<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>atta siddiqi Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/atta-siddiqi/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/atta-siddiqi/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Sat, 01 Jun 2024 03:09:42 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>atta siddiqi Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/atta-siddiqi/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>خواب (عبدالسلام العجیلی)</title>
		<link>https://laaltain.pk/khawb-abdul-salam-ujaili/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/khawb-abdul-salam-ujaili/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[آج]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 22 Apr 2019 15:32:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[aaj]]></category>
		<category><![CDATA[Abdel Salam al-Ujaili]]></category>
		<category><![CDATA[ajmal kamal]]></category>
		<category><![CDATA[atta siddiqi]]></category>
		<category><![CDATA[urdu translation]]></category>
		<category><![CDATA[آج]]></category>
		<category><![CDATA[اجمل کمال]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ترجمہ]]></category>
		<category><![CDATA[عبدالسلام العُجیلی]]></category>
		<category><![CDATA[عطا صدیقی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24451</guid>

					<description><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”] عبدالسلام العجیلی 1918ء میں شام کے مقام رقّہ میں پیدا ہوے اور وہیں طبیب کے طور پر کام کرتے ہیں۔ لکھنے کے علاوہ انھوں نے سیاست میں بھی حصہ لیا ہے اور کئی وزارتی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں، جن میں وزیر ثقافت کا عہدہ بھی شامل ہے۔ عطا صدیقی (پورا نام [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/khawb-abdul-salam-ujaili/">خواب (عبدالسلام العجیلی)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]<br>
عبدالسلام العجیلی 1918ء میں شام کے مقام رقّہ میں پیدا ہوے اور وہیں طبیب کے طور پر کام کرتے ہیں۔ لکھنے کے علاوہ انھوں نے سیاست میں بھی حصہ لیا ہے اور کئی وزارتی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں، جن میں وزیر ثقافت کا عہدہ بھی شامل ہے۔</p>
<p><strong>عطا صدیقی</strong> (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔</p>
<p>عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے <a href="https://www.facebook.com/pages/category/Bookstore/City-Press-Bookshop-1574804906077834/" target="_blank" rel="noopener noreferrer">سٹی پریس بک شاپ</a> یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:<br>
عامر انصاری: 03003451649</p>
<p>[/blockquote]<br>
تحریر: عبدالسلام العُجیلی (Abdel Salam al-Ujaili)<br>
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
محمد ویس نے خواب میں خود کو نماز پڑھتے دیکھا۔ یہ کوئی ایسی انوکھی بات نہیں تھی، کہ وہ تو بیداری کی حالت میں بھی باقاعدگی سے عبادت کرتا تھا اور کوئی فرض نماز اس نے قضا نہیں کی تھی۔ اس نے دیکھا کہ پہلی رکعت میں وہ سورۂ نصر بالجہر پڑھ رہا ہے، جس کے ختم ہوتے ہی دہشت کے عالم میں اس کی آنکھ کھل گئی۔</p>
<p>’’صدق اللہ العلی العظیم،‘‘ اس کے منھ سے نکلا۔ وہ بستر پر اٹھ بیٹھا اور اپنی آنکھیں ملنے لگا۔ محمد ویس کو یاد نہیں تھا کہ پورے خواب میں سے صرف یہی بات کیوں اس کے ذہن میں اٹک گئی۔ صبح ہوتے ہی وہ موضعے کے بزرگ شیخ محمد سعید کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ دوپہر ہوتے ہوتے اس نے شیخ کو ڈھونڈ نکالا اور اس کو اپنا خواب سنایا۔ شیخ نے پہلے سر جھکا لیا، اس کی پیشانی پر شکنیں پڑ گئیں اور بہت دیر غوروفکر میں ڈوبے رہنے کے بعد اس نے سوال کیا:</p>
<p>’’تمھیں یقین ہے کہ تم سورۂ نصر پڑھ رہے تھے؟‘‘<br>
’’بالکل،‘‘ محمد ویس نے کہا۔ ’’پوری کی پوری پڑھی تھی۔‘‘</p>
<p>’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ جب اللہ کی مدد اور فتح آئے اور لوگوں کو تم دیکھو کہ اللہ کے دین میں فوج درفوج داخل ہوتے ہیں تو اپنے رب کی ثنا کرتے ہوے اس کی تحمید کرو اور اس سے بخشش طلب کرو۔ بےشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ صدق اللہ العلی العظیم۔‘‘ شیخ محمد سعید نے کہا: ’’محمد ویس، اپنے رب کی حمد و ثنا کرو اور اس سے استغفار کی درخواست کرو۔ بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘</p>
<p>’’یا شیخ، میرا دل کہتا ہے یہ میرے لیے نیک شگون ہوگا۔ آپ اس خواب کی تعبیر میں کیا کہتے ہیں ؟‘‘</p>
<p>شیخ محمد سعید نے اپنی چوڑی اور گھنی داڑھی کو مٹھی میں تھام لیا اور انگلیوں سے بالوں میں خلال کرنے لگا۔ وہ اپنے تبحّر کو خواب کی تعبیر جیسی معمولی بات کے لیے استعمال کرنے سے ہچکچا رہا تھا۔ آخرِکار وہ بولا:<br>
’’محمد ویس، اللہ سے توبہ استغفار کرو۔ بےشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ خواب میں خود کو یہ سورت پڑھتے ہوے دیکھنے کا مطلب ہے کہ بس، اب انجام قریب ہے۔‘‘</p>
<p>محمد ویس جو ویسے ہی بَولایا بَولایا سا رہتا تھا، یہ سنتے ہی سر سے پیر تک لرز گیا۔<br>
’’کیا کہہ رہے ہیں شیخ؟‘‘</p>
<p>’’تمھارے روبرو یہ بات کہتے ہوے کلیجہ منھ کو آتا ہے، ‘‘شیخ بولا، ’’مگر حوصلہ رکھو، اللہ کی رحمت جلد ہی تمھارے شامل حال ہو گی۔ اور موت تو سب ہی کو آنی ہے۔ محمد ویس، کوئی شخص یہ خواب دیکھنے کے بعد چالیس دن سے زیادہ نہیں جیا۔‘‘</p>
<p>یہ فیصلہ سنا کر شیخ تو ظہر کی نماز کے لیے وضو کرنے چل دیا اور محمد ویس مارے دہشت کے گم سم بیٹھا کا بیٹھا رہ گیا۔ اس کے پیروں میں کھڑے ہونے کی سکت بھی نہ رہی۔</p>
<p>خشک گلے سے وہ منمنایا، ’’چالیس دن! اللہ ہمت دے۔‘‘</p>
<p>جس بستی میں محمد ویس اور شیخ محمد سعید رہتے تھے، بہت مختصر سی تھی، اس لیے شام ہوتے ہوتے ہر فرد کو محمد ویس کے خواب اور شیخ محمد سعید کی تعبیر کا علم ہو گیا۔ وہ موضع ایسا تھا جہاں خوابوں کی تعبیر پر اعتبار کیا جاتا تھا، اور اگلی شام تک ہر فردوبشر کو یقین ہو چکا تھا کہ محمد ویس چالیس دن میں ختم ہو جائے گا۔ پہلے فرداً فرداً اور پھر ٹولیوں میں لوگ باگ محمد ویس کے پاس آنے لگے، جس کے باعث ان لوگوں کی خاطر جو اس کی عیادت یا پیش از مرگ تعزیت کے لیے آ رہے تھے، اس کو اپنے گھر ہی پر رہنا پڑا۔ محمد ویس کے خاندان کی عورتیں ٹوہ لینے کے لیے آتیں اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اس کا جائزہ لیتیں۔ اس کو تندرست اور توانا مگر خیالوں میں گم دیکھ کر وہ بین کرنے لگتیں اور اللہ سے فریاد کرتیں کہ موت کے فرشتے کو روک لے جو اس کو لے جانے پر تلا ہوا تھا حالانکہ وہ ابھی ہٹّاکٹّا تھا۔ گو محمد ویس کو کوئی غم یا تردّد نہیں تھا، لیکن حفظِ ما تقدم کے طور پر جو تدبیریں ہو رہی تھیں اور اس سلسلے میں جو نازک سوالات اس سے کیے جا رہے تھے انھوں نے اس کو اندوہ اور پریشانی میں مبتلا کر رکھا تھا۔ دس دن تو اس نے جیسے تیسے معمول کے مطابق گزار لیے، گھر سے ہاٹ تک روزانہ آتا جاتا رہا، تاہم جلد ہی اس کے اعصاب بول گئے اور قوتِ برداشت جواب دے گئی۔ اب لوگوں نے دن میں بھی اس کے پاس آنا شروع کر دیا تھا، جبکہ پہلے وہ صرف شام ہی کو گھر پر ملتا تھا۔ خواب دِکھنے کے بیس دن بعد محمد ویس کے گھر کی عورتوں نے اس کا بستر جھاڑنا چھوڑ دیا کیونکہ اب وہ صبح شام اسی پر پڑا رہتا تھا۔ جب میعاد کے تیس دن نکل گئے تو تمام کھانے جو اس کو مرغوب تھے اور جو اس کے گھر والے بنا بنا کر پیش کیا کرتے تھے، اب بے چھوئے اس کی چاروں طرف رکھے رہتے۔ اس نے داڑھی چھوڑدی اور ایک سفید سا لبادہ پہنے پہنے ہر وقت عبادات میں مشغول رہنے لگا۔ اس پر ہمہ وقت رقت طاری رہتی، نہ موت کے خوف سے اور نہ زندگی کے ختم ہونے کے غم میں، بلکہ اُن سزاؤں کی ہیبت سے جو قبر سے آگے اس کے انتظار میں تھیں۔ اسے خوف اس بات کا تھا کہ اس نے کاروبار کے دوران اللہ کی بڑی جھوٹی قسمیں کھائی تھیں اور ہاٹ میں آس پاس کے دیہاتیوں کو بڑے دھوکے دیے تھے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ ان خطاؤں کو معاف نہ کرے۔ جوں جوں دن گزرتے گئے اور چالیسواں دن قریب آتا گیا، اس کے خالی پیٹ پر جمی ہوئی چربی ان پچھلے گناہوں کی توبہ استغفار میں گھلتی چلی گئی۔ اس کی بستی اور آس پاس کے بستیوں کے لوگ اب اس کے چہرے کے گرد ایک نورانی ہالے کا ذکر کرنے لگے اور ایسے پُراسرار کلمات کا چرچا ہونے لگا جو نماز پڑھتے ہوے اس کی زبان سے ادا ہوتے تھے۔ چالیس میں سے جب اڑتیس دن گزرچکے تو انتالیسویں دن مَیں وہاں پہنچا۔</p>
<p>آپ پوچھیں گے کہ مَیں کون؟</p>
<p>جس موضعے میں محمد ویس مویشیوں کا دلّال تھا اور شیخ محمد سعید ولی اللہ سمجھا جاتا تھا، میں وہاں کے اسکول میں مدرّس تھا۔ میں گرمیوں کی تعطیلات دمشق میں گزارتا تھا جہاں سے میری واپسی محمد ویس کے لیے شیخ محمد سعید کے مقرر کیے ہوے چالیس دنوں میں سے انتالیسویں دن ہوئی۔ میں محمد ویس سے بھی اسی طرح واقف ہوں جیسے بستی کے دوسرے لوگوں سے؛ تو جب اسکول کے بوڑھے چوکیدار عطاء اللہ نے مجھے اس کا قصہ سنایا تو میں یہ فیصلہ نہیں کر پایا کہ اس کی حالت پر اپنا سر پیٹ لوں یا قہقہے لگاؤں۔ اس لیے میں عطاء اللہ کو ساتھ لے کر اس کی عیادت کرنے— یا آنے والی موت پر تعزیت کرنے— گیا۔ وہ احاطہ جو محمد ویس کے خریدے ہوے مویشیوں سے بھرا ہوتا تھا، اس وقت ان تمام لوگوں سے بھرا ہوا تھا جو اس کے قریب آتی ہوئی متوقع موت کے انتظار میں جمع ہو گئے تھے۔ ایک کونے میں مرد جمع تھے تو دوسرے گوشے میں عورتیں، اور تیسری طرف وہ بھیڑ بکریاں بندھی ہوئی تھیں جو محمد ویس کے دوست احباب اس کی زندگی ہی میں اس لیے لے آئے تھے کہ اس کی الوداعی رات کو ذبح کی جائیں۔ جس کمرے میں محمد ویس ملک الموت کا انتظار کر رہا تھا، وہاں داخل ہونے پر میں نے اسے دیکھا— ملک الموت کو نہیں، محمد ویس کو۔ وہ اپنے بستر کے ایک کونے پر ٹکا عبادت میں مشغول تھا، جبکہ دوسرے کونے میں شیخ محمد سعید بیٹھا قرآن پاک کی تلاوت کررہا تھا۔ جس محمد ویس کو میں جانتا تھا اس کی بالکل مختلف صورت دیکھ کر مجھے دھکا لگا۔ اس کا گول، گلگوں چہرہ اب ستواں اور پیلا ہو گیا تھا اور داڑھی نے اسے اور بھی لمبوترا بنا دیا تھا۔ اس کے ڈھیلے ڈھالے سفید لباس نے اس کے چہرے کی زردی کو اَور نمایاں کر دیا تھا۔ نماز پڑھتے ہوے وہ اپنے سجدوں کو اس امید میں طویل کر دیتا کہ موت آئے تو سجدے میں آئے۔ اِس ولی اللہ میں اور اُس محمد ویس میں زمین آسمان کا فرق تھا جس کو میں اپنی کھڑکی میں سے قسمیں کھا کھا کر یہ کہتے سنا کرتا تھا کہ اگر اس نے ابھی ابھی خریدے ہوے جانور پر تین لیرے کا گھاٹا نہ اٹھایا ہو تو سمجھو اپنی بیوی کو طلاق دی۔ میں محمد ویس سے ملنے تو اپنے شوق اور تجسس میں گیا تھا لیکن اس کی حالت میں یہ فرق دیکھ کر بھونچکا رہ گیا اور اس بات کا قائل ہو گیا کہ وہ یقیناً وقت معین پر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ اور جب میں نے شیخ محمد سعید کو کنکھیوں سے اپنی طرف دیکھتے ہوے پایا تو میرے تن بدن میں آگ ہی تو لگ گئی۔</p>
<p>میری اس شیخ سے، جس کی فطرت سادگی، حماقت اور مکاری کا مجموعہ تھی، کافی عرصے سے مخاصمت چلی آ رہی تھی۔ میں اس کی عطائیت اور دغا سے، جن کے زور پر اس نے جاہل دیہاتیوں کے ذہنوں کو اپنے قابو میں کر رکھا تھا، ہمیشہ لڑا کرتا تھا اور وہ بھی ان کو میرے خلاف ورغلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔ وہ مجھ پر الزام لگاتا کہ میں بچوں کے ذہنوں کو ملحدانہ خیالات سے مسموم کرتا ہوں اور انھیں اللہ رسول کا باغی بناتا ہوں۔ میری مخالفت میں اس کا جوش یہ جاننے کے باوجود کم نہیں ہوتا تھا کہ میں رسول کے پرنواسے حضرت زین العابدین کی اولاد میں سے ہوں، بلکہ وہ اسی کو میری مذمت کا جواز بنا لیتا تھا۔ ’’اس شخص کو دیکھو، حضرت زین العابدین کی اولاد ہو کر کہتا پھرتا ہے کہ زمین گھومتی ہے۔‘‘ پھر وہ لوگوں سے کہتا، ’’بھلا بتاؤ، تم میں سے کسی نے کبھی اپنے گھر کے مشرقی رخ کے دروازے کو اچانک مغرب کی طرف گھومتے دیکھا؟‘‘</p>
<p>جیسا کہ میں نے بتایا، شیخ محمد سعید کو دیکھ کر مجھے غصہ آ گیا تھا اور میں چیخ پڑنے کو تھا کہ وہ قاتل ہے، وہ محمد ویس کے ذہن میں وہ زہر بھررہا ہے جو اس کو چالیس دن میں مار ڈالے گا۔ تاہم میں نے ضبط سے کام لیا۔ اس طرح بگڑ کر میں شیخ کے خلاف کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا تھا، کیونکہ وہ ہمیشہ کی طرح اسی زمین کی گردش والی دلیل سے ثابت کر دیتا کہ کس دیہاتی نے اپنا مشرقی رخ والا دروازہ مغرب کی جانب گھومتے دیکھا ہے؛ پس ثابت ہوا کہ زمین نہیں گھومتی۔ میرے خلاف کینہ رکھنے پر اللہ اس پر رحم کرے، اور محمد ویس اگر کل صبح تک شیخ محمد سعید کے زیرِ اثر رہے تو اللہ اس پر بھی رحم کرے۔ غم اور غصے کے مارے دل پر ایک بوجھ لیے میں اسکول لوٹ آیا۔</p>
<p>میرے کہنے کے مطابق چوکیدار عطاء اللہ نے مجھے منھ اندھیرے اٹھا دیا۔ میں اپنے ساتھ دمشق سے تین چتی دار ناشپاتیاں لایا تھا جو میں نے رات کو ہوا کے رخ پر رکھے مٹکے کے نیچے رکھ دی تھیں۔ ان میں سے ایک ناشپاتی اٹھا کر میں لپکتا ہوا محمد ویس کے گھر پہنچا۔ سواے ان بھیڑ بکریوں کے جو اپنے مالک کی موت کے نتیجے میں خود اپنی موت کی منتظر کھڑی تھیں، احاطے میں کوئی نہیں تھا۔ زنان خانہ روشن تھا اور رونے کی دھیمی دھیمی آواز آ رہی تھی۔ محمد ویس کا کمرہ بند تھا۔ میں نے کھڑکی سے جھانکا تو دیکھا کہ وہ موت کے انتظار میں عبادت کرتے کرتے تھک کر سویا پڑا ہے۔ کئی بار میں نے زور زور سے دروازہ کھٹکھٹایا، پھر دھکا دے کر دروازہ کھولتے ہوے چلّا کر کہا:</p>
<p>’’محمد ویس، اللہ کی حمدوثنا کرو!‘‘<br>
وہ نیند سے چونک پڑا اور چیخا، ’’کیا ہوا؟‘‘<br>
’’میں ہوں، استاد نا جی۔ ڈرو نہیں، محمد ویس، اور میری بات سنو۔‘‘</p>
<p>میں نے دیکھا اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے اور بہہ بہہ کر اس کے رخساروں سے ٹپک رہے تھے اور وہ سہما ہوا گم سم بیٹھا تھا۔ اس خوف سے کہ کہیں میری بات سننے سے پہلے ہی اس کا دم نہ نکل جائے، میں نے کہا:</p>
<p>’’میں تمھارے پاس اس لیے آیا ہوں کہ میرے جدامجد حضرت زین العابدین نے مجھے بیدار کر کے تمھارے پاس بھیجا ہے۔ آپ پر اللہ کی رحمت ہو، آپ نے مجھے حکم دیا: محمد ویس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ اللہ نے اس کو آزمائش میں ڈالا تھا اور جان لیا کہ وہ توبہ کرنے والا بندہ ہے۔ اس کو یہ پھل دینا، یہ بہشت کے میووں میں سے ہے، اور حکم دینا کہ سورج طلوع ہونے سے پہلے دو رکعت نماز تمھارے ساتھ ادا کرے اور پہلی رکعت میں سورۂ نصر پڑھے۔ اللہ اس کی عمر اتنی دراز کرے گا کہ وہ نہ صرف اپنے بچوں کی، بلکہ بچوں کے بچوں کی خوشیاں بھی دیکھے گا۔‘‘</p>
<p>محمد ویس نے تھوک نگلا۔ یوں دکھائی دیا جیسے میری بات پوری طرح اس کی سمجھ میں نہیں آئی۔ وہ بس میرے ہاتھ میں دبی ہوئی ناشپاتی کو گھورتا رہا۔ (مجھے یقین تھا کہ بستی میں کسی نے بھی چتی دار ناشپاتی نہیں دیکھی تھی۔) میں نے ناشپاتی چھیل کر اس کو کھلائی اور بیج سمیت نگل جانے کو کہا۔ پھر میں اسے کھینچ کر کمرے کے کونے میں لے گیا۔</p>
<p>’’محمد ویس، سورج نکلنے سے پہلے نماز کے لیے تیار ہو جاؤ۔‘‘<br>
’’مگر استاد ناجی، میں وضو سے نہیں ہوں۔‘‘<br>
مجھے یاد آیا کہ میں نے بھی وضو نہیں کیا تھا، مگر اس خوف سے کہ کہیں میرے مشورے کا اثر زائل نہ ہو جائے، میں نے سمجھایا:<br>
’’تیمم کرلو محمد ویس، اس کی اجازت ہے۔ مارو ہاتھ زمین پر۔‘‘</p>
<p>محمد ویس کے ساتھ کھڑے ہو کر میں نے بھی نماز پڑھی۔ ہم نے دو رکعت نماز ادا کی اور پہلی رکعت میں اس نے سورۂ نصر پڑھی۔ پھر میں لوٹ کر اسکول آ گیا اور صبح کا انتظار کرنے لگا۔</p>
<p>ایک گھنٹے کے اندر اندر پوری بستی کو محمد ویس کی نئی بشارت کا علم ہو گیا۔ وہ تمام لوگ جو کل محمد ویس کے احاطے میں جمع تھے، آج اسکول کے احاطے میں جمع ہو گئے۔ اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے کہ آیا واقعی میرے جدامجد حضرت زین العابدین خود میرے پاس محمد ویس کی بریّت لے کر آئے تھے، وہ سب ایک دوسرے پر گرے پڑ رہے تھے۔ اس وقت مجھے لگا کہ آج میں نے شیخ محمد سعید پر واضح فتح حاصل کر لی، کیونکہ نہ تو محمد ویس مرا اور نہ اس کی بھیڑ بکریاں ذبح ہوئیں، بلکہ وہ سب حضرت زین العابدین کی اولاد، ولی اللہ استاد ناجی کی، یعنی میری نذر کر دی گئیں۔</p>
<p>مگر کیا یہ واقعی میری فتح تھی؟ سچ بات یہ ہے کہ مجھے اس کا یقین نہیں۔ اس فتح کی حقیقت پر شک کا سبب یہ ہے کہ میں شیخ محمد سعید کے مقتدیوں میں سے ایک بھی کم نہ کر سکا، بلکہ الٹا میں نے ان میں ایک کا اضافہ ہی کر دیا، مدرّس کا، یعنی خود اپنا۔ اپنے جداِمجد کے ناموس کو قائم رکھنے کی خاطر، جن کے نام سے میں نے اپنا خواب گھڑا تھا، اب میں بھی شیخ محمد سعید کے پیچھے نماز پڑھنے پر مجبور ہوں، تیمم کر کے نہیں، باقاعدہ وضو کر کے۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div class="urdutext">آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے <a href="https://laaltain.pk/author/aaj/" target="_blank" rel="noopener noreferrer">کلک</a> کریں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/khawb-abdul-salam-ujaili/">خواب (عبدالسلام العجیلی)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/khawb-abdul-salam-ujaili/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>قسطوں میں حیات (محمد برّادا)</title>
		<link>https://laaltain.pk/qiston-mein-hayat/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/qiston-mein-hayat/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[آج]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 20 Mar 2019 12:08:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[aaj]]></category>
		<category><![CDATA[ajmal kamal]]></category>
		<category><![CDATA[atta siddiqi]]></category>
		<category><![CDATA[Tyrone Hart]]></category>
		<category><![CDATA[world literature]]></category>
		<category><![CDATA[اردو تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[عطا صدیقی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24401</guid>

					<description><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”] محمد برّادا1938ء میں رباط، مراکش، میں پیدا ہوے۔ انھوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے عربی کے مضمون میں ڈگری حاصل کی اور پیرس یونیورسٹی سے جدید ادبی تنقید کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کیا۔ ان کی بہت سی تنقیدی تحریریں شائع ہوئی ہیں اور انھوں نے فرانسیسی سے ترجمے بھی کیے ہیں۔ ان کی کہانیوں [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/qiston-mein-hayat/">قسطوں میں حیات (محمد برّادا)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]<br>
محمد برّادا1938ء میں رباط، مراکش، میں پیدا ہوے۔ انھوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے عربی کے مضمون میں ڈگری حاصل کی اور پیرس یونیورسٹی سے جدید ادبی تنقید کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کیا۔ ان کی بہت سی تنقیدی تحریریں شائع ہوئی ہیں اور انھوں نے فرانسیسی سے ترجمے بھی کیے ہیں۔ ان کی کہانیوں کا مجموعہ 1979ء میں بیروت سے شائع ہوا تھا۔ آج کل وہ رباط یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر ہیں اور مراکشی ادیبوں کی انجمن کے صدر بھی ہیں۔</p>
<p><strong>عطا صدیقی</strong> (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔</p>
<p>عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے <a href="https://www.facebook.com/pages/category/Bookstore/City-Press-Bookshop-1574804906077834/" target="_blank" rel="noopener">سٹی پریس بک شاپ</a> یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:<br>
عامر انصاری: 03003451649</p>
<p>[/blockquote]<br>
تحریر: محمد برّادا (Mohammed Barrada)<br>
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>ہم دیر سے جاگے اور بستر میں پڑے پڑے جماہیاں لیتے رہے۔ یوں لگتا تھا جیسے ہڈیوں کا جوڑ جوڑ الگ ہو جائے گا۔ یہ نظر آ رہا تھا کہ آج کا دن بھی پچھلے گزرے ہوے دنوں ہی کی طرح گزرے گا۔ ہم نے اپنا سر چوبی سرھانے پر ٹکا دیا۔ ہماری نظر دھندلی دھندلی ہورہی تھی اور بلاشبہ ہمارا چہرہ بھی پیلا پڑا ہوا تھا۔ ہم ڈاکٹر سے اس سلسلے میں رجوع کر چکے تھے۔ اس سے اپنی شکایت کہی تھی جس پر اس نے سیانوں کی طرح سر ہلا کر کہا تھا:<br>
’’تم اکیلے نہیں ہو۔ تمھاری طرح کے وہ تمام افراد جو غوروفکر میں مبتلا رہتے ہیں اور خواب دیکھتے رہتے ہیں اور حال سے مطمئن نہیں ہوتے، اسی مرض کا شکار ہوتے ہیں۔‘‘</p>
<p>ہمیں یاد آیا، ایسا ہی جواب کسی ڈاکٹر نے— غالباً ہمارے ہی ڈاکٹر نے— ہمارے ایک دوست کو بھی دیا تھا جو اس کے پاس بدہضمی اور سینے کی جلن کی شکایت لے کر گیا تھا۔</p>
<p>’’کوئی علاج بھی ہے ڈاکٹر؟‘‘</p>
<p>’’میں تم کو چند گولیاں دے دیتا ہوں جن سے تمھیں افاقہ ہو گا۔ لیکن زیادہ خوش فہمی میں مت پڑنا۔ ہر صبح جیسے ہی آنکھ کھلے، ذہن پر زور دے کر کوئی ایسا دلچسپ قصہ یاد کرنا جس سے تم باچھیں پھاڑ کر مسکرا سکو، اور پھر بستر سے کودنا اور بلند آواز سے گانا۔ ایسے موقعے پر بےسُری آواز بھی چلے گی۔‘‘</p>
<p>ہم نے ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرنے کے ارادے سے اپنی یادداشت کے کونے کھدروں میں کسی ایسے قصے کو تلاش کیا جو ہمیں ایک دم لوٹ پوٹ ہو جانے پر مجبور کردے۔ ہماری ایک ولایتی پڑوسن اکثروبیشتر خوش وقتی کے لیے ٹیکسی پکڑ لیتی تھی، حالانکہ خود اس کے پاس کار تھی۔ سیر سپاٹے کے بعد جب ٹیکسی بلڈنگ کے دروازے پر رکتی تو وہ یہ ظاہر کرتی کہ پیسے تو گھر ہی پر رہ گئے۔ پھر وہ اتر کر پیسے لینے بلڈنگ میں چلی جاتی اور اوپر جا کر غائب ہو جاتی، اور وہ بےچارہ ٹیکسی والا ہارن بجاتا رہتا۔ بلڈنگ والے جھانک جھانک کر دیکھتے کہ اسے کیا ہو گیا۔ عورت کا گھر معلوم نہ ہونے کی وجہ سے وہ ٹاپتا رہ جاتا اور بک جھک کر چل دیتا۔ اور وہ عورت اپنے کمرے میں ہنس ہنس کر دوہری ہو جاتی۔ ہی ہی ہی ہی! ہا ہا ہا ہا! اس قصے کا یاد آنا تھا کہ ہم خوب ہی ہنسے اور دل ہی دل میں اپنی اس ہوشیار پڑوسن کے ممنون ہوے۔ پھر ہم اپنے بستر سے کودے اور گاتے ہوے اپنی طویل تعطیل کا ایک نیا دن شروع کیا۔</p>
<p>اپنے بھرے پُرے کتب خانے میں ہم دیر تک بےمقصد ٹہلتے رہے۔ ہم نے دیکھا کہ اس میں بیشتر کتابیں وہ ہیں جنھیں ہم نے بعد کے لیے اٹھا رکھا تھا کہ جب فرصت ملے گی تو ان کا مطالعہ کیا جائے گا۔ ہمارا ہاتھ ایک سرخ جلد کی طرف بڑھ گیا جس کا مصنف چالیس برس قبل مراکش کے مدینۃ الاحمر میں رہتا تھا۔ وہ کتاب محمد ابن عبداللہ المعقط کی ’’سفرنامۂ مراکش عرف افعالِ شنیعہ کا عصری عکس، المعروف بہ تارکِ سنت کے خلاف تیغِ بے نیام‘‘ تھی۔<br>
— پھر شیخ عبدالہادی نے ارشاد کیا، ’’جس نے سوال کیا اور جس سے سوال کیا گیا، ہر دو فرد دسویں صدی کے لوگوں میں سے تھے۔ اب ذرا ہمارے اس زمانے کو قیاس کرو، جو مثل ایک طویل شبِ مظلمہ کے ہے، کہ بات کتنی نہ بڑھ چکی ہو گی! سردارانِ قوم کو لو تو انھوں نے رعیت کو ظلم کے سوا کیا دیا؟ گوشت انھوں نے نوچ لیا اور خون پی گئے۔ ہڈیوں کا گودا تک وہ چوس گئے اور دماغ چٹ کر گئے اور رعیت کے لیے نہ دنیا چھوڑی نہ دین۔ متاعِ دنیا کو لو تو انھوں نے سب کچھ سمیٹ لیا، کچھ نہ چھوڑا، اور دین کی پوچھو تو ان کا منھ اس سے موڑا۔ یہ سب ہمارے مشاہدے کی باتیں ہیں، فقط باتیں ہی باتیں نہیں۔۔۔۔‘‘</p>
<p>ابوزید نے سوال کیا، ’’اللہ آپ کو توفیق دے، کیا ایسے دیار میں قیام کرنا جائز ہے جہاں کوئی منکرات کی نہی کرنے پر قادر نہ ہو؟‘‘</p>
<p>ذہن کو مطالعے سے کوئی سکون نہیں ملتا۔ قدیم جدید نظر آتا ہے اور جدید قدیم، مگر دماغ اس کے ناممکن ہونے پر احتجاج کرتا ہے؛ وہ یہ مان کر ہی نہیں دیتا کہ ’’سورج نور سے عاری ہے۔‘‘ ہم نے خود سے کہا کہ شاید اس کا سبب بےزاری، تعلقات کی طوالت، گہرے رموز کا افشا، التباسات کی اصلیت کا کھل جانا، خوابوں کا بکھر جانا، آئندہ سے لگاؤ اور حال سے بےنیازی ہو۔ ہم کو چاہیے کہ نفس کو صبر کا خوگر بنائیں اور بار بار دُہرائے جانے والے معمولات کے ساتھ لمحۂ موجود کو بالتفصیل گزاریں۔</p>
<p>کھانے پر ہمارے مہمان ہمارے ایک عزیز تھے جو ساٹھ کے پیٹے میں تھے۔ انھوں نے اوائلِ عمر ہی میں قرآن حفظ کر لیا تھا، اس کے ایک ایک لفظ سے واقف تھے اور آخر کو موذن ہو گئے تھے۔ ایک برس قبل جب ان کی اہلیہ نے وفات پائی تو انھوں نے اپنی ایک اَور عزیزہ کو عقد کے لیے منتخب کر لیا، کہ موذن کو مجرّد رہنے کی اجازت نہیں، مگر انھوں نے یہ بہتر سمجھا کہ یہ فریضہ وہ حج سے واپسی کے بعد ادا کریں۔ ان کی غیرموجودگی میں خدائی فوجداروں نے مداخلت کی اور اس خاتون کا نکاح کسی اور سے کروا دیا۔ چنانچہ وہ اب بھی رشتے کی تلاش میں تھے۔</p>
<p>’’الحمداللہ کہ تم خیر سے ہو۔ بندے کو ہر حال میں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اور کیا حال ہیں؟ کاروبار کیسا چل رہا ہے؟ ٹھیک ٹھاک۔ ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا۔ اور صاحبزادے کس حال میں ہیں ؟ کام میں دل لگاتے ہیں؟‘‘<br>
’’انھی سے پوچھیے، خود بتائیں گے۔ ہمیں تو کام چور دکھائی پڑتے ہیں۔‘‘<br>
’’بڑے شرم کی بات ہے بیٹا! کاش تم اپنے چچا عبدالرحمٰن کے نقش قدم پر چلتے۔‘‘<br>
ان کے الفاظ نے گویا ہمارے ذہن میں کسی بھولی بسری یاد کو بیدار کردیا۔ ہم نے پوچھا:<br>
’’وہی جو غرق ہوکر مرے تھے؟‘‘<br>
’’ہاں، اور شہید بھی کہلائے تھے۔ جان لو کہ حدیث شریف کی رو سے تین قسم کے مُردے شہید کا درجہ رکھتے ہیں : وہ جو آگ میں جل کر مرے، وہ جو پانی میں غرق ہوے، اور وہ جو کسی دیوار کے نیچے دب گئے۔‘‘</p>
<p>اب ان کا روے سخن صاحبزادے کی طرف ہوگیا۔ وہ ہر نوع اور ہر قسم کی ہدایتیں اور نصیحتیں سننے کا عادی تھا، اس لیے اس نے ذرا بھی ناگواری ظاہر نہیں کی۔</p>
<p>’’تمھارا چچا عبدالرحمٰن ابھی اٹھارہ برس کا تھا کہ جملہ علوم میں طاق ہوچکا تھا۔۔۔۔‘‘<br>
مسکراتے ہوے صاحبزادے نے قطع کلام کیا:<br>
’’میں تو ابھی سترہ برس کا بھی نہیں ہوا۔‘‘<br>
ہم نے مناسب طور پر اسے سرزنش کی:<br>
’’تمھارا کھوپڑا گدھے کے سر سے بھی زیادہ خالی ہے۔ جو ہم کہیں اسے گرہ میں باندھ رکھو۔ مستقبل تمھارا ہے۔ ہماری نصیحتوں پر عمل نہیں کرو گے تو آپ بھگتو گے۔ تمھارا کیا خیال ہے، روزی کمانا کچھ آسان کام ہے؟ کچھ کے سروں پر ٹیکا ہوتا ہے تو دوسروں کے سروں پر کام کا سربند۔‘‘</p>
<p>حاجی صاحب نے اپنی بات جاری رکھی:<br>
’’عبدالرحمٰن— اللہ اسے اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے— جملہ علوم میں طاق تھا۔ اس کی خطاطی ازحد دیدہ زیب تھی۔ محکمۂ مالیات میں ملازم تھا اور کم عمری ہی سے جبہ اور عمامہ پہنتا تھا۔ مشاق پیراک اور ماہر شہسوار تھا۔ ایک مرتبہ ایک فقیہ، جو سُوس سے ہماری ملاقات کو آئے تھے، اس سے مل کر اس کی علمیت اور ذہانت سے بہت متاثر ہوے۔ انھوں نے اس خوف سے کہ کہیں اس کو جن وانس کی نظرِ بد نہ لگ جائے، ایک تعویذ، جو حرزالبحر اور دافعِ بلیات کہلاتا ہے، لکھ کر دیا کہ اپنے جبے پر پہنے رہے تاکہ بلیات سے محفوظ رہے۔‘‘</p>
<p>گفتگو میں اپنی دلچسپی ظاہر کرنے کے لیے، گو اوپری ہی سہی، ہم نے کہا:<br>
’’اور اس تعویذ کے ہوتے ہوے وہ غرق ہو گئے؟‘‘</p>
<p>’’مشیت الہٰی! وہ رباط سے سالے آ رہا تھا۔ وادیِ ابو رقرق اس نے کشتی سے عبور کی تھی۔ پھر اس نے عمامہ اتار کر وضو کیا، ظہر کی نماز ادا کی۔ پھر وہاں سے روانہ ہو کر ابھی بیس قدم گیا ہو گا کہ اس کا پیرنے کو جی چاہا۔ بس وہ اسی مقام کو لوٹا، اپنا لباس اتارا اور پیرنے لگا…‘‘<br>
حسب معمول مسکراتے ہوے صاحبزادے نے قطع کلام کیا:<br>
’’کیا اس زمانے میں لوگ ننگے ہی پیرتے تھے؟‘‘</p>
<p>گو ہم کو یہ سوال معقول معلوم ہوا مگر یہ محل کسی اَور ردعمل کا متقاضی تھا۔ چنانچہ ہم نے صاحبزادے کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا اور بے بسی کے اظہار میں کف افسوس ملا اور پورا زور لگا دیا کہ کہیں ہماری ہنسی نہ چھوٹ جائے۔</p>
<p>’’نہیں، وہ لنگر باندھتے تھے۔ اُس دن اتفاق سے تعویذ دوسرے جبے میں رہ گیا تھا اور پانی میں اس کی مشاقی ذرا کام نہ آئی اور سمندر اب تک اس کو دبائے بیٹھا ہے۔‘‘</p>
<p>یوں عبدالرحمٰن تو اپنی جان سے گیا، رہ گئے دونوں جہان کے علم، تو اس میں سراسر نقصان میں ہم رہے۔</p>
<p>ابھی کھانا ختم نہیں ہوا تھا مگر باتیں ختم ہوگئی تھیں۔ ہم اپنے مہمان کو آرام سے نوالہ چباتے دیکھتے رہے۔ سوچتے رہے کہ اب کس موضوع گفتگو میں ان کو لگائیں۔ ہم کو چند واقعات اور اِدھر اُدھر کی باتیں یاد آئیں جو وہ اس سے پہلے ہمیں کئی مواقع پر سنا چکے تھے۔ بس یاد دلانے کی دیر تھی کہ وہ شروع ہو جاتے۔ مثلاً ہم کہہ سکتے تھے کہ: اگلے وقتوں کے لوگ جب یہ نعرہ لگاتے تھے کہ ’’عزت اور دولت سب مولاے عبدالعزیز کی‘‘ تو واللہ دل سے لگاتے تھے۔ ان کے لیے اتنا اشارہ کافی تھا؛ وہ سلطان مولاے عبدالعزیز اور آس پاس کے قبائل کی جنگ وجدال کے واقعات سلسلہ وار سنانا شروع کر دیتے یہاں تک کہ فرانسیسیوں کے ورود تک پہنچ جاتے۔ تاہم یہ سوچتے ہوے کہ یہ گفتگو اکتا دے گی، ہم نے مناسب سمجھا کہ خود انھی کے بارے میں بات چھیڑی جائے۔ اذان دینے اور نماز پڑھنے کے علاوہ باقی وقت کیونکر گزرتا ہے؟ حرمینِ شریفین سے واپسی کے بعد حشیش انھوں نے ترک کر دی تھی اور نئی اہلیہ کا بھی دور دور پتا نہیں تھا۔ آخر پھر وقت کس طرح کٹتا ہے؟ کیا وہ خود کو چلتی پھرتی لاش تصور کرتے ہیں؟ بظاہر اپنے اردگرد کی دنیا سے ان کا تعلق بہت محدود تھا۔ وہ بس ادھر ادھر کی باتیں سن سنا کر اپنی حاشیہ آرائی کے ساتھ سنا دیا کرتے تھے، اور بات ختم یوں کرتے تھے کہ اللہ نے اختیار یوں تو سب کو دے رکھا ہے مگر اصل اختیار اُسی کا ہے۔</p>
<p>صاحبزادہ کھانے پر ندیدوں کی طرح گرتا ہے۔ ممکن ہے اس وقت خالی الذہن ہو، مگر وہ آس پاس ہونے والی باتوں پر توجہ دیتا ہے، میکانیکی انداز ہی میں سہی۔ وہ سگریٹ کا مزہ، پڑوس کی لڑکیوں کا تعاقب اور فٹ بال کا چسکا بھی دریافت کر چکا ہے۔ تھوڑے سے استغراق کے بعد وہ گرما کی تعطیلات میں یوروپ کے سفر کی خواہش کا اظہار بھی کرتا ہے، چاہے اس کو وہاں پاپیادہ ہی کیوں نہ جانا پڑے، (جس سے اس کے سفر کے اخراجات میں اضافہ ہی ہو گا)۔</p>
<p>اور ہم؟ ہم بزرگوار اور صاحبزادے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ہم ان کے دل میں آنے والے خیالات کا اندازہ لگا رہے ہیں، ارد گرد کی دنیا سے ان کے رشتے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے بعد؟ قیلولہ۔ اور پھر؟ گھومیں پھریں گے، تازہ ہوا کھائیں گے۔ اور پھر؟ ہم اپنی رفیقہ کو ٹیلیفون کریں گے۔ کہیں ملیں گے، گپ لگائیں گے۔ ہماری حرارت بڑھے گی، جبلتیں کھل کھیلیں گی۔ پھر وہی بےزاری کا دور دورہ ہو گا۔ دونوں اپنی اپنی راہ لیں گے۔ پھر ہم اپنے دوستوں کے پاس جائیں گے۔ دنیا جہان کی باتیں کریں گے۔ کبھی مدح کریں گے کبھی ذم، اور یوں اپنے دل کا غبار نکالیں گے۔ مگر جب اپنی بےبسی کی انتہا کا اندازہ ہو گا تو سارا جوش بیٹھ جائے گا۔ ہم پھر سڑکوں پر نکل جائیں گے۔ عورتوں کے مدوّر اور بھرے بھرے جسموں کی جنبشیں دیکھ کر ہوس پھر سر اٹھائے گی۔ ہم اکثر اپنے متاہل احباب سے پوچھا کرتے ہیں، ’’تو گویا تمھاری اہلیہ اپنی صنف کی قائم مقام ہوتی ہے؟‘‘ ہم کو جواب یہ ملتا ہے، ’’ہرگز نہیں، بیوی سے محبت رکھنے کے باوجود بیوی والوں سے زیادہ کوئی دوسری عورت کا خواہاں نہیں ہوتا۔‘‘ ہم اس عقدے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، عقل کے مطابق توجیہہ کرتے ہیں۔ سبب اس کا سراسر اختلاطِ مردوزن، پُرکشش اشتہارات، میک اپ، اونچی ایڑی کی جوتی اور۔۔۔۔۔۔ اَور کیا ہے؟<br>
ہم نے اس کو یہ بتایا تو اس نے سختی سے ٹوکا:<br>
’’سب بکواس۔ محبت کی مدد سے ہم ہوس کو زیر کرسکتے ہیں۔‘‘<br>
’’اور محبت ہے کہاں ؟‘‘<br>
’’اچھا، تو تم بھی از قسمِ قنوطی ہو۔ مجھی کو لو۔‘‘ اس کی کہانی بھی عام قسم کی نکلی۔ وہ اسے کسی بوڑھے سے بیاہنا چاہتے تھے تو اس نے خودکشی کی دھمکی دی، اور ان دونوں نے تامرگ ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے کے وعدے وعید کیے وغیرہ وغیرہ۔</p>
<p>وہ ہماری بات سمجھا ہی نہیں؛ اس کے سامنے فرائڈ کا قول دہرانے کا کیا فائدہ: ’’میں خود کو اس خیال کا خوگر بنانے کی کوشش کررہا ہوں کہ ہر وصل میں چار افراد شریک ہوتے ہیں۔‘‘</p>
<p>ہم غلو سے کام لیتے ہیں اور وہ لمحہ ہم کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ صرف بوالہوسی نہیں جو دہلاتی اور اکساتی ہے۔ ترغیب تو جرم میں، خودکشی میں، شراب میں اور انقلاب میں بھی ہوتی ہے، مگر یہ دوسری قسمیں ہمیں اتنا نہیں اکساتیں، کیونکہ ان سے مانوسیت کو کوئی ٹھیس نہیں لگتی۔ اور لکھنا؟</p>
<p>میں چپ تھا اور وہ جواب دینے پر مائل نہ تھے؛ بس تسبیح کے دانے گن رہے تھے۔ عبدالباسط نے عرض کیا: ’’میں ہمیشہ سے جانتا آیا ہوں کہ جناب کے مقال میں وہ تاثیر ہے کہ آپ کے روبرو بڑے بڑے لسان گنگ رہ جاتے ہیں اور ان کے دماغ لاجواب۔۔۔۔۔۔ آپ اپنے دلآویز ارشادات سے صبح شام ہمارے حوصلے کچھ یوں بلند کرتے ہیں کہ ان ارشادات کے خوش آئند نقوش ہمارے نفوس پر ثبت ہوجاتے ہیں۔ ہم نے تو جناب کو مُدام اسی حالت میں پایا۔ پھر اب کیا ہوا؟‘‘<br>
شام کو ہمیں پھر وہی احساس ہوا کہ ہڈیاں بکھری جا رہی ہیں، اور ایک دلگیر اداسی بھی طاری ہو گئی۔ اس سے جان چھڑانے کے لیے ہم نے سوچا کہ ڈاکٹر کا وہی معروف نسخہ آزمایا جائے، مگر ہم کو تذبذب ہوا کہ ڈاکٹر نے وقت کا تعین کر دیا تھا: شام نہیں، صبح۔ تو کوچہ کوچہ آوارہ گردی کریں گے اور عوام الناس کے چہروں کو تاڑیں گے، شاید کوئی علاج سوجھ جائے۔ ہم کافی دیر گردش میں رہے۔ کیفے کھچاکھچ بھرے ہوے ہیں۔ بیئر کی بوتلیں چشم زدن میں خالی ہو رہی ہیں۔ قہقہے گونج رہے ہیں۔ ہر دم چلتی ہوئی رس نکالنے کی مشینیں کھڑکھڑا رہی ہیں۔ اس کے باوجود ہماری اداسی ہے کہ اَڑی کھڑی ہے، جانے کا نام ہی نہیں لیتی۔ کاریں تیزرفتاری سے گزرتی ہیں۔ بسیں سست اور ٹھساٹھس بھری ہوئی ہیں۔ سنیماؤں پر قدآور ہیرو اشتہار بنے کھڑے ہیں۔ یوں نظر آتا ہے کہ ہمارے چاروں طرف ہر شخص بھاگا چلا جا رہا ہے۔ جی چاہا ان کو روکنے کے لیے چلّائیں، ’’تم بھاگے جا رہے ہو!‘‘ مگر یہ خیال احمقانہ اور بےجواز سا لگا۔ ہم نے دل سے پوچھا، ’’کسی شے کو ثبات بھی ہے؟‘‘ پھر ہم اس حیات کی کہانی قلمبند کرنے کے لیے جو ہم قسطوں میں جیتے ہیں، گھر لوٹ آئے۔</p>
<p>Image: Tyrone Hart<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div class="urdutext">آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے <a href="https://laaltain.pk/author/aaj/" target="_blank" rel="noopener">کلک</a> کریں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/qiston-mein-hayat/">قسطوں میں حیات (محمد برّادا)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/qiston-mein-hayat/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اُس کے قدموں کی مدھم آہٹ (ڈم بڈزو مارےچیرا)</title>
		<link>https://laaltain.pk/us-k-qadmon-ki-madham-ahat/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/us-k-qadmon-ki-madham-ahat/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[آج]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 24 Jan 2019 10:44:12 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[aaj]]></category>
		<category><![CDATA[ajmal kamal]]></category>
		<category><![CDATA[atta siddiqi]]></category>
		<category><![CDATA[Dambudzo Marechera]]></category>
		<category><![CDATA[آج]]></category>
		<category><![CDATA[اجمل کمال]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ترجمہ]]></category>
		<category><![CDATA[افریقی کہانی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈم بڈزو مارےچیرا]]></category>
		<category><![CDATA[زمبابوے ناول نگار]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی ادب]]></category>
		<category><![CDATA[عطا صدیقی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24056</guid>

					<description><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”] ناول نگار، افسانہ نویس اور شاعر ڈم بڈزو مارے چیرا (Dambudzo Marechera) کا تعلق زمبابوے سے تھا۔ ان کے ادبی ورثے میں افسانوں کا ایک مجموعہ، دو ناول (جن میں سے ایک ان کی وفات کے بعد شائع ہوا)، نظم، نثر اور ڈراموں کا ایک مجموعہ اور شاعری کی ایک کتاب (یہ کتاب [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/us-k-qadmon-ki-madham-ahat/">اُس کے قدموں کی مدھم آہٹ (ڈم بڈزو مارےچیرا)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">
<p>ناول نگار، افسانہ نویس اور شاعر <strong>ڈم بڈزو مارے چیرا </strong>(Dambudzo Marechera) کا تعلق زمبابوے سے تھا۔ ان کے ادبی ورثے میں افسانوں کا ایک مجموعہ، دو ناول (جن میں سے ایک ان کی وفات کے بعد شائع ہوا)، نظم، نثر اور ڈراموں کا ایک مجموعہ اور شاعری کی ایک کتاب (یہ کتاب بھی ان کی وفات کے بعد شائع ہوئی) شامل ہیں۔ ان کی کہانی The Slow sound of His Feet کا ترجمہ عطا صدیقی نے کیا ہے جو آج کے شمارہ نمبر 9 میں شامل ہے۔</p>
<p><strong>عطا صدیقی</strong> (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔</p>
<p>عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے <a href="https://www.facebook.com/pages/category/Bookstore/City-Press-Bookshop-1574804906077834/" target="_blank" rel="noopener">سٹی پریس بک شاپ</a> یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:<br>
عامر انصاری: 03003451649</p>
</div>
<p>[/blockquote]<br>
تحریر: ڈم بڈزو مارے چیرا (4 جون 1952 تا 18 اگست 1987)<br>
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
اُس کے قدموں کی مدھم آہٹ<br>
لیکن جو کسی دن میں یکسوئی سے اس گوشے میں بیٹھ کر کان لگاؤں<br>
تو شاید میں اس جانب اُس کے قدموں کی مدّھم آہٹ پاؤں<br>
جے ڈی سی پےلو</p>
<p>گزشتہ شب میں نے خواب دیکھا کہ پروشیا کے سرجن جاہن فریڈرخ ڈائی فن باخ نے تشخیص کر دیا کہ میں بولنے میں اٹکتا اس لیے ہوں کہ میری زبان بہت زیادہ لمبی ہے اور اس نے نوک اور کناروں سے ٹکڑے کاٹ چھانٹ کر اس دراز عضو کو متناسب کر دیا۔ والدہ نے یہ بتانے کے لیے مجھے جگایا کہ والد کو چورنگی پر کسی تیزرفتار کار نے ٹکر مار دی۔ میں ان کی شناخت کے لیے مردہ خانے گیا۔ اُن لوگوں نے ان کی کھوپڑی دوبارہ دھڑسے ملا کر سی رکھی تھی اور ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ میں نے ان کو بند کرنے کی کوشش کی مگر وہ کسی جتن بند ہی نہیں ہوئیں۔ اور پھر ہم نے ان کو اسی طرح دفن کر دیا کہ ان کی آنکھیں اوپر کی جانب تک رہی تھیں۔</p>
<p>جس وقت ہم نے ان کو دفنایا، بارش ہو رہی تھی۔</p>
<p>بارش ہو رہی تھی جس وقت میری آنکھ کھلی، اور میری نگاہیں انھیں تلاش کرنے لگیں۔ ان کا پائپ مینٹل پیس پر اسی جگہ موجود تھا جہاں رکھا ہوتا تھا۔ جس وقت میری نظر اس پر پڑی، بارش بہت تیز ہو گئی اور ٹین کی اس چھت پر جسے ان کی یاد کہیے، تڑاتڑ گرنے لگی۔ ان کی چرمی جلد والی کتابیں بک شیلف پر گم سُم اور سیدھی تنی کھڑی تھیں، جن میں سے ایک اولیور بلڈشٹائن کی لکھی ’’رہنمائے لکنت‘‘ تھی۔ وہیں ایک لوح بھی تھی جو اس اصل کی ہوبہو نقل تھی جس پر صدیوں قبلِ مسیح لکنت کی اذیت سے نجات پانے کی دلی دعا خطِ پیکانی میں تحریر تھی۔ انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ موسیٰ، ڈیموستھینیز اور ارسطو کو بھی لکنت کی شکایت تھی اور یہ کہ شہزادہ باٹس نے ہاتف کی ہدایت پر شمالی افریقیوں پر فتح حاصل کر کے اپنی لکنت کو زیر کیا تھا، اور یہ بھی کہ ڈیموستھینیز نے کنکر منھ میں لے کر سمندر کے شور سے زیادہ پاٹ دار آوازیں نکال کر خود کو بغیر اٹکے بولنا سکھایا تھا۔</p>
<p>جب میں بستر پر دراز ہوا اور میں نے اپنی آنکھیں موندیں، بارش جاری تھی اور میں ان کو بھیگی قبر میں پاؤں پسارے اور اپنے نچلے جبڑے کو حرکت دینے کی کوشش کرتے دیکھ سکتا تھا۔ جب میری آنکھ کھلی تو میں خود اپنے وجود میں ان کو محسوس کر سکتا تھا۔ وہ کچھ بولنے کی کوشش کر رہے تھے، مگر میں بول نہیں سکتا تھا۔ ارسطو نے میری زبان کے بارے میں زیرلب کچھ کہا کہ غیرمعمولی موٹی اور سخت ہے۔ بقراط نے تب زبردستی میرا منھ کھولا اورآبلے ڈالنے والی اشیا میری زبان پر ڈالیں تاکہ فاسد مادّہ بہہ نکلے۔ کیلس نے سر ہلایا اور بولا، زبان کو بھرپورغرغرہ اور مالش درکار ہے۔ مگر جالینوس نے، وہ پیچھے کیسے رہ جاتا، بتایا کہ میری زبان محض بہت زیادہ سرد اور نم ہے۔ اور فرانسس بیکن نے تندوتیز شراب کا ایک جام تجویز کیا۔</p>
<p>شراب خانے کی طرف جاتے ہوے میں نے ٹاؤن شپ کے پھاٹک پر فوجی گاڑیوں کی ایک لمبی قطار دیکھی۔ وہ سب کے سب گورے سپاہی تھے۔ ان میں سے ایک کودا اور اپنی بندوق میرے جسم میں چبھاتے ہوے میرے شناختی کاغذات دیکھنے کو مانگے۔ میرے پاس فقط یونیورسٹی کا شناختی کارڈ تھا۔ اس کی پڑتال میں اس نے اتنی دیر لگائی کہ میں حیران ہوا کہ نہ جانے اس میں کیا خامی نکل آئی۔</p>
<p>’’پسینے کیوں چھوٹ رہے ہیں تمھیں؟‘‘ اس نے پوچھا۔<br>
میں نے جیب سے کاغذ اور پنسل نکالی، کچھ لکھا اور اسے دکھایا۔<br>
’’گونگے ہو، ایں؟‘‘<br>
میں نے اقرار میں سر ہلایا۔<br>
’’اور سمجھتے ہو میں بھی بس گونگا ہی ہوں، ایں؟‘‘<br>
میں نے انکار میں اپنا سر ہلایا، لیکن اس سے پہلے کہ میں سر کی جنبش کو روکتا، اس نے بڑھ کر میرے جبڑے پر ایک تھپڑ دے مارا۔ بہتے ہوے خون کو پونچھنے کے لیے میں نے اپنا ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ اس کو راہ ہی میں روک کر اس نے مجھے دوبارہ مارا۔ میرے مصنوعی دانت چٹخ گئے اور میں ڈرا کہ کہیں کرچیاں نگل نہ جاؤں، سو اپنا ہاتھ منھ تک لائے بغیر میں نے ان کو تھوک دیا۔<br>
’’دانت بھی نقلی،ایں؟‘‘<br>
میری آنکھیں جل رہی تھیں۔ میں اس کو صاف طور سے دیکھ بھی نہیں سکتا تھا، مگر میں نے اقرار میں سر کو ہلایا۔<br>
’’تو شناخت بھی نقلی؟‘‘<br>
بہت شدت سے جی چاہا کہ اپنے جبڑوں کو حرکت دوں اور اپنی زبان کو مجبور کروں کہ وہ سب کچھ دُہرا دے جو میرا شناختی کارڈ اس گورے پر ظاہر کر چکا تھا، لیکن میں صرف بےمعنی غوں غوں ہی کر پایا۔ میں نے اس کاغذ اور پنسل کی طرف اشارہ کیا جو زمین پر گر چکی تھی۔<br>
اس نے سر ہلا دیا۔<br>
لیکن جوں ہی میں انھیں اٹھانے کے لیے جھکا، اس نے اچانک اپنا گھٹنا یوں دے مارا کہ میری گردن تقریباً توڑ ڈالی۔<br>
’’توپتھر ڈھونڈ رہے تھے تم، ایں؟‘‘</p>
<p>میں نے انکار میں سر ہلایا جس سے اتنی شدید تکلیف ہوئی کہ میں سر کا ہلنا روک نہیں سکا۔ اپنے پیچھے سے مجھے دوڑتے قدموں کی دھمک اور اپنی والدہ اور بہن کی چیخ پکارسنائی دی۔ پھر بندوق دغنے کا زوردار دھماکا ہوا۔ اَدھ رستے میں والدہ کو گولی لگی، اور ان کا جسم اس کی بُودار ہوا سے ٹھٹکا، اور ان کی نظریں سامنے گری رہیں۔ ایک سیکنڈ بعد ان کے اندر جیسے کچھ ٹوٹا اور وہ تیورا کر ڈھیر ہو گئیں۔</p>
<p>میری بہن کا میرے چہرے کو چھونے کے لیے بڑھا ہوا ہاتھ خود اس کے اپنے کھلے ہوے منھ کی سمت لپکا، اور میں دیکھ سکتا تھا جیسے وہ میرے منھ سے چیخنے کی خاطر اپنے صوتی عضلات پر زور ڈل رہی ہو۔</p>
<p>والدہ نے ایمبولینس میں دم توڑ دیا۔</p>
<p>جب میں نے ان کو دفنایا، سورج اپنی بےزبانی سے چنگھاڑ رہا تھا۔ اس کی آب دار چمک کے گرد گرم اور سرد ہالے تھے۔ میری بہن اور میں، ہم دونوں واپس گھرلوٹنے کے لیے چارمیل پیدل چلتے صرف افریقیوں کے ہسپتال، صرف یورپیوں کے ہسپتال، برٹش ساؤتھ افریقہ پولیس کیمپ، پوسٹ آفس اور ریلوے اسٹیشن کے پاس سے گزرتے اور میل بھر چوڑے سبزہ زار کو پار کرتے، کالوں کی ٹاؤن شپ میں پہنچے۔</p>
<p>کمرہ اتنا خاموش تھا کہ میں محسوس کر سکتا تھا کہ وہ مجھ سے ہم کلام ہونے کے لیے اپنی زبان ہلانے اور جبڑے چلانے کی کوشش کر رہا ہے۔ میں کمرے کی کڑیوں کو گھور رہا تھا۔ میں اپنی بہن کو اپنے کمرے میں، جو میرے کمرے کے ساتھ ہی تھا، بےچینی سے اِدھر اُدھر ٹہلتے ہوے سن سکتا تھا۔ میں خود ان کو اپنے وجود میں شدت سے محسوس کر سکتا تھا۔ میرے لوہے کے پلنگ، میری ڈیسک، میری کتابوں اور میرے ان کینوسوں کے سوا جن پر میں ایک مدت سے اپنے اندر کی خاموش مگر بےچین آواز کے احساس کو پینٹ کرنے کی کوشش کرتا رہتا تھا، میرے کمرے میں کچھ نہیں تھا۔ میں نے جلتے ہوے آنسوؤں کو روکا اور ان کو اپنے وجود میں اتنی شدت سے محسوس کیا کہ میں برداشت نہ کر سکا۔ لیکن دروازہ رحم دلانہ وا ہوا، اور وہ ان کے ہاتھ کو سہارا دیے انھیں اندرلائے۔ وہ بےداغ سفید پیرہن میں ملبوس تھیں۔ ایک ہلکی نیلگوں روشنی ان میں ظہور کر رہی تھی۔ ان کے چھوٹے چھوٹے پیروں میں چمکدار سیف چمڑے کے سینڈل تھے۔ ان کے گوشت پوست سے عاری چہرے، آنکھوں کی جگہ خالی گڑھوں، نکلی ہوئی کھیسوں (ان کا ایک دانت تھوڑا جھڑ گیا تھا) اور رخسار کی ابھری ہڈیوں اور بےدردی سے گم ناک، ان سب کے مقناطیسی سحر سے میری نظریں ان پر جم کر رہ گئیں۔ یہاں تک کہ یوں لگا جیسے میری پھٹی پھٹی آنکھیں ان کی بےلوچ اور بےحس موجودگی میں دفعتاً جذب ہو گئی ہوں۔</p>
<p>وہ سیاہ لباس میں تھے۔ والدہ کا بے گوشت پوست ہاتھ ان کی بے گوشت پوست انگلیوں میں ساکت پڑا تھا۔ ان کا سر، جو دوبارہ ٹھیک طرح سے سیا نہیں گیا تھا، ایک جانب تشویشناک حد تک ڈھلکا ہوا تھا، اور یوں لگتا تھا جیسے اب گرا کہ تب گرا۔ ان کی کھوپڑی میں پیشانی کے درمیان سے لے کر نچلے جبڑے تک ایک نوکیلے کناروں والی دراڑ پڑی ہوئی تھی۔ کھوپڑی کو بھی اس حد تک بےڈھنگےپن سے اپنی اصلی حالت پر جمایا گیا تھا کہ لگتا تھا کسی بھی لمحے علیحدہ ہو کر بکھر جائے گی۔</p>
<p>میری آنکھوں کا درد ناقابلِ برداشت تھا۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ جب میں نے آنکھیں کھولیں، وہ جا چکے تھے۔ ان کی جگہ اب میری بہن کھڑی تھی۔ وہ گہرے گہرے سانس لے رہی تھی، جن کی وجہ سے میرے سینے میں ایک درد اٹھا۔ میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اس کو چھوا۔ وہ حرارت سے پُر تھی اور زندہ تھی اور اس کی ہی سانس میری آواز میں ایک دردناک اندیشہ بن گئی تھی۔ مجھے کچھ نہ کچھ کہنا لازم تھا۔ مگر اس سے پہلے کہ میری ذرا سی بھی آواز نکلتی، وہ میرے اوپر جھکی اور پیار کر لیا، جس کی تپتی تمتماہٹ سے لرز کر ہم دونوں ایک دوسرے سے چمٹ گئے۔ باہر رات ہماری چھت پر منھ ہی منھ میں اول فول بک رہی تھی اور ہوا نے کھڑکیوں پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی اورہم کہیں دور سے فوجی بینڈ کو تانیں اڑاتے سن سکتے تھے۔</p>
<p>Artwork by Dariusz Labuzek<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div class="urdutext">آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے <a href="https://laaltain.pk/author/aaj/" target="_blank" rel="noopener">کلک</a> کریں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/us-k-qadmon-ki-madham-ahat/">اُس کے قدموں کی مدھم آہٹ (ڈم بڈزو مارےچیرا)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/us-k-qadmon-ki-madham-ahat/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
