خالد طور کی ناول نگاری (تصنیف حیدر)

کچھ روز پہلے سید کاشف رضا کی فیس بک وال سےیہ خبر ملی کہ خالد طور انتقال کرگئے ہیں۔ کاشف رضا نے خود یہ بات لکھی تھی کہ جیسا ان کا حق تھا، ویسی ان کو شہرت نہیں مل سکی۔اجمل کمال نے بھی جب کانی نکاح اور ان کی ایک کہانی سائیں موسم کو آج کے ایک شمارے میں شائع کیا تھا، تب بھی یہی بات کہی تھی کہ ان کے استحقاق کے مطابق ان کو پذیرائی نہیں ملی ہے۔ان دونوں ادیبوں کی بات بالکل درست ہے۔میں نے خالد طور کو اجمل کمال کے ہی توسط سے پڑھا۔ظاہر ہے اگر آج میں وہ انہیں شائع نہ کرتے اور ایک طرح سے ان کی بازیافت نہ کرتے تو کانی نکاح ہو یا بالوں کا گچھا دونوں ہی ہماری نظروں سے اوجھل رہتے۔ قریب آٹھ نو سال پہلے آج کے ایک شمارے میں ان کا ناول بالوں کا گچھا دیکھ کر مجھے محسوس ہوا تھا کہ اجمل کمال اگر کسی کے محض ایک ناول کو پورے شمارے میں جگہ دے رہے ہیں تو واقعی وہ فنکار قابل مطالعہ ہے۔فکشن کے تعلق سے اجمل کمال کام کرتے کرتے اب خود ایک معیار بن چکے ہیں۔ اس لیے ان کے شمارے میں شائع ہونے والے ادیبوں کو بڑی سنجیدگی سے پڑھا جاتا ہے۔ میں نے اس وقت تک کانی نکاح نہیں پڑھا تھا۔ اسے بعد میں پڑھا اور سچ پوچھیے تو کانی نکاح نے ہی مجھے ترغیب دی کہ میں ان کا دوسرا ناول بالوں کا گچھا بھی پڑھوں،مگر ناول چونکہ ضخیم تھا، اس لیے دلچسپ ہونے کے باوجود میں اسے کسی وجہ سے مکمل نہیں پڑھ پایا تھا۔ اب جب ان کے انتقال کی خبر آئی تو میرے دل میں اس ادھوری خواہش نے پھر زور پکڑا اور میں نے بالوں کا گچھا کو پڑھنا شروع کردیا۔ ناول کو ختم کرنے پر مجھے محسوس ہوا کہ خالد طور کے ان دونوں ناولوں میں اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ زیادہ بہتر کون سا ہے تو میں جھٹ سے کانی نکاح کا نام لوں گا۔ بلکہ یہ تک کہوں گا کہ کانی نکاح کو اردو کے صف اول کے ناولوں میں شمار کیا جانا چاہیے۔ اس ناول میں تکنیک، واقعہ نگاری، تجسس اور تحیر کے اتنے زبردست پہلو موجود ہیں کہ پڑھ کر واقعی خالد طور کو نظر انداز کیے جانے کی سیاست پر حیرت ہوتی ہے۔ میں جہاں تک سمجھا ہوں ، ان کو نظر انداز کرنے کی دو ایک وجہیں تو بڑی صاف مجھے نظر آئی ہیں۔ جس کا ایک چھوٹا سا حوالہ ان کے یہاں ہندوتہذیب و تمدن سے گہری دلچسپی اور غیر اسلامی مظاہر اور تاریخ سے ان کا تعلق ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ ایسے سبھی لوگوں کو اردو میں کہیں نہ کہیں سائڈ لائن کیا گیا ہے، جنہوں نے ہندی، ہندی تمدن، ہندوی تہذیب، ہندو منادر و تعمیرات یا پھر ایسے ہی دوسرے پہلوؤں سے کھل کر اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہو ۔اس کی مثالیں بھی میں آپ کو دے سکتا ہوں، حالانکہ اسے قبول کرنے کے لیے ایک ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر غور کرنا ضروری ہوگا اور میں اپنے لوگوں سے اس کی توقع کم ہی کرتا ہوں۔ ابھی ہم عظمت اللہ خاں کو درکنار بھی کردیں تب بھی ابن انشا اور میراجی جیسے شاعروں کو ان کے ہندوی اسلوب کی بنیاد پر یہی سب کچھ جھیلنا پڑا۔منچندا بانی جیسے شاعروں کو ان کا ویسا حق نہیں ملا، جیسا ملنا چاہیے تھا اور جو میری نظر میں ناصرکاظمی جیسے شاعروں سے کئی گنا بہتر اور اپنے اسلوب و زبان کے لحاظ سے بالکل یگانہ و یکتا شاعر تھے۔بہت سے دوسرے غیر مسلم شاعر یا پھر ہندوی تہذیب سے اپنی دلچسپی کا اظہار کرنے والے شاعروں کو وہ شہرت اسی لیے نہیں مل پائی۔جبکہ فراق گورکھپوری کو اسی معاشرے کی بھونڈی خوشامد کے بدلے میں بھی خوب خوب سراہا گیا۔ بات کہیں اور نکل جائے گی، میرا مقصد تو محض اس سیاست کی طرف ایک ہلکا سا اشارہ کرنا تھا، جس نے خالد طور کر نظر انداز کرنے کی شعوری کوشش میں اہم رول ادا کیا تھا۔

میں نے پنجاب کو خالد طور کی نگاہوں سے دیکھا اور وہ مجھے بے حد خوبصورت اور طرح طرح کے رنگ روپ سے سجا ہوا نظر آیا۔ میں نے ان کی مدد سے (پاکستان میں موجود) پنجاب کے مختلف گاؤوں اور ان کی تہذیبوں کے بارے میں جو جانا وہ بے حد دلچسپ تھا۔ خالد طور جس چیز سے بددل ہوگئے ، مجھے لگتا ہے کہیں نہ کہیں ان کے فکشن پر بھی اس کا اثر پڑا ہے۔ اس پر میں مزید بات کروں گا۔ مگر ابھی ان کے دو ناولوں کی ان خاصیتوں کا ذکر کردوں جو میرے لیے باعث حیرت و مسرت تھے۔ خالد طورکا فکشن مکالموں پر کم یقین رکھتا ہے، مجھے اس معاملے میں ان سے ذہنی قربت کا بھی احساس ہوا، یعنی یہ کہ میں ناولوں میں غیر ضروری یا کبھی کبھی ضروری مکالموں سے بھی اکتا جاتا ہوں ۔اگر ضرورت پڑ جائے تو وہ بہت کم مکالموں سے ایسا کام لیتے ہیں کہ بات بھی قاری تک پہنچ جائے اور واقعہ نگاری کو مکالمے کے زنگ سے کوئی نقصان بھی نہ پہنچے۔ اس کی پہلی مثال تو کانی نکاح میں موجود ہیروئن کی ہے، جس کے اوپر بڑی قیامت گزر جانے کے باوجود اسے مصنف نے ایک بھی مکالمہ نہیں دیا۔ پورا ناول ایک قسم کی پراسرار فضا میں آگے بڑھتا ہے اور یہی پراسرار فضا مجھے خالد طور کی دوسری اہمیت خاصیت لگتی ہے۔ ان کے یہاں قاری متجسس رہتا ہے، کہانی پڑھتے ہوئے اس کے دماغ میں کرداروں، معاشرت اور گاؤں کی رسموں ، رواجوں کو حیرت سے پڑھتے اور جانتے ہوئے مختلف قسم کے خوف گھیر لیتے ہیں۔ کانی نکاح کے مرکزی کردار کے ساتھ جو کچھ آخر میں ہوا ہے، مجھے اس کا اندیشہ ہر دوسرے پنے پر تھا، خاص طور پر تب سے، جب سے کانی کا بنایا ہوا گڈا ٹوٹ جاتا ہے۔ میں ناولوں کے بارے میں لکھتے وقت حتی الامکان کوشش کرتا ہوں کہ کہانی کے بارے میں پڑھنے والے کو نہ بتاؤں، اس کا مزہ نہ کرکرا کروں، اس لیے بس اتنا ہی کہوں گا کہ کانی نکاح میں جس سحربالمثل کو خالد طور نے نمایاں کیا ہے اور جس طرح دیباچے میں اس کے حو الے سے علمی گفتگو کی ہے، وہ ایک فکشن نگار کی اپنے موضوع سے ایمانداری کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔کانی نکاح کی اخلاقی توجیہ تو کیا ہوگی یہ مجھے پتہ نہیں مگر اس کی سماجی توجیہ تو انسانی سرشت میں موجود تعلق کے ایک علامتی نظام سے وابستہ ہے، آج ہمارے پاس تصویریں ہیں، ویڈیوز ہیں، ہماری یادوں اور توقعات دونوں کے سرے چلتے پھرتے یا قید کیے ہوئے انسانی چہروں اور جسموں سے بندھے ہوئے ہیں، مگر گزرے ہوئے کل میں جن سماجوں نے اپنی جنسی اور اخلاقی توقعات کو مختلف گڈے گڑیاؤں سے جوڑ دیا تھا، اس کے اثرات اتنے گہرے تھے کہ سماج مشترکہ طور پر جس قسم کی نفسیات کو جنم دیتا تھا ، اس کی راہیں جرم یا قربانی کی منزلوں تک بھی جا پہنچتی تھیں۔ اسی لیے شیشو خان نے جو کچھ کیا ، وہ دراصل خدا اور دعا کے ساتھ ساتھ ہیرو کے صحیح سلامت لوٹ آنے کی حقیقت سے بھی نہ دور ہونے والی نفسیاتی الجھن کے باعث کیا ہے، جس میں صرف وہ ہی نہیں بلکہ معاشرے کی تمام چھوٹی بڑی ہستیاں گرفتار تھیں، خود مولوی صاحب بھی۔

اب بات کرتے ہیں بالوں کا گچھا کی۔بالوں کا گچھا، محض ان لوگوں کو پڑھنا چاہیے، جوفکشن سے الجھی ہوئی فلسفہ نگاری سے گھبراتے نہیں ہیں۔ ویسے میرا دعویٰ ہے کہ ساڑھے چار سو صفحات کے اس ناول کے چار سو صفحات آپ کو مضطرب کریں گے، چونکائیں گے، پریشان بھی کریں گے اور لطف بھی خوب آئے گا۔ بس آپ کے لیے انت تک پہنچ کر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگا کہ یہ ناول پنجاب میں پیروں ، ملنگوں کے بٹھائے ہوئے خوف کے تعلق سے لکھا گیا تھا یا پھر اسے زبردستی بعد میں ایک رومانی ناول بنانے کی ہوس نے خالد طور کو جھٹکا دیا اور وہ آخر کے پچاس صفحات میں اسے بالکل خراب کربیٹھے۔ایسا ہوسکتا ہے، خالد طور نے (بقول اجمل کمال) یہ ناول لکھتے لکھتے بددل ہوکر چھوڑ دیا تھا اور انہوں نے اسے ایک لمبے عرصے بعد مکمل کیا۔ مجھے ایسا لگتا ہے بلکہ میرا یقین ہے کہ خالد طور جب پہلی رو میں اس ناول کو لکھ رہے ہوں گے تو ان کے دماغ میں وہ انت نہیں ہوگا، جو انہوں نے اس خوبصورت ناول کو دے کر اس کا بیڑہ بعد میں غرق کردیا ہے۔ میں اس کی خوبیوں پر بھی بات کروں گا، مگر پہلے خامیوں کی نشاندہی کردوں۔ اول تو ناول میں سچ اور جھوٹ، خیر اور شر کا فرق اس طرح بیان کیا گیا ہے جیسے یہ دنیا ان دو خانوںمیں سیدھی سیدھی بٹی ہے۔ کئی جگہ تو ان کے کرداروں کے بھونڈے ردعمل نے مجھے اکتادیا، جیسے رقیہ کا پیر کو گالیاں دینا۔ناول میں بچے کی رکھ (بالوں کا گچھا) کٹ جانے کے بعد رقیہ کا کمرے سے باہر آکر چھت پر سونا(خواہ وہ مائی جیراں اور گلنازی کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو) اتنا غیر یقینی تھا کہ میں مایوس ہوگیا۔ کہانی میں جہاں جہاں واقعہ الجھا مصنف موصوف نے فلسفے کا ٹانکا لگا کر، اسے خیر و شر کے دھاگے سے سی کر کوئی اور ہی رخ دے دیا۔ پھر سب سے زیادہ بیزار کرنے والی بات خوبصورتی اور بدصورتی کی وہ علامتیں تھیں، جن میں سانولے اور کالے رنگ کو بدصورتی کی اور گورے اور گلابی رنگ کو خوبصورتی کی کھلی علامت بنا کر پیش کردیا گیا۔ اس بات سے بھی خالد طور کے ذہن میں موجود اچھائی برائی کے تصور کی دقیانوسی جھلک ہی نظروں کے سامنے آئی۔

بہرحال پھر بھی میں بہت سے دوستوں کو خالد طور کے اس ناول کو پڑھنے کا مشورہ اس لیے دوں گا کیونکہ ناول کا بیانیہ بہت خوبصورت ہے۔ واقعہ نگاری میں تو آپ خالد طور کو پورے نمبر دینے کے لیے مجبور ہوجائیں گے۔ بس مجھے لگتا ہے کہ بددل ہوکر تخلیقیت سے دور ہوجانے کی ان کی کھسیاہٹ نے ان کے اس ہنر کو زنگ ضرور لگایا ہوگا ورنہ بالوں کا گچھا بھی کانی نکاح کی طرح ایک کامیاب ناول ہوتا۔ اس ناول میں انسانی ذہن پر مذہبی خوف کے حوالے سے خالد طور نے جو بحث کی ہے، وہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ناول نگار کسی کردار کے ذریعے اپنی سوچ کو نمایاں کرے اور وہ سوچ ناول میں موجود حالات و واقعات سے ایسی گہری مطابقت رکھتی ہو کہ پڑھنے والا اس سوچ کو بھی کسی واقعے کی طرح حیرت و تجسس میں ڈوب کراپنے اندر جذب کرتا رہے۔ ’بالوں کا گچھا‘ کو پڑھنے کے بعد مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ خالد طور نے کشمیر پر بڑی اچھی بحث اس ناول کے ذریعے چھیڑی ہے، اگر یہ ناول ہمارے ادبی مذاکروں کا حصہ بن پاتا تو ہم دیکھتے کہ اس بنیاد پر بھی خاص طور پر پاکستان میں اس کی گہری مخالفت ہوسکتی تھی، مگر جن تاریخی حقائق اور جس بے باکی سے انہوں نے اپنا موقف بیان کیا ہے، وہ ہر پڑھنے والے کو متاثر کرتا ہے۔ تقسیم سے پہلے ہندومسلمانوں کے رشتوں کی جو چمک خالد طور کے یہاں دکھائی دیتی ہے، ویسی ابھی تک تو کسی دوسرے پاکستانی ناول نگار کے یہاں میں نے نہیں پڑھی یا شاید یہ موقف اردو والوں نے ہی بہت کم اپنایا ہے۔ کس طرح انگریز اور مسلم لیڈرشپ نے مہاراجہ ہری سنگھ کے کشمیر سے چلے جانے کی خبر باغیوں سے چھپائی اور اس وجہ سے یہ مسئلہ اتنا گمبھیر ہوگیا، اتنے لوگوں کی جان گئی۔اس پر اتنا صاف اور ایسا اجلا حرف کسی اور اردو فکشن نگار کے یہاں شاید دیکھنے کو نہ ملے گا۔

خالد طور کو اور بہت کچھ لکھنا چاہیے تھا۔شاید ہمارے نام نہاد نقاد بندھے ٹکے اصولوں کو سامنے رکھ کر اپنی پسند کے کھوکھلے فکشن نگاروں کو مسند پر اس طرح نہ بٹھاتے ، جیسا وہ کرتے ہیں تو ضرور خالد طور کو وہ مقام ملتا، جو انہیں ملنا چاہیے تھا۔اجمل کمال نے ان کی کہانیاں اور ناول پڑھوائیں، کیونکہ وہ فکشن کے قاری ہیں اور نقاد سے زیادہ قاری کی دلچسپی گمشدہ اور نظر انداز کردیے جانے والے فن پاروں سے گہری ہوتی ہے۔ خالد طور اگر مزید لکھتے ، ان کے اور بھی ناول سامنے آتے تو ہم دیکھتے کہ کھوڑگائوں، چکوال، بلکسر، تلہ گنگ وغیرہ کی مزید کہانیاں ہمارے سامنے آتیں، وہاں کی معاشرت اور اس سے خالد کی دلچسپی کے سبب ہم کئی ڈھکے چھپے معاملات کو نمایاں ہوتے دیکھتے، وہ اہم کام جو فکشن کی ذمہ داری بھی ہے اور اس کا حسن بھی۔

مجھے یہ تو نہیں پتہ کہ میں ان کے فکشن پر بات کرنے کا پورا پورا حق ادا کرپایا ہوں یا نہیں ، مگر پھر بھی مجھے لگتا ہے کہ ان کے فن فکشن نگاری پر بات کرنا ہماری اہم ذمہ داری ہے، جنہیں ان کے اپنے وقت میں کسی بھی وجہ سے مگر حاشیے کے پرے دھکیل دیا گیا تھا۔کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے مگر ان کا لکھا ہوا فکشن اردو دنیا کے لیے کسی اہم سرمایے سے کم نہیں۔




شانتا راما — باب 24: پڑوسی (ترجمہ: فروا شفقت)

"جی۔ یہ لیجیے ساڑھی، جِسے آپ نے خریدنے کے لیے کہا تھا۔" مدراس سے لائی گئی وہ ساڑھی میرے ہاتھ میں دیتے ہوے وِمل نے کہا۔ ایک بار من کر رہا تھا کہ ساڑھی کو جوں کی توں وِمل کو واپس کر دوں اور کہوں کہ تم ہی رکھ لو۔ لیکن جےشری کے نام پر خریدی گئی ساڑھی کو اس طرح رکھ لینا مناسب نہ ہو گا، یہ سوچ کر میں نے ڈرائیور کو ساڑھی جےشری کے گھر پہنچانے کے لیے کہا۔

سٹوڈیو آتے ہی جےشری نے بتایا کہ ساڑھی اسے بہت ہی پسند آئی۔ لمحہ بھر وہ وہیں رُکی سی رہی۔ لیکن میں نے اس کی طرف خاص دھیان نہیں دیا اور سیدھے میوزک ڈیپارٹمنٹ میں چلا گیا۔ میرے پیچھے ماسٹر کرشن راؤ نے 'پڑوسی' اور 'شیجاری' کے کچھ گیتوں کی دھنیں بنائی تھیں۔ ایک دکھ بھرے سین پر گائے جانے والے گیت کو انھوں نے دکھ بھری دُھن دی تھی۔ میں نے اپنی رائے ظاہر کر دی۔ اس پر انھوں نے اسی دھن کو رونی صورت بنا کر پھر پیش کیا۔ اور پوچھا، "انّا، اب کیسی لگی دُھن؟"

میں نے اپنی جیب سے ایک رومال نکال کر ان کے چہرے پر ڈالا اور ان کا چہرہ ڈھک دیا۔ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ ان کی صورت دیکھے بِنا ان کی دُھن کیا وہی اثر ڈال پاتی ہے، جس کی کہ اس سے امید کی جاتی تھی؟ میں نے انھیں وہی گیت پھر سنانے کے لیے کہا۔ گاتے سمے چہرے پر رکھا رومال لگاتار اُڑ رہا تھا۔ ہم سب لوگوں کو یہ دیکھ کر بڑا مزہ آتا رہا۔ گیت ختم ہوا۔ ماسٹر کرشن راؤ نے چہرے سے وہ رومال پردہ نشین عورت کی ادا سے تھوڑا ہٹا کر نسوانی آواز میں پوچھا، "اب کیسی لگی دُھن؟"

میوزک روم میں جمع سبھی لوگ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گئے۔ اب تو اس دھن کو بدلنے کے علاوہ ماسٹر کرشن راؤ کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا! میرا ہمیشہ کا دستور رہا تھا کہ اپنی فلم کے لیے بنے گیت اور دھنیں سر نیچا کر کے سنوں اور پورے دھیان سے سنوں۔ ایسا کرنے سے سین کے مطابق اثر گیت کی دھن سے برابر ابھرتے ہیں یا نہیں، اس کی صاف تصویر ذہن پر نقش ہو پاتی تھی۔ لیکن اس دن جےشری گا رہی تھی، تب یوں ہی میں نے اوپر دیکھا۔ گاتے سمے وہ بھی اپنی موٹی موٹی کجراری آنکھوں سے مجھے ہی ایک ٹُک دیکھ رہی تھی۔ مجبوراً ہی تیرتے سمے ہوے اس واقعے پر من فوکسڈ ہو گیا۔ وہ سین من کی آنکھوں کے سامنے ایسا ثبت ہو گیا کہ ہٹنے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔ لیکن فوراً ہی میں نے اپنے آپ کو سنبھالا، ہوش میں آیا۔ اپنے آگے جاری کام سے لمحہ بھر ہی سہی، اپنا دھیان ہٹ گیا۔ اس لیے اپنے آپ پر ہی مجھے غصہ آیا۔

شوٹنگ شروع ہو گئی۔ پھر مجھ پر وہی دُھن پوری طرح چھا گئی، جو 'آدمی' اور 'دنیا نہ مانے' فلم بنانے کے سمے تھی۔ آج تک جیون میں میں نے کبھی کوئی نشہ نہیں کیا۔ لیکن لگتا ہے کہ فلم میکنگ کا نشہ میرے خون میں ہی گُھلا ہے۔ ہر نئی فلم کے ساتھ ایک نیا پاگل پن، ایک نیا لطف چھا جاتا ہے۔

فلم 'پڑوسی' کا پوسٹر

اس فلم میں اُن بوڑھے ہندو مسلمان دوستوں کے آپسی محبت کی علامت کے روپ میں دونوں کے ہاتھ میں ہاتھ ساتھ ساتھ چل رہے ہیں، اس سین کا استعمال میں نے کئی جگہوں پر نہایت جذباتی ڈھنگ سے کر لیا۔ بعد میں جب وہ وِلن ٹھیکیدار ان دونوں جانی دوستوں میں غلط فہمی پیدا کرتا ہے، تو دونوں کی دوستی ٹوٹنے لگتی ہے۔ لیکن یہ بات لفظوں میں نے ظاہر نہیں کی، صرف منظروں کے اشاروں سے اس طرح دکھائی کہ دونوں کے ہاتھ میں لیے ہاتھ چھوٹ جاتے ہیں، ایک دوسرے سے دور جاتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں کا فاصلہ بڑھتا جاتا ہے اور بعد میں دونوں پردے پر دکھائی نہیں دیتے۔ دکھائی دیتے ہیں صرف ان کے ایک دوسرے سے دور دور جا رہے ہاتھوں کے پنجے۔ کیمرا پیچھے ہٹتے ہٹتے صرف ان دور جاتے پنجوں کو ہی فلماتا رہتا ہے۔

اُن دونوں پڑوسیوں کو ایک ہی شوق تھا، فرصت کے سمے شطرنج جمانا۔ لیکن بعد میں اختلاف ہونے کے کارن دونوں باہمی مخالف سمت کی طرف منھ پھیرے آنگن میں چپ چاپ بیٹھے رہتے ہیں۔ شطرنج کے مہرے اور بِچھا پٹ (بساط) پیڑ کے نیچے بیکار پڑے رہتے ہیں۔ اُن کے بچوں کو بھلا ان بڑوں کے جھگڑے سے کیا لینا دینا! وہ اپنے پِتا جی کی ادا میں شطرنج بچھا کر اپنی اپنی عقل کے مطابق جیسی بنے، چالیں چلنے لگتے ہیں۔ پیڑ کے نیچے منھ پھیرے بیٹھے دونوں بوڑھوں کا دھیان اُن کے کھیل کی طرف جاتا ہے۔ بچے بیچارے غلط چال چلتے رہتے ہیں۔ دونوں بوڑھے اپنے بچوں کے پیچھے آ بیٹھتے ہیں اور ان کا ہاتھ پکڑ کر خود مہرے چلانے لگتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے کچھ پیادوں کو مارتے ہیں۔ آگے چل کر تو دونوں اس کھیل میں اتنے کھو جاتے ہیں کہ بچوں کی بیکار کی جھنجھٹ ختم کرنے کے لیے انھیں اٹھا کر ایک طرف ایسے رکھ دیتے ہیں، جیسے شطرنج کی گوٹیاں ہوں، اور کھیل میں مست ہو جاتے ہیں۔ پونم کی رات کو گاؤں کے دیوتا کا تہوار ہوتا ہے۔ سبھی گاؤں واسی، مرد عورت گاؤں کے باہر مندر کے پاس جمع ہوتے ہیں اور ہاتھوں میں مشعلیں لیے ایک رقص کرتے ہیں۔ اس رقص کی ریہرسل کرانے کے لیے بنگال کے کالی بوس کو میں نے خاص طور سے بلایا تھا۔ کافی دنوں تک 'پربھات' کے سبھی کاریگر اس رقص کی ریہرسل کرتے رہے۔ میں دکھانا چاہتا تھا کہ گاؤں کے سبھی بچے بوڑھے ذات پات کا اختلاف بھلا کر تہوار کے لطف میں خوشی اور جوش سے شامل ہو گئے ہیں۔ کالی بوس کی کوریوگرافی میں زنانہ رقص کے لیے ضروری نزاکت تو تھی، لیکن مردانہ رقص کے لیے ناگزیر جوش لاکھ کوششیں کرنے پر بھی نہیں آ رہا تھا۔ زنانہ اور مردانہ رقصوں میں دکھایا جانے والا فرق برابر آ نہیں رہا تھا۔ آخر مجبوراً ہی میں نے خود مشعلیں ہاتھ میں لیں اور مردانہ رقص کے سبھی قسموں کی ریہرسل کرا لی۔

میری رائے تھی کہ رقص کا سین بہت شاندار لگے اور شروع سے آخر تک وہ ایک روپ دکھائی دے، اس لیے اس میں کٹ شاٹ نہ ہو، لیکن اتنے بڑے گروپ رقص کو ایک ہی شاٹ میں فلمانا ناممکن تھا۔ لہٰذا شوٹنگ میں ایک مکمل نئی تکنیک کا استعمال کی تا کہ دیکھنے والوں کو ایسا لگے کہ ایک سین سے دوسرا سین کُھلتے کُھلتے نکل رہا ہے۔ پہلے شاٹ کے آخر میں رقاصوں کی مشعلیں کیمرے کے بالکل قریب آتی ہیں۔ دوسرے شاٹ کا آغاز مشعلوں پر کیمرا لے کر ہی ہوتا ہے اور بعد میں انھیں ایک طرف یا پیچھے ہٹا کر دوسرے کونے سے لیا گیا شاٹ پردے پر دکھائی دیتا ہے۔ اس تکنیک سے لیے گئے شاٹوں کی ایڈیٹنگ میں نے اتنی خوبی سے کی کہ پہلا شاٹ کہاں ختم ہوا اور دوسرا کہاں سے شروع، اچھے اچھے ٹیکنیشنوں کے بھی دھیان میں نہیں آیا۔

پونم کی اجلی چاندنی میں رقص میں پورا رنگ بھر گیا ہے۔ اچانک چاند بادلوں میں چھپ جاتا ہے۔ سبھی ناچنے والوں پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ انسانوں کی شکلیں ایک دم دھندلی ہو جاتی ہیں اور گانے کی لَے کے ساتھ آگے پیچھے ہلنے والی مشعلیں ہی دکھائی دیتی ہیں۔ پھر چاند نکل آتا ہے اور سب کچھ چاندنی میں نہاتا ہوا صاف دکھائی دینے لگتا ہے۔ چاند چھپ جاتا ہے اور پھر نکل آتا ہے؛ اس سین کے کارن دیکھنے والوں کو نین سکھ تو بہت مل جاتا ہے، لیکن اس میں شامل تخیل کا استعمال کہانی کا مقصد اور بھی زندہ کرنے کے لیے بھی میں نے کر لیا۔ مرزا اور پاٹل نوجوانوں کے رقص کا جلوس ایک طرف کھڑے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ مرزا کا لڑکا نعیم، پاٹل کے ہاتھوں میں مشعل دے جاتا ہے اور اسے رقص میں شامل کر لیتا ہے۔ پاٹل کا لڑکا رایبا بھی اسی طرح مرزا جی کو بھی رقص میں کھینچ لاتا ہے۔

ناچتے ناچتے دونوں بُھولے سے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ جاتے ہیں۔ لگتا ہے اب دونوں کی ناراضی تہوار کے جوش میں دور ہو جائے گی۔ ٹھیک اسی لمحے چاند بادلوں میں چھپ جاتا ہے۔ پاٹل کا جوش غائب ہو جاتا ہے۔ بیچارے مرزا جی بھی نا امیدی سے لوٹتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے ان کے من میں جو میل چھپا تھا، اسی نے رقص کے جوش کا سارا مزہ کرکرا کر دیا ہے۔

پوٹلی کے لڑکے رایبا کو کسی الزام میں پنچایت کے سامنے کھڑا کیا جاتا ہے۔ یہ ساری سازش اس ٹھیکیدار کی ہی ہوتی ہے۔ اس نے اپنے مصاحبوں کی مدد سے رایبا کو ناحق اس میں پھنسا دیا ہے۔ ٹھیکیدار کا ایک مصاحب پاٹل اور مرزا کے بیچ سے ہوتا ہوا حقے کی سلگتی چلم دانی لے جاتا ہے۔ دیہاتوں میں عام رواج ہوتا ہے کہ کسی دو آدمیوں کے بیچ سے ہوتی ہوئی کوئی آگ نکل جائے، تو ان میں ضرور ہی بکھیڑا کھڑا ہو جاتا ہے۔ لہذا اس طرح سلگتی چلمدانی پاٹل اور مرزا جی کے بیچ سے لے جانے کو دوسرا ہی معنی آسانی سے حاصل ہو جاتا ہے۔ پنچایت سبھا کا کام شروع ہوتا ہے۔ بحث اور جرح چل رہی ہے، اور ٹھیکیدار کا وہی مصاحب بیچ بیچ میں چلمدانی کے کوئلوں کو ہوا دیتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ پاٹل اور مرزا کے بیچ دھوئیں کی دیوار سی کھڑی ہو جاتی ہے۔ مرزا کے اس حقے کا استعمال میں نے کئی طرح سے کر لیا۔ غلط فہمی بڑھتی جاتی ہے۔ آثار تو ایسے دکھائی دینے لگتے ہیں کہ ہو نہ ہو من مار کر مرزا رایبا کے خلاف فیصلہ بس دینے ہی جا رہا ہے۔ لیکن اپنے پیارے دوست کے لڑکے کے خلاف پنچایت کا فیصلہ دینا مرزا کے لیے بہت ہی مشکل کا کام ہے۔ پاٹل کے من میں پہلے سے ہی بیٹھی غلط فہمی اس سے اور بھی گہری ہو جائے گی، مرزا جانتا ہے۔ مرزا بڑی الجھن میں پھنسا ہے، کشمکش میں پڑا ہے۔ آخر وہ خدا کو گواہ رکھ کر فیصلہ دیتا ہے۔

ٹھیک یہی اثر ناظرین کے من پر بھی پڑے، اس لیے میں نے ایک ترکیب سے کام لیا۔ مرزا فیصلہ سنانے سے پہلے اوپر آسمان کی طرف دیکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کیمرا بھی اوپر کی طرف جاتا ہے۔ پردے پر دکھائی دیتا ہے وسیع آسمان اور نیچے کے ایک کونے میں مرزا کا چہرہ۔ مرزا کے چہرے کے علاوہ پردے کا سارا فریم خالی دکھائی دیتا ہے۔ اس سے یہ بات برابر ابھر آتی ہے کہ مورت پوجا میں عقیدہ نہ رکھنے والے اسلام کے مذہبی خیالات کے مطابق وہ خالی جگہ ہی اللہ کی علامت ہے اور اللہ کو گواہ رکھ کر ہی مرزا اب اپنا فیصلہ دے رہا ہے۔ فیصلہ سنائے جانے کے سمے کیمرا پھر نیچے دیکھنے لگتا ہے اور مرزا کا کلوز اپ فلما لیتا ہے۔ اس سارے سین کے آخر میں پردے پر پورے واقعے کی علامت کے روپ میں صرف مرزا جی کی وہ چلم دانی ہی دکھائی دیتی ہے۔ چلم دانی سے چنگاریاں نکلتی ہیں اور اس کے بعد آگے کے سین میں دکھائی دینے والا پاٹل کا پریشان چہرہ دھیرے دھیرے اسی چلم دانی پر ابھر آتا ہے۔

اس کے بعد دونوں میں زور کا جھگڑا ہو جاتا ہے اور مرزا پڑوس چھوڑ کر جانا طے کر لیتا ہے۔ وہ ایک بیل گاڑی بلواتا ہے۔ گھر کا سارا سامان اس پر رکھواتا ہے۔ بیوی اور بال بچوں کو بھی گاڑی میں بٹھاتا ہے۔ مرغیوں کی جھلیاں بھر دیتا ہے اور بھیڑ بکریوں کو بھی گاڑی سے باندھ کر جانے لگتا ہے۔ پردے پر دکھائی دیتا ہے اس کا دور دور جاتا ہوا گھر، گاڑی میں بیٹھ کر پاٹل کے بچوں سے دور جانے والے مرزا کے بچے! مرزا کی مرغیاں اور بھیڑ بکریاں پاٹل کے گھر کے چھجے پر کھڑی ان کی مرغیوں اور بکریوں کو مسکینی سے دیکھ رہی ہیں، دور چلی جا رہی ہیں۔ آخر میں مرزا کی بیل گاڑی دور چلی جاتی ہے اور ادھر پاٹل کا گھر بھی دور ہو جاتا ہے۔ اس طرح دونوں جانی دوست ایک دوسرے سے بچھڑتے ہیں اور اسی دل کو چھو لینے والا سین پر انٹرویل ہو جاتا ہے۔

اس پوری فلم میں مَیں نے کیمرے کی رفتار کا استعمال ایسے کیا تھا کہ ہر سین کے احساسات کی ذرا سی لہریں بھی برابر ابھر کر سامنے آ جائیں۔ میری کوشش تھی کہ کیمرا سین فلمانے کی ایک مشین بن کر ہی نہ رہ جائے، بلکہ یہ ثابت کر دے کہ وہ انسانی من کی طرح ایک حساس من بھی ہے۔ اسی لیے 'پڑوسی' کا سنیریو لکھتے سمے میں مختلف شاٹوں کو صرف تکنیکی تقسیم نہیں کرتا تھا، ہر سین کا سنیریو لکھتے سمے میں اس کے احساسات کے ساتھ پوری طرح سے ایک روپ ہو جاتا تھا۔ خاص طور سے آخر میں باندھ ٹوٹ جانے کے سین کا سنیریو لکھتے سمے تو اس کے ساتھ اتنی وابستگی ہو گئی تھی کہ جذبات کے تسلسل کو روک نہ سکا۔ آنکھوں سے گرتے ٹپ ٹپ آنسو سنیریو کی کاپی کو چھو رہے تھے اور وچاروں کی کڑی ٹوٹنے نہ پائے، اس لیے آنسو پونچھ کر سنیریو لکھتا گیا۔ آخری سین لکھا اور کرسی کی پیٹھ پر ماتھا رکھ کر میں خوب رویا۔ میری سسکیاں سن کر وِمل بھی جاگ گئی۔ گھبرائی، ہڑبڑائی سی بڑی ہی بےچینی سے پوچھنے لگی کہ بات کیا ہے۔ میرے منھ سے لفظ نہیں پھوٹ رہا تھا۔ میں نے صرف سنیریو کی کاپی کی طرف اشارہ کر دیا۔

دوسرے دن میرے زیر کام کرنے والے شاعر آٹھولے نے سنیریو کی وہ کاپی دیکھی اور سہمے سہمے سے پوچھا، "بات کیا ہے انّا؟ لکھتے سمے آپ اتنے جذباتی ہو گئے تھے؟"

"کیوں؟ یہ آپ کیسے کہتے ہیں؟"

انھوں نے سنیریو کی کاپی پر آنسوؤں کے نشان مجھے دکھائے۔ وہ اس سے زیادہ کچھ بھی نہ بول سکے۔

فلم کا آخری سین باندھ ٹوٹنے کا تھا۔ وہ پردے پر دکھائی دینے لگا۔ باندھ پر سرنگیں بچھانے کے کارن وہ ٹوٹ جاتا ہے، تباہ ہو جاتا ہے۔ دکھ سے چُور پاٹل بہکے بہکے سے، کھوئے کھوئے سے بددل ہو کر باندھ پر بیٹھے ہیں۔ چاروں طرف بڑی بڑی چٹانوں کے ٹوٹے ٹکڑے اُڑ رہے ہیں۔ اپنے روایتی متر کی جان بچانے کے لیے اپنی جان کی پروا کیے بنا ہی مرزا باندھ پر دوڑ کر آتے ہیں۔ دونوں جب لوٹنے لگتے ہیں تب ایک بڑا بھاری دھماکہ ہونے سے لوٹنے کا راستہ تباہ ہو جاتا ہے، ٹوٹ جاتا ہے۔ بڑی کھائی پڑ جاتی ہے۔ اب تو موت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہ جاتا۔ دونوں متر ہاتھ میں ہاتھ تھامے وہیں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تبھی ایک اور سرنگ کا دھماکہ ہوتا ہے اور باندھ کا وہ حصہ بھی جس پر یہ دونوں کھڑے ہوتے ہیں، ٹوٹ کر گر جاتا ہے۔ ہاتھ میں ہاتھ تھامے ہی دونوں موت کا استقبال کرتے ہیں۔ دوسرے دن جب باڑھ اتر جاتی ہے، دونوں متر مرے پائے جاتے ہیں۔ لیکن اس آخری لمحے بھی دونوں کے ہاتھ اسی مضبوطی سے گتھے ہوے ہیں جیسے انھوں نے زندہ حالت میں تھامے تھے۔ ان دو ہاتھوں کی مضبوط پکڑ کے اوپر سے پانی کی دھارا بہتی جاتی ہے۔

اس پورے سین میں احساسات اور تکنیک کا خوبصورت میل رکھا گیا تھا۔ مضبوط دوستی، محبت کا یہ سین دیکھ کر ایک مسلمان ناظر نے دل کھول کر کہا، "آج دل کا میل نکل گیا!"

سبھی اخباروں کے کالم 'پڑوسی' اور 'شیجاری' فلم کی تعریف سے کھِل اٹھے۔ استثنیٰ تھی صرف اترے جی کا 'نویگ'۔ اس ہفتہ وار میگزین نے اپنا راگ الگ ہی الاپا تھا۔ اترے جی نے اپنے اس ہفتہ وار میں لکھا: ''تنتر تو ہے، پر منتر غائب''۔ 'پڑوسی' پر انھوں نے یہ طعنہ زنی کی تھی۔ پہلے بھی بِنا کارن ہی انھوں نے 'دنیا نہ مانے اور 'کن کو' کے بارے میں اسی طرح اول جلول ذکر اپنے 'پراچا کاؤلا' (بات کا بتنگڑ) ناٹک میں کیا تھا۔ اس سمے میں نے بھی انھیں کافی تیز تڑاخ جواب دیا تھا، ''تماشائیوں کی طرف سے نذر کی گئی قلم سے 'دنیا نہ مانے' کی بےکار کی مخالفت کو دنیا نہیں مانے گی۔" میں نے ہمت کے جذبے سے ان کی طرف کی گئی تنقید کو قبول کیا تھا۔ انھیں بھی چاہیے تھا کہ اسی جذبے سے اس بات پر ہمیشہ کے لیے پردہ ڈال دیتے۔ لیکن ان کے جیسے قلم کے دھنی لیکھک نے 'پڑوسی' پر اعتراض، مخالفت کرنے میں ہی اپنی قلم چلائی۔ 'نویگ' میں اترے جی نے 'شیجاری' پر بالترتیب پانچ کالم لکھے۔ لیکن کوئی بھی اچھی بات، صرف اس لیے کہ کسی عقلمند آدمی نے اسے بُرا کہا ہے، بُری ثابت نہیں ہو جاتی!

'پڑوسی' فلم بِہار کے بھاگلپور میں ریلیز ہوئی، تب وہاں ہندوؤں مسلمانوں میں دنگا بھبھک اٹھا تھا۔ لکھنے میں مجھے بےحد فخر ہوتا ہے کہ اس فلم کے کارن وہاں کا دنگا بند ہو گیا۔ دونوں فریقوں کے لوگوں نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ لوگ باگ کہنے لگے، جو بات بڑے بڑے سیاست دانوں کے بھاشنوں سے بھی نہ ہو پائی تھی، اسے 'پڑوسی' اور 'شیجاری' فلم نے کر دکھایا ہے! میں شکر گزار ہو گیا۔




نجمِ اسود اور ننھی کائناتیں: قسط نمبر 4 (ALS کے ساتھ میرا تجربہ)

گذشتہ اقساط کے مطالعہ کے لئے درج ذیل لنکس استعمال کیجئے (لنک نئے ٹیب میں کھلیں گے)

قسط نمبر 1قسط نمبر 2، قسط نمبر 3

باب نمبر 3: اے ایل ایس کے ساتھ میرا تجربہ

مجھ سے بارہا یہ پوچھا جاتا ہے کہ میں اے ایل ایس (وہ بیماری جس میں ہاکنگ مبتلا تھے۔ مترجم) کے بارے میں کیسا محسوس کرتا ہوں؟ میرا جواب یہ ہے ،" کچھ خاص نہیں"۔ میں جس حد تک ممکن ہو سکے،ایک نارمل زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہوں، اور اپنی حالت کے بارے میں نہیں سوچتا یا ان امور پر افسوس نہیں کرتا جو میں بیماری کے باعث انجام نہیں دے سکتا۔ اور ایسے امور کچھ زیادہ بھی نہیں ہیں۔

یہ دریافت میرے لئے بہت بڑا دھچکا تھا کہ مجھے موٹر نیوران کی بیماری ہے۔ میں جب بہت چھوٹا تھا، تب بھی میری جسمانی حرکات نارمل نہ تھیں۔ میں گیند سے کھیلے جانے والی کھیلوں میں اچھا نہیں تھا، اور شاید یہی وجہ تھی کہ میں نے کبھی جسمانی سرگرمیوں میں زیادہ دلچسپی نہیں لی۔ لیکن جب میں آکسفورڈ گیا تو حالات تبدیل ہوتے دکھائی دئے۔ میں نے چپو والی کشتی چلانا شروع کی۔ میں اس سطح پر تو نہیں پہنچ سکا کہ Boat Race مقابلے میں حصہ لے سکوں لیکن کالجز کے باہمی مقابلہ جات تک میں ضرور پہنچ گیا تھا۔

تاہم آکسفورڈ کے تیسرے برس میں ، مجھے یہ محسوس ہوا کہ میری جسمانی حرکات بد سلیقگی کا شکار ہوتی جا رہی ہیں، اور ایک دو مرتبہ بظاہر بغیر کسی وجہ کے میں گربھی گیا تھا۔ اگلے برس جب میں کیمبرج میں تھا، تب والدہ مجھے ہمارے فیملی ڈاکٹر کے پاس لےگئیں۔ فیملی ڈاکٹر نے مجھے ایک سپیشلسٹ ڈاکٹر تجویز کیا اورا پنی اکیسویں سالگرہ کے کچھ عرصہ بعد میں ٹسٹ کروانے کے لئے ہسپتال گیا۔ دو ہفتے مجھے ہسپتال میں گزارنا پڑے جس دوران میرے بہت سے ٹسٹ کئے گئے۔ انھوں نے میرے بازو سے پٹھوں کے سیمپل لئے، مجھے الیکٹروڈ لگائے گئے، میری ریڑھ کی ہڈی میں تابکاری مائع ڈالا گیا ۔ جب میرا بیڈ اوپر تلے کیا جاتا ساتھ ہی میں ایکس رے مشین میں اس مائع کو میں اوپر تلے جاتا دیکھتا۔ ان سب کے بعد بھی، انھوں نے مجھے یہ نہ بتایا کہ مسئلہ کیا تھا سوائے اس کے کہ یہ multiple sclerosis نہیں تھا اور یہ کہ میرا مرض معمول سے ہٹ کر تھا۔ تاہم میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ڈاکٹروں کو یہ توقع تھی کہ میرا مرض بد سے بد تر ہوتا جائے گا اور وہ مجھے سوائے وٹامن کی گولیاں دینے کے کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ مجھے یہ بھی نظر آ رہا تھا کہ ڈاکٹروں کو وٹامن کی گولیوں کے استعمال سے بھی زیادہ بہتری کی توقع نہ تھی۔ اور مجھے زیادہ تفصیلات میں جانے کی خواہش بھی نہ ہوئی کیونکہ تفصیلات یقیناً حوصلہ شکن تھیں۔

مجھے یہ جان کر شدید جھٹکا لگا کہ میں ایک لاعلاج مرض کا شکار ہوں جو عین ممکن ہے کہ مجھے چند برسوں میں مار ڈالے ۔ ایسا میرا ساتھ کیسے ہو سکتا تھا؟ میں کیوں اس طرح مارا جاؤں؟ تاہم جب میں ہسپتال میں تھا، میں نے ایک لڑکا دیکھا جسے میں تھوڑا بہت جانتا تھا، وہ میرے سامنے والے بستر پر تھا اور خون کے کینسر کی وجہ سے میری موجودگی میں ہی اس کی وفات ہو گئی تھی۔ یہ منظر بہت تکلیف دہ تھا۔ یقیناً ایسے لوگ موجودتھے جن کی حالت مجھ سے بھی بدتر تھی۔ کم از کم اتنا ضرور تھا کہ مجھے اپنی حالت سے کراہت محسوس نہیں ہوتی تھی۔ جب کبھی مجھے خود پر ترس آنے لگتا ہے، میں اُس لڑکے کو یاد کر لیتا ہوں۔

میری سمجھ سے باہر تھا کہ مجھے کیا کرنا چاہئے کیونکہ نہ مجھے یہ معلوم تھا میرے ساتھ کیا ہونے والا تھا نہ ہی معلوم تھا کہ بیماری کس رفتار سے بڑھے گی۔ ڈاکٹروں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں کیمبرج واپس چلا جاؤں اور جنرل نظریۂ اضافت اور کُونیات پر اپنی تحقیق جاری رکھوں۔ لیکن ریاضی میں مضبوط پس منظر نہ ہونے کے باعث میں زیادہ آگے نہیں بڑھ پا رہا تھا، اور ویسے بھی مجھے یوں لگتا تھا کہ میں شاید پی ایچ ڈی کی تکمیل تک زندہ بھی نہ رہ پاؤں۔ مجھے اپنی ذات ایک المیاتی کردار محسوس ہونے لگی۔ میں نے Wagner کو سننا شروع کر دیا لیکن میگزین کے مضامین میں میری مے نوشی سے متعلق خبریں بہت مبالغہ آمیز ہوتی تھیں۔ مسئلہ یہ تھا کہ جب ایک مضمون میں یہ بات کہہ دی گئی تو باقی مضامین نے بھی اسی بات کو دہرانا شروع کر دیا کیونکہ اس سے کہانی ذرا پر کشش بن جاتی تھی۔ ویسے بھی جو کچھ بھی پرنٹ میڈیا میں بار بار شائع ہو وہ خود بخود سچ بن جاتا ہے۔

اس دوران میرے خواب بھی پریشان کن ہوا کرتے تھے۔ میری بیماری کی تشخیص سے قبل میری زندگی بہت زیادہ بوریت کا شکار تھی۔ مجھے کسی کام میں بھی دلچسپی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ لیکن ہسپتال سے واپس آنے کے چند دنوں بعد میں نے خواب دیکھا کہ مجھے پھانسی دی جانے لگی ہے۔ (اور خواب کے دوران ہی) مجھے احساس ہوا کہ ایسی بہت سے کام تھے جو میں کر سکتا تھا اگر میری پھانسی روک دی جاتی۔ ایک اور خواب جو میں نے بارہا دیکھا وہ یہ تھا کہ میں اپنی زندگی قربان کر کے دوسروں کی جان بچا رہا ہوں۔ لہذاٰ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ میں نے مر تو جانا ہی ہے۔ کیوں نہ کچھ لوگوں کا بھلا کر کے مرا جائے۔

مگر میری موت نہیں ہوئی۔ اگرچہ میرے مستقبل پر شک کے بادل منڈلا رہے تھے لیکن مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ میں اپنی حالیہ زندگی سے بہ نسبت ماضی زیادہ لطف اندوز ہو رہا تھا۔ میرا تحقیقی کام آگے بڑھنے لگا، میری منگنی اور بعد ازاں شادی ہو گئی، اور مجھے کِیز (Caius) کالج کیمبرج میں ریسرچ فیلو شپ بھی مل گئی۔

کِیز کالج میں ملنے والی فیلوشپ نے میرے ملازمت کے فوری مسئلے کو حل کر دیا۔ میں خوش قسمت تھا کہ میں نے نظری طبیعیات کا انتخاب کیا تھا کیونکہ یہ ان چند شعبہ جات میں سے تھی جن میں میری جسمانی حالت بہت زیادہ رکاوٹ نہیں تھی۔ اور یہ بھی میری خوش بختی تھی کہ میری جسمانی معذوری کے بدتر ہونے کے ساتھ ہی بطور سائنس دان میری شہرت میں اضافہ ہوا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ لوگ مجھے اپنے اداروں میں ایسی پوزیشن دینے کو تیار تھے جن میں مجھے صرف تحقیقی کام کرنا تھا اور لیکچر دینا ضروری نہ تھا۔

ہم رہائش کے معاملے میں بھی خوش قسمت رہے۔ جب ہماری شادی ہوئی تب Jane ویسٹ فیلڈ کالج لندن میں ابھی انڈر گریجویٹ تعلیم حاصل کر رہی تھی اس وجہ سے اسے ہفتے کے پانچ دنوں کے لئے لندن جانا ہوتا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہمیں ایک ایسی جگہ چاہئے تھی جو کہیں درمیان میں کر کے ہو اور جہاں پر میں خود سے کیمبرج آ جا سکوں کیونکہ میں زیادہ چل نہیں سکتا تھا۔ میں نے کالج والوں سے مدد کی درخواست کی لیکن کالج کے خزانچی نے بکالج کی پالیسی بتائی کہ ادارہ رہائش کے حوالے سے فیلوز کی مدد نہیں کرتا۔ لہذاٰ ہم نے اپنا نام نو تعمیر شدہ عمارت کا فلیٹ کرائے پر لینے کے لئے جمع کرا دیا، عمارت مارکیٹ میں ہی واقع تھی۔ (بہت برسوں کے بعد مجھے یہ معلوم ہوا کہ وہ فلیٹ کالج کی ملکیت تھے لیکن کالج والوں نے مجھے نہیں بتایا تھا)۔ جب ہم امریکہ سے گرمیوں کے بعد کیمبرج واپس لوٹے تو ہمیں معلوم ہوا کہ فلیٹ ابھی رہائش کیلئے دستیاب نہ تھے۔ (لیکن عارضی طور پر) یونی ورسٹی کے خزانچی نے ہم پر عنایت کی اور گریجویٹ طالب علموں کے ہاسٹل میں ہمیں ایک کمرہ دے دیا۔ اس نے کہا، " بالعموم ہم ایک رات کا 12 شلنگ اور 6 پینس چارج کرتے ہیں ، لیکن چونکہ تم دو لوگ ہو اس لئے ہم 25 شلنگ چارج کریں گے"

ہم وہاں صرف تین راتیں ٹھہرے۔ بعد ازاں ہم نے ایک گھر ڈھونڈ لیا جو میرے یونی ورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ سے 100 یارڈ کے فاصلے پر تھا۔ یہ گھر دراصل ایک اور کالج کا حصہ تھا، جو اس نے اپنے ایک فیلو کو کرائے پر دے رکھا تھا۔ وہ فیلو حال ہی میں مضافاتی رہائشی علاقے میں شفٹ ہوا تھا اور یوں تین ماہ کے لئے اس نے ہمیں گھر شکمی کرائے پر (sub-let) دے دیا۔ ان تین ماہ کے دوران ہم نے اسی سڑک پر واقع ایک اور خالی مکان ڈھونڈ نکالا۔ ایک ہمسائے نے مالک مکان کو Dorset سے بلایا اور اسے کہا کہ یہ رسوائی کا مقام ہے کہ جب بھی جوان لوگ گھر ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں تمھارا گھر خالی پڑا ہوتا ہے (اس گھر سے کسی کو فائدہ پہنچاؤ اور اسے کرائے پر دے دو)، اور یوں اُس نے ہمیں گھر کرائے پر دے دیا۔ کچھ برس وہاں گزارنے کے بعد ہم اسے خرید کر اس کی حالت کچھ بہتر بنانا چاہ رہے تھے۔ لہذاٰ میں نے اپنے کالج سے قرض کے لئے درخواست جمع کرائی۔ کالج نے اپنا سروے کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ ہم ایک اچھا رسک نہیں لے رہے تھے۔ لہذاٰ آخرِ کار ہم نے ایک بلڈنگ سوسائٹی سے قرض لیا، اور میرے والدین نے بھی ہمیں گھر کی حالت بہتر بنانے کے لئے کچھ رقم دی۔

ہم وہاں مزید چار برس تب تک رہے جب تک میرے لئے سیڑھیاں چڑھنا قریب قریب نا ممکن ہو چکا تھا۔تب تک کالج میں میری حیثیت بھی پہلے سے بہتر ہو چکی تھی اور (ادارے کا) خزانچی بھی تبدیل ہو چکا تھا۔ لہذاٰ کالج والوں نے ہمیں ایک گراونڈ فلور کا فلیٹ دے دیا، جو کالج ہی کی ملکیت تھا۔ میرے لئے یہ فلیٹ بہت مناسب تھا کیونکہ اس کے کمرے کشادہ اور دروازے  بڑے تھے۔ اور فلیٹ وسط میں اس طرح واقع تھا کہ میں اپنی الیکٹرک ویل چیئر پر کالج بھی جا سکتا تھا اور اپنے ڈیپارٹمنٹ بھی۔ یہ فلیٹ ہمارے بچوں کے لئے بھی نہایت موزوں تھا کیونکہ یہ اطراف سے باغ میں گھرا ہوا تھا اور باغ کی دیکھ بھال کالج کے مالی کرتے تھے۔

1974 تک میں خود سے کھا پی بھی سکتا تھا اور بستر پر بھی خود آ جا سکتا تھا۔ Jane بغیر کسی بیرونی مدد کے میری دیکھ بھال بھی کرتی تھی اور بچوں کو بھی سنبھالتی تھی۔ لیکن اس کے بعد معاملات مشکل ہوتے گئے، لہذاٰ میں نے اپنا ایک ریسرچ سٹوڈنٹ اپنے ساتھ رکھ لیا۔ مفت رہائش ، میری بھر پور توجہ اور (ہمہ وقت) دستیابی کے عوض وہ مجھے بستر تک لے جانے میں میری مدد کرتا تھا۔ 1980 میں ہم نے کمیونٹی سسٹم اختیار کیا اور ایک دو گھنٹوں کیلئے نرسیں صبح اور شام کے وقت آنا شروع ہو گئیں۔ یہ سلسلہ مجھے 1985 میں نمونیا ہونے تک جاری رہا۔ میرا tracheostomy کا آپریشن ہونا تھا اور اس کے بعد مجھے 24 گھنٹے نرس کی دیکھ بھال چاہئے تھی۔ اور یہ سب کچھ بہت سی مختلف فاونڈیشنز کی (مالی) معاونت سے ممکن ہو سکا۔

آپریشن سے قبل میری آواز دن بدن غیر واضح ہوتی جا رہی تھی، اور جو لوگ مجھے اچھی طرح جانتے تھے وہی میری آواز سمجھ سکتے تھے۔ لیکن بہرحال میں بات چیت کم از کم کر ضرور لیتا تھا۔ میں نے سائنسی مقالہ جات ایک سیکریٹری کو لکھوا کر مکمل کئے اور میں سیمینارز میں ایک برقی ترجمان (interpreter) کی مدد سے گفتگو کیا کرتا تھا جو میرے الفاظ کو مزید وضاحت سے بولتا تھا۔  تاہم tracheostomy نے میرے بولنے کی صلاحیت مکمل طور پر سلب کر لی۔ کچھ وقت تک میری بول چال صرف ایک ہی طریق پر ممکن تھی او ر وہ یہ تھا کہ ایک spelling card میرے سامنے لایا جاتا تھا اور اس پر تمام حروف لکھے ہوتے تھے، اور فرداً فرداً ہر حرف پر ہاتھ رکھا جاتا، جب درست حرف پر ہاتھ رکھا جاتا تو میں اپنی ابرو کے اشارے سے بتا دیتا۔ اس طریق پر سائنسی مقالہ لکھنا تو درکنار، گفتگو تک کرنا نہایت مشکل تھا۔ تاہم کیلیفورنیا میں ایک کمپیوٹر کے ماہر Walt Woltosz کو میری تکلیف کا علم ہوا۔ اس نے مجھے ایک کمپیوٹر پروگرام لکھ کر بھیجا جس کا نام Equalizer تھا۔ یہ پروگرام مجھے ایک مینیو (menu) کی سیریز میں سے الفاظ منتخب کرنے میں مدد کرتا تھا اور الفاظ کے انتخاب کیلئے میرے ہاتھ میں ایک سوئچ ہوتا تھا۔ پروگرام آنکھ اور سر کی حرکت سے بھی کنٹرول کیا جا سکتا تھا۔ جب میں وہ فقرہ لکھ چکتا جو میں کہنا چاہ رہا ہوتا تھا، وہ فقرہ میں speech synthesizer کو دیتا اور وہ اسے خود کار طریق پر بول دیتا تھا۔

ابتداً میں equalizer پروگرام کو desktop کمپیوٹر پر چلا سکتا تھا۔ بعد ازاں ڈیوڈ میسن (David Mason)، جو کمیبرج کے Adaptive Communications شعبہ سے تعلق رکھتا تھا، اس نے ایک چھوٹا سا کمپیوٹر اور speech synthesizer میری وہیل چیئر کے ساتھ فٹ کر دیا۔ یہ نظام مجھے پہلے سے کہیں بہتر طریق پر گفتگو میں مدد دیتا ہے۔ میں ایک منٹ میں قریب پندرہ الفاظ بول سکتا ہوں۔ میں جو کچھ لکھ چکا ہوتا ہوں وہ بول بھی سکتا ہوں اور اسے ایک ڈسک پر محفوظ بھی کر سکتا ہوں۔ پھر اسے میں پرنٹ بھی کر سکتا ہوں یا دوبارہ سے ڈسک کو چلا کر ایک ایک فقرہ بول سکتا ہوں۔ اس نظام کو استعمال کر کے میں نے دو کتابیں اور بہت سے سائنسی مقالہ جات لکھے ہیں۔ اوراسی نظام کی مدد سے میں نے سائنسی اور معروف (popular)لیکچرز بھی دئے ہیں۔ یہ لیکچرز لوگوں کو پسند بھی آئے ہیں، اور میرا خیال ہے اس کا بہت سارا کریڈٹ speech synthesizer کو جاتا ہے، جو Speech Plus کمپنی کا تیار کردہ ہے۔ انسان کی آواز بہت اہم ہوتی ہے۔ اگر آپ کی آواز غیر واضح ہو تو لوگ آپ کو کند ذہن گردانتے ہیں۔ میرے استعمال میں موجود Speech Synthesizer میری معلومات کے مطابق سب سے بہتر ہے کیونکہ یہ لحن (intonation) اور سُر کا درست طریق پر استعمال کرتا ہے اور Dalek (بی بی سی کے ایک انگریزی ڈرامے کا روبوٹ کا کردار۔ مترجم) کی طرح نہیں بولتا۔ اس کے ساتھ صرف ایک مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ اس کا لہجہ امریکی ہے۔ بہرحال اب یہ آواز میری پہچان ہے اور اب اگر مجھے برطانوی لہجے کی مشین مل بھی جائے تب بھی میں اسے تبدیل نہیں کرنا چاہوں گا۔ کیونکہ میں خود کو ایک مختلف انسان محسوس کرنے لگوں گا۔۔

میری تمام جوانی عملاً موٹر نیوران بیماری کے ساتھ کٹی ہے۔ پھر بھی یہ مجھے اپنے کام میں کامیاب ہونے اور ایک شاندار فیملی کو وجود بخشنے سے نہیں روک پائی۔ اور اس کی بنیادی وجہ وہ سہارا ہے جو میری بیوی نے مجھے دئے رکھا، اور میرے بچوں، بہت سے لوگوں اور اداروں نے بھی۔ میں خوش قسمت ہوں کہ میری حالت ابتری کی طرف اتنی تیزی سے گامزن نہیں ہوئی جتنا کہ عموماً ہوا کرتی ہے۔ اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں امید کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہئے۔

یہ گفتگو برٹس موٹر نیوران disease ایسوسی ایشن کی کانفرنس میں کی گئ۔

 

 




ہماری گلوبلائزڈ زندگی (تنویر انجم)

(1)
روزروز جاتے ہوتم
گھر سے دور، دوروں پر
مگر زیادہ دنوں کے لیے مت جانا
یاد آنے لگے گا مجھے
اپنے ٹوتھ برش کے ساتھ
تمھارے ٹوتھ برش کو دھونا

(2)
تو یاد رہے گا نا تمھیں
دھوبی سے کپڑے پورے گن کر لینا
الیکڑک کیتیلی میں چائے کے لیے پانی نشان سے کم مت رکھنا
شیمپو کی بوتل کو استعمال کے بعد بند ضرور کرنا
رات کو غیرضروری بتیاں ضرور بجھا دینا
اور دروازہ بھی بند کردینا
اور میرا فون اٹھا لینا
اور کال مس ہوجائے تو جلدی کال کرلینا
منسٹر صاحب کے تھنک ٹینک کی میٹنگ تو اس بار ایک ہفتہ چلے گی
لگتا ہے آئی ایم ایف کا دباؤ کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا ہے

(3)
کام کچھ زیادہ ہی جمع ہوگئے ہیں
نیا مہینہ بھی شروع ہوگیا ہے
آج تو بنانا ہی پڑے گی کاموں کی فہرست

(1)رات لکھی گئی نظم کو رف ڈائری سے نوٹ بک میں اتارنا
(2)نیویارک میں رات ہونے سے پہلے بچوں کو ٹیلیفون کرنا
(3)گیزر کے لیے پلمبر کو فون کرنا
(4)سٹی بینک میں کریڈٹ کارڈ کا بل دینا
(5)سودے کی فہرست بنانا، دکاندار کو دینا
(6)نئے کورس کی آؤٹ لائن بنانا
(7)ریڈرز کلب میں پیش کرنے کے لیے لائبریری سے کتاب لینا
(8)شاپنگ مال سے ہئیر کلر اور میک اپ کا سامان خریدنا
(9)چھٹی کے دن دعوت کے لیے نوکروں کو ہدایات دینا
(10)ڈنر کے بعد ایرانی فلم دیکھنا
(11)رات کو سونے سے پہلے نظم لکھنا
(12)سونے کے دوران ایک خواب دیکھنا
جس میں ہررات کی طرح دھند میں چھپا ایک ہیولا ہو




لنچ ٹائم (تحریر: راجندر یادو، ترجمہ: محمد عباس)

راجندر یادو کا نام ہندی ادب کی نمایاں تحریک 'نئی کہانی' سے منسوب ہے۔ آپ نے منشی پریم چند کے رسالے 'ہنس' کی دوبارہ اشاعت کا بھی اہتمام کیا۔ راجندر یادو کا پہلا ناول 'پریت بولتے ہیں' کے نام سے 1951 میں شائع ہوا جس پر بعدازاں باسو چیٹرجی نے فلم بھی بنائی۔ ناولوں کے علاوہ آپ نے کہانیاں بھی لکھیں اور روسی ادب کا ہندی میں ترجمہ بھی کیا۔ محمد عباس ان کی کہانیوں سے اردو قارئین کو متعارف کرا رہے ہیں۔ محمد عباس کے کیے یہ تراجم 'دستاویز مطبوعات، لاہور' نے شائع کیے ہیں جنہیں اب لالٹین پر شاٰئع کیا جا رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا کالا چوغہ چمگاڈر کے پروں کی طرح پھڑپھڑاتے وکیل صاحب نے کمرے میں گھستے ہوئے پوچھا: ’’کیوں اتنی زور زور سے ہنس رہے ہو؟ کیا بات ہوگئی؟‘‘

وکیل صاحب کے آتے ہی تینوں چپ ہو گئے تھے لیکن ہنسی تھی کہ مسکراہٹ بن کر پھوٹ رہی تھی۔ جیوتی نے برج کی طرف دیکھا اور میز کے کونے پر سر ٹیک کر کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ اس نے ساڑھی کا پلّو منہ سے لگا لیا۔ برج دوسری طرف منہ کر کے اس ہنسی پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتا ہوا پھٹ پڑتا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ دت نے سانس روک کر اپنا زیادہ سے زیادہ دھیان ان ہنستے ہوئے لوگوں سے ہٹا کر جیسے انجان بن کر پوچھا:’’لنچ ہو گیا؟‘‘

’’ہاں جی!‘‘ منہ میں سگریٹ لگا کر وکیل صاحب ماچس کی ڈبیا پر سیک مار رہے تھے، انھوں نے سر ہلایا۔

’’کیا ہوا؟ سرکاری وکیل زیادہ کراس کر رہا ہے کیا؟‘‘ دت نے نہ چاہتے ہوئے بھی دیکھ لیا کہ برج جیوتی کی طرف اس کے بارے میں اشارہ کر رہا ہے۔۔۔ دیکھ سالا کیسا سنجیدہ ہو کر باتیں کر رہا ہے۔ اس کے پیٹ میں بگولا سا اٹھا اور ساری سنجیدگی جھٹکے سے اڑ گئی۔ وہ بھی پھٹ کر ہنس پڑا اور ایک دم اٹھ کر باہر برآمدے میں بھاگ گیا۔ دونوں منشی اور ایک موکل حیرت سے آنکھیں پھاڑے مسکراتے ہوئے ان کی ہنسی میں ساتھ دے رہے تھے۔

وکیل صاحب نے پہلا زور کا کش کھینچا اور ادھر ادھر دیکھ کر پوچھا: ’’کیوں بھائی؟آخر کچھ بات بھی تو بتاؤ گے؟‘‘ وہ یہاں کا ماحول دیکھ کر مسکرائے۔

اس پر دونوں پھر ہنس پڑے۔ دت باہر برآمدے میں کھمبے کے پاس کھڑا ہنس رہا تھا۔ وکیل صاحب نے منشی رام سروپ سے کہا: ’’منشی جی!کیا بات ہے؟‘‘

منشی جی نے ہاتھ کی مسل کے کاغذوں کو الٹا سیدھا کرنا چھوڑ کر ان دونوں کی طرف دیکھا پھر مسکراتے ہوئے کہا: ’’صاحب! ابھی دیوی سہائے جی آئے تھے۔۔۔‘‘

’’آپ کو ڈھونڈتے ہوئے،ملے نہیں؟‘‘ جیوتی نے انگلی سے سنہری کمانی کا چشمہ اوپر اٹھا کر، ساڑھی کے پلے سے آنکھوں کی کوروں کا پانی پونچھتے ہوئے کہا۔

’’کون دیوی سہائے؟‘‘ وکیل صاحب نے یاد کرنے کی کوشش کی۔ اصل میں ان کے دماغ میں ابھی چلتے مقدمے کے سوال جواب ہی گونج رہے تھے۔ لنچ ٹائم میں جھنجھلائے ہوئے وہ چیمبر سے بھاگے آ رہے تھے۔ دماغ پریشان تھا۔۔۔ انھیں کتیا کے پیچھے لگے پلوں کی طرح اپنے ساتھ دونوں طرف لگے چلتے موکلوں سے اور بھی زیادہ چڑ چڑاہٹ ہو رہی تھی۔ ’’وکیل صاحب اس مقدمے میں کیا ہوگا؟ سرکاری وکیل تو یہ کہتا ہے۔‘‘ وغیرہ پوچھ پوچھ کر اس کی تو ناک میں دم کیے جا رہے تھے۔ وکیل صاحب نے انھیں جھڑک دیا تھا۔’’ارے بھائی مجھے کچھ سوچنے بھی دو گے یا یونہی دماغ چاٹتے جاؤ گے، مقدمہ خراب ہو جائے گا تو کہو گے کہ یہ ہوا، وہ ہوا۔‘‘ موٹی موٹی کتابوں کے گٹھڑ اور لاء رپورٹر کی فائلیں لیے دونوں موکل سہم کر پیچھے ہی رہ گئے تھے۔ وکیل صاحب نے سگریٹ کا کش کھینچ کر باہر کھڑے دت سے کہا: ’’چائے کے لیے کہہ دیا؟‘‘

’’جی صاحب! ابھی آرہی ہے۔‘‘ دت نے بڑی مستعدی سے جواب دیا۔ پھر وہ اندر آکر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔

’’وہی دیوی سہائے صاحب ٹلو مار فرم سے جن کا چھ مہینے سے تنخواہ کا مقدمہ ہے۔‘‘ منشی نے بتایا۔

’’اوہ!‘‘ وکیل صاحب کو یاد آگیا، پھر انھوں نے ادھر دیکھا۔

’’کہہ رہے تھے ہماری تنخواہ وکیل صاحب دلا دیں تو اپنی لڑکی کی شادی کر دیں۔ بڑی لڑکی کو ’’چھوچھک‘‘ بھیجنا ہے۔ کوئی ان کی بھانجی بیاہی جا رہی ہے اسے بھات دینا ہے۔‘‘ دت نے بتایا۔ وہ ایک بار وکیل صاحب کی طرف دیکھتا اور ایک بار برج اور جیوتی کی طرف۔ وہ دونوں ایک دم ہنس پڑنے کے موڈ میں منہ پر ہاتھ رکھ کر دیکھ رہے تھے۔

’’وکیل صاحب کیا اپنی جیب سے دے دیں۔ واہ یہ اچھی کہی، تمھارا تو عدالت میں منہ نہ کھلے اور وکیل صاحب روپے دلا دیں؟‘‘

غصے کے مارے وکیل صاحب نے ایک جھٹکے سے ناک میں سے ڈھیر سا دھواں نکال ڈالا اور دو انگلیوں سے چوغے کے اندر سے جھانکتی قمیض کے کالر پر بندھی کلف لگی سفید ململ کی پٹی کو ذرا ٹھیک کیا۔ ان کی انگو ٹھی کا ہیرا زور سے چمک اٹھا۔

’’دیکھیے! وہ آگئے۔‘‘ برج نے کہا۔ جیوتی اور دت نے بھی آنکھیں اٹھا کر ادھر دیکھا۔ وکیل صاحب جان بوجھ کر سنجیدہ بنے بیٹھے رہے۔ سارا ماحول پر سکون ہو گیا۔

بیچ کی ایک لمبی چلی جاتی گیلری کے دونوں طرف وکیلوں کے کمروں کے دروازے تھے اور ان دروازوں کے بالکل سامنے کمروں کے دوسرے دروازے اس گیلری کے متوازی چلے جاتے برآمدے میں کھلتے تھے۔ اس طرف کے کمرے والے برآمدے میں سینکڑوں آدمی ۔۔۔ وکیل، موکل، ٹائپسٹ، چپڑاسی، گواہ اور ان گنت لوگ۔۔۔ آجا رہے تھے۔ عدالت کے لنچ کا وقت تھا، اس لیے پھل والے، دال سیب والے اور وکیلوں کے کمروں میں چائے پانی پہنچانے والے نوکر ادھر سے ادھر بھاگ رہے تھے، اس بھاگ دوڑ میں آدھے وکیلوں کے منشی تھے جو عدالت کے وقت ان کی کتابوں اور مسلوں کے بستے سنبھالتے تھے اورباقی وقت میں ساگ سبزی لانے اور بچوں کو سکول پہنچانے کا کام کر دیتے۔ برآمدے کے دروازے میں تبھی لگ بھگ اڑتالیس سال کا ایک آدمی نمودار ہوا۔ یہ آدمی بہت دھیرے دھیرے جیسے گھسٹ گھسٹ کر چل رہا تھا۔ پیلا اور بہت پرانا سا مڑا تڑا کوٹ، گھٹنوں سے ذرا نیچے لٹکی دھوتی، کالی پتلی پتلی ٹانگیں اور باٹاکے کرِمچ کے جوتے۔ شاید خریدنے کے بعد سے ان پر سفیدی نہیں ہوئی تھی اور فیتوں کا دور دور تک پتا نہیں تھا۔ دونوں جوتوں کی جیبیں دم کٹے کتوں کی پونچھ کی طرح اٹھ آئی تھیں۔ انگوٹھے اور چھوٹی انگلی کی جگہ دو چھید ہو گئے تھے۔ قمیض کے بٹن نہیں تھے اور سکڑی چھاتی کے سفیدی کی طرف بڑھتے بھورے بال جھانک رہے تھے، بنیان نہیں تھی۔ دونوں کندھے اس طرح اوپر اٹھے اور کمر کچھ اس طرح جھک گئی تھی جیسے ان کے دونوں کندھوں کو پکڑ کر کسی نے زور سے دبا دیا ہو۔ گردن نسبتاً لمبی اور ٹینٹوا ابھرا ہوا۔ ناک کے دونوں طرف آنکھوں کے نیچے سے ہونٹوں کے سروں تک دو موٹی موٹی جھریاں چلی آئی تھیں۔ دو دن کی بڑھی داڑھی والی چمڑی میں سفید بال چمک رہے تھے۔ ٹین کے فریم بیضوی میلے گندے شیشوں کا چشمہ ۔۔۔ جس کا ایک کانچ ٹوٹ گیا تھا اور دوسری طرف سے میلے سے ڈورے سے کان پر باندھا گیا تھا۔ کان ذرا باہر کی طرف نکلے ہوئے۔ بے رونق آنکھیں اور آدھے پاگلوں کی سی بے وقوف نگاہیں۔ جھریوں دار ماتھا اور آدھ آدھ انچ کے کھچڑی بالوں کے چاروں طرف پٹی۔۔۔ کیوں کہ چاند کے بیچ کی بڑی سی گول چندھیا گنج کی وجہ سے غائب تھی۔ ہاتھ میں ڈوروں سے بنا ایک تھیلا لے کروہ داخل ہوا۔ ان کی چال ڈھال اور صورت شکل سے لگتا تھا کہ انھوں نے یقیناً ہی بہی کے آگے بیٹھ کر زندگی بھر قلم گھسی ہے۔

’’آؤ بابو دیوی سہائے جی! وکیل صاحب آپ کو ہی پوچھ رہے تھے۔‘‘ کمروں کے بیچوں بیچ رکھی میز کے چاروں طرف یہ لوگ بیٹھے تھے اورا س دروازے کی طرف وکیل صاحب کی پیٹھ پڑتی تھی۔ برج بالکل سامنے تھا، بائیں طرف دت اور داہنی طرف جیوتی۔ برج نے انھیں دیکھتے ہی استقبال میں کہا۔ یہ لوگ اسی سال گریجویٹ ہو کر آئے تھے اور انہی وکیل صاحب کے یہاں کام سیکھتے تھے۔ تینوں ہی ایک دوسرے کی نگاہوں کو بچا رہے تھے۔

تبھی نوکر ان لوگوں کے بیچ میں ٹرے رکھ گیا۔اس بڑی سیاہ پلیٹ میں ککڑی کے پانچ چھ سینڈوچ تھے۔وکیل صاحب نے آخری کش کھینچ کر سگریٹ ایک طرف پھینک دی اور جھٹکے سے اٹھ کر سیدھے ہوتے ہوئے بولے: ’’آؤ بابو دیوی سہائے جی! بیٹھو۔‘‘ نہایت ہی مصروفیت سے وہ اس طرح سینڈوچ اٹھا کر کھانے لگے جیسے وہ جملہ انھوں نے کسی کو بھی مخاطب کر کے نہیں کہا ہو۔ دَت چار پیالوں میں چائے بنا رہا تھا۔ وہاں کوئی بیٹھنے کی جگہ نہیں تھی۔

بالکل وکیل کے پاس آ کر دیوی سہائے نے ادھر ادھر بیٹھنے کے لیے جگہ دیکھی۔ پاس پڑے تخت پر اپنے لال بستے، مسلوں کے پلندے اور مختلف کاغذات پھیلائے دونوں منشی دیوار سے لگے بیٹھے تھے۔ وہ دونوں ہی کسی مسل میں سے دیکھ کر کسی کے سمن پر نام اور ولدیت لکھ رہے تھے۔ ایک بولتا، دوسرا لکھتا۔ایک نے کاغذ ذراسے ہٹا کر تخت کے کونے پر ذرا سی جگہ بنا کر انھیں بیٹھنے کو جگہ دیتے ہوئے کہا: ’’بیٹھو بابو جی! بیٹھو یہاں بیٹھو۔‘‘ وہ پھر کام میں لگ گئے۔

دیوی سہائے نے بڑے سنبھل کر بینت کو تخت سے اس طرح ٹکایا جیسے ذرا زور سے رکھ دیں گے تو اس کے لگ جائے گی۔ پھر سیاہی کے دھبوں سے بھری بہت ہی پرانی پھٹی دری والے تخت کے کونے پر ہاتھ ٹیک کر اس پر بہت دھیرے سے بیٹھ گئے۔ بڑے آہستہ سے گود میں انھوں نے تھیلے کو رکھ لیا اور اس پر توجہ سے دونوں ہاتھ رکھ کر وہ جیسے کسی راز کو کھوجنے کے انداز میں وکیل صاحب کی طرف جھک گئے۔ وہ اس طرح ہانپ رہے تھے جیسے بہت دور سے چلے آرہے ہوں۔

’’ہوں!‘‘ وکیل صاحب نے جلدی جتانے کے لیے گھڑی کی طرف دیکھا اور گھوڑے کی نعل کے سائز کا کٹاؤ بناتے ہوئے منہ بھر کر سینڈوچ کتر لی۔ پھر چائے کا کپ ہونٹوں کی طرف بڑھایا۔ اس ’ہوں‘ کا مطلب تھا۔۔۔ جلدی کہو، کیا بات ہے؟

دیوی سہائے نے تینوں طرف دیکھا، پھر ناک سے آواز نکالتے ہوئے کہا:’’وکیل صاحب! ہماری تنخواہ کب تک مل جائے گی؟‘‘

تینوں سکھاڑی پھر ہنسنے کو ہو آئے۔ وکیل صاحب نے کہا:’’بابو دیوی سہائے جی! تم تو کبھی کبھی بے وقوفوں کی سی باتیں کرتے ہو۔ جب تک مقدمہ ختم نہیں ہوگا، تب تک روپے کیسے مل جائیں گے؟‘‘ ہونٹوں سے کپ لگا کر انھوں نے جیوتی کی طرف دیکھا۔

اسی بیچ دَت نے ذرا زور سے، جیسے کسی اونچا سننے والے سے کہہ رہا ہو، کہا: ’’وکیل صاحب کہتے ہیں آپ سے عدالت میں بولا تو جاتا نہیں ہے۔‘‘

دیوی صاحب نے وکیل صاحب کی طرف دیکھاجیسے تصدیق کرنا چاہتا ہو۔۔۔ کیا سچ مچ وہ ایسا کہہ رہے ہیں؟ پھر ڈرے ہوئے مجرم بچے کی طرح کہا: ’’اب کے تو وکیل صاحب ! میں نے بیان بڑے اچھے دیے تھے۔‘‘

’’ہاں! اب تو ٹھیک تھے۔‘‘ وکیل صاحب نے گیلر ی کے پار سامنے والے وکیل کے کمرے میں دیکھتے ہوئے کہا۔

’’ایک بیان اور کروا دو۔ اب کے ایسا بیان دوں گا کہ بس، معاملہ پار ہو جائے۔‘‘ دیوی سہائے ذرا جوش میں آ گئے۔

’’ وہ تو جب ہو گا تب ہو گا۔‘‘ وکیل صاحب نے پیالہ ٹرے میں رکھ دیا۔

’’ نہیں! ایک بیان میرا ویری گڈ اور کرا دو۔‘‘ دیوی سہائے ایسے گڑگڑ ائے جیسے پیر چھو لیں گے۔

’’وکیل صاحب کہہ رہے ہیں تمھارے ویری گڈ بیان ہو جائیں گے۔ فکر مت کرو۔‘‘

وکیل صاحب نے بیزار کن انداز میں برج کو دیکھا کہ ٹالو اس بلا کو۔ اس ’’ویری گڈ۔‘‘ لفظ پر تینوں پھر ادھر ادھر گردن گھما گھما کر ہنسنے لگے تھے۔

’’ہاں وکیل صاحب !مجھے روپے کی بڑی ضرورت ہے۔ سالا مکان والا تنگ کر رہا ہے۔ تمھاری بڑی لڑکی کے لڑکا ہوا ہے سوچھوچھک جانا ہے۔ بھانجی کو بھات دینا ہے اور گھر پر تمھاری بہو بیمار دھری ہے، دو مہینے سے۔ روپے دلا دو گے تو چھوٹی لڑکی کے ہاتھ پیلے کر دوں گا۔ ‘‘ وہ کہتے رہے۔

شاید یہی باتیں وہ اسی طرح کہہ کر گئے تھے کیوں کہ اس بار تینوں بری طرح کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ جیوتی کے منہ میں تو چائے تھی، اسے ایک دم سٹکنی پڑی، بری طرح کھانسی آگئی۔تبھی منشی رام سروپ بولے: ’’بابو دیوی سہائے جی!وکیل صاحب کا شکرانہ تو دلواؤ۔‘‘

’’سب دلواؤں گا، فکر مت کرو۔‘‘ انھوں نے منشی جی کی طرف پنجے پھیلا کر تسلی دی۔

منشی جی کھسک کر مینڈک کی طرح مسل اور کتابیں پار کرتے دیوی سہائے جی کے پاس آگئے:’’فکر تو کر ہی نہیں رہے۔ آج توکچھ دلواؤ۔‘‘

’’ابھی کہاں، روپے مل جائیں گے ۔۔۔‘‘ وہ بدھو کی طرح ادھر ادھر دیکھ رہے تھے۔ اصل میں انھیں ان لوگوں کی ہنسی کی وجہ نہیں سمجھ آ رہی تھی۔

’’بھیا! بابو لوگوں کو جب تک کچھ کھلواؤ گے پلواؤ گے نہیں، انھیں جوش کیسے آئے گا؟‘‘ منشی ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔

’’منشی جی! تم نے ان کی عرضی داخلہ دے دی؟‘‘ وکیل صاحب نے نئی سگریٹ جلا لی تھی اور بات کرتے وقت ان کی ناک اور منہ سے دھواں نکل رہا تھا۔

تبھی وہ دونوں موکل جن سے پیچھا چھڑا کر وکیل صاحب آئے تھے، کمرے میں آگئے۔ تخت پر کتابیں سنبھال کر انھوں نے پھر سہمی سی نگاہ سے وکیل صاحب کی طرف دیکھا اور اجازت کے انتظار میں اردلی کی طرح کھڑے ہو گئے۔

’’ابھی نہیں صاحب۔‘‘ منشی جی نے وکیل صاحب کی بات کا جواب دیا پھر دیوی سہائے کے کان کے پاس منہ لگا کر کہا:’’بابو دیوی سہائے! ایک روپیہ سات آنے دلواؤ، عرضی داخلہ دینی ہے۔‘‘

’’ایک روپیہ سات آنے! پہلے روپے دیے تھے، سوا سَو۔۔۔‘‘ دیوی سہائے کے منہ پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔

’’ارے پہلے روپے تو کورٹ فیس تھی، یہ تو دیکھو، چھ آنے چھاپنے کے۔۔۔‘‘ منشی نے انگلیاں ہوا میں سرگم کی طرح چلائیں جس کا مطلب تھا ٹائپ۔ ’’ایک آنہ کاغذ اور ایک روپے کے سٹامپ۔ لاؤ نکالو۔‘‘

دیوی سہائے نے جیسے مدد کے لیے دیکھا۔ وکیل صاحب اوپر منہ کر کے پنکھے پرآنکھ گڑائے منہ سے دھواں نکالتے کچھ سوچنے لگے تھے۔ تینوں سکھاڑی تاک لگائے گھور رہے تھے کہ اب کیا بے وقوفی کی بات آتی ہے کہ تینوں ہنس پڑیں۔ دیوی سہائے نے پھر اپنی جیبیں ٹٹولیں۔

’’جب تک عرضی نہیں دی جائے گی تب تک اگلی پیشی کیسے ہوگی؟‘‘ منشی انھیں سمجھا رہا تھا۔

انھوں نے بڑے مرے اورکانپتے ہاتھوں سے چاروں جیبیں ٹٹولنے کے بعد کہیں اندر کی جیب سے چشمے کی ایک بہت پرانی ڈبیا نکالی۔ اس کے چاروں طرف کس کر کئی بار ستلی سے لپیٹے دیے گئے تھے۔ سب لوگ ایسے تجسس سے انھیں دیکھنے لگے جیسے ابھی اس میں سے کوئی سانپ نکل آئے گا۔ دیوی سہائے نے ستلی کھول ڈالی۔ پھر بہت سنبھال کر ڈبیا کھولی۔ بہت پرانے نیلے گندے مخمل پر کچھ کاغذ، جن میں ایک پر جنم کنڈلی کے نقشے چمک رہے تھے، ایک ہسپتال کا پرچہ اور ایک ایک روپے کے کچھ نوٹ رکھے تھے۔ انھوں نے ڈبیا تخت پر رکھ دی اور منہ سے انگلی پر تھوک لے کر اس طرح گننے لگے جیسے سو دو سو نوٹ ہوں لیکن وہ تھے چار ہی۔ ایک بار گن کر دوبارہ شروع کیا۔۔۔

’’ابھی دو ایک بار اور گنیں گے۔‘‘ دت نے جیوتی کو بتایا:’’آپ سے نوٹ بھی نہیں گنے جاتے ہیں، لاؤ، میں گنوں۔‘‘ اور ایک طرح سے منشی نے تو روپے ان کے ہاتھ سے چھین لیے۔ وہ روکتے رہ گئے۔

’’منشی جی! ایک آدھ روپیہ ان سے زیادہ لے لیجیے گا، بعد میں ضرورت پڑتی ہے۔ نوٹس کی رجسٹری ہوگی۔‘‘ وکیل صاحب کو جیسے یکدم یاد آ گیا۔

نوکر ٹرے اٹھا لے گیا۔

’’سرکار۔۔۔!‘‘ دیوی سہائے جیسے ایک دم بوکھلا گئے۔ ایک بار منشی جی کی طرف مڑے اور ایک بار وکیل صاحب کی۔

’’سرکار کیا ہوتا ہے؟ پھر ایک عرضی بھی داخل کرنی ہو تو ہمیں رکنا پڑتا ہے۔ ہم تمھارے پیچھے کہاں کہاں مارے پھریں گے؟‘‘ وکیل صاحب نے جھڑکا۔

’’وکیل صاحب کہتے ہیں، تم تو روڈ انسپکٹر کی طرح سڑکیں ناپتے ہو۔‘‘ برج نے پھر زور سے کہا۔ تینوں پھر ہنس پڑے۔ روپے منشی جی نے سب موڑ کر جیب میں رکھ لیے اور تخت پر رکھی ڈبیا کو زور سے بند کر دیا۔

’’دیوی سہائے جی! یہ بی بی جی کہہ رہی ہیں، کچھ مچھلی وچھلی نہیں کھلواؤ گے؟ یہ کہتی ہیں، وکیل صاحب اور منشی جی کو تم کسی نہ کسی طرح سمجھ لو گے، کچھ ہم بابو لوگوں کو بھی مل جائے۔‘‘ دَت نے بڑی سنجیدہ صورت بنا کر جیوتی کی طرف اشارہ کیا۔

روپے چھن جانے سے دیوی سہائے بڑے مایوس ہو گئے تھے۔ منہ پر ایک جھری آتی، ایک جاتی، جیسے بڑے مشتعل ہوں۔ انھوں نے بڑی مر دہ آنکھوں سے جیوتی کی طرف دیکھا، یہ جاننے کے لیے کہ سچ مچ بی بی جی ایسا کہہ سکتی ہیں؟ جیوتی نے کہنی میز پر ٹکا لی تھی اور ہتھیلی پر ٹھوڑی ٹکائے چپ چاپ فلسفیانہ انداز میں یہ سب دیکھ رہی تھی۔ جب تک وہ ہنستی نہیں تھی اس کی آنکھیں بڑی بے رونق اور بجھی بجھی سی رہتی تھیں، منھ ایسا بے خواہش جیسے کبھی ہنسنا مسکرانا اور چمک نام کی چیز اس نے جانی ہی نہ ہو۔ ایک ایسا بجھاپن اور روکھا پن اس کے چہرے پر تھاجو اکثر خشک موضوعات پر کو رات بھر پڑھنے والوں کے چہرے پر آجاتا ہے۔ اس نے کوئی جذبہ نہیں دکھایا۔

’’یہ کہتی ہیں، ہمیں گول والی مچھلی کھلانا، یعنی چپٹی نہیں۔‘‘ برج نے جوڑا۔

وہ کچھ کہیں، اس سے پہلے ہی منشی جی بولے:’’کھلائیں گے صاحب، کھلائیں گے۔ ذرا اِن کا مقدمہ ٹھیک ہو جائے بس۔۔۔ پھر چاہے جتنی کھائیے۔ ان کی چھوٹی لڑکی تو مچھلی بڑی اچھی بناتی ہے۔ آپ سب کی دعوت کریں گے۔‘‘

’’ہمیں کیسے معلوم ہو، ابھی تک تو انھوں نے ایک پان بھی نہیں کھلایا۔‘‘ دت بولا۔

’’کیوں دیوی سہائے جی! دیکھو، بابو لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘ منشی جی نے اس طرح کہا جیسے اس بات کا انھیں ذرا بھی پتا نہیں تھا۔ پھر انھیں سمجھانے کے لہجے میں بولے: ’’ایسے کہیں کچھ کام ہو تا ہے، بابو لوگوں کو خوش رکھا کرو۔ اس تھیلے میں کیا ہے؟‘‘ انھوں نے تھیلے کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

دیوی سہائے جیسے خواب سے چونک اٹھے ہوں، انھوں نے جلدی سے تھیلا بچانے کے لیے دوسری طرف رکھ لیا۔ بڑی مشکل سے ہکلا کر بولے:’’کک کک کچھ نہیں۔‘‘

’’ ارے تو ایسے مرے کیوں جاتے ہو؟لاؤ میں دیکھوں۔‘‘ منشی جی نے جھپٹ کر تھیلا چھین لیا۔دیوی سہائے نے اسے پکڑ کر تھوڑا کھینچا لیکن منشی جی کا کھنچاؤ زیادہ تھا۔ انھوں نے بڑی بے بس اور بے حس نظر سے چاروں طرف دیکھا۔

منشی جی نے تھیلا ہاتھ میں لے کر انھیں سمجھایا: ’’جب تک بابو لوگوں کو خوش نہیں کرو گے، کیسے یہ لوگ وکیل صاحب سے آپ کے کام کی سفارش کریں گے۔‘‘ کہہ کر انھوں نے تھیلے کی آپس میں بندھی تنیاں کھول ڈالیں اور اس میں سے ایک میلا تولیہ نکال کر ایک طرف رکھ دیا۔

دیوی سہائے کے ہونٹ پھڑپھڑائے۔ انھوں نے پھر ایک بار اعتراض کرنے کے لیے ہاتھ پھیلائے لیکن منشی جی نے جھڑک دیا۔ اس نے تھیلے سے دو شیشیاں نکال کر تخت پر کھڑی کر دی تھیں۔۔۔ ایک چھوٹی، ایک بڑی۔ دونوں میں دوا بھری اور کاغذ کے خوراکوں کے نشان کاٹ کر چپکائے ہوئے تھے۔ سب لوگ پھر غور سے دیکھنے لگے تھے۔۔۔ دیکھیں، اب اس میں سے کیا نکلتا ہے۔

منشی جی نے چار سنگترے، تین موسمی اور ایک سیب نکال کر میز کے سرے پر رکھ لیے۔

’’آج تو دیوی سہائے جی! بڑا مال لیے جا رہے ہو اور کہہ رہے تھے کچھ نہیں ہے۔‘‘ دوسرا منشی وہیں دیوار کے سہارے سے بولا۔

’’ارے صاحب! یہ دیوی سہائے جی بڑے خوش مزاج آدمی ہیں۔ ذرا آپ کی تھاہ لے رہے تھے۔‘‘ طنز سے مسکرا کر منشی رام سروپ نے کہا: ’’کیوں، ہے نا دیوی سہائے جی؟‘‘

’’تو یہ ہمارے لیے لائے ہو۔‘‘ برج کی آنکھوں میں چمک آگئی۔

’’ہاں! ہاں! کھائیے۔‘‘ اس بار بڑی مشکل سے جیسے گلے میں اٹکے کف کو صاف کر کے، دیوی سہائے مسکرائے۔۔۔ لگا، رونے لگیں گے۔

’’ارے کھائیے بابو صاحب! آپ تو دیکھ رہے ہیں۔‘‘ منشی جی نے سنگترے کے چھلکے میں انگوٹھا گڑا کر چھیل ڈالا۔

پھلوں میں حصے بانٹ ہو گئے اور دیوی سہائے نے مرے مرے ہاتھ سے تولیہ تھیلے میں ڈالا، اوپر سے شیشیاں ٹھونسیں اور تھیلا کھڑا کر کے چپ چاپ سنگترے اور موسمیاں چوسی جاتی دیکھتے رہے۔

تینوں سکھاڑی بڑے مطمئن تھے۔ کچھ حصہ منشیوں کو بھی مل گیا تھا۔ وکیل صاحب بڑے غور سے سامنے کھلی کتاب میں کچھ پڑھتے ہوئے دوسرے ہاتھ میں چھلے ہوئے سنگترے کی پھانک پکڑے رہے۔۔۔ یاد آجاتا منہ میں ایک ڈال لیتے۔ دیوی سہائے بدھو کی طرح ادھر ادھر دیکھتے رہے۔ سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ انھوں نے چھڑی اٹھائی، تھیلا پکڑا اور اٹھ کھڑے ہوئے۔

’’تو بابو جی میں جاؤں؟‘‘ کچھ دیر کھڑے رہ کر انھوں نے وکیل صاحب سے جھجکتے ہوئے پوچھا۔

وکیل صاحب سوتے سے جاگے۔ خوب زور سے سرد ہو کر بولے: ’’ہاں! اب تم جاؤ۔۔۔ اور ہاں، فکر مت کرو۔۔۔ سب ہو جائے گا۔ تمھارے پیسے ہم دلا دیں گے۔‘‘ وہ پھر ڈوب گئے۔

منشی نے تبھی کہا: ’’ایسے تھوڑے ہی ملتے ہیں روپے۔ سب کو تو تم نے خوش کر دیا، منشی جی کیا بھاڑ میں جاپڑیں، ارے، ایک دو آنے بیڑی کے تو دیتے جاتے۔‘‘ اور اس نے بے شرم اور بے لاگ ہو کر دیوی سہائے جی کی ساری جیبیں اوپر سے ٹٹول ڈالیں، پھر ٹینٹ بھی اس طرح ٹٹولی جیسے تھانے میں کسی جیب کٹ کی تلاشی لی جاتی ہے۔ کچھ نہیں تھا۔

’’جانے دو بیچارے کو، زیادہ تنگ مت کرو۔‘‘ وکیل صاحب نے بیچ میں ڈسٹرب ہو کر کہا۔

’’اچھا جائیے لیکن بھولنا مت۔۔۔ ‘‘ منشی نے کافی ہمدردانہ انداز میں کہا۔

دیوی سہائے پاؤں گھسٹاتے گھسٹاتے باہر کی طرف چل دیے۔ جیوتی ایک دم محتاط ہو کر اپنی انگلی میز پر رکھ رکھ کربتا رہی تھی: ’’پہلے یہ کہہ رہے تھے۔۔۔ کیسے انھوں نے ’’ویری گڈ‘‘ بیان دیا تھا۔ جج نے پوچھا یہ بات ہوئی؟ انھوں نے کہا ’نو لکھو، نو‘ اور اس وقت تک اپنا بیان روکے رکھا جب تک برج نے ’نو‘ نہیں لکھ لیا۔۔۔‘‘ تینوں پھر ہنس پڑے۔

’’بے وقوف ہے۔‘‘ وکیل صاحب کہہ ہی رہے تھے کہ باہر کسی کورٹ میں چپڑاسی نے اونچی آواز میں بانگ دی۔۔۔ ’’رگھو مل منے لال حاضر ہو و و و۔۔۔! ‘‘

لنچ ٹائم ختم ہو گیا تھا۔وکیل صاحب جھٹکے سے اُٹھے۔ ان کے گلے کی دونوں پٹیاں او ر کالر ہلے۔

اس وقت باہر وکیل صاحب کے دروازے کے سامنے برآمدے میں کھڑے دیوی سہائے نے تھیلے میں سے ایک ایک کر کے دونوں شیشیاں نکالیں اور ڈاٹ کھول کر کروندے کی جھاڑی میں اوندھی کر دیں۔ جب ساری دوا پھیل گئی تو انھیں جیوں کی تیوں تھیلے میں ٹھونسا۔ زور سے ناک صاف کی اور انگلیوں کو کھمبے سے پونچھتے ہوئے ڈگمگاتے ہوئے قدموں سے سیڑھیاں اترنے لگے۔ تبھی برآمدے سے کالی مرغی کی طرح وکیل صاحب گزر گئے۔۔۔ دوچوزوں کی طرح ان کے ساتھ موکل دونوں طرف لگے تھے۔




چھوٹے چھوٹے تاج محل (تحریر: راجندر یادو، ہندی سے ترجمہ: محمد عباس)

راجندر یادو کا نام ہندی ادب کی نمایاں تحریک ‘نئی کہانی’ سے منسوب ہے۔ آپ نے منشی پریم چند کے رسالے ‘ہنس’ کی دوبارہ اشاعت کا بھی اہتمام کیا۔ راجندر یادو کا پہلا ناول ‘پریت بولتے ہیں’ کے نام سے 1951 میں شائع ہوا جس پر بعدازاں باسو چیٹرجی نے فلم بھی بنائی۔ ناولوں کے علاوہ آپ نے کہانیاں بھی لکھیں اور روسی ادب کا ہندی میں ترجمہ بھی کیا۔ محمد عباس ان کی کہانیوں سے اردو قارئین کو متعارف کرا رہے ہیں۔ محمد عباس کے کیے یہ تراجم ‘دستاویز مطبوعات، لاہور’ نے شائع کیے ہیں جنہیں اب لالٹین پر شاٰئع کیا جا رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بات نہ میرا نے اٹھائی نہ خود اُس نے۔ ملنے سے پہلے ضرور لگا تھا کہ کوئی بہت ضروری بات ہے جس پر دونوں کو باتیں کر ہی لینی ہیں لیکن جیسے ہر پل اس بات کی توقع میں اسے ٹالتے رہے۔بات گلے تک آ آ کر رہ گئی کہ وہ ایک بارپھر میرا سے پوچھے: ’کیا اس تعلق کو مستقل روپ نہیں دیا جا سکتا؟‘لیکن کہیں پہلے کی طرح پھر اسے برا لگے تو؟اس کے بعد دونوںمیں کتنا کھنچاؤ اور دوری آ گئی تھی۔

پتا نہیں کیوں،’ تاج‘ اسے کبھی خوب صورت نہیں لگا۔پھر دھوپ میں سفید سنگِ مر مر کا چوندھا لگتا تھا، اسی لیے وہ ادھر پیٹھ کیے بیٹھا تھا۔ لیکن چوندھا میرا کو بھی تو لگتا ہے ناں؟ہو سکتا ہے تاج اسے سندر ہی لگتا ہو۔ پرچھائیں ادھر جمنا کی طرف ہو گی، ادھر سے سپاٹ دھوپ میں جھل جھل کرتا سنگِ مر مر ہے۔ بس۔ اس تپتے ہوئے پتھر پر چلنے میں تلووں کے جھلسنے کے خیال سے اس کے سارے جسم میں پھریری دوڑ گئی۔

تین سال بعد ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔ دیکھ کر صرف مسکرائے تھے۔مطمئن انداز میں۔ ہاں دونوں ہیں اور ویسے ہی ہیں۔ میرا کچھ نکھر آئی ہے اور شاید وہ، وہ پتا نہیں کیسا ہو گیا ہے۔ جانے کتنے پورے کے پورے مکالمے، سوال جواب اس نے میرا کوسامنے بٹھا کردل ہی دل میں بولے تھے، گفتگو کے تصور باندھے تھے اور اب بس کھسیانے انداز سے مسکرا کر ہی استقبال کیا تھا۔ اس پل سے ہی اسے اپنے ملنے کی بے معنویت کا احساس ہونے لگا تھا۔جانے کیوں۔ کیا ایسی بات کریں گے وہ،جو اکثرنہیں کر چکے ہیں؟ سال چھ مہینوںمیں ایک دوسرے سے خیر وعافیت کی خبر جان ہی لیتے ہیں۔

اٹھے ہوئے گھٹنوں کے پاس لان کی گھاس پر میرا کا ہاتھ چپ چاپ رکھا تھا۔ بس انگلیاں اس طرح اٹھ گر رہی تھیں جیسے کسی بہت نازک باجے پر ہلکے ہلکے گونجتے سنگیت کی تال کو باندھ رہی ہوں۔ میرا نے لوہے کا چھلا ڈال رکھا تھا،شاید شنی کی نحوست دور رکھنے کے لیے۔اس نے دھیرے سے اس کی سب سے چھوٹی انگلی میں اپنی انگلی ہک کی طرح اٹکا لی تھی۔ پھر ہاتھ اٹھا کر دونوں ہتھیلیوں میں دبا لیا تھا۔ پھر دھیرے دھیرے باتوں کی دھارا پھوٹ پڑی۔

وجے کا دھیان گیا۔ بڑی بڑی مونچھوں والا کوئی چھوٹا سا کیڑا میرا کی کھلی گردن اور بلاؤز کے کنارے آ گیاتھا۔ جھجک ہوئی، خود جھاڑ دے یا بتا دے۔ اس نے اپنا منہ دوسری طرف گھما لیا۔ داخلے کی دہلیز کی سیڑھیاں جھاڑیوں کی اوٹ میں آ گئی تھیں، صرف اوپر کا حصہ نظر آ رہا تھا۔ ہچکچاتے ہوئے کیرم کا سٹرائیکر مارنے کی طرح اس نے کیڑا انگلیوں سے پرے چھٹک دیا۔ نسوں میں سنسناہٹ اترتی چلی گئی۔ انگلیوں سے وہ جگہ یوں ہی جھاڑ دی،جیسے گندی ہو گئی ہو۔میرا اُسی پہلے کے سے انداز میں اپنی سہیلی کے بیاہ کی پارٹی میں آئے لوگوں کی تفصیل بتاتی رہی۔اس نے کچھ نہیں کہا، نہ وہاں رکھا وجے کا ہاتھ ہٹایا ہی۔ وجے نے ایک بار پھر چور نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھااور آگے بڑھ کر اس کی دونوں کنپٹیوں کو ہتھیلیوں سے دبا کر اپنے پاس کھینچ لیا۔ نہیں، میرا نے غصہ نہیں کیا،جیسے وہ امید کر رہی تھی کہ یہ لمحہ آئے گا ضرور۔ لیکن پہلے اس کے ماتھے پر تیکھی لکیروں کی پرچھائیاں ابھریں اور پھر ہلکی سی مسکراہٹ کی لہروں میں بدل گئیں۔ ایک عجب، بکھرتی سی، سمٹی، دھوپ چھاؤں مسکراہٹ۔وجے کا جی چاہا، ریگستان میں بھٹکتے پیاسے کی طرح دونوں ہاتھوں سے صراحی کو پکڑ کر اس کی مسکراہٹ کی شراب مجنونانہ انداز میں پیتا چلا جائے۔۔۔پیتا چلا جائے۔۔۔ غٹ ۔۔۔غٹ ۔۔۔ اور آخر لڑکھڑا کر گر پڑے۔ پتلے پتلے ہونٹوں سے ایک نامعلوم سی پھڑکن لرز رہی تھی۔ اس رومانی خمار میں بھی وجے کو خیال آیا کہ پہلے میرا کا چشمہ اتار لے۔ ٹوٹ نہ جائے۔ تب اس نے دیکھا، ہریالے فواروں جیسے مورپنکھوں کے دوتین پیڑوں کے پیچھے پورے پورے دو تاج محل چشمے کے شیشوں میں اتر آئے ہیں۔ دودھیا ہاتھی دانت کے بنے سے دو سفید ننھے ننھے کھلونے۔۔۔

پتا نہیں کیوں، اسے تاج محل کبھی اچھا نہیں لگا۔ دھیان آیا، بن بلائے بوڑھے چوکیدار کی طرح تاج محل پیچھے کھڑا دیکھ رہا ہے۔ باتوں کے بیچ وہ اسے کئی بار بھول گیاتھا لیکن دانتوں میں اٹکے تنکے سا اچانک ہی اسے یاد آ جاتا تھا کہ وہ اس کے سائے میں بیٹھے ہیں جو بہت بڑا ہے،جوعظیم ہے۔۔۔جو ۔۔۔؟اتنی بڑی عمارت !اس کی مکمل خوب صورتی کو ایک ساتھ وہ کبھی تصور میں لا ہی نہیں پایا۔۔۔ ایک ایک حصہ دیکھنے میں کبھی اس میں کچھ خوبصورت نہیں لگا۔ لوگوں کے اپنے ہی دل کی خوبصورتی اورشعریت رہی ہو گی جواس میں تبدیل کر کے دیکھ لیتے ہیں، کبھی موقع ملے گا تو وہ ہوائی جہاز سے تاج کی خوبصورتی کے کلی جائزے کی کوشش کرے گا۔ کئی بڑے فن پارے اس طرح کے دیکھے تو ہیں۔۔۔ اور تب سارے ماحول کے بیچ کوئی بات لگی تو ہے۔۔۔ مگر یہ چشمے کے کانچوں میں جھلملاتے، دھوپ میں چمکتے تاج ۔۔۔ کھنچاؤ وہیں تھم گیا۔ اس نے بڑے بے معلوم انداز سے گہری سانس لی اور اپنے ہاتھ ہٹا لیے۔ آہستہ سے:’نہیں! یہاں نہیں۔ کوئی دیکھ لے گا۔۔۔‘یہ اسے کیا ہو گیا؟

اچانک میرا کو ہوش سا آ گیا۔ امڈتی لاج چھپانے کے لیے سٹ پٹا کر ادھرادھر دیکھا، کوئی بھی تو نہیں تھا۔پاس والی لال لال اونچی دیوار پرابھی ابھی راج مزدور سے لگنے والے مرمتیے لوگ آپس میں ہنسی مذاق کرتے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے گئے ہیں۔ انھیں بندر کی طرح دیوار پر بھاگ لینے میں مہارت ہے۔ روش کے پار پڑوس کے لان میں دو تین مالی پائپوںکو ادھر ادھر گھماتے پانی لگارہے تھے، وہ بھی اب نہیں ہیں۔ کھانا کھانے گئے ہوں گے۔ میرا نے بغل سے ساڑھی کھینچ کر کندھے کا پلا ٹھیک کر لیا۔ پھر وجے نے اَن منے انداز سے گھاس کا ایک پھول توڑا اور آنکھوں کے آگے انگلیوں میں گھمانے لگا۔ میرا نے چشمہ اتار کر منہ سے ہلکی سی بھاپ دی اور ساڑھی سے کانچ پونچھے، بالوں کی لٹوں کو کانوں کے پیچھے اٹکایا اور چشمہ لگا کر کلائی کی گھڑی دیکھی۔

بڑ ابوجھل سکوت آ گیا تھا دونوں کے بیچ۔ وجے کو لگا انھیں کچھ بولنا چاہیے ورنہ یہ خاموشی کا بوجھ دونوں کے بیچ کی کسی بہت کومل چیز کو پیس دے گا۔ ہتھیلی پر یوں ہی اس تنکے سے کراس اور تکون بناتا وہ لفظوں کو ٹھیل کر بولا:’’تو پھر اب چلیں۔۔۔؟ دیر بہت ہو رہی ہے۔‘‘

میرا نے سر ہلا دیا۔ لگا جیسے وہ کچھ کہتی کہتی رک گئی تھی یا انتظار کر رہی ہو کہ وجے کچھ کہنا چاہتا ہے لیکن وہ نہیں کہہ پا رہا۔ پھر تھوڑی دیر خاموشی رہی۔ کوئی نہیں اٹھا۔ تب پھر اس نے مرے مرے ہاتھوں سے جوتوں کے فیتے کسے، اخبار میں سنگترے اور مونگ پھلی کے چھلکے پھینکے۔ بیٹھنے کے لیے بچھائے گئے رومال سمیٹے گئے اور دونوں ٹہلتے ہوئے پھاٹک کی طرف چلے آئے۔

تین کا وقت ہو گا۔ ہاتھ میں گھڑی ہوتے ہوئے بھی اس نے اندازہ لگایا۔ دھوپ ابھی بھی تیز تھی۔ ایک آدھ بار گلے اور کنپٹیوں کا پسینہ پونچھا۔ آتے وقت تو بارہ بجے تھے۔ اس وقت اسے ہنسی آ رہی تھی۔ ملنے کا وقت بھی ان لوگوں نے کتنا عجیب رکھا ہے۔

جیسے اس وقت سے بہت دور کھڑے ہو کر اس نے دہرایا تھا’بارہ ۔۔۔بجے، جون کا مہینہ اور تاج محل کا لان،وہ پہلے آ گیا تھا اور انتظار کرتا رہا تھا۔ اس وقت کیسی بے چینی، کیسی چھٹپٹاہٹ،کیسی بے تابی تھی۔۔۔ یہ وقت بیتتا کیوں نہیں ہے؟بہت دنوں سے گھڑی کی صفائی نہ ہو پائی۔ اس لیے شاید سست ہے۔ابھی تک نہیں آئی۔ ان لڑکیوں کی اسی بات سے سخت جھنجھلاہٹ ہوتی ہے۔ کبھی وقت کا خیال نہیں رکھتیں۔ جانے کیا مزا آتا ہے انتظار کرانے میں۔ وہ جان بوجھ کر ادھرآنے والے راستے کی جانب سے منہ پھیرے تھا۔ امید کر رہا تھا کہ اچانک ادھر مڑ کر دیکھے گا تو پائے گا کہ وہ آ رہی ہے لیکن دو تین بار ایسا کر چکنے کے بعد بھی وہ نہیں آئی۔جب دوسری طرف منہ موڑے رہ کر بھی وہ کن اکھیوں سے ادھر ہی جھانکنے کی کوشش کرتاتو خود اپنے پر ہنسی آتی۔ اچھا سیڑھیاں اتر کر آنے والے تین لوگوں کو وہ اور دیکھے گا اور اگر ان میں بھی میر انہیں ہوئی تو دھیان لگا کر کتاب پڑھے گا۔ جب آنا ہو، آ جائے۔ ایک دو تین، ہوسکتاہے،اگلی وہی ہو۔ ہش، جائے جہنم میں نہیں آتی تو، ہاں تو نہیں۔ اچھا،آؤ، تب تک یہی سوچیں کہ میرا ان تین سالوں میں کیسی ہو گئی ہو گی۔ کیسے کپڑے پہن کر آئے گی؟ ایک دوسرے کو دیکھ کر وہ کیا کریں گے؟ ہو سکتا ہے، جو ش سے لپٹ جائیں، کچھ بول نہ پائیں۔ اس کے ساتھ ایسا ہوتا نہیں ہے، لیکن کون جانے، اس جوش میں ۔۔۔

آخر وہ آئی تو وہ اسے پاس آتے دیکھتا رہا تھا۔ ہر بار وہ ادھر سے نگاہیں ہٹانے کی کوشش کرتا کہ اسے یوں نہ دیکھے، پاس آنے پر ہی دیکھے اور اچانک ملنے کے تھرل کو محسوس کرے۔ لیکن وہ دیکھتا رہا تھا اور نہایت مؤدب طریقے سے بولا تھا۔۔۔’’نمستے میرا جی۔۔۔‘‘جھینپ کر میرا مسکرا پڑی تھی۔ دھوپ میں اس کا چہرا لال پڑ گیا تھا۔ پھر دونوں اس لان میں آ بیٹھے تھے۔ ایسے مطمئن، ایسے پر سکون جیسے روز ملتے ہوں۔

’’میں نے سوچا، تم شاید نہ آؤ، یاد نہ رہے۔‘‘
’’آپ نے لکھا تھا تو یاد کیسے نہیں رہتا؟لیکن ٹائم بڑا عجیب ہے۔‘‘
’’ہاں سردیوں کی چودھویں کی چاندنی رات تو نہیں ہے۔‘‘اپنے مذاق پر وہ خود ہی شرمندگی محسوس کرتا سنجیدہ ہو کر بولا:’’اس وقت یہاں ذرا تنہائی ہوتی ہے۔‘‘

سچ مچ بڑا عجیب ٹائم تھا۔میرا کے ساتھ ایک ایک قدم لوٹتے ہوئے اس نے سوچا۔ دوپہر کی دھوپ اور ۔۔۔پیار کرتے دو پریمی۔۔۔ پیار کرتے پریمی، اس نے پھر دہرایا۔ یہ پیار تھا؟جیسے برسوں سے ملنے والے دو دوست ہوں، جن میں باتیں کرنے کی لذت ختم ہو گئی ہو۔سفید سنگِ مرمرپر دھوپ پڑ رہی تھی، چوندھا تھا، اس لیے ادھر پیٹھ کر لی تھی۔ رہ رہ کر جھنجھلاہٹ آتی۔ کس بد دعا نے ہمارے خون کو جما دیا ہے؟یہ ہو کیا گیاہے ہمیں ؟کوئی گرمی نہیں، کوئی جوش اور کوئی جذبہ نہیں۔۔۔ کیا بدل گیا ہے اس میں؟ہاںمیرا کا رنگ کچھ کھل گیا ہے۔۔۔ بدن نکھر آیا ہے۔

لوٹتے وقت بھی اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ بوجھ، یہ کھنچاؤ کیا ہے؟ دونوں یوں ہی گھاس میں کاٹی ہوئی لال پتھروں کی جالی پر قدم قدم ٹہلتے ہوئے سیڑھیوں تک جائیں گے۔۔۔پھاٹک میں بیٹھے ہوئے گائیڈوں اور دربانوں کی تیز امیدوارانہ نگاہوں کو زبردستی جھٹلاتے بجری پر چر چر، چر چر کرتے تانگے یا رکشے میں جا بیٹھیں گے۔۔۔ اور ایک موڑ لیتے ہی سب کچھ پیچھے چھوٹ جائے گا۔ کل وہ لکھے گا۔’’میرا! میرا ! کل کے میرے رویے پرتمھیں حیرت ہو ئی ہو گی۔ ہو سکتا ہے برا بھی لگا ہو ۔۔۔لیکن ۔۔۔ لیکن۔۔۔‘‘

اور پھر چشمے کے کانچوں میں جھانکتا تاج محل مجسم ہو کے چلا آیا۔ ’تمھاری پلکوں پر تیرتے دو تاج محل!‘‘کتنا سندر جملہ ہے(یہ تونئی غزل ہو گی) ٹیگور نے دیکھا ہوتا تو ’دنیا کے گالوں پرڈھلک آئی آنسو کی بوند‘ کبھی نہ کہتے۔۔۔کہتے’گالوں پر ڈھلک آئے آنسوؤ ں میں جھانکتے تاج محل کی رو پہلی مچھلیوں سی پرچھائیاں ۔۔۔‘ لیکن میرا کی آنکھوں میں تو اسے نمی کا بھی سایہ نہ دِکھا تھا، کتنے بے روح ہو گئے ہیں ہم بھی آج کل۔ وہ کل والے خط میں لکھے گا۔’’ہکسلے کی نقل نہیں کر رہا،جانے کیوں،مجھے تاج محل کبھی خوبصورت نہیں لگا۔ لیکن پہلی بار جب میں نے تمھاری پلکوں پر تاج کی پرچھائیں دیکھی تو دیکھتا رہ گیا۔ پچھلے دنوں کی ایک عجیب سی بات مجھے یاد ہو آئی۔ اس گھڑی۔۔۔‘‘

ارے ہاں، اب یاد آیا، کہ کیوں وہ اچانک یوں سست ہو گیا تھا۔ اس بات کو بھی کبھی جھٹلایا جا سکتا ہے؟ ’ہاں، میرے لیے تو وہ بات ہی تھی۔۔۔ ‘وہ لکھے گا۔ اسے لگا، دل ہی دل میں وہ جسے پکار رہا ہے، جسے خط لکھ رہا ہے، وہ ساتھ ساتھ چلنے والی یہ میرا نہیں ہے، وہ تو کوئی اور ہے ۔۔۔ کہیں دور ۔۔۔بہت دور۔۔۔ر ۔۔۔وہی میرا تو اس کی اصلی عزیز اور محبوب ہے۔ یہ ۔۔۔ یہ اس سے تو جب جب ملا ہے، اسی طرح اداس ہو گیاہے لیکن اُس میرا سے ملنے کی کشش اِس کے پاس کھینچ لاتی ہے۔اِس کی تو نہ جانے کتنی باتیں ہیں جو اسے قطعی پسند نہیں ہیں۔ جیسے ؟ وہ یاد کرنے کی کوشش کرنے لگا، کہ کیا کیا پسند نہیں ہے؟ جیسے اس وقت اسے اسی بات پرجھنجھلاہٹ ہو رہی ہے کہ میرا نیچے بنی جالی کے پتھروں پر ہی پاؤں رکھ کرکیوں نہیں چل رہی۔ بیچ بیچ میں گھاس پہ پاؤ ں کیوں رکھ دیتی ہے۔

اور اس سب کے پار دونوں کان لگائے رہے کہ دوسرا کچھ کہے۔ایک بات سوچ کر وہ اچانک خود ہی ہنس پڑا۔جب وہ لوگ بہت بڑے بڑے ہو جائیں گے،سمجھو چالیس پچاس سال کے تو ہنس ہنس کر کیسے دوسروں کو اپنی اپنی بے وقوفیاں سنایا کریں گے۔ کیسے وہ لوگ چھپ چھپ کر تاج محل میں ملا کرتے تھے۔

’’چار پانچ سال ہو گئے ہوں گے اس بات کو ۔۔۔‘‘ اس کے من کے اندر کی سطروں پر خط چلتا رہا۔یہ سب وہ اس خط میں لکھے گا نہیں،وہ صرف اس بہانے سلسلہ وار لفظوں میں اس سارے اتفاق کو یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔۔۔ وہ، دیو، راکا جی، اور مُن مُن اسی طرح تو لوٹ رہے تھے۔ چپ چپ، اداس اور منحوس شام تھی اس لیے پرچھائیاں پیچھے خوب لمبی لمبی چلی گئی تھیں۔

اچھی طرح یاد ہے، ستمبر یا اکتوبر کا مہینہ تھا۔ کالج سے آ کر چائے کاکپ ہونٹوں سے لگایا ہی تھا کہ کسی نے بتایا: ’’آپ کو کوئی صاحب بلا رہے ہیں۔‘‘
وہ چڑ کر اٹھا :’’کون آ گیا ہے اس وقت۔‘‘
’’ارے آپ؟‘‘
’’پہچانا نہیں آپ نے؟‘‘
’’ارے صاحب! خوب آپ کو نہیں پہچانوں گا؟‘‘ لیکن سچ مچ اس نے پہچانا نہیں تھا۔ دیکھا ضرور ہے کہیں، شاید کلکتہ میں۔ ایسا کئی بار ہوا ہے۔ لیکن وہ حتی الامکان یہ جتانے کی کوشش کرتا ہے کہ پہچان رہا ہے اور بات چیت سے پہچان کی ڈور پکڑ کر یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے:’’اندر آئیے ناں!‘‘
’’نہیں مسٹر ماتھر! بیٹھوں گا نہیں۔گلی کے باہر میری وائف اور بچہ کھڑے ہیں۔۔۔‘‘انھوں نے معذرت چاہنے کے لہجے میں کہا:’’آپ کچھ کر رہے ہیں کیا۔۔۔؟‘‘
’’لیکن انھیں وہاں۔۔۔؟یہیں بلا لیجیے ناں۔‘‘
’’نہیں دیکھیے۔ ایسا ہے کہ ہم لوگ ذرا تاج دیکھنے آئے تھے۔یاد آیا، آپ بھی تو یہیں رہتے ہیں۔ جگہ یاد نہیں تھی، سو ایک ڈیڑھ گھنٹا بھٹکنا پڑا۔ خیر آپ مل گئے۔ اب اگر کچھ کام نہ ہو تو ۔۔۔ بات ایسی ہے کہ ہمیں آج ہی لوٹ جانا ہے۔۔۔‘‘وہ سیڑھی پر ایک پاؤں رکھے کھڑے تھے: ’’آپ کسی طرح کے تکلف میں نہ پڑیں۔ پاؤںمیں چپل ڈالیے اور چلے آئیے۔‘‘

گلی کے باہر گاڑی کھڑی تھی۔ پیچھے کا دروازہ کھلا تھا اور اس کو پکڑے پچھلے مڈ گارڈ سے ٹکی ایک خاتون کھڑی تھیں۔گہری ہری بنگلوری ریشم کی ساڑھی، بنگالی طرز کا چوڑا چوڑا جُوڑااور بیچوں بیچ جگ مگ کرتا ہشت پہلو رو پہلا ستارہ۔مڈ گارڈ پر چھوٹا سا چار پانچ سال کا بچہ پھسلتے جوتوں کو جیسے تیسے روکے بیٹھا تھا۔ دونوں بانہوں سے اسے سنبھالے ہوئے وہ اس کی کلائی پکڑے چھوٹی سی انگلی سے دھول لدے مڈگارڈ پر لکھا رہی تھیں۔ ٹی اے جے۔ قدموں کی آواز سے چونک کر مڑیں اور استقبال میں مسکرائیں۔ بچے کو سنبھال کر اتارا، پھر دونوں ہاتھ جوڑ دیے۔ پھر خود ہی بولیں: ’’دیکھیے! آپ سے وعدہ کیا تھا کہ۔۔۔‘‘

’’حضرت آ ہی نہیں رہے تھے۔۔۔‘‘وہ بیچ میں ہی بات کاٹ کر بولے۔ پھر اچانک بولے:’’اچھا راکا! اب بیٹھو، ورنہ اندھیرا ہو جائے تو دیکھنے کا مزا بھی نہیں رہے گا۔‘‘
راکا۔۔۔راکا۔۔۔ہاں کچھ یاد تو آرہا ہے۔ ڈرائیور کی بغل میں بیٹھ کر اس نے ایک آدھ بار گھوم کر دیکھا جیسے یہاں کہیں ان کا نام بھی لکھا مل جائے گا۔
’’کیسے ہیں؟ بہت دنوں بعد ملے ہیں۔ آپ کو یاد ہے،کلکتہ میں ہم لوگ ملے تھے۔۔۔؟اس دن ہم لوگوں نے آپ کو کتنی دیر کرا دی تھی۔‘‘سنہرا رنگ، کانوں میں گول کنڈل، بہت ہی بے معلوم سی لپ اسٹک۔ ساڑھی کا پلا سنبھالنے کے لیے کھڑکی پر ٹکی کہنی۔

ارے ہاں!اب یا د آیا۔ ان سے تو ملاقات بڑے عجیب اندازسے ہوئی تھی۔ نیو مارکیٹ کے ایک ریستوران میں بیٹھا وہ شوقیہ اپنی اپنی موسیقی کی مہارت کا مظاہرہ کرنے والوں کو دیکھ رہا تھا۔ پھر جانے کیا من میں آیا کہ خود بھی اٹھ کر ماؤتھ آرگن پر دیر تک سینما کے گیتوں کی دھنیں نکالتا رہا۔ اس چھوٹے سے اسٹیج سے ہٹ کر جس میز پر وہ بیٹھا تھا، اس پر بیٹھے تھے یہ لوگ۔ یہ راکا جی اور یہ مسٹر ۔۔۔کیا؟ہاں مسٹر دیو۔

’’سچ مچ آپ نے بہت ہی سندر بجایا۔ بڑی اچھی پریکٹس ہے۔ ‘‘ دیو نے اس کے بیٹھتے ہی کہا۔ رومال سے باجے کو اچھی طرح پونچھ کر جیب میں رکھ ہی رہا تھا کہ چونک گیا۔ راکا کے چہرے پر تحسین اتر آئی تھی اور یوں ہی کپ کے اوپر ہتھیلی ٹیکے وہ ایک ٹک میز کو دیکھ رہی تھیں۔
’’آپ کی چائے توپانی ہو گئی ہو گی۔ اور منگائے دیتے ہیں۔ بیرا سنو! ادھر۔‘‘

اس کے منع کرنے پر بھی چائے اور آگئی:’’چھٹیوں میں گھومنے آئے ہیں؟اچھا ! کیسا لگا کلکتہ آپ کو۔۔۔جی ہاں،گندا توہے آگرہ کے مقابلے میں۔۔۔ لیکن ایک بار من لگ جانے پر چھوڑنا مشکل ہو جاتاہے۔۔۔‘‘پھر تعریف، احسان مندی کا تبادلہ، شناسائی اور رات دیر تک ان کے لوئر سرکلر روڈ کے فلیٹ پر باتیں، کھانا کافی اور موسیقی۔ راکا کو ستار کا شوق ہے۔ دیو کسی فارن کمپنی کے انچارج منیجر کی صحبت میں غیر ملکی سمفنیاں پسند کرتے ہیں۔ اس کا ماؤتھ آرگن سننے کے بعد راکا جی نے ستار سنایا تھا اور پھر دیو نہایت ہی خوبصورت پلاسٹک کے لفافوں میں بند اپنے بدیسی ریکارڈ نکال لائے تھے۔ ایک ایک ریکارڈ آدھ گھنٹے چلتا تھا اور اس میں تین تین کمپوزیشنز تھیں۔ اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آیا تھا لیکن وہ بیٹھا لفافوں پر لکھے ہوئے تعارف اور موسیقار کی تصویر کو ضرور دیکھتا رہا تھا۔ کوئی چیاکو وسکی یا کچھ بینگر تھا جس کا نام وہ بار بار لیتے تھے۔ایک ایک ریکارڈ چالیس پچاس روپے کا تھا۔بیچ بیچ میں،’’کبھی ضرور آئیں گے آگرہ۔ بہت بچپن میں ایک بار دیکھا تھا،شاید دماغ میں جو نقشہ ہے، اس سے میل ہی نہ کھائے۔ شادی کے بعد ایک بار دیکھنے کا پروگرام بہت دنوں سے بنا رہے ہیں۔ یہ تو ہر چھٹی میں پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ جی نہیں، انھوں نے نہیں دیکھا۔۔۔ ادھر ہی رہے ان کے فادر وغیرہ سب۔ اب تو آپ وہاں ہیں ہی۔۔۔‘‘اس دن دونوں دیر کے لیے راستے بھر معذرت کرتے ہوئے اپنی گاڑی پر ہی وویکانند روڈ تک چھوڑنے آئے تھے۔ راستے بھر بات چیت کے ٹکڑے، ستار کی گونج اور سمفنی کی کوئی ڈوبتی سی لہراتی دردیلی کراہ اسے مسحور کیے رہی۔ کیسے عجیب انداز سے واقفیت ہوئی ہے۔ کتنا سکھی جوڑا ہے۔۔۔اسے بہت ہی خوشی ہوئی تھی۔ بچہ بعد میں آیا۔ نام ہے مُن مُن۔

دیو بتا رہے تھے:’’نمائش میں ہمارا سٹال ہے ناں،سو ہم لوگ دلی آئے تھے۔ سوچا، اتنے پاس سے یوں بنا دیکھے لوٹنا اچھا نہیں ہے۔ آپ کو یوں ہی گھسیٹ لائے۔ کوئی کام تو۔۔۔‘‘
’’نہیں،نہیں۔۔۔!‘‘جلدی سے کہا۔۔۔ اسے اور تو سب باتیں یاد آ رہی تھیں لیکن یہ یاد نہیں آ رہاتھا کہ ان مسٹر دیو کے آگے پیچھے کیا لگتا ہے۔ بڑی بے چینی تھی۔کیسے جانے؟بس اسی ملاقات کے بعد پھر کبھی ملنا نہیں ہوا۔۔۔یاد داشت اچھی ہے ان لوگوں کی۔
’’آپ نے یاد خوب رکھا۔‘‘سوچا، اس ملاقات میں خاص ایسی بات بھی تو نہیں تھی۔
’’جب ہم لوگ تاج کی بات کرتے، آپ کی بات یاد آ جاتی اور کوئی دن ایسا نہیں گیا جب تاج کی بات نہ ہوئی ہو۔۔۔آپ کے سامنے یہ مُن مُن نہیں تھا۔۔۔‘‘
’’مُن مُن !تم نے انکل جی کو نمستے نہیں کیا۔ کہو انکل جی ! آج ہمارے ماما ڈیڈی کے بیاہ کی ساتویں سالگرہ ہے۔۔۔‘‘راکا جی اس کے ہاتھ جڑواتی بولیں:’’بہت ہی شیطان ہے۔ مجھے دن بھر خیال رکھنا پڑتا ہے کہ کسی دن کچھ کر کرا نہ لے۔‘‘
’’تب تو آپ کو مبارک دینی چاہیے۔۔۔‘‘لیکن اس سب کے پار وجے کو لگا، کہیں گھٹن ہے جو نادیدہ کہرے کی طرح گاڑھی ہوتی ہوئی چھائی ہے۔ رہا نہیں گیا۔ پوچھا:’’آپ کچھ سست ہیں۔ طبیعت۔۔۔؟‘‘
’’نہیں جی!‘‘انھوں نے دونوں ہاتھ اٹھا کر ایک کلپ ٹھیک کیا اور سنبھلے انداز سے مسکرانے کی کوشش کر کے کہا:’’گاڑی میں بیٹھے بیٹھے پانچ گھنٹے ہو گئے۔ ایک گھنٹے سے تو یہاں آپ کو کھوج رہے ہیں۔‘‘
’’چچ! سچ مچ بہت زیادتی ہے یہ تو آپ کی۔‘‘احسان مندانہ انداز سے وہ بولا:’’کم سے کم منہ ہاتھ تو دھو ہی لیتیں راکا جی۔‘‘
’’سب ٹھیک ہے۔ لوٹنا بھی توہے نا ں آج ہی۔‘‘

پھر سبھی نے خوب گھوم گھوم کر تاج دیکھا تھا۔مُن مُن کا ایک ہاتھ دیو کے ہاتھ میں تھا اور ایک راکا جی کے۔ کبھی کبھی تو تینوں آپس میں ہی ایسے محو ہو کر کھو جاتے کہ وجے کو لگتا وہ بیکار ہی اپنی موجودگی سے ان کے بیچ مخل ہو رہا ہے۔ اوپر عمارت کے سفید کالے چبوترے پر دیو بڑی دیر تک سکہ لڑھکا کر اس کے پیچھے بھاگتے اور بچے کو کھلاتے رہے اور وجے کے ساتھ ساتھ راکا جی جالیوں کی بناوٹ، دروازے پر لکھی قرآن کی آیتیں اور بیل بوٹوں کی نقاشی دیکھتی رہیں۔ شام کی پیلی پیلی سہانی دھوپ تھی۔ لانوں کی نرمی سانولی ہو آئی تھی۔ مور پنکھوں اور تاڑ جیسے چوڑے پتوں کے گنبد نما کنج موم بتی کی ہری سنہری لو جیسے لگتے تھے۔ جیسے مستی میں پھولے پھولے کبوتر ہوں اورابھی آرام سے پھریرا لے لیں گے تو چنگاریوں کی طرح سرخ پھول ادھر ادھر بکھر جائیں گے۔ وہ لوگ اندر قبروں کے پاس اپنی آواز گونجاتے رہے۔ کیسے لرزتی سی تیرتی چلی جاتی ہے۔ جیسے بہت ہی مہین ریشوں کا بنا ہوا، گھڑی میں لگے بال سپرنگ کی طرح کہ بڑا سا مخروطی کچھ ہے جو کبھی پھیل جاتا ہے تو کبھی سکڑ کر سمٹ جاتا ہے۔ دیو کی آواز تھی۔’’را ۔۔۔کا۔۔۔ا کا ۔۔۔اا‘‘ ایک دوسرے پر چڑھتے چلے جاتے لفظ۔۔۔دور کھوتے ہوئے۔۔۔ کہیں انجانی گھاٹیوں کی تلہٹیوں میں ’’مُن مُن مو و و ن اا۔۔۔‘‘ دیو دیر تک ڈوبے ہوئے اس کھیل کو کھیلتے رہے تھے۔لگتا تھا ان کے اندرہے کچھ، جو اس کھیل کے ذریعے سے عیاں ہو رہا ہے۔ وہ راکا یا من من کا نام لے دیتے اور دیر تک اندھیرے میں ان لفظوں کو ڈوبتا کھوتا دیکھتے رہتے جیسے ہاتھ بڑھا کر انھیں واپس پکڑ لینا چاہتے ہوں۔ انھیں قبروں میں کو ئی دلچسپی نہیں تھی۔ بڑی دیربعد، بہت مشکل سے جب وہ اس ماحول سے ٹوٹ کر باہرنکلے تو بہت اداس اور کھوئے کھوئے تھے۔وجے کے پاس سے مُن مُن کو لے کر زورسے اسے چھاتی سے بھینچ لیا۔

باہر نکل کر آئے تو دیکھا کہ ندی کنارے والی برجی کے پاس راکا جی چپ چاپ دور شہر اور لال پل کی سمت دیکھتی کھڑی ہیں۔ سندوری آسمان کے گہرے سلیٹی بادل ندی کے چوکھٹے میں وارنش کلر کی طرح پھیل گئے ہیں۔ برجی سے بیچ کے مقبرے تک چبوترے کی کالی سفید شطرنجی کو سمٹتی دھوپ نے ترچھا بانٹ لیا ہے۔ ہوا میں ساڑھی ان کے بدن سے چپک گئی اور کانوں کے اوپر کی لٹیںسرکش ہو آئی ہیں۔دیو بہت دور تک انھیں یوںہی دیکھتے رہے، جیسے انھیں پہچانتے ہی نہ ہوں اور اس سارے ماحول میں سفید پتھروں کے اس بہت بڑے قید خانے میں جیسے سزا یافتہ جل پری کو یوں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا گیاہو۔۔۔ ’یہ جگہ،یہ ماحول ہے ہی کچھ ایسا۔‘وجے نے اپنے آپ سے کہا اورجان بوجھ کر دوسری طرف ہٹ آیا۔ شاید راکاجی ممتاز کے عشق کی بات سوچ رہی ہوں،اپنے مرنے کے بعد اپنی ایسی ہی یادگار چاہتی ہوں یا کچھ بھی نہ سوچ رہی ہوں،بس پل سے گزرتی ریل کی کھڑکی سے جھانکتی ہوئی تاج کو دیکھ کر حسن اور خیال کی حیران کن بلندیوںمیں کھو گئی ہوں۔

اپنی چھاتی تک اونچی پیچھے کی دیوار سے مُن مُن ندی کی طرف جھانکتا ہوا ہاتھ ہلا ہلاکر نیچے جاتے بچوں کو بلا رہا تھا۔ کوے کائیں کائیں کرنے لگے تھے۔ مُن مُن کے پاس وہ سنگِ مر مر کی دیوار پر جھک کر ہتھیلیاں ٹیکے سامنے کے حصے اور پیڑوں کی گھنی چھتریوں کو دیکھتارہا۔ جانے کب دیو جی برابرہی آ کھڑے ہوئے۔کافی دورہٹ کر اسی طرح برجی کے پاس جھکی راکا جی۔۔۔ہوا میں پھہراتی ساڑھی کو ایک ہاتھ سے پکڑ کر روکے ہوئے۔

’’اندر کی آواز اور گونج سن کر بڑا عجیب سا تجربہ ہوتا ہے۔۔۔ ہوتا ہے ناں؟جیسے جانے کن ویران جنگلوں اور پہاڑوںمیں آپ کا کوئی بہت ہی قریبی عزیز کھوگیا ہے اور آپ کی بے ثمر پکاریں ٹوٹ ٹوٹ کراسے پکارتی چلی جاتی ہیں۔۔۔ چلی جاتی ہیں۔۔۔ اور کھو جاتی ہیں۔ وہ عزیز لوٹتا ہے اور نہ آوازیں۔ جیسے زمانوں سے کسی کی بھٹکتی روح اسے پکارتی رہی ہو اور وہ ہے کہ گونجوں اورسایوں میں ہی گھل گھل کر بکھر جاتا ہے۔۔۔ ڈوب جاتا ہے۔۔۔ٹھہرتا ہے اور مجسم نہیں ہو پاتا۔۔۔‘‘

ندی میں تاج کی گھنی گھنی پرچھائیں لہروں میں ٹو ٹ ٹوٹ جاتی تھی۔ انجانے ہی دیو کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔

’’ایسا ہی ہوتاہے۔ ایسے ماحول میں ایسا ہی ہوتاہے۔‘‘وجے نے اپنے آپ سے کہہ کر جیسے صورتحال کو لفظ دے کرسمجھنا چاہا:’’جب کوئی کسی کوبہت پیار کرے، بہت پیار کرے اور پھر ایسی خوب صورت منحوس جگہ آجائے تو کچھ ایسی ہی باتیں دل میں آتی ہیں۔ ابھی لان پر چلیں گے، مُن مُن کے ساتھ کلکاریاں ماریں گے۔۔۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ‘‘

دیو نے سنا اور گہری سانس لے کر بڑی زخمی نگاہوں سے وجے کی طرف دیکھا۔ کچھ کہتے کہتے رک گئے اور دونوں چپ چاپ ہی ٹہلتے ہوئے سامنے کی طرف آ گئے ۔۔۔ مُن مُن راکا جی کے پاس چلا گیاتھا۔ نیچے کی سیڑھیاں اترتے اترتے اچانک ہی دیو نے وجے کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ کچھ کہنے کو ہونٹ کانپے:’’آپ کوپتا ہے مسٹر وجے؟‘‘
وجے آواز اور لہجے سے چونک گیا :’’نہیں، کچھ نہیں۔‘‘
اوپر ہری ساڑھی کی جھلک نظر آئی اورپھر دونوں سیڑھیاں اتر آئے۔جوتے پہنتے ہوئے بولے:’’آپ کو تعجب تو بہت ہو گا کہ یوں ہم اچانک آپ کو اٹھا لائے۔‘‘
’’نہیں تو ! اس میں ایسی کیا بات ہے؟‘‘وجے نے خوش اخلاقی سے کہا۔
’’ہاں بات کچھ نہیں ہے لیکن بہت بڑی بات ہے۔‘‘پھر گہری سانس۔۔۔

اب وجے کو لگا کہ سچ مچ کوئی بہت بڑی بات ہے جو دیو کے اندر سے نکلنے کے لیے چھٹپٹا رہی ہے۔ تب پہلی بار اس کا دھیان اس صورتحال کی بو قلمونی کی طرف گیا۔بیچ کے چبوترے تک دونوں بالکل چپ رہے ۔۔۔ چبوترے کے خو ب صورت کونوںوالے حوض میں آگ لگ گئی تھی۔۔۔ گہرے سانولے آسمان میں لال لال گلابی بادلوں کے بگولے اتر آئے تھے۔ الٹے تاج کی پرچھائیں دم توڑتے سانپ کی طرح ان کے قدموں پر پھن پٹک پٹک کر لہرا رہی تھی۔دھوپ اوپر سیڑھیوں پر سمٹ گئی تھی۔ اس پر آنکھیں ٹکائے دیو بڑی دیر تک یوں ہی دیکھتے رہے۔ سامنے مُن مُن کو لیے راکا جی چلی آ رہی تھیں لیکن جیسے کوئی کسی کو نہیں دیکھ رہا ہو۔ ہاں وجے کبھی اُسے اور کبھی اِسے یا مشک لے کر آتے بہشتی کو دیکھتا رہا۔ ٹپ ٹپ بوندوں کی مسلسل لائنیں اس کی انگلیو ں سے ٹپک رہی تھیں۔ بڑی احتیاط سے لفظوں کو دھکیل کر دیو بولے:’’یہ ساری کیفیت ۔۔۔ یہ ٹوٹ جانے کی حد تک آ جانے والاچرمراتا تناؤ۔۔۔ موت سے پہلے کے یہ قہقہے ۔۔۔سنجیدگی کا یہ برفیلا کفن ۔۔۔ شاید ہم میں سے کوئی اسے اکیلا نہیں سہہ پاتا۔۔۔ کوئی ایک چاہیے تھا جو اس کی طرف سے ہمارا دھیان ہٹائے رکھے۔۔۔ اس انجام کا گواہ بن سکے۔‘‘
’’میں سمجھ نہیں سکا مسٹر دیو۔۔۔!‘‘ گھبرا کر وجے نے پوچھا تھا۔

بوٹوں کے دونوں پنجوں پر ذرا سا مچک کر دیو نہایت ہی اطمینان سے ہنسے: ’’آپ ۔۔۔ آپ وجے صاحب! ہماری یہ آخری شام ہے۔۔۔‘‘اور وجے کے کچھ پوچھنے سے پہلے ہی انھوں نے کہہ ڈالا:’’میں نے اور راکا نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ہم لوگوں کو الگ ہی ہوجانا چاہیے۔۔۔ دونوں طرف سے برداشت کی شاید حد ہوگئی ہے۔ نسوں کا یہ تناؤ مجھے یا اسے پاگل بنا دے، یا کوئی ایسی ویسی بے ہودگی کرنے پر مجبور کرے،اس سے تو اچھا ہو کہ دونوں الگ ہورہیں۔ چاہے تو وہ کسی کے ساتھ سیٹل ہوجائے، وہ مُن مُن کو رکھنا چاہتی ہے تو رکھے، ویسے جب بھی وہ اسے بوجھ لگے،بلا تکلف میرے پاس بھیج دے۔‘‘وجے کا سر بھنا اٹھا۔ وہ چپ چاپ حوض کی گہرائی میں تڑپتی تاج کی پرچھائیں پر نگاہیں ٹکائے رہا۔
’’لیکن آپ دونوں۔۔۔‘‘وجے نے کہنا چاہا۔

دیو نے ہاتھ پھیلا کر روک دیا:’’وہ سب ہو چکا ہے۔ سارے تجربے ختم ہو گئے۔ ہم نے طے کیا کہ کیوں نہ اپنی آخری شام ہنسی خوشی کاٹیں۔۔۔ دوست بنے رہ کر ہی ہنستے ہنستے رخصت ہو لیں۔۔۔ ‘‘پھر کچھ دیر تک چپ رہ کر کہا:’’راکاکی بڑی تمنا تھی کہ تاج دیکھوں، شادی کی پہلی رات اس نے چاہا تھا کہ ہنی مون یہاں ہو لیکن ۔۔۔ لیکن ۔۔۔‘‘پھر ہاتھ جھٹک دیا:’’عجب ملاپ ہے ناں ۔۔۔ لیکن۔۔۔‘‘لیکن وجے کو لگا تھا جیسے کسی ڈیم کی ریلنگ پر جھکا کھڑا ہے اور نیچے سے لاکھوں ٹن پانی دھاڑ دھاڑ کرتا گرتا چلا جارہا ہے ۔۔۔ گرتا چلا جا رہا ہے اور اس کا سر چکرا اٹھا۔۔۔نہیں اس سے کسی نے کچھ نہیں کہا۔یہ سب تو صرف وہ فرض ادا کر رہا ہے۔ کہیں ایسی بے یقینی بات۔۔۔ دھیان اس کا ٹوٹا دیو کی آواز سے:’’ اسے روکو راکا، مالی وغیرہ منع کریں گے۔۔۔ نہیں مُن مُن! ‘‘آواز بہت ملائم تھی اور پھر دیو نے دوڑ کر پیار سے مُن مُن کو دونوں بانہوں میں اٹھا لیا اور اس کے پیٹ میں اپنا منہ گڑا دیا۔ مُن مُن کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ آنکھوںمیں لاڈ بھرے راکا جی مسکراتی رہیں۔ نہیں ابھی جو کچھ اس نے سنا تھا، وہ ان لوگوں کے آپسی رشتوں کے بارے میں نہیں تھا۔ ہو نہیں سکتا۔

بہت بار وجے نے راکا جی کا چہرہ دیکھنا چاہا لیکن لگا وہ ادھر ادھر کے سارے ماحول کو ہی پینے میں مشغول ہیں۔ چڑیاں چہچہانے لگی تھیں۔

انہی جالیوں پر اسی طرح تو وہ لوگ چل رہے تھے کہ پاس آ کردھیرے سے دیو نے کہا تھا: ’’راکا سے مت پوچھیے گا۔‘‘
کیا پوچھے گا وہ راکا جی سے۔۔۔؟
’’سوری آپ کو گھسیٹ لائے ہم لوگ۔‘‘
اور اس بار زخمی نگاہوں سے دیکھنے کی باری وجے کی تھی۔۔۔ اتنا غلط سمجھتے ہیں آپ۔۔۔

چار پانچ سال ہو گئے لیکن بات کتنی تازہ ہو آئی ہے۔۔۔ وہ، دیو، راکا جی اور مُن مُن اسی طرح تو لوٹ رہے تھے۔ چپ چاپ، اداس اور منحوس۔۔۔شام کا بجرارات کا کنارہ چھونے لگا تھا۔ جیسے کسی برسوں کی طوفانی یاترا سے وہ تینوں لوٹ کر آ رہے ہوں۔ پیڑوں اور عمارتوں کی پرچھائیاں خوب لمبی لمبی چوڑی دھاریوں کی طرح پیچھے چلی گئی تھیں۔۔۔کنجوں اور لان کی ہریالیاں عجب ٹٹکی ٹٹکی ہو اُٹھی تھیں۔ ہریالی کے سرمئی دھندلے کانچ پر سفید پھول چھٹک آئے تھے۔

میرا کے چشمے کے کانچوں میں جھانکتی پرچھائیں کو دیکھ کر جانے کیوں اسے وہی یاد تازہ ہو گئی تھی۔ وہی تاج جو اس دن حوض میں جیسے آسمانی جارجٹ کے پیچھے سے جھانک رہا تھا اور اپنے آپ سے لڑتے ہوئے دیو اُسے بتا رہے تھے۔آج اگر دیو ہوتے تو کیا جواب دیتا۔۔۔؟تو کیا وہ بھی اسی طرح الگ ہو رہے ہیں۔۔۔؟
اچانک چونک کر اس نے میرا کو دیکھا۔۔۔ اسے لگا، جیسے اس نے کہا ہے: ’’کچھ کہہ رہی تھی کیا؟‘‘
’’میں ۔۔۔؟نہیں تو۔‘‘پھر وہی سکوت اور گھسٹتی اداسی کا کمبل۔

لگا جیسے کوئی مردہ لمحہ ہے جس کا ایک سرا میرا پکڑے ہے اور دوسرا وہ اور اسے چپ چاپ دونوں رات کے سناٹے میں کہیں دفنانے جا رہے ہوں۔۔۔ ڈرتے ہوں کہ کسی کی نگاہ نہ پڑ جائے۔۔۔ کوئی جان نہ لے کہ وہ قاتل ہیں۔۔۔کہیں کسی جھاڑی کے پیچھے اس لاش کو پھینک دیں گے اور خوش بو دار رومالوں سے کس کر خو ن پونچھتے ہوئے چلے جائیں گے۔بھیڑ میں کھو جائیں گے۔۔۔ جیسے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے میں ڈر لگتا ہے ۔۔۔کہیں الزام لگاتی آنکھیں قتل قبول کرنے کو مجبور نہ کر دیں۔

باہر وہ دونوں تانگہ لیں گے ۔۔۔ جھٹکے سے موڑ لیتا ہوا تانگا ڈھال پر دوڑ پڑے گا اور تاج محل پیچھے چھوٹتا جائے گا اور پھر اچھا کہہ کر سوکھے ہونٹوں کی بھری آواز پر مسکراہٹ کا کفن لپیٹ کر دونوں ایک دوسرے سے رخصت ہو جائیں گے۔۔۔




شانتا راما — باب 23: امرت ورشا (ترجمہ: فروا شفقت)

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔
…………………..
"مدھرا وٹیا بڑی سہانی، گھنگھرالے بال لگے سیانی، آنکھیں موٹی ناک سے نکٹی، دیکھ دیکھ کر ہے مسکانی۔۔۔"

دو سال کی گھنگھرالے بالوں والی گول مٹول مدھُرا کو گود میں لے کر بےسری آواز میں میری شاعری چالو تھی۔ موٹر تیزی سے جنگل کا راستہ کاٹتی دوڑتی جا رہی تھی۔ کچھ دیر بعد وِمل نے کندھے سے مجھے ہلاتے ہوئے کہا، "اجی —"

میں نے اس کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں خوف و فکر دکھائی دی۔ اس کے اس طرح 'اجی' کہہ کر شاعری کی غنودگی سے مجھے جگانے کا معنی میری سمجھ میں فوراً آ گیا۔ میں اپنی ہنسی روک نہ سکا۔ وِمل سے کہا، "تم کیا سمجھ رہی ہو، میں پاگل واگل ہو گیا ہوں؟ بالکل نہیں۔ میں تو ایک دم مزے میں ہوں، مست ہوں۔ اس سفر میں پورا آرام کرنے والا ہوں، ساری جھنجھٹوں کو بُھلا بسرا کر، سمجھی؟"

وِمل نے صرف سر ہلایا اور وہ بھی میرے ساتھ ہنسنے لگی۔ کار کی کھڑکی سے آس پاس کی ہریالی کو جی بھر کر دیکھتے ہوئے، مدھُرا کے گھنگھریالے بالوں پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے شاعری پھر زوروشور سے شروع ہو گئی۔

ڈاکٹر بھڑکمکر نے میرے روگ کی جو تشخیص کی تھی، اسے سُن کر سبھی لوگ گھبرا گئے تھے۔ وِمل نے جیون میں پہلی بار ضد کی تھی کہ کسی شانت جگہ پر آرام کے لیے جایا جائے۔ اسی لیے ہم سب لوگ یعنی وِمل، پربھات کمار، سروج اور دو سال کی مدھُرا اور میں، گرسپپا کا بھدبھدا (آبشار) دیکھنے کے لیے کار سے جا رہے تھے۔

شام ہو رہی تھی۔ ڈرائیور نے اچانک کار روک دی۔ میں نے کارن جاننا چاہا۔ اس نے سامنے کی طرف اشارہ کیا: ایک لمبا پیلے رنگ کا ناگ رپٹیلی چال سے چلا جا رہا تھا۔ غروب کے سمے کی سورج کی کرنوں سے اس کی چکنی کایا چمک رہی تھی۔ اس نے راستہ پار کر لیا اور ہمارے ڈرائیور نے کار پھر چالو کی۔ دھیرے دھیرے اندھیرا چھانے لگا۔ کچھ ہی سمے بعد گاڑی رکی۔ سامنے ہی ایک ڈاک بنگلہ تھا۔ برآمدے میں رکھی ایک آرام کرسی پر میں بیٹھ گیا۔ گِرسپپا کے بھدبھدا کی گہری گمبھیر آواز سنائی پڑ رہی تھی۔

سویرے اٹھتے ہی دھیرے دھیرے جا کر وہاں سے سامنے ہی واقع بھدبھدا میں نے دیکھا۔ اس پرچنڈ جلودھ (جھرنے) کو دیکھ کر میرے من کی ساری تھکان جاتی رہی۔ میں جذباتی ہو گیا۔ بھدبھدا! اس کے چاروں جانب چھائی ہریالی بھری جنگلی املاک کا حسن ایک بےصبر پیاسے کی طرح میں جی بھر کر پینے لگا۔ من میں شدت کا اشتعال دھیرے دھیرے کم ہوتا جا رہا تھا۔ سُدھ بدھ کھو کر میں وہاں پتہ نہیں کتنی دیر بیٹھا رہا!

دوچار دن میں ہی میرے وہاں آرام کے لیے آنے کی خبر پاس پڑوس میں پھیل گئی۔ کچھ چاہنے والوں نے میرے لیے ایک خاص پروگرام کا انعقاد کیا۔ پونم آ رہی تھی۔ کچھ لوگ پہاڑی پر چڑھ گئے اور وہاں سے انھوں نے بڑی بڑی لکڑیاں سُلگا کر بھدبھدے کے پانی میں چھوڑیں۔ وہ جلتے ہوئے کندے (بلاک) خوفناک رفتار سے بھدبھدے کے ساتھ نیچے کودتے اور پانی میں ڈوبتے ابھرتے آگے چلے جاتے۔ آگ اور پانی کا ایسا حسین اور ناقابل بیان ملن میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ غیرمعمولی حُسن من میں سنجوتے جی نہیں اکتاتا تھا۔

پُونا واپس آیا تو تن من میں نیا جوش اور امنگ آ گئی تھی۔ گِرسپپا کے آس پاس کی گھنی ہری ہری جنگلی املاک کے کارن میری صحت بہت جلدی ٹھیک ہو گئی۔ سٹوڈیو میں قدم رکھا ہی تھا کہ 'پربھات' کے مینیجر پتروں کا ڈھیر لے کر میرے آفس میں آ گئے۔ ان کے چہرے پر خوشیاں ناچ رہی تھیں۔ اس ڈھیر کو میری میز پر رکھتے ہوئے انھوں نے کہا، ''یہ لیجیے ’’آدمی‘‘ اور 'مانوس' کے لیے حاصل بدھائیوں کی چٹھیاں!''

اب میں ان سبھی پتروں کو جوش سے دیکھنے لگا۔ ہر ڈائریکٹر کی اپنی اپنی رائے تھی۔ کسی نے 'آدمی' جیسی فلم بنا کر 'دیوداس' میں موجود مایوسی کا کرارا جواب دینے پر دلی بدھائیاں دی تھیں، تو کسی دوسرے لیکھک نے لکھا تھا: "آپ کے کاروباری بھائی بندوں کی بنائی فلم کی اس طرح کھِلّی اڑانا آپ کے لیے زیب نہیں دیتا!"

کسی کو فلم کا اختتام پسند نہیں آیا تھا۔ ایک مہاشے نے تو ہم سے صاف صاف جاننا چاہا تھا کہ آخر میں آپ ہیرو اور ہیروئین کا بیاہ رچا دیتے، تو آپ کا کیا جاتا؟ لہٰذا ہم لوگوں کو دو دن تک بھوجن بھی راس نہیں آیا! اب کوئی اس پتر لیکھک کو جواب دے بھی تو کیا دے؟

ایک جذباتی ناظر نےلکھا تھا:

اب کبھی بمبئی کے فارس روڈ سے جانے کا سین آ بھی جائے تو، آپ کی 'آدمی' دیکھی ہونے کے کارن ہم لوگوں کو چِقوں کے پیچھے کھڑی ویشیاؤں کو دیکھ کر پہلے جیسی نفرت نہیں ہو گی بلکہ یہ محسوس ہو گا کہ ہر چِق کے پیچھے ایک گہرا دردِ دل چھپا ہے!"

اس فلم کے بارے میں ابھی حال کا ایک تجربہ تو بہت ہی انوکھا ہے: میں پہلی بار بیلگاؤں گیا تھا۔ وہاں کے لوگوں نے فطری ڈھنگ سے، بڑے پیار سے میرا سمان کرنے کا انتظام کیا۔ بیلگاؤں کے پاس پڑوس کے دس بارہ ضلعوں کے محکمہ جاتی کمشنر رام چندرن اس انتظام کے صدر تھے۔ سبھی مقررین کے بھاشن ہو چکنے کے بعد رام چندرن بولنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ سبھا کا انتظام چونکہ میرے اعزاز میں کیا گیا تھا، میں سوچ ہی رہا تھا کہ اب یہ مہاشے بھی میری تعریف کے پُل باندھیں گے۔ اسی لیے ان کی تقریر کی طرف میرا کوئی خاص دھیان نہیں تھا۔ لیکن رام چندرن نے 'آدمی' کے بارے میں ایک بہت ہی دل چھو لینے والی یاد دلائی:

"آج آپ مجھے یہاں زندہ اور چلتا پھرتا دیکھ رہے ہیں، اس کا سارا کریڈٹ اس فلم کو جاتا ہے۔ پینتیس برس پہلے کی بات ہے۔ اس سمے میری عمر اٹھارہ برس کی ہو گی۔ کئی خاندانی مصیبتیں میرے سامنے منھ کھولے کھڑی تھیں۔ انھیں سلجھانے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ روز بہ روز میں مایوسی کے گہرے گڑھے میں دھنستا جا رہا تھا۔ خودکشی کا وچار بھی من میں اٹھنے لگا تھا۔ لگتا تھا کہ خودکشی کر کے ان سبھی الجھنوں سے ہمیشہ کے لیے آزادی پا جاؤں۔ سوچ وچار کر کہیے یا بغیر سوچے سے، خود کشی کا ارادہ آہستہ آہستہ پکا ہونے لگا۔ لگ بھگ انہی دنوں میرے گاؤں میں وی شانتارام کی 'آدمی' فلم ریلیز ہوئی۔ شانتارام جی کی فلمیں مجھے ہمیشہ بہت ہی راس آتی تھیں۔ من کی اس ڈولتی حالت میں ہی میں 'آدمی' دیکھنے گیا۔ فلم دیکھ کر باہر آیا تو خود کشی کا وچار رفوچکر ہو چکا تھا۔ جیون جینے کا ایک نیا نظریہ مجھے مل گیا تھا۔ مشکلوں اور مصیبتوں سے جوجھتے جوجھتے جینے کا ہی نام جیون ہے۔ جیون جینے کے لیے ہوتا ہے۔ 'لائف از فار لِونگ' کا اصول ہی جیسے وی شانتارام کی اس فلم نے میرے کانوں میں پھونک دیا!

"اس کے بعد مصیبتوں کے پہاڑ سامنے آئے، پھر بھی میں ہارا نہیں، ٹوٹا نہیں۔ بلکہ ان کے 'آدمی' کے ہیرو کی طرح جیون کی راہ دھیرج سے طے کرتا ہوا آج میں ڈویژنل کمشنر بن گیا ہوں، اور یہ سب آپ کے سامنے قبول کرنے میں فخر محسوس کر رہا ہوں!"

اُن مہاشے کی آپ بیتی سن کر میں واقعی میں جذباتی ہو گیا۔ اس لمحے تو ضرور ہی لگا کہ میری تخلیق کامیاب ہو گئی ہے۔ لیکن عام طور پر دیکھا جائے، تو 'آدمی' پربھات کی دیگر فلموں کے مقابلے میں کم ہی چلی۔ بارہ ہفتے بعد ہی اسے بمبئی کے سینٹرل سینما سے ہٹانا پڑا۔ شاید چندرموہن نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ، ''یہ فلم بیس برس آگے کی ہے!''

بیسویں صدی کی چوتھی دہائی ختم ہونے کو تھی۔ دیش میں ہر جگہ بولتی فلموں کی مقبولیت کافی بڑھ چکی تھی۔ وہ اب ایک انڈسٹری کا روپ لینے لگی تھی۔ پربھات کی فلموں کے کاروباری معاملات کی دیکھ بھال کا کام میرے ہی ذمے تھا۔ جیسے جیسے یہ کاروبار بڑھتا گیا، اس پر نگرانی رکھنے کے لیے میں نے 'پربھات سینٹرل ایکسچینج' نامی ایک نیا ڈیپارٹمنٹ شروع کیا، ایک ٹیلنٹڈ مینیجر کو مقرر کیا۔ پربھات کی فلمیں سارے دیس میں بہت ہی مقبول تھیں۔ لہٰذا سینما گھروں کے مالکوں میں ان فلموں کو اپنے یہاں ریلیز کرنے کی ایک طرح سے ہُڑک سی لگی رہتی تھی۔ ہمارے ڈسٹری بیوٹرز کی رکھی گئی سبھی شرطوں کو وہ بِنا کسی جھجھک کے قبول کرتے اور پربھات کی فلم اپنے سنیما گھر میں ریلیز کرنے کو مل گئی، اسی میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتے تھے۔

اس سینٹرل ایکسچینج ڈپارٹمنٹ کی طرف سے ہر ماہ میرے پاس پوری تفصیل آتی تھی۔ اس کا باریکی سے مطالعہ کرنے پر میں نے دیکھا کہ ہمارے صوبائی ڈسٹریبیوشن سسٹم میں سدھار کیا جائے تو آمدنی اور بھی بڑھ سکتی ہے۔ اس نظر سے میں نے سوچا کہ سبھی ڈسٹری بیوٹرز کا ایک سمپوزیم بلایا جائے اور انھیں آپس میں کاروبار کے مختلف سسٹمز اور کٹھنائیوں وغیرہ پر کھل کر تبادلہ خیال کرنے کا موقع دیا جائے تو ڈسٹریبیوشن سسٹم میں سدھار بھی ہو گا اور اسے نئی سمت بھی حاصل ہو گی۔ فوراً ہی میں نے ہندوستان کے ہمارے سبھی ڈسٹری بیوٹرز کی ایک کانفرنس پُونا میں مدعو کی اور سبھی کو دعوت نامہ بھجوا دیا۔

اس کانفرنس میں سبھی ڈسٹری بیوٹرز کے سامنے میں نے پربھات کی آئندہ فلموں کے بنانے کا پروگرام اور اس پر آنے والے متوقع خرچ کا خاکہ پیش کیا۔ فلم میکنگ کے لیے یہ ضروری رقم ڈسٹریبیوشن کے ذریعے تکمیل کے لیے اخلاقی امداد ڈسٹری بیوٹر برادران دیں، ایسی مانگ بھی میں نے کی۔ اسے میں نے قانونی امداد نہ کہہ کر اخلاقی امداد کہا۔ اس کا کارن یہ تھا کہ قانونی بندھن آنے پر آدمی گھبرا جاتا ہے اور آسانی سے اسے قبول نہیں کرتا۔ پھر اخلاقی امداد کے کارن اپنی فلم میکنگ کا پروگرام سمے پر پورا کرنا ہمارے لیے بھی ممکن ہو جائے گا۔ نتیجتاً پربھات کی آمدنی تو بڑھے گی ہی، آپ سب لوگوں کو بھی زیادہ کمیشن حاصل ہو گا۔ میری دلیل سبھی نے قبول کی۔ مکمل پروگرام کے جائزہ لینے کے لیے آئندہ سال بھی اسی طرح کی بیٹھک منعقد کرنا متفقہ طور پر طے کیا گیا۔

اس کانفرنس کے فیصلے کے مطابق ہمارے سبھی ڈسٹری بیوٹرز نے آئندہ سال میں اخلاقی امداد کی رقم پوری کر دی۔ لیکن اس کو پورا کے لیے انھوں نے ہر سنیما مالک سے اس کے گاؤں کے چھوٹے بڑے ہونے کے حساب سے، تھوڑی زیادہ ہی امدادی رقم لے کر ہماری فلمیں ریلیز کیں۔ یہ بات دوسری ہے کہ ہماری فلموں کی مقبولیت پوری طرح روشن ہونے کے کارن ریلیز کرنے والوں کو اس میں کوئی نقصان نہیں اٹھانا پڑا، لیکن دیگر پروڈیوسرز نے بھی ہماری دیکھادیکھی اسی طرح سے امدادی رقم مانگنا شروع کی۔ اس میں کچھ کو تو اچھی آمدنی ہوئی، لیکن زیادہ تر فلم ریلیز کرنے والوں کو گھاٹا اٹھانا پڑا۔ کئی ریلیز کرنے والوں نے اس بات کی شکایت مجھے پتر لکھ کر کی۔ وہ بیچارے ایک دم مایوس ہو گئے تھے۔

اگلے برس کی ڈسٹری بیوٹرز کانفرنس میں میں نے ایک تجویز رکھی: "میری رائے ہے کہ آپ لوگ ہماری فلم کے لیے ریلیز کرنے والوں سے جو امدادی رقم لیتے ہیں، اسے نہ لیں۔ آپ کو اس سے زیادہ رقم فیصدی میں ملتی ہے۔ ہماری فلم پر اس طرح امدادی رقم لینے کی شرط آپ لوگوں نے واپس لے لی، تو ریلیز کرنے والے دیگر ڈسٹری بیوٹرز سے بھی ہمت کر یہ کہہ سکیں گے کہ 'پربھات' جیسی جانی مانی کمپنی بھی ہم سے امدادی رقم نہیں لیتی، لہٰذا آپ کو بھی اسے نہیں مانگنا چاہیے۔ نتیجتاً انھیں ممکنہ گھاٹا نہیں ہو گا۔''

سبھی لوگ ایک دم چپ بیٹھے تھے میری تجویز کا کیا جواب دیں، کسی کو سمجھ میں شاید نہیں آ رہا تھا۔ وہ لوگ آپس میں کھل کر باتیں کر سکیں، اس لیے ہم سبھی حصہ دار کچھ دیر کے لیے بیٹھک سے باہر آ گئے۔ پھر ہم لوگ بیٹھک میں پہنچے تو بابوراؤ پینڈھارکر نے کہا، "آپ کے اس سجھاؤ پر اچھی طرح سے سوچ وچار کر کے ہم لوگ اپنا فیصلہ آپ کو کل بتائیں گے۔" دوسرے دن صبح دس بجے ہم لوگ پھر اکٹھے ہوئے۔ اتر پردیش، پنجاب اور کشمیر کے ڈسٹری بیوٹر دل سکھ پانچولی نے کہا، "آپ کا فیصلہ اگر ایسا ہے کہ ہم لوگ آپ کی فلموں پر ریلیز کرنے والوں سے گارنٹی نہ لیں، تو آپ بھی ہم سے اخلاقی امداد کے روپ میں پیشگی رقم لینا بند کریں۔ اس ذمہ داری سے آپ ہمیں آزاد کرتے ہیں، تو ہم بھی ریلیز کرنے والوں پر امدادی رقم کی شرط نہیں تھوپیں گے۔"

اب چپ رہنے کی باری میری تھی۔ ڈسٹری بیوٹرز نے مجھے ہی الجھن میں ڈالا تھا۔ سب کا دھیان میری طرف تھا۔ دیکھنا چاہتے تھے وہ کہ میں اپنے لفظ واپس لیتا ہوں یا نہیں۔ ریلیز کرنے والوں کی میرے پاس بھیجی گئی شکایت ایک دم صحیح تھی اور مناسب بھی۔ ان پر امدادی رقم جمع کرنے کا دباؤ ہٹا لیا، تو ڈسٹری بیوٹرز کی دی گئی ترپ چال کے مطابق ہمیں اپنی آئندہ فلموں کے لیے ضروری رقم کھڑی کرنے میں دقت آنے والی تھی۔ لیکن ریلیز کرنے والوں کا یہ جو استحصال ہو رہا تھا، اسے تو کسی بھی حالت میں روکنا ضروری ہو گیا تھا۔ کل اگر سارے سنیماگھر بند ہو جائیں، تو ہم لوگ اپنی فلموں کو کہاں ریلیز کر پائیں گے؟ ریلیز کرنے والا ختم ہو گیا، تو پوری فلم انڈسٹری دم توڑ دے گی۔ اپنی معاشی کٹھنائیوں کے لیے کم از کم امدادی رقم لینے کا یہ رواج مقامی شکل میں مقبول کر دیا، تو فلم انڈسٹری کی سرحدیں روز بہ روز سکڑتی جائیں گی۔ میں نے فیصلہ کر لیا: "میں آپ سب کو اخلاقی امدادی رقم کی ذمہ داری سے آزاد کرتا ہوں۔"

اس پر بنگال، بہار، آسام اور اڑیسہ کے ہمارے ڈسٹری بیوٹر کپور چند نے کہا، "یہ تو ٹھیک ہی ہے، لیکن آگے چل کر آپ کو فلم بنانےکے لیے پیسے کم پڑ جائیں، تو اس کے ذمہ دارہم نہیں ہوں گے۔"

"میں نہیں سوچتا کہ ویسی نوبت آئے گی۔ انسان کے بھلے مانس ہونے پر مجھے بھروسہ ہے۔ ساتھ ہی یہ اعتماد بھی ہے کہ امدادی رقم بھرنے سے راحت ملنے پر ریلیز کرنے والے ہماری فلم کے لیے پہلے جیسی ہی، حقیقت میں اس سے تھوڑی زیادہ ہی آمدنی ہو اس لیے اشتہار وغیرہ پر تھوڑا زیادہ خرچ خود کریں گے۔ آپ لوگ نئی فلموں کے کانٹریکٹ کرتے سمے ریلیز کرنے والوں سے درخواست کریں کہ 'پربھات' کی فلموں کو ریلیز کرتے سمے ان کی بے فکری کے نتیجے میں آمدنی کم ہو گئی، تو ہم لوگ امدادی رقم لینے کے رواج کو پھر پہلے جیسا چالو کریں گے۔"

اس کے بعد ایک سال بیت گیا۔ ڈسٹری بیوٹرز کی کانفرنس کے شروع میں ہی سبھی ڈسٹری بیوٹرز نے مجھے دل سے سراہا۔ کہنے لگے: "شانتارام بابو، مان گئے ہم آپ کو۔ بیتے برس آپ نے جو باہمت فیصلہ کیا اس کے لیے پھر آپ کو دلی مبارک باد۔ پچھلے سال ہماری اوسط آمدنی میں لگ بھگ بیس فی صد کی بڑھوتری ہوئی۔" میں نے حیرانی جتاتے ہوئے پوچھا، "لیکن یہ کیسے ممکن ہو سکا؟" ہمارے جنوبی صوبوں کے ڈسٹری بیوٹر جینتی لال ٹھاکُر نے جواب دیا، "کیسے ممکن ہو سکا، یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے؟ امدادی رقم کا رواج بند کرنے کے کارن ریلیز کرنے والے بہت ہی خوش ہو گئے۔ یہ رواج پھر چالو کرنے کی بات آپ کے من میں بھی نہ آئے، اس لیے انھوں نے ہر فلم کو اچھی طرح چلانے کی پوری کوشش کی۔ ہولڈ اوور فگر (یعنی فلم کی کم از کم ہفتہ وار آمدنی کا ہندسہ، جس کے نیچے آمدنی چلی جائے تو فلم ہٹا لی جاتی ہے) سے کم آمدنی ہونے لگی پھر بھی انھوں نے دو دو، تین تین ہفتے فلم کو زیادہ چلایا۔ اسی سب کے نتیجے میں آمدنی میں یہ بیس فیصد کی بڑھوتری ہو سکی ہے۔ واقعی میں آپ نہ صرف ڈائریکشن میں، بلکہ بزنس میں بھی ماہر ہیں۔"

"میں؟ اور کاروبار میں بھی ماہر!" اتنا کہہ کر میں چُپ ہو گیا۔ بندھی مٹھی لاکھ کی!

اس کے بعد میرے من میں وچار آیا کہ کیوں نہ ہماری 'پربھات' کی اپنی ایک ڈسٹریبیوشن آرگنائزیشن ہو؟ صوبے صوبے میں اس کی شاخیں ہوں۔ وہ ہماری فلموں کے ساتھ ہی دیگر اچھے پروڈیوسرز کی فلمیں بھی ڈسٹری بیوشن کے لیے قبول کرے۔ اس طرح ایک مکمل بھارتی ڈسٹری بیوشن آرگنائزیشن بنانے کا اہم خیال میرے من میں شکل لینے لگا۔ لیکن اپنے کام کے گورکھ دھندھے سے سمے نکال کر یہ نیا کام بھی دیکھوں، اس کے لیے میرے پاس سمے نہیں تھا۔ میں کسی ماہر ڈسٹری بیوٹر کے بارے میں سوچنے لگا۔ بمبئی کے ہمارے ڈسٹری بیوٹر بابوراؤ پینڈھارکر کا نام سامنے آیا۔ لیکن سوال یہ تھا کہ کیا بابوراؤ ان کی اپنی 'فیمس پکچرز' آرگنائزیشن بند کر 'اکھل بھارتی ڈسٹرییوسن آرگنائزیشن' کا کاروبار سنبھالنے کو راضی ہو جائیں گے؟ اس میں انھیں کیا فائدہ ہو گا؟ اس پر وچار آیا کہ کیوں نہ انھیں بِنا کوئی رقم لیے 'پربھات' کا پانچواں حصہ دار بنا لیا جائے اور ان کی 'فیمس پکچرز' کو پربھات کی نیشنل ڈسٹری بیوشن آرگنائزیشن کے روپ میں بدل دیا جائے۔ شاید بابوراؤ اس کے لیے ضرور ہی تیار ہو جائیں گے۔ 'پربھات' کی بالکل پہلی فلم سے وہ ہمارے ساتھ جو تھے! لیکن بابوراؤ پینڈھارکر کے بارے میں داملے، فتےلال کی رائے خاص اچھی نہیں تھی۔ ان کی رائے تھی کہ بابوراؤ مہا حکمتی آدمی ہے، اپنا فائدہ ہر حالت میں ممکن کر کے ہی رہے گا! لہٰذا انھوں نے میرے سجھاؤ کی مخالفت کی۔ لیکن ان دونوں کو میں نے یقین دلایا کہ میں خود بابوراؤ پینڈھارکر کی ہرحرکت پر کڑی نظر رکھوں گا۔ 'پربھات' کو گڑھے میں ڈالنے والا کوئی کام وہ نہیں کریں گے، اس کی احتیاط برتوں گا۔ تب جا کر کہیں میرے حصے داروں نے میرا سجھاؤ مان لیا۔ بابوراؤ پینڈھارکر کیشوراؤ دھایبر کی جگہ پر پربھات کے پانچویں حصےدار بن کر آ گئے۔

اس کے کچھ دن بعد کمپنی میں ایک الگ ہی بات چل پڑی۔ کہا جانے لگا کہ 'گوپال کرشن'، 'تُکارام' فلم کے مقابلے میں 'آدمی' اور 'مانوس' آمدنی کے خیال سے کم پُراثر ثابت ہوئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ میرے علاوہ کمپنی کے دیگر مالکوں نے ایک وچار رکھنا شروع کر دیا کہ "اس طرح کم آمدنی دینے والی فلمیں 'پربھات' جیسی کمپنی آخر بنائے ہی کس لیے؟ فلم میکنگ بھی آخر اپنے آپ میں ایک دھندا ہے۔ لہٰذا دھندے کا تقاضا تو یہی ہونا چاہیے کہ ایسی ہی فلمیں بنائی جائیں جن سے زیادہ آمدنی ہو"۔ اپنی بنائی 'گوپال کرشن' اور'تکارام' کی آمدنی کے ہندسوں کا مقابلہ' آدمی' اور 'دنیا نہ مانے' کی آمدنی سے کرتے رہنا، داملے، فتے لال جی کا ایک نٹھلا شوق بن گیا۔ ان کے پاس نٹھلےپن کے لیے سمے بھی کافی رہتا تھا! لیکن ان دونوں نے اس بات کو آرام سے بھُلا دیا تھا کہ 'گوپال کرشن' اور 'تکارام' دونوں فلموں کے بننے میں میرا کردار کتنا رہا تھا!

میں نے جان بوجھ کر ان کے اس وچار کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا اور داملے جی، فتے لال جی کے لیے ایک نئی فلم کی تیاریاں شروع کر دیں۔ سکرین پلے کے لیے ایک سیدھا سادہ، سب لوگوں کو راس آنے والا موضوع چُنا: 'سنت گیانیشور'! ان یتیم بھائیوں کی کہانی سب کے دلوں کو چُھو جانے والی، گہری بیٹھ جانے والی کہانی تھی۔ میں نے 'تکارام' اور 'گوپال کرشن' کے سکرین پلے تیار کرنے والے لیکھک شِورام واشیکر کو اس فلم کی کہانی لکھنے کو کہہ دیا۔ میں نے خود بھی گیانیشور کی آپ بیتی پڑھ ڈالی۔ گیانیشوری کا بھی تھوڑا بہت مطالعہ کیا۔ سکرین پلے کے موضوع کو لے کر وشیکرن جی میرے ساتھ چرچا کرنے لگے۔ بیچ بیچ میں داملے جی فتےلال جی بھی اس میں حصہ لیتے اور اپنی رائے ظاہر کرتے تھے۔ سکرین پلے تیار ہو گیا۔ فلم کی شوٹنگ کا انتظام بھی ہو گیا۔ ہم سب لوگ نئے جوش خروش سے کام میں جٹ گئے۔ کہنا نہ ہوگا کہ اس فلم کی ڈائریکشن کی ذمہ داری داملے جی اور فتے لال جی پر تھی۔

'سنت گیانیشور' کے لیے سنگیت دینے کا کام کیشوراؤ بھولے کو سونپا تھا۔ 'پربھات' میں شروع میں بطور ایکٹر کام کر چکے وسنت دیسائی کو میوزک ڈیپارٹمنٹ میں ان کے زیر کام کرنے کے لیے کہا۔ اسے ہدایات دی تھیں کہ جو بھی کام کرنا پڑے، کرے اور خالی سمے میں مختلف آلات کو بجانا بھی سیکھ لے۔ اسے جب چاہے آلات بجانے کی ریہرسل کرنے کی چُھوٹ دے دی تھی۔ 'سنت گیانیشور' میں ایک گاڑی بان کا گانا اس نے گایا اور گاڑی بان کا کام بھی اسی نے کیا۔ اس فلم کے بیک گراونڈ میوزک کا کام جاری تھا، تب وسنت دیسائی خود آگے آ کر بھولے کی مدد کرتا تھا، لیکن اس بھلے آدمی نے تعریف میں کبھی ایک لفظ بھی نہیں کہا، نہ ہی اس کا حوصلہ بڑھایا اور نہ ہی کبھی ایسا کام کیا جس سے وسنت دیسائی کی کوشش ہمارے بھی دھیان میں لائی جاتی۔ نتیجتاً ویسنت دیسائی کئی بار ناامید ہو جاتا تھا۔ یہ بات میری نظر سے بچ نہ سکی۔ میں نے اسے سمجھایا بجھایا، "دیکھو وسنت، تم تو اسی میں اطمینان مانو کہ تمھیں آخر کام کرنے کا موقع تو مل رہا ہے۔ خوب ڈٹ کر کام کرو، محنت کرو، مطالعہ کرو، میرا پورا دھیان تمھاری طرف ہے۔" دیسائی ویسے ہی بہت محنتی تھا۔ اسے میری باتوں سے جوش ملا اور وہ اور بھی زیادہ جوش سے من لگا کر کام کرنے لگا۔

اس بیچ 'سنت گیانیشور' کی شوٹنگ کے سمے داملے جی اور فتے لال جی میں ڈائریکشن کے کئی پہلوؤں پر ٹکراؤ ہونے لگے۔ کئی بار فتے لال جی کی ہدایات اعلیٰ فنکارانہ ہوتی تھیں، لیکن داملے جی اور ان کا معاون راجہ نے نے ان کے اچھے اچھے سجھاؤوں کو بھی نامنظور کر دیتے۔ پھر فتے لال جی اپنا خیال مجھے آ کر بتاتے اور پھر میں انھیں جا کر داملے جی کے گلے اتارتا تھا۔

'تکارام' اور 'گوپال کرشن' کی ڈائریکشن کرنے کے بعد بھی ان دونوں نے فلم میں کس شاٹ کی لمبائی کتنی ہو اور اس کے لیے کتنی فلم خرچ کی جانی چاہیے، اس کا کوئی مطالعہ نہیں کیا تھا۔ ایڈیٹنگ شروع کی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جو سین فلم میں مشکل سے پچاس ہی فیٹ رہنے والا ہے، اس کی شوٹنگ کے لیے ہزار دو ہزار فیٹ فلم ضائع کر دی گئی ہے۔ ایک ایک سین کی اتنی لمبی شوٹنگ حیرانی کی بات تھی۔ اس معاملے میں زیادہ احتیاط برتی جائے، اس احساس سے میں نے ان دونوں کو ایڈیٹنگ روم میں بلوا لیا اور براہ راست شوٹنگ کے نمونے دکھا کر بات کو سمجھاتے ہوئے کہا، "دیکھیے، ان ہزاروں فیٹ فلموں میں مناسب شاٹ کھوج نکالتے نکالتے میری تو ناک میں دم آ گیا! 'تکارام'، 'گوپال کرشن' کی ڈائریکشن کر چکنے کے بعد بھی شوٹنگ کا ایک موٹا اندازہ بھی آپ نہیں لگا پائے، اس کی واقعی مجھے بہت ہی حیرانی ہوتی ہے!"

لیکن میں نے دیکھا کہ ان دونوں کو میری یہ بات پسند نہیں آئی۔ ایڈیٹنگ کرتے سمے فلم کے سکرین پلے میں رہ گئی ایک خرابی میرے دھیان میں آ گئی: گیانیشور جب بچہ تھا، ایک ننھی سی بچی اس سے محبت کرتی ہے۔ گیانیشور برہمچاری! لہٰذا اس بچی کا وہ کردار ایک دم اَدھر میں لٹکتا سا معلوم ہوتا تھا۔ اس اچھی بچی کے ناسمجھ پیار کو کہیں نہ کہیں یقین دلانا نہایت ضروری تھا۔ میں نے ایڈیٹنگ روک دی۔

سوچتے سوچتے ایک بہت ہی کومل اور اعلیٰ خیال من میں آیا۔ میں داملے جی، فتے لال جی کو ڈھونڈنے شوٹنگ ڈیپارٹمنٹ میں گیا۔ وہاں وہ دونوں پنت دھرم ادھکاری ساتھ نہ جانے کیا باتیں کر رہے تھے، مجھے آیا دیکھ کر چپ ہو گئے۔ میں نے انھیں ایڈیٹنگ کرتے سمے پیدا ہوا خدشہ بتایا اور کیا کرنا چاہیئے، بڑی اپنائیت سے میں بتانے لگا۔

ان دونوں نے میری بات سکون سے سن لی۔ اس کے بعد میرے اس نئے خیال پر داملے جی نے گھڑا بھر پانی ڈال دیا۔ انھوں نے کہا، "دیکھیے، سکرین پلے کے نقطۂ نظر سے مجھے نہیں لگتا کہ آپ جس بےکار کے سین کا ذکر کیے جا رہے ہیں، اس کی کوئی ضرورت ہے!"
بات کا بتنگڑ نہ ہو، اس لیے میں نے بھی ان کی 'ہاں' میں 'ہاں' ملا دی۔

اس دن ایڈیٹنگ وہیں ادھوری چھوڑ کر میں پہلی منزل پر اپنے آفس کے باہر چھجے پر کہنیاں ٹیکے کھڑا آج کے واقعے پر غور کر رہا تھا۔ شام ہو رہی تھی۔ تبھی نیچے سے کسی کے بولنے کی آواز سنائی دی، "آج شانتارام بابو کو کیسی کھری کھری سنا دی!"

میں نے جھک کر دیکھا۔ داملے جی، فتے لال جی گپیں لڑاتے لڑاتے کمپنی کے احاطے میں بنے جلترن تالاب کی طرف چہل قدمی کرنےکے لیے جا رہے تھے۔ دونوں اپنی ہی باتوں میں ڈوبے ہونے کے کارن اوپر کی طرف ان کا قطعی دھیان نہیں تھا۔ داملےجی کہہ رہے تھے، "کیا ہی لاجواب کر دیا میں نے انھیں!" فتے لال جی بولے "ٹھیک ہی تو ہے! ورنہ اپنے ضدی سوبھاؤ کے کارن وہ اس سین کو اپنی خواہش کے مطابق پھر فلمانے پر اُتر ہی آتے!"

"اور بعد میں اسے بھی قینچی لگانی ہی پڑتی۔ تب کیا فلم ضائع نہ ہوتی؟ شانتارام بابو کا سوچنے کا ڈھنگ ہی کچھ ایسا ہے کہ وہ جو کریں گے یا کہیں گے وہ ایک دم درست اور صحیح اور باقی لوگ ہمیشہ غلط! عقل بٹتے سمے وہ اکیلے ہی جیسے بھگوان کے سامنے حاضر تھے!"

باتیں کرتے کرتے وہ دونوں آگے نکل گئے لیکن مجھے ان کی باتیں سن کر ایسا لگا جیسے کسی نے ابلتا ہوا ٹنکچر میرے کانوں میں ڈال دیا ہے۔ میں نے جو سین انھیں سمجھایا تھا اس کی کلپنا کا صحیح صحیح اندازہ دونوں نہیں کر پائے تھے۔ شاید ان کی ویسی اوقات بھی نہیں تھی۔ لیکن ان کے من میں میرے لیے جو زہریلے وچار تھے، انھیں سن کر میرا ماتھا بےحد ٹھنکا۔ سُن سا میں وہیں پتہ نہیں کب تک کھڑا رہا۔

وِمل نے مجھے ہلا کر اس غنودگی سے جگایا۔ چاروں طرف گھنا اندھیرا چھا چکا تھا۔ وِمل میرے پاس کھڑی تھی۔ آفس میں بتی جل رہی تھی۔ وِمل نے کہا، "پتہ ہے، آپ سوچ میں ڈوبے رہنے پر کتنے بھلے لگتے ہیں؟ لیکن دو نوالے بھوجن کرنے کے بعد سوچنے بیٹھیں گے نا، تو اور بھی اچھے دِکھیں گے!" ومل اس طرح مجھے کبھی چھیڑا نہیں کرتی تھی۔ لیکن اس لمحے تو اس کی ٹھٹھولی سن کر میری طبیعت کافی ہلکی ہو گئی۔ من کا غبار اتر گیا۔ ہم دونوں گھر کی طرف چل پڑے۔

دوسرے دن سویرے میں کمپنی میں ایک نیا فیصلہ کر کے ہی آیا۔ میرا سُجھایا گیا وہ سین فلم کی نظر سے فضول نہیں بلکہ نہایت ضروری ہے، یہ بات میں انھیں بتا دینا چاہتا تھا۔ میں ان دونوں کے کمرے میں گیا۔ وہ سین فلما کر فلم میں شامل کرنے کی درخواست کرنے لگا۔ تھوڑی سی ضد بھی کی۔ آخرکار مجبور ہو کر ہی وہ راضی ہو گئے۔ لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ، "آپ جس سین کی بات کر رہے ہیں اسے کیسے فلمایا جائے، ہماری تو سمجھ میں قطعی نہیں آیا ہے۔ لہٰذا اس کی شوٹنگ بھی آپ ہی کریں۔"

ایکٹنگ ڈیپارٹمنٹ میں حال ہی کام پر آئی مُتی گپتے کو میں نے فوراً ہی اس نوجوان لڑکی کا کام کرنے کے لیے تیار ہو آنے کے لیے کہا۔ ہمیشہ کے برعکس اس بار تو اس سین کا سنیریو بھی میں تیار کر کے نہیں لایا تھا۔ بس من میں جو سوچ اور خیالات آئے تھے انھیں کے مطابق میں دھڑلے کے ساتھ لگاتار شاٹس لیتا گیا اور وہ سین ایک ہی دن میں فلما کر پورا کر لیا۔

'سنت گیانیشور' تیار ہو گئی۔ بمبئی کے سینٹرل سنیما میں اسے ریلیزکیا گیا۔ فلم میں اچھا خاصا رنگ بھرتا جا رہا تھا۔ میں نے ضد کر کے فلم میں جو سین شامل کیا تھا، وہ پردے پر دکھائی دینے لگا۔ داملے جی، فتے لال جی میں کچھ کھسرپھسر شروع ہو گئی۔ لیکن میرا دھیان ان کی باتوں پر قطعی نہیں تھا۔ ناظرین کے اس سین کے بارے کیا تاثرات ہوتے ہیں، یہ جاننے کے لیے میں بےحد بےچین ہو اٹھا تھا۔

بچے گیانیشور سے دل ہی دل میں محبت کرنے والی وہ بچی اب جوان ہو گئی ہے۔ ندی کے گھاٹ پر ایک مندر کی اوٹ سے ندی میں نہا رہے پھرتیلے نوجوان گیانیشور کو وہ بڑی جذباتی عقیدت سے دیکھ رہی ہے۔۔۔ جوانی کی سرزمین میں ابھی ابھی قدم رکھ چکی وہ خوبصورت لڑکی کچھ زیادہ جھک کر گیانیشور کو نہارنے لگی ہے۔ اس کے من کی بےصبری اس کی نظر سے صاف ظاہر ہو رہی ہے۔ گیانیشور کا غسل ہو گیا ہے۔ وہ بھیگی کفنی سے ہی گھاٹ کی سیڑھیاں چڑھ جاتا ہے، مندر کی طرف چلا جاتا ہے۔ گھاٹ کی سیڑھیوں پر اس کے بھیگے نقشِ پا ابھر آتے ہیں۔ وہ لڑکی مندر کی اوٹ سے باہر آتی ہے۔ جلدی جلدی سامنے آ کر ان بھیگے نقشِ پا پر پھول چڑھاتی ہے اور بھکتی کے جذبے سے انھیں پرنام کرتی ہے۔

ناظرین نے اس پر تالیوں کی گڑگڑاہٹ کی۔ پاس ہی بیٹھے داملے جی، فتے لال جی کی طرف میں نے فاتحانہ انداز سے دیکھا۔ بےکار ہی لگا کہ شاید وہ بھی داد دیں گے۔ لیکن انھوں نے ویسا کچھ بھی نہیں کیا۔ لاتعلق انداز سے وہ فلم دیکھتے رہے!

پہلا شو ختم ہوا۔ کافی ناظرین اور ناقدین نے داملے جی فتے، لال جی کو دلی مبارکباد دی۔ دو ایک نقاد اس بھیڑ میں بھی مجھے کھوج کر ایک طرف لے گئے اور صاف صاف پوچھ ہی بیٹھے، "اس نوجوان لڑکی کا گیانیشور کے لیے بھکتی کے احساس سے بھری محبت اتنے علامتی انداز کے ساتھ فلمانے کرنے کا تخیل آپ کا ہی تو ہے نا؟ اس سین کو اتنی نزاکت کے ساتھ پیش کرنے کی مہارت آپ کے سوائے اور کون دکھا سکتا ہے!" من ہی من میں نے ان ناقدین کی تیز نظر کی داد دی۔ ان کی چالاکی کا لوہا مان لیا۔ لیکن اوپر سے ویسا کچھ بھی نہ جتاتے ہوئے فوراً کہا، "یہ تخیل شِورام واشیکر جی کا ہی ہے اور اس سین کو داملے، فتے لال جی نے فلمایا ہے۔" ان دونوں ناقدین نے سطحی طور پر میری بات مان لی اور ایک اچھی خوبیوں سے بھرپور فلم کے لیے مجھے بھی مبارکباد دے کر وہ چلے گئے۔

یہ مکالمہ چل رہا تھا تب پتہ نہیں کب واشیکر جی میرے پیچھے آ کر کھڑے ہو گئے، مجھے تو پتہ ہی نہ چلا۔ لیکن انھوں نے ہماری باتیں سن لی تھیں۔ جذباتی ہو کر میرا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں کس کر تھام کر وہ خاموش کھڑے رہے۔ ان کی آنکھوں میں جذباتیت چھلکنے لگی تھی۔ میں نے حیرانی سے پوچھا، "واشیکر جی، کیا بات ہے؟" رندھی آواز میں انہوں نے کہا، "فلم میں بھیگے نقش پا پر پھول چڑھانے والی اس لڑکی کا ایک خاموش سین— ویسا ہی اِسے بھی ایک اور خاموش سین جانیے!"

'سنت گیانیشور' کی ریلیز کے بعد پُونا واپس آنے پر ایک لیکھک وشرام بیڑیکر مجھ سے ملنے کے لیے تشریف لائے، ولایت جا کر وہ فلمنگ کی تربیت لے کر حال ہی وطن لوٹے تھے۔ ان کا لکھا ایک ناول 'رنانگن' میں اس سے پہلے ہی پڑھ چکا تھا اور تبھی سے ان کے ٹیلنٹ کا قائل ہو گیا تھا۔

اُن دنوں مہاتما گاندھی کی قیادت میں پورے بھارت میں آزادی کی جدوجہد کافی شدت کے ساتھ چل رہی تھی۔ انگریزی حکومت نے 'پھوٹ ڈالو اور راج کرو' والی کامیاب سیاست کے مطابق ہندوؤں اور مسلمانوں میں مذہبی منافرت ابھار کر بھارت پر اپنی طاقت کا شکنجہ کس لیا تھا۔ سبھی اخباروں میں ہندو مسلمانوں کے دنگوں کی خبریں سرخیوں کے ساتھ چھپتی تھیں۔ ان خبروں کو پڑھ کر میں بہت بےچین ہو اٹھتا تھا۔ سارے ملک میں آتش فشاں کی طرح سلگ رہے اس سوال پر آئندہ فلم بنانے کی ہمت کرنا میں نے طے کیا۔ وشرام بیڑیکر جیسا نئی سوچ کا باصلاحیت، ہنرمند لیکھک میرے خیالات کو لفظ دینے کے لیے تیار تھا۔

اس فلم کے لیے مجھے ایک نئی ہیروئین کی تلاش تھی۔ شانتا آپٹے 'پربھات' چھوڑ کر کبھی کی جا چکی تھی۔ 'آدمی' میں ہیروئن کا کام کر چکی شانتا ہُبلیکر اب کچھ اَدھیڑ سی ہو چلی تھی۔ 'پربھات' چھوڑ کر جانے کی اس کی منشا میرے کان پر آئی تھی۔ چونکہ آئندہ فلم کے لیے اس کا خاص استعمال ہونے والا نہیں تھا، ہم نے اسے کانٹریکٹ سے آزاد کر دیا۔

ایک دن سویرے ہی ممبئی کی نشنل گراموفون کمپنی کے ساؤنڈ ریکارڈنگ ہیڈ بابوراؤ مالپیکر ایک اچھی خوبصورت نوجوان لڑکی کو میرے آفس میں لے آئے اور اسے سیدھے میرے سامنے کھڑا کیا۔ میں نے اسے کیمرے کی نظر سے غور سے دیکھا۔ اس کا ناک نقشہ، ہونٹ، دیکھنے کی ادا، ٹھوڑی، بہت سڈول تو نہیں تھے، لیکن اس کی موٹی موٹی، کجراری، کچھ کچھ کٹاری سی آنکھیں بہت ہی متجسس، چمک دار اور نہایت پر کشش تھیں۔ نین بڑے چنچل تھے۔ میں نے اس سے اس کا نام پوچھا۔ اس نے کچھ جھجک کر بتایا، "ج۔۔۔ جےشری کامُلکر"۔ اس کی آواز مدھر تھی۔ سہج بھاؤ سے میں نے پوچھا کہ گانا وانا جانتی ہو؟ جواب بابوراؤ مالپیکر نے دیا، "اسے کلاسیکی موسیقی کی خاص جانکاری نہیں ہے، لیکن لائٹ میوزک، سینٹیمنٹل اور فلمی گیت اچھی طرح گا لیتی ہے۔ اس نے اس سے پہلے جن فلموں میں کام کیا، ان میں اپنے گیت خود گائے ہیں۔" میں نے ماسٹر کرشن راؤ کو بلا کر اس کا گانا سننے کے لیے کہا۔ سن کر انھوں نے اس کی آواز کے بارے میں اپنی پسند ظاہر کی۔ میں نے مینیجر کو بلوا کر اسے تین سال کے لیے کانٹریکٹ دینے کو کہا۔

دوسرے دن 'پربھات' کے منیجر جےشری کے کانٹریکٹ کا کچا چٹھا لےکر میرے پاس آئے۔ میں اسے پڑھ رہا تھا تو بولے، "انا، یہ جےشری کہتے ہیں کہ منحوس ہے۔"
"منحوس؟ کیا مطلب؟"

"اس نے جس کسی فلم کمپنی میں کام کیا ہے، وہ بند ہو گئی۔ اس کا دِوالا پٹ گیا۔ ساؤنڈ سٹوڈیو، کیشوراؤ دھایبر کی کمپنی، سرسوتی سنےٹون، کتنے نام گناؤں؟ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ یہ سبھی فلم کمپنیاں بند ہو چکی ہیں!"

''دیکھیے، منحوس، جیوتش، ان سب باتوں کو میں قطعی نہیں مانتا۔ فلم خراب بناؤ تو کمپنی ضرور بند ہو گی۔ اس میں جےشری کا کیا قصور ہے؟ 'پربھات' ایسی منحوس وغیرہ بری باتوں کو پچا کر آگے ہی بڑھتی جائے گی! جائیے، آج ہی اس کانٹریکٹ کو پکا کیجیے اور اس پر جےشری کے دستخط کروا لیجیے!"

کمپنی کے رولز کے مطابق جےشری ہر دن سویرے نو بجے کام پر آ جاتی تھی۔ اپنی مدھر اور اچھی اچھی باتوں کے کارن وہ بہت ہی تھوڑے سمے میں سب کے ساتھ ہِل مل گئی۔ چھوٹے بڑے سب کو اس نے اپنا بنا لیا۔

بیڑیکرجی نے کہانی کا موٹا خاکہ بنا لیا۔ نئی فلم کے لیے میرا سُجھایا گیا موضوع ویسے کسی بھی لیکھک کے لیے ذرا مشکل ہی تھا۔ پھر انگریزوں کے سنسر کی قینچی کا بھی ڈر تھا، فلم میں دو بنیادی کردار، دونوں بوڑھے اور پڑوسی متر۔ ایک ہندو دوسرا مسلمان۔ انگریز حاکموں کے خیالات کی نمائندگی کرنے والا ایک ولن بھی بنایا۔ یہ سرمایہ دار ہوتا ہے، اپنے فائدے کے لیے وہ ندی پر ایک باندھ بنوانے کا پروگرام بناتا ہے۔ باندھ کے کارن کافی غریب کسانوں کی زمین پانی میں ڈوبنے والی ہوتی ہے۔ اس سرمایہ دار کو اس کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ وہ ان سب کی زمینیں خرید لینے کی ٹھان لیتا ہے۔ پہلے تو کوئی زمین بیچنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ پھر انگریزوں کی Distinction policy کا سہارا لے کر وہ سرمایہ دار گاؤں والوں میں پھوٹ ڈالتا ہے، اختلافات پیدا کرتا ہے اور اپنا الو سیدھا کر لیتا ہے۔ اسی چکر میں ان دو بوڑھے متروں میں بھی اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں اور دونوں کے خاندان دھیرے دھیرے تنہا سا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ایک دوسرے سے دور ہونے لگتے ہیں۔

— موٹے طور پر کہانی کا فارمولا یہی رکھنے کا فیصلہ کیا۔ سماجیت اور سیاست کا توازن برابر سنبھالنا تار پر کسرت کرنے کے جیسا تھا، لیکن ویسا کرنا ضروری بھی تھا۔ سنسر کی تیز نظر سے فلم کو پاس جو کرانا تھا!

دو بوڑھوں کے کرداروں پر مبنی یہ کہانی لوگوں کو بےجان اور روکھی معلوم ہوتی، لہٰذا لوگوں کی دلچسپی کے لیے ایک محبت کرنے والا نوجوان جوڑا بھی سکرین پلے میں شامل کیا۔ دو بنیادی بوڑھوں میں سے ایک ہندو بوڑھے کا نوجوان لڑکے اور اس سرمایہ دار کی لڑکی کے کچھ لَو سین کا فلمانا اس فلم میں جان بوجھ کر شامل کیا۔ حقیقت میں یہ لَو سین اس صاف ستھری کہانی میں تھگلی لگانے کے برابر ہی تھے۔ میں نے اپنے آدرشی اور فنکارانہ من کو سمجھایا اور فلم میں ان کرداروں اور منظروں کا وجود مجبوراً قبول کیا۔ اس فیصلے کے پیچھے صرف یہی احساس تھا کہ ہماری آدرشی فلم زیادہ سے زیادہ لوگ دیکھیں۔ لیکن جب جب میں اس فلم کو دیکھتا، ہر بار جی کرتا کہ ان سارے لَو سینز کو کاٹ کر الگ کر دوں۔ نئی فلم کا نام ہندی میں 'پڑوسی' اور مراٹھی میں 'شیجاری' رکھا۔

میں نہیں چاہتا تھا کہ اس فلم کے کارن ہندو یا مسلمان کسی کے من کو ٹھیس لگے اور ان میں بےکار ہی پرائےپن کا احساس پیدا ہو۔ لہٰذا میں نے کافی سوچ وچار کے بعد ایک فیصلہ کیا 'پڑوسی' میں بوڑھے مسلمان متر کا کردار گجانن جاگیردار نامی ہندو اداکار اور ہندو متر کا کردار مظہر خان نامی مسلمان اداکار کرے۔ مراٹھی ورژن میں بوڑھے ہندو متر کی اداکاری کیشوراؤ داتے کرے۔ مکمل ریہرسلز شروع ہو گئیں۔ گجانن جاگیردار اور مظہر خان جیسے ماہر اداکار بھی میری بتائی اداکاری کی باریکیوں کو خوب من لگا کر دیکھتے اور پورا مطامعہ کر ان کو ٹھیک ٹھیک اپنی اداکاری میں اتارتے۔

وہ گرمیوں کے دن تھے۔ کمپنی کی ایک طرف ہم لوگوں نے جنگل کے سین کو فلمانے کے لیے کچھ پیڑ پودے منصوبے سے لگائے تھے۔ اس جھنکاڑ کے پار تیراکی کے لیے ایک تالاب بھی بنایا تھا۔ میں کئی بار گھر کے لوگوں کے ساتھ شام کو وہاں تیرنے جایا کرتا تھا۔ ایک اتوار کو جےشری کو پتہ چل گیا کہ میں تیرنے جانے والا ہوں۔ اس نے بھی تیرنے کے لیے آنے کی اجازت چاہی۔ دوسرے دن ہم سب لوگ تالاب میں کافی ڈوبتے ابھرتے رہے تھے۔ کمار اور سروج بھی تھوڑا تھوڑا تیرنا سیکھ چکے تھے۔ وِمل تو بس صرف چند ہاتھ پاؤں پانی میں آزما لیتی تھی۔ میں نے اس کے پیٹ کے نیچے سہارا دے کر اسے کچھ تیرنا سکھایا۔ مدھو کو پیٹھ پر بٹھا کر تالاب کا ایک چکر میں نے پورا کیا۔ جےشری اچھا تیر رہی تھی۔ کچھ دیر بعد وِمل اور بچوں کو کم گہرے پانی میں ہی ڈوبنے ابھرنے کی ہدایت دے کر میں تیزی کے ساتھ پانی کاٹتا ہوا جلترن کا مزہ لینے لگا۔ تالاب کے دو تین چکر لگا لیے پھر میں پانی کی سطح کے نیچے غوطے لگانے لگا۔ میرا ہاتھ کسی کی پنڈلی سے لگا! پانی کی سطح پر آ کر دیکھا وہ جےشری تھی! میرا دم بھر گیا تھا! میں وہیں پاس کا چھجا پکڑ کر سانس لینے کے لیے رکا۔ اسی سمے میری پیٹھ پر کسی کے ہاتھ کا احساس لگا! میں نے مڑ کر دیکھا، جےشری میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی!

میں نے پھرتی سے پانی کے اندر غوطہ لگایا اور سطح کے نیچے سے ہی تیرتا ہوا اس سے کافی دور نکل گیا۔ اس کے بعد کافی دیر تک میں اتنا تیرا کہ تھکنے تک تیرتا ہی رہا۔ تبھی وِمل کی آواز سنائی دی، "اجی، اب بس بھی کریے۔ کب تک ڈوبتے ابھرتے رہیں گے؟"

تھوڑی دیر بعد ہم سبھی گھر لوٹنے کے لیے نکلے۔ جےشری بھی ہمارے پیچھے پیچھے چلی آ رہی تھی۔ کمپنی کے پھاٹک کے پاس پہنچنے پر اس نے اپنا جلوہ مجھ پر گرا کر پوچھا، "اب میں جاؤں؟"
میں نے کچھ روکھے پن سے کہہ دیا، "جاؤ۔"

ہماری فلم کے مدراس میں ڈسٹری بیوٹر نے مدراس میں 'پربھات' نامی سنیماگھر بنوایا۔ اس کا افتتاح میرے ہاتھوں ہونا تھا۔ چار پانچ دن بعد میں اور وِمل اس تقریب کے لیے جانے کے لیے مدراس میل میں بیٹھے۔ اس یاترا کی خبر دینے کے لیے دو تین اخباروں کے انٹرویو لینے والے بھی ہمارے ساتھ تھے۔ حقیقت میں مَیں تھا لوگوں کی تفریح کرنے والا فلم ڈائریکٹر، کوئی سیاست دان تو نہیں تھا۔ پرچار، پبلسٹی، انٹرویوئرز کا اس طرح ساتھ ہونا، یہ باتیں مجھے ایک دم پاکھنڈ سی لگتی تھیں۔

پُونا سے میل چل پڑی۔ رات بیت گئی۔ جنوبی بھارت کی طرف میل تیزرفتار سے دوڑی جا رہی تھی۔ بیچ میں کسی سٹیشن پر گاڑی رکی۔ مدراس میل اس سٹیشن پر رکتی نہیں تھی۔ عوام کے خاص اصرار پر گاڑی وہاں روکی گئی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کی بھیڑ میرے ڈبے میں پھول مالائیں لے کر گھسی۔ انھوں نے ہار مجھے پہنا دیے۔ پھولوں کے گلدستے ہاتھوں میں تھما دیے۔ پل بھر تو میں بھونچکا رہ گیا۔ ماجرا آخر ہے کیا، کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ لگا کہ ہو نہ ہو، ان سب کو شاید کچھ غلط فہمی ہو گئی ہے۔ وہ مجھے کوئی لیڈر سمجھ بیٹھے ہیں۔ لیکن ان کی جنوبی بھاشا میں بھی میں اپنا نام اور اپنی فلموں کا ذکر صاف سن رہا تھا، سمجھ بھی پا رہا تھا۔

میرے ساتھ آئے انٹرویوئرز میں ایک تمل بھاشی تھا۔ میں نے اس سے جاننا چاہا کہ آخر یہ لوگ اس طرح میری اتنی آؤبھگت کس لیے کر رہے ہیں۔ اس نے کہا، "یہ لوگ آپ کے قائل ہیں، کہہ رہے ہیں کہ وی شانتارام صرف رنگین فلم ہی نہیں بناتے، سماجی حالات کے لیے بیدار رہ کر فلم بنانے والا آج یہی واحد ڈائریکٹر ہے، اور اسی لیے وہ ہمارے لیے پوجنے لائق ہے!"

"لیکن ان سب کو یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ میں اسی گاڑی سے جا رہا ہوں؟" میرے اس بچگانے سوال پر وہ انٹرویو لینے والا قہقہے لگا کر کہنے لگا، "لو، یہ تو آپ نے کمال کر دیا! اجی، آپ کے اس سفر کی خبر اخباروں میں جو چھپ چکی ہے، اسی لیے تو آپ کا یہ پُرجوش استقبال ہو رہا ہے۔" اس کے بعد مدراس پہنچنے تک ہر سٹیشن پر اسی طرح کی استقبالیہ تقریب کم وبیش ہوتی رہی۔

آخر گاڑی مدراس پہنچی۔ سٹیشن پر بھاری بھیڑ جمع ہو گئی تھی۔ جیسے ہی میں اپنے ڈبے کے دروازے پر آیا، لوگوں نے جوش سے ہاتھ ہلا کر میری جے جےکار کی۔ سٹیشن تو دکھائی ہی نہیں دے رہا تھا۔ جدھر دیکھو، آدمی ہی آدمی نظر آ رہے تھے۔ جیسے اتھاہ انسانی ساگر ہی وہاں ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ لگ بھگ ایک گھنٹے تک میرے گلے میں پھولوں کے ہار پڑتے رہے۔ انھیں نکال نکال کر میں پیچھے کھڑی وِمل کو دیتا گیا۔ وِمل ان مالاؤں کو ہم دونوں کے بیچ رکھتی گئی۔ بیچ ہی میں میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا، وِمل کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ تبھی اسی کی آواز سنائی دی، "اجی۔۔۔۔" شاید وہ پھول مالاؤں کے ڈھیر سے ڈھک گئی تھی۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر اسے اس ڈھیر کے آگے لانگھ کر آنے میں مدد کی۔ سٹیشن پر اتنے لوگ اکٹھے ہو گئے تھے کہ بھیڑ میں سے راہ نکالنا ٹیڑھی کھیر بن گیا تھا۔ آخر ہمارے ڈبے کے پیچھے کی طرف سے ایک پولیس دستہ آ پہنچا اور اس نے ہمیں دوسری طرف سے باہر جانے میں مدد کی۔ دوسرے راستے سے وہ ہمیں باہر لے گئے۔ باہر سٹیشن کے کورٹ یارڈ میں بھی بھاری بھیڑ جمع تھی۔ ان میں کچھ جوشیلے نوجوان مجھے میرے نام سے پکار پکار کر ہاتھ ہلا رہے تھے۔ میں ان سبھی محبت کرنے والوں کو کبھی ہاتھ جوڑ کر، کبھی ہاتھ ہلا کر سلام کر رہا تھا۔ راستے کی دونوں طرف لوگ صرف مجھے دیکھنے کے لیے کھڑے تھے۔ آخر مدراس میں ہمارے میزبان کے گھر کے پاس ہم لوگ آ پہنچے۔ گھر کے پاس بھی بھاری بھیڑجمع تھی۔ کچھ پیار کرنے تو گھر کی چھت پر چڑھ کر وہیں سے مجھے زور زور سے آواز دے رہے تھے۔ میں نے وِمل کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما اور پریم کی اس پھُنکارتی باڑھ سے راستہ نکالتے ہوئے جیسے تیسے میزبان کے گھر میں داخل ہو گیا۔

مدراس میں ہمارے میزبان تھے ہمارے ڈسٹری بیوٹر جینتی لال ٹھاکر۔ حال ہی میں وہ ایک جان لیوا حادثے سے بال بال بچ گئے تھے۔ ان کے گھر میں، پتہ نہیں کیسے، آگ لگ گئی تھی۔ اس میں وہ کافی جھلس گئے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی وہ بستر سے اٹھے اور مجھے گلے لگا لیا۔ جذباتی ہو کر بولے، "میں بچ گیا، زندہ رہ گیا! لیکن سٹیشن پر نہ آسکا۔ آپ کا گرینڈ استقبال دیکھنا میری قسمت میں نہیں تھا! لیکن سارا حال مجھے یہاں بستر پر پڑے پڑے معلوم ہو گیا!" اتنا کہہ کر وہ ادھیڑ عمر کا آدمی پاگل جیسا رونے لگا۔ میں نے انھیں سمجھایا بُجھایا اور تسلی دی۔ اس آدمی کا میرے لیے اور ہماری 'پربھات' کے لیے دلی پیار تھا!

مدراس کے اپنے دورے میں نے 'پربھات تھئیٹر' کا افتتاح کیا۔ وہاں کی سماجی اور فلم انڈسٹری سے جڑی انجمنوں کی طرف سے ہمارے احترام میں کئی استقبالیہ تقریریں منعقد کی گئیں۔ ان تقریبوں میں مختلف لوگوں سے میل ملاقاتیں ہوئیں، ان لوگوں میں تمل، تیلگو، ملیالم، کنڑ بھاشا بھاشی سبھی فنکار، پروڈیوسر اور ڈائریکٹر شامل تھے۔ ان میں سے کئیوں نے تو میرے چرن چھو کر مجھے پرنام کیا۔ ایسی حرکتیں میں پسند نہیں کرتا تھا۔ مخالفت کرتا، تو چرن چھونے والا بڑے ہی ادب سے کہتا، "آپ ہمارے گرو ہیں!"

"میں آپ کا گرو؟ وہ کیسے؟" میں پوچھتا۔

تو سامنےوالا جذباتی جواب دیتا، "آپ کی فلموں کو باربار دیکھ کر ہی تو ہم نے فلم کلا کی کئی باریکیاں اکٹھی کی ہیں۔ آپ کا چرن چھونا ہماری خوش قسمتی ہے۔ اس کارن ہمیں اپنے کام میں بڑی طاقت حاصل ہو گی!"

اپنے لیے اتنی عقیدت، اتنا احترام، اتنا پیار آج تک میں نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ ایسے موقع پر بولتا بھی، تو کیا؟ کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ میں جہاں بھی جاتا، وِمل بھی میرے ساتھ ہوتی۔ اس سماج کی عورتیں اس کا استقبال بھی پورے جذبے سے کرتیں۔ اپنے لیے اتنا پیار دیکھ کر وِمل من ہی من میاں مٹھو بن رہی تھی۔ فلم کلا کے شعبے میں وِمل کو کوئی خاص علم تو نہیں تھا، نہ ہی اس سے اس کی امید کرنا مناسب تھا۔ لیکن میرے سکھ میں ہی اپنا سکھ، اور میرے دکھ میں ہی اپنا بھی دکھ مانتی آئی سادی، بھولی وِمل پتی کے اتنے شاندار استقبال اور تعریف سے سیر ہو گئی تھی۔ وہ سیری اس کی آنکھوں میں صاف جھلکتی تھی۔ اس بات پر ہو رہا سکون اس نے میرے پاس کبھی ظاہر نہیں کیا۔ لیکن آج بھی مجھے اس بات کا دلی اطمینان ہے کہ میرے افتحار کی بڑھوتری میں وِمل بھی برابری کی حصےدار تھی۔

مدراس میں ہم لوگ دس دن رہے۔ وہ دس دن پتہ نہیں کب بیت گئے۔ بچوں کے لیے کچھ سِلے سِلائے کپڑے اور وِمل کے لیے جنوبی ڈھنگ کی کچھ ساڑھیاں خریدنے کے ارادے سے ہم کپڑے کی ایک دکان پر گئے۔ وِمل نے کچھ ساڑھیاں پسند کیں۔ میں نے اسے ایک اور ساڑھی خریدنے کے لیے کہا۔ اس نے سہج بھاؤ سے پوچھا، "کس کے لیے؟" میں نے زیادہ کچھ بھی نہ بتاتے ہوئے اتنا ہی کہا، "کمپنی میں وہ جےشری آئی ہے نا، اس کے لیے!"

وِمل جےشری کے لیے ساڑھی پسند کرنے لگی۔ وچار کرتے کرتے میرا ارادہ بدل گیا۔ ساڑھی مت خریدنا، کہنے کے لیے میں وِمل کی طرف مڑا ہی تھا کہ اس نے اپنی پسند کی ایک ساڑھی میرے سامنے رکھی۔ میں نے صرف سر ہلا دیا۔

مدراس سے پُونا واپس آنے کے لیے ہم نکلے۔ سٹیشن پر پھر بےحد بھیڑ امڈ پڑی تھی۔ سب سے وداع لیتے ہوئے میں اور وِمل ڈبے کے دروازے پر کھڑے تھے۔ گاڑی چلی۔ میرا من سحرزدہ ہو گیا تھا۔عوام کا یہ بےپناہ پیار دیکھ کر میری آنکھیں بھر آئیں۔ گاڑی نے رفتار پکڑی۔ ڈبے کے ایک کونے میں مَیں چپ چاپ بیٹھا رہا۔ کسی سے باتیں کرنے کو جی ہی نہیں کر رہا تھا۔ میرے چاہنے والوں نے جو عقیدت ظاہر کی، جو پیار مجھے دیا، یہ سب اسی لیے کہ میں نے سماجی فلمیں بنائی ہیں۔ لہٰذا آگے چل کر بھی ہر حالت میں مجھے سستی مقبولیت کے چکر میں نہ پڑتے ہوئے سماج میں ظاہر مسائل کو آواز دینے والے ایک سے ایک بڑھ کر درجے فلم بناتے رہنا چاہیے، یہی وچار میرے من میں دوبارہ پختہ ہوتا گیا۔ واپسی یاترا میں بھی وہی حال رہا، جو مدراس جاتے سمے رہا تھا۔ ہر سٹیشن پر ہار اور گلدستہ لیے لوگ دلی وداعی دیتے تھے۔ ایک بار تو آدھی رات کسی سٹیشن پر لوگوں نے ریل کی پٹریوں پر کھڑے ہو کر ہماری گاڑی کو زبردستی رکوا لیا۔ ہمارے ڈبے کی کھڑکیوں اور دروازے پر زور سے دستکیں دے دے کر ہمیں جگایا اور ہم سے وداع لی۔

مقبولیت کی اس بےمثال امرت ورشا (رس کی برسات) میں بھیگتے نہاتے ہم دونوں واپس پونا آ گئے۔




پرانے نالے پر نیا فلیٹ (تحریر: راجندر یادو، ہندی سے ترجمہ: محمد عباس)

راجندر یادو کا نام ہندی ادب کی نمایاں تحریک 'نئی کہانی' سے منسوب ہے۔ آپ نے منشی پریم چند کے رسالے 'ہنس' کی دوبارہ اشاعت کا بھی اہتمام کیا۔ راجندر یادو کا پہلا ناول 'پریت بولتے ہیں' کے نام سے 1951 میں شائع ہوا جس پر بعدازاں باسو چیٹرجی نے فلم بھی بنائی۔ ناولوں کے علاوہ آپ نے کہانیاں بھی لکھیں اور روسی ادب کا ہندی میں ترجمہ بھی کیا۔ محمد عباس ان کی کہانیوں سے اردو قارئین کو متعارف کرا رہے ہیں۔ محمد عباس کے کیے یہ تراجم 'دستاویز مطبوعات، لاہور' نے شائع کیے ہیں جنہیں اب لالٹین پر شاٰئع کیا جا رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یوں مجھے اپنے آپ میں، اپنی تحریر میں ایسی کوئی بات نہیں لگتی لیکن جانے کیسے میرے قارئین اوردوستوں میں یہ خیال عام ہو گیا ہے کہ خواتین مجھے بہت خط لکھتی ہیں اور اکثر و ہ اس بات کا ذکر لطف لے کر کرتے ہیں۔درحقیقت معاملہ صرف اتنا ہے کہ پانچ سال پہلے ایک قاریہ نے مجھے پہلا خط لکھا تھا اور دھیرے دھیرے وہ قلمی تعلق گہری دوستی میں بدلتا چلا گیا تھا۔ تب ان کی شادی ہوئے کچھ ہی وقت ہوا تھا۔ پہلے میں نے ان کے خط کو ٹھیک اسی طرح لیا تھا جیسے ایک دوست دوسر ے دوست کو اپنے اندر کی بات کہتے ہوئے لکھتا ہے لیکن آج اچانک جب شروع کے دنوں کا لکھا ہوا ایک خط سامنے آیا تو پہلی بار مجھے لگا، جیسے ان کے اس قلمی تعلق کے پیچھے خالص دل کی بات کہنے کی آرزو نہیں بلکہ ایک تمنا اور بھی تھی۔وہ اپنے شوہر کو دکھانا چاہتی تھیں کہ وہ بھی کسی کو خط لکھ سکتی ہیں اور بہت بے تکلف ہو کر لکھ سکتی ہیں۔اور اِس نگاہ سے یہ خط مجھے اپنے کو لکھا ہوا ہی نہیں لگتا۔ یہ تو کسی کو بھی لکھا جا سکتا تھا۔ ان کی دلی کیفیت کے بارے میں میرا اندازہ صحیح ہے یا نہیں، اس بارے میں اپنے قارئین سے جان کر مجھے اطمینان ہو گا۔ خط کے آخر کی اور کچھ شناختی اور ذاتی باتیں چھوڑ کر میں، یقینا نام اور مقام بدل کر، خط کی نقل نیچے دیے دے رہا ہوں؛

ڈی 78/15۔۔۔۔ نگر
نئی دلی
تاریخ:24 جون 05

پیارے راجندر !

۔۔۔۔۔سے لکھے خط میں مَیں نے لکھاتھا کہ دلی پہنچتے ہی میں اپنا پتا بھیجوں گی۔ شاید تم راہ بھی دیکھ رہے ہو گے۔ ہوسکتا ہے، گالیاں بھی دے رہے ہو۔ سوچا تھا، آتے ہی پہلا خط تمھیں ہی لکھوں گی لیکن روز آج کل، آج کل میں ہی سارا وقت گزر جاتا تھا۔ کبھی فرصت بھی ہوتی تو دل اتنا خراب ہو جاتا کہ کیا بتاؤں۔۔۔جانے کیا ہو تا چلا جا رہا ہے مجھے۔ میری خو د سمجھ میں نہیں آتا۔ کل اچانک کسی رسالے میں تمہاری کہانی دیکھی تو خیال آ گیا کہ تمھیں لکھنے کا وعدہ کیا تھا ۔۔۔ لو اب معافی مانگ لیتے ہیں۔ آگے سے ایسی تاخیر نہیں ہو گی۔ لمبے خط سے اُوبو گے تو نہیں۔۔۔؟

یہ گھر بڑ اعجیب ہے۔ ہمیشہ میرا من گھٹتا رہتا ہے اور سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے۔ ان فلیٹوں میں نہ تو ابھی فلش لگا ہے، نہ ٹھیک سے بجلی ہی آئی ہے۔ پانی بھی کنستر والوں سے دو پیسہ کنستر دے کر منگانا پڑتا ہے۔ پیچھے ہی نالہ ہے، سو ایسی بدبو آتی رہتی ہے کہ سر بھنا جاتا ہے۔کہتے ہیں یہ نالہ بہت پرانا ہے۔ مغلوں کے دور میں نہر تھی اور اس سے آمدو رفت ہوتی تھی۔ ہوسکتا ہے، مہابھارت کے دور میں بھی رہا ہو لیکن اب تو اس کا پرانا پن نہ کھینچتا ہے، نہ ڈراتا ہے۔ ہمیشہ من میں اٹھتا رہتا ہے کہ یہاں سے کہیں بھاگو ۔۔۔ بھاگو۔ گھر پر عادتیں بگڑ گئی ہیں نا۔۔۔ اب تو لگتا ہے کہ اگر یہیں رہی تو اس بدبو سے پاگل ہو جاؤں گی۔ چاہے جتنی کھڑکیاں دروازے بند کر لو، چاہے جتنی اگر بتیاں پھونکتے رہو، بدبو تو ہواؤں میں بسی ہے نا۔ مجھے تو سارے دن حیرت ہوتی ہے کہ یہ پنجابنیں کیسے اس جگہ بنا کسی شکوہ شکایت کے رہتی چلی آ رہی ہیں۔ ایک ہاتھ سے ناک پر رومال لگائے ہوئے کام بھی تو نہیں ہوتا۔ سو میں ساڑھی کا پلّو ناک پر باندھ لیتی ہوں۔ یہ جب جب دیکھتے ہیں، ہنس پڑتے ہیں،کہتے ہیں:’’ جھاڑو ٹوکری اور لے لو، سامان پورا ہو جائے گا۔‘‘خود میں نے شیشے میں دیکھا تو دیر تک ہنستی رہی۔ یہ کہتے ہیں:’’ شروع شروع میں ایسا ہی لگتا ہے۔ کچھ دن بعد بدبو اپنے آپ کم ہو جائے گی۔ رہنا تو یہیں ہے۔ مکان ہی نہیں ملتے۔ ادھر ونے نگر اور لودھی کالونی کی طرف سرکاری کوارٹر ملتے ملتے سال لگے، دو سال لگیں،کون جانے، ہمارے یہاں رہتے ہوئے ملے ہی نہیں۔‘‘وہ سب ٹھیک ہے لیکن یہ تو صبح چلے جاتے ہیں۔ آفس میں خس کی ٹٹیا ں لگی ہیں۔ یہاں یا تو دن بھر گھٹو یا ناک باندھ کر پڑے رہو۔ میں تو زیادہ سے زیادہ سامنے کی طرف رہتی ہوں۔ ایک ڈیڑھ کمرے کے پار کچھ تو بدبو کم ہو گی۔

تم سوچ بھی نہیں سکتے راجندر ! یہ دم گھونٹ بدبوکس طرح میرے دماغ پر بھوت بن کر سوار ہوگئی ہے۔ ایک بار جب ہم لوگ میرٹھ سے آ رہے تھے۔ تو سگنل نہ ملنے کے باعث گاڑی سٹیشن سے پہلے ہی کھڑی ہو گئی تھی۔اس جگہ کی ہوامیں جانے کیسی بدبو بھری تھی کہ مجھے تو قے آنے لگی۔ سبھی نے ناکوں پر رومال رکھ لیے تھے۔کسی نے بتایا کہ گیہوں کا گودام سڑ رہا ہے۔کسی نے کہا چینی کی مل ہے،سو اس کے لیے ہڈیاںپیسنے کے کارخانے سے ایسی بدبو آتی ہے۔ ایک دم لگتاتھا جیسے گندہ نالہ ٹوٹ گیا ہو۔ رات تھی، سو اَوس میں ڈوبی بتیوں کو چھوڑ کر دِکھا تو کچھ نہیں لیکن وہ دو منٹ وقتِ نزع کی دوزخی تکلیف جیسے لگے تھے۔ اب اس گھر میں چلتے پھرتے، اس ڈبے اور اس لمحے کی یاد آتی ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے گاڑی وہیں آ کر کھڑی ہو گئی ہے، کہیں کوئی سگنل نہیں دے رہا کہ کھسکے۔ پہلے تو لگتا تھا کہ بس اگلے پل ہی میری تو کنپٹیاں پھٹ جائیں گی سر دردسے۔ کیوں راجندر! کیا یہ بات ٹھیک ہے کہ ایک بار گھر کر جانے پر سردرد کبھی نہیں جاتا۔ کرانک (chronic)ہو جاتا ہے؟

اور نہ ہو سر درد کرانک، لیکن مجھے تویہ خیال بھی ناقابلِ برداشت لگتا ہے کہ ایک دن میری ناک کے سارے کیڑے مر جائیں گے اور مجھے کسی بھی طرح کی بو آنی بند ہو جائے گی۔۔۔ شاید اسے ہی یہ ’عادی ہونا‘ کہتے ہیں۔

تم بھی کیا کہو گے کہ اتنے دنوں بعد خط لکھنے بیٹھی اور یہ ’بدبونامہ‘ لکھ مارا۔ اچھا، چھوڑو اسے،بولو اور کیا بتاؤں۔۔۔؟اس بار سوچا تھا کہ تمھیں ایک نیا پلاٹ اور دوں گی۔ اپنے پڑوس میں مسٹر آئینگر ہیں، انہی کا قصہ ہے۔ پربس،سوچ کر ہی رہ جاتی ہوں۔ کبھی جی چاہتا تھا، تمھیں ساری باتیں لکھوں۔۔۔ اپنی باتیں، ان کی باتیں، گھرکی باتیں، پاس پڑوس کی باتیں۔ پر یہی سوچ کر رہ جاتی تھی کہ کہاں سے شروع کروں ؟ آج دل میں بھی بہت کچھ کہنے کو بھرا ہے اور کافی فرصت بھی ہے۔ اب دو بجے ہیں۔ پانچ بجے انگیٹھی جلانے کو اٹھنا ہو گا۔ پتھر کے کوئلوں کی انگیٹھی کو دہکتے دہکتے بھی تو آدھ گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ ان کے آنے تک چائے تیار ہو جاتی ہے۔ بس یوں ہی سارا دن کھسک جاتا ہے۔ لیٹے لیٹے، سوچتے سوچتے۔ کچھ بھی کرنے کو جی نہیں چاہتا۔پہلے سوچا تھا کہ پڑوس میں آئینگر کی بیوی سے ہی دوستی کر لوں گی۔ کچھ تو وقت بیتے گا لیکن دو پہر کو ’’آ آ آ‘‘ کر کے وہ اپنا چھٹکے دار سنگیت سیکھتی رہتی ہے اور میں کتاب چھاتی پرکھلی چھوڑ کر دھول اَٹے روشن دان کو دیکھتی رہتی ہوں۔ جب سارا بدن پسینے سے تر بتر ہو جاتا ہے تو یاد آتا ہے کہ ہاتھ کا پنکھا یوں ہی ڈھیلا ہو کر جھک گیا ہے۔ عجب حالت ہے، اب گھر کی یاد بھی نہیں آتی۔جیجی کی دو چٹھیاں آئی پڑی ہیں، وہی آج کل، آج کل میں ہی مہینہ ہونے کو آیا۔ سچ راجندر! سب کچھ بڑافضول سا لگنے لگا ہے۔

یہ لکھتے ہی ہاتھ رک گیا ہے۔ تم کہانی کار ہو بھئی، جانے کیا کیا مطلب لینے لگو۔ اب اس بات سے ضرور سوچو گے کہ شاید مجھے ایسا کچھ نہیں ملا جس کی میں نے امیدیں کی تھیں، جس نوکر چاکروں سے بھرے گھر کے سپنے دیکھے تھے۔ تم کہو گے کہ ساری کاہلی اور بے معنویت کامفہوم اور کچھ نہیں ۔۔۔ مایوسی کا ہی ایک روپ ہے۔ شکستگیِ خواب کا ملال ہے۔ لیکن نہیں راجندر نہیں۔ میں جانتی ہوں، یہ بدبودار گھر، یہ بجلی نہ ہونے کی تکلیفیں، یہ مکھیوں کے منڈراتے چھتے، یہ گھٹن اور اکیلا پن زیادہ دن نہیں رہیں گے۔ دھیرے دھیرے سب کی عادت ہو جائے گی۔ شاید ہم لوگ ہی مکان بدل دیں گے۔۔۔ اور میں کیسے کہوں تم سے کہ ہمیں نیا مکان نہ ملے، ہم یہاں سے نہ جائیں،توبھی میں سب کچھ چپ چاپ سہہ لوں گی، سہہ سکوں گی،مجھے ایک سہارا تو ہو، کوئی تو تنکا ہو جسے۔۔۔

راجندر میں تمھیں کیسے سمجھاؤں کہ ۔۔۔

ایک دن انھوں نے کہا تھا : ’’بیرو! تم چاہتی ہو کہ میں اپنے پرانے سارے تعلقات اور رشتوں کو صرف اس لیے چھوڑ دوں کہ تم سے شادی ہو گئی ہے۔‘‘

’’نہیں تو! ایسا تو میں نے کبھی نہیں کہا۔ کبھی نہیں چاہا۔‘‘میں چت لیٹی آنکھوں پر بانہہ رکھے رو رہی تھی، بانہہ ہٹا کر بولی۔

انھوں نے میری بانہہ پر ہاتھ رکھ کر پیار سے پوچھا:’’ میرے ماں باپ ہیں، میرے بھائی بہن ہیں، سگے رشتے دار، یار دوست ہیں، ان سب سے تمھیں کوئی شکایت نہیں؟‘‘

’’لیکن ان سب رشتوں اور اس رشتے میں ۔۔۔میں کیا کروں میرا دل نہیں مانتا۔‘‘ میری آنکھوں سے پھر چھل چھل آنسو بہنے لگے جیسے بند ٹوٹ گیا ہو۔

’’دیکھو بیرو! تم سمجھدار ہو، پڑھی لکھی ہو۔ تھوڑی فراخ دل بن کر دیکھنے کی کوشش نہیں کرسکتیں؟ میرے دوسرے دوستوں کی طرح دپتی کو بھی ایک نہیں مان سکتیں؟‘‘

یہ چارپائی کی پٹی پر بیٹھے تھے۔ آنسوؤں سے دھندلی نگاہوں کے پار مجھے ان کا رنجیدہ چہرہ دکھائی دیا۔

’’لیکن دوست تو وہ سب نہیں لکھتے جو اس نے لکھا ہے؟‘‘ میں روتی رہی۔

’’مگر بیرو ! یہ تو میں نے کبھی نہیں چھپایا کہ دپتی میری بہت بے تکلف دوست ہے۔۔۔ تمھارے آنے سے پہلے کی۔ چاہو تو یہ کہہ سکتی ہو کہ میں نے اپنے ماضی کو تم سے چھپایا کیوں نہیں ؟ کیانہ چھپانے کی سزا یہ ہے کہ میں ماضی کو ہی کاٹ پھینکوں؟‘‘

’’مجھے لگتا ہے کہ وہ میرا حصہ پا رہی ہے۔‘‘

’’حصہ؟‘‘ انھوں نے دبی آواز میں پوچھا:’’تو ہر آدمی کو پیار یا محبت کا کوٹا ملا ہوا ہے اور اس میں سے ایک آدمی جب لیتا ہے تو دوسرے کا حصہ پاتاہے؟‘‘

’’یہ سب میں نہیں جانتی۔ لیکن میں تو تمھارا بلا شرکت غیرے اور بھرپور پیار چاہتی ہوں۔‘‘

’’وہی تو میں پوچھنا چاہتا تھا۔بلا شرکت غیرے اور بھرپور کا مطلب تو تمھارے لیے یہی ہوا نا کہ باقی سارے رشتے اور تعلق ختم کر ڈالے جائیں؟‘‘

’’یہ میں نے کب کہا؟‘‘ اور میں پھر روتی رہی۔

یہ اٹھ گئے۔ میں روتی رہی۔ صبح کی ڈاک سے آیا تھا ایک خط۔ سادہ سے لفافے میں، کاپی کے صفحوں پر جلدی جلدی میں لکھا ہوا۔ یہ آفس سے آ کر ہی بیٹھے تھے۔ سائیکل کے کلپ ابھی پتلون میں لگے تھے۔ کھڑے کھڑے خط پڑھا اور مسکراتے ہوئے گھوم کر کھڑکی کے پاس کا ایک چکر لگاآئے۔ میرے دونوں ہاتھوں میں دو کپ پلیٹ تھے، ایک ان کے اور ایک اپنے لیے۔ چائے نہ پھیلے، اس لیے ان پر نگاہیں ٹکائے رہی۔ پوچھا: ’’کس کا خط آیا ہے؟‘‘

مجھے لگا، یہ تھوڑا سٹپٹائے۔ پھر عام سے انداز میں ہاتھ کے پنکھے کو جلدی جلدی گھماتے ہوئے بولے:’’دپتی نے لکھا ہے۔ پوچھاہے کہ بیوی نے ایسا فرمان دے دیا ہے کہ جب سے وہ آئی ہے، کوئی خبرہی نہیں دی؟‘‘

میں نے چائے ان کے پھیلے ہاتھ پر رکھی اور کہا:’’اسے بلائیے تو سہی، ہم بھی تو دیکھیں ۔۔۔ دپتی۔ کیسی ہیں آپ کی دپتی جی۔‘‘

’’یوں دیکھنے میں بیوٹی نہیں ہے، لیکن سویٹ ہے۔‘‘ اوپر کو اُٹھے ہونٹوں کی طرف پیالہ بڑھا کر انھوں نے زور دار سڑاکا لیا۔لگا،جیسے اپنے کو مصروف کرلیا۔

’’دیکھ لوں، کیا ہے؟ ‘‘میں پاس کی چھوٹی سی بینت کی کرسی پر بیٹھ گئی اور چائے میں مکھیاں نہ گریں، اس لیے ہتھیلی کپ پر ڈھک دی۔ پلے سے گلے کا پسینہ پونچھ کر ہاتھ بڑھایا۔ دل تھا کہ جھپٹ کر چٹھی اٹھا لوں لیکن اپنے کومکمل لاتعلق دکھاتی رہی۔

سٹپٹا گئے ہوں، اس طرح انھوں نے ادھر ادھر مدد کے لیے دیکھا۔پھر جھجکتے ہوئے بڑے بے من سے ایک طرف رکھی ہوئی چٹھی اٹھا کر میری طرف بڑھا دی۔ خط میں نے پڑھا اور لوٹا دیا۔ چپ چاپ چائے پینے لگی۔ شاید بجھ گئی۔

’’کیوں؟‘‘انہو ں نے پوچھا۔
’’کچھ نہیں۔‘‘ میری سستی کو انھوں نے پکڑ لیا تھا۔

یہ کچھ نہیں بولے اور پلکیں جھپکے بغیر آنکھیں کھولے بڑ ے مشینی اندازسے چائے سڑکتے رہے۔دل کہیں اور تھا۔

اور رات کو جیسے ہی انھوں نے مجھے اپنی طرف کھینچا،میں پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ پہلے تو یہ ایک دم سکتے کی سی حالت میں رہ گئے۔ پوچھتے رہے:’’کیا بات ہے بیرو؟بیرو؟‘‘

میں کچھ نہیں بولی اور روتی رہی، اپنی بانہوں میں منہ چھپائے۔ جتنا ہی باہیں ہٹا کر یہ مجھے چپ کرانے کی کوشش کرتے، میں سرموڑ موڑ کر اور بھی روتی جاتی۔ ہار کر انھوں نے بہت ہی پریشان انداز سے کہا:’’تم بتاؤ گی نہیں تو میں جانوں گا کیسے،بیرو؟‘‘

میں نے اوندھے لیٹ کر ان کی چھاتی سے ماتھا سٹا کر کہا:’’ میرا یہاں دل نہیں لگتا۔۔۔ گھر کی یاد آ رہی ہے۔۔۔ ہمیں گھر چھوڑ آؤ۔‘‘

’’کیوں بھئی؟ اچانک یہ گھر کی یاد؟ کوئی بات ہو گئی؟کوئی خط آیا گھرسے ؟ ایسی کو ئی بات ہے تو مجھے بتاؤ نا۔‘‘ مجھے اور بھی روتے دیکھ کر سمجھاتے ہوئے کہا:’’گھر ہی جانا ہے تو صبح باتیں کریں گے۔اب آدھی رات میں گھر کی یاد؟ کتنی بار ہم نے تم سے کہا کہ پاس پڑوس میں کسی سے دوستی کر لو،لائبریری کی ممبر بن جاؤ یا بازار جا کر کچھ کتابیں خرید لایا کرو۔۔۔‘‘

میں نے کچھ جواب نہیں دیا اورروتی رہی۔ پھر اچانک پوچھا:’’دپتی تمھاری کیا لگتی ہے؟‘‘

پہلے تو انھوں نے مجھے غور سے دیکھا، جیسے پہچانتے ہی نہ ہوں۔ پھرزور سے ہنس پڑے: ’’پاگل ۔۔۔ بیوقوف۔‘ ‘

اس بار میرے لہجے میں سختی آ گئی۔ ان کے چہرے کو بے جھجک دیکھتے ہوئے پھرکہا:’’ہنس کر بہکاؤ مت، مجھے بتاؤ نا، دپتی تمھاری کیا لگتی ہے؟‘‘

’’لگے گی کیا؟‘‘ اس بار بات جان لینے کے اطمینان سے یہ چٹ لیٹ گئے اور اوپر دیکھتے ہوئے بولے:’’دوست ہے۔۔۔ فرینڈ۔‘‘
’’تو پھر مجھے کیوں لائے؟‘‘
’’کیوں ؟ ‘‘انھوں نے ضرورت سے زیادہ حیرانی سے پوچھا:’’تم ۔۔۔ تم ہو۔ کوئی بھی اَور اس جگہ کا حق دار کہاں سے ہو گا۔‘‘
’’تمھارے اور کتنے دوست ڈارلنگ سے چٹھیاں شروع کرتے ہیں؟‘‘ اب ان کے اس انجان بننے کی اداکاری پر مجھے غصہ آنے لگا۔
’’میرا خیال ہے بیرو!رشتوں کی گہرائی یا اتھلے پن کو ان لفظوں سے نہیں تولا جا سکتا۔ لفظوں کے استعمال کا اختیار تو سبھی کو ہے۔ کوئی مجھے ہر تیسرے جملے میں ڈارلنگ نہ بھی لکھے تب بھی اسے جی جان سے پیار کر سکتا ہوں اور کسی کو پیارے دوست لکھ کر بھی اس سے نفرت کر سکتا ہوں۔‘‘
’’تم مجھے لفظوں میں بہلا رہے ہو۔‘‘میں نے بات کاٹ دی۔
اس بار شاید انھیں بھی طیش آ گیا۔ کڑے انداز میں پوچھا:’’آخر تم کہنا کیا چاہتی ہو؟‘‘
ان کا یہ رویہ دیکھ کر میں نے دھیرے سے کہا:’’کچھ نہیں۔‘‘ اور دوسری طرف کروٹ بدل کر لیٹ گئی:’’مجھے کچھ نہیں کہنا۔‘‘
اس رات نہ ہم دونوں میں سے کوئی کچھ بولا،،نہ رات بھر سویا۔

دو تین دن ہم لوگوں میں بڑا تناؤ چلتارہا۔ بنا کچھ بولے ہم لوگ ساتھ ساتھ کھانا کھا لیتے، سو لیتے۔میرے اندر ہمیشہ جیسے ایک گُھن کھرر کھرر کرتا اپنے آرے جیسے دانتوں سے کھایا کرتا۔ نہ ہنسنے کی طبیعت ہوتی، نہ بولنے کی۔ تیسرے ر وز شاید ہفتہ تھا۔ آفس سے آتے ہی انھوں نے کہا:’’چلو بیرو! آج ٹکٹ لے آ یا ہوں، سینما دیکھ آئیں۔‘‘

کاہلی اور بجھی ہوئی آوازسےمَیں نے کہا:’’چلیے۔‘‘
ان کے چہرے پر مجھے ایسا انداز دِکھا جیسے ابھی یہ ٹکٹ نکال کر پھاڑ دیں گے لیکن انھوں نے اپنے پر قابو کر لیا۔ پیار سے کندھا پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا: ’’بیرو! یہ سب کیاہے آخر؟ تین دن ہو گئے، نہ تو تم مجھ سے بولتی ہو، نہ باتیں کرتی ہو؟‘‘

’’بول تو رہی ہوں۔‘‘ آنکھیں اَن چاہے بھر ہی آئیں، پلکیں جھکائے کہا۔
’’یہ بولنا ہوا؟‘‘یہ یوں ہی میرا منہ دیکھتے رہے:’’سارا چہرہ پیلا پڑ گیا ہے۔ سچ مچ۔ تم اس طرح کا رویہ اپناؤ گی تو کیسے چلے گا آگے؟ آخر تم نے بی اے کیا ہے، بڑے شہروں میں رہی ہو، تمھارے ساتھ بھی لڑکے پڑھے ہیں، پھریہ سب۔۔۔‘‘
’’کیا یہ سب۔۔۔؟‘‘ اس بار میں نے انجان بن کر پوچھا۔
’’تم سمجھتی ہو، یہ سب میں سمجھتا نہیں ہوں؟‘‘انھوں نے دلار بھرے انداز میں کہا:’’بھائی! دپتی میری دوست ہے۔ میری کلاس فیلو ہے۔ بس ذرا سی بے تکلف ہے۔ ایک خط میں جب تمھارا یہ حال ہے تو اگر تم کہیں اسے میرے کندھے پرہاتھ مار کر کہیں یہ کہتے دیکھ لو کہ یار چلو، آج تو کہیں کافی پی آئیں، تب تو شاید تم غدر ہی کر دو۔۔۔‘‘ان کی بات ادھوری رہ گئی۔

میں نے کچھ نہیں کہا۔آنکھوں میں اٹکے آنسو دھاری بنا کر ڈھلک آئے۔ امڈ کر گلے میں آ اٹکا گولہ سٹکا اور دانتوں سے ہونٹ چبا کر دھیرے سے بولی:’’اب عادت پڑ جائے گی۔بڑے شہر میں آئی ہوں نا، تو نیا نیا لگتا ہے۔‘‘

’’یعنی اپنے سب دوستوں اور جاننے والوں کو لکھ دوں کہ جب تک بیوی کو عادت نہ پڑے، وہ مجھے کچھ نہ لکھیں۔‘‘انھوں نے ایک ٹک مجھے دیکھتے، جیسے مجھے پڑھتے ہوئے بڑی تکلیف بھری آواز میں کہا۔

’’انھیں کیوں لکھو گے، میں ہی اپنے خیالات بدلوں گی۔شروع شروع میں تو برا لگتا ہی ہے۔‘‘ میں کندھے پر گردن گھما کرروتی رہی اور چھڑانے کی کوشش میں بانہہ سے ان کی انگلیاں ہٹاتی رہی۔

یہ کچھ دیر مجھ پر یوں ہی نگاہیں ٹکائے رہے، پھر گہری سانس لے کر بانہہ چھوڑ دی:’’سچ مچ تم جان بوجھ کر الجھنیں پید اکر رہی ہو، بیرو! میرا کون دوست مجھے کیا کہہ کر پکارے، یا کیا مخاطب کر کے لکھے، یہ اختیا ر کیا میرے ہی پاس نہیں رہنے دو گی؟‘‘

’’میں تو آپ سے کوئی بھی اختیار نہیں چاہتی۔‘‘اور اندر جا کر خوب خوب روتی رہی۔ دیر تک یہ مجھے سمجھاتے رہے۔ اور تم سے سچ کہتی ہوں راجندر !مجھے اس وقت خود اپنے اوپر اچنبھا ہوا کہ ایسی بھی یہ کیا سنجیدہ بات ہے جس پر میں یوں مری جارہی ہوں؟ اس لمحے مجھے وہ بات نہایت ہی کمینی اورنیچ لگی۔

اپنی بے وقوفی پر دکھ بھی ہوا، سوچا، سینما جانے سے دل ہی بہلے گا۔ تین گھنٹے اپنے سے الگ سینما میں الجھ کر ہو سکتا ہے، فکر کی اس جونک کو پھرجھٹک کر پھینک ہی دوں۔

لیکن سینما کے شروع میں ہی جو موڈ خراب ہوا تو آخر تک چلتا رہا۔ اشتہار چل رہے تھے۔ مسکراتے ہوئے صابن کی خوبیاں بتاتی ایک لڑکی کو دیکھ کر یہ بولے:’’مسکراتے وقت اس لڑکی کے گال بالکل دپتی کے گالوں جیسے لگتے ہیں۔‘‘ میں کچھ نہیں بولی لیکن لگا بوجھ تو دل پر جیوں کا تیوں رکھا ہے۔تم جھوٹ مانو گے راجندر! مجھے بالکل ایسا لگا جیسے ایک لمبا سا کنکھجورا اپنے زہریلے پنجے گڑائے میرے دل پر یہاں سے وہاں تک جما بیٹھا ہے اور ذرا ذرا سی دیرمیں اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے وہ اپنے پنجے گڑاتا ہے تو درد سے چھاتی کسک اٹھتی ہے۔ سینما کے پردے پر کیا ہو رہا ہے، یہ میں نے نہیں دیکھا اوردل کو پھسلا کر جب جب دیکھنے کی کوشش کرتی ہر بار خیال آ جاتا کہ کیسے سینما دیکھ پارہی ہوں، کیسے اسے بھولی ہوئی ہوں؟ میں نے کہنی گودی میں ٹکا کر اس پر اپنا سر ٹیک لیا۔ انھوں نے پیار سے پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر پوچھا:’’کیا ہوا؟‘‘
’’کچھ نہیں،آنکھوں کے آگے دھندلا دھندلا لگ رہا ہے۔‘‘
’’کچھ کھانے پینے کی چیز لے آؤں ؟‘‘
’’نہیں،ٹھیک ہے۔ ابھی سب ٹھیک ہو جائے گا۔ کسی چیز کوزیادہ غور سے دیکھنے سے ہو جاتا ہے۔‘‘

یوں محسوس ہوا، اس بار یہ سمجھ گئے۔مطمئن انداز سے ناک اوپر اٹھائے دھیان سے سینما دیکھتے رہے جیسے انھوں نے دل ہی دل میں طے کر لیا کہ نہیں مانتی تو پھر مرو۔ میں تمھیں آخر کتنا سمجھاؤں۔ رہ رہ کر مجھے خود تعجب ہوتا کہ جانتے بوجھتے یہ سب میں کیا کیے جارہی ہوں، اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہو گا اور انھوں نے نہ تو میری طبیعت کا حال پوچھا نہ انٹرول میں چائے پان ہی منگایا۔ خود اپنے کسی شناسا کے ساتھ باہر چلے گئے اور اندھیرا ہوتے ہی اندر آ بیٹھے۔
اور ساتھ لیٹنے، کھانے اور رسمی باتوں کی روایت پھر چلتی رہی۔

مجھے دو تین دن بعد اچانک احساس ہواکہ نہ تو مجھے باقی خط کا مضمون تکلیف دیتا تھا، نہ ان کا کٹا کٹا روکھا برتاؤ۔ بلکہ ہر پل یہ ڈستی سچائی گڑے کانٹے سی کسک دیتی تھی کہ کوئی ہے جو میرے حصے کی ساجھے دار ہے۔ اس احساس کے ساتھ ہی رونا امڈ پڑتا۔ بستر پر لیٹتی تو سونے اور جاگنے کے بیچ ایک عجیب سی حالت چلتی رہتی جیسے صبح سفر کو چلنے والوں کو رات کو سوتے وقت محسوس ہوتی رہتی ہے۔جانے کیا ہوا کہ تیسری رات میں سوتے سوتے اچانک چیخ کر جاگی تو دیکھا، ارے میں رو رہی ہوں۔ یہ چپ چاپ سورہے تھے۔ جانے دل میں کیا آیا کہ ان کی چھاتی سے ماتھا ٹھوک ٹھوک کر روتی رہی، ’مجھے یوں مت مارو۔‘یہ ہڑ بڑا کر جاگ اٹھے اور دیر تک سمجھاتے رہے ۔۔۔’تمھیں کیا ہو گیا ہے بیرو؟ تمھیں کون ماررہاہے؟ بتاؤ، میں کیا کرو ں کہ تمھاری تکلیف کم ہو؟تمھیں یو ں گھلتے ہوئے مجھ سے نہیں دیکھا جاتا‘ یہ بھی دیر تک روتے رہے، ’ہمیشہ یہ تناو بھری حالت۔۔۔ہمیشہ کی یہ دوری، ہمیشہ یہ سخت تیوری ۔۔۔ بیرو مجھے تم صاف صاف کہو نا کہ میں کیا کروں؟‘

جو میں چاہتی تھی، وہ مجھ سے کہتے نہیں بنتا تھا۔ شاید میں جانتی بھی نہیں تھی کہ میں کیا چاہتی ہوں۔ کوشش کر کے بھی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ مجھے ان سے شکایت کیا ہے اورتب اچانک یہ دیکھ کر مجھے خود بڑا تعجب ہوا کہ دھیرے دھیرے میں دکھ کی وجہ بھول چکی ہوں یااس سے اتنی دور آ گئی ہوں کہ وہ وجہ اتنے بڑے دکھ کے لیے ناکافی لگتی ہے۔ بس، میں دکھی رہوں، یہ ایک عادت بن گئی ہے۔ اب انتہائی دکھ کے موقع پراُن کا یہ کٹا کٹا برتاؤ، یہ روکھا رویہ مجھے کھانے لگتا تھا۔ دل ہی دل میں بولی ’ایسے باتیں کر رہے ہیں، جیسے کچھ جانتے ہی نہیں۔ جیسے انھیں پتا ہی نہیں کہ ایک دپتی ہے جو میری سوت ہے۔‘

’سوت‘ لفظ مجھے خود بھاری ہتھوڑے کی چوٹ سا لگا۔ لگا نہایت ہی نکمی اور بیکار بات کو میں بڑا بھاری لفظ دے رہی ہوں، اتنا بھاری کہ اس کے معنی اوربوجھ دونوں ہی مجھ سے نہیں سہے جا رہے۔

’’دیکھو بیرو!‘‘یہ پیار سے میرا کندھا تھپتھپا کر کہہ رہے تھے:’’کسی بھی شناسا لڑکی کو اپنا دشمن مان کرایک خاص طرح کا دکھ اٹھانا یا دوسروں کو دکھ اور تناؤ میں رکھنا اگر ایک ایسی رسم ہے جس کانبھانا بہت ہی ضروری ہے، تب تو مجھے کچھ بھی نہیں کہنا۔ تم جی بھر کر جب تک چاہو، اس روایت کی پاسداری کرو لیکن ذراخود سوچ کر دیکھو،کیا سچ مچ یہ وجہ اتنی بڑی ہے کہ یوں دنیا سرپر اٹھا لی جائے؟‘‘

اور یقین جانو راجندر ! مجھے یہ سب اپنے دماغ کا فتور لگا۔

اس سے اگلے یا پھر اور بھی اگلے دن کی بات ہے، اس بیچ سب کچھ فطری سا لگنے لگا تھا اور ہم لوگ ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر اکثر ہی مسکرایا کرتے تھے۔ان مسکراہٹوں کے ساتھ ہی مجھے لگتا کہ اور بھی نزدیک آنے کے لیے شاید یوں کبھی کبھی لڑنا بہت ہی ضروری ہے۔میں آگے سے آگے ان کا کام تیار کر رکھتی لیکن اسی لمحے یہ بھی لگتا کہ یہ پیار کا فطری انداز نہیں ہے،جیسے اتنے دنوں کی اپنی غلطی کو ہم دونوں ہی ضرورت سے زیادہ پیار کے دکھاوے سے دھو پونچھنا چاہتے ہیں۔ میں یہی سوچ رہی تھی کہ انھوں نے غسل خانے سے چلا کر کہا:’’بہت دیر ہو گئی بیرو! اس سفید والی پتلون میں بکسوے لگا دو، جلدی سے۔‘‘ پتلون نکال کر میں بکسوے کھوجتی رہی، پوچھا: ’’کہاں ہیں بکسوے؟ ہمیں تو کہیں نہیں مل رہے۔ ‘‘ تو بولے:’’پرانی گندی والی پتلون میں سے نکال لو نا۔۔۔ بہت لیٹ ہو گیا۔‘‘میں نے پرانی پتلون میں سے بکسوے نکال کر لگائے۔سوچا،ویسے ہی انھیں دیر ہو گی، سو جیب سے پرانا گندا سا رومال نکال کر دھونے کے لیے ڈالا اور کاغذ دُھلی پتلون کی جیب میں رکھنے لگی۔ تبھی کاغذوں میں ایک مڑے تڑے لفافے کو دیکھ کر ہاتھ ٹھٹک گیا۔ جانے کیوں، لگا جیسے اس میں سب کچھ ہے۔۔۔ کھولا تو پھر وہی ’ڈارلنگ‘‘ لفظ سامنے تھا۔ ایک بار پھر پتا دیکھا۔ اوہ ۔۔۔ تو اب آفس کے پتے پر چٹھیاں آنے لگیں اور اچانک مجھے لگا کہ جس درد کو میں بھولی ہوئی تھی، وہ بھک بھکا کر جل اٹھا۔ کیسے بھول سکی میں اس درد کو۔

سب کچھ جیوں کا تیوں رکھ دیا لیکن جیسے ہی یہ آفس گئے کہ میں دھم سے چارپائی پر گر پڑی اور جب ہوش آیا تو پایا کہ میں اس طرح رو رہی ہوں جیسے یا تو مجھے کسی نے مارا ہو یا میرے گھر سے کسی کی موت کی خبر آئی ہو۔’ تو انھوں نے آفس کے پتے پر خط منگایا۔ اسے لکھا ہو گا کہ بیرو لڑتی ہے۔ کیا سوچا ہو گا اس نے کہ ابھی آ ئے مہینہ نہیں گزرا اوربیوی نے لڑنا بھی شروع کر دیا۔پتا نہیں میرے خلاف اور بھی کیا کیا لکھا ہو گا۔ خوب خوب شکایتیں لکھی ہو ں گی کہ دن بھر منہ پھلائے رہتی ہے۔۔۔ ہر وقت لڑتی ہے۔ اسے قطعی پسند نہیں کہ تم مجھے خط لکھو، اس لیے آفس کے پتے پر لکھا کرو۔‘ مجھے ہر بار لگتا تھا راجندر کہ دیکھو انھوں نے سب کچھ اوپر ہی اوپر کر لیا اور مجھے ہوا تک نہیں لگنے دی۔

اس دن نہ تو میں نہائی، نہ کچھ کھایا۔ پہلے خط کا آنا مجھے ایسا لگتا تھا، جیسے بھری محفل میں کسی نے مجھے تھپڑ مارا ہو، وہ میری تمناؤں کی، میرے وجود کی اور میرے مرتبے کی تحقیر تھی اور یہ میرے ساتھ دھوکا ہے،دھوکا ۔۔۔دھوکا۔راجندر، سچ کہتی ہوں، یہ لفظ اس ساری کیفیت کے لیے مجھے اتنا بامعنی، خوبصورت اورجامع لگا کہ مجھے خود دھکا لگا۔۔۔ تو شروع سے ہی میرے ساتھ دھوکا کیا جاتا رہا۔ میں نے اسے سمجھا اب ہے، اس لفظ کے ذریعے سے۔ اگر انھیں اس سے پیار تھا تو مجھے لانے کی ضرورت ہی کیاتھی؟ماں باپ کو منع نہیں کر سکتے تھے؟ ٹھیک ہے، بابو جی نے شادی کی جلدی مچائی تھی لیکن کس لڑکی کے گھر والے جلدی نہیں مچاتے؟ اگر اس بات کا کسی بھی طرح یہ اشارہ بھی کرا دیتے تو اماں، بابو جی چاہے بی اے کے بعد پڑھنے دیتے یا نہ پڑھنے دیتے، میں یہاں تو شادی نہیں کرتی۔ اس کالے کلوٹے تھانے دار کے ساتھ چلی جاتی۔ کم سے کم یہ سب تو ۔۔۔میں آج ہی چلی جاؤں گی۔ رہیں یہ اور ان کی دپتی جی۔
وہ شام آنے تک کا وقت میں نے کیسے چھٹ پٹ چھٹ پٹ کر کے کاٹا ہے، میں ہی جانتی ہوں۔

یہ آکر بیٹھے۔سائیکل کے کلپ نکالے اور پنکھا کرتے رہے۔ میں نے بہت فطری ضبط کے ساتھ چائے لا کر دی۔ اور جب پسینہ سوکھ گیا تو نہایت ہی تند آواز میں پوچھا:’’بتاؤ، تم نے میرے ساتھ دھوکا کیوں کیا؟‘‘
’’دھوکا؟‘‘یہ اچ کچا اٹھے۔

’’ہاں، ہاں، بنو مت، دھوکا ہی تو کیا۔شروع سے تم میرے ساتھ دھوکا ہی کرتے آ رہے ہو۔ میں کیا سمجھتی نہیں ہوں؟‘‘ اس دھوکا لفظ کو بار بار دہرا کر جیسے میں اپنی بات کومؤثربنا دیناچاہتی تھی۔

’’کون سا دھوکا ؟ کیسا دھوکا؟ ‘‘اس بار لگا یہ سمجھ گئے لیکن انجان بنے رہے۔

میں نے بناوٹی نرم سختی سے کہا:’’دیکھو مجھے بناؤ مت۔۔۔ ایسا ہی ہے تو تم اپنی دپتی کو یہاں لے آؤ۔ جہاں میرا دل ہو، مجھے جانے دو۔ کم سے کم اس سب سے پیچھا چھوٹے گا کہ تم مجھے دھوکا دو، اپنے کو دھوکا دو اور اسے جھوٹ موٹ لکھو۔ اس بے چاری کو کبھی آفس کا پتا دو، کبھی گھر کا۔‘‘میں نے یہ ساری باتیں کچھ ایسی سنجیدگی سے کہیں جیسے یہ باتیں مصدقہ حقائق اور طے شدہ ہیں۔ من ہی من بولی۔’جیسے بھی ہو گا، میں بی ٹی کر لوں گی۔‘

اس بار انھوں نے مسکرا کر (میں سمجھتی ہوں نقلی مسکراہٹ کے ساتھ ) کہا:’’اوہ۔۔۔ تو وہ بات ہے۔ بھائی اگر وہ یہاں لکھے تو تم ناراض ہوتی ہو۔ خود تم پریشان ہوتی ہو اور مجھے پریشان رکھتی ہو۔ یہی سوچ کر میں نے لکھ دیا کہ خط آفس کے پتے پر بھیج دیا کرو۔ ا س میں دھوکے کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ چونکہ تم میری بیوی بن کے آئی ہو، اس لیے اپنے سارے پہلے کے دوستوں، جاننے والوں یابے تکلف شناساؤں سے تعلق توڑ لوں، نہیں تو وہ دھوکا ہو گا۔ یہ بات، بیرو! نہ تو میری سمجھ میں تب آئی تھی اور نہ اب آتی ہے۔‘‘

’’اور میری سمجھ میں عورت آدمی کی دوستی کا یہ مطلب نہیں آتا جس میں ڈارلنگ وغیرہ لکھا جائے۔‘‘ میں نے بھی اتنی تیزی سے کہا۔

’’یعنی عورت آدمی کی دوستی کا مطلب ایک ہی ہوتا ہے؟‘‘
’’ہاں۔‘‘

’’تب ٹھیک ہے اور مجھے کچھ بھی نہیں کہنا ہے۔ جو تمھاری سمجھ میں آئے سوکرو۔‘‘اس بارانھوں نے سخت لہجے میں کہا اور کپڑے بدلنے اندر چلے گئے۔ میں جیوں کی تیوں بیٹھی رہی۔ جب یہ باہر نکلے تو ہاتھ میں پیتل کی چھوٹی سی بالٹی تھی۔ بنا کچھ بولے یہ دودھ لینے چلے گئے اور تب ایک دم مجھے لگا جیسے میں اچانک ہی ٹوٹ گئی ہوں۔ جیسے آج مجھے واضح لفظوں میں بتایا گیا ہے کہ کوئی اور ہے جو مجھ سے بڑی ہے، اس لیے مجھے یہاں چھوٹی بن کر ہی رہنا پڑے گا۔

جھٹکے سے اٹھی اور بنا کچھ بولے، بنا روئے اندر ہی چارپائی پراوندھی جا لیٹی۔ پٹی پر تین چار بار ماتھا زور سے کوٹا۔ نہ درد محسوس ہو تا تھا، نہ رونا آتا تھا۔(شاید سینما کے پردے پہ ہوتی تو جھٹکے سے ماتھے کا سندور پونچھتی اور بانسری بجاتی بھگوان کی مورتی کے سامنے جا کر رونے لگتی یا ایک گانا گاتی ہوئی سمندر پر جھولتی ہوئی چٹان سے چھلانگ لگانے کا انداز بنائے کھڑی رہتی کہ گانا پورا ہو تو کودجاؤں)۔

مرنے کی بات تو نہیں لیکن اپنی زندگی کی کم مائیگی کی بات کو لے کر ان دنوں راجندر، میں نے کیا کیا نہیں سوچا۔میری زندگی کے معنی کیا ہیں؟کیوں جیوں؟ کبھی میں دیکھتی، وہ آئی ہے۔ یہ لوگ مجھے چھوڑ کر اکیلے سینما دیکھنے چلے جاتے ہیں۔۔۔ گھومنے صبح کے نکلے ہیں اور رات بارہ بجے تک آنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔۔۔ صبح دپتی تو یہ کہہ کر جاتی ہے کہ مجھے دلی میں اپنے کسی رشتے دار سے ملنا ہے اور یہ آفس کے بہانے نکل جاتے ہیں اور باہر جا کر ملتے ہیں۔۔۔ میں یہاں اکیلی پڑی پڑی گھٹ رہی ہوں، رو رہی ہوں۔۔۔ یا دیکھتی کہ یہ لوگ اندر والے کمرے میں ہیں، اندر سے کواڑ بند کر لیے جاتے ہیں، ہنسنے کھلکھلانے کی آوازیں آ رہی ہیں اور باہر کھردری چارپائی پر لیٹی میں یا تو پلو منہ میں ٹھونسے رو رہی ہوں یا چوکے میں ان کے لیے روٹیاں ٹھوک رہی ہوں۔ ٹپا ٹپ آنسو گالوں سے ڈھلکتے چلے جاتے ہیں، کہانی یاد آتی ہے، راجہ نے رانی کو گندی سی ساڑھی دی اور کاگ اڑانے والی بنا کر چھت پر بٹھا دیا۔میں دیکھ رہی ہوں کہ اسے ڈبے کی ڈبے کی ساڑھیاں دلائی جارہی ہیں۔۔۔ اسے ٹیکسیوں میں گھمایا جا رہاہے۔۔۔ سکوٹر میں دونوں ایک دوسرے کی کمر میں ہاتھ ڈالے بیٹھے ہیں۔ کم تنخواہ اور پیسوں کا رونا تو میرے ہی لیے ہے۔ اب کہاں سے دنادن نکلا چلا آ رہا ہے۔ اسے تکلیف نہ ہو، اس لیے بجلی آ گئی ہے۔ پنکھا ریڈیوسبھی آ گئے ہیں۔ اس پل میں نے اپنے کو لاکھ لاکھ شاباش دی کہ کوئی بچہ نہیں ہے ورنہ ماں کے ساتھ سوتیلی ماں کے ہاتھوں اس بے چارے کی بھی جانے کیسی درگت ہوتی۔ کڑکتی رات میں بیٹھا برتن مانجھ رہا ہوتا۔

ہوش آیا تو اپنے اس سوچنے پر جھنجھلاہٹ ہوتی کہ ہر بات کو سوچتے سوچتے انتہا پر پہنچا دینے کی میری عادت آخر کب چھٹے گی؟ اس سارے حصے میں بجلی ہی نہیں ہے جو یہ اپنی اس پدمنی کواتنا کچھ منگوا دیں گے۔

لیکن اچانک ایک بات کی طرف میرا دھیان گیاتو اپنی یہ ساری شکایتیں بے وجہ نہیں لگیں۔ اتنی لڑائیاں ہوئیں،اتنا سب کچھ کہا سناگیا لیکن ایک بار بھی انھوں نے کبھی نہ تو دپتی کا خط دکھانے کی خواہش ظاہر کی اور نہ یہ کہا کہ میں اسے نہیں لکھوں گا۔ اس بات سے میرا یقین اور بھی پکا ہو گیا کہ یہ صرف مجھے دھوکا دے رہے ہیں۔ کب تک چلے گا اس طرح؟کب تک میں ایک بن بلائے گلے پڑے شخص کی طرح رہوں گی۔کیوں نہیں میں اپنے کو سمیٹ لیتی؟

راجندر یہ بات اب میری نس نس میں سما گئی ہے، میں اسے کسی بھی طرح نہیں نکال پا رہی ہوں کہ میں یہاں کسی کی جگہ ہوں، میں نہیں اس گھر کی اصلی مالکن تو کوئی اور ہے۔ یہ کچھ بھی سوچتے ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ دپتی کی ہی بات سوچ رہے ہیں۔ کھانا کھاتے لگتا کہ ان کے دماغ میں یہی بات ہے کہ اگر میں یہاں نہ ہوتی تو یہاں دپتی ہوتی۔ کپڑے پہنتے وقت، رات کو سوتے وقت مجھے ایک جھٹکے سے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میں دپتی کی جگہ سو رہی ہوں، جیسے میں دپتی کے کپڑے پہن رہی ہوں۔ کبھی کبھی یہ کوئی بات کہتے کہتے میرے چہرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ نہیں، یہ مجھے نہیں میرے پار دپتی کے چہرے کو دیکھ رہے ہیں، یا انھیں وہ لمحہ یاد آرہا ہے جب ایسے ہی انھوں نے کبھی دپتی کو دیکھا ہو گا۔ حالت یہاں تک آ گئی ہے راجندر کہ میں شیشے میںچہرہ دیکھتی ہوں تو مجھے اچانک لگتا ہے کہ مان لو، میں یہاں نہ ہوتی تو اس لمحے دپتی ہی یہ چہرہ دیکھ رہی ہوتی۔

دپتی کی جگہ اپنے ہونے کا یہ خیال اب میرے من میں اتنا گہرا اتر گیا ہے کہ لگنے لگا ہے کہ وہ میرا حصہ نہیں، میں ہی اس کا حصہ کھا رہی ہوں، گناہگار وہ نہیں، میں ہوں۔ یہ جو پرایا پرایا سا محسوس کرتے ہیں، اس کے پیچھے میں ہوں۔ ان میں اور مجھ میں دوری ہے۔ (جیسے میں بیرو نہیں کوئی اور ہوں)اس کی صرف میں ہی ایک وجہ ہوں۔ یہ مکھیاں، یہ گھٹن، یہ بدبو میری ہی وجہ سے ہے۔ اگر ’’میں ‘‘،’’وہ ‘‘ہوتی تو سبھی کچھ کتنا صاف ستھرا ہوتا۔ تب’’ ہم لوگ‘‘ یوں ایک دم بیگانوں اور اجنبیوں کی طرح تھوڑے ہی رہتے۔

اور اس کھچاوٹ اور دوری کے تناؤ بھرے ماحول میں کل جو ایک بات ہو گئی۔ اسے تمھیں بتانا ضروری ہے۔ یوں بات بہت معمولی ہے لیکن ایک طرف تو میری سمجھ میں اس کا مطلب نہیں آرہا، دوسری طرف ایسا لگتا ہے جیسے وہ اس ساری کیفیت کو ایک با معنی نام دیتی ہے۔

یہ آفس سے آئے ہی تھے اور بازو اوپر اٹھا ئے قمیض کو الٹ کر اتار رہے تھے۔ بولے:’’آج شاید ہوا ادھر کی ہی ہے۔بڑی بدبو آ رہی ہے۔ کیسے رہتی ہو گی تم سارے دن؟‘‘

’’کیا کریں؟ ہمیں تو رہنا یہیں ہے۔‘‘ کہنے کو تو کہہ دیا، لیکن سوچا، وہ تو ہم ہیں، سو ڈال رکھا ہے۔ ہوتی کہیں اگر وہ آپ کی وہ دپتی جی، تو دوسرے دن ہی گھر بدل لیا ہوتا۔ مجھے اچانک لگا جیسے بو کا ایک جھونکا ادھر سے گزر گیا ہو۔

’’یہ بدبو بھی بڑی عجیب سی ہے۔ بڑی سڑی سڑی سی ہے۔‘‘وہ ناک سکوڑ کر بولے۔

میں نے سادگی سے کہا:’’یہ تو ہمیشہ ہی آتی رہتی ہے۔ ہمیں تو عادت ہوتی جا رہی ہے لیکن۔۔۔پہلے تو سہا نہیں جاتا تھا لیکن یہ بو بڑی ہی عجیب سی ہے۔ ہے نا؟ جیسے کوئی مر گیا ہو۔‘‘

’’کون؟‘‘ وہ غیر فطری انداز میں چونک کر بولے۔

ان کی غور سے دیکھتی نگاہیں اپنے چہرے پر محسوس کر کے مجھے لگا کوئی نہایت نازیبا بات کہہ دی ہو۔’’جیسے ۔۔۔ جیسے صندوق کے پیچھے کبھی چوہا مر جاتا ہے تو بد بو آتی ہی رہتی ہے نا، ویسی ہی سڑاند ہے۔‘‘

وہ پیٹ تک بنیان اٹھائے، پنکھا گھماتے دوسری طرف چلے گئے اور میں انھیں ایسے دیکھتی رہی جیسے میری اس شخص سے کبھی کوئی شناسائی نہیں رہی ہے۔ آج جو خط آیا ہے، وہ ضرور ان کی جیب میں رکھا ہو گا۔ لیکن نہ تو اس سے میرا مستقبل بندھا ہے اور نہ حال۔ اورمیں نے کسی ماضی میں اپنی من چاہی زندگی کے سپنے نہیں سجائے۔

اچھا بتاؤ تو! اس تجربے کو تم کیا معنی دینا چاہو گے؟
اب بس کرتی ہوں، باقی اگلے خط میں لکھوں گی۔

نیک خواہشات!
بیرو




نجمِ اسود اور ننھی کائناتیں: قسط نمبر تین (آکسفورڈ اور کیمبرج)

گذشتہ اقساط کے مطالعہ کے لئے درج ذیل لنکس استعمال کیجئے (لنک نئے ٹیب میں کھلیں گے)

قسط نمبر 1قسط نمبر 2

باب نمبر 2: آکسفورڈ اور کیمبرج

میرے والد کی شدید خواہش تھی  کہ میں آکسفورڈ یا کیمبرج میں سے کسی ایک یونی ورسٹی میں تعلیم حاصل کروں ۔ وہ خود بھی یونی ورسٹی کالج آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ تھے لہذاٰ اُن کا خیال تھا  کہ مجھے بھی وہیں داخلہ لینا چاہئے کیونکہ وہاں میرے لئے داخلے کے امکان زیادہ روشن تھے۔ اُس وقت یونی ورسٹی کالج میں ریاضی کا کوئی وظیفہ مختص نہیں تھا۔ یہی وجہ تھی کہ میرے والد مجھے کیمسٹری میں اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتے تھے: کیونکہ میرے لئے ریاضی کی بجائے کسی نیچرل سائنس میں سکالر شپ کے لئے کوشش ممکن تھی۔

(اس دوران) میری باقی فیملی ایک سال کے لئے انڈیا چلی گئی لیکن میں ساتھ نہیں جا پایا کیوں کہ مجھے اے لیولز  کرنا تھا اور بعد ازاں یونی ورسٹی میں داخلہ لینا تھا۔ میرے ہیڈ ماسٹر کے خیال کے مطابق میں آکسفورڈ میں داخلے کیلئے ابھی میں بہت چھوٹا تھا ، اس کے باوجود میں مارچ 1959 میں سکالر شپ کا امتحان دو اور لڑکوں کے ساتھ دینے گیا جو مجھ سے ایک سال سینئر تھے۔ مجھے یقین تھا کہ میرا امتحان بہت برا ہوا ہے اور تب بہت زیادہ پریشان بھی تھا جب پریکٹیکل امتحان کے دوران یونی ورسٹی کے لیکچرار دوسرے طلباء سے بات چیت کیلئے آئے لیکن مجھ سے کسی نے بات نہیں کی۔اور پھر آکسفورڈ سے واپسی کے چند دنوں بعد، مجھے ایک ٹیلی گرام موصول ہوا جس میں بتایا گیاتھا کہ مجھے سکالر شپ کے لئے منتخب کر لیا گیا ہے۔

میں تب سترہ برس کا تھا اور میرے ہم جماعت طالب علموں میں بہت سوں نے ملٹری سروس بھی کر رکھی تھی اور مجھ سے عمر میں کافی بڑے تھے۔ اس وجہ سے پہلا پورا سال اور دوسرے سال کے کچھ حصے کے دوران میں نے خود کو بہت تنہا محسوس کیا۔ میرا تیسرا برس تھا جب میں نے خود کو بہت خوش و خرم محسوس کیا۔ تب آکسفورڈ کا ماحول بہت سہل پسند (anti-work) ہوا کرتا تھا۔ آپ کے لئے بغیر محنت کے ایک شاندار طالب علم ہونا وہاں کے کلچر کے مطابق فرضِ عین تھا ، یا پھر اپنی حدود کو قبول کریں (یعنی اپنی کند ذہنی کا اقرار کریں اور)چوتھے درجے کی ڈگری حاصل کر لیں۔ محنت کر کے ایک بہتر ڈگری حاصل کرنے والے کو gray man سمجھا جاتا تھا، جو کہ 'آکسفورڈ کی لغت' کے مطابق ایک  بد ترین صفت تھی۔

اُس دور میں فزکس کی ڈگری کو آکسفورڈ میں یوں مرتب کیا گیا تھا کہ اس کے طالب علموں کا کام سے بچے رہنا (دوسروں کی نسبت) خاص طور سے آسان تھا۔ میں نے صرف ایک امتحان دیا اور دوسرے سال میں داخل ہو گیا اور بعد ازاں آکسفورڈ کے بقیہ تین سالوں میں بھی صرف سالانہ امتحانات دیے۔ ایک مرتبہ تخمینہ لگانے پر مجھے  یہ آشکار ہوا کہ میں نے اپنے تین برسوں کے دوران کوئی ایک ہزار گھنٹے کا کام کیا تھا، جو اوسطاً ایک گھنٹہ روزانہ بنتا تھا۔ مجھے کام کی اس قلت پر فخر نہیں ہے۔ میں صرف اپنا تب کا اپنا رویہ بیان کر رہا ہوں، اور ایسا ہی رویہ وہاں کے زیادہ تر طالب علموں کا تھا: ایک مکمل بوریت کا احساس اور یہ رویہ کہ کچھ بھی ایسا نہیں ہے جس کے لئے کوشش کی جائے۔  مجھے بیماری سے حاصل ہونے والے اسباق میں سے ایک یہ ہے کہ یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے یہ تبدی ہونا چاہئے۔۔ جب آپ قبل از وقت موت کے امکان سے دوچار ہوں تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ زندگی جئے جانے کی شے ہے اور بہت کچھ ایسا ہے جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔

کام (کرنے) کی قلت کی وجہ سے ، میں نے یہ سوچ رکھا تھا کہ میں نظری طبیعیات کے سوالات حل کروں گا اور ان سوالات سے احتراز برتوں گا جو اطلاقی علم (applied physics) کے متقاضی تھے۔ تاہم (اسی دوران ہونے والے) امتحان سے ایک رات قبل نروس ٹینشن کے باعث میں سو نہیں پایا تھا، اور امتحان میں اچھی کارکردگی نہ دکھا سکا۔ میں درجہ اول اور درجہ دوم کی ڈگری کے بین بین تھا، اور ممتحن حضرات نے میرا گریڈ متعین کرنے کے لئے میرا انٹرویو لینا تھا۔ انٹرویو میں انھوں نے مجھ سے میرے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں پوچھا۔ میں نے بتایا کہ میں ریسرچ کرنا چاہتا تھا۔ اگر وہ مجھے درجہ اول میں پاس کرتے تو میں کیمبرج جاتا اور درجہ دوم میں پاس ہونے پر آکسفورڈ میں ہی رہتا۔ انھوں نے مجھے درجہ اول میں پاس کر دیا۔

میرا احساس تھا کہ نظری طبیعیات کے دو ممکنہ دائرے ہیں جو بنیادی تھے اور جن میں مجھے تحقیق کرنی چاہئے تھی۔ ان میں سے ایک کُونیات (cosmology) تھا، یعنی بہت بڑے اجسام کا مطالعہ۔ اور دوسرا بنیادی ذرات (elementary particles) تھا، یعنی بہت چھوٹے اجسام کا مطالعہ۔ میرے خیال میں بنیادی ذرات کم پر کشش تھے کیونکہ ، اگرچہ سائنس دان بہت سے نئے ذرات ڈھونڈ نکال رہے تھے لیکن اس وقت تک کوئی مناسب نظریہ سامنے نہیں آیا تھا۔ زیادہ سے زیادہ وہ یہ کر رہے تھے کہ ان ذرات کو مختلف categories میں تقسیم کر دیں، جیسا کہ botany میں ہوتا تھا۔ جبکہ دوسری جانب، کُونیات میں ایک متعین نظریہ تھا، جو کہ آئن سٹائن کا جنرل نظریۂ اضافت (General Theory of Relativity) تھا۔

آکسفورڈ میں کوئی بھی نہیں تھا جو کُونیات پر کام کر رہا تھا ، لیکن کیمبرج میں Fred Hoyle کونیات پر کام کر رہے تھے، جو اپنے وقت کے ممتاز ترین برطانوی ماہرِ فلکیات تھے۔ اسی وجہ سے میں نے Hoyle کی سرپرستی میں پی ایچ ڈی کے لئے اپلائی کر دیا۔ چونکہ میں اول درجے میں کامیاب ہوا تھا اس لئے مجھے کیمبرج میں پی ایچ ڈی میں داخلہ مل گیا۔ لیکن یہ جان کر میں بہت الجھن کا شکار ہوا کہ میرے سپروائزر Hoyle نہیں بلکہ Denis Sciama تھے، جن کو میں نہیں جانتا تھا۔ تاہم انجام کار ایسا میرے حق میں بہترین ثابت ہوا۔ Hoyle زیادہ تر بیرون ملک رہتے تھے اور  غالباً اس وجہ سے میں ان سے زیادہ استفادہ کر بھی نہ پاتا۔ جبکہ دوری جانب، Scima کیمبرج میں ہی ہوتے تھے اور ہمیشہ  حوصلہ افزائی کرتے تھے، اگرچہ میں اکثر ان کے خیالات سے متفق نہیں ہوتا تھا۔

چونکہ میں نے سکول اور آکسفورڈ میں زیادہ ریاضی نہیں پڑھی تھی، اس وجہ سے ابتداً مجھے جنرل نظریۂ اضافت سمجھنے میں بہت مشکل پیش آئی اور میں کوئی زیادہ progress نہیں کر سکا۔ مزید برآں میں نے آکسفورڈ میں اپنے آخری سال کے دوران غور کیا کہ میری جسمانی حرکت بد سلیقہ ہوتی جا رہی ہے۔ کیمبرج جانے کے بعدجلد ہی، مجھ میں ALS (amyotrophic lateral sclerosis) کی تشخیص ہو گئی، جسے برطانیہ میں موٹر نیوران (motor neuron) کی بیماری کہا جاتا ہے۔ (امریکہ میں اسے Lou Gehrig’s disease بھی کہتے ہیں )۔ ڈاکٹر حضرات میرا علاج کر پائے نہ ہی مجھے یہ یقین دہانی کرا پائے کہ میری بیماری میں مزید اضافہ نہیں ہو گا۔

ابتداً یوں محسوس ہوا کہ بیماری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔(اس وجہ سے) مجھے اپنا تحقیقی کام بے وقعت لگنے لگا، کیونکہ مجھ اتنی بھی امید نہ رہی تھی کہ میں اپنی پی ایچ ڈی کی تکمیل تک زندہ رہ پاؤں گا۔تاہم، جوں جوں وقت گزرتا گیا، بیماری میں بظاہر آہستگی آتی گئی۔ میں نے جنرل نظریۂ اضافت بھی سمجھنا شروع کر دیا اور اپنا (پی ایچ ڈی کا) کام بھی شروع کر دیا۔ لیکن جو امر فیصلہ کن ثابت ہوا وہ میری Jane Wilde سے منگنی تھا، جس سے میری ملاقات اپنی بیماری کے تشخیص کے آس پاس ہی ہوئی تھی۔ جین کی شکل میں مجھے اپنا زندہ رہنا بامقصد نظر آنے لگا۔

ہماری شادی کے لئے میرے پاس ملازمت کا ہونا ضروری تھا، اور ملازمت ہونے کیلئے پی ایچ ڈی ہونا ضروری تھا۔ اور یوں آخرِ کار زندگی میں پہلی مرتبہ میں نے کام کرنا شروع کیا۔ اور مجھے حیرانی ہوئی کہ مجھے کام کرنا پسند آ رہا تھا۔ شاید اسے کام کہنا مناسب نہ ہو (کیونکہ) کسی نے کہہ رکھا ہے: سائنس دان اور طوائفوں کو اُن کی پسند یدہ سرگرمیوں کا معاوضہ ملتا ہے۔

میں نے Gonville اور Caius کالج میں ریسرچ فیلو شپ کے لئے درخواستیں جمع کرائیں۔ میں امید کر رہا تھا کہ میری درخواست جین ٹائپ کرے گی لیکن جب وہ مجھ سے ملنے کیمبرج آئی تو اُس کے ٹوٹے ہوئے بازو پر پلستر چڑھا ہوا تھا۔ مجھے اقرار کرنا چاہئے کہ مجھے اس واقعے پر جتنی ہمدردی دکھانا چاہئے تھی وہ میں نے نہیں دکھائی۔ اُس کا چونکہ بایاں بازو ٹوٹا تھا اس وجہ سے وہ میری درخواست لکھنے کے قابل تھی۔ میں بولتا گیا اور وہ لکھتی گئی، اور یوں بالآخر مجھے خود درخواست نہیں لکھنا پڑی

درخواست جمع کرانے کے لئے مجھے دو افراد اپنے کام کے حوالہ (reference) کے طور پر درکار تھے ۔ میرے سپروائزر نے تجویز دی کہ مجھے Herman Bondi کا نام دینا چاہئے۔ Bondi اس وقت kings College لندن میں ریاضی کے پروفیسر تھے۔، اور جنرل نظریۂ اضافت کے ماہر تھے۔ میری ان سے ایک دو مرتبہ ملاقات تھی، اور انھوں نے Proceedings of the Royal Society نامی جرنل میں میرا لکھا ہوا تحقیقی مقالہ شائع کرایا تھا۔ میں نے ان سے (ان کا نام بطور ریفرینس کے درج کرنے کے لئے) پوچھا، جب وہ کیمبرج میں ایک لیکچر دے کر فارغ ہوئے، تو انھوں نے مبہم انداز سے مجھے دیکھتے ہوئے حامی بھر لی۔ یقیناً میں انہیں یاد نہیں رہا ہوں گا کیونکہ جب کالج نے ان سے ریفرینس کے لئے رابطہ کیا تو جواباً انھوں نے کہا کہ وہ مجھے نہیں جانتے تھے۔ آج کل کالج ریسرچ فیلو شپ کے لئے اتنی کثیر تعداد میں درخواست گزار ہوتے ہیں کہ اگر کسی بھی درخواست گزار کا ریفرینس یہ کہہ دے کہ وہ اسے نہیں جانتا، تو وہیں اس درخواست گزار کے داخلے کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں۔ لیکن وہ وقت کافی خاموش تھا۔ کالج نے مجھ سے رابطہ کر کے Bondi کا شرمندہ کردینے والا جواب بتایا، اور پھر میرے سپروائزر نے Bondi کی یادداشت تازہ کی۔ Bondi نے میرے لئے ایسا ریفرینس لکھا جس کا شاید میں مستحق نہیں تھا۔ مجھے فیلو شپ مل گئی اور تب سے میں Caius کالج کا فیلو ہوں۔

اس فیلو شپ کا مطلب یہ تھا کہ جین اور میں شادی کر سکتے تھے، جو ہم نے جولائی 1965 میں کی۔ ہم نے ہنی مون کا وقت Suffolk میں ایک ہفتے کے لئے گزارا، اور اس سے زیادہ اخراجات میں برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ بعد ازاں ہم Cornell University نیویارک کے summer school میں گئے جہاں جنرل نظریۂ اضافت پڑھایا جانا تھا۔ وہاں جانا ایک غلطی تھی۔ ہم ایک ایسی اقامت گاہ میں ٹھہرے جہاں ایسی جوڑے رہ رہے تھے جن کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے جو بہت شور مچاتے تھے، اس وجہ سے اس رہائش نے ہماری شادی شدہ زندگی پر کافی بوجھ ڈالا۔ اس کے علاوہ summer school بہت مفید رہا کیونکہ میں اپنے شعبے کے بہت سے قافلہ سالاروں سے مل پایا۔

1970 تک میں نے کُونیات میں تحقیق کی، جو کہ کائنات کی بڑے پیمانے پر تحقیق تھی۔ اس دورانیے میں میرا سب سے اہم کام Sigularities پر تھا۔ دور دراز کہکشاؤں کا مشاہدہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ وہ ہم سے دور جا رہی ہیں : کائنات پھیل رہی ہے۔ یہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ ماضی میں کہکشائیں ایک دوسرے کے قریب رہی ہوں گی۔ اس کے بعد یہ سوال اٹھتا ہے: کیا ماضی میں کوئی ایسا وقت تھا جب تمام کہکشائیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی تھیں اور یوں کائنات کی کثافت غیر متناہی تھی؟ یا ماضی میں ایک ایسا دورانیہ تھا جب کہکشائیں (قریب تو تھیں لیکن) ایک دوسرے سے ٹکرانے سے محفوظ رہی ہوں گی؟ ممکن ہے وہ ایک دوسرے کے قریب سے گزر گئی ہوں پر ایک دوسرے سے ٹکرانے سے محفوظ رہی ہوں؟ اس سوال کا جواب دینے کے لئے ایک نئے ریاضیاتی طریقۂ کار کی ضرورت تھی۔ یہ طریقہ ہائے کار 1965 سے 1970 کے درمیان وضع کئے گئے جن میں راجر پینروز (Roger Penrose)اور میرا کردار بنیادی تھا۔ پینروز اس وقت Birkbeck کالج لندن میں تھے، اور اب آکسفورڈ میں ہیں۔ ہم نے ان ریاضیاتی طریقہ ہائے کار کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ اگر جنرل نظریۂ اضافت درست ہے تو ماضی میں غیر متناہی کثافت کی ایک حالت لازماًرہی ہو گی۔

غیر متناہی کثافت کی یہ حالت big bang singularity کہلاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر جنرل نظریۂ اضافت درست ہے تو سائنس یہ بتانے کے قابل نہیں ہو پائے گی کہ کائنات کیسے شروع ہوئی تھی۔ تاہم، میرا تازہ ترین تحقیقی کام یہ نشان دہی  کرتا ہے کہ کائنات کا آغاز جاننا ممکن ہے اگر ہم کوانٹم فزکس کی مدد سے اسے سمجھنے کی کوشش کریں، جو کہ مادے کا ذرات کی سطح پر مطالعے کا نام ہے۔

جنرل نظریۂ اضافت اس امر کی بھی پیشین گوئی کرتا ہے کہ دیو ہیکل ستارے جب اپنا نیوکلیائی ایندھن استعمال کر چکے ہوں گے تو وہ آپس میں ٹکرائیں گے۔ میرے اور پین روز کے کام نے یہ ثابت کیا کہ ستارے آپس میں تب تک ٹکرانا جاری رکھیں گے جب تک کہ وہ غیر متناہی کثافت کی اکائی (singularity) کو نہیں پہنچ جاتے۔ یہ اکائی کم از کم ان ستاروں اور ان پہ موجود ہر شے کے لئے وقت کا اختتام (end of time) ہو گا۔ اس اکائی کی کششِ ثقل اس قدر شدید ہو گی کہ اس کےاطراف موجود جگہوں سے روشنی بھی باہر نہ نکل پائے گی اور gravitational field اسے واپس کھینچ لائے گا۔ ایسا علاقہ جہاں سے روشنی کا فرار نا ممکن ہو، بلیک ہول (black hole) کہلاتا ہے اور اس کی حدود event horizon کہلاتی ہیں۔ کوئی بھی شے جو event horizonکے ذریعے بلیک ہول میں گرتی ہے، اس کا end of time اکائی پر جا کر ہوتا ہے۔

یہ 1970 کی بات ہے کہ میں ایک مرتبہ جب سونے کے لئے بستر پر لیٹا تو بلیک ہولز کے بارے میں سوچ رہا تھا، او ر یہ میری بیٹی Lucy کی پیدائش کے کچھ ہی عرصہ بعد کی بات تھی۔ اچانک مجھے یہ ادراک ہوا کہ میں نے پین روز کے ساتھ مل کر اکائی کو ثابت کرنے کے لئے جو طریقہ ہائے کار وضع کئے تھے وہ بلیک ہولز پر بھی منطبق کئے جا سکتے تھے۔ بالخصوص بلیک ہولز کا باہری کنارہ جو event horizon کہلاتا ہے، اس میں وقت گزرنے کے ساتھ کمی واقع نہیں ہو سکتی۔ اور دو بلیک ہولز  کے ٹکرانے سے جب ایک نیا بلیک ہول وجود میں آئے گا، تو اس نئے بلیک ہول کے افق کا رقبہ ان دو بلیک ہولز کے مشترکہ رقبہ سے بڑا ہو گا۔ اس نتیجے سے بلیک ہولز کے آپس میں ٹکرانے سے خارج ہونے والی توانائی کی مقدار پر ایک اہم حد بندی عائد ہو گئی۔اس اچانک ادراک سے میں اس قدر پر جوش تھا کہ اس رات ٹھیک سے سو نہ سکا۔

1970 سے 1974 کے درمیان میں نے بلیک ہولز پر کام کیا۔ لیکن 1974 میں غالباً میں نے اپنی سب سے حیران کن دریافت کی: کہ بلیک ہولز مکمل طور پر بلیک نہیں ہیں! جب ہم مادے کا بہت چھوٹی سطح پر تعامل دیکھتے ہیں ، تو بلیک ہولز سے بھی ذرات اور شعائیں خارج ہو سکتی ہیں۔اور بلیک ہول ایک گرم شے کی طرح شعائیں خارج کرتا ہے۔

1974 سے میں جنرل نظریۂ اضافت اور کوانٹم میکانکیات (quantum mechanics) کو باہم ملا کر ایک متوازن نظریہ بنانے پر کام کر رہا ہوں۔ اور اس کا ایک نتیجہ وہ تجویز (proposal) ہے جو میں نے 1983 میں نے جم ہارٹل (Jim Hartel) کے ساتھ مل کر 1983 میں پیش کیا۔ جم ہارٹل کا تعلق یونی ورسٹی آف کیلی فورنیا سانتا باربرہ (Santa Barbara) سے تھا: پروپوزل یہ تھا کہ وقت (time) اور خلاء (space) محدود ہیں لیکن اُن کی کوئی حد بندی (boundary) یا کنارہ (edge) نہیں ہے۔ وہ زمین کی سطح جیسے ہی ہوں گے ، لیکن ان کی دو اضافی  جہات یا طول و عرض (dimensions) ہوں گے۔ زمین کا بیرونی علاقہ اپنے رقبہ میں محدود ہے لیکن اس کا کوئی کنارہ نہیں ہے۔ دنیا میں اپنے تمام تر سفر کے دوران میں (me) کبھی بھی زمین کے کنارے سے باہر نہیں گرا۔ اگر یہ پروپوزل درست ہے تو اس کا مطلب ہے اکائی (singularity) وجود نہیں رکھتی اور سائنس کے قوانین ہر جگہ پر لاگو ہوں گے، اور کائنات کے نکتۂ آغاز پر بھی یہ قوانین لاگو ہوں گے۔ یعنی کائنات کے آغاز کا تعین ہم سائنس کے قوانین سے کر پائیں گے۔ میں اپنے اس ارادے میں کامیاب ہو چکا ہوتا کہ یہ دریافت کروں کہ کائنات کا آغاز کیسے ہوا لیکن میں یہ ابھی تک نہیں جانتا کہ اس کا آغاز کیوں ہوا۔




نجمِ اسود اور ننھی کائناتیں: قسط نمبر دو (بچپن)

قسط نمبر ایک یہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ (ٹیب نئی ونڈو میں اوپن ہو گا)

میں 8 جنوری 1942 کو ، گلیلیو کی وفات کے عین 300 برس بعد پیدا ہوا۔ تاہم، میرا اندازہ ہے کہ اسی روز قریباً دو لاکھ بچے اور بھی پیدا ہوئے ہوں گے۔ میں نہیں جانتا کہ بعد ازاں ان میں سے کسی کو علمِ فلکیات میں دلچسپی پیدا ہوئی یا نہیں ۔ اگرچہ میرے والدین لندن میں رہائش پذیر تھے لیکن میری پیدائش آکسفورڈ میں ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جنگِ عظیم دوم کے دوران آکسفورڈ (بچے کی) پیدائش کیلئے ایک موزوں مقام تھا: چونکہ (برطانیہ اور ) جرمنی کا باہمی معاہدہ تھا کہ وہ آکسفورڈ اور کیمبرج اور اس کے عوض برطانوی  ہائیڈل (Heidelberg) برگ اور گوٹن جین (Göttingen) پر بمباری نہیں کریں گے۔ ۔افسوس اس امر کا ہے کہ اس پر امن معاہدے کو مزید شہروں تک وسعت نہ دی جا سکی۔

میرے والد یارک شائر سے تھے۔ اُن کے دادا، یعنی میرے پڑدادا اپنے وقت کے ایک متمول کسان تھے ۔ انھوں نے بہت سے فارم خریدے لیکن بیسویں صدی کے آغاز تک شعبہ زراعت کی زبوں حالی  کے باعث دیوالیہ ہو چکے تھے۔ جس کی وجہ سے وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہوئے لیکن جیسے تیسے اپنے بیٹے (یعنی میرے والد) کو آکسفورڈ بھیجنے میں کامیاب ہو گئے، آکسفورڈ منتقل ہونے کے بعد میرے والد نے میڈیسن میں تعلیم حاصل کی۔ اور بعد ازاں انھوں نے گرم خطوں کی ادویات (tropical medicine) کے شعبہ میں بطور محقق (researcher) کام کیا۔ 1937  میں وہ مشرقی افریقہ گئے ۔ اور جب جنگِ عظیم دوم کا آغاز ہوا تو برطانیہ جانے والے بحری جہاز کو پہنچنے کی خاطر انھوں نے افریقہ کے زمینی راستے کا سفر کیا۔  ۔برطانیہ پہنچ کر انھوں نے رضاکارانہ طور پرفوج میں شمولیت اختیار کر لی۔ تاہم میرے والد کو یہ مشورہ دیا  گیا کہ وہ طبی تحقیقات کے شعبہ میں زیادہ مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔

میری والدہ محترمہ گلاسگو (Glasgow) سکاٹ لینڈ میں پیدا ہوئیں، اور ایک فیملی ڈاکٹر کے سات بچوں میں دوسرے نمبر پر تھیں۔ جب وہ بارہ برس کی ہوئیں تو ان کی فیملی سکاٹ لینڈ کے جنوبی شہر دیوون (Devon) منتقل ہو گئی۔ میرے والد کے گھرانے کے طرح والدہ کی فیملی کے مالی حالات بھی زیادہ اچھے نہ تھے۔ تاہم اس قدر ضرور تھے کہ وہ میری والدہ کو آکسفورڈ (یونی ورسٹی)بھیجنے میں کامیاب ہو پائے۔ آکسفورڈ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد میری والدہ نے بہت سی ملازمتیں کیں، جن میں سے ایک ٹیکس انسپکٹر کی ملازمت بھی تھی، جو میری والدہ کو ناپسند تھی۔ انھوں نے ٹیکس انسپکٹر کی ملازمت چھوڑ کر سیکریٹری کی ملازمت اختیار کر لی اور یہی ملازمت تھی جو اُن کی میرے والد سے جنگ کے ابتدائی ایام میں ملاقات کا باعث بنی۔

ہم ہائی گیٹ (Highgate) نارتھ لندن میں رہتے تھے۔ میری بہن مَیری (Mary) میری پیدائش کے اٹھارہ ماہ بعد پیدا ہوئی۔ مجھے یہ بتایا جاتا ہے کہ میں اپنی بہن کی پیدائش پر خوش نہیں تھا۔ ہمارا بچپن کا تعلق مسلسل تناؤ کا شکار رہا، اور ہماری عمر کے معمولی سے فرق نے اس تناؤ کو مزید بڑھاوا دیا۔ تاہم بلوغت کو پہنچنے کے بعد یہ باہمی تناؤ ختم ہو چکا ہے اور اب ہم جدا جدا راستوں کے مسافر ہیں۔ اُس کے ڈاکٹر بن جانے نے میرے والد کو بہت خوشی پہنچائی ۔ ۔ میری چھوٹی بہن فلیپا (Philippa) تب پیدا ہوئی جب میں پانچ برس کا تھااور میرے ارد گرد جو کچھ بھی ہوتا تھا، اس کا شعور رکھتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں اس کی پیدائش کا منتظر تھا  کیونکہ پھر ہم تین بہن بھائی آپس میں کھیل سکتے تھے۔ مَیری بہت ذکی الحس اور ذی فہم تھی۔ میں نے اس کے مشاہدے اور آراء کو ہمیشہ وقعت دی۔ میرا بھائی ایڈورڈ (Edward) بہت دیر بعد پیدا ہوا،تب جب میں چودہ برس کا تھا، اور یوں میرے بچپن میں اس کا حصہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ ایڈورڈ اپنے تین بہن بھائیوں سے بہت مختلف تھا، مکمل غیر علمی اور عقل و خرد سے عاری۔ اور یہ شاید یہی ہمارے حق میں اچھا تھا۔ اگرچہ اس کے ساتھ نباہ آسان نہ تھا لیکن آپ اسے پسند کئے بغیر بھی نہ رہ سکتے تھے۔

میری بچپن کی اولین یادداشت  کچھ یوں ہے کہ میں  Highgateمیں Byron House کی نرسری میں کھڑا زور زور سے چیخ رہا ہوں۔ میرے ارد گرد بچے کھلونوں سے لطف اندوز ہو رہےتھےمیں بھی ان کے ساتھ کھیلنا چاہتا تھا، لیکن میں صرف اڑھائی سال کا تھا،  اس پہ مستزاد ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ مجھے ان لوگوں کے ساتھ چھوڑ دیا گیا جو میرے لئے بالکل اجنبی تھے۔ میرا خیال ہے میر ے یوں چیخ چیخ کر رونے پہ میرے والدین محوِ حیرت تھے کیونکہ میں ان کی پہلی اولاد تھا اور وہ بچوں کا تربیتی نصاب بھی پڑھ رہے تھے جس کے مطابق دو برس کا بچہ معاشرتی تعلقات بنانا شروع کر دیتا تھا۔ ۔ لیکن اس افسوس ناک صبح کے بعد وہ مجھے وہاں سے لے گئے اور مجھے مزید ڈیڑھ سال تک دوبارہ Byron House نہیں بھیجا۔

جنگ اور جنگ کے معاً بعد، Highgate بہت سے سائنسی اور علمی لوگوں کی آماجگا بن چکا تھا دوسرے ممالک میں انھیں دانشورکے نام سے پکارا جاتا تھا، لیکن انگریزوں نے کبھی یہ تسلیم نہیں کیا کہ اُن کے ہاں بھی کبھی دانشور رہے ہیں۔۔ یہ تمام لوگ (یعنی سائنسی اور علمی شخصیات) اپنے بچوں کو Byron ہائی سکول بھیجتے تھے، جو اپنے وقت کا ایک ترقی پذیر ادارہ تھا۔ مجھے یاد ہے میں اپنے والدین سے شکایت کیا کرتا تھا کہ سکول والے مجھے کچھ نہیں پڑھاتے۔ وہ  آپ کو درست طریق پر تعلیم دینے کے نظریے پر یقین نہیں رکھتے تھے، اور یہی (غلط طریقہ کار) اس وقت کا م معروف طریق تھا۔  تعلیم دینے کی بجائے وہ آپ کو پڑھنا سکھاتے تھے، یہ احساس دلائے بغیر کہ آپ کو پڑھایا جا رہا ہے۔ میری بہن Philippa کو زیادہ روایتی طریقوں سے پڑھنا سکھایا گیا اور وہ چار پرس کی عمر میں پڑھنا سیکھ چکی تھی ۔ اور اس وقت، وہ یقیناً مجھ سے زیادہ لائق تھی۔

ہم ایک طویل القامت لیکن تنگ وکٹورین طرز کے گھر میں رہتے تھے، یہ گھر میرے والدین نے جنگ کے دوران نہایت سستے داموں خریدا تھا،(اس کے سستے داموں فروخت ہونے کی وجہ یہ تھی کہ)  لوگوں کو دورانِ جنگ ہی لندن کے (بمباری کی وجہ سے) تباہ ہو جانے کا خدشہ تھا۔ درحقیقت ایک V-2 راکٹ ہمارے گھر سے چند گھروں کے فاصلے پر آ کر گرا بھی تھا۔ اس وقت میں اپنی والدہ اور بہن کے ساتھ گھر سے باہر گیا ہوا تھا لیکن میرے والد گھر پر تھے۔ خوش قسمتی سے، وہ زخمی نہیں ہوئے، اور گھر کا بھی زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ لیکن اس بم کےگرنے سے کئی سالوں تک سڑک پر ایک بہت بڑی bomb site بنی رہی جہاں میں اپنے دوست Howard ، جو ہمارے گھر سے صرف تین گھروں کی دوری پر رہتا تھا، کے ساتھ کھیلا کرتا تھا، Howard میرے لئے ایک حیران کن  انسان تھا کیونکہ اس کے والدین میرے تمام جاننے والے بچوں کے والدین کی طرح دانشور (intellectual) نہیں تھے۔ وہ Byron کی بجائے کونسل سکول جاتا تھا، فٹ بال اور باکسنگ کے بارے میں جانتا تھا، ایسے کھیل جنھیں کھیلنے کا میرے والدین نے کبھی خواب بھی نہ دیکھا ہو گا۔

میری ایک اور ابتدائی یادداشت مجھے پہلاٹرین سیٹ (train set toy)ملنے کی ہے۔ جنگ کے دوران(برطانیہ میں) کھلونے تیار نہیں ہو رہے تھے، کم از کم لوکل مارکیٹ کے لئے تو بالکل نہیں۔ ماڈل ٹرینز (Model Trains) میں میری دلچسپی جنون کی حد تک تھی۔ میرے والد نے مجھے لکڑی کی ٹرین بنا کر دینے کی کوشش کی، لیکن میں مطمئن نہیں ہوا، اور ایک ایسی ٹرین چاہتا تھا جو چلتی ہو۔لہذاٰ میرے والد نے مجھے دائرے میں چلنے والی سیکنڈ ہینڈ  ٹرین خرید کر دی، ٹانکا لگانے کے اوزار سے اس کی مرمت کی، اور کرسمس سے پہلے ہی اس کی مرمت کر کے مجھے کھیلنے کے لئے دے دی۔ تب میں قریب تین برس کا تھا۔ (اگرچہ میرے والد نے اپنے طور پر اسے مرمت تو کیا تھا لیکن) ٹرین ٹھیک سے نہیں چل سکین اور میرے والد جنگ کے فوراً بعد امریکہ چلے گئے ، لیکن جب وہ Queen Mary پر واپس آئے، تو میری والدہ کیلئے نائلون لائے جو تب برطانیہ میں نہیں ملتی تھی، میری بہن Mary کے لئے ایک گڑیا لائے جو لٹانے پر اپنی آنکھیں موند لیتی تھی۔ اور میرے لئے وہ ایک امریکی ٹرین لائے، جس میں انجن کے آگے لگی ہوئی لوہے کی جالی بھی تھی اور ٹکر روک چھاج بھی تھی جو لائن پر پڑی رکاوٹوں کو پرےہٹانے کے لئے ہوتی ہے، اور آٹھ کے ہندسے کی شکل کا (figure-eight) ٹریک بھی تھا۔ مجھے آج بھی اپنی خوشی کی وہ کیفیت یاد ہے جو ٹرین کا ڈبہ کھولتے وقت مجھے محسوس ہو رہی تھی۔

خود کار اور دائرے میں چلنے والی ٹرین اچھی تو تھی لیکن در حقیقت مجھے الیکٹرک ٹرین چاہیے تھی۔ میں Crouch End میں ماڈل ریلوے کلب کا نقشہ دیکھنے میں گھنٹوں صرف کرتا تھا، اور Highgate کے قریب میں الیکٹرک ٹرین کے خواب دیکھا کرتا تھا۔ بالآخر جب میرے ماں باپ دونوں شہر سے کہیں باہر گئے ہوئے تھے، میں نے پوسٹ آفس بنک سے وہ تمام رقم نکلوائی جو لوگوں نے مجھے مختلف مواقع جیسے بپتسمہ وغیرہ پر دی تھی، میں نے اس رقم سے الیکٹرک ٹرین کا ایک سیٹ ٖخریدا، لیکن مجھے مایوسی ہوئی کیونکہ اس نے ٹھیک سے کام نہیں کیا۔ آج کل ہم خریدار کے حقوق سے آگاہ ہیں۔ مجھے چاہئے تھا کہ میں سیٹ واپس لے کر جاتا اور تقاضا کرتا کہ دکاندار یا ٹرین بنانے والے اس تبدیل کر کے دیں، لیکن ان دنوں میں عمومی رویہ یہ تھا کہ کسی بھی شے کی خریداری ایک اعزاز تھا، اور یہ آپ کی بدقسمتی تھی اگر وہ شے خراب نکل آتی۔ لہذاٰ میں نے انجن کی الیکٹرک موٹر ٹھیک کرانے کے پیسے ادا کئے، لیکن اس کے باوصف ٹرین نے کبھی بھی ٹھیک سے کام نہیں کیا۔

بعد ازاں، میری نوجوانی کے دنوں میں، میں نے ماڈل ہوائی جہاز اور کشتیاں بنائیں۔ مجھے اپنے ہاتھوں کو کبھی بھی اچھے سے استعمال کرنا نہیں آیا، لیکن یہ کام میں نے اپنے سکول کے دوست John Mclenahen کے ساتھ کئے جو ان کاموں میں بہت بہتر تھا اور اس کے والد کی اپنے گھر میں ایک ورکشاپ بھی تھی۔ میرا مقصد ہمیشہ سے یہ رہا تھا کہ میں ایسے عملی ماڈل تیار کروں جو مکمل طور پر میرے کنٹرول میں ہوں۔ مجھے اس کی قطعاً پروا نہیں تھی کہ وہ (ماڈل) دِکھنے میں کیسے ہوں گے ۔ میرا خیال ہے یہی وہ جذبہ تھا جس کے تحت میں نے سکول کے ایک اور دوست Roger Ferneyhough کے ساتھ مل کر چند نہایت پیچیدہ گیمز بنائیں۔ ایک گیم ایسی تھی جس میں تعمیر کا کام ہوتا تھا، اس گیم میں فیکٹریاں تھیں جس میں مختلف رنگوں کے یونٹ تیار کئے جاتے تھے، سڑکیں اور ریلوے لائنیں تھیں جن پر انہیں لے جایا جاتا تھا، اور ایک سٹاک مارکیٹ تھی۔

1950 میں میرے والد کا دفتر Highgate کے نزدیک Hampster سے Mill Hill منتقل ہو گیا جہاں پر نو تعمیر شدہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ریسرچ تھا۔ Highgate سے سفر کر کے روزانہ نئے دفتر جانے سے بہتر یہ تھا کہ ہم لندن منتقل ہو جائیں۔ لہذاٰ میرے والدین نے کیتھیڈرل سٹی آف St. Albans میں ایک گھر خریدا ، جو Mill Hill سے جنوبی رخ پر دس میل کے فاصلے پر تھا اور جنوبی رخ پر لندن سے اس کا فاصلہ بیس میل تھا۔ ہمارا نیا گھر ایک شاندار وکٹورین طرز کا گھر تھا۔ میرے والدین نے جب یہ گھر خریدا تب وہ بہت متمول نہ تھے، اور گھر میں شفٹ ہونے سے قبل اس کی تعمیر اورمرمت پر بہت سا کام ہونا بھی باقی تھا۔ بعد ازاں میرے والد نے یارک شائر کے لوگوں کی طرح، مرمت کی خاطر مزید ادائیگی سے انکار کر دیا۔ تاہم انھوں نے پوری کوشش کی کہ وہ تعمیر اور مرمت کا کام جاری رکھیں لیکن یہ ایک بہت بڑا گھر تھا اور وہ ان معاملات میں زیادہ ماہر بھی نہ تھے۔ گھر کی بنیادیں مضبوطی سے تعمیر کی گئی تھیں اس وجہ سے تعمیری معاملات میں نظر اندازی کو بھی برداشت کر گیا۔ بعد ازاں 1985 میں میرے والدین نے اسے گروخت کر دیا تب میرے والد بہت زیادہ بیمار تھے (ان کی وفات 1986 میں ہوئی)۔ میں نے حال ہی میں اس گھر کو دوبارہ دیکھا۔ بظاہر یہی لگتا تھا کہ اس گھر کی آرائش و زیبائش پر مزید کوئی محنت نہیں کی گئی، اور یہ اب بھی پہلے جیسا ہی دِکھتا تھا۔

گھر کا نقشہ ایک فیملی اور ملازمین کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیا گیا تھا۔ اور نعمت خانے (pantry) میں ایک تختہ لگا ہوا تھا جو یہ بتاتا تھا کہ کس کمرے سے گھنٹی بجائی گئی ہے۔ظاہر ہے ہمارے پاس ملازمین تو نہ تھے لیکن میرا کمرہ ایک چھوٹا سا L کی شکل کا کمرہ تھا جو یقیناً کسی ملازمہ کا کمرہ رہا ہو گا۔ میں نے یہ کمرہ اپنی کزن سارہ کی تجویز پر لیا، جو مجھ سے عمر میں تھوڑی ہی بڑی تھی۔ میں سارہ کا بہت معترف تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ہم اس کمرے میں بہت لطف اندوز ہو سکیں گے ۔ اس کمرے کی ایک خاصیت یہ تھی کہ اس کی کھڑکی سے ہم باہر بائی سائیکل شیڈ (bicycle shed) کی چھت پر چڑھ سکتے تھے اور وہاں سے زمین پر اتر سکتے تھے۔

سارہ میری والدہ کی سب سے بڑی بہن جنت (Janet)کی بیٹی تھی، جو خود ڈاکٹر تھیں اور اُن کی شادی ایک ماہر نفسیات سے ہوئی تھی۔وہ ہمارے گھر سے مماثل گھر میں ہی رہتے تھے جو Harpenden نامی گاؤں میں تھا اور ہمارے گھر سے پانچ میل کے فاصلے پر جنوب کی جانب تھا۔ St. Albans میں ہمارے منتقل ہونے کی ایک وجہ یہ لوگ بھی تھے۔ سارہ کی قربت میرے لئے ایک بہت بڑا اضافی فائدہ تھا، اور میں بس کے ذریعے اکثر Harpenden جایا کرتا تھا۔ ہمارا شہر St. Albans بھی روم کے قدیم شہر Verulamium کے باقیات کے قریب واقع تھا، جو لندن کے بعد برطانیہ میں روم کی سب سے اہم آباد کاری تھی۔ قرونِ وسطیٰ میں روم کی سب سے بڑی خانقاہ بھی برطانیہ میں تھی اور S. Alban کے گرجا کے گرد تعمیر کی گئی تھی، جو روم کی فوج میں سو آدمیوں کا کمان دار تھا اور عیسائی عقیدے کی بنیاد پر برطانیہ میں پھانسی پر لٹکائے جانے والا پہلاشخص تھا۔ راہبوں کی اس اعمار ت کا جو کچھ بچا کھچا تھا وہ ایک دیو ہیکل اور بد شکل چرچ اور ایک  پرانی عمارت تھی، جو اب St. Albans سکول کا حصہ تھے، اور یہیں میں نے بعد ازاں داخلہ لیا۔

Highgate اور Harpenden کے مقابلے میں St. Albans ایک بے لطف اور ثقیل سی جگہ تھی۔ میرے والدین نے شاذ ہی وہاں کوئی دوست بنائے ہوں گے۔ ضمناً یہ اُن کی اپنی غلطی بھی تھی کیونکہ وہ طبعاً تنہائی پسند تھے ، بالخصوص میرے والد۔ مگر یہاں کی آبادی کا مزاج بھی مختلف تھا؛ یقیناً، میرے St. Albans کے تمام دوستوں کے والدین کو دانشور نہیں کہا جا سکتا تھا۔

ہمارا گھرانہ Highgate میں ایک نارمل گھرانہ دِکھتا تھا لیکن St. Albans میں ہم یقیناً انوکھے اور غیر معمولی سمجھے جاتے تھے۔ اور یہ احساس میرے والد کے رویے سے مزید تقویت پکڑ گیا، جو اس امر کی قطعاً پروا نہیں کرتے تھے کہ وہ کیسے نظر آ رہے ہیں اگر ایسا اس وضعقطع کو اختیار کرنے سے وہ کچھ پیسے بچا پاتے۔ جب وہ بچے تھے تو اُن کا گھرانہ بہت غریب تھا، اور اس نے اُن پر ایک دائمی اثر چھوڑا تھا۔ وہ اپنے آرام پر پیسہ خرچ کرنا برداشت نہیں کر سکتے تھے، تب بھی جب، بعد کے برسوں میں اُن کے لئے رقم خرچ کرنا ممکن بھی تھا۔ انہوں نے پورے گھر کو گرم رکھنے کا نظام انسٹال کرنے سے منع کر دیا،حالانکہ انہیں سردی بہت زیادہ محسوس ہوتی تھی۔ اس کی بجائے وہ اپنے کپڑوں کے اوپر بہت سی جرسیاں اور گاؤن پہن لیتے تھے۔ تاہم وہ لوگوں کیلئے بے انتہا فیاض تھے۔

1950 کی دہائی میں انہیں یہ احساس ہوا کہ وہ نئی کار خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، تو انھوں نے قبل از جنگ کی ایک لندن ٹیکسی خرید لی۔ اور ہم دونوں نےمل کر Nissen hut بطور گیراج تعمیر کیا۔ ہمارے ہمسائے اس پر بہت غصہ ہوئے لیکن وہ ہمیں روک نہیں سکتے تھے۔ عام لڑکوں کی طرح مجھے بھی خود کو معاشرے کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت محسوس ہوئی کیونکہ میں اپنے والدین کی وجہ سے شرمندہ ہوتا تھا، لیکن والدین کو اس کی قطعاً پروا نہ تھی۔

جب شروع شروع میں ہم St. Albans آئے تو مجھے لڑکیوں کے ہائی سکول بھیج دیا گیا، جو اپنے نام (High School for Girls) کے باوجود دس برس کی عمر تک کے لڑکوں کو داخلہ دے دیتا تھا۔تاہم،  جب میری اس سکول میں ایک ٹرم (term) مکمل ہو چکی تھی، میرے والد نے افریقہ کا دورہ کیا، جو وہ کم و بیش ہر سال کرتے تھے، لیکن اس مرتبہ ان کا دورہ نسبتاً طویل اور چار ماہ پر محیط تھا۔ میری والدہ کو اس تمام مدت کیلئے اکیلا رہنا اچھا نہ لگا اور وہ مجھے اور میری دو بہنوں کو لے کر اپنی سکول کے زمانے کی دوست Beryl سے ملنے چلی آئیں، جن کی شادی Robert Graves نامی شاعر سے ہوئی تھی۔ وہ اسپین کے جزیرے Majorca میں  Deya نامی گاؤں میں رہتے تھے۔ یہ جنگ کے محض پانچ برس بعد کی بات ہے اور اسپین کا آمر فرانسسکو فرانکو، جو ہٹلر اور مسولینی کا اتحادی تھا، اب بھی اقتدار میں تھا (درحقیقت وہ مزید دو دہائیوں تک اقتدار میں رہا تھا)۔ تاہم میری والدہ، جو جنگ سے قبل Young Communist League کی ممبر رہ چکی تھیں، تین چھوٹے بچوں کے ساتھ بذریعہ ریل اور کشتی کے، Majorca روانہ ہو گئیں۔ ہم نے Deya میں ایک گھر کرائے پر لیا اور وہاں ہمارا بہت شاندار وقت گزرا۔ میں نے رابرٹ کے بیٹے ولیم کے ساتھ ایک ٹیوٹر سے پڑھا۔ یہ ٹیوٹر رابرٹ کے زیرِ اثر تھا اور اس کی دلچسپی ہمیں پڑھانے سے زیادہ Edinburgh فیسٹیول کے لئے ایک ناٹک لکھنے میں تھی۔ اسی وجہ سے وہ ہمیں روزانہ بائبل کا ایک باب پڑھنے کو بھیجتا اور اس پر ایک مضمون لکھنے کا کہتا۔ اس سرگرمی کا مقصد ہمیں انگریزی زبان کی خوبصورتی سے آشنا کرانا تھا۔ ہمارے برطانیہ واپس لوٹنے سے قبل میں Genesis کو مکمل اور Exodus کا کچھ حصہ پڑھ چکا تھا۔ جو بنیادی سبق مجھے اس سرگرمی سے حاصل ہوا وہ یہ تھا کہ کسی بھی فقرے کو And سے شروع نہیں کرتے۔ میں نے اپنے ٹیوٹر کو جب بتایا کہ بائبل کے بہت سے فقرات And سے شروع ہوتے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ King James کے وقت سے اب بائبل تبدیل ہو چکی ہے۔ اس پر میں نے یہ سوال کیا کہ پھر بائبل پڑھنے کا کیا مقصد ہے؟ لیکن مجھے اس کا جواب نہ دیا گیا۔ اس وقت Robert Graves بائبل کی علامتیت (symbolism) اور تصوف (mysticism) میں بہت دلچسپی رکھتا تھا۔

Majorca سے واپس آنے پر مجھے ایک برس کے لئے ایک نئے سکول میں بھیج دیا گیا، اور تب میں نے Eleven-plus امتحان دیا۔ یہ اس وقت کا ذہانت کا امتحان تھا جو ان سب بچوں کو دینا پڑتا تھا جو ریاستی سطح پر تعلیم (state education) حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اب یہ امتحان ختم کر دیا گیا ہے کیونکہ بہت سے مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے بچے اس امتحان میں فیل ہو جاتے تھے اور بعد ازاں غیر نصابی سکولوں میں بھیج دئے جاتے تھے۔ لیکن میری کارکردگی ٹسٹ اور امتحانات میں کورس ورک کی نسبت بہت بہتر ہوتی تھی۔ لہذاٰ میں نے eleven-plus کا امتحان پاس کر لیا اور  مقامی St. Albans سکول میں مفت داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

جب میں تیرہ برس کا تھا تو میرے والد چاہتے تھے کہ میں Westminster سکول میں داخلہ لوں جو نامور پرائیویٹ اداروں میں سے ایک تھا۔ اس وقت تعلیم بھی طبقاتی تقسیم رکھتی تھی۔ میرے والد نے یہ محسوس کیا کہ ان کی خوش وضعی اور روابط کی کمی کی وجہ سے ان سے کم صلاحیت لیکن بہتر معاشرتی روابط والے لوگوں کو ان پر ترجیح دی گئی تھی۔ اور چونکہ میرےوالدین متمول نہ تھے، اس وجہ سے مجھے سکالر شپ حاصل کرنا تھا۔ تاہم میں سکالر شپ کے امتحان کے وقت بیمار تھا اور یوں امتحان میں شریک نہ ہو سکا اور St. Albans سکول ہی میں رہا۔  میں نے St. Albans میں جو تعلیم حاصل کی وہ، اگر زیادہ بہتر نہیں تو Westminster جتنی ہی اچھی تھی۔ مجھے ایسا کبھی محسوس نہیں ہوا کہ میرے معاشرتی manners کی کمی کبھی کہیں رکاوٹ بنی ہو۔

اس دور میں انگریزی تعلیم کی بہت درجہ بندی تھی۔ نہ صرف سکول نصابی اور غیر نصابی میں تقسیم تھے بلکہ ان کی مزید درجہ بندی A, B, اور C کی کیٹیگری میں تھی۔ یہ تقسیم ان کے لئے تو بہت اچھی تھی جو درجہ A میں تھے، لیکن درجہ B والوں کے لئے زیادہ اچھی نہیں تھی اور درجہ C والوں کے لئے تو باقاعدہ حوصلہ شکن تھی۔ مجھے eleven-plus کے اچھے رزلٹ کی وجہ سے دجہ A میں رکھا گیا لیکن پہلے سال کے بعد جو بچہ کارکردگی کے اعتبار سے شروع کے بیس بچوں میں نہیں تھا اسے درجہ B میں ڈال دیا جاتا۔ اس سے اُن کی خود اعتمادی کو شدید ضرب پہنچتی تھی، جس ضرب سے کچھ تو تمام عمر بازیاب نہ ہوپاتے تھے۔ St Albans کی پہلے دوامتحانات میں میری چوبیسویں اور تئیسویں پوزیشن آئی جبکہ تیسریے امتحان میں میری اٹھارہویں پوزیشن آئی اور میں بال بال بچ گیا۔

میں کبھی بھی کلاس میں درمیانے درجے سے اوپر کا طالبعلم نہیں رہا (اور یہ کلاس بہت لائق بچوں پر مشتمل تھی)۔ میرا کلاس ورک بہت بے ترتیب ہوتا تھا اور میری لکھائی  کو سمجھنا میرے اساتذہ کیلئے ایک امتحان ہوتا تھا۔ لیکن میرے ہم جماعت لڑکے مجھے آئن سٹائن کے عرف سے پکارتے تھے، اس کا مطلب یہ تھا کہ انہیں مبینہ طور پر کچھ بہتری کے آثار نظر آ تے تھے۔ جب میں بارہ برس کا تھا تو میرے ایک دوست نے دوسرے دوست کے ساتھ ٹافیوں کے ایک پیکٹ کی شرط لگائی کہ میں زندگی میں کبھی کچھ نہ بن پاؤں گا۔ میں نہیں جانتا کہ آیا یہ شرط اپنے انجام کو پہنچی یا نہیں اور اس میں کون فاتح قرار پایا۔

میرے چھ یا سات قریبی دوست تھے، جن میں سے زیادہ تر کے ساتھ میں اب بھی رابطے میں ہوں۔ ہمارے مابین ریڈیو کنٹرولر کے ماڈلز سے لے کر مذہب، پیرا سائیکالوجی سے طبیعیات کے موضوعات پر، طویل بحثیں ہوا کرتی تھیں۔ ان میں سے ایک موضوع جس پر ہم بحث کیا کرتے تھے وہ کائنات کا نکتۂ آغاز تھا اور یہ کہ آیا اس کو پیدا ہونے کیلئے اور جاری و ساری رہنےکے لئے ایک خدا کی ضرورت تھی یا نہیں۔ میں نے یہ سن رکھا تھا کہ دوز دراز کی کہکشاؤں سے آنے والی روشنی سرخ طیف کی جانب شفٹ ہو جاتی تھی ، جو اس امر کی طرف اشارہ تھا کہ کائنات پھیل رہی ہے* (نیلے طیف کی جانب شفٹ کا مطلب یہ ہوتا کہ یہ سکڑ رہی ہے)۔ لیکن مجھے یقین تھا کہ سرخ طیف کی جانب جھکاؤ کی کوئی اور وجہ بھی تھی۔ شاید روشنی ہمارے تک پہنچتے پہنچتے تھک جاتی تھی، اور یوں زیادہ سرخ روشنی ہم تک پہنچتی تھی۔ ایک مکمل طور پر غیر مبتدل اور ہمیشہ قائم رہنے والی کائنات بہت زیادہ قدرتی معلوم ہوتی تھی  لیکن پی ایچ ڈی کے دو برس بعد مجھے یہ معلوم ہوا کہ میں غلط تھا۔

جب میں اسکول کے آخری دو سالوں میں پہنچا، تو میں ریاضی اور فزکس میں تخصص کرنا چاہتا تھا۔ میرے یاضی کے استاد Mr. Tahta ایک inspirational استاد تھے، سکول نے حال ہی میں ایک کمرہ ریاضی کیلئے مختص کیا تھا اور وہ ریاضی کا کلاس روم بھی بن گیا تھا۔ لیکن میرے والد میری اس دلچسپی کے سخت مخالف تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ریاضی دانوں کے لئے سوائے تدریس کے اور کوئی ملازمت اختیار کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ انھیں بہت خوشی ہوتی اگر میں میڈیسن کا انتخاب کرتا، لیکن میں نے حیاتیات میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی، جو مجھے بہت زیادہ توضیحی اور بیانی معلوم تی تھی ئی۔ اور سکول میں اس مضمون کا مرتبہ بھی کچھ زیادہ نہ تھا۔ لائق ترین بچے ریاضی اور حیاتیات کے مضامین پڑھتے تھے؛ اور کم لائق طالبعلم حیاتیات کا انتخاب کرتے تھے۔ میرے والد جانتے تھے کہ میں حیاتیات نہیں پڑھوں گا، لیکن پھر بھی انہوں نے مجھے کیمسٹری اور تھوڑا سا ریاضی پڑھنے کی اجازت دی۔ انہوں نے یہ محسوس کیا کہ اس سے میرے لئے تمام راستے کھلے رہیں گے۔ اب میں ریاضی کا پروفیسر ہوں، لیکن میں نے St. Albans سکول چھوڑنے کے بعد سے ریاضی کی کوئی بھی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی، وہ سکول جو میں سترہ سال کی عمر میں چھوڑ چکا تھا۔ جیسے جیسے میں آگے بڑھا، مجھے ۔ میں کیمبرج میں انڈر گریجویٹ بچوں کو سپروائز کرتا تھا اور ان سے کورس میں ایک ہفتہ آگے رہا کرتا تھا۔

میرے والد منطقۂ حارہ کے امراض کی تحقیق میں مصروف تھے، اور وہ مجھے Mill Hill میں اپنی لیبارٹری میں لے جایاکرتے تھے۔ میں اس سے لطف اندوز ہوتا تھا، بالخصوص خردبین سے دیکھنا مجھے بہت پسند تھا۔ وہ مجھے insect house بھی لے جایا کرتے تھے جہاں وہ منطقہ حارہ کی بیماریوں سے آلودہ مچھروں کو رکھاکرتے تھے۔ میں اس سے پرشان ہو جاتا تھا کیونکہ وہاں ہمیشہ کچھ نہ کچھ مچھر آزادانہ اڑ رہے ہوتے تھے۔ میرے والد بہت محنتی اور اپنی تحقیق کے ساتھ بہت مخلص تھے۔ وہ معاشرے سے کچھ عناد رکھتے تھے کیونکہ ان کا احساس تھا کہ جن لوگوں کا بیگ گراونڈ اچھا تھا اور روابط بہتر تھے وہ اُن سے آگے نکل چُکے تھے۔ وہ مجھے ایسے لوگوں کے خلاف ہوشیار کیا کرتے تھے۔ لیکن میرا خیال ہے طبیعیات میڈیسن سے کچھ مختلف مضمون ہے۔ اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا کہ آپ نے کس سکول سے تعلیم حاصل کی یا آپ کے کس سے مراسم ہیں ۔ فرق اس سے پڑتا ہے کہ آپ کرتے کیا ہیں۔

میں ہمیشہ اس امر میں دلچسپی لیتا تھا کہ اشیاء کام کیسے کرتی ہیں اور انہیں کھول کھول کر دیکھتا تھا کہ ان کے پرزے کیسے باہم مربوط ہیں ۔ لیکن میں ان پرزوں کو واپس جوڑنے میں اچھا نہیں تھا۔ میری عملی صلاحتیں کبھی بھی میری نظری صلاحیتوں کا مقابلہ نہ کر پائیں۔ میرے والد نے سائنس میں میری دل چسپی کی حوصلہ افزائی کی اور انہوں نے خود مجھے ریاضی تب تک پڑھائی جب تک کہ میں اس سطح تک آ گیا جو ان کی پہنچ سے باہر تھی۔ اس پس منظر کے ساتھ، اور میرے والد کی ملازمت کی نوعیت کی بناء پر، مجھے یہ قدرتی امر لگا کہ میں سائنسی تحقیق میں داخل ہو جاؤں گا۔ اپنے ابتدائی ایام میں میں ایک طرز کی سائنس کا دوسری طرز کی سائنس سے فرق نہیں کر تا تھا۔ لیکن تیرہ یا چودہ برس کی عمر سے، میں جانتا تھا کہ میں فزکس میں تحقیق کرنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ بنیادی ترین سائنس تھی۔ اور یہ سب اس کے باوصف تھا کہ سکول میں فزکس سب سے زیادہ بوریت والا مضمون تھا کیونکہ یہ بہت آسان اور بدیہی تھا۔ کیمسٹری زیادہ دلچسپ تھی کیونکہ غیر متوقع امور، جیسے (تجربہ گاہ میں) دھماکہ وغیرہ، ہوتے رہتے تھے۔ لیکن طبیعیات اور فلکیات یہ سمجھنے کی امید دلاتے تھے کہ ہم یہ جان سکیں کہ ہم کہاں سے آئے ہیں اور یہاں (یعنی اس زمین پر) کیوں آئے ہیں۔ میں کائنات میں پنہاں گہرائیوں کا ادراک چاہتا تھا۔ شاید میں کچھ حد تک کامیاب بھی ہوا ہوں، لیکن ابھی بہت کچھ ایسا ہے جو میں جاننا چاہتا ہوں۔

یہ مضمون اور زیریں مضمون اس گفتگو پر مبنی ہیں جو میں نے ستمبر 1987 میں International Motor Neurone Disease Society کے زیرِ اہتمام Zurich میں کی تھی۔ اور اس میں اگست 1991 کا لکھا ہوا مواد بھی شامل کیا گیا ہے۔

 




رقیب سے، قسط ۱، سکرپٹ از بی گل ( ریورس اینجنیئرڈ : رضی حیدر)

پیش لفظ

میں کافی عرصے سے چاہ رہا تھا کہ لالٹین پر فکشن کے زمرہ میں افسانہ اور ناولٹ کے علاوہ سکرپٹ بھی چھپیں کیونکہ ٹی وی پر نشر کیے گیے ڈراموں کے سکرپٹس کا ملنا اتنا آسان نہیں ہے سو میں نے "رقیب سے" نامی پاکستانی ڈرامے کی وڈیو دیکھ کر سکرپٹ کی صورت میں تبدیل کیا ہے۔سکرپٹ کی لکھت نہ افسانہ کی مانند ہوتی ہے نہ ناول کی مانند۔ اب سکرپٹ میں بھی ریڈیو اور ویڈیو کا سکرپٹ بہت مختلف ہوتا ہے۔ فلم یا ڈرامہ چونکہ ایک ویژول میڈیم ہے اس میں انکہی بات یعنی سکرین پلے ڈائیلاگ سے کہیں اہم ہے۔ اس کا ادراک پاکستانی ڈراموں میں عموماً ناپید نظر آتا ہے ہمارے ہاں آج تک ٹی وی پر ریڈیو کا ڈرامہ ہو رہا ہے جہاں کردار اپنے احساسات زبان زد کرتے رہتے ہیں۔ اس ڈرامہ کا انتخاب اسی بنا پر کیا گیا ہے کہ اس سکرپٹ میں ڈائیلاگ عام لوگوں کی بول چال ہے، جبکہ انکہی بات اداکاروں کی باڈی لینگویج سے ادا کی گئی ہے۔اس سکرپٹ کو دوبارہ لکھنے کامقصد خود سکرپٹ رائیٹنگ سیکھنا اور ساتھ ہی دوسروں کو سکرپٹ رائٹنگ سکھانا ہے۔ بی گل کا لکھا ہوا یہ ڈرامہ، جو ہنوز نشر کیا جا رہا ہے،کسی خوبصورت فلم سے کم نہیں جہاں متن اور ذیلی متن میں چھپےگنجلک کرداروں کے تانے بانوں کو بی گل نے بڑے زیرک انداز میں آہستہ آہستہ کھولا ہے ۔ امید کرتا ہوں جو لوگ سکرپٹ رائیٹنگ پڑھنا چاہتے ہونگے اس سے مستفید ہونگے۔
بی گل : اگر آپ کو میری یہ حرکت ناگوار گزرے تو مطلع کر دیجیے گا اور ہم یہ سکرپٹ وبسائٹ سے ہٹا دیں گے۔بہرکیف اس سکرپٹ کو میری طرف سے ایک ٹریبوٹ سمجھا جائے۔ اس گزارش کے ساتھ کہ اگر آپ اپنے سکرپٹ کا متن شیئر کرنا چاہیں تو اسے بخوشی شائع کیا جائے گا۔

https://youtu.be/jMFUH4jTIyQ

سین ا ۔
ڈیوڑھی ۔ بیرون. رات

مقصود ۵۵ ، بستر پر، مچھر دانی میں لیٹا ہے کہ دروازہ پر دستک ہوتی ہے۔ مقصود اٹھ کر ڈیوڑھی سے ہوتا ہوا دروازہ تک آتا ہے اور دروازہ کا کواڑ کھولتا ہے۔

سین ۲ ۔
گلی ۔ بیرون۔ رات
سکینہ ۴۵، جس کے چہرے پر نیل کا نشان ہے جو اس نے دوپٹے سے چھپا رکھا ہے، اپنی بیٹی امیرا ۲۰ ، جو سایہ میں کھڑی ہے، کے ساتھ دروازے پر منتظر ہے۔
مقصود: کون ؟
سکینہ : پہچانا نہیں مقصود صاحب
مقصود : کون ؟
سکینہ : میں ہوں ۔۔۔ سکینہ
سکینہ کا نام سنتے ہی مقصود رخ باختہ ہو جاتا ہے۔ اور دروازہ کے سامنے سے ہٹ کر یوں کھڑا ہو جاتا ہے کہ جیسے ان کو اندر آنے کی دعوت دے رہا ہو۔
سکینہ : اُدھر کیا کر رہی ہے امیرا؟ سلام کر مقصود صاحب کو۔
مقصود سر جھکائے کھڑا ہے جب کہ امیرا اور سکینہ اندر داخل ہوتے ہیں۔

سین ۳ .
ڈیوڑھی۔ بیرون ۔ رات

امیرا مونگ پھلی کا دانہ پھکتے غور سے مقصود کو دیکھتی ہے اور فقط سر کی جنبش سے مقصود کو سلام کرتی ہے۔ مقصود دروازہ کے کواڑ بند کرنے سے پہلے ایک نظر گلی میں ادھر ادھر دیکھ کر اطمینان کرتا ہے کہ کسی نے انہیں اندر آتے دیکھ تو نہیں لیا اور دروازہ بند کر دیتا ہے۔ وہ ڈیوڑھی سے ہوتا گھر کی طرف واپس رخ کرتا ہے تو اس کے چہرے پر تذبذب صاف ظاہر ہے۔


سین۴۔
بیٹھک۔ اندرون۔رات

دھیمی روشنی میں سکینہ اور امیرا صوفے پر بیٹھے ہیں۔ امیرا ابھی تک مونگ پھلی پھک رہی ہے جب کہ سکینہ حواس باختہ ہے۔ امیرا صوفے سے اٹھ کر بیٹھک میں پڑی چیزوں کا جائزہ لیتی ہے۔ ٹیبل پر پڑے ریڈیو کے بٹن اٹکل کرتے دباتی ہے۔
سکینہ : امیرا!
امیرا اٹکل پچو کرنے میں مگن ہے اور سکینہ کی صدا پر کان نہیں دھرتی۔
سکینہ : امیرا! تیرے ہاتھوں کی کھجلی نہیں جاتی، ادھر آ۔
امیرا کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ وہ ریڈیو کے ساتھ پڑے شیشہ کے جگ سے پانی انڈیل کر گلاس میں بھرتی ہے تو سکینہ اٹھ کر اسے زبردستی صوفے پر بٹھا کر خود بیٹھ رہتی ہے۔
امیرا پانی کا گلاس ایک ہی گھونٹ میں غٹک جاتی ہے۔

سین ۵ ۔
کچن ۔ اندرون ۔ رات

مقصود چولہے پر پتیلی چڑھائے آگ بالتا ہے تو مقصود کی بیوی ہاجرہ ۴۵، رات کے کپڑوں میں کچن میں داخل ہوتی ہے.
ہاجرہ : کیا ہوا جی، قہوہ بنانا ہے ؟ گیس ہو گئی ہو گی ۔ کیوں کھائی چنے کی دال؟ اب کیسے ہو گی ہضم؟
مقصود: ساری ماچس سیلی ہے۔ آگ ہی نہیں ہے اس میں۔
سکینہ مقصود سے ماچس کی ڈبیہ لیتے ہوئے چڑاتے ہوئے کہتی ہے
ہاجرہ : آپ میں آگ نہیں ہے جی۔
ماچس نکالتے ہی پہلی رگڑ پر ہی آگ جل جاتی ہے۔ وہ گیس کھول کر پتیلی کے نیچے آگ لگا دیتی ہے۔
ہاجرہ: دیکھا آپ نے کیسے شعلے نکلتے ہیں عورت کے پوروں میں سے۔۔۔ یہ پورے محلے کے لئے بنے گا کیا قہوا۔ پتیلی بھر کے کیوں چڑھا دی آپ نے؟
یہ کہتے کہتے ہاجرہ پانی گرانے کے لیے پتیلی چولہے سے ہٹاتی ہے۔ تو فوراً مقصود گوشزد کرتا ہے
مقصود : چائے بنا دو مہمان آئے ہیں
ہاجرہ: مہمان ؟ اس وقت ؟ ( حیرانی سے)
مقصود : ہاں تین کپ بنا دینا میں بھی پی لوں گا
ہاجرہ یہ جانتے ہوئے کہ پانی پھر بھی تین لوگوں کے لئے زیادہ ہے تھوڑا سا پانی گرا کر پتیلی واپس چولہے پر رکھ دیتی ہے۔

سین ۶ ۔
بیٹھک۔ اندرون۔ رات

امیرا ابھی تک چھیڑا چھاڑی سے باز نہیں آئی۔ اب میز پر رکھی ایک بظاہر مہنگی چینی کی مٹی سے بنی چینک کو اٹھا کر اس سے چائے گرانے کا جھوٹ موٹ ڈھونگ رچتی ہے۔ پھر ٹیبل پر رکھی آرائشی چیزوں سے کھیلتی ہے۔
سکینہ : چھڈ دے! ۔ ۔ ۔ نا چھیڑ
مقصود اس دوران دروازہ کھٹکھٹا کر اندر آتا ہے۔ سکینہ اور امیرا پر نظر ڈالے بغیر بیگ زمین پر رکھتا ہے۔
سکینہ : شکریہ
واپس جاتے جاتے رکتا ہے
مقصود : (بغیر نظر ڈالے) ہاں وہ غسل خانے میں گرم پانی آتا ہے پر تھوڑا وقت لیتا ہے۔ کچھ اور چاہیے ہو تو بتا دینا۔
سکینہ : سب ٹھیک ہے
مقصود یہ سن کر واپس چلا جاتا ہے۔ امیرا لڑکھڑاتی ہے اور میز پر پڑے ایک شیشے کہ مرتبان کو گرا دیتی ہے۔ قریب تھا کہ وہ ٹوٹ جاتا پر ایسا نہیں ہوتا۔
سکینہ : کیا کرتی ہے؟ ذلیل کرا ہر جگہ!
امیرا کے چہرے پر مبهم سی شرمندگی موجود ہے۔

سین ۷ :

ڈیوڑھی ۔ بیرون. رات
ہاجرہ کنکھیوں سے نیم وا دروازے کے کواڑوں سے جھانکتے جھانکتے پیچھے کی طرف چل رہی ہے۔ یہاں تک کہ وہ لڑکھڑاتے مجبوراً صوفے پر گر بیٹھتی ہے۔
مقصود کے برآمددے میں آنے کی آہٹ سن کر ہاجرہ مقصود کے لئے چائے ڈالنا شروع کر دیتی ہے ۔
ہاجرہ :یہ لڑکی نے چائے پی ہی نہیں جی
مقصود :ھم ۔۔۔
مقصود پریشان نظر آ رہا ہے۔ بستر پر بیٹھتا ہے۔
ہاجرہ: کل سے اندر ہی سویا کریں گے۔ اوس پڑنے لگی ہے نا۔ آپ کو نزلہ ہو جائے گا۔ اور پھر وہ سارا نزلہ ہم پر گرے گا۔ ( توقف کے بعد ) سکینہ ہے نا؟
مقصود قدرے شرمندگی سے ہاں میں سر ہلاتا ہے۔
سکینہ : ایسے ہی تو ماچس سیلی نہیں ہو گئی تھی، ہاتھ کے پسینے سے۔
مقصود اپنے ہاتھ کھول کر ان کی نمی کو دیکھتا ہے اور اپنے کپڑوں سے انھیں خشک کرتا ہے۔
ہاجرہ مسکراتے ڈیوڑھی پر مقصود کو اکیلا چھوڑ کر اپنے کمرے کو چل دیتی ہے۔

سین ۸ :
اتاقِ خواب( انشاء اور ہاجرہ کا کمرہ) ۔ اندرون ۔ رات

انشاء ۲۵ بستر پر لیٹی نیم خواب ہے۔ ہاجرہ کمرے میں داخل ہوتی ہے۔
انشاء : ( نیند کے خمار میں) کون آیا تھا؟
ہاجرہ: مہمان ہیں
انشاء: کون مہمان۔( توقف کے بعد) یہ کون سا وقت ہے کسی کے گھر آنے کا۔
ہاجرہ اسی رضائی میں، جسے انشاء اوڑے لیٹی ہے، گھس کر ، انشاء کے بغل میں دراز ہو جاتی ہے۔
ہاجرہ: مہمان کا نہ کوئی نام ہوتا ہے نہ کوئی آنے کا وقت انشاء۔
انشاء : پھر بھی کون ہیں؟
ہاجرہ: ( کروٹ بدلتے ہوئے) ہائے سو جاؤ بھئی انشاء۔ سکینہ اور اس کی لڑکی آئے ہیں۔
یہ سنتے ہی انشاء پر بجلی سی گرتی ہے اور وہ اٹھ کر بیٹھ جاتی ہے۔
انشاء: کیا؟ کون آئے ہیں ؟
ہاجرہ : ( آنکھیں بند کیے) لڑکی نے تو چائے بھی لینے سے انکار کر دیا۔ کھانا بھی نہیں کھایا اس نے۔
انشاء دمبخود ہے۔

سین ۹:

مقصود کا کمرہ۔ اندرون ۔صبح

مقصود کے نہانے کی آواز پس منظر میں آ رہی ہے. وہ شاور استعمال کر رہا ہے جب ہاجرہ کمرے میں مقصود کے استری ہوئے کپڑے لئے داخل ہوتی ہے۔ ہاجرہ انھیں بستر پر رکھ کر دراز سے جرابیں نکالتی ہے ساتھ ہی مقصود کا بیگ اٹھا کر بستر کے ساتھ ٹکاتی ہے۔ جرابیں ہاتھ میں پکڑے غسل خانے کے بند دروازے سے ہی گویا ہوتی ہے۔
ہاجرہ : پانی تھوڑا کم کھولیے جی۔ گھر میں مہمان بھی ہیں نا۔
کوئی جواب نہیں آتا پر ایک لحظے بعد ہی شاور بند ہو جاتا ہے۔ ہاجرہ شاور بند ہونے کی آواز سن کر مسکراتی ہے کہ اس کی بات کی کچھ وقعت ہے مقصود کی نظر میں۔

 

سین ۱۱ :
اتاق نہار خوری (dining room) ۔ اندرون۔ صبح

ناشتہ کے میز پر بیٹھا مقصود اخبار پڑھ رہا ہے۔ ہاجرہ ساتھ کھڑی چینک سے چائے انڈیل رہی ہے۔ ہاجرہ متوجہ ہوتی ہے کہ مقصود اس سے آنکھیں چرا رہا ہے تو ساتھ ہی مسکراتی ہے۔
ہاجرہ : آنکھیں کیوں چرا رہے ہیں جی
مقصود اس کا کوئی جواب نہیں دیتا اور اخبار کو دیکھتا رہتا ہے۔
ہاجرہ: میں نے کتنا کہا سکینہ سے کہ ہمارے ساتھ ہی ناشتہ کرو۔۔۔۔ مانی ہی نہیں ۔۔۔ بخار ہے امیرا کو اب تک۔ گئی تھی انشاء مگر اس نے تو چادر سے باہر منہ ہی نہیں نکالا۔۔۔ چکھ کر تو دیکھیے آپ کی سکینہ نے بنائیں ہیں پراٹھے۔
( ہاجرہ مختلف جملوں سے مقصود کی توجہ حاصل کرنا چاہ رہی تھی۔ آخری جملے نے آخر اثر کیا)
مقصود: زیادہ گھر میں گھسانے کی ضرورت نہیں ہے اسے۔پوچھو کیا چاہتی ہے اور چلتا کرو۔
ہاجرہ : میں کیوں پوچھوں ؟ اور میرے پوچھنے سے بتائے گی کیا؟ آپ ہی پوچھیے نا یا میرے سامنے پوچھتے شرم آ رہی ہے۔ اب میرا میکا ہوتا تو میں چلی جاتی آپ دونوں کو اکیلا چھوڑ کر پر کیا کروں۔ ( پھر شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ) کبھی بھی نہ جاتی، پاگل نہیں ہوں، جو اپنا کھونٹا چھوڑ کر چلی جاؤں گی۔ وہ تو انشاء ہے جو چھٹی کے موڈ میں تھی کہ دیکھیں آج گھر میں کیا کیا ہوتا ہے۔ ( پھر خود ہی ہنستی ہے)
مقصود اسے گھور رہا ہے۔
مقصود: ( بہت سنجیدگی سے) اسے کیا بتایا تم نے ؟ کیوں بتایا؟
ہاجرہ : ہائے جی! میں نے کیا بتانا ہے؟ اس گھر کے در و دیوار پر لکھا ہے سکینہ کا ۔۔۔۔
مقصود: اچھا بکواس نہ ۔۔

مقصود بکواس کا لفظ منہ سے نکال کر کچھ شرمندہ ہوتا ہے۔ ہاجرہ ھنوز مسکرائے جا رہی ہے۔
مقصود جیب سے پیسے نکالتا ہے اور ہاجرہ کے سامنے گن کر پھینکتا ہے۔
مقصود : کچھ کھلاؤ پلاؤ اور چلتا کرو یہاں سے
ہاجرہ : ( قدرے حیرانی سے) ہائے جی آپ تو بہت ہی کٹھور ہیں
مقصود : جو ۔۔۔ ( "کہہ دیا سو کہہ دیا" کہنا چاہتا ہے )
مقصود اپنا جملہ کہتے کہتے رک جاتا ہے کہ اس کی نظر سکینہ پر پڑتی ہے جو ہاجرہ کے پیچھے کھڑی دروازے کی اوٹ سے یہ سب سننے کے بعد بغیر آواز نکالے اتھرو بہا رہی ہے۔ اس مغموم حالت میں سکینہ کی چادر اس کے چہرے سے ہٹ جاتی ہے۔ مقصود برسوں بعد اس کا چہرا دیکھتا ہے۔ اس کے چہرے پر نیل کا نشان دیکھ کر وہ فکرمند ہو جاتا ہے۔ سکینہ مقصود کے چہرے کے بدلتے خط و خال دیکھ کر پیچھے مڑتی ہے اور سکینہ کا زخمی چہرہ دیکھتی ہے۔ سکینہ اپنے زخم کو فوراً چادر سے ڈھانپ کر اپنا چہرا دوسری طرف کر لیتی ہے۔ اسکی بے بسی اسکے چہرے سے صاف ظاہر ہے۔

سین ۱۲ :
یونیورسٹی کا باغ ۔ بیرون ۔ صبح

انشاء اور عبد الرحمن ۲۵، کسی بینچ پر بیٹھے ہیں۔ انشاء چاٹ کھا رہی ہے اور عبد الرحمن لون کا فارم بھر رہا ہے۔

انشاء :ام( چاٹ منہ میں ڈالتے ہوئے ) ۔۔۔ آج نا ویسے میرا بالکل موڈ نہیں تھا آنے کا۔۔۔ امی بھی نا ۔۔۔ ام ۔۔۔ ( عبد الرحمن کی غلطی بھانپتے ہوئے) کیپیٹل میں لکھنا تھا ۔۔۔ کیپیٹل!
عبدالرحمن : کیوں نہیں آنا تھا آج ؟ لون اپلائی کرنے کی آخری ڈیٹ ہے آج یاد ہے نا؟ یہ فارم کس نے بھروانا تھا؟
انشاء : خود بھرو ہاتھ نہیں ہیں
عبد الرحمن : نہیں میری جان تم نے بھروانا تھا ۔
انشاء : ھم۔۔۔ بس چیپ سا رومینس کروا لو سستے ڈائلوگ بلوا لو ۔۔۔ ہیں؟
عبد الرحمن: ہاں نا ( مسکراتے اور ساتھ ساتھ فارم بھرتے ہوئے )
انشاء : دونوں جگہ، دونوں جگہ۔۔۔ میں کہاں پھس گئی ہوں یار ( تنگ آ کر)
عبد الرحمن: دیکھا، یہ سب مجھے کس نے بتانا تھا۔
انشاء : ایک بات بتاؤں تم مجھے یا میرے ابو کو جج تو نہیں کرو گے ؟
عبد الرحمن : یار میں انہیں کیوں جج کروں گا
انشاء : خیر تم مجھے جج کرتے بھی رہو تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ( توقف کے بعد) ہمارے ہاں مہمان آئے ہیں۔ جن کی وجہ سے میرا موڈ نہیں ہو رہا تھا آنے کا۔
عبد الرحمن: کون آ گیا ہے بھئی؟
انشاء : (ڈرامائی انداز میں) میرے ابا کی محبوبہ
عبد الرحمن:واٹ؟ ریلی؟
انشاء ہاں میں سر ہلاتی ہے۔

سین ۱۳:
اتاق نہار خوری۔ اندروں ۔ صبح

سکینہ ڈاینگ ٹیبل پر بیٹھی ہے اور ہاجرہ اس کے زخموں پر مرہم لگا رہی ہے۔
ہاجرہ : جھٹکا لگا ہو گا اور کیا، ریل گاڑی کے غسل خانوں میں تو ویسے بھی کتنی پھسلن ہوتی ہے۔ ہم لوگ نا ایک دفعہ کراچی جا رہے تھے، ( دوسرے کمرے میں موجود مقصود سے مخاطب ہو کر ) آپ کو یاد ہے جی؟ ۔۔۔ میں پورے پیٹ سے تھی، حالانکہ میں نے تو کس کے زنجیر بھی پکڑ رکھی تھی کہ بس ایک جھٹلا لگا اور پیر پھسل گیا۔ ڈاکڑ کہتے ہیں لڑکا تھا۔ ( مقصود اتاق نهار خوری میں داخل ہوتا ہے ) میں بچ گئی وہ نہیں بچا۔ ( دوائی لگاتے ہوئے ) میری انشاء سوا سال کی تھی تب۔ سب لوگ ہمیں چھیڑتے تھے کہ دونوں میاں بیوی میں اتنی محبت ہے کہ ۹ مہینے ہوئے نہیں کہ دوسرا بچہ ( سکینہ کو مقصود اور اپنی باہمی محبت سے آگاہ کرتے ہوئے ) ۔۔۔ نظر لگا دی کمبختوں نے اس کے بعد ہوئے ہی نہیں۔
( دوا لگا چکنے کے بعد اونچا بولتے ہوئے ) اچھا جی کیا کرنا ہے اب؟ ( مقصود کو کمرے میں پا کر آہستگی سے ) او ۔۔۔ انجیکشن لگے گا نا؟

سین ۱۴ :
یونیورسٹی کا باغ ۔ بیرون ۔ دن

انشاء : بچپن سے ایک ہی کہانی سنایا کرتی تھی امی، سکینہ کی کہانی۔ دریا کے پاس ایک گاؤں تھا وہاں بوریاں بھر بھر کر فصلیں اگا کرتی تھیں۔ وہاں رہتی تھی سکینہ، پکی ہوئی گندم کے سینے جیسا رنگ تھا سکینہ کا۔ دریا پر جب سورج ڈوبتا تھا تو سارا آسمان گلابی ہو جاتا تھا۔

سین ۱۵ :
اتاق نہار خوری۔ اندروں ۔ صبح

( ہاجرہ مقصود کے ٹیکا لگانے کے لئے بلاتی ہے اور خود کمرے سے چلی جاتی ہے۔ مقصود کچھ کہنے سے ہچکچا رہا ہے۔ تبھی سکینہ قمیض کی آستینیں چڑھاتی ہے، مقصود سکینہ کے بازو پر سگریٹ کے نشان دیکھ کر پریشان ہو جاتا ہے۔)
انشاء: ( وائس اوور جاری ہے) بس ویسے ہی گال تھے سکینہ کے۔ دریا کے پانی کی طرح ٹھاٹھیں مارتی صاف شفاف آنکھیں۔ عصر کے بعد جو گاؤں کی چکی ہوکتی تھی تبھی آخری ریل گاؤں کے سامنے سے چھک چھک کرتی گزرتی۔ گندم کے کھیتوں کے پاس، دریا کے ساتھ، تب تندور تاپتی سکینہ کی سانسیں بھی تپنے لگتیں۔ کیا پتا وہ آج کی ریل سے ہی آ جائے۔

سین ۱۶ :
یونیورسٹی کا باغ ۔ بیرون ۔ صبح

ریت مین لت پت، کھیتوں کے بیچوں بیچ، پاگلوں کی طرح بھاگتے ہوئے سکینہ تک پہنچتے اور پوچھتے، ارے تو نے تو لکھا تھا تو بیمار ہے مرنے والی ہے۔
عبدالرحمن : ( مسکراتے ہوئے) واہ یار کیا لو سٹوری ہے یہ تو

سین ۱۷ :
اتاق نہار خوری۔ اندروں ۔ صبح

سکینہ : بس پتا ہی نہیں چلا، ایک جھٹکا لگا اور میں پھسل گئی۔ نشان ہی زیادہ آ گئے ہیں مقصود صاحب، ورنہ چوٹ اتنی نہیں آئی۔
مقصود : ( چیزیں واپس رکھتے ہوئے، اور ہاجرہ کو جو شاید باورچی خانہ میں ہے ) ہاجرہ ! ہاجرہ! (ہاجرہ کمرے میں واپس داخل ہوتی ہے)دیکھو اور کہاں کہاں چوٹیں آئی ہیں۔
سکینہ : بس یہیں پر اور کہیں نہیں آئیں

مقصود: ( غصے میں ) کس چیز سے مارا ہے اس نے ؟ ھم؟ صرف بازو پر سگریٹ لگاتا رہا یا کہیں ۔۔۔ (ہاجرہ سے مخاطب ہو کر ) دودھ میں ہلدی ڈال کر پلاؤ اسے، اور انشاء سے کہنا اس لڑکی کو دکھا کے آئے۔ کوئی پین کلر ہو تو دو۔

یہ کہہ کر مقصود کمرے سے باہر نکل جاتا ہے ۔

سین ۱۸ :
یونیورسٹی کا باغ ۔ بیرون ۔ صبح

عبدل موٹر سائیکل پر بیٹھا کک مار رہا ہے۔
انشاء : اتنی جھوٹی کہانیاں کیوں سناتے ہیں بچوں کا دل بہلانے کے لیے ۔۔۔ نہیں چلے گی، سپارک ہی نہیں ہے پلگ میں، دیکھو ، چیک کرو
عبدل: ( نیچے جھک کر پلگ دیکھتے ہوئے) ارے یار یہ تو واقعی فارغ ہو گیا ہے ۔
انشاء : ھم ---
عبدل : اب کیا کریں
انشاء: اب تو تم مجھ سے شادی کرو ، سارے مسئلہ حل ہو جائیں گے۔ تمھیں لون بھی مل جائے گا، تمھارا پلگ بھی چارج ہو جائے گا۔ اور تمھارے فرج میں تازا کھانا بھی ہو گا باسی کے بجائے ۔
عبدل : یہ کہانی تو لفظ بہ لفظ سچی ہے خدا کی قسم۔ ایک دفعہ ہماری شادی ہو جائے نا تو سارے مسئلہ ٹھیک ہو جاہیں گے۔
انشاء : انشاء اللہ
عبدل: بینک سے لون بھی مل جائے گا، یہ پھٹیچر بائک ہواؤں میں اڑنے لگے گی اور میں تمھارے لئے سپیشل قورمے اور زردہ پکاؤں گا۔
انشاء اور عبدل خراب بائیک کے ساتھ چلتے جا رہے ہیں۔

سین ۱۹:
اتاق نہار خوری۔ اندروں ۔ دن

سکینہ صوفہ پر بیٹھی ہے اور ہاجرہ اس کی کمر پر بنا گہرا زخم دیکھ رہی ہے۔
ہاجرہ : بھئی کیوں مار کھاتی رہیں اس کی ایک دیتیں نا پلٹ کہ تو پتا چلتا اسے۔

 سکینہ : وہاں رواج ہی نہیں ہے جی
ہاجرہ ناشتہ کا سامان سمیٹتی ہے۔ اور ساتھ ساتھ سکینہ سے مخاطب ہے۔
ہاجرہ: ارے تمھاری چمڑی ادھیڑ دی تمھارے شوہر نے تمھیں مار مار کے، اس کا رواج ہے؟ اور کرو اس آدمی سے شادی۔ کر لیتیں نہ مقصود سے مزہ میں رہتیں۔ آج تک اونچی آواز میں بات نہیں کی انھوں نے مجھ سے، سو سکھ دیے ہیں۔ منہ سے بعد میں نکالتی ہوں پوری پہلے ہو جاتی ہے۔ جو بھی کماتے ہیں سیدھا میری ہتھیلی میں رکھتے ہیں۔ ذرا سا درد ہو جائے سر میں ایسے پریشان ہو جاتے ہیں جیسے پتا نہیں کیا ہو گیا۔
سکینہ : بڑی خوش نصیب ہو جی آپ، میرے ہی نصیب کالے ہیں۔
ہاجرہ : خود ہی کالے سفید کیے ہیں تم نے سکینہ۔ پہلے اپنے ہاتھوں اپنی قسمت برباد کی، اب اسے کوس رہی ہو۔ اب کیا فائدہ۔
سکینہ : چلی جاؤں گی میں، زیادہ دیر نہیں رہوں گی۔ جوں ہی کوئی بندوبست ہو جائے گا نا، چلی جاؤں گی۔
ہاجرہ : چلی جانا، زخم بھر جائیں، چلی جانا

سین ۲۰ :
باورچی خانہ ۔ اندرون ۔ دن

انشاء فریج سے پانی نکال رہی ہے کہ ہاجرہ اندر داخل ہوتی ہے۔
ہاجرہ : ارے تم کب آئیں۔
انشاء : کیا بات ہے بڑا بہناپا چل رہا تھا۔
ہاجرہ : (برتن دھوتے ہوئے) ذرا امیرا کو، تمھارے ابو کہہ کر گئے ہیں، دیکھ لو، اسے ڈاکٹر کو دکھانا ہے۔
انشاء: ہاں، آ گیا تھا مجھے "مقصود صاحب" کا فون۔ رکشہ لے کر آئی ہوں۔
ہاجرہ: بھوکی پیاسی، چادر میں منہ دیے، گٹھڑی سی بنی پڑی ہے بیچاری۔
انشاء: تو کیا کروں، رکشہ بھجوا کر ایمبیولینس منگوا لوں۔
ہاجرہ : کیا بےحسی ہے انشاء، دکھی ماں بیٹی ہیں بیچاری۔
انشاء: میری بات مانیں، ان کو زیادہ فری کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ ہی اوور ہونے کی ضرورت ہے، یہ نا ہو کل کو آپ کے لئے ایمبولینس بلوانی پڑ جائے۔
ہاجرہ: اچھا آہستہ بولو سن لیا سکینہ نے تو؟
انشاء: ارے تو کیا ہو گیا؟ یہ وہی سکنیہ ہے جس کے عشق میں مبتلا ہو کہ ابو نے آپکو زندگی بھر نہیں دیکھا۔ اپنے آپ کو دیکھیں، ان کو دیکھیں، کوئی comparison ہے ؟ اتنی دھماکے دار love story کی اتنا پھسپھسا ending۔ !how boring
ہاجرہ : مار مار کر چمٹی ہی ادھیڑ دی ہے اس کی۔ پوری پیٹھ پر چوٹوں کے نشان ہیں پتا ہے؟ جگہ جگہ سگریٹ بھجائے ہوئے ہیں۔ پتا نہیں کیا کیا سہتی رہی ہے بیچاری۔ بھاگ کیسے آئی یہ پتا نہیں۔
انشاء : ( اچمبے سے) بھاگ آئی ؟ ( قریب آ کر) پولیس کیس ہوجائے گا۔ ان کی دوا دارو کرائیں اور چلتا کرائیں۔ بہت سارے دارالامان ہیں اس شہر میں۔
ہاجرہ: بے کار باتیں مت کرو۔ جا کے امیرا کو دیکھو تم ۔
انشاء: ارے یار امی آپکی سمجھ ہی نہیں آتی مجھے، کس طرح کی عورت ہیں آپ۔ آپ کی جگہ کوئی اور عورت ہوتی اتنا چیختی، ہنگامہ کرتی۔
ہاجرہ: ہیں؟ کیوں بھئی؟ بیچ رات میں دکھی، بیمار، زخمی ماں بیٹی ہمارے دروازے پر آئیں گے اور میں ہنگامہ کروں گی، یہ کرنا چاہیے تھا مجھے؟
انشاء : آپ کو insecure ہونا چائیے تھا۔ اگر نہیں ہو پا رہی ہیں تو چلیں میرے ساتھ ڈاکٹر کے پاس
ہاجرہ: جا کے امیرا کو دیکھو !
ہاجرہ سر جھٹک کر اپنی برہمی کا اظہار کرتی ہے۔
انشاء : چائے رکھی ہوئی ہے میں نے !
ہاجرہ: دیکھ رہی ہوں
ہاجرہ غصے سے برتن دھوتی جاتی ہے۔

سین ۲۱ :
مہمان خانہ۔ اندرون۔ دن

امیرا سر پر چادر ڈالے سونے کا ڈھونگ رچا رہی ہے۔ امیرا اس کے سر پر کھڑی ہے۔
انشاء : میں سچ کہہ رہی ہوں، بہت آرام سے کہہ رہی ہوں۔ ابو جی آ گئے تو ہاتھ پاؤں باندھ کر لے جائیں گے ڈاکٹر کے پاس۔ پھر تمھاری مرضی ہے تم جیسے چلنا چاہو۔
امیرا منہ سے چادر ہٹاتی ہے۔ انشا اس کے ڈھونگ کو بھانپتے ہوئے، ڈھونگ میں شامل ہو جاتی ہے۔
انشاء : پڑی رہو۔ رکشہ واپس کروا دیتی ہوں۔ اب مقصود صاحب جانے یا تم۔
امیرا کا ہارا ہوا چہرا دیکھتی ہے تو فوراً گویا ہوتی ہے
انشاء: ابھی گھنٹا نا لگا دینا تیار ہونے میں۔ باہر رکشہ کا کرایہ بن رہا ہے اور مقصود صاحب ایک ایک پائی کا حساب لیتے ہیں۔
امیرا انشاء کے کمرے سے جانے کا انتظار کرتی ہے اور تب تک مسکین بنی رہتی ہے۔ اس کے کمرے سے نکلنے پر پیچھے مڑ کر دیکھتی ہے اور ایک توقف کے بعد اٹھ بیٹھتی ہے۔ چادر لپیٹ کر، جوتیاں پہن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔

سین ۲۲:
ڈیوڑھی۔ بیرون۔ سہ پہر

ہاجرہ گملوں میں لگے پھلوں کی نوک پلک درست کر رہی ہے۔
سکینہ :۔ ہاجرہ جی، سویرا ہی بڑی جلدی ہو جاتا ہے گاؤں میں، سویرا ہونے سے پہلے ہی اٹھ جاتے ہیں لوگ۔ جانور ہی نہیں سونے دیتے۔ سو سکھ ہیں نا تو سو دکھ بھی ہیں جانوروں کے۔
ہاجرہ: ( محظوظ ہو کر) تم سنبھالتی ہو جانوروں کو۔
سکینہ: ہاں جی، میں نے ہی سنبھالنے ہیں نا جی۔ بھوری سون والی تھی۔ پتا نہیں کس حال میں ہو گی۔
ہاجرہ : ( سوالیا نظروں سے) بھوری؟
سکینہ : بھینس ہے میری۔ میرے جہیز میں آئی تھی۔ ذرا سی کٹی تھی نا۔ اب تو ماشا اللہ سون والی ہے۔ میرے بچوں جیسی ہے۔ اکیلا چھوڑ آئی ہوں میں اسے۔ پتا نہیں کس حال میں ہو گی۔
ہاجرہ: ارے اچھا کیا جو آ گئیں۔ابھی بھی دیر لگائی ہے تم نے۔ ایک بار اور مارتا نا تو ۔۔۔
سکینہ: نہیں نہیں، اب نی مارتا
ہاجرہ: نہیں مارتا؟
سکینہ : نہیں ( ہارے ہوئے لہجے میں )
ہاجرہ: ( اس کے چہرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) تو یہ کس نے مارا؟
سکینہ: یہ تو جی، گھر میں لڑائی پڑ گئی تھی تو لگ گئی مجھے، اینویں ہی۔ اب نی مارتا، اب اس نے مجھے مارنا چھوڑ دیا ہے۔ پہلے مارتا تھا مجھے، جب پیار کرتا تھا، اب کسی ہور سے پیار کرتا ہے۔
مقصود ڈیوڑھی میں اپنا سامان لئے نمودار ہو جاتا ہے۔( وہ دفتر سے واپس آیا ہے)
ہاجرہ : سن لیں ذرا اس کی باتیں آپ
سکینہ مقصود کی موجودگی کا ادراک کرتے ہی سر پر دوپٹہ رکھ لیتی ہے۔
ہاجرہ : ( بیگ لیتے ہوئے ) یہ سکینہ تو بالکل ہی پاگل ہے جی۔ ہاجرہ بیگ رکھنے گھر کے اندر چلی جاتی ہے۔ ایک لمحے کو سکینہ اور مقصود ڈیوڑھی میں اکیلے ہیں۔
سکینہ : ( سر پر پلو لئے، سر جھکائے ہوئے) ہاجرہ جی کتنی اچھی ہیں۔ کتنی پیار سے باتیں کرتی ہیں۔ ( اس کا جملہ ابھی ختم نہیں ہوا کہ مقصود اندر کو چل دیتا ہے) کتنے خوش قسمت ہیں ۔۔۔ ( سر اٹھا کر مقصود کو دیکھتی ہے، جو سکینہ کی طرف پشت کیے اندر جا رہا ہے) ۔۔۔ آپ
سکینہ سر جھکا لیتی ہے۔

سین ۲۳ :
گھر کے باہر، گلی ۔ بیرون۔ عصر

امیرا اور انشاٰ کا رکشہ رکتا ہے۔
انشاء : بس بس بس
انشاء باہر نکلتی ہے
انشاء : کتنے ہوئے بھائی
رکشہ والا : باجی تین سو
انشا: جیسے مجھے تو پتا ہی نہیں ہے کہ کتنے بنتے ہیں یہاں تک۔ ( سر جھٹکتے ہوئے پیسے نکالتی ہے) اتنے بنتے ہیں، رکھنے ہیں تو رکھ لو، نہیں تو واپس لے لیتی ہوں۔ ٰ
رکشہ والا خاموشی سے پیسے رکھ لیتا ہے۔
انشاء: تم اندر دبک کے بیٹھی ہو، ڈولی آئے گی تمھیں لینے؟ اترو! امیرا خاموشی سے رکشہ سے باہر نکلتی ہے۔ اپنا پلو سنبھالتے ہوئے رکشہ کے سامنے سے ہو کر اندر کو جانے لگتی ہے کہ رکشہ والا اپنا رکشہ سٹارٹ کر کے امیرا کہ بہت قریب سے گزرتا ہے۔
امیرا : اوے کی کر ریاں ہیں؟
امیرا رکشہ والے پر اونچی آواز میں پھنکارتی ہے۔
انشاء: واہ! اب تو بڑی آواز نکل رہی ہے۔ وہاں تو گونگوں کی طرح بیٹھی ہوئیں تھیں۔ انشاء سر جھٹکتے ہوئے گھر میں داخل ہوتی ہے۔

سین ۲۴ : اتاق خواب، بیرون، عصر 
مقصود اپنی گھڑی اور انگوٹھی اتار رہا ہے۔ جب کہ ہاجرہ پانی لے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتی ہے۔  
ہاجرہ : بڑی مزے کی باتیں کرتی ہے "آپکی" سکینہ۔آپ کے سامنے ہی کچھ ہو جاتا ہے اسے۔ میں بھی سنتی رہی چپ چاپ۔ (مقصود پیسے گن کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتا ہے۔) دل بہل جائے گا اس کا۔ دھیان بٹا رہے گا اسکا۔ 
مقصود: ارے نہ اس کا دھیان بٹانے کی ضرورت ہے نہ اس کا دل لگانے کی ضرورت ہے۔ 
ہاجرہ مقصود کے شام کے کپڑے الماری سے نکال رہی ہے۔

 ہاجرہ: کیوں؟

مقصود: کیوں کہ میں جو کہہ رہا ہوں

ہاجرہ: آپ دونوں باپ بیٹی کے دل سے تو خوف خدا ہی مٹ گیا ہے۔ کوئی غیر بھی آ جائے تو آدمی ایسی بدسلوکی نہیں کرتا۔(کپڑے بستر پر رکھتے ہوئے) یہ تو پھر سکینہ ہے۔ 

مقصود: (جرابیں اتارتے ہوئے) اسی لئے تو کہہ رہا ہوں، کیوں کہ وہ سکینہ ہے۔

 ہاجرہ: بس اتنی ہی ہوتی ہے مرد کی محبت۔ چند سال گزرے نہیں، اور ختم۔ 

مقصود: ہاں اتنی ہی ہوتی ہے ہماری محبت، جو گزر گیا سو گزر گیا۔

 
ہاجرہ اس دوران پانی کا گلاس جو ابھی تک بھرا پڑا ہے ڈریسنگ ٹیبل سے اٹھا کر مقصود کو دیتی ہے۔ مقصود پانی پی رہا ہے۔ 

ہاجرہ: ڈرتے ہیں آپ! 

پانی کا خالی گلاس واپس ہاجرہ کو پکڑاتے اسے گھورتا ہے 

مقصود: میں کیوں ڈروں گا اس سے۔

ہاجرہ: سنیے! اپنے آپ سے ڈرتے ہیں۔ کوئی ہمارے بیچ آ جائے اس سے ڈرتے ہیں آپ۔ ( مقصود جواب دیے بغیر بستر پر پڑے اپنے کپڑے اٹھاتا ہے۔ ) اب سکینہ سے کیا ڈرنا وہ تو ہمیشہ سے تھی۔ اور رہے گی۔ 

ہاجرہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھتی ہے جیسے مقصود کے دل کے بھیتر دیکھ سکتی ہو۔ مقصود کھسیانا ہو کر ادھر ادھر دیکھتا ہے۔ ہاجرہ اسی مسکراہٹ سے مقصود کے جوتے اٹھا کر کنارے پر اور وہاں سے جوتیاں اٹھا کر مقصود کے سامنے رکھتی ہے اور کمرے سے باہر نکل جاتی ہے۔

سین ۲۴ : 
اتاق نہار خوری، اندرون، رات 

انشاء برتن لگا رہی ہے۔ مقصود صوفے پر بیٹھا ہے۔

مقصود: کیا کہا ڈاکٹر نے ؟

انشاء : یہی کہ پٹی بدلوانے کے لئے جانا پڑے گا۔ دوائی دے دی ہے۔

 مقصود: اور زخم کیسے ہیں

انشاء: ویسے ہی ہیں جیسے سکینہ جی کے ہیں۔ پیٹھ پر ہیں۔ شاید گہرے ہیں۔

مقصود: ہم۔۔۔

انشاء: امیرا نے کچھ کہا ہی نہیں۔اچھا ہی ہے نہیں کہا۔ ایسا لگتا ہے کسی نے بہت بےرحمی سے جلتی ہوئی لکڑی سے مارا ہے۔ وہ لوگ نمبر مانگ رہے تھے، وہ بھی غلط دے کر آئی ہوں۔ ڈاکٹر تفتیش کرنا چاہ رہا تھا۔ اب جائیں گے تو وہ شاید پولیس بلا لیں۔
ہاجرہ سالن کا ڈونگا لئے اتاق نہار خوری میں داخل ہوتی ہے۔

 ہاجرہ: امیرا کہاں ہے۔  بلاو اسے آ جاو بس۔

سکینہ گرم گرم روٹی لا رہی ہے۔

مقصود: یہ ذرا سکینہ کو میرے کمرے میں لے کر آو۔

 مقصود ( غصہ میں ) یہ کہتے ہوئے صوفہ سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چل دیتا ہے۔

 ہاجرہ: (اس کے چلے جانے پر) دیکھو ذرا، کیسے رعب جھاڑ رہے ہیں سکینہ کو دیکھانے کے لئے۔ ( سکینہ سے مخاطب ہو کر) رکھو جی روٹی۔ چلیں۔ 

سین ۲۵ :

اتاق خواب، اندرون، رات

 مقصود اپنی عینک کا لپٹا ہوا تاگا کھول رہا ہے تاکہ عینک پہن سکے۔ ہاجرہ  آگے آگے کمرے میں داخل ہوتی ہے۔ سکینہ اس کے پیچھے ہے پر کمرے میں گھستے رک جاتی ہے۔ 

ہاجرہ : آوٴ، آ جاوٴ ، تمہارے مقصود صاحب کا کمرہ ہے، آوٴ آوٴ ۔ سکینہ اندر آ جاتی ہے، ہاجرہ اسے چمکار رہی ہے۔ 

مقصود: کب سے چل رہا ہے یہ سب

سکینہ : برا آدمی نہیں ہے رفیق مقصود صاحب، دل کا برا نہیں ہے، جنگلی ہے ذرا۔ کبھی کبھی زیادہ غصہ آ جاتا ہے اس کو۔ دوستوں کے ساتھ جاتا ہے، کبھی کبھی پی پلا لیتا ہے، پھر اس کا ہاتھ اٹھ جاتا ہے۔ ورنہ دل کا برا نہیں ہے۔ 

مقصود پھنکارتے ہوئے  سرعت سے سکینہ کے طرف بڑھتا ہے کہ سکینہ جھینپ جاتی ہے۔ 

مقصود : ارے مار مار کر امیرا کو زخمی کر دیا اس نے کہ بخار نہیں اتر رہا اس کا۔ اور تمھارے جسم پر تو ویسے ہی نئے زخموں کی جگہ نہیں ہے۔ کیونکہ پرانے ہی اتنے زیادہ ہیں

ہاجرہ: کیا کر رہے ہیں جی۔ ڈانٹ کیوں رہے ہیں اس بیچاری کو اس دوران سکینہ ڈر سے سسکیاں لینا شروع کر دیتی ہے۔ 

مقصود: ارے خود تو سہہ رہی ہے سو سہہ رہی ہے پر ۔۔۔ 
سکینہ: (روہانسی ہو کر، مگر اونچی آواز میں، قدرے غصہ کے ساتھ ) اسی لئے آئی تھی میں مقصود صاحب، اسی لئے آئی تھی میں۔ اس رات باہر سے آیا تھا وہ۔ روٹی بنانے کو اس نے بولا ۔۔۔ 

 

سین ۲۶ : 
مہمان خانہ ۔ اندرون ۔ رات

 امیرا : روٹی تھوڑی جل گئی تھی مجھ سے تو غصہ آ گیا ان کو۔ جلتی لکڑی اٹھا کر ۔۔۔ 

سین ۲۷ : 
اتاق خواب، اندرون، رات 

مقصود دور صوفہ پر بیٹھا ہے اور ہاجرہ اور سکینہ بستر پر۔ ہاجرہ سکینہ کو دلاسہ دے رہی ہے۔ 
سکینہ : (روہانسی ہو کر، دھیمے لہجہ میں) وہ تو شکر ہے امیرا نے سوتی کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ آگ لگ جانی تھی نی تو۔ میں اندر گئی ہوئی تھی بھوری کو دیکھنے۔باہر اوس پڑتی ہے نا۔ 

سین ۲۸ : مہمان خانہ۔ اندرون۔ رات 
امیرا : پھر نیل گھول کر لگایا تھا اماں نے ، جدھر جل گیا تھا۔ پھر رات میں جب ابا سو گیا تو اماں نے کہا چل امیرا، مقصود صاحب کے پاس چلتے ہیں۔

سین ۲۹ : اتاق خواب ۔ اندرون ۔ رات 
سکینہ : (روتے ہوئے) کوئی میری بیٹی کو مارے مجھ سے برداشت نہیں ہوتا ہاجرہ باجی۔ نہیں ہوتا میرے سے برداشت۔ ٰ(مقصود سے مخاطب ہو کر ) مقصود صاحب اس کو کچھ دن کے لئے اپنے پاس رکھ لیں۔ ایک دفعہ بھوری سو گئی نا میں سارے پیسے لا کہ آپ کو دے دوں گی۔ پر اب اس گھر میں نہیں رہے گی یہ۔ گاوں سے اس کا واسطہ ختم۔ اسکو آپ کے پاس چھوڑنے آئی ہوں مقصود صاحب۔ اس کو آپ کے پاس چھوڑنے آئی ہوں۔

ہاجرہ: اور تم؟

سکینہ: میں چلی جاوں گی۔ میرا گھر ہے نا! میرا تو گھر ہے ادھر، میں چلی جاوں گی۔ میں رفیق کو کچھ سچ جھوٹ کہہ دوں گی۔ اسے کیا پتا لگنا ہے۔ میں چلی جاوں گی۔ 

ہاجرہ مقصود کی طرف دیکھ کر اس کے فیصلے کے انتظار کر رہی ہے۔

سین ۳۰ : 

مہمان خانہ۔ اندرون۔ رات 
امیرا: پتا لگ گیا ہو گا اب تک ابّے کو۔ ( ایک توقف کے بعد) پہلے بھی اماں جب چولہے پر دودھ رکھ کر بھول جاتی تھی تو ابا یہی کہتا تھا ۔۔۔ کیوں؟ یاد آ رہی ہے اپنے یار، مقصود صاحب کی؟

سین ۳۱ : ڈیوڑھی  ۔ بیرون ۔ رات
ہاجرہ مقصود کے بستر کی شکنیں ٹھیک کر رہی ہے۔  ( سکینہ وہاں موجود نہیں)
ہاجرہ: کوئی خدا کا خوف ہی نہیں ہے۔ بیوی ہے یا غلام ہے۔ اور نبی جی تو غلاموں سے کتنا پیار سے بات کرتےتھے۔  ( بستر پر مچھر دانی لگاتے ہوئے) یہ رفیق تو مجھے کوئی بڑا ہی بدمعاش معلوم ہوتا ہے جی۔ اپنی اولاد سے ایسا سلوک ایسا ظلم۔توبہ۔ بیچاری امیرا، وہ بچی۔ حد ہے بھئی۔ سب ہوتے ہی قسمت کے کھیل ہیں۔ بد نصیب ہے سکینہ اور کیا۔ ورنہ آرام سے میری جگہ جی رہی ہوتی۔( ہاجرہ پانی لا کر مقصود کو تھماتی ہے) میں تو کہتی ہوں جی خدا میری انشاء کے نصیب اچھے کرے۔اور باہر نہ سویا کریں۔ شبنم پڑنے لگی ہے۔ مجھے تو لگ رہا ہے مینھ پڑے گا۔اندر ہی سویا کریں۔ 
ہاجرہ اٹھ کر جانے لگتی ہے کہ مقصود مسسلسل خاموشی کے بعد گویا ہوتا ہے۔

مقصود : یہ دونوں یہاں نہیں رہیں گی، فیصلہ کر لیا ہے میں نے۔ 
ہاجرہ : کیوں؟ کہاں جائیں گی؟

مقصود: میرا مسئلہ نہیں ہےیہ 

ہاجرہ: کیا کہہ رہے ہیں جی؟ساری دنیا کو چھوڑ کر۔۔۔ 

مقصود : ساری دنیا کی خاطر ہی تو چھوڑا تھا اس نے مجھے

ہاجرہ: تو؟ بیس برس پرانہ بدلہ لیں گے اس سے

 مقصود: ہاں لوں گا بدلہ میں

امیرا جو یہ سب پس منظر میں سن رہی ہوتی ہے پھنکارتی ہے

 امیرا: اچھا جی، اور کون کون بدلہ لے گا، ہاں؟ بیس سال سے جو میرا ابا میری اماں سے بدلہ لے رہا ہے، اس کا حساب کون سے گا مقصود صاحب؟ وہ تو پہلے دیں۔ دن میں دس بار نا آپ کے نام کا طعنہ سنتی ہے وہ۔ اور ہفتہ میں بیس بار وہ آپ کے نام کی مار کھاتی ہے۔ اچھے کپڑے پہن لے نا کسی دن، میرا ابّا طعنہ دیتا ہے۔ بولتا ہے کیوں تیرا عاشق آ رہا ہے؟ اور جب گندے کپڑے پہنے تو تب بھی طعنہ دیتا ہے۔ بولتا ہے کیوں؟ اپنے مقصود صاحب کی یاد آ رہی ہے؟ اور ماں کھا کر میری ماں بیچاری روتی ہے نا تو اپنے جلتے ہوئے سگریٹ اس کے ہاتھ میں بھجاتا ہے ۔۔۔ یہاں۔ 
سکینہ بھی ڈیوڑھی میں آ جاتی ہے

سکینہ : چپ کر جا ۔ چپ کر جا امیرا (جو غصہ میں بگولہ ہو رہی ہے چپ نہیں کرتی)

امیرا : (جاری) اور کتنا بدلہ لیں گے میری اماں سے ؟ ( سکینہ اس کے منہ پر ہاتھ رکھتی ہے جسے امیرا فوراً جھٹک دیتی ہے) اپنی سکینہ سے اور کتنا بدلہ لیں گے آپ مقصود صاحب؟ میرے ابّا نے کبھی خوش نہیں رکھا ۔۔۔ سکینہ اس کے منہ پر زور سے ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے دکھیل لیتی ہے۔ 

سکینہ : چپ کر ۔ چپ کر 

امیرا : نہیں اماں بہت ہو گیا۔
انشا یہ سب ماجرا پس منظر میں دیکھ کر ہکابکا ہے۔ مقصود اپنے عینک کے تاگے کو مروڑتے بہت گہری سوچ میں ہے۔ 

 
 



نجمِ اسود اور ننھی کائناتیں: قسط نمبر 1 (پیش لفظ)

عرضِ مترجم: اسٹیفن ہاکنگ کی کتاب 'وقت کی مختصر تاریخ' کا اردو ترجمہ محترم ناظر محمود صاحب، علیم احمد صاحب، یاسر جواد صاحب اور دیگر احباب نے اپنی اپنی جگہ نہایت ہنر مندی اور سلیقے سے کیا ہے، مزید برآں ہاکنگ کی تازہ ترین کتاب "بڑے سوالوں کے مختصر جواب" کا ترجمہ بھی حال ہی میں شائع ہو چکا ہے۔ تاہم ہاکنگ کی نہایت اہم اور طویل عرصہ تک  نیو یارک ٹائمز بیسٹ سیلر  رہنے والی کتاب Black Holes and Baby Universe  کا ترجمہ ان نامور مترجمین کی جانب سے ہنوز نہیں کیا گیا، اور یہ اعزاز لالٹین ڈاٹ پی کے کے حصے میں آ رہا ہے  جو نہ صرف  باعثِ فخر ہے بلکہ سائنسی کتب کے تراجم کی دم توڑتی روایت کو از سرِ نو زندہ کرنے کی  ایک شاندار کاوش  بھی،جو ہر لحاظ سے قابلِ تحسین ہے۔ احباب سے درخواست ہے کہ ہاکنگ کی اس شاندار تحریر کو زیادہ سے زیادہ احباب بالخصوص سائنس کے طلباء کو مطالعے کے لئے تجویز فرمائیں۔

کتاب چودہ ابواب پر مشتمل ہے۔ جنہیں ادارہ ہفتہ وار شائع کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔ط ع

 


پیش لفظ

از اسٹیفن ہاکنگ

 

یہ کتاب اُن مضامین کا مجموعہ ہے جو میں نے1976 اور 1992 کے درمیان (مختلف اوقات میں)  لکھے۔ ۔ ان مضامین کا دائرۂ کار خود نوشتہ خاکوں اور فلسفۂ سائنس سے لے کر اپنے اس جوش و ولولے کو بصراحت بیان کرنے کی کوشش ہے جو میں سائنس اور کائنات کے متعلق محسوس کرتا ہوں۔ کتاب کا اختتامیہ Desert Island Discs نام کےپروگرام کا تحریری قالب ہے جس میں مجھے مدعو کیا گیا۔ یہ برطانوی ٹیلی ویژن  انڈسٹری میں اپنی نوعیت کا ایک انوکھا پروگرام ہے جس میں مہمان سے کہا جاتا ہے کہ وہ خود کو ایک صحرائی جزیرے میں خستہ حال بھٹکتا ہوا تصور کرے، اور پھر آٹھ میں سے کسی ایک ریکارڈ کا انتخاب کرے جو وہ rescue کئے جانے تک (مسلسل) سنے گا۔ (خوش قسمتی سے مجھے صحرا سے واپس آنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔)

چونکہ یہ مضامین سولہ برس کے (طویل) دورانیے کو محیط ہیں لہذا یہ اس عرصے میں میری علمیت کی بتدریج ترقی کے عکاس بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے مضمون تحریر کرنے کی تاریخ اور جگہ، ہر مضمون کے اختتام پر درج کی ہیں۔ چونکہ  کتاب کا کوئی بھی مضمون دوسرے سے متصل نہیں ہے، لہذاٰ کچھ نہ کچھ باتوں کا اعادہ  یقینی ہے۔(اگرچہ) میں نے (حتی المقدور) کوشش کی ہے کہ ایسا نہ ہو، اس کے باوصف کچھ جگہوں پر   repetition دیکھنے میں آئے گی۔

کتاب کے اکثر مضامین کا خاکہ کچھ یوں تھا کہ یہ پڑھ کر سنائے گئے تھے۔ (لیکن) میری آواز اس قدر غیر واضح ہوتی تھی  کہ  بالعموم مجھے سیمینار اور خطابات اپنے  محقق (researcher) طالب علم کی مدد سے دینا پڑتے تھے۔ ، ایسا طالب علم جو مجھے سمجھ سکتا تھا اور میری لکھی ہوئی تحریر بھی پڑھ سکتا تھا۔ تاہم 1985 میں میرا وہ آپریشن ہوا جس سے میری قوتِ گویائی مکمل طور پر سلب ہو گئی۔ کچھ وقت کیلئے تو میرے پاس  کسی بھی قسم  کی گفتگو کا ذریعہ نہیں تھا۔ بالآخر مجھے ایک کمپیوٹر سسٹم  اور ایک نادر قسم کا speech synthesizer دیا گیا۔  مجھے (از حد) حیرت ہوئی کہ ( اس کی مدد سے)میں ایک کامیاب پبلک سپیکر بن سکتا  تھا، اور بہت سے سامعین سے بیک وقت مخاطب بھی ہو سکتا تھا۔ مجھے سائنسی امور کی وضاحت کرنے اور سوال و جواب سے لطف حاصل ہوتا ہے۔  میں جانتا ہوں کہ مجھے اس میں (سائنسی امور کی وضاحت اور سوالات کے جوابات دینے میں) بہتری لانے کیلئے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے، لیکن میرا خیال ہے مجھ میں بہتری آبھی رہی ہے۔  آپ  اس بارے میں فیصلہ آئندہ صفحات کو پڑھ کر از خود کر سکتے ہیں

میں اس نظریے سے متفق نہیں کہ کائنات ایک پر اسرار بھید ہے، ایک ایسی شے جس کے بارے میں ہم وجدانی آراء تو رکھ سکتے ہیں لیکن  کبھی مکمل طور پر اس کا تجزیہ کرنے یا اسے سمجھنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ میرا احساس ہے کہ یہ نظریہ اس سائنسی انقلاب سے انصاف نہیں کرتا جو قریب چار سو برس قبل گلیلیو سے شروع ہوا اور جسے نیوٹن نے دوام بخشا۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ کائنات کے کم از کم کچھ حصے لا یعنی یا الل ٹپ انداز میں کام نہیں کرتے بلکہ حتمی ریاضیاتی قوانین کے تحت کام کرتے ہیں۔ اور پھر برسوں پر محیط (محنت سے) ہم نے گلیلیو اور نیوٹن کے کام کو کائنات کے تقریباً ہر حصے تک توسیع دی ہے۔ اب ہمارے پاس ریاضیاتی قوانین ہیں اور ہمارے احساسات میں آنے والے تمام تجربات ان قوانین کے تابع ہیں۔ یہ ہماری کامیابی کا معیار ہے کہ اب ہمیں اربوں ڈالر خرچ کر کے دیو ہیکل مشینیں بناتے ہیں ٍ تا کہ ہم ذرات کو اس قدر توانائی پہنچا سکیں کہ ہمیں یہ بھی معلوم نہ ہو کہ (اتنی توانائی رکھتے ہوئے) ان کے آپس میں ٹکراؤ سے کیا نتیجہ برآمد ہو گا۔ ذرات کی یہ غیر معمولی توانائی زمین پر عام حالات میں وجود نہیں رکھتی، اور عین ممکن ہے کچھ لوگوں کو یہ گمان گزرے کہ ان کے مطالعہ پر اتنی خطیر رقم خرچ کرنا غیر ضروری ہے۔ لیکن (ان ذرات کا اس سطح کی توانائی رکھتے ہوئے ٹکراؤ) عین ممکن ہے ماقبل تخلیقِ کائنات ہوا ہو، لہذاٰ اگر ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کائنات اور ہم کس طرح وجود میں آئے تو یہ جاننا لازم ہو گا کہ اس سطح کی توانائی رکھنے والے ذرات کا باہمی تعامل کس نوعیت کا ہوتا ہے۔

کائنات کے بارے میں ہنوز بہت کچھ ایسا ہے جو ہم جانتے ہیں نہ ہی اس کا فہم رکھتے ہیں۔ لیکن ہم نے جو حیران کن ترقی، بالخصوص گزشتہ سو برسوں میں کی ہے، اس سے ہمیں یہ حوصلہ ملتا ہے کہ شاید کائنات کا مکمل فہم ہماری طاقت سے باہر نہیں ہے۔ ہم ہمیشہ اندھیرے میں نہیں بھٹکیں گے۔ (اور) عین ممکن ہے ہم کائنات کی ایک مکمل تھیوری وضع کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یقیناً ہم  Masters of the Universe کہلائیں گے۔

اس کتاب میں سائنسی مضامین اس یقین کے ساتھ لکھے گئے تھے کہ ہم کائنات کو ایک نظم کے تحت چلانے والے قوانین کا ضمنی ادراک رکھتے ہیں اور غالب امکان ہے کہ مستقبل قریب میں ہم ان کا مکمل ادراک کر پائیں گے۔ عین ممکن ہے کہ یہ امید ایک سراب ہو؛ ہو سکتا ہے کہ کوئی مطلق تھیوری وجود نہ رکھتی ہو، اور اگر ہے بھی تو ہم اسے وضع کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔  لیکن  کائنات کے مکمل ادراک کی کوشش ، انسانی  ذہن کے مستقل نا امید رہنے سے یقیناً  بہتر ہے۔

اسٹیفن ہاکنگ

31 مارچ 1993

 

 




انتزاعی نقوش (رضی حیدر)

کردار آخری صفحے پر جمع ہونے لگے۔
"تو کیا یہ سب دھوکا ہے، یہ جو زندگی ہم گزار رہے ہیں اصل میں اس بوڑھے عینک والے کی لکھی ہوئی ہے۔" ناول کے protagonist نے antagonist سے بغلگیر ہو کر کہا

"یہ جو میں نے تمہارے ساتھ کیا، میں نے کب کیا اور جو تم نے میرے ساتھ کیا تم نے کب کیا۔ یہ سب تو ایک سوانگ ہے۔ "

اسے یہ کہتے ہوئے کتنا ہلکا محسوس ہو رہا تھا۔ Antagonist نے اسے پیچھے ہٹایا اور کہا

"بیٹے! ہاتھ ہٹا ورنا ایسا زور کا گھونسا ماروں گا کہ اس بڑھو کے پین کی سیاہی سارے منہ پہ لپ جائے گی۔" کرداروں نے سوچا کہ ہم جلوس نکالیں گے۔ پلے کارڈز بنائیں گے۔ پر پلے کارڈ بنانے کے لیے بھی تو کاغذ درکار تھا سو وہ ناول کے پلاٹ کے کسل کنندہ صفحے ڈھونڈھنے لگے۔ انھیں زیادہ مشکل نہ ہوئی کیونکہ یہ بوڑھا مصنف بار بار تو اردگرد کی بکواس گناتا رہتا تھا۔ کتنی چڑیاں اڑ رہی تھیں، آسمان کتنا گاڑھا نیلا تھا، کتنی بکریاں دھول میں اپنے بھرے تھن لے کر اپنے بچوں کو تلاش کر رہی تھیں۔ protagonist نے سارے کرداروں کو تحکم کے لحجے میں کہا

"فقط وہ صفحے پھاڑو جو کہانی کو آگے نہیں بڑھاتے۔"

سب کردار توصیفی پیراگراف کی طرف بڑھنے لگے۔ بکریاں، چڑیاں، آسمان کا نیلا گاڑھا رنگ، شفق کے اڑتے پرندے، نہ جانے کیسی کیسی پس منظر کی آوازیں ناول کی سطروں سے اٹھ اٹھ کر کہنے لگیں

"ہمارے ساتھ یہ ظلم کیوں؟ ہاں ہم کہانی کو آگے نہیں بڑھاتے مگر تمہارے اندروں کیا چل رہا ہے اس کا استعارہ بھی تو ہم ہی ہیں۔ جہاں تم اداس ہوتے ہو، مضطرب ہوتے ہو، ہنستے ہو، قہقے لگاتے یا ہیجانی حالت میں بکواس کرتے ہو، ہم آ جاتے ہیں قاری کے حواس خمصہ کو مرتعش کرنے کے لئے۔ ہمارے بغیر کیسے ہو گی کہانی۔ "

شور اس قدر بڑھ گیا کہ مصنف جو چائے پر چائے غٹک رہا تھا کچھ متوجہ ہوا۔

"میرا ہیجان اس قدر بڑھ گیا ہے کہ خرافات سنائی دینے لگے ہیں، بہتر ہے سو جاؤں۔ " وہ بڑبڑایا

کردار چیختے رہے پر وہ بستر پر لیٹ گیا۔ ایک فقیر نے پھلجھڑی چھوڑی

" اگر ہم کسی چیز کو ٹوٹ کر چاہیں تو وہ دعا بن جائے گی اور مصنف اس کی تکمیل میں جٹ جائے گا۔ "

ایک قنوطی کردار نے زوروں کا قہقہہ لگایا اور کہا

"تمہیں کیا لگتا ہے کہ مصنف اپنے گریٹ پلاٹ میں تمہاری دعاؤں سے تبدیلی کر دے گا؟ یا تو تم بہت گردن فراز ہو، یا بہت بے وقوف۔"

وہ فقیر بولا

" یہ تکبر یا بیوقوفی بھی تو اس ہی کی تخلیق ہو گی"

ایک فلسفی جو کبھی کبھی مونولوگ کی خاطر کہیں نا کہیں سے آن ٹپکتا تھا کہنے لگا

"اگر مصنف خود اپنے بارے میں لکھے تو کیا وہ بھی ہماری طرح کردار بن کر ہمارے ساتھ کھڑا ہو گا کیا تب اس کی خود مختاری ختم ہو جائے گی۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ یہ مصنف کسی اور ناول کا کردار ہو اور اس کا مصنف کسی اور ناول کا اور اس کا مصنف کسی اور ناول کا تو یہ لا متناہی سلسلہ کب تک چلے گا ۔"

وہ اور قنوطی کردار ٹھٹھے مار کر ہنسنے لگے پھر فلسفی کے ذہن میں ایک اور خیال کوندا اور وہ گویا ہوا

"یہ بھی تو ممکن ہے کہ یہ آشوب، یہ ھمھمہ، یہ احتجاج کی خواہش یہ سب بھی اسی کا لکھا ہو، اور یہ جو الفاظ میرے منہ سے نکلتے ہیں اسی کے نیلے پن کے آڑھے ترچھے خطوط ہوں۔"

مکمل خاموشی چھا گئی۔ مصنف نے مسکراتے ہوئے قصہ لکھنا شروع کی.


بوڑھی کرسٹین اپنی معصومیت اور بچچنے کو یاد کر کے ہنسی، وہ بھی کیا وقت تھا جب وہ انجان لوگ بارش میں اپنے مردے لے کر احتجاج کئے جا رہے تھے۔ کریستین کو کوئٹہ میں آئے دن ہی کتنے ہی ہوئے تھے پر وہ عیسائی ہونے کے باوجود شعیہ عزاداروں کے ساتھ ماتم کر رہی تھی۔ میگنم فوٹوز کی طرف سے بھیجی گئی وہ اکیلی فوٹوگرافر تھی۔ اس کو ان لاشوں میں اپنے جوخم اور بیرنڈ کے چہرے نظر آ رہے تھے۔ وہ اس روز غم میں اس قدر گم تھی کہ فوٹوگرافی کے سب اصول بھول گئی تھی۔ Henri Cartier-Bresson کی طرح decisive moment کی تلاش میں وہ بٹن دبائے جا رہی تھی۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ کیمرا اس کے جسم کا حصہ بن تھا ہے۔ اور شاید یہ دن اس کا decisive moment ہے۔

اس رات اس نے سوچا تھا کہ اگر یہ سفید کفنوں میں لپٹے مسخ چہرے اس کو سونے نہیں دے رہے تو جن لوگوں کو ان چہروں میں اپنی گزری سانسیں نظر آتی ہوں گی۔ ان کی نیند کا کیا ہو گا۔

اس نے سوچا تھا کہ وہ ان تصویروں کو دکھا کر ان لوگوں کے غم کا مداوا کرے گی۔ وہ اپنی فوٹوز کے بل پر ہر ظلم کو بے نقاب کر دے گی۔ پر آج اسے یہ سب داد و تحسین کتنی بے معنی لگ رہی تھی۔

"کاش میں نے ڈاکٹری پڑھی ہوتی، فلنتھرومسٹ ہوتی تو زندگی میں کوئی معنویت ہوتی۔ فلسفہ پڑھ کر فوٹوگرافی کرنا میری بہت بڑی بھول تھی" اس نے سوچا۔

اسے اس نوجوان فوٹوگرافر میں اپنی جوانی کے پل نظر آ رہے تھے جو ان کفنوں میں لپٹی لاشوں کی بلیک اینڈ وائٹ تصویر دیکھ کر دمبخود تھا۔ ان میں لیڈنگ لائینز، گولڈن ریشو، رول آف تھرڈز جیسے تمام اصولوں کا خیال رکھا گیا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کاش میں کریستین کی جگہ ہوتا تو میری زندگی کتنی معنی خیز ہوتی۔

What a piece of art! your art has changed the attitudes of people , this is the power of art

اس نے جوشیلے انداز میں کہا

,It's no art son, it's life,  that orbit in which we will repeat the same transgressions again and again, the place might change, the time might change but, the human nature --- it won't, No art has the power to change human nature, remember that

کرسٹین نے غمدیدہ ہو کر جواب دیا


اسے کیا معلوم تھا کہ وہ آج سے دس سال بعد ،ان دو بیٹوں کو کھو دے گی جن کے ہونے پر اس کی ساس نے اس کی بلائیں لینا ہیں ۔ ایک کو تھیلیسیمیا نگل جائے گا اور دوسرے کو اپنا گودا دان کرتے زیادہ انیستھیزیا کی ڈوز۔ وہ تو بس اپنے ماں بات کو چھوڑنے کے غم میں پھولوں سجی گاڑی میں بیٹھی رو رو کر ہلکان ہو رہی تھی۔


وٹس ایپ پر ترکی بہ ترکی جواب دینے کے بعد اس نے سوچا سعدی واقعی چلا گیا اب وہ اسکا نہیں رہا۔ وہ یوں تو نہیں بولتا تھا۔

"It's none of your business"

بھلا یہ کوئی طریقہ ہے بات کرنے کا۔ اس نے تو بس اسکی بیوی کے ویزا کا ہی پوچھا تھا۔ شاید سعدی نے اپنی بیوی کو فون کا پاسورڈ دے دیا ہو گا۔


کون مان سکتا ہے کہ اس کا میاں بلڈ کینسر سے مر گیا۔ اس کے چہرے پر جو رنگ روپ تھا۔ وہ پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ احمد نے افسوس کرتے ہوئے کہا

"جمال بھائی بہت ہی نیک انسان تھے۔ جتنا ساتھ انھوں نے ہمارے مشکل وقت میں دیا کون دے سکتا تھا"

وہ خاموش ہو گئی ،ایک سیکنڈ کو اس کا رنگ اڑ گیا۔ پھر جب اس کی بیٹی نے اس کی چوٹی کھینچی تو وہ درد کے باوجود مسکرانے لگی۔


وہ جانے لگی تو دونوں زار و قطار رو رہے تھے۔ شامل سے اس نے پوچھا

" Give me one reason that I stay"

وہ خاموش ہو گیا پھر اچانک بولا

" Wash your laundry at least, you don't have a washing machine"

اس نے کپڑے واشگ مشین میں ڈالے اور اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹی رہی۔ جیسے ہی کپڑے دھلے وہ کپڑے سبز لفافے میں ڈالنے لگی۔ اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا اور بولی

" I can't believe this is the last time I will see you"

شامل نے لاکھ کہا کہ کپڑے خشک ہونے تک رک جاؤ پر وہ گیلے کپڑوں کی پوٹلی لے کر چلی گئی۔

شامل خالی واشنگ مشین کو گھورتے گھورتے ایک اور کہانی میں چلا گیا ۔


خدا کے ہونے نہ ہونے پر لمبی بحث ہوتی رہی۔ ابنِ سینا کی کتاب برھان الصدقین میں لکھے گئے واجب الوجود کے مفہوم کو سمجھاتے سمجھاتے اس نے اچانک جون کا شعر ببانگِ دہل پڑھا

ہم نے خدا کا رد لکھا نفی بہ نفی لا بلا

ہم ہی خدا گزیدگاں تم پر گراں گزر گئے

کیا دیوانہ شخص تھا۔ جون اولیا

"آلو جل گئے تمھاری اس بکواس میں۔ "کامران نے کہا۔ وسکی کے ساتھ اس رات کھانے کو ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔


" Diabetes mellitus کیوں کہتے ہیں اسے کبھی سوچا ہے تم نے۔ mellitus لاطینی زبان کا لفظ ہے جس سے مراد ہے شہد جیسا میٹھا ۔ ذیابیطس کے مریضوں کے پیشاب پر چیونٹیاں آتی دیکھیں تو پتا چلا کہ ان کا پیشاب میٹھا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر چکھ کر بتاتے تھے پہلے۔۔۔ او ہو آپ کو تو ذیابیطس کا مرض لاحق ہو گیا ہے۔"

پتا نہیں کتنا چکھنے کے بعد مٹھاس نصیب ہوتی ہو گی۔ "

یہ سب کہتے ہوئے ڈاکٹر علی ہنسے جا رہا تھا۔ تب عائشہ منہ بنائے ہوئے بولی

" بہت ہی گندے ہو تم "

پھر عائشہ نے اچانک بولا

" انسولین ڈسکوور ہو گئی ،شکر کیجیے خدا کا، بچ گئے آپ۔ ورنہ گھاٹ گھاٹ کا پانی پینا پڑتا آپ کو ڈاکٹر صاحب "

علی اور عائشہ ٹھٹھے مار کر ہنستے ساتھ ساتھ نادم ہوتے رہے کہ کہیں کوئی سن ہی نہ لے یہ بکواس۔


مشفق ویسٹ پاکستانی فوجی کا پیٹ کاٹنے کے بعد اکڑوں بیٹھا اسے مرتے گھورتا رہا۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس نے بنگالیوں پر ہونے والے ہر ظلم کا بدلا لے لیا ہو۔ ویسٹ پاکستانی فوجی نے مرتے ہوئے نحیف آواز میں پانی مانگا تو مشفق نے بوتل اسے فوراً تھما دی۔ پانی پیتے ہی انتڑیوں سے رستی خون اور پانی کی آمیزش دیکھ کر اس کے چہرے پر اچانک مسکراہٹ نمودار ہو گئی۔ اور اس نے گاڑھے بنگالی لہجے میں زور سے کہا

" اور پیو اور "

مشفق نے اپنی گرل فرینڈ سے نئی نئی اردو سیکھنا شروع کی تھی جو 71 کے دنگوں میں لاہور سے اپنے باپ کے ساتھ واپس ڈھاکا آ گئی تھی ۔


آج جمیل کی بونڑی ہو جائے گی۔ احسن، اسد اور جمیل کمرے میں داخل ہوئے تو صوفیہ دبکی بیٹھی تھی۔ اسد اور احسن نے جمیل کو آگے دھکیلا۔ جمیل نے ڈرتے ہوئے صوفیہ کا ازار بند کھینچا۔ تو کیا بری بد بو آئی۔ اس کا خون رستا دیکھ کر جمیل کو آبکائی آنے لگی۔

" تے کی ہویا، کم پا فر"

ان دنوں میں سیکس کرنا گناہ ہے جمیل نے کہا اور احسن اور اسد قہقہے مار کر ہنسنے لگے۔


وزیراعظم کو طلسمی چراغ مل گیا۔ اس نے سوچا کہ اب وہ اس ڈوبتے ملک کے لئے کچھ نہ کچھ کر پائے گا۔ اس نے چراغ رگڑا تو اندر سے وردی والا جن وارد ہو گیا۔ وزیراعظم ڈر کر بولا

"کیا حکم ہے میرے آقا؟"


ایک روز وردی نے اپنے زعم میں سوچا ، کیا مجھے کسی انسان کی ضرورت ہے؟ مجھے اتارنے کے لئے صدر صاحب کو کہا گیا پر وہ نہ جانے کتنا عرصہ مجھے اتارنے سے انکار کرتے رہے۔ اور جیسے ہی مجھے اتارا گیا تھوڑے ہی دنوں میں ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ جرنل صاحب بھی ایکسٹینشن کروانے کا میری ہی وجہ سے ہی کہتے ہیں۔ مجھے انسان کے ساتھ symbiosis میں رہنے کی کیا پڑی ہے ۔ کیوں نہ میں خود ہی حکومت شروع کر دوں۔ اسی اثناء میں ایک بینڈ والے نے آ کر اسے پہن لیا۔ آجکل

" ویل ویل، ویلاں والیاں دی خیر " پکارتی شادیوں میں گھومتی ہے۔


ڈھول بجتے بجتے اچانک رک گیا۔ چودھری نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش ہونے کو کہا تھا۔

" ڈھول ڈھمکا بند کرو بے غیرتو"۔

"چُکنائیزر" نے پیسے "چُکنے" بند کر دیے۔

"اے کی کنجر تال لایا ہے تساں"

" نور جہاں دا گانا گاؤ، جدوں ہولی جئی لیندا میرا ناں"

" مندڈا نواں ہے چودھری جی، اینوں ای گانا یاد نہئ"

شراب کے نشہ میں دھت چودھری نے نوجوان لڑکے کو دھکیلا اور خود ہارمونیم پر بیٹھ کر بھونڈی لے میں کچھ بجانے لگا۔

" ہون کنجر پُنڑاں ہی اسی سکھاویے توانوں"

بوڑھے جہانگیر نے نور جہاں کا گانا گانا شروع کیا اور 15 سال کے ظہر الدین بابر نے جس کو پیار سے لوگ چکنائزر کہتے تھے پھر سے پیسے اٹھانا شروع کر دیے۔

 

 




جمہوریت پر کارل پوپر کا تبصرہ

1988 میں ہفتہ وار دی اکانومسٹ نے فلسفی کارل پوپر کو جمہوریت کے موضوع پر ایک مضمون لکھنے کی دعوت دی۔ یہ مضمون 23 اپریل 1988 کو شائع ہوا۔ اور ٹو پارٹی سسٹم (دو جماعتی نظام) کا حامی تھا۔اس مضمون کو نومبر 2020 میں امریکی صدارتی انتخاب کے تناظر میں دی اکانومسٹ نے مکرر شائع کیا ۔

 

پروفیسر سر کارل پوپر کی پہلی انگریزی کتاب کو اشاعت کیلئے لندن میں تب منظوری حاصل ہوئی جب ہٹلر بم برسا رہا تھا۔ کتاب 1945 میں "The Open Society and its Enemies" کے نام سے شائع ہوئی۔ کتاب کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ لیکن زیرِ نظر مضمون میں سر کارل یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا اس شہرۂ آفاق کتاب میں جمہوریت (جسے وہ 'عوام کی حکومت 'نہیں کہتے) سے متعلق اُن کا  بنیادی مقدمہ سمجھا بھی گیا تھا یا نہیں۔

 

کارل پوپر: جمہوریت سے متعلق میرے مفروضات بہت سادہ اور عام فہم ہیں۔ لیکن ان مفروضات کا بنیادی مقدمہ جمہوریت کے قدیم نظریے سے  اس قدر مختلف ہے (اورہم سب اسے پہلے سے متعین اور درست سمجھتے ہیں) کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سادہ لوحی کے باعث میرے پیش کردہ مفروضات اور جمہوریت کے فرق  کو درست طریق پر نہیں سمجھا گیا۔ میرا پیش کردہ نظریہ بلند آہنگ الفاظ ، مثلاً "حکمرانی"، "آزادی"، اور "عقلیت" وغیرہ سے احتراز برتتا ہے۔(جہاں تک میرا تعلق ہے) یقیناً میں بھی آزادی اور عقل پر یقین رکھتا ہوں ، لیکن میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بھی شخص ان اصطلاحات کی مدد سے ایک  ایسا نظریہ وضع کر سکتا ہے جو سادہ، قابلِ عمل ، اور نتیجہ خیز ہو۔ مذکور اصطلاحات بہت حد تک تصوراتی ہیں، اور یوں ان کے غلط طریق پر استعمال ہونے کا اندیشہ لاحق رہتا ہے۔، میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ  'حکمرانی'، 'آزادی'، 'عقلیت' ایسی اصطلاحات پر مبنی تعریفات بے سود و بے مقصد ہوں گی۔ اور ہم ان سے کسی بھی درجے میں کوئی خیر کشید نہیں کر سکتے۔

 

میرا یہ مضمون تین اجزاء میں منقسم ہے۔ پہلا جزو، جمہوریت کے کلاسیکی نظریے سے متعلق ہے، وہ نظریہ جو عوام کی حاکمیت کا ہے۔ دوسرا جزو نسبتاً حقیقی نظریے کا ایک مختصر سا خاکہ ہے۔ تیسرا جزو بنیادی ہے اور میرے نظریے کی کچھ عملی جہات کی تصویر کشی اور اس سوال کا جواب ہے کہ: "اس نئے نظریے سے عملاًکیا فرق رونما ہوتا ہے؟"

 

کلاسیکی نظریہ

اپنے اجمال میں کلاسیکی نظریہ یہ ہے کہ جمہوریت عوام کی حکومت ہے، اور عوام حکومت کا حق رکھتے ہیں۔ یہ دعویٰ کہ عوام حکومت کا حق رکھتے ہیں، اس کے حق میں بہت سے دلائل دئے گئے ہیں۔ تاہم میرے لئے یہاں ضروری نہیں کہ میں اُن وجوہات کا ذکر بھی کروں۔ اس کی بجائے میں یہاں اس نظریے اور اصطلاح کے تاریخی پس منظر کا تجزیہ کروں گا

 

افلاطون وہ پہلا نظریہ ساز تھا جس نے شہری ریاستوں (city states) کی بنیادی اصناف کے مابین تفریق کے اصول وضع کئے ۔ افلاطون نے درج ذیل امور کے تحت حکمرانوں کے مابین فرق روا رکھا:

 

اول: بادشاہت ، یعنی ایک اچھے شخص کی بادشاہت؛ اور مطلق العنانیت، جو کہ بادشاہت کی ایک بگڑی ہوئی شکل تھی

دوم: اشرافیہ (aristocracy)، چند اچھے اشخاص کی حکومت، اور چند سری حکومت (oligarchy) جو کہ اشرافیہ کی بگڑی ہوئی شکل تھی۔

سوم: جمہوریت، یعنی تمام لوگوں کی حکومت۔ (یہاں غور کیجئے کہ بادشاہت اور اشرافیہ کی طرح)جمہوریت کی دو اقسام نہ تھیں۔ بہت سے لوگوں کے اکٹھ سے ہمیشہ ایک ہجوم ہی وجود میں آتا تھا اور ہجوم فی نفسہٖ ایک بگڑی ہوئی شے تھی۔

 

اگر ہم اس درجہ بندی پر مزید غور کریں ، اور خود سے سوال کریں کہ وہ کیا مسائل تھے جن کی بابت افلاطون سوچ رہا تھا تو ہمیں یہ معلوم ہو گا کہ یہ مسائل صرف افلاطون کے ہاں نہ تھے بلکہ ہر مفکر کو یہی مسائل درپیش تھے۔ افلاطون سے لے کر کارل مارکس اور اس کے بعد بھی، بنیادی مسئلہ اور سوال یہی رہا ہے: "ریاست کی حکمرانی کسے کرنی چاہئے؟" (میرے بنیادی نکات میں سے ایک نکتہ یہی ہو گا کہ اس مسئلے کو یکسر مختلف سوال سےتبدیل کیا جانا چاہئے۔) افلاطون کا جواب سادہ تھا کہ "بہترین" کو حکمران ہونا چاہئے۔ اور اگر ممکن ہو تو "سب سے بہترین" تنِ تنہا حکمرانی کرے ۔بعد ازاں، اگلا انتخاب "چند سمجھ دار لوگ" ہونگے، لیکن ہجوم یقیناً نہیں ہو گا، جمِ غفیر بالکل بھی نہیں ہو گا۔

 

یونانیوں کا طریقۂ کار افلاطون کی پیدائش سے قبل بھی اس کے برعکس تھا(اور وہ یہ تھا کہ): عوام کو حکومت کرنی چاہئے۔ تمام اہم سیاسی فیصلے جیسا کہ جنگ و امن سے متعلق فیصلے وغیرہ، تمام شہریوں کی رائے سے کئے جاتے تھے۔ آج اس طریقۂ کار کو "براہ راست جمہوریت" (direct democracy) کہا جاتا ہے؛ لیکن ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ یونانی شہری وہاں کے باسیوں کی ایک اقلیت تشکیل دیتے تھے، یہاں تک کہ ایک مخصوص علاقے کے مقامیوں تک کی بھی الگ سے اقلیت بنائی جاتی تھی ۔ اور جو نظریہ یہاں زیرِ بحث ہے اس میں اہم  امر یہ ہے کہ یونانی جمہوریت پسند تھے،اور جمہوریت کو مطلق العنان اورآمرانہ  طرزِ حکومت کا متبادل قرار دیتے تھے؛ درحقیقت وہ بخوبی جانتے تھے کہ ایک مقبول راہنما اپنی مقبولیت کے باعث مطلق العنان بن سکتا ہے۔

 

اوروہ یہ بھی جانتے تھے کہ عوامی مقبولیت بھی حماقت پر منتج ہو سکتی ہے، حتیٰ کہ اہم ترین معاملات میں بھی۔اور یونانی اس ضمن میں درست بھی تھے: وہ فیصلے جمہوری طریق پر کرتے تھے ۔ (اُن کا یہاں تک بھی خیال تھا کہ) حکومت کو جمہوری طور پر سونپی گئی طاقتیں بھی غلط ہو سکتی ہیں اور ایک ایسا قانون وضع کیا جانا جو اغلاط سے مبرا ہو، نا ممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے ۔اور جمہوری نظریے کے درست ہونے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ اخلاقی طور پر بلند وبالا یا کوئی آسمانی وظیفہ ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہمیں استبداد سے بچاتا ہے۔

 

میری رائے میں قانون سازی کا (ظالمانہ) اصول، یورپ کی تاریخ میں بہت وسیع کردار رکھتا ہے (ایسے علاقے جہاں روم کی عسکری طاقت مضبوط تھی )۔قیصرِ روم اپنی طاقت کی بنیاد اس اصول پر رکھتے تھے کہ فوج کی بھرپور تائید کسی بھی راہنما کو حکمرانی کا جواز بخشتی ہے۔ لیکن سلطنت روم کے زوال کے ساتھ ،رائج قوانین کی آئینی حیثیت کا مسئلہ فوری طور پر حل طلب ٹھہرا، اسے ڈیوکلیٹیئن (Diocletian) نے بہت شدت سے محسوس کیا اور "خدائی بادشاہت " (Imperium of the God)کے نئے ڈھانچے کو سہارا فراہم کرنے کی کوشش کی ۔اور انسانوں کا یہ دیوتا نظریاتی طور پر روایتی اور مذہبی امتیازات اور القابات سے مملو تھا، جیسا کہ قیصر، شہنشاہ، ہرکولیس، جوپیٹر وغیرہ

 

اس سب کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ شاید مروجہ قانون سازی سے بھی زیادہ معتبر اور گہری ضرورت مذہبی قانون سازی کی تھی۔ اگلی نسل کے آنے تک، (وحدانیت پر مبنی مذاہب میں سب سے وسیع پیمانے پر پھیلنے والے مذہب ) عیسائیت کی شکل میں ایک خدا پر ایمان، قسطنطنیہ کے سامنے بطور مسئلے کے حل کے پیش کیا گیا۔ اس کے بعد جس نے بھی حکمرانی کی، "خدا کے فضل" کے تحت حکمرانی کی، جو کہ یکتا تھا، اور اس کائنات کا واحد مالک و مختار تھا۔ قانون سازی کے اس نئے نظریے کی مکمل کامیابی یہ واضح کرتی ہے کہ روحانی اور مادی دنیا کے مابین اتفاقات و اختلافات کے باوجود دونوں ایک دوسرے پر مکمل طور پر منحصر تھے ،( وہی  دنیائیں جو قرونِ وسطیٰ میں ایک دوسرے کی دشمن تھیں )

 

قرون وسطیٰ میں اس سوال کا جواب کہ "کسے حکمرانی کرنی چاہئے؟" ایک اصول بن گیا:  (اور جواب یہ تھا کہ )خدا مقتدرِ اعلیٰ ہے، اور وہ اس کائنات پر اپنے موزوں نمائندگان کے ذریعے حکمرانی کرتا ہے۔ قانون سازی کا یہ اصول پہلی مرتبہ اصلاحی تحریک نے چیلنج کیا اور بعد ازاں 1648ء تا 1649ء کے انگریزی انقلاب (English Revolution)نے اس  کا قلع قمع کیا۔ انگریزی انقلاب کے مطابق حکمرانی کا حق عوام کے پاس تھا (نہ کہ آفاقی نمائدگان کی شکل میں چنیدہ افراد کے پاس)

 

مطلق العنان حکمرانی کے تصور کی موت کے بعد، قانون سازی کا قدیم دور لوٹ آیا؛ اور یہ پروٹسٹنٹ قوانین کی خلاف ورزی کی شکل میں تھا جو جیمز دوم نے کی تھی ۔ جیمز خود قانونی طور پر ایک بادشاہ تھا اور 1688 کے "عظیم انقلاب "کا پیش خیمہ بھی ، ساتھ ہی وہ پارلیمنٹ کے بتدریج طاقتور ہونے سے برطانوی جمہوریت کے پنپنے میں مزید معاون ثابت ہوا، اور یہ پارلیمنٹ ہی تھی جس نے ولیم اور مَیری کو قانونی طور پر( بادشاہ اور ملکہ کے) عہدوں سے نوازا تھا۔ اس پیش رفت کی بنیادی خصوصیت یہ تھی کہ یہ اس تجربے پر مبنی تھی جو یہ ثابت کر چکا تھا کہ حکومت کے معاملات میں مذہبی اور نظریاتی جھگڑے ہمیشہ تباہ کُن ثابت ہوتے ہیں۔ شاہی قانون سازی اور عوامی حکومت، دونوں اب مزید قابلِ بھروسہ اصول نہیں تھے۔ عملاً ایک نا سمجھ بادشاہت کا وجود تھا جو کہ پارلیمنٹ کی مقرر کردہ تھی۔ساتھ ہی پارلیمنٹ کی طاقت میں روز افزوں اضافہ ہورہا تھا۔ برطانوی ان مجرد اصولوں کے بارے میں بے یقینی میں مبتلا ہو گئے اور افلاطون کا اٹھایا گیا سوال کہ "کسے حکومت کرنی چاہئے" ہمارے دور سے قبل، دوبارہ کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

 

کارل مارکس، جو ظاہر ہے کہ برطانوی سیاست دان نہیں تھا، وہ اب تک افلاطونی مسئلے سے دو چار تھا کہ "کسے حکومت کرنی چاہئے" اچھے کو یا برے کو – مزدور کو یا سرمایہ دار کو؟ حتیٰ کہ وہ بھی جو خود کو انارکسٹ (ہر طرح کی حکومت کے مخالف)کہتے تھے،اور آزادی کے نام پر ریاست کے نظریے کو یکسر رد کرتے تھے، ایک (غلط طور پر سمجھے ہوئے ) مسئلے کی زنجیروں سے آزاد نہ ہو پائے ۔ ہم ان کی اس قدیمی مسئلے ("کسے حکومت کرنی چاہئے") سے خلاصی کی ناکام کوشش پر صرف اظہارِ ہمدردی ہی کر سکتے ہیں۔

 

ایک حقیقت پسندانہ نظریہ

 

اپنی کتاب "The Open Society and its Enemies" میں،میں نے یہ تجویز سامنے رکھی کہ ایک یکسر نئے مسئلے کو پہچاننا چاہئے، جو عقلیت پر مبنی ایک بنیادی  سیاسی نظریہ ہے۔نیا مسئلہ پرانے مسئلے "کسے حکومت کرنی چاہئے" کے برعکس کچھ اس طرح سے بیان کیا جا سکتا ہے: ریاست کی ساخت کس نوعیت کی ہونی چاہئے کہ بغیر خون بہائے ہم برے حکمرانوں سے نجات حاصل کر سکیں۔

 

پرانے سوال کے برعکس، یہ سوال مکمل طور پر عملی اور تکنیکی سوال ہے۔ اور تمام نام نہاد جدید جمہوریتیں اس مسئلے کے عملی حل کی اچھی مثالیں ہیں، اگرچہ ان کی تخلیق شعوری طور پر اس مسئلے کو ذہن میں رکھ کر نہیں کی گئی تھی۔ یہ تمام جمہوریتیں نئے مسئلے کا سادہ ترین حل  پیش کرتی ہیں، یعنی یہ اصول کہ حکومت اکثریت کے ووٹ سے کالعدم کی جا سکتی ہے۔

 

تاہم نظری اعتبار سے یہ تمام جدید جمہوریتیں پرانے مسئلے پر ہی مبنی ہیں، جو کہ مکمل طور پر ایک غیر عملی نظریے پر اپنی بنیاد رکھتی ہیں کہ تمام بالغ عوام کا مجموعہ ہی حقیقی معنوں میں حکمرانی کر سکتا ہے۔لیکن ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یقیناً کہیں بھی عوام کی حکمرانی نہیں ہے۔ ہر جگہ حکومت ہی کی حکمرانی نظر آتی ہے۔ (اور افسوس ناک طور پر بیوروکریٹ، جو ہمارے عوامی خادم ہوتے ہیں، یا بقول ونسٹن چرچل، ہمارے غیر مہذب آقا-- ان سب کو ان کے اعمال کا جوابدہ بنانا مشکل ہے۔)

 

طرزِ حکومت کےاس سادہ اور عملی نظریے کے نتائج کیا ہونگے؟ مسئلے کو پیش کرنے کا میرا طریقۂ کار اور اس کا حل، دونوں مغربی جمہوری طریقہ ہائے کار سے متصادم ہیں، جیسا کہ برطانیہ کا غیر تحریر ی قانون، اور بہت سے تحریری قوانین (جنہوں نے کم و بیش برطانوی ماڈل کو ہی اختیار کیا)۔ میرا نظریہ اور اس میں پنہاں حل ، انہی عوامل (نہ کہ نظریات) کو بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور اسی وجہ سے میرا خیال ہے کہ میں اسے "جمہوریت کا نظریہ" کہہ سکتا ہوں، اگرچہ یہ کسی بھی حال میں "لوگوں کی حکومت" کا نظریہ نہیں ہے، بلکہ "قانون کی حکومت " کا نظریہ ہے

 

میرا نظریہ بآسانی پرانے نظریے کے تضادات اور اشکالات سے محفوظ ہے۔مثلاً "اگر لوگ ایک آمر کو منتخب کرنے کا فیصلہ کر لیں تو کیا کیا جانا چاہئے؟" یقیناً ایسا ہونا بہت مشکل ہے اگر آزادانہ طور پر ووٹ ڈالا جائے۔ لیکن ایسا ہو چکا ہے۔ اور اگر ایسا ہو جائے تو کیا ہو گا؟ قوانین میں سے زیادہ تر آئین عوام کی کثیر تعداد کے ووٹ کے بغیر تبدیل نہیں ہو سکتے اور جمہوریت کے خلاف کم از کم دو تہائی یا تین چوتھائی ووٹوں کی ضرورت ہو گی۔ لیکن یہ مطالبہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسی تبدیلی کی سہولت فراہم کی جائے ؛ اور بیک وقت وہ اس اصول کے بھی قائل نہ ہوں کہ غیر تعلیم یافتہ اکثریت طاقت کا حقیقی منبع ہے –یا یہ کہ لوگ اکثریتی ووٹ کے ذریعے حکمرانی کا حق رکھتے ہیں۔

 

ان تمام نظری مشکلات سے بچا جا سکتا ہے اگر ہم اس سوال کو نظر انداز کر دیں کہ "کسے حکمرانی کرنی چاہئے؟" اور اسے ایک نئے اور عملی سوال سے تبدیل کردیں: ہم کس طریق پر ایسی صورت حال سے بچ سکتے ہیں کہ ایک برا حکمران ہمارا بہت زیادہ نقصان نہ کر پائے ؟ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہماری معلومات کے مطابق سب سے بہترین حل ایک ایسا آئین ہے جو اکثریت کے ووٹ سے ایک حکومت کو ختم کر سکتا ہے، تو اس بناء پر ہم یہ نہیں کہیں گے کہ اکثریتی ووٹ ہمیشہ درست ہی ہوتا ہے۔ ہم یہ بھی نہیں کہیں گے کہ یہ بالعموم درست ہوتا ہے۔ ہم صرف یہ کہیں گے کہ یہ  نامکمل اور خام طریقِ کار اب تک کے تخلیق کردہ نظریات میں سب سے بہتر ہے۔ ونسٹن چرچل نے ایک مرتبہ ازراہِ تفنن کہا تھا کہ جمہوریت حکومت کی بدترین شکل ہے، ما سوائے اُن نظریاتِ حکومت کے جو ہمیں پہلے سے معلوم ہیں۔

 

اور یہی بنیادی نکتہ ہے: کوئی بھی شخص جو جمہوریت کے علاوہ کسی اور طرزِ حکومت کے تحت رہ چُکا ہے، بالفرض ایک آمر کے تحت جسے بغیر خون بہائے نہیں ہٹایا جا سکتا تھا، وہ شخص یقیناً یہ جانتا ہو گا کہ جمہوریت، اگرچہ غلطیوں سے مبرا نہیں ہے مگر اس کے باوصف اس کے لئے وہ لڑ بھی سکتا ہے اور مر بھی سکتا ہے۔ تاہم یہ میرا ذاتی تیقن ہے۔ اور ابتداً مجھے اسے غلط قرار دینا چاہئے تاکہ میں دوسروں کو اس کے بارے میں قائل کر سکوں۔

 

ہم اپنے نظریے کی تمام تر بنیاد اس امر پر رکھ سکتے ہیں کہ ہمیں صرف دو متبادل معلوم ہیں: آمریت یا جمہوریت۔ اور ہم اپنا فیصلہ جمہوریت کی اچھائی کی بناء پر نہیں لیں گے، جو کہ شک سے مبرا نہیں ہے، لیکن آمریت کی شیطنت کی بنیاد پر کریں گے، جو کہ یقینی ہے۔ نہ صرف ایک آمر اپنی طاقت کا غلط استعمال کرے گا بلکہ اگر وہ عوام پر مہربان بھی ہوا، تب بھی وہ لوگوں سے اُن کے حقوق اور ذمہ داریاں غصب کر لے گا، کیونکہ وہ ایک آمر ہے۔ اور یہ جمہوریت کے حق میں ایک بھاری دلیل ہے، یعنی جمہوریت ایک ایسا قانون ہے جو ہمیں استبدادی حکومت سے جان چھڑانے میں معاون ہوتا ہے۔ کوئی بھی اکثریت، چاہے وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، آئین کی اس حکمرانی کو ترک کرنے کی اہل نہیں ہو سکتی۔

 

متناسب نمائندگی

 

پرانے اور نئے نظریے میں یہ نظری فرق ہے۔ان نظریات میں عملی فرق کی ایک مثال کے طور پر، ہم نسبتی نمائندگی کے مسئلے کا تجزیہ کرتے ہیں ۔

 

سابقہ نظریہ، اور اس نظریے کا یہ عقیدہ کہ عوامی حکومت، عوام کےذ ریعے،اور عوام کیلئے ہونی چاہئے۔اس پر مستزاد کہ یہ ایک قدرتی حق ہے، یا آفاقی حقیقت ہے؛ اس سب کے پس منظر میں  نسبتی نمائندگی کی دلیل پنہاں ہے۔ کیونکہ اگر لوگ اپنے نمائندوں کے ذریعے حکومت کریں گے، اور اکثریتی ووٹوں کے ذریعے، تب یہ لازم ہے کہ آراء کی شماریاتی تقسیم اور اکثریتی ووٹوں کے ذریعے آئین سازی کا تناسب برابر ہو۔ اس کے علاوہ کوئی بھی دوسرا طریقۂ کار غیر منصفانہ ہو گا۔

 

اگر ہم پرانا نظریہ ترک کر دیں تو یہ دلیل منہدم ہو جاتی ہے، اور غیر جانب دار ہو کر اور تعصب سے ہٹ کر ہم یہ سوچ سکتے ہیں کہ نسبتی نمائندگی کے وہ کونسے نتائج ہیں جن سے ہم پیچھا بھی نہیں چھڑا سکتےاور ساتھ ہی میں یہ تباہ کُن بھی ہیں۔

 

سب سے پہلے، نسبتی نمائندگی سیاسی جماعتوں کو ایک آئینی رتبہ عطا کرتی ہے جو وہ اس کے علاوہ کسی بھی طریق سے حاصل نہیں کر سکتیں۔ چونکہ میں مزید ایسا شخص نہیں چُن پاؤں گا جو میری نمائندگی کر سکے، میں ایک جماعت ہی کا انتخاب کر وں گا۔ اور جو لوگ جماعت کی نمائندگی کرتے ہیں انہیں جماعت منتخب کرتی ہے۔ ااگرچہ لوگ اور ان کی آراءواجب الاحترام ہیں، مگر  سیاسی جماعتوں کی آراء  کو ایک عام انسان کی رائے قرار نہیں دیاجا سکتا: کیونکہ جماعت رائے نہیں بلکہ ایک منشور اور نظریہ رکھتی ہے۔

 

ایک ایسا آئین جو نسبتی نمائندگی کی سہولت فراہم نہیں کرتا، وہاں سیاسی جماعتوں کی ضرورت نہیں رہتی۔ انہیں آفیشل سٹیٹس دیے جانے کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔ ہر انتخابی حلقے کے رائے دہندگان اپنا ذاتی نمائندہ چیمبر میں بھیجتا ہے یا وہ اکیلا کھڑا ہوتا ہے ،یا پھر چند لوگوں کے ساتھ مل کر ایک جماعت تشکیل دیتا ہے۔ اور ان میں سے کسی بھی طریقۂ انتخاب ایک ایسا فیصلہ ہوتا ہے جو اسے اپنے رائے دہندگان پر واضح کرنا ہوتا ہے۔

 

اس کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی بھرپور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئےان تمام لوگوں کے مفادات کی نمائندگی کرے جنہوں نے اس پر اعتماد ظاہر کیا ہوتا ہے ۔ اور یہ مفادات کم و بیش تمام صورتوں میں ملک کے تمام لوگوں کے، پوری قوم کے مفادات کے مماثل ہوتے ہیں ۔ یہ وہ مفادات ہیں جن کا اسے اپنی تمام صلاحیتوں کے ساتھ تعاقب کرنا ہو گا۔ اور عملاً وہ لوگوں کا ذاتی طور پر ذمہ دار ہو گا۔

 

نمائندے کا یہ واحد فرض اور واحد ذمہ داری یہ ہے کہ آئین اس کو تسلیم کرے۔ اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ ایک سیاسی تنظیم کا بھی ملازم ہے، تو ایسا صرف اس وجہ سے ہونا چاہئے کہ وہ اس امر پر یقین رکھتا ہے کہ پارٹی سے اس تعلق کے ذریعے وہ اپنی بنیادی ذمہ داری بطریق احسن نبھا سکتا ہے۔ نتیجتاً یہ اس کا فرض بنتا ہے کہ جونہی اسے یہ احساس ہو کہ وہ اپنی ذمہ داری پارٹی سے تعلق کے بغیر بھی نبھا سکتا ہے، تو اسے پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لینی چاہئے۔

 

اگر ریاست کا آئین نسبتی نمائندگی کی اجازت دے تو ایسا ہو سکتا ہے۔ کیونکہ نسبتی نمائندگی کے تحت کوئی بھی امیدوار کسی سیاسی جماعت کے نمائندے کے طور پر ہی الیکشن لڑتا ہے، قطع نظر اس کے کہ آئین کیا کہتا ہے۔ اگر وہ منتخب ہوتا ہے تو بنیادی طور پر اس وجہ سے کہ وہ ایک خاص جماعت کا رُکن اور نمائندہ ہے۔ لہذاٰ اس کی پہلی وفاداری اس کی جماعت اور اس کے منشور سے ہونی چاہئے؛ نہ کہ عوام سے (سوائے اُن "عوام" کے جو پارٹی کے راہنما ہیں)

 

لہذاٍ یہ کبھی بھی اس کی ذمہ داری نہیں ہو سکتی کہ وہ اپنی جماعت کے خلاف ووٹ دے۔ اس کے برعکس وہ اخلاقی طور اُس پارٹی سے وفاداری کا پابند ہے جو اسے پارلیمان تک لے کر آئی۔ اور اگر اس کا ضمیر اسے اس امر پر ملامت کرتا ہے تو میری رائے میں اسے نہ صرف جماعت بلکہ پارلیمان سے بھی استعفیٰ دے دینا چاہئے، اگرچہ ملکی آئین اس پر اس طرح کی کوئی پابندی عائد نہیں کرتا۔

 

در حقیقت، وہ نظام جس کے تحت وہ منتخب ہوا، اسے ذاتی ذمہ داری سے آزاد کر دیتا ہے (یا بقول میکس ویبر، جوابدہی سے۔ مترجم)؛ اور اسے ایک فہم و شعور رکھنے والے شخص کی بجائے ایک ووٹنگ مشین میں تبدیل کر دیتا ہے۔ میری نظر میں، یہ نسبتی نمائندگی کے خلاف فی نفسہٖ ایک شافی دلیل ہے کیونکہ ہمیں سیاست میں وہ افراد درکار ہیں جو معاملات کو خود سے سمجھ سکتے ہیں اور جو ذاتی ذمہ داریاں نبھانے کیلئے بھی تیار ہوتے ہیں۔

 

ایسے افراد کا کسی جماعتی نظام کے تحت وجود محال ہے خواہ ہم نسبتی نمائندگی کو بھی ختم کر دیں۔ اور ہمیں اس کا بھی اقرار کرنا چاہئے کہ ہم پارٹی سسٹم کا متبادل فراہم کرنے میں ہنوز ناکام ہیں۔ لیکن اگر ہمیں پارٹیاں رکھنی ہیں، تو ہمیں چاہئے کہ نسبتی نمائدگی کو آئینی طور پر نافذ کر کے اپنے نمائندگان کو ان کی جماعتوں کا غلام نہ بنائیں۔

 

نسبتی نمائندگی کا فوری نتیجہ یہ ہو گا کہ یہ سیاسی جماعتوں کی تعداد بڑھانے کا موجب بنے گا۔ پہلی نظر میں شاید یہ مطلوب محسوس ہو؛ کہ زیادہ جماعتیں ہونے سے انتخاب کے زیادہ مواقع، محدودیت کی کمی، اور زیادہ تنقید؛ یہ سب ممکن ہوں گے اور یہ کہ اس سے طاقت کی تقسیم بھی ممکن ہو گی۔

 

تاہم، یہ پہلا تاثر مکمل طور پر غلط فہمی پر مبنی ہے۔ بہت سے پارٹیوں کا وجود، لازمی طور پر، اتحادی حکومت کو ناگزیر بنا دیتا ہے۔ اور اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ کسی نئی حکومت کے قیام میں، اور ایک حکومت کو طویل مدت تک قائم رکھنے میں -- مشکلات پیش آئیں گی

 

اقلیت کی حکومت

جہاں نسبتی نمائندگی اس تصور پر مبنی ہے کہ ایک پارٹی کی طاقت اس کی ووٹنگ پاور سے متناسب ہے، اور ایک اتحادی حکومت کا مطلب ہے کہ زیادہ تر ، چھوٹی جماعتیں حکومت کے قیام اور خاتمے میں فیصلہ کُن اہمیت کی حامل ہونگی۔ ان میں سب سے اہم امر ذمہ داریوں میں کمی کا ہے۔ کیونکہ ایک اتحادی حکومت میں تمام اتحادیوں کی ذمہ داریوں میں کمی آ جاتی ہے۔

 

اسی وجہ سے نسبتی نمائندگی، اور نتیجے کے طور پر پارٹیوں کی زیادہ تعداد فیصلہ کن امور پر مضر اثرات کی حامل ہوتی ہے، بطور مثال ایک حکومت کو پارلیمنٹ الیکشن کے ذریعے اقتدار سے بے دخل کرنا ایسی صورت میں بہت مشکل ہو گا۔ ووٹر کو یہ توقع دلائی جاتی ہے کہ شاید کوئی بھی جماعت اکثریتی ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔اپنے ذہن میں یہ توقع لئے، لوگ کسی ایک مخصوص پارٹی کے خلاف شاذ ہی ووٹ دیتے ہیں۔ اور نتیجے کے طور پر الیکشن کے روز کوئی بھی پارٹی ناکام نہیں ٹھہرتی اور نہ ہی کوئی مجرم ٹھہرتی ہے۔ لہذاٰ کوئی بھی الیکشن کے دن کو روزِ جزاء نہیں سمجھتا؛ ایسا دن جب کوئی ذمہ دار حکومت اپنے کئے پر جوابدہ، اپنی کامیابیوں پر نازاں اور ناکامیوں پر نالاں ہوتی ہے، اورنہ ایک ذمہ دار اپوزیشن حکومت کے اس ریکارڈ پر نقد کرتی ہے اور نہ ہی یہ بتاتی ہے کہ حکومت کو کامیابی کے لئے فلاں اقدامات کرنے چاہئے تھے۔

 

کسی بھی پارٹی کے پانچ یا دس فیصد ووٹوں کا نقصان ووٹر کے ذہن میں اس کے ناکام ہونے کی وجہ قرار نہیں پاتا۔ وہ اسے کامیابی میں ایک عارضی اونچ نیچ سمجھتے ہیں۔ اور وقت کے ساتھ ساتھ لوگ اس تصور کے عادی ہو جاتے ہیں کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی اور اس کے راہنما اپنے ان فیصلوں کے ذمہ دار نہیں ٹھہرائے جا سکتے، جو ان پر اتحادی حکومت کی وجہ سے زبردستی عاید کئے گئے ہوں گے۔

 

نظریاتی نقطۂ نظر سے، الیکشن کا دن روزِ جزاء ہونا چاہئے۔ جیسا کہ430 قبل مسیح کو Pericles of Athens میں کہا گیا تھا کہ "اگرچہ چند لوگ کوئی بھی پالیسی تشکیل دیتے ہیں لیکن اس پر فیصلہ ہم سب دے سکتے ہیں"۔ یقیناً ہماری رائے غلط بھی ہو سکتی ہے، درحقیقت اکثر اوقات ہم غلط ہی ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ہم نے ایک حکومت کے اقتدار کا دوردیکھ رکھا ہے اور اس کی بازگشت کو ہم محسوس کر چُکے ہیں، اس بنیاد پر ہم بہرحال فیصلہ دینے کی کچھ نہ کچھ صلاحیت ضرور رکھتے ہیں۔

 

یہاں اس بات کو پہلے سے فرض کر لیا جاتا ہے کہ مقتدر پارٹی اور اس کے راہنما ،جو کچھ وہ کر رہے تھے اس کے مکمل طور پر ذمہ دار تھے۔ اور نتیجے کے طور پر مفروضہ اکثریتی حکومت کو فرض کر لیتا ہے۔ تاہم متناسب نمائندگی اور کلی اکثریت کی حامل ایک جماعت جو کلی اکثریت کے ساتھ اقتدار کی مالک ہے نیز خوش افزاء نعروں کے شکار نہ ہونے والے شہریوں کی اکثریت کے ہاتھوں مسترد ہوئی ہو، (پھر بھی) عین ممکن ہے کہ ایسی حکومت ایوان اقتدار سے باہر نہ نکل پائے، ایسی صورت میں یہ چھوٹی سے چھوٹی پارٹی کی بھی مدد مانگیں گے تاکہ وہ اقتدار میں رہ سکیں۔

 

اور ایک بڑی پارٹی کا ملامت زدہ راہنما اقتدار میں رہے گا – قطع نظر اس کے کہ عوام کی کثیر تعداد اس کے خلاف ہے، اور ایسا وہ صرف ایک معمولی سی جماعت کی مدد سے کر پائے گا جس کا منشور، عین ممکن ہے کہ "عوام کی خواہش" کا دور دور تک بھی نمائندہ نہ ہو۔یقیناً ایسا ہو گا کہ ایک چھوٹی جماعت نئی حکومت کی پارلیمنٹ میں مضبوط نمائندہ نہیں ہو گی، لیکن اس کی طاقت بہت زیادہ ہو گی کیونکہ یہ حکومت کو کسی بھی وقت تہس نہس کر سکتی ہے۔ اور یہ سب اس تصور کو ملیا میٹ کر دیتا ہے جو نسبتی نمائندگی کی جڑ ہے: یہ تصور کہ جتنے زیادہ ووٹ ہوں گے اتنی ہی زیادہ ایک جماعت کا اثر رسوخ ہو گا۔

 

دو جماعتی نظام

 

اکثریتی حکومت  کو ممکن بنانے کیلئے ہمیں two-party نظام کی ضرورت ہے، جیسا کہ برطانیہ اور امریکہ میں ہے۔ کیونکہ ایسے نظام کی موجودگی نسبتی نمائندگی کا حصول بہت مشکل بنا دیتی ہے۔میری تجویز یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے مفاد میں ہمیں نسبتی نمائندگی کے اس پر کشش تصور کے خلاف مزاحمت کرنی چاہئے۔ اور اس کی بجائے ہمیں two-party سسٹم یا اس سے ملتے جلتے نظام کیلئے کوشش کرنی چاہئے کیونکہ ایسا نظام دونوں پارٹیوں کیلئے خود پر  تنقید کا ایک دائمی سلسلہ قائم رکھتا ہے ۔ "دو جماعتی نظام نئی سیاسی جماعتوں کی تخلیق میں رکاوٹ ہوتا ہے۔ " یہ بات درست ہے۔ لیکن برطانوی اور امریکی دو جماعتی میں تبدیلیوں کا ظہور واضح ہے۔ لہذاٰ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایک نئی پارٹی کے وجود پر پابندی عاید کر کے ہم دو جماعتی نظام کو بھی زنجیروں میں جکڑ دیں گے۔

 

یہاں نکتہ یہ ہے کہ دو جماعتی نظام میں شکست کھانے والی سیاسی جماعت انتخابات میں اپنی شکست کو سنجیدگی سے لے گی۔ اور اپنے مقاصد کی اندرونی اصلاحات کی کوشش کرے گی جو کہ ایک طرح کی نظریاتی اصلاح ہو گی۔ اگر ایک سیاسی جماعت لگاتار دو یا تین مرتبہ شکست کھا جائے، تو اس میں نئے تصورات کی تلاش خوفناک حد تک بڑھ جائے گی، جو کہ ایک صحت مندانہ عمل ہو گا۔

 

ایک ایسا نظام جس میں بہت سی سیاسی جماعتیں ہوں، اور اتحادی ہوں، ایسا ہونا نا ممکن ہے (جو دو جماعتی نظام میں ممکن ہے) ، بالخصوص تب جب ووٹ کا نقصان بہت تھوڑا ہو، جماعتی راہنما اور رائے دہندگان اس تبدیلی کو زیادہ محسوس نہیں کریں گے۔ بلکہ وہ اسے کھیل کا حصہ سمجھیں گے – کیونکہ کسی بھی جماعت کی کوئی واضح طور پر متعین ذمہ داریاں نہ تھیں۔ لیکن جمہوریت کو ایسی جماعتوں کی ضرورت ہے جو ہمہ وقت متنبہ ہوں اور مذکور صورتحال سے زیادہ حساس ہوں۔ صرف اسی طرح سے وہ خود پر ایک ناقدانہ نگاہ رکھ سکتی ہیں۔ الیکشن میں شکست کے بعد خود پر ناقدانہ نگاہ رکھنا ایسے ممالک میں بہت واضح ہے جہاں دو جماعتی نظام ہے بہ نسبت اُن ممالک کے جہاں دو سے زیادہ سیاسی پارٹیاں اقتدار کی جنگ لڑتی ہیں۔ لہذاٰ ابتدائی تاثر کے برعکس، عملاً دو جماعتی نظام کثیر جماعتی نظام کے مقابلے میں کہیں زیادہ لچک دار ہونے کا امکان ہے۔

 

ایسا کہا جاتا ہے کہ "نسبتی نمائندگی ایک نئی جماعت کو سامنے آنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اور اس کے بغیر ایسا ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، اور تیسری جماعت کی محض موجودگی ہی پہلے سے موجود دو بڑی جماعتوں کی کارکردگی کو بہتر کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔" ایسا یقیناً ہو سکتا ہے، لیکن اگر پانچ یا چھ نئی جماعتیں ابھر آئیں تب کیا ہو گا؟ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ ایک چھوٹی سی سیاسی جماعت، یہ فیصلہ کرتے وقت کہ اُسے کس اتحادی حکومت کا حصہ بننا ہے، اپنے ووٹ کے مقابل کہیں زیادہ طاقت حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے

 

اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ "دو جماعتی نظام ایک اوپن سوسائٹی کے تصور سے موافقت نہیں رکھتا – کیونکہ ایک اوپن معاشرے میں تصورات کی بہتات ہونی چاہئے اور تکثیریت(pluralism) کا احساس ہونا چاہئے۔" الجواب: "برطانیہ اور امریکہ دونوں نئے تصورات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ مکمل کشادگی یا قبولیت کی صلاحیت سے تو قبولیت کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا، مزید یہ کہ معاشرتی کشادگی اور سیاسی کشادگی دو مختلف معاملات ہیں۔ اور سیاسی بحث کو وسیع سے وسیع تر بنانے سےزیادہ اہم یہ امر ہے کہ ہم سیاسی روزِ جزاء کے لئے ایک سنجیدہ رویہ اختیار کریں"

 




حسنین جمال کے نام ایک خط (اپنی شاعری کے حوالے سے)

بھائی حسنین!

آپ نے کئی بار غزلوں کا مطالبہ کیا اور میں ہربار شرمندہ ہوا کہ کیا بھیجوں؟ ایسا نہیں ہے کہ پرانے شعری مجموعے کے بعد میں نے کوئی غزل نہیں لکھی۔ ضرور لکھی ہے، مگر غزل کے تعلق سے میرا نظریہ اور یاروں نے اسے جتناسرچڑھا رکھا ہے،اس حوالے سے میری رائے تھوڑی سی اس عرصے میں بدلی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے، میں نے ایک مضمون غزل کے تعلق سے لکھا تھا، جو اردو اور ہندی دونوں جگہ شائع ہوا اور مجھے دونوں جگہ غزل کے عاشقوں سے صلواتیں بھی سننی پڑیں۔ خیر، یہ تو کوئی بڑی بات نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ غزل اور اس کی تہذیب پر میں جب نظر دوڑاتا ہوں تو مجھے اردو دنیا کے لوگوں کی کم ہمتی اور محنت سے بھاگنے کی اصل وجوہات میں غزل بھی ایک مضبوط ستون کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ میں نہیں کہتا اور نہ چاہتا ہوں کہ اردو شاعر غزل گوئی سے مایوس ہوکر اسی شعریات کے ساتھ کسی دوسری صنف کا رخ کرے۔ میں جو چاہتا تھا وہ یہ تھا کہ غزل میں تجربے ہوں اور اس میں کوئی نئی راہ پیدا کی جائے۔ مگر میرے خیال سے یاروں کا کہنا ٹھیک ہی ہے کہ غزل کا مزاج تبدیل نہیں ہوسکتا۔ اس کی وجہ بھی بتاتا ہوں، پہلے دو ایک باتیں لکھ لوں۔ غزل عیش پسندوں کی یا یہ کہہ لیجیے کہ ایلیٹ کلاس میں پروان چڑھنے والی ایک صنف ہے۔ اس کا عام سماج سے، عام لوگوں سے، ان کے عام مسائل سے ، ہماری دنیاؤں میں موجود طبقاتی کشمکش سے دور تک کا واسطہ نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اگر آپ ڈھونڈنے چلیں تو آپ کو ان موضوعات پر اشعار نہیں ملیں گے، ضرور مل جائیں گے مگر جب کسی ادبی صنف کے مجموعی مزاج کے حوالے سے بات ہورہی ہو تو اس میں تخلیق ہونے والے بیشتر حصے کو سامنے رکھ کر بات کی جاتی ہے۔ پہلے میں مشاعرے سے چڑتا تھا، مجھے لگتا تھا کہ مشاعرہ باز کوئی بہت اوچھا کام کررہے ہیں، مگر یقین جانیے جب میں نے اردو کے بہترین ’غزل گو‘ حضرات کے دقیانوسی پن اور خود کو دوہرانے کے عمل کو سمجھ لیا تو مجھے مشاعرے سے بھی کوئی خاص شکایت نہیں رہی۔ مشاعرہ بہرحال ایک عوامی چیز ہے۔ کہنے دیجیے کہ سادہ الفاظ میں سطحی مضامین کو ارذل قرار دینا اور اعلیٰ یا اشرافیہ طبقے کی زبان میں انہی سطحی مضامین کو کوئی اعلیٰ قسم کا ادب سمجھنا میرے نزدیک ایک قسم کا برہمن واد ہے۔ یہ وہی رویہ ہے جس نے ہمارے یہاں نظیر اکبر آبادی کو ایک عرصے تک زبان دانوں کی دنیا میں مطعون و ملعون رکھا اور کچھ آگے بڑھ کر کہوں تو رحیم،تلسی داس، کبیر، جائسی ، میرابائی ،بلہے شاہ، عبدالطیف بھٹائی، لالیشوری، حبا خاتون وغیرہ کو کبھی اردو شاعری کی روایت کا حصہ نہیں مانا۔صرف یہ ہی نہیں ، امیر خسرو کی شاعرانہ عظمت پر ان کی فارسی شاعری کے بل پر زور دیا گیا اور یہ کوشش کی گئی کہ جہاں تک ممکن ہو عوامی زبان میں ان کی شاعری سے یہ کہہ کر پلا جھاڑا جائے کہ یہ ان کا کلام ہے ہی نہیں۔ ہم روایتی ادب میں بھی اس قسم کے محلاتی ادب سے وابستہ رہے جس کا عوام سے واسطہ نہ ہو، ہمیں وہ شاعری بھاتی رہی جس نے لال قلعے یا اردوئے معلیٰ میں جنم لیا ہو اور ہم دھیرے دھیرے ان خزانوں کو دھبوں کی طرح اپنے دامن سے صاف کرتے چلے آئے جس میں دکنی، برج، اودھی، سندھی، پنجابی یاکشمیری بھاشائوں کے عناصر موجود تھے۔ اپنی بات کے ثبوت کے لیے قائم کا ایک پرانا شعر نقل کرتا ہوں۔
قائم میں غزل طور کیا ریختہ ورنہ
ایک بات لچر سی بہ زبان دکنی تھی

یہ جو لچر سی بات ہے، یہ کیا ہے۔ یہ مٹی سے جڑی بات ہے۔ریختہ کے جتنے مطلب لغت میں دیے گئے ہیں ، ان میں سے ایک مطلب گری پڑی شے بھی ہے۔ چنانچہ عوام سے دوری کا یہ سلسلہ ہمیں اردو کے ابتدائی نام اور ڈھنگ سے ہی پتہ چلتا ہے۔ ہم الزام دیتے ہیں انگریز کو کہ اس نے ہندو اور مسلمانوں کے بیچ پھوٹ ڈلوانے کے لیے اردو نام کی ایک زبان ایجاد کی اور اس کے ابتدائی ناموں میں سے ایک ہندی کو ہندؤں کے مختص کردیا۔ مگر ہم غور نہیں کرتے کہ انگریز ہمارے مزاج کی کمزوریوں سے فائدہ بھی اٹھارہا تھا۔ ہم پہلے سے ہی ہر اس زبان یا بھاشا کی مخالفت پر کمر بستہ تھے، جو عوام یا خاص طور پر نچلے طبقے سے وابستہ رہی ہو۔ اسی طرح دیکھیے تو انگریز نے نظم کی ’تحریک ‘بھی اسی اشرافیہ کے ذریعے شروع کروائی جو مضامین کو پاک بنانے یا اس کے بپتسمہ کے فرض کو انجام دے سکے۔ آب حیات میں اردو شعرا کے تعصب سے پر جو واقعات نظر آتے ہیں ان میں ایک کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہوں گا، میر نے لکھنو جاتے وقت زبان غیر سے اپنی زبان بگڑنے کے ڈر سے برابر بیٹھے مسافر سے بات تک نہ کی۔ یہی تصور آج اردو میں ایک ’بہتر غزل گو اور عام آدمی‘ کے بیچ حد فاصل قائم کرتا ہے۔

شاعری صرف ادبی مضامین یا بحور و قوافی کے گیان کو پڑھ کر نہیں سیکھی جاسکتی اور اس کا تعلق کسی مخصوص طبقے یا زبان سے بھی کیسے ہوسکتا ہے؟ شاعری کو تو بسیط ہونا چاہیے، اس میں سبھی طرح کے رنگ، سبھی طرح کے لفظ اور سبھی طرح کی دنیائیں آباد ہونی چاہیے۔ مگر نزدیک سے دیکھیے تو شاعری کا یہ حلیہ ایک یوٹوپیائی دنیا میں ہی ممکن ہے۔ ہم اس بات کو نظر انداز نہیں کرسکتے کہ جن لوگوں نے اردو شاعری میں زبان و بیان ، علامت و استعارے کی خوبیاں بیان کیں، اس کے قواعد بنائے اور اس کی شعریات کو ترتیب دیا۔ وہ سخت قسم کے متعصب لوگ تھے۔ زیادہ دور نہ جاکر شبلی نعمانی کی مثال دے سکتا ہوں جو بقول خورشیدالاسلام اپنے مدرسے میں نچلے طبقے کے بچوں کو پیچھے کی جانب اور زمین پر بٹھایا کرتے تھے۔ سرسید اور حالی کی متعصبانہ سوچ جاننی بھی اتنی مشکل نہیں کہ ان کے بارے میں بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے شعری سرمایے کا سب سے بڑا گوہر غالب بھی ’وبائے عام ‘میں مرنے سے کیوں خائف تھا اور کتنا بڑا نسل پرست تھا، اس کے لیے کسی عمیق مطالعے کی ضرورت نہیں۔ نچلے طبقے کی شاعری سے ہمارے شعرا کا تعصب ویسا ہی تھا جیسا شیکسپئر اور گستاؤ فلوبیر کا یہودیوں کے تعلق سے تھا۔

غزل کے تعلق سے میں اس لیے بھی محتاط ہوگیا کہ اس نے ہمارا مزاج کئی طرح سے بدلا ہے۔ اول تو اس نے ہمیں چاہے کتنی ہی نکتہ آفرینی سکھائی ہو، کیسی ہی علامت نگاری، تشبیہ سازی کے فن سے نوازا ہو مگر غزل نے ہمیں ایک لطیفہ گو بنادیا ہے۔ ہم لوٹ گھوم کر انہی مضامین کو الٹتے پلٹتے رہتے ہیں اور خوش ہوتے رہتے ہیں کہ ہم کوئی بڑا کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔ باہر کی دنیا بھی غزل کو پسند کرتی ہے اس میں کوئی شک نہیں، مگر جب آپ غور کریں گے تو غزل کے ’کھاتے پیتے‘ شائق آپ کو صاف دکھائی دے جائیں گے۔ ان میں زیادہ تعدادا علی ٰ اور متوسط طبقے کے ان افراد کی ہوگی ، جن کی زندگیاں ایک مستقل نوکری یا مستقل آمدنی یا باپ داد کی جائداد پر ٹکی ہوئی ہیں اور جنہیں عالم ہونے کے لیے صرف غزل کے شعروں کی پرکھ کا سہارا لینا کافی ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس صنف نے ہمیں خوشامد پسند بنادیا ہے۔ غزل میں محبوبہ کی چاپلوسی کو اچھی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہےبلکہ اسے غزل کا مزاج ہی بناکر رکھ دیا گیا ہے۔ اس لیے اس تہذیب میں پیدا ہونے والی آپسی تعریفیں بھی ایسی صفات سے بھری پڑی ہیں، جن میں کسی ادیب کی تعریف کرنی ہو تو اسے بغیر کانپے ، بنا ڈرے سب سے بڑا ادیب کہہ دیا جائے، دنیا کا عظیم عالم، اعلی ٰ ترین دانشور اور اس قسم کے خطابات کا آپس میں پھیر بدل کرکے اپنی انا کو تسکین دے لی جائے۔ اس سنسکرتی کا پربھاؤ اتنا گہرا ہے کہ جو آدمی غزل لکھ بھی نہیں رہا وہ بھی اسی سے جنم لینے والے خطابات و القاب اور اسی زمین سے پھوٹنے والی تعریف و توصیف پر اکتفا کرتا ہے۔ یعنی جب وہ خود کسی کی تعریف کرے گا تو بھرپور مبالغے سے کام لے گا اور اگر کوئی دوسرا اس کی تعریف کرے گا تب بھی وہ ’ادیب‘ یہی چاہے گا کہ اس کی تعریف بھی اسی چاپلوسانہ انداز میں کی جائے۔

بلکہ اردو میں کئی بار اس سے بھی بڑھ کر ہمارے ادیب (خواہ پرانے ہوں یا نئے) اپنی بھرپور تعریف کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ خودستائی ایک فن ہے۔ ایسا فن،جس کے لیے اعلیٰ درجے کی لاعلمی اور معصومیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی ادیب کا اپنے یا کسی دوسرے شخص کے لیے یہ کہنا کہ وہ انتہائی درجے کا ادب تخلیق کرچکا ہے یا اس کے مقابلے کا کوئی اور تو دور کی بات ہے، اس کا پاسنگ بھی ڈھونڈے سے نہ ملے گا، تبھی ممکن ہے جب تعریف کرنے والے کی نظر کوتاہ ہو یا پھربرسوں سے اس کی زبان کو ایک خاص قسم کے درباری مزاج میں ڈھالا گیا ہو۔ اور اردو کے معاملے میں موخرالذکر بات مجھے زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔

میری غزل سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ میں اردو غزل کہنے والے ہم عصروں میں ادریس بابر ، ذوالفقار عادل وغیرہ کو بہت پسند کرتا ہوں۔ یہ دونوں ہی(خاص طور پر ادریس بابر)غزل کی زبان کو اس طرح پیمپر نہیں کرتے، جیسا کہ ہمارے ادیبوں کا وتیرہ رہا ہے۔ حال ہی میں، میں نے دیکھا کہ ادریس نے ایک غزل وائرل ہوجانے والی ایک ویڈیو کے حوالے سے لکھی، انہوں نے کورونا وائرس کو بھی موضوع بنایا۔ کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ یہ تو موضوعاتی ادب ہوگیا اور موضوعاتی ادب زندہ نہیں رہتا۔ مگر یہ باتیں بھی اسی مزاج کی پروردہ ہیں جس نے غزل کو موضوع سے آزاد ، ہر شعر میں ایک علیحدہ بات، کبھی ہنسی ٹھٹھول تو کبھی پینٹ گیلی کردینے والے موضوعات تک سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔ یہ کوئی مذاق نہیں ، ایک سچی بات ہے کہ غزل کے حوالے سے میری ایک دوست نے کہا کہ اس صنف کے شاعرکاموڈ جس تیزی سے سوئنگ ہوتا ہے، اتنا تو کبھی میرا پیریڈز کے دوران بھی نہیں ہوا۔ بہرحال ادریس کو پسند کرنے کی وجہ کلیشے مضامین سے ان کی بغاوت بلکہ ایک قسم کی نفرت ہے۔ زبان کو بھی اسی مٹی سے لے رہے ہیں جہاں وہ جیتے ہیں، ان کے یہاں تصنع اور ریاکاری نہیں ہے اور وہ استاد بننے کے زعم سے باہر آکر ایک ایسی کوشش کررہے ہیں، جس میں غزل کی باگیں موڑ کر اسے محل سے اتار کر سڑک پر لایا جاسکے۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ ان کی شاعری پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ بہت سے لوگ انہیں ایک بگڑیل اور ٹھٹھول گو قسم کا شاعر سمجھتے ہیں۔ خود ادریس کے یہاں عشرے کی جس صنف نے جنم لیا ہے، وہ غزل کے معاملے میں ان کی بے اطمینانی اور غیر سکون بخش طبیعت کا پتہ دیتی ہے۔ پھر بھی میرا ماننا ہے کہ اگلی پانچ دہائیوں میں اگر ادریس بابر جیسےتین چار شاعر بھی اردو غزل نے پیدا کردیے تو یہ تعجب کی بات ہوگی، سچ مانیے تو میرے نزدیک یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ غزل نے اپنی راہ، عوامی لیگ سے الگ بنائی ہے اور وہ اسی ڈھرے پر آگے بھی چلتی رہے گی، اسی طرح مقبول رہے گی اور اسی طرح پڑھی سنی جائے گی۔

چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ ایسی صنف میں بڑی یا اچھی چھوڑ دیجیے، بہت حد تک شاعری ہی ممکن نہیں ہے۔ میں غزل لکھتا ہوں، ضرور لکھتا ہوں۔ مگر یہ بھی جانتا ہوں کہ صرف غزل ہی نہیں، غزل گو شاعر کی نظم بھی اردو والوں کے یہاں کوئی اہم کارنامہ نہیں ہوسکتی۔ میرے خیال میں ٹھیک ٹھاک نظمیں لکھنا اردو کے ان ہی شاعروں کے لیے ممکن ہوگا جو پہلے سے غزل نہ کہتے ہوں یا غزل کے مزاج کو سمجھ کر اسے بہت پہلے ہی چھوڑ چکے ہوں یا انہوں نے غزل لکھتے ہوئے بھی اس کے مقابلے اپنی نظم کو ہمیشہ زیادہ اہمیت دی ہو۔اسی لیے میں اردو شاعری سے تقریباً کنارہ کش ہوکر فکشن کی دنیا کی طرف توجہ کرتا ہوں کہ وہاں مجھے زیادہ روشنی اور امکانات نظر آتے ہیں۔ الٹا لٹک کر کرتب دکھانے والوں کی دنیا میں رہتے رہتے جس طرح ہم اپنے پیروں پر چلتے ہوئے کسی شخص کو دیکھ کر چونک پڑتے ہیں، اسی طرح فکشن کی دنیا نے مجھ پر حیرت کے کئی دروازے کھولے ہیں۔ اس لیے جہاں تک ممکن ہو میں خود کو غزل کے مطالعے سے بچاتا ہوں، مشاعروں یا نشستوں میں سال میں دو یا تین بار سے زیادہ شرکت نہیں کرتا۔میں چاہتا ہوں کہ دنیا کی دوسری زبانوں کا ادب بھی پڑھ سکوں، جان سکوں۔خاص طور پر ایسی زبانیں، جن کے یہاں ردیف و قافیے کی پابندی ، بحر کی قید کے مقابلے میں سیدھے سبھاؤ لکھا گیا ادب پڑھنے کو مل سکے۔ اب تو خیر اردو غزل کی شہرت ہندی، پنجابی، مراٹھی اور دوسری زبانوں تک بھی پہنچ گئی ہے اور ان کے یہاں باقاعدہ مشاعرے بھی ہوتے ہیں، شاعروں کے دواوین بھی چھپتے ہیں۔ اس کھیل میں دلچسپ یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ زبانیں غزل کے مزاج کو تبدیل کرتی ہیں یا غزل ان کے تخلیقی ادب کے مزاج پر کوئی گہرا نقش چھوڑ جاتی ہے۔ مگر یہ بات اب سے قریب پچاس، ساٹھ سال بعد ہی بتائی جاسکے گی۔

اس لیے جب کوئی دوست مجھ سے غزلیں مانگتا ہے تو میں اکثر کنی کاٹتا ہوں۔ مگر دوست تو دوست ہیں! ان کی وجہ سے کبھی کبھار شعر بھی سنانے پڑجاتے ہیں اور غزل کا مجموعہ بھی انہی کی بدولت شائع ہوجاتا ہے، اور اس پر کچھ گفتگو بھی ہوجاتی ہے، مگر سچ پوچھیے تو اس میدان سے میری دلچسپی اب قریب قریب ختم ہی ہوچکی ہے۔ ہاں اردو میں لکھی ہوئی ایسی کوئی چیز مجھے ضرور اپنی طرف متوجہ کرتی ہے جو غزل کے اثر سے باہر ہو، پھر چاہے وہ فکشن ہو، نان فکشن ہو یا کوئی نظم۔