<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>تراجم Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/category/%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D8%AC%D9%85/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/category/تراجم/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Feb 2026 13:12:20 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>تراجم Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/category/تراجم/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>دلنواز تم بہت اچھی ہو!</title>
		<link>https://laaltain.pk/dilnawaz-tum-bohat-achi-ho/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/dilnawaz-tum-bohat-achi-ho/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فروا شفقت]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Feb 2026 12:58:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[پرَتیاکشا]]></category>
		<category><![CDATA[فروا شفقت]]></category>
		<category><![CDATA[ہندی ادب]]></category>
		<category><![CDATA[ہندی کہانیاں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=33935</guid>

					<description><![CDATA[<p>رات آتی ہے، دن کسی پھسلتی بہتی ندی سا بہہ جاتا ہے</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/dilnawaz-tum-bohat-achi-ho/">دلنواز تم بہت اچھی ہو!</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>اس طرف اب بھی اندھیرا ہے۔ اس جانب جگر مگر روشنی ہے۔ اندھیرے میں بیٹھ کر اس جگر مگر روشنی کو دیکھنے کا سکھ بھی ایک طرح کا سکھ ہے۔ امکانات سے بھرپور سکھ، تاریک سرنگ کے پار پَھک سے کوئی روشنی جل جائے، جیسا سکھ!</p>
<p>سب سیدھا سچ ہے، سب گہری پرتوں سے بھرا ہے۔ کُھلے گا ایک ایک یا کیا پتہ یک بہ یک۔ تب تک اندر ایک ندی بہتی ہے کس قدیم سمے سے، میٹھے پانی کی ندی، اداس گیتوں کی ندی، کچھ کر دیا کچھ اور، بہت اور کریں گے، والی ندی۔ اور سب بھیگتا رہتا ہے، من، جسم ، روح؛ جیسے برسات ٹپکتی ہے آبنوس کے پتوں پر سے، موٹی موٹی بوندیں۔ لال ریت بجری کی مٹی برسات سے بھیگ کر چپل پر چپک جاتی ہے۔ ہر قدم بھاری ہو جاتا ہے۔ ہر قدم دھیما۔ میں ٹھہر ٹھہر سوچتی ہوں، جیتی ہوں۔ سچ! اب جا کر جیتی ہوں۔ بدن لرز جاتا ہے اس جینے کے سکھ میں، اس ہونے کے سکھ میں، کسی مقصد کے سکھ میں، کتنا چھوٹا سا ہی کیوں نہ ہو۔ اس چھتنار پیڑ سے سٹے، اس کالے پیر پسارے چٹان سے سٹے اپنے اس چھوٹے سے گھر میں، کُٹیا میں، میرے ہونے میں، میرے سندیپن کے باوجود، اس کے بِنا ہونے میں، گاؤں کی ٹھاٹھ باٹھ میں، سینٹر کی ہلچل میں، دیر رات لالٹین اور پیٹرومیکس کی روشنی میں بچوں اور عورتوں کو ‘ک’ سے کنول اور ‘ج’ سے جنگل پڑھانے میں، مانِک پرکیتھ سے رہیبلٹیشن  /Rehabilitation]بحالی[ ڈسکس کرنے میں، سروے کے کاغذوں کو چیک کرنے میں، سرکل آفیسر اور بی ڈی او سے کاغذات نکلوانے میں، شہر جانے میں اور پھر، اوہ سکھ، گاؤں واپس لوٹنے میں، ڈُمری کے تھکے دکھتے سر میں تیل ملنے میں، کونے کُھدرے میں اوما کے سجائے سوکھے مرجھائے پھول پتی کے جھرتے گچھوں میں۔۔۔ کیا ملتا ہے مجھے؟ اپنے ہونے جینے کا معنی؟</p>
<p>نیرودا کی کتاب جانے کب سے گود میں رکھی ہے۔ اندھیرے میں کتاب کا لمس ہی سکون دیتا ہے۔ انگلیاں پھیرتے پھیرتے میں اندھیرے کو آنکھوں سے پیتی ہوں۔ چھوٹے سے مُوڑھے پر کھلے دروازے پر بیٹھ کر میں مطمئن ہوں۔ اس اندھیرے سے مطمئن ہوں۔ کہاں سے کہاں آ گئی یہ سوچ کر اب حیران نہیں ہوتی۔ کسی سپنے کو دیکھ کر حیران نہیں ہوتی۔ گھر سے اتنی دور آ کر حیران نہیں ہوتی۔ اب کسی بات سے حیران نہیں ہوتی۔ کوئی جادو تھا پھر حیرانی کیسی۔ کس ٹونے ٹوٹکے سے بندھی مَیں آئی تھی۔ پر اب آ گئی تھی۔ اس گاڑھے اندھیرے وقت میں خوف نہیں تھا۔ صرف کام تھا صرف کام۔ ہر دن کام تھا۔ اور ایک چین تھا، کوئی گیت تھا، پاگل بےچین پھر بھی ٹھہرا ہوا شانت ۔۔۔ ایک عجب غضب سنگیت۔ پر ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔ کوئی بناوٹ تھی اندر جو شکل لے رہی تھی جانے کب سے، سوئی تھی کبھی اب جاگتی تھی۔ سب رنگ سب سُر مل کر کوئی گیت گاتے تھے آخر۔ ہر کسی کے ساتھ ایسے ہی ہوتا ہے۔ پر پہچاننا ہوتا ہے اپنے اندر کی اس اندرونی بناوٹ کو۔ دھیرے دھیرے میرے اندر کی دنیا بن رہی تھی، روشن ہو رہی تھی۔ پر کیسی کھائی تھی باہر اور اندر کے بیچ۔ سو مچ ویرینس /so much variance]تغیر[۔ ہر قدم کے ساتھ بیچ کا فاصلہ پٹ رہا تھا۔ مجھے پتہ نہیں تھا پر ایسا ہو رہا تھا اپنے آپ۔ میرے اندر باہر کی سب دنیا میرے ساتھ ساتھ چل رہی تھی آخر کار۔ جیسے کوئی خوابیدہ سمے کا قدیم راگ ہو، اے مارچنگ سانگ  [A marching song]۔ میرا جیون راگ۔</p>
<p>میں نیرودا [Pablo Neruda] کے مصرعے اندھیرے میں یاد کرتی ہوں، مجنون عشق کے مصرعے۔۔۔</p>
<p>I can write the saddest poem of all tonight.<br>
Write, for instance: “The night is full of stars,<br>
and the stars, blue, shiver in the distance.”<br>
The night wind whirls in the sky and sings.<br>
I can write the saddest poem of all tonight.<br>
I loved her, and sometimes she loved me too.<br>
میں لکھتا ہوں آج کی رات نوحہ الم]<br>
میں لکھتا ہوں، تاروں بھری رات ہے اور<br>
دور کہیں تمٹماتے نیلگوں ستارے<br>
رات کی پروائی گاتی پھرتی، فلک کو محوِ رقص ہے<br>
آج کی شب میرا سخن خزیں تر ہے<br>
[میں نے اس سے محبت کی، ہاں اس نے بھی کئی بار<br>
بیچ میں بُھولتی ہوں، پھر آخر کا سرا پکڑتی ہوں،<br>
I no longer love her, true, but how much I loved her.<br>
My voice searched the wind to touch her ear.<br>
Someone else’s. She will be someone else’s.<br>
As she once belonged to my kisses.<br>
Her voice, her light body. Her infinite eyes.<br>
I no longer love her, true, but perhaps I love her.<br>
Love is so short and oblivion so long.<br>
Because on nights like this I held her in my arms,<br>
My soul is lost without her.<br>
Although this may be the last pain she causes me,<br>
And this may be the last poem I write for her<br>
مجھے محبت نہیں اب، مانا، لیکن اسے کس الفت سے چاہا تھا]<br>
میری صدا ڈھونڈتی ہے وہ دوشِ ہوا جو کانوں کو اس کے جا چومے<br>
وہ پرائی ہو جائے گی، کسی اور کی ہو جائے گی<br>
میرے بوسوں کی جو تھی مالک<br>
اس کی آواز، سبک سی کایا، اس کی بےپایاں آنکھیں<br>
 مجھے اب عشق نہیں، مانا، لیکن کرتا بھی ہوں شاید<br>
ایسی ہی شبِ عیش ہوا کرتی تھی اور گرد اس کے میری بانہوں کاحصار<br>
میری روح فنا ہے، بعد اس کے<br>
اگرچہ یہ گھاؤ اس کی طرف سے آخری ہو<br>
[اور شاید اس کے لیے مری یہ نظم آخری ہو</p>
<p>میں کون سا مرثیہ گاؤں گی؟ کس کے لیے لکھوں گی سب سے اداس سطریں؟ میرا سب کچھ تو یہیں ہے، یہیں۔ پھر بھی کسی انجانے دکھ سے میرا گلا بھر آتا ہے۔ چھاتی سے گلے تک دکھ جم جاتا ہے، برف کی سل۔ میں دھیمے مسکراتی ہوں۔ بالوں پر کوئی پتنگا پھنس گیا ہے۔ کچھ دیر میں اٹھوں گی۔ کچھ پکاؤں گی، کھاؤں گی۔ پھر تھوڑی پڑھائی۔ آنکھیں دُکھتی ہیں زیادہ دیر لیمپ کی روشنی میں پڑھنے میں۔ گاؤں میں جلد ہی بجلی آئے گی، کم سے کم اس ایک کمرے کے کمیونٹی سینٹر میں۔ پھر آسان ہوگا پڑھنا اور پڑھانا۔ اندھیرے میں من ادھر ادھر بھاگتا ہے۔ دن بھر کی تھکان ہے پر من تھکا ہوا نہیں ہے۔ اچھا لگتا ہے۔ انگلی رکھنا چاہتی ہوں، ٹھیک اُس بات پر جس سے اچھا لگتا ہے۔ یہاں، یہاں، یہاں۔ پھر یہ بھی اور یہ بھی۔ پر ٹھیک ٹھیک پتہ نہیں چلتا۔ بس اتنا ہی طے کر پاتی ہوں، کہ اچھا لگتا ہے۔ اداسی میں بھی اچھا لگتا ہے۔ اوما پاس آ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ کچھ کہتی نہیں، بس چھو سکے اتنی دوری پر چپ چاپ کھڑی ہو جاتی ہے۔ نو سال کی اوما، میری چھوٹی سی سکھی سہیلی۔</p>
<p>“آج یہیں سو جائیں؟” پُھسپُھسا کر پوچھتی ہے۔<br>
“بھاگ، جلدی سے اپنی ماں سے پوچھ آ۔”<br>
میں مصروف ہونے لگتی ہوں۔</p>
<p>چھت پر نوار کی پرانی کھاٹ پر بیٹھی میں چہرہ ہاتھوں میں بھرے بس تاک رہی تھی۔ اندر سب خالی تھا۔ جیسے سارا رس بہہ گیا ہو اور میں صرف ایک خول بچ گئی ہوں۔ چاچی سفید پھولوں والی ساڑھی پنڈلیوں تک دبائے پیڑھے پر چکو مکو بیٹھی تھیں۔ نیچے پرانی بدرنگ چادر پر ڈھیر کی ڈھیر لال مرچیں، اچار والیں۔ کٹھوت ]کاٹھ کا برتن جس میں آٹا گوندتے ہیں[ میں مسالہ پڑا تھا۔ سکھائی ہوئی چٹک لال چمکیلی مرچ میں ان کے ماہر ہاتھ تیزی سے مسالہ بھر رہے تھے۔ مرچوں کی دہکتی شوخی اور مسالوں کی تیکھی بو مجھ سے برداشت نہیں ہو رہی تھی۔ سب بے جان، چُرمرایا ہوا تھا۔ اس پر یہ تیزی۔ اف! میں نے ہاتھوں سے آنکھوں کو ڈھک لیا تھا۔ چاچی نے ایک بار رک کر مجھے دیکھا تھا، پھر اپنے کام میں لگ گئی تھیں۔ دو منٹ ٹھہر کر ورم زدہ گھٹنوں کو سہارا دیتے اٹھی تھیں۔ سیڑھیوں سے ان کے چپلوں کی پھٹ پھٹ سنائی دے رہی تھی۔</p>
<p>چائے کا پیالہ بِنا کچھ کہے مجھے پکڑایا تھا پھر کام میں لگ گئی تھیں۔ بس اسی لیے تو میں یہاں بھاگی آئی تھی۔ جیسے گھائل بیمار کتا مٹی کے ٹھنڈک میں سکون کھوجے۔</p>
<p>بِدپّا، دبلا پتلا چھوٹا سا بِدپّا جب اپنی چھوٹی کالی آنکھیں مچکا کے کہتا، “دل نواز نوو چالا منچیدانوی”، (دل نواز تم بہت اچھی ہو) میں ہنس پڑتی۔</p>
<p>“بِدپّا آیم بیگننگ ٹو انڈرسٹینڈ تیلگو۔”<br>
] بدپا میں تیلگو سمجھنے لگی ہوں۔/[Bidpa I’m beginning to understand Telugu.<br>
پھر وہ انگریزی پر اتر جاتا،<br>
“ریلی؟ دین یو کین شیئر مائی پوریال ٹو ڈے۔”<br>
Really? Then you can share my poriyal today.] / واقعی؟ تو پھر میرے ساتھ آج پوریال (تمل ناڈو میں دال، سبزی کا سالن) کھاؤ۔[</p>
<p>“ارے ہٹ میرے روغن جوش کے آگے تیرا پوریال۔ گو واش یور فیس۔”<br>
Go wash your face]/ منھ دھو جا کر [</p>
<p>پر وہ ڈھیٹ ہنستا رہتا، کبھی واش ہز فیس  [Wash his face]نہیں کیا۔ رونا کو میں کہتی بِدپّا یہ بِدپّا وہ …<br>
“بِدپّا کے آگے بھی تو کچھ بول نا”، رونا بیزار ہوتی۔</p>
<p>پر بِدپّا تو میرا بڈی buddy]/دوست [تھا، چائلڈہڈ بڈی childhood buddy]/بچپن کا دوست[۔ بس۔ اس کو میں بچپن کی مار سے لے کر ماں سے یہاں لڑ کر آ جانے کی بات، سب بےجھجک بتا سکتی تھی۔ اپنے پہلے کرشcrush] /منظورِنظر [اور اپنے ریسینٹ مینسٹرُئل کریمپس [recent menstrual cramps/ حال میں ماہواری کا درد[ کے بارے میں بھی۔ میرے لیے وہ جینڈر نیوٹرل[gender neutral/ صنفی غیرجانب دار[ تھا، میرا چارلس شُلز [Charles M. Schulz] کے لنس [Linus Van Pelt] کا کمبل تھا، میرا فرینڈشپ از وارم ہگ Friendship is a warm hug]/سچا دوست [تھا۔ اس بھری اجنبی دنیا میں میرا اینکر]  anchor/لنگر[ تھا۔ ہی ہیڈ اے وارم براؤن منکی فیس اینڈ آئی لوڈ ہم، ٹرولی ٹرولی۔<br>
He had a warm brown monkey face and I loved him, truly truly.]/ اس کا چہرہ بھورے بندر جیسا تھا، اور مجھے اس سے محبت تھی، بہت بہت۔[</p>
<p>چھٹیوں میں، میں تب گھر گئی تھی۔ ماں کا ایسا رویہ جیسے پہلے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ حیرانی ہوتی مجھے۔ کتنی لڑائیاں لڑ کر اس مقام پر آئی اور اب ماں نے جیسے میری جیت کا نوکیلا پن ہی گہنا دیا۔ اور تو اور پڑوسی رشتےدار آتے تو چہک چہک کر بتایا جاتا کہ دیکھا دی نے کیا کمال دکھایا۔ اکیلے اس بڑے شہر میں جا کر کس دلیری اور آرام سے نہ صرف پیر جمایا بلکہ خاصی نوکری بھی جگاڑ لی۔ بابا خوش ہو کر کہتے, “ببنی کی تا بڈ کام کر لیہلی۔ خاندان کے نام اونچا ہو گئیل۔” ]بٹیا بڑے کام کر رہی ہے۔ کاندان کا نام اونچا ہو گیا ہے۔[ میں کسی ہارے سپاہی کی کھسیانی ہنسی ہنس دیتی۔ لوگ باگ کے سامنے باقاعدہ میری نمائش لگتی۔ ہونہار ماں کی ہونہار بیٹی۔ ماں اپنے پڑھنے کا چشمہ آنکھوں سے ماتھے پر کھسکا کر سنجیدگی سے کہتیں، “میں تو ہمیشہ سے جانتی تھی کہ دی کچھ خاص ہے۔ پھر گہرا سانس بھرتیں، آج اس کے پپّا ہوتے تو”۔۔۔ میں بھونچکا کر دیکھتی میری لڑائی کا، میری جیت کا سہرا ماں کس قدر بڑے پن سے، معصومیت سے اپنے سر باندھ لیتیں۔ یہی ماں تھیں جنھوں نے ایڑی چوٹی لگا دی تھی کہ میں باہر جا نہ سکوں۔</p>
<p>اور میں بھی ضدی کی ضدی۔ ٹھان لیا تھا کہ اس کنویں سے نکلنا ہی ہے۔ ادھر ادھر چپکے چپکے فارم بھرتی، لوگوں سے پوچھتی پاچھتی اپنی قلعہ بندی تیار کرتی رہی۔ رات رات کی خفیہ تدبیریں، بھاگنے کے بلوپرنٹس، کنٹینجینسی پلانز [blueprints, contingency plans/منصوبے، پیش قدمی[۔ اور شہر اپنی خفیہ سرگرمیوں میں مگن رہا، مضبوط رہا۔ اس کی طاقت بڑی طاقت تھی۔ اس کے مورچے ناقابل تسخیر۔ ماں کی آنکھیں، شہر کی آنکھیں تھیں، پڑوسیوں کی آنکھیں تھیں، اپنوں، غیروں کی آنکھیں تھیں جو ایک جوان جہان لڑکی کے ہر حرکت کو، معصوم خطرناک، تولتی ہیں، دیکھتی ہیں۔ جاسوسوں کا بڑا نیٹ ورک، ہر حالت میں، ہر سمے پر مستعد۔ میرے بارے میں خبر جنگل کی آگ تھی۔ بن باپ کی بیٹی کا ہر کوئی رکھوالا۔ کوئی دوست نہیں تھا، سب خبری تھے۔ میں ان بیابانی بھیڑ میں جھنڈ سے بچھڑی میمنا تھی۔ بابا تک اپنے پوپلے منھ سے جگالی کرتے کہتے، “ببنی ماں کے بات مان لیوے کے چاہیں۔” ]بٹیا ماں کی بات مان لینی چاہیے۔[</p>
<p>رات کے اندھیرے میں کھڑکی کی ٹھنڈی سلاخوں سے گرم گال سٹائے میں کھوجتی تھی اجاڑ پگڈنڈیاں جہاں میرے پیروں کے نشان گم ہو جائیں۔ گھانس پھونس جنگلی بیل سب ڈھک لیں۔</p>
<p>مرِدُل بورٹھاکر اپنی چپٹی ہنسی ہنس کر کہتا، بہو ناچے گی میرے سنگ؟ اور میں اس کے سنگ جیون کا ناچ ناچنے نکل پڑی تھی۔ کون تھی میں، کوئی اسادورا دنکن[Isadora Duncan]؟ اور وہ کوئی سرگیئی ییسینن [Sergei Yesenin]؟ پر ہواؤں کا پنکھ پکڑ کر، بِنا آگا پیچھا سوچے اڑ چلی تھی۔ ٹرین میں بیٹھے اس کی دکوستا کو لکھی چٹھی،<br>
 “Mercedes, lead me with your little strong hands and I will follow you—to the top of a mountain. To the end of the world. Wherever you wish”<br>
]مرسیڈیز، اپنے ننھے مضبوط ہاتھ تھمائے میری راہ نمائی کرو، میں تمھارے نقشِ قدم پر چلوں گی ــــ کہساروں کی چوٹی تک۔ دنیا کے انت تک۔ جہاں بھی تم چاہو۔[<br>
سوچتی رہی۔</p>
<p>میری جان فٹا فٹ۔ لیکن تب کہاں معلوم تھا کہ مرِدُل داکوستا تو ہو نہیں سکتا تھا نہ جنس میں نہ دماغ میں۔ میں ہی کون اسادورا تھی؟ رات کی نیلی سیاہ روشنی میں کسی ایلزابیتھن ہیروئین [Elizabethan heroine] کی طرح لبادہ اوڑھے میرے پیر اس انجان راستے پر بےدھڑک پڑے تھے۔ شہر کی دیوار اندھیرے میں پل بھر کو بھربھرائی تھی۔ میں کوئی ٹائم ٹرویلر  [time traveller]تھی، کوئی عیار تھی۔ میرا جسم ہوا، ہوا تھا اور دیواروں کو پار کر گیا تھا۔ شہر نے اپنے ٹیڑھے پن میں، اپنے برسوں کی تاریخ میں، کئی کئی وقفوں پر ایسے اچکّے کھیل کھیلے تھے۔ اور آج میرے جیون کے لمبے راستے پر یہ تیکھا موڑ لینا تھا، سو شہر نے پھر اپنے دروازے کھولے۔ مرِدُل بورٹھاکر بیچارہ تو صرف واسطہ تھا۔ اس کا ناچ میرا ناچ کب ہوتا۔ پر کچھ شروعاتی ٹینگو [Tango] ہم نے کیے مالوینگر کے برساتی کا ایک کمرا۔ پتلے تُھکپا ]تِبتی نوڈل سوپ[ اور بےسواد مومو کے بیچ ہم نے ایک دوسرے کو جانا۔ ہمارے جسم نے ایک دوسرے کو پہچانا۔ ہماری آنکھیں ایک دوسرے پر نہیں پڑیں، پر ہماری انگلیوں کی پھوہڑ بےچینی نے کوئی پہچان کی۔ گھپ اندھیرے میں آدھے ادھورے کپڑوں سمیت کچھ اناڑی مشقوں کی ناکام کوشش۔ شروع ہونے کے پہلے ہی چُک جانا اور بعد میں بےحیائی سے، بےحسی سے، ‘اٹ واز ہارڈلی دا زینتھ آف پیشن، نو؟<br>
It was hardly the zenith of passion, no?] / جذبہ انتہا کو نہیں پہنچا، ہے نا؟[</p>
<p>میں مطلبی نہیں تھی۔ قطعی نہیں تھی۔ پر تُھکپا کھا کھا کر مجھے ابکائی آنے لگی تھی۔ میں ایک کنویں سے آ کر دوسرے کنویں میں پھنس رہی تھی۔ مرِدُل دن بھر آوارہ گردی کرتا، رات پی کر بھونکتا رہتا۔ ہمارے پیسے تیزی سے اڑ رہے تھے۔ جتنی تیزی سے پیسے ختم ہو رہے تھے اتنی ہی تیزی سے ہم ایک دوسرے سے گھن کھا رہے تھے۔ اس کا لجلجا لمس مجھ میں ناگواری بھر دیتا۔ گھناؤنے پن وہ کہتا،</p>
<p>“یو آر نو جولییٹ بنوش، ناٹ ایون اے ناؤمی کیمپبیل۔ گیٹ بیک ٹو یور فکن مڈل کلاس سیٹ اپ۔ گیٹ بیک گیٹ بیک یو بلڈی فرجڈ بچ۔”<br>
[You are no Juliette Binoche, not even a Naomi Campbell. Get back to your fucking middle class set up. Get back, get back you blood frigid bitch. / تو کوئی جولییٹ بنوش نہیں ہے، وہ چھوڑ تو، توناؤمی  کیمپبیل بھی نہیں ہے۔ جا اپنے بکواس مڈل کلاسی گٹر میں جا پڑ۔ چل نکل، دفع ہو جا حرامزادی ٹھنڈی کیتا۔[</p>
<p>پیسے چُکنے کے ٹھیک دو دن پہلے وہ غائب ہو گیا۔ دارجلنگ کی شکنتلا تامنگ، شینکی نے بتایا مرِدُل کو اسٹیشن پر کسی نے دیکھا گھر کی ٹرین پکڑتے ہوے۔ شینکی کے کمرے میں شفٹ ہوے مجھے تین ہفتے بیت چکے تھے۔ صبح سے شام میں جانے کس چیز کی تلاش میں شہر بھٹکتی تھی۔ کئی بار خواہش ہوتی مرِدُل کی طرح گھر کی ٹرین پکڑ لینے کی۔ ایک بار تو اسٹیشن بھی پہنچ گئی تھی۔ میرے پورے وجود میں بگولا اٹھتا تھا۔ میں ریگستان تھی۔ ٹھاٹھیں مارتا ریت کا ساگر۔ اس بڑے شہر کی پوشیدہ دیواریں، اس چھوٹے شہر کی دکھائی دیتی دیواروں سے کہیں زیادہ مضبوط تھیں۔ لوگوں کی آنکھیں پہلے میری چھاتی پر پڑتیں پھر چہرے پر اٹھتیں۔ آنکھوں کو چہرے سے کوئی مطلب نہیں تھا۔ وہ ٹکتی تھیں نیچے، گھومتی تھیں جیسے علاقے ماپ رہی ہوں سٹیکنگ پراپرٹی staking property]/نشان زد جائیداد[۔ چمکیلی بڑی گاڑیوں میں ادھیڑ گنجے آدمی چہرہ نکال شائستگی سے انگریزی میں پوچھتے،</p>
<p>“کیئر فار اے رائیڈ“؟] گاڑی میں بیٹھو گی؟/ [Care for a ride?کبھی کبھی کِلر شارک [killer shark] کے سے فوکس focus]/ارتکاز [سے گاڑیاں پیچھا کرتی دھیمی رفتار،</p>
<p>“کم آن بے بی، آ ول گو یو اے گڈ ٹائیم۔”<br>
Come on baby, I will give you a good time.] /  بیٹھ جاؤ پیاری، مزا کراؤں گا۔[ </p>
<p>میری چپل کا فیتہ ٹوٹ چکا تھا۔ میرے بیگ کا ہینڈل اور میری والٹ کا پیسہ بھی۔ اور سب سے بڑی اور اہم بات تھی کہ میری طاقت ختم ہو گئی تھی۔ میری معجزاتی غیرمعمولی صلاحیت دو کوڑی کی ثابت ہوئی تھی۔ میں باغی، میں سپارٹاکس  [Spartacus]کی اولاد، اوہ میرا بیج ہی کمزور تھا، ڈائلیوٹیڈ /diluted] رقیق[۔ شہر کی جگر مگر کرتی سڑکوں اور دکانوں کے بیچ میں گم ہو رہی تھی۔ میرے اندر کی طاقت چُک گئی تھی۔ میں ایک چھوٹے شہر سے آئی ایک بچاری قصباتی بہن جی تھی، بِن نوکری کے بِن سہارے کے۔ شہر مجھے پڑپ جانے کو تیار تھا۔ لڑکے لڑکیوں، آدمی عورت کی بھیڑ میرے آس پاس سے، میرے آرپار گزر جاتی۔ میں انگلیاں بڑھا کر پکڑ میں لینا چاہتی تھی زندگی، پر ایک بیچارگی مجھے کھوکھلا کر رہی تھی؛ جیسے ہوا کھلی انگلیوں کے پار سے بس بہہ جائے۔ دن رات میں ٹھنڈ سے، جانے انجانے خوف سے کانپتی رہتی۔ میرے پیروں کے نیچے ٹھوس زمین ختم ہو رہی تھی۔ بسوں اور آٹوؤں کی چیخ پکار اور دھینگا مشتی میں میں بھیڑ کی بھیڑ بھاڑ کا بیچارہ حصہ بن جاتی۔ میری ٹھسک، میری ٹھاٹ داری سب ہوا ہو گئی تھی۔ میری بانہوں میں نیلی نسیں ابھرنے لگی تھیں اور پیروں کے تلوؤں میں کڑے کارن /corn]گٹّے[۔ میں رانی راج دلاری اب سڑکوں کی ملکہ تھی۔ اس شہر میں میرا کوئی ہمدرد، کوئی ہمدم نہیں تھا۔</p>
<p>جب صبر کا سرا چھوٹنے ہی والا تھا تب ایک ہوا کے جھونکے سا سندیپن ملا تھا۔ جَن جدوجہد آرگنائزیشن ایکٹوسٹ۔</p>
<p>“چلو گی، چورمُنڈا؟”</p>
<p>اس کی آنکھوں میں آگ تھی۔ اس کی دبلا لمبا سانولا جسم کسی کمان کی طرح تنا رہتا۔ سگریٹ پر سگریٹ دھونکتا، کھانستا لمبی بحثیں کیا کرتا۔ منصوبے بنتے دیر رات تک۔ میں یہاں صرف سندیپن کے لیے تھی۔ ویسے بھی میری دنیا میں اور کیا تھا؟ شینکی کا ادھار اور بےجان، بےسمت راستے۔ میرے کامپلیسینس compliances]/عاجزی[ کو گندے کارپیٹ کی طرح جھٹک پھینکا تھا سندیپن نے۔ جھولا اٹھائے ہم نکل پڑے تھے، سیکواپانی، چورمُنڈا۔ بھٹکتے رہے تھے گاؤں گاؤں۔ قبائلیوں سے بات کرتے لگاتار۔ گملا، گوڈا، لالمٹیا، جانے کہاں کہاں۔ گاؤں کے گاؤں اکوایرacquire]/شامل[ ہو رہے تھے۔ سرکاری پروجیکٹ میں۔ بڑا بجلی کا تاپ گھر بنے گا۔ خوشحالی آئے گی۔ بجلی ہی بجلی۔ دن میں بھی لٹو جلے گا۔</p>
<p>سروے چل رہا تھا۔ بی ڈی او، گاؤں کے مکھیا، پٹواری، سرکل آفیسر۔ پیڑ کے نیچے، گاؤں کی چوپال میں، کسی سرکاری اسکول کے ادھ ٹوٹے کمروں میں کھڑکھڑاتی میز اور تین پیروں کی کرسی جوڑے، پرانے نقشے پھیلائے، سر جوڑے، باریک باریک لفظوں میں رجسٹر بھرے جا رہے ہیں، زمین کی ملکیت کی کہانی لکھی جا رہی ہے۔ بھیڑ کی بھیڑ دھوپ میں پیڑھیوں سے صبر کی کہانی جی رہی ہے، منگتو مرمو اور جگت ہیمبرم، پونو ایکا اور بھولا منڈا، پیٹرمنج اور سُزن ترکی۔</p>
<p>“کتنا پیسہ ملے گا بابو؟” سب یہی پوچھتے ہیں۔ “بنجر ڈھوک کا بھی اِتّا ]اتنا[ ہی مل جائے گا۔”</p>
<p>پروجیکٹ کے عہدے دار آتے ہیں کبھی کبھی۔ پہلے لسٹ بن جائے نا پوری۔ نئے الفاظ تیرتے ہیں ہوا میں، پیپس اور ریپس۔<br>
“کیا ہے یہ؟” میں سندیپن سے پوچھتی ہوں۔<br>
“پرسنز ایفکٹیڈ بائی پروجیکٹس اور رہیبلٹیشن آف پروجیکٹ ایفیکٹیڈ پرسنز۔”<br>
[Persons Affected by Projects &amp; Rehabilitation of Project Affected]<br>
سندیپن جوش سے بول رہا ہے:</p>
<p>“سوشل امپیکٹ اسیسمینٹ  [Social Impact Assessment]کرنے کے لیے ایک ٹیم آئی ہوئی ہے، ان سے انٹرفیس [Interface] کرنا ہے۔ فائنل نوٹیفیکیشن  [final notification]کے پہلے کھاتےداروں کا نام ایک بار اور ویریفائی [verify] کر لیں۔ کیا ٹائم فریم [ time frame] ہے اس کا حساب کتاب؟ اور پھر گریوانس رڈریسل سیل [Grievance redressal cell] کا کیا؟”</p>
<p>انگلیوں پر کام گناتا ہے ایک ایک۔ اس کے بستر کے بغل میں تھاک کی تھاک کتابیں ہیں، آندرے بیتل Andre Beteille اور شری نواس[Srinivasa Ramanujan]  درکھائیم [Émile Durkheim] اور ویبر[Max Weber] ، مارگریٹ میڈ[Margaret Mead]  اور ملنووسکی [Bronisław Kasper Malinowsk]… این پی آر آر کی فوٹوسٹیٹ کاپی، رنگے ہوے کاغذ آگے کی کارروائی کے بلوپرنٹس۔ اس کی آواز کمرے میں بےچین گھوم رہی ہے۔ کتنا کتنا کرنا باقی ہے، کل پرسوں مہینہ بھر بعد۔ میں تھکی ہوں، دن بھر کی دھوپ دھول میں۔ موٹا لال چاول اور بانس کا اچار کھا کر من آسودہ نہیں ہوا ہے۔ سندیپن کی باتوں کی آگ بجھ رہی ہے۔ اتنی دشواریاں میرے بس کی کہاں۔ میں بھوسے کے ڈھیر پر ڈھلک جاتی ہوں۔ سندیپن مٹھی کی اوٹ بنا کر دھواں پھینک رہا ہے۔</p>
<p>“ہمیں ان بھولے قبیلے والوں کے حق کی لڑائی لڑنی ہے۔ صحیح معاوضہ دلوانا ہے۔ رہیبلٹیشن اور رئیمپلیمینٹ[reimplement] ۔ گاؤں میں بجلی، اسکول، دواخانہ۔ پروجیکٹ کے اعلی عہدیداروں سے میٹنگ ہے، اس ہفتے۔ تم گاؤں کی عورتوں سے مل لو، پوچھ لو۔”</p>
<p>اس کی باتیں چل رہی ہیں۔ ڈھبری کی پیلی روشنی میں میں سندیپن سے کچھ اور چاہتی ہوں۔ اس پھوس کی کٹیا میں آج ہم اکیلے ہیں ورنہ شپرہ اور رشید بھی ہوتے ہیں۔ بم بہادر سنگھ بھی کبھی کبھار ہوتے ہیں۔ شپرہ اور رشید ہمارے ساتھ آئے ہیں۔ بم بابو ہزاری باغ سے۔ ساٹھ پینسٹھ سال کے رٹائرڈ آدمی، کس جوش سے کام کرتے ہیں بےلوث جذبہ۔ اچھا سمے کٹتا ہے، صحیح کام کرتے ہیں۔ سفید مونچھوں سے چھپی ڈھکی بڑبڑاہٹ ہوا میں لٹکی رہتی ہے کچھ لمحے۔ کچھ اور ورکر بھی بائی روٹیشن by rotation]/باری سے[ آتے رہتے ہیں۔</p>
<p>“یہاں کا کام نپٹے گا تو ہم بولنگیر نوپاد اور کلاہانڈی جائیں گے۔”</p>
<p>اندھیرے میں بیڑی کی نوک جل بجھ رہی ہے۔ یہاں آ کر سندیپن بیڑی پر اتر گیا ہے۔ ان روم لو لائیک رومنز ]جیسا دیس ویسا بھیس/[In Rome like Romans۔ لیکن میں تو ایسے نہیں رہ سکتی۔ میرے پیروں میں ایڑیاں پھٹ گئی ہیں۔ کالی سوکھی میل بھری۔ میرے بال جٹوں سے بھرے ہیں۔ کبھی کبھار پکڑ کر جوں بھی نکال لیتی ہوں۔ ارنڈی کے تیل سی مہک آتی ہے مجھ سے۔ اوہ، کیوں دیکھے گا سندیپن مجھے۔ پر اس سے بھی تو بیڑی کی بو آ رہی ہے۔ اس کی داڑھی بھی تو دھول سے بھوری ہے۔ پر پھر بھی وہ جنگل کا چیتا دکھتا ہے، چست، پھرتیلا۔ اس کی جنگلی آنکھوں کی لپک کے پیچھے پیچھے تو میں آئی۔ میں اپنے من کی آگ دونوں ہاتھوں میں بھرے نیند کے اندھیری غار میں اتر جاتی ہوں۔</p>
<p>کٹیا کی دیوار پر کوئی سایہ ڈول رہا ہے۔ کارو مانجھی کے کالے چکنے بدن پر چیتا سوار ہے۔ لال مٹی کی دھول اڑ رہی ہے۔ چیتے کے پنجے کالے پتھر پر کھرچنے نشان بنا رہے ہیں۔ چیتا ہنکار رہا ہے، کیسی کریہہ آواز۔ میں ڈر سے آنکھیں موند لیتی ہوں، بانہوں میں سر دھنسا کہاں گھس جانا چاہتی ہوں۔ کانوں میں جنگل کے ڈھول نقارے بج رہے ہیں اور میرے ڈر کی، گِھن کی کھٹی لہر میرے جسم سے پھوٹ رہی ہے۔ میں ہاتھ بڑھا اس بو کو روکنا چاہتی ہوں۔ میرے بڑھے لاچار ہاتھوں کو مانِک پرکیتھ تھام لیتے ہیں:</p>
<p>“ڈاکٹر کہتا ہے، ملیریا کا ڈلیریم delirium]/خفقان[ ہے۔ پتہ نہیں ٹائفسtyphus  میں کیا کیا بک رہی تھی۔”</p>
<p>“مانِک پرکیتھ پروجیکٹ کے عہدیدار ہیں۔ انڈسٹریل انجینئر۔ آر اینڈ آر پالیسی امپلیمینٹ  implement]/لاگو[ کرانے آئے ہیں۔”</p>
<p>“اس دن یہی آپ کو جیپ میں لاد کر پروجیکٹ اسپتال لائے”، ڈاکٹر ویست باہر نکلتے بولتا ہے۔ مانِک پرکیتھ ذرا سا لال پڑ جاتے ہیں۔ کچھ دیر اور چپ بیٹھتے ہیں پھر مبہم سا “آتا ہوں۔”، کہہ چلے جاتے ہیں۔ میں کمرے کی ہری سکرٹنگ skirting]/ کمرے کی دیوار کی تختہ بندی[ دیکھتی ہوں، بسترے کی اجلی چادر دیکھتی ہوں، دیوار پر پروجیکٹ لوگو logo]/نشان [کا اگتا سورج دیکھتی ہوں، کھڑکی کے ہلتے ہوے پردے سے باہر کی ٹکڑا بھر دنیا دیکھتی ہوں۔ ہفتے بھر اسپتال میں ہوں۔ شپرہ آتی ہے، بم بابو آتے ہیں۔ رشید بھی آتا ہے۔ سندیپن نہیں آتا۔</p>
<p>مانِک پرکیتھ روز آتے ہیں۔ کبھی کبھی شام کو بروس چیٹون [Bruce Chatwin] پڑھ کر سناتے ہیں۔<br>
In the beginning the earth was infinite and murky plain, in the morning of the first day, the sun felt the urge to be born…<br>
] شروع میں زمین لامتناہی اور صفاچٹ میدان تھی، پہلے دن، سورج کو اگنے کی خواہش ہوئی[</p>
<p>اسی شام تارے اور چاند بھی پیدا ہوتے۔۔۔ تو ایسا ہوا، اس پہلی صبح، کہ ہر پرکھ نے سورج کی گرمی کا دباؤ اپنے پوپٹوں پر محسوس کیا اور محسوس کیا اپنے جسم سے بچوں کو جنم لیتے ہوے۔ سانپ آدمی نے محسوسا سانپوں کو اپنے ناف سے پھسل کر نکلتے ہوے۔۔۔ اپنے گڈھوں کے تلوں پر آدی باسی انسان نے پہلے ایک پاؤں ہٹایا پھر دوسرا۔ پھر انھوں نے اپنے کندھوں کو سکوڑا پھر بانھوں کو۔ انھوں نے اپنے جسم کو مٹی کیچڑ سے باہر نکالا، جھاڑا۔ ان کی آنکھیں چٹ سے کھلیں۔ انھوں نے اپنے بچوں کو کھلی دھوپ میں کھلتے دیکھا۔ ان کی جانگھوں سے کیچڑ آنول نال کی طرح گرا۔ نوزائیدہ کے پہلے رونے کی طرح پھر ہر پُرکھ نے انا منھ کھولا اور کہا، میں ہوں۔ اور یہی پہلا اور بعد کا پہلا کام تھا، نام رکھنے کا۔ سب سے اسرار بھرا اور سب سے مقدس پرکھوں کے آدی گیت کا پہلا دوہا۔ اور اس طرح انھوں نے گایا ندیوں کو، نالوں کو، پہاڑوں کو، ریگستانی ٹیلوں کو۔ انھوں نے شکار کیا، بھوج کھایا، پیار کیا، رقص کیا، موت دی، پائی۔ جہاں جہاں وہ گئے ان راستوں پر انھوں نے گیتوں کی پگڈنڈیاں چھوڑیں۔ پورے سنسار کو انھوں نے گیت کی چادر میں لپیٹ لیا۔ اور جب پوری دنیا گا لی گئی، وہ تھک چلے تھے۔ ان کے ہاتھ پیر میں برسوں کا سکوت سرایت کرنے لگا۔ کچھ وہیں جہاں کھڑے تھے زمین میں سما گئے۔ کچھ غاروں میں بلا گئے۔ کچھ اپنے دائمی گھروں میں پانی کے کنؤوں میں جہاں سے وہ پیدا ہوے تھے، کھیت ہو گئے۔ سب کے سب آخر واپس اندر وہیں چلے گئے جہاں سے وہ آئے تھے۔</p>
<p>میں ان کی بھاری گہری آواز کے جادو میں اتر جاتی ہوں۔ ریشے سا چھیل چھیل کر الٹ پلٹ کر دیکھتی ہوں۔ ہتھیلیوں میں باندھ کر روک رکھنا چاہتی ہوں۔ پھر کب آنکھیں مند جاتی ہیں۔ میں سندیپن کو بھولنا چاہتی ہوں۔ اچھا ہوا بولنگیر گیا۔ میں مانِک پرکیتھ کو ادھ کھلی آنکھوں سے دیکھتی ہوں، میری دکھائی پر لال پڑتے ہوے دیکھتی ہوں۔ پھر اداس ہو جاتی ہوں۔ نہ میں ناچ سکی نہ جی سکی۔ میری سوکھی کلائیوں کی نیلی لکیروں پر کس سفر کی عبارت اور لکھی ہے یہ پڑھنا چاہتی ہوں۔ گھر سے نکلے کتنے مہینے بیت گئے پر نہ ماں کی یاد ستاتی ہے نہ بابا یاد آتے ہیں۔ ایسی ہاری ہوئی حالت میں بھی نہیں۔ جب بلندی پر جاؤں گی تب یاد کروں گی۔ ابھی یہ لگژری luxury]/تعیش[ اپنے کو نہیں دینا۔ میرا گیت ابھی ادھورا ہے۔ اس کے سُر تال سب بھینگے ہیں۔ سب طرف رف ایجیز rough edges]/کھردرے کنارے[۔ کسی رندے سے رگڑ گھس کر پورے جیون کو چکنا کرنا ہے۔ پر کیوں۔ ایسا بھی کیا۔ پوروں پر روکھا سا کچھ رات دن لگتا نہ رہے صرف اسی لیے؟ صرف صرف اسی لیے۔ ایسے بےسہارے اکیلےپن میں گرم آنسو کنپٹی پر بہہ کر روکھے بالوں میں جانے کب اور کتنا جذب ہوتے رہے ہیں، ایسا جان لینے والا بھی جب کوئی نہیں تو ان کا ایسے بہہ جانے کا بھی کیا فائدہ۔ رات کے گم سناٹے میں خود ہی اپنی پتلی بانہوں کو سہلاتی ہوں، کبھی چھاتیوں کو مٹھی میں بھر لینے کی ناکام کوشش کرتی ہوں۔ زندہ ہوں، اس بھر کے لیے۔ ٹھنڈی بےجان، بےروح۔ مرے ہوے ماس کا لوتھڑا بھر۔ کس گرمی، کس حرارت کی تلاش میں بھٹکتی رہی۔ لوہے کے پلنگ کی سلاخیں اتنی سرد ہیں۔ میں اپنے گرم ماتھے کو ٹکا دیتی ہوں۔ کھڑکی سے ٹکڑا بھر اندھیرا اندر آتا ہے، پھر دھیرے سے پورے وجود میں پسر جاتا ہے، سب طرف۔ کوئی کونا اچھوتا نہیں بچتا۔ نہ رات میں نہ صبح کو۔</p>
<p>“مجھے کیا سکھاؤ گی، ‘ہو’ کہ ‘منڈاری’؟ بولتی کون سی بھاشا ہو؟” میری مسکراہٹ کمزور ہے۔ اس کی ہنسی پِھک سے کھلتی ہے۔ بےآواز دہری ہو جاتی ہے کسی انجانے خوشی سے۔ اوہ کیسا بھولا سہج من ہے اس کا۔ میرے کلیجہ میں ٹیس اٹھتی ہے۔ کیسی تو حیرانی سے دیکھتی ہوں، اسے۔ چھ مہینے کے بچہ کو پیٹھ سے باندھے آئی ہے مجھے دیکھنے، پانچ کوس چل کے۔ اس کے گودنے سے بھرے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لے کر سہلاتی ہوں۔ کتنے کڑے کھردرے ہاتھ۔ کیسا سکھ مل رہا ہے۔ آتما تک کچھ بھیگ جاتا ہے۔</p>
<p>“دیدی بہت زیادہ بیمار ہے؟”</p>
<p>باہر کسی وارڈ بوائے سے پوچھ رہی ڈُمری کے آواز کی بےچینی کہیں میرے من کے آس پاس گھومتی ہے، منڈلاتی ہوئی چیل جیسے۔ مجھے کوئی چیر رہا ہے ریشہ ریشہ۔</p>
<p>رات آتی ہے، دن کسی پھسلتی بہتی ندی سا بہہ جاتا ہے۔ سب کے چہرے گڈ مڈ ہوتے ہیں۔ کبھی مرِدُل اپنے ہاتھوں میں چاپسٹکس تھامے مجھے دھمکاتا ہے، یو فرِجڈ بِچ، پر اسے آرام سے پرے ہٹا کر مانِک آنکھیں موندے کسی آباو اجداد کا آدی گیت سنانے لگتے ہیں۔ اس گیت پر جنگل میں ایک ایک کر کے جانور، پیڑ پہاڑ کھڑے ہوتے ہیں اور گاؤں گھر کی عورتیں جھوم جھوم کر ناچتی ہیں اسی سنگیت کے لے میں۔ میں بھی ان میں سے ایک ہوں، ایک ہوں۔ خوشی کے بہتے دھن پر تیرتی میں پھر کیا دیکھ کر ہکابکا رہ جاتی ہوں۔ پسینے سے لت پت کیا کیا بڑبڑاتی ہوں، رات دن۔</p>
<p>سب سپنا ہے، یہ کیا کسی نے نہیں بتایا تمھیں؟ کوئی لڑکی کتنا کتنا بھٹکے گی۔ لوٹو اب لوٹو۔ بڈھی کے سن سے سفید بال اور کالے جُھڑیائے چہرے سے کٹھورتا برستی ہے۔ اس کی آنکھیں سانپ کی آنکھیں ہیں۔ ایک بار بھی پلک نہیں جھپکتی۔ کُبڑ سے دوہرا جسم کسی جادو سے سیدھا کر اپنی انگلی میری طرف بڑھاتی ہے، لوٹو لوٹو۔ پیچھے سندیپن ہنستا جاتا ہے، بےتحاشہ، کارو کو اپنے کندھے سے سٹ کر ہنستا ہے۔ بوڑھی ٹوٹکے کا پتّا اور بوٹی میرے سرہانے رکھتی ہے۔ اس کی پیٹھ پھر دوہری ہو جاتی ہے۔ دروازے پر مڑ کر ایک بار دیکھتی ہے، انگلی بڑھا کر اشارہ کرتی ہے۔ اندھیرا پھر گرنے لگتا ہے۔</p>
<p>صبح میں بےچین ہوں۔<br>
“گھر جائیں گی کیا؟” مانِک پوچھتے ہیں۔ “میں انتظام کروا دوں گا۔”<br>
راشد کہتا ہے، “میں چلوں گا ساتھ۔”<br>
“نہ”، میں سر ہلاتی ہوں۔</p>
<p>دروازے پر بوڑھی کھڑی ہے۔ مٹ میلی ساڑھی کے نیچے اس کے کالے روکھے پیر میں دیکھتی ہوں۔ برسوں پرانے پیڑ کا سخت چھال بھرا تنا، موٹے کھردرے انگوٹھے اور انگلیاں۔ سب سیدھے ہیں الٹے نہیں۔ اس کا چہرہ سخت ہے۔ کچھ بولتی نہیں۔ بس آ کر ہتھیلیوں میں مسی تسی پتوں کی پوٹلی میرے سرہانے رکھ، نکل جاتی ہے۔ میری زبان تالو سے سٹ گئی ہے۔ مانِک چپ کھڑے ہیں۔</p>
<p>میں ہکلاتی ہوں، “یہ کیسے آئی؟”<br>
“کون؟ کس کی بات کر رہی ہیں؟”<br>
“ابھی بھی ڈلیریم ہے شاید۔” وہ دھیرے سے سر ہلاتے ہیں۔</p>
<p>“ڈُمری کو بلوا دیجیے”، میں بڑبڑاتی ہوں۔” لمبی سانولی ڈُمری اپنے بچے کو پیٹھ پر لادے آئے گی صرف مجھے دیکھنے۔ جنگل کا میٹھا سہج لوک لے کر آئے گی، اپنے ساتھ۔ سب فطری، ستھرا، صاف۔ صاف میٹھا پانی۔ کتنی پیاس ہے۔ کیسے بجھے گی۔ میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی ہوں۔ مانِک گھبرا گئے ہیں۔</p>
<p>رات بم بابو رکے ہیں اسپتال میں۔ کمرے میں حبس لگتا ہے۔ ایسا بڑبرا کر کرسی کھینچ باہر کوریڈور corridor]/برآمدہ[ میں چلے جاتے ہیں۔ بم بابو کے چہرے میں مجھے ایک اطمینان دِکھتا ہے۔ سفید اوپر کو اینٹھی ہوئی بمپلاٹ مونچھیں۔ چہرہ ایک دم سنگین ہو جاتا، اگر ناک ایسی گول مٹول نہ ہوتی۔ چھتری ہوئی بھنوؤں کے نیچے آنکھیں بھی ایک دم نیک۔ ہر آدھے گھنٹے میں جھانک لیتے ہیں۔</p>
<p>“کچھ درکار ہو تو کہیے گا۔”</p>
<p>میرے منھ سے آواز نہیں نکلتی۔ میں کہتی ہوں، یہیں آ جائیے، بیٹھیے، بتائیے اپنے بارے میں، لے جائیے مجھے اس اسپتال کے اداس کمرے سے باہر۔ میرے منھ سے آواز نہیں نکلتی۔ آدھی رات بیت گئی ہے۔ کوریڈور میں سائیں سائیں ہوا بہنے لگی ہے۔ کھڑکی کے شیشے سب چٹخے ہوے ہیں۔ بم بابو کرسی اندر کمرے میں کھینچ لائے ہیں۔ ان کا سر ایک طرف ڈھلک گیا ہے۔ آدھا چہرہ نیچے بہہ گیا ہے، ڈھیلے ماس کا پِنڈ۔ ناک سے گھراہٹ نکل رہی ہے۔ ان کی بےخبر گہری بےخبر نیند سے مجھے بےطرح حسد ہوتا ہے۔</p>
<p>مہوے کے پھولوں پر مجھے سندیپن لے رہا ہے۔ اس کے ہونٹ نشہ سے بھاری ہیں۔ میرے ہلکے ہیں۔ اس کی انگلیاں سخت ہیں، میری کومل۔ وہ بھاری ہے۔ میں ہلکی ہوں۔ اس نے اپنا چہرہ میرے چہرے پر ٹکا دیا ہے، کومل۔ اس کی جِلد نمکین ہے، سوندھی مٹی اور کالا پہاڑ، کِل کِل بہتا جھرنا۔</p>
<p>“میں تمھیں بھور کی اوس دینا چاہتا ہوں، رات کا اندھیرا بھی”، اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں سے کہتے ہیں۔<br>
“اور میں تمھیں اپنے بالوں کی مہک دیتی ہوں۔“ میں بال پھیلاتی ہوں۔<br>
“میں تمھیں ہوا دیتا ہوں، اور پانی۔”<br>
“میں اپنی ناف کی گہرائی، اس کے پھول۔” میں مہکتی ہوں۔<br>
“میں تمھیں اپنی سوچ دیتا ہوں۔”<br>
“میں تمھیں اپنی سانس۔” میری سانس گنگناتی ہے۔<br>
“میں تمھیں سوچتا ہوں۔”<br>
“میں تمھیں سوچتی ہوں۔”<br>
میں ہنسنے لگتی ہوں، دھیمے دھیمے۔<br>
اس کی ہنسی میری ہنسی کا ہاتھ تھام لیتی ہے۔<br>
میں کہتی ہوں، مجھے چکرگھنی دلاؤ گے؟</p>
<p>وہ میری بانہہ تھام لیتا ہے۔ میں ہوا میں ناچتی ہوں۔ میرے بال کھل جاتے ہیں۔ میری بانہیں میرے سر کے پیچھے آسمان تھام لیتی ہیں۔ وہ مجھے تھام لیتا ہے۔</p>
<p>“تھم لو اب ذرا۔” وہ میری سانسوں کو تھام کر کہتا ہے۔<br>
“تھم گئی ذرا۔” میں سانسوں کو اسے پکڑا کر کہتی ہوں۔<br>
میری سانس کو ہوا میں پھونک کر کہتا ہے: “اب؟”<br>
“اب۔” میں جواب دیتی ہوں۔ رات کو مٹھی میں بھر بھر کر میں مسل دیتی ہوں۔ اس کے چہرے پر ایک بار مسل دیتی ہوں۔<br>
“آج اچھی دکھتی ہیں۔” بم بابو جمائی لیتے ہیں۔<br>
“سینٹر سے ہو کر آئیں ہم؟” پھر فٹافٹ نکل پڑتے ہیں۔</p>
<p>جانے ایسے کتنے دن بیتے۔ ایک ایک کر کے، ایک کے بعد ایک۔ شہر لوٹنا پھر ایک ٹھیک ٹھاک نوکری تب جب امید نہ تھی۔ پیسے، سکھ آسانی سب لیکن پھر بھی کچھ چُھوٹا چُھوٹا۔ کون سا خبط، کیسی سنک؟ اتارا گیا کپڑا ہو جیسے جسم۔ گیا ہوا موسم ہو جیسے من۔</p>
<p>“اوہ! سندیپن ہاؤ آئی سٹل یرن فار یو۔”<br>
Oh! Sandeepan, how I still yearn for you.] /اوہ ! سندیپن مجھ ابھی بھی کس قدر تمھاری آرزو ہے۔[<br>
بِدپّا کہتا ہے، “ہی واز اے کیڈ۔”<br>
He was a kid.]/ نرا بچہ تھا وہ۔[<br>
“نو، ہی واز گے۔”<br>
No, He was a gay.]/ نہیں، ہم جنس پرست تھا۔[<br>
“سو؟”</p>
<p>“سو وہاٹ؟ آئی سٹل یرن فار ہم۔  So what? I still yearn for him]/سو کیا؟ مجھے اب بھی اس کی خواہش ہوتی ہے۔ [میرے اندر کوئی سوراخ ہے جو بھرتا نہیں کبھی۔”</p>
<p>“اور میرے سوراخ کا کیا؟ میرا کیا؟ تم کیا کبھی سمجھے گا ]سمجھو گی[ نہیں دلنواز؟ نینو انوزبل مین ائپوتانو، نوو ننو چوڑلیوو؟” )میں انوسبل مینinvisible] man/غائب آدمی [ ہو جاؤں گا اور تم دیکھو گی بھی نہیں؟ (<br>
اس کا براؤن منکی فیس بجھ جاتا ہے۔</p>
<p>جانے کیا کیا بولتا ہے یہ چھوکرا، میں چیزیں سمیٹتی ہوں۔ تھوڑا سا جنگل میں سمیٹ لائی تھی اپنے ساتھ، اب وہی کھینچ رہا ہے۔ کیا جانے اس بوڑھی کا ٹوٹکا ہو کوئی۔</p>
<p>“او بِدپّا کانٹ یو سی،Oh Bidappa! Can’t you] /او بِدپّا دیکھو[ مجھے لوٹنا ہی ہو گا۔” بِدپّا ناراض ہے مجھ سے، بہت ناراض۔<br>
“یو آر رننگ آفٹر ہم۔” you are running after him.] / تم اس کے پیچھے بھاگ رہی ہو۔[<br>
“نہیں۔”<br>
“پھر میں کنسیڈ concede]/تسلیم[ کرتی ہوں۔”<br>
“ایون اف آئی واز ہی وڈنٹ ہیو می۔”<br>
Even if I was. He wouldn’t have me.]/ اگر میں اس کے پیچھے بھاگ بھی رہی ہوتی تو تب بھی وہ مجھے قبول نہ کرتا۔[<br>
“لائیک یو وڈنٹ ہیو می۔” Like you wouldn’t have me.]/ جیسے تم مجھے نہیں کرتی۔[<br>
میں ہنسی سے دوہری ہو جاتی ہوں۔</p>
<p>“کیا بِدپّا، کبھی تو مذاق چھوڑو، ورنہ ایک دن میں سچ مچ تمہاری بات سچ مان لوں گی اور تمھارے گلے پڑ جاؤں گی۔” میری ہنسی رکتی نہیں۔ اس کی آنکھیں اداس ہیں۔ پھر وہ بھی ہنسنے لگتا ہے۔</p>
<p>اسٹیشن پر مستعدی سے میرا سامان چڑھاتا ہے اور پلیٹ فارم پر آخر تک ہاتھ ہلاتا ہے۔ پھر گلا پھاڑ کر چلاتا ہے،<br>
“دل نواز تم بہت اچھی ہو، نوو چالا منچیدانوی۔”</p>
<p>(زمین اکوائیر ہو گئی۔ گاؤں والوں کو خوب پیسہ ملا۔ کچھ نشہ میں اڑایا، کچھ دارو پر، کچھ عورت پر۔ کچھ بڑایا کچھ لٹایا۔ خوب کھایا خوب پیا۔ پیسہ پنکھ لگا کر اڑا، مرغی جیسا، بطخ جیسا، تیتر بٹیر جیسا۔ گاؤں جنگل جشن منایا مہینوں دن تک۔ اتنا پیسہ کس نے دیکھا تھا۔ رات دن نشہ ہی نشہ۔ عورت کا، دارو کا، پیسہ کا۔ کھیت بُھولے، جنگل بُھولے، گائے بکری بھینس مرغی سب بُھولے۔ مچھلی کا پوکھر بھولے، پیڑ کے پکھیرو بُھولے۔ ٹوٹکے، ہنر سب بُھولے۔ جیسے پورے گاؤں میں کوئی بُھولنے کی وبا پھیلی۔ ایک ایک کر کے سب بُھولے۔ اور جب سب بھول چکے اور بُھولنا پوری طرح سے پورا ہوا تب جا کر یاد آنا شروع ہوا۔ سب سے پہلے کھیت یاد آیا، پھر جنگل یاد آیا۔ مچھلی، مرغی، بھینس یاد آئے۔ اپنی عورت یاد آئی، اپنا بچہ یاد آیا۔ پر یاد تو آیا، اس سے کیا۔ جب یاد آیا تو لوٹے۔ لوٹے تو دیکھا کہ لوٹنے کی جگہ نہیں۔ گاؤں کی زمین بلا گئی تھی۔ مٹی کے کوڑے گئے ڈھوہ تھے، مشین تھی، کانٹوں کی باڑ تھی۔ “نو ٹریسپاسنگ” No trespassing]/ کوئی مداخلت بے جا نہیں ہو گی[ کا بورڈ تھا۔ ٹریکٹر اور دیوہیکل کرین تھے۔ جگہ جگہ “سرکاری جائیداد” کا نوٹس تھا۔ پیلے جیکٹ اور پیلے سیفٹی ہیلمیٹ میں جانے کہاں کے مزدور تھے۔ عجب سی بھاشا بولنے والے ٹھیکیدار تھے۔ جیپ پر گھومنے والے سرکاری اہلکار تھے۔ خاکی وردی والے رائفل والے سکیورٹی گارڈز تھے، تعینات، مستعد۔</p>
<p>باؤنڈری وال[boundary wall]  اور چینلنک فینس[chain-link fence]  باڑ کے باہر کھڑے ہکّا بکّا، نشہ اترے مرد تھے، جھنڈ کے جھنڈ۔ باڑے کے اندر ہنکائے گئے جانور۔ بس ایک فرق تھا، یہ باڑے کے باہر تھے۔ ان کے پاس اب کچھ نہیں تھا، نہ پیسہ، نہ کھیت۔ اور ان کو اپنے مطابق ہانکنے کے لیے جلدی ہی کچھ سماج وادی مورچوں کے کارکن جُتنے والے تھے، کچھ دلال۔ ان کی آڑ میں اپنا الو سیدھا کرنے۔ زمین کے بدلے نوکری کا نعرہ بلند کرنے والوں کی بھیڑ۔ کچھ کو کام ملے گا، صاف صفائی کا، مینٹیننینس maintenance]/دیکھ ریکھ[ کا، باغبانی کا، مزدوری کا۔ جنگل کے جنگلی جانوروں کو پالتو بنانے کا۔</p>
<p>ارتقا کے راستے پر اتنی قربانی کا تو حق بنتا ہے صاحب۔ پروجیکٹ کے ٹیمپرری temporary]/عارضی[ ٹاؤن شپ کے کلب میں بیٹھ کر، سگریٹ کے دھوئیں کے چھلّے اڑاتے جام سے جام ٹکراتے، بلڈی میری اور جِن وِد ووڈکا کے نشیلے گھونٹ بھرتے، ٹینس کے ایک گیم کے بعد صاحب لوگ ایسی کتنی گرماگرم بحث سے اپنا ہاضمہ درست اور بھوک تیکھی کریں گے۔ میگزینز اور اخباروں میں دھواں دار، طرار رپورٹنگ ہو گی۔ میدھا پاٹکر اور ارُندھتی راے، سندرلال بہگنا اور بابا آمٹے کو یاد کریں گے۔ انفراسٹرکچر درست کرنے کی بات ہوگی۔ چین جب گئے تب دیکھا، ابھی ہم انفراسٹکچر میں کتنا پیچھے ہیں، سڑک، بجلی پانی۔ امریکہ اور یورپ تو خیر چھوڑ ہی دیں ابھی۔ گلوبل پاور ہونے کے لیے پہلا قدم کیا ہے، جیسی بحث ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں پسینہ چُھڑوائیں گی۔ پر ان قبائیلیوں کو کون یاد کرے گا؟</p>
<p>)کوئی لڑکی جو کسی لڑکے کے پیچھے پاگل ہوتی وہاں پہنچی اور پاگل ہو گئی ان کے لیے؟ کیوں بھئی؟ کیوں بھلا؟ ایسی بےوقوفی کا مطلب کیا۔ اچھی خاصی نوکری چھوڑ کر، مارکن کی موٹی ساڑی پہن کر گاؤں میں رہ کر کیا کر لے گی آخر؟ کوئی ڈُمری کو پڑھا دے گی، کسی بوڑھے کی حق کی لڑائی کے لیے مانِک پرکیتھ کے دفتر پہنچ کر لکھا پڑھی کرے گی، کسی کا معاوضہ جلدی مل جائے اس کی لڑائی لڑے گی۔ اپنے حصہ کا جتنا بن پڑتا ہے اتنا بھر کرے گی اور کیا۔ بم بابو سوچتے ہیں۔ خوب سوچتے ہیں آج کل۔ خوب خوش بھی رہتے ہیں۔ خوب مست ہونے والی خوشی نہیں۔ بس ٹھہرے، ہوے پانی جیسے ساکن خوشی۔ آتما جڑا جائے ایسی خوشی۔ چائے کا پانی چڑھاتے ہیں۔ سورج ڈوبنے کو ہے۔ ڈوبتے سورج کو تاکتے ہوے چائے پینے کی خوشی، دن بھر کے تھکان سے چور ہونے کی خوشی۔ سانجھ ڈھل رہی ہے۔ بس یہ لڑکی آ جائے، دن بھر کی تھکی ہاری ہو گی۔ بم بابواپنایت سے سوچتے ہیں۔ دور پروجیکٹ ٹاؤن شپ میں جگرمگر بتیاں چمچما رہی ہیں۔ باؤنڈری وال کے اس پار ابھی بھی پیلا مٹ میلا اندھیرا ہے۔) </p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/dilnawaz-tum-bohat-achi-ho/">دلنواز تم بہت اچھی ہو!</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/dilnawaz-tum-bohat-achi-ho/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گھاس کا خواب اور دیگر نظمیں</title>
		<link>https://laaltain.pk/ghaas-ka-khawab-and-other-poems/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/ghaas-ka-khawab-and-other-poems/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[احسان اصغر]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 12 Oct 2025 05:14:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[احسان اصغر]]></category>
		<category><![CDATA[افغان شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[الیاس علوی]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی ادب]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی ادب کے اردو تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[فارسی شاعری]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=33877</guid>

					<description><![CDATA[<p>چاچا ! جب تم کنویں سے پانی نکالتے ہو<br />
کیا اس سے خون کا ذائقہ نہیں آتا ؟ </p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/ghaas-ka-khawab-and-other-poems/">گھاس کا خواب اور دیگر نظمیں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><strong><a href="https://www.instagram.com/elyasalavi/" target="_blank">الیاس علوی</a> ایک نمایاں افغان شاعر اور بصری فنکار (visual artist) ہیں جو افغانستان کے صوبے دایکندی میں ایک ہزارہ خاندان میں 1982 میں پیدا ہوئے۔ جنگی حالات کے پیشِ نظر وہ ایران اور پھر آسٹریلیا ہجرت کر گئے، جہاں وہ فی الحال مقیم ہیں۔ وہ اپنی شاعری اور آرٹ میں جلاوطنی، شناخت، اور ظلم جیسے شدید انسانی تجربات کو موضوع بناتے ہیں، اور فارسی ادبی حلقوں میں انہیں جدیدیت پسند تحریک کی ایک اہم آواز سمجھا جاتا ہے۔ ان کے شائع شدہ شعری مجموعوں میں “من گرگ خیالبافی ھستم”، “بعضی زخم ھا”، اور “حدود” شامل ہیں، اور انہیں کئی بین الاقوامی ادبی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ معروف شاعر <a href="https://laaltain.pk/author/ehsaan-asghar/" target="_blank">احسان اصغر</a> نے ان کی چند نظموں کا فارسی سے اردو میں ترجمہ کیا ہے. </strong></p>
<figure id="attachment_33879" aria-describedby="caption-attachment-33879" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Elyas-Alvi.jpg"><img fetchpriority="high" decoding="async" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Elyas-Alvi.jpg" alt width="800" height="534" class="size-full wp-image-33879" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Elyas-Alvi.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Elyas-Alvi-300x200.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Elyas-Alvi-768x513.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></a><figcaption id="caption-attachment-33879" class="wp-caption-text">شاعر اور بصری فن کار الیاس علوی — بشکریہ نیشنل ایسوسی ایشن فار ویژیول آرٹسٹس</figcaption></figure>
<p><strong>گفتگو</strong><br>
میں نے اپنی بہن سے کہا<br>
شہر کے چوراہوں<br>
اہم شخصیتوں کے محلوں<br>
اور کابل کے مصروف بازاروں سے دور رہو </p>
<p>وہ بولی<br>
مگر یہاں تو موت یوں موجود ہے<br>
جیسے ہوا میں گرد وغبار<br>
ساری کھڑکیاں دریچے بند بھی کر دو<br>
تو یہ تمہارے کمرے میں پہنچ جائے گی ۔۔۔</p>
<p>۔۔۔۔</p>
<p><strong>نظم </strong></p>
<p>چاچا ! جب تم کنویں سے پانی نکالتے ہو<br>
یا چائے کو جوش دیتے ہو<br>
کیا اس سے خون کا ذائقہ نہیں آتا ؟ </p>
<p>۔۔۔۔۔</p>
<p><strong>میں یقین نہیں کروں گا </strong></p>
<p>میری محبوب<br>
جب موت تمہارے تعاقب میں آئے<br>
کاش تپ دق کی صورت میں ہو<br>
یا سخت سردی کی شکل میں<br>
نہ کہ خود کش حملے کے نتیجے میں </p>
<p>تمہارے پاس مہلت ہو<br>
کہ تم جائزہ لے سکو اپنی یادوں کا<br>
اپنے جسم کے الگ الگ حصوں کا<br>
اور طے کر سکو اپنے جانے کا طریقہ<br>
یوں نہیں کہ تم گھر سے تو اپنے پیروں پہ نکلو<br>
اور پھر ہم صرف تمہارے جوتے دیکھ پائیں<br>
تمہارے ہاتھ تلاش کر سکیں نہ مسکراہٹ<br>
اور نہ ہی تمہاری نگاہیں </p>
<p>میں اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہوں<br>
تمہاری موت اور آخری سانس<br>
میری ہی انگلیاں تمہاری پلکیں موندیں<br>
لیکن ۔۔۔نہیں<br>
میں ابد تک یقین نہیں کر سکوں گا<br>
نہیں کر سکوں گا یقین ۔۔۔</p>
<p>۔۔۔۔۔</p>
<p><strong>گھاس کا خواب </strong></p>
<p>میری ماں کی فریاد<br>
صنوبروں سے گزری<br>
دریا سے گزری<br>
پہاڑ تک پہنچ گئی<br>
اور گھاس کی نیند خراب کر دی<br>
اور میں پہلی بار رویا<br>
بہت زور شور سے رویا<br>
عورتوں نے نیک مستقبل کے لیے اسپند (1) سلگایا<br>
بلائیں دور<br>
بلائیں دور </p>
<p>ٹھیک اسی لمحے تپ دق<br>
محلے کی سب سے حسین لڑکی کو ساتھ لے گیا<br>
ایک آدمی کو ہم آغوشی کے جرم میں سنگسار کر دیا گیا<br>
اور سڑک پہ بھوک ایک کتے کو بھنبھوڑ رہی تھی<br>
جب وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں گے<br>
کیا کوئی پہلی مرتبہ روئے گا ؟</p>
<p>۔۔۔۔۔</p>
<p><strong>وہ دل گرفتہ تھا </strong></p>
<p>شازیہ<br>
عبدالصمد<br>
شعیب<br>
نوراللہ<br>
عائشہ<br>
زمری<br>
حمید اللہ<br>
زبیدہ<br>
جلال الدین<br>
نصیب<br>
عقیلہ<br>
نور محمد<br>
جان آغا<br>
شفیقہ<br>
ایمل<br>
شہرزاد<br>
سب سو رہے تھے<br>
کہ ایک اداس امریکی سپاہی<br>
بستی میں وارد ہوا<br>
وہ دل گرفتہ تھا<br>
اس نے سگریٹ سلگائی<br>
وہ دل گرفتہ تھا<br>
اس نے اپنی بندوق کی طرف دیکھا<br>
بندوق جو دل گرفتہ تھی<br>
اس کے بعد اس نے سترہ بار لبلبی دبائی<br>
اور پھر آسودہ ہو کر<br>
اپنے ٹھکانے کی طرف لوٹ گیا ۔۔</p>
<p>1. <strong>اسپند</strong>: ایک جھاڑی نما پودا ہے (جسے اردو میں عام طور پر حرمل کہا جاتا ہے). اس کے سیاہ بیجوں کو عام طور پر نظر بد اتارنے کے لیے دھونی دینے اور روایتی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/ghaas-ka-khawab-and-other-poems/">گھاس کا خواب اور دیگر نظمیں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/ghaas-ka-khawab-and-other-poems/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>علامات اور نشانیاں</title>
		<link>https://laaltain.pk/alamaat-aur-nishanian-aaj-126/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/alamaat-aur-nishanian-aaj-126/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[آج]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 05 Oct 2025 19:05:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[آج 126]]></category>
		<category><![CDATA[اجمل کمال]]></category>
		<category><![CDATA[روسی ادب]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی ادب کے اردو تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[ندیم اقبال]]></category>
		<category><![CDATA[ولادیمیر نابوکوف]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=33861</guid>

					<description><![CDATA[<p>ہر شے ایک رمز ہے اور ہر شے کا موضوع اس کی ذات ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/alamaat-aur-nishanian-aaj-126/">علامات اور نشانیاں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><strong>ولادیمیر نابوکوف<br>
<a href="https://www.newyorker.com/magazine/1948/05/15/symbols-and-signs" target="_blank">انگریزی</a> سے ترجمہ: ندیم اقبال</strong></p>
<p>ولادیمیر نابوکوف کی یہ کہانی آج کے شمارہ 126 میں شامل ہے، خریدنے کے لیے اس نمبر پر وٹس ایپ کیجیے: 03003451649</p>
<figure id="attachment_33863" aria-describedby="caption-attachment-33863" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-126.jpeg"><img decoding="async" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-126-1024x1024.jpeg" alt width="800" height="800" class="size-large wp-image-33863" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-126-1024x1024.jpeg 1024w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-126-300x300.jpeg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-126-150x150.jpeg 150w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-126-768x768.jpeg 768w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-126.jpeg 1200w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></a><figcaption id="caption-attachment-33863" class="wp-caption-text">ولادیمیر نابوکوف کی یہ کہانی آج کے شمارہ 126 میں شامل ہے، خریدنے کے لیے اس نمبر پر وٹس ایپ کیجیے: 03003451649</figcaption></figure>
<p>گزشتہ چار برسوں میں اب چوتھی مرتبہ انھیں وہی مسئلہ درپیش تھا کہ ایک ایسے نوجوان کے لیے سالگرہ کا کون سا تحفہ لے کر جایا جائے جو ناقابلِ علاج حد تک مخبوط الحواس یا پاگل ہو چکا تھا۔ اسے کسی قسم کی کوئی خواہشات نہ تھیں۔ انسانی ہاتھ سے بنائی ہوئی اشیا اس کے لیے یا تو بدی کے چھتے جیسی تھیں اور ایسی ہلاکت خیز سرگرمی سے لرزاں اور فعال تھیں جسے صرف وہی محسوس کر سکتا تھا، یا پھر مجموعی انسانی زندگی کی ایسی کثیف آسائشیں تھیں جن کا اس کی مجرّد زندگی میں کوئی مصرف نہ تھا۔ ایسی بےشمار اشیا کو مسترد کرنے کے بعد، جو اُسے ناراض یا دہشت زدہ کر سکتی تھیں (مثلاً کل پُرزوں یا چابی سے چلنے والی کوئی بھی شے ممنوع تھی)، اس کے والدین نے لذیذ اور تازہ پھلوں کے مربے کا انتخاب کیا۔ دس مختلف پھلوں کے یہ مربے، دس چھوٹے چھوٹے خوبصورت مرتبانوں میں بند، ایک نفیس سی ٹوکری میں رکھے ہوے تھے۔</p>
<p>اس کی پیدائش کے وقت تک ان کی شادی کو ایک طویل عرصہ گزر چکا تھا اور اب وہ کافی بوڑھے ہو چکے تھے۔ خاتون کے رُوکھے مٹیالے بال لاپروائی سے ایک جوڑے میں باندھے گئے تھے۔ وہ سیاہ رنگ کے سستے ترین لباس پہنا کرتی تھی۔ اپنی ہم عمر عورتوں کے برعکس (مثلاً  مسز سول، ان کے سامنے والی پڑوسن، کا چہرہ میک اپ سے ہر وقت گلابی اور ارغوانی رہا کرتا تھا اور جس کے ہیٹ پر مصنوعی پھولوں کا ایک گچھا سجا رہتا تھا) اس کا سفید برفیلا چہرہ، موسمِ بہار کی عیب جُو روشنی میں بالکل سپاٹ اور پھیکا دکھائی دیتا تھا۔ اس کا شوہر، جو اپنے پرانے ملک میں ایک کامیاب کاروباری شخص تھا، اب یہاں نیویارک میں مکمل طور پر اپنے بھائی اضحاک کے سہارے زندگی گزار رہا تھا جو چالیس برس کے عرصے میں اب ایک حقیقی امریکن بن چکا تھا۔ اضحاک سے ان کی ملاقات شاذ و نادر ہی ہوا کرتی تھی اور انھوں نے اس کا نام شہزادہ رکھ چھوڑا  تھا۔</p>
<p>اس جمعے کو، جو اُن کے بیٹے کی سالگرہ کا دن تھا، ہر چیز غلط ہوتی چلی گئی۔ سب وے ٹرین میں دو سٹیشنوں کے درمیان خرابی پیدا ہو گئی اور اگلے پندرہ منٹ تک انھیں سواے اپنے تابعدار دل کی دھڑکنوں اور اخبارات کے صفحات پلٹنے کی آوازوں کے، کوئی اَور آواز سنائی نہ دی۔ ٹرین سے اتر کر انھیں جس بس میں سوار ہونا تھا، اس کے آنے میں تاخیر ہو گئی اور انھیں کافی وقت تک ایک گلی کے کونے پر اس بس کا انتظار کرنا پڑا اور بالآخر جب وہ بس آئی تو ہائی سکول کے باتونی بچوں سے ٹھساٹھس بھری ہوئی تھی۔ جب انھوں نے اس بھورے مٹیالے راستے پر چلنا شروع کیا جو ذہنی صحت کے ہسپتال کی طرف جاتا تھا تو بارش شروع ہو گئی۔ وہاں پہنچ کر انھیں مزید انتظار کرنا پڑا اور ان کے بیٹے کے بجاے (جو عموماً تیز تیز چلتا ہوا کمرے میں داخل ہوتا تھا، بڑھی ہوئی شیو، پریشاں حال، مہاسوں اور پھنسیوں بھرے چہرے پر خفگی اور آزردگی کا تاثر لیے) ایک نرس داخل ہوئی جسے وہ دونوں جانتے تھے مگر کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے تھے، اور چمکتے چہرے کے ساتھ انھیں بتایا کہ ان کے بیٹے نے ایک مرتبہ پھر اپنی جان لینے کی کوشش کی ہے۔ ویسے وہ ٹھیک تھا، اس نے مزید بتایا، مگر والدین سے ملاقات شاید اس کے ذہنی اختلال میں اضافہ کر کے مزید مضطرب کر دے گی۔ وہ جگہ ویسے بھی شکستہ حال اور ذلت آمیز حد تک عملے کی کمی کا شکار تھی اور وہاں چیزوں کو کبھی غلط جگہ رکھ کر بھول جانا اور کبھی بری طرح گڈمڈ کر دینا عام سی بات تھی، لہٰذا انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنا تحفہ وہاں دفتر میں نہیں چھوڑیں گے بلکہ اگلی مرتبہ اس سے ملاقات کے لیے آتے ہوے اپنے ساتھ لیتے آئیں گے۔</p>
<p><iframe width="560" height="315" src="https://www.youtube.com/embed/Gqgtoc2vIBI?si=tYzcqn70dNDzjOS1" title="YouTube video player" frameborder="0" allow="accelerometer; autoplay; clipboard-write; encrypted-media; gyroscope; picture-in-picture; web-share" referrerpolicy="strict-origin-when-cross-origin" allowfullscreen></iframe></p>
<p>عمارت سے باہر نکل کر عورت نے پہلے انتظار کیا کہ اس کا شوہر اپنی چھتری کھول لے، اور پھر اس کا بازو تھام لیا۔ وہ بار بار کھنکھار کر اپنا گلا صاف کر رہا تھا۔ وہ ایسا اُس وقت کیا کرتا تھا جب وہ پریشان ہوتا تھا۔ وہ دونوں سڑک کی دوسری جانب بنے ہوے بس اسٹاپ کی چھت کے نیچے آکھڑے ہوے اور اس کے شوہر نے اپنی چھتری بند کر لی۔</p>
<p>چند قدم دور ہوا میں لہراتے اور پانی ٹپکتے ہوے ایک درخت کے نیچے، ایک ننھا سا، بے پروبال پرندہ، پانی کے ایک چھوٹے سے گڑھے میں بےبسی سے پھنسا ہوا پھڑپھڑاتے ہوے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ بس سے سب سٹیشن تک کے لمبے سفر کے دوران اس کے اور اس کے شوہر کے درمیان ایک لفظ کا بھی تبادلہ نہیں ہوا۔ ہر مرتبہ جب بھی اس کی نظر اس کے سِن رسیدہ ہاتھوں پر پڑتی جو چھتری کے دستے کو گرفت میں لیے اینٹھے ہوے تھے، اور ان کی پھولی ہوئی رگیں اور جلد پر پڑے بھورے دھبے نظر آتے تو اسے اپنے آنسو روکنا مشکل ہو جاتا تھا۔ جب اس نے اپنے ذہن کو کسی اَور خیال میں لگانے کے لیے اِدھر اُدھر دیکھا تو اسے یہ دیکھ کر ایسا صدمہ ہوا جس میں رحم، ترس، دردمندی اور حیرت کی آمیزش تھی کہ ایک مسافر لڑکی جس کے بال گہرےکتھئی تھے اور پیروں کے سرخ ناخن انتہائی غلیظ تھے، ایک عمررسیدہ عورت کے کاندھے پر سر رکھے رو رہی تھی۔ اس بوڑھی عورت کی شکل کس سے مشابہ تھی؟ اس کی شکل ربیکا بوری سوونا سے ملتی تھی جس کی بیٹی نے برسوں  پہلے، مِنسک میں، سولوویشک خاندان کے ایک فرد سے شادی کرلی تھی۔</p>
<p>پچھلی مرتبہ جب اس لڑکے نے یہ کوشش کی تھی تو، ڈاکٹر کے بقول، اس نے جو طریقہ اختیار کیا تھا وہ قوتِ اختراع کا ایک شاہکار تھا۔ وہ تو کامیاب بھی ہو گیا ہوتا اگر ایک حاسد مریض نے یہ نہ سوچا ہوتا کہ وہ اُڑنا سیکھ رہا ہے، اور بروقت اسے پکڑ کر روک نہ لیا ہوتا۔ دراصل وہ اپنی دنیا میں ایک شگاف پیدا کر کے فرار ہونا چاہتا تھا۔ اس کے فریبِ خیال اور فکری مغالطوں کا پورا ایک نظام تھا جو ایک ماہانہ سائنسی جریدے میں شائع ہونے والے تفصیلی مضمون کا موضوع بھی رہا تھا اور جو ذہنی صحت کے اس ہسپتال کے ڈاکٹر نے اُن دونوں کو پڑھنے کے لیے بھی دیا تھا، لیکن وہ اور اس کا شوہر، بہت عرصہ پہلے ہی، گہرے سوچ بچار کے بعد، اپنی حد تک، اسے سمجھ چکے تھے۔ اس مضمون کا عنوان ’ایک سے زائد حوالہ جات والا مالیخولیا‘(Referential mania) تھا۔ اس انتہائی غیرمعمولی مرض میں مریض یہ تصور کر لیتا ہے کہ اس کے گرد رونما ہونے والی ہر بات مخفی طور پر اس کے وجود اور شخصیت سے متعلق ہے۔ وہ حقیقی لوگوں کو تو اس سازش سے خارج کر دیتا ہے کیونکہ وہ خود کو دیگر لوگوں سے بےپناہ ذہین سمجھتا ہے؛ وہ جہاں جہاں جاتا ہے مظاہرِ قدرت سایہ بن کر اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ گھورتے ہوے آسمان پر چھائے بادل، سست رو نشانیوں کے ذریعے، ایک دوسرے کو اس کے متعلق ناقابلِ یقین حد تک تفصیلی معلومات بھیجتے ہیں۔ شام ڈھلے، درخت، سادہ ترین حروفِ تہجی میں، پُراسرار اشاروں یا حرکات کے ذریعے اس کے عمیق ترین خیالات پر گفتگو کرتے ہیں۔ بلور، داغ دھبے اور سورج کی کرنیں ایسے نقش بناتی ہیں جو انتہائی ہولناک ہوتے ہیں، اور ان نقوش میں ایسے پیغامات مخفی ہوتے ہیں جنھیں اسے لازماً ایک خفیہ عبارت میں پڑھنا اور سمجھنا ہوتا ہے۔ ہر شے ایک رمز ہے اور ہر شے کا موضوع اس کی ذات ہے۔</p>
<p>اس کے اردگرد ہر جگہ جاسوس پھیلے ہوے ہیں جن میں سے کچھ تو صرف غیرمتعلق نگران ہیں، مثلاً شیشے کی اشیا کی سطحیں اور ساکن تالاب، جبکہ دوسرے، جیسے دکانوں میں لٹکے کوٹ، متعصب اور بدظن، نظر رکھنے والے ہیں جو دلی طور پر اسے جان سے مارنا چاہتے ہیں۔ کئی اَور، مثلاً بہتا پانی، طوفانِ باد و باراں وغیرہ، پاگل پن کی حد تک ہسٹیریا کا شکار ہیں اور اس کے متعلق ایک انتہائی مسخ شدہ رائے رکھتے ہیں اور مضحکہ خیز حد تک اس کی سرگرمیوں کی تشریح اور توضیح کرتے رہتے ہیں۔ اسے ہمیشہ چوکنا رہنا ہو گا اور اپنی زندگی کے ہر لمحے اور ہر دور میں اشیا کی لہردار حرکتوں میں مخفی خفیہ پیغامات کو پڑھنا ہو گا۔ وہ ہوا جو وہ سانس کے ذریعے اپنے بدن میں لیتا ہے وہ تک نشان زد ہوتی ہے اور درجہ بندی کرکے محفوظ کر دی جاتی ہے۔ اگر تو یہ تمام تر اشتیاق اور تعلق اس کے گِردوپیش تک ہی محدود رہتے تو کوئی بات نہ تھی مگر غم تو یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے! ہر بڑھتے فاصلے کے ساتھ ساتھ، وحشیانہ بدنامی اور رسوائی کے تیز رو دھارے اپنے حجم، مقدار اور طرّاری میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اس کے خون کے خلیوں کے تاریک سائے، جو اپنے ناپ سے لاکھوں گنا بڑے کر دیے جاتے ہیں، بڑے بڑے میدانوں میں اُڑتے پھرتے ہیں اور ان سے بہت پرے سنگِ  خارا کی سی سختی، مضبوطی اور اونچائی والے پہاڑ اور کراہتے ہوے صنوبر کے اونچے درخت، باہم مل کر اس کے وجود کی مطلق سچائی کو بیان کرتے ہیں۔</p>
<p>……….</p>
<p>جب وہ سب وے کی گڑگڑاہٹ اور بدبودار فضا سے باہر آئے تو  دن کی آخری تلچھٹ سڑک کی روشنیوں سے گڈمڈ ہو رہی تھی۔ وہ رات کے کھانے کے لیے مچھلی خریدنا چاہتی تھی لہٰذا اس نے مربے کے مرتبانوں والی ٹوکری شوہر کے حوالے کی اور اسے گھر جانے کے لیے کہا۔ جب وہ اپنے کرائے پر لیے گھر پہنچا اور تیسری منزل کی سیڑھیاں چڑھ کر اپنے دروازے کے سامنے پہنچا تو اسے یاد آیا کہ چابیاں تو وہ دن میں کسی وقت بیوی کو دے چکا تھا۔ وہ خاموشی سے سیڑھیوں پر بیٹھ گیا اور خاموشی ہی سے اُس وقت اٹھ کھڑا ہوا جب دس منٹ کے بعد اس کی بیوی بہ دقّت سیڑھیاں چڑھتی اوپر پہنچی۔ وہ پژمردگی سے مسکرا رہی تھی اور اپنی بےوقوفی پر خود کو ملامت کرتے ہوے تاسّف سے سر ہلا رہی تھی۔ وہ دونوں اپنے دو کمروں کے فلیٹ میں داخل ہوے۔ وہ فوراً آئینے کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ دونوں انگوٹھوں کی مدد سے، اپنے منھ کو زور لگا کر کھولتے اور ایک مضحکہ خیز شکل بناتے ہوے اس نے اپنی مایوسانہ حد تک تکلیف دہ مصنوعی بتیسی باہر نکالی۔ جب تک عورت نے میز پر کھانا لگایا، وہ اپنا روسی زبان کا اخبار پڑھتا رہا۔ یونہی اخبار پڑھتے ہوے وہ پتلا دلیہ بھی کھاتا رہا جس کے لیے دانتوں کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ وہ اس کی مزاج آشنا تھی اس لیے خاموش رہی۔</p>
<p>جب وہ سونے کے لیے چلا گیا تب بھی وہ ڈرائنگ روم میں بیٹھی رہی اور میلی کچیلی تاش کی گڈیاں اور پرانے فوٹوؤں کے البم دیکھتی رہی۔ عمارت کے احاطے کے اُس پار جہاں بارش کی بوندیں دھات پر گر کر ٹن ٹن کی آواز پیدا کر رہی تھیں، کھڑکیاں خوب روشن تھیں اور ایک کھڑکی سے ایک شخص سیاہ پتلون پہنے، دونوں ہاتھ سر کے نیچے باندھے، کہنیاں اٹھائے، کمر کے بل ایک بےترتیب بستر پر لیٹا، دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے پردہ برابر کر دیا اور تصویروں کا معائنہ شروع کیا۔ اس کا بیٹا، نوزائیدہ، دیگر بچوں کے مقابلے میں زیادہ حیران دکھائی دے رہا تھا۔ اچانک ایک تصویر البم سے باہر گر پڑی جو اس جرمن خادمہ اور اس کے پھولے پھولے گالوں والے منگیتر کی تھی جو لیپزگ میں ان کے گھر ملازم تھی۔ وہ البم کے صفحات پلٹتی چلی گئی: مِنسک، انقلاب، لیپزِگ، برلن، دوبارہ لیپزگ، ایک ڈھلوان چھت والے مکان کا اگلا حصہ، بری طرح دھندلائی ہوئی تصویر۔</p>
<figure id="attachment_33869" aria-describedby="caption-attachment-33869" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/vladimir-nabokov-1.jpg"><img decoding="async" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/vladimir-nabokov-1-1024x758.jpg" alt width="800" height="592" class="size-large wp-image-33869" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/vladimir-nabokov-1-1024x758.jpg 1024w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/vladimir-nabokov-1-300x222.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/vladimir-nabokov-1-768x568.jpg 768w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/vladimir-nabokov-1.jpg 1500w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></a><figcaption id="caption-attachment-33869" class="wp-caption-text">روسی نژاد امریکی ادیب ولادیمیر نابوکوف زبان، یادداشت، اور احساسات کی باریکیوں کو غیر معمولی مہارت سے فکشن میں برتنے کے لیے مشہور ہیں۔</figcaption></figure>
<p>اس تصویر میں لڑکا، جب اس کی عمر چار برس تھی، شرمیلے انداز میں، پیشانی پر شکنیں، ایک جوشیلی گلہری سے نظریں چُراتے ہوے، جیسا کہ وہ کسی بھی اجنبی سے ملتے ہوے کیا کرتا تھا۔ یہ تصویر آنٹی روزا کی، ہر بات میں مین میخ نکالنے والی، استخوانی چہرے اور غصیلی آنکھوں والی عمررسیدہ عورت جو بُری خبروں، دیوالیہ پن، ٹرین کے حادثات اور سرطان کی رسولی کے خوف و اضطراب سے تھرتھراتی ایک دنیا میں اس وقت تک زندہ رہی جب تک کہ جرمنوں نے اسے ان تمام لوگوں سمیت، جن کی اسے ہمیشہ فکر رہا کرتی تھی، موت کے گھاٹ نہ اتار دیا۔ لڑکا، عمر چھ سال، یہ اُس وقت کی تصویر ہے جب وہ انسانی ہاتھ پاؤں رکھنے والے پرندوں کی حیرت انگیز تصویریں بنایا کرتا تھا اور کسی عمررسیدہ شخص کی طرح نیند نہ آنے کی بیماری کا شکار تھا۔ یہ اس کا کزن ہے جو اَب شطرنج کا ایک مشہور کھلاڑی ہے۔ ایک اَور تصویر، لڑکے کی عمر آٹھ برس، یہ وہ وقت تھا جب اسے سمجھنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ وہ دیوار پر چسپاں نقشیں کاغذوں اور ایک کتاب میں ایک خاص  تصویر سے خوفزدہ ہو جاتا تھا جس میں صرف ایک دیہی منظر میں ایک چھوٹی پہاڑی، چند چٹانیں اور ایک ٹُنڈمُنڈ درخت پر لٹکا بیل گاڑی کا ایک پہیہ دکھایا گیا تھا۔ ایک اَور تصویر، جب وہ دس برس کا تھا، جس برس انھوں نے یورپ چھوڑا تھا۔ عورت کو اس سفر کی خِجالت، خواری، ندامت، ترس، تاسف اور ذلت بھری دشواریاں بھی یاد تھیں اور وہ گھٹیا، پست، کندذہن اور کمینے بچے بھی یاد تھے جن کے ساتھ لڑکے کو امریکہ میں آمد کے بعد ایک خصوصی سکول میں رکھا گیا تھا، اور پھر اس کی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب نمونیا کے بعد ہونے والی ایک طویل صحت یابی کے دوران، اس کے وہ غیرمنطقی اور حد سے بڑھے ہوے خوف اور اوہام — جنھیں اس کے والدین نے سختی سے یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ یہ ایک خداداد قابلیت کے حامل، انتہائی ذہین بچے کا ایک غیرمعمولی، حیرت انگیز اور نرالا، عمومی کردار سے مختلف ایک تلوّن ہے — شدت اختیار کرتے چلے گئے اور ایسی ٹھوس پیچیدہ گتھیوں میں الجھتے اور باہمی مربوط التباسات اور فریبِ نظر میں ڈھلتے چلے گئے جو اپنی اس صورت میں عام اذہان کی سمجھ سے ماورا تھے۔</p>
<p>عورت یہ سب کچھ، اور اس سے بھی سوا جو کچھ ہوا، قبول کرتی چلی گئی کیونکہ بہرحال زندہ رہنے کا مطلب ایک کے بعد ایک خوشی، مسرت اور شادمانی  سے محروم ہوتے چلے جانا اور نقصان کو برداشت کیے جانا بھی ہے؛ بلکہ اس کے معاملے میں تو کوئی خوشی ہی نہیں تھی ، فقط ممکنہ طور پر کسی بہتری کے امکانات کی امید ہی رہی تھی۔ اس نے بار بار پلٹ کر آنے والی درد کی ان لہروں کو یاد کیا جو اس نے اور اس کے شوہر نے کسی نہ کسی طور پر برداشت کی تھیں۔ اس نے ان غیرمرئی عفریتوں کے بارے میں سوچا جو اُن کے بیٹے کو ناقابلِ تصور انداز سے ذہنی اور جسمانی ایذا پہنچا رہے تھے، دنیا میں موجود ناقابلِ پیمائش محبت اور نرم دلی کو یاد کیا، اس رحم دلی کی تقدیر کو یاد کیا جسے یا تو کچل دیا جاتا ہے، ضائع کر دیا جاتا ہے یا پھر دیوانگی اور پاگل پن کا روپ دے دیا جاتا ہے، ان نظرانداز کردہ بچوں کو یاد کیا جو غلیظ کونے کھدروں میں چھپے اپنے آپ سے باتیں کرتے اور منمناتے رہتے ہیں، ان خوبصورت، خودرو جڑی بوٹیوں کو یاد کیا جو کسان کی نگاہ سے چھپ نہیں سکتی ہیں۔</p>
<p>…………</p>
<p>آدھی رات گزر چکی تھی جب اسے خواب گاہ سے اپنے شوہر کے کراہنے کی آواز سنائی دی اور پھر فوراً ہی وہ ڈگمگاتا ہوا نشست گاہ میں داخل ہوا۔ اس نے اپنے شب خوابی کے گاؤن کے اوپر وہ پرانا اوورکوٹ پہن رکھا تھا جس کا کالر استراخانی اُون سے بنا ہوا تھا اور جو اسے اپنے نیلے رنگ کے عمدہ جامۂ غسل  سے بھی زیادہ بڑا تھا۔</p>
<p>’’مجھے نیند نہیں آرہی ہے،‘‘ وہ چلّایا۔<br>
’’تمھیں نیند کیوں نہیں آ رہی؟‘‘ عورت نے پوچھا۔ ’’تم تو اس قدر تھکے ہوے تھے۔‘‘<br>
’’مجھے نیند اس لیے نہیں آ رہی کہ میں مرنے والا ہوں،‘‘ اس نے کہا اور کاؤچ پر لیٹ گیا۔<br>
’’کیا تمھارے معدے میں درد ہے؟ کیا میں ڈاکٹر سولوو کو فون کروں؟‘‘<br>
’’کوئی ڈاکٹر نہیں چاہیے،‘‘ وہ کراہا۔ ’’لعنت ہو ان ڈاکٹروں پر!‘‘<br>
’’ہمیں فوراً اسے وہاں سے نکال لینا چاہیے، ورنہ ہم ذمےدار ہوں گے۔۔۔۔ ہم ذمےدار ہوں گے!‘‘ اس نے ہمت کی، اٹھ کر بیٹھ گیا اور دونوں پاؤں فرش پر رکھے، بند مٹھیوں سے اپنی پیشانی پر ضرب لگانے لگا۔<br>
’’ٹھیک ہے،‘‘ وہ آہستگی سے بولی۔ ’’ہم کل صبح اسے گھر لے آئیں گے۔‘‘<br>
’’مجھے چائے مل جائے تو کیا ہی بات ہے،‘‘ اس کے شوہر نے کہا اور غسل خانے چلا گیا۔ عورت نے دشواری سے جھکتے ہوے تاش کے کچھ پتّے اور فرش پر گری ہوئی دو تین تصویریں اٹھائیں… حکم کا غلام، حکم کا اِکّا، خادمہ ایلسا اور اس کا بدکار معشوق۔</p>
<p>وہ غسل خانے سے واپس آیا تو ہشاش بشاش تھا۔ وہ بلند آواز میں کہنے لگا، ’’میں نے اس مسئلے کا حل سوچ لیا ہے۔ ہم اسے خواب گاہ والا بستر دے دیں گے اور دونوں باری باری رات کا کچھ حصہ اس کے پاس گزاریں گے اور بقیہ وقت اس کاؤچ پر گزار لیں گے۔ ہم کوشش کریں گے کہ ڈاکٹر ہفتے میں کم از کم دو مرتبہ اس کا معائنہ کرے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ شہزادہ کیا کہتا ہے؛ ویسے بھی اس کے پاس کہنے کے لیے کچھ زیادہ نہیں ہو گا، کیونکہ یہ سب ہمیں ویسے بھی سستا پڑے گا۔‘‘<br>
فون کی گھنٹی بجی۔ یہ فون کی گھنٹی بجنے کا ایک غیرمعمولی وقت تھا۔ وہ کمرے کے وسط میں کھڑا اس چپل میں پیر ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا جو پاؤں سے نکل گئی تھی اور دانت نہ ہونے کے باعث، بچکانہ انداز میں منھ کھولے، بیوی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ چونکہ اس سے زیادہ انگریزی جانتی تھی لہٰذا فون کا جواب بھی ہمیشہ وہی دیا کرتی تھی۔</p>
<p>’’کیا میں چارلی سے بات کر سکتی ہوں؟‘‘ ایک لڑکی کی بیزار کن آواز سنائی دی۔<br>
’’تم نے کس نمبر پر فون کیا ہے؟… تم نے غلط نمبر پر فون کیا ہے۔‘‘<br>
اس نے آہستگی سے فون کریڈل پر واپس رکھ دیا اور ایک ہاتھ اپنے دل پر رکھ لیا۔ </p>
<p>’’اس فون نے تو میری جان ہی نکال لی تھی!‘‘ وہ ذرا سا مسکرایا اور پھر اپنی جوشیلی خودکلامی دوبارہ شروع کر دی۔ دن نکلتے ہی وہ دونوں اسے گھر لے آئیں گے۔ اس کی ذاتی حفاظت کی خاطر، وہ گھر کے تمام چاقو چھریاں ایک دراز میں تالا لگا کر رکھیں گے۔ اپنی بدترین کیفیت میں بھی دوسروں کو اس سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔<br>
فون کی گھنٹی دوسری مرتبہ بجی۔</p>
<p>وہی بےکیف آواز چارلی کا پوچھ رہی تھی۔</p>
<p>’’تم غلط نمبر پر فون کر رہی ہو۔ میں بتاتی ہوں تم کیا کر رہی ہو۔ تم شاید زیرو کے بجاے ’او‘ کا حرف ڈائل کر رہی ہو۔‘‘ اس نے فون دوبارہ کریڈل پر رکھ دیا۔</p>
<p>وہ نصف شب کو اپنی غیرمتوقع اور دعوت جیسی چائے پینے لگے۔ وہ زور زور سے آواز نکالتے ہوے چائے کی چسکیاں لے رہا تھا۔ اس کا چہرہ سرخ تھا۔ وہ رہ رہ کر اپنا گلاس ہوا میں بلند کرتا اور اسے ایک دائرے میں گردش دیتا تاکہ شکر خوب اچھی طرح حل ہو جائے۔ اس کے گنجے سر کے ایک جانب ایک پھولی ہوئی رگ بہت نمایاں نظر آ رہی تھی اور ٹھوڑی پر سفید کھونٹیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ سالگرہ کا تحفہ میز پر رکھا ہوا تھا۔ جب عورت نے دوسری مرتبہ اس کے گلاس میں چائے انڈیلی تو مرد نے عینک لگائی اور مسرت اور انبساط سے ایک بار پھر اُن چمکیلے، زرد، سبز اور سرخ رنگ کے مرتبانوں کا جائزہ لیا۔ اس کے بےڈول اور مرطوب ہونٹ ان مرتبانوں پر لکھی خوشنما عبارت پڑھنے لگے۔ خوبانی، انگور، آلو بخارا، سنگترہ… ابھی وہ جنگلی سیب تک ہی پہنچا تھا کہ فون ایک بار پھر بج اٹھا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/alamaat-aur-nishanian-aaj-126/">علامات اور نشانیاں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/alamaat-aur-nishanian-aaj-126/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سنو پِتاجی!</title>
		<link>https://laaltain.pk/suno-pita-ji/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/suno-pita-ji/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[آج]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 04 Oct 2025 07:30:36 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[آج]]></category>
		<category><![CDATA[آج 127]]></category>
		<category><![CDATA[اجمل کمال]]></category>
		<category><![CDATA[جیا جادوانی]]></category>
		<category><![CDATA[محمد ابوالحسن عسکری]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=33847</guid>

					<description><![CDATA[<p>مجھ میں آپ کا مقدس خون ہے پِتاجی، اس لڑائی میں ہار کر میں آپ کو شرمندہ ہونے کا موقع ہرگز نہیں دوں گی۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/suno-pita-ji/">سنو پِتاجی!</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><strong>جیا جادوانی<br>
ہندی سے ترجمہ: محمد ابوالحسن عسکری</strong></p>
<p><strong>جیا جادوانی کی یہ کہانی آج کے شمارہ 127 میں شامل ہے، خریدنے کے لیے اس نمبر پر وٹس ایپ کیجیے: 03003451649</strong></p>
<figure id="attachment_33851" aria-describedby="caption-attachment-33851" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-127.jpeg"><img loading="lazy" decoding="async" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-127-1024x1024.jpeg" alt width="800" height="800" class="size-large wp-image-33851" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-127-1024x1024.jpeg 1024w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-127-300x300.jpeg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-127-150x150.jpeg 150w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-127-768x768.jpeg 768w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-127.jpeg 1200w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></a><figcaption id="caption-attachment-33851" class="wp-caption-text">جیا جادوانی کی یہ کہانی آج کے شمارہ 127 میں شامل ہے، خریدنے کے لیے اس نمبر پر وٹس ایپ کیجیے: 03003451649</figcaption></figure>
<p>انتہائی قابلِ احترام پتاجی،</p>
<p>آج میں بے حد ادب کے ساتھ آپ کو شردھانجلی پیش کرنا چاہتی ہوں۔ میں جو کچھ بھی ہوں وہ نہ ہوتی، اگر آپ ویسے نہ ہوتے جیسے تھے۔</p>
<p>آپ کو ٹائم خراب کرنا سخت ناپسند ہے، سو جلدی اصل بات پر آتی ہوں۔ پچھلے مہینے میرے دونوں بھائیوں کا پیغام آیا میرے پاس کہ میں اپنے حصے کی موروثی جائیداد ان کے نام لکھ دوں، نہیں تو وہ مجھ سے ’تعلق‘ نہیں رکھیں گے اور مجھے’دیکھ‘ لیں گے۔ میں جانتی ہوں، مجھے ’دیکھ‘ لینے کے چکر میں وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ وہ بھی اسی پدرشاہی نظام کا حصہ ہیں جس کے آپ رہے۔ آپ کو بھی پسند نہیں تھا کہ کوئی عورت اپنے حق کی بات کرے یا سوچے بھی۔ آپ نے یہ اجازت نہ ماں کو دی، نہ مجھے۔ آپ کو یاد ہی ہوگا کہ میرے ذرا سے جواب دینے پر پورا گھر مجھ پر ٹوٹ پڑتا تھا:  ’’یہ وکیلوں والی جرح اپنی ساس سے کرے گی تو وہ ’بیچاری‘ تو اپنی چھاتی کُوٹ لے گی‘‘۔ ساس نے چھاتی کُوٹی ضرور، پر میرے جواب دینے سے نہیں، میرے پڑھنے لکھنے سے۔ وہ بھی ’بےچاری‘ اسی پدرشاہی نظام کا حصہ بنی رہی جو سمجھتا ہے کہ لڑکیاں پڑھنے لکھنے سے بگڑ جاتی ہیں— بالکل صحیح سوچتے ہیں، میرے بگڑنے کی شروعات بھی یہیں سے ہوئی۔</p>
<p>چار سال ہو گئے ہیں آپ کو گئے ہوے اور شاید ہی کبھی میں نے آپ کو اس شدت سے یاد کیا ہو۔ گاہے بگاہے کوئی مجھے آپ کی یاد دلا بھی دیتا تھا، یہ کہتے ہوے کہ تمھیں دیکھ کر تمھاری عمر کا اندازہ نہیں ہوتا، تم اپنی عمر سے بیس سال چھوٹی لگتی ہو، تو میں بے حد انکسار سے جواب دیتی تھی کہ میں اپنے پِتا پر پڑی ہوں۔ آپ تو نوّے کی عمر میں بھی ساٹھ سے زیادہ کے نہیں لگتے تھے۔ لوگ کہتے تھے، آپ کی ٹانگیں کاٹھ کی بنی ہیں، تھکتیں ہی نہیں۔ آپ کبھی رکتے نہیں تھے پتاجی، ہمیشہ چلتے رہتے تھے۔ اتنا چلے کہ بہت دور نکل گئے، ہماری پہنچ سے پرے۔ ہمارے لیے تو آپ پِتا نہیں، دور سیاروں سے آیا کوئی شکتی شالی آدمی تھے جس سے ہم سدا ڈرتے رہتے تھے۔ ہمارے ننھے ہاتھوں نے کبھی آپ کا ہاتھ نہیں پکڑا۔ آپ کا گھر میں گھسنا ہمارے خوف کا سبب ہوتا تھا۔ آپ کے آنے کی آہٹ پاتے ہی ہم اپنی کوئی بھی کتاب کھول اس میں اپنا سر ڈال دیتے تھے تاکہ کسی بھی طرح آپ کی آنکھوں سے اوجھل رہ سکیں۔ جو آپ کے سامنے پڑا، وہ گیا۔ پڑنا تو ماں کو پڑتا تھا، اور وہ یہ قہر اپنے دل اور جسم پر جھیلتی تھیں۔ چھلنی ہو گئے ہوں گے دونوں، جب وہ اوپر گئی ہوں گی۔ عورت کے جیون کی اتنی دشواریاں جھیل لیں انھوں نے کہ سب کچھ چتھڑا چتھڑا ہو گیا۔’جیوں کی تیوں دھر دینی چدریا‘، کبیر کہتے ہیں۔ کیا سچ مچ کوئی عورت ایسا کر پاتی ہے؟ ان کی ’چدریا‘ کے تار تو دور سے بھی ٹوٹے پھوٹے دکھائی دیتے تھے۔ آتما کو بھی اس میں رہتے شرم آنے لگی تھی۔</p>
<p>اب دیکھیے نا، بھائیوں کے فون کے ساتھ ہی رشتےداروں کے فون بھی آنا شروع ہو گئے اور وہ مجھے’شائستگی‘ سے یہ سمجھانے کی کوشش کرنے لگے کہ ’بھگوان کا دیا ‘ سب کچھ میرے پاس ہے، سو میں بھائیوں سے ’پنگا‘ لینے کی کوشش نہ کروں، نہ سوچوں۔ نہیں تو میں وہ ’گھر‘ [میرا مائیکا] کھو دوں گی۔ یہ سن کر بھی مجھے بہت زور سے ہنسی آتی رہتی ہے۔ یہ وہی رشتےدار ہیں جو آپ کے رہتے گھر میں گھسنے سے بھی ڈرتے تھے۔ آپ نے انھیں ہمیشہ اپنے گھر سے باہر رکھا، اور اب آپ کی غیرموجودگی میں دیکھیے کیسے گھسے چلے آ رہے ہیں! اور رہی اس ’گھر‘ کی بات تو وہ ’گھر‘ تو میرا پِتاجی، آپ کے رہتے بھی نہ تھا۔ آپ نے کبھی اس کا احساس ہی نہ ہونے دیا۔ جو ’گھر‘ ستر سال کی ماں کا نہ ہو سکا تو بھلا سولہ سال کی لڑکی کا کیا ہوگا؟ وہ گھر صرف آپ کا تھا، پِتاجی۔ وہاں تو ہر دن یہی سنائی دیتا تھا: ’’جا اپنے گھر تو ہمیں تجھ سے چھٹکارا ملے!‘‘ ہم لڑکیوں سے زیادہ تو آپ لوگ گھر کی گایوں کا سمّان کرتے تھے— تب تک جب تک وہ دودھ دیتی تھیں۔ بوڑھی ہو جانے پر آپ انھیں دان میں دے دیتے تھے۔ ہم بھی ہاڑتوڑ محنت کرتی تھیں، پِتاجی، میں اور میری چاروں بوائیں (پھپھیاں)، تاکہ ہم خود پر ہونے والے خرچ کے قرض کی بھرپائی کر سکیں۔ اگر وہ سب آپ کو دِکھا نہیں تو بھی کوئی بات نہیں پِتاجی، ’دِکھنے‘ لائق کچھ تھا بھی نہیں۔</p>
<p>بواؤں کی جیسے تیسے شادی کر کے انھیں ان کے نام نہاد ’گھر‘ بھیج کر، آپ نے مجھے گھر میں قید کرنے کے تمام جتن کیے۔ اس بندی خانے کو کتابوں سے بھر دیا کہ اسی میں الجھی رہوں، اور میں شبدوں کی پیٹھ پر سوار، اپنا جسم وہیں دھرے، اُڑ جاتی۔ آپ نے یہ بڑے ثواب کا کام کیا، پِتاجی۔ کتابوں نے مجھے وہ وہ دیا جو آپ دینے کا سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ میں دھیرے دھیرے آپ کے خلاف کھڑی ہونے لگی تھی۔ پھر ایک دن جب میری ماں پٹی، میں آپ دونوں کے بیچ کھڑی ہو گئی۔</p>
<p>ہم آپ کو بہت پیار کرتے تھے، پِتاجی۔ گھر کی ہر اچھی چیز پر آپ کا ہی ادھیکار رہتا تھا، پھر آپ کے بیٹوں کا، چاہے وہ ماں کے ہاتھ کا بنا لذیذ کھانا ہو یا کچھ اَور۔ کھانا بنتے ہی ماں تھالی پروس کے آپ کے لیے الگ رکھ دیتی تھیں، پھر ہم بچوں کو کھلاتی تھیں، اور آخر میں سامنے رکھی کڑھائی کو پونچھ پونچھ کر اپنی روٹیاں ختم کر ایسی تسکین سے اٹھتیں جو آپ کو بھی وہ سپیشل تھالی کھاکر نہ ملتی ہوگی۔ مجھے یاد ہے، آپ اپنے کانوں میں مہنگے عطر کا پھاہا رکھتے تھے۔ آپ کے گھر سے نکلتے ہی ہم بھائی بہن آپ کے تکیے کو سونگھنے کے لیے ٹوٹ پڑتے تھے۔ کبھی ایک گِرے ہوے پھا ہے کے لیے ہم لڑ مرتے تھے۔ ہم کتنے بھی نالائق ہوں، پر کیا ہوتا پِتاجی، اگر ایک پھاہا آپ ہمارے کانوں میں بھی رکھ دیتے؟ ہم تمام عمر آپ کی یاد سے مہکتے رہتے۔</p>
<p>مجھے خود پر بڑی شرم بھی آتی ہے کہ مجھے وہ وہ چیزیں یاد نہیں ہیں جو مجھے آپ سے ملیں: حوصلہ، خودداری، اکیلے جوجھنے کی فولادی طاقت، خوداعتمادی، اَور بھی بہت کچھ۔ اس سنگھرش نے میرے وجود کو ایک دھار دی۔ نہیں، صرف اسی سنگھرش نے نہیں، اُس دوسرے سنگھرش نے بھی جو اُس دوسرے گھر کی دین تھا جہاں آپ نے شادی کے نام پر مجھے بھیجا تھا۔ کتنا آزاد محسوس کیا ہوگا آپ نے یہ کہتے ہوے کہ ’’جا، اب اِس طرف پیٹھ کرکے سونا‘‘۔ اس گھر میں تو ہم کھارے پانی سے کبھی کبھی روبرو ہوتے تھے کیونکہ یہاں ماں تھیں، اُس گھر میں تو میں روز کھارے پانی سے سنان کرنے لگی کیونکہ وہاں ساس تھیں۔ ہم پیدائشی بےگھر لڑکیاں ایک گھر کی تلاش میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیتی ہیں، اور داؤ پر لگانے کے لیے ہمارے پاس ہوتا ہی کیا ہے اس جسم کے سوا؟ پر میں نے آپ سے کبھی کوئی شکایت نہیں کی، نہ کبھی اپنا کوئی دکھڑا رویا۔ وہ میرا نصیب تھا جس سے مجھے خود ہی بھڑنا تھا۔ آپ نے مجھے ’چیز‘ بنایا، سسرال مجھے ’اچھی چیز‘ بنانے پر مُصر تھا۔<br>
ہم پریم سے اُپجی اولاد نہیں تھیں، پر اولاد تو تھیں۔ میں آپ سے، آپ کے سامنے پیدا ہوئی، پلی بڑھی، جوان ہوئی، لڑی جھگڑی، پر گھر میں کسی کو سمجھ میں نہیں آئی، یہاں تک کہ ماں کو بھی نہیں۔ ان پر معاشی بوجھ تو تھا ہی، اپنی اور بچوں کی حفاظت کا بھی بوجھ تھا۔ صبح تین بجے اٹھ کر رات گیارہ بجے تک وہ عورت ہاڑتوڑ محنت کرتی تھی۔ آج کی عورتوں کو جب دیکھتی ہوں، کہ کس طرح وہ بازار میں اور بازار اُن میں ناچ رہے ہیں، وہ لگی ہیں مرد کو ’خالی‘ کرنے اور اپنے لالچ ’جی‘ لینے میں، تو حیرانی نہیں ہوتی۔ وہ اپنا پچھلا بدلہ چکا رہی ہیں۔ مجھے ماں پر غصہ آتا تھا۔ تمام وقت وہ تمھارے اور تمھارے بیٹوں کے لیے برت رکھتی تھیں، آنولے کے پیڑ کو گول گول گھومتے ہوے لال دھاگے باندھتی تھیں، اور ہولیکا دہن یا دوسرے تیوہاروں میں تمھارے لیے انگاروں پر میٹھے روٹ سینکتی تھیں۔ تم نے ہمیں دو حصوں میں توڑ دیا تھا: کمر سے نیچے اور اوپر۔ یہ دونوں تمھارے ہی لیے کام کرتے تھے۔ نیچے کا دھڑ مزاحمت کرتا ہے تو اسے سرسنبھالتا ہے، سر بغاوت کرتا ہے تو دھڑ سنبھالتا ہے۔ تم کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ تمھارے اقتدار سے الگ بھی میں اور ماں کچھ ہو سکتے ہیں، کہ ہمارے پاس بھی اپنا دماغ اور شعور ہے۔ یہ ہمیشہ تم ہی طے کرتے تھے کہ ہمیں کیا اور کتنا دینا چاہیے۔ اور دیا بھی۔</p>
<p>آپ تو اپنے ناکارہ بیٹوں کے ہر سکھ دکھ میں کھڑے ملے، پِتاجی۔ وہ آپ کی کروڑوں کی جائیداد کے مالک ہوں گے، یہ بات آپ کو بےحساب خوشی دیتی تھی۔ وہ پڑھنا نہیں چاہتے تھے، آپ ان کو مار مار کر پڑھاتے تھے۔ میں پڑھنا چاہتی تھی، آپ نے میری پڑھائی چھڑوا دی۔ آپ ان پر فضول خرچ کرتے تھے پر مالی مشکلات کی شکار اپنی بہنوں کو سو روپلّی دیتے ہوے کہتے تھے، ’’میرے پاس ہے کہاں بہنا، بس کام چلا رہا ہوں۔‘‘ اپنے جس نام کو ’روشن‘ کرانے کا آپ کو بےپناہ لالچ تھا، اسی ’نام‘ کو آپ کے بیٹوں نے ’ڈبو‘ دیا۔ پر کوئی بات نہیں پِتاجی، جس سورگ میں آپ ہیں، وہ بھی آپ جیسوں کا ہی جماؤڑا ہے، وہاں بھی سارے دیوتا ایک دوسرے کی تعریفیں گاتےگواتے ہیں، دیویوں کو بھی انھوں نے اپنے حساب سے گڑھ رکھا ہے، سو مجھے امید ہے، اوپر آپ کے نام کا جھنڈا ضرور لہرا رہا ہوگا۔ پر ایک بات اَور بتائیے پِتاجی، کیا آپ کا ’نام‘ اور ’شان‘ کچھ سطحی چیزوں پر نہیں ٹکا تھا؟ میں سر پر دوپٹہ نہیں لیتی تھی تو آپ چیختے تھے: ’’بےنظیر بھٹو کو دیکھو، سر پر دوپٹہ لے کر تقریر کرتی ہے۔ ایک تم ہو! لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ یا، ’’ لتا منگیشکر کو دیکھو، اس نے کتنا اپنے باپ کا نام روشن کیا ہے، ایک تم ہو!‘‘ میرے ہر کام میں، یہاں تک کہ میری شکل صورت میں بھی آپ کو ہزار نقص دکھتے تھے۔</p>
<p>’’دیکھو تو، کیسے چلتی ہے! دھپ دھپ کرکے۔ کون اس سے شادی کرے گا؟‘‘<br>
’’قد دیکھو، کیسے نکلتا جا رہا ہے! لڑکیاں چھوٹی اچھی۔‘‘<br>
’’اتنی زور سے ہنسنے کی کیا ضرورت ہے؟ لڑکیاں ہنستی ہوئی اچھی نہیں لگتیں۔‘‘</p>
<p>آپ ٹھیک تھے پِتاجی، لڑکیاں صرف روتی ہوئی اچھی لگتی ہیں، کیونکہ تب ان پر ترس کھایا جا سکتا ہے، ان پر مہربان ہوا جا سکتا ہے۔ اچھا ہوا آپ کو پتا نہیں چلا، کتنے امکانات کے بیج آپ نے اپنے الفاظ کے سفاک پیروں تلے کچل دیے۔ ہمارے سیلف کانفیڈنس کو مٹی میں ملا دیا۔ ہم ’کچھ نہیں‘ تھے ،اور یہ آپ کبھی نہیں جان پائے کہ ’کچھ نہیں‘ سے ’کچھ‘ ہونےکا جان لیوا سفر کرنے میں مجھے کتنے برسوں اور کتنے دردوں سے گزرنا پڑا۔ اپنی مٹی سے پرانے کانٹوں کی فصل اکھاڑنا، مٹی کو دوبارہ اُپجاؤ بنانا، نئے بیج لگانا، پھر بارش اور فصل کا انتظار کرنا۔ میں آپ کو دھنے واد دیتی ہوں پِتاجی، کہ آپ نے مجھے سر نہیں چڑھایا۔ آپ کے سر چڑھائے بیٹوں کا انجام میں دیکھ رہی ہوں جنھیں اپنے بُوتے دو قدم چلنا نہیں آیا۔</p>
<p>بےنظیر بھٹو بھی ڈری سہمی گھومتی ہوگی کہ وہ آپ جیسوں کی ذہنیت والوں کا شکار نہ ہو جائے، اور وہ ہو گئی۔ آپ لوگ ایک قدآور عورت کو گھروں میں بھی برداشت نہیں کر پاتے، سڑکوں اور اونچے عہدوں پر تو کوئی سوال ہی نہیں۔ برداشت کرنا بھی نہیں چاہیے پِتاجی، یہ زنانہ فوج گھر سے نکل آئی تو پھر بچے کون پالے گا؟ اِن کو اِن کی اوقات بتانا بہت ضروری ہے۔</p>
<p>پر میری ایک درخواست ہے، اپنے بچوں کو ’بنا‘ دینے کی ذمےداری کسی باپ کی نہیں ہوتی۔ پلیز اس سے باز آئیے۔ آپ وہی بنا سکتے ہو جو آپ خود ہو۔ آپ تو بس اتنا پیار اور سمّان دو کہ وہ خود کو بھی وہی دے سکے، خود اپنی مٹی سے اٹھ، تن کر کھڑا ہو سکے۔ ہم عورتوں کو بھرپور صحت مند رشتے کہاں ملتے ہیں؟ ہمیں تو ملتے ہیں چیزوں کے ڈھیر۔ ہم انھی سے چپکتے، انھی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ہمیں تو وہ مرد ملتا ہی نہیں جو ہمیں ہمارے مکمل ہونے کا شعور کرا سکے۔ اکثر ہم ایک بےتسکینی بھرے بھٹکاؤ میں ہی جیون گزار دیتی ہیں۔ ہاں، کبھی کبھی کوئی بےخوف، دبنگ، بےباک اور بیہڑ عورت مردانہ اقتدار کے خلاف آواز اٹھاتی ہے اور اس کی چُولیں ہلا دیتی ہے۔ خود کو اپنی زبان سے کہتی ہے، اپنے ہونے کا اعلان کرتی ہے۔ پر پھر کیا ہوتا ہے؟ یہ اقتدار تیور بدل کر بات کرتا ہے اور آخرکار اسے ٹھکانے لگا دیتا ہے۔</p>
<p>آپ نے اپنی بہنوں پر بھی اتنی زیادتیاں اور بےعزتیاں کیں کہ انھوں نے آگے ہونے والی بےعزتیوں کو بھی اپنا نصیب مان لیا۔ اب آپ کی جگہ ان کے شوہروں اور بیٹوں نے لے لی ہے۔ پر آپ بھی کیا کیا کرتے پِتاجی، اب سب کی ذمےداری آپ نے تھوڑا ہی لے رکھی ہے! ایک مَیں ہی اُن کی طرح نہیں بن پائی۔ آپ نے تو ہم سب کو بےچہرہ ہی بنا رکھا تھا، پر میں نے اپنے بھیتر سے اپنا نیا چہرہ اُگا لیا۔ یقیناً اس کا بھی کریڈٹ آپ ہی کو جاتا ہے۔ اب بتائیے، جو کتابیں آپ مجھے اپنی قید میں بنے رہنے کے لیے دیتے تھے، انھی نے میرا بیڑا غرق کر دیا۔ ماں یہ بات ضرور سمجھتی ہوں گی، تبھی تو وہ کتابیں جلا دیتی یا چھت پر پھینک دیتی تھیں۔ کہتی تھیں، ’’لڑکیوں کو زیادہ نہیں پڑھنا چاہیے، بھلا گھرگرھستی چلانے میں پڑھائی کا کیا کام؟ سلائی کڑھائی سیکھو، پاپڑبڑیاں، گھجیے کچری بناؤ، رضائی گدّےجھولے بناؤ، سندھی کڑھائی سیکھو، گُرمکھی سیکھو، دھارمک گرنتھ پڑھو، اچھی پتنی، اچھی بہو بننے کے گُن سیکھو، نہیں تو لوگ ہم پر تھوکیں گے کہ تم نے اپنی بیٹی کو کیا سکھایا؟‘‘ اب بتائیے، ہمارے دیش میں تو لوگ کہیں بھی تھوک دیتے ہیں، ان کا کیا کیا جائے؟ پھر میری جبراً شادی کر دینے پر انھوں نے سمجھائش دی، ’’روز صبح جلدی اٹھ کر گھر کے سارے کام کرنا۔ ساس سسر کے روز پیر چھونا۔وہ جو بھی کہیں، کبھی پلٹ کر جواب مت دینا۔ اگر وہاں سے کوئی شکایت آئی تو سمجھ تُو ہمارے لیے مر گئی۔‘‘ پتاجی، کیا میں آپ کو بتا پاؤں گی کہ جینے کے لیے ایک لڑکی کو کتنی بار مرنا پڑتا ہے؟ میں نے وہ سب کرنے کی بھرپور کوشش کی جو مجھ سے کہا جاتا رہا، پر میں کیا کرتی؟ میری زمین پھوڑ کر تب تک ایک نئی عورت نکل آئی تھی اور اس نے پرانی کی جان ہی لے لی۔</p>
<p>میں ماں کو کبھی سمجھا نہیں پائی کہ تم جن کی طاقت کو کوستی اور کراہتی ہو، انھی کو دراصل پالتی پوستی بھی ہو۔ ماں آپ سے نفرت بھی کرتی تھیں اور ایک عجیب سوامی بھکتی بھی تھی ان میں۔ ان کے وجود کے معنی اپنے ’سوامی‘ (پتی) سے ہیں، اور وہ اس وجود کو ہی بےمعنی مانتا ہے۔ وہ ہمیشہ چڑچڑی، غصیل اور بےچین رہتی تھیں۔ ان کا بےبس غصہ ہم پر پھوٹ کر ٹوٹے کانچ سا ہر وقت گڑتا رہتا تھا۔ یہ خودبخود نہیں ہوا کہ ان کی موت دل کی دھڑکن رکنے اور یونی میں کیڑے پڑنے سے ہوئی۔ پر اس میں آپ کا کیا قصور؟ یہ تو قسمت ہوتی ہے ہر مورکھ عورت کی۔ آپ ہی تو کہتے تھے، ’’عورتیں ڈنڈے کی نوک پر سیدھی رہتی ہیں۔‘‘</p>
<p>مجھے لگتا تھا کہیں نہ کہیں جاکر اس سے آزادی پانا ممکن ہے، پر میں غلط تھی۔ عورتیں بوڑھی ہونے کے بعد بھی آزاد نہیں ہوتیں، صرف ان کے مالک بدلتے ہیں۔ ہر لمحے مردانہ طاقت سے اپنی حفاظت کرتے رہنے کا ڈر ہمیشہ ان کے شعور پر حاوی رہتا ہے۔ اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لیے مرد کے مقابلے میں انھیں چوگنا سنگھرش کرنا پڑتا ہے۔ دیکھیے نا، میں ابھی تک کر رہی ہوں۔</p>
<p>آپ تو اتنے گیان وان تھے پِتاجی، کہ آپ کو بھولے اور بھوندو شوہر پسند ہی نہیں آتے تھے کیونکہ ان میں عورتوں کو دابے رکھنے کا ہنر نہیں ہوتا۔ شاید اس لیے آپ کو اپنے پِتا ناپسند تھے، کیونکہ ان میں آپ کی ماں کو دابنے کا ہنر نہیں تھا۔ تو آپ نے اپنے بیٹوں کو بھی غور سے دیکھا ہی ہوگا۔ کون کس کو داب رہا ہے؟ آپ کو اپمان اور دکھ ہوتا ہوگا، پر وقت اب تھوڑا سا بدل گیا ہے۔ آپ کو تو اپنی بدزبان اور اَن پڑھ ماں بھی اچھی نہیں لگتی تھیں۔ آپ چاہتے تھے، عورت ’سمجھدار‘ بھی ہو اور اپنی ’حد‘ میں بھی رہے، ’عقل‘ اور ’فیصلے کی قوت‘ ہو پر وہ اس کا استعمال نہ کرے۔ اب ایسی عورتیں تو صرف کتابوں میں ملیں گی پِتاجی!</p>
<p>آپ سے اس ساری بدتمیزی کے لیے مجھے بے حد افسوس ہے، قابلِ احترام پِتاجی۔ جیسی بھی ہوں، آپ کی اُپج ہوں۔ نہ میں آپ کے ہونے سے انکار کرتی ہوں، نہ آپ کو مٹانا چاہتی ہوں نہ جھکانا۔ بس اتنا چاہتی ہوں، آج ذرا برابری کے لیول پر بات ہو جائے۔ دیکھیے نا، آپ نے مجھے بولنے کا کبھی موقع نہیں دیا، آج میں جی بھر کر بول رہی ہوں۔ آپ نیچے ہوتے تو ضرور مجھے اپنی چھتری سے مارتے۔ چھتری کی مار مجھے کبھی بری نہیں لگی، پِتاجی، بس شبدوں کی مار ذرا زور سے لگتی ہے۔ پر کوئی بات نہیں، یہ آپ کا پیدائشی حق تھا۔ آپ بات بات پر کہتے تھے، ’’میں نہ ہوتا تو کیا ہوتا تم لوگوں کا؟ دانے دانے کو محتاج ہو جاتے!‘‘ مجھے نہیں پتا کیا ہوتا، پِتاجی۔ پر اگر آپ نہ ہوتے تو ہم ضرور اپنے بھیتر کھوئی عقل، حوصلے اور خودشعوری کو جگا ہی لیتے۔</p>
<p>آج اتنے برسوں بعد اتنی دور کھڑے ہوکر میں آپ کی ذہنیت کی دھجی دھجی اُدھیڑنے کے لیے آپ سے معافی مانگتی ہوں، پِتاجی۔ جانتی بھی ہوں، کہ درحقیقت یہ آپ کا چناؤ نہیں، کنڈیشننگ ہے جو آپ کے ریشے ریشے میں سما گئی ہے۔ جو مرد اس سے آزاد نہیں ہو پاتے، مجھ جیسی عورتیں ان سے آزاد ہو جاتی ہیں۔</p>
<p>عورت کی غلامی مرد کے وجود کی مانگ ہے، عورت کی آزادی اس کی آتما کی ضرورت ہے۔</p>
<p>اور یہ سب آج میں آپ کو کیوں کہہ رہی ہوں؟ کیونکہ بھائی بھی وہی کر رہے ہیں جو انھوں نے اس روایت سے سیکھا ہے۔ ہم عورتوں کو تمھاری جائیداد محفوظ رکھنے کا حق تو ہے، اس کا استعمال کرنے کا نہیں۔ وہ چاہتے ہیں میں ’پھوکٹ‘ میں ان کا ٹائم خراب نہ کروں، اپنی ’اوقات‘ میں رہوں، چپ چاپ اپنا راستہ ناپوں، دفع ہوؤں ان کی زندگیوں سے۔ میں تو کب کی دفع ہو چکی ہوں، پِتاجی۔ میں کسی کے اندر زندہ نہیں ہوں، پر میرے اندر سب زندہ ہیں۔ اب اس حق سے مجھے محروم کرنے کے لیے انھیں بہت پاپڑ بیلنے پڑیں گے، ویسے ہی پاپڑ جنھیں ٹھیک سے نہ بیل سکنے پر آپ لوگ میری انگلیاں توڑتے تھے۔ مجھ میں آپ کا مقدس خون ہے پِتاجی، اس لڑائی میں ہار کر میں آپ کو شرمندہ ہونے کا موقع ہرگز نہیں دوں گی۔ اس جرم کی معافی کی درخواست کبھی کی ہو تو واپس لیتی ہوں۔</p>
<p>آپ کی سرکش بیٹی۔</p>
<p>(نام نہیں لکھ رہی۔ آپ کا دیا نام پیچھے چھوڑ آئی ہوں۔ نیا جان کر آپ کیا کریں گے ؟)</p>
<p><strong>جیا جادوانی کی یہ کہانی آج کے شمارہ 127 میں شامل ہے، خریدنے کے لیے اس نمبر پر وٹس ایپ کیجیے: 03003451649</strong></p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/suno-pita-ji/">سنو پِتاجی!</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/suno-pita-ji/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>حلیم بروہی کی دو کہانیاں</title>
		<link>https://laaltain.pk/haleem-barohi-ki-2-kahanian/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/haleem-barohi-ki-2-kahanian/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[جیم عباسی]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 29 Sep 2025 14:33:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[جیم عباسی]]></category>
		<category><![CDATA[حلیم بروہی]]></category>
		<category><![CDATA[سندھی ادب]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی و سماجی طنز]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=33821</guid>

					<description><![CDATA[<p>فقیر کے چلے جانے کے بعد بادشاہ سلامت نے اس کے جانے کا اطمینان کیا اور پورا آم خود کھا گیا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/haleem-barohi-ki-2-kahanian/">حلیم بروہی کی دو کہانیاں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><em>سندھی زبان کے مزاح نگار اور ناول نگارحلیم بروہی نے پانچ اگست انیس سو پنتیس میں حیدرآباد کے ایک پولیس افسر عبدالعزیز کے گھر جنم لیا۔ انہوں نے ایل ایل بی کے بعد وکالت شروع کی۔ بعد میں انہوں نے سندھ یونیورسٹی جامشورو میں ملازمت اختیار کی۔ حلیم بروہی نے انگریزی اور سندھی میں دس کے قریب کتابیں لکھیں۔ جن میں ’حلیم شو‘ سندھی میں ان کی مقبول ترین کتاب رہی ہے۔ انہوں نے انیس سو پچھہتر میں ’اوڑاھ‘ کے نام سے ایک ناول لکھا جو نوجوانوں میں کافی مقبول ہوا۔ ان کے انگریزی کالموں کا ایک انتخاب بھی شائع ہو چکا ہے۔ حلیم بروہی سندھی کے وہ منفرد مصنف تھے جو اکثر اپنی کتابیں خود شائع کرواتے تھے۔ وہ ایک منفرد شخصیت اور منفرد اصولوں کے حامل ادیب تھے۔ انگریزی زبان پر انہیں غیر معمولی دسترس حاصل تھی۔ وہ انگریزی اخبار دی فرنٹیئر پوسٹ میں اکثر کالم لکھا کرتے تھے۔ انہوں نے ایک مرتبہ اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ انہوں نے سندھی میں لکھ کر غلطی کی اور انہیں صرف انگریزی زبان میں لکھنا چاہیے تھا۔ حلیم بروہی اپنے ادبی نظریات اور اصولوں کی وجہ سے کافی متنازع بھی رہے ہیں۔ انہوں نے طویل عرصے تک سندھی کو رومن سکرپٹ میں لکھنے کی تحریک چلائی، تاہم سندھی زبان کے کئی ممتاز ادیب ان کی اس تحریک کے مخالف رہے۔ وہ ادبی تقریبات کو وقت کا زیاں قرار دیتے تھے اور انہوں نے اپنی کتابوں کی تقاریب رونمائی یا اپنی شان میں ادبی تقاریب کی حوصلہ شکنی کی۔ نوجوان حلقوں میں مقبول ہونے کے باوجود وہ کسی ادبی محفل میں صدارتی کرسی پر نہ بیٹھے۔ ایسے ادیبوں کے بارے میں انہوں نے لکھا تھا کہ ’پھولوں کے ہار پہنے وہ سٹیج پر ایسے بیٹھے رہتے ہیں جیسے دولہا ہوں‘۔</em></p>
<p>تعارف: نثار کھوکھر<br>
بشکریہ: بی بی سی</p>
<p><strong>ہم حلیم بروہی کی صاحب زادی ثناء بروہی جنہوں نے ان کہانیوں کے تراجم شائع کرنے کی اجازت دی، اور نور جونیجو جنہوں نے اجازت کے حصول میں مدد دی، کے شکر گزار ہیں.</strong></p>
<p>.….….…</p>
<p><strong>بے اولاد بادشاہ</strong></p>
<p>کسی زمانے میں کسی ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا جس کے ساتھ اندھیر یہ تھا کہ اس کی اولاد نہ تھی۔ بادشاہ سلامت نے کوشش بہت کی کہ اسے اولاد ہو پر اسے اولاد نہ ہونی تھی، نہ ہوئی۔ الٹا یہ ہوا کہ اولاد کے لئے بادشاہ سلامت کی، کی ہوئی الٹ سلٹ اور ٹیڑھی میڑھی کوششوں کی خبریں جو عوام تک پہنچیں تو عوام کی ہنسی چھوٹنے لگی۔ جسے دیکھو ہنسے جا رہا ہے۔ بادشاہ سلامت نے برہم ہو کر پہلے پہل ہنسنے پر بندش لگائی۔ پھر دبی دبی ہنسی اور مسکراہٹ پر کوڑے لگوانے لگا۔ پھر جب ایک پہنچے ہوئے درویش نے بتایا کہ جو لوگ گمبھیر نظر آتے ہیں، وہ بھی فقط اس کے سامنے گمبھیرتا سے رہتے ہیں اور اس سے دور جاتے ہی خوفناک قہقہوں میں غرق ہو جاتے ہیں۔ تب بادشاہ سلامت آپے میں نہ رہا اور لوگوں کو کاٹنے لگا۔ پھر جب اس پہنچے ہوئے درویش نے یہ بتایا کہ اگر وہ مردوں کے بجائے صرف عورتوں کو کاٹتا تو اولاد وغیرہ کا کوئی چانس وانس ہو جاتا۔ تب بادشاہ سلامت شرما گیا اور کھاٹ اوندھی کر کے خود پلنگ پر سو گیا۔</p>
<p>ایسے حالات میں وہاں سے کسی درویش مرد کا گزرنا ضروری تھا۔ سو ایک دن درویش فقیر ملک ایران کا، جو اصل رہائشی ملک بغداد کا ہونے کی وجہ سے ملک ایران میں خود کو خوامخواہ نیا ایرانی بتلا کر اپنے آپ کو باور کرواتا تھا، وہاں سے گزرا۔ اسے بادشاہ سلامت پر یکدم ترس آیا۔ یہ درویش فقیر پہلا شخص تھا جسے بادشاہ سلامت پر ہنسی کے بجائے دیا آئی تھی۔ تو درویش فقیر نے بادشاہ سلامت سے پوچھا آخر تجھ پر شامت کیا ہے جو تجھے اولاد نہیں ہوتی؟ بادشاہ سلامت کی مرضی ہوئی کہ اسے لپڑ دے مارے پر لیٹے ہونے کی وجہ سے لپڑ مارنے کے لئے اٹھنا پڑ رہا تھا۔ بادشاہ سلامت غصہ پی گیا اور اسے کہا، نہیں ہو رہی تو میں کیا کروں۔ درویش فقیر جو مست اور پہنچا بھی ہوا تھا، غصے سے تپ کر لال ہو گیا اور “بھاڑ میں جا” کہہ کر پلک جھپک میں امرا، وزرا، کلرکس اور ایس ڈی ایم (سب ڈویژنل مجسٹریٹ) کے دیکھتے غائب ہو گیا۔ امرا، وزرا، کلرکس اور ایس ڈی ایم تو حیران ہو گئے اور ایس ڈی ایم تو کچھ پریشان بھی ہو گیا کہ تعلقہ میں امن امان قائم رکھنے کا خود جوابدار تھا۔ پر بادشاہ سلامت نے سکھ کا سانس لیا اور پہلو بدل کر آرام سے لیٹ گیا۔ لیکن جس بادشاہ سلامت کو اولاد نہ ہو اور اس کی الٹ سلٹ اور ٹیڑھی میڑھی کوششوں کے بعد بھی اولاد نہ ہو رہی ہو، اس کے نصیب میں سکھ کا سانس اور آرام سے لیٹنا کہاں؟</p>
<p>بادشاہ سلامت کچھ دیر ایسے لیٹا رہا اور پھر اُچک کر بیٹھ گیا۔ کیوں کہ اسے خیال آیا کہ درویش فقیر نے جو “بھاڑ میں جا” کہا تو اس کا مطلب کیا تھا؟ بادشاہ سلامت نے ایک دم چاروں طرف سپاہی روانہ کیے کہ فقیر جہاں بھی ہو، لے آؤ۔ پر درویش فقیر تو فقیر تھا۔ اللہ کا پیارا تھا اور شاید کوئی فرشتہ تھا جو درویش فقیر کے روپ میں آسمان سے آیا تھا اور آسمان میں غائب ہو گیا۔ اب وہ کس کے ہاتھ آئے اور کہاں سے ہاتھ آئے؟ پر بادشاہ سلامت کے سپاہی بھی سندھ پولیس کے سپاہی تھے اور ان کا کچھ واسطہ پاکستان پولیس، ایف آئی اے، سی آئی ڈی، ڈی آئی بی اور ڈی ڈی ٹی کھاتے سے بھی رہا تھا، سو معلوم نہیں کیسے اور کہاں سے اس درویش فقیر کو پکڑ کر بادشاہ سلامت کے آگے پیش کیا۔ درویش فقیر بالکل حواس باختہ اور مونجھ میں مبتلا تھا۔ حوصلے خطا اور ہوش و حواس ایسے گم تھے کہ بادشاہ سلامت کو بھی پہچان نہیں پا رہا تھا۔ فقط سپاہیوں کو پہچان رہا تھا اور ان کی چمچہ گیری میں لگا رہا۔ بادشاہ سلامت سر پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا کہ یہ درویش فقیر اب کس کام کا؟ سچ ہے کہ خدا نہ کرے جو درویش فقیر کا واسطہ سندھ پولیس سے پڑے۔ عبرت کا مقام ہے۔ وہی بادشاہ سلامت والا فقیر آج کل سندھ پولیس میں ہیڈ کانسٹیبل ہے۔</p>
<p>پھر ایک فقیر آیا جس نے بادشاہ سلامت کو پلنگ سے اٹھا کر اوندھی کھاٹ پر سلایا۔ فقیر کے جانے کے بعد بادشاہ سلامت نے گردن موڑ کر دیکھا کہ فقیر بھی گیا یا نہیں۔ جب اطمینان ہوا کہ فقیر چلا گیا تو کھاٹ سیدھی کر کے خود اس پر الٹا لیٹ گیا۔</p>
<p>پھر ایک فقیر آیا جس نے بادشاہ سلامت کو ایک آم دے کر کہا کہ آدھا تو کھا اور آدھا رانی کو کھلا۔ فقیر کے چلے جانے کے بعد بادشاہ سلامت نے اس کے جانے کا اطمینان کیا اور پورا آم خود کھا گیا۔</p>
<p>پھر ایک فقیر آیا جس نے بادشاہ سلامت کو آیک اور آم دے کر کہا کہ آدھا تو کھا اور آدھا رانی کو کھلا۔ کچھ دیر بعد بادشاہ سلامت نے دیکھا کہ آم کو چوہا کتر گیا ہے۔ بادشاہ سلامت سمجھ گیا کہ یہ آم کھانے سے چوہا شہزادہ جنم لے گا۔ اس نے درزی منگوا کر چوہے کی ناپ پر ہزاروں لچھے اور چڈھیاں سلوا کر تیار کروائیں کہ چوہے شہزادے کو وقت پر کام آئیں مگر افسوس صد افسوس۔ بادشاہ سلامت کو اولاد نہ ہوئی۔</p>
<p>قدرت کے راز چند مجذوب فقیروں کے پاس پوشیدہ ہیں سو ایک دن ایک مجذوب فقیر آیا جس نے بادشاہ سلامت کو کھاٹ سے اٹھا کر پلنگ پر سلایا اور پھر کھاٹ الٹی کر کے بادشاہ سلامت کو پلنگ سے اٹھا کر پھر کھاٹ پر سلا دیا۔ پھر اِدھر اُدھر نظریں گھما کر اطمینان کیا کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا اور پلنگ اٹھا کر کھسک گیا۔ سچ ہے قدرت کے راز جتنے بے شمار ہیں اتنے ہی انوکھے بھی ہیں۔</p>
<p>آخر بادشاہ سلامت بے اولاد ہی مرگیا اور نصیب کا لکھا ایسے پورا ہوا۔ بہت بعد یہ خبر پڑی کہ بادشاہ سلامت کیوں بے اولاد جیا اور کیوں بے اولاد ہی مر گیا۔ دراصل بادشاہ سلامت اولاد کے اندھے شوق میں شادی کرنا ہی بھول گیا تھا۔ جس وقت بادشاہ سلامت کا جنازہ اٹھ رہا تھا اس وقت جنگل میں وہ مجذوب فقیر بادشاہ سلامت والے پلنگ پر لیٹے گنگنا رہا تھا،</p>
<p>ہر ایک مسافر ہے، یہاں مکان نہیں کسی کا۔</p>
<p>.….……</p>
<p><strong>ایک تھا بادشاہ</strong></p>
<p>کسی زمانے میں کسی ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا جس کے ہاں بے شمار بیٹیاں تھیں۔ بادشاہ کی حسرت تھی کہ قصے کہانیوں کے مطابق اسے بھی دوسرے بادشاہوں کی طرح سات بیٹے یا فقط تین بیٹے یا فقط ایک بیٹی ہوتی لیکن معاملہ کچھ اس کے بس سے باہر تھا۔ کیوں کہ وہ رانی کی طرف دیکھتا تھا تو رانی حمل سے ہو جاتی تھی۔ ایک بار رانی کی طرف دیکھ کر فقط مسکرایا تو رانی کو جڑواں پیدا ہوئے تھے۔ تو اسے ہر وقت خدشہ رہتا تھا کہ رانی کی موجودگی میں اگر اس سے کوئی قہقہہ نکل گیا تو رانی سات بچے اکٹھے جن کر اسے اپنی رعایا میں اور پڑوسی ممالک میں بھی خوار و خراب اور ذلیل کرے گی۔ محل کے جاسوسوں نے تحریری طور پر پہلے ہی رپورٹ دی تھی کہ رانی کا پروگرام کچھ اسی طرح کا ہے۔ اس لئے بادشاہ سخت پریشان اور پشیمان رہتا تھا اور گھر میں داخل ہوتا تو گھٹنوں کے بل چلنا شروع کر دیتا تھا۔</p>
<p>ویسے ایک دوسری بات بھی تھی جس کی وجہ سے معاملہ ہوا تھا۔ وہ دوسری بات یہ تھی کہ ہر حمل کے وقت دائی رانی کا پاؤں اور جوتشی بادشاہ کا پاؤں دیکھ کر کہتے آئے کہ اب بیٹا ہوگا، اب یقیناً بیٹا ہوگا، اب ہر صورت بیٹا ہوگا۔ پر ہوا یوں کہ قاعدے سے باقاعدہ نمبر کے مطابق بیٹی پیدا ہوتی رہی جس کے نتیجے میں سارے گھر میں بیٹیاں ہی بیٹیاں ہو گئیں اور بادشاہ اپنی کھاٹ اٹھا کر مہمان خانے میں جا ڈیرا ڈال بیٹھ گیا، پرا رانی نے اس کا وہاں جا بیٹھنا بھی گوارا نہ کیا۔ (یہاں کچھ میں اضافہ کر گیا ہوں۔ بادشاہ بستر وستر کھاٹ واٹ نہیں بلکہ فقط ایک کمبل اٹھا کر مہمان خانے میں صوفے پر جا سویا تھا جہاں سے رانی نے ڈانٹ ڈپٹ کر اٹھایا کہ صوفے پر سویا نہیں جاتا۔)</p>
<p>ایک دن بادشاہ کے پاس کچھ مہمان آئے۔ بادشاہ مہمانوں کو مہمان خانے میں بٹھا کے، خود اندر جا کے، دونوں ہونٹوں پر خاموشی کی انگلی رکھ کر رانی سے بولا،<br>
“آہستہ بولنا اور راہ خدا غصہ مت کرنا۔ میرے دوست ہیں، میرے پاس پہلی بار آئے ہیں۔بہت اچھے دوست ہیں اور بڑی عزت والے ہیں۔ دوسری بار نہ آئیں گے، کچھ گڑبڑی ہوئی تو کبھی نہیں آئیں گے۔ فقط چار کپ چائے بنا کر بھیج، پھر یہ کام دوبارہ نہ بولوں گا۔ آج بھی میں گھر پر نہ ہوتا تو یہ چلے جاتے پر اب تو آگئے ہیں۔ خدا کا واسطہ شور مت کرنا۔ میں ہی بدبخت تھا جو دروازہ خود جا کر کھولا۔ بڑا منحوس ہوں جو اس وقت گھر پر تھا۔ میں نے سب دوستوں سے کہہ دیا ہے کہ میرے گھر نہ آیا کریں پر یہ باہر سے آئے ہیں۔ پھر نہ آئیں گے، میں انہیں بھی بول دوں گا۔ آج عزت رکھ لے اور چائے کے چار کپ بنا کر بھیج۔” بادشاہ یہ کہتے کہتے رونے لگا اور رانی اسے حقارت سے دیکھتی باروچی خانے چلی گئی جہاں سے پھر برتن ٹوٹنے، توڑنے، پھینکنے اور پٹخنے کی دھوم دھڑام اور ٹھو ٹھاہ مہمان خانے میں مہمانوں تک بھی پہنچنے لگی۔</p>
<p>پھر ایک دن رانی نے بادشاہ کو کہا، “یہ اپنی کتابیں اٹھا کر کسی دوسری جگہ رکھ۔” تو بادشاہ نے اپنی کتابیں اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دیں۔ پر کچھ دن بعد رانی نے بادشاہ کو پھر کہا، “یہ اپنی کتابیں اٹھا کر کہیں اور رکھ۔” بادشاہ نے کتابیں پھر اٹھائی اور کہیں اور جا رکھیں۔ اس طرح رانی کے کہنے پر ایک جگہ سے دوسری، دوسری جگہ سے تیسری، تیسری سے چوتھی جگہ رکھتا رہا۔ ایک دن بادشاہ نے دیکھا کہ کتابیں غائب ہیں۔ اس نے چیخ کر کہا، “میری کتابیں کہاں ہیں؟” رانی بولی، “وہ میں نے اٹھوا کر چھت پر رکھوا دی ہیں۔” اس کے بعد بادشاہ اور رانی کے درمیان جو زبان استعمال ہوئی، وہ قصے کہانیوں میں لکھی نہیں جاتی۔</p>
<p>اور پھر ایک دن بادشاہ نہانے کے لئے غسل خانے گیا اور کپڑے اتار، دو چار لوٹے پانی کے سر پر بہا کر صابن جو ڈھونڈے تو صابن تھا ہی نہیں۔ آگ بگولا ہو کر، غسل خانے کا دروازہ ذرا سا کھول کر غصے میں چیخا، “ارے یہ صابن کہاں گیا؟” رانی نے وہیں سے چیخ کر جواب دیا، “بالٹی کے پیچھے ہوگا۔” بادشاہ نے بالٹی کے پیچھے دیکھا تو وہاں بھی صابن نہ تھا۔ وہ چیخ کو بولا، “بالٹی کے پیچھے نہیں ہے۔ میرا صابن اٹھاتے کیوں ہو؟” رانی وہیں سے چیخی، ”کوئی ہاتھ بھی نہیں لگاتا تیرے صابن کو۔وہیں ہوگا کسی کونے میں۔ اوپر تختے پر ہوگا۔” بادشاہ نے اوپر تختے پر دیکھا، وہاں بھی نہیں تھا۔ بہت ڈھونڈھا پر گھر میں صابن ملا ہی نہیں۔ رانی نے بچے کے ہاتھ ہٹی سے صابن منگوایا۔ تب تک بادشاہ غسل خانے میں بُڑبُڑاتا رہا، “کتنی بار بولا ہے میرے صابن کو ہاتھ نہ لگاؤ اور اگر لگاتے ہو تو اسی جگہ رکھو۔” ہٹی سے صابن کے آنے تک بادشاہ تاؤ میں دو چار لوٹے پانی کے جسم پر بہا کر، ایسے ہی کپڑے پہن کر باہر نکلنے کے لئے دروازے کی طرف گھوما تو دیکھتا ہے کہ جس صابن کی ڈھنڈیا مچی تھی، اس کے پاؤں میں پڑا تھا۔ غسل خانے کا دروازہ بند ہونے کے باوجود چاروں طرف دیکھا کہ کسی نے دیکھا تو نہیں؟ سخت پریشان ہوا کہ بچوں کو اگر معلوم ہوا کہ جس صابن کے لئے اس نے شور مچا رکھا تھا، وہ اس کے پاؤں میں پڑا تھا تو بچے ٹھٹھا اڑائیں گے اور اس پر طنز کریں گے۔ اور رانی کو خبر پڑے گی کہ جس صابن کے لئے وہ گالی گلوچ پر اتر آیا تھا، وہ اس کے پاؤں تلے تھا تو رانی اسے نزدیک بٹھا کر لعنت منہ پر رکھے گی۔ اس نے یہ کیا کہ صابن اٹھا کر اپنی قمیض کی جیب میں ڈال لیا اور غسل خانہ سے نکل آیا۔ سگریٹ لینے کے بہانے گھر سے نکل کر، گلی میں دور جا کر کھوکھے سے سگریٹ لے کر، ایک سگریٹ سلگا کر، سیٹی بجاتا گھر کی طرف لوٹا جہاں رانی ویسے ہی لعنت تیار رکھے بیٹھی تھی۔</p>
<p>پھر ایک دن بادشاہ نے رانی سے کہا، “میں گھر چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔ ” رانی نے کہا، “یہ سن سن کر میرے کان پک گئے ہیں۔ آخر کب جاؤگے؟”</p>
<p>تو کسی زمانے میں ایک ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا جو ایک دن ملک چھوڑ کر جنگل چلا گیا۔ کسی نے بولا دانا تھا، کسی نے کہا درویش تھا، کسی نے بولا اوتار تھا پر رانی نے فقط ایک لعنت اس طرف رکھ کر دی جس طرف بادشاہ گیا تھا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/haleem-barohi-ki-2-kahanian/">حلیم بروہی کی دو کہانیاں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/haleem-barohi-ki-2-kahanian/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کیکولے کا مسئلہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/keukule-ka-masla/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/keukule-ka-masla/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 22 Sep 2025 16:44:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈارون]]></category>
		<category><![CDATA[زبان]]></category>
		<category><![CDATA[کارمک میکارتھی]]></category>
		<category><![CDATA[کوانٹم میکانیات]]></category>
		<category><![CDATA[کیکولے]]></category>
		<category><![CDATA[لاشعور]]></category>
		<category><![CDATA[لامارک]]></category>
		<category><![CDATA[لسانی ارتقاء]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=33764</guid>

					<description><![CDATA[<p>لاشعور ایک حیاتیاتی عامل ہے اور زبان نہیں۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/keukule-ka-masla/">کیکولے کا مسئلہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><em>کارمک میکارتھی کو دنیا ایک ناول نگار کی حیثیت سے جانتی ہے۔ ان کے تخلیقی کارناموں میں “بلڈ میریڈیئن”، “آل دی پریٹی ہارسز”،“نو کنٹری فار اولڈ مین”، اور “دی روڈ” شامل ہیں۔ وہ سانتا فے انسٹی ٹیوٹ (SFI) میں میرے رفیق محقق ہیں، اور بڑی جامع العلوم شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ آپ ریاضی کی تاریخ، کوانٹم میکانیات کے (کائنات کو) علت و معلول کے تسلسل کے طور پر بیان کرنے سے متعلق فلسفیانہ مباحث (1)، غیر انسانی ذہانت کے تقابلی شواہد، اور شعوری و لاشعوری ذہن کی اصل، جیسے مضامین سے شغف رکھتے ہیں۔ ایس ایف آئی میں ہم ان کے ناولوں میں ان سائنسی دلچسپیوں کا سراغ بھی لگاتے ہیں، اور چوری چھپے ان کی تحاریر میں ان مشاغل کے پوشیدہ آثار اور علامتوں کا شمار بھی رکھتے ہیں۔ </em></p>
<p>پچھلی دو دہائیوں سے کارمک اور میں لاشعوری ذہن کی الجھنوں اور پیچیدگیوں پر گفتگو کر رہے ہیں۔ ان میں سب سے اہم پہیلی یہ ہے کہ تقریباً لامحدود اظہار کی حالیہ اور ‘منفرد’ انسانی صلاحیت، ایک بے حد قدیم حیوانی دماغ کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ یہ دو مختلف ارتقائی نظام آپس میں کیسے ہم آہنگ ہوئے؟ کارمک کا کہنا ہے کہ یہ کشمکش اسی گہرے شک، بلکہ شاید استحقار سے عبارت ہے جو قدیم لاشعور کے ہاں اس نئی نئی سر اٹھاتی شعوری زبان سے متعلق پایا جاتا ہے۔اس مضمون میں، کارمک خوابوں اور عفونت کے ذریعے اس خیال کی وسعت کا اندازہ لگاتے ہیں۔ یہ ان خیالات اور الجھنوں پر ایک جامع اور نکتہ آفریں تحریر ہے، جنہیں ‘پیچیدگی کی سائنس’ کی مدد سے سمجھنے کی جستجو تحقیقی برادری نے ابھی حال ہی میں شروع کی ہے۔</p>
<p><strong>ڈیوڈ کراکاور صدر اور ولیم ایچ. ملر پروفیسر آف کمپلیکس سسٹمز، سانتا فے انسٹی ٹیوٹ</strong></p>
<p>.….….….….….</p>
<p>کارمک میکارتھی کا یہ <a href="https://nautil.us/the-kekul-problem-236574/" target="_blank">مضمون</a> Nautilus میگزین میں 17 اپریل 2017 کو شائع ہوا تھا۔ </p>
<p>.….….….….….</p>
<p>میں اسے کیکولے کا مسئلہ کہتا ہوں، کیونکہ اُن ان گنت مسائل میں سے جن کے حل ان کے سلجھانے والوں کو نیند میں ملے، کیکولے کا قصہ سب سے زیادہ مشہور ہے۔ بینزین کے مالیکیول کی ساخت معلوم کرنے کی جستجو میں اسے کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی تھی۔ آگ کے سامنے اس کی آنکھ لگ گئی اور اس نے وہ مشہور خواب دیکھا جس میں ایک سانپ اپنی دم کو منہ میں لیے ایک حلقے میں کنڈلی مارے بیٹھا تھا، بالکل دیومالائی اوروبروس (2) کی طرح۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور خود سے کہا: “یہ ایک حلقہ ہے۔ مالیکیول ایک دائرے کی شکل میں ہے”۔ خیر، کیکولے کے بر عکس ہمارا مسئلہ یہ نہیں کہ کیکولے نے کیا دیکھا۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جب لاشعور زبان کو بخوبی سمجھتا ہے، ورنہ وہ مسئلہ سرے سے سمجھ ہی نہ پاتا، تو پھر اس نے کیکولے کو سیدھے سبھاو یہ کیوں نہیں بتا دیا: “کیکولے، یہ ایک دائرہ ہے!”۔ جس پر ہمارا سائنسدان شاید کچھ یوں جواب دیتا: “اچھا، سمجھ گیا، شکریہ۔”</p>
<p>لیکن سانپ ہی کیوں؟ یعنی، لاشعور ہم سے بات کرنے میں اتنی بے اعتنائی کیوں برتتا ہے؟ یہ تصاویر، استعارے اور اشارے کیوں بھیجتا ہے؟ اور، سچ پوچھیں تو، یہ خواب ہی کیوں دکھاتا ہے؟</p>
<p>ایک معقول نقطۂ آغاز یہ ہو سکتا ہے کہ پہلے یہ واضح کر لیا جائے کہ لاشعور آخر ہے کیا؟ اس مقصد کے لیے ہمیں جدید نفسیات کی اصطلاحات کو نظر انداز کرتے ہوئے حیاتیات سے رجوع کرنا ہو گا۔ لاشعور سب سے پہلے تو ایک حیاتیاتی نظام ہے، باقی جو کچھ ہے وہ اس کے بعد ہے۔ اگر اسے ممکنہ حد تک اختصار اور درستی کے ساتھ بیان کیا جائے تو یہ ایک ایسی مشین ہے جو کسی حیوان کو چلانے کے لیے کارفرما ہے۔</p>
<p>تمام حیوانات کے پاس لاشعور ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ نباتات ہوتے۔ کبھی کبھی ہم اپنے لاشعور کو ایسے فرائض کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جن کی انجام دہی سے اس کا کچھ لینا دینا نہیں۔ پیچیدہ نظاموں کو اپنی بعض ضرورتوں کی تکمیل کے لیے علیحدہ نظم و نسق کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً، سانس لینے کا عمل لاشعور کے ذریعے نہیں بلکہ پونز اور میڈولا اوبلونگیٹا کے ذریعے قابو میں رہتا ہے، یہ دونوں نظام حرام مغز میں واقع ہوتے ہیں۔ البتہ، حوتیہ انواع (Cetaceans) جیساکہ وہیل ڈالفن وغیرہ کے معاملے میں یہ استثنا ہے، کیونکہ انہیں سانس لینے کے لیے سطح پر آنا پڑتا ہے۔ ایک خود مختار نظام ان کے لیے کارآمد نہیں۔ پہلی ڈولفن جسے جراحت کی میز پر بے ہوش کیا گیا، وہ فوراً مر گئی۔ (وہ کیسے سوتی ہیں؟ وہ باری باری اپنے دماغ کا آدھا حصہ سلاتی ہیں)۔ لیکن، لاشعورکے کرنے کو بے شمار کام ہیں۔ کھجانے سے لے کر ریاضی کے مسائل حل کرنے تک، سب کچھ اسی کے ذمے ہے۔</p>
<p>زبان عمومی مسائل کے بیان پر بخوبی قادر ہے اور ان کی وضاحت کا ایک کارآمد وسیلہ ہے۔ لیکن کسی بھی شعبے میں سوچنے کا حقیقی عمل، بڑی حد تک ایک لاشعوری سرگرمی ہے۔ کسی سنگ میل کی طرح، زبان جستجو کے سفر میں ہمارے کسی پڑاو کا مختصر احوال بیان کر سکتی ہے، تاکہ آئندہ کے لیےایک نیا نقطہ آغاز مل سکے۔ لیکن اگر آپ کا ماننا ہے کہ در حقیقت آپ زبان کے استعمال سے مسائل حل کرتے ہیں، تو میری خواہش ہے کہ آپ مجھے لکھیں اور بتائیں کہ آپ یہ کام کس طرح کرتے ہیں۔</p>
<p>میں نے اپنے چند ریاضی دان دوستوں کو جتلایا کہ لاشعور ریاضی میں ان سے بہتر ہے۔ میرا دوست جارج زویگ اسے “نائٹ شفٹ” کہتا ہے۔ یاد رہے کہ لاشعور کے پاس نہ کوئی پنسل ہے اور نہ کوئی نوٹ پیڈ، اور یقیناً کوئی ربڑ بھی نہیں۔ مگر اس سب کے باوجود لاشعور کا ریاضیاتی مسائل حل کرنا ایک مسلمہ بات ہے۔ لیکن یہ ایسا کیسے کرتا ہے؟ جب میں نے اپنے دوستوں کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ شاید لاشعور یہ سب کچھ اعداد استعمال کیے بغیر بھی کر لیتا ہو، تو ان میں سے اکثر نے، کچھ سوچ بچار کے بعد اتفاق کیا کہ ایسا ہونا ممکن ہے۔ مگر کیسے، یہ ہمیں معلوم نہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے ہمیں علم نہیں کہ ہم بولتے کیسے ہیں۔ جب میں آپ سے بات کر رہا ہوتا ہوں، تو یہ ممکن نہیں کہ میں ساتھ ساتھ اپنے اگلے جملے بھی بُن رہا ہوں۔ میں پوری طرح آپ سے بات کرنے میں مگن ہوتا ہوں۔ اور اب ایسا بھی نہیں کہ میرے ذہن کا کوئی حصہ یہ جملے جوڑ جاڑ کر مجھے سنا رہا ہے تاکہ میں انہیں دہرا سکوں۔ اس حقیقت سے قطع نظر کہ میں مصروف ہوں، یہ امر ایک لامتناہی تسلسل کو جنم دے گا۔ سچ پوچھیے تو یہاں ایک ایسا عمل جاری و ساری ہے جس تک ہماری رسائی ممکن نہیں۔ یہ ایک راز ہے، ایک ایسا بھید جو تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔</p>
<p>ہمارے بیچ کچھ ایسے بااثر خواتین و حضرات بھی موجود ہیں، جن کا ذکر آگے آئے گا، جو دعویٰ کرتے ہیں کہ زبان محض ایک ارتقائی عمل ہے۔ گویا یہ دماغ میں اپنی کسی ابتدائی شکل میں ظاہر ہوئی اور پھر بتدریج ارتقاء کے ذریعے ایک کارآمد اوزار میں ڈھل گئی۔ شاید کسی حد تک بینائی کی طرح۔ لیکن اب ہم جانتے ہیں کہ بصارت کا سراغ درجن بھر الگ الگ ارتقائی سلسلوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ غایت پرستوں کے لیے یہ ایک پرکشش موضوع ہے۔ان کہانیوں کا آغاز عموماً ایک خام عضو سے ہوتا ہے جو صرف روشنی کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا، جہاں سر پہ سایہ منڈلانے کا مطلب تھا کہ شکاری سر پہ ہے۔ یہ صورتِ حال دراصل ڈارون کے انتخابی اصول کے لیے ایک نہایت موزوں منظرنامہ بنتی ہے۔ ممکن ہے کہ ان بااثر اشخاص کا ماننا ہو کہ تمام ممالیہ زبان کے نمودار ہونے کے منتظر ہیں۔ میں نہیں جانتا، لیکن تمام شواہد اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ زبان صرف ایک بار اور صرف ایک ہی نوع میں ظاہر ہوئی، اور پھر بڑی سرعت سے اس نوع میں پھیل گئی۔</p>
<p>حیوانی دنیا میں اشاروں کی کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جنہیں ایک ابتدائی زبان (proto-language) سمجھا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر دھاری دار گلہریوں اور کئی دیگر انواع کے ہاں فضائی اور زمینی شکاریوں کے لیے الگ الگ انتباہی اشارے موجود ہیں۔ یعنی باز کے لیے الگ اور لومڑی یا بلی کے لیے الگ۔ یہ یقیناً نہایت کارآمد ہے۔ لیکن یہاں وہ مرکزی خیال مفقود ہے جو کسی زبان کو زبان بناتا ہے، یعنی ایک شے کسی دوسری شے کی نمائندگی کر سکتی ہے۔ یہی وہ نکتہ تھا جو ہیلن کیلر نے کنویں پر اچانک سمجھ لیا تھا۔ کہ پانی کا اشارہ محض پانی سے بھرا گلاس حاصل کرنے کی تگ و دو نہیں؛ بلکہ یہ پانی سے لبریز گلاس بھی ہے اور گلاس میں موجود پانی بھی۔ یہی منظر ڈرامہ دی میریکل ورکر میں پیش کیا گیا، اور ہر آنکھ کو اشک بار کر گیا۔</p>
<p>زبان کے ایجاد ہوتے ہی اس کی افادیت سمجھ میں آ گئی۔ اور ایک بار پھر کہہ دوں کہ یہ تقریباً فوراً ہی پوری انسانی نسل میں پھیل گئی۔ سب سے پہلا مسئلہ یہ تھا کہ نام رکھنے کو چیزیں زیادہ تھیں اور آوازیں کم۔ غالب گمان ہے کہ زبان کا آغاز جنوبی مغربی افریقہ میں ہوا ہو گا۔ ممکن ہے کہ کھوئسان (جنوبی افریقہ کے کھوئیکھوئی اور سان لوگوں کی) زبانوں بشمول سانداوے اور حدزا، میں موجود چٹکاہٹ (clicks) صوتی تنوع کی ضرورت کی تکمیل کے لیے اپنائی گئی قدیم آوازوں کی باقیات میں سے ہوں۔ یہ صوتی تقاضے ارتقاء نے وقت کے ساتھ پورے کیے اور کچھ ہی عرصے میں ہمارے گلے کو بڑی حد تک بول چال کے قابل بنا دیا۔ مگر ہمیں اس کی قیمت بھی چکانی پڑی۔ نرخرہ نیچے سرکنے سے کھانے کے دوران دم گھٹنے کا شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جو موت کی عام وجہ ہے۔ اب ہم وہ واحد ممالیہ ہیں جو ایک ساتھ بولنے اور نگلنے سے قاصر ہے۔</p>
<p>وہی (جغرافیائی) تنہائی جس نے ہماری نوع کو طویل اور پست قامت، اور گورے اور کالے سمیت متعدد شباہتوں میں تقسیم کیا ہے، زبان کی پیش قدمی کو روکنے میں بالکل ناکام رہی۔ زبان نے پہاڑوں اور سمندروں کو یوں پار کیا گویا وہ تھے ہی نہیں۔ کیا زبان کی کوئی ضرورت تھی؟ نہیں۔ ہمارے آس پاس موجود پانچ ہزار سے زائد ممالیہ اس کے بغیر بخوبی گزارہ کر لیتے ہیں۔ لیکن کیا یہ کارآمد ہے؟ جی ہاں، بے حد۔ مزید برآں، جب زبان وجود میں آئی تو اس کے لیے دماغ میں کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ دماغ اس کے ظہور کے لیے تیار نہیں تھا، نہ ہی اس نے اس کی آمد کے لیے کوئی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ زبان نے بس دماغ کے ان حصوں پر قبضہ کر لیا جو سب سے کم فعال تھے۔ میں نے ایک بار سانتا فے انسٹی ٹیوٹ میں گفتگو کے دوران کہا تھا کہ زبان بالکل اسی طرز عمل سے ظاہر ہوئی جو طفیلی حملہ آوروں سے مخصوص ہے۔ ادارے کے سربراہ ڈیوڈ کراکاور نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ذہن میں بھی یہی خیال آیا تھا۔ یہ جان کر مجھے خاصی خوشی ہوئی کیونکہ ڈیوڈ نہایت ذہین ہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ انسانی دماغ کی ساخت زبان کو اپنانے کے لیے موزوں نہیں تھی۔ آخر زبان کو اور کہاں ٹھکانہ کرنا تھا؟ کم از کم تاریخ کی شہادت تو ہمارے پاس موجود ہے۔ زبان اور وائرس کی تاریخ میں بنیادی فرق یہی ہے کہ وائرس ڈارونی انتخاب کے ذریعے سامنے آئے مگر زبان نہیں۔ وائرس ایک نفیس مشین ہے۔ اسے پروان چڑھاو، ذرا گھماؤ، دھکیلو، ‘کھٹاک’ —اور یہ بالکل درست بیٹھ جاتا ہے۔ مگر (ارتقائی) کاٹھ کباڑ کے ڈھیر پر ایسے بھی بے شمار وائرس ملیں گے جو اس کھانچے میں پورے نہیں بیٹھ سکے۔</p>
<p>زبان کے ارتقاء میں ڈارونی انتخاب کا کوئی عمل دخل نہیں، کیونکہ زبان کوئی حیاتیاتی نظام نہیں اور اس لیے بھی کہ اس کا مبداء صرف ایک ہی ہے۔ وہ ازلی زبان جس سے تمام زبانیں پھوٹیں اور آگے چل کر اپنے اپنے رنگ روپ میں ڈھل گئیں۔</p>
<p>یہاں لامارک (3) کے تصورِ ارتقاء کو نیم آشکار پا کر، بااثر خواتین و حضرات یقیناً مسکرا اٹھے ہوں گے۔ ہم چاہیں تو پینترے بدل کر یا نت نئی تعریفیں گھڑ کر اس مسئلے سے اپنا پہلو بچانے کی کوشش کر سکتے ہیں، مگر شاید ہماری یہ کوشش کچھ زیادہ کامیاب نہ ٹھہرے۔ ڈارون نے تو وراثت میں ’بریدہ اعضا‘ (Mutilations) کے انتقال کے امکان کو بالکل رد کر دیا تھا، مثلاً کتوں کی دم کاٹنے کا معاملہ۔ لیکن وراثت میں خیالات کی منتقلی کا مسئلہ ابھی بھی حل طلب ہے۔ اکتساب کے سوا ان کی منتقلی کا کوئی اور طریقہ ابھی بھی گمان میں نہیں آتا۔ لاشعور کے کام کرنے کے ڈھنگ کو نہ ہونے کے برابر سمجھا گیا ہے۔ یہی وہ میدان ہے جسے مصنوعی ذہانت سے متعلق علوم نے تقریباً نظرانداز کر رکھا ہے، جہاں زیادہ تر توجہ اس موضوع کے تجزیاتی پہلووں یا کمپیوٹر کے دماغ کی مانند ہونے یا نہ ہونے کی بحث پر دی جا رہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایسا نہیں ہے— لیکن یہ نتیجہ بھی پوری طرح درست نہیں۔</p>
<p>لاشعور کی معلوم خصوصیات میں سے نمایاں ترین اس کی مسلسل موجودگی ہے۔ ہم سبھی خوابوں کی تکرار سے واقف ہیں۔ لاشعور کو بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والا بھی تصور کیا جا سکتا ہے: اسے سمجھ نہیں آ رہا، ہے ناں؟ نہیں۔ وہ تو بالکل ہی گھامڑ ہے۔ تم کیا کرنا چاہتے ہو؟ پتہ نہیں۔ اس کی ماں کو بیچ میں لے آئیں کیا؟ اس کی ماں مر چکی ہے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟</p>
<p>یہاں کیا اصول کارفرما ہے؟ اور لاشعور کو کیسے خبر ہو جاتی ہے کہ ہم بات سمجھ نہیں پا رہے؟ وہ کیا شے ہے جس کی اسے بھی خبر نہیں؟ اس نتیجے سے بچنا آسان نہیں کہ ہماری تعلیم ہمارے لاشعور کی اخلاقی مجبوری ہے۔ (اخلاقی مجبوری؟ کیا وہ سنجیدہ ہے؟)</p>
<p>لسانی ارتقاء کی ابتداء چیزوں کے نام رکھنے سے ہوئی ہو گی۔ اس کے بعد ان چیزوں کی کیفیات اور ان کے افعال کی وضاحت کی باری آئی ہو گی۔ زبانوں کے پھیلاؤ اور صرف و نحو کی آفاقیت کے پیچھے یقیناً کوئی ایک مشترک اصول کارفرما ہے۔ اور وہ اصول یہ ہے کہ زبانوں کی تشکیل ہمیشہ خارجی تقاضوں کے تحت ہوئی ہے، اور وہ دنیا کی توضیح و تشریح کی ذمہ دار ہیں۔ کہنے کی تو بس یہی ایک بات ہے۔</p>
<p>یہ سب بہت تیزی سے ہوا۔ کوئی ایسی زبان باقی نہیں جس کی ہیئت ابھی بھی ارتقاء پذیر ہو۔ اور بنیادی طور پر ان سب کی ساخت ایک سی ہے۔</p>
<p>ہم یہ نہیں جانتے کہ لاشعور کیا ہے، کہاں ہے، یا جہاں کہیں بھی وہ ہے، وہاں تک کیسے پہنچا۔ حیوانی دماغ سے متعلق حالیہ تحقیقات کے دوران بعض نہایت ذہین انواع میں غیرمعمولی طور پر بڑے سیریبیلم کی موجودگی خاصی معنی خیز ہے۔ یہ خیال آہستہ آہستہ مقبول ہو رہا ہے کہ دنیاوی حقائق دماغ کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان حقائق تک لاشعور کی رسائی کے ذرائع ہم تک محدود ہیں، یا ہمارے حسی نظام تک اسے بھی ہم جیسی ہی رسائی حاصل ہے؟ اب آپ میری طرح’ہم’، ‘ہمارا’ اور ‘ہمیں’ کے ساتھ جیسا چاہے تگڑم لڑا لیں۔ سچ تو یہ ہے کہ کسی نہ کسی مرحلے پر ذہن کو حقائق کو نحوی قالب میں ڈھال کر انہیں کہانیوں میں بدلنا پڑتا ہے۔ دنیا کے حقائق عموماً بیانیے کی صورت میں سامنے نہیں آتے، یہ کام ہمیں خود کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p>تو آخر ہم کیا کہہ رہے ہیں؟ یہی کہ کوئی نامعلوم مفکر ایک رات اپنی غار میں جاگا اور اسے بڑے پتے کی بات سوجھی: کمال ہے، واہ بھئی۔ ایک شے دوسری شے بھی ہو سکتی ہے۔ جی ہاں، بالکل یہی تو ہم کہہ رہے ہیں۔ سوائے اس کے کہ وہ منہ سے بول کر یہ بات نہیں کہہ پایا ہو گا، کیونکہ اُس کے پاس کوئی ایسی زبان تھی ہی نہیں۔ فی الحال اسے بس سوچنے پر ہی اکتفا کرنا پڑا ہو گا۔ اور یہ سب کب ہوا؟ ہمارے بااثر خواتین و حضرات اس بارے میں کوئی دعویٰ کرنے سے قاصر ہیں۔ بلکہ وہ تو یہ ماننے کو بھی تیار نہیں کہ ایسا کچھ کبھی ہوا بھی تھا۔ اس بحث سے قطع نظر—کیا یہ ایک لاکھ برس پہلے ہوا؟ پانچ لاکھ برس پہلے؟ یا اس سے بھی زیادہ؟ حقیقتاً ایک لاکھ برس پہلے کا اندازہ خاصا معقول معلوم ہوتا ہے۔ یہی وہ قدیم ترین زمانہ ہے جس دوران کندہ کیے گئے تصویری نقوش جنوبی افریقہ کی بلومبوس غاروں میں دریافت ہوئے ہیں۔ یہی نقوش اور کھرونچیں انسان کے بیدار ہوتے ہوئے شعور کی گواہی ہیں۔ اس امر پر اگرچہ کافی عرصے سے اجماع ہے کہ فنونِ لطیفہ زبان سے پہلے وجود میں آئے، لیکن غالباً ان دونوں کے بیچ فاصلہ بہت زیادہ نہ تھا۔ بعض ماہرین تو یہاں تک دعویٰ کرتے ہیں کہ زبان قریب دس لاکھ برس قدیم ہو سکتی ہے۔ مگر وہ یہ وضاحت نہیں کر پائے کہ اس سارے عرصے میں ہم زبان کے ساتھ کیا کر رہے تھے۔ البتہ جو بات بلاتعرض کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ زبان کے ظہور کے بعد تمام متعلقہ انسانی سرگرمیاں بڑی سرعت سے وجود میں آتی چلی گئیں۔ یہ سادہ سا ادراک کہ ایک شے دوسری شے کی نمائندگی کر سکتی ہے، ہماری تمام تر سرگرمیوں کی جڑ ہے— خواہ وہ بکریوں کے لین دین کے لیے رنگین کنکریاں استعمال کرنا ہو، یا فنون اور زبان کی تخلیق، یا پھر علامتوں کے ذریعے اُن دنیاوی حقائق کو ظاہر کرنا جو ہماری آنکھ سے اوجھل ہیں۔</p>
<p>ایک لاکھ برس تو گویا پلک جھپکنے کی بات ہے، مگر بیس لاکھ برس ہرگز نہیں۔ یہی وہ زمانہ ہے جب ہمارا لاشعور ہماری زندگیوں کی تنظیم کر رہا تھا، ان کی سمت متعین کر رہا تھا۔ یاد رہے، بغیر کسی زبان کے۔ اس حالیہ پلک جھپکنے کی مہلت کے سوا۔ تو پھر وہ ہمیں کب اور کہاں نقش کھرچنے کی ہدایت دیتا ہے؟ ہمیں نہیں معلوم۔ ہم تو بس اتنا جانتے ہیں کہ وہ یہ کام بڑی چابک دستی سے کرتا آیا ہے۔ مگر یہ حقیقت کہ لاشعور زبانی ہدایات سے بڑی حد تک اجتناب برتتا ہے —خواہ وہ کتنی ہی کارآمد کیوں نہ ثابت ہو سکتی ہوں— لاشعور کی زبان سے متعلق ناپسندیدگی، بلکہ بداعتمادی کی ایک قوی شہادت ہے۔ لیکن آخر ایسا کیوں ہے؟ غالباً اس کے لیے یہی وجہ کافی رہی ہو گی کہ کوئی بیس لاکھ برس تک وہ اس کے بغیر بھی اپنا کام بخوبی چلا چکا ہے۔</p>
<p>اپنی قدامت کے علاوہ، اس با تصویر کہانی کی وہ صورت جسے لاشعور ترجیح دیتا ہے، اپنی سادہ افادیت کے باعث بھی پرکشش ہے۔ ایک تصویر پوری کی پوری یاد آ سکتی ہے، مگر ایک مضمون نہیں۔ الا یہ کہ کسی کو اسپرجز کا مرض لاحق ہو، جہاں یادداشت درست تو ہوتی ہے مگر لفظوں تک محدود رہتی ہے۔ ایک عام آدمی کے دماغ میں علم اور معلومات کا بے پناہ ذخیرہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ ذخیرہ کس شکل میں ہے، اس بارے میں معلومات محدود ہیں۔ آپ نے ہزار ہا کتابیں پڑھ رکھی ہوں گی اور آپ ان میں سے کسی پر بھی بات کر سکتے ہوں گے خواہ آپ کو ان کے متن کا کوئی ایک لفظ بھی یاد نہ ہو۔</p>
<p>جب آپ اپنے خیالات کو ترتیب دینے کو رکتے ہیں اور کہتے ہیں: ’مجھے ذرا سوچنے دیجیے، میں یہ کیسے کہہ سکتا ہوں،‘ تو درحقیقت آپ کا ہدف نامعلوم سے لبالب اس تالاب سے کسی خیال کو جلا بخشنا اور لسانی قالب میں ڈھالنا ہوتا ہے۔ یہی ’یہ‘—جسے ہم الفاظ کا جامہ پہنانا چاہتے ہیں—ہمارے اس بےشکل ذخیرۂ علم کی نمائندگی کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص آپ کی بات سمجھنے سے قاصر رہے، تو غالباً آپ اپنی ٹھوڑی تھام کر مزید سوچ میں پڑ جائیں گے اور اپنی بات کہنے کا کوئی اور ڈھنگ ڈھونڈ نکالیں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ ایسا نہ کر پائیں۔ جب طبیعات دان ڈائریک سے طلبہ نے شکوہ کیا کہ وہ اس کی بات سمجھ نہیں پائے، تو ڈائریک اپنی بات ٹھیک اسی طرح حرف بہ حرف دہرا دیا کرتا تھا۔</p>
<p>یہ تصویر کہانی کسی تمثیل سے کم نہیں۔ ایسی حکایت جس کا مفہوم انسان کو ٹھہر کر سوچنے پر مجبور کرے۔ لاشعور قوانین سے بے اعتنا نہیں، مگر یہ قوانین آپ کے تعاون کے محتاج ہیں۔ لاشعور روزمرہ زندگی میں آپ کی رہنمائی کا خواہاں ضرور ہے، مگر اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ آپ کون سا ٹوتھ پیسٹ استعمال کرتے ہیں۔ اس کے سُجھائے راستے اگرچہ امکانات سے پُر ہیں، مگر ان میں پہاڑ کی چوٹی سے چھلانگ لگا دینا شامل نہیں۔ ہم خوابوں میں اس امر کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ وہ پریشان کن خواب جو ہمیں نیند سے جگا دیتے ہیں، تصویری جزیات سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ان میں کوئی کچھ نہیں بولتا۔ یہ قدیم خواب ہیں اور اکثر دل دہلا دینے والے ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار جب ہم ان کی تعبیر سے قاصر رہتے ہیں تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی دوست اُن کا مفہوم بھانپ لیتا ہے۔ لاشعور جان بوجھ کر اُنہیں الجھاتا ہے تاکہ ہم ان پر غور کریں، انہیں یاد رکھیں۔ یہ آپ کو مدد مانگنے سے منع نہیں کرتا۔ تمثیلیں بھی خود کو اکثر تصویروں کی شکل میں حل کرنا چاہتی ہیں۔ جب آپ نے پہلی بار افلاطون کی غار بارے سنا ہو گا تو فوراً اس کا تصور اپنے ذہن کے پردے پر کاڑھ لیا ہو گا۔</p>
<p>پھر کہے دیتا ہوں کہ لاشعور ایک حیاتیاتی عامل ہے اور زبان نہیں۔ یا کم از کم ابھی تک تو نہیں۔ اس معاملے میں ڈیکارٹ کو بحث کی میز پر مدعو کرتے وقت احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیئے۔ کوئی وصف ہماری اختراع ہے یا نہیں، وراثتی انتقال کے سوا اس امر کا بہترین پیمانہ اس وصف کا دیگر مماثل مخلوقات میں قابل مشاہدہ ہونا ہے۔ زبان کے بارے میں معاملہ خاصا واضح ہے۔ ننھے بچے جس سہولت کے ساتھ اس کے پیچیدہ اور دشوار قواعد سیکھ لیتے ہیں، وہ اکتساب کے دھیرے دھیرے شعور کا حصہ بن جانے کے عمل کی جانب ایک اشارہ ہے۔</p>
<p>میں دو برس تک وقفے وقفے سے کیکولے کے مسئلے پر غور کرتا رہا مگر یہ گتھی سلجھ نہیں پائی۔ یہ میری اور جارج زوائیگ کی دوپہر کے کھانے پر دس دس گھنٹے جاری رہنے والی نشستوں میں سے ایک نشست سے اگلے روز کا قصہ ہے۔ میں اپنی خواب گاہ کا کوڑے دان باورچی خانے کے کچرا دان میں خالی کر رہا تھا جب جواب کا سرا میرے ہاتھ لگا۔ یا یوں کہیے کہ مجھے احساس ہوا کہ جواب تو محھ کو پہلے سے معلوم ہے۔ اسے ترتیب دینے میں مجھے ایک آدھ منٹ ہی لگا۔ میں نے سوچا کہ کل کی گفتگو کے دوران جارج اور میں ابتداءً علمِ ادراک اور علومِ اعصاب پر کوئی دو گھنتے مغز ماری کرتے رہے تھے، لیکن ہمارے بیچ کیکولے اور اس کے مسئلے پر کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ مگر ہماری بات چیت کی کسی نہ کسی لہر نے شاید میرے اور ‘نائٹ شفٹ’ دونوں کے غور و فکر کو اس جانب مہمیز کیا تھا۔ جواب تو ظاہر ہے، جان لینے کے بعد بالکل سامنے کی بات لگتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ لاشعور زبانی ہدایات دینے کا عادی نہیں اور ایسا کرتے ہوئے خوش بھی نہیں ہوتا۔ بیس لاکھ برس پرانی عادات بھلا آسانی سے کب ختم ہوا کرتی ہیں۔ بعد ازاں جب میں نے اپنا نودریافت شدہ جواب زوائیگ کو بتلایا تو کچھ دیر سوچ بچار کے بعد، اس نے سر ہلا کر کہا: ’ہاں، بات تو ٹھیک ہے۔‘ تو یہ سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی، کیونکہ جارج نہایت ذہین ہے۔</p>
<p>سو طے ہوا کہ لاشعور بہت کچھ جانتا ہے۔ لیکن خود اپنے بارے میں وہ کیا جانتا ہے؟ کیا اسے خبر ہے کہ ایک دن اسے فنا ہونا ہے؟ اگر ہاں تو اس بارے میں اس کے خیالات کیا ہیں؟ یہ کسی ایک ہنر کی نہیں بلکہ صلاحیتوں کے ایک ہجوم کی نمائندگی کرتا معلوم ہوتا ہے۔ یہ ماننا مشکل ہے کہ کھجلی کا شعبہ ریاضی کا بھی ذمہ دار ہو۔ کیا یہ بیک وقت کئی مسائل پر کام کر سکتا ہے؟ کیا یہ صرف وہی جانتا ہے جو ہم اسے بتاتے ہیں؟ یا اسے بیرونی دنیا تک براہِ راست رسائی حاصل ہے جس کا امکان زیادہ ہے؟ کچھ خواب جو وہ بڑی محنت سے ہمارے لیے ترتیب دیتا ہے بلاشبہ نہایت عمیق ہوتے ہیں، اور کچھ بالکل ہی ردی۔ اور چونکہ وہ ہر ایک خواب یاد رکھنے پر مُصر نہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ بعض اوقات وہ شاید خود اپنے اوپر بھی کام کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن کیا یہ واقعی مسائل حل کرنے میں اتنا ہی ہوشیار ہے، یا محض اپنی ناکامیوں کو چھپائے رکھتا ہے؟ یہ اتنا سمجھدار کیسے ہے، کہ ہم اس پر صدقے واری ہو رہے ہیں؟ ہم اس سے سوال کیسے کریں؟ کیا تمہیں اس کا یقین ہے؟</p>
<p>۔۔۔۔۔۔<br>
1. <strong>کوانٹم میکانیات</strong> کے مقام اور نوعیت سے متعلق مباحث جن میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آیا کوانٹم میکانیات کائنات کو علت اور معلول کے تسلسل پر مبنی قوانین کے تحت بیان کرتی ہے، یا  کائنات کو محض احتمالی اور غیر قطعی قوانین پر قائم ثابت کرتی ہے۔<br>
2. <strong>اوروبروس (Ouroboros)</strong>: مصر اور یونان میں رائج اساطیری علامت جو تسلسل کو ظاہر کرتی ہے اور اپنی ہی دم کھاتے ہوئے سانپ یا اژدھے کی تصویر پر مبنی ہے۔<br>
3. فرانسیسی حیاتیات دان <strong>لامارک</strong> نے وراثت میں والدین سے اولاد میں ایسی خصوصیات یا عادات کی منتقلی کا نظریہ پیش کیا تھا جو وہ اپنی زندگی کے دوران سیکھتے ہیں یا حاصل کرتے ہیں۔ یہ نظریہ ڈارون کے نظریہ ارتقا اور جدید جینیاتی تحقیقات کی روشنی میں مسترد کیا جا چکا ہے۔ زبان کے وراثت میں انتقال ہونے کا تصور ڈارون سے زیادہ لامارک کے نظریات کے قریب ہے۔ اس ضمن میں کٹے پھٹے اعضاء کے وراثت میں منتقل نہ ہونے کو دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ </p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/keukule-ka-masla/">کیکولے کا مسئلہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/keukule-ka-masla/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایک کامل زندگی کی تین جہات</title>
		<link>https://laaltain.pk/the-three-dimensions-of-a-complete-life/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/the-three-dimensions-of-a-complete-life/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فروا شفقت]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 13 Jul 2025 17:36:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Martin Luther King Jr]]></category>
		<category><![CDATA[سول رائٹس تحریک]]></category>
		<category><![CDATA[فروا شفقت]]></category>
		<category><![CDATA[کامل زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[مارٹن لوتھر کنگ جونیئر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=33678</guid>

					<description><![CDATA[<p> دوسروں لے لیے کچھ کرنے میں یہ نہ بھولیں کہ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ دوسروں کی بدولت ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/the-three-dimensions-of-a-complete-life/">ایک کامل زندگی کی تین جہات</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>‘اک کامل زندگی کی تین جہات’، اس موضوع کو میں خطبہ میں برتنا چاہتا ہوں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ہالی وڈ والے بتاتے ہیں کہ کسی بھی فلم  کا مکمل ہونا، اُس کا سہ جہاتی [3D] ہونا ہے۔ آج جب میں آپ سے مخاطب ہوں، میں چاہتا ہوں کہ ہم میں سے ہر کوئی اپنی زندگی پر نظر کرے کہ آیا یہ کامل ہے؛ اگر ہاں تو اس کی تین جہات ہونی چاہئیں۔</p>
<p><iframe width="560" height="315" src="https://www.youtube.com/embed/GU3AnO_PJGU?si=Y58Pkn1eI6kwnZmr" title="YouTube video player" frameborder="0" allow="accelerometer; autoplay; clipboard-write; encrypted-media; gyroscope; picture-in-picture; web-share" referrerpolicy="strict-origin-when-cross-origin" allowfullscreen></iframe></p>
<p>بہت بہت صدیوں بیشتر ایک آدمی تھا جس کا نام جون (John) تھا۔ وہ پیٹموس (Patmos) نامی ایک تاریک و تنہا جزیرے پر قید ہو گیا۔ اور میں بھی قید میں رہا ہوں اور اچھے سے جانتا ہوں کہ یہ تنہائی کا ایک تجربہ ہے۔ اور جب آپ اس حالت میں مبتلا ہوتے ہیں، آپ ہر قسم کی آزادی سے محروم ہو جاتے ہیں، ماسوائے سوچنے کی آزادی سے، عبادت کی آزادی سے، غور و فکر کی آزادی سے، مراقبے کی آزادی سے۔ اور جب جون اس جزیرے پر تنہا قید تھا، اس نے اپنی نگاہیں آسمان تک بلند کیں اور اس نے فلک سے نازل ہوتے ہوئے، ایک نئی زمین کو دیکھا۔ انجیل کے اکیسویں باب ‘الہام’ [Revelation :انجیل کی آخری کتاب جس میں جون کو مستقبل کے بارے میں ملنے والے الہامات درج ہیں] کا آغاز اس مقولے سے ہوتا ہے، ‘اور میں نے ایک نیا فلک دیکھا اور ایک نئی زمین۔ اور میں جون ہوں، جس نے ایک مقدس شہر دیکھا ایک نیا یروشلم، جو خداوند کے عالم بالا سے نازل ہو رہا تھا۔’</p>
<p>اور خداوند کے اِس عظیم شہر کی عظمتوں میں سے سب سے بڑی عظمت یہ بھی تھی کہ جون نے دیکھا کہ یہ کامل ہے۔ یہ کہیں سے بلند اور کہیں سے پست نہیں تھا بلکہ، اپنی تینوں جہات میں کامل تھا۔ اور اِسی باب میں جب ہم سولہویں آیت کو دیکھتے ہیں، جان کہتا ہے: “اس کے طول، عرض اور بلندی مساوی ہیں۔” بہ اَلفاظ دِیگَر خداوند کا یہ شہرِ نو، مثالی انسانیت کا یہ نیا شہر کوئی غیر متناسب وجود نہیں ہے، بلکہ تمام اطراف سے کامل ہے۔ میں متن اور اس باب میں برتی علامتوں میں جون جو کچھ کہہ رہا اس پر غور وفکر کرتا ہوں ۔ وہ بنیادی طور پر کہہ رہا ہے کہ زندگی کو زندگی ہونا چاہیے اور بہترین زندگی وہ ہے جو تمام اطراف سے کامل ہو۔</p>
<p>اور کسی بھی زندگی کے کامل ہونے کی تین جہات ہیں؛ جس کے لیے ہم مناسب طور پر انھیں تین الفاظ میں بیان کر سکتے ہیں: طول، عرض اور بلندی۔ اب ہم یہاں زندگی کے طول کو کسی کی اپنی بھلائی کے لیے باطنی فکر کہیں گے۔ دیگر الفاظ میں یہ ایک داخلی سعی ہے جو کسی کے آگے بڑھنے کے ذاتی مقاصد اور نصب العین کے حصول کی وجہ بنتی ہے۔ زندگی کے عرض کو ہم یہاں دوسروں کی بھلائی کے لیے خارجی فکر کہیں گے۔ اور زندگی کی بلندی خداوند تک رسائی ہے۔ یعنی تمہیں کامل زندگی پانے کے لیے یہ تینوں جہات درکار ہیں۔</p>
<p>آئیے کچھ دیر کے لیے زندگی کے طول پر نظر کرتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ زندگی کی وہ جہت ہے، جس کا تعلق ہماری داخلی طاقتوں کی بلوغت سے ہے۔ ایک طرح سے یہ زندگی کی ایک خودغرضانہ جہت ہے۔ یہ ایک معقول اور صحت مندانہ مفاد جیسا پہلو ہے۔ ایک عظیم یہودی پیشوا، مرحوم جوشوا لِیب مین [Joshua Leibman] نے کچھ سال پیشتر ‘<a href="https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.128182" target="_blank">ذہنی سکون</a>’ [Peace of Mind] کے عنوان سے ایک کتاب لکھی تھی۔ اس میں ایک باب ‘خود سے ڈھنگ سے محبت کرو’ [Love Thyself Properly] کے عنوان سے تھا۔ خلاصتًہ وہ اس باب میں کہتا ہے کہ اس سے پہلے کہ آپ دوسروں سے اچھے سے محبت کر پائیں، آپ کو پہلے اپنے آپ سے ڈھنگ سے محبت کرنی ہو گی۔ آپ جانتے ہیں بہت سے لوگ جو خود سے محبت نہیں کرتے۔ ایسے افراد زندگی میں گہرے اور حسرت ناک جذباتی تصادم سے گزرتے ہیں۔ سو زندگی کا طول یہ ہے کہ آپ لازماً خود سے محبت کریں۔</p>
<p>اور کیا آپ جانتے ہیں کہ خود سے محبت کا اور کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ آپ خود کو قبول کریں۔ بہت سے لوگ کوئی اور بننے کی سعی میں رہتے ہیں۔ خداوند نے ہم سب کو کچھ نہ کچھ خاص وصف عطا کیا ہے۔ اور ہمیں خداوند سے باقاعدگی سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں خود اپنے آپ کو قبول کرنے میں مدد دے۔ یہ ہی سب سے اہم پہلو ہے۔ بہت سے نیگروز اپنے وجود پر شرمندہ ہیں، کالے ہونے پر شرمسار ہیں۔ ایک نیگرو کو اٹھ کھڑا ہونا ہے اور اپنی روح کی گہرائی سے کہنا ہو گا کہ، ‘میرا ایک وجود ہے۔ میرا ایک قیمتی، باوقار اور پُرفخر اثاثہ ہے۔ میری تاریخ جتنی بھی استحصال زدہ اور جتنی بھی دردناک رہی ہے؛ میں کالا ہوں۔ بلکہ کالا اور خوب صورت ہوں۔” ہمیں یہی کہنا ہو گا۔ ہمیں خود کو قبول کرنا ہے۔ اور ہمیں دعا کرنی چاہیے، “اے خداوند ہر روز مجھے خود کو قبول کرنے میں میری مدد فرما؛ اپنی صلاحیتوں کو قبول کرنے میں مدد فرما۔”</p>
<p> مجھے یاد ہے کہ جب میں کالج میں تھا، میرا میجر (خصوصی مطالعے کا مضمون) عمرانیات تھا اور تمام عمرانیات میجر والوں کو ایک مضمون پڑھنا پڑتا تھا، جو شماریات کہلاتا تھا۔ اور شماریات کافی مشکل ہو سکتی ہے۔ آپ کے پاس حساب کتاب والا دماغ ہونا چاہیے، اور جیومیٹری کا درست علم، اور مِین، میڈین، موڈ ڈھونڈنا آنا چاہیے۔ میں کبھی نہیں بھولوں گا۔ میں نے یہ مضمون پڑھا اور آپ جانتے ہیں میرا ایک ہم جماعت تھا جو یہ کام فوری کر سکتا تھا۔ اور وہ اپنا کام ایک گھنٹے میں تمام کر لیتا تھا۔ ہم اکثر لیب یا ورکشاپ میں جاتے، وہ صرف ایک گھنٹہ میں اپنا کام کر کے بیٹھ جاتا۔ اس کی دیکھا دیکھی میں اسی جیسا بننے کی کوشش کر رہا تھا۔ اور میں اپنا کام ایک گھنٹہ میں کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اور جتنا میں اس کو ایک گھنٹہ میں نمٹانے کی کوشش کر رہا تھا، اُتنا ہی اس میں مار کھا رہا تھا۔ اور مجھے ایک تلخ نتیجے پر پہنچنا پڑا اور کہنا پڑا: ‘اب سنو مارٹن لوتھر کنگ، لیف کین (Leif Cane) کے پاس تم سے بہتر دماغ ہے۔’ بعض اوقات آپ کو ماننا پڑتا ہے۔ بعض اوقات آپ کو تسلیم  کرنا پڑتا ہے۔ اور مجھے خود سے یہ کہنا ہی پڑا۔ دیکھو بھلے ہی وہ ایک گھنٹہ میں کام کرنے کے قابل ہے، لیکن مجھے کرنے کے لیے دو یا تین گھنٹے لگیں گے۔” میں اپنے آپ کو قبول کرنے کے لیے رضامند نہ تھا۔ میں اپنے وسائل اور حدود کو قبول کرنے کو تیار نہ تھا۔</p>
<figure id="attachment_33688" aria-describedby="caption-attachment-33688" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/07/martin-luther-king-jr-in-more-house-college.webp"><img loading="lazy" decoding="async" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/07/martin-luther-king-jr-in-more-house-college-1024x579.webp" alt width="800" height="452" class="size-large wp-image-33688" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/07/martin-luther-king-jr-in-more-house-college-1024x579.webp 1024w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/07/martin-luther-king-jr-in-more-house-college-300x170.webp 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/07/martin-luther-king-jr-in-more-house-college-768x434.webp 768w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/07/martin-luther-king-jr-in-more-house-college.webp 1320w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></a><figcaption id="caption-attachment-33688" class="wp-caption-text">مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کالج میں</figcaption></figure>
<p>لیکن آپ جانتے ہیں کہ زندگی میں ایسا کرنا ہی پڑتا ہے۔ ایک فورڈ [Ford] کار کا کیڈلک [Cadillac] بننا مہمل سی بات ہے۔ لیکن اگر فورڈ یہ قبول کر لے کہ وہ فورڈ ہے، تو وہ بہت کچھ کر سکتی ہے جو کیڈلک کبھی نہیں کر سکتی: وہ پارکنگ کی ایسی جگہوں پر پوری آ سکتی ہے، جہاں کیڈلک کبھی نہیں آ سکتی۔ اور زندگی میں ہم میں سے کچھ فورڈ ہیں اور کچھ کیڈلک۔ “سرسبز چراگاہیں” Green Pastures، [<a href="https://www.bible.com/bible/compare/PSA.23.1-4" target="_blank">تورات کی کتاب الادعیہ</a>] میں موسیؑ فرماتے ہیں: “خداوند، میں بہت کچھ تو نہیں ہوں، لیکن یہی کچھ ہوں۔” خود کو قبول کرنے کا اصول ہی زندگی کا بنیادی کلیہ ہے۔</p>
<p>اب ہم زندگی کے طول کے بارے مزید بات کرتے ہیں۔ اپنے آپ کو قبول کرنے کے بعد ہمیں یہ دریافت کرنا چاہیے کہ ہمیں کس کام کے لیے تخلیق کیا گیا ہے۔ اور ایک بار جب ہم یہ دریافت کر لیں، تو ہمیں اپنے وجود میں موجود تمام تر طاقت و قوت کے ساتھ وہ کام کرنا چاہیے۔ یہ کھوج لینے کے بعد کہ ہمیں کیا کام کرنا ہے، ہمیں وہ کام اس طریق اور، اس خوبی سے انجام دینا چاہیے کہ کوئی زندہ، کوئی مردہ یا جو ابھی پیدا نہیں ہوا، اِس سے بہتر انجام نہ دے سکے۔ اب اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر کوئی زندگی کے نام نہاد معروف، بڑے کام کرے گا۔ بہت کم لوگ فنون اور سائنس کی ابقری بلندیوں کو پائیں گے؛ بہت کم اجتماعی طور پر مخصوص شعبوں میں نام کمائیں گے۔ ہم میں سے بیشتر کو راضی بہ رضا کھیتوں میں اور گلیوں میں کام کرنا ہو گا۔ لیکن ہمیں تمام کاموں کو پُروقار نظر سے دیکھنا چاہیے۔</p>
<p>جب میں منٹگمری، الاباما میں تھا، تو میں ‘گورڈن شو شوپ [Gordon Shoe Shop]  نامی ایک جوتوں کی دکان میں اکثر جایا کرتا تھا۔ وہاں ایک دوست تھا، جو میرے جوتے چمکایا کرتا تھا۔ اور اِس دوست کو جوتے چمکاتے دیکھنا میرے لیے ایک دلچسپ تجربہ تھا۔ آپ کو بتاتا ہوں، وہ کپڑے کی ایک دھجی یوں اٹھاتا، کہ وہ اس میں سے موسیقی تخلیق کر سکتا تھا۔ اور میں اپنے آپ سے کہتا، “اس شخص کے پاس جوتے چمکانے میں ڈاکٹریٹ ڈگری ہے۔”</p>
<p> اس صبح میں آپ سے جو یہ کہہ رہا ہوں، حتیٰ کہ اگر آپ گلی کے ایک خاکروب ہیں، جائیں اور ایسے گلی کو صاف کریں جیسے مائیکل انجیلو نے مصوری کی ہے، ایسے گلی صاف کریں جیسے ہینڈل(Handel)، بیتھوون(Beethoven) نے موسیقی ترتیب دی، ایسے گلی کو صاف کریں جیسے شیکسپئر نے شاعری کی۔ اتنی اچھی گلی صاف کریں کہ زمین و آسمان کا میزبان بھی اک لمحے کے لیے رُکے اور کہے: ‘یہاں ایک عظیم خاکروب رہتا ہے، جس نے اپنا کام بخوبی انجام دیا۔’	 </p>
<p>میرے دوستو، آج میں آپ سے یہ کہتا ہوں، حتیٰ کہ اگر آپ گلی کے ایک خاکروب ہیں، جائیں اور ایسے گلی کو صاف کریں جیسے مائیکل انجیلو کی مصوری ہو، یوں گلی چمکائیں جیسے ہینڈل [Handel]، بیتھوون [Beethoven] نے موسیقی کی دُھن مرتب کی، ایسے گلی کو لشکائیں، جیسے شیکسپئر کی شاعرانہ تخلیق۔ اتنی اچھی گلی صاف کریں کہ زمین و آسمان کا میزبان بھی اک لمحے کے لیے رُکے اور کہے: “یہاں ایک عظیم خاکروب رہتا ہے، جس نے اپنا کام بخوبی انجام دیا۔”</p>
<p>گرچہ نہیں بن سکتے تم پہاڑی کا صنوبر<br>
تو وادی کی جھاڑی بنو- لیکن بنو<br>
پہاڑی کے پہلو میں ایک بَڑھیا سی ننھی جھاڑی،<br>
جھاڑی بنو، اگر نہیں بن سکتے پیڑ<br>
اگر شاہراہ بننا ممکن نہیں، تو بہت ہے پگ ڈنڈی ہونا بھی<br>
 گر نہیں آفتاب، تو ستارہ بنو؛<br>
بےمعنی ہے کہ تم کامیاب ہو یا ناکام<br>
 جو ہو سکو، <a href="https://www.poemhunter.com/poem/be-the-best-of-whatever-you-are-2/#google_vignette" target="_blank">اس کا بہترین بن جاؤ</a>۔</p>
<p>اور جب آپ ایسا کرتے ہیں، تب آپ زندگی کے طول کے مالک بن جاتے ہیں۔</p>
<p>آگے جا کر زندگی میں خود آسودگی کے احساس کا ختم ہونا، اُس شخص کی زندگی کو ختم کر دیتا ہے۔ اور اب اس مرحلہ پر رُکنا نہیں۔ آپ جانتے ہیں، بہت سے لوگ زندگی میں طول سے زیادہ کچھ حاصل نہیں کر پاتے۔ وہ اپنی داخلی طاقت حاصل کر لیتے ہیں؛ اور وہ اپنی ذمہ داری اچھی طرح نمٹا لیتے ہیں۔ لیکن آپ جانتے ہیں، وہ زندگی ایسے گزارنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے، اُن کے سوا دنیا میں کوئی اور وجود ہی نہیں۔ اور وہ آگے بڑھنے کے لیے ہر ایک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنے علاوہ کسی سے محبت نہیں کرتے۔ اور وہ دوسروں سے محبت کی ایک ہی قسم روا رکھتے ہیں: افادی محبت۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، وہ صرف لوگوں سے محض اس لیے محبت کرتے ہیں کہ ان کا استعمال کر سکیں۔</p>
<p>بہت سے لوگ زندگی کی پہلی جہت سے پرے نہیں جاتے۔ وہ دوسرے لوگوں کا استعمال محض سیڑھی کے طور پر کرتے ہیں، جن سے وہ اپنے نصب العین اور مقاصد تک پہنچ سکیں۔ ایسے لوگ زندگی میں کوئی اچھا کام نہیں کرتے۔ وہ کچھ حد تک آگے جا سکتے ہیں، وہ سوچتے ہیں کہ وہ صحیح ہیں۔ لیکن ایک قاعدہ ہے۔ طبیعی دنیا میں اس کو کششِ ثقل کا اصول کہتے ہیں۔ اور یہ واقعی کام کرتا ہے، یہ بات حتمی اور کٹھور ہے؛ جو کچھ اوپر اٹھتا ہے، نیچے کو آتا ہے۔ جو بوؤ گے وہی کاٹو گے۔ خداوند نے اس کائنات کو اسی طرح بنایا ہے۔ جو کوئی زندگی میں دوسروں کی پروا کیے بِنا آگے بڑھتا چلا جاتا ہے، اس اصول کا غلام اور شکار بن جاتا ہے۔</p>
<p>ایک دن یسوع مسیحؑ نے ایک <a href="https://www.biblegateway.com/passage/?search=Luke%2010%3A25-37&amp;version=NIV" target="_blank">حکایت</a> بیان کی۔ آپ کو وہ حکایت یاد ہو گی۔ان کے پاس ایک آدمی سنجیدہ معاملات پر گفتگو کرنے آیا۔ اور آخر میں اُس نے سوال اٹھایا، ‘میرا ہمسایہ کون ہے؟’ یہ آدمی یسوع مسیح سے بحث کرنا چاہتا تھا۔ یہ سوال آسانی سے ایک مذہبی یا فلسفیانہ بحث کی مانند تحلیل ہو سکتا تھا۔ لیکن آپ کو یاد ہے کہ یسوع مسیح نے یہ سوال ہوا ہونے سے روکا۔ اور اِس کو یروشلم(Jerusalem) اور جیریکو (Jericho)کے درمیان خطرناک موڑ پر رکھ دیا۔ انہوں نے ایک آدمی کی بات کی، جو چوروں کے نرغے میں گھِر گیا تھا۔ دو آدمی وہاں سے گزرے اور آگے بڑھتے چلے گئے۔ پھر آخر کار ایک اور آدمی آیا، جو کہ ایک دوسری نسل کا فرد تھا، رُکا اور اس نے مدد کی۔ اور اس حکایت کے آخر میں کہا کہ وہ (Good Samaritan) نیک سامری ایک عظیم انسان تھا، ایک اچھا انسان تھا کہ وہ اپنے علاوہ بھی کسی کے لیے فکرمند تھا۔</p>
<p>آپ جانتے ہیں کہ، اس بارے واقعہ کے توضیح میں کئی آراء موجود ہیں کہ وہ پادری اور لاوی [Levite: عبرانی قبیلہ لاوی کا فرد جو یہودیوں کی عبادت گاہوں میں بطور معاون کام کرتے ہیں] وہاں سے گزرے اور اس آدمی کی مدد کو کیوں نہ رُکے۔ بہت سی آراء ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وہ گرجا گھرعبادت کے لیے جا رہے تھے، اور ان کو عبادت کے لیے دیری ہو رہی تھی۔ آپ جانتے ہیں کہ چرچ کے کام میں تاخیر نہیں کی جا سکتی، سو وہ آگے بڑھتے رہے، کیونکہ انھیں کنیسہ پہنچنا تھا۔ اور کچھ کہیں گے کہ وہ پادری تھے اور نتیجتاً ایک کلیسائی قانون کے مطابق جو مقدس عبادت کرانے جا رہا ہو، عبادت سے چوبیس گھنٹے پہلے کسی انسانی جسم کو چھو نہیں سکتا۔ ایک اور امکان موجود ہے۔ یہ ممکن ہے کہ وہ جیریکو روڈ امپرومنٹ ایسوسی ایشن کو منظم کرنے، جیریکو جا رہے ہوں۔ ایک امکان یہ ہے کہ وہ وہاں سے بغیر مدد کیے اس لیے گزر گئے ہوں کہ انھیں لگا ہو کہ اِس مسئلہ کو ایک انفرادی شکار کی بجائے عمومی طور سے نمٹانا چاہیے۔ بہرحال امکان تو موجود ہے۔</p>
<p>لیکن آپ کو بتاؤں، جب میں اِس حکایت کے بارے میں سوچتا ہوں، تو میں اپنے تخیل کے زور پر ایک اور امکان کے بارے میں سوچتا ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ افراد خوفزدہ ہوں اور مخالف سمت سے گزرے ہوں۔ آپ کو معلوم ہے کہ جیریکو روڈ ایک خطرناک سڑک ہے۔ میں وہاں سے گزرا ہوں اور مجھے علم ہے۔ اور میں وہ سفر کبھی نہیں بھولوں گا۔ میں اور بیگم کنگ کچھ عرصہ پہلے مقدس سرزمیں کے سفر پر گئے تھے۔ ہم نے ایک کار کرائے پر لی اور یروشلم سے تقریباً سولہ میل تک سڑک پر کار چلائی۔ میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ یہ الل ٹپ، ترچھی گھومتی، چک پھیری سڑک ہے۔ اور ڈاکے کے لیے سازگار سڑک ہے۔ اور میں نے بیگم سے کہا: “اب میں سمجھ سکتا ہوں کہ اس سڑک کے وقوعہ کو یسوع مسیحؑ نے اپنی حکایت کے لیے کیوں استعمال کیا۔” جب آپ یروشلم سے چلنا شروع کرتے ہیں، سطح سمندر سے بائیس سو فٹ بلند ہوتے ہیں، جب آپ سولہ میل نیچے جاتے ہیں – – مطلب یروشلم سے سولہ میل — آپ سطح سمندر سے ہزار فٹ نیچے ہوتے ہیں۔ یسوع مسیحؑ کے زمانے میں یہ سڑک ‘خونی سڑک’ کے طور پر جانی جاتی تھی۔ سو جب میں پادری اور لاوی کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ وہ خوفزدہ تھے۔</p>
<p>وہ میری طرح خوف زدہ تھے۔ میں ایک دن اپنے والد کے گھر اٹلانٹا (Atlanta) جا رہا تھا۔ وہ میرے گھر سے تین چار میل دور رہتے ہیں، اور آپ وہاں ِسمپسن (Simpson) روڈ کے ذریعے جاتے ہیں۔ اور اُس رات جب میں واپس آرہا تھا— اور برادر، میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ سِمپسن روڈ ایک چک پھیری سڑک ہے۔ اور ایک شخص وہاں کھڑا تھا اور مجھے اشارہ دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ اور مجھے محسوس ہوا کہ اُس کو کسی مدد کی ضرورت ہے؛ جانتا تھا کہ اُس کو مدد کی ضرورت ہے۔ لیکن میں یہ نہیں جانتا تھا، میں آپ کو ایمانداری سے بتاؤں گا، میں آگے بڑھتا رہا، میں واقعی خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں تھا۔</p>
<p>میں آج آپ کو کہتا ہوں کہ پہلا سوال جو پادری نے پوچھا تھا، وہ سوال اٹلانٹا کی جیریکو روڈ جو سِمپسن روڈ کے نام سے جانی جاتی ہے، پر میں نے پوچھا۔ وہ پہلا سوال جو لاوی نے پوچھا تھا کہ ’اگر میں اس شخص کی مدد کرنے رکتا ہوں تو مجھے کیا ہو گا؟‘ لیکن اچھا سامری جب گزرا تو اس نے سوال الٹ دیا، بجائے اس کے کہ ’اگر میں اس آدمی کی مدد کرنے رکتا ہوں تو میرے ساتھ کیا ہو گا؟‘ اس نے پوچھا  ‘اس آدمی کے ساتھ کیا ہو گا اگر میں اِس کی مدد کرنے کے لیے نہیں رکتا؟’ اس لیے وہ شخص اچھا اور عظیم تھا۔ وہ عظیم تھا کیونکہ وہ انسانیت کی خاطر خطرہ مول لینے کے لیے تیار تھا، کہ اس آدمی کے ساتھ کیا ہو گا؟</p>
<p>آج خداوند کو ضرورت ہے، ایسے مرد اور عورتوں کی جو یہ سوال پوچھیں کہ انسانیت کا کیا ہو گا اگر میں مدد نہیں کرتا؟ شہری حقوق کی تحریک کا کیا ہو گا اگر میں حصہ نہیں لیتا؟ میرے شہر کا کیا ہو گا اگر میں ووٹ نہیں دیتا؟ بیمار کا کیا ہو گا اگر میں عیادت نہیں کرتا؟ آخر میں خداوند اسی پر لوگوں کی منصفی کرے گا۔</p>
<p>اور، ایک روز ایسا آئے گا جب یہ سوال نہیں کیا جائے گا، “کہ تم نے اپنی زندگی میں کتنے انعام پائے؟” اُس روز نہیں۔ یہ نہیں پوچھا جائے گا، “کہ تم اپنے معاشرتی حلقے میں کتنے مقبول تھے؟” یہ سوال اس روز نہیں کیا جائے گا۔ یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ “تم نے کتنی اسناد حاصل کیں؟” اس سوال کی اُس روز کوئی اہمیت نہیں ہو گی کہ تم “پی ایچ ڈی، ہو یا نہیں؟” یہ اہم نہیں ہو گا کہ “تمھارے پاس بہت سے گھر تھے یا تم بےگھر تھے؟” یہ سوال نہیں ہو گا “تم نے کتنا پیسہ بنایا؟ تمھارے پاس کتنے سٹاک اور بونڈز ہیں؟” یہ سوال نہیں ہو گا کہ تمھاری گاڑی کون سی تھی؟ اُس روز صرف یہی پوچھا جائے گا کہ، “دوسروں کے لیے تم نے کیا کیا؟”</p>
<p>اب جب میں کسی کو یہ کہتے سنتا ہوں کہ، خداوند، میں نے زندگی میں بہت سارے کام سرانجام دیے۔ میں نے اپنی نوکری اچھے طریقے سے انجام دی؛ دنیا نے مجھے میری نوکری کے لیے عزت دی۔ میں نے بہت سے کام کیے۔ خداوند؛ میں مکتب گیا اور محنت سے پڑھا۔ میں نے بہت سا پیسہ بنایا، خداوند میں نے یہ یہ کچھ کیا۔” لیکن ایسا سنائی دیتا ہے کہ خداوند کہہ رہا ہے، “لیکن میں بھوکا تھا، تم نے مجھے کھانا کھلایا کہ نہیں؛ میں بیمار تھا، تم عیادت کے لیے آئے یا نہیں۔ میرا تن ڈھانپا یا نہیں۔ میں قید میں تھا، تم نے میری فکر نہیں کی۔ سو میری نظروں سے دور ہو جاؤ۔ تم نے دوسروں کے لیے کیا کیا؟” یہ زندگی کا عرض ہے۔</p>
<p>کہیں ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی سیکھنا چاہیے کہ کسی کے لیے کچھ کرنے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ اور میں نے اپنے باقی ماندہ ایام گزارنے کے لیے اِسی ڈگر کو اپنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اور اب میری یہی فکر ہے۔ جون، اور برنارڈ، اگر کبھی زندگی میں ایسا لمحہ آتا ہے کہ میں موت کے قریب ہوں، میں چاہتا ہوں کہ آپ ان تک میرا پیام پہنچائیں کہ میری ایک عرض ہے؛ میں تدفین کی لمبی چوڑی رسوم نہیں چاہتا۔ درحقیقت، میں ایک یا دو منٹ سے بڑھ کر اپنی میت پر نوحہ گری نہیں چاہتا۔ مجھے امید ہے کہ میں باقی ماندہ ایام اچھی طرح گزاروں گا— مجھے نہیں پتہ کہ میں کب تک جئیوں گا، اور نہ مجھے اس کی فکر ہے— لیکن میں امید کرتا ہوں کہ میں اتنا اچھا جی سکوں کہ مبلغ کہہ اٹھے، “یہ ایماندار تھا۔” اور بس، یہ کافی ہے۔ اس طرح کی تقریر سننا مجھے پسند ہو گی: “بہت خوب میرے ایماندار خدمت گار۔ تم ایماندار رہے؛ تمھیں دوسروں کی فکر رہی۔” یہ ہی ہے وہ نکتہ جس کے ساتھ میں اپنی باقی ماندہ زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ “جو تم میں عظیم تر ہے، وہ تمھارا خدمت گار ہو گا۔” میں خدمت گار بننا چاہتا ہوں۔ میں اپنے خداوند کی گواہی چاہتا ہوں، کہ  میں نے دوسروں کے لیے کچھ کیا۔</p>
<p>اور دوسروں لے لیے کچھ کرنے میں یہ مت بھولیں کہ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ دوسروں کی بدولت ہے۔ یہ نہ بھولیں ہم اس دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہیں۔ اور  کیا آپ سوچ سکتے ہیں، اس صبح جب آپ چرچ کے لیے اٹھے ہوں گے تو آدھی سے زیادہ دنیا پر آپ کا انحصار رہا ہو گا۔ آپ صبح اٹھتے ہیں، باتھ روم جاتے ہیں اور وہاں آپ صابن پکڑتے ہیں جو ایک فرانسیسی نے آپ کو دیا ہے۔ آپ اسفنج اٹھاتے ہیں، وہ ایک تُرک نے آپ کو تھمایا ہے۔ آپ تولیہ کا استعمال کرتے ہیں جو کہ بحرالکاہلی جزیرے کے ایک باشندے کی آپ کو دین ہے۔ ناشتہ کرنے کو جو آپ باورچی خانے کی طرف جاتے ہیں، کافی اٹھاتے ہیں، جو آپ کے کپ میں جنوب امریکی نے انڈیلی ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ اس صبح چائے پینے کا فیصلہ کیا ہو، صرف معلومات کے لیے، وہ آپ کے کپ میں ایک چینی نے انڈیلی ہے۔ اور شاید آپ کو تھوڑا کوکا چاہیے ہو جو آپ کے کپ میں مغربی افریقی نے انڈیلا ہے۔ پھر آپ کو تھوڑی ڈبل روٹی چاہیے اور آپ جو ڈبل روٹی اٹھاتے ہیں جو آپ کے پاس ایک انگریز کسان کے ہاتھوں پہنچی ہے، نانبائی کو نہ بھولیں۔ اس سے پہلے کہ آپ اپنا ناشتہ کریں، آپ کا انحصار آدھی دنیا پر ہے۔ خداوند نے یہ نظام اس طرح بنایا ہے؛ خداوند نے یہ دنیا اسی طرح بنائی ہے۔ سو آئیں ایک دوسرے کی فکر کریں، کیونکہ ہمارے وجود کا انحصار ایک دوجے پر ہے۔</p>
<p>لیکن یہاں بھی نہیں ٹھہر جانا۔ آپ جانتے ہیں کہ بہت سے لوگ زندگی کے طول پر قادر ہو جاتے ہیں، اور وہ عرض پر قدرت حاصل کر لیتے ہیں؛ مگر وہ وہاں رکتے نہیں۔ ہمیں انسانیت سے پرے آگے بڑھنا چاہیے اور اوپر اٹھنا چاہیے، اوپر کائنات کے رب کی طرف، جس کا مقصد آج بھی وہی ہے۔</p>
<p>بہت سے لوگوں نے اس تیسری جہت کو نظرانداز کیا۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت لوگ انجانے میں اس پہلو کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ان کی مصروفیتوں کا محور اور چیزیں ہوتی ہیں۔ آپ کو بتاتا چلوں کہ الحاد پرستی دو طرح کی ہوتی ہے۔ الحاد کا نظریہ ہے کہ خداوند کا کوئی وجود نہیں۔ ایک قسم نظریاتی ہے، جہاں آدمی بیٹھ کر اس بابت سوچنا شروع کرتا ہے اور پھر اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ خداوند کا کوئی وجود نہیں۔ دوسری قسم عملی الحاد پرستی کی ہے اور وہ ایسی طرزِ حیات اپنانا ہے، کہ جیسے خداوند کا کوئی وجود نہ ہو۔ اور آپ جانتے ہیں کہ کثیر تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو زبان سے تو خداوند کے وجود کا اقرار کرتے ہیں، لیکن اپنے اعمال سے، یا اپنی طرزِ حیات سے اس وجود کے منکر ہیں۔ آپ کی ملاقات ایسے لوگوں سے ہوئی ہو گی، جنھیں عقیدے کا ہائی بلڈ پریشر اور اعمال کا انیمیا لاحق ہے۔ وہ اپنی زندگی میں خداوند کے وجود سے انکاری ہوتے ہیں اور وہ دوسرے کاموں میں بہت مصروف ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے بینک کے اثاثے بڑھانے میں مگن ہو جاتے ہیں۔ وہ خوبصورت گھر کے حصول میں مست ہو جاتے ہیں جو ہم نے خود پر لازم کر لیا ہے۔ وہ خوبصورت گاڑی حاصل کرنے میں اتنا مصروف ہو جاتے ہیں کہ لاشعوری طور پر خداوند کو بھول جاتے ہیں۔ اور کچھ ایسے بھی ہیں جو شہر میں انسان کی تخلیق کی ہوئی بستیوں کو دیکھنے میں اس قدر محو ہو جاتے ہیں کہ وہ لاشعوری طور پر آسمان کی طرف نگاہیں اٹھانا اور کائنات کی عظیم روشنی کی جانب نظر کرنا اور اس کے بارے میں سوچنا بھول جاتے ہیں — وہ روشنی جو ہر صبح مشرقی افق سے نمودار ہوتی ہے اور نیلگوں آسمان پر ایک تھرکتی دھن اور اپنے بےشمار رنگ بکھیر دیتی ہے — ایسی روشنی جس کو تخلیق کرنا انسان کے بس میں نہیں۔ وہ فلک بوس لوپ آف شکاگو یا ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ آف نیویارک کو دیکھنے میں اس قدر مصروف ہو جاتے ہیں کہ وہ لاشعوری طور پر دیو پیکر پہاڑوں کے بارے میں سوچنا بھول جاتے ہیں، جن کی چوٹیاں آسماں سے باتیں کرتی ہیں، جیسے کہ نیلی جھیل میں نہا رہی ہوں — ایسی چیز جو ایک انسان کبھی نہیں بنا سکتا۔ وہ ریڈار اور اپنے ٹیلی ویژن کے بارے میں سوچنے میں اتنا کھبے ہیں کہ وہ لاشعوری طور پر اس بام ثریا کی بابت سوچنا بھول جاتے ہیں، جو آسمانوں کو اس طرح مزین کیے ہوئے ہیں، جیسے دوام کی لالٹینیں لٹکی ہوں، وہ ستارے اتنے آبدار ہیں جیسے ایک پُرشکوہ گدے میں کھُبی ہوئی سیمیں سوئیاں۔ وہ انسانی ترقی کے بارے میں سوچنے میں اتنا محو ہیں، کہ خداوند کی طاقت کی ضرورت کے بارے میں سوچنا بھول جاتے ہیں کہ تاریخ میں اس کی ضرورت ہمیشہ رہی ہے۔ آخرکار وہ دنوں کے دن گزار دیتے ہیں یہ جانے بغیر کے خداوند ان کے ساتھ نہیں ہے۔</p>
<p>میں آج آپ کو یہ بتاتا ہوں کہ ہمیں خداوند کی ضرورت ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جدید انسان بہت کچھ جانتا ہو، لیکن اس کا علم خداوند کو مٹا نہیں سکتا۔ اور آج میں آپ کو کہتا ہوں کہ خداوند ہمیشہ رہے گا۔ چند عالمِ دینیات یہ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خداوند مر چکا ہے۔ اور میں ان سے اس بارے میں پوچھتا رہا ہوں، کیونکہ یہ معلومات مجھے پریشان کرتی ہیں کہ خداوند مر چکا ہے، اور مجھے اس کی آخری رسوم میں شرکت کا موقع نہیں ملا۔ اور یہ عالم مجھے ابھی تک یہ بتانے میں ناکام رہے ہیں کہ اس کی تاریخ وفات کیا ہے، اور ابھی تک مجھے ان سے یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ اس کی آخری رسوم کس نے ادا کیں یا کس نے اس کی موت کا اعلان کیا۔</p>
<p>آپ دیکھتے ہیں جب میں خداوند کے بارے میں سوچتا ہوں، میں اس کا اسم جانتا ہوں۔ عہد نامہ قدیم میں کسی جگہ وہ فرماتا ہے: “موسیٰ میں چاہتا ہوں کہ تم اپنی قوم میں جاؤ اور اُن تک میرا پیغام پہنچا دو کہ ”میں ہوں” میں نے تمھیں بھیجا ہے۔” خداوند نے صرف یہ واضح کرنے کے لیے کہا، وہ جان لیں کہ “میرا اسمِ آخر بھی اول کی طرح ہے، “جو میں ہوں، میں ہوں۔” یہ واضح کر دو کہ میں ہوں۔”</p>
<p>اس کائنات میں واحد خداوند ہی ایسی ہستی ہے جس کو یہ کہنا زیبا دیتا ہے کہ ‘میں ہوں’ اور مزید کوئی حجت نہیں۔ ہم میں سے ہر کوئی جو یہاں موجود ہے اُس کو کہنا پڑتا ہے، “میں اپنے والدین کی وجہ سے ہوں؛ میں مخصوص ماحولیاتی حالات کی وجہ سے ہوں؛ میں مخصوص وراثتی حالات کی وجہ سے ہوں؛ میں خداوند کی وجہ سے ہوں۔ صرف خداوند ایسی واحد ہستی ہے جو کہ کہہ سکتا ہے، “میں ہوں۔” اور بات ختم۔ “جو میں ہوں، میں ہوں۔” اور بس۔ کسی کو ہمیں یہ محسوس نہ کرانے دیں ہمیں خداوند کی ضرورت نہیں۔</p>
<p>اس صبح جب آپ سے مخاطب ہوں، تو میں آپ سے کہوں گا کہ میں تواس نتیجہ پر پہنچا ہوں، کہ ہمیں اس کی تلاش کرنی چاہیے۔ ہم خداوند کے لیے بنائے گئے تھے اور تب تک بےچین رہیں گے جب تک اُس میں امان نہیں پاتے۔ اور آپ سے کہتا ہوں کہ یہ ذاتی یقین ہے، جو ہاتھ پکڑ کرمجھے آگے بڑھاتا گیا ہے۔ میں مستقبل کے بارے میں فکرمند نہیں ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ میں اس نسل پرستی کے معاملے میں بھی پریشان نہیں ہوں۔ میں پچھلے دنوں الاباما میں تھا، اور میں ریاست الاباما کے بارے میں سوچنے لگا جہاں ہم نے بہت محنت کی اور وہاں شاید والیسز[Wallaces]  منتخب ہوتا رہے۔ اور ریاست جارجیا میں، جہاں میرا گھر ہے، لیسٹر میڈکس [Lester Maddox] نامی ایک بیمار ذہن گورنر موجود ہے۔ یہ تمام باتیں آپ کو پراگندہ کر سکتی ہیں۔ لیکن مجھے پریشان نہیں کرتیں، کیونکہ وہ خداوند جس کی میں عبادت کرتا ہوں، بادشاہوں حتیٰ کہ گورنروں کے لیے بھی فرماتا ہے؛ ”صبر رکھو، میں جانتا ہوں کہ میں خداوند ہوں۔” خداوند نے ابھی تک اس کائنات سے لیسٹر میڈکس اور لرلین والس [Lurleen Wallace] کو بےدخل نہیں کیا۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ ”زمین خداوند کی ہے اور اسی لیے آباد ہے۔” اور میں آگے بڑھتا جا رہا ہوں، کیونکہ مجھے اُس پر یقین ہے۔ میں نہیں جانتا کہ مستقبل میں کیا رکھا ہے۔ لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ مستقبل کس کے ہاتھ میں ہے۔ اگر وہ ہمیں راستہ دکھا دے اور ہمارا ہاتھ پکڑتا ہے، تو ہم آگے بڑھتے جائیں گے۔</p>
<p>مجھے منٹگمری، الابامہ کا ایک تجربہ یاد ہے، جو میں آپ کو بتانا چاہوں گا۔ جب ہم بس بائیکاٹ کر رہے تھے۔ ہمارے درمیان ایک حیرت انگیز خاتون موجود تھیں، جن کو ہم پیار سے سسٹر پولارڈ [Pollard] پکارا کرتے تھے۔ وہ ایک بہتر سالہ زبردست خاتون تھیں اور اس عمر میں بھی کام کر رہی تھیں۔ بس بائیکاٹ کے دوران وہ کام پر روزانہ پیدل آتی جاتی تھیں۔ صرف وہی تھیں جن کو ایک دن کسی نے روکا اور پوچھا، “آپ بس میں سوار ہونا پسند نہیں کریں گی؟” اور انھوں نے کہا، “نہیں۔” اور پھر ڈرائیور آگے بڑھ گیا، اور وہ رُکا اور توقف کیا، اور تھوڑا پیچھے آیا اور اس نے سسٹر پولارڈ سے پوچھا، “آپ تھکی نہیں؟” انھوں نے کہا، “ہاں، میرے پیر تھک گئے ہیں، مگر میری روح پُرسکون ہے۔”</p>
<figure id="attachment_33684" aria-describedby="caption-attachment-33684" style="width: 374px" class="wp-caption aligncenter"><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/07/Mother-Pollard.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/07/Mother-Pollard.jpg" alt width="374" height="643" class="size-full wp-image-33684" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/07/Mother-Pollard.jpg 374w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/07/Mother-Pollard-174x300.jpg 174w" sizes="(max-width: 374px) 100vw, 374px"></a><figcaption id="caption-attachment-33684" class="wp-caption-text">‘ہاں میرے پیر تھک گئے ہیں مگر میری روح سکون میں ہے۔’</figcaption></figure>
<p> وہ ایک حیرت انگیز خاتون تھیں اور مجھے یاد ہے کہ وہ ایک ہفتہ میرے لیے بہت کٹھن تھا۔ اُس سے ایک روز پہلے سارا دن ساری رات دھمکی آمیز فون کالز آئی تھیں، اور میں نے ڈگمگانا اور اندر سے کمزور پڑنا اور اپنی جرات کھونا شروع کر دیا تھا۔ اور میں کبھی نہیں بھولوں گا، کہ میں پیر کی اس رات کے جلسے میں بہت پست ہمت اور خوف کے ساتھ گیا تھا اور سوچ وچار کر رہا تھا کہ آیا ہم یہ جدوجہد جیت پائیں گے؟ اور میں اُس رات اپنی تقریر کرنے کھڑا ہوا، لیکن وہ تقریر پرزور اور قوت کے ساتھ نہیں کی۔ سسٹر پولارڈ جلسے کے بعد میرے پاس آئیں اور کہا، “بیٹا تمھیں کیا پریشانی ہے؟”</p>
<p>اور میں نے کہا، “کچھ بھی نہیں، سسٹر پولارڈ، میں ٹھیک ہوں۔” انھوں نے کہا، “تم مجھے بیوقوف نہیں بنا سکتے، تمھارے ساتھ کچھ تو گڑبڑ ہے۔” پھر انھوں نے یہ کہا، “گورے تمھارے ساتھ کچھ ایسا کر رہے ہیں جو تمھیں پسند نہیں؟”</p>
<p>میں نے کہا، “سسٹر پولارڈ سب ٹھیک ہو جائے گا۔” پھر انھوں نے کہا، “میرے پاس آؤ اور مجھے دوبارہ کہنے دو، میں چاہتی ہوں کہ تم دھیان سے سنو۔” انھوں نے کہا، “میں پہلے بھی تم کو بتا چکی ہوں کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں۔” انھوں نے کہا، “اور ہم بھی تمھارے ساتھ نہ ہوں تو خداوند تمھارے ساتھ ہے۔”</p>
<p>اور انہوں نے یہ کہتے ہوئے اپنی بات ختم کی، ‘“خداوند تمھاری مدد فرمائے گا۔” میں نے اس روز سے بہت ساری چیزیں دیکھی ہیں، منٹگمری الابامہ میں اس رات سے میں بہت سے تجربات سے گزرا ہوں۔ اُس دوران سسٹر پولارڈ وفات پا گئیں۔ تب سے میں اٹھارہ سے زیادہ بار جیل میں رہا ہوں۔ اُس وقت سے اب تک میں ایک خطرناک حد تک خبطی نیگرو خاتون کے ہاتھوں موت کے منھ میں جا چکا ہوں، تب سے سے میں نے اپنے گھر پر تین بار بمب گرتے دیکھا ہے۔ اس وقت سے مجھے ہر دن موت کے خطرے میں گھرے جینا پڑا ہے، اس وقت سے میں نے بےشمار ناآسودہ اور سٹ پٹائی راتیں گزاری ہیں، لیکن میں سسٹر پولارڈ کے الفاظ ابھی بھی سُن سکتا ہوں: “خداوند تمہاری حفاظت کرے گا۔” سو آج میں کسی بھی مرد و زن کا مقابلہ کر سکتا ہوں اور سربلند ہو کر سکتا ہوں۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ جب آپ حق پر ہوں تو خداوند آپ کی جنگ لڑے گا۔        </p>
<p>رات جتنی بھی سیاہ ہو<br>
جنگ جتنی بھی کٹھور ہو،<br>
اپنے حق کے لیے ڈٹے رہو۔</p>
<p>ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اِس صبح بھی میں ایک ایسی آواز کو سن سکتا ہوں جو ہم سب سے کہہ رہی ہے، “اپنے حق کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ انصاف کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ دیکھو، میں تمھارا ساتھ دوں گا دنیا کے انت تک۔” ‘ہاں میں نے بجلی کو چمکتے دیکھا ہے، بادلوں کو گرجتے سنا ہے۔ میں نے بدی کی طاقتوں کو چمکتے محسوس کیا ہے، جو میری روح کو مغلوب کرنا چاہتی ہیں، اور مغلوب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن میں نے یسوع مسیح کی آواز سنی ہے، جو کہہ رہے ہیں کہ لڑتے رہو! انھوں نے مجھے کبھی نہ چھوڑنے کا وعدہ کیا ہے، کبھی اکیلے نہ چھوڑنے کا۔ اور میں اس پر یقین رکھتا ہوں۔ میں آگے بڑھتا ہوں اور زندگی کی وسعت کو پا لیتا ہوں۔</p>
<figure id="attachment_33683" aria-describedby="caption-attachment-33683" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/07/martin-luther-king-jr-after-assasination.avif"><img loading="lazy" decoding="async" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/07/martin-luther-king-jr-after-assasination-1024x576.avif" alt width="800" height="450" class="size-large wp-image-33683" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/07/martin-luther-king-jr-after-assasination-1024x576.avif 1024w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/07/martin-luther-king-jr-after-assasination-300x169.avif 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/07/martin-luther-king-jr-after-assasination-768x432.avif 768w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/07/martin-luther-king-jr-after-assasination-1536x864.avif 1536w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/07/martin-luther-king-jr-after-assasination.avif 1600w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></a><figcaption id="caption-attachment-33683" class="wp-caption-text">قاتلانہ حملے کے بعد مارٹن لوتھر کنگ جونئر کا خدا پر ایمان اور مضبوط ہو گیا تھا</figcaption></figure>
<p>ہو سکتا ہے کہ آپ خداوند کو فلسفیانہ اصطلاحات میں بیان کرنے کے قابل نہ ہوں۔ لوگوں نے عہد ہا عہد اس پر بحث کرنے کی کوشش کی ہے۔ افلاطون نے کہا، وہ تعمیراتی علم کا ماہر ہے۔ ارسطو نے کہا خداوند حرکت میں آئے بنا کائنات کو الٹنے، پلٹنے پر قادر ہے۔ ہیگل نے اسے مطلق کہا ہے۔ پھر ایک شخص پال ٹیلِک [Paul Tillich] نے خداوند کو یکتا کہا ہے۔ ہمیں ان تمام بھاری بھرکم اصطلاحات کے جاننے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم اسے جانتے ہوں اور کسی اور راہ اسے دریافت کر سکیں۔ اس کی معرفت کسی اور راستے پر چل کر کر سکیں۔ ایک دن آپ کو رکنا چاہیے اور کہنا چاہیے، “میں خداوندواند کو جانتا ہوں، کیونکہ وہ وادی کا سوسن ہے، وہ صبح کا روشن ستارہ ہے، شیرون کا پھول ہے، بابل و نینوا کی وقتوں کی گلہری ہے۔” اور کہیں آپ کو کہنا چاہیے، “وہ میرا سب کچھ ہے، وہ میری ماں ہے وہ باپ ہے، وہ میری بہن ہے، بھائی ہے۔ وہ بے دوستوں کا دوست ہے۔” پوری کائنات کا خداوند ہے اور اگر تم اس پر ایمان رکھتے ہو اور اس کی عبادت کرتے ہو تو تمھاری زندگی میں کچھ اچھا ہو گا۔ تم اس وقت مسکراؤ گے، جب باقی سب تمھارے ارد گرد رو رہے ہوں گے۔ یہی خداوند کی طاقت ہے۔</p>
<p>تو جاؤ! اس صبح، اپنے آپ سے محبت کرو اور اس کا مطلب ہے معقول اور صحت مندانہ خود غرضی۔ آپ کو ایسا کرنے کا حکم ہے۔ یہ زندگی کا طول ہے۔ پھر اس کے بعد اپنے ہمسائیوں سے محبت کرو جیسا کہ تم خود سے کرتے ہو۔ یہ زندگی کا عرض ہے۔ اور میں اب اپنی نشست پر براجمان ہونے سے پہلے یہ بتلا دوں کہ سب سے بڑا اور اولین حکم یہ ہے کہ: “اپنے خداوند سے محبت کرو۔ اپنے خداوند سے پورے دل کے ساتھ، اپنی پوری روح کے ساتھ اور پوری طاقت کے ساتھ۔” میرا خیال ہے کہ ایک ماہرِ نفسیات کے الفاظ میں، اپنی پوری شخصیت کے ساتھ۔ اور جب تم یہ کرتے ہو تو زندگی کی بلندی پا لیتے ہو۔ اور جب تم یہ تینوں حاصل کر لیتے ہو، تو تم چل سکتے ہو، کبھی نہ تھکتے ہوئے۔ اور آپ دیکھ سکتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ صبح کے ستارے مل کر، اور خداوند کے بیٹے مل کر خوشی سے شور مچا رہے ہیں۔<br>
جب آپ زندگی میں اِن تینوں چیزوں سے کام لیتے ہیں، انصاف باراں کی طرح برسے گا اور راست بازی ایک ندی کی طرح۔ جب آپ ان تینوں چیزوں کو باہم حاصل کر لیں گے تو شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ سے پانی پیئں گے۔</p>
<p>جب آپ ان تینوں چیزوں کو باہم حاصل کر لیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ ہر وادی ارفع ہو جائے گی، اور ہر چٹان اورہر پہاڑ جُھک جائے گا۔ ناہموار میدان ہموار ہو جائیں گے۔ ٹیڑھی ترچھی راہیں سیدھی ہو جائیں گی: اور خداوند کی عظمت عیاں ہو جائے گی اور تمام مخلوقات مل کر اس کا نظارہ دیکھیں گی۔</p>
<p>جب آپ ان تینوں عناصر کو تصرف میں لاتے ہیں، تو آپ دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے ساتھ ہو۔ جب آپ ان تینوں کو باہم حاصل کر لیتے ہیں تو آپ یہ پہچان لیتے ہیں کہ خداوند نے اس کرہ ارض پر رہنے والے تمام انسانوں کو ایک ہی خون سے بنایا ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/the-three-dimensions-of-a-complete-life/">ایک کامل زندگی کی تین جہات</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/the-three-dimensions-of-a-complete-life/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گیتانجلی</title>
		<link>https://laaltain.pk/geetanjli/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/geetanjli/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فروا شفقت]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 02 Feb 2025 03:51:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[رابندر ناتھ ٹیگور]]></category>
		<category><![CDATA[فروا شفقت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=33167</guid>

					<description><![CDATA[<p>اے مرے جیون کی آخری تکمیل،<br />
اجل!<br />
اے مری موت! آ،<br />
اور مجھ سے سرگوشی کر!<br />
ہر دن میں تری راہ تکا کیا</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/geetanjli/">گیتانجلی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[		<div data-elementor-type="wp-post" data-elementor-id="33167" class="elementor elementor-33167" data-elementor-post-type="post">
				<div class="elementor-element elementor-element-34e44383 e-flex e-con-boxed e-con e-parent" data-id="34e44383" data-element_type="container" data-e-type="container">
					<div class="e-con-inner">
				<div class="elementor-element elementor-element-73d0914f elementor-widget elementor-widget-text-editor" data-id="73d0914f" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="text-editor.default">
				<div class="elementor-widget-container">
									<p>I<br>اجل جس روز تمہارے در پہ دستک دے گی،<br>تو تم کیا پیش کرو گے؟<br>میں اپنی زندگی کا لبریز جام،<br>اپنے مہماں کو پیش کروں گا۔<br>کبھی اسے میں،<br>تہی دست نہ لوٹنے دوں۔<br>خزاں کے اجالوں<br>اور گرما کی راتوں کی شیریں مَے،<br>اپنے مصروف جیون کی سب کمائی،<br>اور تمام پونجی،<br>اس کے آگے دھر دوں گا۔<br>ایامِ رخصت میں،<br>جب اجل مرے در پہ دستک دے گی!</p><p>II<br>اے مرے جیون کی آخری تکمیل،<br>اجل!<br>اے مری موت! آ،<br>اور مجھ سے سرگوشی کر!<br>ہر دن میں تری راہ تکا کیا۔<br>تری خاطر ہی میں نے،<br>جیون کے سب دکھ سکھ بھوگے۔<br>میں وہ سب ہوں،<br>جو میں نے پایا،<br>جس کی میں نے طلب کی ہے۔<br>اخفائے راز کی گہرائی میں،<br>مری محبت کا چشمہ تری ہی طرف رواں رہا۔<br>تری اک آخری اچٹتی نگاہ،<br>اور مرا تمام جیون،<br>ترا ہی ہو گا،<br>پھول گندھے جا چکے ہیں،<br>اور بنڑی کے لیے،<br>مالائیں سب تیار ہیں۔<br>اب یہ عروسہ اپنا گھر چھوڑ چلے گی،<br>اور شبِ تنہائی میں،<br>رب سے اپنے جا ملے گی۔</p><p>III<br>مرا وقتِ رخصت آن پہنچا،<br>مجھے الوداع کہو۔<br>بھائیو!<br>تم سب کو دعا سلام،<br>اور میں رخصت لیتا ہوں۔<br>لوٹاتا ہوں اپنے گھر کی چابیاں،<br>اور تیاگ دیتا ہوں اس پہ حق بھی۔<br>آخری تمنا ہے میری؛<br>کہ تم مجھے یاد رکھو،<br>اپنے مہرباں بولوں میں۔<br>ہم ہمسائے رہے،<br>اک عرصے سے،<br>لیکن جو کچھ میں دے سکا،<br>کہیں بڑھ کر پا لیا۔<br>دن اب ڈھلنے والا ہے!<br>دیپ جو میری تیرگی دور کرتا تھا،<br>بُجھ چکا۔<br>بلاوا آن چکا،<br>میں تیار ہوں،<br>سفر کو اپنے۔</p>								</div>
				</div>
					</div>
				</div>
				</div>
		<p>The post <a href="https://laaltain.pk/geetanjli/">گیتانجلی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/geetanjli/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>2</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اور راستہ کھل گیا</title>
		<link>https://laaltain.pk/aur-rasta-khul-gya/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/aur-rasta-khul-gya/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فروا شفقت]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 14 Dec 2024 13:35:05 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[دلت ادب]]></category>
		<category><![CDATA[فروا شفقت]]></category>
		<category><![CDATA[کرمشیل بھارتی]]></category>
		<category><![CDATA[ہندی ادب]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=33011</guid>

					<description><![CDATA[<p>ہندو مسلمان، سکھ اور عیسائی کے ساتھ ہوئی لڑائی کو فرقہ وارانہ دنگا مانا جاتا ہے مگر دلتوں کے ساتھ ہونے والی لڑائی کو کبھی فرقہ وارانہ نہیں مانا جاتا۔ </p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/aur-rasta-khul-gya/">اور راستہ کھل گیا</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>جب میں کالج جایا کرتا تھا، ماں کی تمنا تھی کہ میں پڑھ لکھ کر ایک بڑا افسر بن جاؤں۔ سماج میں کچھ کام کروں، نام کماؤں اور گھر کی بھی بگڑی حالت سنواروں۔ دوسری طرف میری خواہش تھی کہ میں ایک بدھ بھکشو بن جاؤں، بدھ فلسفے کا گہرا مطالعہ کروں اور سب کو بتاؤں کہ بدھ کا حقیقی گیان کیا ہے، جو آج بھارت کا عام آدمی نہیں جانتا۔ جیسے، بدھ کا گھر بار تیاگنا، ان کا عدم تشدد اور درمیانی راستہ وغیرہ۔ بدھ مت باہر کے ملکوں میں تو آج بھی دن دگنا رات چوگنا پھل پھول رہا ہے۔ لیکن بدھ کی اپنی جائے پیدائش پر وہ آج بھی اپنی کوئی جگہ نہیں بنا پایا۔ پر من کی من میں ہی رہ گئی۔ من اور خواہشات کو مار کر میں نے گریجویشن کی سند حاصل کی۔ پھر بڑی محنت اور لگن سے کئی امتحانات میں بیٹھا، تب کہیں جا کر ایک انتظامی افسر بن سکا۔ گھر کی دال روٹی بھی لگ بھگ ٹھیک سے چلنے لگی۔</p>
<p>کچھ سالوں تنخواہ سے پیسہ بچا کر جمع کیا اور منصوبہ بنایا کہ اپنا آبائی مکان ٹھیک کر لیا جائے۔ کافی پرانے ہونے کی وجہ سے مکان کی حالت بھی خراب ہو چکی تھی۔ سو اسے ڈھاہنا اور مکمل بنوانا ہی اچھا سمجھا۔ بس دفتر سے ایک ماہ کی چھٹیاں لے کر کام میں جٹ جانا چاہا۔ ہمارے اس مکان کا دروازہ مشرق کی طرف تھا۔ اب سوچا، مکان کے ٹھیک پیچھے لگ بھگ آٹھ فٹ کی ایک گلی ہے، کیوں نہ اس طرف راستہ کھول لیا جائے! گلی عوامی ہے۔ مکانوں کی بھیڑ بھاڑ، شہروں میں بڑھتی آلودگی اور مکان میں صاف ہوا کی آواجائی کے لیے گلی کی طرف ہی راستہ کھولنا لازمی اور ضروری تھا۔ سو اگلے دن سے کام شروع کروا دیا۔</p>
<p>مکان بنانے کے وقت آس پاس کے لوگ اکثر پوچھ لیا کرتے تھے، “شریمان، مکان کا دروازہ کدھر کھولو گے؟” تب میں کہتا، “بھیا یہ گلی کب کام آئے گی۔ کچھ دن ہم بھی تو استعمال کر لیں اس کا!” وہ کہتے، “گلی تو سبھی کی ہے۔ دروازہ کھول لو گے تو شاید گلی میں گندگی بھی نہیں رہے گی۔” میں کہتا، “سبھی لوگ اتحاد کریں تو محلے کے سارے مسائل کا حل دھیرے دھیرے ہو جائے گا۔” “کیوں نہیں، کیوں نہیں، محلے کی ترقی ہونا بھی تو ضروری ہے!” وہ کہتے اور چلے جاتے۔ بات آئی گئی ہو جاتی۔ ویسے مکان ڈھانے کے بعد سے ہم نے راستہ گلی میں بنا لیا تھا۔</p>
<p>صبح کے لگ بھگ 8:30 تک راج مستری اور بیل دار کام پر آ جاتے تھے۔ اس دن بھی ویسا ہی ہوا۔ لگ بھگ دو گھنٹے ہی کام پر بیتے ہوں گے کہ ایک راج مستری کو کوئی اپنے گھر میرے پڑوس میں بلوا لے گیا تھا۔ میں اس وقت سامان لینے بازار گیا ہوا تھا۔ واپس آنے پر مستری نے مجھے مذکورہ واقعہ بتایا۔ مستری نے بتایا کہ وہ آدمی کہہ رہا تھا، “گلی کی طرف دروازہ کھول لیا تو، خون خرابہ ہو جائے گا۔” اس نے آگے اس کی بولی میں ‘گالڈ (گلی) مہاری ]ہماری[ سے۔ سیور ہم نے بنوایا نالی ہم نے پکی کرائی، دیکھیں بھلا یو [یہ] چمار کا، کُکر ]کیسے[ مہاری گالڈ میں اپنا دروازہ لگائے گا، راستہ کھولے گا۔’ مستری کی یہ باتیں سن کر ایک بار تو میری نسوں میں خون کی گردش اور تیز ہو گئی۔ جی میں آیا کہ سالے کو اس کا جواب ابھی دے دوں۔ دیکھ لوں اس کی جاتی کا رعب۔ پر تھوڑا دماغ سے کام لیا۔ کہیں یہ راج مستری بھی تو ہمیں لڑوانا چاہتا ہو۔ یہ سب باتیں اپنی طرف سے تو نہیں کہہ رہا! اسے سمجھاتے ہوئے کہا، “کوئی بات نہیں، ہو گا سو دیکھا جائے گا۔ بس تم منصوبے کے مطابق اپنے کام میں لگے رہو اور کوشش کرو کہ یہ کام اپنے مقررہ وقت میں ہی پورا ہو جائے۔ بس میری آپ سبھی سے یہ عرض ہے۔” یہ سننے کے بعد ان سب لوگوں میں بھی جرات جاگ گئی جو کچھ پہلے اس آدمی کی دہشت سے خوفزدہ سے تھے۔ ویسے مستری نے جو حلیہ بتایا اس سے سمجھ گیا تھا کہ یہ بُھوسا کمہار کی حرکت تھی، جو میرا پڑوسی تھا۔ میں بھی پھر اپنے کام میں لگ گیا۔</p>
<p>لیکن ایک فکر رہی کہ ایک پچھڑی جاتی کا آدمی جس کا ہندو سماج اور دھرم میں کوئی خاص مقام، احترام نہیں ہے، جو ہندو ذات پات کے نظام میں خود چوتھے نمبر پر آتا ہے، غلام ہے۔ وہ دلت کی جدوجہد کو سراہنے سے رہا، الٹے دلت کو اس سماجی، سیاسی، مذہبی لڑائی میں کمزور کرنے میں اپنی شان سمجھتا ہے، بلکہ ایک اہم کردار نبھاتا ہے۔ اور خود غلام بنا رہتا ہے۔ دلتوں کے لاکھ جدوجہد کرنے پر بھی تحریک نہیں لیتا۔ یہ کچھ سوال میرے، دماغ میں باربار اٹھتے تھے اور من کو دکھی کر رہے تھے۔</p>
<p>شام کے وقت میرے ایک دوست نے مجھے خبر دی کہ بُھوسا کمہار لُوکھا جاٹ کے گھر گیا تھا اور میرے بارے میں خوب چغلیاں کیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ لُوکھا جاٹ کی چارپائی کے پاس زمین پر بیٹھا تھا۔ ہم دونوں باتیں کر رہے تھے کہ گلی میں شور سا کچھ سنائی پڑا۔ شور کو سن کر میں اور دوست، دونوں باہر آئے تو دیکھا کہ لُوکھا جاٹ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ گلی میں آ دھمکا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی۔ وہ ایک پیر سے لنگڑا تھا۔ اپنی چھڑی سے وہ گلی کو ناپنے لگا۔ ایک، دو، تین، چار۔۔۔۔۔ دوسرے ساتھی سے بولا، “بُھولے، اور گالڈ تے پوری سے۔ آٹھ فٹ کی۔” بُھولے—‘ٹھیک سے۔’ پھر گلی کے بیچ میں کھڑا ہو کر بُھولے سے، “بُھولے یو گالڈ میرے باپ نے چھوڑی تھی مہارے لکڑن کھاتر، نہ تے یو زمین مہاری تھی۔ ایب بول یو گالڈ مہاری ہوئی نا۔ پھر یہ کے مانگ مانگے سے مہارے تے۔ بھائی جمین مہاری، گالڈ مہاری، ار بھائی مہاری اس گالڈ میں جو اپنا راہ کھولے گا، میں تے اس کے سر نے پھوڑ دوں۔” میں اس کی یہ باتیں سن کر مشتعل تو بہت ہوا۔ غصہ اتنا آیا کہ اسے ابھی بتا دوں کہ گلی کس کی ہے، کس کی نہیں ہے۔ مگر میرے دوست نے سمجھایا، “یہ غصے کا وقت نہیں ہے، لڑائی کا بھی نہیں، کیونکہ تمھارا ابھی کام پورا نہیں ہوا۔ ابھی وقت کا انتظارکرنا ہی مناسب ہے۔ کیونکہ یہ لوگ تو چاہتے ہیں کہ تم لڑائی میں لگ جاؤ اور مکان کا کام ادھورا رہ جائے۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو ہمیں نقصان ہی نقصان ہو گا اور ہم کمزور کے کمزور بنے رہیں گے۔ اور سنو، سماج کی مدد بھی نہیں لے سکیں گے۔ سماج بھی اسی کی مدد کرتا ہے جو خود اپنی مدد کر سکتا ہے۔ ہمت رکھتا ہو۔ اس وقت ہمیں دھیرج کی ضرورت ہے۔” پھر میں تھوڑا شانت ہو گیا دوست کی صلاح پر دھیان دیا۔ اور دونوں انھیں دیکھتے رہے۔ تبھی بُھوسا کمہار بھی آ گیا تھا۔ لُوکھا کے ساتھیوں کو بُھوسا اپنے گھر کی طرف لے گیا۔ ہمیں ایسا لگا جیسے وہ لوگ میرے خلاف کوئی بڑی سازش رچنے جا رہے ہوں۔ قریب گھنٹے بھر بعد پھر شور سنائی دیا۔ تب ہم دونوں گھر میں بیٹھے تھے۔ لُوکھا جاٹ بڑے ڈرامائی انداز میں بولا، جو ہمیں سنائی دے رہا تھا۔ “کیوں رے موہر تیرا لڑکا تے مہاری بات بھی سننے راجی نا سے پر تو کان نے کھول کے سن۔ یو گالڈ مہاری سے، اپنے آگے پچھے نے دھیان میں رکھ کے کام کروی یے، نہ تے مانس مرن میں کے گاڈی جڑے سے۔” اور سب لوگ وہاں سے چلے گئے۔ میرے من میں ابھی بھی غصہ ہی بھرا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ ان سے کچھ سوال کروں کہ یہ زمین جس کی تم دعوی داری کر رہے ہو یا جس میں رہتے ہو، کیا تمھارے باپ نے بھی کبھی خریدی تھی؟ لیکن وہ اب جا چکے تھے۔ سو میں اور دوست آپس میں باتیں کرنے لگے۔ دوست نے کہا، “خریدی تو ان میں سے کسی کے باپ نے نہیں ہے۔ لیکن کہتے ہیں نہ، جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔ پچھڑی جاتی کے لوگ تو ان کی ہاں میں ہاں ملاتے۔” میں نے کہا، “لیکن ان جاتی پچھڑوں کے پاس ہی کون سی زمین ہے۔ کون سی جائیداد ہے۔ کون سے حقوق وغیرہ ہیں۔” دوست نے بات کاٹتے ہوئے کہا، “یہ تو سب ٹھیک ہے لیکن پھر بھی وہ اپنے آپ کو بہتر مانتے ہیں۔ اور یہی حالت دیگر مذاہب، جیسے مسلمان، سکھ اور عیسائی مذہب کے پچھڑوں کی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہندو مسلمان، ہندو سکھ اور ہندو عیسائی کی لڑائی ہو جاتی ہے تو وہ فرقہ وارانہ دنگا تو بن جاتا ہے لیکن زمین، صنعت اور طاقت میں حصہ داری کا سوال آج بھی جوں کا توں ہے۔ اسی طرح ہندو مسلمان، سکھ اور عیسائی کے ساتھ ہوئی لڑائی کو فرقہ وارانہ دنگا مانا جاتا ہے۔ مگر دلتوں کے ساتھ ہونے والی لڑائی کو کبھی فرقہ وارانہ نہیں مانا جاتا۔ پتہ نہیں کیوں؟ جبکہ دلت کے ساتھ ان تمام مذاہب کے لوگ نسل پرستی کا سلوک رکھتے اور کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ میں سبھی غیرقانونی سلوک کرتے ہیں۔ تعصب رکھتے ہیں۔ یہ کیسی فرقہ واریت کی تشریح ہے، میری تو سمجھ میں نہیں آتا۔ بھائی کبھی اس کا جواب ملے تو ضرور بتانا۔” اس پر دونوں ہنس پڑے۔ اور دوست چلا گیا اپنے گھر۔ میں کھانا کھانے بیٹھ گیا۔ تھوڑا بہت کھانا کھایا پِتاجی نے بلا لیا۔ ہاتھ منھ دھو کر میں ان کے پاس گیا۔ من میں غصہ رہ رہ کر آ رہا تھا کہ پِتاجی نے صلاح دی کہ لڑائی ٹھیک نہیں ہے۔ میں نے کہا، “پتا جی اگر میں نے لڑائی پہلے کر لی ہوتی، تو آج یہ نوبت نہیں آتی۔” پِتاجی خاموش تھے۔ میں نے پھر سوال کیا، “پِتاجی اس گاؤں میں ہمارا کوئی حق ہے کہ نہیں۔” پِتاجی نے کہا، “حق کیوں نہیں ہے۔ ہم بھی تو گاؤں کے ہیں۔” میں نے پھر سوال کیا، “جب حق ہے تو ہمارے پاس جوتنے بونے کی زمینیں کیوں نہیں ہیں؟ آزادی کے پچاس سال ہونے جا رہے ہیں اور سبھی لوگ اس پر خاموش ہیں۔ کیوں؟ پِتاجی اس خاموشی کی وجہ سے ہی تو ہم لوگ بےزمین ہو گئے اور یہ مٹھی بھر جاتیاں زمین دار۔” پِتاجی “ہاں بیٹا، ہم یہ سوال کیسے اٹھاتے؟ یہ جاتیاں طاقتور ہیں، لڑاکی ہیں اور ہم کمزور لوگ۔ ان کے لوگ پولیس میں ہیں، سرکار میں ہیں، انتظامیہ میں ہیں۔ ہماری کون سنتا ہے۔” میں نے ]اب کی بار غصے سے، مگر طنز کے انداز میں[ “پِتاجی، یہ لوگ لڑاکے ہیں، طاقتور ہیں، تو پھر ملک کئی بار غلام ہوا اور صدیوں تک غلام بنا رہا، کہاں گئی تھی ان کی طاقت اور لڑاکا پن! اور پِتاجی بھارت کی آزادی سے پہلے تو زمین زمینداروں، نوابوں کے پاس تھی۔ یہ ٹُکڑخورے کوئی زمیندار تھوڑی تھے۔ بلکہ یہ تو کاشتکار بھی نہیں تھے۔ لیکن تھوڑی سی ہمت نہ ہونا۔۔۔۔۔” میں بڑا پس و پیش میں پڑا تھا کہ کسی نے مجھے آواز دی۔ میں نے سر اوپر اٹھا کر دیکھا تو ایک پرانے دوست تھے۔ راجے پِپل۔ وہ میری طرف چلا آ رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا، “کیوں یہاں کیسے۔” (تھوڑا سا وچاروں کو اہم اور بناوٹی سا بنا کر) وہ بولا، “میں تو اکثر آیا کرتا ہوں، لیکن تمھارے درشن نہیں ہوتے شریمان ۔ کیوں کیا بات ہے؟” اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتا، میں نے اپنی ساری داستان اسے سنا دی، کیونکہ میں تو چاہتا تھا کہ کوئی میری بات سنے اور حل کا کوئی راستہ نکلے۔ داستان سن کر وہ بولا، “یار کچھ تو کرنا ہی چاہیے۔ آج تو یہ دروازے کی بات ہے۔ کل تو یہ ہمارے گھروں پر قبضہ کر لیں گے۔” پھر وہ بولا، “میں ٹھہرا سماجی خدمت گار پولیس اور انتظامیہ سے آئے دن جھڑپ ہو جاتی ہے۔ چلو اب کی بار تمھارے لیے کھڑکاتے ہیں ان کے کان۔ بھائی ایک بات بتا دوں۔ پولیس اس کی بات سنتی ہے جس کا پلڑا بھاری ہو۔ چاہے دھن سے چاہے پہنچ سے، چاہے دباؤ سے۔ نہیں تو وہ نہیں سنتی اپنے باپ کی بھی۔ پولیس کمزوروں اور عورتوں کی مدد نہیں کرتی۔ اس لیے ہی تو ان دونوں کو پولیس سے ڈر لگتا ہے۔ اور انصاف بھی نہیں مل پاتا۔ ان کا استحصال کرتی ہے۔ اگر ہم جیسے سماجی خدمت گار نہ ہوں تو یہ استحصال اور بھی زیادہ ہو گا۔ خیر چھوڑ، (بات کو بدلتے ہوئے) تو کل میرے گھر آ جا۔ پھر چلیں گے پولیس اسٹیشن۔” پھر دونوں اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے اور کچھ دیر بعد وہ اپنے گھر چلا گیا۔</p>
<p>اگلے دن ہم دونوں پولیس اسٹیشن گئے۔ سادے کاغذ پر ایک نامزد رپٹ لکھ دی اور ایک کاپی پر وصولی کرنے والے کے دستخط اور تھانے کی مہر لے لی۔ پھر دونوں اپنے اپنے کام سے چلے گئے۔ دوست کے اس تعاون سے من کو راحت ملی اور دہشت کی فکر بھی جاتی رہی۔ میں نے مزدوروں کو ہدایت دے رکھی تھی کہ کام زور شور سے ہونا چاہیے۔ کس کے بھی کچھ کہنے پر کام نہیں بند کرنا ہے۔ اس سے کہنا کہ مالک سے بات کر لیں۔ اور مکان بنانے کا کام زور شور سے چلتا رہا۔ بُھوسا کمہار ایک دن تھوڑی دیر کے لیے میرے مستری کو اپنے یہاں کام کے بارے میں لے گیا۔ کچھ دیر بعد جب وہ لوٹا تو مجھ سے بولا، “آپ کے یہاں کام میں لفڑا ہی لفڑا ہے۔” میں نے پوچھا کیسا اور کیوں لفڑا ہے۔ اس نے کہا، بُھوسا کہہ کر رہا تھا “یا تو اس کا کام چھوڑ دے نہیں تے تیری بھی پٹائی ہوویں گی اور اس نے ]میرے لیے[ تیں ہم سبق سکھا ہی دیویں گے۔” میں نے مستری سے کہا، “اب جب بھی وہ ملے تو اسے سمجھا دینا، بُھوسا تجھ میں تو مجھ سے لڑنے کی ہمت ہے ہی نہیں۔ رہی بات اس کے حمایتی کی، ان سے بھی کہہ دینا اینٹ کا جواب پتھر سے نہ ملے تو میرا نام بدل دینا۔ یہ گیدڑ بھبھکی کسی اور کو دینا۔ یار تو سر پر کفن باندھ کر چلتا ہے۔ کھلے عام۔ لیکن مستری جی تمھیں ڈرنے کی یا فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔” اور سب لوگ کام پر لگ گئے۔</p>
<p>اس دن سوموار تھا۔ صبح کا وقت تھا۔ مستری نے کہا، “آج دروازہ اور کھڑکی لگانی ہے۔ آپ گھر پر ہی رہنا۔” میں نے کہا، “گھر میں ہی رہوں گا۔ لیکن تمھیں کسی طرح کے ڈرنے کی بات نہیں ہے۔ اپنا کام کرو اور احتیاط سے کرو۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔” لگ بھگ دو گھنٹے بعد مستری نے لکڑی کی چوکھٹ گلی کی طرف لگا دی۔ اور راستہ گلی میں کھول دیا۔ کچھ عورتیں آپس میں باتیں کر رہی تھیں۔ “بس اب جھگڑا ہو جائے گا۔ لُوکھا جاٹ اپنے ساتھیوں کو لائے گا اور اس چوکھٹ کو اکھاڑ دیں گے۔” کچھ لوگ کہہ رہے تھے، “کون سی ان سالے جاٹوں کی خریدی ہوئی زمین ہے جو جھگڑا کریں گے۔” کچھ کہہ رہے تھے، “جھگڑے سے کیا ہو گا؟ بیر بندھ جائے گا۔ کیوں نہ انھیں بھی شانتی رہنے دے اور یہ بیر کی بات ختم کریں۔” اور اسی طرح تناؤ میں شام ہو گئی۔ سب لوگ کام ختم کر کے جا چکے تھے۔ سب کچھ معمول سے تھا، بلکہ آج کچھ اور بھی زیادہ شانت۔ لیکن ایک بات خاص تھی کہ بُھوسا اینڈ پارٹی کے لوگ نہ جانے کہاں غائب ہو گئے تھے۔ پِتاجی روز کی طرح چارپائی بچھا کر سامان کے پاس حقہ پی رہے تھے۔ تبھی میرے وہی دوست راجے آ گئے۔ میں بھی چارپائی پر بیٹھ گیا۔ راجے پِپل کرسی پر بیٹھ گئے۔ تب میں نے کہا، “کیوں بھائی، لڑاکے، طاقتور آج بزدل کیسے بن گئے۔” راجے پِپل “یہ لوگ کمزوروں کے لیے طاقتور ہیں۔ دلیر ہیں۔ لیکن طاقتور کے لیے اس کے وفادار کتے ۔ سالے دھوکے باز، اجڈ مویشی۔ یہ کیا لڑیں گے سالے۔ بزدل۔ کیسے کبڑے زمینداروں کے۔ بُھوسا کبڑوں کا کبڑا، حوالی موالی ۔” اور دونوں ہنس پڑے۔ پِتاجی حقے کا کش کھینچ رہے تھے۔۔۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/aur-rasta-khul-gya/">اور راستہ کھل گیا</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/aur-rasta-khul-gya/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دو جرنیل اور ایک دیہاتی</title>
		<link>https://laaltain.pk/2-general-aur-ek-dehati/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/2-general-aur-ek-dehati/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ذکی نقوی]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 14 Dec 2024 13:32:12 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Mikhail Saltykov-Shchedrin]]></category>
		<category><![CDATA[zaki naqvi]]></category>
		<category><![CDATA[ذکی نقوی]]></category>
		<category><![CDATA[روسی ادب]]></category>
		<category><![CDATA[میخائل سلتیخوف 'شیدرن']]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=33013</guid>

					<description><![CDATA[<p>دیہاتی نے کشتی کے پیندے میں ہنس راج کے پر بچھائے اور ان پر جرنیلوں کو بٹھا دیا، ان پہ مقدس صلیب کا نشان بنایا اور سفر کا آغاز کر دیا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/2-general-aur-ek-dehati/">دو جرنیل اور ایک دیہاتی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>چند برس اُدھر کا قصہ ہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ میں دو جرنیل صاحبان رہتے تھے۔اب یہ جرنیل سرکاری نوکری میں کچھ سویلین خدمات پر ہی دفتری زندگی گزار کر بوڑھے بھی ہو چکے تھے اور نتیجتاََ انہیں دفتری فرائض کے معمولات کی زندگی سے پرے کسی شے کا پتہ بھی نہ تھا۔ ان کا تمام ذخیرہ ء الفاظ بھی ”فقط آپ کا نیازمند” جیسے شبدوں تک سمٹ چکا تھا۔ وہ دونوں اپنی میعا د پر پنشن یافتہ ہوئے، دونوں نے ایک ایک خانساماں نوکر کیا اور ”خیابانِ سُرخ فیتہ” پر رہائش اختیار کر کے عمرِ آخر کی آسائش میں پڑ رہے۔</p>
<p>ایک صبح جب وہ نیند سے بیدار ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک ہی بستر پر براجمان ہیں۔ “یور ایکسی لینسی! رات میں نے ایک بھیانک خواب دیکھا!” ایک جنرل صاحب بولے۔</p>
<p>“مجھے در حقیقت یوں لگا جیسے میں ایک ریگستانی جزیرے پر رہ رہا ہوں“ابھی اس نے یہ بات مکمل ہی تو نہیں کی تھی کہ یکے بعد دیگرے وہ دونوں جرنیل اپنے بستر سے اچھل کر اُٹھے۔ “خُدایا! اس کی کیا تعبیر ہے؟ اور یہ ہم کہاں ہیں؟” انہیں بیک وقت دونوں باتوں پہ تحیر ہوا۔ پھر وہ ایک دوسرے کے چٹکیاں کاٹنے لگے کہ یقیناََ وہ ابھی عالمِ خواب میں تھے مگر وہ باوجود کوشش کے اپنے تئیں یہ باور نہ کرا سکے کہ یہ فقط خواب تھا۔ ماسوائے زمین کے ایک ٹکڑے کے جو ان کے عقب میں تھا، وہ ہر طرف سے سمندر میں گھرے ہوئے تھے۔ جب سے دفتر کی نوکری چھوٹی تھی، تب سے اب تک پہلی بار وہ دونوں جرنیل کسی بات پر رو دئیے۔ جب انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تو باور ہوا کہ وہ دونوں شب خوابی کے چُغوں میں ملبوس تھے۔ اگرچہ ان چُغوں کے گلے میں بھی ایک ایک تمغہ لٹک رہا تھا۔</p>
<p>“ایک کپ کافی کا ہو جائے تو کیا ہی اچھا لگے!” ایک جنرل صاحب نے کہا۔ مگر اس لمحے جب ان کی توجہ اپنی اس پتلی حالت پہ گئی تو صاحب کے آنسو پھوٹ پڑے۔</p>
<p>“اب کیا کریں” صاحب نے سسکیاں لیتے ہوئے بات جاری رکھی۔ “اس پہ تو مفصل رپورٹ لکھنے سے بھی کوئی فائدہ نہ ہو گا!”</p>
<p>“بات سنیے!” دوسرے جرنیل نے کہا۔ “آپ مشرق کی جانب جائیے، میں مغرب کی جانب جاؤں گااور رات پھیلے سے ہم اسی جگہ واپس لوٹ آئیں گے۔ عین ممکن ہے ہم کچھ دریافت کر پاویں”۔ مگر اب افتاد یہ پڑی کہ انہیں سمتوں کا بھی علم نہ تھا کہ مغرب کس طرف ہے اور مشرق کس جانب؟ پھر انہیں یاد آیا کہ ایک بار کسی اعلیٰ افسر نے انہیں بتایا تھا کہ اگر مشرق اور مغرب کی سمتوں کا تعین کرنا ہو تو شمال کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جائیں تو آپ کے دائیں جانب مشرق ہو گا اور بائیں جانب مغرب۔ اب دونوں نے شمال کو ڈھونڈنا شروع کر دیا۔ اس کے لئے انہوں ہر ممکن سمت کی طرف رُخ کیا مگر ان کا افق بھی تو سرکاری دفتر کے درودیوار میں محدود رہا تھا! وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔</p>
<p>“ایسا کریں، آپ دائیں جانب چلے جائیں اور میں بائیں جانب، اس سے بھی مطلوبہ نتائج برآمد ہوں گے”۔ ان میں سے ایک جنرل جو کسی زمانے میں لڑکوں کے ایک اسکول میں لکھنا سکھاتے رہے تھے اور کچھ عقلِ سلیم رکھتے تھے، بولے۔</p>
<p>جو جنرل صاحب دائیں جانب گئے تھے، انہوں نے پھلدار درخت دیکھے لیکن جب انہوں نے ان سے لٹکے سیب توڑنے کی کوشش کی تو انہیں اپنی پہنچ سے دور پایا۔ جب انہوں نے درخت پر چڑھنے کی کوشش کی تو اپنا چُغہ تار تار کر بیٹھے اور کچھ کامیابی نہ ہوئی۔ اس کے بعد جنرل صاحب ایک ندی کنارے پہنچے جو کہ مچھلیوں سے اس طرح بھری ہوئی تھی جیسے نہر فونتاکا کے کنارے کی مچھیرے کی دکان۔</p>
<p>“اگر یہ مچھلیاں ہی پکا لی جائیں!” جنرل صاحب نے شدید بھوک کے عالم میں خود کلامی کی۔ پھر ان صاحب نے ایک جنگل میں بٹیر، جنگلی مرغ اور خرگوش دیکھے مگر انہیں پکڑنے کی کوئی سبیل نہ تھی سو انہیں خالی ہاتھ ہی اپنے مقامِ روانگی کی طرف لَوٹنا پڑا۔ دوسرے جنرل صاحب پہلے ہی وہاں موجود تھے۔</p>
<p>“کوئی اچھی خبر یور ایکسی لینسی؟”</p>
<p>“مجھے ماسکو گزٹ کی ایک پرانی کاپی کے سوا کچھ نہیں ملا”</p>
<p>دونوں جرنیل لیٹ گئے اور سونے کی کوشش کرنے لگے مگر بھوک انہیں کہاں سونے دیتی تھی، پھر انہیں اپنی پنشن کی فکر ستانے لگی۔</p>
<p>“یور ایکسی لینسی، کوئی کیونکر تصور بھی کر سکتا ہے کہ کھانا بھی اپنے اولین مرحلے پر پانی میں تیر رہا ہوتا ہے، فضا میں اُڑ رہا ہوتا ہے یا درختوں سے لٹک رہا ہوتا ہے!”</p>
<p>جنرل صاحب نے جو مچھلیاں، پرندے اور پھل دیکھے تھے، ان کا خیال آتے ہی بولے۔</p>
<p>“لہٰذہ جب کوئی تیتر کھانا چاہے تو پہلے اسے پکڑے، پھر ذبح کرے، پھر اس کے بال و پر اتار پھینکے اور پھر اسے پکائے۔ مگر یہ سب کچھ کیسے کیا جائے؟”</p>
<p>“بالکل! بھلا کیونکر کیا جائے؟” دوسرے جنرل صاحب نے بھی تائید کی۔</p>
<p>“مجھے تو اتنی بھوک لگی ہے کہ میں اپنے بوٹ کا چمڑا ہی کھا جاؤں گا!”</p>
<p>“دستانہ بھی بُرا نہیں ہے!” دوسرے جنرل صاحب بولے۔</p>
<p>“بالخصوص جب وہ پہن رکھے ہوں” اچانک دونوں جرنیلوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، ان کی آنکھوں میں ایک چنگاری بھڑکی، دانت بھنچ گئے، ان کے نرخرے سے ابھرنے والی آوازیں منہ سے پھٹ پڑیں اور اگلے ہی لمحے وہ باہم گھتم گتھا، لڑ رہے تھے۔ ان کے کراہنے کی آوازوں اور ٹوٹ کر اڑتے بالوں سے فضا بھر گئی۔ سوءِ اتفاق کہ جو جنرل صاحب کسی زمانے میں اسکول کے استاد رہے تھے، انہوں نے دوسرے جنرل صاحب کے گلے کا تمغہ ہی نگل لیا۔ خیر، جب ایک دوسرے کا خون دیکھا تو دونوں نے ہوش کے ناخن لئے۔</p>
<p>“اس کے بعد تو ہم ایک دوسرے کو کھانے لگیں گے!”</p>
<p>“ہم اس دن تک کیسے پہنچے!”</p>
<p>“یہ ہم کس شیطانی بغض کے جھانسے میں آ گئے تھے!”</p>
<p>دونوں نے ایک دم ہم خیال ہو کر کہا۔</p>
<p>“یور ایکسی لینسی، ہمیں کچھ خوشگوار سوچنا چاہیئے ورنہ ہم قتل کر بیٹھیں گے” دوسرے جنرل نے کہا۔ “مثال کے طور پر آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے کہ سورج پہلے غروب کیوں ہوتا اور بعد میں طلوع کیوں ہوتا ہے بجائے اس کے کہ اس سے برعکس ہوا کرے؟”</p>
<p>“کیا احمقانہ سوال ہے جناب! کیا آپ خود صبحدم بیدار نہیں ہوتے؟ پھر دفتر جاتے ہیں، لکھائی پڑھائی کرتے ہیں اور آخر کار تھک ہار کر آرام کرنے کو گھر آتے ہیں!”</p>
<p>“لیکن جناب اس کے بر عکس کیوں نہ کہا جائے؟ میں پہلے بستر کو جاتا ہوں ناں، نیند میں بھانت بھانت کے خواب دیکھتا ہوں پھر جاگ اٹھتا ہوں”</p>
<p>“شاید جب میں نے سرکاری نوکری کی تھی تو ہمیشہ صبح کو ہی آغاز کے طور پر سوچا۔ پھر شام کا ہونا اور پھر رات کا کھانا اور پھر بستر پہ جانا” رات کے کھانے کے ذکر نے گفتگو کا سلسلہ منقطع کر کے ان کی بھوک کی ٹیسیں تازہ کر دیں۔</p>
<p>“میں نے ایک بار کسی ڈاکٹر سے سُنا تھا کہ انسان محض اپنی جسمانی رطوبتوں پر ہی کئی دن زندہ رہ سکتا ہے” ایک جنرل صاحب نے بات چھیڑی۔</p>
<p>“واقعی؟”</p>
<p>“جی ہاں! اس سے لگتا ہے کہ ایک رطوبت سے دوسری پیدا ہوتی ہے مگر وہ ایک دوسرے کو پی جاتی ہیں اور بالآخر ساری ختم ہو جاتی ہیں”</p>
<p>“پھر؟”</p>
<p>“پھر اس کے بعد انسان کو کچھ کھانا چاہیئے”</p>
<p>درحقیقت اب جرنیل صاحبان جس موضوع پر بھی بات کر رہے تھے، بات کی تان ٹوٹتی تھی آ کر کھانے پر! اور اس سے ان کی بھوک بھڑک اُٹھتی تھی۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ باتیں چھوڑیں اور دوبارہ ماسکو گزٹ کی اس کاپی کو تفریح کی خاطر پڑھیں جو انہیں ملی تھی۔</p>
<p>“گزشتہ روز” ایک جنرل صاحب نے لرزتی ہوئی آواز میں پڑھنا شروع کیا۔ “ہمارے تاریخی دارالخلافہ کے گورنر نے ایک عشائیے کا اہتمام کیا جس میں سینکڑوں مہمانانِ گرامی مدعو تھے۔ یوں لگتا تھا دنیا بھر کے باذوق خوش خوراک یہاں دعوت کے اہتمام کیلئے اکٹھے تھے۔ قفقاز کے شاہی تیتر، کیسپیئن کے ساحلوں سے ملنے والی بڑی بڑی مچھلیوں کے انڈوں سے بننے والا لذیذ اچار حتیٰ کہ اسٹرابیری جس کا فروری کے مہینے میں ہمارے شہر میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔”</p>
<p>“خُدارا! کیا دنیا میں کوئی اور موضوع نہیں ہے؟؟” دوسرے جنرل صاحب نے مایوسی میں کہا اور اپنے رفیق کار کے ہاتھ سے اخبار لے لیا اور خود پڑھنے لگے۔</p>
<p>“تولا سے نامہ نگار لکھتا ہے کہ دریائے اوپا سے ایک بڑی استرجن مچھلی پکڑے جانے کی خوشی میں ایک عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔ مذکورہ مچھلی کو ایک بڑے چوبی طشت میں پیش کیا گیا اور اس پہ کھیرے کی قاشوں کا ایک پہاڑ تھا جس کی چوٹی پہ ایک ننھا سا پھول گاڑا گیا تھا۔ ڈاکٹر ‘ر’ نے خصوصی تردد سے اس امر کو یقینی بنایا کہ تمام مہمانوں کو ان کا مناسب حصہ ملے۔ چٹنی تو اتنی لذیذ تھی کہ۔۔۔”</p>
<p>“مائی ڈئیر ایکسی لینسی! لگتا ہے آپ بھی بڑی جانبداری سے اخبار پڑھ رہے ہیں!” یہ کہہ کر جنرل صاحب نے دوبارہ اخبار ان سے لے لیا اور پڑھنے لگے۔</p>
<p>“ویاتکا سے ایک نامہ نگار لکھتے ہیں کہ ایک بوڑھے مچھیرے نے مچھلی کی حلیم بنانے کی ایک نئی ترکیب ایجاد کی ہے کہ ایک چپٹی (ٹربوٹ) مچھلی کو مگدر سے اتنا کُوٹیں کہ اس کا کلیجہ غضب سے سُوج کر۔۔۔” اب دونوں جرنیلوں کی حد ہو چکی تھی حتیٰ کہ ان کا اپنا ذہن بھی ان سے بے وفائی کرنے پر تُلا ہوا تھا۔ لیکن پھر اچانک وہ جنرل صاحب جو کہ خطاطی کے استاد رہ چکے تھے، ان کے ذہن رسا میں ایک بات آئی۔</p>
<p>“یور ایکسی لینسی! کیوں ناں ایک دیہاتی ڈھونڈا جائے! ایک عام دیہاتی! جو بالیقین ہمارے لئے بٹیر اور وہ مچھلیاں پکڑے اور رول بنا کر ہمیں پیش کرنے کی استعداد رکھتا ہوگا”</p>
<p>“بہت خوب! مگر آپ کے خیال میں وہ دیہاتی کہاں سےملے گا؟”</p>
<p>“ارے وہ تو بہت آسان ہے! دیہاتی ہر جگہ پائے جاتے ہیں! اس جزیرے پر بھی ہو گا، بس ہمارا کام اسے تلاش کرنا ہے۔ ممکن ہے وہ یہیں کہیں چھپا ہو، کیونکہ وہ سست اور کاہل ہو گا اور کام چوری سے یہیں چھپ گیا ہو گا!” اس تجویز سے دونوں جرنیل صاحبان کو اتنی مسرت ہوئی کہ وہ اچھل کر اپنی جستجو میں نکل پڑے۔ کافی دیر تک کی ناکام تلاش کے بعد انہیں باسی کھانے کی بساند نے ایک درخت کی طرف متوجہ کیا تو وہ اس جانب گئے جہاں درخت کے نیچے ایک لمبے چوڑے جُثے کا دیہاتی لیٹا تھا اور واضح طور پر، نہایت بے ہودہ انداز میں کام سے جی چرائے سو رہا تھا۔ جرنیل صاحبان غصے سے لال پیلے ہو گئے۔ انہوں نے ایک جھٹکے سے اسے قدآدم کھڑا کر دیا۔</p>
<p>“تُم سو رہے ہو؟ ؟ اور دو جرنیل صاحبان نے دو دن سے کچھ نہیں کھایا!! چلو اسی لمحے کام پہ لگ جاؤ!”</p>
<p>دیہاتی نے لمحے بھر کو تو فرار ہونا چاہا مگر دو جرنیلوں کے غیض و غضب کو دعوت دینا سنگین غلطی تھی۔</p>
<p>ابتداََ تو وہ درخت پر چڑھا اور جنرل صاحبان کیلئے درجن بھر اچھے اچھے سیب توڑے اور ایک نیم کچا سیب اپنے لئے رکھ لیا۔ پھر اس نے زمین کھود کر کچھ آلو نکالے اور لکڑیوں کی رگڑ والے طریقے سے آگ جلائی۔ پھر اس نے اپنے لمبے بال کاٹ کر ان سے ایک پھندا بنایا اور ایک تیتر بھی پکڑ لیا۔ پھر اس نے یہ چیزیں اس عمدگی سے پکائیں کہ جنرل صاحبان کو یہ خیال بھی آیا کہ اس لذیذ کھانے میں سے کچھ اس کاہل بنجارے کو بھی دے دیا جائے۔ جرنیل صاحبان بھول گئے کہ وہ فاقہ کشی کرتے رہے تھے اور اب وہ اس احساسِ تفاخر سے بھر گئے کہ وہ جرنیل تھے جنہوں نے ہر طرح کے حالات میں اپنی برتری کا سکہ جما لیا تھا۔</p>
<p>“اب آپ مطمئن ہیں جرنیل صاحبان؟” کاہل دیہاتی نے پوچھا۔</p>
<p>“ہم تمہاری کاوش سے مطمئن ہیں پیارے دوست” جرنیلوں نے جواب دیا۔</p>
<p>“تو میں کُچھ آرام کر لوں؟”</p>
<p>“یقیناََ میرے بھلے مانس! مگر پہلے ہمیں ایک رسہ بنا کر دے دو”۔</p>
<p>دیہاتی نے فوراََ کچھ جنگلی پٹ سن اکٹھی کی، اسے بھگویا، اس کے لچھے بنائے اور شام ڈھلے تک وہ ایک رسہ بُن چکا تھا۔ اس رسے سے جرنیل صاحبان نے یہ کارِ خیر کیا کہ اس دیہاتی کو ایک درخت سے باندھ دیا تاکہ وہ کہیں فرار نہ ہو جائے۔ اس کے بعد وہ سو گئے۔ دن گزرتے گئے اور دیہاتی ایسا ماہر ہو گیا کہ کہیئے تو ہتھیلی پر یخنی پکا لے! جرنیل صاحبان خوش باش، صحتمند اور فربہ ہو گئے۔ انہیں احساس ہونے لگا کہ وہ کرہء ارض کے بہترین قطعے پر رہ رہے ہیں جبکہ سینٹ پیٹرزبرگ میں ان کی پنشن کی رقوم بھی اکٹھی ہو رہی تھیں۔</p>
<p>“یور ایکسی لینسی! یہ مینارِ بابل کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا یہ حقیقت ہے یا فقط دیومالا؟”</p>
<p>“یقیناََ سچ ہی ہو گا! ورنہ اتنی زبانوں کا وجود کس کھاتے میں ڈالیں گے؟”</p>
<p>“پھر تو طوفانِ نوحؑ بھی سچ میں آیا ہی ہو گا؟”</p>
<p>“بے شک آیا تھا! کیا ہمیں طوفان سے پہلے کے جانوروں کے وجود کا پتہ نہیں ہے؟ میں نے خود ماسکو گزٹ میں پڑھا تھا”</p>
<p>“چلیں پھر ماسکو گزٹ پڑھتے ہیں”</p>
<p>پھر وہ کوئی پرانا شمارہ لیتے، چھاؤں میں بیٹھ کر اول تا آخر پڑھتے۔ ماسکو اور تولا اور دیگر جگہوں پہ لوگ کیا کھا رہے ہیں، انہیں کوئی فرق نہ پڑتا تھا اور ظاہر ہے کہ رشک تو بالکل بھی نہ آتا تھا۔</p>
<p>لیکن انجامِ کار، جرنیل صاحبان زندگی کی یکسانیت سے اُکتا گئے۔ انہیں خیابانِ سُرخ فیتہ کے خوان اور خانساماں یاد آنے ہی لگے۔ حتیٰ کہ وہ خلوتوں میں آنسو بہانے لگے۔</p>
<p>“یور ایکسی لینسی، آپ کے خیال میں اس وقت خیابانِ سرخ فیتہ میں کیا ہو رہا ہو گا؟” ایک جنرل صاحب نے دوسرے سے پوچھا۔</p>
<p>“اس کا تذکرہ نہ کریں یور ایکسی لینسی” دوسرے جنرل صاحب نے جواب دیا “میرا دل بھلے وقتوں کی یاد میں بے قرار ہو رہا ہے۔ یہاں بڑی آسائش ہے، بہت آسائش۔۔۔ ہم شکوہ نہیں کر سکتے مگر یہ تنہائی تھکا دینے والی ہے۔۔۔ ہے ناں؟ پھر اس پہ یہ کہ مجھے اپنی وردی کی یاد آتی ہے”</p>
<p>“بے شک۔۔۔ اور بالخصوص جب وہ اعلیٰ درجے کی ہو۔۔ اس کے چمکیلے تسمے آنکھوں کو چندھیا دیتے ہیں” سو انہوں نے دیہاتی کو بڑے اشتیاق سے اصرار کیا کہ انہیں خیابانِ سُرخ فیتہ لے جائے۔ انہیں معلوم ہوا کہ وہ دیہاتی بھی وہاں جا چکا ہے۔</p>
<p>“تمہیں پتہ ہے! ہم خیابانِ سرخ فیتہ کے جرنیل ہیں!” جرنیلوں نے لہک لہک کر مسرت کا اظہار کیا۔</p>
<p>“اور میں ایک رنگساز جو کہ گھروں کے باہر لٹک کر رنگ روغن کرتا ہوں اور ایک منڈیر سے دوسری تک مکھی کی طرح اڑ اڑ کر جاتا ہوں، شاید کبھی آپ نے مجھے توجہ سے ملاحظہ فرمایا ہو!” یہ کہہ کر وہ جرنیل صاحبان کی ضیافتِ طبع کیلئے رقص کرنے لگا۔ ظاہر ہے، کیا اُن جرنیلوں نے اُس کاہل بنجارے کے ساتھ شفقت کا رویہ نہیں رکھا تھا؟ اور کیا اس کی معمولی خدمات پر سرپرستانہ مہربانی نہیں فرمائی تھی؟ سو اس دیہاتی نے ایک کشتی بنائی جس سے وہ سمندر پار کر کے خیابانِ سرخ فیتہ پہنچ سکتے تھے۔</p>
<p>“دھیان رہے! ہمیں ڈبو ہی نہ دینا!” جرنیلوں نے لہروں کے دوش پر ایک کمزور سی شے بل کھاتی دیکھی تو چِلا اُٹھے۔</p>
<p>“فکر مت کریں جرنیل صاحبان۔۔ مجھے معلوم ہے کہ مجھے کیا کرنا ہے!” دیہاتی نے کہا اور روانگی کی تیاریاں شروع کر دیں۔ دیہاتی نے کشتی کے پیندے میں ہنس راج کے پر بچھائے اور ان پر جرنیلوں کو بٹھا دیا، ان پہ مقدس صلیب کا نشان بنایا اور سفر کا آغاز کر دیا۔ ہر طرح کے طوفانوں، بپھری ہواؤں نے ان کا راستہ کاٹا، جرنیل صاحبان جس خوف سے گزرے، ناقابلِ بیان ہے مگر دیہاتی کشتی کھینے سے پل بھر کو نہ رُکا، ماسوائے اُن وقفوں کے جب وہ اپنے ہمسفروں کو کھلانے کیلئے مچھلیاں پکڑتا تھا۔ بالآخر وہ نیوا پہنچے۔۔پھر نہرِ کیتھرین اور پھر عظیم الشان خیابانِ سرخ فیتہ وارد ہوئے۔</p>
<p> وہاں کے خانساماں اپنے جرنیل صاحبان کو اتنے فربہ، سرخ و سپید اور خوش مزاج دیکھ کر حیرت سے ہاتھ باندھے کھڑے تھے! جرنیل صاحبان نے کافی پی، مکھن کے ساتھ رول کھائے اور پھر اپنی وردیاں زیب تن کیں۔پھر وہ دونوں شاہی خزانے تشریف لے گئے اور قلم لکھنے سے قاصر ہے، زبان بیان سے معذور ہے کہ کتنی خطیر رقم ان دونوں نے وصول کی۔</p>
<p>لیکن ایسا نہیں کہ وہ اپنے غریب دیہاتی کو بھول گئے ہوں! ہرگز نہیں! انہوں نے اسے برانڈی کا ایک گلاس پیش کیا اور چمکتا ہوا پانچ کوپیک کا سِکہ!! ہمراہ ان تعظیمی الفاظ کے:</p>
<p>“تمہارا جامِ صحت! اے عظیم، احمق دیہاتی!”</p>
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/12/Mikhail-Saltykov.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/12/Mikhail-Saltykov-220x300.jpg" alt width="220" height="300" class="aligncenter size-medium wp-image-33017" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/12/Mikhail-Saltykov-220x300.jpg 220w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/12/Mikhail-Saltykov.jpg 403w" sizes="(max-width: 220px) 100vw, 220px"></a></p>
<p><em>میخائل سلتیخوف (1826–1889) روسی ادب میں سب سے بڑے طنز نگار کے طور پر جانے جاتے ہیں جو کہ بنیادی طور پر ایک سول سرونٹ تھے اور نکولائی شیدرن کے قلمی نام سے لکھتے تھے۔ انہوں نے روسی معاشرے میں کرپشن، افسر شاہی کی نا اہلی، قابل لوگوں میں موقع پرستی کے رجحان،جبکہ عوام کی بے حسی اور بے عملی پہ طنز کی گہری چوٹیں کیں۔اس وجہ سے ان پہ حب الوطنی کی کمی کا الزام بھی لگایا گیا مگر انہوں نے روس کے ادبی طنز و مزاح میں ایک روایت کی بنیاد ڈالی جس نے روسی عوام میں طبقاتی کشمکش کے شعور کو ایک نئی راہ پہ ڈالا۔ مترجم ذکی نقوی</em></p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/2-general-aur-ek-dehati/">دو جرنیل اور ایک دیہاتی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/2-general-aur-ek-dehati/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
