<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اردو تراجم Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88-%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D8%AC%D9%85/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/اردو-تراجم/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Sat, 01 Jun 2024 20:34:29 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>اردو تراجم Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/اردو-تراجم/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>اندھا کتا (تحریر: آر کے نارائن، ترجمہ: رومانیہ نور)</title>
		<link>https://laaltain.pk/andha-kuta/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/andha-kuta/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[رومانیہ نور]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 28 Sep 2020 17:56:32 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[R. K. Narayan]]></category>
		<category><![CDATA[Romania Noor]]></category>
		<category><![CDATA[آر- کے۔ نرائن]]></category>
		<category><![CDATA[اردو تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[رومانیہ نور]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی ادب]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی ادب کے اردو تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[یاسر حبیب]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25823</guid>

					<description><![CDATA[<p>کتے نے اپنی آوارہ گردی کم کر دی تھی۔ وہ اندھے بھکاری کے قریب بیٹھا اسے صبح سے شام تک خیرات وصول کرتے ہوئے دیکھتا رہتا.</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/andha-kuta/">اندھا کتا (تحریر: آر کے نارائن، ترجمہ: رومانیہ نور)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<blockquote><p>یہ ترجمہ محترم یاسر حبیب کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ یاسر حبیب “<a href="https://web.facebook.com/groups/PKMZKA/" target="_blank" rel="noopener noreferrer">پاکستان کی مادری زبانوں کا عالمی ادب — اردو قالب میں</a>” کے عنوان سے ایک فیس بک گروپ کے ایڈمن ہیں۔ یہ گروپ اردو قارئین کو پاکستان کی دیگر زبانوں میں لکھے گئے ادب سے روشناس کرانے کا اہم ذریعہ ہے۔</p></blockquote>
<p>یہ کوئی بہت متاثر کن یا اعلیٰ نسل کا کتا نہیں تھا۔ یہ ان کتوں میں سے تھا جو ہر جگہ ادھر ادھر عام نظر آتے ہیں۔ اس کا رنگ سفید اور مٹیالا تھا، دم کٹی ہوئی تھی جو خدا جانے کس نے کب کاٹی تھی۔گلی میں ہی جنم ہوا تھا۔ بازار کی بچی کھچی اور پھینکی ہوئی اشیا کھا کر پیٹ بھرتا تھا۔اس کی گول گول چتکبری آنکھیں تھیں۔انداز بھی کوئی نرالا نہیں تھا اور وہ بلا وجہ ہی بھونکتا رہتا۔</p>
<p>دو سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی اس کے جسم پر سینکڑوں زخموں کے نشان تھے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی تھی کہ دیگر کتوں سے اس کی سینکڑوں لڑائیاں ہوئی ہوں گی۔ گرم دوپہروں میں اسے آرام کی ضرورت پیش آتی تو بازار کے مشرقی دروازے کی طرف بدرو کے نیچے آڑا ترچھا پڑا رہتا تھا۔ شام کو اس کے معمول کے چکر شروع ہو جاتے وہ ارد گرد کی گلیوں اور سڑکوں پر آوارہ گردی کرتا۔ اس دوران وہ گلی کی چھوٹی موٹی لڑائیوں میں بھی شریک رہتا۔ سڑک کنارے سے کھانے کی چیزیں اٹھا کر رات پڑے بازار کے مشرقی دروازے پر لوٹ آتا۔</p>
<p>عرصہ تین سال تک ایسے ہی چلتا رہا۔ اس کی زندگی میں تبدیلی تب آئی جب ایک اندھا بھکاری بازار میں آ کر وہاں بیٹھنے لگا۔ ایک بڑھیا اسے صبح سویرے وہاں چھوڑ جاتی۔ دن میں وہ کچھ کھانے کو لے کر آتی۔ شام کو اپنے سکے گنتی اور رات کو گھر لے جاتی۔</p>
<p>کتا بھی اندھے بھکاری کے قریب سو رہا تھا۔ وہ کھانے کی خوشبو سے کسمسایا۔ وہ اپنے ٹھکانے سے نکلا اور بھکاری کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اپنی دم کو ہلایا اور اور اس کے پیالے پر اس امید سے نظریں جما دیں کہ اسے بھی کچھ بچا کھچا کھانے کو ملے گا۔ بوڑھے نے ہوا میں ہاتھ لہرائے اور پوچھا ” کون ہے یہاں؟” اس پر کتا اس کے قریب آ گیا اور ہاتھ چاٹنے لگا۔ بوڑھے نے سر سے لےکر دم تک اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا۔</p>
<p>” تم کتنے پیارے ہو! آؤ میرے ساتھ_” اس نے مٹھی بھر کھانا کتے کو دیا جو اس نے شکر گزاری سے کھایا۔ یہ ایک مبارک گھڑی تھا جب ان کی دوستی کا آ غاز ہوا۔ ان کی روزانہ وہاں ملاقات ہوتی۔</p>
<p>کتے نے اپنی آوارہ گردی کم کر دی تھی۔ وہ اندھے بھکاری کے قریب بیٹھا اسے صبح سے شام تک خیرات وصول کرتے ہوئے دیکھتا رہتا۔ کتا بھی لوگوں کو بھکاری کو بھیک دینے کے لئے مجبور کرتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کتے کو سمجھ آ گئی کہ راہ گیروں کا اندھے بھکاری کے سامنے سکے گرانا لازمی تھا۔ اگر لوگ سکے نہ دیتے تو کتا ان کا پیچھا کرتا ، ان کے کپڑے دانتوں میں دبا لیتا ، انھیں واپس بھکاری کے پاس کھینچ لاتا اور انھیں مجبور کرتا کہ بھکاری کے کشکول میں سکے ڈالیں۔</p>
<p>ایک شرارتی بچہ بھکاری کو تنگ کیا کرتا تھا۔ اس کے ذہن میں شیطانی شرارتیں سمائی رہتی تھیں۔ وہ بھکاری کو برے برے ناموں سے پکارتا اور اس کے سکے چرا کر بھاگ جاتا۔ بھکاری بے بسی سے اس پر چلّاتا اور اپنی لاٹھی بچے پر گھماتا۔ یہ لڑکا جمعرات کو سبزیاں اور کھیرے سر پر لاد کر لایا کرتا تھا کیونکہ اس دن جمعرات بازار لگتا تھا۔ ہر جمعرات کو یہ لڑکا اندھے بھکاری کی زندگی میں اک نئی مصیبت لے کر آتا تھا۔ ایک عطر فروش بھی اپنے چھکڑے پر سامان لاد کر آیا کرتا تھا۔ ایک آدمی زمین پر بوریا بچھا کر اس پر اپنی سستی کتابوں کی نمائش لگاتا۔ ایک اور آدمی ایک بڑے فریم پر رنگ برنگے ربن لٹکا کر لاتا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو اسی محراب کے نیچے اپنی اشیاء فروخت کے لئے لایا کرتے تھے۔</p>
<p>ایک جمعرات اس لڑکے کو آتا دیکھ کر ایک پھیری والا بولا<br>
” بوڑھے میاں ! تمھاری مصیبت سر پر آن کھڑی ہوئی _”</p>
<p>” اوہ خدایا! آج جمعرات ہے؟” اس نے تڑپ کر کہا۔ اس نے اِدھر اُدھر ہوا میں اپنے ہاتھ چلائے اور پکارا ” کتے! کتے! ادھر آؤ، تم کہاں ہو؟” اس نے ایک مخصوص آواز نکالی اور کتا وہاں آن کھڑا ہوا۔ کتے کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ بڑ بڑایا ” اس ننھے شیطان کو ادھر مت آنے دینا۔” اسی لمحے لڑکا چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجائے وہاں پہنچ گیا۔</p>
<p>”بوڑھے میاں! تم ابھی تک اندھے ہونے کا ڈرامہ کر رہے ہو۔ اگر تم واقعی اندھے ہوتے تو تمھیں یہ سب معلوم نہ ہوتا_” وہ رک گیا۔ اس کا ہاتھ کشکول کی طرف بڑھ رہا تھا۔ کتے نے اس پر چھلانگ لگائی اور اس کے ہاتھوں پر اپنے پنجے گاڑ دئیے۔ لڑکے نے اپنا ہاتھ چھڑایا اور زندگی بچانے کے لئے بھاگ کھڑا ہوا۔ کتا اس کے پیچھے بھاگا اور اسے بازار سے بھگا کر دم لیا۔ ” اس معمولی نسل کے کتے کی اس بوڑھے سے محبت تو دیکھو!” عطر فروش نے حیرت کا اظہار کیا۔</p>
<p>ایک شام معمول کے وقت پر بڑھیا نہ آئی۔ اندھا آدمی پریشانی سے دروازے پر اس کا انتظار کرتا رہا کیونکہ شام رات میں ڈھل رہی تھی۔ جب وہ تھک ہار کر بیٹھ گیا تو ایک پڑوسی آیا اور بتایا کہ بڑھیا کا انتظار نہ کرو وہ اب دوبارہ نہیں آئے گی۔ آج دوپہر کو وہ چل بسی۔</p>
<p>بھری دنیا میں اندھے آدمی کی واحد پناہ گاہ اس کا گھر بھی چھن گیا اور وہ اس تنہا فرد سے بھی محروم ہو گیا جو اس کا خیال رکھتا تھا۔ ربن فروش نے تجویز پیش کی ” یہ لو سفید ربن۔۔۔۔۔” اس نے سفید ربن فروخت کرنے کے لئے پکڑا ہوا تھا ” میں تمہیں یہ مفت دوں گا۔ اسے کتے کے گلے میں باندھ دو۔ اگر اسے تم سے واقعی انسیت ہے تو وہ تمہاری رہنمائی کرے گا۔ ”</p>
<p>اب کتے کی زندگی میں اک نیا موڑ آ گیا تھا۔ اس نے بڑھیا کی جگہ لے لی تھی۔ اس کی آزادی مکمل طور پر کھو گئی تھی۔ اس کی زندگی سفید ربن کے اسی دائرے تک محدود ہو گئی تھی جتنی کہ ربن فروش نے اس کی لمبائی رکھی تھی۔ اسے اپنی تمام سابقہ زندگی اور پرانی سر گرمیوں کو بھولنا پڑا۔ وہ اس رسی کی درازی کی آخری حد تک ہی رہتا تھا۔ اگر وہ فطرت سے مجبور ہو کر اپنے دوست یا دشمن کتوں کو دیکھتا اور رسی تڑاتے ہوئے ان پر جھپٹتا تو اسے اپنے مالک سے گھونسا پڑتا۔ ” بدمعاش! مجھے گرانا چاہتے ہو؟ __ ہوش کرو_” کچھ ہی دنوں میں کتا اپنی فطرت اور خواہشات پر قابو پانا سیکھ گیا۔ اس نے دوسرے کتوں پر توجہ دینی چھوڑ دی۔ اگرچہ وہ اب بھی اس کی طرف بڑھتے اور غراتے تھے۔ اس کا اپنے ساتھی مخلوق کے ساتھ رابطے اور حرکت کا دائرۂِ کار کھو گیا۔</p>
<p>اس نقصان کی قیمت پر اس کے مالک کو بہت فائدہ ہوا۔ وہ اب اس طرح نقل و حرکت کرتا تھا جیسے اس نے زندگی میں پہلے کبھی نہیں کی تھی۔ سارا دن وہ کتے کی رہنمائی میں پیدل چلتا رہتا۔ ایک ہاتھ میں لاٹھی تھامے اور ایک ہاتھ میں کتے کی رسی پکڑے وہ کتے کی رہنمائی میں گھر سے پیدل نکلتا_ جو کہ بازار سے چند گز کے فاصلے پر ایک سرائے کے برآمدے کے کونے میں تھا۔ وہ بڑھیا کی موت کے بعد یہا ں منتقل ہو گیا تھا۔ وہ صبح سویرے ہی کام کا آغاز کر دیتا۔ اسے معلوم ہو گیا تھا کہ ایک ہی جگہ رکے رہنے کی بجائے چل پھر کر بھیک مانگنے سے اس کی کمائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ وہ گلیوں میں گھومتا پھرتا اور جہاں کہیں لوگوں کی آواز سنتا بھیک کے لئے ہاتھ بڑھا دیتا۔ دکانیں، سکول، ہسپتال، ہوٹل _ غرض اس نے کوئی جگہ نہ چھوڑی۔ جب اسے رکنا ہوتا تو کتے کی رسی کو کھینچتا اورجب اسے چلانا ہوتا تو بیل ہانکنے والے کی طرح چِلّاتا۔ کتا اسے گڑھے میں گرنے اور پتھروں سے ٹکرانے سے بچاتا۔ قدم بہ قدم بحفاظت اسے سیڑھیوں پر لے جاتا۔ یہ منظر دیکھ کر لوگ بھکاری کو سکے دیتے اور اس کی مدد کرتے۔ بچے اس کے ارد گرد اکٹھے ہو جاتے اور اسے اشیائے خورد پیش کرتے۔ کتا یقیناً ایک چست مخلوق ہے جو گاہے بہ گاہے اپنے تھکن زدہ معمولات کے بعد مناسب وقفوں سے آرام کرتا ہے۔ مگر یہ کتا _جو اب ٹائیگر کے نام سے جانا جاتا تھا _ کا تمام چین آرام ختم ہو گیا تھا۔ اسے تب ہی آرام کا موقع ملتا جب بوڑھا کہیں بیٹھتا۔ رات کو بوڑھا کتے کی رسی اپنی انگلی سے لپیٹ کر سوتا۔</p>
<p>” میں تمھیں کوئی موقع فراہم نہیں کر سکتا” وہ کہتا۔ روز بروز زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کی دھن میں اس کا مالک آرام کو موقع گنوانا سمجھتا تھا اور کتے کو مسلسل اپنے قدموں پر چلنا پڑتا تھا۔ بسا اوقات اس کی ٹانگیں چلنے سے انکاری ہو جاتیں مگر وہ معمولی سی بھی سست رفتاری کا مظاہرہ کرتا تو اس کا مالک غصے میں اپنی لاٹھی سے اسے مارتا۔ کتا اس ظلم پر تلملاتا اور احتجاج کرتا ” کراہو مت بدمعاش! کیا میں تمھیں خوراک نہیں دیتا؟ تم بے کار وقت گزارنا چاہتے ہو؟ کیا تم ایسا کرو گے؟” اندھے بوڑھے نے گالی دی۔اندھے ظالم کے ساتھ بندھا ہوا کتا سست قدموں سے سارا دن گلیوں میں ادھر ادھر ، اوپر نیچے پھرتا رہتا۔ جب بازار میں خرید و فروخت بند ہو جاتی تو رات گئے دیر تک تھکے ماندے کتے کی درد بھری کراہیں سنی جا سکتی تھیں۔ اس کی ظاہری شکل کھو گئی تھی۔ جوں جوں وقت گزرا اس کی ہڈیاں اس کی جلد میں کھبتی گئیں۔اس کی پسلیاں جلد سے جھانکتی صاف نظر آتی تھیں۔</p>
<p>ربن فروش، ناول فروش اور عطر فروش اس کا مشاہدہ کرتے رہتے تھے۔ ایک شام جب کاروبار میں مندا تھا تینوں نے بیٹھ کر مشاورت کی۔ ” اس کتے کو غلامی کرتے دیکھ کر میرا دل پسیجتا ہے۔ کیا ہم کچھ نہیں کر سکتے؟” ربن فروش نے تبصرہ کیا۔ ” اب تو اس بد معاش نے ساہو کاری بھی شروع کر دی ہے۔ _ میں نے سبزی فروش سے یہ بات سنی ہے __ وہ اپنی ضروریات سے کہیں زیادہ کما رہا ہے۔ وہ پیسے کی خاطر شیطان بن چکا ہے ___” اسی لمحے عطر فروش کی نظر قینچی پر پڑی جو ربن کے فریم پر جھول رہی تھی۔ ” یہ ذرا مجھے پکڑاؤ” وہ بولا اور قینچی ہاتھ میں تھامے آگے بڑھا۔</p>
<p>اندھا بھکاری مشرقی دروازے کے سامنے سے گزر رہا تھا۔ کتا رہنمائی کے فرائض سر انجام دے رہا تھا۔ راستے میں ہڈی کا ٹکڑا پڑا تھا اور کتا اسے کو حاصل کرنے کی تگ و دو میں تھا۔</p>
<p>رسی اندھے بھکاری کے ہاتھ میں تن گئی جس سے اس کے ہاتھ کو تکلیف پہنچی۔ اس نے رسی کھینچی اور کتے کو ٹھوکر ماری۔ کتا چلّایا اور کراہا مگر آسانی سے ہڈی تک نہ پہنچ سکا۔ اس نے ہڈی کی طرف ایک اور قدم بڑھایا۔ اندھا آدمی اس پر لعنتوں کے انبار لگا رہا تھا۔ عطر فروش نے قدم آگے بڑھایا، قینچی چلائی اور ربن کاٹ دیا۔ کتے نے چھلانگ ماری اور لپک کر ہڈی اٹھا لی۔ اندھا آدمی اپنی جگہ پر ساکت کھڑا رہ گیا۔ ربن کا بقیہ حصہ اس کے ہاتھوں میں جھول رہا تھا۔ ” ٹائیگر! ٹائیگر! تم کہاں ہو؟” وہ پکارا۔ عطر فروش چپکے سے کھسک آیا اور بڑ بڑایا، ” بے رحم شیطان! تم اسے کبھی دوبارہ نہیں پاسکتے۔ اس نے اپنی آزادی حاصل کر لی ہے۔ ” کتا تیز رفتاری سے بھاگ گیا۔ اس نے خوشی خوشی سارے نالوں میں ناک گھسیڑی۔ بھاگ کر دوسرے کتوں میں شامل ہو گیا اور بازار کے فوارے کے ارد گرد بھونکتے ہوئے آزادی سے چکر لگائے۔ اس کی آنکھیں خوشی سے جگمگا رہی تھیں۔ وہ اپنی پسندیدہ جگہوں قصاب کی دکان، چائے کے کھوکھے اور بیکری پر گیا۔</p>
<p>ربن فروش اور اس کے دوست بازار کے داخلی دروازے پر کھڑے ہو کر اندھے بھکاری کو راستہ ٹتولتے دیکھ کر لطف اندوز ہونے لگے۔ وہ اپنی جگہ پر ساکت کھڑا لاٹھی گھما رہا تھا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ ہوا میں معلق ہے۔ وہ گریہ کر رہا تھا ” ہائے ! میرا کتا کہاں ہے؟ میرا کتا کہاں ہے؟ کوئی ایسا نہیں جو مجھے میرا ٹائیگر لوٹا دے؟” اگر وہ پھر سے مجھے مل جائے تو میں اس کا خون کر دوں گا۔ ” اس نے ٹتولتے ہوئے سڑک پار کرنے کی کوشش کی۔ جگہ جگہ درجنوں گاڑیوں کے نیچے آنے سے بچا، کئی بار لڑھکا اور آخر کار ہانپنے لگا۔ ” اگر وہ کچلا جاتا تو اسی کا مستحق تھا۔ بے رحم انسان_” وہ اسے دیکھتے ہوئے بولے۔ تاہم بوڑھا کسی نہ کسی طرح کسی کی مدد سے سرائے کے بر آمدے کے کونے میں اپنے ٹھکانے پر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا اور اپنے بوریے کے بستر پر ڈھیر ہو گیا۔ سفر کے تناؤ کی وجہ سے وہ نیم بے ہوش تھا۔</p>
<p>پھر وہ نظر نہ آیا۔ دس_ پندرہ_ حتیٰ کہ بیس روز گزر گئے۔ نہ ہی کتے کی کوئی بھنک ملی۔ وہ آپس میں تبصرے کیا کرتے۔ ”کتا یقیناً آزادی کی خوشی اور سرمستی میں دنیا گھوم رہا ہو گا۔ بھکاری بہر حال اب تک گزر گیا ہو گا۔ ” بمشکل ہی یہ جملہ ادا ہوا ہو گا کہ انھوں نے بھکاری کی لاٹھی کی مخصوص ٹپ ٹپ کی آواز سنی۔ انھوں نے فٹ پاتھ پر بھکاری کو کتے کی رہنمائی میں دوبارہ آتے ہوئے دیکھا۔ ” دیکھو ! دیکھو ! ” وہ چِلّائے، ” اس نے دوبارہ اس پر قابو پا لیا اور رسی باندھ دی_” ربن فروش خود کو باز نہ رکھ سکا اور پوچھا ” تم ان تمام دنوں میں کہاں رہے؟”</p>
<p>”جانتے ہو کیا ہوا!” اندھا آدمی کراہا ” یہ کتا بھاگ گیا تھا۔ میں تو اس کونے میں پڑا پڑا ایک دو دن تک مر ہی جاتا<em>کھانے کو کچھ تھا نہ کوئی آنے کی کمائی تھی</em> وہاں پر قید <em>چل بستا اگر کل بھی ایسا ہوتا</em> مگر یہ کتا لوٹ آیا_”</p>
<p>”کب؟ کب؟ ”</p>
<p>”کل رات، آدھی رات کا وقت ہو گا جب میں اپنے بستر پر سویا ہوا تھا وہ آ گیا اور میرا چہرہ چاٹنے لگا۔ میرا جی چاہتا تھا کہ اسے مار ڈالوں۔ میں نے اسے زور کا دھکا دیا۔ جو وہ زندگی بھر نہیں بھولے گا۔ ” بوڑھے آدمی نے بتایا۔ ”میں نے اسے معاف کر دیا۔ بہر حال وہ ایک کتا ہی تو تھا۔ وہ اتنے دن آزادی سے گھوما پھرا جب تک سڑک کنارے بچا کھچا کھانے کو ملتا رہا۔ مگر بھوک اسے میرے پاس واپس کھینچ لائی۔ مگر اب وہ مجھے چھوڑ کر نہیں جائے گا۔ دیکھو! اب مجھے یہ مل گئی ہے__” اس نے رسی لہرائی۔ اس مرتبہ یہ لوہے کی زنجیر تھی۔</p>
<p>ایک مرتبہ پھر کتے کی آنکھوں میں بے دلی اور نا امیدی کی تصویر در آئی تھی۔ ” اپنی راہ لو احمق! ” اندھا بھکاری ایک بیل ہانکنے والے کی طرح ہنکارا۔ اس نے رسی کو جھٹکا دیا اور اپنی لاٹھی سے اسے ٹھوکر ماری اور کتے نے سستی سے اپنے قدم آگے بڑھا دئیے۔ وہ ٹپ ٹپ کی آواز کو دور جاتے ہوئے سنتے رہے۔</p>
<p>” اب تو موت ہی کتے کی جان چھڑا سکتی ہے۔” ربن فروش نے آہ بھری اور اس پر افسردہ نگاہ ڈالی۔ ” ہم ایسی مخلوق کا کیا کر سکتے ہیں جو اتنی خوش دلی سے اپنی بد بختی کی طرف لوٹ آئے۔”</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/andha-kuta/">اندھا کتا (تحریر: آر کے نارائن، ترجمہ: رومانیہ نور)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/andha-kuta/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>چوکیدار کی بیوی (تحریر: رخسانہ احمد، ترجمہ: رومانیہ نور)</title>
		<link>https://laaltain.pk/chawkidar-ki-biwi/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/chawkidar-ki-biwi/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[رومانیہ نور]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 13 Jul 2020 09:31:29 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Romania Noor]]></category>
		<category><![CDATA[Rukhsana Ahmed]]></category>
		<category><![CDATA[اردو تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[رخسانہ احمد]]></category>
		<category><![CDATA[رومانیہ نور]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی ادب]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی ادب کے اردو تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[یاسر حبیب]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25446</guid>

					<description><![CDATA[<p>ہیرا کو معلوم ہے کہ اس کے بچوں کو اکثر بھوکا ہی سونا پڑتا ہے چنانچہ وہ بھی پیٹ بھر کر نہیں کھا سکتا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/chawkidar-ki-biwi/">چوکیدار کی بیوی (تحریر: رخسانہ احمد، ترجمہ: رومانیہ نور)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>یہ ترجمہ محترم یاسر حبیب کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ یاسر حبیب “<a href="https://web.facebook.com/groups/PKMZKA/" target="_blank" rel="noopener noreferrer">پاکستان کی مادری زبانوں کا عالمی ادب — اردو قالب میں</a>” کے عنوان سے ایک فیس بک گروپ کے ایڈمن ہیں۔ یہ گروپ اردو قارئین کو پاکستان کی دیگر زبانوں میں لکھے گئے ادب سے روشناس کرانے کا اہم ذریعہ ہے۔</p>
<p>رومانیہ نور کا تعلق ملتان سے ہے۔ ایک سرکاری تعلیمی ادارے میں انگریزی پڑھاتی ہیں۔ انھوں نے اب تک غیرملکی زبانوں کے ادب سے 18 افسانوں، 10 نظموں، 2 خطوط، اور مختلف کتابوں کے 9 اقتباسات کے اردو تراجم کیے ہیں۔ ان کے کچھ تراجم سہ ماہی “ادبیات”، روزنامہ “اوصاف” اور دیگر جرائد و اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں۔ ایک کتاب “عورت کتھا” میں ان کے تراجم کا انتخاب بھی شائع ہوچکا ہے۔ سوشل میڈیا اور ویب سائٹس پر بھی تراجم شائع ہوئے ہیں۔ ترجمہ نگاری کا یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔</p>
<p>.….….…</p>
<p>کَل دو افراد لُو لگنے کے باعث دم توڑ گئے تھے۔اس قدر شدید درجہ حرارت موسم گرما کے لیے بھی ایک ریکارڈ تھا۔ انیتاسورج کی بے حسی یاد کر کے جھلا گئی تھی کہ کل چڑیا گھر کے پرند خانے میں پرندے گرمی کی شدت سے کیسے ساکت اور خاموش تھے۔ شاندار بلیاں کیسے بے دم ہوئی پڑی تھیں۔ اس کا کوئی حل نکالا جانا چاہیئے۔ مگر 110فارن ہائیٹ تک بلند درجۂ حرارت سے بچاو کا سوچنا بھی حماقت معلوم ہوتاہے۔ گرمی اس قدر شدید تھی کہ اچھے خاصے سوریہ ونشی بھی تائب ہوجائیں۔ بھلے وقتوں میں بھی لاہور کا چڑیا گھر جانوروں کے لئے مناسب مقام نہ تھا۔ لیکن اس بار کی گرمی سے ان کی جانوں کو سنگین خطرہ لاحق تھا۔ اس کا فوری سدِّ باب ضروری تھا۔</p>
<p>انیتا نے ڈوری کھینچ کر دبیز پردے گرا دئیے۔ سورج کی تابناکی کا سامنا کرنے سے پہلے وہ چند لمحے پر سکون تاریکی سے لطف اندوز ہونا چاہتی تھی۔</p>
<p>اس کے چھوٹے چھوٹے شہد رنگ بال جھاڑ جھنکار کی طرح منتشر تھے جنھیں اس نے انگلیاں پھیر کر پیچھے ہٹایا۔ وہ بہت اکتائی ہوئی لگ رہی تھی۔خود کو پژمردہ اور لباس کو شکن آلود محسوس کرتے ہوئے اس نے دونوں ہاتھوں سے سکرٹ کی اطراف کو رگڑ تے ہوئے شکنیں مٹانے کی بے سود کوشش کی۔ جانے کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ پانچ بجنے کو تھے لیکن سورج کی بے اعتنائی اپنی جگہ برقرار تھی وہ بد ستور کینہ پروری سے بے دم اور تپتی ہوئی گرم خشک زمیں پر آگ برسا رہا تھا۔</p>
<p>“صاحب آ گیا؟”</p>
<p>جب جادوئی انداز میں پردے کے پیچھے سے کامو سکنجبین کی ٹرے کے ہمراہ نمودار ہوا تو اس نے اپنے انگریزی زدہ اردو لہجے میں پوچھا۔ وقت کی پابندی کے معاملے میں کامو بے عیب تھا۔</p>
<p>“ نہیں میم صاحب!”</p>
<p>اس کا انداز معذرت خواہانہ تھا۔ ٹرے انیتا کے سامنے کرتے ہوئے اس نے احترام سے آنکھیں جھکا لیں۔</p>
<p>“شکریہ! ڈرائیور سے کہو کہ بس پانچ منٹ” اس نے اپنی بات کو تمثیلی طور پر بیان کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کا سہارا لیا۔<br>
“ابھی تک واپسی نہیں ہوئی۔ اب رات کے کھانے تک اس سے نہیں مل پاؤں گی۔” انیتا نے خود کلامی کی۔<br>
اسے ساڑھے پانچ بجے تک گالف کھیلنے جانا ہے، سو وہ کلب میں ہی کپڑے بدلنے والا ہے۔<br>
“وہ ٹیلی فون بھی تو کر سکتا تھا۔ نو سال ہو گئے ہیں سہتے ہوئے اور ابھی تک یہی کرب مسلسل ہے”۔</p>
<p>اس نے اپنے ذہن سے اس دکھ کو جھٹکنے کی کوشش کی کیونکہ اسے اپنی چیزیں سمیٹنا تھیں۔ ایک چھوٹی نیلی چھتری، تنکوں سے بنا خاکستری پرس، دھوپ کا چشمہ، اور معالجِ حیوانات کی رہنما کتاب جو کہ برٹش کونسل لائبریری سے مستقل بنیادوں پر مستعار لی گئی تھی۔</p>
<p>باہرجونہی تیز دھوپ کے تھپیڑے اس کے چہرے سے ٹکرائے وہ ٹھنڈی پناہ گاہ کے لئے تیزی سے نیلی ٹیوٹا کی جانب بڑھی۔ چڑیا گھر سرکاری افسروں کی رہائشی کالونی جی۔ او۔ آر جہاں ان کا گھر تھا سے زیادہ دور نہیں تھا۔ انگریزوں کے چھوڑ جانے کے 37سال بعد بھی لاہور میں یہ بہت معزز علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ حکومتی عہدیداران کی رہائش گاہوں کے ساتھ بڑی چار دیواری کے پیچھے وسیع و عریض پائیں باغ تھے جن کی چمک دمک ماند پڑ گئی تھی۔ لیکن اپنے آقاؤں کی طرح ان کی بے نیازی برقرار تھی۔</p>
<p>چڑیا گھر کے بند ہونے کا وقت پانچ بجے تھا مگر گھنٹی کی عدم موجودگی میں عملے کے افراد کو ہی لوگوں کو گیٹ بند ہونے سے پہلے روانہ ہو نے کی تلقین کرنا پڑ رہی تھی۔ وہ انہیں یقین دلا رہے تھےکہ بصورتِ دیگر اگر گیٹ بند ہو جاتا تو ان کے اندر ہی قید ہو جانے کا خدشہ تھا۔</p>
<p>اڑیل بچے گرمی کی شدت سے قطرہ قطرہ پگھل کر انگلیوں پر بہتی آئس کریم کو عجلت میں چاٹتے ہوئے بے دلی سے قدم اٹھا رہے تھے۔ جوانوں نے اِدھر اُدھر سائے کی تلاش میں ہلچل مچائی ہوئی تھی۔ وہ مضطرب تھے کہ گیٹ کے باہر کوئی بھی سواری انہیں مل جائے۔ چوکیدار نے اپنے ڈھنڈورچی کے کردار میں تعطل لاتے ہوئے انیتا کے لئے دروازہ کھولا۔ وہ ڈپو کی جانب روانہ ہو گئے جو دوسرے سرے پر سپرنٹنڈنٹ کی رہائش گاہ کی طرف کچھ ہٹ کر بنا ہوا تھا۔ حسین کتابیں، رجسٹر، ٹوکری، اور برتن برآمدے میں لئے، موڑھے پر بیٹھا پوری طرح چوکس ان کی آمد کے لئے تیار تھا۔ اس کے پھٹے ہوئے گرد آلود پاؤں چپلوں میں چپکے ہوئے تھے۔ وہ استقبال کے لئے پھرتی سے کھڑا ہو گیا۔ رسمی سلام دعا کا تبادلہ ہوا۔ اس کی ٹھنڈے مشروب کی پیشکش ہمیشہ کی طرح مسترد کر دی گئی اور وہ کام کی طرف متوجہ ہو گئے۔</p>
<p>انیتا نےایک ہلتی ہوئی کرسی پر بیٹھ کرکھاتوں کے تمام اندراجات کو دیکھاجبکہ حسین گھبرائے ہوئے انداز میں گودام میں چیزیں تلاش کرتا رہا۔ وہ بندروں کے لئے پھل اور پرندوں کے لئے غلے کی مقدار اور وزن کی پیمائش کرتا رہا۔ میڈم مچھلی اور گوشت کے اوزان خود کرنے کو ترجیح دیتی تھی۔ چناچہ جب تک وہ گودام میں بھیجی جانے والی خوراک کے تمام اندراجات کی پڑتال نہ کر لیتی تب تک حسین انہیں نہیں تول سکتا تھا۔ تمام خوراک تیار کرنے میں چالیس منٹ لگتے تھے۔ تب تک دو لڑکے بھی جو باغیچے کی صفائی میں مالی کے معاون تھے میم صاحب کی زیرِ نگرانی جانوروں کو خوراک کھلانے کے لئے حسین کی مدد کو آ جاتےتھے۔</p>
<p>حسین کو کبھی کبھی انیتا کے بارے میں حیرت ہوتی تھی۔ وہ کون تھی؟ کہاں سے آئی تھی؟ اسے جانوروں سے یہ کس قسم کی محبت تھی جو تپتی سہ پہروں میں جب اس کے طبقے کی دیگر عورتیں نیم تاریک اور ٹھنڈے کمروں میں اونگھ رہی ہوتیں اسے یہاں کھینچ لاتی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی ملازمت ایک لحاظ سے انیتا کی مرہونِ منت تھی۔ سب جانتے تھے کہ سابق سپرنٹنڈنٹ اسی کی مداخلت پر بر طرف کیا گیا تھا۔ چوکیدار نے کئی مرتبہ اسے یہ کہانی سنائی تھی کہ کیسے دو سال پہلے وہ چڑیا گھر کی سیر کو آئی اور دیکھا کہ جانور کمزوری اور کم خوراکی کا شکار ہیں۔ سو اس نے شکایت کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اعلیٰ حکام تک رسائی حاصل کی، انہیں خطوط لکھے اور بالآخرانہیں سپرنٹنڈنٹ کی معزولی پر آمادہ کر لیا۔</p>
<p>جس دن حسین نے چارج لیا تو وہ گورنر کی طرف سے جاری کردہ مراسلے کے ساتھ وہاں موجود تھی جس میں کہا گیا تھا کہ جانوروں کو خوراک دینے سے پہلےوہ اس کے معائنے کی مجاز ہے اور وہ بذاتِ خود اس امر کو یقینی بنائے گی کہ جانوروں کو دی جانے والی خوراک موزوں اور متناسب ہے۔ اُس دن سے لے کر آج تک اسے کبھی پہنچنے میں تاخیر نہیں ہوئی تھی۔</p>
<p>اس کا انتظار کرنا حسین کا معمول بن گیا تھا۔ وہ خوفزدہ رہتا تھا کہ اگر وہ پھر سے ناراض ہو گئی تو نہ جانے اس کا کیا بنے گا۔ چوکیدار ماجھا انیتا کو ایک مداخلت کار سمجھتا تھا۔” بے چارے نواز صاحب کو آٹھ بچوں کے خاندان کے ساتھ کس طرح ذلیل کر کے نکال دیا تھا۔ اسے ابھی تک کوئی اور ملازمت نہیں ملی۔ در حقیقت وہ ایک اچھا شخص تھا” اس کی بات کا خاتمہ ہمیشہ ایک سرد آہ پر ہوتا تھا۔</p>
<p>گفتگو کے اس مرحلے پر حسین کی کہانی میں دل چسپی کھو جاتی اور وہ کسی ضروری کام کا بہانہ بنا کر وہاں سے چلا آتا۔</p>
<p>انیتا اس دن گرمی سے نڈھال ہو گئی تھی۔ پسینے سے لباس اس کے بدن پر چپکا جا رہا تھا۔ وہ دم لینے کو ایک بنچ پر بیٹھ گئی جو چنبیلی اور گلِ خطمی کی جھاڑیوں کے جھنڈ سے ڈھکا ہوا تھا۔ اس دن کی تپش کے باعث انیتا کے لیے ممکن نہیں رہا تھا کہ وہ ہمیشہ کی طرح خوراک تقسیم کرتے ہوئے حسین کے پیچھے پیچھے چکر لگائے۔</p>
<p>پھولوں کی تیز خوشبو اورجانوروں کے پنجروں سے اٹھتی بو کے مابین کشمکش جاری تھی۔ گرمیوں کے مہینوں میں پانی کی کمی بہت گھمبیر مسئلہ تھا اور پنجرے ہر تین میں سے دو بار بد بو دیتے تھے۔ اسے ہیرا کی فکر تھی۔ وہ کل سے بھی زیادہ بے جان دکھائی دیتا تھا۔ اس نے اس گوشت میں کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی جو حسین نے پنجرے میں پھینکا تھا۔ انیتا نے پریشان ہو کر یہ سوچتے ہوئے اپنا کتابچہ کھولا کہ آیا انہیں معالجِ حیوانات سے رابطہ کرنا چاہیئے یا پھر نگرانی سخت کر دینی چاہیئے۔ وہ ہیرا کی بہت دلدادہ تھی۔ ہیرا عملے کے دوسرے ارکان میں بھی بہت مقبول تھا۔ انہوں نے اسے ہیرا کی عرفیت دی تھی کیونکہ رات کے وقت اس کی آنکھیں ہیروں کی طرح چمکتی تھیں۔ وہ ایسا ہی زندگی سے بھر پور اور شرارتی چیتا تھا جیسا کہ سندر بن میں عام دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن اس موسمِ گرما کی شدت نے اسے بری طرح نڈھال کر دیا تھا۔ انیتا نے پرس اٹھایا اور بے دھیانی میں آہستہ آہستہ واپس اس کے پنجرے کی طرف چلنا شروع کر دیا۔ نرم کیچڑ میں اس کے قدموں کی چاپ دب گئی تھی۔ اُس عورت پر نظر پڑتے ہی وہ خود بخود اوٹ میں ہو گئی۔ اس عورت نے نہ تو انیتا کو آتے ہوئے دیکھا تھا اور نہ اس کے قدموں کی چاپ سنی تھی۔ وہ سفید جنگلے کے اس پار ممنوعہ علاقے میں یکسوئی سے پنجرے کے گرد منڈلا رہی تھی۔ صرف اراکینِ عملہ کو اس اندرونی حصار میں جانے کی اجازت تھی۔ حتیٰ کہ انیتا بھی ان حدود کا احترام کرتی تھی۔ وہ ہکا بکا اسے دیکھتی رہی۔</p>
<p>عورت کی ایک آنکھ ہیرا پر جمی ہوئی تھی، وہ ضرورت سے زیادہ پریشان دکھائی نہیں دیتی تھی۔ انیتا کی لگی جب اس نے دیکھا کہ عورت نے آگے جھک کر سلاخوں میں ہاتھ ڈال کر گوشت کے دو پارچے اٹھا لئے اور انہیں تیزی سے پلاسٹک کے نرم تھیلے میں کھسکا لیا۔ وہ ایک دبلی پتلی، نازک اندام اور خوش قامت عورت تھی۔ اس کا مشن پایۂ تکمیل کو پہنچ چکا تھا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور اس سرعت کے ساتھ دوڑ کر پیچھے ہٹ گئی جوصرف ہیرا سے ہی منسوب کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>ملگجے اندھیرے میں انیتا نے فوری طور پر بیٹھنے کی ضرورت محسوس کی کیونکہ شدتِ غم سے اس کے قدم ڈگمگانے لگے تھے اور وجود جھولنے لگا تھا۔صدمے نے اسے کمزور کر دیا تھا۔ اسے اپنے آپ کو یکجا کرنے میں کچھ وقت لگا۔ وہ حیران تھی کہ اس کی عدم موجودگی میں یہاں کیا کچھ ہوتا ہے۔ اس عورت کی جسارت انیتا کے لئے چیلنج تھی۔یقیناً انیتا کو اس پر چلّانا چاہئے تھا۔ اس نے فرض کیا کہ یہی سب کچھ برسوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے اور اب اس چوری چکاری کا سدِ باب ضروری ہے۔ ہیرا آہستگی سے اٹھا اور سبک خرامی سے اپنی خوراک کی طرف بڑھا۔ کھانے میں مشغول ہونے سے پہلے وہ نفاست و نزاکت سے گوشت کو سونگھنے لگا۔</p>
<p>اسے واپس جانے کے لئے اپنی توانائیاں مجتمع کرنے میں معمول سے زیادہ وقت لگا۔ ملازمین اسے روانہ کرنے کے لئے گیٹ پر منتظرکھڑے تھے۔ اس کا کچھ تاخیر سے جانا بالکل بھی غیر معمولی نہ تھا۔ سیر کے اوقات کے بعد چڑیا گھر میں خاموشی اور سکون ہوتا تھا۔ وہ پہروں بیٹھی یہاں بند جانوروں کواپنے آپ میں مگن ہوتے دیکھتی رہتی یہاں تک کہ شام کی تاریکی چھا جاتی۔</p>
<p>یہاں تاریکی ہمیشہ بہت جلد اور دفعتاً چھا جاتی تھی جب سورج مغربی دیوار کی طرف پرند گھر کی بلند و بالا گارے کی دیواروں کے پیچھے چھپ جاتا تو وہ مرے مرے قدموں سے خود کو دھکیلتی ہوئی واپسی کی راہ لیتی۔آج وہ گیٹ کے پاس سے گزری تو بالکل خالی الذہن تھی اس نے اپنا نحیف ہاتھ اٹھا کر صرف اشارے سے سلام کا جواب دیا۔</p>
<p>اس رات وہ سلیم سے بات کرنے کے لئے مضطرب تھی۔ وہ کھانا کھانے میں محو دکھائی دیتا تھا مگر پھر بھی انیتا نے بات چھیڑ دی۔ سلیم کی ہنسی بہت سرد مہر اور کھردری تھی۔</p>
<p>“ تم نے پو لیس کو نہیں بلایا؟”</p>
<p>“نہیں” انیتا اس کے استہزاء سے بے چین ہو گئی۔” اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے؟”</p>
<p>“تمہارا خدائی فوجدار بننا: اور یہ اخلاقی بحران ۔۔۔۔جو تمہیں درپیش ہے۔”</p>
<p>سلیم کی ہنسی ناخوشگواری کے آخری دہانے پر تھی اور ان کے درمیان فاصلہ بڑھا رہی تھی۔</p>
<p>“اخلاقی بحران؟” وہ حیران ہوئی۔</p>
<p>“میرے خیال میں تو اس صورتحال کو یہی کہا جاتا ہے”۔</p>
<p>وہ پوری توجہ سے انگلیوں کی مدد سے مچھلی کے سانٹے نکالنے میں مگن تھا۔ انیتا کی نظریں دور خلا میں جمی ہوئی تھیں۔ کچھ توقف کے بعد سلیم نے پوچھا:</p>
<p>کیا میں نے تمہیں کبھی مسز ہاؤ کا قصہ سنایا ہے؟”</p>
<p>“میرا نہیں خیال۔ کون ہے وہ؟” انیتا کو اس کے انداز سے الجھن محسوس ہو رہی تھی۔</p>
<p>“ہے نہیں۔۔۔۔۔تھی۔ ہاں مسز ہاؤ تہران میں قونصل جنرل کی بیوی تھی۔اس وقت چالیس کی دہائی میں پاپا وہاں تعینات تھے۔ وہ گھوڑوں سے بہت الفت رکھتی تھی۔ بلا شبہ ان سے شدید محبت کرتی تھی۔ وہ ہر سہ پہرگھر سے نکلتی اور بیمار اور بدسلوکی کے شکار گھوڑوں کی تلاش میں شہر کا چکر لگاتی تاکہ انہیں گھر لے آئے۔</p>
<p>وہ اپنا گھڑ سواری کا لباس زیب تن کرتی، ہاتھ میں چابک ہوتا اور بذاتِ خود خطا کار مالکان کو سزا دینے پہنچ جاتی انہیں چابک سے مارتی اور گھوڑے کو اپنے ساتھ لے آتی۔ وہ دہشت کی علامت بن چکی تھی۔ مالکان کے ساتھ گھوڑوں سے بھی بد تر سلوک کیا جاتا،انہیں جیل میں ڈال دیا جاتا اور وہ ایک کام کرنے والے جانور سے بھی کسی ادائیگی کے بنا ہاتھ دھو بیٹھتے۔”</p>
<p>“پھر؟”</p>
<p>“پھر کچھ نہیں- کشیدگی بڑھتی گئی۔۔۔یاد رکھو کہ یہ وہ ایام تھے جب پانچ آدمی چینی کی قیمت پر احتجاج کرنے کے لئے بھی اکٹھے ہو جاتے تو انہیں دھمکانے کے لئےبرطانوی جنگی بیڑے مشتعل ہو کرساحلوں پر آ لگتے تھے۔”</p>
<p>” میں نہیں جانتی کہ تم کیا جتانا چاہ رہے ہو سلیم! مگر جوکچھ میں یہاں کرنا چاہ رہی ہوں وہ کچھ الگ معاملہ ہے۔”</p>
<p>“ہاں ، امید ہے ایسا ہی ہو گا۔۔۔ تم اپنے گھڑ سواری کے لباس میں نہیں تھی اور تم نے پولیس نہیں بلائی۔ میری عمر اس وقت صرف گیارہ سال تھی اور مظلوموں کے ساتھ ناانصافی کے بارے میں میرے احساسات آج کی نسبت کہیں زیادہ خالص تھے۔ اس کے باوجود میں وہ واحد شخص تھا جسے کبھی اس بات کا تعین نہیں کر پایا کہ اصل میں گھوڑے مظلوم ہیں یا ان کے مالک۔”</p>
<p>انیتا نے اپنے اور سلیم کے درمیان اس بے رحم فاصلے پر ایک مایوس کن اور بے آواز غصے کی کیفیت کو محسوس کیا۔ یہ جارحیت، عداوت، جانبداری یا پھر حد سے بڑھی ہوئی سادگی تھی۔</p>
<p>” کیا ہو گیا تھا انہیں۔۔ “انیتا کو ذرا سی بات کا تماشہ بنانے سے نفرت تھی۔ لیکن جیسے ہی وہ نیپکن رکھ کر کھانے کی میز سے جانے کے لئے اٹھی تو غصے کی وجہ سے اس کی کرسی چرچرا اٹھی۔ اس نے برآمد ے کی جانب قدم بڑھا دیئے۔ باہر خاموش اور گھٹن زدہ تاریکی میں وہ خالی نظروں سےاڑتے ہوئے جگنوؤں کو تکتی رہی ۔</p>
<p>کیمبرج کے دنوں میں ان کے درمیان جو شدید قسم کا جذباتی لگاؤ تھا وہ اب ختم ہو چکا تھا۔ انیتا کی حد تک تو یہ معاملہ اپنے وجود سے جڑے حقائق کے لیے ہمہ وقت مبہم مدافعانہ پن میں ڈھل گیا تھا۔ اس نے تلخی سے سوچا کہ تمام سفید فام اقوام کے اجتماعی جرم کو اپنے زہریلے پن میں لپیٹ کر اس کی روح پر لیپ دینا سلیم کی عادت بن گیا ہے۔ تنازعات اور غصہ تلخی بن کر ان کے مابین معلق تھے۔</p>
<p>سلیم اچھی طرح سے جانتا تھا کہ وہ چڑیا گھر کے جانوروں کے متعلق کتنی حساس ہے۔ اس نے اداسی سے سوچا۔</p>
<p>وہ انیتا کے لئے اس کے خاندان کی طرح خصوصی اہمیت کے حامل تھے۔ بالکل اپنے بچوں کی طرح تھے اور یہ ایسا ہی تھا جیسا کہ کسی کو اس کی اولاد سے محروم کر دیا جائے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/chawkidar-ki-biwi/">چوکیدار کی بیوی (تحریر: رخسانہ احمد، ترجمہ: رومانیہ نور)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/chawkidar-ki-biwi/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>قسطوں میں حیات (محمد برّادا)</title>
		<link>https://laaltain.pk/qiston-mein-hayat/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/qiston-mein-hayat/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[آج]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 20 Mar 2019 12:08:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[aaj]]></category>
		<category><![CDATA[ajmal kamal]]></category>
		<category><![CDATA[atta siddiqi]]></category>
		<category><![CDATA[Tyrone Hart]]></category>
		<category><![CDATA[world literature]]></category>
		<category><![CDATA[اردو تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[عطا صدیقی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24401</guid>

					<description><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”] محمد برّادا1938ء میں رباط، مراکش، میں پیدا ہوے۔ انھوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے عربی کے مضمون میں ڈگری حاصل کی اور پیرس یونیورسٹی سے جدید ادبی تنقید کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کیا۔ ان کی بہت سی تنقیدی تحریریں شائع ہوئی ہیں اور انھوں نے فرانسیسی سے ترجمے بھی کیے ہیں۔ ان کی کہانیوں [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/qiston-mein-hayat/">قسطوں میں حیات (محمد برّادا)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]<br>
محمد برّادا1938ء میں رباط، مراکش، میں پیدا ہوے۔ انھوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے عربی کے مضمون میں ڈگری حاصل کی اور پیرس یونیورسٹی سے جدید ادبی تنقید کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کیا۔ ان کی بہت سی تنقیدی تحریریں شائع ہوئی ہیں اور انھوں نے فرانسیسی سے ترجمے بھی کیے ہیں۔ ان کی کہانیوں کا مجموعہ 1979ء میں بیروت سے شائع ہوا تھا۔ آج کل وہ رباط یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر ہیں اور مراکشی ادیبوں کی انجمن کے صدر بھی ہیں۔</p>
<p><strong>عطا صدیقی</strong> (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔</p>
<p>عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے <a href="https://www.facebook.com/pages/category/Bookstore/City-Press-Bookshop-1574804906077834/" target="_blank" rel="noopener">سٹی پریس بک شاپ</a> یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:<br>
عامر انصاری: 03003451649</p>
<p>[/blockquote]<br>
تحریر: محمد برّادا (Mohammed Barrada)<br>
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>ہم دیر سے جاگے اور بستر میں پڑے پڑے جماہیاں لیتے رہے۔ یوں لگتا تھا جیسے ہڈیوں کا جوڑ جوڑ الگ ہو جائے گا۔ یہ نظر آ رہا تھا کہ آج کا دن بھی پچھلے گزرے ہوے دنوں ہی کی طرح گزرے گا۔ ہم نے اپنا سر چوبی سرھانے پر ٹکا دیا۔ ہماری نظر دھندلی دھندلی ہورہی تھی اور بلاشبہ ہمارا چہرہ بھی پیلا پڑا ہوا تھا۔ ہم ڈاکٹر سے اس سلسلے میں رجوع کر چکے تھے۔ اس سے اپنی شکایت کہی تھی جس پر اس نے سیانوں کی طرح سر ہلا کر کہا تھا:<br>
’’تم اکیلے نہیں ہو۔ تمھاری طرح کے وہ تمام افراد جو غوروفکر میں مبتلا رہتے ہیں اور خواب دیکھتے رہتے ہیں اور حال سے مطمئن نہیں ہوتے، اسی مرض کا شکار ہوتے ہیں۔‘‘</p>
<p>ہمیں یاد آیا، ایسا ہی جواب کسی ڈاکٹر نے— غالباً ہمارے ہی ڈاکٹر نے— ہمارے ایک دوست کو بھی دیا تھا جو اس کے پاس بدہضمی اور سینے کی جلن کی شکایت لے کر گیا تھا۔</p>
<p>’’کوئی علاج بھی ہے ڈاکٹر؟‘‘</p>
<p>’’میں تم کو چند گولیاں دے دیتا ہوں جن سے تمھیں افاقہ ہو گا۔ لیکن زیادہ خوش فہمی میں مت پڑنا۔ ہر صبح جیسے ہی آنکھ کھلے، ذہن پر زور دے کر کوئی ایسا دلچسپ قصہ یاد کرنا جس سے تم باچھیں پھاڑ کر مسکرا سکو، اور پھر بستر سے کودنا اور بلند آواز سے گانا۔ ایسے موقعے پر بےسُری آواز بھی چلے گی۔‘‘</p>
<p>ہم نے ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرنے کے ارادے سے اپنی یادداشت کے کونے کھدروں میں کسی ایسے قصے کو تلاش کیا جو ہمیں ایک دم لوٹ پوٹ ہو جانے پر مجبور کردے۔ ہماری ایک ولایتی پڑوسن اکثروبیشتر خوش وقتی کے لیے ٹیکسی پکڑ لیتی تھی، حالانکہ خود اس کے پاس کار تھی۔ سیر سپاٹے کے بعد جب ٹیکسی بلڈنگ کے دروازے پر رکتی تو وہ یہ ظاہر کرتی کہ پیسے تو گھر ہی پر رہ گئے۔ پھر وہ اتر کر پیسے لینے بلڈنگ میں چلی جاتی اور اوپر جا کر غائب ہو جاتی، اور وہ بےچارہ ٹیکسی والا ہارن بجاتا رہتا۔ بلڈنگ والے جھانک جھانک کر دیکھتے کہ اسے کیا ہو گیا۔ عورت کا گھر معلوم نہ ہونے کی وجہ سے وہ ٹاپتا رہ جاتا اور بک جھک کر چل دیتا۔ اور وہ عورت اپنے کمرے میں ہنس ہنس کر دوہری ہو جاتی۔ ہی ہی ہی ہی! ہا ہا ہا ہا! اس قصے کا یاد آنا تھا کہ ہم خوب ہی ہنسے اور دل ہی دل میں اپنی اس ہوشیار پڑوسن کے ممنون ہوے۔ پھر ہم اپنے بستر سے کودے اور گاتے ہوے اپنی طویل تعطیل کا ایک نیا دن شروع کیا۔</p>
<p>اپنے بھرے پُرے کتب خانے میں ہم دیر تک بےمقصد ٹہلتے رہے۔ ہم نے دیکھا کہ اس میں بیشتر کتابیں وہ ہیں جنھیں ہم نے بعد کے لیے اٹھا رکھا تھا کہ جب فرصت ملے گی تو ان کا مطالعہ کیا جائے گا۔ ہمارا ہاتھ ایک سرخ جلد کی طرف بڑھ گیا جس کا مصنف چالیس برس قبل مراکش کے مدینۃ الاحمر میں رہتا تھا۔ وہ کتاب محمد ابن عبداللہ المعقط کی ’’سفرنامۂ مراکش عرف افعالِ شنیعہ کا عصری عکس، المعروف بہ تارکِ سنت کے خلاف تیغِ بے نیام‘‘ تھی۔<br>
— پھر شیخ عبدالہادی نے ارشاد کیا، ’’جس نے سوال کیا اور جس سے سوال کیا گیا، ہر دو فرد دسویں صدی کے لوگوں میں سے تھے۔ اب ذرا ہمارے اس زمانے کو قیاس کرو، جو مثل ایک طویل شبِ مظلمہ کے ہے، کہ بات کتنی نہ بڑھ چکی ہو گی! سردارانِ قوم کو لو تو انھوں نے رعیت کو ظلم کے سوا کیا دیا؟ گوشت انھوں نے نوچ لیا اور خون پی گئے۔ ہڈیوں کا گودا تک وہ چوس گئے اور دماغ چٹ کر گئے اور رعیت کے لیے نہ دنیا چھوڑی نہ دین۔ متاعِ دنیا کو لو تو انھوں نے سب کچھ سمیٹ لیا، کچھ نہ چھوڑا، اور دین کی پوچھو تو ان کا منھ اس سے موڑا۔ یہ سب ہمارے مشاہدے کی باتیں ہیں، فقط باتیں ہی باتیں نہیں۔۔۔۔‘‘</p>
<p>ابوزید نے سوال کیا، ’’اللہ آپ کو توفیق دے، کیا ایسے دیار میں قیام کرنا جائز ہے جہاں کوئی منکرات کی نہی کرنے پر قادر نہ ہو؟‘‘</p>
<p>ذہن کو مطالعے سے کوئی سکون نہیں ملتا۔ قدیم جدید نظر آتا ہے اور جدید قدیم، مگر دماغ اس کے ناممکن ہونے پر احتجاج کرتا ہے؛ وہ یہ مان کر ہی نہیں دیتا کہ ’’سورج نور سے عاری ہے۔‘‘ ہم نے خود سے کہا کہ شاید اس کا سبب بےزاری، تعلقات کی طوالت، گہرے رموز کا افشا، التباسات کی اصلیت کا کھل جانا، خوابوں کا بکھر جانا، آئندہ سے لگاؤ اور حال سے بےنیازی ہو۔ ہم کو چاہیے کہ نفس کو صبر کا خوگر بنائیں اور بار بار دُہرائے جانے والے معمولات کے ساتھ لمحۂ موجود کو بالتفصیل گزاریں۔</p>
<p>کھانے پر ہمارے مہمان ہمارے ایک عزیز تھے جو ساٹھ کے پیٹے میں تھے۔ انھوں نے اوائلِ عمر ہی میں قرآن حفظ کر لیا تھا، اس کے ایک ایک لفظ سے واقف تھے اور آخر کو موذن ہو گئے تھے۔ ایک برس قبل جب ان کی اہلیہ نے وفات پائی تو انھوں نے اپنی ایک اَور عزیزہ کو عقد کے لیے منتخب کر لیا، کہ موذن کو مجرّد رہنے کی اجازت نہیں، مگر انھوں نے یہ بہتر سمجھا کہ یہ فریضہ وہ حج سے واپسی کے بعد ادا کریں۔ ان کی غیرموجودگی میں خدائی فوجداروں نے مداخلت کی اور اس خاتون کا نکاح کسی اور سے کروا دیا۔ چنانچہ وہ اب بھی رشتے کی تلاش میں تھے۔</p>
<p>’’الحمداللہ کہ تم خیر سے ہو۔ بندے کو ہر حال میں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اور کیا حال ہیں؟ کاروبار کیسا چل رہا ہے؟ ٹھیک ٹھاک۔ ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا۔ اور صاحبزادے کس حال میں ہیں ؟ کام میں دل لگاتے ہیں؟‘‘<br>
’’انھی سے پوچھیے، خود بتائیں گے۔ ہمیں تو کام چور دکھائی پڑتے ہیں۔‘‘<br>
’’بڑے شرم کی بات ہے بیٹا! کاش تم اپنے چچا عبدالرحمٰن کے نقش قدم پر چلتے۔‘‘<br>
ان کے الفاظ نے گویا ہمارے ذہن میں کسی بھولی بسری یاد کو بیدار کردیا۔ ہم نے پوچھا:<br>
’’وہی جو غرق ہوکر مرے تھے؟‘‘<br>
’’ہاں، اور شہید بھی کہلائے تھے۔ جان لو کہ حدیث شریف کی رو سے تین قسم کے مُردے شہید کا درجہ رکھتے ہیں : وہ جو آگ میں جل کر مرے، وہ جو پانی میں غرق ہوے، اور وہ جو کسی دیوار کے نیچے دب گئے۔‘‘</p>
<p>اب ان کا روے سخن صاحبزادے کی طرف ہوگیا۔ وہ ہر نوع اور ہر قسم کی ہدایتیں اور نصیحتیں سننے کا عادی تھا، اس لیے اس نے ذرا بھی ناگواری ظاہر نہیں کی۔</p>
<p>’’تمھارا چچا عبدالرحمٰن ابھی اٹھارہ برس کا تھا کہ جملہ علوم میں طاق ہوچکا تھا۔۔۔۔‘‘<br>
مسکراتے ہوے صاحبزادے نے قطع کلام کیا:<br>
’’میں تو ابھی سترہ برس کا بھی نہیں ہوا۔‘‘<br>
ہم نے مناسب طور پر اسے سرزنش کی:<br>
’’تمھارا کھوپڑا گدھے کے سر سے بھی زیادہ خالی ہے۔ جو ہم کہیں اسے گرہ میں باندھ رکھو۔ مستقبل تمھارا ہے۔ ہماری نصیحتوں پر عمل نہیں کرو گے تو آپ بھگتو گے۔ تمھارا کیا خیال ہے، روزی کمانا کچھ آسان کام ہے؟ کچھ کے سروں پر ٹیکا ہوتا ہے تو دوسروں کے سروں پر کام کا سربند۔‘‘</p>
<p>حاجی صاحب نے اپنی بات جاری رکھی:<br>
’’عبدالرحمٰن— اللہ اسے اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے— جملہ علوم میں طاق تھا۔ اس کی خطاطی ازحد دیدہ زیب تھی۔ محکمۂ مالیات میں ملازم تھا اور کم عمری ہی سے جبہ اور عمامہ پہنتا تھا۔ مشاق پیراک اور ماہر شہسوار تھا۔ ایک مرتبہ ایک فقیہ، جو سُوس سے ہماری ملاقات کو آئے تھے، اس سے مل کر اس کی علمیت اور ذہانت سے بہت متاثر ہوے۔ انھوں نے اس خوف سے کہ کہیں اس کو جن وانس کی نظرِ بد نہ لگ جائے، ایک تعویذ، جو حرزالبحر اور دافعِ بلیات کہلاتا ہے، لکھ کر دیا کہ اپنے جبے پر پہنے رہے تاکہ بلیات سے محفوظ رہے۔‘‘</p>
<p>گفتگو میں اپنی دلچسپی ظاہر کرنے کے لیے، گو اوپری ہی سہی، ہم نے کہا:<br>
’’اور اس تعویذ کے ہوتے ہوے وہ غرق ہو گئے؟‘‘</p>
<p>’’مشیت الہٰی! وہ رباط سے سالے آ رہا تھا۔ وادیِ ابو رقرق اس نے کشتی سے عبور کی تھی۔ پھر اس نے عمامہ اتار کر وضو کیا، ظہر کی نماز ادا کی۔ پھر وہاں سے روانہ ہو کر ابھی بیس قدم گیا ہو گا کہ اس کا پیرنے کو جی چاہا۔ بس وہ اسی مقام کو لوٹا، اپنا لباس اتارا اور پیرنے لگا…‘‘<br>
حسب معمول مسکراتے ہوے صاحبزادے نے قطع کلام کیا:<br>
’’کیا اس زمانے میں لوگ ننگے ہی پیرتے تھے؟‘‘</p>
<p>گو ہم کو یہ سوال معقول معلوم ہوا مگر یہ محل کسی اَور ردعمل کا متقاضی تھا۔ چنانچہ ہم نے صاحبزادے کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا اور بے بسی کے اظہار میں کف افسوس ملا اور پورا زور لگا دیا کہ کہیں ہماری ہنسی نہ چھوٹ جائے۔</p>
<p>’’نہیں، وہ لنگر باندھتے تھے۔ اُس دن اتفاق سے تعویذ دوسرے جبے میں رہ گیا تھا اور پانی میں اس کی مشاقی ذرا کام نہ آئی اور سمندر اب تک اس کو دبائے بیٹھا ہے۔‘‘</p>
<p>یوں عبدالرحمٰن تو اپنی جان سے گیا، رہ گئے دونوں جہان کے علم، تو اس میں سراسر نقصان میں ہم رہے۔</p>
<p>ابھی کھانا ختم نہیں ہوا تھا مگر باتیں ختم ہوگئی تھیں۔ ہم اپنے مہمان کو آرام سے نوالہ چباتے دیکھتے رہے۔ سوچتے رہے کہ اب کس موضوع گفتگو میں ان کو لگائیں۔ ہم کو چند واقعات اور اِدھر اُدھر کی باتیں یاد آئیں جو وہ اس سے پہلے ہمیں کئی مواقع پر سنا چکے تھے۔ بس یاد دلانے کی دیر تھی کہ وہ شروع ہو جاتے۔ مثلاً ہم کہہ سکتے تھے کہ: اگلے وقتوں کے لوگ جب یہ نعرہ لگاتے تھے کہ ’’عزت اور دولت سب مولاے عبدالعزیز کی‘‘ تو واللہ دل سے لگاتے تھے۔ ان کے لیے اتنا اشارہ کافی تھا؛ وہ سلطان مولاے عبدالعزیز اور آس پاس کے قبائل کی جنگ وجدال کے واقعات سلسلہ وار سنانا شروع کر دیتے یہاں تک کہ فرانسیسیوں کے ورود تک پہنچ جاتے۔ تاہم یہ سوچتے ہوے کہ یہ گفتگو اکتا دے گی، ہم نے مناسب سمجھا کہ خود انھی کے بارے میں بات چھیڑی جائے۔ اذان دینے اور نماز پڑھنے کے علاوہ باقی وقت کیونکر گزرتا ہے؟ حرمینِ شریفین سے واپسی کے بعد حشیش انھوں نے ترک کر دی تھی اور نئی اہلیہ کا بھی دور دور پتا نہیں تھا۔ آخر پھر وقت کس طرح کٹتا ہے؟ کیا وہ خود کو چلتی پھرتی لاش تصور کرتے ہیں؟ بظاہر اپنے اردگرد کی دنیا سے ان کا تعلق بہت محدود تھا۔ وہ بس ادھر ادھر کی باتیں سن سنا کر اپنی حاشیہ آرائی کے ساتھ سنا دیا کرتے تھے، اور بات ختم یوں کرتے تھے کہ اللہ نے اختیار یوں تو سب کو دے رکھا ہے مگر اصل اختیار اُسی کا ہے۔</p>
<p>صاحبزادہ کھانے پر ندیدوں کی طرح گرتا ہے۔ ممکن ہے اس وقت خالی الذہن ہو، مگر وہ آس پاس ہونے والی باتوں پر توجہ دیتا ہے، میکانیکی انداز ہی میں سہی۔ وہ سگریٹ کا مزہ، پڑوس کی لڑکیوں کا تعاقب اور فٹ بال کا چسکا بھی دریافت کر چکا ہے۔ تھوڑے سے استغراق کے بعد وہ گرما کی تعطیلات میں یوروپ کے سفر کی خواہش کا اظہار بھی کرتا ہے، چاہے اس کو وہاں پاپیادہ ہی کیوں نہ جانا پڑے، (جس سے اس کے سفر کے اخراجات میں اضافہ ہی ہو گا)۔</p>
<p>اور ہم؟ ہم بزرگوار اور صاحبزادے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ہم ان کے دل میں آنے والے خیالات کا اندازہ لگا رہے ہیں، ارد گرد کی دنیا سے ان کے رشتے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے بعد؟ قیلولہ۔ اور پھر؟ گھومیں پھریں گے، تازہ ہوا کھائیں گے۔ اور پھر؟ ہم اپنی رفیقہ کو ٹیلیفون کریں گے۔ کہیں ملیں گے، گپ لگائیں گے۔ ہماری حرارت بڑھے گی، جبلتیں کھل کھیلیں گی۔ پھر وہی بےزاری کا دور دورہ ہو گا۔ دونوں اپنی اپنی راہ لیں گے۔ پھر ہم اپنے دوستوں کے پاس جائیں گے۔ دنیا جہان کی باتیں کریں گے۔ کبھی مدح کریں گے کبھی ذم، اور یوں اپنے دل کا غبار نکالیں گے۔ مگر جب اپنی بےبسی کی انتہا کا اندازہ ہو گا تو سارا جوش بیٹھ جائے گا۔ ہم پھر سڑکوں پر نکل جائیں گے۔ عورتوں کے مدوّر اور بھرے بھرے جسموں کی جنبشیں دیکھ کر ہوس پھر سر اٹھائے گی۔ ہم اکثر اپنے متاہل احباب سے پوچھا کرتے ہیں، ’’تو گویا تمھاری اہلیہ اپنی صنف کی قائم مقام ہوتی ہے؟‘‘ ہم کو جواب یہ ملتا ہے، ’’ہرگز نہیں، بیوی سے محبت رکھنے کے باوجود بیوی والوں سے زیادہ کوئی دوسری عورت کا خواہاں نہیں ہوتا۔‘‘ ہم اس عقدے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، عقل کے مطابق توجیہہ کرتے ہیں۔ سبب اس کا سراسر اختلاطِ مردوزن، پُرکشش اشتہارات، میک اپ، اونچی ایڑی کی جوتی اور۔۔۔۔۔۔ اَور کیا ہے؟<br>
ہم نے اس کو یہ بتایا تو اس نے سختی سے ٹوکا:<br>
’’سب بکواس۔ محبت کی مدد سے ہم ہوس کو زیر کرسکتے ہیں۔‘‘<br>
’’اور محبت ہے کہاں ؟‘‘<br>
’’اچھا، تو تم بھی از قسمِ قنوطی ہو۔ مجھی کو لو۔‘‘ اس کی کہانی بھی عام قسم کی نکلی۔ وہ اسے کسی بوڑھے سے بیاہنا چاہتے تھے تو اس نے خودکشی کی دھمکی دی، اور ان دونوں نے تامرگ ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے کے وعدے وعید کیے وغیرہ وغیرہ۔</p>
<p>وہ ہماری بات سمجھا ہی نہیں؛ اس کے سامنے فرائڈ کا قول دہرانے کا کیا فائدہ: ’’میں خود کو اس خیال کا خوگر بنانے کی کوشش کررہا ہوں کہ ہر وصل میں چار افراد شریک ہوتے ہیں۔‘‘</p>
<p>ہم غلو سے کام لیتے ہیں اور وہ لمحہ ہم کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ صرف بوالہوسی نہیں جو دہلاتی اور اکساتی ہے۔ ترغیب تو جرم میں، خودکشی میں، شراب میں اور انقلاب میں بھی ہوتی ہے، مگر یہ دوسری قسمیں ہمیں اتنا نہیں اکساتیں، کیونکہ ان سے مانوسیت کو کوئی ٹھیس نہیں لگتی۔ اور لکھنا؟</p>
<p>میں چپ تھا اور وہ جواب دینے پر مائل نہ تھے؛ بس تسبیح کے دانے گن رہے تھے۔ عبدالباسط نے عرض کیا: ’’میں ہمیشہ سے جانتا آیا ہوں کہ جناب کے مقال میں وہ تاثیر ہے کہ آپ کے روبرو بڑے بڑے لسان گنگ رہ جاتے ہیں اور ان کے دماغ لاجواب۔۔۔۔۔۔ آپ اپنے دلآویز ارشادات سے صبح شام ہمارے حوصلے کچھ یوں بلند کرتے ہیں کہ ان ارشادات کے خوش آئند نقوش ہمارے نفوس پر ثبت ہوجاتے ہیں۔ ہم نے تو جناب کو مُدام اسی حالت میں پایا۔ پھر اب کیا ہوا؟‘‘<br>
شام کو ہمیں پھر وہی احساس ہوا کہ ہڈیاں بکھری جا رہی ہیں، اور ایک دلگیر اداسی بھی طاری ہو گئی۔ اس سے جان چھڑانے کے لیے ہم نے سوچا کہ ڈاکٹر کا وہی معروف نسخہ آزمایا جائے، مگر ہم کو تذبذب ہوا کہ ڈاکٹر نے وقت کا تعین کر دیا تھا: شام نہیں، صبح۔ تو کوچہ کوچہ آوارہ گردی کریں گے اور عوام الناس کے چہروں کو تاڑیں گے، شاید کوئی علاج سوجھ جائے۔ ہم کافی دیر گردش میں رہے۔ کیفے کھچاکھچ بھرے ہوے ہیں۔ بیئر کی بوتلیں چشم زدن میں خالی ہو رہی ہیں۔ قہقہے گونج رہے ہیں۔ ہر دم چلتی ہوئی رس نکالنے کی مشینیں کھڑکھڑا رہی ہیں۔ اس کے باوجود ہماری اداسی ہے کہ اَڑی کھڑی ہے، جانے کا نام ہی نہیں لیتی۔ کاریں تیزرفتاری سے گزرتی ہیں۔ بسیں سست اور ٹھساٹھس بھری ہوئی ہیں۔ سنیماؤں پر قدآور ہیرو اشتہار بنے کھڑے ہیں۔ یوں نظر آتا ہے کہ ہمارے چاروں طرف ہر شخص بھاگا چلا جا رہا ہے۔ جی چاہا ان کو روکنے کے لیے چلّائیں، ’’تم بھاگے جا رہے ہو!‘‘ مگر یہ خیال احمقانہ اور بےجواز سا لگا۔ ہم نے دل سے پوچھا، ’’کسی شے کو ثبات بھی ہے؟‘‘ پھر ہم اس حیات کی کہانی قلمبند کرنے کے لیے جو ہم قسطوں میں جیتے ہیں، گھر لوٹ آئے۔</p>
<p>Image: Tyrone Hart<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div class="urdutext">آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے <a href="https://laaltain.pk/author/aaj/" target="_blank" rel="noopener">کلک</a> کریں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/qiston-mein-hayat/">قسطوں میں حیات (محمد برّادا)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/qiston-mein-hayat/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سلام (تحریر: شیریں نظام مافی، ترجمہ: مبشر میر)</title>
		<link>https://laaltain.pk/salaam/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/salaam/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[مبشر احمد میر]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 13 Mar 2019 11:44:36 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[mubashir mir]]></category>
		<category><![CDATA[اردو تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[شیریں نظام مافی]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی ادب]]></category>
		<category><![CDATA[مبشر میر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24365</guid>

					<description><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”] 1999 میں جب بیسویں صدی رخصت ہو رہی تھی اور کرہ ارض کے باسی نئی صدی کے استقبال کی تیاریاں کر رہے تھے، زرتشت کے سرزمین سے تعلق رکھنے والی بیس سالہ شیرین نظام مافی بھی بہتر مستقبل کے خواب آنکھوں میں لیے ابھرتے سورج کی سرزمین پہنچ گئی۔ کوبے یونی ورسٹی کے [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/salaam/">سلام (تحریر: شیریں نظام مافی، ترجمہ: مبشر میر)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">1999 میں جب بیسویں صدی رخصت ہو رہی تھی اور کرہ ارض کے باسی نئی صدی کے استقبال کی تیاریاں کر رہے تھے، زرتشت کے سرزمین سے تعلق رکھنے والی بیس سالہ شیرین نظام مافی بھی بہتر مستقبل کے خواب آنکھوں میں لیے ابھرتے سورج کی سرزمین پہنچ گئی۔ کوبے یونی ورسٹی کے شعبہ انجینئرنگ میں داخلہ لیا، یونی ورسٹی میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ جاپانی زبان میں اتنی استعداد حاصل کر لی کہ اس کی ادب تخلیق کرنا شروع کر دیا۔ 2006 میں جاپان میں مقیم غیر ملکی طالب علموں کا ادبی انعام حاصل کیا۔ 2009 میں بنگاکیکائی ایوارڈ حاصل کیا۔ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی وہ دوسری غیر جاپانی اور مشرق بعید سے تعلق نہ رکھنے والی پہلی مصنفہ ہیں۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<p>مسٹر تناکا نے ‘درخواست برائے ملاقات’ کے دو فارم پر کیے اور استقبالیہ کھڑکی میں جمع کرائے۔ چند منٹ بعد ہمارے سامنے لوہے کا ایک دروازہ کھلا اور پولیس کا ایک لمبا تڑنگا، ہٹا کٹا سپاہی نمودار ہوا، اس کا جسم اتنا گٹھیلا تھا جیسا کسی جاپانی کا ہونا چاہیے۔ اس کی مچھلیاں اس کی وردی میں پھنسی ہوئی تھیں۔</p>
<p>وہ بولا، “اس طرف آئیے۔“اس نے دروازے کی دوسری جانب ہماری راہ نمائی کی، پھر خود بھی اس جانب آیا اور دروازے کو تالا لگا دیا۔ ہم نے خود کو ایک طویل تاریک راہ داری میں پایا۔ دونوں جانب آہنی دروازوں کا سلسلہ تھا، جس میں کہیں کہیں چھوٹی کھڑکیاں تھیں، اگرچہ دن کا پہلا پہر تھا، لیکن بہت کم روشنی یہاں تک پہنچ پاتی تھی، جس کے نتیجے میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ تاہم کہیں کہیں لگے ہوئے چھوٹے بلب صرف اتنی روشنی مہیا کرتے تھے کہ ہم صرف راستہ دیکھ سکتے تھے۔ یہ راہ داری رات کے وقت کسی ڈراؤنی فلم کی طرح اچھی خاصی خوفناک ہوتی ہو گی۔</p>
<p>جسیم سپاہی ہمیں راہ داری سے ملحق ایک کمرے میں لے گیا۔ کمرے کی دیواروں پر بہت سے لاکرز نصب تھے۔ ہمیں کہا گیا کہ اپنا سامان یہیں چھوڑ دیں۔ جس وقت ہم عمارت میں داخل ہوئے اس وقت بھی میرے بیگ کی تلاشی لی گئی تھی، ہم اپنے موبائل اور چابیاں وہاں جمع کروا آئے تھے، چناں چہ میں سمجھتی تھی کہ ہم تلاشی کے کسی اور مرحلے سے گزرے بغیر ملاقات والے کمرے یک پہنچ جائیں گے۔ مسٹر تناکا بدمزگی سے بڑبڑا رہے تھے۔ انھیں بغیر بیگ کے کئی فائلیں لے جانی تھیں، جو کافی مشکل کام تھا۔ ناگواری سے تلملاتے ہوئے انھوں نے اپنا بیگ خالی کیا۔ اگر مجھے علم ہوتا کہ میرے بیگ کی تلاشی لی جائے گی تو اس میں کاسمیٹکس کا چمک دار گلابی پاؤچ یا نائلون کی اضافی جرابیں نہ لاتی۔ صرف یہی نہیں، نزلے سے میری ناک بَہ رہی تھی اور میرا بیگ استعمال شدہ ٹشوؤں سے بھرا ہوا تھا۔ جس وقت سپاہی کی نظر ان پر پڑی، میں شرم سے پانی پانی ہو گئی۔</p>
<p>میں نے اپنا ضرورت کی اشیا، لغت اور قلم، اٹھائیں اور کمرے سے باہر آ گئی۔ مسٹر تناکا نے اپنا بیگ ساتھ لے جانے پر بہت اصرار کیا لیکن آخر میں انھوں نے اپنا بیگ لاکر میں رکھا، اپنا قلم اور چند موٹی فائلیں اٹھا لیں۔ ہم جسیم سپاہی کی معیت میں راہ داری میں مزید آگے بڑھے، جہاں پولیس کا ایک اور سپاہی نمودار ہوا، اس نے مسٹر تناکا کا استقبال کیا، ہمارے سامنے والا دروازہ کھولا اور ہٹ کر ایک جانب کھڑا ہو گیا، تاکہ ہم اندر داخل ہو سکیں۔ مسٹر تناکا کے پیچھے میں بھی کمرے میں داخل ہوئی۔ ہمارے بعد جسیم سپاہی اندر آیا، دروازہ بند کیا اور نگرانی پر کھڑا ہو گیا۔</p>
<p>یہ کمرا نسبتاً اور چھوٹا اور باقی عمارت کی مانند تاریک تھا۔ شیشے کی ایک دیوار سے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے یہ کچھ زیادہ ہی چھوٹا لگتا تھا۔ شیشے کی دیوار کے ساتھ تین کرسیاں دھری تھیں۔ مسٹر تناکا نے ایک جانب کی کرسی منتخب کی، درمیانی کرسی خالی چھوڑتے ہوئے میں دوسری جانب بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر بعد شیشے کی دیوار کے دوسری جانب والا دروازہ کھلا اور ایک سپاہی کمرے میں داخل ہوا، اس نے سر خم کر کے ہمیں تعظیم دی، پھر واپس مڑا اور کسی کو اندر آنے کا اشارہ کیا۔ اس کے پیچھے درمیانے قد کی ایک دبلی پتلی لڑکی، جس کی آنکھیں جھکی ہوئی تھیں، کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ پرانے انداز کا ڈھیلا ڈھالا رنگین لباس پہنےہوئے تھی۔ مٹیالے رنگ کے ایک لمبے دوپٹے سے، جس پر چمک دار بیل کڑھی ہوئی تھی، اس نے اپنے بال سمیٹے ہوئے تھے۔ اسے دیکھ کر مجھےکہیں دور پار کی خانہ بدوش عورت یاد آگئی، جو آپ کو صرف فلموں میں دکھائی دیتی ہے۔ سپاہی نے دیوار کی دوسری جانب موجود اکلوتی کرسی کی جانب اشارہ کیا اور دروازے کے پاس اپنی مخصوص جگہ لوٹ گیا۔ اب وہ ایک لفظ ادا کیے بغیر، گود میں ہاتھ دھرے، بت بنی، بیٹھی تھی، وہ ہمیں نہیں بلکہ نیچے دیکھ رہی تھی۔ اس نے ایک مرتبہ بھی ہم سے آنکھیں نہیں ملائیں، حالاں کہ ہماری نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں۔</p>
<p>مسٹر تناکا نے کھنکھار کر اپنا گلا صاف کیا اور بات شروع کی۔</p>
<p>“سلام!” وہ دری زبان میں بولے تاکہ اجنبیت کا احساس نہ ہو۔ میری نظر ان کے قدموں میں فائلوں کے ایک شفاف فولڈر پر پڑی۔ جس میں بچوں کا ایک رنگین تعلیمی ورق نظر آ رہا تھا، جس پر “ملکوں ملکوں خیر سگالی کے الفاظ” چھپے ہوئے تھے۔<br>
لڑکی نے کوئی ردِعمل ظاہر نہ کیا، نگاہیں اٹھائے بنا نیچے دیکھتے رہی۔</p>
<p>مسٹر تناکا نے میری جانب دیکھا۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ ترجمے کے لیے تیار ہو جاؤ۔</p>
<p>“میں تناکا ہوں۔” کچھ تذبذب کے ساتھ وہ بولے، “یقیناً! تمھیں بتا دیا گیا ہو گا کہ یہاں میں تمھارا دفاع کرنے کے لیے آیا ہوں۔ کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، چناں چہ ہمیں چاہیے کے ایک دوسرے سے مل کر کام کریں۔” خیر سگالی کا یہ خالص جاپانی انداز تھا۔ یہ الفاظ، جو وہ کہنا چاہتے تھے، کہنے کے بعد وہ مطمٔن نظر آنے لگے۔ وہ اپنی نشست پر مڑے اور مجھے دیکھا، لیکن جوں ہی میں نے ترجمہ شروع کیا، اچانک وہ، شاید خود سے مخاطب ہو کر “ارے، معاف کرنا” کہتے ہوئے، اپنی نشست سے اٹھے، اپنی جیکٹ کی اندرونی جیب سے تعارفی کارڈ نکالا اور شیشے کی دیوار کے سوراخ سے دوسری جانب کھسکا دیا۔ ان کی اچانک حرکت پر وہ اپنی حیرت چھپا نہ سکی اور آنکھیں اٹھا کر اچٹتی ہوئی نظر ہم پر ڈالی۔</p>
<p>یہ صرف ایک لمحے کے لیے تھی، لیکن اس کے چہرے کے تاثرات سے میں لرز گئی۔ اس کی آنکھوں کی پتلیاں دھندلی اور ہر نوع کے تاثر سے محروم تھیں، جیسے ان کی چمک ختم ہو گئی ہو۔ وہ کسی پہلو سے زندہ انسان کی آنکھیں نہیں لگتی تھیں، کچھ ایسے، جیسے پلاسٹک سے بنی ہوں، ان میں کوئی تاثر نہیں تھا، کوئی حرکت نہیں تھی، اور میں سوچے بنا نہ رہ سکی کی کیا وہ ان آنکھوں سے دیکھ بھی سکتی ہے۔</p>
<p>“پلیز!”</p>
<p>مسٹر تناکا کی آواز سے میں اپنے آپ میں لوٹ آئی۔ جب انھوں نے میری جانب دیکھا، میں نے آہستہ آہستہ ان کے الفاظ کا ترجمہ شروع کیا، تاکہ اسے میرا تلفظ سمجھنے میں مشکل نہ ہو۔</p>
<p>اس نے کوئی ردِعمل ظاہر نہ کیا۔ میرا خیال تھا، ایک لمبے عرصے کے بعد دری سُن کر وہ خوش ہو گی لیکن اس نے کوئی دل چسپی ظاہر نہ کی۔ مسٹر تناکا نے مشکوک نظروں نے مجھے دیکھتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی۔</p>
<p>“مل کر کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تم میرے سب سوالوں کا جواب دو۔ مجھے تم سے بہت سی باتیں پوچھنی ہیں، ممکن ہے یہ سب تمھارے لیے مشکل ہو، لیکن یہ تمھارے فائدے کے لیے ہے۔ اس لیے کوشش کر کے جواب دو۔”</p>
<p>اب بھی اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مسٹر تناکا نے ٹیڑھی نظروں سے میری طرف دیکھا۔ میں نے دھیمی آواز میں احتجاج کیا، “جو آپ نے کہا، میں نے وہی ترجمہ کیا۔”</p>
<p>اس نے ایک ہاتھ میں مٹیالے دوپٹے کا پلو پکڑا اور اسے دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کے گرد لپیٹنے لگی۔ دھوپ سے جھلسائے ہوئے، جھریوں والے کھردرے ہاتھوں کی انگلیوں کی جلد پھٹی ہوئی تھی۔ اس کے چھوٹے ناخنوں کے سرے مٹی بھرنے سے سیاہ ہو چکے تھے۔ یہ ہاتھ کسی ایسے فرد کے تھے، جس نے کبھی ہینڈ کریم کا نام نہیں سنا تھا۔</p>
<p>ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ مجھے یا مسٹر تناکا کو نہیں سُن رہی، ان کا تعارفی کارڈ اس کی توجہ سے محروم وہیں پڑا ہوا تھا۔ مسٹر تناکا نے اپنے شفاف فولڈر سے کاغذات کا ایک پلندہ نکالا اور سوالات کی فہرست پر نگاہ ڈالی۔<br>
“تمھارا نام کیا ہےَ؟”</p>
<p>میں نے اس کے لیے ان الفاظ کا ترجمہ کیا۔ مختصر خاموشی کے بعد اس نے جواب دیا، “لیلیٰ۔” اس کی مشکل سے سنائی دینے والی آواز حیرت انگیز حد تک خشک اور بیٹھی ہوئی تھی۔ اسے اس بات کا کوئی اندازہ نہیں تھا کہ یونی ورسٹی کے طالب عملوں کے لیے یہ کتنی دل فریب اور ہیجان خیز ہو گی۔ جوں ہی انھوں نے اس کا جواب سنا، مسٹر تناکا اس کی طرف جھکے، خوشی سے اسے دیکھا، پھر اپنے کاغذات کی جانب متوجہ ہوئے۔ انھوں نے دوسرا سوال کیا تو ان کے پرجوش لہجے سے ایسا محسوس ہوتا تھا، جیسے ان کی بیٹری چارج ہو گئی ہو۔</p>
<p>“تمھارا خاندانی نام کیا ہے؟”<br>
“غلام علی۔”<br>
“تمھاری پیدائش کب ہوئی؟”<br>
“گرمیوں میں۔”<br>
“میرا مطلب ہے۔ تاریخ یا سال۔۔۔” انھوں نے میری جانب دیکھا۔ سیدھے سادے الفاظ “تاریخ پیدائش” کا دری متبادل میرے ذہن سے نکل گیا۔ میں نے جلدی جلدی لغت میں، جو میں بیگ سے نکال کر لائی تھی، اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کیا۔ جب مجھے وہ لفظ مل گیا، میں نے مسٹر تناکا کا سوال دہرایا۔ میں نے لغت بند کر کے اپنی آنکھیں اٹھائیں تو اسے حیرت سے اپنی جانب تکتے پایا۔ شاید میرا الفاظ تلاش کرنے کا عمل اس کی دل چسپی کا باعث تھا۔ ہماری نظریں ٹکرائیں تو خوف سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔</p>
<p>“مجھے معلوم نہیں۔ میری ماں نے صرف اتنا بتایا ہے کہ میں گرمیوں میں پیدا ہوئی تھی۔”</p>
<p>لیلیٰ نے دوبارہ نظریں جھکا لیں۔ میں نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔اس کے خوب صورت نقوش والے چہرے جلد دھوپ سے جھلسائی ہوئی تھی۔ وہ بولی تو اس کی آنکھوں اور دہانے کے گرد جھریاں نمایاں ہو گئیں۔ وہ جوانی کی حدود میں داخل ہو رہی تھی لیکن اس کی جلد تیس سال کی نظر آتی تھی۔ اس کی عمر زیادہ نہیں تھی مگر اس کی خشک جلد کسی ادھیڑ عمر محنت کش عورت سے زیادہ کھردری تھی۔</p>
<p>مسٹر تناکا متذبذب نظر آئے۔ “کیا تم جانتی ہو، تمھاری عمر کیا ہےَ؟”<br>
اس نے اپنی بھویں اچکائیں۔ “سترہ یا شاید اٹھارہ سال۔”<br>
“کون سی؟”<br>
مسٹر تناکا اس بات پر مایوس دکھائی دیئے کہ ایسی لڑکی کا دفاع کیسے کریں، جو اتنا بھی نہیں جانتی کہ اس کی عمر کیا ہے۔<br>
مجھے پَتا نہیں۔ میرے بھائی کا کہنا ہے، میں سترہ سال کی ہوں لیکن ماں نے ہمیشہ ایک سال زیادہ بتایا۔</p>
<p>پریشان ہو کر مسٹر تناکا نے دروازے کے سامنے کھڑے سپاہی کی طرف دیکھا، جیسے اس سے مدد مانگ رہے ہوں۔ سپاہی یقینی لہجے میں بولا۔ “بہت سے لوگوں کو اپنی عمر کا علم نہیں ہوتا۔ ان کے پاس کوئی مصدقہ شناختی کارڈ یا پاسپورٹ نہیں ہوتا۔”<br>
“اچھا! میں کیا کر سکتا ہوں؟”</p>
<p>مسٹر تناکا نے ایک ہاتھ سے اپنا سر پکڑ لیا، پھر تھوڑا سا جھکے، دوسرےہاتھ سے اپنے ٹراؤزر کی جیب سے دستی تولیہ نکالا اور اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھا۔</p>
<p>“اس قدر محتاط ہونے کی ضرورت نہیں، سب کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔” سپاہی جو اس نوع کے جوابات کا عادی تھا، کہنے لگا۔<br>
“اچھا! تو سترہ لکھوں یا اس کی ماں کی مانوں اور اٹھارہ لکھوں؟”<br>
انھوں نے اپنے سامنے رکھے کاغذ پر کچھ لکھاَ۔<br>
“تمھاری پیدائش کہاں ہوئی؟”<br>
“مزار شریف۔” اس نے مشکل سے سنائی دینے والی آہستہ آواز میں جواب دیا۔<br>
“مزار۔۔۔” یقیناً، تم کٹھن حالات سے گزری ہو گی؟”<br>
مسٹر تناکا نے اپنے کاغذات پر نظر ڈالی۔<br>
“تم ہزارہ ہو۔ کیا ایسا نہیں؟”<br>
وہ سمٹی، تھوڑی دیر ایک لفظ بولے بغیر اقرار میں سر ہلایا۔<br>
“ٹھیک۔۔۔” مسٹر تناکا بڑبڑائے۔<br>
“تمھارے والدین کہاں ہیں؟”<br>
اس نے فرش کی جانب دیکھتے ہوئے جواب دیا۔ “ماں مر چکی ہےَ۔”<br>
“اوہ! بڑا افسوس ہوا۔ یہ بڑی بدقسمتی ہے۔”<br>
اپنی یادداشتیں لکھتے ہوئے وہ ہم دردی کے دو لفظ ادا کرنا نہ بھولے۔ پھر وہ کچھ بڑبڑائے، جس کا ترجمہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔<br>
“اور تمھارے والد؟”</p>
<p>میں سوال کا ترجمہ کیا تو لیلیٰ نے اچانک نظریں اٹھائیں اور اپنی پراسرار خالی آنکھوں سے مجھے دیکھا۔ میں نے اس رنگ کی آنکھیں کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ انھیں نہ تو بھورا کہا جا سکتا تھا اور نہ ہی کالا، البتہ اس کے بالوں کے گرد لپٹے مٹیالے دوپٹے کا عکس کہا جا سکتا ہے۔</p>
<p>مسٹر تناکا نے اس کی تشویش کو بھانپ لیا اور تیزی سے کہنے لگے، “تم تو جانتی ہو، ہم دوست ہیں۔ ہم یہاں تمھاری مدد کے لیے ہیں۔ اس لیے مجھے کچھ بتاتے ہوئے نہ گھبراؤ۔”</p>
<p>ترجمہ کرتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ میں بھی دوستوں کے اس حلقے میں شامل ہوں، جو ایک دوسرے کو نہیں جانتے۔ایک بے کار طالب علم اور ایک ٹھس وکیل، جو ہاتھوں کو ملائم کرنے والی کریم سے ناآشنا اس لڑکی کے دوست ہیں۔</p>
<p>” پاکستان میں ہیں۔”<br>
اس نے اپنی انگلیوں کے درمیان مٹیالا کپڑا لپیٹنا چھوڑ دیا لیکن چمک سے محروم، بے حرکت، خالی آنکھوں سے وہ اب بھی کہیں دور دیکھ رہی تھی۔<br>
“کس لیے؟”<br>
“مجھے معلوم نہیں۔”<br>
“وہ کیا کرتے ہیں؟”</p>
<p>لیلیٰ نے سر جھکا لیا۔ چند منٹ تک کوئی نہ بولا۔ظاہر ہے، وہ اپنے باپ کے بارے میں کوئی بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ مسٹر تناکا نے گہری سانس لی۔</p>
<p>“جب تک تم وہ سب نہیں بتاتیں، جو تم جانتی ہو، میں کچھ نہیں کر سکتا۔”<br>
اس نے کسی ردِ عمل کا اظہار نہ کیا۔ یقینی طور پر اس نے طے کر لیا تھا کہ اپنے باپ کے بارے میں کچھ نہیں بتائے گی۔<br>
“تمھارے کوئی بھائی بہنیں ہیں؟”<br>
باپ کو چھوڑ کر مسٹر تناکا موضوع بدل چکے تھے۔<br>
“مجھ سے بڑے دو بھائی ہیں۔”<br>
“اب وہ کہاں ہیں؟”<br>
“ایک مر چکا ہے۔ دوسرا والد کے ساتھ ہے۔”<br>
“اوہ! بہت افسوس ہوا۔ کیا تم بتا سکتی ہو، اس کی موت کیسی ہوئی؟”<br>
“جنگ میں، بم کا ایک ٹکڑا اس کے سر پر لگا تھا۔ میں نے اس کی لاش نہیں دیکھی۔”<br>
جس وقت میں اس کی بلا تاثر آواز میں سنائے گئےتلخ حقائق کا ترجمہ کر رہی تھی، میں نے اپنی ریڑھ کی ہڈی پر ٹھنڈا پسینہ بہتا محسوس کیا۔<br>
“تمھارا بھائی، والد کے ساتھ کیا کرتا ہے؟”<br>
“وہ میرے والد کی مدد کرتا ہے۔”<br>
“کیا کام کی تفصیل بتا سکتی ہو؟”<br>
ایک مرتبہ پھر لیلیٰ کے کوئی لفظ ادا کیے بغیر کئی منٹ گزر گئے۔<br>
مسٹر تناکا نے اپنی گھڑی پر نگاہ ڈالی۔<br>
“وقت ہو گیا ہے۔”</p>
<p>میں نے ان کی نگاہ کے تعاقب میں ان کی گھڑی دیکھی۔ اتنا وقت ہو گیا! دو گھنٹے گزر چکے تھے لیکن وقت گزرنے کا احساس نہیں ہوا تھا۔ ملاقات کے بارے میں جو ہمارا خیال تھا، اس طرح نہیں ہوا۔ مسٹر تناکا نے مجھے متنبہ کیا تھا کہ پہلی ملاقات ہمیشہ تھکا دینے والی ہوتی ہے۔ اس کا مقصد بہت سی معلومات حاصل کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اعتماد قائم کرنا ہوتا ہے۔</p>
<p>عموماً لوگ پسند نہیں کرتے کہ وکیل ان سے سوالات کریں۔ آپ کو کسی ایسے شخص کے تابڑ توڑ سوالات کا سامنا ہوتا ہے، جسے حقیقت میں آپ نہیں جانتے۔ ان سوالات کا معین جواب درکار ہوتا ہے، جس کے لیے زبردست یاداشت ضروری ہوتی ہے۔ وکیل، جوتوں سمیت آپ کی نجی زندگی میں گھس جاتے ہیں، تاکہ ان معلومات کو حاصل کر لیں، جو عدالت کا متاثر کر سکیں۔ تاہم، آپ نے دیکھا، سوالات اس مقام تک پہنچ جاتے ہیں، جہاں کوئی معاملہ نجی نہیں رہتا۔ وکیل نے موکل کا دفاع کرنا ہوتا ہے، اس لیے وہ سوالات کا جواب دیتا ہے، مگر وہ کبھی دل کی بات نہیں بتاتا۔ یقیناً مسٹر تناکا اپنے کام کو سمجھتے اور یہ جانتے ہوں گے کہ انھیں اپنا کام شائستگی سے کرنا ہو گا، تاکہ ان کی موکل اپنے ہاتھ باندھ کر سر ہلاتے ہوئے، منہ بند نہ کر لے۔ انھوں نے مجھے کہا تھا:</p>
<p>“ہم انفارمیشن ٹکنالوجی کے دور میں رہ رہے ہیں، اس میں کچھ نوجوان اتنے غیر محتاط ہیں کہ اپنے موکل کی ذاتی معلومات اس کے سامنے کمپیوٹر پر ٹائپ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ انھیں اندازہ نہیں ہوتا کہ اس طرح وہ کتنے کٹھور اور سنگ دل دکھائی دیتے ہیں۔ میرا طریقہ یہ ہے کہ کم از کم موکل کے سامنے معلومات کا اندراج نہیں کرتا۔ اگرچہ بعد میں یاداشتوں کو کمپیوٹر میں منتقل کرنے میں وقت ضائع ہوتا ہے، البتہ اس کا فائدہ یہ ہے کہ میں قیمتی وقت موکل کے ساتھ، دوستوں کی مانند، باتیں کرنے میں گزارتا ہوں۔ یہ ضروری ہے کہ موکل کے ساتھ تعلقات قائم کیے جائیں۔ باتیں کرتے ہوئے موکل سے آنکھوں کے ذریعے رابطہ بہت ضروری ہے۔ جب آپ ایسا کریں گے تو اس قابل ہوں گے کہ مخاطب کےچہرے کے تاثرات اور ردِعمل کو سمجھ سکیں۔ اس کے بعد ہی آپ ہر موضوع پر گفتگو کر سکیں گے۔”</p>
<p>حیرت انگیز طور پر مسٹر تناکا نےاس ملاقات سے قبل پرجوش آواز میں موکلوں کے ساتھ کام کرنے کے اپنے طریقِ کار کے بارے میں بتایا تھا۔ مگر کیا یہ نسخہ شیشے کی دیوار کے اس پار اپنی نگاہیں جھکائے، انگلیوں کے گرد دوپٹے کا پلو لپیٹتی اس لڑکی پر بھی کار گر ہو گا؟<br>
“آج میرے ساتھ بات کرنے کا بہت بہت شکریہ۔ میرا ارادہ ہے اگلے منگل کے روز پھر چکر لگاؤں۔”<br>
لیلیٰ سے بات کرتے ہوئے مسٹر تناکا نے اس کے عقب میں کھڑے سپاہی کی جانب دیکھا، جیسے تصدیق چاہ رہے ہوں، کیا یہ ٹھیک ہے۔<br>
“بالکل! باہر ڈیوٹی پر موجود گارڈ کے پاس دراز میں اپنا نام اور وقت چھوڑ جائیں۔”<br>
“شکریہ!” مسٹر تناکا اٹھ کھڑے ہوئے اور کچھ بڑبڑائے۔<br>
سپاہی نے لیلیٰ کو اشارہ کیا اور کمرے کا عقبی دروازہ کھولا۔ وہ ایک لفظ بولے بغیر کھڑی ہوئی اور ہمارے طرف دیکھے بغیر دروازے کے پیچھے غائب ہو گئی۔</p>
<p>ہمارے پیچھے کھڑے سپاہی نے ہمارے دروازے کا تالا کھولا، تھوڑی دیر بعد ہم اس امانت خانے میں تھے، جہاں ہم پہلے آئے تھے۔ ہمارے موبائل اور چابیاں میز پر موجود تھیں۔ ہم نے اپنا سامان وصول کیا اور رجسٹر پر رسید دی۔ مسٹر تناکا نے مجھے اسٹیشن تک پہنچانے کی پیشکش کی۔ ہم دونوں عمارت سے اکٹھے نکلے اور ان کی کار میں بیٹھ گئے۔باہر نکلنے سے قبل صدر دروازے پر آخری مرتبہ تلاشی کے مرحلے سے گزرے۔ جہاں عقبی آئینے میں ہمارے پیچھے دیوار پر چمک دار روشن حروف میں کندہ “بارڈر ایجنسی” کا عکس دکھائی دے رہا تھا۔</p>
<p>مسٹر تناکا نے مجھے اسٹیشن چھوڑا لیکن میں اسی وقت گاڑی میں سوار نہیں ہوئی۔ دن کے باقی حصے میں میری کوئی مصروفیت نہیں تھی۔ اس کا مطلب نہیں کہ میں جو چاہے کر سکتی تھی، لیکن میں واپس یونی ورسٹی نہیں جانا چاہتی تھی۔ مجھے تو بس بارڈر ایجنسی سنٹر کے کے باہر تازہ ہوا میں سانس لینے کی طلب تھی۔ دوپہر کے کھانے کا وقت ہو رہا تھا چناں چہ سٹیشن کے وسیع شاپنگ مال میں لوگوں کا ہجوم تھا، طالب علم جو اپنی کلاسز سے جلد فارغ ہو گئے تھے، دیہاڑی دار جن کے پاس جن کے پاس کرنے کچھ زیادہ نہیں تھا اور نوکری پیشہ افراد کھانے کے ٹھکانے دیکھ رہے تھے، خانہ دار خواتین سپر مارکیٹ میں سودا سلف خرید رہی تھیں۔</p>
<p>صرف چند میل دور واقع تاریک، خوف ناک بارڈر ایجنسی سنٹر کی دنیا یہاں سے بالکل مختلف تھی۔ مصروف سٹیشن، روشن اور فراخ مصروف تھا، جس میں ایک چھوٹا باغیچہ اور پلے ایریا بھی تھا۔ ہر جانب مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرانے والے اسکولوں اور انگریزی سکھانے والےکالجوں کے اشتہارات لگے ہوئے تھے۔ مختلف اقسام کے اتنے اسکول کہ یہ تصور کرنا بھی مشکل تھا کہ یہاں سے تھوڑے فاصلے پر کوئی ایسی لڑکی ہےجو اپنی مادری زبان بھی پڑھ اور لکھ نہیں سکتی۔ وہاں ایزاکائس ، کراووک بار اور وڈیو گیمز سنٹر کے بورڈ آویزاں تھے۔ ان میں سے کسی کے بارے میں لیلیٰ نے سنا تک نہیں تھا۔ اس نے تو کبھی ہینڈ کریم بھی استعمال نہیں تھی۔</p>
<p>میں ایک چھوٹی کافی شاپ میں گھس گئی، کافی کا آرڈر دیا اور کھڑکی سے قریبی نشست پر بیٹھ گئی۔ بھنی ہوئی کافی کی خوشبو میرے نتھنوں سے ٹکرا رہی تھی۔ کافی اتنی گرم تھی کہ اس وقت گھونٹ بھرنا مشکل تھا، اس کے تھوڑا ٹھنڈا ہونے کا انتظار کرتے ہوئے میں چاروں طرف نظر دوڑائی۔ وہاں پرسکون ماحول میں بیٹھے ہوئے میں حقیقت کی دنیا میں واپس پہنچ گئی۔ حقیقت کی وہ دنیا، جہاں میں ایک خوش حال ملک میں رہ رہی تھی۔ میں نے کافی کا مگ اٹھایا اور اسے اپنے ہونٹوں کے قریب لائی۔ اس کی مہک لاجواب تھی۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/salaam/">سلام (تحریر: شیریں نظام مافی، ترجمہ: مبشر میر)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/salaam/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بڑے بڑے پروں والا ایک بوڑھا پھُوس (گابریئل گارسیا مارکیز)</title>
		<link>https://laaltain.pk/bray-bray-paron-wala-phoos/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/bray-bray-paron-wala-phoos/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[آج]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 21 Jan 2019 07:39:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[ajmal kamal]]></category>
		<category><![CDATA[atta siddiqui]]></category>
		<category><![CDATA[gabriel garcía márquez]]></category>
		<category><![CDATA[آج]]></category>
		<category><![CDATA[اجمل کمال]]></category>
		<category><![CDATA[اردو تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی ادب]]></category>
		<category><![CDATA[عطا صدیقی]]></category>
		<category><![CDATA[مارکیز]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24026</guid>

					<description><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”] عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/bray-bray-paron-wala-phoos/">بڑے بڑے پروں والا ایک بوڑھا پھُوس (گابریئل گارسیا مارکیز)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے <a href="https://www.facebook.com/pages/category/Bookstore/City-Press-Bookshop-1574804906077834/" target="_blank" rel="noopener">سٹی پریس بک شاپ</a> یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:<br>
عامر انصاری: 03003451649</div>
<p>[/blockquote]<br>
انگریزی سے ترجمہ:عطا صدیقی<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>لگاتار بارشوں کے تیسرے دن وہ اتنے بہت سے کیکڑے ٹھکانے لگا چکے تھے کہ پیلایو کو اپنا پانی بھرا صحن پار کر کے ان سب کو سمندر میں پھینکنے کے لیے جانا پڑا۔ بات یہ تھی کہ نومولود بچے کو تیز بخار تھا، اور وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اس کا سبب اِن کیکڑوں کی بساند ہے۔ منگل کے دن سے سارا عالم اداس اداس تھا۔ کیا سمندر اور کیا آسمان، سب ایک جیسے گدلے گدلے دکھائی دے رہے تھے، اور ساحل کی وہ ریت جو مارچ کی راتوں میں مثل افشاں کے جھلملایا کرتی تھی، اس وقت کیچڑ اور سڑے بُسے گھونگوں کی گاد بن چکی تھی۔ عین دوپہر میں بھی روشنی اتنی کم کم تھی کہ پیلایو جب کیکڑے پھینک کر گھر واپس آ رہا تھا تو اس کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ آخر وہ کیا شے ہے جو صحن کے پچھواڑے رینگ رہی ہے اور کراہ رہی ہے۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ وہ ایک بڈّھا ہے، اسے اس کے بہت ہی قریب جانا پڑا: ایک پیرِ فرتوت جو منھ کے بل کیچڑ میں پڑا ہے اور سرتوڑ کوشش کے باوجود اپنے بڑے بڑے پروں کی وجہ سے اٹھ نہیں پا رہا۔</p>
<p>اس کابوس سے دہشت زدہ ہو کر پیلایو اپنی بیوی ایلی سیندا کو بلانے لپکا، جو کہ بیمار بچے کے ماتھے پر گیلی پٹیاں رکھ رہی تھی، اور اس کو لے کر صحن کے پچھواڑے تک آیا۔ وہ دونوں زمین پر پڑے ہوے اس جسم کو گم سُم، پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتے رہے۔ وہ چِندیاں بٹورنے والوں کا سا لباس پہنے تھا۔ اس کی سپاٹ چَندیا پر چند گنے چنے بال رہ گئے تھے اور منھ میں دانت بھی اکّادکّا تھے، اور اس کی تربتر، سگڑداداؤں والی افسوسناک حالت نے اس کی رہی سہی شان کو، جو اس میں کبھی رہی ہو گی، خاک میں ملا دیا تھا۔ اس کے میلے، اَدھ نُچے، بڑے بڑے، عقاب جیسے پنکھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کیچڑ میں لت پت ہو چکے تھے۔ دونوں اُس کو اتنی دیر تک اور اتنے غور سے دیکھا کیے کہ پیلایو اور ایلی سیندا کی حیرانی دھیرے دھیرے جاتی رہی، اور ہوتے ہوتے وہ ان کو مانوس سا لگنے لگا۔ تب انھوں نے اس سے بات کرنے کی ہمت کی، جس کا جواب اس نے ملّاحوں کی سی بھاری آواز میں کسی انجانی زبان میں دیا۔ یوں انھوں نے پروں والی دقّت کو نظرانداز کرتے ہوے، اپنی دانست میں بڑی دانشمندی سے، یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ طوفان کے مارے کسی شکستہ فرنگی جہاز کا آخری بچ جانے والا ہے۔ اس کے باوجود انھوں نے پڑوس کی اُس عورت کو بلا لیا جو زندگی اور موت کے بارے میں سب کچھ جانتی تھی، تاکہ وہ اس کا معائنہ کر لے۔ ان کے غلط اندازے کو جھٹلانے کے لیے اس عورت کا اس کو بس ایک نظر دیکھنا کافی تھا۔</p>
<p>’’یہ تو فرشتہ ہے،‘‘ اس نے ان کو بتایا۔ ’’وہ بچے کے لیے آ رہا ہو گا، پر بےچارہ اتنا بوڑھا ہے کہ بارش نے راستے ہی میں ڈھیر کر دیا۔‘‘</p>
<p>اگلے دن سب کو معلوم ہو چکا تھا کہ ایک جیتاجاگتا فرشتہ پیلایو کے گھر میں بند ہے۔ پڑوس کی سیانی عورت کی رائے کے برخلاف، جس کا کہنا تھا کہ آج کل کے فرشتے دراصل ایک آسمانی سازش کے بعد بچ جانے والے بھگوڑے ہیں، ان کا دل نہ مانا کہ وہ ڈنڈے مار مار کر اس کی جان نکال دیں۔ اپنا بیلِف والا ڈنڈا اٹھائے اٹھائے پیلایو ساری سہ پہر باورچی خانے میں بیٹھا اس کی نگرانی کرتا رہا، اور رات کو سونے سے قبل اس نے اسے کیچڑ میں سے گھسیٹا اور لے جا کر جالی دار دڑبے میں مرغیوں کے ساتھ بند کر دیا۔ آدھی رات گئے جس وقت بارش تھمی تو پیلایو اور ایلی سیندا ابھی کیکڑے ہی مار رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد بچّے کی آنکھ کھل گئی؛ اس کو بخار نہیں تھا اور وہ کچھ کھانے کو مانگ رہا تھا۔ تب ان کی دریادلی نے جوش مارا اور انھوں نے طے کر لیا کہ وہ فرشتے کو تازہ پانی اور تین دن کی رسد دے کر، ایک تختے پر سوار کرا کے، سمندر میں تن بہ تقدیر چھوڑ آئیں گے۔ مگر جب وہ منھ اندھیرے صحن میں گئے تو کیا دیکھا کہ پورا محلّہ ٹولہ دڑبے کے سامنے جمع، فرشتے کے ساتھ دل لگی بازی میں لگا ہے۔ وہ ٹوٹی ہوئی جالی میں سے کھانے کی چیزیں ذرا سے بھی ادب و احترام کے بغیر اس کی طرف اس طرح پھینک رہے تھے جیسے وہ کوئی علوی وجود نہ ہو بلکہ سرکس کا کوئی جانور ہو۔</p>
<p>اس عجیب و غریب خبر سے گھبرا کر پادری گون زاگا کوئی سات بجے سے پہلے ہی پہلے آ گئے۔ اس وقت تک صبح والوں سے ذرا کم شریر تماش بین آ چکے تھے، اور قیدی کے مستقبل کے بارے میں جو منھ میں آ رہا تھا رائے زنی کر رہے تھے۔ ان میں سب سے بھولے کا خیال تھا کہ اس کو ساری دنیا کا میئر نامزد کر دیا جائے۔ ذرا زیادہ عقل کے پوڑھوں نے محسوس کیا کہ اس کو پنج ستاری جنرل ہونا چاہیے کہ ساری جنگیں فتح کر لے۔ چند خیال پرستوں نے آس لگائی کہ اس سے نسل کَشی کا کام بھی لیا جا سکتا ہے کہ وہ روے زمین پر پَردار سیانوں کی ایک ایسی نسل پیدا کر دے جو پوری کائنات کا چارج سنبھال سکے۔ لیکن پادری گون زاگا پادری بننے سے پہلے ایک تنومند لکڑہارے رہ چکے تھے۔ جالی کے پاس کھڑے کھڑے انھوں نے جھٹ پٹ علمِ دینیات کے تمام سوالات و جوابات کو دماغ میں تازہ کیا اور ان لوگوں سے کہا کہ دروازہ کھولیں تاکہ وہ قریب سے اس دُکھیا آدمی کو دیکھیں جو حیران پریشان، مرغیوں کے درمیان خود ایک بڑی سی خستہ حال مرغی لگ رہا تھا۔ وہ ایک کونے میں پھلوں کے چھلکوں اور بچے کھچے ناشتے کی چیزوں کے درمیان، جو صبح کو آنے والے پھینک گئے تھے، پڑا اپنے پھیلے ہوے پروں کو دھوپ میں سُکھا رہا تھا۔ جس وقت پادری گون زاگا نے دڑبے میں داخل ہوکر لاطینی زبان میں صبح بخیر کہا تو اس نے دنیا کی گستاخیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوے بس اپنی عمررسیدہ نظریں اٹھائیں اور اپنی بولی میں کچھ منمنایا۔ جب پادری گون زاگا نے دیکھا کہ نہ تو وہ خدا کی زبان جانتا ہے اور نہ اس کے خادموں کے استقبال کے آداب سے واقف ہے، تو ان کو پہلی بار اس پر جعلیا ہونے کا شبہ ہوا۔ پھر انھوں نے غور کیا کہ بہت قریب سے دیکھنے پر وہ بالکل آدمیوں جیسا ہے۔ اس کے پاس سے کھلے میں رہنے والوں کی سی ناقابلِ برداشت بو آ رہی تھی، اس کے پروں میں جوئیں بِجَک رہی تھیں اور زمینی ہواؤں نے اس کے اصل پروں کا برا حشر کر دیا تھا؛ اور اس میں کوئی بات بھی تو ایسی نہیں تھی جو فرشتوں کے قابلِ فخر وقار کے معیار پر پوری اترتی ہو۔ پھر وہ دڑبے سے باہر آئے اور ایک مختصر خطبے کے ذریعے متجسّس نفوس کو طبّاع بننے کے خطرات سے خبردار کیا۔ انھوں نے ان کو یاد دلایا کہ شیطان کی ایک بُری عادت کارنیوالی کرتبوں کا استعمال کرنا بھی ہے تاکہ غافلوں کو دھوکا دے سکے۔ انھوں نے دلیل پیش کی کہ اگر ہوائی جہاز اور عقاب میں فرق کرنے کے لیے پنکھ لازمی عنصر نہیں، تو فرشتوں کی پہچان کے لیے تو ان کی اہمیت اور بھی کم ہو گی۔ پھر بھی انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ اپنے اُسقف کو عریضہ روانہ کریں گے، تاکہ وہ اپنے اُسقفِ اعظم کو اس بابت لکھیں، تاکہ وہ پاپاے روم کو لکھیں، اور یوں اعلیٰ ترین عدالت سے قولِ فیصل حاصل ہو جائے گا۔</p>
<p><iframe src="https://www.youtube.com/embed/4b-t7UVMINE" width="560" height="315" frameborder="0" allowfullscreen="allowfullscreen"></iframe></p>
<p>ان کی دانشمندی چکنے گھڑوں پر ضائع گئی۔ اسیر فرشتے کی خبر اتنی تیزی سے پھیلی کہ چند گھنٹوں کے اندر اندر صحن میں بازار کی سی چہل پہل ہو گئی اور سنگین بردار سپاہی بلوانے پڑے تاکہ اس مجمعے کو منتشر کریں جو کہ مکان کو تلپٹ کیے دے رہا تھا۔ ایلی سیندا کو، جس کی کمر اتنا سارا بازاری گند جھاڑتے جھاڑتے دوہری ہو چکی تھی، یہ سوجھ گئی کہ صحن میں کٹہرا لگا دے اور فرشتے کو دیکھنے کے لیے ہر ایک سے پانچ پانچ سینٹ وصول کر لے۔ مشتاقانِ دید دور دور سے آنے لگے۔ ایک گشتی کارنیوال نے پھیرا لگایا؛ اس میں ایک اُڑان بھرنے والا نَٹ مجمعے کے سروں پر بار بار پھڑپھڑاتا پھِرا، مگر کسی نے اسے گھاس نہ ڈالی کیونکہ اس کے پَر فرشتوں کے مانند نہیں تھے بلکہ چمگادڑوں جیسے تھے۔ زمانے بھر کے بدنصیب ترین معذور لوگ تندرستی کی آس میں آنے لگے؛ ایک دُکھیاری جو بچپن سے دل کی دھڑکنیں شمار کر رہی تھی اور گنتے گنتے جس کی گنتی ہی ختم ہو گئی تھی؛ ایک پرتگالی مرد جو اس لیے سو نہیں سکتا تھا کہ ستاروں کا شور اس کو تنگ کرتا تھا؛ ایک نیند میں چلنے والا جو راتوں کو اٹھ اٹھ کر اپنے دن میں کیے ہوے کام بگاڑا کرتا تھا؛ اور دوسرے بہت سارے جن کے مرض ان سے ذرا کم تشویش ناک تھے۔ پیروں تلے کی زمین ہلا دینے والی، ڈوبتے جہاز جیسی اس ہڑبونگ کے بیچ پیلایو اور ایلی سیندا اپنی تھکن میں بھی مگن تھے، کیونکہ ایک ہفتے سے بھی کم مدت میں انھوں نے اپنا گھر رقم سے ٹھَساٹھَس بھر لیا تھا اور اب بھی اپنی باری کے منتظر زائرین کی قطار افق کے اُس پار تک پہنچی ہوئی تھی۔</p>
<p>فرشتہ ہی فقط ایک واحد ہستی تھا جو خود اپنے تماشے میں کوئی حصہ نہیں لیتا تھا۔ جالی کے نزدیک رکھے گئے تیل کے چراغوں اور عشاے ربانی والی موم بتیوں کی جہنّمی تمازت سے چکرایا چکرایا سا، وہ اپنا وقت اپنے مانگے کے ٹھکانے میں آسائش کی جستجو میں گزارتا۔ اوّل اوّل انھوں نے اس کو کپڑوں میں رکھنے والی گولیاں کھلانے کی کوشش کی، جو سیانی پڑوسن کے علم کے مطابق فرشتوں کی غذا تھی، لیکن اس نے کھانے سے انکار کر دیا، بالکل اسی طرح جیسے اس نے پوپ کا وہ خاصّہ کھانے سے انکار کر دیا تھا جو تائب لوگ لاتے تھے۔ وہ اتنا کبھی نہ جان سکے کہ اس کا سبب اس کا فرشتہ ہونا تھا یا یہ کہ وہ بوڑھا ہو چکا تھا۔ اور آخر کو وہ بینگن کے گودے کے سوا کچھ نہیں کھاتا تھا۔ اس کی قوتِ برداشت ہی ایک اکیلی خارقِ عادت بات نظر آتی تھی، خاص کر ابتدائی ایام میں، جب مرغیاں ان سماوی جوؤں کی تلاش میں جو اس کے پروں کے اندر بڑھی چلی جا رہی تھیں ٹھونگیں مارا کرتیں، اور اپاہج لوگ اپنے ناقص اعضا سے چُھوانے کے لیے اس کے پَر نوچا کرتے، اور سب سے زیادہ مہربان لوگ تک اس کو کھڑا کرنے کی کوشش میں پتھر مار دیا کرتے تاکہ وہ اس کو کھڑے قد دیکھ سکیں۔ وہ صرف ایک بار اس کو اپنی جگہ سے ہلانے میں کامیاب ہو سکے تھے، جب انھوں نے بچھڑوں کو داغنے والے لوہے سے اس کے پہلو میں چرکا لگا دیا تھا۔ بات یہ تھی کہ وہ اتنے گھنٹوں سے بے حس و حرکت پڑا تھا کہ انھوں نے سوچا کہیں مر نہ گیا ہو۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور آنکھوں میں آنسو بھرے بھرے اپنی جنّاتی زبان میں بلبلانے لگا اور دو ایک بار اپنے پَر پھڑپھڑائے تو مرغیوں کی بِیٹ اور قمری خاک کا بگولا ناچنے لگا اور دہشت کا وہ جھکّڑ چلا جو اِس دنیا کا تو لگتا نہیں تھا۔ گو بہتوں نے سوچ لیا تھا کہ وہ خفگی کا نہیں بلکہ تکلیف کا مظاہرہ تھا، مگر اس دن کے بعد سے وہ سب احتیاط کرنے لگے کہ اس کو ناراض نہ کریں، کیونکہ اکثر لوگ سمجھ چکے تھے کہ اس کی مفعولیت اُس سورما کی سی نہیں جو اگلے حملے کے لیے سستا رہا ہو، بلکہ کسی خوابیدہ فتنے کی سی ہے۔</p>
<p>قیدی کی اصلیت کے بارے میں قولِ فیصل آنے کے انتظار کے دوران پادری گون زاگا نے مجمعے کی شرارتوں کو خادماؤں کی سی سوجھ بوجھ والے چٹکلوں سے قابو میں رکھا۔ مگر روم کی ڈاک نے آنے میں کوئی عجلت نہ دکھائی؛ کبھی وہ لوگ یہ دیکھتے کہ اس کی ناف ہے یا نہیں، کبھی یہ سوچتے کہ اس کی بولی کا تعلق آرامی زبان سے تو نہیں، کبھی یہ کہ ایک سوئی کی گھنڈی پر وہ کتنی مرتبہ سما سکتا ہے، یا یہ کہ کہیں وہ محض کوئی پَردار ناروے والا نہ ہو؛ اور یوں وہ لوگ اپنا وقت بِتایا کرتے تھے۔ اگر رحمتِ خداوندی نے آڑے آ کر پادری کی زحمتوں کا خاتمہ نہ کر دیا ہوتا تو یہ مختصر سے عریضے قیامت تک آتے جاتے رہتے۔</p>
<p>ہوا یہ کہ انھی دنوں میں آنے والے بہت سے کھیل تماشوں میں ایک ایسی عورت کا گشتی تماشا بھی آیا جس کو والدین کی نافرمانی کرنے پر مکڑی بنا دیا گیا تھا۔ اس کو دیکھنے کی قیمت نہ صرف یہ کہ فرشتے کی دید کی رقم سے کم تھی، بلکہ لوگوں کو اس بات کی بھی اجازت تھی کہ وہ اس کی مضحکہ خیز حالت کے بارے میں قسم قسم کے سوالات بھی پوچھ سکیں اور سر سے پیر تک اس کو چھو کر معائنہ بھی کر سکیں تاکہ کسی کو بھی اس ہولناک حقیقت پر کوئی شک و شبہ نہ رہے۔ وہ مینڈھے جتنی ایک ڈراؤنی ترَن تُولا مکڑی تھی جس کا سر ایک غمزدہ دوشیزہ کا سا تھا۔ تاہم سب سے بڑھ کر دل ہلا دینے والی شے اس کی نامانوس ہیئت نہ تھی بلکہ وہ پُرخلوص اندازِ بیاں تھا جس میں وہ اپنی بپتا کی ایک ایک تفصیل سناتی تھی۔ ابھی وہ بالی ہی تھی کہ ایک بار ناچ رنگ میں حصہ لینے کے لیے گھر سے چھپ کر چپ چاپ نکل گئی تھی، اور جب وہ بغیر اجازت لیے ساری رات ناچ لینے کے بعد جنگل میں سے ہوتی ہوئی گھر لوٹ رہی تھی تو ایک ہولناک کڑاکے نے آسمان کو دو کر دیا، اور شگاف میں سے لاوے کا برقی تیر سا لپکا جس نے اسے مکڑی بنا دیا۔ اس کا پیٹ فقط ان کوفتوں سے بھرتا تھا جو سخی لوگ اس کے منھ میں ڈال دیتے تھے۔ ایک ایسے نظارے کو، جس میں اتنی انسانی سچائی بھری ہو اور اتنی خوف دلانے والی نصیحت ہو، کوشش کیے بغیر ایک ایسے نک چڑھے فرشتے کی نمائش پر غالب رہنا ہی تھا جو فانی انسانوں کی طرف آنکھ اٹھانا بھی گوارا نہ کرتا تھا۔ علاوہ ازیں، جو تھوڑی بہت کرامات فرشتے سے منسوب کی گئیں ان میں بھی کچھ نہ کچھ عقل کا فتور نظر آیا— مثلاً وہ نابینا جس کو بینائی تو نہ ملی مگر تین نئے دانت نکل آئے، یا وہ مفلوج جو چل تو نہ سکا لیکن لاٹری تقریباً جیت لی، اور وہ کوڑھی جس کے زخموں کے اندر سے سورج مکھی پھوٹ نکلے۔ ان بہلانے والی کرامات کے سبب، جوکہ ہنسی دل لگی سے زیادہ کیا تھیں، فرشتے کی ساکھ گر تو چکی تھی کہ مکڑی بن جانے والی عورت نے آ کر آخرکار اس کو بالکل ملیامیٹ کر دیا، اور یوں پادری گون زاگا کا بےخوابی کا روگ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جاتا رہا، اور پیلایو کا آنگن بھی پھر سے اتنا ہی خالی خالی رہنے لگا جتنا وہ اُس تین دن کی بارشوں کے زمانے میں تھا جب کیکڑے کمروں میں رینگا کرتے تھے۔</p>
<p>گھر والوں کے لیے کُڑھنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ جو رقم انھوں نے اس دوران جمع کر لی تھی اس سے انھوں نے چھجّوں اور پھلواریوں والی دومنزلہ حویلی کھڑی کر لی جس میں اونچی اونچی جالیاں لگائی گئی تھیں کہ جاڑوں میں کیکڑے نہ گھس آئیں، اور دریچوں میں لوہے کی سلاخیں لگوائی گئی تھیں کہ فرشتے اندر نہ آ جائیں۔ پیلایو نے بستی کے قریب ہی خرگوش پالنے کا کاروبار جما لیا اور بیلف کی نوکری ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دی اور ایلی سیندا نے ساٹن کے اونچی ایڑی والے چند پمپ اور ست رنگی ریشم کی پوشاکیں خریدیں، وہی جو اس زمانے کی من موہنی عورتیں اتوار کے دن زیبِ تن کیا کرتی تھیں۔ بس مرغیوں کا دڑبا ہی ایک ایسی چیز تھا جس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی۔ جو وہ کبھی کبھار اس کی دھلائی کریولن سے کر دیتے تھے اور اس کے اندر مُر اور لوبان سلگا دیتے تھے تو یہ کوئی فرشتے کی عقیدت میں نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد فُضلے کی اس سڑاند سے پیچھا چھڑانا ہوتا تھا جو آسیب کی طرح ہر وقت لپٹی رہتی تھی اور ان کے نئے مکان کو بھی پرانا کیے دے رہی تھی۔ جب بچے نے چلنا سیکھ لیا تو پہلے پہلے انھوں نے احتیاط کی کہ وہ دڑبے کے بہت نزدیک نہ جانے پائے؛ پھر رفتہ رفتہ ان کا خوف دور ہوتا گیا، اور وہ بدبو کے عادی ہوتے گئے، اور دوسرا دانت نکلنے سے پہلے ہی بچہ کھیلنے کے لیے جہاں سے جالی ٹوٹ رہی تھی دڑبے میں گھس گیا۔ فرشتہ بچے سے بھی اتنا ہی لیے دیے رہا جتنا وہ دوسرے لوگوں سے رہتا تھا، مگر وہ اس کی نت نئی چھیڑخانیوں کو اس کتّے کے سے صبر سے برداشت کرتا رہتا جس کو کوئی خوش فہمیاں نہ ہوں۔ دونوں کو ایک ساتھ خسرہ نکل آئی۔ جس ڈاکٹر نے بچے کا علاج کیا وہ فرشتے کے دل کی دھڑکن سننے کے شوق کو دبا نہ سکا، اور اس نے اس کے دل میں اس قدر سیٹیاں بجتی اور گردے میں اتنی آوازیں سنیں کہ اس کو فرشتے کا زندہ رہنا محال نظر آیا۔ پروں کی تُک نے اس کو سب سے زیادہ حیرت میں ڈالا۔ اس مکمل انسانی بدن پر وہ اتنے فطری لگتے تھے کہ ڈاکٹر کی سمجھ میں یہ نہ آ سکا کہ آخر سب انسانوں کے جسم پر وہ کیوں نہیں ہوتے۔</p>
<p>جس وقت بچے نے اسکول جانا شروع کیا تو مرغی خانے کو دھوپ اور بارشوں کی وجہ سے تباہ ہوے کچھ عرصہ گزر چکا تھا۔ فرشتہ ایک بھٹکتے ہوے جاں بہ لب آدمی کی طرح یہاں وہاں گھسٹتا پھرتا تھا۔ وہ اسے جھاڑو مار مار کر خوابگاہ میں سے نکالتے تو پل بھر بعد وہ باورچی خانے میں نظر آتا؛ وہ بیک وقت اتنے مقامات پر نظر آنے لگا کہ وہ یہ سوچنے لگے کہ وہ ایک سے دو ہو گیا ہے، کہ وہ گھربھر میں اپنی نوع کو بڑھاتا پھر رہا ہے؛ اور بھنّائی اور بولائی ہوئی ایلی سیندا چیخ پڑی کہ اس فرشتوں بھرے جہنّم زار میں جینا دُوبھر ہو گیا۔ وہ اب مشکل ہی سے کھا پاتا تھا، اور اس کی بوڑھی آنکھیں اتنی دُھندلا گئی تھیں کہ وہ ستونوں سے ٹکراتا پھرتا تھا۔ اب اس کے پاس جھڑے ہوے آخری پروں کے ننگے سرے ہی رہ گئے تھے۔ پیلایو اس پر کمبل ڈال دیتا اور اتنا احسان اور کرتا کہ اس کو سائبان میں پڑ رہنے دیتا۔ اور تب ہی انھوں نے دیکھا کہ رات کو اسے بخار ہو جاتا اور وہ ہذیانی سا ہو کر بوڑھے ناروے والوں کی طرح زبان گھمایا کرتا۔ یہ چند موقعوں میں سے ایک موقع تھا جب وہ پریشان ہو گئے، کیونکہ انھوں نے سوچا کہ اس کا آخری و قت آ گیا؛ اور پڑوس کی سیانی عورت بھی یہ بتانے سے قاصر تھی کہ وہ مرتے ہوے فرشتے کے لیے کیا کیا کریں۔</p>
<p>اس کے باوجود وہ نہ صرف یہ کہ اپنا بدترین موسمِ سرما جھیل گیا بلکہ دھوپ سے روشن دنوں کے شروع ہوتے ہی سنبھالا لیتا ہوا نظر آنے لگا۔ وہ صحن کے پرلے سرے پر، سب کی نظروں سے دور، کئی دنوں تک چاپ چاپ پڑا رہا، اور دسمبر شروع ہوتے ہی چند لمبے اور سخت پَر اس کے شہپروں پر نمودار ہونے لگے؛ بجوکے کے پَر جو اس سے کہیں زیادہ، ناتوانی کی ایک اور نحوست دکھائی دیتے تھے۔ مگر وہ اپنی تبدیلیوں کی وجہ ضرور جانتا ہو گا، اسی لیے وہ اس بات کا بہت خیال رکھتا تھا کہ کوئی ان تبدیلیوں کو دیکھ نہ لے، کوئی وہ سمندری گیت نہ سن لے جو وہ وقتاًفوقتاً تاروں کی چھاؤں میں گنگنایا کرتا تھا۔ ایک صبح ایلی سیندا بیٹھی پیاز کتر رہی تھی کہ ہوا کا ایک جھونکا، جو سمندروں پر سے ہوتا ہوا آ رہا تھا، باورچی خانے میں در آیا۔ وہ اٹھ کر دریچے کے پاس گئی اور تب ہی اس نے فرشتے کو اُڑان بھرنے کی ابتدائی کوششیں کرتے ہوے دیکھ لیا۔ یہ کوششیں اس قدر بھونڈی تھیں کہ اس کے ناخنوں نے سبزی کی کیاری میں گہرا نشان ڈال دیا تھا، اور اپنے پروں کی بھدی سی پھڑپھڑاہٹ سے، جو ہوا میں ٹِک نہیں پا رہے تھے، وہ سائبان کو گرانے ہی والا تھا۔ پھر بھی وہ تھوڑا بہت اوپر اٹھنے میں کامیاب ہو گیا۔ ایلی سیندا نے جب اس کو ایک پھُوس عقاب کی طرح تشویش ناک انداز میں پَر ہلا ہلا کر، اور کسی نہ کسی طرح خود کو ہوا میں سنبھالے سنبھالے، آخری مکانوں کے اوپر سے دور ہوتے دیکھا تو اس نے خود اپنے لیے اور اس کی خاطر اطمینان کا سانس لیا۔ وہ اسے دیکھتی رہی، پیاز کترنے سے فارغ ہونے کے بعد بھی وہ تکتی رہی، اور اس وقت تک نظریں جمائے رہی جب تک کہ وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو گیا۔ کیونکہ اب وہ اس کے جی کا جنجال نہ تھا بلکہ سمندری افق پر ایک خیالی نقطہ تھا۔</p>
<div class="urdutext">آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے <a href="https://laaltain.pk/author/aaj/" target="_blank" rel="noopener">کلک</a> کریں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/bray-bray-paron-wala-phoos/">بڑے بڑے پروں والا ایک بوڑھا پھُوس (گابریئل گارسیا مارکیز)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/bray-bray-paron-wala-phoos/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>میرا بهائی ایک ہواباز تھا</title>
		<link>https://laaltain.pk/mera-bhai-ek-hawa-baz-tha/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/mera-bhai-ek-hawa-baz-tha/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[افتخار بخاری]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Feb 2018 11:15:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[Iftikhar bukhari]]></category>
		<category><![CDATA[اردو تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[افتخار بخاری]]></category>
		<category><![CDATA[برٹولٹ بریخت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23148</guid>

					<description><![CDATA[<p>برٹولٹ بریخت: ہماری قوم کے پاس جگہ کی کمی ہے<br />
جنگیں اورعلاقے فتح کرنا<br />
ہمارا قدیم خواب ہے</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/mera-bhai-ek-hawa-baz-tha/">میرا بهائی ایک ہواباز تھا</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>میرا بھائی ایک ہوا باز تها<br>
ایک روز اس نے اپنا سامان باندها<br>
اور جنوب کی سمت گاڑی پر نکل گیا</p>
<p>میرا بھائی ایک فاتح ہے<br>
ہماری قوم کے پاس جگہ کی کمی ہے<br>
جنگیں اورعلاقے فتح کرنا<br>
ہمارا قدیم خواب ہے</p>
<p>وہ علاقہ جو میرے بھائی نے فتح کیا<br>
“کوارڈرا مامسف” کی پہاڑیوں میں واقع ہے</p>
<p>اس کی لمبائی اسی میٹر اور گہرائی پچاس میٹر ہے.</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/mera-bhai-ek-hawa-baz-tha/">میرا بهائی ایک ہواباز تھا</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/mera-bhai-ek-hawa-baz-tha/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بادشاہ سنتا ہے</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a8%d8%a7%d8%af%d8%b4%d8%a7%db%81-%d8%b3%d9%86%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a8%d8%a7%d8%af%d8%b4%d8%a7%db%81-%d8%b3%d9%86%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[عاصم بخشی]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 15 Dec 2017 11:17:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Aasem Bakhshi]]></category>
		<category><![CDATA[Atalo Calvino]]></category>
		<category><![CDATA[آج]]></category>
		<category><![CDATA[اتالو کلوینو]]></category>
		<category><![CDATA[اردو تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[عاصم بخشی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22771</guid>

					<description><![CDATA[<p>اتالو کلوینو: اگر یہ تمام آوازیں ایک باربط تسلسل سے، برابر وقفوں کے بعد سنائی دیتی رہیں تو تمہیں یقین رکھنا چاہئے کہ تمہارے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں، کم از کم اس لمحے، اس گھنٹے اور اس دن۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a8%d8%a7%d8%af%d8%b4%d8%a7%db%81-%d8%b3%d9%86%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92/">بادشاہ سنتا ہے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">اتالو کلوینو کی کہانی A King Listens کا ترجمہ عاصم بخشی نے کیا ہے۔ یہ ترجمہ اس سے قبل معروف ادبی جریدے “آج” کے شمارہ نمبر 101 میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ “آج” اجمل کمال کی زیر ادارت شائع ہونے والا سہ ماہی کتابی سلسلہ/ادبی جریدہ ہے جو اپنے معیار اور افرادیت کے لئے معروف ہے۔ اس رسالے کو سبسکرائب کرنے کے لئے <a href="https://www.facebook.com/City-Press-Bookshop-1574804906077834/?ref=br_rs" target="_blank" rel="noopener">سٹی پریس بک شاپ کے فیس بک صفحے</a> یا اس نمبر پر رابطہ کیجیے: 03003451649</div>
<p>[/blockquote]</p>
<p>عصائے شاہی تمہیں اپنے داہنے ہاتھ میں تھامنا ہے، بالکل سیدھا اور تنا ہوا۔ اسے کسی صورت نیچے نہیں رکھنا۔ خیر، تم اسے رکھو کے بھی کہاں؟ تخت کے ساتھ کوئی میز نہیں، نہ ہی کوئی طاق یا تپائی جہاں کوئی گلاس، ایش ٹرے یا ٹیلی فون رکھا جاسکے۔تختِ شاہی تنگ اور اونچی سیڑھیوں کی چوٹی پر تنِ تنہا موجود ہے۔ اگر کوئی شے اوپر سے نیچے پھینکی جائے تو وہ لڑھکتے لڑھکتے کہیں غائب ہو جائے گی اور کبھی نہ ملے گی۔ خدانخواستہ اگر عصا تمہاری گرفت سے پھسلا تو اسے اٹھانے کے لئے تمہیں ہی تخت سے اتر کر نیچے آنا پڑے گا، آخر بادشاہ کے علاوہ اسے کوئی چھو بھی تو نہیں سکتا۔ اور پھر نگاہیں اس نظارے کی تاب بھی کہاں لا سکیں گی کہ ایک بادشاہ زمین پر لمبا ہو کر سازو سامان کے نیچے سے اپنا عصا یا پھر تاج نکالنے کی کوشش کر رہا ہے ، جو نیچے جھکنے کے باعث باآسانی تمہارے سر سے گر سکتا ہے۔ چاہو تو کلائی کو تھکن سے بچانے کے لئے کرسی کے بازو پر ٹکا سکتے ہو۔ ہاں میں تمہارے دائیں ہاتھ ہی کی بات کر رہا ہوں، وہی جس میں عصا موجود ہے۔ جہاں تک بائیں ہاتھ کا تعلق ہے تو وہ آزاد رہ سکتا ہے، تم چاہو تو اسے کھجلانے کے لئے استعمال کر سکتے ہو۔ کبھی کبھار سنجابی چوغہ گردن میں خارش کرتا ہے اور پھر وہ بڑھتے بڑھتے کمر اور پورے بدن میں پھیل جاتی ہے۔ مخملیں مسند بھی گرم ہو کر کولہوں اور رانوں میں تکلیف دہ سوزش پیدا کرتی ہے۔ اپنے موٹے کمر بند کا سنہرا قبضہ کھولتے ہوئے، گلوبند، سینے پر سجے تمغے اور اطراف میں موجود اعزازت اِدھر اُدھر سرکاتے ہوئے، تم اپنی انگلیاں بلاتردد کسی بھی خارش زدہ جگہ پہنچاسکتے ہو۔آخرتم بادشاہ ہو، تم پر بھلا کون اعتراض کرسکتا ہے۔یہ تو طے ہے۔</p>
<p>سر ساکت رہنا چاہئے، ہمیشہ یاد رکھو کہ تاج تمہاری منڈیا پر ٹکا ہے، تم اسے کسی گرم ٹوپی کی طرح کانوں پر نہیں کھینچ سکتے۔تاج اوپر اٹھتے اٹھتے ایک مخروطی گنبد میں ڈھل جاتا ہےجو نچلے حصے سے زیادہ چوڑا ، یعنی غیرمتوازن ہے۔ اگر اونگھ آ جائے اور ٹھوڑی سینے سے جا لگے تو تاج نیچے لڑھک جائے گا اور نازک ہونے کے باعث ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا، خاص طور پر ہیرےجڑی سنہری زردوزی ۔ اگر کبھی محسوس ہو کہ یہ پھسلنے والا ہے تو تمہیں بڑی ہوشیاری سے سر کے پٹھوں کو جنبش دیتے ہوئے اسے واپس اپنی جگہ بٹھانا ہے، لیکن خبردار! ایک دم سیدھے نہیں ہونا ورنہ تاج تختِ شاہی کی چھتر سے جا ٹکرائے گا جس کی جھالریں اسے چھو رہی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں تمہیں شاہانہ ڈیل ڈول برقرار رکھنا ہے جو کہ تمہاری شخصیت کا اٹوٹ انگ ہے۔</p>
<p>اور پھر تمہیں اتنا کشٹ اٹھانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ تم بادشاہ ہو، جس شے کی خواہش کرو وہ پہلے ہی تمہاری ہے۔ انگشت کے ایک اشارے پر ماکولات و مشروبات، چیونگم، دانتوں کا خلال، ہر قسم کے سگریٹ، غرض جو چاہو ایک نقرئی تھال میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ نیند کی حاجت ہو تو تخت آرام دہ اور دبیز ہے، تمہیں بظاہر اپنی حالت قائم رکھتے ہوئے بس کمر تختۂ پشت سے لگا کر آنکھیں بند کرنی ہیں۔ سونا یا جاگنا برابر ہی ہے، کوئی فرق نہیں کر سکے گا۔ جہاں تک حوائجِ ضروریہ کا سوال ہے تو یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ تخت میں کسی بھی خوددار تخت کی طرح ایک بڑا سا سوراخ موجود ہے ، دن میں دو بار برتن تبدیل کیا جاتا ہے۔ بدبو کی صورت میں زیادہ بار۔</p>
<p>قصہ مختصر، تمہیں حرکت سے بچانے کے لئے پہلے ہی سب بندوبست کر دیا گیا ہے۔ حرکت سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں، بلکہ سب کچھ چھن جائے گا۔اگر تم اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہو، دو چار قدم ہی لو یا ایک لمحے کے لئےبھی تخت کو اپنی نگاہوں سے اوجھل ہونے دو تو کون ضمانت دے سکتا ہے کہ واپسی پر تمہیں کوئی اور اس پر براجمان نہ ملے؟ شاید کوئی تم سے ملتا جلتا، بالکل تمہارے ہی جیسا۔ پھر کون یہ ثابت کرتا پھرے گا کہ بادشاہ وہ نہیں، تم ہو! بادشاہ اس حقیقت سے پہچانا جاتا ہے کہ وہ تخت پر براجمان ہے، تاج سر پر رکھے ،عصا تھامے ہے۔اب چونکہ یہ صفات تمہاری ہیں تو تمہیں ایک لمحے کے لئے بھی ان سے جدا نہیں ہونا چاہئے۔</p>
<p>اب بھی اکڑتے ہوئے پٹھوں کو سُن ہونے سے بچانے کے لئےٹانگیں پھیلانے کا مسئلہ رہتا ہے، یقیناً یہ ایک اچھی خاصی تکلیف ہے۔ لیکن تم ہمیشہ لاتیں مار سکتے ہو، گھٹنے اوپر کر سکتے ہو، تخت پر چوکڑی مار سکتے ہو، ترکی طرز پر اکڑوں بیٹھ سکتے ہو، یقیناً مختصر وقفوں کے لئے جب ریاستی معاملات سے ذرا فرصت ہو۔ ہر شام پیر دھلانے والے خدمت گار آ جاتےہیں اور پندرہ منٹ کےلئے جوتے اتار دیتے ہیں، صبح عفونت ربائی کے لئے آئی خدمتگاروں کی ایک جماعت معطر روئی سے بغلوں کی عطر پاشی کر دیتی ہے۔ تمہارے وجود پر جسمانی خواہشات کے غلبے کے امکانات کو بھی پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔تنومند بدن سے لے کر نہایت نازک اندام جسمانی خطوط والی قابل کنیزیں منتخب کی گئی ہیں تاکہ وہ باری باری اپنی جالی دار ، لہراتی قبائیں لئے سیڑھیوں کے راستے تمہارے تھڑدلے گھٹنوں تک حاضری دیں۔ ان کے لئے ممکن ہے کہ وہ تمہارے تخت پر بیٹھے بیٹھے خود کو سامنے، عقب یا اطرافی زاویوں سے پیش کریں، اور تم کچھ ہی لمحوں میں ان سے لطف اندوز ہو سکتے ہو، ہاں اگر اقلیمِ سلطانی کی مصروفیات اجازت دیں تو کچھ زیادہ وقت جیسے آدھا یا پون گھنٹہ بھی صرف کیا جا سکتا ہے ۔ اس صورت میں بہتر ہے کہ شاہی چھتر کے پردے گرا دیا جائیں تاکہ بادشاہ بیرونی نظروں سے اوجھل رہے اور موسیقار لطیف دُھنیں بجاتے رہیں۔</p>
<p>خلاصہ یہ ہے کہ ایک بار تاج پوشی کے بعدتخت بس وہی ہے جہاں تم دن رات حرکت کے بغیر جمے رہو۔ تمہاری ساری پچھلی زندگی بادشاہت کے انتظار ہی پر مشتمل ہے، اور اب جب کہ تم بادشاہ ہو تو تمہیں بس بادشاہت ہی کرنی ہے۔ اگر یہ طویل انتظار نہیں تو پھر بادشاہت اور کیا ہے؟ اس لمحۂ معزولی کا انتظار جب تمہیں تخت و تاج، عصائے شاہی اور اپنے سر سے جدا ہونا پڑے گا۔</p>
<p>ساعتیں سست رفتار ہیں۔ حجرۂ شاہی میں چراغوں کی روشنی ہمیشہ ایک جیسی ہی رہتی ہے۔وقت کے بہاؤ کی سنسناہٹ ہوا کے ایک جھونکے کی طرح ہے، محل کی گردشی راہداریوں یا تمہارے گوشِ سماعت کی گہرائیوں میں جھکڑ سے چلتے ہیں۔ بادشاہوں کے پاس گھڑیاں نہیں ہوتیں، مفروضہ یہی ہوتا ہے کہ وقت کا بہاؤ ان کے قبضۂ قدرت میں ہے، مشینوں کے میکانکی قوانین کے آگے سرنگوں ہونا بادشاہوں کے شایانِ شان نہیں۔ ساعتوں کا مسلسل پھیلاؤ کسی ریتلے تودے کی طرح تمہیں دفنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن تم جانتے ہو کہ اسے کیسے جُل دیناہے۔محل کی ہر گھنٹہ بدلتی آوازیں پہچاننے کے لئے تمہیں صرف چوکنا رہنا ہے: دن کے وقت پرچم کشائی کا تُرم بجتا ہے، شاہی خاندان کی مال بردار گاڑیاں گوداموں میں بید کی ٹوکریاں اورتیل کے پیپے اتارتی ہیں، خادمائیں چھتّوں پر ٹنگے قالینوں پر ضرب لگاتی ہیں، شام کو آہنی دروازے بند ہوتے ہوئے چرچراتے ہیں، باورچی خانوں سے برتنوں کی کھنکھناہٹ سنائی دیتی ہے ، اصطبل سے کبھی کبھار آنے والی ہنہناہٹ یہ بتاتی ہے کہ کھانے کا وقت ہو گیا ہے۔</p>
<p>محل ایک گھڑیال ہے، اس کی خفیہ آوازیں سورج کا تعاقب کرتی ہیں، تیر کے نادیدہ نشان میخ لگے بوٹوں کی گھسٹتی آوازوں کے ساتھ دمدموں پر محافظوں کی تبدیلی کی خبر دیتے ہیں، رائفل کے بٹ پر لگی ہاتھوں کی ضرب کے جواب میں احاطے سے ٹینکوں کے نیچے روندی جانے والی بجری کی چرمراہٹ سنائی دیتی ہے۔ اگر یہ تمام آوازیں ایک باربط تسلسل سے، برابر وقفوں کے بعد سنائی دیتی رہیں تو تمہیں یقین رکھنا چاہئے کہ تمہارے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں، کم از کم اس لمحے، اس گھنٹے اور اس دن۔</p>
<p>تخت میں دھنسے ہوئے تم اپنا ہاتھ کان تک لےجاتے ہو، چھتر کے پردوں کو سرکاتے ہو تاکہ وہ کسی مدھم سی سرسراہٹ، کسی خفیف ترین گونج تک کا گلا نہ گھونٹ دیں۔ دن تمہارے لئے آوازوں کا تسلسل ہے۔ کچھ واضح ، کچھ تقریباً مبہم۔ تم نے ان میں امتیاز کرنا ، ان کےمنبع اور دُوری کو جانچنا سیکھا ہے، تمہیں ان کے تسلسل کی پہچان ہے، تم جانتے ہو کہ وقفوں کی معیاد کیا ہے، تم تو پہلے ہی سے ہر اس تھرتھراہٹ، چرمراہٹ یا کھنکھناہٹ کے منتظر ہو جو تمہارے پردۂ سماعت سے ٹکرائے، اپنے تصور میں اس کی توقع باندھے رکھتے ہو، اگر تاخیر ہو تو صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے لگتا ہے۔ گھبراہٹ اس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک چاکِ سماعت سل نہ جائے ، جب تک مانوس آوازوں میں پیدا ہونے والا خلا پُر نہ کر دیا جائے۔ محل کے ڈیوڑھیوں، زینوں، بالکونیو ں اور غلام گردشوں میں بہت اونچی محرابی چھتیں ہیں،قدموں کی ایک ایک آواز، کسی تالے کی ایک بھی کھنک، ہر چھینک کی آواز گونجتی اور ٹکرا کر پلٹتی ہے، اور افقی سمت ایک دوسرے سے متصل کمروں، دالانوں، ستونوں کی قطاروں، داخلہ گاہوں ، اور اسی طرح عمودی سمت میں گردشی زینوں، کھلی جگہوں، روزنوں، پائپوں، چمنیوں اور سامانِ طعام کے خودکار ترسیلی راستوں میں پھیلتی چلی جاتی ہے۔ غرض تمام صوتی راستے حجرۂ شاہی میں ہی مرتکز ہوتے ہیں۔ ہواؤں کے دریا خود کو سکوت کی اس عظیم جھیل میں خالی کرتے ہیں، جس میں تم مسلسل تھپیڑوں کے ہاتھوں ہچکولے کھاتے ہوئے تیر رہے ہو۔ ہوشیاری سے، چوکنے ہو کر ان کا سامنا کرتے اور ان کی تہیں کھولتے ہو۔ محل کیا ، ایک مرغولہ،گردشیں ہی گردشیں، ایک گوشِ جسیم، جس کی ماہیت و ساخت نام اور کام بدلتی رہتی ہے: مخروطی خیمے، سرنگیں،محرابیں، بھول بھلیاں۔تم تہہ میں دبکے ہوئے ہو، گوشِ محل کے سب سے اندرونی حصے میں، یعنی اپنے ہی کان کے اندر۔ محل بادشاہ کا کان ہے۔</p>
<p>یہاں دیواروں کے بھی کان ہیں۔ ہر چلمن، ہر پردے، ہر منقش دیوار کے پیچھے جاسوس موجود ہیں۔ تمہارے جاسوس، تمہاری خفیہ تنظیم کے ایجنٹ، جن کا کام محلاتی سازشوں کی تفصیلی رپورٹ دینا ہے۔محل دشمنوں سے اس طرح بھرا ہے کہ دوستوں دشمنوں میں فرق مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے، یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ فیصلہ کن سازش میں تمہارے وزراء اور عہدیدار شامل ہوں گے۔یہ تو تم جانتے ہو کہ ہر خفیہ تنظیم میں مخالف خفیہ تنظیم کے ایجنٹ اپنی جگہ بنا ہی چکے ہوتے ہیں۔ شاید تمہارے تمام وظیفہ خوار ایجنٹ سازشیوں کے لئے بھی کام کرتے ہوں جس صورت میں وہ خود بھی سازشی ہوئے، لہٰذا تم ان کا وظیفہ جاری رکھنے پر مجبور ہو تاکہ جب تک ہو سکے انہیں خاموش رکھا جا سکے۔</p>
<p>برقی مشینوں سے نکلے خفیہ رپورٹوں کے ضخیم بنڈل روزانہ تمہارے پایۂ تخت کے آگے ڈھیر کر دئیے جاتے ہیں۔انہیں پڑھنا کارِ عبث ہے: تمہارے جاسوس صرف سازشیں ہونے کی تصدیق ہی کر سکتے ہیں تاکہ جاسوسی جاری رکھنے کا جواز قائم رہے، اگلے ہی سانس میں وہ اپنی سرگرمیوں کو پُراثر ثابت کرنے کے لئے کسی فوری خطرے کا بھی انکار کر دیتے ہیں۔ خیر کوئی بھی یہ گمان تو نہیں رکھتا کہ تم ان رپورٹوں کو پڑھتےہو گے، حجرۂ شاہی میں اتنی روشنی نہیں کہ کچھ پڑھا جا سکے، مفروضہ یہی ہے ایک بادشاہ کو پڑھنے کی کیا ضرورت، جو اسے معلوم ہونا چاہئے وہ پہلے ہی جانتا ہے۔اپنی یقین دہانی کے لئے تمہیں بس معمول کے آٹھ گھنٹوں کے دوران خفیہ تنظیم کے دفاتر سے آتی برقی مشینوں کی آوازیں ہی سننی ہیں۔ کارندوں کا ایک لشکر میموری بینکوں میں نیا آنے والا ڈیٹا بھرتا رہتا ہے، اسکرینوں پر پیچیدہ جدول بھرے جاتے ہیں، پرنٹروں سے وہی پرانی رپورٹیں بس بارش یا صاف موسم کی خبروں کے ردوبدل کے ساتھ نکالی جاتی ہیں۔ یہی پرنٹر کم از کم ردوبدل کے ساتھ سازشیوں کے خفیہ اخبار برآمد کرتے ہیں، غداریوں کے روزمرہ حکم نامے، تمہاری معزولی اور قتل کے تفصیلی منصوبے۔</p>
<p>تم اگر چاہو تو انہیں پڑھ سکتے ہو۔ یا پھر یوں ظاہر کرو کہ پڑھ چکے ہو۔تم یا تمہارے دشمنوں کے نمک خوار جاسوسوں کی سُن گُن پر مشتمل روزنامچے خفیہ فارمولوں میں ڈھالے جاتے ہیں اور پھر اُن کمپیوٹر پروگراموں میں داخل کر دئیے جاتے ہیں جو سرکاری سانچوں کے مطابق خفیہ رپورٹیں تیار کرنے کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔ چاہے خطرناک ہویا اطمینان بخش، یہ مستقبل جو ان صفحات میں منتقل ہو رہا ہےتمہارے کسی کام کا نہیں کیوں کہ یہ تمہاری بے یقینی کی کیفیت ختم نہیں کرتا۔ تم جس راز سے پردہ اٹھنے کے خواہش مند ہو وہ کافی مختلف ہے، وہ خوف اور امید جو تمہاری راتوں کی نیند اڑائے رکھتی ہے، تمہاری سانسیں روکے رکھتی ہے، تمہارے کان جو سننے کے خواہش مند ہیں، اپنے بارے میں، اپنی تقدیر کے بارے میں۔</p>
<p>اسی لمحے جب تم نے تخت سنبھالا، وہ گھڑی جب یہ محل تمہارا ہوا،یہ تمہارے لئےاجنبی ٹھہرا ۔ رسمِ تاج پوشی کے جلوس کے آگے چلتے ہوئے، تم مشعل اور مورچھل برداروں کے درمیان سے گزرتے ہوئے آخری باراس دالان میں پہنچ گئے جہاں سے نکلنا اب نہ تو معقول ہے اور نہ ہی شاہی رسم و رواج کے مطابق ہے۔ ایک بادشاہ کا کیا کام کہ وہ راہداریوں، دفاتر، رسوئیوں میں چہل قدمی کرتا پھرے! اس حجرۂ شاہی کے علاوہ اب محل میں تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں۔</p>
<p>تمہارے تصور میں محفوظ ان کمروں کی آخری شبیہ تیزی سے محو ہو چکی ہے، لیکن خیر چونکہ وہ تو جشن و تقریبات کے لئے سجائے جانے کے باعث پہلے ہی ناقابلِ شناخت تھے، تم ویسے بھی ان میں کھو چکے ہوتے۔</p>
<p>ہاں اُس لڑائی کے کچھ بچے کھچے مناظر اب بھی تمہاری یاداشت میں تازہ ہیں جب تم اپنے اُس وقت کے وفادار (اور اب یقیناًتم سے غداری پر مائل) ساتھیوں کے ہمراہ محل پر حملے کے لئے بڑھے تھے: مارٹر گولوں سے خستہ ہوتی چھتیں، گولیوں کی بوچھاڑ سے دیواروں میں چھید اور دراڑیں۔ تم اب اُس کو یہ محل نہیں سمجھ سکتے جس میں تم ابھی اس تخت پر براجمان ہو، اگر تم ایک بار پھر خود کو اُسی محل میں پاؤ تو یہ اشارہ ہو گا کہ ایک پورا سلسلہ مکمل ہو گیا ہے اور اب تمہاری بربادی تمہیں منتخب کر چکی ہے۔</p>
<p>اس سے بھی پہلےاُن سالوں میں جب تم اپنے پیش رو کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے ، تم نے ایک اور محل دیکھا تھا کیوں کہ تمہارے مصاحبوں کو کچھ مخصوص کمروں کی بجائے دوسرے دئیے گئے، اور تم یہی منصوبہ بندی کرتے رہتے تھے کہ بادشاہ بننے کے بعد ان جگہوں کی حالت میں کیا تبدیلیاں لاؤ گے۔تخت پر براجمان ہوتے ہی ہر بادشاہ کا پہلا حکم تمام کمروں، سازو سامان، آویزاں تصاویر ، سجاوٹ وغیرہ میں تبدیلی ہوتی ہے۔تم نے بھی یہ سوچتے ہوئے ایسا ہی کیا کہ یہ تمہاری ملکیت کی اصل علامت ہے۔لیکن اس کے برعکس تم نے مزید یادوں کو فراموشی کی اس چکّی میں ڈال دیا جس سے کچھ واپس نہیں آتا ۔</p>
<p>یقیناً محل میں کچھ نام نہاد تاریخی حجرے بھی ہیں جنہیں تم ایک بار پھر دیکھنا چاہو گے، حالانکہ انہیں اوپر سے نیچے تک تبدیل کر دیا گیا ہے تاکہ ایامِ رفتہ کے ساتھ کھو جانے والی قدامت انہیں واپس لوٹائی جا سکے۔لیکن وہ کمرے ابھی حال ہی میں سیاحوں کے لئے کھولے گئے ہیں۔ تمہیں ان سے کافی فاصلے پر ہی رہنا چاہئے۔ اپنے تخت میں سمٹے ہوئے تم چوک میں رکنے والی بسوں کے شور ، گائیڈوں کی یاوہ گوئی اور بھانت بھانت کی بولیوں سے اپنے صوتی کیلنڈر میں گزرتے دنوں کی شناخت کرتے ہو۔ تمہیں اُن دنوں بھی وہاں نہ پھٹکنے کی باقاعدہ تجویز دی گئی ہے جب وہ کمرے مقفل ہوتے ہیں: خاکروبوں کے جھاڑوؤں ، بالٹیوں اور صابن کے کنستروں سے ٹکراؤ گے۔رات کو کھو جاؤ گے، اپنے راستے میں آنے والے خطرے کی انگارہ چشم علامتیں تمہارے لئے رکاوٹ ہوں گی، صبح تم خود کو ویڈیو کیمروں سے لیس جتھوں، اصل پر نیلے غلاف چڑھائے نقلی دانتوں والی بڑی بوڑھیوں کے لشکروں اور پتلونوں سے باہر لٹکتی پھول دار قمیصوں اور سروں پر تنکوں کے چوڑے ہیٹ پہنے فربہ مردوں کے نرغے میں پاؤ گے۔</p>
<p>تمہارے لئے اپنا محل اجنبی اور نامعلوم ہونے کے باوجود تم ہر سرسراہٹ کے تعین ، کھانسی کی ہر آواز کی کسی نقطۂ مکان میں تحدید ، ہر صوتی علامت کے ارد گرد دیواروں کا تصور باندھ کراس کی ذرہ ذرہ تعمیرِ نو کر سکتے ہو، چھتیں، بغلی راستے، ہر اس خلا اورہر اس رکاوٹ کو شکل بخش دو جہاں آوازیں پھیلتی یا ٹکراتی ہیں، خود آوازوں کو اجازت دو کہ وہ تصویروں کو جنم دیں۔ایک نقرئی کھنک محض کسی چمچ کے تھالی سے گرنے کی آواز نہیں جہاں اسے ٹکایا گیا تھا بلکہ ایک ایسی میز کا کونا بھی ہے جس پر گوٹا کناری والا سوتی کپڑا بچھا ہے، جس پر ایک ایسے اونچے روزن سے چھنتی روشنی پڑ رہی ہے جہاں تخم دان پھولوں کی بیلیں معلق ہیں۔ ایک مدھم دھمک صرف کسی چوہے پر جھپٹتی ایک بلی نہیں بلکہ میخ دار تختوں سے بند سیڑھیوں کے نیچے ایک مرطوب کیچڑ والی جگہ بھی ہے۔</p>
<p>محل ایک صوتی تشکیل ہے جو ایک لمحہ پھیلتی ہے تو دوسرے ہی لمحے سکڑتی ہے، زنجیروں کی لڑی کی طرح تن جاتی ہے۔ تم گونجتی صداؤں کی بیساکھی کے سہارے اس میں چل پھر سکتے ہو، دراڑوں ، جھنکاروں، بدکلامیوں، سانسوں کے اتار چڑھاؤ، سرسراہٹ، بڑبڑاہٹ، غرغراہٹ کا تعین کرتے ہوئے۔</p>
<p>محل بادشاہ کا بدن ہے۔ تمہارا بدن تمہیں پُراسرار پیغامات بھیجتا ہے جو تم خوف اور پریشانی سے وصول کرتے ہو۔ اسی بدن کے ایک نامعلوم حصے میں ایک عفریت گھات لگائے بیٹھا ہے، تمہاری موت وہاں پہلے ہی سے قیام پذیر ہے، تم تک پہنچنے والے اشارے شاید تمہیں تمہارے ہی اندر دفن ایک خطرے سے خبردار کرتے ہیں۔ تخت پر بیٹھا ترچھا جسم اب تمہارا نہیں ، جب سے تاج نے تمہارے سر کا گھیراؤ کیا ہے بدن تمہارے لئےقابلِ استعمال نہیں ، اب تمہاری ذات تم سے پہیلیوں میں باتیں کرنے والی ایک اندھیری، اجنبی رہائش گاہ کے طول و عرض میں پھیلی ہے ۔لیکن کیا واقعی کچھ بدلا ہے؟ پہلے بھی تو تم اپنے بارے میں کم کم بلکہ شاید کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔اور اسی طرح خوف زدہ تھے جیسے اب ہو۔</p>
<p>محل آوازوں کا ایک باقاعدہ تانا بانا ہے، دل کی دھڑکن کی طرح ہمیشہ یکساں، جس سے باقی تمام غیرمتوقع، بے ربط آوازیں ابھرتی ہیں۔ ایک دروازہ بند ہوتا ہے۔ کہاں؟ کوئی دوڑتے ہوئے سیڑھیاں اترتا ہے، ایک گھٹی گھٹی چیخ سنائی دیتی ہے۔ طویل، تناؤ کی کیفیت سے لبریز ساعتیں گزرتی ہیں۔ سیٹی کی ایک لمبی کٹیلی آواز دوبارہ سنائی دیتی ہے، شاید کسی کھڑکی یا منارے سے۔ نیچے سے ایک اور سیٹی جواب دیتی ہے۔ پھر خاموشی۔<br>
کیا کوئی کہانی ایک آواز کو دوسری سے جوڑتی ہے؟ تم معنی تلاش کئے بغیر نہیں رہ سکتے، جو شاید کسی ایک آواز میں نہیں، اکیلی اکیلی آوازوں میں بھی نہیں، بلکہ ان درمیانی وقفوں میں ہے جو انہیں الگ الگ کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی کہانی ہے تو کیا وہ کہانی تم سے متعلق ہے؟ کیا نتائج کا کوئی سلسلہ آخرکار تم سے متعلق ٹھہرا؟ اور کیا یہ اُسی سلسلۂ حوادث سے جڑی بس ایک اور غیرمتعلق واردات ہے جو محل کے روزمرہ کا معمول ہیں؟ ہر وہ قصہ جو تمہاری جانب سے ظہور میں آتا معلوم ہوتا ہے خود تمہیں تمہارے ہی پاس واپس لے آتا ہے، محل میں کچھ ممکن نہیں جب تک اس واقعے میں بادشاہ کا کوئی امر شامل نہ ہو، چاہے فعال یا پھر غیر فعال۔ کسی مبہم ترین سراغ سے بھی تم اپنا زائچہ بناسکتے ہو۔</p>
<p>شاید خطرہ آوازوں کی بجائے سلسلۂ سکوت سے ہے۔ سنتریوں کی تبدیلی کی آواز سنے کتنے گھنٹے ہو گئے؟ اور اگر تمہارے وفادار محافظ سازشیوں نے گرفتار لئے ہوئے تو؟ باورچی خانوں سے برتنوں کے ٹکرانے کی مانوس آوازیں کیوں نہیں سنائی دے رہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ تمہارے بھروسے کے باورچیوں کی جگہ قاتلوں کے کسی ایسے گروہ نے لے لی ہو جو خاموشی سے واردات کرنے میں ماہر ہوں، پکوانوں میں چپکے چپکے زہر ملا رہے ہوں۔۔۔؟<br>
شاید خطرہ خود باقاعدگی میں ہے۔ تُرمچی روز کی طرح ٹھیک معمول کے مطابق تُرم بجا دیتا ہے، لیکن کیا تمہیں محسوس نہیں ہوتا کہ وہ غیرمعمولی تعین سے یہ کام کر رہا ہے؟ کیا تمہیں ڈھول کی تھاپ میں ایک عجیب سا زور، جوش و خروش کی ذرا سی زیادتی محسوس نہیں ہوتی؟ آج پریڈ کرتے ہوئے دستوں کی گونج میں میں ایک مغموم سا زیرو بم ہے، جیسے کوئی فائرنگ اسکواڈ چلا جا رہا ہو۔۔۔ٹینکوں کے پہیے کسی چرچراہٹ کے بغیر بجری پر سے گزر جاتے ہیں جیسے انہیں معمول سے زیادہ تیل دیا گیا ہو، کیا کسی آنے والی لڑائی کے پیشِ نظر؟</p>
<p>شاید حفاظت پر مامور سپاہی اب وہ نہیں جو تمہارے وفادار ہیں۔۔۔یا شاید وہ کسی تبدیلی کےبغیر ہی سازشیوں سے جا ملے ہیں۔۔۔شاید ہر چیز پہلے کی طرح ہی چلتی رہے،لیکن محل تو پہلے ہی غاصبوں کے ہتھے چڑھ چکا ہے، انہوں نے تمہیں اب تک اس لئے گرفتار نہیں کیا کہ آخر اب تم کسی گنتی میں ہی نہیں آتے۔ وہ تمہیں ایک ایسے تخت کی سپردگی میں فراموش کر چکے ہیں جو اب مزید ایک تخت نہیں۔ محلاتی زندگی کا روزمرہ معمول اس حقیقت کی علامت ہے کہ تختہ الٹا جا چکا ہے، ایک نئے تخت پر ایک نیا بادشاہ براجمان ہے، تمہیں سزا سنائی جا چکی ہے اور وہ اتنی ناقابلِ تنسیخ ہے کہ اس پر جلد عمل درآمد کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔۔۔</p>
<p>اس ہذیانی کیفیت کو چھوڑو۔ محل میں سنائی دینے والی ہر حرکت ٹھیک ٹھیک انہیں قواعدو قوانین کے مطابق ہے جو تم نے وضع کئے ہیں: فوج کسی چالو مشین کی طرح تمہارا حکم بجا لاتی ہے، محل کے رسم و رواج دسترخوان لگانے اور سمیٹنے میں رتی برابر تبدیلی کی اجازت نہیں دیتے، پردوں کا گرانا اور تقریباتی قالینوں کا کھولنا ہدایات کے مطابق ہے، ریڈیو پروگرام وہی ہیں جن کا حکم تم نے پہلی اور آخری بار دیا تھا۔ حالات تمہارے قابو میں ہیں، کوئی بھی تمہارے ارادے یا اختیار کوجُل نہیں دے سکتا۔ نالی میں ٹراتا مینڈک، آنکھ مچولی کھیلتے بچوں کا شور، بوڑھے خزانچی کا پھوہڑ پن، غرض ہر شے تمہارے منصوبے کے مطابق رہتی ہے، اس سے پہلے کہ وہ تمہارے کان کو سنائی دے، تمہارا ذہن ہر شے سوچ چکا ہوتا ہے، غوروفکر کر چکا ہوتا ہے، فیصلہ کر لیتا ہے۔ ایک مکھی بھی تمہاری خواہش کے بغیر نہیں بھنبھنا سکتی۔</p>
<p>لیکن شاید تم پہلے کبھی سب کچھ گنوا دینے کے اتنے قریب نہ تھے جتنے اب جب تمہارے خیال میں سب کچھ تمہاری گرفت میں ہے۔ محل کو اس کی تمام تفصیلات کے ساتھ تصور کرنے کا فریضہ، اسے اپنے ذہن میں قید رکھنے کی ذمہ داری تمہیں ایک تھکا دینے والے دباؤ میں رکھتی ہے۔ وہ ڈھٹائی جو طاقت کی بنیاد ہے، کبھی اتنی نازک نہیں ہوتی جتنی لمحۂ فتح میں۔</p>
<p>تخت کے قریب دیوار کا ایک ایسا زاویہ ہے جہاں وقفے وقفےسے ایک بازگشت سنائی دیتی ہے: دور سے آتی ہوئی دھمک جیسے کوئی دروازہ کھٹکھٹا رہا ہو۔ کیا کوئی دیوار کے دوسری طرف ضربیں لگا رہا ہے؟ لیکن یہ شاید دیوار سے زیادہ ایک ستونچہ ہے، باہر کو نکلتا ہوا ایک سہارا، کوئی کھوکھلا ستون، شاید ایک عمودی نلی جو محل کی تمام منزلوں میں تہہ خانوں سے چھتوں تک جاتی ہے، مثال کے طور پر ایک ایسا بادکش جو آتش دانوں سےشروع ہوتا ہے۔یہ وہ گزرگاہ ہے جہاں عمارت کی مکمل اونچائی تک آوازیں سفر کرتی ہیں۔ نہ جانے کس منزل پر، لیکن حجرۂ شاہی سے متصل بالائی یا زیریں کمرے میں کوئی نہ کوئی شے اس نلی سے ٹکرا رہی ہے۔کوئی شے یا کوئی ذی روح۔ کوئی نہ کوئی وقفے وقفے سے ضرب لگا رہا ہے، گھٹی گھٹی تھرتھراہٹ یہی ظاہر کرتی ہے کہ فاصلہ کافی زیادہ ہے۔ ضربیں جو کسی اندھیری گہرائی سے ابھرتی ہیں، ہاں ہاں نیچے سے، زیرزمین ابھرتی ہوئی کھٹکھٹانے کی آواز۔ کیا یہ کوئی اشارے ہیں؟</p>
<p>ایک بازو پھیلا کر تم کونے میں مکا مار سکتے ہو۔ ضربوں کو بالکل ویسے ہی دہراتے ہو جیسے وہ سنائی دے رہی ہیں۔ خاموشی۔ اے لو! پھر آواز آئی۔ وقفوں اور تکرار کا سلسلہ تھوڑا تبدیل ہوا ہے۔ تم بھی اسی طرح پھردہراتے ہو۔ پھر انتظار۔ اب ایک بار پھر۔ لیکن اب جواب کے لئے بہت انتظار نہیں کرنا پڑا۔ کیا یہ کوئی بات چیت شروع ہو گئی ہے؟</p>
<p>مکالمے کے لئے زبان جاننا ضروری ہے۔ضربوں کا ایک سلسلہ، ایک کے بعد ایک، ایک وقفہ، پھر کچھ ایک ساتھ اور علیحدہ علیحدہ ضربیں: کیا یہ اشارے کسی کوڈ میں ڈھالے جا سکتے ہیں؟ کیا کوئی حرف بُن رہا ہے، یا لفظ؟ کیا کوئی تم سے رابطہ کرنا چاہتا ہے، کیا اس کے پاس کچھ اہم خبریں ہیں؟ سادہ ترین علامت کو آزماؤ: ایک ضرب ’’الف‘‘، دو ضربیں ’’با‘‘۔۔۔یا پھر مورس کوڈ آزما لو، مختصر اور طویل آوازوں میں امتیاز کی کوشش کرو۔۔۔کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ بھیجا جانے والا پیغام ایک نغمگی رکھتا ہے، جیسے موسیقی کی کوئی عبارت، یہ تمہاری توجہ حاصل کرنے کی خواہش بھی ہو سکتی ہے، تاکہ رابطہ قائم ہو، تم سے بات ہو سکے۔۔۔لیکن یہ تمہارے لئے کافی نہیں: اگر ضربوں کی آواز میں باقاعدگی ہے تو ان سے کوئی لفظ ضرور بننا چاہئے، اور ظاہر ہے کہ پھر جملہ۔ ۔۔اور اب تم محض ان ٹپ ٹپ گرتےصوتی قطروں پر اپنے من چاہے معانی کا غلاف چڑھانے کے لئے مچل رہے ہو گے: ’’جہاں پناہ۔۔۔ہم۔۔۔آپ کے وفادار نمک خوار۔۔۔تمام سازشوں کو بے نقاب کر دیں گے۔۔۔عمر دراز ہو۔۔۔‘‘ کیا وہ تم سے یہ کہہ رہے ہیں؟ کیا تم تمام قابلِ تصور علامتوں کے اطلاق کے بعد یہی سمجھ سکے ہو؟ نہیں، اس قسم کی تو کوئی بات تھی ہی نہیں۔ اگر کچھ تھا بھی تو بھیجا جانے والا پیغام بہت مختلف تھا، کچھ اِس سے ملتا جلتا:’’حرامی غاصب کتے۔۔۔انتقام۔۔۔تمہارے دن گنے جا چکے ہیں۔‘‘</p>
<p>شانت ہو جاؤ۔ شاید یہ سب تمہارا تخیل ہی ہے۔ صرف حادثہ ہی حروف اور الفاظ کو اس طرح ملا سکتا ہے۔ شاید یہ اشارے ہی نہ ہوں: ایک دم دروازہ بند ہونے کی آواز ہو سکتی ہے، یا کوئی بچہ گیند اچھا ل رہا ہو، یا کوئی کیل ٹھونک رہا ہو۔ کیل۔۔۔’’تابوت۔۔۔تمہارا تابوت۔۔۔‘‘ اب ضربیں یہ الفاظ تشکیل دے رہی ہیں: ’’میں اس تابوت سے نکلوں گا۔۔۔تم اس میں داخل ہو گے۔۔۔زندہ درگور۔۔۔’’ وہی بے معنی الفاظ۔ صرف تمہارا تخیل ہی اس بے شکل ارتعاش پر ہذیانی الفاظ کو مسلط کر سکتاہے۔</p>
<p>یہ تصور بھی کر سکتے ہو کہ اگر تم محل میں خدا جانے کہاں موجود کسی سننے والے کو بے ترتیبی سے اپنی مٹھی کے جوڑ مار کر مخاطب کرو تو وہ الفاظ اور جملے سمجھ سکتا ہے۔کوشش کرو۔ ذرابھی توقف کے بغیر۔ اب کیا کر رہے ہو؟ اس طرح کیا غور ، جیسے ہجے کر رہے ہو؟ تمہارے خیال میں تم اس دیوار کے دوسری جانب کیا پیغام بھیج رہے ہو؟’’غدار! تم بھی! میرے سامنے یہ مجال۔۔۔میں تمہیں شکست دے چکا ہوں۔۔۔میں تمہیں قتل کر سکتا تھا۔۔۔‘‘ یہ تم کیا کر رہے ہو؟ کسی نادیدہ آواز کے سامنے کیا جواز تراشیاں کر رہے ہو؟ کس کے سامنے گڑگڑا رہے ہو؟ ’’میں نے تمہاری جان بخشی تھی۔۔۔تمہاری باری آئی تو۔۔۔یادرکھنا۔۔۔‘‘ تمہارے خیال میں زیرِ زمین کیا چیز دیوار پر یہ ضربیں لگا رہی ہے؟ کیا تمہارا پیش رو ا ب تک زندہ ہے، وہی بادشاہ جسے تم نے اس تخت سے بے دخل کیا تھا، ہاں یہی تخت جس پر تم بیٹھے ہو؟ کیا یہ وہ قیدی ہے جسے تم نے محل کے گہرے ترین زندان میں قید کیا تھا؟<br>
تم ہر رات اسی بے سود امید پر اِس زیرِ زمین ڈھول کی تھاپ پر کان لگائے رکھتے ہو کہ شاید کوئی پیغام پلے پڑ جائے۔ لیکن یہ شک بھی کہیں اندر ہی اندر کلبلا رہا ہے کہ یہ صرف تمہارے کان بج رہے ہیں، یا پھر دل بلّیوں اچھل رہا ہے، یا پھر یہ وہ کھوئی ہوئی نغمگی ہے جو کبھی کبھار یاداشت میں لوٹ کر خوف جگادیتی ہے۔ وائے پشیمانی!آنکھ لگتی ہے تو رات کو گزرنے والی ریل گاڑیوں کے پہیوں کی گڑگڑاہٹ ہمیشہ الفاظ کی ایک ہی تکرار میں کسی یک سُرےلحن کی طرح ڈھل جاتی ہے۔نہیں! بلکہ یہ بھی تو ممکن ہے کہ آوازوں کی ہر تال تمہارے کانوں میں کسی قیدی کی آہ و بکا بن کر ابھرے، تمہارے ۔۔۔شکاروں کی گالیاں، کسی وجہ سے کام تمام نہ ہو سکنے والے دشمنوں کے سانسوں کی منحوس دھونکنی۔</p>
<p>عقل مند ہو کہ ایک لمحہ ضائع کئے بغیر بھی سب کچھ سن رہے ہو، لیکن اتنا یقین رکھو: تم دراصل خود ہی اپنے سامع ہو، یہ بدروحیں تمہارے اندر اتر کر ہی قوتِ گویائی پاتی ہیں۔ کوئی ایسی بات خود کو قربِ سماعت کے لئے کرب سے مچل رہی ہے جو تم خود تک سے کہنے کے قابل نہیں۔۔۔نہیں مانتے؟ تمہیں حتمی ثبوت درکار ہے کہ جو تم سن رہے ہو وہ اندر سے اٹھ رہا ہے نہ کہ باہر سے؟ حتمی ثبوت تو خیر کبھی نہیں ملے گا۔ لیکن یہ سچ ہے کہ محل کے زندان قیدیوں، معطل بادشاہوں، غداری کے ملزم وزراء اور اُن اجنبیوں سے بھرے پڑے ہیں جو پولیس کی روزمرہ پکڑ دھکڑ کے دوران ہتھے چڑھے ہیں، پھر وہ شکار بھی ہیں جو انتہائی محفوظ کوٹھڑیوں میں پھینک کر بھلا دئیے جا چکے ہیں۔۔۔چونکہ یہ تمام لوگ احتجاجی نعروں اور باغی نغموں کے ساتھ رات دن اپنی بیڑیاں ہلاتے یا جیل کی سلاخوں سے اپنے چمچ ٹکراتے رہتے ہیں، لہٰذا یہ ایک فطری بات ہے کہ اس شور شرابے کی گونج اوپر تم تک پہنچ جائے، حالانکہ تمہاری دیواروں اور چھتوں کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ آواز کا گزر ممکن نہیں اور اس حجرے کے گرد بھی دبیز پردے گرائے گئےہیں۔ یہ ناممکن نہیں کہ انہی زندانوں میں سے آتی ہوئی آوازوں کا تسلسل جو پہلے تمہیں کسی کھٹکھٹاہٹ کا زیروبم محسوس ہوتا تھا اب ایک گہری ، ہولناک گڑگڑاہٹ میں تبدیل ہو چکا ہو۔ ہرمحل کی بنیادوں میں کچھ ایسے تہہ خانے موجود ہوتے ہیں جہاں کوئی نہ کوئی زندہ درگور ہوتا ہے یا کوئی مردہ شخص ابدی سکون حاصل کر لیتا ہے۔تمہیں ہاتھوں سے اپنےکانوں کو ڈھکنے کی کوئی ضرورت نہیں، یہ آوازیں اسی طرح آتی رہیں گی۔</p>
<p>اگر تم کسی گھن چکر کی طرح ان میں پھنس نہیں جانا چاہتے تو محل کی آوازوں کو اپنے سر پر سوار کرنے کی ضرورت نہیں! باہر نکلو! دور نکل جاؤ! آوارہ گردی کرو! اندھیرے محل کے باہر شہر پھیلا ہوا ہے، راجدھانی کا دارالخلافہ، تمہاری اقلیمِ سلطانی۔ تم اس یاسیت کی سیاہی میں ڈوبے ہوئے محل نہیں بلکہ شہنائیوں جیسی سینکڑوں آوازوں سے مترنم، رنگا رنگ شہروں کے مالک ہونے کے لئے بادشاہ بنے ہو!</p>
<p>شہر رات گئے پیر پسارے لیٹا ہے، خمیدہ پڑا سوتا، خراٹے لیتا، خواب میں بڑبڑاتاہے: وہ اِدھر سے اُدھر کروٹ لیتا ہے توسایوں اور روشنیوں کے قطعے اپنی جگہوں سے سرکتے ہیں۔ ہر صبح شادمانی، انتباہ یا خطرے کی گھنٹیاں بجتی ہیں: وہ پیغامات بھیجتے ہیں لیکن تم کبھی یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ وہ دراصل تمہیں کیا بتانا چاہتے ہیں۔مرنے والوں کے لئے جاری آوہ و بکا میں تمہاری سماعت سے پُرجوش رقص و موسیقی کی آوازیں بھی ٹکراتی ہیں، پھر مسرت و شادمانی کےاس گجر کے درمیان ہی غضبناک آوازوں کا ایک دھماکہ سنائی دیتاہے۔ تمہیں تنفسِ شہر کی سماعت پر کان لگانے چاہئیں ، سانسیں جوخستہ و شکستہ ہیں یا پھر مطمئن اور گہری ۔</p>
<p>شہر تہہِ گوش سے اٹھتی ایک مدھم گڑگڑاہٹ ہے، آوازوں کی ایک بھنبھناہٹ، پہیوں کا ایک شور۔ جب محل میں ہر طرف سکوت ہوتا ہے تو شہر حرکت کرتا ہے، گلیوں میں پہیے دوڑتے ہیں، گلیاں کیا ہیں گھومتی چرخیوں کے ارّے ہیں، گراموفون پر قرص گردش میں ہے ، کسی پرانے ریکارڈ پر سوئی رگڑ کھاتی ہے، وقفوں وقفوں سے موسیقی کے لہری جھونکے چلتے ہیں، گلیوں کی گرجتی دراڑوں میں ڈوبتے ہیں اور پھر چمنیوں پر نصب سمت نماؤں کو گھمانے والی ہواؤں کےساتھ ابھرتے ہیں۔ شہر ایک ایسا پہیہ ہے جس کے مدار پر ساکت بیٹھے تم محوِ سماعت ہو۔</p>
<p>گرمیوں میں شہر محل کی کھلی کھڑکیوں سے اندر داخل ہو جاتا ہے، اپنی صداؤں، قہقہوں اورآنسوؤں کے دوروں، ہوائی چرخیوں کے شور اور ٹرانسسٹروں کے ناگوار پٹاخوں کے ساتھ تمام کھلی کھڑکیوں سے اڑتا ہوا اندر آ پہنچتا ہے۔ تمہارے لئے بالکونی سے باہر جھانکنا بے معنی ہے، اوپر سے چھتوں پر نگاہ ڈالتے ہوئے تم ان گلیوں کو کیا خاک پہچان پاؤ گے جن میں تم نے تاج پوشی کے روز سے آج تک قدم بھی نہیں رکھا، جب جلوس اعلام و آرائش اور محافظوں کی قطاروں میں سے گزررہا تھا اور اسی وقت سے ہر شےدور، بہت دور جاتی ہوئی دھندلی محسوس ہو رہی تھی۔</p>
<p>شام کی سرد لہر حجرہ ٔ شاہی تک تو نہیں پہنچتی لیکن تم اسے شامِ گرما کے اس مدھم شور سے پہچان لیتے ہو جس کی پہنچ تختِ شاہی تک ہے۔تمہیں تو بالکونی سے باہر جھانکنے کا خیال تک ترک کر دینا چاہیے: مچھروں کے کاٹنے کے علاوہ تمہیں کچھ حاصل نہ ہو گا،کچھ ایسا نہیں جو پہلے ہی اس گرج میں شامل نہ ہوجو کان اوپر کسی خول کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ شہر کسی گھیرے دار خول یا پھر کان کی طرح اپنی گہرائی میں کسی سمندر کی سی گھن گرج رکھے بیٹھا ہے: اگر تم لہروں کی آواز پر کان لگاؤ تو محل کیا ہے ، شہر کیا ہے، کان، خول ، غرض سب کچھ گڈمڈ ہو جائے گا۔<br>
شہر کی آوازوں میں تمہیں ہر کچھ دیر کے بعد ایک تال، سُروں کا ایک سلسلہ، ایک دُھن سنائی دیتی ہے: نفیریوں کے باجے، جلوسوں کے نعرے،ا سکول کے بچوں کے اجتماعی نغمے، جنازے، احتجاجیوں کے بڑھتے قدموں کی تاپ میں رچے بسے انقلابی گیت، احتجاجی جلوس کو رفع دفع کرتے تمہارے مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے سپاہیوں کے تعظیمی ترانے ، ہر کسی کو یہ باور کرانے کے لئے کہ شہر اپنی مسرتوں میں ڈوبا ہے، کسی نائٹ کلب کے لاؤڈ اسپیکر سے اونچی آواز میں بجتی موسیقی، بلوے میں مارے جانے والی کسی غریب کی موت پر عورتوں کے نوحے۔یہی وہ موسیقی ہے جو تم سنتے ہو، لیکن کیا اسے موسیقی کہہ سکتے ہیں؟ تم آواز کی ہر ٹھیکری سے اس طرح اشارے اور معلومات جمع کرتےہو جیسے اس شہر میں تمام گانے بجانے اورموسیقی سننے والے تمہیں واضح اور غیر مبہم پیغامات بھیجنا چاہتے ہیں۔ تمہاری تاج پوشی کے دن سے تم موسیقی نہیں بلکہ موسیقی کے استعمال کی بابت خبریں سن رہے ہو: اشرافیہ کے رسوم و رواج میں، عوام کے میلوں ٹھیلوں میں، روایات، ثقافت، اور فیشن کے تحفظ میں۔ اب تم خود سے پوچھتے ہو کہ تمہارے لئے تب سماعت کے کیا معنی ہوا کرتے تھے جب تم سُروں کو صرف اور صرف اپنی روح میں اتارنے کے لئے موسیقی سنا کرتے تھے؟</p>
<p><iframe src="https://www.youtube.com/embed/ckMbqXl0eKU" width="560" height="315" frameborder="0" allowfullscreen="allowfullscreen"></iframe></p>
<p>وہ بھی ایک وقت تھا جب خوش ہونے کے لئے تمہیں صرف اپنے ذہن یا لبوں سے ایک ’’ٹرا لالالا‘‘ کرتے ہوئے اس سُر کی نقالی کرنا ہوتی تھی جو کسی عام سے گیت یا پھر کسی پیچیدہ سمفونی سے تمہارے ذہن میں اٹک گئی ہوتی تھی۔اب ’’ٹرالالالا‘‘ کی جتنی بھی کوشش کر لو، کوئی سُر تمہارے ذہن میں نہیں آتا ۔</p>
<p>یاد ہے وہ آواز، وہ نغمہ ، وہ نسوانی آواز جو کبھی کبھار ہوا کے دوش پر کسی کھلی کھڑکی سے تم تک پہنچ جاتی تھی، یاد ہے وہ محبت کا گیت جو گرمیوں کی راتوں میں ہوا کے جھونکے تم تک لاتے تھے، یاد ہے وہ لمحہ جب تمہارے اس گمان کے ساتھ ہی کہ تم نے اس کی کوئی سُر پکڑ لی ہے ، وہ کھو چکا ہوتا تھا، اور تمہیں کبھی یاد ہی نہیں ہوتا تھا کہ آیا وہ تم نے واقعی سنا تھا یا وہ محض تمہارے تخیل ، تمہاری تمنا کی پیداوار تھی ، تمہاری طویل شب بیداری کے ہیبت ناک خواب میں اسی عورت کے گانے کی آواز گونجتی ہے۔ تم خامشی و ہوشیاری سے اسی کے منتظر ہو: اب تمہارے کان خوف کے مارے تو ہرگز نہیں کھڑے۔اب ایک بار پھر تم وہی نغمہ سن رہے ہو جو اپنی ہر جداگانہ سُر، ہر رنگ و آہنگ کے ساتھ ایک ایسے شہر سے تم تک پہنچ رہا ہے جسے ہر قسم کی موسیقی اکیلا چھوڑ چکی ہے۔</p>
<p>کسی شے کی کشش محسوس کئے بھی تمہیں ایک عرصہ گزر چکا، شاید اس وقت سے جب تم نے اپنی تمام تر قوتیں تخت کے حصول میں لگا دیں۔ اب تمہیں بس یہی یاد ہے کہ اپنے دشمنوں کو زیر کرلینے کی تمنا کیسے تمہیں نگل رہی تھی کہ کسی دوسری چیز کی خواہش اور خیال تک نہ تھا۔ لیکن اس وقت بھی دن رات موت کا خیال اسی طرح تمہارے ساتھ تھا جیسے آج جب تم رات کے سناٹے اور اپنے خلاف جنم لیتی بغاوتوں سے بچاؤ کی خاطر نافذ کئے گئے کرفیو کی خامشی میں شہر کو گھورتے ہو، اور سنسان گلیوں میں محافظ گشتی دستوں کے دھپ دھپ کرتے قدموں کا تعاقب کرتے ہو۔ پھر جب سناٹے میں کسی بے نور روزن کی دہلیز پر موجود وہ نادیدہ نسوانی آواز اپنے سُر بکھیرتی ہے تو اچانک زندگی کی بھولی بسری یادیں واپس لوٹ آتی ہیں، تمہاری تمنا ئیں کسی شے کو پا لیتی ہیں۔ یہ کیا ہے؟ یہ وہ نغمہ نہیں جو تم نے نہ جانے کتنی بار سنا ہو گا، نہ ہی یہ عورت جو تم نے کبھی نہیں دیکھی: تم تو دراصل اس آواز کے قتیل ہو جس طور وہ خود کو گیت میں پیش کرتی ہے۔</p>
<p>یہ آواز یقیناً کسی انسان کی ہے، کسی بھی جیتےجاگتے، یکتا، بے مثل انسان کی طرح ایک انسان، لیکن پھر بھی آواز انسان تو نہیں ہوتی، یہ تو اشیاء کے انجماد سے جدا، ہوا میں معلق کوئی چیز ہے۔آواز بھی یکتا اور بے مثل ہوتی ہے لیکن شاید انسان کے مقابلے میں ایک مختلف طور پر: یہ ممکن ہے کہ آواز اور انسان میں مماثلت نہ ہو۔ یا پھر وہ کسی ایسی خفیہ طرز پر ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوں جس کا ادراک پہلی نظر میں ناممکن ہو: ممکن ہے کہ آواز کسی انسان کا پوشید ہ اور اصل ترین جزو ہو۔ کیا وہ تمہارا غیر مجسم جزو ہے جو اس غیر مجسم آواز کو سنتا ہے؟ اس صورت میں اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ تم نے وہ آواز اصل میں سنی یا محض تمہاری یاداشت یا تخیل کا کرشمہ تھا۔</p>
<p>لیکن پھر بھی تم یہی چاہتے ہو کہ تمہارا کان اس آواز کا ادراک کرے لہٰذا تمہیں اپنی جانب کھینچنے والی شے صرف کوئی یاد یا پُرفریب سراب نہیں بلکہ ایک گوشت پوست کے حلق میں اٹھتا ارتعاش ہے۔ ایک آواز کے معنی یہ ہیں:ایک زندہ شخص، حلق، سینہ، احساسات، یعنی وہ جو اس آواز کو ہوا کے سپرد کرتا ہے، تمام آوازوں سے مختلف ایک آواز۔ایک آواز میں حلق، لعاب، نوزائیدگی، تجرباتِ زندگی کا ملمع، ذہن کی مرادیں اور صوتی لہروں کو ایک ذاتی تشخص دینے کی مسرت شامل ہوتی ہے۔تمہارے لئے اصل کشش اس مسرت میں ہے جو یہ آواز ایک ہستی کو دیتی ہے، یعنی ہستی بطور آواز۔ لیکن یہ مسرت تمہیں اس تصور پر ابھارتی ہے کہ فلاں شخص فلاں سے اس لئے مختلف ہے کیوں کہ دونوں کی آواز مختلف ہے۔</p>
<p>کیا تم اِس مغنیہ کو تصور میں لانے کی کوشش کر رہے ہو؟ یاد رکھو تم اپنی چشم ِ تصور سے ا س کا جو بھی سراپا دیکھو ، صوتی سراپا اس پر بھاری ہو گا۔ یقیناً تم اس میں موجود امکانات کو ضائع تو نہیں کرنا چاہو گے، تو بہتر یہی ہے کہ آواز کو تھامے رکھو اور محل سے باہر بھاگ نکلنے اور اس ڈومنی کی تلاش میں شہر کی سڑکیں ناپنے کی خواہش پر قابو پانے کی کوشش کرو۔</p>
<p>لیکن تمہیں روکنا ناممکن ہے۔ تمہارا ایک حصہ اس نامعلوم آواز کی جانب بھاگتا چلا جا رہا ہے۔ اُس کی اپنی سماعتوں تک رسائی کی مسرت سے سرشار، تم اب اپنی سماعت اُس کے کانوں تک پہنچانا چاہتے ہو، تم بھی اب ایک آواز بننا چاہتے ہو تاکہ و ہ تمہیں اسی طرح سن سکے جیسے تم اسے سنتے ہو۔</p>
<p>کیا بدنصیبی ہے کہ تم گا نہیں سکتے۔ اگر تم گانا جانتے تو شاید تمہاری زندگی مختلف ہوتی،اس سے زیادہ خوش یا پھر ایک منفرد سی اداسی ، ایک نغمگی بھری یاسیت۔ شاید تم بادشا ہ بننے کی ضرورت ہی محسوس نہ کرتے۔ اس چرچراتے تخت پر بیٹھے یوں سایوں کو نہ گھور رہے ہوتے۔<br>
شاید تمہاری اصل آواز کہیں تمہارے بہت اندر دفن ہے، ایک ایسا نغمہ جو تمہارے جکڑے ہوئے حلق ، تمہارے خشک اور بھنچے ہوئے ہونٹوں کی قید سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ یا پھر تمہاری بکھری ہوئی آواز اپنی بھنبھناہٹ سے اِدھر اُدھر سر اور تال بکھیرتی ،قریہ بہ قریہ آوارہ پھرتی ہے۔وہ انسان جو تم ہو، تھے یا ہو سکتے تھے یعنی تم جیسے تمہیں کوئی نہیں جانتا اس آواز میں ظاہر ہوتے ہو ۔</p>
<p>کوشش کرو، زور لگاؤ، اپنی خفیہ قوت کو حاضر کرو۔ زور لگا کر ہیّا! نہیں ، یہ بھی نہیں چلا۔ ہمت نہ ہارو، دوبارہ کوشش کرو۔ اے لو! ہو گیا نہ معجزہ! تمہیں تو اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا! کس کی ہے یہ آواز جو اونچی تیز تال کے ساتھ اٹھتی ہے، اپنے نقطۂ اوج کو جا لیتی ہے اور پھر اُس نسوانی آواز کی نقرئی جھلملاہٹ میں مل جاتی ہے؟ کون اُس کے ساتھ اس دوگانے میں اس طرح شریک ہے جیسے دونوں ایک ہی صوتی ارادے کے دو تکمیلی و تشاکلی چہرے ہوں؟ یہ تم ہی گا رہے ہو، اس میں کوئی شک نہیں: یہ تمہاری ہی آواز ہے جو آخر کار تم کسی اجنبیت یا اضطراب کے بغیر سن سکتے ہو۔</p>
<p>لیکن تم یہ سُر کیسے پیدا کر سکتے ہو جب تمہارا سینہ سکڑا اور دانت بھنچے ہوئے ہیں؟ تمہیں یقین ہے کہ شہر اس ذاتِ نسوانی کے طبعی پھیلاؤ سے زیادہ کچھ نہیں اور اگر اپنی راجدھانی کے دارلخلافہ سے بھی نہیں ،تو پھر ایک بادشاہ کی آواز آخر کہاں سے آئے؟ اپنی سماعت کی وہی تیزی جس نے تمہیں اب تک اس نامعلوم عورت کے گیت سے جوڑے رکھا، اب اس آواز کی سینکڑوں کرچیاں چن رہی ہے جو یکجا ہو ایک قطعی غیر مبہم آواز کی شکل اختیار کر لیتی ہیں، ایک ایسی آواز جو صرف اور صرف تمہاری ہے۔</p>
<p>بس اب اپنی سماعت میں ہر خلل اور رکاوٹ کو دور کر دو ۔غور کرو! تمہیں خود کو بلاتی اُس عورت کی پکار اور اسے بلاتی اپنی پکار کو اکھٹے ایک ہی ارادۂ سماعت میں پرونا ہے (یا تم اسے تصورِ سماعت کہنا چاہو گے؟)۔ اے لو! نہیں، اتنی جلدی نہیں۔ ہمت نہ ہارو۔ دوبارہ کوشش کرو۔ اگلے ہی کسی لمحے میں اس کی اور تمہاری پکاریں ایک دوسرے کو جواب دیں گی اور ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو جائیں گی کہ انہیں علیحدہ کرنا ناممکن ہو گا۔۔۔<br>
لیکن بہت سی آوازیں حملہ آو ر ہوتی ہیں، چیختی چنگھاڑتی، وحشی آوازیں: اُس کی آواز خارج سے لشکر کشی کرتی موت کی دھاڑ سے گھبرا کر ٹھٹکتی اور غائب ہو جاتی ہے، یا پھر تمہارے اندر مکرر گونجتی ہے۔ تم اسے کھو چکے ہو، تم کھو چکے ہو، تمہارا صوتی خلاؤں میں اڑتا جزو اب کرفیو لگی گلیوں میں شب گردی کرتے گشتی دستوں کے درمیان دوڑ رہا ہے۔ آوازوں کی زندگی بس ایک خواب تھا، شاید کچھ ہی لمحے زندہ رہا جیسے خواب رہتے ہیں ، جب کہ خارج میں وہ ہولناک خوابیدہ داستان اب بھی جاری ہے۔</p>
<p>لیکن اس کے باوجود تم بادشاہ ہو: اگر تم دارالخلافہ میں رہنے والی کسی ایسی عورت کی تلاش میں ہو جو اپنی آواز سے پہچانی جاتی ہے تو یقیناً تم اس قابل ہو گے۔ اپنے جاسوسوں کو کھلا چھوڑ دو، حکم دو کہ وہ شہر کا چپہ چپہ چھان ماریں۔ لیکن اس آواز کو کون پہچانتا ہے؟ صرف تم۔ صرف تم ہی اس تلاش کے قابل ہو۔ اور یوں جب کوئی تمنا آخرکار خود کو تمہارے سامنے پیش کرتی ہے تو تمہیں معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ ہونا کسی کام کا نہیں۔</p>
<p>ذرا ٹھہرو، اتنی جلدی ہمت ہارنے کی کوئی وجہ نہیں، ایک بادشاہ کےپاس وسائل کی کیا کمی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ تم ایک ایسا نظام نہ بنا سکو جو من چاہی چیز حاصل کر لے؟ تم ایک مقابلۂ موسیقی کا اعلان کر سکتے ہو: بادشاہ کے حکم سے سلطنت کی تمام خوش نوا ڈومنیاں محل میں حاضر کی جائیں۔ بلکہ یہ تو ایک بہت ہی اہم سیاسی چال ہو گی کہ اِس افراتفری کے زمانے میں رعایا کے حوصلے بلند کئے جائیں اور شہریوں اور تاج ِ شہنشاہی کے درمیان رشتوں کو مضبوط کیا جائے۔تم باآسانی یہ منظر تصور میں لا سکتے ہو:یہی آراستہ و پیراستہ دالان، سجا سجایا چبوترا، سازندوں کا طائفہ، اہم ترین درباریوں پر مشتمل سامعین، اور تم تخت پراپنے سپاٹ چہرے کے ساتھ براجمان، ایک ایک اونچے سُر، ایک ایک گٹکری پر کسی غیرجانبدار جج کی طرح بغور کان لگائے، یہاں تک کہ اچانک تم اپنا عصا اٹھاتے ہوئے اعلان کرتے ہو:’’یہی وہ عورت ہے!‘‘</p>
<p>تم اسے پہچاننے میں کیسے غلطی کر سکتے ہو؟ جگمگاتے بلوری فانوسوں ، گملوں میں لگے چوڑے چکلے پام جیسے پودوں کے پتوں بیچ گانے والی کوئی بھی آواز اس سے کم ملتی جلتی نہیں ہو سکتی جو عام طور پر بادشاہ کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ تم اپنے اعزاز میں منعقد کی جانے والی شاندار سالانہ تقریبات کے دوران سنگت کی کئی محفلوں میں موجود رہے ہو۔ سماعت ِ شہنشاہی کا ادراک رکھنے والی ہر آواز خود پر ایک سرد ملمع، ایک کانچ کا سا تصنع طاری کئے رہتی ہے۔ اس کے برعکس یہ آواز کسی دھندلکے سے آتی محسوس ہوتی تھی، جیسے خود کو اندھیروں کی اوٹ سے نکالے بغیر ظاہر کرنے پر خوش ہو، انہی اندھیروں میں لپٹی ہر موجودگی کی جانب ایک پل سا بنا رہی ہو۔</p>
<p>لیکن کیا تمہیں یقین ہے کہ پایۂ تخت کے سامنے موجود آواز بھی وہی تھی؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ درباری مغنیاؤں کی نقالی کی کوشش کرے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ تم اسے ان بہت سی آوازوں سے خلط ملط کر بیٹھو جنہیں تم آئے دن ایک شاہانہ التفات سے کسی اڑتی مکھی کی پرواز کو تکتےہوئےسنتے ہو؟</p>
<p>اُسے خود کو ظاہر کرنے پر مجبور کرنے کا واحد طریقہ اپنی اصل آواز سے اُس کا ٹکراؤ ہے، وہی مبہم سا صوتی پیکر جسے تم نے شہر میں اٹھنے والے آوازوں کے طوفان سے طلب کیا ہے۔ یہی کافی ہو گا اگر تم گاؤ، اس آواز کو آزادکرو جسے تم نے ہمیشہ ہر ایک سے چھپائے رکھا، اور وہ تمہیں فوراً اس انسان کے طور پر پہچان لے گی جو تم حقیقتاً ہو، اپنی آواز، اپنی حقیقی آواز تمہاری آواز سے ملا دے گی۔</p>
<p>لیکن آہ! پھر پورے محل میں ایک حیرت زدہ واویلا سا مچ جائے گا: ’’جہاں پناہ گا رہے ہیں۔۔۔سنو تو ظلِ الہی کیسے گاتے ہیں۔۔۔‘‘ لیکن پھر جلد ہی وہ سکوت ایک بارپھر چھا جائے گا جو ،اُس کے قول و فعل سے قطع نظر، کسی بھی بادشاہ کے دربار میں سماعت کا خاصہ ہے۔ تمام چہرے اور انداز ایک لگا بندھا سا اطمینان ظاہر کریں گے جیسے کہہ رہے ہوں: ’’جہاں پناہ ہمیں ایک گیت سے نواز رہے ہیں۔۔۔‘‘ اور سب اس پر متفق ہوں گے کہ صوتی مظاہرہ کسی بھی مطلق العنان ہستی کا استحقاق ہے (اس شرط کے ساتھ کے اس کے بعد وہ طنز و دشنام سے بھری سرگوشیاں کر سکتے ہیں)۔</p>
<p>قصہ مختصر، تمہارے لئے گانا بہت ہی خوب ہے: تمہیں کوئی نہیں سنے گا، ہاں وہ تمہیں نہیں سنیں گے، تمہارا گیت، تمہاری آواز۔ وہ بادشاہ کو اسی طرح سنیں گے جیسے کسی بادشاہ کو سننے کا حق ہے، یعنی ہر اس چیز کو قبول کیا جائے جو اوپر سے نازل ہو اور جس کے اس سے زیادہ کوئی معنی نہ ہوں کہ وجود ِ بالا اور وجود ہائے زیریں کے بیچ غیرمتغیر رشتے کو برقرار رکھا جائے۔ یہاں تک کہ وہ بھی تمہیں نہیں سن سکتی جو تمہاری واحد مخاطب ہے: تمہاری آواز نہیں بلکہ وہ تو بادشاہ کو سُنے گی، اس کا جسم کورنش کی حالت میں منجمد اورہونٹوں پر درباری آداب کے مطابق متوقع نامنظوری کو چھپاتی ایک مسکراہٹ ہو گی۔</p>
<p>پنجرے سے نکلنے کی ہر کوشش کی تقدیر میں ناکامی ہے: خود کو ایک ایسی دنیا میں تلاش کرنے کا کیا فائدہ جو تمہاری ہے ہی نہیں، جو شایدسرے سے وجود ہی نہیں رکھتی۔ تمہارے لئے تو صرف محل ہے،گونج در گونج باز گشت پیدا کرتی محرابیں، سنتریوں کی گھڑیاں، بجری کو روندتے ٹینک، سیڑھیوں پر جلدی میں اٹھتا ہر قدم جو شاید تمہارے خاتمےکا اعلان کر رہا ہے۔ یہی وہ واحد علامتیں ہیں جن کے ذریعے دنیا تم سے ہم کلام ہوتی ہے، ایک لمحے کے لئے بھی ان سے اپنی توجہ نہ ہٹاؤ، اِدھر تمہاری توجہ ہٹی اُدھر تمہارے ارد گرد اپنے تفکرات کی حفاظت کے لئے تخلیق کی گئی فصیل دھڑام سے زمین بوس ہو کر ریزہ ریزہ ہو جائے گی۔</p>
<p>کیا یہ تمہارے لئے ناممکن ہے؟ کیا تمہارے کان ان نئی اجنبی آوازوں سے بہرے ہو رہے ہیں؟ کیا تم مزید اس قابل نہیں رہے کہ اندر اور باہر اٹھتے شوروغوغامیں فرق کر سکو؟ شاید اب مزید کوئی اندر یا باہر رہا ہی نہیں: جس دوران تم آوازوں پر کان لگائے بیٹھے تھے، غداروں نے پہرے میں کمزوری کا فائدہ اٹھایا تاکہ بغاوت کر دیں۔</p>
<p>اب تمہارے ارد گرد محل نہیں بلکہ چیخوں اور گولیوں کی آوازوں سے بھری رات ہے۔ تم کہاں ہو؟ کیا اب تک زندہ ہو؟ کیا تم حجرۂ شاہی میں داخل ہوئے قاتلوں کو چکمہ دینے میں کامیاب ہوئے؟ کیا خفیہ سیڑھیوں نے تمہیں بچ نکلنے کاموقع دیا؟</p>
<p>شہر اب شعلوں اور چیخ و پکار سے پھٹا جا رہا ہے۔ شب کی اندرونی تہہ ادھڑ کر باہر آ گئی ہے۔ سیاہی اور سناٹا باہم غوطہ زن ہیں اور ایک دوسرے کی تہہ میں سے آتش و غوغا نکال کر باہر پھینکتے ہیں۔ شہر کسی جلتے ہوئے کاغذ کی طرح شکن زدہ ہے۔ بھاگو! تاج کے بغیر، عصا کےبغیر، کسی کو خبر نہیں ہو گی کہ تم بادشاہ ہو۔ شبِ آتشیں سے اندھیری کوئی رات نہیں۔ اس آدمی سے تنہا کوئی نہیں جو ایک نوحہ کناں ہجوم کے بیچ سے گزر رہا ہو۔<br>
مضافاتی علاقے کی رات شہر کی حالتِ نزاع پر نظر رکھے ہے۔ طیورِ شبانہ کی دلدوز چیخوں کے ساتھ ایک خطرے کا گجر بجتا ہے، لیکن جوں جوں وہ دیواروں سے باہر نکلتا ہے ، توں توں تاریکی کی عمومی سرسراہٹ میں گم ہو جاتا ہے: پتوں سے گزرتی ہوا، ندیوں کا بہاؤ، مینڈکوں کی ٹراہٹ ۔ رات کے پُرشور سکوت میں ایک خلا سا پھیلتا ہے، تمام واقعات ایک آناً فاناً شعلے کے سے ہیں جو جلتے ہی بجھ جائے، کسی ٹوٹی شاخ کے چٹخنے کی آواز، کسی خرموش کی کٹیلی چیخ جب سانپ اس کی کھوہ میں آ گھسے، دو محبت میں لڑتی بلیاں، تمہارے مفرور قدموں تلے گھسٹتی کچھ کنکریاں۔<br>
تم ہانپتے ہو، کچھ اس طرح کہ سیاہ آسمان تلے صرف تمہاری سانس اور تمہارے لڑکھڑاتے قدموں تلے چرچراتے پتوں کی آواز ہی سنی جا سکتی ہے۔ مینڈک اب چپ کیوں ہیں؟ ارے نہیں، یہ لو، وہ دوبارہ شروع ہو گئے۔ کوئی کتا بھونکتا ہے۔۔۔ذرا ٹھہرو۔کتے ایک دوسرے کو دور سے جواب دیتے ہیں۔ کچھ دیر سے تم دبیز اندھیرے میں چل رہے ہو، تمہیں کچھ معلوم نہیں کہ تم کہاں ہو۔ اپنے کان کھڑے کرتے ہو۔ تمہاری ہی طرح کوئی اور بھی ہانپ رہا ہے۔ کہاں؟<br>
رات سانس کی دھونکنی ہے۔ ہلکی ہوا یوں چلتی ہے جیسے گھاس سے جنم لے رہی ہو۔ چار سو جھینگر وں کا شورتھمنے کا نام نہیں لیتا۔اگر تم ایک آواز کو دوسری سے علیحدہ کرو تو وہ یک دم نکلتی محسوس ہوتی ہے، بہت واضح ، لیکن وہ تو اس سے قبل بھی یہاں تھی، دوسری آوازوں میں چھپی ہوئی۔<br>
تم بھی وہاں پہلے موجود تھے۔ اور اب؟ جواب نہیں بن پڑتا۔ نہیں جانتے ان سانسوں میں سے کون تمہارا ہے۔ نہیں جانتے کہ کیسے سننا ہے۔ اب مزید کوئی کسی کو نہیں سن رہا۔ صرف رات خود اپنی ہی سامع ہے۔</p>
<p>تمہارے قدموں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ تمہار ے سر پر اب آسماں نہیں۔ دیوار چھوتے ہو تو کائی کالیپ اور بھربھرا پن ہے ، اب تمہارے ارد گرد چٹانیں ہیں، ننگے پتھر۔ اگر پکارو تو تمہاری ہی آواز ٹکرا کر واپس آتی ہے۔ کہاں؟ ‘‘اوہووووو۔۔۔اوہوووو۔۔۔’’ شاید تم کسی پہاڑ کی کھوہ میں پہنچ چکے ہو: ایک ناختم ہونے والی غار، ایک زیر زمین راستہ۔۔۔</p>
<p>کئی سال تم نے محل میں ایسی سرنگیں کھدوائیں جن کی شاخیں شہر تلے گزرتی ہوئی کھلے میدانوں تک پہنچ جاتی ہیں۔۔۔ خود کو امکانی طور پر یقین دلانا چاہتے تھے کہ نظر آئے بغیر کہیں بھی پہنچ سکو، خیال تھا کہ صرف زمین کی آنتوں ہی میں رہتے ہوئے اپنی راجدھانی پر غلبہ قائم رکھ سکو گے۔ پھر تم نے کھدائی کو کھنڈر ات تلے دبا رہنے دیا۔ اور اب تم یہاں اپنی کچھار میں پناہ گزیں ہو۔ یاا پنے ہی جال میں پھنس چکے ہو۔ خود سے پوچھو کہ کیا کبھی یہاں سے باہر نکلنے کا رستہ ڈھونڈ سکو گے۔ باہر نکلو گے: کہاں؟</p>
<p>کھٹکھٹانے کی آواز۔ پتھر میں سے۔ مدھم۔ زیر وبم۔ کسی اشارے کی طرح! تھپ تھپ کی آواز کہاں سے آ رہی ہے؟ تم تو یہ تال پہچانتے ہو۔ یہ تو قیدی کی پکار ہے! جواب دو۔ خود بھی دیوار کو تھپتھپاؤ۔ چیخو۔ اگر تمہیں یاد ہو تو یہ سرنگ سیاسی قیدیوں کی کوٹھڑیوں سے منسلک ہے۔۔۔</p>
<p>وہ نہیں جانتا تم کون ہو: رہاکرانے والے یا داروغہ؟ یا شایدوہ جو زیر زمین گم چکا ہے ، خود اسی کی طرح، ،شہر کی خبروں اور اس لڑائی سے کٹا ہوا جس پر اس کی تقدیر کا انحصار ہے؟</p>
<p>اگر وہ اپنی کوٹھڑی کے باہر پھر رہا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ اس کی بیڑیاں کھولنے، سلاخیں ہٹانے آئے ہیں۔ وہ اس سے کہتے ہیں: ‘‘غاصب ہٹ چکا ہے! تم تخت پر واپس لوٹو گے! محل کو واپس حاصل کر لو گے!’’ایک اور گجر، شاہی سپاہیوں کی جانب سے جوابی حملہ اور رہا کرانے والے اسے تنہا چھوڑ کر سرنگوں میں کہیں نکل جاتے ہیں۔ ظاہر ہے اب وہ گم چکا ہے۔ان پتھر کی محرابوں تلے کوئی روشنی ، اوپر ہونے والے شور کی کوئی گونج نہیں پہنچتی۔</p>
<p>اب تم ایک دوسرے سے بات چیت کےقابل ہو تاکہ ایک دوسرے کی آوازیں پہچان سکو۔ کیا تم اسے بتاؤ گے کہ تم کون ہو؟ کیا یہ کہ تم اسے اس آدمی کے طور پر پہچان چکے ہو جسے تم نے اتنے سال جیل میں رکھا؟ وہ آدمی جسے تم نے لعنت ملامت کرتے، انتقام کی قسمیں کھاتے سنا؟ اب تم دونوں ہی زیرِ زمین کھو چکے ہو اور نہیں جانتے کہ کون بادشاہ ہے او رکون قیدی۔ تمہیں کچھ کچھ گمان ہے کہ اصل چاہے جو بھی ہو، کچھ نہیں بدلے گا: تم اس کوٹھڑی میں ہمیشہ کے لئے مقفل معلوم ہوتے ہو، پیغامات بھیج رہے ہو۔۔۔تمہارا گمان ہے کہ تمہاری تقدیر اسی طرح ہمیشہ امید و بیم کی کیفیت میں معلق رہی ہے۔ تم میں سے ایک یہیں نیچے رہےگا۔۔۔دوسرا۔۔۔</p>
<p>لیکن شاید اس نے، یہاں نیچے ، ہمیشہ یہی محسوس کیا کہ وہاں اوپر تخت پر ہے، سر پر تاج ، ہاتھ میں عصا ہے۔ اور تم؟ کیا تم نے ہمیشہ خود کو قیدی محسوس نہیں کیا؟ تمہارے درمیان مکالمہ کیسے ممکن ہے جب تم دونوں میں سے ہر ایک یہی سوچ رہا ہو کہ جو وہ سن رہا ہے وہ دوسرے کے الفاظ نہیں بلکہ اس کی اپنی آواز کی گونج ہیں؟</p>
<p>تم میں سے ایک کے لئے چھٹکارے کی ساعت قریب آ رہی ہے، دوسرے کے لئے تباہی کی۔ اور پھر بھی وہ پریشانی جس نے کبھی تمہارا پیچھا نہیں چھوڑا اب غائب محسوس ہوتی ہے۔ تم اب گونجوں اور سرسراہٹ کی آواز سنتے ہوئے انہیں علیحدہ کرنے اور ان کے معانی سمجھنے کی مزید کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے جیسے وہ کوئی موسیقی ترتیب دے رہی ہوں۔ ایک ایسی موسیقی جو اس نامعلوم نسوانی آواز کی یاد یں واپس لے آتی ہے۔ لیکن کیا تم اسے یاد کر رہے ہو یا واقعی سن رہے ہو؟ ہاں یہ وہی ہے، یہ اسی کی آواز ہے جو چٹانی محرابوں تلے ابھرنےوالی کسی پکار کی طرح ایک سُر میں ڈھل جاتی ہے۔ شاید وہ بھی کائنات کے ابدی کنارے کی طرح اسی رات میں کھو چکی ہو۔اسے جواب دو، اپنی آواز سناؤ، اسے پکارو تاکہ وہ سیاہی میں راستہ تلاش کرتی ہوئی تم تک پہنچ جائے۔ خاموش کیوں ہو؟ کیا تمہیں سارے زمانے میں اسی لمحے گنگ ہونا تھا؟</p>
<p>لو وہاں اندھیرے سے ایک اور پکار اٹھتی ہے، عین اسی جگہ جہاں سے قیدی کے الفاظ سنائی دئیے تھے۔ یہ ایک آسانی سے پہچان لی جانے والی پکار ہے جو عورت کو جواب دیتی ہے، یہ تمہاری آواز ہے، وہی آواز جو تم نے اسے جواب دینے کے لئے تخلیق کی، شہر کی آوازوں کی خاک میں سے اسے چنا، وہی آواز جو تم نے حجرۂ شاہی کے سکوت سے اس کی جانب روانہ کی! قیدی تمہاراگیت گا رہا ہے جیسے اس نے کبھی یہ گیت گانے کے علاوہ کوئی کام ہی نہ کیا ہو، جیسے یہ گیت کبھی کسی اور نے نہ گایا ہو۔۔۔</p>
<p>وہ اپنی باری پر جواب دیتی ہے۔ دونوں آوازیں اک دوجے کی جانب بڑھتی ہیں،اک دوجے پر منڈھ دی جاتی ہیں، مدغم ہو جاتی ہیں، جیسے تم نے انہیں شہر کی رات میں ایک ساتھ سنا، اسی یقین کے ساتھ کہ اس کے ساتھ یہ گیت گانے والے تم ہو۔ اب وہ یقیناً اس تک پہنچ چکی ہے، تم ان دونوں کی آوازیں سنتے ہو، تمہاری آوازیں، ایک ساتھ۔ ان کا تعاقب تمہارے لئے بیکار ہے: وہ ایک بڑبڑاہٹ، ایک سرگوشی بن رہے ہیں، باالآخر غائب ہو جاتے ہیں۔<br>
نظریں اٹھاؤ تو تمہیں ایک چمک نظر آئے گی۔افق پر نمودار ہوتی صبح آسمان کو روشن کر رہی ہے: تمہارے رخساروں کو چھوتی یہ سانس دراصل پتوں کو جنبش دینے والی ہوا ہے۔</p>
<p>اب تم پھر باہر ہو، کتے بھونک رہے ہیں، پرندے جاگتے ہیں، دنیا کے چہرے پر رنگ واپس لوٹ رہا ہے، چیزیں دوبارہ جگہ پر واپس آ رہی ہیں، جاندار ایک بار پھر زندگی کی علامت پیش کرتے ہیں۔ اور یقیناً تم بھی یہیں ہو، اس سب کے بیچ، تمام اطراف میں امڈتی ہوئی آوازوں کے بیچ، برقی رو کی بھن بھن میں، پسٹنوں کے ارتعاش میں، چرخیوں کے چھناکوں میں۔ زمین کی تہوں میں کہیں نہ کہیں شہر ایک بار پھر جاگ رہا ہے، دھماکے، ہتھوڑے ، رگڑ کی آواز جو بڑھتی ہی جاتی ہے۔ اب ایک شورو غوغا ، ایک گرج کڑک تمام جگہ پر پھیل رہی ہے، تمام آہیں، پکاریں اور ہچکیاں اپنےاندر جذب کر لیتی ہے۔۔۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a8%d8%a7%d8%af%d8%b4%d8%a7%db%81-%d8%b3%d9%86%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92/">بادشاہ سنتا ہے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a8%d8%a7%d8%af%d8%b4%d8%a7%db%81-%d8%b3%d9%86%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایلکس ایپسٹائن کی کہانیاں</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a7%db%8c%d9%84%da%a9%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%be%d8%b3%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d9%86-%da%a9%db%8c-%da%a9%db%81%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a7%db%8c%d9%84%da%a9%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%be%d8%b3%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d9%86-%da%a9%db%8c-%da%a9%db%81%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[جنید الدین]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 26 Sep 2017 05:15:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[اردو تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیلی ادب]]></category>
		<category><![CDATA[افسانچے]]></category>
		<category><![CDATA[ایلکس ایپسٹائن]]></category>
		<category><![CDATA[جنید الدین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22181</guid>

					<description><![CDATA[<p>ایلکس ایپسٹائن: ایک لائٹ ہاؤس نے خود کو ایک کشتی میں تبدیل کیا اور سارے سمندر دیکھ ڈالے اور جب وہ واپس آ رہا تھا تو ایک چٹان سے ٹکرایا اور پاش پاش ہو گیا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%db%8c%d9%84%da%a9%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%be%d8%b3%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d9%86-%da%a9%db%8c-%da%a9%db%81%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba/">ایلکس ایپسٹائن کی کہانیاں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<ol>
<li>لکھنے کی آخری گائیڈ<br>
ایک لمبا سانس لیں اور تب تک لکھیں جب تک سفید کاغذ نیلا نہیں ہو جاتا۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</li>
<li>ایک تقریباً معمولی سی پریم کہانی<br>
پھولوں کی بجائے اس نے اس کو پھر سے ایک ٹوٹی ہوئی چھتری تحفہ دی۔ اس نے اسے ایک خالی برتن میں رکھا اور پانی ڈال دیا۔ اگلے دن چھتری کھل گئی۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</li>
<li>امید<br>
مذہب کے خانے میں روبوٹ نے لکھا تھا : انسان<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</li>
<li>بارش کے مزید نام<br>
گرو کے شاگردوں نے پوچھا: زین کیا ہے؟<br>
اس نے جواب دیا: اگلے لمحے بارش ہو گی۔ یہ سنتے ہی وہ اسے بھیگنے سے بچانے کی خاطر چھتریاں لے آئے۔<br>
اگلے لمحے اس نے کہا: اس لمحہ بارش نہیں ہو گی۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</li>
<li>پاتال<br>
گلی میں چلتے ہوئے آپ اپنے پیروں میں ایک کنکر محسوس کرتے ہیں۔آپ سستی محسوس کرتے ہیں اور خود کو یہ کہہ کر بہلاتے ہیں کہ گھر پہنچ کر اسے نکال دیں گے۔ اسی دوران آپ اسے بھول جاتے ہیں اور کنکر آپ کی زندگی کا ایک حصہ بن جاتا ہے۔ دوسرے دن آپکے جوتے میں دوسرا لنکر آ جاتا ہے۔ آپ کہتے ہیں گھر پہنچ کر آپ دونوں کنکر نکال دیں گے۔ گھر پہنچنے تک آپ سب کچھ بھول چکے ہیں۔ اگلے دن، اس سے اگلے دن۔۔۔۔اس سے اگلے دن بھی۔ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ ایک ماہ بعد آپ چل پھر بھی نہیں سکتے، نہ اپنے جوتے ہی اتار سکتے ہیں۔ ابھی تو دنیا میں بہت سے کنکر باقی ہیں۔ آپ فیصلہ کرتے ہیں کہ گھر پہنچ کر آپ اپنے پاؤں ہی کاٹ دیں گے۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</li>
<li>کروموسومز<br>
پرانے وقتوں کی بات ہے، کہتے ہیں : ایک لائٹ ہاؤس نے خود کو ایک کشتی میں تبدیل کیا اور سارے سمندر دیکھ ڈالے اور جب وہ واپس آ رہا تھا تو ایک چٹان سے ٹکرایا اور پاش پاش ہو گیا۔ دراصل، میرے لئے یہ قیاس کرنا بہت مشکل ہے کہ ایک شاعر، جس کا نام x ہے وہ سو کر اٹھے اور دیکھے کہ کل رات وہ Y نامی شاعر میں تبدیل ہو چکا ہے۔</li>
</ol>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%db%8c%d9%84%da%a9%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%be%d8%b3%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d9%86-%da%a9%db%8c-%da%a9%db%81%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba/">ایلکس ایپسٹائن کی کہانیاں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a7%db%8c%d9%84%da%a9%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%be%d8%b3%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d9%86-%da%a9%db%8c-%da%a9%db%81%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>روشنی زیادہ اہم ہے لالٹین سے</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b1%d9%88%d8%b4%d9%86%db%8c-%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%db%81-%d8%a7%db%81%d9%85-%db%81%db%92-%d9%84%d8%a7%d9%84%d9%b9%db%8c%d9%86-%d8%b3%db%92/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b1%d9%88%d8%b4%d9%86%db%8c-%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%db%81-%d8%a7%db%81%d9%85-%db%81%db%92-%d9%84%d8%a7%d9%84%d9%b9%db%8c%d9%86-%d8%b3%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[افتخار بخاری]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 07 Sep 2017 15:51:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[آزاد نظم]]></category>
		<category><![CDATA[اردو تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[اردو شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[جدید اردو شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی ادب]]></category>
		<category><![CDATA[نزار قبانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22090</guid>

					<description><![CDATA[<p>نزار قبانی: روشنی زیادہ اہم ہے<br />
لالٹین سے<br />
نظم زیادہ اہم ہے<br />
بیاض سے<br />
اور بوسہ زیادہ اہم ہے<br />
ہونٹوں سے</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b1%d9%88%d8%b4%d9%86%db%8c-%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%db%81-%d8%a7%db%81%d9%85-%db%81%db%92-%d9%84%d8%a7%d9%84%d9%b9%db%8c%d9%86-%d8%b3%db%92/">روشنی زیادہ اہم ہے لالٹین سے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>شاعر: نزار قبانی<br>
ترجمہ: افتخار بخاری<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
روشنی زیادہ اہم ہے<br>
لالٹین سے</p>
<p>نظم زیادہ اہم ہے<br>
بیاض سے</p>
<p>اور بوسہ زیادہ اہم ہے<br>
ہونٹوں سے</p>
<p>تمہارے نام میرے خطوط<br>
زیادہ اہم ہیں<br>
ہم دونوں سے</p>
<p>کہ فقط یہ وہ دستاویزات ہیں<br>
جہاں لوگ دریافت کریں گے<br>
تمہارا حسن<br>
اور میرا پاگل پن</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b1%d9%88%d8%b4%d9%86%db%8c-%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%db%81-%d8%a7%db%81%d9%85-%db%81%db%92-%d9%84%d8%a7%d9%84%d9%b9%db%8c%d9%86-%d8%b3%db%92/">روشنی زیادہ اہم ہے لالٹین سے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b1%d9%88%d8%b4%d9%86%db%8c-%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%db%81-%d8%a7%db%81%d9%85-%db%81%db%92-%d9%84%d8%a7%d9%84%d9%b9%db%8c%d9%86-%d8%b3%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>غیر حاضر مالک مکان</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d8%ad%d8%a7%d8%b6%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%d9%85%da%a9%d8%a7%d9%86/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d8%ad%d8%a7%d8%b6%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%d9%85%da%a9%d8%a7%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[حسین عابد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 01 Jul 2017 06:40:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[Hussain Abid]]></category>
		<category><![CDATA[Nguyen Thai Tuan]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Translations]]></category>
		<category><![CDATA[اردو تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[چارلس سیمیِچ]]></category>
		<category><![CDATA[حسین عابد]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی ادب]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=21450</guid>

					<description><![CDATA[<p>چارلس سیمیِچ: یقینآ آسان کر سکتا ہے وہ<br />
مسئلہ جب یہ ہو<br />
کہ ہمیں اس کا اتا پتا معلوم ہو<br />
لگام دے سکتا ہے ہمارے تخریبی شکوک کو<br />
ٹھنڈا کرسکتا ہے ہمارے بلند بانگ غصے کو</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d8%ad%d8%a7%d8%b6%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%d9%85%da%a9%d8%a7%d9%86/">غیر حاضر مالک مکان</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><strong>شاعر ۔ چارلس سیمیِچ<br>
ترجمہ ۔ حسین عابد</strong></p>
<p>یقینآ آسان کر سکتا ہے وہ<br>
مسئلہ جب یہ ہو<br>
کہ ہمیں اس کا اتا پتا معلوم ہو<br>
لگام دے سکتا ہے ہمارے تخریبی شکوک کو<br>
ٹھنڈا کرسکتا ہے ہمارے بلند بانگ غصے کو</p>
<p>وہ چاہے تو ہمیں اکیلا نہ چھوڑے<br>
اس عجیب وغریب احساس میں<br>
جو آ لیتا ہے ہمیں کبھی کبھی<br>
کہ کوئی بڑا مقصد پوشیدہ ہے<br>
یہاں ہمارے قیام میں<br>
جہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں<br>
اور ہر شئے کی مرمت ہونے والی ہے</p>
<p>کم از کم وہ ایک تختی تو لگا سکتا تھا<br>
’’ کاروباری دورے پر روانہ‘‘<br>
جسے ہم دیکھ سکیں<br>
قبرستان پر، جس کا کرایہ وہ وصول کرتا ہے<br>
یا رات کے آسمان پر<br>
جس کے نام ہم اس کی شکایتیں بھیجتے ہیں</p>
<p>Image: Nguyen Thai Tuan</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d8%ad%d8%a7%d8%b6%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%d9%85%da%a9%d8%a7%d9%86/">غیر حاضر مالک مکان</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d8%ad%d8%a7%d8%b6%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%d9%85%da%a9%d8%a7%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
