ مقدمہ اور اس کے نتیجے میں دی جانے والی سزا اس لیے زیادہ خوفناک اور غیر انسانی ہے کیوں کہ یہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اظہار خیال پر پاکستان میں دی جانے والی پہلی ایسی سزا ہے۔ اس مقدمے کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں سماعت بجائے خود ایک ناانصافی ہے۔ اس غیر انسانی فیصلے کے نتیجے میں انٹرنیٹ آزادی محدود ہو گی،  آزادانہ اظہار رائے پر دباؤ میں اضافہ ہو گا اور اقلیتیں پہلے سے زیادہ غیر محفوط ہوں گی۔ </div>
<p></p>
<div class="urdutext">
 توہین مذہب و رسالت کی کسی متفقہ تعریف کی عدم موجودگی میں کسی بھی واقعے کو سزائے موت کا موجب جرم قرار دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں انسانی آزادیوں، حقوق اور زندگی کی اہمیت چند مذہبی لوگوں کے عقائد اور جذبات سے بھی ارزاں ہے۔ یہ قانون ریاستی اور معاشرتی سطح پر انسانی حقوق اور آزادیوں کی پامالیوں کو قانونی تحفظ دینے کے لیے استعمال کیا جا تا ہے۔ توہین مذہب و رسالت کے نام پر ریاستی اور معاشرتی جبر پاکستانی معاشرے میں عدم برداشت کی ایسی پر تشدد اور غیر جمہوری روایات کو جنم دے رہا ہے جو کبھی مشتعل ہجوم کی صورت میں سرعام قتل و غارت کے بہیمانہ واقعات کے لیے جواز بخشتی ہیں تو کبھی عدالتوں میں غیر انسانی فیصلوں اور سزاؤں کی وجہ۔</div>
<p></p>
<div class="urdutext">
توہین مذہب و رسالت کے غیر انسانی قانون کے تحت دہشت گردی کی عدالت میں مقدمے کی سماعت اور موت کی سزا جبر کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ دور غیر مسلم اور غیر سنی اقلیتوں کے لیے بالخصوص اور دیگر مکاتب فکر کے افراد کے لیے بالعموم ابتلاء اور آزمائش کا ایک پرآشوب دور ثابت ہو گا۔ توہین مذہب و رسالت کے نام پر روا رکھے جانے والے ریاستی اور غیر ریاستی تشدد کی لپیٹ میں آزادی اظہار رائے، اختلاف رائے اور انسانی آزادیاں بھی آئیں گی اور بہت جلد یہ تشدد مزید غیر منصفانہ قوانین، مزید غیر انسانی سزاؤں اور مزید بہیمانہ غارت گری کو فروغ دے گا۔ عدم برداشت اور تشدد کی یہ صورت طالبان یا داعش سے زیادہ خطرناک ثابت ہو گی۔ پاکستان متعدد فرقوں اور عقائد کے حامل افراد کا ملک ہے ایسے میں ایک فرقے کے لیے جو توہین مذہب، توہین رسالت یا توہین صحابہ ہے وہ دوسرے فرقوں کے لیے تاریخی حقائق اور عین ایمان ہے۔ توہین مذہب و رسالت کی تعریف کا یہی اختلاف ہر فرد کو جان لینے کا خدائی اختیار دینے کا باعث بنے گا۔ </div>
<p></p>
<div class="urdutext">
مقدس شخصیات کے مرتبے اور تاریخی حیثیت کے حوالے سے اختلافات ہماری تاریخ کا حصہ ہیں، اور کسی بھی فرد کو مقدس شخصیات کی تاریخی حیثیت پر سوال اٹھانے یا کسی دوسرے فرقے میں ان شخصیات کی حیثیت سے مختلف رائے رکھنے اور اس کا اظہار کرنے کو توہین مذہب و رسالت قرار نہیں دیا جا سکتا اور نہ ہی اس بنیاد پر سزا دی جا سکتی ہے۔ یہ باور کرنا بھی ضروری ہے کہ واقعتاً کوئی فرد اگر توہین کا مرتکب ہوا بھی ہے تو بھی اس معمولی جرم کو انسداددہشت گردی  کی عدالتوں میں سننے اور اس کے لیے سزائے موت جیسی سنگین اور غیر انسانی سزا تجویز کرنے کا کوئی معقول جواز موجود نہیں۔
</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ac%d8%a8%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c%db%81/">مذہبی جبر کا ایک اور چہرہ-اداریہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ac%d8%a8%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عشرہ // میں مارا جاؤں گا</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%b4%d8%b1%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d8%ac%d8%a7%d8%a4%da%ba-%da%af%d8%a7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%b4%d8%b1%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d8%ac%d8%a7%d8%a4%da%ba-%da%af%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد طاہر مجتبیٰ]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 01 Jun 2017 18:45:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[Ashra]]></category>
		<category><![CDATA[blasphemy]]></category>
		<category><![CDATA[Mashal khan]]></category>
		<category><![CDATA[Mob lynching]]></category>
		<category><![CDATA[توہین مذہب و رسالت]]></category>
		<category><![CDATA[طاہر مجتبیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[عشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[مشال خان]]></category>
		<category><![CDATA[مقدس ہستیاں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=20990</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">طاہر مجتبیٰ: کامیڈی کے کسی پنچ پر، بلاگ کی کسی سطر پر<br />
سوچ کے چند دھاروں پر، خیالوں اور سوالوں پر<br />
کسے کے عشق و عقیدت کی وحشت کی تسکین کی خاطر، میں مارا جاؤں گا</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%b4%d8%b1%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d8%ac%d8%a7%d8%a4%da%ba-%da%af%d8%a7/">عشرہ // میں مارا جاؤں گا</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">میں مارا جاؤں گا</div>
<div class="urdutext">پہلے الزام لگایا جائے گا، پھر ہجوم ورغلایا جائے گا<br>
دن کی ساعتوں، ماہ و سال، زمان و مکاں سے کہیں آگے<br>
تشدد کا اک طویل دور ہو گا<br>
جسے سہنے کا رگوں میں اک عجیب غرور دوڑے گا<br>
ہر معلوم اذیت آزمانے کی مشق کا ستم<br>
میری رگ رگ سے جاں کی ہر رمق کھینچے گا<br>
اور پھر ٹھنڈا اور خاموش کرا دے گا<br>
کامیڈی کے کسی پنچ پر، بلاگ کی کسی سطر پر<br>
سوچ کے چند دھاروں پر، خیالوں اور سوالوں پر<br>
کسے کے عشق و عقیدت کی وحشت کی تسکین کی خاطر، میں مارا جاؤں گا</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">مقدس ہستیاں</div>
<div class="urdutext">اپنے اپنے زمانوں میں نئے اور مختلف پیغام پر جن کا راستہ روکا گیا<br>
بتوں پر تیشے چلانے پر زیر عتاب رہے<br>
اگلے زمانوں میں وہ مقدس ہو گئے<br>
اور پرانے ہو گئے<br>
زمانے گزرنے کے ساتھ عقیدتوں میں دوبارہ تراشے جاتے رہے<br>
ان کے صنم کدے بن گئے<br>
جہاں سے بتوں کی ناموس کے تحفظ کے جتھے نکلتے ہیں<br>
روشن چراغوں اور مشعالوں کو بجھانے کے لئے<br>
نئے افکار کے میناروں کو جلانے کے لئے<br>
کہ وہ انسان ہیں، ابھی مقدس نہیں</div>
<p>Image: Express Tribune</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%b4%d8%b1%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d8%ac%d8%a7%d8%a4%da%ba-%da%af%d8%a7/">عشرہ // میں مارا جاؤں گا</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%b4%d8%b1%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d8%ac%d8%a7%d8%a4%da%ba-%da%af%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عشرہ // ناموسِ رسالت کا ٹھیکیدار</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%b4%d8%b1%db%81-%d9%86%d8%a7%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%90-%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d9%be%da%be%d9%88%d9%84%d9%86-%d8%af%db%8c%d9%88%d8%aa%d8%a7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%b4%d8%b1%db%81-%d9%86%d8%a7%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%90-%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d9%be%da%be%d9%88%d9%84%d9%86-%d8%af%db%8c%d9%88%d8%aa%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ہمراز سروانی]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 01 Jun 2017 11:08:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[Ashra]]></category>
		<category><![CDATA[blasphemy]]></category>
		<category><![CDATA[Hamraz Sarwani]]></category>
		<category><![CDATA[urdu poetry]]></category>
		<category><![CDATA[اردو شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[جدید اردو شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[عشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[ناموس رسالت]]></category>
		<category><![CDATA[ہمراز سروانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=20977</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">ہمراز سروانی: یہ مذہب نام کی افیم ہمیں کب تک سنگھاو گے؟</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%b4%d8%b1%db%81-%d9%86%d8%a7%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%90-%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d9%be%da%be%d9%88%d9%84%d9%86-%d8%af%db%8c%d9%88%d8%aa%d8%a7/">عشرہ // ناموسِ رسالت کا ٹھیکیدار</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر</div>
<p>[/blockquote]<br>
href=“https://laaltain.pk/category/literature/poetry/ashra/” target=“_blank”&gt;عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">ناموسِ رسالت کا ٹھیکیدار</div>
<div class="urdutext">سالہا سال ہمیں کیڑے مکوڑے سمجھا تم نے<br>
انصاف جو تمہارے کاندھوں پر ہمارا قرض تھا<br>
اپنے اور اپنے طبقے کی لونڈی بنا کر رکھا اس کو<br>
اور جب تمہارے ہی لوگ تمہاری بقا کے درپے ہوئے<br>
ناموسِ رسالت نے تم پر رقت طاری کر دی؟<br>
کیسے مختلف ہے تمہارا متعفن وجود ان براہنوں سے؟<br>
جو دلتوں کی کالی یاسمینوں کے اچھوت بطنوں میں<br>
جب جی چاہے اپنے کریہالذات نطفے چھوڑنے کے بعد<br>
پوتر گنگا کے شدھ پانی میں اپنے چوتڑ دھوتے ہیں<br>
یہ مذہب نام کی افیم ہمیں کب تک سنگھاو گے؟</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%b4%d8%b1%db%81-%d9%86%d8%a7%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%90-%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d9%be%da%be%d9%88%d9%84%d9%86-%d8%af%db%8c%d9%88%d8%aa%d8%a7/">عشرہ // ناموسِ رسالت کا ٹھیکیدار</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%b4%d8%b1%db%81-%d9%86%d8%a7%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%90-%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d9%be%da%be%d9%88%d9%84%d9%86-%d8%af%db%8c%d9%88%d8%aa%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ناموسِ رسالت کےنام پر قتل و غارت بھی دہشت گردی ہے۔اداریہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%a7%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%90-%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%d8%aa-%da%a9%db%92%d9%86%d8%a7%d9%85-%d9%be%d8%b1-%d9%82%d8%aa%d9%84-%d9%88-%d8%ba%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%af%db%81%d8%b4/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%a7%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%90-%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%d8%aa-%da%a9%db%92%d9%86%d8%a7%d9%85-%d9%be%d8%b1-%d9%82%d8%aa%d9%84-%d9%88-%d8%ba%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%af%db%81%d8%b4/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 21 Apr 2017 09:40:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اداریہ]]></category>
		<category><![CDATA[blasphemy]]></category>
		<category><![CDATA[islam and terroeism]]></category>
		<category><![CDATA[Mumtaz Qadri]]></category>
		<category><![CDATA[terrorism]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام اور دہشت گردی]]></category>
		<category><![CDATA[بریلوی اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ممتاز قادری]]></category>
		<category><![CDATA[ناموس رسالت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=20601</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">اداریہ: توہین رسالت و مذہب کے الزامات کے تحت تشدد اور دہشت گردی کی یہ لہر اس لیے بھی خوفناک ہے کیوں کہ یہ معاملہ پیغمبر اسلام کی حرمت کے نام پر قتل و غارت سے بہت جلد توہین اصحاب، توہین اہل بیت، توہین اولیاء اور توہین مذہبی شعائر  کے نام پر قتل و غارت کی صورت اختیار کر لے گا</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%a7%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%90-%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%d8%aa-%da%a9%db%92%d9%86%d8%a7%d9%85-%d9%be%d8%b1-%d9%82%d8%aa%d9%84-%d9%88-%d8%ba%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%af%db%81%d8%b4/">ناموسِ رسالت کےنام پر قتل و غارت بھی دہشت گردی ہے۔اداریہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">پسرور میں تین خواتین کی جانب سے توہین رسالت کے نام پر ایک شخص کو قتل کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست، آئین اور انسانی حقوق کے لیے اگلا خطرہ ناموس رسالت و مذہب کے نام پر کی جانے والی دہشت گردی ہے۔ ریاست پہلے ہی نفاذ اسلام اور احیائے خلافت کی علمبردار مذہبی تشریحات کی بنیاد پر کی جانے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کی روک تھام کے لیے کوشاں ہے، ایسے میں ناموس رسالت یا حرمت اسلام کے نام پر آئین اور قانون کی صریح خلاف ورزیوں کا متواتر ارتکاب ریاست کے لیے مذہبی دہشت گردی کا ایک جان لیوا مظہر ہے۔</div>
<p></p>
<div class="urdutext">
احیائے خلافت اور نفاذ اسلام کی طرح ناموس رسالت کا تحفظ بھی ایک ایسے دہشت گرد بیانیے اور مسلح جدوجہد کو جنم دینے کا باعث بن رہا ہے جو پاکستانی جمہوریت، آئین اور ریاست کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ ولی خان یونیورسٹی مردان اور پسرور میں توہین رسالت کے الزام کے تحت کیے جانے والے بہیمانہ قتل اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ حرمت رسول اور ناموس رسالت کا معاملہ بھی اب مذہبی عقیدت کی بجائے سیاسی اور معاشرتی اثرورسوخ کے حصول کا محرک بن چکا ہے اور قانون کو ہاتھ میں لینے کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ ناموس رسالت کے نام پر دہشت گردی کے حالیہ واقعات اس لیے بھی زیادہ تشویش ناک ہیں کیوں کہ ممتاز قادری کی صورت میں اس تحریک کو ایک ایسا شہید مل گیا ہے جو حب رسول کی گمراہ کن تعبیروں کو مزید عسکریت پسند بنا رہا ہے۔</div>
<p></p>
<div class="urdutext">
تشویش ناک امر یہ ہے کہ ناموس رسالت کے تحفظ اور توہین رسالت کی روک تھام کے لیے ہتھیار اٹھانے والوں کو بھی پاکستان کے مذہبی طبقات کی حمایت حاصل ہے، مذہبی طبقات ناموس رسالت کے تحفظ کے نام پر اس موضوع پر ہتھیار اٹھانے کی مدح سرائی کر رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ  توہین رسالت کے نام پر قتل کرنے والے افراد تاحال مشتعل ہجوم یا انفرادی سطح پر قانون کو ہاتھ لینے والے ہیں، ابھی تک نفاذ اسلام یا احیائے خلافت کے لیے سرگرداں طالبان، القاعدہ یا داعش کی طرح منظم عسکری تنظیمیں میدان میں نہیں آئیں تاہم سرل المیڈا نے اپنی حالیہ تحریر میں ممتاز قادری کے مزار کے ایک نئی لال مسجد بننے کےجس خدشے کا اظہار  کیا ہے وہ حقیقی ہے اور بعید ازقیاس نہیں۔ یہ جمہوریت، آزادی فکر، انسانی حقوق اور انسانی آزادیوں کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور اس کا ادراک کرتے ہوئے اس کا سدباب کیا جانا ضروری ہے۔ مزید براں یہ کہ دہشت گردی کی یہ لہر صرف علاقائی خطرہ نہیں، شارلی ایبڈو کے دفتر پر حملے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ توہین رسالت کے الزام کے تحت کہیں بھی کوئی بھی دہشت گردانہ کارروائی ہو سکتی ہے۔</div>
<p></p>
<div class="urdutext">
 ریاستی اداروں اور سیاسی جماعتوں نے اگر بروقت دہشت گردی کی اس نئی صورت سے درپیش خطرات کا ادراک کرتے ہوئے خاطر خواہ اقدامات نہ کیے تو یہ واقعات شدت اختیار کریں گے۔ ممتاز قادری کی پھانسی پر عملدرآمد کے حوالے سے یہ بحث کی جا سکتی ہے کہ آیا پھانسی کی سزا ناموس رسالت کے نام پر دہشت گردی کے واقعات روک سکتی ہے یا نہیں تاہم ممتاز قادری کی سزا پر عملدرآمد سے یہ تاثر ضرور ملا تھا کہ ریاست حرمت رسول کے نام پر دیشت گردی کے واقعات سے آگاہ ہے اور ان کے سدباب کے لیے سنجیدہ بھی، تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماجی رابطون کی ویب سائٹس پر مبینہ گستاخانہ صفحات کے حوالے سے سماعت اور توہین رسالت کے نام پر قتل و غارت کے متواتر واقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرے کا ایک بڑا طبقہ اس قتل و غارت کو اسی طرح جائز بالکہ مذہبی فریضہ سمجھتا ہے جیسا کہ طالبان، القاعدہ اور داعش نفاذ اسلام اور احیائے خلافت کے نام پر قتل و غارت کو مذہبی حکم قرار دیتے ہیں۔ </div>
<p></p>
<div class="urdutext">
توہین رسالت و مذہب کے الزامات کے تحت تشدد اور دہشت گردی کی یہ لہر اس لیے بھی خوفناک ہے کیوں کہ یہ معاملہ پیغمبر اسلام کی حرمت کے نام پر قتل و غارت سے بہت جلد توہین اصحاب، توہین اہل بیت، توہین اولیاء اور توہین مذہبی شعائر  کے نام پر قتل و غارت کی صورت اختیار کر لے گا، ریاست، حکومت اور معاشرے کو توہین رسالت و مذہب کے معاملے میں تشدد اور دہشت گردی کی ہر صورت کو مسترد کرنا ہو گا اور ممتاز قادری جیسے دہشت گردوں کو سزا دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا وگرنہ یہ ناسور بھی بہت جلد طالبان، القاعدہ اور داعش جیسے ایسے مسلح جتھوں کو جنم دے گا جو ختم نبوت، حرمت رسول یا تحفظِ اسلام کے نام پر ہمارے سکولوں، ہسپتالوں، عبادت گاہوں پر  بہیمانہ حملے کریں گے۔
</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%a7%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%90-%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%d8%aa-%da%a9%db%92%d9%86%d8%a7%d9%85-%d9%be%d8%b1-%d9%82%d8%aa%d9%84-%d9%88-%d8%ba%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%af%db%81%d8%b4/">ناموسِ رسالت کےنام پر قتل و غارت بھی دہشت گردی ہے۔اداریہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%a7%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%90-%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%d8%aa-%da%a9%db%92%d9%86%d8%a7%d9%85-%d9%be%d8%b1-%d9%82%d8%aa%d9%84-%d9%88-%d8%ba%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%af%db%81%d8%b4/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>انسانی جان حرمت رسول سے زیادہ مقدس ہے-اداریہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86-%d8%ad%d8%b1%d9%85%d8%aa-%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84-%d8%b3%db%92-%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%db%81-%d9%85%d9%82%d8%af%d8%b3-%db%81%db%92-%d8%a7%d8%af/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86-%d8%ad%d8%b1%d9%85%d8%aa-%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84-%d8%b3%db%92-%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%db%81-%d9%85%d9%82%d8%af%d8%b3-%db%81%db%92-%d8%a7%d8%af/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 14 Apr 2017 08:41:15 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اداریہ]]></category>
		<category><![CDATA[blasphemy]]></category>
		<category><![CDATA[توہین رسالت]]></category>
		<category><![CDATA[توہین مذہب]]></category>
		<category><![CDATA[علم دین]]></category>
		<category><![CDATA[مردان]]></category>
		<category><![CDATA[ممتاز قادری]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=20505</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">اداریہ: اسلام اور پیغمبر اسلام کی حرمت، تقدس اور اہمیت کسی بھی طرح ایک انسان کی زندگی سے زیادہ مقدس نہیں۔ مذہب، مقدس شخصیات اور مذہبی کتب کا احترام اپنی جگہ لیکن اس بناء پر انسانی آزادیوں اور حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86-%d8%ad%d8%b1%d9%85%d8%aa-%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84-%d8%b3%db%92-%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%db%81-%d9%85%d9%82%d8%af%d8%b3-%db%81%db%92-%d8%a7%d8%af/">انسانی جان حرمت رسول سے زیادہ مقدس ہے-اداریہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">مردان میں مشعل خان کا  بہیمانہ قتل محض ایک ہجوم کے ہاتھوں ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ یہ مذہب کی ایسی تشریحات کا انسانیت سوز اظہار ہے جو عقیدے کو انسانیت سے مقدم قرار دیتی ہیں۔ مذہبی طبقات کی جانب سے حرمت رسول اور تقدیس مذہب کو انسانی حقوق اور آزادیوں سے زیادہ اہم ثابت کرنے کا رحجان پاکستان میں خونریزی کا باعث بن رہا ہے،  ممتاز قادری اور علم دین جیسے قاتلوں کی مدح سرائی ایک جیتے جاگتے فرد کو اپنے عقیدے کی بنیاد پر قتل کرنے کا جواز بخشنے کی بنیادی وجہ ہے۔ حرمت رسول و مذہب کی یہ گمراہ کن تعبیریں پاکستانی معاشرے کو ایک ایسے تابوت میں تبدیل کر رہی ہیں جہاں مذہبی معاملات میں اختلاف کرنے، تنقید کرنے اور سوال کرنے کی گنجائش ختم ہوتی جا رہی ہے، ہمارا معاشرہ ایک ایسی کال کوٹھڑی کی شکل اختیار کر چکا ہے جہاں کوئی بھی کسی کو بھی محض توہین مذہب و رسالت کے الزام کے تحت نہ صرف قتل کر سکتا ہے بلکہ غازی اور شہید کا مرتبہ بھی پا سکتا ہے۔ </div>
<p></p>
<div class="urdutext">
توہین مذہب و رسالت کے نام پر جہاں ایک جانب ممتاز قادریوں کے جتھے بستیاں جلا رہے ہیں وہیں ریاستی ادارے اور سیاسی جماعتیں اس ضمن میں قانون سازی سے گریزاں ہیں۔ریاست اور اس کے ادارے نہ صرف انسانی جان کے تحفظ  میں ناکام رہے ہیں بلکہ وہ مذہب کی بنیاد پر خونریزی پر ابھارنے والوں کا سدباب کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئے۔ “گستاخانہ مواد” کی بناء پر گرفتاریوں، مقدمات اور پابندیوں کے نفاذ کی کوششوں سے “گستاخ رسول کی ایک سزا سر تن سے جدا” کے نعرے لگانے والوکی بیخ کنی نہیں کی جا سکی۔ </div>
<p></p>
<div class="urdutext">
یہ پہلا واقعہ نہیں جب کسی جتھے نے توہین مذہب و رسالت کا ہتھیار اٹھا کر گلے کاٹے ہوں، سلمان تاثیر، شمع اور شہزاد سمیت کتنے ہی لوگ توہین مذہب و رسالت کے نام پر قتل کیے جا چکے ہیں۔ یہ صورت حال نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ مذہبی تشریحات میں بنیادی اصلاحات کی متقاضی بھی۔ اسلام خواہ کتنا ہی سچا مذہب ہو، پیغمبر اسلام خواہ کتنے ہی محترم ہوں لیکن اسلام اور پیغمبر اسلام کی حرمت، تقدس اور اہمیت کسی بھی طرح ایک انسان کی زندگی سے زیادہ محترم، مقدس اور اہم نہیں۔ مذہب، مقدس شخصیات اور مذہبی کتب کا احترام اپنی جگہ لیکن اس بناء پر انسانی آزادیوں اور حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام اور پیغمبر اسلام پر تنقید، اعتراض اور طنز اشتعال انگیز ہو سکتے ہیں لیکن انہیں جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ توہین مذہب اور گستاخی رسول گناہ یا جرم ہو سکتے ہیں لیکن اس کی بناء پر کسی کو قتل کرنے کا جواز تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ </div>
<p></p>
<div class="urdutext">
مردان میں طلبہ کے ایک ہجوم کے ہاتھوں ایک طالب علم کی بہیمانہ ہلاکت کو کسی بھی طرح درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ قطع نظر اس کے کہ مشعل خان یا ایسے ہی دوسرے لوگ  توہین مذہب و رسالت کے مرتکب ہوئے یا نہیں لیکن یہ ضرور طے ہے کہ علم دین، ممتاز قادری اور امردان کا مشتعل ہجوم مجرم ہیں اور سخت سے سخت سزا کے مستحق بھی۔ لیکن محض چند قاتلوں کو سزا دے کر توہین مذہب و رسالت کے نام پر قتل و غارت روکا نہیں جا سکتا، اس مقصد کے لیے مذہب پر تنقید، اعتراض اور طنز کے حق کو تسلیم کرنا اور اس کا تحفظ کرنے کے لیے قانون سازی کرنا ضروری ہے۔ حرمت رسول پر جان قربان کرنے  اور جان لینے کا درس دینے والے مبلغین کو یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ ان کا مذہب اور ان کے پیغمبر کسی بھی طرح تنقید، اعتراض اور طنز سے بالاتر نہیں، انہیں یہ ماننا ہو گا کہ اسلام اور پیغمبر اسلام کے تقدس کا تحفظ اپنی جگہ لیکن اس بناء پر کسی کی جان لینے کا اختیار انہیں نہیں، انہیں یہ باور کرنا ہو گا کہ  ان کے مذہبی جذبات کا مجروح ہونا  کسی جتھے کو مشتعل کر کے کسی کی جان لینے کا پروانہ نہیں۔ </div>
<p></p>
<div class="urdutext">
توہین مذہب و رسالت کے نام پر قتل و غارت کی روک تھام کے لیے عموماً ریاستی ادارے اور سیاسی جماعتیں مذہبی معاملات میں اختلاف رائے اور اظہار رائے پر پابندیاں عائد کرنے کو مسئلے کا حل سمجھتے ہیں، مذہبی طبقات کی  جانب سے احترام مذہب و رسول کو یقینی بنانے کے لیے ممتاز قادری اور علم دین جیسے قاتلوں کی مدح سرائی کی جاتی ہے، تاہم ریاست اور مذہبی طبقات پابندیوں یا قتل و غارت کے ذریعے اختلاف رائے اور اظہار رائے کی آزادی سے دستبردار ہونے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
</div>
<p>Image: Newsweek</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86-%d8%ad%d8%b1%d9%85%d8%aa-%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84-%d8%b3%db%92-%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%db%81-%d9%85%d9%82%d8%af%d8%b3-%db%81%db%92-%d8%a7%d8%af/">انسانی جان حرمت رسول سے زیادہ مقدس ہے-اداریہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86-%d8%ad%d8%b1%d9%85%d8%aa-%d8%b1%d8%b3%d9%88%d9%84-%d8%b3%db%92-%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%db%81-%d9%85%d9%82%d8%af%d8%b3-%db%81%db%92-%d8%a7%d8%af/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>توہینِ رسالت کیوں ہوتی ہے؟</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%aa%d9%88%db%81%db%8c%d9%86%d9%90-%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%d8%aa-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%db%81%d9%88%d8%aa%db%8c-%db%81%db%92%d8%9f/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%aa%d9%88%db%81%db%8c%d9%86%d9%90-%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%d8%aa-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%db%81%d9%88%d8%aa%db%8c-%db%81%db%92%d8%9f/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈاکٹر عرفان شہزاد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 15 May 2016 06:48:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[blasphemy]]></category>
		<category><![CDATA[Blasphemy Law]]></category>
		<category><![CDATA[Causes of blasphemy]]></category>
		<category><![CDATA[توہین رسالت]]></category>
		<category><![CDATA[توہین رسالت کی وجوہ]]></category>
		<category><![CDATA[توہین رسالت کے قوانین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=16171</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">عالمی سطح پر توہینِ رسالت کی وجہ اسلام کا وہ سیاسی تصور ہے جو پوری دنیا پر طاقت کے بل بوتے پر مسلم حکمرانی کو ہر مسلمان کا مقصد اور اسلام کو بنیادی پیغام گردانتا ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%aa%d9%88%db%81%db%8c%d9%86%d9%90-%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%d8%aa-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%db%81%d9%88%d8%aa%db%8c-%db%81%db%92%d8%9f/">توہینِ رسالت کیوں ہوتی ہے؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">انسانی رویے، مختلف سماجی، نفسیاتی ،جینیاتی اور عقلی عوامل کا نتیجہ اور رد عمل ہوتے ہیں۔ انسانی رویوں کے باقاعدہ مطالعے کی روایت ہمارے ہاں بوجوہ پنپ نہیں سکی، حالانکہ اس کے بغیر کسی بھی انسانی رویے کی درست تشخیص ہو سکتی ہے اور نہ اس کا علاج ممکن ہے۔ ہمارے ہاں محض علامات دیکھ کر فیصلہ صادر کرنے کا چلن ہے۔ کسی رویے کے پیچھے کیا محرکات ہیں یہ جاننے کی زحمت کم ہی کی جاتی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">مسلمان افراد دوسرے مسلمان اورغیر مسلم افراد کے خلاف توہینِ رسالت کے جھوٹے مقدمات قائم کرکے اپنے ذاتی مذموم مقاصد پورے کرتے ہیں۔</div>
<div class="urdutext">توہینِ مذہب یا توہینِ رسالت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ توہینِ رسالت کے ہزاروں مقدمات پاکستانی عدالتوں میں قائم ہیں، اگر یہ سارے مقدمات درست ہیں (جو کہ درحقیقت نہیں ہیں) تو کیا یہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ آخر ایسا ہوکیوں رہا ہے؟ رسول اللہﷺ کی ذاتِ مبارکہ سے آخر ایسی کیا پرخاش ہو گئی ہے لوگوں کو کہ اپنی جان پرکھیل کر بھی آپ جیسی کریم ہستی کی توہین کا ارتکاب کر رہے ہیں؟ آخر کیا وجہ ہے کہ ایک طرف سزائے موت اور دوسری طرف عوام کےغیظ و غضب کے نتیجے میں ہونے والی دردناک اموات کے باوجود نبی کریم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ کے خلاف توہین کا سلسہ ختم ہونے میں نہیں آ رہا؟ اور یہ سب ایک اسلامی ملک میں ہو رہا ہے جہاں عوام، ادارے، تھانے اور عدالتیں سب مسلمانوں کے ہاتھ میں ہیں۔ آج ہم ان سوالوں کے جوبات تلاش کریں گے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں توہینِ رسالت کے درج کیے جانے والے مقدمات میں ایک محتاط اندزے کے مطابق 80 سے 90 فیصد مقدمات جعلی ہوتے ہیں۔ ایک جائزے کے مطابق توہین رسالت کی دفعہ 295‑C کے تحت 1986 سے لے کے 2004 تک پاکستان میں رجسٹرڈ کیسوں کی تعداد 5000 سے زائد ہے۔ 5000 افراد جن کے خلاف توہین رسالت کے کیسز رجسٹر ہوئے، ان میں سے صرف 964 افراد کے کیس عدالتوں میں پہنچے، 4036 کیسز ابتدائی اسٹیج پر ہی جعلی ثابت ہونے پر خارج کر دئیے گئے، سب سے زیادہ حیران کن امر یہ ہے، کہ 86% فیصد کیسز صرف پنجاب میں رجسٹر ہوئے، یعنی 5000 میں سے 4300 کیسز! مزید یہ کہ جن 964 افراد کے کیس عدالتوں میں گئے، ان میں سے بھی 92% فیصد کیسز کا تعلق پنجاب سے تھا۔<br>
اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ توہینِ رسالت کے جھوٹے مقدمات کے پیچھے بعض ایسی سماجی عوامل اور سماجی رویے کار فرما ہیں جو شاید پنجاب سے مخصوص ہیں۔ پنجاب میں ان واقعات کی کثرت کی وجہ زمین پر قبضے، ذاتی دشمنی اور رنجشیں ہیں۔ مسلمان افراد دوسرے مسلمان اورغیر مسلم افراد کے خلاف توہینِ رسالت کے جھوٹے مقدمات قائم کرکے اپنے ذاتی مذموم مقاصد پورے کرتے ہیں۔ اپنے مخالف پر توہینِ رسالت کا الزام سب سے آسان اور تیر بہدف ثابت ہوتا ہے۔ عوامی حمایت ایک لحظہ میں حاصل ہوجاتی ہے۔ ایک بار الزام لگ جائے تو پھر ملزم لاکھ یقین دلاتا رہے کہ اس نے ایسا کچھ نہیں کیا مگرعوام کا غیظ وغضب اس کا تیا پانچہ کرنے پر تل جاتا ہے، پولیس اور عدالت پر ہر طرح سے دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ کہ سزا پھانسی سے کم نہیں ہونی چاہیے۔ ویسے بھی معافی کی گنجائش ہی نہیں قانون میں۔ مزید یہ کہ ملزم اگر عدالت سے بری ہو بھی جائے، تب بھی عوام اسے یا تو مار ڈالتی ہے اوراگرمارا نہ بھی جائے تومعاشرے میں اس کی سماجی حیثیت کی بحالی ممکن نہیں رہتی، حالانکہ بری کرنے والی عدالت بھی مسلمان جج کی ہوتی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">سچ تو یہ ہے کہ توہینِ رسالت کا اصل جرم توہین کے جھوٹے مقدمات بنانے والوں پر ثابت ہوتا ہے، جو توہین کے الفاظ خود اپنی طرف سے بناتے ہیں۔</div>
<div class="urdutext">سچ تو یہ ہے کہ توہینِ رسالت کا اصل جرم توہین کے جھوٹے مقدمات بنانے والوں پر ثابت ہوتا ہے، جو توہین کے الفاظ خود اپنی طرف سے بناتے ہیں۔ یقیناً یہ بڑی قبیح جسارت ہے۔ مگ رہمارا قانون جھوٹا مقدمہ کرنے والے کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کرتا۔ اگر قانون یہ بنا دیا جائے کہ توہینِ رسالت کا جھوٹا مقدمہ کرنے والے کو توہینِ رسالت کے قانون میں دھر لیا جائے گا تو جھوٹے مقدمات میں خاطر خواہ کمی آ سکتی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">توہین رسالت کا صدور کسی صحیح الدماغ آدمی سے ممکن نہیں۔ پاکستان میں توہینِ رسالت کے موجودہ سخت قانون، جس میں توبہ کی گنجائش بھی نہیں اور اس سے بڑ ھ کراس معاملے میں عوام کی دیوانگی کی حدوں کو چھوتی ہوئی جذباتیت، جو محض الزام پر ہی نہایت خوفناک نتائج پیدا کردیتی ہے، ان سب کی موجودگی میں کوئی شخص بالفرض توہین ِ مذھب یا توہینِ رسالت کرنے کا ارادہ رکھتا بھی ہو توباہوش و حواس تو ایسا کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ دین یا رسول اللہ ﷺ پر سنجیدہ علمی تنقید چاہے، ہماری طبع پر کتنی ہی گراں گزرے، گستاخی کے زمرے میں نہیں آتی۔ تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے کچھ کاموں پر سب سے پہلی تنقید کرنے والے خود حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ ان کی تنقیدی آراء کو گستاخی تو کجا ان کی تائید میں وحی نازل ہوتی رہی۔ سر ولیم میور نے اپنی کتاب ‘لائف آف محمد’ میں رسول اللہ ﷺ پر تنقید کی لیکن کسی نے ولیم میور کو گستاخ رسول قرار نہیں دیا۔ سرسید نے اس کا جواب ‘خطباتِ احمدیہ’ کی صورت میں لکھا، لیکن کوئی فتویٰ ولیم میور پر نہیں لگایا۔ افسوس کا مقام ہے کہ علمی حلقوں میں بھی اب وہ وسعتِ نظری نہیں رہی کہ تنقید اور گستاخی کا فرق سمجھ سکیں۔ الا ماشاءاللہ۔ ماضی قریب تک یہ علمی بلوغت نظر آتی ہے، جہاں تنقید کے جواب میں تنقید لکھی جاتی تھی، ڈنڈے جوتے اٹھا کر سڑک پر آکر گلے نہیں پھاڑے جاتے تھے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">توہینِ رسالت جہاں درحقیقت ہوتی بھی ہے تو اس کی وجہ وہ رد عمل، جبر، امتیازی سلوک اور نفرت ہے جو مسلم اکثریت غیر مسلم اقلیت کے ساتھ اسلام کے نام پر روا رکھے ہوئے ہے۔</div>
<div class="urdutext">بہرحال، معاشرے اور قانون کی طرف سے اگر اتنے خوفناک نتائج کے باوجود کوئی توہینِ رسالت کا مرتکب ہوتا ہے، جیسا کہ چند مقدمات میں ایسا ثابت ہوتا ہے، تو سزا کے نفاذ کے علاوہ اس رویے کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایسا آخر ہوا کیوں؟ رسول اللہ ﷺ کی ذات والا صفات کو ہدفِ گستاخی بنانے کی وجہ اور ضرورت کیوں پیش آ گئی اور وہ بھی اپنی جان پر کھیل کر؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہم سمجھتے ہیں کہ توہینِ رسالت جہاں درحقیقت ہوتی بھی ہے تو اس کی وجہ وہ رد عمل، جبر، امتیازی سلوک اور نفرت ہے جو اس معاشرے کی مسلم اکثریت اپنے جاہلانہ رویوں کی بنا پر غیر مسلم اقلیت کے ساتھ اسلام کے نام پر روا رکھے ہوئے ہے۔ انہیں اچھوت اور ناپاک سمجھا جاتا ہے، عوام کے ایک طبقے میں ان کے ساتھ ہاتھ ملانا بھی مکروہ سمجھا جاتا ہے، ان کے ساتھ کھانا پینا تو دور کی بات ان کے کھانے پینے کے برتن الگ رکھے جاتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انہیں معاشرتی دباؤ ڈال کر اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، اور انکار پر حقارت آمیز طرزِ عمل اختیار کیا جا تا ہے۔ جو زیادتیاں غیرمسلموں کے غریب ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ ہوتی ہیں، جو ہمارے معاشرے کا عمومی رویہ ہے، وہ بھی مذھبی زیادتی کے زمرے میں شمار ہو جاتی ہیں۔ میں نے بطورِ استاد جس تعلیمی ادارے میں بھی پڑھایا وہاں مجھ سے میرے طلبہ نے یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا غیر مسلم کو سلام کرنا جائز ہے، ان کے ساتھ کھاناکھایا جا سکتا ہے۔ یہ شہری تعلیمی اداروں کا حال ہے۔ اندازہ کیجیے کہ دیہی علاقوں کا کیا حال ہوگا، جو وقتاً فوقتاً مختلف واقعات کی صورت میں ہمارے سامنے آتا رہتا ہے۔ تعلیم ملازمت اور زندگی کے دیگر شعبہ جات میں غیر مسلموں سے امتیازی سلوک عام ہے۔ ان کی بستیاں اور قبرستان تک الگ بسائے جاتے ہیں۔ خاکروب اورنچلی سطح کے کام ان کے ساتھ مخصوص کردیے گئے ہیں۔ ان کے مخصوص نام رکھ کر حقارت کا اظہار کیا جاتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ تمام جہالت اسلام کے نام پر کی جاتی ہے۔ اور پھر اس کو نبی کریمﷺ کے عشق کا تقاضا بھی سمجھ کر کیا جاتا ہے۔ اب ذرا سوچیے کہ رسول اللہ ﷺ کے نام پر اس نفرت اور حقارت آمیز رویے کے بعد ایک غیر مسلم کے ذہن میں اسلام اور نبی کریم ﷺ کا کیا تاثر بنتا ہے؟ ایک مثال لیجیے۔ ایک مغرور بدتمیز آدمی اپنے غرور اور بدتمیزی کو بڑے فخر سے اپنے والد اور خاندانی روایات کی طرف منسوب کرے تو اس کے خاندان اور والد کے بارے میں ہمارا کیا تاثر بنے گا؟ چاہے اس کا والد نیک نفس شخص ہی کیوں نہ ہو، لیکن ہمارے سامنے جو تاثر آئے گا ہم تو اس کے مطابق ہی سوچیں گے کہ یہ تمیز سکھائی ہے اس کو اسکے والد نے! اسی طرح جب ایک غیر مسلم، اسلام اور رسول اللہ ﷺ نام پر مسلمانوں کی طرف سے مسلسل امتیازی سلوک، حقارت آمیز رویے اور ظلم وستم سے تنگ آ کر دین کے اس منفی مظہر پر کوئی ردعمل ظاہر کر دیتا ہے تو توہینِ رسالت کا مرتکب قرار پاتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">سوال یہ ہے کہ ہماری ان حرکتوں اور رویوں کے بعد غیر مسلم کے ذہن میں نبی پاک ﷺ کا جو منفی تاثر پیدا ہوتا ہے اس تاثر کے پیدا کرنے والے مسلمان کیا توہینِ رسالت کے مرتکب قرارنہیں پاتے؟</div>
<div class="urdutext">سوال یہ ہے کہ ہماری ان حرکتوں اور رویوں کے بعد غیر مسلم کے ذہن میں نبی پاک ﷺ کا جو منفی تاثر پیدا ہوتا ہے اس تاثر کے پیدا کرنے والے مسلمان کیا توہینِ رسالت کے مرتکب قرار نہیں پاتے؟ ان کی کیا سزا ہونی چاہیے؟<br>
اس کے بعد پھرذرا سوچیے، بھلا ایسا کون سا غیر مسلم ہو گا جس کو نبی کریم ﷺ کے نام لیواؤں سے وہ عزت واحترام اور حقوق مل رہے ہوں جو نبی کریم ﷺ خود غیرمسلموں کو دیا کرتے تھے اوروہ پھر بھی آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرے؟ اگر اس کے باوجود کرے تو یقیناً سزا کا مستحق بنتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہمارے مولویوں نے جتنی محنت نبی کریم کی محبت کی دیوانگی لوگوں کے دلوں میں پیدا کرنے میں لگائی ہے، اتنی ہی محنت اگروہ لوگوں میں اخلاقِ نبوی کی تربیت اور ترویج کے لیے بھی کرتے تو ایسی صورتِ حال پیدا ہی نہ ہوتی، جس سے آج پاکستانی معاشرہ دوچار ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ نبی کریمﷺ کے نام لیوا سود کا ایک روپیہ چھوڑنے کو تیار نہیں، لیکن ان کے نام پر کسی کو بھی قتل کرنے کو تیار ہیں۔ دودھ اور دوائیوں میں ملاوٹ کرنے والے میلاد کی محفلیں سجانے میں پیش پیش ہوتے ہیں، بھائی بہنوں کی جائیداد دبا لینے والے نعت شریف کی محفلیں لگاتے ہیں، نعتیں سن کر آبدیدہ ہو جاتے ہیں اورآبدیدہ ہونے کے بعد بھی زمین کا قبضہ نہیں چھوڑتے۔ نعرہ رسالت کے آگے پیچھے (نعوذ باللہ) بلا تکلف گالیاں نکالتے ہیں۔ سوچیئے کہ ایک غیرمسلم ان مظاہر کے بعد اسلام اور رسول اللہ ﷺ کا کیا تاثر لے گا۔ کس کے پاس اتنا وقت اور سمجھ ہے کہ خود قرآن یا سیرتِ رسول پڑھ کر پڑھ کر معلوم کرے کہ ان غافل مسلمانوں کے نبی ﷺکتنے عظیم تھے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">رسول اللہ نے فرمایا ہے: “خبر دار! جس نے کسی معاہد (ذمی) پر ظلم کیا یا اُس کے حق میں کمی کی یا اُسے کوئی ایسا کام دیا جو اُس کی طاقت سے باہر ہو یا اُس کی دلی رضامندی کے بغیر کوئی چیز اُس سے لے لی تو قیامت کے دن میں اُس کی طرف سے جھگڑا کروں گا۔” (ابو داؤد)</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اب جو لوگ غیرمسلموں پر رسولِ پاک ﷺ کے نا م اور ان کی شفاعت کے بھروسے پر پر بلا جواز زیادتیاں کر رہے ہیں، بلا تحقیق قتل کر رہے، قیامت کے دن دیکھیں گے کہ خود رسول اللہ ﷺ خدا کی عدالت میں ان ظالم مسلمان کے خلاف ان مظلوم غیرمسلموں کا مقدمہ لڑیں گے۔ اور جس کے خلاف خود اللہ کا رسول کھڑا ہو جائے اس بدبخت کی تباہی میں کیا شبہ رہ جاتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">عالمی سطح پر توہینِ رسالت کی وجہ اسلام کا وہ سیاسی تصور ہے جو پوری دنیا پر طاقت کے بل بوتے پر مسلم حکمرانی کو ہر مسلمان کا مقصد اور اسلام کو بنیادی پیغام گردانتا ہے۔</div>
<div class="urdutext">عالمی سطح پر توہینِ رسالت کی وجہ اسلام کا وہ سیاسی تصور ہے جو پوری دنیا پر طاقت کے بل بوتے پر مسلم حکمرانی کو ہر مسلمان کا مقصد اور اسلام کو بنیادی پیغام گردانتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب عالمی سطح پر آزادی کو بنیادی انسانی حق تسلیم کر لیا گیا ہے تو پھر کسی قوم کا یہ مقصدِ حیات کہ اس نے پوری دنیا کو محکوم بنانا ہے دوسروں کے لیے کسی طرح قابلِ قبول نہیں ہوسکتا۔ یہ نظریہ اگر مولانا مودودی کے نام سے پھیلایا جائے تو لوگ ان کو برا بھلا کہیں گےاور رسول اللہ ﷺ کے نام سے فروغ دیں تو لوگ انجانے میں ان کی توہین کریں گے۔ اس پر مستزاد یہ کہ اس نظریہ کے حاملین کے عملی مظاہر اگر داعش کی صورت میں سامنے آئیں تو تحقیق کرنے پہلے ہی عوام سخت رد عمل میں آکر اس دین اور اس کے لانے والے کو برا کہنے لگتے ہیں، جو ایسی تعلیمات یا ایسی تربیت کرتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اسلام کے بارے میں غیروں اور اپنوں کا منفی پراپیگنڈا بھی اس کا سبب ہے۔ مثلاً،اسلام کے عورتوں کے بارے میں احکامات کو عجیب رنگ میں پیش کیا جاتا ہے جو بادی النظر میں بہت دقیانوسی لگتا ہے، اس دقیانیوسیت پر مہر تصدیق اس وقت ثبت ہوجاتی ہے جب کچھ مسلم ممالک میں اس پر پوری دقیانوسیت کے ساتھ عمل بھی نظر آتا ہے، جہاں عورت کو کسی جانور سے زیادہ حیثیت نہیں دی جاتی۔ اس سب کا ردعمل اسلام اور پیغمبرِِ اسلام کے خلاف نکلتا ہے۔<br>
اگر دیکھا جائے تو یہ ردعمل نبی کریم کی حقیقی ذات کے خلاف نہیں بلکہ اس تصور کے خلاف ہے جو ان کے سامنے اسلام کی غلط ترجمانی سے پیدا ہوتا ہے۔ دوسروں کو الزام دینے اور اس الزام پر ان کو سزا دینے سے پہلے ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانک لینا چاہیے کہ کہیں ہم ہی اپنے عظیم نبی ﷺ کی توہین کے ذمہ دار ہم خود تو نہیں؟<br>
امتی باعثِ رسوائیِ پیمبر ہیں</div>
<p>Image: Dawn.com</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%aa%d9%88%db%81%db%8c%d9%86%d9%90-%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%d8%aa-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%db%81%d9%88%d8%aa%db%8c-%db%81%db%92%d8%9f/">توہینِ رسالت کیوں ہوتی ہے؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%aa%d9%88%db%81%db%8c%d9%86%d9%90-%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%84%d8%aa-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%db%81%d9%88%d8%aa%db%8c-%db%81%db%92%d8%9f/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>11</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>Hypocrisy in the Name of Blasphemy</title>
		<link>https://laaltain.pk/hypocrisy-name-blasphemy/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/hypocrisy-name-blasphemy/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Abdullah Nizamani]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 02 Dec 2014 14:16:14 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[blasphemy]]></category>
		<category><![CDATA[hypocrisy]]></category>
		<category><![CDATA[Junaid Jamshed]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=8113</guid>

					<description><![CDATA[<p>Apart from politics, blasphemy in perhaps the most debated topic these days. Owing to the sensitivity of the issue and pace in its events, the news related to blasphemy hardly misses the headlines every other day in the mainstream media. A simple allegation of blasphemy, sans evidence and witnesses, make a common person an extremely [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/hypocrisy-name-blasphemy/">Hypocrisy in the Name of Blasphemy</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>Apart from politics, blasphemy in perhaps the most debated topic these days. Owing to the sensitivity of the issue and pace in its events, the news related to blasphemy hardly misses the headlines every other day in the mainstream media.</p>
<p>A simple allegation of blasphemy, sans evidence and witnesses, make a common person an extremely disgraceful yet well-known figure overnight.</p>
<p>Shama and Shehzad, Asia Bibi, Rimsha Masih, Junaid Hafeez, Mohammad Asghar and media bigwigs are few of the alleged blasphemers who have either been burnt alive in brick kiln, languishing in death cell, forced to leave Pakistan, incarcerated in solitary confinement, shot dead by the prison guard supposedly motivated by religion or sentenced to life imprisonment in absentia without fulfilling the basics of principles of natural justice.The blasphemy – no matter proven or otherwise – is a common factor which makes the aforementioned individuals exposed to public justice.</p>
<p>Blasphemy has often been used as an effective tool to settle personal scores, take out personal or professional grudge, wrapping an illegal act in the shroud of blasphemy or offsetting the loans etc.</p>
<p>It has been one of the most horrendous pieces incorporated in the penal laws of Pakistan.</p>
<p>Recent victim who has fallen in the trap is a singer-turned-cleric Junaid Jamshed who had been making <a title="headlines otherwise" href="https://laaltain.pk/creep-behind-pretty-face/">headlines otherwise</a>. Junaid Jamshed, being a Moulana, is implicitly immune from committing any sin. Even if committed, they presume, the chances of his forgiveness after repentance before Almighty are higher compared to a non-bearded practicing Muslim.</p>
<div class="rightpullquote">Whether law or moral vindication, both should be equal and enjoyable by anyone and everyone irrespective of his/her appearance, religious beliefs, and social standing.</div>
<p>A <a title="video" href="http://www.dailymotion.com/video/x2b7zlp_bibi-aisha-r-a-ki-extreme-gustakhi-by-junaid-jamshed_news">video</a> uploaded few days ago started making rounds on social media wherein Junaid Jamshed is making extremely outrageous remarks, deemed blasphemous by many, with respect to Prophet Muhammad (Peace Be Upon Him) and one of his wives Hazrat Aisha.</p>
<p>The intensity of reaction to the video was so astonishing that the mentor, teacher and friend of Junaid Jamshed, Moulana Tariq Jameel, appeared in a <a title="prerecorded video " href="http://www.dailymotion.com/video/x2bhhl0_mullah-tariq-jameel-rushes-to-disown-junaid-jamshed-after-blasphemy-charges_news">prerecorded video</a> distancing himself from the controversy. Some other clerics of different sects held protests against Junaid Jamshed calling for bringing him to justice for the blasphemous remarks.</p>
<p>As the video went viral on social media and mainstream media picked up the news, Junaid Jamshed appeared in a <a title="video" href="http://www.dailymotion.com/video/x2bip7a_junaid-jamshed-apologizes-for-his-remarks-about-hazrat-bibi-ayesha-r-a-video_news">video</a> shedding crocodile tears to extend an apology and asking for forgiveness for his “inadvertent mistake committed due to lack of knowledge”.</p>
<p>Junaid Jamshed may have erroneously made the remarks but why is he expecting reprieve without going through the course of law? The law which provides life imprisonment or death penalty for the alleged blasphemer and is propagated by the right wing as a divine law derived from Qur’an.</p>
<p>Many have been calling that the apology of Junaid Jamshed should be enough to purge him of the crime he has committed. This is where our collective hypocrisy is reflected when we keep mum on extremely flawed trial of Asia Bibi whose actual “blasphemous” remarks are not known to anyone. Shaista Wahidi, Veena Malik and Geo TV’s apologies were not taken into account. Muhammad Asghar’s and Rimsha Masih’s medical and psychological complications were not considered, while Junaid Hafeez has been deprived of his fundamental right to fair trial.</p>
<p>Whether law or moral vindication, both should be equal and enjoyable by anyone and everyone irrespective of his/her appearance, religious beliefs, and social standing.</p>
<p>Why a bearded Junaid (Jamshed) be forgiven for admitted blasphemy and non-bearded Junaid (Hafeez) be incarcerated with constant threat of being killed while in custody? Either Junaid Hafeez or likes of him be set at liberty or Junaid Jamshed be punished for his crime.</p>
<div class="rightpullquote">The provisions pertaining to blasphemy are misconceived, misleading, often misused and most importantly incompatible within any legal system.</div>
<p>Seemingly, the clergy has made a separate code of conduct for them and for those who look different from them or do not conform to their religious teachings. Equal treatment bears no significance to them.</p>
<p>The bubble of blasphemy law had to burst tomorrow if not today. The religious quarters had been the most vocal clique who has vehemently opposed the amendment, let alone the repeal, of the blasphemy law. Today they are having a taste of their own medicine. The remarks made by Junaid Jamshed will be exploited by his own brethren who do not agree with his viewpoint while many will come out for his rescue unlike an alleged blasphemer, who does not enjoy such and is less privileged to solicit support of the powerful religious personalities.</p>
<p>The provisions pertaining to blasphemy are misconceived, misleading, often misused and most importantly incompatible within any legal system. Unless they are repealed, if not then their misuse qualifies for equal punishment, the hypocrisy will continue in the name of Islam. Though, the law is neither derived from Qur’an nor is it Islamic yet Mullahs are inclined to label it Islamic.</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/hypocrisy-name-blasphemy/">Hypocrisy in the Name of Blasphemy</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/hypocrisy-name-blasphemy/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>2</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>Pakistani Media: The Limits of Freedom – Editorial</title>
		<link>https://laaltain.pk/pakistani-media-limits-freedom-editorial/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/pakistani-media-limits-freedom-editorial/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[Laaltain]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 28 Jul 2014 06:14:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اداریہ]]></category>
		<category><![CDATA[Ahmadi]]></category>
		<category><![CDATA[blasphemy]]></category>
		<category><![CDATA[Nia Zamana]]></category>
		<category><![CDATA[Shoaib Adil]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=6633</guid>

					<description><![CDATA[<p>According to an ignored piece of news, Nia Zamana, a monthly current affairs magazine dedicated to promote liberal, enlightened and secular values in Pakistan, has been closed down. </p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/pakistani-media-limits-freedom-editorial/">Pakistani Media: The Limits of Freedom – Editorial</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>According to an ignored piece of news, <a href="http://www.niazamana.com/" target="_blank" rel="noopener">Nia Zamana</a>, a monthly current affairs magazine dedicated to promote liberal, enlightened and secular values in Pakistan, has been closed down. The reason behind its closure lies in an allegation of blasphemy against its editor Shoaib Adil. Even a formal case has not been registered against him yet, but the application itself carries such a grave risk that he had to abandon everything and go in hiding for his life. The allegation of blasphemy comes from a book, an autobiography of a retired high court judge who also happens to be an Ahmadi, which was published by Shoaib Adil seven years back. The complainants against Adil are none other than the powerful witch-hunters with strong and closed links with some of the leaders of religious establishment in Pakistan. Arguably, the publishing of the book was just an excuse; Shoaib Adil’s real crime was to take a clear, bold stance on issues of religious militancy and conservatism through his publications.</p>
<div class="rightpullquote">In its pursuit for power, the media has relentlessly grilled people from every walk of life including sitting prime ministers. Only two groups make themselves stand above its authority; the security and the religious establishments.</div>
<p>There are dozens of other examples illustrating the various limits where media has to bow down before the powers that be. Be it the murder of Saleem Shahzad, attack on Hamid Mir, or allegation of blasphemy against Geo TV, the limits on Pakistani media freedom are too stark. This goes against the common practice of media’s power to shake the governments and probe into anybody’s personal life. From the corridors of power to an ordinary street, everyone is aware of the power of media in Pakistan. Since its advent, the private media has been crediting itself as the harbinger of change. At the same time, it has also been hankering to elevate itself as the ultimate check on varied authorities of the state and society. In its pursuit for power, the media has relentlessly grilled people from every walk of life including sitting prime ministers. Only two groups make themselves stand above its authority; the security and the religious establishments.</p>
<p>In case of security establishment, set aside the lip service to democracy and a few notable exceptions, have our channels not been blindly propagating establishment’s narrative. Over the years, the real and perceived threats and pressures from the establishment has compelled Pakistani media to impose a stringent self-censorship. Anything could be permissible in Pakistan until it does not call into question the established security practices and its associated narrative. The deviance from this rule can undermine the media’s capacity and freedom to work. The most notable example in this regard is the recent eclipse of Geo network, Pakistan’s largest private media group so far; whose confrontation with the establishment has cost it irreparable damage.</p>
<div class="rightpullquote">Freedom can only be defined as the freedom to differ. Unless we accept that in totality, the little freedom enjoyed by the others will always stand in jeopardy.</div>
<p>The other multitude of limitations that come from the religious folks, though more diverse in nature, are sometimes complementary and deeply intertwined with the wants of security establishment. The fate of Shoaib Adil and that of Nia Zamana is but a small specimen of such trend. Despite its small scale distribution, the dissent expressed in it was totally unacceptable for the moral and political brigades of this country.</p>
<p>While there are reasons to celebrate the limited media independence in Pakistan, there are more urgent and pressing reasons not to close our eyes to the rapidly tightening grip on such amenity. Freedom can only be defined as the freedom to differ. Unless we accept that in totality, the little freedom enjoyed by the others will always stand in jeopardy. Merely the surfacing of new, technologically advanced media groups, but with the same old faces, will not make a big difference. The big shots in Pakistani media, for their own sake, need to realize this.</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/pakistani-media-limits-freedom-editorial/">Pakistani Media: The Limits of Freedom – Editorial</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/pakistani-media-limits-freedom-editorial/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
