<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ریاست Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/ریاست/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Thu, 30 May 2024 15:49:42 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>ریاست Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/ریاست/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>فاٹا سو سال پیچھے چلا گیا ہے</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%81%d8%a7%d9%b9%d8%a7-%d8%b3%d9%88-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d9%be%db%8c%da%86%da%be%db%92-%da%86%d9%84%d8%a7-%da%af%db%8c%d8%a7-%db%81%db%92/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%81%d8%a7%d9%b9%d8%a7-%d8%b3%d9%88-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d9%be%db%8c%da%86%da%be%db%92-%da%86%d9%84%d8%a7-%da%af%db%8c%d8%a7-%db%81%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[عبداللہ ملک مہمند]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 28 Oct 2015 09:48:14 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[پالتو جہادی]]></category>
		<category><![CDATA[ریاست]]></category>
		<category><![CDATA[فاٹا]]></category>
		<category><![CDATA[قانون]]></category>
		<category><![CDATA[مغربی سرحد]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=13228</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">مغربی سرحدوں کے محافظ قرار  پانے والے باسیوں کی سرزمین کو فاٹا کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%81%d8%a7%d9%b9%d8%a7-%d8%b3%d9%88-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d9%be%db%8c%da%86%da%be%db%92-%da%86%d9%84%d8%a7-%da%af%db%8c%d8%a7-%db%81%db%92/">فاٹا سو سال پیچھے چلا گیا ہے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">مغربی سرحدوں کے محافظ قرار پانے والے باسیوں کی سرزمین کو فاٹا کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ فاٹا سات ایجنسیوں اور چھ<br>
Frontier Regions پر مشتمل علاقہ ہے۔ یہ علاقہ ہمیشہ سے محرومیوں کا شکار رہا ہے۔ کون سے دکھ اور مصائب ہیں جو اس سرزمین کے باسیوں نے نہیں جھیلے۔ انگریزوں نے یہاں ایک ایسا قانون نافذ کیا جس نے ایک طرف تو یہاں کے لوگوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا تو دوسری طرف ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غلامی کی زنجیروں میں جکڑدیا۔ انگریزوں کا مسلط کردہ Frontier Crimes Regulations کا کالا قانون ایک سو چودہ سال گزرنے کے باوجود فاٹا کے عوام پر لاگو ہے۔ یہ قانون جو ایک طرف یہاں کی اشرفیہ کے لیے سرماٖئے کا کارخانہ ہے تو دوسری طرف عام عوام کی زندگی اجیرن بنارہا ہے۔ پاکستانی آئین کی رو سے تو فاٹا پاکستان کا حصہ ہے مگر 1973 کے آئین تحت یہاں کے لوگ نہ انصاف مانگنے عدالت جاسکتے ہیں اور نہ عدالت کا کوئی فیصلہ ان پر لاگو کیا جا سکتا ہے۔یہاں سے منتخب نمائندے چاہے وہ قومی اسمبلی کے ہوں یا سینٹ کے زیادہ تر کا تعلق ان ہی خاندانوں سے ہوتا ہے جن کے باپ دادا انگریزوں کے وفادار اور چاپلوس تھے۔ وہ انگریزوں کے اس قانون کے حمایتی تھے اور ہیں کیونکہ ان کے مفادات اسی قانون سے وابستہ ہیں۔</div>
<div class="leftpullquote">یہاں پر درجنوں صحافی قتل ہوئے، سیاسی کارکنوں کو زندگی کی بازی ہارنا پڑی، موسیقاروں، شاعروں اور فنکاروں کو تشدد کا نشانہ بنا کر مارا گیا، امن کے داعیوں کو سولی پر لٹکا دیا گیا یہاں کی سرزمین کو اگر مصائب کی سرزمین نہ کہا جائے تو انصاف نہ ہوگا۔</div>
<div class="urdutext">فاٹا سے منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی سارے پاکستان کے لئے قانون سازی کر سکتے ہیں مگر اپنے علاقے کے لیے نہیں۔ 1997 سے پہلے یہ لوگ حق رائے دہی بھی استعمال نہیں کر سکتے تھے۔ تاریخ میں جب بھی فاٹا کا ذکر آتا ہے تو اس کے ساتھ یہ تمہید ضرور ہوتی ہے کہ یہاں کے لوگ جنگجو اور سٖخت جان ہیں، بغیر تنخواہ کی فوج ہیں اور یہی گھسی پٹی اور فرسودہ پہچان اس علاقے کی ترقی کی راہ میں روکاوٹ ہے۔ وطن پرستی اور بہادری یہاں کے لوگوں کے اوصاف ہیں ، وطن پر جب بھی کوئی آزمائش آئی یہاں کے باسیوں نے جنگ لڑی اور جانوں کے نذرانے دئیے، خواہ وہ کشمیر کی جنگ ہویا 1965 کی پاک بھارت جنگ ہو مگر لاکھوں قربانیوں کے باوجود یہاں کے لوگوں کے اچھے دن نہیں آئے بلکہ ہمارے حالات روز بروز بُرے ہوتے گئے اور ہم پر ہماری ہی زمین تنگ ہوتی گئی۔ فاٹا کے لوگوں اور زمین کو ریاست ہمیشہ اپنے تزویراتی مفادات کے تحت استعمال کرتی رہی ہے اور یہی اس علاقے کے لوگوں پر مسلط کیا گیا سب سے بڑا عذاب ہے۔ افغان جہاد کے دوران اور نائین الیون کے بعد یہ خطہ عالمی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ خطے کے لوگوں کو ایک اور جنگ کا ایندھن بنا دیا گیا اور مقامی لوگوں پر غیر ملکی جنگجووں اور جہادی لشکروں کا بوجھ بھی لاد دیا گیا۔<br>
ریاست کے پالتو جہادیوں کے خلاف فوجی کارروائی کے بعد یہاں کے باسیوں نے جب اپنے ہی ملک میں ہجرت کرنا شروع کی تو اُن پر قیامت ٹوٹ پڑی یہاں کی عورتوں نے راستے میں بچوں کو جنم دیا اور درجنوں خواتین زچگی کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ یہاں پر درجنوں صحافی قتل ہوئے، سیاسی کارکنوں کو زندگی کی بازی ہارنا پڑی، موسیقاروں،شاعروں اور فنکاروں کو تشدد کا نشانہ بنا کر مارا گیا، امن کے داعیوں کو سولی پر لٹکا دیا گیا یہاں کی سرزمین کو اگر مصائب کی سرزمین نہ کہا جائے تو انصاف نہ ہوگا۔ سینکڑوں تعلیمی ادارے تباہ ہوئے اور صحت عامہ کے مراکز کی صورت حال بھی ابتر ہے۔ یہاں کے خود دار مرد اور عورتیں امدادی کیمپوں میں جہنم جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جہاں پر راشن کے حصول کے لئے بھی قطاروں میں ذلیل ہونا پڑتاہے۔<br>
آپ فاٹا کی سرزمین پہ قدم رکھیں تو اپ کو پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے تمام آثار نظر آ جائیں گے۔ خطے کا سب سے بڑا المیہ یہاں کے تعلیمی اداروں کی تباہی ہے۔ کئی سال سے جاری جنگ کی وجہ سے سینکڑوں تباہ ہوچکے ہیں جب کہ ہزاروں بند ہیں یا مقامی ملکوں کے ذاتی استعمال میں ہیں۔ لاکھوں طلبہ تعلیم سے محروم ہوچکے ہیں جو کبھی بھی جرم یا شدت پسندی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق گزشتہ پندرہ سال کے دوران سات سو سے زائد سکول تباہ ہوچکے ہیں مگر تاحال ان کی تعمیر کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ مئی 2013 کے انتخابات میں نواز شریف کے حکومت میں آتے ہی لوگوں کے دلوں میں اُمید کی ایک کرن جاگ اُٹھی کہ شایداب اُن کی تقدیر بدلنے والی ہے مگر حالات پہلے سے بدتر ہوئے ہیں بہتر نہیں۔<br>
پنجاب کے سرمایہ دار بادشاہ کو فاٹا میں دلچسپی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے تمام ملک کا پیسہ میٹرو اور اورینج ٹرینو ں پر لگانا شروع کردیا ہے جب کہ فاٹا میں تبدیلی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ۔ میاں نواز شریف کو اپنے دور اقتدار میں میٹرو اور فلائی اورز سے اتنی فرصت نہیں ملی کہ وہ سرزمین بے آئین فاٹا کا دورہ کرتے۔ میاں صاحب نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ جتنا پیسہ میٹرو اور فلائی اورز پر خرچ ہورہا ہے اُس کا نصف بھی فاٹا کے تعلیمی اداروں کی بحالی پر لگایا جائے تو شاید فاٹا کے باسیوں کے احساس محرومی میں کمی ہو۔ مگر خدا گواہ ہے کہ میاں صاحب کو لاہور، رائیونڈ اور ماڈل ٹاون کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ اس جنگ زدہ علاقے میں بین الاقوامی اداروں کی امداد بھی مخصوص جیبوں یا چند خیموں کی صورت میں ہی نظر آتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے فاٹا سو سال پیچھے چلا گیا ہے۔ بس دعا اور اُمید یہی ہے کہ وزیر اعظم صاحب کو میٹرو یا بلندوبالا فلائی اوورز بناتے بناتے بغیر تنخواہ کی فوج کی سرزمین فاٹا بھی نظر آ جائے ورنہ فاٹا کے عوام اپنے حال پر روتے اور سسکتے رہیں گے کیونکہ میاں صاحب رائیونڈ محل میں آرام فرما ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%81%d8%a7%d9%b9%d8%a7-%d8%b3%d9%88-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d9%be%db%8c%da%86%da%be%db%92-%da%86%d9%84%d8%a7-%da%af%db%8c%d8%a7-%db%81%db%92/">فاٹا سو سال پیچھے چلا گیا ہے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%81%d8%a7%d9%b9%d8%a7-%d8%b3%d9%88-%d8%b3%d8%a7%d9%84-%d9%be%db%8c%da%86%da%be%db%92-%da%86%d9%84%d8%a7-%da%af%db%8c%d8%a7-%db%81%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اپنے ہندوستانی ہمسائے کے نام تشویش کے ساتھ</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%be%d9%86%db%92-%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%db%81%d9%85%d8%b3%d8%a7%d8%a6%db%92-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85-%d8%aa%d8%b4%d9%88%db%8c%d8%b4-%da%a9%db%92-%d8%b3/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%be%d9%86%db%92-%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%db%81%d9%85%d8%b3%d8%a7%d8%a6%db%92-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85-%d8%aa%d8%b4%d9%88%db%8c%d8%b4-%da%a9%db%92-%d8%b3/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[توصیف احمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 02 Oct 2015 13:04:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[اقلیتیں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خط تشویش]]></category>
		<category><![CDATA[ریاست]]></category>
		<category><![CDATA[مذہب]]></category>
		<category><![CDATA[مسلمان]]></category>
		<category><![CDATA[ہندوستانی ہمسائے]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=12859</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">معاف کرنا، تمہیں پچھلا خط محبت کے ساتھ لکھا تھا مگر یہ خط تشویش کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%be%d9%86%db%92-%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%db%81%d9%85%d8%b3%d8%a7%d8%a6%db%92-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85-%d8%aa%d8%b4%d9%88%db%8c%d8%b4-%da%a9%db%92-%d8%b3/">اپنے ہندوستانی ہمسائے کے نام تشویش کے ساتھ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urduexcerpt"><a href="https://laaltain.pk/category/laaltain-categories/current-affairs/letters-to-india/" target="_blank" rel="noopener">ہندوستانی ہمسائے کے نام</a> مزید خطوط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میرے ہمسائے!</div>
<div class="urdutext">معاف کرنا، تمہیں <a href="https://laaltain.pk/%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92-%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C-%DB%81%D9%85%D8%B3%D8%A7%D8%A6%DB%92-%DA%A9%DB%92-%D9%84%DB%8C%DB%92-%D9%85%D8%AD%D8%A8%D8%AA-%DA%A9%DB%92-%D8%B3%D8%A7/" target="_blank" rel="noopener"> پچھلا خط محبت کے ساتھ</a> لکھا تھا مگر یہ خط تشویش کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔ آج کل تمہاری جانب سے بھی کوئی اچھی خبر نہیں آتی، پہلے یہ مسئلہ صرف ہمارے ساتھ تحا کہ کبھی کوئی اچھی خبر سنائی نہیں دیتی تھی۔ میری حالت اس مریض جیسی ہے جو کسی مہلک باور لاعلاج یماری میں مبتلا ہو اور اس کا کوئی قریبی عزیز، دوست یا شناسا بھی اسی بیماری کا شکار ہوجائے تو نہ وہ کچھ کرسکتا ہے، نہ تسلی دے سکتا ہے اورنہ دعا کرسکتا ہے کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ اس مرض کا کوئی علاج نہیں۔ کل پڑھا کہ تمہاری طرف کسی محمد اخلاق کو گھر سے گھسیٹ کر اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ دم توڑ گیا۔ مجھے یوں لگا کہ تمہاری طرف بھی جوزف کالونی آباد ہو گئی ہے۔ یہ بھی سنا کہ کشمیر میں سوسال پرانے قانون کے تحت اب گائے ذبح کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر سے بھی یہی خبریں آئی ہیں کہ گائے کا گوشت کھانے پر سزا ہو گی۔ یقین جانو وہ دن یاد آ گئے جب مال روڈ سے شراب خانے اور پی آئی اے کی پروازوں سے شراب ہٹا لی گئی۔ ایسے لگنے لگا ہے جیسے مطالعہ پاکستان میں لکھی باتیں سچ ہونے لگی ہیں اور مسلمانوں کو واقعی گائے کا گوشت کھانے کے لیے علیحدہ وطن بنانا پڑاتھا۔ مجھے لگتا ہے مودی صاحب ایک ایسا ہندوستان بنانا چاہتے ہیں جیسا ہماری تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے۔ وہ اپنے آباء کی مذہبی رواداری، وضع داری اور برداشت کی تعلیمات بھلا دینا چاہتے ہیں۔</div>
<div class="leftpullquote">ایسے لگنے لگا ہے جیسے مطالعہ پاکستان میں لکھی باتیں سچ ہونے لگی ہیں اور مسلمانوں کو واقعی گائے کا گوشت کھانے کے لیے علیحدہ وطن بنانا پڑاتھا۔</div>
<div class="urdutext">یہ جان کر پہلے تو ہنسی آئی اور پھر رونا آیا کہ تمہارے پردھان منتری جی نے اعضاء کی پیوندکاری کو دیدوں سے ثابت کیا ہے اور تمہاری طرف کے وگیانک اب طیارے کی ایجاد سے لے کر کائنات کے اسرارورموز تک سبھی کچھ اپنی مذہبی کتابوں سے برآمد کررہے ہیں۔ مجھے مودی صاحب کی باتوں میں ضیاءالحق کی بازگشت سنائی دے رہی ہے ۔ یوں لگ رہا ہے جیسے ہمارے ہاں جنات سے بجلی پیدا کرنے اور نمازوں کا ثواب ماپنے کے کلیے بنانے والوں نے اپنی دکانیں تمہارے دیس میں بھی کھول لی ہیں۔ لگ رہا ہے کہ اب چن چن کر تمہاری کتابوں سے بھی ناپسندیدہ تاریخ ویسے ہی نکال دی جائے گی جیسے ہماری کتابوں میں سے وہ سب حقائق نتھار لیے گئے تھے جو کسی بھی برح یہاں کی مذہبی اکثریت کو ناگوار گزر سکتے تھے۔ مجھے ڈر ہے کہ تمہاری طرف بھی مسلمان بچوں کو اسی طرح وید پڑھائے جائیں گے جیسے ہمارے ہاں غیر مسلم بچوں کو اسلام سکھایا جاتا ہے۔<br>
یقین جانو مجھے تو ڈر آنے لگا ہے کہ کہیں تمہاری طرف کے حافظ سعید اور لشکر طیبہ تمہارے ہی گلے کاٹنے پر نہ اتر آئیں۔ یہ سوچ کر ہی وحشت ہوتی ہے کہ تمہاری طرف بھی یہ بحث شروع ہوجائے کہ جمہوریت ہونی چاہیئے یا مذہبی حکومت۔ کل کلاں کو تمہار ے ہاں بھی عورت کو مرد کی دسترس میں دینے کی مذہبی تبلیغ شروع ہوجائے۔ تمہارے ہاں بھی تنقید اور اختلاف رائے ہمارے ہاں کی طرح جرم نہ قرار دے دی جائے۔ ایسا نہ ہو کہ تمہاری طرف بسنے والی مذہبی اقلیتیں بھی ہمارے ہاں کی اقلیتوں کی طرح غیر محفوظ ہو جائیں ۔ ڈر ہے کہیں مودی صاحب ہندوستان کے لیے بھی ایک قرارداد مقاصد نہ منظور کروا لیں جس کے بعد تمہاری ریاست بھی مذہب کے پھندے سے لٹک کر خود کشی کرنے پر مجبور ہو جائے۔</div>
<div class="leftpullquote">ڈر ہے کہیں مودی صاحب ہندوستان کے لیے بھی ایک قرارداد مقاصد نہ منظور کروا لیں جس کے بعد تمہاری ریاست بھی مذہب کے پھندے سے لٹک کر خود کشی کرنے پر مجبور ہو جائے۔</div>
<div class="urdutext">سنا ہے مودی صاحب نے دوستی کا ہاتھ بڑھانے سے انکار کردیا ہے اور اب وہ ہماری غلطیاں دہرانے کے موڈ میں ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران دی گئی چار تجاویز ماننا بھی گوارا نہیں کیا۔ہمارے وزیراعظم جتنے بھی برے سہی مگر ان کے آنے سے یہ امید ہو چلی تھی کہ اجمیر شریف کی زیارت کو جاسکوں گا ۔ بنارسی ساڑھی منگانا آسان ہو جائے گا۔ کرکٹ بھی کھیلا کریں گے اور کبڈی بھی ہو گی، تم سری پائے کھانے یہاں آسکو گے اور میں حیدرآبادی دال کھانےوہاں جاسکوں گا۔ تمہیں انارکلی اور مجھے چاندنی چوک آوازیں دیتا ہے۔ مگر تمہاری جانب سے کوئی اچھی خبر نہیں آرہی، یوں سمجھو کہ ڈر آنے لگا ہے کہ تم بھی وہی غلطیاں دہرانے والے ہو جو ہم نے کی تھیں اور پھر تم بھی اتنا ہی پچھتاو گے جتنا ہم پچھتا رہے ہیں۔<br>
سنو بھائی ویسے تو میں تمہیں نصیحت کرنے کا استحقاق نہیں رکھتا مگرپھر بھی جان لو کہ ایک بار مذہب کا اونٹ ریاست کے خیمے میں گھس جائے تو پھر کسی اور کے لیے کوئی جگہ نہیں بچتی۔ اچھی طرح سمجھ لو کہ ایک بار یہ انتہا پسند کھل کر کھیلنے لگے تو پھر کوئی بھی سوچنے سمجھنے کے قابل نہیں رہے گا، ایک مرتبہ یہ بنیاد پرست دندنانے لگے تو پھر کسی کو بولنے نہیں دیں گے، مذہب کے نام پر اکٹھے ہونے والے ہمیشہ خون بہاتے ہیں، مجھ سے سیکھو مجھ سے عبرت پکڑو۔ ابھی بھی وقت ہے کہ اس ناسور کو پھیلنے سے روک لو ورنہ دیر ہو گئی تو کچھ نہیں بچے گا۔۔۔۔<br>
فقط<br>
تمہارا پاکستانی ہمسایہ</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%be%d9%86%db%92-%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%db%81%d9%85%d8%b3%d8%a7%d8%a6%db%92-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85-%d8%aa%d8%b4%d9%88%db%8c%d8%b4-%da%a9%db%92-%d8%b3/">اپنے ہندوستانی ہمسائے کے نام تشویش کے ساتھ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%be%d9%86%db%92-%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%db%81%d9%85%d8%b3%d8%a7%d8%a6%db%92-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85-%d8%aa%d8%b4%d9%88%db%8c%d8%b4-%da%a9%db%92-%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>قوم کے منہ پر طمانچہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%82%d9%88%d9%85-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%86%db%81-%d9%be%d8%b1-%d8%b7%d9%85%d8%a7%d9%86%da%86%db%81/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%82%d9%88%d9%85-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%86%db%81-%d9%be%d8%b1-%d8%b7%d9%85%d8%a7%d9%86%da%86%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ایم۔ ارشد قریشی]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 20 Aug 2015 10:51:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی پرچم]]></category>
		<category><![CDATA[جشن آزادی]]></category>
		<category><![CDATA[جوش و خروش]]></category>
		<category><![CDATA[ریاست]]></category>
		<category><![CDATA[سوشل میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[ویڈیو]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=12176</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">جشن آزادی کےموقع پر  اس دفعہ کراچی کے عوام میں کافی  جوش و خروش  دیکھنے میں آیا ۔  </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%82%d9%88%d9%85-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%86%db%81-%d9%be%d8%b1-%d8%b7%d9%85%d8%a7%d9%86%da%86%db%81/">قوم کے منہ پر طمانچہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/07/youth-yell-featured1.png"><img decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-1786" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/07/youth-yell-featured1.png" alt="youth-yell-featured" width="250" height="150"></a></p>
<div class="urdutext">جشن آزادی کے موقع پر اس دفعہ کراچی کے عوام میں کافی جوش و خروش دیکھنے میں آیا ۔ ایک خبر یہ بھی تھی کہ بابائے قوم کے مزار پر دو لاکھ لوگوں نے حاضری دی یہ صرف خبر ہی نہیں بلکہ ایسا نظر بھی آرہا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کراچی کافی عرصہ بعد قدرے پر امن اور پرسکون ہے۔ لیکن جہاں قوم نے جشن آزادی پر یہ جوش و خروش دیکھا وہیں چند اوباشوں نے آزادی کے دن پوری قوم کے منہ پر طمانچہ مارا جس سے نہ صرف پاکستان میں رہنے والے تمام پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک گئے بلکہ دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں کے لیے بھی یہ واقعہ سوہان روح ثابت ہوا۔<br>
<a href="http://www.dailymotion.com/video/x323xtv_pakistan-independence-day-celebrations-2015_webcam#tab_embed" target="_blank" rel="noopener">سوشل میڈیا پر ایک ایسی ویڈیو پوسٹ</a> کی گئی جس کی وجہ سے جشن آزادی کی تمام خوشیاں ماند پڑگئیں۔ ویڈیو میں آزادی کا جشن مناتے ہوئے ایک نوجوان کو دیکھا جاسکتا ہے جس نے جسم کو مقد س قومی پرچم والے لباس سے ڈھانپا ہوا تھا اور سر پر سینگ سجائے ہوئے تھے ۔ یہ نوجوان کراچی کی ایک شاہراہ پر اپنے چند اوباش دوستوں کے ساتھ رقص کررہا تھا کہ اچانک ایک برقع پوش خاتون 14 یا 15 سالہ لڑکے کے ہمراہ موٹرسائیکل پر سوار وہاں سے گزر ی۔ اس لڑکے نے مبینہ طور پراسے دبوچ کربری طرح ہراساں کیا۔</div>
<div class="leftpullquote">یہ نوجوان کراچی کی ایک شاہراہ پر اپنے چند اوباش دوستوں کے ساتھ رقص کررہا تھا کہ اچانک ایک برقع پوش خاتون 14 یا 15 سالہ لڑکے کے ہمراہ موٹرسائیکل پر سوار وہاں سے گزر ی۔ اس لڑکے نے مبینہ طور پراسے دبوچ کربری طرح ہراساں کیا۔</div>
<div class="urdutext">اگرچہ اس ویڈیو کی تصدیق آزاد ذرائع سے ممکن نہیں تاہم اس ویڈیو میں دکھایا جانے والا رحجان ہمارے ہاں عام ہے۔ایسپریس ٹریبون میں اپنے مضمون میں یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ ایسے واقعات حقیقت میں بھی رونما ہوتے ہیں۔ ویڈیو میں دکھایا گیا نوجون پاکستانی پرچم میں ملبوس ہے تاہم اس کے طوراطواز کسی طرح شائستہ نہیں۔ ایسے نوجوان مختلف تہواروں پر نہ صرف ریاست کو چیلنج کرتے ہیں بلکہ پوری قوم کے منہ پر کالک ملنے کا باعث بنتے ہیں لیکن افسوس اس امر کا ہے کہ انہیں روکنے کی کسی میں ہمت نہیں ہوتی۔ روکنا تو کجا بلکہ اس گھناؤنی حرکات کی عکس بندی بھی کی جاتی ہے اور موقعے پر موجود تماش بین داد بھی دیتے ہیں۔ یہ ویڈیو اگر جعلی بھی ہو تو بھی جس سماجی رویے کی عکاسی کررہی ہے وہ بہر حال اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔ جس وقت سوشل میڈیا پر یہ وڈیو پوسٹ ہوئی میں ٹی وی چینلز پر ملی نغمے دیکھ رہا تھا اور وطن عزیز کے لیے ایک نظم لکھنے میں مصروف تھا۔ جیسے ہی مجھے چند دوستوں سے اس ویڈیو کا پتہ لگا تو میں نے سوچا دیکھا جائے کہ اصل ماجرہ ہے کیا اور جب میں یہ ویڈیو دیکھ رہا تھا تو بالکل اسی وقت ٹی وی پر ایک قومی نغمہ آرہا تھا ” ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کر ۔۔۔ اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کر” اس نغمے کےیہ بول میری آنکھوں کو نم کررہے تھے کہ کہ وہ بچے جن سے قائد مخاطب ہیں وہ سرعام آزادی کے نام پر ہر قاعدے ہر قانون کو توڑنے میں مصروف ہیں وہ کیا خاک اس ملک کو سنبھالیں گے۔</div>
<div class="leftpullquote">اب اس ویڈیو کے پوسٹ ہونے کے بعد یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ ویڈیو جھوٹی تھی یا سچی جو بات اہم ہے وہ یہ کہ اس سے ہمارا قومی وقار مجروح ہوا اور یہ پوری قوم کے لیے دنیا میں ذلت کا باعث بنی۔</div>
<div class="urdutext">عموماً ہمارے ہاں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ عورت اگر باپردہ ہو اور محرم کے ہمراہ ہو تو اسے جنسی ہراسانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ یہ خیال بھی عام ہے کہ ہمارا مذہب ہمارا معاشرہ خواتین کی عزت و احترام کا درس دیتا ہے اور ہمارے ہاں خواتین نسبتاً محفوظ ہیں۔ مگر یہ خاتون با پردہ بھی تھیں اور محرم کے ہمراہ بھی لیکن اس کے باوجود بھی انہیں بری طرح ہراساں کیا گیا۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی مقامات پر خواتین کو جس جنسی ہراسانی کا سامنا ہے وہ بے پردگی کی وجہ سے نہیں بلکہ انہیں ایک جنسی وجود اور کم تر صنف سمجھنے کی وجہ سے ہے۔<br>
جیسے ہی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ ہوئی اس پر لوگوں نے مختلف رائے دینا شروع کردی زیادہ تر ا س کی مذمت کی گئی اور اس واقعہ میں ملوث لوگوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ چند کا یہ بھی خیال تھا کہ یہ ویڈیو جعلی ہے اور خاتون بھی اس میں شامل ہیں کیونکہ انہوں نے قطعی مزاحمت نہیں کی کم از کم اس لڑکے کے منہ پر ہی ایک طمانچہ رسید کردیا ہوتا۔ کچھ کے خیال میں وہ برقعہ پوش بھی لڑکا ہی تھا وغیرہ وغیرہ لیکن اب اس ویڈیو کے پوسٹ ہونے کے بعد یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ ویڈیو جھوٹی تھی یا سچی جو بات اہم ہے وہ یہ کہ اس سے ہمارا قومی وقار مجروح ہوا اور پوری قوم کے لیے دنیا میں ذلت کا باعث بنی۔اگر یہ ویڈیو جعلی بھی تھی توبھی اس ویڈیو سے بہرطور اس ذہنیت کی غمازی ہوتی ہے جو تفریح کے نام پر جنسی جرائم کے ارتکاب کو بھی جائز سمجھتی ہے۔ ایسی ویڈیوز بنانا اور انہیں پوسٹ کرنا نہ صرف کردار کشی یا قومی تشخص کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے بلکہ ترغیبات کے زمرے میں آتی ہیں کیونکہ اس پر اگر کوئی کارروائی نہیں ہوتی اور کوئی سزا نہیں دی جاتی تو یہ عمل باقی لوگوں کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔<br>
جہاں ایک طرف میڈیا پر عورت کو ایک جنسی وجود کے طور پر پیش کیا جاتا ہے وہیں سوشل میڈیا ایسے گمراہ کن تصورات کے فروغ کا کہیں زیادہ آسان ذریعہ بن چکا ہے۔ اس ویڈیو کو مختلف فورمز پر حقیقی واقعے کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور چوں کہ سوشل میڈیا پر تصدیق کا کوئی ذریعہ موجود نہیں اس لیے اسے حقیقی مان بھی لیا گیا ہے۔ تاہم قطع نظر اس کے کہ یہ واقعہ حقیقی تھا یا نہیں عوامی مقامات پر جنسی ہراسانی ہرگز کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ہمیشہ صرف حکومت کی جانب دیکھا جاتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر کام حکومت نے نہیں کرنا ہے کچھ ہمیں بھی اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا ہمیں بھی اس ملک کو اپنا سمجھنا ہوگا ہمیں بھی اس معاشرے میں تیزی سے پھیلتی ہوئی برائیوں کو روکنا ہوگا ۔ ہر سال 14 اگست کوہی وطن سے محبت کا مظاہرہ نہیں کرنا ہوگا بلکہ ہر لمحہ وطن کی سالمیت اس کے تقدس کے خلاف ہونے والی ہر بات کو روکنا ہوگا ۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%82%d9%88%d9%85-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%86%db%81-%d9%be%d8%b1-%d8%b7%d9%85%d8%a7%d9%86%da%86%db%81/">قوم کے منہ پر طمانچہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%82%d9%88%d9%85-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%86%db%81-%d9%be%d8%b1-%d8%b7%d9%85%d8%a7%d9%86%da%86%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>تشدد کی ہر صورت غلط ہے- اداریہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%da%a9%db%8c-%db%81%d8%b1-%d8%b5%d9%88%d8%b1%d8%aa-%d8%ba%d9%84%d8%b7-%db%81%db%92-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c%db%81/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%da%a9%db%8c-%db%81%d8%b1-%d8%b5%d9%88%d8%b1%d8%aa-%d8%ba%d9%84%d8%b7-%db%81%db%92-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 17 Mar 2015 10:26:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اداریہ]]></category>
		<category><![CDATA[ریاست]]></category>
		<category><![CDATA[مذہبی شناخت]]></category>
		<category><![CDATA[مسیحی برادری]]></category>
		<category><![CDATA[معاشرہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=10016</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">تشدد ہر صورت غلط اور قابل مذمت ہے ۔  </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%da%a9%db%8c-%db%81%d8%b1-%d8%b5%d9%88%d8%b1%d8%aa-%d8%ba%d9%84%d8%b7-%db%81%db%92-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c%db%81/">تشدد کی ہر صورت غلط ہے- اداریہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">تشدد ہر صورت غلط اور قابل مذمت ہے ۔ لاہور میں دو مسیحی عبادت گاہوں پردہشت گرد حملے کے بعد احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ اور دوافراد کے سرعام قتل اور ان کی لاشوں کی بے حرمتی کا دفاع ممکن نہیں تاہم اس جرم کو عقیدے کی بنیاد پر سوچا سمجھا اور ارادی عمل قرار دیا جانا نامناسب ہے۔ مشتعل ہجوم کے ہاتھوں دوافراد کی بہیمانہ ہلاکت یہ ظاہرکرتی ہےکہ ریاستی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اقلیتوں اور محروم طبقات کے تحفظ اورفراہمی انصاف میں ناکام ہیں، اور اس ناکامی کے باعث قانون کو ہاتھ میں لینے کے رحجان میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس واقعہ سے متعلق یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مسیحی ، شیعہ ، بریلوی اور احمدی آبادیوں اور عبادت گاہوں اور عوامی مقامات پر حملے مذہب کی بنیاد پر سرگرم دہشت گردوں کی کارروائیاں ہیں لیکن ہجوم کا اشتعال میں آ کر دوافراد کو قتل کرنا مذہبی محرکات کے تحت نہیں بلکہ فوری اشتعال کے تحت تھا۔ اس عمل کی نہ تو حمایت کی جاسکتی ہے اور نہ ہی ایسا کرنے والوں سے ہمدردی کی جاسکتی ہے تاہم اس بنیاد پر مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش کو بھی جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عقیدے کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف احتجاج کے دوران انسانی جان اور املاک کو نقصان پہنچانے سے محض ان دہشت گردگروہوں کے ہاتھ ہی مضبوط ہوں گے جو پاکستانی معاشرے کو مذہبی تشدد اور منافرت کے ذریعے کم زور اور تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔</div>
<div class="leftpullquote">عقیدے کے نام پر دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف احتجاج کے دوران انسانی جان اور املاک کو نقصان پہنچانے سے محض ان دہشت گردگروہوں کے ہاتھ ہی مضبوط ہوں گے جو پاکستانی معاشرے کو مذہبی تشدد اور منافرت کے ذریعے کم زور اور تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔</div>
<div class="urdutext">لاہور سانحہ کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کے محرکات کا درست تعین کیا جائے اورمسیحی عبادت گاہوں پر حملے کی شدت اور اقلیتوں کے خلاف جاری مذہبی تشدد کو دوافراد کی مشتعل ہجوم کے ہاتھوں ہلاکت کے باعث پس پشت نہ ڈال دیا جائے۔ مشتعل ہجوم کا متشدد ردعمل غلط ہے لیکن کئی دہائیوں کی محرومی،نظام انصاف کی عدم فعالیت اور ریاست کی سطح پر نظرانداز کیے جانے کے باعث ہے اور اسے اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ مشتعل ہجوم اگرچہ مسیحی عقائد کا حامل تھا تاہم ان کا ردعمل مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ احساس محرومی، ریاست کی سطح پر نظر انداز کیے جانے اور عدم تحفظ کے باعث تھا۔ اس واقعہ کے تناظر میں گوجرہ کے مسیحیوں پر کیے جانے والے حملوں، احمدیوں اور اہل تشیع کے خلاف حملوں اور مسیحی جوڑے کو زندہ جلائے جانے جیسے واقعات سے متعلق حقائق کو مسخ کرنا مناسب نہیں اور نہ ہی اس واقعے مذہبی دہشت گردی اور مذہبی منافرت پر مبنی جرائم کے ہم پلہ قراردیاجاسکتا ہے۔ مشتعل ہجوم ، مشتعل مذہبی گروہوں اور مذہبی محرکات کے تحت دہشت گردی کرنے والوں کے درمیان فرق کو بھلا دینے سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے جاسکتے۔</div>
<div class="leftpullquote">مشتعل مسیحی ہجوم کے ہاتھوں دوافراد کی ہلاکت کی بنیاد پر اس واقعہ کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش اور اسے مسلم بمقابلہ غیر مسلم صورت دینے والوں کی حوصلہ شکنی بھی ضروری ہے۔</div>
<div class="urdutext">مسیحی برادری پر اس سے قبل مذہبی بنیادوں پر مسیحی برادی پر کیے جانے والے حملوں کے تناظر میں یہ ضروری ہے کہ اس انسانیت سوز اور دلخراش واقعے کواقلیتوں کے خلاف مزید اشتعال پھیلانے اور مذہبی منافرت کی بنیاد پر منظم اور انفرادی جرائم کا جواز بننے سے بھی روکا جائے۔ مشتعل مسیحی ہجوم کے ہاتھوں دوافراد کی ہلاکت کی بنیاد پر اس واقعہ کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش اور اسے مسلم بمقابلہ غیر مسلم صورت دینے والوں کی حوصلہ شکنی بھی ضروری ہے۔<br>
مذہبی محرکات کے تحت کی جانے والی دہشت گردی اور ریاست کی جانب سے ماضی میں مذہبی دہشت گردی کی سرپرستی کے باعث معاشرہ میں مذہبی شناخت کی بنیاد پر عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ ہوا ہے۔ ریاستی اور سیاسی مفادات کے تحت ملک کے اندر تکفیری گروہوں، فرقہ وارانہ دہشت گرد تنظیموں اور اقلیتوں کے خلاف منافرت کی داعی مذہبی تحریکوں کی سرپرستی، حمایت، ہمدردی یا ان کی جانب سے آنکھیں بند رکھنے کی پالیسی کے باعث معاشرتی گروہوں کے مابین عقیدے کی بنیاد پر عدم اعتماد، نفرت اور اشتعال میں اضافہ ہوا ہے۔ریاست کو معاشرے میں تمام مذہبی گروہوں کو یکساں آزادی فراہم کرنے اور مذہبی منافرت سے پاک سماجی میل جول کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ہوگا۔ ریاست کو یہ واضح پیغام دینا ہوگا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں خواہ مذہبی بنیادوں پر کارروائیاں کرنے والے دہشت گرد ہوں یا اشتعال میں آکر املاک اور انسانی جانوں کا ضیاع کرنے والے ہجوم ہوں سب قانون کے سامنے جوابدہ ہیں اور سب کو اپنے جرائم کا حساب دینا ہوگا۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%da%a9%db%8c-%db%81%d8%b1-%d8%b5%d9%88%d8%b1%d8%aa-%d8%ba%d9%84%d8%b7-%db%81%db%92-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c%db%81/">تشدد کی ہر صورت غلط ہے- اداریہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%da%a9%db%8c-%db%81%d8%b1-%d8%b5%d9%88%d8%b1%d8%aa-%d8%ba%d9%84%d8%b7-%db%81%db%92-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>“سیکیورٹی ریاست کی ذمہ داری ہے، اسلحہ نہیں رکھیں گے”</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b3%db%8c%da%a9%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%b9%db%8c-%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%b0%d9%85%db%81-%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c-%db%81%db%92%d8%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%ad%db%81-%d9%86%db%81/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b3%db%8c%da%a9%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%b9%db%8c-%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%b0%d9%85%db%81-%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c-%db%81%db%92%d8%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%ad%db%81-%d9%86%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Jan 2015 10:53:21 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اداریہ]]></category>
		<category><![CDATA[ریاست]]></category>
		<category><![CDATA[سیکیورٹی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=9060</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">خیبرپختونخواہ کے ضلع بونیر میں اساتذہ تنظیم کے اجلاس کے دوران  اساتذہ نے صوبائی حکومت کی ہدایت پر سکولوں کی حدود میں اسلحہ رکھنے سے انکار کردیا ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b3%db%8c%da%a9%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%b9%db%8c-%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%b0%d9%85%db%81-%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c-%db%81%db%92%d8%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%ad%db%81-%d9%86%db%81/">“سیکیورٹی ریاست کی ذمہ داری ہے، اسلحہ نہیں رکھیں گے”</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/10/campus-talks.png"><img decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-2710" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/10/campus-talks.png" alt="campus-talks" width="270" height="122"></a></p>
<div class="urdutext">خیبرپختونخواہ کے ضلع بونیر میں اساتذہ تنظیم کے اجلاس کے دوران اساتذہ نے صوبائی حکومت کی ہدایت پر سکولوں کی حدود میں اسلحہ رکھنے سے انکار کردیا ہے۔گورنمنٹ ہائی سکول سواری میں آل پاکستان پرائمری سکولز ایسوسی ایشن کے ایک اجلاس کے دوران اساتذہ نے اساتذہ، طلبہ اور عملے کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے صوبائی حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کی۔اجلاس کے دوران شریک اساتذہ نے سانحہ پشاور کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے اختیار کی گئی سکیورٹی پالیسی کو رد کرتے ہوئے تحفظات کا اظہار کیا۔ اساتذہ کے مطابق ان کا بنیادی فریضہ تدریس ہے اور سکولوں کے تحفظ کی ذمہ داری اساتذہ پر ڈالنے سے معیار تعلیم اور تدریسی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔</div>
<div class="leftpullquote">خیبرپختونخواہ کے ضلع بونیر میں اساتذہ تنظیم کے اجلاس کے دوران اساتذہ نے صوبائی حکومت کی ہدایت پر سکولوں کی حدود میں اسلحہ رکھنے سے انکار کردیا ہے۔</div>
<div class="urdutext">پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدرملک خالد کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کی ذمہ داری ریاست اور حکومت کی ہے اور اگر اس میں کوتاہی کی جائے گی تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ حکومت اساتذہ پر تمام ذمہ داری عائد کر کے خود اس اہم ذمہ داری سے جان چھڑا نہیں سکتی۔<br>
بونیرکے ایک ہائی سکول میں ہونے والے اجلاس کے دوران آل پاکستان پرائمری سکولز ایسوسی ایشن کے صدر اکبر علی باچا،چیئرمین معراج علی شاہ اور سیکرٹری خالد سیماب موجود تھے۔ اساتذہ تنظیمیں اس سے قبل بھی اضافی ذمہ داریوں کی تفویض کے خلاف احتجاج کر چکے ہیں۔ پشاور کے ایک سرکاری ہائی سکول میں پڑھانے والے غنی علی کے مطابق سیکیورٹی کی اضافی ذمہ داری سے اساتذہ کی کارکردگی متاثر ہونے اور عدم تحفظ میں اضافے کا اندیشہ ہے،“یہ ایک طرح کا نفسیاتی دباو ہے کہ ہماری حکومت جسے ہم نے منتخب کیا ہے ہماری حفاظت نہیں کر سکتی، اس فیصلے سے سکولوں میں عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے۔”<br>
خیبر پختونخواہ حکومت نے سولہ دسمبر کو پشاور آرمی سکول پر تحریک طالبان پاکستان کے حملے کے بعد سکول اساتذہ کو تعلیمی اداروں کی حدود کے اندر لائسنس یافتہ اسلحہ رکھنے کی ہدایت کی تھی، صوبائی حکومت کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b3%db%8c%da%a9%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%b9%db%8c-%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%b0%d9%85%db%81-%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c-%db%81%db%92%d8%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%ad%db%81-%d9%86%db%81/">“سیکیورٹی ریاست کی ذمہ داری ہے، اسلحہ نہیں رکھیں گے”</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b3%db%8c%da%a9%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%b9%db%8c-%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%b0%d9%85%db%81-%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c-%db%81%db%92%d8%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%ad%db%81-%d9%86%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
