<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>محمد جمیل اختر Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%AC%D9%85%DB%8C%D9%84-%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/محمد-جمیل-اختر/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Sat, 01 Jun 2024 20:31:03 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>محمد جمیل اختر Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/محمد-جمیل-اختر/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>گُم شُدہ شہر کی کہانی (محمد جمیل اختر)</title>
		<link>https://laaltain.pk/gum-shuda-sheher-ki-kahani/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/gum-shuda-sheher-ki-kahani/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد جمیل اختر]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 21 Aug 2020 17:46:36 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Marcus Jansen]]></category>
		<category><![CDATA[muhammad jameel akhtar]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[محمد جمیل اختر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25707</guid>

					<description><![CDATA[<p>میں نے تو اُسے بتایا بھی تھا کہ میرا دل ایک پانچ سال کے بچے جتنا ہے،میں اِن کتوں اور مچھروں سے لڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتا</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/gum-shuda-sheher-ki-kahani/">گُم شُدہ شہر کی کہانی (محمد جمیل اختر)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>آدھی رات کو اُس نے اپنے گھر کے دروازے پہ دستک دی تو اُسے یوںمحسوس ہوا کہ وہ ساری عُمر دستک دیتا رہے گااوریہ دروازہ کبھی بھی نہیں کھُلے گا۔۔۔وہ جوان ہوگیا تھا لیکن اُس کا دل پانچ سال کے بچے جیسا تھا،اُس نے بہت چاہاکہ وہ بڑا ہوجائے لیکن ہر بارناکام رہا اب جب کہ وہ ایک پینتیس سال کا جوان آدمی تھاتو وہ کوشش کرتا کہ ہراُس صورت حال سے بچے کہ جس سے لوگوں کو اُس کے ’’پانچ سالہ دل‘‘ کے بارے معلوم ہوجائے۔۔</p>
<p>جب تک یہ آدمی دروازے پہ کھڑا ہے،اِتنی دیر میں ہم درج ذیل تین باتیں پڑھ لیتے ہیں<br>
ٌ*افشین نے ایک عمارت کے چوتھے فلور سے چھلانگ لگاکر خودکشی کرلی۔<br>
**افشین کے باپ نے چارلاکھ کا انگلش بُل ڈاگ منگوالیا۔۔<br>
***افشین نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پر لکھا ’’میں اِن زہریلے مچھروں سے تنگ ہوں، شاید میں جلد مرجاؤں ‘‘</p>
<p>بھلا اِن باتوں کاآپس میں کوئی تعلق ہوسکتا ہے؟بہت سی باتوں کا آپس میں گہرا تعلق ہوتا بھی ہے اور نہیں بھی ہوتا۔۔</p>
<p>اس کہانی کو لکھنے کے لیے مجھے مکمل خاموشی چاہیے جو ایک کمرے کے مکان میں میسر نہیں سو مجھے بار بار گلی میں جاکر سگریٹ پھونک کر کرداروں کے بارے سوچنا پڑتا ہے سو آپ کو وقفوں وقفوں میں مختلف کرداروں کی کہانی پڑھناہوگی۔۔۔میری بیوی کا خیال ہے کہ کہانیاں لکھنے سے گھر نہیں چل سکتا، میرا بھی یہی خیال ہے لیکن میں اب کیا کرسکتاہوں۔۔۔وہ مجھے بتارہی ہے کہ میرے بھائی نے اپنا مکان لے لیا ہے۔</p>
<p>’’ ہم کب تک کرائے کے ایک کمرے میں رہیں گے؟‘‘میرے پاس اِس بات کا کوئی جواب نہیں۔۔۔</p>
<p>میں سگریٹ پینے گلی میں چلا جاتا ہوں۔۔۔واپسی پر میری بیوی کی آنکھ لگ چکی تھی۔۔۔آئیے ! ہم کہانی کی جانب لوٹتے ہیں۔۔</p>
<p>اب جب کہ وہ بڑا ہوچکاتھا لیکن دل بالکل بچوں جیسا ہونے کی وجہ سے راتوں کو روتا رہتا اُس کی پوری کوشش ہوتی کہ وہ اخبار نہ پڑھے لیکن جب کبھی لوگ اُس کے سامنے کسی خبر پربحث کرتے تو وہ کوئی جواب نہ دیتاکہ شاید لوگ موضوع بدل لیں۔ قتل وغارت اوردھماکوں کی خبروں سے وہ بے انتہااُداس ہوجاتالیکن اُس شہر کے لوگ زندگی کی بجائے موت کے بارے زیادہ گفتگوکرتے،وہ جلدی جلدی اپنے گھرپہنچتا اور ساری رات کانوں میں ہیڈفون لگاکر گانے سُنتا رہتا اور کمبل میں منہ چھپا کرروتے روتے سو جاتا۔۔جوں جوں اُس کی عمر بڑھتی جارہی تھی،شہر بدلتا جارہا تھااور قتل وغارت کی خبریں بڑھ گئی تھیں، وہ دعا کرتا کہ ’’ یاخدا اِس شہر کو کوئی قانون عطافرما‘‘</p>
<p>وہ نوجوان ابھی تک دروازے پہ کھڑا کانپ رہا ہے لیکن دروازہ نہیں کُھل رہا۔۔کوئی تو دروازہ کھولے کہ بڑی مشکلوں کے بعد اُسے اپنا گھر ملا تھایہاں پہنچنے سے پہلے وہ شہر کی کئی گلیاں دوڑتا رہا تھا، دراصل اُس کے پیچھے کتے پڑ گئے تھے، ایک گلی کے سِرے پر چند لڑکے کتوں کی لڑائی کرانے کا سوچ رہے تھے، رات کافی بیت چکی تھی اور اُس نے دیکھا کہ تمام کتے نیند میں اونگھ رہے ہیں،لڑکوں نے کتوں کو چابک رسید کیے تو کتوں نے بھونک بھونک کر سارا شہر جگادیا۔۔۔</p>
<p>وہیں ایک بچی رو رہی تھی۔۔۔</p>
<p>’’یہ رو کیوں رہی ہے ؟‘‘ اُس نوجوان نے سوچا،شاید وہ بھی کتوں سے ڈر گئی ہے۔وہ اُسے حوصلہ دے کر چپ کرانا چاہتا تھا لیکن اُس کا اپنا ڈر کے مارے برا حال تھا سواُس کی آواز اندر ہی دب گئی۔۔وہ ننھی لڑکی دوڑ کے آگے بڑھ جاتی ہے لیکن یہ کیا وہ پھر واپس آرہی ہے شاید آگے گلی بند تھی یا پھر آگے بھی کتے تھے،اُسے یوں محسوس ہورہا تھا کہ جیسے شہر کو کتوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے۔۔حالانکہ افشین نے اُسے درج ذیل تین باتیں بتائی تھیں۔۔</p>
<p>*اِس شہر میں ایسے مچھر ہیں جن کے سر آدمیوں کی طرح ہیں اورروز بَہ روز اِن کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہاہے۔۔۔<br>
**میرے باپ نے میری ماں کو طلاق دے دی ہے،وہ باہر سے کتے امپورٹ کرتا تھالیکن میر ی ماں کو اعتراض تھاسو اُس نے طلاق دے دی۔۔۔۔<br>
***اب میں جہاں رہتی ہوں وہاں ہر طرف مچھر ہی مچھر ہیں، مجھے اُمید ہے تم مجھے اِس شہر سے ضرور دور لے جاؤ گے۔<br>
۔<br>
اُس ننھی لڑکی کی آنکھوں میں ایسا خوف تھا جو کتوں اور لڑکوں کے سوا ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا تھا۔۔</p>
<p>وہ آدمی کہ جس کا دل پانچ سال کے بچے جیسا تھا، ڈر گیا اُس نے سوچا ’’اِن کتوں کو کوئی روکتا کیوں نہیں ؟‘‘</p>
<p>لیکن اِس شہر میں اب کوئی کسی کونہیں روک سکتا تھا۔۔</p>
<p>یہ بالکل نیا شہر تھا، پرانا شہر آہستہ آہستہ معدوم ہوتے ہوتے آج مکمل طور پہ گُم ہوگیا تھا۔</p>
<p>وہ وہاں سے بھاگا کہ اُسے پرانا شہر ڈھونڈنا تھا۔۔۔</p>
<p>’’کیایونہی بھاگتا جاؤں، بھاگتا جاؤں تو مجھے گُم ہوا شہر مل جائے گا؟‘‘اُس نے اپنے آپ سے سوال کیا تھا</p>
<p>’’نہیں، نہیں، نہیں۔۔۔گُم ہوئے شہر کبھی نہیں ملتے ‘‘اندر سے جواب ملا تھا۔۔۔</p>
<p>وہ اِس نئے شہر سے بھاگ جانا چاہتا تھا،چند روز پہلے افشین نے اُسے بتایا تھا کہ<br>
* وہ تو اِس شہر سے دور جانے والی ہے بہت دوربلکہ خواب میں اُس نے ایک گاڑی بھی پکڑ لی تھی جس پہ وہ بغیر ٹکٹ سوار ہوگئی تھی اور اُس نے کئی ہزارکلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے یہ شہر پارکرلیا تھا، خوا ب میں انسان بہت تیز سفر کرتا ہے،صدیوں بھرا دن لمحوں میں کٹ سکتا ہے۔</p>
<p>’’ہوسکتا ہے یہ زندگی عرصہِ خواب ہو؟‘‘ اُس نے افشین سے پوچھا تھا۔</p>
<p>’’نہیں بالکل نہیں، یہاں ایک ایک لمحہ صدیاں بن گیا ہے یہ خواب نہیں ہوسکتا‘‘افشین نے کہا تھا۔۔</p>
<p>’’اِس سے پہلے کہ دالیں سبزیوں کے بھاؤ، سبزیاں گوشت کی قیمت پر بکیں اور گوشت ہماری قوتِ خرید سے باہر ہوجائے ہمیں اُس سے پہلے اِس شہر سے بھاگ کر شادی کرلینی چاہیے ‘‘افشین نے کہا تھا۔</p>
<p>’’لیکن میری تو شادی ہوچکی ہے میرا ایک بچہ بھی ہے پھر بھی تم مجھے سے شادی کرنا چاہتی ہو تو سنو،ہم ضرور شادی کرلیں گے، بس کچھ رقم میرے ہاتھ آجائے،میں روپے جمع کررہا ہوں،مجھے کچھ وقت چاہیے۔‘‘</p>
<p>’’وقت ہی تو نہیں ہے ‘‘افشین نے کہا تھا اور اُس کے پاس واقعی وقت نہیں تھا،اُس نے آج ایک بلڈنگ سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی تھی۔۔۔اُس شہر میں اب ایسا کوئی قانون نہیں تھا جس سے یہ ثابت کیا جاسکتاکہ اُس نے بلڈنگ سے چھلانگ لگائی تھی یا اُسے مچھروں نے نیچے پھینکا تھا۔۔</p>
<p>وہ ڈرا ہوا لڑکا بھاگتا بھاگتا ایک گلی میں داخل ہوا جو اُس کی اپنی گلی ہی کی طرح تھی لیکن اُس کا گھر کہیں موجودنہیں تھا۔۔۔صبح تک تو اُس کا گھر اِسی گلی میں موجودتھا، معلوم نہیں اب اُس کا گھر کہاں ہے۔۔ابھی وہ یہ سو چ ہی رہا تھا کہ ایک لڑکا ہاتھ میں کتے کی رسی پکڑے اُس کے سامنے آگیا، لڑکے اور کتے کی آنکھوں میں وحشت صاف دکھائی دے رہی تھی۔۔</p>
<p>’’دیکھو مجھ سے لڑنا مت،مجھے لڑنا نہیں آتا ‘‘اُس نے گھبرا کر کتے والے نوجوان سے التجا کی ۔</p>
<p>لڑکے نے اُس کا گریبان پکڑ لیا اور ایک زور دار تھپڑ اُسے رسید کیا۔۔</p>
<p>’’دیکھومجھے چھوڑ دو میں ڈر اہوا انسان ہوں، میرے ماں باپ بھی ڈرے ہوئے تھے انہوں نے مجھے سکھایا تھا کہ کسی سے مت لڑنا ‘‘۔</p>
<p>لڑکے نے اُسے دھکا دے کر نیچے گرا دیا’’سالے اتنے بڑے ہوگئے ہو ڈرتے ہو، یہ لو کتا اور شہر کی گلی گلی میں گھومو‘‘۔</p>
<p>’’کتا۔۔۔نہیں مجھے کتوں سے خوف آتا ہے ‘‘</p>
<p>’’خوف ؟ اب بھلا کس بات کا خوف؟ اب تو شہر میں انسانوں سے زیادہ کتے ہیں۔۔۔‘‘</p>
<p>وہ وہاں سے بھاگا توکتے والے لڑکے نے پیچھے سے آواز لگائی تھی ’’نئے شہر میں رہنے کے لیے ہمارے جیسے ہوجاؤ، ورنہ تمہیں شہر چھوڑنا پڑے گا‘‘۔</p>
<p>وہ بھاگتا رہا، بھاگتا رہا حتٰی کہ اپنے گھر کے دروازے پر پہنچ گیا۔۔۔لیکن اب دروازہ نہیں کُھل رہاتھا۔۔</p>
<p>’’آپ رات کے اِس وقت باہر کیوں گئے تھے ؟‘‘ میں آپ سے معذرت چاہتا ہوں دراصل میری بیوی کی آنکھ پھرکُھل گئی ہے۔</p>
<p>’’سگریٹ پینے گیا تھا‘‘ میں نے اُسے بتایا۔</p>
<p>’’چارپیسے جو کماتے ہو، وہ بھی دھوئیں میں اُڑا دیتے ہو۔۔۔اِس بچے کو دیکھو،کل کو اِس نے سکول جانا ہے کچھ بننا ہے کیا تم نے اِس بارے کچھ سوچا ہے؟ـ‘‘میرے پاس اِن میں سے کسی سوال کا جواب نہیں۔۔</p>
<p>رکیے! میں سگریٹ پی کر آتا ہوں۔</p>
<p>’’اب پھر باہر جارہے ہو۔۔۔؟تم کبھی بھی ہمارے بارے نہیں سوچتے ‘‘۔</p>
<p>میں اپنے ایک کمرے کے مکان سے باہر آجاتا ہوں، باہر بے انتہاسردی ہے لیکن میرے اندر آگ جل رہی ہے، سگریٹ سلگاکر میں نے سامنے دیکھا تو ایک آدمی تھر تھر کانپ رہا تھا۔</p>
<p>’’کیا ہوا؟خیریت تو ہے ؟‘‘میں نے پوچھا۔</p>
<p>آدمی نے سراُٹھایا۔۔۔</p>
<p>’’تم؟؟؟؟؟ ‘‘</p>
<p>’’تم یہاں کیا کررہے ہو، تم تو کہانی میں تھے ‘‘میں نے اُس سے پوچھا۔</p>
<p>اُس آدمی نے میرا گریبان پکڑلیا۔</p>
<p>’’سالے، مجھے یہاں اکیلا کھڑا کرکے تم نے اچھا نہیں کیا،شہر میں ہرطرف کتے ہی کتے دندنا رہے ہیں اور یہ چوٹیں دیکھو جو بھاگ بھاگ کر لگی ہیں، اب یہ دروازہ کھلواؤ ورنہ میں خوف سے مرجاؤں گا‘‘وہ رونے لگ گیا۔</p>
<p>’’لیکن تم تو کہانی میں تھے تم یہاں کیسے پہنچے ہو؟‘‘</p>
<p>’’دروازہ کھلواؤ، میں مرجاؤں گا،یہ شہر اب رہنے کے قابل نہیں رہا‘‘وہ چلایا۔</p>
<p>’’جب اِتنا حوصلہ نہیں تھا تو محبت کیوں کی تھی ؟‘‘میں چلایا۔</p>
<p>’’میں نے تو اُسے بتایا بھی تھا کہ میرا دل ایک پانچ سال کے بچے جتنا ہے،میں اِن کتوں اور مچھروں سے لڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتا،<br>
خدا کے لیے دروازہ کھلواؤمیرا دل خوف سے پھٹ جائے گا‘‘</p>
<p>’’اندر آجائیے باہر بہت سردی ہے ‘‘میری بیوی نے کھڑکی سے کہا تھا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/gum-shuda-sheher-ki-kahani/">گُم شُدہ شہر کی کہانی (محمد جمیل اختر)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/gum-shuda-sheher-ki-kahani/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ہندسوں میں بٹی زندگی اور دیگر کہانیاں (محمد جمیل اختر)</title>
		<link>https://laaltain.pk/hindson-mein-bati-zindagi-and-other-stories/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/hindson-mein-bati-zindagi-and-other-stories/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد جمیل اختر]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 09 May 2019 18:08:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Banksy]]></category>
		<category><![CDATA[jameel akhtar]]></category>
		<category><![CDATA[Micro Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[micro fiction urdu]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu literature]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[جدید ادب]]></category>
		<category><![CDATA[مائکرو فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[محمد جمیل اختر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24555</guid>

					<description><![CDATA[<p>ہندسوں میں بٹی زندگی ’’ وارڈ نمبر چار کے بیڈ نمبر سات کی مریضہ کے ساتھ کون ہے ؟‘‘ ’’ جی میں ہوں” ’’مبارک ہو ، آپ کا بیٹا ہوا ہے‘‘ اُس لڑکے کو کمیٹی کے اُس سال کے رجسٹر میں تین ہزار بارہ نمبر پردرج کردیا گیاتھا۔ سکول میں وہ لڑکا ۸۰ اور ۹۰ [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/hindson-mein-bati-zindagi-and-other-stories/">ہندسوں میں بٹی زندگی اور دیگر کہانیاں (محمد جمیل اختر)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">ہندسوں میں بٹی زندگی</div>
<p>’’ وارڈ نمبر چار کے بیڈ نمبر سات کی مریضہ کے ساتھ کون ہے ؟‘‘<br>
’’ جی میں ہوں”<br>
’’مبارک ہو ، آپ کا بیٹا ہوا ہے‘‘</p>
<p>اُس لڑکے کو کمیٹی کے اُس سال کے رجسٹر میں تین ہزار بارہ نمبر پردرج کردیا گیاتھا۔</p>
<p>سکول میں وہ لڑکا ۸۰ اور ۹۰ نمبر لینے کی دوڑ میں لگا رہا، نوکری حاصل کی تو بے تحاشا کامیاب رہا اور قریبی لوگ اُسے اُس کی تنخواہ کی رقم ، موبائل نمبر، گاڑیوں اور بنگلوں کی تعداد سے جانتے تھے، وہ رقم کی گنتی کو بڑھانے کے لیے دن رات دوڑتا رہا حتٰی کے بوڑھا ہوکرہسپتال میں داخل ہوگیا۔۔۔</p>
<p>’’ وارڈ نمبر ۵ کے بیڈ نمبر چھ کے مریض کے ساتھ کون ہے؟‘‘<br>
’’ جی فرمائیے‘‘<br>
’’ سوری ہم نے بہت کوشش کی لیکن۔۔۔۔۔‘‘</p>
<p>گورکن نے پلاٹ نمبر چھ میں قبر نمبر پانچ سو بارہ تیار کرلی۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">اصل چہرہ</div>
<p>گزشتہ دس سال سے اُس نے اتنے چہرے تبدیل کئے تھے کہ وہ خود بھی تقریباً بھول گئی تھی کہ اُس کا اصل چہرہ کون سا ہے۔ ہر کچھ عرصہ بعد وہ اپنے چہرے سے اُکتا جاتی یا پھر اُس کے اِردگرد موجود لوگ ایسی صورت حال پیدا کردیتے کہ اُسے نئے ماحول میں ڈھلنے کے لیے اپنا چہرہ بدلنا پڑتا۔<br>
گھر کے ایک کونے میں جہاں وہ اپنے بچوں کو نہیں جانے دیتی تھی، مختلف طرح کے چہروں کا ڈھیر پڑا رہتا تھا، وہ گھر سے نکلنے سے پہلے جگہ اور لوگوں کی مناسبت سے چہرہ پہن لیتی۔<br>
لیکن اب پچھلے دو ماہ سے وہ جس نئی کمپنی میں کام کررہی تھی وہاں اُسے مسلسل ایک ہی مسکراہٹ بھرا چہرہ سجائے کاونٹر پر بیٹھنا پڑتا تھا۔۔۔<br>
اُس کی تنخواہ کم تھی اور مسائل زیادہ تھے وہ وہاں بیٹھے اپنے مسائل کے بارے سوچتی رہتی لیکن اُسے ہر آنے والے کسٹمر کو مسکرا کر خوش آمدید کہنا پڑتا تھا۔<br>
ایک روز جب وہ بے حد پریشان تھی ، اُس نے چہروں کے ڈھیر سے اپنا اصل چہرہ نکالا اور پہن کر دفتر آگئی۔۔۔</p>
<p>اُس دفتر میں یہ اُس کا آخری دن تھا۔۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">دو منظر</div>
<p><strong>پہلا منظر:</strong></p>
<p>یہ ایک کوڑا کرکٹ کا ڈھیر ہے اور چند بچے اِس میں سے اپنا رزق تلاش کر رہے ہیں۔ بچوں کے بال گردآلود ہیں اور مَیل کی وجہ سے موٹی رسیوں کی مانند ہوگئے ہیں۔<br>
تلاش کے دوران ایک بچے کو جوس کا پیکٹ مل جاتا ہے ، جس کے استعمال کی مدت ختم ہوچکی ہے لیکن وہ بچہ یہ بات نہ جانتا ہے اور نہ پڑھ سکتا ہے سو فوراً جوس پینے لگ جاتا ہے۔۔۔باقی بچے اُس کی اچھی قسمت پر رَشک کرتے ہیں اور سوچتے ہیں ، کاش اُن کی نظر پہلے اِس ڈبے پر پڑجاتی۔۔۔۔</p>
<p><strong>دوسرا منظر : </strong></p>
<p>یہ شہر کی سب سے اونچی بلڈنگ ہے جس کا افتتاح آج وزیر اعظم صاحب نے کیا ہے ، اُنہیں بلڈنگ کے مختلف حصے دکھائے گئے ۔ جدید طرز کے ہوٹلز ، ہسپتال ، سینما۔۔۔غرض کیا تھا جو اُس بلڈنگ کے اندر نہیں تھا۔۔۔<br>
اب وزیر اعظم صاحب بلڈنگ کی چھت پر موجود ہیں اور شہر کا جائزہ لے رہےہیں۔۔۔ دور دور تک بڑی عمارتوں نے شہر کو گھیر لیا ہے اور کچی آبادیوں کے ڈھیر آنکھ سے اوجھل ہوگئے ہیں۔۔۔۔<br>
” سب کس قدر خوش گوار ہے ” وزیر اعظم صاحب نے کہا<br>
اور ارد گرد سارے لوگ تالیاں بجانے لگ گئے۔۔۔۔</p>
<p>مجھے دوسرے منظر سے فوراً پہلے منظر کی طرف لوٹنا ہوگا دراصل وہ بچہ کہ جس نے جوس پیا تھا وہ پیٹ پکڑے درد سے کراہ رہا ہے لیکن اُس بستی میں کوئی ڈاکٹر نہیں ہے۔۔۔</p>
<p>دوسرے منظر میں پرتکلف کھانے کا آغاز ہوچکا ہے۔۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">گونگا وائلن نواز</div>
<p>اُس شخص سے اُس کی زبان چھین لی گئی تھی سووہ بول نہیں سکتا تھا، اُس نے ایک وائلن خریدا اور شہر کی گلی گلی میں بجاتا پھرتا،ایسا اُس نے روزی روٹی کمانے اور اپنا دل بہلانے کی خاطر کیاتھا تاکہ وہ اپنا ماضی بھول جائے لیکن اُس کے وائلن سے ہمیشہ دُکھی ساز نکلتے تھے۔ جب وہ گلیوں میں سازبجاتا ہواچلتا تو لوگ غمگین ہوجاتے۔شہر کے لوگ اُسے ’’غمگین نغمہ ساز‘‘ کہہ کر بلاتے تھے اور کہتے کہ اِس کے وائلن میں کوئی خاص پرزہ ہے جس کی وجہ سے اِس سے نکلنے والے ساز اِس قدر دُکھی ہوتے ہیں۔</p>
<p>بہت دفعہ لوگوں نے اُس سے وائلن لے کر خود بجانے کی کوشش کی لیکن عجیب بے ڈھنگی آوازیں ہی برآمدہواکرتی تھیں۔<br>
’’اِس قدر دکھی نغمے ہم نہیں سُن سکتے ، یہ آوازیں ہمارے بچوں کے لیے نقصان دہ ہیں ‘‘ لوگوں نے اُس کے خلاف شکایت درج کرادی اور پولیس اُسے پکڑ کر لے گئی۔</p>
<p>عدالت میں معزز جج نے اُس کا پرانا ریکارڈ پڑھا اور کہا’’اِس سے پہلے بھی تمہیں زیادہ بولنے کے جرم میں اپنی زبان سے محروم ہونا پڑاتھا لیکن پھر بھی تم باز نہیں آئے اور اب دکھی نغمے چھیڑنے لگ گئے ہو، تمہیں نقصِ امنِ عامہ کے جرم میں مذید سزا ملے گی‘‘</p>
<p>چونکہ اُس کی زبان نہیں تھی سووہ اپنے دفاع میں کچھ نہ کہہ سکا حالانکہ وہ کہنا چاہتا تھا کہ قید میں لگائے گئے قہقہوں سے آزادی میں بہتے آنسوزیادہ معتبر ہیں لیکن وہ نہ کہہ سکا اور اگر وہ کہہ بھی دیتا تووہاں سننے والے کان نہیں تھے۔<br>
عدالت نے اُس سے وائلن چھین لینے کا حکم دیا اور ایک سال کی قید بامشقت کی سزا سنائی۔<br>
جب وہ جیل سے رہا ہوا تو گلی گلی گھومتا اور لوگ اُس سے خوف کھاتے کہ اب کی باراُس کے ہاتھ میں وائلن نہیں تھا۔۔۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">بوجھ</div>
<p>وہ ایک کلرک تھا جو فائلوں میں گُم ہوگیا تھا۔۔۔ردی کاغذ کی فائلیں جن کے اندر ایک پورا آدمی گُم ہوگیا تھا اور یہ بات کلرک کی بجائے فائلوں کو معلوم تھی ۔وہ سارا دن دفتر میں فائلیں اُٹھائے پھرتا اور اُن میں سے چندایک گھر بھی اُٹھا کر لے آتا۔دن رات فائلیں اُٹھانے کی وجہ سے اُس کے کندھے جُھک گئے تھے ۔دراصل اُس پرفائلوں کے علاوہ اور بھی بہت سے بوجھ تھے جن کو اُتارنے کے لیے وہ دن رات فائلوں میں گُم رہتا۔</p>
<p>کلرک کی چاربیٹیاں تھیں اوراُس پر معاشرے کے رسم ورواج کابوجھ تھا۔۔۔ وہ اکثر رات کو سونے سے پہلے سوچتا تھا کہ وہ کتنی دیر روز اوورٹائم کام کرے تو چار دفعہ جہیز کا انتظام کرسکتا ہے۔۔۔جواب میں اُسے اگلے کئی سال دن رات فائلوں کے بوجھ تلے دبے رہنا تھا۔</p>
<p>ایک شام کلرک اپنے گھر آیا تو اُس کی بیوی صحن میں بیٹھی رو رہی تھی، ایسا رونا کہ جس میں آواز شامل نہیں تھی لیکن آنسوندی کی مانند بہہ رہے تھے۔<br>
کلرک کے پوچھنے پر بیوی نے ایک کاغذ اُس کے ہاتھ تھمادیا،یہ اُس کی بڑی بیٹی کا الوداعی خط تھااوراُس نے لکھا تھا کہ<br>
’’میں اِس دن رات کی غربت سے تنگ آگئی ہوں ، اوراپنی مرضی سے شادی کرکے جارہی ہوں ۔برائے مہربانی مجھے مت ڈھونڈیں‘‘</p>
<p>کلرک جو دن رات دس پندرہ فائلیں بغل میں لیے گھومتا تھا ، ایک کاغذ کے بوجھ تلے دبتا چلاگیا۔۔<br>
حتٰی کہ اُس کی بیوی نے دیکھا کہ وہ زمین سے صرف ایک فٹ اوپر رہ گیا تھا۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">بوتل میں قید آدمی</div>
<p>محبت میں ناکامی کے بعد اُس نے سوچا کہ وہ ایک بوتل بنائے گا۔<br>
سو وہ ایک عرصے تک بوتل بناتا رہا، لوگ پاس سے گُزرتے تو اُسے سمجھاتے کہ یہ پاگل پن ہے سو اُسے یہ کام ترک کر دینا چاہیے لیکن وہ لگاتار بوتل بناتا رہا۔۔۔۔۔<br>
کئی سال گزرگئے ، اب اُس کے سینے میں سانس چلتی تھی تو کھر ، کھر کی آواز آتی تھی ، بال بڑھ گئے تھے اور لوگوں نے اُس پر افسوس کرنا چھوڑ دیا تھا۔<br>
جب بوتل مکمل بن گئی تو اُس نے خود کو اُس میں قید کرلیا، اب وہ بوتل میں سما گیا تھا۔<br>
کتنے موسم گُزرے ، کئی بارشیں آئیں اور بہت سی مئی ، جون کی تپتی دوپہریں گزریں ، وہ بوتل نالی کے پاس بنے ایک دکان کے تھڑے کے ساتھ پڑی رہتی اور آہستہ آہستہ ہلتی رہتی۔<br>
پھر ایک دن بوتل نے ہلنا چھوڑ دیا اور لوگوں نے بوتل اُٹھا کر سمندر میں پھینک دی اور ناک پر رومال رکھے واپس آ گئے۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>شعبدہ گر</p>
<p>وہ ایک شعبدہ باز تھا , سرکس میں منہ سے آگ نکال کر دکھاتا تھا۔۔۔ لوگ خصوصاً بچے اُس کا کرتب دیکھ کر خوب تالیاں بجاتے۔۔۔ شہر شہر ، قریہ قریہ سرکس کا تماشا چلتا رہتا۔ وہ سٹیج پر ہاتھ میں جلتی ہوئی لکڑی اور پٹرول کی بوتل تھامے نمودار ہوتا ، وہ جتنی دور تک آگ نکالتا اُتنی ہی تالیوں کی گونج میں اضافہ ہوجاتا ، پہلے پہل جب وہ ایک لڑکا تھا ، تالیوں کا شور اُس کے اندر بہت ہوا بھردیتا تھا اور وہ اور زور لگا کر آگ نکالتا تھا لیکن پھر رفتہ رفتہ اُس کی عمر بڑھتی گئی اور اُسے تالیوں کی آواز سنائی نہ دیتی تھی حتٰی کہ اُسے سامنے بیٹھے لوگ بھی دکھائی نہیں دیتے تھے ، اُسے صرف اور صرف داد میں آنے والے پیسوں سے غرض تھی تاکہ وہ اپنے بچوں کے خواب پورے کرسکے۔۔۔</p>
<p>وہ جب گھر لوٹتا تو اُس کے بچے اور بیوی اُس کے منتظر ہوتے ،اُس کا خواب تھا کہ اُس کے بچے پڑھ لکھ جائیں تاکہ انہیں منہ سے آگ نہ نکالنی پڑے ، اُس نے بچوں کو اپنے آگ نکالنے کے سامان کو ہاتھ لگانے سے منع کر رکھا تھا۔۔</p>
<p>اِسی شعبدہ گر کا بیٹا جس سکول میں جاتا تھا ، ہر سال اول پوزیشن حاصل کرتا تھا لیکن کوئی اُسے داد نہ دیتا ، وہاں سب لوگ اُسے منہ سے آگ نکالنے کا کہتے کہ اُس کے والد سے وہ یہ کرتب دیکھ چکے تھے۔۔۔<br>
آخر ایک روز جب شعبدہ باز گھر سو رہا تھا ، اُس کا بیٹا لکڑی اور پٹرول کی بوتل لے کر دوستوں کے پاس پہنچ جاتا ہے کہ وہ آج اُنہیں منہ سے آگ نکال کر دکھانا چاہتا تھا۔۔<br>
لیکن آگ نکالتے ہوئے اُس کا بازو جل جاتا ہے ، شعبدہ گر پریشانی میں اپنے بچے کو ہسپتال لےکر جاتا ہے۔۔۔مرہم پٹی کے بعد ڈاکٹر ، شعبدہ گر سے پوچھتا ہے کہ وہ کیا کام کرتا ہے۔<br>
” جی میں سرکس میں کرتب دکھاتا ہوں ” شعبدہ گر نے جواب دیا<br>
” کون سا کرتب ؟” ڈاکٹر نے پوچھا<br>
” جی وہ ، وہ منہ سے آگ نکالتا ہوں ” وہ کچھ شرمندہ ہوکر بولا<br>
” اوہ اچھا ! تو آپ کے بچے نے آپ ہی سے یہ ہنر سیکھا ہے”</p>
<p>ڈاکٹر نے کہا اور ایسے میں وہ شعبدہ گر کی آنکھوں کے خواب نہ دیکھ سکا۔۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>تقسیم</p>
<p>یہ ایک بڑا ہال ہے جہاں ایک مشہور فلاحی ادارے کا سیمینار ہورہا ہے۔ سٹیج پر بیٹھے دانشوروں نے معاشرے میں دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم پر بہت عمدہ گفتگو کی۔ اُن میں سے کئی افراد بیرونِ ملک سے آئے تھے سو وہاں کی مثالیں بھی پیش کیں۔<br>
سلیم ہال میں موجود ایک ویٹر ہے ، اُسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ وقت کی قید میں آگیا ہے ۔ وقت جو اُس کے پیدا ہونے سے پہلے بھی تھا اور بعد میں بھی رہے گا ، درمیان میں وہ قید بامُشقت کاٹ رہا تھا۔<br>
معزز دانشور نے تقریر کے دوران سٹیج پر بیٹھے چاروں مقررین سے سوال کیا<br>
’’کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ کتنے دن آپ کام کریں تو ایک اچھی گاڑی خرید سکتے ہیں ؟‘‘<br>
’’چار ماہ‘‘ پہلے دانشور نے جواب دیا۔<br>
’’چھ ماہ‘‘ دوسرا دانشور بولا<br>
’’مجھے شاید ایک سال لگ جائے‘‘ تیسرا دانشور بولا<br>
’’میرا خیال ہے کہ مجھے ڈیڑھ سے دو سال لگیں گے کہ میں ایک اچھی گاڑی خرید سکوں ‘‘چوتھا دانشور تھوڑا شرمندہ ہوکربولا<br>
’’ تو سامعین دیکھا آپ نے کہ یہاں چاروں مقررین کے جواب کس قدر مختلف ہیں ، ہم نے اِسی غیر منصفانہ تقسیم کو ختم کرنے کے لیے آج کا اجلاس بلایا ہے‘‘ مقرر نے کہا.<br>
’’ کتنے دن تم بطور ویٹر کام کرو تو ایک گاڑی خرید لو گے؟‘‘ سلیم نے خود سے سوال کیا۔<br>
’’ دو زندگیاں اور کچھ مذید دن——” اندر سے ایک آواز آئی جواُس کے علاوہ ہال میں کسی نے نہ سُنی۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">الزام</div>
<p>یہ کمرہِ عدالت ہے جہاں ایک چوری کا مقدمہ زیرِسماعت ہے۔ بشیر پر گاڑی چوری کا الزام ہے۔<br>
مُعزز جج نے مقدمے کا فیصلہ سنانے سے پیشتر بشیر کو نصیحت کرتے ہوئے کہا۔<br>
’’اِس سے پہلے کہ میں تمہیں اِس چوری کی سزا سُناؤں ، تمہیں سمجھانا چاہتا ہوں کہ چوری ایک بُرا فعل ہے, اب نہ صرف تم سزا پاؤ گے بلکہ تمہارے گھر والے بھی اِس سزا کی وجہ سے مشکل دن گزاریں گے، تمہیں ضرور وہ کام کرنا چاہیے تھا جو تم چور بننے سے پہلے کیا کرتے تھے۔ کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ تم چوربننے سے پہلے کیا کام کرتے تھے ؟‘‘<br>
’’جی میں چور بننے سے پہلے بھی چور تھا‘‘ بشیر نے گھبرا کر کہا۔<br>
اُس کا جواب سُن کر معززجج سمیت کمرہِ عدالت میں موجود بیشترافراد ہنس پڑتے ہیں۔<br>
’’چوربننے سے پہلے چور بھلا کیسے بنا جاسکتا ہے؟‘‘ جج نے سوال کیا۔<br>
’’ جی دیکھیں یہ آج مجھے دوسری دفعہ سزا ہونے والی ہے، کئی سال پہلے میں ایک اسٹورمیں مُلازم تھا جہاں پر ایک رات چوری ہوگئی تو اسٹور کے مالک نے شک کی بنیاد پر مجھے پولیس کے حوالے کردیا، پانچ سال بغیرجرم کے جیل کاٹنے کے بعد جب میں واپس آیا تومجھے معلوم ہوا کہ ساری دنیا مجھے چور ہی سمجھتی ہے حالانکہ میں چور نہیں تھا لیکن رفتہ رفتہ مجھے محسوس ہوا کہ میں چور بننے سے پہلے بھی چورہی تھا… کیا میں چور نہیں تھا جج صاحب؟”<br>
’’ ٹھیک ہے، ٹھیک ہے ہم فیصلے کی جانب آتے ہیں، دفعہ تین سو اکاسی (اے) کے مطابق عدالت مُلزم بشیر کو پانچ سال قید بامشقت کی سزا سُناتی ہے ‘‘ معزز جج نے فیصلہ سنایا اور پولیس والے چورکو دھکا مارکر کمرہ عدالت سے باہر لے جاتے ہیں ۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">ایک نابینا محبت کی سرگزشت</div>
<p>میں نورالعین ہوں لیکن میری آنکھوں کا نور ختم ہو چکا ہے، مجھے خود کو اندھا کہتے ہوئے جھرجھری سی آ جاتی ہے سو خود کو نابینا نہیں کہتی ۔مجھے ہر وقت سوچتے رہنے کا مرض لاحق ہے۔ اگر کسی انسان کا دماغ سوچ کے مرض میں مبتلا ہو تو کیا وہ پھر بھی اندھا کہلائے گا ؟ میرا نہیں خیال لیکن دنیا والوں کو میں نے خود کو اندھا کہنے سے کبھی روکا نہیں۔۔۔</p>
<p>میں نورالعین ہوں اور پارک میں ایک بنچ پر بیٹھی ہوں ، میں نے تین سال قبل دنیا کو اِسی پارک میں ایک بنچ پر ایک اور شخص کی آنکھوں سے دیکھنا شروع کیا تھا۔۔۔<br>
یہ بتاتے ہوئے میں کچھ شرما رہی ہوں لیکن اب اِس بات کو چھپانے کا کچھ خاص فائدہ بھی نہیں ، زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جب باتوں کا بتانا اور چھپانا ایک برابر ہوجاتا ہے اور اس کہانی کے اختتام پر یقیناً آپ خود کو میرا ہم خیال پائیں گے۔۔۔</p>
<p>میں نورالعین جو اب اِس بنچ پر بیٹھی ہوں اور تین سال قبل دنیا کو ایک اور شخص کی آنکھوں سے دیکھنا شروع کیا تھا۔ وہ مجھے کہتا تھا دنیا کس قدر حسین ہے ، تتلیوں کے رنگ نیلے ، سبز اور سرخ ہیں اور بنچ کے ساتھ درخت کے اوپر چڑیا جو گارہی ہے ،اس کا رنگ سنہرا یاقوتی ہے۔<br>
پارک کے سبھی راستوں کے گرد گیندے کے بڑے بڑے پیلے پھول کھلے ہیں اور جب خزاں آتی ہے تو درخت سوکھ جاتے ہیں ، پھولوں کی پتیاں بکھر جاتی ہیں لیکن ان کی خوشبو محبت کرنے والوں کے دلوں کو معطر کیے رکھتی ہے اور سنہری چڑیا اپنا گیت گانے کسی اور دیس کو اڑ جاتی ہے۔۔۔<br>
میں نے یہ سب کچھ اُس شخص کی آنکھوں سے دیکھا اور یقین کر لیا۔۔۔</p>
<p>میں نورالعین نابینا کہ جس نے دنیا کو ایک ایسے شخص کی آنکھوں سے دیکھا تھا جو ابھی ابھی یہاں بنچ سے اٹھ کر گیا ہے اور میرے ہاتھوں میں موجود سنہری بالوں والی لڑکی کی تصویر اُسی کی دی ہوئی ہے ، اس تصویر کو میں نے اُسی کی آنکھوں سے دیکھا ہے ، یہ وہ لڑکی ہے جس سے اُسے محبت ہے اور آپ سب کی آنکھیں ہیں سو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میرے بال سنہری نہیں ہیں۔۔۔۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">رُکا ہوا آدمی</div>
<p>رُکا ہوا آدمی</p>
<p>’’آنکھیں اور کان بند کرو اور چھتری تان لو، بارش سے بچ جاؤ گے اور بجلی کی چمک تمہاری آنکھوں میں نہ پڑے گی، کانوں میں روئی ڈال لو کوئی آواز نہ سنائی دے گی‘‘<br>
’’تو پھر میں آگے کیسے بڑھوں گا؟‘‘<br>
’’ چھتری بارش سے بچاتی ہے‘‘<br>
’’ لیکن وہ آگے کا سفر؟‘‘<br>
’’بجلی کی چمک سے آنکھیں چندھیا سکتی ہیں سو بند ہی رکھو‘‘<br>
’’ لیکن وہ میں کہہ رہا تھا کہ سفر؟‘‘<br>
’’ کان بند رکھو اور کسی بات پر دھیان نہ دو‘‘<br>
’’لیکن پھر؟‘‘<br>
’’بس تم چھتری تانے ، آنکھیں اور کان بند کیے یہیں کھڑے رہو‘‘<br>
’’ اخبار لے لو ، اخبار‘‘<br>
” آج کی تازہ خبر پڑھنے کے لیے<br>
اخبار لے لو ، اخبار”<br>
’’اخبار والے رکو، کیا نئی خبر ہے ؟‘‘</p>
<p>’’ تمہیں کیا، تم تو رُکے ہوئے آدمی ہو‘‘<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
Imzge: Banksy</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/hindson-mein-bati-zindagi-and-other-stories/">ہندسوں میں بٹی زندگی اور دیگر کہانیاں (محمد جمیل اختر)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/hindson-mein-bati-zindagi-and-other-stories/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>میں پاگل نہیں ہوں (محمد جمیل اختر)</title>
		<link>https://laaltain.pk/mein-pagal-nahi-hon/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/mein-pagal-nahi-hon/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد جمیل اختر]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 19 Mar 2019 07:43:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Marylise Vigneau]]></category>
		<category><![CDATA[muhammad jameel akhtar]]></category>
		<category><![CDATA[short story]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[محمد جمیل اختر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24387</guid>

					<description><![CDATA[<p>پچھلے دو سال سے سرکاری پاگل خانے میں رہتے رہتے میں نے اپنی زندگی کے تقریباً ہر واقعہ کو یاد کر کے اس پر ہنس اور رو لیا ہے۔ ویسے میں پاگل نہیں ہوں۔۔۔۔ آپ کو یقین تو نہیں آئے گا کہ اگر پاگل نہیں ہوں تو پاگل خانے میں کیا کر رہا ہوں، دیکھیں [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/mein-pagal-nahi-hon/">میں پاگل نہیں ہوں (محمد جمیل اختر)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>پچھلے دو سال سے سرکاری پاگل خانے میں رہتے رہتے میں نے اپنی زندگی کے تقریباً ہر واقعہ کو یاد کر کے اس پر ہنس اور رو لیا ہے۔<br>
ویسے میں پاگل نہیں ہوں۔۔۔۔<br>
آپ کو یقین تو نہیں آئے گا کہ اگر پاگل نہیں ہوں تو پاگل خانے میں کیا کر رہا ہوں، دیکھیں جی زندگی میں بعض دفعہ ہوش کی دنیا سے ناطہ توڑ کر بے ہوش رہنا بڑا ضروری ہوتا ہے، میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔</p>
<p>میں نے غربت میں آنکھ کھولی، محکمہ ریلوے میں ملازم بھرتی ہواتو نجمہ سے شادی ہوگئی، نجمہ سے مجھے شدید محبت تھی زندگی غربت میں سہی لیکن خوشی خوشی بسر ہورہی تھی، شادی کی دس سال تک ہمارے ہاں اولاد تو نہ ہوئی لیکن نجمہ کو ٹی بی ہوگئی۔ گھر کو رہن رکھوا کر چودھری صاحب سے قرض لیا اور نجمہ کے علاج کے لیے ڈاکٹر، پیر، فقیر کہاں کہاں نہیں گیا لیکن نجمہ کی زندگی نے وفا نہ کی۔۔۔۔</p>
<p>نجمہ کے جانے کے بعد میں بالکل تنہا تھا، دوست، رشتہ دار پہلے کون سا جان چھڑکتے تھے لیکن اب تو رسمی خیر، خیریت پوچھنے سے بھی گئے اور جب بندہ غریب ہو تو رشتہ دار بھی جلدی بھول جاتے ہیں، اتنی جلدی کہ گویا آپ تھے ہی نہیں، گویا کہ ایک قصہ پارینہ۔۔<br>
اِس دور میں دولت انسان کو یاد رکھنے اور یاد رکھوانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔۔۔</p>
<p>اُن دنوں میں شدید تنہائی کا شکار تھا، کام میں جی نہ لگتا، دفتر سے غیر حاضر رہتا اور یونہی گلیوں میں بے مقصد پھرا کرتا۔۔۔۔<br>
بامقصد آدمی کا، بے مقصد پھرنا بڑا تکلیف دہ ہوتاہے۔۔۔</p>
<p>آفیسرز کو مجھ سے شکایت تھی سومجبورا ًجلد ریٹائرمنٹ لے لی، مبلغ دو لاکھ روپے پرویڈینٹ فنڈ کے ملے، گاؤں کے چودھر ی صاحب نے کریانہ کی دکان کھولنے کا مشورہ دیا، ان دنوں میری زندگی ایک جگہ آ کر رک گئی تھی ۔۔۔کوئی مقصد مل ہی نہیں رہا تھا۔ ایسے میں جب آپ کے دوست احباب آپ کو بھول چکے ہوں وہاں گاؤں کے چودھری صاحب کی حوصلہ افزائی بڑی بات تھی، سو میں نے ہمت باندھی کہ اور نہیں توکاروبار کر کے چودھری صاحب کا قرض تو لوٹا دوں اور یہ جو گھر رہن رکھوایا تھا وہ واپس مل جائے۔۔۔ ویسے اس گھر کو میں نے کرنابھی کیا تھا لیکن پھر بھی وہ میرا آبائی گھر تھا سو میں نے بینک سے اپنے پرویڈینٹ فنڈ کے پیسے نکلووانے کا فیصلہ کر لیا۔</p>
<p>اور پھر قصہ اس شام کا جو آئی اور میری زندگی بدل کر، تاریک رات میں ڈھل گئی۔۔</p>
<p>اُس شام جب میں شہر سے اپنی عمر بھر کی کمائی لے کر لوٹ رہا تھا تو مجھے بہت دیر ہوگئی تھی، گاڑی سے اُتر کر میں تیز تیز چلتے ہوئے گھر کی جانب روانہ ہوا۔</p>
<p>مجھے اُس دن احساس ہوا کہ عمر بھر کی دولت سنبھالنا کیسا مشکل کام ہوتا ہے، جانے یہ لوگ کروڑوں، اربوں کیسے سنبھال لیتے ہیں، میرا تو ایک ایک قدم من من وزنی ہو گیا تھا۔</p>
<p>میں جتنا تیز چلتا راستہ اتنا ہی طویل ہوتا جارہا تھایا شاید مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا اور یوں بھی راستے کبھی طویل نہیں ہوتے انسان کی سوچ طویل ہوجاتی ہے۔۔جب میں بڑے گراونڈ سے گزر رہا تھا تو وہاں چودھری صاحب کا بیٹا انور اور اس کے دوست کھڑے تھے۔۔۔ گاؤں میں عموما اتنی شام کو اس گراونڈ پر کوئی نہیں ہوتا تھا۔</p>
<p>’’کریم دین آگئے شہر سے پیسے لے کر؟؟؟ ‘‘انور نے پوچھا<br>
’’نہیں۔۔۔<br>
وہ۔۔۔۔ہاں۔۔۔‘‘<br>
’’تو تم ہمیں قرض کب واپس کررہے ہو؟‘‘<br>
’’جی میں اس سے کاروبار کروں گااور جلد ہی آپ کو قرض لوٹا دوں گا‘‘<br>
’’پر ہم تو ابھی قرض واپس لیں گے کریم دین۔۔۔ ‘‘ انور نے کہا<br>
’’ابھی نہیں دیکھیں، یہ میرا عمر بھر کااثاثہ ہے، میرا یقین کریں میں جلد قرض لوٹا دوں گا‘‘میں نے کہا<br>
’’تو ہماری رقم کیا یونہی بیکار پڑی تھی؟‘‘<br>
’’لیکن دیکھیں اس کے بدلے میں نے اپنا گھر بھی تو رہن رکھوایا ہے‘‘۔<br>
’’اچھا تو اب تم باتیں بھی سناو ٔگے اب تمہارے منہ میں زبان بھی آگئی ہے۔۔۔‘‘</p>
<p>یہ کہہ کر انور نے پستول نکالا اور میری کنپٹی پر رکھ دیا اور اس کے دوستوں نے مجھ سے رقم کا تھیلا چھینا اور موٹرسائیکلوں پر بیٹھ کر یہ جا وہ جا۔۔۔۔<br>
میری عمر بھر کی کمائی جس کا ایک روپیہ بھی میں استعمال نہ کرسکا مجھ سے چھین لی گئی تھی، اگر آپ نے کبھی کسی کی عمر بھرکی کمائی لٹتے دیکھی ہو توآپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بڑے ہی کرب کی بات ہے۔</p>
<p>میں بھاگتے بھاگتے تھانے پہنچا، تھانیدار صاحب نے چودھری صاحب کے خلاف رپورٹ لکھنے سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھلا ایسے معزز آدمی بھلا ایسی چھوٹی حرکت کیسے کر سکتے ہیں۔۔۔</p>
<p>چودھری صاحب نے الگ برا بھلا کہااور تھانیدار کو کہا کہ میں اس الزام کے باوجوداس سے اس کا گھر خالی کرنے کو نہیں کہوں گا۔</p>
<p>سارے گاؤں میں چودھری صاحب کی اس دریا دلی کی باتیں ہونے لگیں، میری بات کا کسے یقین تھا، غریب کی بات بھی بھلا کوئی بات ہوتی ہے۔میرے پاس گزر اوقات کو فقط گھر کا سامان تھا جو ایک ایک کر کے بکنے لگا تھا، ایک ہلکی سی آرزو جو کام کرنے کی دل میں جاگی تھی اب وہ بھی نہیں تھی۔۔میں بھلا کیوں کام کرتا، کس کے لیے کام کرتا۔۔۔</p>
<p>سارا سارادن گھر میں پڑا رہتا لوگ پہلے بھی کم ملتے تھے اب تو بالکل ملنا جلنا ترک کردیا تھا۔</p>
<p>دیکھیں غم اتنا شدید نہیں ہوتا لیکن جب کوئی غم بانٹنے والا نہ ہو، جب کوئی آپ کی بات نہ سنے تو غم میں ایسی شدت آجاتی ہے کہ غم کے جھکڑانسان کو تنکوں کی طرح اڑا کر لے جاتے ہیں۔</p>
<p>میں بھی تنکا تنکا بکھر رہا تھا۔۔۔ذرہ ذرہ ہوکر۔۔۔۔مجھے باتیں بھولنے لگیں تھیں۔ حافظے کا یہ عالم تھا کہ بعض دفعہ دوکاندار سے چیز خریدنے جاتا تو بھول جاتا کہ کیا خریدنا ہے یا کبھی پیسے دینا بھول جاتا، ایک عرصہ تک حجامت نہ کرانے کی وجہ سے بال بڑھ گئے تھے، لوگ آہستہ آہستہ مجھے پاگل سمجھنے لگے تھے اور بچے ڈرتے تھے۔۔۔ پہلے دبے دبے لفظوں میں پاگل ہے کا لفظ سنتا تھاپھر لوگوں کے ہاتھ شغل لگا وہ پاگل پاگل کہہ کر چھیڑتے تھے۔۔۔ میں یونہی ساراسارا دن گھر کے دروازے میں بیٹھا رہتا، شروع شروع میں، میں نے کوئی توجہ نہ دی کہ لوگ مجھے پاگل کہتے ہیں لیکن پھر ایک دن میں ان کے پیچھے بھاگنے لگا کہ میرے پاس اسکے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔۔۔۔ میں اور کر ہی کیا سکتا تھا، ایک نہ ایک دن پتھر اٹھا کہ بھاگنا تھا سو ایک دن میں نے پتھر اٹھا لیا۔۔۔۔</p>
<p>میں پاگل نہیں تھا۔۔۔۔<br>
لیکن تھا۔۔۔۔۔۔</p>
<p>پھر میں لوگوں کے پیچھے بھاگ بھاگ کے تھک گیااور میرے پاس کھانے کو بھی پیسے ختم ہوگئے کہ گھر میں اب ایک بھی ایسی چیز نہیں تھی کہ جسے بیچ کر پیٹ کی آگ کو ٹھنڈا کیا جاسکتا۔۔۔۔یہاں صرف میں تھا اور گھر کے درودیوار تھے وہ درودیوار جو پہلے ہی رہن رکھے جاچکے تھے اس قرض کے بدلے جو کبھی ادا ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔</p>
<p>گاؤں والوں نے چودھری صاحب سے گزارش کی کہ ایک پاگل کو گاؤں میں نہیں رہنا چاہیے سو ایک روز چودھری صاحب نے اپنا مکان خالی کرنے کا حکم صادر کردیا۔۔۔۔ یہ مکان یہ میرے آباؤاجدادکا مکان، جہاں میں پیدا ہوا، جو میرا تھا لیکن میرا نہیں تھا۔۔۔۔</p>
<p>پاگل کا ایک ہی ٹھکانہ ہے جی ہاں پاگل خانہ سو ایک دن پاگل خانے آن پہنچا، انتظامیہ نے داخل کرنے سے انکار کردیا کہ کوئی گواہ لاؤ جو تمہارے پاگل ہونے کی گواہی دے، میں نے بہت کہا کہ میں پاگل ہوں میرا یقین کریں لیکن وہ نہ مانے یہ دنیا بڑی ظالم ہے پہلے خود پاگل بناتی ہے پھر پاگل پن کا سرٹیفکیٹ بھی مانگتی ہے۔۔۔</p>
<p>سو چودھری صاحب کہ ہاں حاضر ہوا، مکان کی چابی انہیں تھمائی اور پاگل خانے تک چلنے اور داخل کرانے کی درخواست کی۔۔۔<br>
چودھری صاحب جیسے نیک دل آدمی بھلا اِس نیک کام میں کیوں کر ساتھ نہ دیتے۔۔۔۔۔۔<br>
Image: Marylise Vigneau</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/mein-pagal-nahi-hon/">میں پاگل نہیں ہوں (محمد جمیل اختر)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/mein-pagal-nahi-hon/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ٹِک ٹِک ٹِک (محمد جمیل اختر)</title>
		<link>https://laaltain.pk/tic-tic-tic/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/tic-tic-tic/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد جمیل اختر]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 28 Dec 2018 18:09:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Jameel Akhter]]></category>
		<category><![CDATA[Modern Urdu Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[اردو فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[جدید اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[محمد جمیل اختر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23900</guid>

					<description><![CDATA[<p>ٹِک، ٹِک، ٹِک ’’ایک تو اس وال کلاک کو آرام نہیں آتا، سردیوں میں تو اس کی آواز لاوڈ سپیکر بن جاتی ہے‘‘ ٹِک ٹِک ٹِک یہ آواز اور یہ احساس واقعی بہت تکلیف دہ ہے، خصوصاً جب آپ گھر میں اکیلے ہوں، اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے وال کلاک ٹک ٹک کی بجائے [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/tic-tic-tic/">ٹِک ٹِک ٹِک (محمد جمیل اختر)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>ٹِک، ٹِک، ٹِک<br>
’’ایک تو اس وال کلاک کو آرام نہیں آتا، سردیوں میں تو اس کی آواز لاوڈ سپیکر بن جاتی ہے‘‘<br>
ٹِک ٹِک ٹِک<br>
یہ آواز اور یہ احساس واقعی بہت تکلیف دہ ہے، خصوصاً جب آپ گھر میں اکیلے ہوں، اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے وال کلاک ٹک ٹک کی بجائے کم، کم کہہ رہا ہو۔<br>
’’ کیا وقت یونہی تیزی سے نکل جائے گا۔ کیا اس ویرانے میں میری پوری زندگی گزر جائے گی؟ میری تو زندگی ختم ہوتی جارہی ہے۔ میں اس ویرانے میں مر گیا تو شہر میں گھر والوں کو کون بتائے گا، مجھے تو ابھی بہت سے کام کرنے ہیں، لیکن میرے پاس تو وقت ہی نہیں ہے، یہ تو بھاگ رہا ہے کیا میں بھی وقت کیساتھ بھاگنا شروع کردوں؟‘‘<br>
اس کی سوچیں بہت بکھری ہوئی، پریشان حال تھیں۔<br>
معلوم نہیں اسے کیا ہوگیا تھاوہ جن دنوں شہر میں تھا تب تووہ ایسا بالکل نہیں تھا، کوئی ایک ماہ پہلے اس کا تبادلہ اِس گاؤں میں ہوا تھا اور اُس کی نیند اس سے روٹھ کر کہیں چلی گئی تھی اب تک کی ساری عمر اس کی شہر میں گزری تھی، وہ شور کا اتنا عادی ہوگیا تھا کہ یہ سناٹا اس کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ وہ آدھی آدھی رات تک جاگتا رہتالیکن اُسے نیند نہیں آتی تھی۔<br>
اب تو روز ہی ایسا ہوتا، لیکن آج تو وحشت کچھ اور بڑھ گئی تھی۔<br>
ٹِک ٹِک ٹِک<br>
ــ’’اوہ یہ وقت تو میرے پیچھے ہی پڑگیا ہے، ایسے تو میں نہیں سو سکتا۔ یہ آواز بہت تکلیف دہ ہے‘‘<br>
وہ اٹھا اور الماری سے ریڈیو اٹھا لایا، ریڈیو پر پرانے گیت آرہے تھے۔ اُس نے ریڈیو کو تکیے کے ساتھ رکھا اور آنکھیں بند کرلیں، جب وہ شہر میں تھا تو روز رات کو ریڈیو سنتے ہوئے سو جاتا تھا اور جب آدھی رات کو آنکھ کھلتی تو اسے پتہ چلتا کہ ریڈیوتو چلتا ہی رہ گیا ہے۔ اس کا خیال تھا کہ ابھی بھی وہ ویسے ہی سوجائے گا۔۔۔<br>
گانے سنتے ہوئے وہ کچھ دیر کے لیے وال کلاک کو بھول گیا تھا۔ عجیب بات تھی وہ چاہتا تھا کہ شور ہولیکن وال کلاک کے شور سے وہ بھاگتا تھا۔۔۔۔<br>
’’شب کے بارہ بجے ہیں‘‘<br>
ریڈیو پر بارہ بجنے کا وقت بتایا گیاتو اسے خیال آیا کہ وہ پچھلے ایک گھنٹے سے ریڈیو سن رہا ہے لیکن افسوس کہ وہ ابھی بھی جاگ رہاہے۔<br>
’’آخر یہ نیند کب آئے گی‘‘<br>
اس نے ریڈیو بند کرکے آنکھیں موند لیں۔<br>
ٹِک ٹِک ٹِک<br>
’’آخر یہ کیا ہے۔ اس گھڑی کا کچھ کرنا ہی پڑے گا‘‘<br>
وہ اٹھا اور وال کلاک کودیوار پر سے اتارااور ملحقہ کمرے میں جاکر رکھ آیا۔<br>
’’اب میں سکون سے سو سکوں گا‘‘ اس نے سوچا<br>
اس نے تکیے پر سر رکھا اور سونے کی کوشش کی، ابھی کچھ دیر ہی ہوئی ہوگی کہ اسے محسوس ہوا کہ بہت ہی آہستہ آہستہ ٹک، ٹک کی آواز ابھی بھی آرہی ہے۔۔۔۔۔<br>
’’کوئی نہیں آرہی‘‘<br>
اس نے خود کو سمجھایا اور کروٹ بدل لی۔<br>
کان پھر نہ مانے اور دل سے کہا۔<br>
’’سنو، آرہی ہے‘‘<br>
دماغ نے کہا ’’ہاں، ہاں یہ کم، کم، کم کی آواز ہی ہے‘‘<br>
’’ اوہ میرے خدا، میں کہاں جاؤں ‘‘<br>
اس نے اپنا سر پکڑلیا ’’ یہ وقت تو میرے پیچھے ہی پڑگیا ہے‘‘<br>
اس نے غور سے سنا توآواز ابھی بھی آرہی تھی۔۔۔<br>
’’ایک ہونے کو ہے اور میں پچھلے کئی گھنٹوں سے سونے کی ناکام کوشش کررہا ہوں، صبح ڈیوٹی پر بھی جانا ہے‘‘<br>
وہ پچھلے کئی دنوں سے ٹھیک سے سو نہیں سکا تھا۔پوسٹ آفس میں باقی لوگ اسے کام چور سمجھنے لگے تھے، حالانکہ وہ کام چور نہیں تھا اس کے پیچھے تو وقت پڑگیاتھا۔<br>
وہ غصے سے اٹھا، ساتھ کے کمرے سے وال کلاک کو اٹھایااور صحن میں جاکر پٹخ دیا۔۔۔۔۔<br>
پٹاخ۔۔کی آواز کے ساتھ وال کلاک چور چور ہوچکا تھا۔<br>
اتنی بلند آواز سن کر وہ ڈر گیا۔۔۔<br>
’’ یہ تو کافی اونچی آواز تھی‘‘ میں نے توڑنے سے پہلے کیوں نہ سوچا۔<br>
’’آدھی رات کو یہ آواز محلے کے لوگوں نے بھی سنی ہوگی اوہ یہ کیسا برا کیا میں نے‘‘ اُسے اب خیال آیا<br>
’’کوئی پوچھنے آگیا توکیا جواب دوں گا، لوگ کہیں گے کہ یہ نیا شہری بابوکتنا عجیب ہے آدھی رات کو شور شرابا کرتا ہے حالانکہ رہتا بھی اکیلا ہے، اس چھوٹے سے گاؤں میں اتنی رات گئے ایسا شور کسی نے پہلے کب سنا ہوگا؟‘‘<br>
ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔<br>
اوہ یعنی لوگوں نے یہ شور سن لیا ہے۔۔۔ میں نے وال کلاک کیوں توڑا ہے‘‘ اسے اب ڈر لگنے لگا تھا۔<br>
’’ اب کیا جواب دوں گا‘‘<br>
اب افسوس کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔<br>
’’میں دروازہ ہی نہیں کھولتا۔ جوہوگا صبح دیکھا جائے گا‘‘ اس نے خود کو سمجھایا او ر کمرے کی طرف مڑنے لگا۔<br>
گھنٹی پھر ہوئی۔۔۔اس کے قدم رک گئے۔<br>
’’کاش میں کہیں جاکر چھپ جاؤں اور جب لوگ آکر ڈھونڈیں کہ وال کلاک کس نے توڑا ہے تو وہ مجھے نہ ڈھونڈسکیں۔ میں آئندہ ایسا کبھی نہیں کروںگا‘‘<br>
لیکن اس وقت تو یہ آفت سر پر تھی<br>
’’میں دروازہ نہیں کھولتا۔۔۔۔۔لیکن یہ کوئی اچھی بات نہیں۔ مجھے دروازہ کھولنا چاہیے۔ میں کہہ دوں گا کہ وال کلاک میرے ہاتھ سے گر گیا تھا۔۔ہاں یہ ٹھیک ہے۔۔میں یہی کہوں گا۔۔انسان سے چیزیں گرتی ہی رہتی ہیں۔۔‘‘ اس نے خود کو سمجھایا اور ڈرتے ڈرتے دروازہ کھولا۔<br>
سامنے اس کے پڑوسی کا بڑا بیٹا کھڑا تھا<br>
’’السلام علیکم ـ‘‘<br>
’’وعلیکم السلام<br>
وہ، وہ وال کلاک میرے ہاتھ سے گر گیا تھا، میں معذرت چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں کی آنکھ کھل گئی۔ لیکن میں نے دانستہ ایسانہیں کیا‘‘<br>
لڑکے نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا، جیسے وہ کچھ سمجھ نہ پا رہا ہو۔۔۔<br>
’’وہ جی اباجی کہہ رہے ہیں آپ کے پاس بخار کی کوئی دوا ہے میری چھوٹی بہن کو تیزبخارہے اور شور کیسا جی میں تو سورہاتھا، مجھے تو اباجی نے جگا کر آپ کی طرف بھیجا ہے‘‘۔<br>
اوہ یعنی اسے نہیں پتہ اس شور کا۔۔یہ تو بہت اچھا ہواکہ انہیں شور سنائی نہیں دیا۔<br>
’’کچھ نہیں، کچھ نہیں وہ، وہ میں۔۔۔۔۔چھوڑو میںدوا لاتا ہوں‘‘۔<br>
اُس نے اندر سے بخارکی ٹیبلٹس لاکرلڑکے کو تھما دیں ۔<br>
’’شکریہ ‘‘ لڑکے نے کہا۔<br>
اس سے پہلے کہ وہ کوئی اور سوال پوچھتا، اُس نے فورا دروازہ بند کردیااور آکر بستر پر لیٹ گیا۔۔۔<br>
’’اب تو سکون سے سو سکتا ہوں۔۔۔وال کلاک سے بھی جان چھوٹی اور اچھی بات کہ کسی نے شور بھی نہیں سنا‘‘<br>
۔<br>
اس نے تکیے پر سر رکھا، ایک لمبی سانس لی اور آنکھیں موند لیں۔۔۔<br>
لیکن یہ کیا۔۔۔۔<br>
’’اوہ میرے خدا<br>
ٹِک، ٹِک کی آواز تو ابھی بھی آرہی ہے‘‘</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/tic-tic-tic/">ٹِک ٹِک ٹِک (محمد جمیل اختر)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/tic-tic-tic/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سات مختصر کہانیاں: محمد جمیل اختر</title>
		<link>https://laaltain.pk/saat-mukhtasir-kahanian-muhammad-jameel-akhtar/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/saat-mukhtasir-kahanian-muhammad-jameel-akhtar/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد جمیل اختر]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Mar 2018 11:10:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[MARC CHAGALL]]></category>
		<category><![CDATA[Micro Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[muhammad jameel akhtar]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[افسانچے]]></category>
		<category><![CDATA[مائیکرو فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[محمد جمیل اختر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23198</guid>

					<description><![CDATA[<p>محمد جمیل اختر: اُس کو وراثت میں شیشے کا گھر ملا تھاجس کو وہ بہت احتیاط سے سنبھال کر رکھتا تھا لیکن آئے روز کوئی نا کوئی پتھر مار کر چلاجاتا۔۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/saat-mukhtasir-kahanian-muhammad-jameel-akhtar/">سات مختصر کہانیاں: محمد جمیل اختر</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">قسمت</div>
<p>پہلی سیڑھی پرڈرکم تھا، درمیان میں خوف کچھ اوربڑھ گیااورآخری سیڑھی پراُس کی ٹانگیں کانپنے لگی تھیں۔<br>
’’آخری سیڑھی کے آگے لہراتے پردے کے پیچھے کیا ہوگا، کیوں نا یہیں سے واپس لوٹ جاؤں؟<br>
اب آگیا ہوں تو واپس کیا جاناکچھ نا کچھ تو لے کرہی جاؤں گا‘‘۔اُس نے سوچا<br>
وہ بھوکاتھا اور اُس نے کئی گلیاں چھان ماری تھیں صرف اِسی گھر کا بیرونی دروازہ کُھلا تھاسو اُس نے سوچاکہ اِس سے اچھا موقع چوری کا بھلا کیا ہو سکتا ہے ۔<br>
اُس نے ہمت کرکے آخری سیڑھی کے آگے لٹکتاپردہ سرکایا لیکن کسی نے اُس کا ہاتھ پکڑلیا۔<br>
’’ کون؟‘‘ اُس نے آہستہ سے کہا<br>
’’ تم کون ہو؟‘‘ دوسری طرف سے سرگوشی ہوئی<br>
’’میں مُسافرہوں ‘‘<br>
’’ بکواس، چور ہو تم‘‘ دوسرے شخص نے کہا<br>
’’ ہاں، مگر، نہیں ، وہ پہلی بار، وہ بھوک۔۔۔۔‘‘ اُس کے الفاظ گُم ہوگئے<br>
’’ہاں، ہاں، مجھے سب پتا ہے ، چلو اِدھرسے کہیں اور قسمت آزمائیں، کوئی سالا ہم سے پہلے ہی ہاتھ دِکھا گیا ہے ‘‘۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">محاذ پر</div>
<p>’’ پہلے کسی محاذ پرگئے ہو؟‘‘<br>
’’نہیں سر‘‘<br>
’’تویہ پہلی دفعہ ہے ؟‘‘<br>
’’جی سر‘‘<br>
’’ ڈر رہے ہو؟‘‘<br>
’’نہیں سر‘‘<br>
’’جھوٹ بولتے ہو؟‘‘<br>
’’نہیں سر، تھوڑا ساڈرہے ‘‘<br>
’’کوئی یاد آتاہے ‘‘<br>
’’جی سر‘‘<br>
’’کون؟‘‘<br>
’’اپنے بچے سر‘‘<br>
’’فائر کھول دو جوان‘‘<br>
’’آگے بچے ہیں سر‘‘<br>
’’خیرہے ، دُشمن کے ہیں ۔۔۔‘‘</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">پتھرکی سِل</div>
<p>بیٹی کی پیدائش پر اُسے آدھی رات کو گھر سے نکال دیاگیاتھا۔<br>
پیچھے والادروازہ مرنے کے بعدکُھلنا تھااورآگے کا دروازہ بیٹے کے بغیرنہیں کُھل سکتاتھا۔۔۔صبح اُس کے شوہر نے دروازہ کھولاتو باہرایک پتھرکی سِل پڑی تھی جس کے اوپر پتھرکی آنکھیں اورہونٹ بنے ہوئے تھے ۔<br>
شوہر نے کہا ’’ اندرآجاؤ، سردی سے برف ہوجاؤ گی ‘‘<br>
پتھرکی سِل نے کوئی جواب نہ دیا۔<br>
شوہر نے پتھرکی سِل کو اٹھایااور روتے ہوئے کہا<br>
’’ آہ ! میری بیوی کو ٹھنڈ لگ گئی ہے ‘‘ اور اُس نے اُسے اٹھا کرباقی سِلوں کے نیچے رکھ دیا۔۔۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">اُلٹ</div>
<p>’’جج صاحب ! یہ فیصلہ اُلٹ ہے ، آپ نے دائیں سمت کو بائیں اور بائیں کو دائیں لکھ کر تمام فیصلہ تبدیل کردیا ہے اور میں مجرم ثابت ہوگیا ہوں ‘‘ کٹہرے میں کھڑے ملزم نے کہا<br>
’’ فیصلہ درست ہے ‘‘ جج نے کہا<br>
’’ جناب سمتیں غلط ہیں ‘‘<br>
’’ فیصلے میں ہرسمت درست ہے ‘‘<br>
’’ لیکن جناب واردات دوسری سمت سے بڑے صاحب نے کی تھی اور ان کو آپ نے بری کردیا ہے ‘‘<br>
’’ وہ صاحب بے گناہ تھے ‘‘<br>
’’یہ فیصلہ الٹ ہے جج صاحب میرا یقین کریں ‘‘<br>
’’فیصلہ ابھی مکمل نہیں ہوا، قید بامشقت کے ساتھ عدالت یہ حکم بھی سُناتی ہے کہ تمہیں جیل میں روز اُلٹالٹکایا جائے تاکہ تمہیں سیدھا دکھائی دینے لگے ‘‘</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">گھڑی اور وقت</div>
<p>اُس شخص کا خیال تھا کہ وقت بدلے گااور اُسے اِس بدلاؤ کا اِس شدت سے انتظار تھاکہ وہ گھڑی کے اندر ہی رہنے لگ گیاتھا۔<br>
وہ صبح اٹھتا، وقت دیکھتا، گھڑی کی سوئیاں روز بدل جاتی تھیں لیکن وقت وہیں کا وہیں تھا۔<br>
ساری رات وہ بدلے ہوئے وقت کے خواب دیکھتارہتاتھا۔ گھڑیاں دنوں اور سالوں میں ڈھل گئیں اُس کے بال سفیدہوگئے وہ تھک گیااوراُس نے سوچاا ب وقت کبھی نہیں بدلے گاسو مجھے گھڑی سے باہر نکلنا چاہیے اور وہ چھڑی کے سہارے گھڑی سے باہر نکلاتو اُس کی بدلے ہوئے وقت سے ملاقات ہوئی۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">شیش محل</div>
<p>اُس کو وراثت میں شیشے کا گھر ملا تھاجس کو وہ بہت احتیاط سے سنبھال کر رکھتا تھا لیکن آئے روز کوئی نا کوئی پتھر مار کر چلاجاتا۔۔<br>
صبح کو وہ مرمت کرتاتورات کوکوئی پتھر اُٹھائے آجاتا، حتٰی کہ بعض دفعہ سوتے ہوئے بھی شیشے کے گھر پر حملہ ہوا تھا۔<br>
اُس نے باہر ایک بورڈ لگوا یا۔<br>
’’ براہِ مہربانی یہاں پتھرمت ماریں ‘‘<br>
لوگوں نے بورڈپر لکھی تحریرکو یکسرنظرانداز کردیا۔<br>
ایک روز تنگ آکراُس نے شیش محل کے باہر پتھر کی دیواریں چڑھادیں ۔</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">چھڑی</div>
<p>’’ مُسکراؤ‘‘<br>
’’ جناب ! آپ کے ہاتھ میں چھڑی ہے ‘‘<br>
’’تمہیں ضروں خوش رہناہوگا‘‘<br>
’’ جی مجھے چھڑی سے ڈر لگتاہے ‘‘<br>
’’میں کہتاہوں ہنسو‘‘<br>
’’یہ دیکھیں میں چھڑی سے زخمی ہوگیاہوں ‘‘<br>
’’ہنسو ورنہ میں مارڈالوں گا‘‘<br>
’’جی اچھا ہنستاہوں ‘‘<br>
ایک قہقہہ کہ جس میں آنسو اوردکھ شامل تھا۔<br>
’’ آہا ! یعنی اب تم خوش ہو‘‘<br>
’’جی ہاں، لیکن میں زخمی ہوگیا ہوں ‘‘<br>
’’ہنسو اور ہنستے رہو‘‘<br>
’’ جناب میں اِس سے زیادہ نہیں ہنس سکتا، تکلیف ہوتی ہے ‘‘<br>
’’کمبخت نوکر تم کوئی بھی کام ٹھیک سے نہیں کرتے ‘‘<br>
Image: Marc Chagall</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/saat-mukhtasir-kahanian-muhammad-jameel-akhtar/">سات مختصر کہانیاں: محمد جمیل اختر</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/saat-mukhtasir-kahanian-muhammad-jameel-akhtar/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جنگل اور دوسری کہانیاں</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ac%d9%86%da%af%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%81%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ac%d9%86%da%af%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%81%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد جمیل اختر]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 31 May 2017 14:02:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Micro Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[micro fiction urdu]]></category>
		<category><![CDATA[muhammad jameel akhtar]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانچے]]></category>
		<category><![CDATA[جدید ادب]]></category>
		<category><![CDATA[محمد جمیل اختر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=20948</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">محمد جمیل اختر: " چوہدری صاحب مبارک ہو آپ الیکشن جیت گئے وہ اب کچی بستی کا کیا کرنا ہے؟ " چوہدری صاحب کے پی اے نے کہا<br />
" وہاں تو اب پلازہ بنانا ہے"
</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ac%d9%86%da%af%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%81%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba/">جنگل اور دوسری کہانیاں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urduexcerpt">مزید <a href="https://laaltain.pk/category/literature/fiction/micro-fiction/" target="_blank" rel="noopener">مائیکرو فکشن</a> پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">جنگل</div>
<div class="urdutext">” یہ پتھر اُٹھا لوں؟‘‘ بچے نے بوڑھے سے پوچھا<br>
’’ نہیں ، پتھروں کا کیا کروگے؟‘‘<br>
’’ اِن سے کھیلوں گا، راستے میں کسی نے حملہ کیا تو میں پتھروں سے مُقابلہ کروں گا‘‘<br>
’’ راستے طویل ہوں توہرچیز ساتھ لے کر نہیں جاتے ‘‘بوڑھے نے جواب دیا<br>
’’ یہ پتھر خوبصورت ہیں، چاند کی طرح ۔۔‘‘<br>
’’یہ ہم چاند کے ساتھ چلتے ہیں یا چاند ہمارے ساتھ؟‘‘ بچے نے دوڑتے ہوئے پوچھا<br>
’’ سب اپنے اپنے مدار میں چلتے ہیں، اب کوئی کسی کے ساتھ نہیں چلتا‘‘<br>
’’ یہ جنگل کب آئے گا؟‘‘ بچے نے پوچھا<br>
’’ بس ہم جنگل میں پہنچ چکے ہیں ‘‘<br>
’’یہاں اندھیرا کتنا زیادہ ہے، مجھے لگتا ہے وہ لوگ بندوقیں لے کر آئیں گے اور ہم پر حملہ کردیں گے، جیسا ہمارے گاوں پر کیا تھا، کتنے بُرے ہیں وہ لوگ ۔۔۔مجھے اُن سے ڈر لگتاہے اگر ہم پتھروں کے پیچھے نہ چھپتے تو وہ ہمیں بھی مارڈالتے۔‘‘<br>
کیا جنگل میں بھی وہ آسکتے ہیں ؟‘‘<br>
’’ نہیں اب ہم محفوظ ہیں‘‘<br>
بوڑھے نے لمبی سانس کھینچ کر کہا</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">خواب</div>
<div class="urdutext"><strong>جھونپڑی کے اندر کا خواب</strong><br>
” بارش آئی تو کیا پانی اندر آئے گا؟ بچے نے جھونپڑی کے کپڑے کو ہاتھ لگا کر باپ سے پوچھا<br>
” نہیں آئے گا” باپ نے جواب دیا<br>
” اگر بہت بارش ہوئی تب آئے گا؟”<br>
” نہیں آئے گا کیونکہ میں نے چوہدری صاحب کے الیکشن والا بینر چھت پر لگا دیا ہے اب پانی اندر نہیں آئے گا ”<br>
بچہ خواب میں گم ہوگیا<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
<strong>جھونپڑی کے باہر کا خواب</strong><br>
” چوہدری صاحب مبارک ہو آپ الیکشن جیت گئے وہ اب کچی بستی کا کیا کرنا ہے؟ ” چوہدری صاحب کے پی اے نے کہا<br>
” وہاں تو اب پلازہ بنانا ہے”</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">دیوار</div>
<div class="urdutext">” کیا شہر کے چاروں طرف سے دیوار بنانی ہے ؟ ”<br>
” جی ہاں چاروں طرف سے ”<br>
” کوئی دروازہ؟ ”<br>
” نہیں کوئی نہیں ”<br>
” کوئی کھڑکی ؟ ”<br>
” بالکل نہیں ”<br>
” مگر پھر؟ ”<br>
” کسی اور کو بلاو یہ دیوار نہیں بناسکتا ”<br>
” نہیں ، نہیں ، میں نے ایسا کب کہا؟ ”<br>
” ابھی ”<br>
” میں نے تو کہا کہ لوگ باہر کیسے نکلیں گے؟”<br>
” اس کی فکر نہ کرو ، انہیں معلوم ہی نہیں کہ وہ اندر ہیں کہ باہر ”</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">اندھیرا</div>
<div class="urdutext">” یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے؟ ”<br>
” کنویں سے ”<br>
” کون ہے؟ ”<br>
” میں ہوں ”<br>
” میں کون؟ ”<br>
” میں ایک اندھا ہوں ”<br>
” کنویں میں کیا کر رہے ہو؟ ”<br>
” پاؤں پھسل گیا تھا ”<br>
” باہر آو ”<br>
” نہیں، یہاں باہر کی نسبت کم اندھیرا ہے”</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ac%d9%86%da%af%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%81%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba/">جنگل اور دوسری کہانیاں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ac%d9%86%da%af%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%81%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وہ آنکھیں</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%88%db%81-%d8%a2%d9%86%da%a9%da%be%db%8c%da%ba/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%88%db%81-%d8%a2%d9%86%da%a9%da%be%db%8c%da%ba/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد جمیل اختر]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 03 May 2017 17:58:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Modern Urdu Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[muhammad jameel akhtar]]></category>
		<category><![CDATA[urdu short story]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[جدید اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[محمد جمیل اختر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=20695</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">محمد جمیل اختر: صبح صبح ایسی آنکھیں بالکل نہیں دیکھنی چاہئیں کیونکہ ایسی آنکھیں دیکھ کر آپ بھی میری طرح اداس ہو جائیں گے اور سارا دن دفتر میں آپ سے کام نہیں ہو سکے گا، سو میں کوشش کرتا ہوں کہ ان گاڑیوں کا بلکہ ان آنکھوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%88%db%81-%d8%a2%d9%86%da%a9%da%be%db%8c%da%ba/">وہ آنکھیں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">تقریباً روز ہی صبح آفس جاتے ہوئے جب میں سٹاپ پراپنی گاڑی کا انتظار کررہا ہوتا ہوں تو پولیس والے قیدیوں سے بھری گاڑیاں لے کر جا رہے ہوتے ہیں۔ آج کل پولیس کو قیدیوں کو لے جانے کے لیے جو نئی گاڑیاں ملی ہیں انہیں دیکھ کر مجھے مرغیوں کا ڈربہ یاد آ جاتا ہے</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">آپ نے چھوٹے چھوٹے مرغیوں کے ڈربے تو دیکھ رکھے ہوں گے جن کے اوپر ایک چھوٹا سا روشندان بھی بنایا جاتا ہے جو روشنی کا کام دیتا ہے۔ اور مرغیاں زیادہ تر اسی روشندان کے پاس ہی کھڑی ہوتی ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ذیادہ تر قیدیوں کی بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اسی روشندان کے پاس ہی کھڑے ہوں شاید ہر شے آزادی کی خواہش مند ہے چاہے انسان ہو کہ جانور۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میں نے کبھی یہ کھڑکی کہ جس کے اوپر لوہے کی سلاخیں لگی ہوتی ہیں، خالی نہیں دیکھی۔ کوئی نہ کوئی آنکھ باہر ضرور جھانک رہی ہوتی ہے۔ حالانکہ روشندان تقریباً پانچ فٹ اونچائی پر ہے لیکن پھر بھی شاید قیدی اس ڈربے میں بیٹھتے نہیں اور سلاخوں پر آکر چمٹ جاتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ گاڑیاں قیدیوں کو صبح جیل سے کچہری لے کر جارہی ہوتی ہیں۔ مجھے اصل میں قیدیوں کی آنکھوں سے ڈر لگتا ہے مجھے انکی آنکھیں دیکھی نہیں جاتیں، میری کوشش ہوتی ہے کہ میرے محکمے کی گاڑی پہلے آجائے اور میں یہاں سے چلاجاوں آپ کہیں گے آنکھوں سے بھلا کون ڈرتا ہے۔ ہاں بات سچ ہے لیکن آنکھوں آنکھوں میں فرق ہوتا ہے شاید۔ ہر آنکھ ایک الگ کہانی سنا رہی ہوتی ہے۔اب ایسی درد بھری، داستان گو آنکھوں سے وحشت نہ ہو تو کیا ہو۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بعض آنکھیں ایسی وحشت ذدہ سی ہوتی ہیں کہ ایک بار آپ کی نظر پڑ جائے تو آپ کانپ جائیں ایسے قیدیوں کو شاید بڑی سزا ہونے والی ہوتی ہے اور وہ آپ کو یوں دیکھیں گے کہ گویا آپ ہی وہ جج ہیں جس نے ان کی سزا لکھی ہے سو جیسے ہی میری آنکھیں ان آنکھوں سے ٹکراتی ہیں تو وہ آنکھیں چیخ چیخ کر سوال کرنے لگتی ہیں کہ کیوں لکھی ہے یہ سزا، میرا قصور کیا تھا، سارے ثبوت اور گواہ میرے حق میں تھے پھر بھی فیصلہ میرے خلاف کیسے آ گیا۔ میں سوچتا ہوں شاید دوسری پارٹی بہت مضبوط ہوگی یا جج نے پیسے لے لیئے ہونگے۔ ایسے سوالوں کے جواب میں میرا دل کرتا ہے پولیس بس کے ساتھ ساتھ بھاگتا جاوں اور عین کھڑکی کے نیچے پہنچ کر کہوں کہ فیصلہ میں نے نہیں سنایا تم نے جو کہنا ہے جج کو کہو لیکن میں کچھ بھی نہیں کہتا۔اور نظر چرا کر سڑک کے دوسری طرف دیکھنے لگ جاتا ہوں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کچھ قیدی ایک ہی نظر میں سارا باہر کا منظر اپنے اندر اتارنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں اور ایسے میں پلک جھپکانا بھی بھول جاتے ہیں ایسے قیدیوں کو شاید لگتا ہے کہ اب وہ کبھی بھی آزاد نہیں ہونگے اور اس قید میں ہی باقی زندگی گزرے گی سو تھوڑی دیر کے لیئے ہی سہی جتنے منظر دیکھ لو بہت ہیں، ایسی آنکھیں کوئی سوال نہیں پوچھ رہی ہوتیں، شاید پہلے والی آنکھیں جب سوال پوچھ پوچھ کر تھک جاتی ہیں تو وہ ایسی ہو جاتی ہوں، لالچی آنکھیں سارے منظروں کو اپنے اندر سمو لینی کی خواہش میں ڈوبی آنکھیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">لیکن کچھ آنکھیں بے حد اداس ہوتی ہیں ایک نظر باہر کا منظر دیکھا اور پھر آہ سر دکھینچ کر آنکھیں نیچے جھکا لیں ایسے قیدی شایدعادی مجرم نہیں ہوتے۔ یونہی کبھی کبھار جذبات میں یا حالات کے ہاتھوں مجبور ہوکر کوئی جرم کر بیٹھتے ہیں اور سونے پہ سہاگہ پکڑے بھی جاتے ہیں پھر ضمیر انہیں ملامت کرتا رہتا ہے اور وہ ایک پچھتاوے کی آگ میں سلگ رہے ہوتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">صبح صبح ایسی آنکھیں بالکل نہیں دیکھنی چاہئیں کیونکہ ایسی آنکھیں دیکھ کر آپ بھی میری طرح اداس ہو جائیں گے اور سارا دن دفتر میں آپ سے کام نہیں ہو سکے گا، سو میں کوشش کرتا ہوں کہ ان گاڑیوں کا بلکہ ان آنکھوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ لیکن جب بھی وہ سامنے سے گزرتی ہیں تو میں نہ چاہتے ہوئے بھی نظر اٹھا کے دیکھ لیتا ہوں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اور آج بھی میں یہی سوچ رہا ہوں کہ میرا سامنا نہ ہو لیکن محکمے کی گاڑی آج لیٹ ہے سو انتظار کرنا پڑے گا۔ اور وہ دیکھیں پھر پولیس کی گاڑیاں آ رہی ہیں آج تو میں نہیں دیکھوں گا،پہلی گاڑی گزر گئی میں دوسری جانب دیکھنے لگا، ایسا بھی کیا ڈر مجھے دیکھ لینا چاہیئے میں نے سوچا اور جب دوسری بس نزدیک آئی تو میری نظر فورا کھڑکی کی طرف اٹھ گئی۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ کیا۔۔۔ نہیں یہ نہیں ہوسکتا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میری آنکھیں کھڑکی پر کیا کررہی ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟؟</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%88%db%81-%d8%a2%d9%86%da%a9%da%be%db%8c%da%ba/">وہ آنکھیں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%88%db%81-%d8%a2%d9%86%da%a9%da%be%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>2</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایٹوموسو</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a7%db%8c%d9%b9%d9%88%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%88-%d9%81%d9%88%d8%a8%db%8c%d8%a7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a7%db%8c%d9%b9%d9%88%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%88-%d9%81%d9%88%d8%a8%db%8c%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد جمیل اختر]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 11 Nov 2016 06:56:49 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[محمد جمیل اختر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=19267</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">محمد جمیل اختر: وہ آوازوں سے اتنا خوفزدہ تھا کہ کانوں میں ہر وقت روئی ڈالے رکھتا لوگ اس کی حالت پر افسوس کرتے اور اس کے ماضی کی خوشگوار باتوں کو یاد کر کے آہیں بھرتے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%db%8c%d9%b9%d9%88%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%88-%d9%81%d9%88%d8%a8%db%8c%d8%a7/">ایٹوموسو</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">مکمل دیوانگی اور ہوش میں ایک ایسا عالم بھی ہوتا ہے کہ جب آپ ایک خلا میں ہوتے ہیں جب آپ کو نہ تو دیوانہ کہاجاسکتا ہے اور نہ ہی عقلمند۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ایسے عالم میں آدمی یا تو بے حد بولنے لگ جاتاہے یامکمل خاموشی اختیار کرلیتا ہے۔ پہلے پہل بہت بولنے والے جب دیوانے ہوتے ہیں تو انہیں گہری چپ آن گھیرتی ہے اور جو پہلے پہل خاموش رہتے ہیں دیوانگی ان کے لیئے آوازوں کا تحفہ ساتھ لاتی ہے سو وہ چیختے ہیں چلاتے ہیں۔ آپ کبھی پاگل خانے جائیں توآپ کو دو ہی طرح کے پاگل ملیں گے بہت خاموش یا بہت باتونی۔ لیکن بہرحال کہلاتے سب پاگل ہی ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">وہ بھی آج کل ایسے ہی خلا میں تھااسے محسوس ہوتا تھا کہ چند روز اور اگر وہ اسی کرب میں گزارے گا تو عین ممکن ہے مکمل پاگل ہوجائے، لیکن وہ پاگل ہونے سے ڈرتا بھی تھاکہ پاگل تو کچھ بھی کہہ سکتے ہیں، کچھ بھی کر سکتے ہیں۔۔۔ وہ بہت ڈرتا تھا۔<br>
بہت سی باتیں اسے بھولنے لگ گئیں تھیں کبھی کبھار تو اسے یوں لگتا کہ جیسے وہ اپنا نام تک بھول گیا ہو فوراً جیب سے شناختی کارڈ نکالتا، نام پڑھتا اور کہتا حد ہے یہی نام تو مجھے یاد ہے بھلا آدمی اپنا نام تھوڑی بھول سکتا ہے۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">راستوں میں وہ خود کلامی کرتا دکھائی دیتا اور جونہی اسے یہ خیال آتاکہ وہ کافی اونچی آواز میں خود سے باتیں کر رہا ہے اور اسے لوگ دیکھ رہے ہیں تو وہ فورا خاموش ہوجاتا اور لوگوں کی طرف یوں دیکھتا کہ جیسے کہہ رہا ہو، آپ کو غلط فہمی ہوئی میں ابھی پاگل نہیں ہوا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">وہ جب بہت اونچی آواز میں خود کلامی کرتا تو کچھ اس طرح کے بے ترتیب جملے لوگوں کو سننے کو ملتے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“میں نہیں ڈرتا۔۔۔۔ نہیں کچھ نہیں ہوگا۔۔۔میں نہیں، نہیں، نہیں ڈرتا۔۔۔۔نہیں،نہیں۔۔۔۔پھر اسے خیال آجاتا کہ اسے لوگ دیکھ رہے ہیں۔۔۔”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">نیند اسے اب بہت مختصر ٹکڑوں میں آتی، ذرا سے شور سے بھی وہ جاگ جاتا اس کے خواب سارے پریشان تھے اتنے پریشان کہ وہ چیخ اٹھتا ایسے خوابوں کے بعد بھلا کون سو سکتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ایک وقت تھا کہ وہ ایک زندہ دل آدمی تھا، خوش باش، بھرپور انداذ میں زندگی گزارنے والاانسان۔ لوگوں میں گھل مل جانا اس کے لیئے کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">لیکن اب وہ دن نہیں رہے تھے۔ اسے اب لوگوں سے خوف آتا تھا۔ حتیٰ کہ چوک میں کھڑی موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں سے ڈرتاتھا۔ لوگوں کو بہت غور سے دیکھتا۔ اب اسے کسی پر اعتبار نہیں تھا۔کیا ساری دنیا بے اعتباری ہے؟؟؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس کا یہی خیال تھا۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">وہ بہت راستے تبدیل کرتا ہر موڑ پر کوئی موٹرسائیکل کھڑی ہوتی جو اس کا راستہ روک لیتی۔۔۔ وہ پریشان تھا لیکن وہ ڈرتا تھا۔ وہ بیچارا بہت عجیب تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">وہ آوازوں سے اتنا خوفزدہ تھا کہ کانوں میں ہر وقت روئی ڈالے رکھتا لوگ اس کی حالت پر افسوس کرتے اور اس کے ماضی کی خوشگوار باتوں کو یاد کر کے آہیں بھرتے۔ لوگوں نے اسے بہت سمجھایا کہ دیکھو اس قدر خوف انسان کو مارڈالتا ہے اور نہیں ضرور حوصلے سے کام لینا چاہیئے اور اس طرح کی اور بہت سی عام باتیں۔۔۔ لیکن وہ ڈرتا تھا ہر آواز سے، ہر شور سے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ایک روز جب دسمبر کی خوشگوار دھوپ نکلی ہوئی تھی، اس کا دل چاہا کہ صحن میں بیٹھا جائے اور دھوپ کے مزے لوٹے جائیں، کافی عرصے بعد اس کے دل میں کوئی خواہش اٹھی تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سو وہ صحن میں موجود ایک کرسی پر بیٹھ گیا اور آنکھیں بند کرلیں، دسمبر کی دھوپ یقینا خوشگوار ہوتی ہے اس نے سوچا اور آنکھیں کھولیں او ر دیکھا کہ دیوار پر چند چڑیاں بیٹھی چہچہا رہی ہیں، مجھے یقینا اب ڈرنا نہیں چاہیئے اور پرندوں کی خوبصورت آوازوں کوسننا چاہیئے، اس نے ڈرتے ڈرتے کانوں سے روئی نکال کر پھینک دی اور آنکھیں موند لیں، یہ آوازیں اور یہ دھوپ کتنی بھلی معلوم ہوتی ہے۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اور مجھے اب ڈر بھی نہیں لگتا۔۔۔مجھے اب اس خوف سے نکلنا ہوگا۔<br>
باہر گلی میں بچے کھیل رہے تھے انہوں نے ایک پٹاخے کو آگ لگائی اور پٹاخہ اند ر صحن میں پھینک دیا۔۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ دھوپ کتنی خوشگوار ہے، یہ چڑیاں کتنا خوبصورت گاتی ہیں، اور مجھے اب ڈر بھی نہیں لگتا۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ڈزز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ایک چیخ۔۔۔۔ ایسی دلدوز چیخ کہ چڑیاں اڑ گئیں، بچے ڈر کے بھاگ گئے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اور وہ کرسی پر ہی بے ہوش ہو گیا۔ پچھلے دھماکے میں بھی وہ بے ہوش ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">نوٹ: (ایٹوموسو فوبیا: ایک فوبیا ہے جس میں انسان کو دھماکے کاخوف لاحق ہوتا ہے)<br>
(<a href="http://www.phobiasource.com/atomosophobia-fear-of-atomic-explosions/" target="_blank" rel="noopener">Atomosophobia</a> is the Fear of Bomb Blast)</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%db%8c%d9%b9%d9%88%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%88-%d9%81%d9%88%d8%a8%db%8c%d8%a7/">ایٹوموسو</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a7%db%8c%d9%b9%d9%88%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%88-%d9%81%d9%88%d8%a8%db%8c%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
