<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Multiverse Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/multiverse/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/multiverse/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Fri, 31 May 2024 22:08:52 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>Multiverse Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/multiverse/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>وجودِ کائنات</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af%d9%90-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af%d9%90-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فصی ملک]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 21 Mar 2017 16:12:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[big bang]]></category>
		<category><![CDATA[Multiverse]]></category>
		<category><![CDATA[origin of universe]]></category>
		<category><![CDATA[Quantum Physics]]></category>
		<category><![CDATA[Universe]]></category>
		<category><![CDATA[بگ بینگ]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس]]></category>
		<category><![CDATA[کائنات]]></category>
		<category><![CDATA[کائنات کی ابتداء]]></category>
		<category><![CDATA[کوانٹم فزکس]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=20440</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">رابرٹ ایڈلر: جوہروں جیسی چھوٹی اشیاء سے لے کر کہکشاؤں جیسی بڑی چیزوں تک۔ ہمارا بہترین نظریہ جو ان بڑی ساختوں کی وضاحت کرتا ہے عمومی نطریہ اضافیت کہلاتا ہے ۔ یہ وضاحت کرتا ہے کہ زمان، مکان اور انجذاب کیسے کام کرتے ہیں۔
</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af%d9%90-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa/">وجودِ کائنات</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">رابرٹ ایڈلر کا یہ مضمون <a href="http://www.bbc.com/earth/story/20141106-why-does-anything-exist-at-all" target="_blank" rel="noopener">انگریزی</a> میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urdutext">مصنف: رابرٹ ایڈلر<br>
ترجمہ: فصی ملک</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">لوگ اس سوال پر ہزارہا سال سے مغز ماری کرتے آ رہے ہیں کہ کائنات اپنا وجود کیوں رکھتی ہے۔تقریباً تمام قدیم تہذیبوں نے تخلیق کی ایک اپنی ہی کہانی پیش کی ہے جن میں سے بہتوں نے معاملات کو خدا کے اوپر چھوڑ دیا ۔ جب کہ فلسفیوں نے اس مضمون پر کئی کتابیں لکھی ہیں۔لیکن سائنس نے اس بنیادی سوال کے بارے میں بہت کم رائے دی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تاہم رواں برسوں میں کچھ ماہرینِ طبیعیات اور کونیات نے اس کا جواب تلاش کرنا شروع کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اب ہمیں کائنات کی تاریخ اور جن قوانین پر یہ کام کرتی ہے ان کی آگہی حاصل ہو گئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس معلومات سے ہمیں اس چیز کا اشارہ ملے گا کہ کائنات اپنا وجود کیسے اور کیوں رکھتی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ان کا (بجا طور پر) متنازعہ جواب یہ ہے کہ کائنات – انفجارِ عظیم(Big Bang) کے آتشی گولے سے لے کر ستاروں سجی کائنات تک جس میں اب ہم رہتے ہیں- عدم(nothing) سے یک لخت وجود میں آئی۔وہ کہتے ہیں کہ ایسا ہونا ہی تھا کیوں کہ عدم فطرتی طور پر غیر مستحکم(unstable) ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ ہیں وہ (وجوہات) کہ کس طرح عدم سے کچھ وجود میں آیا ہو گا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>خالی فضا سے بنتے ذرات:</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سب سے پہلے ہمیں کوانٹم میکانیات کے دائرہِ کار پر نظر ڈالنی ہو گی۔یہ طبیعیات کی وہ شاخ ہے جو ہمیں چھوٹی اشیاء جیسا کہ جوہر یا اس سے بھی چھوٹی چیزوں کے بارے میں جانکاری دیتی ہے۔ یہ ایک بہت ہی کامیاب نظریہ ہے اور بہت سارے جدید برقیائی گیجٹس(electronic gadgets) کو بنیاد فراہم کرتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کوانٹم میکانیات ہمیں بتاتی ہے کہ تہی فضا جیسی کوئی شئے نہیں ہے۔حتٰی کہ مکمل خلا بھی ذرات اور ضد ذرات کے ہیجان پذیر کہر سے بھری ہوئی ہے جو لپک کر وجود میں آتے ہیں اور پھر فوراً ہی واپس عدم میں کوچ کر جاتے ہیں۔ یہ مجازی ذرات، جیسا کہ ان کو کہا جاتا ہے، اتنی دیر زندہ نہیں رہتے کہ ہم بلاواسطہ ان کا مشاہدہ کر سکیں مگر ہم ان کے اثرات سے جانتے ہیں کہ یہ وجود رکھتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>لامکان اور لا زمان سے آیا زمان و مکان:</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">جوہروں جیسی چھوٹی اشیاء سے لے کر کہکشاؤں جیسی بڑی چیزوں تک۔ ہمارا بہترین نظریہ جو ان بڑی ساختوں کی وضاحت کرتا ہے عمومی نطریہ اضافیت کہلاتا ہے ۔ یہ وضاحت کرتا ہے کہ زمان، مکان اور انجذاب کیسے کام کرتے ہیں۔<br>
اضافیت کوانٹم میکانیات سے بہت مختلف ہے اور آج تک کوئی بھی ان دونوں کو ٹھیک سے متحد نہیں کر پایا۔تاہم کچھ نظریہ دان منتخب تقارب(chosen approximations) کی مدد سے کچھ خاص مسائل پر دونوں نظریات کو ملانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ طریق کار کیمبرج یونیورسٹی کے سٹیفن ہاکنگ(Stephen Hawking) نے ثقب اسودوں(black holes) کی وضاحت کے لیے استعمال کیا تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ایک چیز جس کا انہوں نے پتا چلایاہے یہ ہے کہ جب کوانٹم نظریے کو فضا پر چھوٹے پیمانے پر لاگو کیا جاتا ہے تو سپیس بذاتِ خود غیر مستحکم ہو جاتی ہے۔ کلی طور پر ہموار اور استوانہ رہنے کی بجائے زمان اور مکان غیر مستحکم ہو کر زمان و مکان کے بلبلوں کے کف(foam) جی شکل اختیار کر لیتا ہے جو وجود پاتے اور فنا ہو تے جاتے ہیں۔<br>
باالفاظ دیگر، زمان و مکان کے بلبلے فی البدیہہ پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایری زونا سٹیت یونیورسٹی کے لارنس کراس کا کہنا ہے کہ اگر زمان اور مکان قدریائی(quantized) ہیں تو ان میں اتار چڑھاؤ(ٖfluctuations) آ سکتا ہے لہٰذا آپ جس طرح مجازی ذرات پیدا کرتے ہیں اسی طرح مجازی زمان و مکان بھی پیدا کر سکتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مزید یہ کہ اگر یہ (زمان و مکان کے) بلبلے بن سکتے ہیں تو یہ یقیناً بنیں گے۔ تفت یونیورسٹی (tuft university) کے الیگزینڈر ویلنکو (Alexander Vilenkin) کا کہنا ہے کہ کوانٹم میکانیات میں اگر کوئی چیز مانع نہیں ہے تو وہ لازمی طور پر غیر صفری امکان کے ساتھ وقوع پذیر ہو گی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>بلبلے سے بنی کائنات: </strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">لہٰذا صرف ذرات یا ضد ذرات ہی نہیں بلکہ زمان و مکان کے بلبلے بھی عدم سے حیات و فنا پا سکتے ہیں۔ تاہم ابھی بھی زمان و مکان کے ایک صغاری بلبلے سے انتہائی وزنی کائنات، جو دس ارب کہکشاؤں کی رہائش گاہ ہے، تک جانا ایک بہت بڑی جِست ہے۔ یقیناً اگر ایک بلبلہ بنتا بھی ہے تو وہ پلک جھپکنے میں دوبارہ فنا نہیں ہو جائے گا؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">درحقیقت بلبلے کے لیے بقا حاصل کرنا ممکن ہے مگر اس کے لیے ہمیں کونی افراط (cosmic inflation) کی ضرورت ہے۔<br>
بہت سارے طبیعیات دانوں کا ماننا ہے کہ کائنات کا آغاز انفجارِ عظیم (Big Bang) سے ہوا۔ پہلے پہل کائنات میں موجود تمام مادہ اور توانائی نا قابلِ تصور اصغر نقطے میں مرکوز تھا اور یہ (نقطہ) پھٹ گیا۔ اس کا پتہ بیسویں صدی کہ اس دریافت سے ہوا جو یہ بتاتی ہے کہ کائنات پھیل رہی ہے۔ اگر تمام کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں تو کبھی وہ لازمی طور پر قریب ہوتی ہوں گی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">افراطی نظریہ یہ کہتا کہ انفجارِ عظیم کے فوری بعد کائنات بہ نسبت بعد میں آنے والے وقت کے بہت زیادہ تیزی سے پھیلی۔ اس انوکھے نظریے کو 1980 کی دہائی میں ایم آئی ٹی (MIT) کے ایلن گتھ (Alan Guth) نے پیش کیا اور سٹانفرڈ(Stanford) یونیورسٹی کے آندرے لندے(Andre Linde) نے مزید بہتر بنایا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مرکزی خیال یہ ہے کہ انفجارِ عظیم کے بعد ایک سیکنڈ سے بھی کم دورانیے کے لیے قدریائی پیمانے(quantum sized) کا مکانی بلبلہ بہت تیزی سے پھیلا۔ بہت ہی کم وقت میں یہ نواتی جسامت (size of nucleus)سے ریت کے ذرے کے برابر پہنچ گیا۔بالآخر جب پھیلاؤ سست ہوا تو وہ قُوی میدان(force field) جس نے اس (پھیلاؤ) کو جنم دیا تھا مادہ اور توانائی میں منتقل ہو گیا جس سے آج کائنات بھری پڑی ہے۔ گُتھ افراط کو حتمی مفت ظہرانے کا نام دیتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">عجیب و غریب تو یہ دکھتی ہے مگر افراط حقائق پر بہت خوبصورتی سے پورا اترتی ہے۔خاص طور پر یہ اس چیز کی وضاحت کرتی ہے کہ پس منظری کونی خِرد موجیں آسمان پر تقریباً مکمل یکساں کیوں ہیں۔ اگر کائنات اِس تیزی سے نہ پھیلی ہوتی تو یہ موجیں ٹکروں میں بٹی ہوتیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>کائنات ہموار ہے اور یہ کیوں اہم ہے:</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">افراط نے کونیات دانوں کو وہ وسیلہ بھی فراہم کیا ہے جو انہیں کائنات کی جیومیٹری کو سمجھنے کے لیے درکار تھا۔ یہ سامنے آیا ہے کہ یہ (افراط) اس بات کے ادراک کے لیے بہت اہم ہے کہ کیسے کائنات عدم سے وجود میں آئی۔<br>
آئن سٹائن کا عمومی نظریہ اضافیت ہمیں بتاتا ہے کہ زمان و مکان، جس میں ہم رہتے ہیں، تین مختلف صورتیں اختیار کر سکتا ہے۔ یہ ایک میز کی سطح کی طرح ہموار ہو سکتا ہے۔یہ ایک کرہ کی سطح کی طرح منحنی ہو سکتا ہے اس طرح کی اگر آپ ایک ہی سمت میں بہت دور تک چلتے ہیں تو واپس اسی جگہ پہنچ جائیں گے جہاں سے آپ نے چلنا شروع کیا تھا۔ متبادلاً زمان و مکان ایک پالان(saddle) کی مانند باہر کی جانب منحنا ہو سکتا ہے۔ تو پھر یہ(زمان و مکان) کیسا ہے۔<br>
یہ جاننے کا ایک راستہ ہے۔ آپ کو اپنی سکول کی ریاضی کی جماعت سے یہ یاد ہو گا کہ کسی بھی مثلث میں تینوں زاویوں کا مجموعہ 1800 کے برابر ہوتا ہے۔درحقیقت آپ کے استاد نے ایک اہم نقطہ چھوڑ دیا تھا وہ یہ کہ ایسا صرف ہموار سطح کے لیے ہوتا ہے۔ اگر آپ ایک غُبارے کی سطح پر مثلث بنائیں تو اس کے زاویوں کا مجموعہ 1800سے زیادہ ہو گا۔اس کے برعکس اگر آپ ایک پالان (saddle) جیسی سطح کے اوپر مثلث بنائیں تو اس کے زاویوں کا مجموعہ 1800 سے کم ہو گا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تو یہ جاننے کے لیے کہ کیا کائنات واقعی ہموار ہے ہمیں ایک بہت بڑی مثلث کے زاویوں کا مجموعہ ماپنا ہو گا۔یہ وہ جگہ ہے جہاں پر افراط کردار ادا کرتی ہے۔ اس نے پس منظری کونی خرد موجوں کے سرد اور گرم ٹکروں کی اوسط جسامت معلوم کی۔ان ٹکروں کی پیمائش 2003 میں کی گئی اور اس سے ہیت دانوں کو مثلثٰں چنے میں مدد ملی۔ اس کے نتیجے میں اب ہم جانتے ہیں کہ پیمائش کے ممکنہ اکبر پیمانوں پر کائنات ہموار ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ ثابت ہوا ہے کہ ایک ہموار کائنات بہت اہم ہے کیوں کہ ایک ہموار کائنات ہی عدم سے دجود میں آ سکتی ہے۔<br>
ستاروں اور کہکشاؤں سے لے کر اس روشنی تک جس سے ہم ان کو دیکھتے ہیں، ہر اس چیز کا کہیں نہ کہیں سے آغاز ہوا ہے جو وجود رکھتی ہے۔ہم پہلے ہی جانتے ہیں کہ کوانٹمی پیمانے پر ذرات وجود میں آتے رہتے ہیں۔لہٰذا ہم یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ کائنات میں کچھ بچے کھچے (ذرات) موجود ہوں گے۔لیکن ستارے اور سیارے بنانے کے لیے بہت زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے۔تو کائنات نے اتنی زیادہ توانائی کہاں سے حاصل کی؟ شاید اسے یہ توانائی کہیں سے حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ایسا اس لیے ہے کیوں کہ کائنات میں موجود ہر جسم انجذاب(Gravity) پیدا کرتا ہے جس سے وہ دوسرے اجسام کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔یہ اس توانائی کو متوازن کر دیتا ہے جس کی اسے شروع میں مادہ کو بنانے میں ضرورت پڑی تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ ایک پرانی طرز کے ترازو کی طرح ہے جس کے ایک طرف آپ کوئی بھاری وزن رکھتے ہیں جو دوسری طرف موجود وزن کے ساتھ توازن قائم کرتا ہے۔کائنات کے معاملے میں پیمانے کے ایک طرف مادہ پڑا ہوتا ہے جو دوسری طرف انجذاب سے توازن قائم کرتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہموار کائنات کے لیے طبیعیات دانوں نے حساب لگایا ہے کہ مادہ کی توانائی انجذاب(جس کو کوئی جسم پیدا کرتا) کی توانائی کے برابر ہوتی ہے ۔ لیکن یہ صرف ہموار کائنات کے لیے صحیح ہے۔ اگر کائنات منحنی ہوتی تو یہ(توانائی کا) مجموعی ایک دوسرے کو ختم(cancel) نہ کرتے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>کائنات یا کثیرنات؟ (Universe or Multiverse?)</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس نقطے پر کائنات بنانا قریب قریب سہل لگتا ہے۔کوانٹم میکانیات ہمیں بتاتی ہے کہ عدم قدرتی طور پر غیر مستحکم ہے لہذٰا عدم سے وجود میں آنے والی جِست ناگزیر تھی۔ اور نتیجتاً زمان ومکان کا بلبلہ ایک بھاری صروف کائنات میں پھیل سکتا تھا، جس کے لیے افراط کا شکریہ۔ جیسا کہ کراس کا کہنا ہے کہ طبیعیات کے قوانین جن کو اب ہم جانتے ہیں اس بات کو نمایاں طور پر معقول بناتے ہیں کہ کائنات عدم سے وجود میں آئی—نہ مکان، نہ زمان، نہ ذرات—ایسی کسی بھی چیز سے نہیں جس کو اب ہم جانتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تو ایسا صرف ایک ہی دفعہ کیوں ہوا؟ جب ایک بلبلہ عدم سے وجود میں آیا اور پھول کر ہماری کائنات میں بدل گیا تو باقی بلبلوں کو ایسا کرنے سے کس نے روکا؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">لِنڈے اس کا سادہ مگر حیران کن جواب فراہم کرتا ہے۔وہ قیاس کرتا ہے کہ کائناتیں ہمیشہ سے وجود میں آ رہیں ہیں اور یہ عمل ہمیشہ جاری رہے گا۔ لِنڈے کا کہنا ہے کہ جب کوئی نئی کائنات پھولنا بند کر دیتی ہے تو بھی یہ ایسی سپیس میں گھری ہوتی ہے جو مسلسل پھول(inflate) رہی ہوتی ہے۔یہ پھولتی ہوئی کائنات مزید کائناتوں ،جن کے گرد پھیلنے کے لیے ابھی بھی سپیس موجود ہوتی ہے، کی افزائش کر سکتی ہے۔لہذٰا جب ایک دفعہ افراط شروع ہو تو اسے کائناتوں کا ایک لامتناہی سلسلہ بنانا چاہیے۔لِنڈے اس کو دائمی افراط (eternal inflation)کا نام دیتا ہے۔ہو سکتا ہے ہماری کائنات ایک لامتناہی ساحل پر ریت کا ایک ذرہ ہو۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہو سکتا ہے وہ کائناتیں ہماری کائنات سے بالکل مختلف ہوں۔ممکن ہے پڑوس میں موجود کائنات کی ہماری کائنات کی طرح سپیس کی تین ابعاد – لمبائی، چوڑائی اور اونچائی – کی بجائے پانچ جہتیں ہوں۔ ثقل دس گنا زیادہ قوّی یا ہزار گنا نحیف ہو یا پھر ہو سکتا ہے وہ سِرے سے موجود ہی نہ ہو۔ہو سکتا ہے مادہ یکسر مختلف ذرات سے مل کر بنا ہو۔ لہذٰا یہاں کائناتوں کی ایک تنوع ہو سکتی ہے۔لِنڈے کہتا ہے کہ دائمی افراط نہ صرف ایک حتمی مفت ظہرانہ ہے بلکہ یہ ایک ایسا ظہرانہ ہے جس پر کھانے کی تمام ممکنہ اقسام میسر ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تاہم ابھی تک ہمارے پاس اس کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے کہ دوسری کائناتیں وجود رکھتی ہیں۔لیکن کسی بھی صورت میں یہ “لاشئے کے لیے شکریہ” کو ایک نیا مطلب فراہم کرتیں ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af%d9%90-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa/">وجودِ کائنات</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af%d9%90-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کائنات یا کائناتیں؟</title>
		<link>https://laaltain.pk/%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa-%db%8c%d8%a7-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa%db%8c%da%ba%d8%9f/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa-%db%8c%d8%a7-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa%db%8c%da%ba%d8%9f/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فصی ملک]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 20 Feb 2017 18:51:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Multiverse]]></category>
		<category><![CDATA[Philip Ball]]></category>
		<category><![CDATA[Quantum mechanics]]></category>
		<category><![CDATA[Quantum Physics]]></category>
		<category><![CDATA[Universe]]></category>
		<category><![CDATA[فزکس]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=20230</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">فلپ بال: متوازی کائناتوں کا تصور جو کبھی سائنس فکشن کا حصہ ہوتا تھا اب سائنسدانوں یا کم از کم طبیعیات دانوں—جن میں یہ اہلیت ہے کہ وہ تصورات کو حقیقت کی حدوں تک لے جاتے ہیں-- کے درمیان بھی قابلِ تعظیم بنتا جا رہا ہے۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa-%db%8c%d8%a7-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa%db%8c%da%ba%d8%9f/">کائنات یا کائناتیں؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">فلپ بال گزشتہ بیس برس سے معروف سائنسی جریدے “نیچر” کے مدیر ہیں اور سائنس کے موضوع پر متعدد مضامین کے مصنف ہیں۔ ان کا یہ <a href="http://www.bbc.com/earth/story/20160318-why-there-might-be-many-more-universes-besides-our-own" target="_blank" rel="noopener">مضمون</a> انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urdutext">متوازی کائناتوں کا تصور جو کبھی سائنس فکشن کا حصہ ہوتا تھا اب سائنسدانوں یا کم از کم طبیعیات دانوں—جن میں یہ اہلیت ہے کہ وہ تصورات کو حقیقت کی حدوں تک لے جاتے ہیں– کے درمیان بھی قابلِ تعظیم بنتا جا رہا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">درحقیقت یہاں بہت زیادہ دوسری ممکنہ کائناتیں ہیں۔ طبیعیات دانوں نے کثیرِنات(multiverse) کے لیے بہت سارے امیدوار تجویز کیے ہیں۔ جن میں سے ہر ایک کو طبیعیات کے قوانین کے مختلف پہلو ممکن بناتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مسئلہ یہ ہے کہ ہم ممکنہ طور پر کبھی بھی ان دوسری کائناتوں میں جا کر ان کے وجود کی تصدیق نہیں کر سکتے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا ہم کوئی ایسا راستہ نکال سکتے ہیں جن سے ہم ان تمام کائناتوں کے وجود کو پرکھ سکیں جن کو ہم دیکھ یا چھو نہیں سکتے۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">دنیاؤں کے اندر دنیائیں۔</div>
<div class="urdutext">یہ کہا جاتا ہے کہ ان متبادل کائناتوں میں سے کم از کم کچھ میں ہمارے جڑواں(doppelgangers) ہیں جو بالکل یا تقریباً ہماری ہی طرح کی کائنات میں رہ رہے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ تصور ہماری خودی کو جھنجھوڑتا ہے اور ہمارے تخیل کو بیدار کرتا ہے۔۔بلا شبہ یہی وجہ ہے کہ کثیرِنات کے نظریات کو نا آشنا ہو نے کے باوجود بھی مقبولیت کا درجہ حاصل ہے۔ہم نے متبادل کائناتوں کو فکشن کے کاموں جیسا کہ فلپ کے ڈک کے the man in high castle سے لے کر فلموں جیسا کہ sliding doors تک قبول کر لیا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مذہبی فلسفی میری جین روبنسٹائن(Mary-Jane Rubenstein) 2014 میں لکھی گئی اپنی کتاب بے کنار دنیائیں(Worlds without ends) میں وضاحت کرتی ہیں کہ تصورِ کثیرِنات کے بارے میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سولہویں صدی کے وسط میں کوپرنیکس(Copernicus) نے دلیل دی کہ زمین کائنات کا مرکز نہیں ہے۔ کچھ دہایئوں بعد گلیلیو نے اپنی دوربین سے ایسے ستاروں کو دیکھا جو پیمائش کی حدوں سے باہر تھے یہ کائنات کی وسعت کی ایک جھلک تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">لہٰذا سولہویں صدی کے آواخر میں اطالوی فلسفی گیاردانو برونو (Giordano Bruno) نے یہ شبہ ظاہر کیا کہ یہ کائنات لامتناہی ہےاور اس میں لامتناہی تعداد میں دنیائیں آباد ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_20234" aria-describedby="caption-attachment-20234" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img fetchpriority="high" decoding="async" class="size-full wp-image-20234" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/Giordano-Bruno-laaltain.jpg" alt="سولہویں صدی کے آواخر میں اطالوی فلسفی گیاردانو برونو نے یہ شبہ ظاہر کیا کہ یہ کائنات لامتناہی ہے۔" width="800" height="450" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/Giordano-Bruno-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/Giordano-Bruno-laaltain-300x169.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/Giordano-Bruno-laaltain-768x432.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-20234" class="wp-caption-text">سولہویں صدی کے آواخر میں اطالوی فلسفی گیاردانو برونو (Giordano Bruno) نے یہ شبہ ظاہر کیا کہ یہ کائنات لامتناہی ہے۔</figcaption></figure>
<div class="urdutext">یہ خیال کہ کائنات میں بہت سارے نظامِ شمسی موجود ہیں اٹھارویں صدی میں عام موضوع بن چکا تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بیسویں صدی کے آغاز میں آئرش طبیعیات دان ایڈمنڈ فورنیئر دی البی(Edmund Fournier d’Albe) نے تجویز دی کہ ممکن ہے کہ زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم سائز کی متصل کائناتوں کا لامتناہی سلسلہ موجود ہو۔ اس تناظر میں ایک انفرادی جوہر(atom) ایک حقیقی آباد نظامِ شمسی کی طرح ہو سکتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">آج سائنسدان روسی گڑیا (Russian doll)کثیرِنات کے خیال کو ٹھکراتے ہیں مگر انہوں نے اور بہت سے راستے تجویز کیے ہیں جن میں یہ کثیرِناتیں(Multiverses) وجود پذیر ہو سکتی ہیں۔ ان میں سے پانچ کو اس رہنمائی کے ساتھ یہاں پیش کیا جا رہا ہے کہ وہ کیسی ہو سکتی ہیں۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">بارہ دوزی کائنات (Patchwork Universe)</div>
<div class="urdutext">سادہ ترین کثیرِنات ہماری اپنی ہی کائنات کے لامتناہی سائز کا نتیجہ ہے۔ حقیقت میں ہم نہیں جانتے کہ کیا واقعی کائنات لامحدود ہے مگر ہم اس کو خارج الامکان بھی نہیں کر سکتے۔اگر یہ لامتناہی ہے تو پھر یہ ایسے علاقوں سے مل کے بنی ہوئی ہے جو ایک دوسرے کو دیکھ نہیں سکتے۔ ایسا اس لیے ہے کہ یہ علاقے ایک دوسرے سے اتنے دور ہیں کہ روشنی اس فاصلے کو عبور نہیں کر سکتی۔ہماری کائنات صرف 13۔8 بلین سال پرانی ہے، لہٰذا وہ علاقے جو 13۔8 نوری سال سے زیادہ فاصلے پر ہیں مکمل طور پر منقطع ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تمام اغراض و مقاصد کےلیے یہ علاقے علیحدہ کائناتیں ہیں۔ لیکن ہمیشہ ایسا نہیں رہے گا، روشنی بالآخر ان فاصلوں کو عبور کر لے گی اور کائناتیں آپس میں ضم ہو جائیں گی۔ اگر کائنات حقیقت میں ہمارے جیسی جزیرہ نما کائناتوں کی لامحدود تعداد اپنے اندر رکھتی ہے جن میں ستارےاور سیارے اور مادہ موجود ہے تو دور کہیں لازمی طور پر ہماری زمین کی جیسی بہت ساری دنیائیں ہونی چاہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ ناقابلِ یقین حد تک غیر متوقع لگتا ہے کہ جواہر(atoms) اتفاقاً ایک دوسرے کے قریب آ کر ہماری زمین کی ہوبہونقل (replica)بنا دیں یا پھر ایک ایسی نقل بنائیں جو آپکی جرابوں کے رنگ کے علاوہ ایک جیسی ہو۔لیکن حقیقی لامتناہی دنیاؤں میں ایسی عجیب جگہیں ہونی چاہیں۔ بلکہ بہت ساری ہونی چاہیں۔ اگر ایسا ہے تو تصور سے بالاتر دور کسی جگہ پر میرے جیسا ہی کوئی شخص یہ الفاظ لکھ رہا ہو گا اور سوچ رہا ہو گا کہ ا اس کا مدیر اسے قطعی نظرثانی کا کہنے والا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اسی منطق سے، اس سے بھی دور ہماری ہی کائنات کے جیسی ایک مشاہداتی کائنات ہے۔اس کے فاصلے کا تخمینہ دس کی طاقت نما دس کی طاقت نما ایک سو اٹھارہ((〖10〗^(〖10〗^118 ) میٹر لگایا گیا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا بالکل نہ ہو۔ہو سکتا ہے کائنات لامتناہی نہ ہو۔اور اگر یہ ہو بھی تو ممکن ہے کہ تمام مادہ کائنات کے اس حصے میں مرکوز ہو گیا ہو جہاں ہم ہیں ۔اس حساب سے باقی بہت ساری کائناتیں خالی ہوں گی۔ لیکن ایسا ہونے کی کوئی ظاہری وجہ موجود نہیں ہے۔ اور جیسے جیسے ہم دور دیکھتے جا رہے ہیں ہمیں مادہ کے کم ہونے کے کوئی شواہد نہیں مل رہے۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">افراطی کثیرِنات(the inflationary multiverse)</div>
<div class="urdutext">کثیرِ نات کا دوسرا نظریہ اس خیال سے جنم لیتا ہے کہ ہماری اپنی کائنات کا آغاز کیسے ہوا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">انفجارِعظیم(Big Bang) کے سب سے غالب نقطہِ نظر کے مطابق کائنات کا آغاز ایک صغاری نقطے(infinitesimally small point) سے ہوا اورپھر وہ تقطہ ایک آتشی گولے میں پھیل گیا۔ اس پھیلاؤ کے آغاز کے بعد ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں یہ بہت زیادہ شرح سے اسراع پذیر(accelerated) تھی، روشنی کی رفتار سے بھی کہیں زیادہ۔ یہ دورانیہ افراط(Inflation) کہلاتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">افراطی نظریہ اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ ہم جس جانب بھی دیکھیں ہمیں کائنات اشاری طور پر یکساں کیوں نظر آتی ہے۔ اس سے پہلے کہ آتشی گولہ منجمدہوتا افراط نے اسے کائناتی سکیل تک پھیلا دیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تاہم یہ ابدی حالت(primordial state) ان اتفاقیہ تبدیلیوں کی وجہ سے تغیر پذیر ہوئی جو خود افراط کے وقت پیدا ہوئیں تھیں۔یہ تبدیلیاں(variations) اب پس منظری کائناتی خردموجی شعاعوں (cosmic microwave background radiations) میں محفوط ہیں۔ جو انفجارِ عظیم کے بعد میں بچ جانے والی مدہم روشنی ہے۔ یہ شعاعیں اب ساری کائنات میں پھیل چکی ہیں مگر یہ یکساں نہیں ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سیارچوں پر لگی بہت ساری دوربینوں نے ان تغیرات کی تفصیلات کا نقشہ بنا کر ان کا موازنہ اس سے کیا ہے جس کی پیشین گوئی افراطی نظریہ کرتا ہے۔ یہ مماثلت ناقابلِ یقین حد تک درست ہے،جو اس چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ افراط حقیقت میں وقوع پذیر ہوا۔ یہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انفجارِ عظیم کیسے ہوا، جس سے ہم مناسب طور پر یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ کیا یہ ایک سے زیادہ مرتبہ ہوا؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20235" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-2-laaltain.jpg" alt="multiverse-2-laaltain" width="800" height="450" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-2-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-2-laaltain-300x169.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-2-laaltain-768x432.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<div class="urdutext">موجودہ نقطہِ نظر یہ ہے کہ انفجارِ عظیم (big bang) اس وقت واقع ہوا جب حقیقی فضا(real space) کا ایک ٹکرا ایک دوسری طرح کی فضا میں ظاہر ہوا جسے “باطل خلا (false vacuum)” کہتے ہیں۔ اس فضا کے ٹکرے میں صرف توانائی موجود تھی اور کوئی مادہ موجود نہ تھا۔ پھر یہ ٹکرا ایک بلبلے کی طرح پھولتا گیا۔ لیکن اس نظریے کے مطابق باطل خلا کو بھی افراط سے گزرنا چاہیے جو اس کی بہت زیادہ رفتار سے پھیلائے۔ اسی دوران اس باطل خلا میں نہ صرف ہماری کائنات(جو صرف 13۔8 بلین سال پرانی ہے) بلکہ اور بھی بہت ساری کائناتوں کو یکساں شرح سے پیدا ہونا چاہیے۔<br>
یہ منظر نامہ دائمی افراط(eternal inflation) کہلاتا ہے۔ یہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ وقت میں ہر لمحے لامتناہی کائناتیں پیدا ہوتیں ہیں اور پھیلتی جاتی ہیں۔ لیکن اگر ہم ہمیشہ کے لیے روشنی کی رفتار سے بھی چلیں تو بھی ان تک نہیں پہنچ سکتے کیوں کہ یہ بہت زیادہ رفتار سے ہم سے دور جا رہی ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">برطانوی شاہی ہیئت دان(Astronomer Royal) مارٹن ریز(Martin Rees) کا کہنا ہے کہ افراطی نظریہ چوتھے کوپرنیکسی انقلاب کو ظاہر کرتا ہے۔چوتھی مرتبہ ہمیں آسمانوں میں اپنے درجے کو کم کرنا پڑا ہے۔کوپرنیکس(Copernicus) کے یہ بتانے کے بعد کہ ہماری زمیں بہت سارے دوسرے سیاروں میں سے ایک ہے ہمیں پتہ چلا کہ ہمارا سورج ہماری کہکشاں میں محض ایک ستارہ ہے اور دوسرے ستاروں کے بھی سیارے ہو سکتے ہیں۔ پھر ہم پر انکشاف ہوا کہ ہماری کہکشاں پھیلتی ہوئی کائنات میں بہت ساری کہکشاؤں میں سے ایک ہے۔ اور اب ممکن ہے ہماری کائنات بھی بہت ساری کائناتوں میں سے ایک ہو۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20236" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-3-laaltain.jpg" alt="multiverse-3-laaltain" width="800" height="450" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-3-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-3-laaltain-300x169.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-3-laaltain-768x432.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<div class="urdutext">ابھی ہم منطقی طور پر نہیں جانتے کہ افراطی نظریہ صحیح ہے یا غلط۔تاہم اگر دائمی افراط عظیم انفجاروں(big bangs)کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے میں کثیرِنات (multiverse) کو جنم دیتا ہے تو یہ جدید طبیعیات میں ایک بہت بڑے مشکلے(problem) کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کچھ طبیعیات دان بہت لمبے عرصے سے نظریہِ کل (theory of everything) کی تلاش میں ہیں جو کہ کچھ بنیادی قوانین یا ممکن ہے ایک مساوات پر مشتمل ہو اور اس سے طبیعیات کے باقی تمام اصول اخذ کیے جا سکیں گے۔ لیکن انہوں نے دیکھا کہ معلوم کائنات میں جتنے ذرات ہیں ان کی تعداد سے زیادہ کائناتیں موجود ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">وہ طبیعیات دان جو ان کی کھوج میں رہتے ہیں یہ یقین رکھتے ہیں کہ ایک تصور جو سٹرِنگ نظریہ (string theory) کے نام سے جانا جاتا ہے نظریہِ کل (theory of everything) کا سب سے بہترین امیدوار ہے۔لیکن اس کے تازہ ترین نسخے (latest version) کے بہت زیادہ (ایک کے بعد ٥00 صفر) جوابات(solutions) ہیں۔ ہر جواب اپنے طبیعی قوانین فراہم کرتا ہے اور ہمارے پاس بظاہر کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم ایک کے اوپر دوسرے کو ترجیح دیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">افراطی کثیرِنات ہمیں اس چناو سے چھٹکارہ دلاتی ہے۔ اگر پھیلتی ہوئی باطل خلا میں متوازی کائناتیں کروڑوں سالوں سے پیدا ہو رہی ہیں، تو ہر ایک کے مختلف طبیعی قوانین ہو سکتے ہیں جن کا تعین سترنگ نظریے کے بہت ساروں میں سے کوئی ایک حل(solution) کرے گا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اگر یہ درست ہے تو یہ ہمیں ہماری اپنی کائنات کی ایک عجیب خوبی کی وضاحت کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔<br>
طبیعیات کے قوانین کے بنیادی مستقلوں(fundamental constants) کی قیمتیں زبردست طریقے سے وہی رکھی گئی ہیں جو وجودِزندگی کے لیے ضروری ہیں۔]اس کو فائن ٹیوننگ(fine tuning) کہتے ہیں[</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_20237" aria-describedby="caption-attachment-20237" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-full wp-image-20237" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-4-laaltain.jpg" alt="طبیعیات کے قوانین کے بنیادی مستقلوں کی قیمتیں زبردست طریقے سے وہی رکھی گئی ہیں جو وجودِزندگی کے لیے ضروری ہیں۔" width="800" height="450" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-4-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-4-laaltain-300x169.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-4-laaltain-768x432.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-20237" class="wp-caption-text">طبیعیات کے قوانین کے بنیادی مستقلوں(fundamental constants) کی قیمتیں زبردست طریقے سے وہی رکھی گئی ہیں جو وجودِزندگی کے لیے ضروری ہیں۔</figcaption></figure>
<div class="urdutext">مثال کے طور پر اگر برقناطیسی قوت(electromagnetic force) کی مقدار تھوڑی سی بھی مختلف ہوتی تو جواہر مستحکم نہ ہوتے۔صرف چار فیصد کی تبدیلی ستاروں میں نیوکلیائی ایتلاف(nuclear fusion) کو روک دے گی، ایتلاف وہ عمل ہے جس میں کاربن کے وہ جواہر بنتے ہیں جن سے ہمارے جسم کا زیادہ تر حصہ بنا ہواہے۔ اسی طرح کششِ ثقل اور تاریک توانائی(dark energy) میں ایک نفیس توازن ہے۔ ثقل مادہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے جب کہ تاریک توانائی اسے اور زیادہ شرح سے پھیلاتی ہے۔اوربالکل یہی وہ ضرورت ہے جو ستاروں کا بننا ممکن بناتی ہے اور کائنات کو خودتصادم سے روکتی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس اور بہت ساری دوسری وجوہات کی بنا پر یوں لگتا ہے جیسے کائنات کو ہمارے رہنے کے لیے فائن ٹیونڈ(fine tuned) کیا گیا ہے۔ اس نے بہت سارے لوگوں کو اس شک میں مبتلہ کر دیا ہے کہ اس میں خدا کا ہاتھ شامل ہے۔<br>
تاہم ایک افراطی کثیرِنات جس میں تمام قابلِ فہم قوانین عمل کرتے ہیں ایک متبادل وضاحت بھی پیش کرتی ہے۔<br>
وجود دوست طریقے سے بنائی گئی ہر کائنات میں ذہین مخلوق اپنی خوش بختی کے ادراک کے لیے اپنا سر نوچ رہی ہو گی جب کہ دوسری بہت ساری کائناتوں میں جو مختلف طریقے سے بنائی گئی ہیں کوئی بھی یہ سوال کرنے کے لیے موجود نہیں ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ بشری اصول(anthropic principle) کی مثال ہے، جو یہ کہتا ہے کہ چیزیں جیسی ہیں ان کو ویسا ہی ہونا چاہیے تھا کیوں کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم یہاں موجود نہ ہوتے اور یہ سوال کبھی نہ پیدا ہوتا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بہت سارے طبیعیات دانوں اور فلسفیوں کے قریب یہ دلیل ایک دھوکہ ہے۔ فائن ٹیوننگ(fine tuning) مشکلے کی وضاحت کی بجائے اس سے جان چھڑانے کا ایک راستہ ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">وہ سوال کرتے ہیں کہ ہم ان دعووں کو کیسے جانچ سکتے ہیں؟یقیناً یہ قبول کرنا شکست ماننے کے مترادف ہے کہ اس کی کوئی وضاحت نہیں ہے کہ قوانینِ قدرت جیسے ہیں ویسے کیوں ہیں اور یہ کہ یہ دوسری کثیرِنات میں مختلف ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس فائن ٹیوننگ(fine tuning) کی کوئی اچھی وضاحت نہیں ہے تو کوئی بھی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ ان کو خدا نے اسےایسے سیٹ کیا ہے۔ماہر فلکی طبیعیات برنارڈ کر (Bernard Carr) نے اسے دوٹوک الفاظ میں یوں بیان کیا ہے کہ اگر آپ خدا سے چھٹکارا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس کثیرِنات(multiverse) ہونی چاہیے۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">کائناتی فطری چناؤ : (Cosmic Natural Selection)</div>
<div class="urdutext">ایک اور طرح کی کائنات بشری اصول(anthropic principal) کی مدد لیے بغیر فائن ٹیوننگ(fine tuning) کے مشکلے کا حل فراہم کرتی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس کی بنیاد واٹرلو کینیڈا(waterloo Canada) میں موجود پیری میٹر انسٹیٹیوٹ کے لی سمولن(Lee Smolin of Perimeter institute) نے ڈالی۔ اس نے 1992 میں تجویز دی کہ ہو سکتا ہے کائنات بھی زندہ چیزوں کی طرح تولید کرتی اور ارتقا پاتی ہو۔زمین پر فطری چناؤ کارآمد خصلتوں جیسا کہ تیز ڈور اور مخالف انگوٹھوں کے کے پنپنے میں مدد دیتا ہے۔سمولن دلیل دیتا ہے کہ کثیرِنات میں ایسا دباؤ موجود ہو سکتا ہے جو ہمارے جیسی کائناتوں کے بننے میں مدد دے۔وہ اسے کائناتی فطری چناؤ کا نام دیتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سمولن کا خیال یہ ہے کہ ایک مادر کائنات (mother universe)طفل کائناتوں(baby universes) کو جنم دیتی ہے جو اس کے اندر بنتی ہیں۔ مادر کائنات ایسا صرف اس وقت کر سکتی ہے جب اس کے اندر ثقب اسود(black holes) موجود ہوں۔<br>
ایک ثقب اسود اس وقت بنتا ہے جب کوئی ستارہ اپنے ہی انجذاب کے تحت منہدم ہو کر اپنے تمام جوہروں کو اس وقت تک بھینچتا ہے جب تک وہ لامتناہی کثافت کو نہ پہنچ جائیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20239" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-5-laaltain.jpg" alt="multiverse-5-laaltain" width="800" height="450" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-5-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-5-laaltain-300x169.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-5-laaltain-768x432.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<div class="urdutext">1960 کی دہائی میں سٹیفن ہاکنگ اور راجر پینروز (Stephen Hawking and Roger Penrose) نے نشاندہی کی کہ یہ انہدام ایک انفجارِ عظیم کی طرح ہی ہے جس کی سمت الٹ دی گئی ہو۔ اس سے سمولن کو خیال آیا کہ ایک ثقب اسود انفجارِ عظیم بن سکتا ہے جس نے اپنے اندر ایک پوری نئی کائنات کی افزائش کر رکھی ہو۔ اگر ایسا ہے تو اس نئی کائنات کی طبیعی خصوصیات اس کائنات سے تھوڑی مختلف ہوں گی جس نے اس ثقب اسود کو جنم دیا۔یہ ایک بے ترتیب جینیاتی تغیر کی طرح ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ بچے اپنے والدین سے مختلف ہوں گے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اگر کسی طفل کائنات کے طبیعی قوانین ایسے ہوں جو جوہروں، ستاروں اور زندگی کے بننے کی اجازت دیں تو اس میں لازمی طور پر ثقب اسود (Black holes) بھی موجود ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کی مزید اپنی طفل کائناتیں ہو سکتی ہیں۔وقت کے ساتھ یہ کائناتیں ان کائناتوں سے زیادہ عام ہو جائیں گی جن میں ثقب اسود نہیں ہوں گے اور جو افزائش نسل نہیں کر سکتیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ ایک واضح تصور ہے کیوں کہ پھر ایسی صورت میں ہماری کائنات کو محض ایک خالص اتفاق کا نتیجہ نہیں ہونا پڑے گا۔اگر ایک فائن ٹیونڈ(fine tuned) کائنات بہت ساری دوسری کائناتوں کے ساتھ جو فائن ٹیونڈ(fine tuned) نہیں ہیں اتفاقاً پیدا ہو سکتی ہے تو کائناتی فطری چناؤ کا مطلب ہو گا کہ آہستہ آہستہ فائن ٹیونڈ(fine tuned) کائناتیں میعار بن جائیں گی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20240" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-6-laaltain.jpg" alt="multiverse-6-laaltain" width="800" height="450" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-6-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-6-laaltain-300x169.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-6-laaltain-768x432.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<div class="urdutext">اس خیال کی تفصیلات ابھی دھندلی ہیں مگر سمولن اس کے ایک بہت بڑے فائدے کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم اسے پرکھ سکتے ہیں۔مثال کے طور پر اگر سمولن صحیح ہے تو ہماری کائنات کو ثقب اسود(black hole) بنانے واسطے خاص طور پر موزوں ہونا چاہیے۔ لیکن یہ اس سے بھی زیادہ تقاضہ طلب کسوٹی ہے کہ اس کو جوہروں کے وجود کی حمایت کرنی چاہیے۔لیکن ابھی تک اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ایسا ہی معاملہ ہے، اس بات کو تو چھوڑ ہی دیں کہ ثقب اسود اپنے اندر کائنات کی افزائش کر سکتا ہے۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">برین (جھلی) کثیرِنات(the brane multiverse)</div>
<div class="urdutext">جب 1920 کی دہائی میں آئن سٹائن کا عمومی نظریہ اضافیت عام لوگوں کے زیر بحث آنے لگا تو بہت ساروں نے چوتھی جہت(fourth dimension) کے متعلق قیاس آرائیاں کی جس کو آئن سٹائن نے متعارف کرایا تھا۔ اس میں کیا ہو سکتا ہے؟ کیا اس میں ایک مخفی کائنات ہو سکتی ہے؟ یہ فضول سوالات تھے۔آئن سٹائن ایک نئی جہت کا تصور نہیں دے رہا تھا، وہ صرف یہ کہہ رہا تھا کہ مکان (space) کی باقی تین ابعاد(dimensions) کی طرح وقت بھی ایک بعد ہے۔اور یہ چاروں ایک چادر میں بنی ہوئی ہیں جو زمان و مکاں (spacetime)کہلاتی ہے، مادہ جس کا حلیہ بگاڑ کر انجذاب(gravity) پیدا کرتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تاہم دوسرے طبیعیات دانوں نے پہلے سے ہی سپیس(space) کی نئی جہتوں(dimensions) کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا تھا۔مخفی ابعاد کے بارے میں پہلا اشارہ نظری طبیعیات دان تھیوڈور کیلوزا(Theodor Kaluza) کے کام سے ملا۔ 1921 میں لکھے گئے ایک تحقیقی مقالے میں اس نے ثابت کیا کہ اگر آئن سٹائن کی عمومی اضافیت کی مساواتوں میں ایک اور بعد ملا دی جائے تو ہمیں ایک زائد مساوات حاصل ہوتی ہے جو ضیا(light) کےوجود کی پیشین گوئی کرتی ہے۔<br>
یہ کافی معقول لگا پر پھر سوال یہ تھا کہ یہ زائد جہت ہے کہاں؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">1926 میں سویڈش طبیعیات دان آسکر کلائن(Oscar klein) نے ایک جواب پیش کیا۔ ہو سکتا ہے پانچویں بعد ناقابلِ تصور صغیر فاصلوں میں لپٹی ہو(curled up)۔جو کہ ایک سینٹی میٹر کا ایک بلین ٹریلین ٹریلین واں حصہ ہے۔<br>
ہو سکتا ہے کہ لپٹی بعد(curled up dimension) کا تصور عجیب لگے پر حقیقت میں یہ ایک معروف مظہر ہے۔ایک باغ نلی(garden hose) سہ ابعادی(three dimensional) جسم ہے مگر بہت زیادہ فاصلے سے دیکھنے پر یہ یک جہتی(one dimensional) معلوم ہوتی ہے کیوں کہ باقی دونوں جہتیں بہت چھوٹی ہیں۔اسی طرح کلائن(Klein) کی زائد جہت، جسکو ہم محسوس نہیں کرتے، کو سمجھنے میں بہت کم وقت لگتا ہے۔تب سے طبیعیات دان کیلوزا اور کلائن کے تصورات کو سترنگ نظریے میں بہت آگے تک لے کر گئے ہیں۔ یہ بنیادی ذرات کی وضاحت سترنگز (strings)کے اہتزازات(oscillations) کی صورت میں کرنے کی کوشش کرتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">جب 1980 میں سترنگ نظریے(string theory) کو مرتب کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ صرف زائد ابعاد(extra dimensions) کی موجودگی میں ہی کام کر سکتی ہے۔سترنگ نظریے کا جدید نسخہ،جو ایم نظریہ(M theory) کہلاتا ہے، میں سات مخفی ابعاد ہیں۔مزید یہ کہ ان ابعاد کو منضبط (compact) ہو نے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ یہ پھیلے ہوئے علاقے(extended regions) ہو سکتے ہیں جو جھلیاں(branes) کہلاتے ہیں اور ممکن ہےیہ کثیرجہتی(Multi-dimensional) ہوں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20241" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-7-laaltain.jpg" alt="multiverse-7-laaltain" width="800" height="450" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-7-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-7-laaltain-300x169.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-7-laaltain-768x432.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<div class="urdutext">ایک جھلی(brane) ایک مکمل کائنات کے چھپنے کے لیے معقول جگہ ہو سکتی ہے۔ایم تھیوری مختلف ابعاد کی جھلیوں(branes) کی کثیرِنات ہے جو آپس میں کاغذ کے گڈھی (stack of papers) کی طرح رہتی ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اگر یہ بات سچ ہے تو ہمارے پاس ذرات کی ایک نئی جماعت ہونی چاہیے جو کیلوزا کلائن(Kaluza-Klein) ذرات کہلاتے ہیں۔نظری طور پر ہم ان کو عظیم ثقیلہ تصادم گر(large hadron collider) جیسے اسراع گردوں(accelerator) میں بنا سکتے ہیں۔ان کے بہت واضح نشانیاں ہوں گی کیوں کہ ان کے میعارِ حرکت(momentum) کی کچھ مقدار مخفی ابعاد میں چلی جائے گی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ جھلی دنیائیں(brane worlds) ایک دوسرے سے جداجدا رہتی ہیں کیوں کہ تجاذب جیسی قوتیں ان کے درمیان سے نہیں گزرتی۔لیکن اگر دو جھلیاں ٹکراتی ہیں تو نتائج کافی شاندار ہو سکتے ہیں۔قرین قیاس ہے کہ ایسے ہی کسی تصادم سے ہمارے اپنے انفجارِ عظیم(big bang) کا آغاز ہوا ہو۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ ہو سکتا ہے تجاذب جھلیوں میں سے گزر جاتی ہو۔یہ بہاو اس چیز کی وضاحت کر سکتا ہے کہ بنیادی قوتوں میں تجاذب اتنا نحیف کیوں ہے۔جیسا کہ ہاورڈ یونیورسٹی کی لیزا رینڈل(Lisa Randall) کا کہنا ہے کہ اگر تجاذب زائد ابعاد (extra dimensions) پر پھیلی ہوئی ہو تو اس کی قوت کافی نحیف ہو گی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20242" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-8-laaltain.jpg" alt="multiverse-8-laaltain" width="800" height="450" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-8-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-8-laaltain-300x169.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-8-laaltain-768x432.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<div class="urdutext">1999 میں رینڈل اور اس کے ہم منصب رامن سندرم (Raman Sundrum) نے تجویز دی کہ جھلیاں نہ صرف تجاذب رکھتی ہیں بلکہ یہ سپیس کو منحنیٰ کر کے اسے پیدا کرتی ہیں۔نتیجتاً اس کا مطلب ہے کہ ایک جھلی تجاذب کو مرتکز کرتی ہے جس کی وجہ سے قریبی دوسری جھلی میں یہ نحیف دکھائی دیتی ہے۔یہ اس چیز کی بھی وضاحت کرتا ہے کہ ہم کسی لامحدود زائد جہتوں والی جھلی پر ان کو محسوس کیے بنا کیسے رہ سکتے ہیں۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">کوانٹم کثیرِنات(the Quantum Multiverse)</div>
<div class="urdutext">نظریہِ کوانٹم میکانیات سائنس کےکامیاب ترین نظریات میں سے ایک ہے۔یہ چھوٹی چیزوں جیسا کہ جوہر اور اس کے جزوِترکیبی ذرات کے رویوں کی وضاحت کرتا ہے۔یہ سالموں کی اشکال سے لے کر مادہ اور ضیا کے تعاملات تک ہر طرح کے عوامل کی پیشین گوئی بہت درستی سے کر سکتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کوانٹم میکانیات کے مطابق ہر ذرے کے ساتھ ایک موج منسلک ہوتی ہے جس کو ایک ریاضیاتی مساوات سے بیان کیا جاتا ہے جو موجی تفاعل(wave function) کہلاتا ہے۔موجی تفاعل کی سب سے مضبوط خوبی یہ ہے کہ یہ کسی بھی کوانٹم ذرے کو ایک ہی وقت میں بہت زیادہ حالتوں میں رہنے کی اجازت دیتا ہے۔یہ عمل انطباق(superposition)کہلاتا ہے۔لیکن جب ہم اس ذرے کی کسی بھی طرح سے پیمائش کرتے ہیں تو یہ انطباقات فنا ہو جاتے ہیں۔مشاہدہ اس ذرے کو کوئی ایک حالت پسند کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔پیمائش کے دوران انطباق سے کسی ایک حالت میں آنا “موجی تفاعل کا فنا ہونا” کہلاتا ہے۔ مسلہ یہ ہے کہ اس فنا کے عمل کو کوانٹم میکانیات سے بیان نہیں کیا جا سکتا اس لیے کوئی نہیں جانتا کہ یہ کیسے اور کیوں ہوا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">1957میں لکھے اپنے ڈاکٹری کے مقالے میں امریکی طبیعات دان ہف ایوریٹ(Hugh Everett) نے تجویز دی کہ ہمیں موجی تفاعل کے انہدام کی ناموزوں فطرت کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایوریٹ نے تجویز دی کہ جب چیزوں کی پیمائش یا مشاہدہ کیا جاتا ہے تو وہ بسیار حالتوں سے ایک حالت میں نہیں جاتیں بلکہ موجی تفاعل میں موجود تمام ممکنات برابر کی حقیقت رکھتی ہیں اور جب ہم پیمائش کرتے ہیں تو ہم ان میں سے صرف ایک حقیقت کو دیکھ سکتے ہیں حالانکہ باقی بھی وجود رکھتی ہیں۔ یہ کوانٹم میکانیات کی “کثیر دنیاوی تاویل(Many worlds interpretation)” کہلاتی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ایوریٹ اس بارے میں واضح نہیں تھا کہ یہ باقی حالتیں کہاں پائی جاتی ہیں۔لیکن 1970 کی دہائی میں طبیعات دان برائس دی وٹ(Bryce de Witt) نے دلیل دی کہ ہر متبادل نتیجے کو ایک متوازی حقیقت(دوسری دنیا) میں موجود ہونا چاہیے۔فرض کرو آپ برقیے(electron) کا راستہ دیکھنے کا ایک تجربہ کرتے ہیں۔ اس دنیا میں وہ ایک راستے پر چلتا ہے مگر ایک دوسری دنیا میں وہ کوئی اور راستہ اختیار کرے گا۔اگر ایسا ہے تو پھر برقیے کے گزرنے کے لیے آپ کو ایک متوازی پیمائشی سامان کی ضرورت ہو گی۔آپ کو ایک اپنے ہی متوازی جڑواں کی بھی ضرورت پڑے گی تا کہ وہ الیکٹران کی پیمائش کر سکے۔درحقیقت آپ کو اس الیکٹران کے گرد ایک پوری متوازی کائنات کی ضرورت ہو گی جو ہر طرح سے آپ کی کائنات کے جیسی ہو گی سوائے اس کے کہ اس میں الیکٹران کسی دوسری جگہ جائے گا۔قصہِ مختصر یہ کہ اگر آپ موجی تفاعل کو منہدم ہونے سے بچانا چاہتے ہیں توآپ کو ایک اور کائنات بنانا پڑے گی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20244" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-9-laaltain.jpg" alt="multiverse-9-laaltain" width="800" height="450" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-9-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-9-laaltain-300x169.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-9-laaltain-768x432.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<div class="urdutext">جب ہم پیمائش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو تصویر اور مبالغہ آرا ہو جاتی ہے۔ دی وِٹ کے مطابق کسی ستارے میں، کسی کہکشاں میں یا دور کسی کائنات میں ہونے والی کوانٹمی تبدیلی زمین پر ہماری مقامی دنیا کو بہت زیادہ نقلوں(copies) میں تقسیم کر رہی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہر کوئی ایوریٹ کی بسیار دنیاوی تاویل کو ایسے نہیں دیکھتا۔ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ ایک ریاضیاتی آسائش ہے اور ہم متوازی کائناتوں کے مندرجات کے بارے میں کوئی بھی معانی خیز رائے نہیں دے سکتے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">لیکن دوسرے لوگ اس تصور کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں کہ جب بھی کوئی کوانٹمی پیمائش کی جاتی ہے تو آپ کے لاتعداد جڑواں جنم لیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ چونکہ کوانٹم نظریہ آپ کو صحیح نتائج دیتا ہے لہٰذاکوانٹم کثیرِنات حقیقی ہونی چاہیے کیوں کہ کوانٹم نظریہ اس کا مطالبہ کرتا ہے ۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">آپ یا تو اس دلیل کو مان لیں گے یا نہیں۔ لیکن اگر آپ اسے مان لیتے ہیں تو آپ کو کچھ پریشان کر دینے والی چیز کو بھی ماننا پڑے گا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20245" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/schrodingers-cat-laaltain.jpg" alt="schrodinger's-cat-laaltain" width="800" height="450" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/schrodingers-cat-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/schrodingers-cat-laaltain-300x169.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/schrodingers-cat-laaltain-768x432.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<div class="urdutext">دوسری متوازی کائناتیں جیسا کہ وہ جو دائمی افراط(eternal inflation) میں پیدا ہوئیں، حقیقت میں دوسری کائناتیں ہیں۔وہ زمان اور مکان میں یا دوسری ابعاد میں کسی اور جگہ اپنا وجود رکھتی ہیں۔ممکن ہے وہاں آپ کی ہو بہو نقلیں موجود ہوں، پر وہ نقلیں مختلف ہوں گی بالکل ایسے جیسے کوئی جسم کسی دوسرے براعظم میں رہ رہا ہو۔<br>
اس تناظر میں کثیر دنیاوی تاویل کی دوسری کائناتیں(universes of many worlds interpretation) سپیس کی دوسری ابعاد یا مقامات میں نہیں ہیں۔بلکہ وہ بالکل یہیں ہیں اور ہماری کائنات کے ساتھ منطبق(superimposed) ہوئی ہیں لیکن نہ تو وہ نظر آتی ہیں اور نہ ہی قابلِ رسائی ہیں۔ اور ان میں جو آپ کے جڑواں موجود ہیں وہ حقیقی معنوں میں آپ ہی ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">درحقیقت “آپ” کا کوئی معانی خیز وجود ہی نہیں ہے۔ “آپ” ہر لمحے مضحکہ خیز تعداد میں تقسیم ہو رہے ہیں۔اس کے لیے آپ ان تمام کوانٹمی واقعات(quantm events) کا تصور کیجیے جو اس وقت واقع ہوتے ہیں جب کوئی برقی اشارہ(electrical signal) آپ کے دماغ میں ایک عصبیے (neuron) کے ساتھ سفر کرتا ہے۔ “آپ” ایک ہجوم میں گم ہو جاتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">دوسرے الفاظ میں ایک خیال جو ریاضیاتی آسانی کے طور پر شروع ہوا تھا یہ بتاتا ہے کہ انفرادیت جیسی کسی شئے کاکوئی وجود نہیں ہے۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">کثیرِنات کی جانچ(Testing the multiverse)</div>
<div class="urdutext">متوازی کائناتوں کے عجیب مضمرات کو مدِنظر رکھتے ہوئے آپ کے ذہن میں ان کے وجود پر شک جائز ہے۔لیکن ہم کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ کیا عجیب ہے اور کیا نہیں؟ سائنسی تصورات تجرباتی جانچ سے پروان چڑھتے ہیں یا ختم ہو جاتے ہیں نہ کہ اس سے کہ ہم ان کو لے کر کیسا محسوس کرتے ہیں۔ اور یہ ایک مسلہ ہے۔ ایک متبادل کائنات ہماری اپنی کائنات سے علیحدہ ہے اور تعریف کی حد تک یہ ہماری نظر اور پہنچ سے باہر ہے۔ قصہ ِ تمام یہ کہ کثیرِنات کے نظریات کی جانچ دوسری دنیاؤں کی تلاش سے نہیں ہو سکتی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اگرچہ دوسری کائناتوں کا براہِ راست مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا تاہم یہ ممکن ہے کہ ایسے ثبوت تلاش کر لیے جائیں جو ان کے وجود کے حق میں دیے جانے والے دلائل کی توثیق کرتے ہوں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مثال کے طور پر ہم انفجارِ عظیم (big bang) کے افراطی نظریے(inflation theory) کے لیے بہت ٹھوس ثبوت تلاش کر سکتے ہیں جو افراطی کثیرِنات (inflationary multiverse) کے مسلے کو( ثابت کیے بنا ) کافی تقویت بخشیں گے۔ کچھ کونیات دانوں(Cosmologists) نے تجویز دی ہے کہ افراطی کثیرِنات کی زیادہ براہِ راست طریقے سے جانچ کرنا بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری اور ایک اور پھیلتی ہوئی کائنات کے درمیان تصادم پس منظری کائناتی خردموجی شعاعوں (cosmic microwave background radiations) پر قابلِ پیمائش اثرات چھوڑے گا اور اگر ہم اس کے قریب ہوئے تو اس کو دیکھ سکیں گے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20246" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-10-laaltain.jpg" alt="multiverse-10-laaltain" width="800" height="450" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-10-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-10-laaltain-300x169.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/02/multiverse-10-laaltain-768x432.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<div class="urdutext">اسی طرح عظیم ثقیلہ تصادم گر(large hadron collider) کے لیے جو تجربات سوچے گئے ہیں وہ زائد ابعاد(extra dimensions) اور ان ذرات کو تلاش کر سکتے ہیں جن کی پیشین گوئی جھلی دنیاوی نظریہ(braneworld theory) کرتا ہے۔<br>
کچھ کا یہ کہنا ہے کہ تجرباتی تصدیق کو بڑھا چڑھا کے پیش کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم کسی بھی سائنسی تصور کی معقولیت کا اندازہ دوسرے طریقوں سے بھی لگا سکتے ہیں جیسا کہ کیا اس کی بنیاد واضح منطق پر رکھی گئی ہے جو ایسے مقدمہِ تمہید(premises) سے جنم لیتا ہو جس کومشاہداتی امداد حاصل ہو۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">آخر میں ہم شماریاتی پیشین گوئی بھی کر سکتے ہیں۔مثال کے طور پر ہم افراطی کثیرِنات کے نظریے کو استعمال کرتے ہوئے بہت ساری کائناتوں میں طبیعیاتی مستقلوں(physical constants) کی قیمتوں کا اندازہ لگا کر یہ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ ہمارے والی قیمتوں کے قریب ہیں یا نہیں۔ ان بنیادوں پر ہمارے پاس کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم کثیرِنات میں خود کا خاص تصور کریں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ کسی بھی طور بہت عجیب نظر آتا ہے کہ ہم جس طرف بھی دیکھیں یہ کائنات پھیلتی ہوئی نظر آتی ہے۔۔ طبیعیات دان میکس ٹیگمارک(Max Tegmark) کا کہنا ہے کہ ایسا نظریہ بنانا بہت مشکل ثابت ہوا ہے جو بالکل ایسی کائنات دے جیسی ہم دیکھتے ہیں” اس کے باوجود یہ واضح نہیں ہےکہ آیا اخباروں کی سرخیاں مستقبل قریب میں کسی دوسری کائنات کی ایجاد کی خبر دیں گی۔فی الحال یہ تصورات طبیعیات اور مابعدالطبیعیات کی سرحد پر موجود ہیں۔<br>
کسی بھی ثبوت کی غیر موجودگی میں ذیل میں مختلف کثیرِنات کے امکانات کی درجہ بندی ہے۔ زیادہ ممکنہ کثیرِنات کو سب سے پہلے رکھا گیا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>بارہ دوزی کائنات:</strong> اگر ہماری کائنات حقیقت میں لامحدود اور یکساں ہے تو پھر بارہ دوزی کائنات سےجان چھڑانابہت مشکل ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>افراطی کثیرِنات:</strong> اگر افراطی نظریہ صحیح ہے تو افراطی کائنات زیادہ ممکنہ ہے اور فی الحال افراط(inflation) انفجارِ عظیم (Big Bang) کی ہماری سب سے اچھی وضاحت ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>کائناتی فطری چناو:</strong> ایک زبردست خیال ہے مگر اس میں بہت زیادہ تصوراتی طبیعیات موجود ہے اور بہت سارے ایسے سوالات ہیں جن کے جواب موجود نہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>جھلی دنیاؤں:</strong> کا نظریہ اور زیادہ تصوراتی ہے اور اس کا وجود تبھی ممکن ہے جب زائد ابعاد کا وجود ممکن ہو اور ابھی اس کا کوئی براہِ راست ثبوت نہیں ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>کوانٹم کثیرِنات:</strong> بحث کی حد تک کوانٹم نظریے کی سادہ تریں تاویل ہے مگر یہ بہت مبہم ہے اور انفرادیت کے ایک غیر مربوط نقطہِ نظر کی طرف لے جاتی ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa-%db%8c%d8%a7-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa%db%8c%da%ba%d8%9f/">کائنات یا کائناتیں؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa-%db%8c%d8%a7-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa%db%8c%da%ba%d8%9f/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نظریہ کثرتِ کائنات</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b8%d8%b1%db%8c%db%81-%da%a9%d8%ab%d8%b1%d8%aa%d9%90-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b8%d8%b1%db%8c%db%81-%da%a9%d8%ab%d8%b1%d8%aa%d9%90-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد علی شہباز]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 16 Jan 2016 12:06:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Inflation theory]]></category>
		<category><![CDATA[Multiverse]]></category>
		<category><![CDATA[Quantum Physics]]></category>
		<category><![CDATA[String Theory]]></category>
		<category><![CDATA[Theory of Relativity]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=14563</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">ہماری کائنات کے علاوہ دیگر اربوں کھربوں کائناتیں موجود ہیں اور ان میں سے ہر کائنات کے قوانین اور ان کے تمام خصائل بشمول وہاں کی مخلوقات حقیقی وجود رکھتے ہیں اسی نظریے کو کثرت کائنات (Multiverse) کا نظریہ کہا جاتا ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b8%d8%b1%db%8c%db%81-%da%a9%d8%ab%d8%b1%d8%aa%d9%90-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa/">نظریہ کثرتِ کائنات</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="left2pullquote">کائنات کیا ہے؟ اس کی ماہیت کیا ہے؟ کیا یہ کائنات ہمیشہ سے ہے؟ کیا یہ کائنات کبھی ختم بھی ہوگی؟ یہ اور ان جیسے دیگر بہت سے سوالات انسان کو ہمیشہ غوروفکر کرنے پر مجبور کرتے آئے ہیں۔</div>
<div class="urdutext">کائنات کیا ہے؟ اس کی ماہیت کیا ہے؟ کیا یہ کائنات ہمیشہ سے ہے؟ کیا یہ کائنات کبھی ختم بھی ہوگی؟ یہ اور ان جیسے دیگر بہت سے سوالات انسان کو ہمیشہ غوروفکر کرنے پر مجبور کرتے آئے ہیں۔ مختلف ادوار کے انسان اپنے اپنے انداز اور طریقوں سے کائنات کو جاننے میں مصروف رہے ہیں۔ انسان ابتدا ہی سے کائنات کے ساتھ اپنا ایک تعلق استوار کرنا چاہتا ہے۔ اس جذبے نے کبھی تو انسان کو توہمات اور مذاہب کی نمو میں مدد دی اور کبھی فلسفیوں اور دانشوروں کے نظریات نکھارنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ لیکن ایک بات جو کبھی نہ کہی گئی اور نہ سنی گئی اور نہ ہی کبھی اس پر سوال اٹھا یا گی، وہ سوال آج سائنس اٹھانے میں پیش پیش ہے۔ بات یہ ہے کہ انسان نے کائنات کے متعلق جو بھی نظریہ تخلیق کیا ہے یا جو بھی سوال اٹھایا ہے اس میں شاید لاشعوری طور پر انسان اس کائنات کو جس میں وہ رہتا ہے ہمیشہ ایک واحد شے کے طور پر دیکھتا آیا ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ انسان مختلف جہانوں اور دنیاﺅں کے وجود کا قائل بھی رہا ہے۔ اس جہان کے علاوہ دیگر جہانوں کا تصور زیادہ تر غیر سائنسی اور ماوراءالطبیعی بنیادوں پر ہی استوار کیا جاتا رہا ہے۔ ایسی مخلوقات کا تذکرہ بھی ملتا ہے کہ انسان نے ان کو نہ کبھی دیکھا اور نہ ہی ان کے وجود پر کوئی سیر حاصل بحث موجود ہے۔ ان دیگر جہانوں کا تذکرہ انسان کی تاریخ میں شاید اس بات کی دلیل ہے کہ انسان تنہائی سے خائف ہوتا ہے۔ اس لیے وہ خود کو کائنات میں تنہا نہیں دیکھنا چاہتا اور یوں وہ ایسے جہانوں کا تصور بنا لیتا ہے جن کے لیے کوئی واضح ثبوت مہیا نہیں ہوتے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس دور میں ایسے جہانوں کا وجود ایک سائنسی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا اور یوں دیگر مخلوقات کا مسئلہ ایک سائنسی سوال کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں موجود فلکیاتی طبیعات کے ماہرین ایسے جہانوں اور ایسی مخلوقات کی کھوج میں سرگرم نظر آتے ہیں۔ اپنی اس کھوج کو سائنسدان Extra Terrestrial Intelligenceکے نام سے منسوب کرتے ہیں۔ لیکن ہمارا موجودہ موضوع ان دیگر جہانوں کی تلاش سے متعلق نہیں ہے۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ دلچسپ اور حیرت انگیز سوال ہے جو آج کی سائنس میں باقاعدہ ایک تحقیق کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ “کیا اس کائنات کے علاوہ بھی دیگر کائناتیں موجود ہیں، ایسی کائناتیں جو ہماری کائنات سے قدرے مختلف ہوں اور ان کے قوانین یہاں کے قوانین سے بالکل برعکس ہوں؟” یہ وہ سوال ہے جسے سائنسی اصطلاح میں Multiverse Theory کے نام سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔ اس سوال کے پس منظر میں کچھ سائنسی نظریات اور دریافتوں کا جان لینا نامناسب نہ ہوگا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">اس وقت دنیا بھر میں موجود فلکیاتی طبیعات کے ماہرین ایسے جہانوں اور ایسی مخلوقات کی کھوج میں سرگرم نظر آتے ہیں۔ اپنی اس کھوج کو سائنسدان Extra Terrestrial Intelligenceکے نام سے منسوب کرتے ہیں۔</div>
<div class="urdutext">1929ء میں اڈون ہبل نامی سائنسدان نے خوردبین کی مدد سے دور دراز کی کہکشاﺅں کا مشاہدہ کیا اور اپنے تجربات کی روشنی میں ایک انتہائی اہم راز دریافت کیا۔ اس نے دیکھا کہ جو کہکشائیں ہم سے جتنی دور ہیں وہ ہم سے مزید اتنی رفتار سے دور تر چلی جارہی ہیں۔ اس کی دریافت نے برسوں پرانا نظریہ غلط ثابت کر دیا کہ کائنات جامد حالت میں موجود ہے اور شاید ہمیشہ سے اسی طرح موجود تھی۔ ہبل کے مطابق کائنات نہ صرف متحرک ہے بلکہ وہ ہر لمحہ وسعت پذیر ہورہی ہے۔ لیکن اس وقت کی سائنس یہ تقاضا کرتی تھی کہ کائنات کا یہ پھیلاو وقت کے ساتھ سست ہوتا رہے گا۔ بالکل ویسے ہی جیسے آپ کوئی بھی شے زمین کی سطح سے اوپر پھینکیں تو اس کی رفتار سست ہوتی جاتی ہے اور بالآخر وہ رک جاتی ہے اور پھر کشش ثقل کی وجہ سے واپس زمین کی طرف گرجاتی ہے۔ اسی طرح اگر مختلف کہکشائیں ایک دوسری سے دور ہوتی جارہی ہیں تو ان کے دور ہونے کی رفتار بھی سست ہوتی جائے گی اور بالآخر وہ رکیں گی اور یوں دوبارہ واپس ایک دوسرے کی طرف گرنے لگیں گی اور کائنات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اسے Big Crunch کہا جاتا ہے۔<br>
1990ءکی دہائی میں کچھ ماہرین فلکیات نے ایک انوکھا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے خوردبین کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کہکشاوں کے پھیلاو کی رفتار کی شرح میں کس قدر فرق آیا ہے۔ اپنے اس مشاہدے کے نتیجے میں انہیں ایک نہایت حیران کن حقیقت سے واسطہ پڑا۔ وہ یہ کہ مخلتف کہکشاوں کے پھیلاو کی رفتار کی شرح کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے۔ یعنی کہکشائیں ایک اسراع پذیر حالت میں اک دوجے سے دور ہوتی جارہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کوئی قوت ان کہکشاوں کو مسلسل ایک دوسرے سے ہر لمحہ بڑھتی ہوئی رفتار سے دور کر رہی ہے۔ اس حیران کن دریافت پر 2011ءکا فزکس کا نوبل انعام ان ماہرین فلکیات Saul Perlmutter , Adam Riess اور Brian Schmidt کو دیا گیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">انیس سو نوے کی دہائی میں کچھ ماہرین فلکیات نے ایک انوکھا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے خوردبین کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کہکشاوں کے پھیلاو کی رفتار کی شرح میں کس قدر فرق آیا ہے۔</div>
<div class="urdutext">وہ قوت جو کائنات کے پھیلاو کی رفتار میں اضافہ کر رہی ہے اسے “پوشیدہ قوت” یعنی Dark Energy کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس قوت کا منبع کیا ہے؟ اس سوال کے لیے سائنسدانوں کو ایک مرتبہ پھر جدید طبیعات کے بانی مشہور سائنسدان آئن سٹائن کے نظریہ عمومی اضافیت سے رجوع کرنا پڑا۔ آئن سٹائن کے اس نظریہ کے مطابق گریوٹی کی قوت نہ صرف کشش ثقل کا کام دیتی ہے بلکہ یہی قوت دفع ثقل کا کام بھی دے سکتی ہے۔ ہم عام زندگی میں گریوٹی کو محض کشش ثقل کے طور پر جانتے ہیں۔ اس پوشیدہ قوت یعنی دفع ثقل کی وجہ سے ہی کہکشاوں ایک پھیلاو دن بدن تیز تر ہوتا جارہا ہے۔ لیکن ایک اور مسئلہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے اگر ہم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ کتنی مقدار میں یہ پوشیدہ قوت کافی ہوگی کہ وہ کائنات کے پھیلاو میں مدد دے سکے۔ مشاہدات کے مطابق یہ مقدار انتہائی کم یعنی 10^-125 کے قریب نکلتی ہے۔ایک سائنسدان کے لئے کسی بھی طبیعی مقدار کی قیمت کا اس قدر چھوٹا ہونا ایک نہایت اہم مسئلہ ہے اور یہاں یہ مسئلہ پوری کائنات کی سائنسی وضاحت کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ لہٰذا انہوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کی ٹھان لی۔ کچھ ہی عرصے میں سائنسدانوں نے ایک نئے نظریہ کو جنم دیا جسے سٹرنگ تھیوری (String Theory) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اگرچہ سٹرنگ تھیوری کی دریافت میں جو عوامل کارفرما ہیں ان کا تعلق ایک اور سائنسی جہت سے ہے جسے ہم بنیادی فطری قوتوں کی یکجائیت کا نام دیتے ہیں اور اپنے ایک گزشتہ مضمون “<a href="https://laaltain.pk/%DA%A9%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%A7%D8%AA-%D8%B3%DB%92-%D9%85%D8%AA%D8%B9%D9%84%D9%82-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3%DB%8C-%D9%86%D8%B8%D8%B1%DB%8C%D8%A7%D8%AA/" target="_blank" rel="noopener">کائنات کے متعلق سائنسی نظریات</a>” میں اس پر بحث کر چکے ہیں۔لیکن یہی سٹرنگ تھیوری ہمیں پوشیدہ قوت کی انتہائی کم قیمت کا جواز بھی فراہم کرتی ہے۔ سٹرنگ تھیوری پر کام کرتے ہوئے جب پوشیدہ قوت کی کم قیمت کے مسئلے کو زیرغور لایا گیا تو وہیں سائنسدانوں کو ضرورت محسوس ہوئی کہ یہ کائنات جو اب تک چار بنیادی جہتوں یعنی تین مکانی اور ایک زمانی جہت پر مشتمل تھی اس کی اضافی جہتیں(Extra Dimensions) بھی درکار ہیں۔ یعنی یہ کائنات چہار جتہی ہونے کی بجائے پانچ جہتی یا اس سے بھی زیادہ کی حامل ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">وہ قوت جو کائنات کے پھیلاو کی رفتار میں اضافہ کر رہی ہے اسے “پوشیدہ قوت” یعنی Dark Energy کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔</div>
<div class="urdutext">سٹرنگ تھیوری کے اولین دور میں ان اضافی جہتوں کی بنیاد پر پانچ مختلف ماڈل پیش کیے گئے۔ لیکن ان اضافی جہتوں کی صحیح شکل معلوم نہ ہوسکی۔ وقت کے ساتھ ساتھ مختلف مادل پیش کئے جانے لگے اور ہر ماڈل میں اضافی جہتوں کی اشکال مختلف تھیں۔ حتٰی کہ اس وقت تک کی تحقیق کے مطابق ان کی تعداد ناممکن حد تک بڑھ کر 10^500 تک جا پہنچی ہے۔اس ناممکن حد پر پہنچ کر سائنسدانوں کی ایک کثیر تعداد میں مایوسی پیدا ہوگئی اور اس سے پہلے کہ وہ سٹرنگ تھیوری کو غیر سائنسی قرار دیتے، ایک نیا نظریہ سامنے ابھر آیا۔ اس نئے نظریے کے مطابق سٹرنگ تھیوری کے ہر ماڈل میں ایک حقیقی اور منفرد کائنات پنہاں ہے۔ یعنی اس کے مطابق کائنات واحد نہیں ہے بلکہ ہماری کائنات کے علاوہ دیگر اربوں کھربوں کائناتیں موجود ہیں اور ان میں سے ہر کائنات کے قوانین اور ان کے تمام خصائل بشمول وہاں کی مخلوقات حقیقی وجود رکھتے ہیں! اسی نظریے کو کثرت کائنات (Multiverse) کا نظریہ کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کے استعمال سے پوشیدہ قوت کی انتہائی کم قیمت کا معمہ اپنی حیثیت کھو دیتا ہے۔ کیونکہ پوشیدہ قوت ہر طرح کی قیمت اختیار کرتی ہے اور ہماری کائنات میں اس کی یہ مقدار اتنی ہی ہے جتنی کہ ہم مشاہدات سے اخذ کر چکے ہیں۔اور اتنی ہی مقدار سے بننے والی کائنات میں ایسے حالات پیدا ہوسکتے ہیں جس سے کہکشائیں وجود میں آگئیں اور ہمارے پیدا ہونے کا امکان بڑھ گیا۔اگر اتنی مقدار نہ ہوتی تو ہمارا وجود میں آنا ممکن نہ ہوتا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">ہماری کائنات کے علاوہ دیگر اربوں کھربوں کائناتیں موجود ہیں اور ان میں سے ہر کائنات کے قوانین اور ان کے تمام خصائل بشمول وہاں کی مخلوقات حقیقی وجود رکھتے ہیں اسی نظریے کو کثرت کائنات (Multiverse) کا نظریہ کہا جاتا ہے۔</div>
<div class="urdutext">اسی نظریے کے حق میں مزید دلائل ایک اور سائنسی نظریہ پیش کرتا ہے جس کا تعلق کائنات کے آغاز سے ہے۔ جسے ہم ”بگ بینگ تھیوری“ کا نام دیتے ہیں۔ اس نظریے کے متعلق بھی ہم ایک مضمون “<a href="https://laaltain.pk/%DA%A9%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%A7%D8%AA-%D8%8C%D8%A8%DA%AF-%D8%A8%DB%8C%D9%86%DA%AF-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B4%D8%B9%D9%88%D8%B1/" target="_blank" rel="noopener">بگ بینگ اور شعور کائنات</a>” لالٹین پر شائع کرچکے ہیں۔ بگ بینگ نظریہ کے مطابق ہماری کائنات ایک عظیم پھیلاو کی صورت میں ظہور پذیر ہوئی ہے۔ بگ بینگ کے نظریہ میں کچھ مسائل وضاحت طلب پائے گئے جنہیں حل کرنے کے لیے “انفلیشن” نامی ماڈل پیش کیا گیا جس کی وضاحت بھی ہم اپنے ایک اور مضمون “<a href="https://laaltain.pk/%D8%B5%D8%AF%D8%A7%D8%A6%DB%92-%D8%AC%D8%B1%D8%B3/" target="_blank" rel="noopener">صدائے جرس</a>” میں تفصیل سے پیش کر چکے ہیں۔ انفلیشن کے اس ماڈل کے مطابق کائنات میں آغاز کے وقت ایک کوانٹم فیلڈ (Quantum Field) موجود تھا جس کے باعث کائنات ایک سیکنڈ سے بھی انتہائی کم وقت میں اپنے سائز سے کروڑوں گنا بڑی ہوتی گئی۔ اسی تیز ترین پھیلاو کی وجہ سے اس دورانیے کو انفلیشن کا نام دیا گیا۔اس ماڈل کے بانیوں کے مطابق انفلیشن کا عمل صرف ایک دفعہ یا ایک ہی جگہ پر وقوع پذیر نہیں ہوا ہوگا۔ مختلف اوقات میں اور مختلف رفتاروں سے یہ کوانٹم فیلڈ میں بارہا انفلیشن کا عمل ہوا ہوگا اور ایسے ایک سے زیادہ مرتبہ بگ بینگ ہوئے ہوں گے۔ اور یوں ایک کثیر تعداد میں مختلف کائناتیں وجود پذیر ہو گئی ہوں گی۔اس نظریہ کو Eternal Inflation بھی کہا جاتا ہے۔ انفلیشن کے نظریہ کی تصدیق کے لیے اس وقت مختلف تجربات ترتیب دیئے جارہے ہیں جن میں سب سے اہم ثقلی لہروں (Gravitational Waves) سے متعلق تجربات شامل ہیں۔یہاں اس بات پر بھی غور کرنا بے جا نہ ہوگا کہ آج کے دور میں کونیاتی مباحث اور مشاہدات میں جب بھی سائنسدان کسی غیرمعمولی مشاہدے سے برسرپیکار ہوتے ہیں تومختلف حلقوں کی جانب سے پہلا تاثر یہی ہوتا ہے کہ شاید اضافی جہتوں (Extra Dimensions) کی دریافت ہونے والی ہے۔ ایسا ہی ایک تاثر 15 دسمبر 2015ءکو یورپی مرکز برائے نیوکلیائی تحقیق (<a href="http://home.cern/" target="_blank" rel="noopener">CERN</a>) کی جانب سے جاردی کردہ اعلامیے میں ایک غیر معمولی نوعیت کے نئے ذرہ کے بارے میں بھی پیش کیا گیا ہے۔ یہ ذرہ اپنی خاصیتوں کے اعتبار سے بالکل منفرد اور تمام معلوم ذروں سے الگ شناخت کا حامل معلوم ہورہا ہے اور یوں ایک بار پھر سے کثرت کائنات کے نظریے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ اگر کثرت کائنات کا نظریہ ثابت ہو جاتا ہے تو یہ انسان کے لئے اپنے اندر ایک بہت بڑی بحث کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ ایسے جہانوں کا وجود سائنسی حیثیت اختیار کر جائے گا جو آج تک محض توہمات اور مذاہب کی شکل میں موجود ہیں!</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b8%d8%b1%db%8c%db%81-%da%a9%d8%ab%d8%b1%d8%aa%d9%90-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa/">نظریہ کثرتِ کائنات</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b8%d8%b1%db%8c%db%81-%da%a9%d8%ab%d8%b1%d8%aa%d9%90-%da%a9%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
