<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ذوالفقار عادل Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/%D8%B0%D9%88%D8%A7%D9%84%D9%81%D9%82%D8%A7%D8%B1-%D8%B9%D8%A7%D8%AF%D9%84/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/ذوالفقار-عادل/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Fri, 31 May 2024 22:19:11 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>ذوالفقار عادل Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/ذوالفقار-عادل/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>حسنین جمال کے نام ایک خط (اپنی شاعری کے حوالے سے)</title>
		<link>https://laaltain.pk/husnain-jamal-k-nam-khat/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/husnain-jamal-k-nam-khat/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[تصنیف حیدر]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 01 Mar 2021 13:00:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[ادریس بابر]]></category>
		<category><![CDATA[تصنیف حیدر]]></category>
		<category><![CDATA[حسنین جمال]]></category>
		<category><![CDATA[ذوالفقار عادل]]></category>
		<category><![CDATA[غزل]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=26002</guid>

					<description><![CDATA[<p>شاعری کو تو بسیط ہونا چاہیے، اس میں سبھی طرح کے رنگ، سبھی طرح کے لفظ اور سبھی طرح کی دنیائیں آباد ہونی چاہیے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/husnain-jamal-k-nam-khat/">حسنین جمال کے نام ایک خط (اپنی شاعری کے حوالے سے)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>بھائی حسنین!</p>
<p>آپ نے کئی بار غزلوں کا مطالبہ کیا اور میں ہربار شرمندہ ہوا کہ کیا بھیجوں؟ ایسا نہیں ہے کہ پرانے شعری مجموعے کے بعد میں نے کوئی غزل نہیں لکھی۔ ضرور لکھی ہے، مگر غزل کے تعلق سے میرا نظریہ اور یاروں نے اسے جتناسرچڑھا رکھا ہے،اس حوالے سے میری رائے تھوڑی سی اس عرصے میں بدلی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے، میں نے ایک <a href="https://www.humsub.com.pk/206231/tasneef-haider-28/" target="_blank" rel="noopener">مضمون غزل کے تعلق سے لکھا تھا</a>، جو اردو اور ہندی دونوں جگہ شائع ہوا اور مجھے دونوں جگہ غزل کے عاشقوں سے صلواتیں بھی سننی پڑیں۔ خیر، یہ تو کوئی بڑی بات نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ غزل اور اس کی تہذیب پر میں جب نظر دوڑاتا ہوں تو مجھے اردو دنیا کے لوگوں کی کم ہمتی اور محنت سے بھاگنے کی اصل وجوہات میں غزل بھی ایک مضبوط ستون کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ میں نہیں کہتا اور نہ چاہتا ہوں کہ اردو شاعر غزل گوئی سے مایوس ہوکر اسی شعریات کے ساتھ کسی دوسری صنف کا رخ کرے۔ میں جو چاہتا تھا وہ یہ تھا کہ غزل میں تجربے ہوں اور اس میں کوئی نئی راہ پیدا کی جائے۔ مگر میرے خیال سے یاروں کا کہنا ٹھیک ہی ہے کہ غزل کا مزاج تبدیل نہیں ہوسکتا۔ اس کی وجہ بھی بتاتا ہوں، پہلے دو ایک باتیں لکھ لوں۔ غزل عیش پسندوں کی یا یہ کہہ لیجیے کہ ایلیٹ کلاس میں پروان چڑھنے والی ایک صنف ہے۔ اس کا عام سماج سے، عام لوگوں سے، ان کے عام مسائل سے ، ہماری دنیاؤں میں موجود طبقاتی کشمکش سے دور تک کا واسطہ نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اگر آپ ڈھونڈنے چلیں تو آپ کو ان موضوعات پر اشعار نہیں ملیں گے، ضرور مل جائیں گے مگر جب کسی ادبی صنف کے مجموعی مزاج کے حوالے سے بات ہورہی ہو تو اس میں تخلیق ہونے والے بیشتر حصے کو سامنے رکھ کر بات کی جاتی ہے۔ پہلے میں مشاعرے سے چڑتا تھا، مجھے لگتا تھا کہ مشاعرہ باز کوئی بہت اوچھا کام کررہے ہیں، مگر یقین جانیے جب میں نے اردو کے بہترین ’غزل گو‘ حضرات کے دقیانوسی پن اور خود کو دوہرانے کے عمل کو سمجھ لیا تو مجھے مشاعرے سے بھی کوئی خاص شکایت نہیں رہی۔ مشاعرہ بہرحال ایک عوامی چیز ہے۔ کہنے دیجیے کہ سادہ الفاظ میں سطحی مضامین کو ارذل قرار دینا اور اعلیٰ یا اشرافیہ طبقے کی زبان میں انہی سطحی مضامین کو کوئی اعلیٰ قسم کا ادب سمجھنا میرے نزدیک ایک قسم کا برہمن واد ہے۔ یہ وہی رویہ ہے جس نے ہمارے یہاں نظیر اکبر آبادی کو ایک عرصے تک زبان دانوں کی دنیا میں مطعون و ملعون رکھا اور کچھ آگے بڑھ کر کہوں تو رحیم،تلسی داس، کبیر، جائسی ، میرابائی ،بلہے شاہ، عبدالطیف بھٹائی، لالیشوری، حبا خاتون وغیرہ کو کبھی اردو شاعری کی روایت کا حصہ نہیں مانا۔صرف یہ ہی نہیں ، امیر خسرو کی شاعرانہ عظمت پر ان کی فارسی شاعری کے بل پر زور دیا گیا اور یہ کوشش کی گئی کہ جہاں تک ممکن ہو عوامی زبان میں ان کی شاعری سے یہ کہہ کر پلا جھاڑا جائے کہ یہ ان کا کلام ہے ہی نہیں۔ ہم روایتی ادب میں بھی اس قسم کے محلاتی ادب سے وابستہ رہے جس کا عوام سے واسطہ نہ ہو، ہمیں وہ شاعری بھاتی رہی جس نے لال قلعے یا اردوئے معلیٰ میں جنم لیا ہو اور ہم دھیرے دھیرے ان خزانوں کو دھبوں کی طرح اپنے دامن سے صاف کرتے چلے آئے جس میں دکنی، برج، اودھی، سندھی، پنجابی یاکشمیری بھاشائوں کے عناصر موجود تھے۔ اپنی بات کے ثبوت کے لیے قائم کا ایک پرانا شعر نقل کرتا ہوں۔<br>
قائم میں غزل طور کیا ریختہ ورنہ<br>
ایک بات لچر سی بہ زبان دکنی تھی</p>
<p>یہ جو لچر سی بات ہے، یہ کیا ہے۔ یہ مٹی سے جڑی بات ہے۔ریختہ کے جتنے مطلب لغت میں دیے گئے ہیں ، ان میں سے ایک مطلب گری پڑی شے بھی ہے۔ چنانچہ عوام سے دوری کا یہ سلسلہ ہمیں اردو کے ابتدائی نام اور ڈھنگ سے ہی پتہ چلتا ہے۔ ہم الزام دیتے ہیں انگریز کو کہ اس نے ہندو اور مسلمانوں کے بیچ پھوٹ ڈلوانے کے لیے اردو نام کی ایک زبان ایجاد کی اور اس کے ابتدائی ناموں میں سے ایک ہندی کو ہندؤں کے مختص کردیا۔ مگر ہم غور نہیں کرتے کہ انگریز ہمارے مزاج کی کمزوریوں سے فائدہ بھی اٹھارہا تھا۔ ہم پہلے سے ہی ہر اس زبان یا بھاشا کی مخالفت پر کمر بستہ تھے، جو عوام یا خاص طور پر نچلے طبقے سے وابستہ رہی ہو۔ اسی طرح دیکھیے تو انگریز نے نظم کی ’تحریک ‘بھی اسی اشرافیہ کے ذریعے شروع کروائی جو مضامین کو پاک بنانے یا اس کے بپتسمہ کے فرض کو انجام دے سکے۔ آب حیات میں اردو شعرا کے تعصب سے پر جو واقعات نظر آتے ہیں ان میں ایک کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہوں گا، میر نے لکھنو جاتے وقت زبان غیر سے اپنی زبان بگڑنے کے ڈر سے برابر بیٹھے مسافر سے بات تک نہ کی۔ یہی تصور آج اردو میں ایک ’بہتر غزل گو اور عام آدمی‘ کے بیچ حد فاصل قائم کرتا ہے۔</p>
<p>شاعری صرف ادبی مضامین یا بحور و قوافی کے گیان کو پڑھ کر نہیں سیکھی جاسکتی اور اس کا تعلق کسی مخصوص طبقے یا زبان سے بھی کیسے ہوسکتا ہے؟ شاعری کو تو بسیط ہونا چاہیے، اس میں سبھی طرح کے رنگ، سبھی طرح کے لفظ اور سبھی طرح کی دنیائیں آباد ہونی چاہیے۔ مگر نزدیک سے دیکھیے تو شاعری کا یہ حلیہ ایک یوٹوپیائی دنیا میں ہی ممکن ہے۔ ہم اس بات کو نظر انداز نہیں کرسکتے کہ جن لوگوں نے اردو شاعری میں زبان و بیان ، علامت و استعارے کی خوبیاں بیان کیں، اس کے قواعد بنائے اور اس کی شعریات کو ترتیب دیا۔ وہ سخت قسم کے متعصب لوگ تھے۔ زیادہ دور نہ جاکر شبلی نعمانی کی مثال دے سکتا ہوں جو بقول خورشیدالاسلام اپنے مدرسے میں نچلے طبقے کے بچوں کو پیچھے کی جانب اور زمین پر بٹھایا کرتے تھے۔ سرسید اور حالی کی متعصبانہ سوچ جاننی بھی اتنی مشکل نہیں کہ ان کے بارے میں بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے شعری سرمایے کا سب سے بڑا گوہر غالب بھی ’وبائے عام ‘میں مرنے سے کیوں خائف تھا اور کتنا بڑا نسل پرست تھا، اس کے لیے کسی عمیق مطالعے کی ضرورت نہیں۔ نچلے طبقے کی شاعری سے ہمارے شعرا کا تعصب ویسا ہی تھا جیسا شیکسپئر اور گستاؤ فلوبیر کا یہودیوں کے تعلق سے تھا۔</p>
<p>غزل کے تعلق سے میں اس لیے بھی محتاط ہوگیا کہ اس نے ہمارا مزاج کئی طرح سے بدلا ہے۔ اول تو اس نے ہمیں چاہے کتنی ہی نکتہ آفرینی سکھائی ہو، کیسی ہی علامت نگاری، تشبیہ سازی کے فن سے نوازا ہو مگر غزل نے ہمیں ایک لطیفہ گو بنادیا ہے۔ ہم لوٹ گھوم کر انہی مضامین کو الٹتے پلٹتے رہتے ہیں اور خوش ہوتے رہتے ہیں کہ ہم کوئی بڑا کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔ باہر کی دنیا بھی غزل کو پسند کرتی ہے اس میں کوئی شک نہیں، مگر جب آپ غور کریں گے تو غزل کے ’کھاتے پیتے‘ شائق آپ کو صاف دکھائی دے جائیں گے۔ ان میں زیادہ تعدادا علی ٰ اور متوسط طبقے کے ان افراد کی ہوگی ، جن کی زندگیاں ایک مستقل نوکری یا مستقل آمدنی یا باپ داد کی جائداد پر ٹکی ہوئی ہیں اور جنہیں عالم ہونے کے لیے صرف غزل کے شعروں کی پرکھ کا سہارا لینا کافی ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس صنف نے ہمیں خوشامد پسند بنادیا ہے۔ غزل میں محبوبہ کی چاپلوسی کو اچھی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہےبلکہ اسے غزل کا مزاج ہی بناکر رکھ دیا گیا ہے۔ اس لیے اس تہذیب میں پیدا ہونے والی آپسی تعریفیں بھی ایسی صفات سے بھری پڑی ہیں، جن میں کسی ادیب کی تعریف کرنی ہو تو اسے بغیر کانپے ، بنا ڈرے سب سے بڑا ادیب کہہ دیا جائے، دنیا کا عظیم عالم، اعلی ٰ ترین دانشور اور اس قسم کے خطابات کا آپس میں پھیر بدل کرکے اپنی انا کو تسکین دے لی جائے۔ اس سنسکرتی کا پربھاؤ اتنا گہرا ہے کہ جو آدمی غزل لکھ بھی نہیں رہا وہ بھی اسی سے جنم لینے والے خطابات و القاب اور اسی زمین سے پھوٹنے والی تعریف و توصیف پر اکتفا کرتا ہے۔ یعنی جب وہ خود کسی کی تعریف کرے گا تو بھرپور مبالغے سے کام لے گا اور اگر کوئی دوسرا اس کی تعریف کرے گا تب بھی وہ ’ادیب‘ یہی چاہے گا کہ اس کی تعریف بھی اسی چاپلوسانہ انداز میں کی جائے۔</p>
<p>بلکہ اردو میں کئی بار اس سے بھی بڑھ کر ہمارے ادیب (خواہ پرانے ہوں یا نئے) اپنی بھرپور تعریف کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ خودستائی ایک فن ہے۔ ایسا فن،جس کے لیے اعلیٰ درجے کی لاعلمی اور معصومیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی ادیب کا اپنے یا کسی دوسرے شخص کے لیے یہ کہنا کہ وہ انتہائی درجے کا ادب تخلیق کرچکا ہے یا اس کے مقابلے کا کوئی اور تو دور کی بات ہے، اس کا پاسنگ بھی ڈھونڈے سے نہ ملے گا، تبھی ممکن ہے جب تعریف کرنے والے کی نظر کوتاہ ہو یا پھربرسوں سے اس کی زبان کو ایک خاص قسم کے درباری مزاج میں ڈھالا گیا ہو۔ اور اردو کے معاملے میں موخرالذکر بات مجھے زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔</p>
<p>میری غزل سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ میں اردو غزل کہنے والے ہم عصروں میں <a href="https://www.rekhta.org/poets/idris-babar/ghazals?lang=ur" target="_blank" rel="noopener">ادریس باب</a>ر ، <a href="https://www.rekhta.org/poets/zulfiqar-aadil/ghazals?lang=ur">ذوالفقار عادل</a> وغیرہ کو بہت پسند کرتا ہوں۔ یہ دونوں ہی(خاص طور پر ادریس بابر)غزل کی زبان کو اس طرح پیمپر نہیں کرتے، جیسا کہ ہمارے ادیبوں کا وتیرہ رہا ہے۔ حال ہی میں، میں نے دیکھا کہ ادریس نے ایک غزل وائرل ہوجانے والی ایک ویڈیو کے حوالے سے لکھی، انہوں نے کورونا وائرس کو بھی موضوع بنایا۔ کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ یہ تو موضوعاتی ادب ہوگیا اور موضوعاتی ادب زندہ نہیں رہتا۔ مگر یہ باتیں بھی اسی مزاج کی پروردہ ہیں جس نے غزل کو موضوع سے آزاد ، ہر شعر میں ایک علیحدہ بات، کبھی ہنسی ٹھٹھول تو کبھی پینٹ گیلی کردینے والے موضوعات تک سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔ یہ کوئی مذاق نہیں ، ایک سچی بات ہے کہ غزل کے حوالے سے میری ایک دوست نے کہا کہ اس صنف کے شاعرکاموڈ جس تیزی سے سوئنگ ہوتا ہے، اتنا تو کبھی میرا پیریڈز کے دوران بھی نہیں ہوا۔ بہرحال ادریس کو پسند کرنے کی وجہ کلیشے مضامین سے ان کی بغاوت بلکہ ایک قسم کی نفرت ہے۔ زبان کو بھی اسی مٹی سے لے رہے ہیں جہاں وہ جیتے ہیں، ان کے یہاں تصنع اور ریاکاری نہیں ہے اور وہ استاد بننے کے زعم سے باہر آکر ایک ایسی کوشش کررہے ہیں، جس میں غزل کی باگیں موڑ کر اسے محل سے اتار کر سڑک پر لایا جاسکے۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ ان کی شاعری پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ بہت سے لوگ انہیں ایک بگڑیل اور ٹھٹھول گو قسم کا شاعر سمجھتے ہیں۔ خود ادریس کے یہاں عشرے کی جس صنف نے جنم لیا ہے، وہ غزل کے معاملے میں ان کی بے اطمینانی اور غیر سکون بخش طبیعت کا پتہ دیتی ہے۔ پھر بھی میرا ماننا ہے کہ اگلی پانچ دہائیوں میں اگر ادریس بابر جیسےتین چار شاعر بھی اردو غزل نے پیدا کردیے تو یہ تعجب کی بات ہوگی، سچ مانیے تو میرے نزدیک یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ غزل نے اپنی راہ، عوامی لیگ سے الگ بنائی ہے اور وہ اسی ڈھرے پر آگے بھی چلتی رہے گی، اسی طرح مقبول رہے گی اور اسی طرح پڑھی سنی جائے گی۔</p>
<p>چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ ایسی صنف میں بڑی یا اچھی چھوڑ دیجیے، بہت حد تک شاعری ہی ممکن نہیں ہے۔ میں غزل لکھتا ہوں، ضرور لکھتا ہوں۔ مگر یہ بھی جانتا ہوں کہ صرف غزل ہی نہیں، غزل گو شاعر کی نظم بھی اردو والوں کے یہاں کوئی اہم کارنامہ نہیں ہوسکتی۔ میرے خیال میں ٹھیک ٹھاک نظمیں لکھنا اردو کے ان ہی شاعروں کے لیے ممکن ہوگا جو پہلے سے غزل نہ کہتے ہوں یا غزل کے مزاج کو سمجھ کر اسے بہت پہلے ہی چھوڑ چکے ہوں یا انہوں نے غزل لکھتے ہوئے بھی اس کے مقابلے اپنی نظم کو ہمیشہ زیادہ اہمیت دی ہو۔اسی لیے میں اردو شاعری سے تقریباً کنارہ کش ہوکر فکشن کی دنیا کی طرف توجہ کرتا ہوں کہ وہاں مجھے زیادہ روشنی اور امکانات نظر آتے ہیں۔ الٹا لٹک کر کرتب دکھانے والوں کی دنیا میں رہتے رہتے جس طرح ہم اپنے پیروں پر چلتے ہوئے کسی شخص کو دیکھ کر چونک پڑتے ہیں، اسی طرح فکشن کی دنیا نے مجھ پر حیرت کے کئی دروازے کھولے ہیں۔ اس لیے جہاں تک ممکن ہو میں خود کو غزل کے مطالعے سے بچاتا ہوں، مشاعروں یا نشستوں میں سال میں دو یا تین بار سے زیادہ شرکت نہیں کرتا۔میں چاہتا ہوں کہ دنیا کی دوسری زبانوں کا ادب بھی پڑھ سکوں، جان سکوں۔خاص طور پر ایسی زبانیں، جن کے یہاں ردیف و قافیے کی پابندی ، بحر کی قید کے مقابلے میں سیدھے سبھاؤ لکھا گیا ادب پڑھنے کو مل سکے۔ اب تو خیر اردو غزل کی شہرت ہندی، پنجابی، مراٹھی اور دوسری زبانوں تک بھی پہنچ گئی ہے اور ان کے یہاں باقاعدہ مشاعرے بھی ہوتے ہیں، شاعروں کے دواوین بھی چھپتے ہیں۔ اس کھیل میں دلچسپ یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ زبانیں غزل کے مزاج کو تبدیل کرتی ہیں یا غزل ان کے تخلیقی ادب کے مزاج پر کوئی گہرا نقش چھوڑ جاتی ہے۔ مگر یہ بات اب سے قریب پچاس، ساٹھ سال بعد ہی بتائی جاسکے گی۔</p>
<p>اس لیے جب کوئی دوست مجھ سے غزلیں مانگتا ہے تو میں اکثر کنی کاٹتا ہوں۔ مگر دوست تو دوست ہیں! ان کی وجہ سے کبھی کبھار شعر بھی سنانے پڑجاتے ہیں اور غزل کا مجموعہ بھی انہی کی بدولت شائع ہوجاتا ہے، اور اس پر کچھ گفتگو بھی ہوجاتی ہے، مگر سچ پوچھیے تو اس میدان سے میری دلچسپی اب قریب قریب ختم ہی ہوچکی ہے۔ ہاں اردو میں لکھی ہوئی ایسی کوئی چیز مجھے ضرور اپنی طرف متوجہ کرتی ہے جو غزل کے اثر سے باہر ہو، پھر چاہے وہ فکشن ہو، نان فکشن ہو یا کوئی نظم۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/husnain-jamal-k-nam-khat/">حسنین جمال کے نام ایک خط (اپنی شاعری کے حوالے سے)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/husnain-jamal-k-nam-khat/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ذوالفقار عادِل کی اُردُو غزل کے اِنفرادی خدوخال</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b0%d9%88%d8%a7%d9%84%d9%81%d9%82%d8%a7%d8%b1-%d8%b9%d8%a7%d8%af%d9%90%d9%84-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%8f%d8%b1%d8%af%d9%8f%d9%88-%d8%ba%d8%b2%d9%84-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%90%d9%86%d9%81%d8%b1%d8%a7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b0%d9%88%d8%a7%d9%84%d9%81%d9%82%d8%a7%d8%b1-%d8%b9%d8%a7%d8%af%d9%90%d9%84-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%8f%d8%b1%d8%af%d9%8f%d9%88-%d8%ba%d8%b2%d9%84-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%90%d9%86%d9%81%d8%b1%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[کولاج]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 03 May 2017 18:19:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[collage]]></category>
		<category><![CDATA[urdu poetry]]></category>
		<category><![CDATA[zulfiqar adil]]></category>
		<category><![CDATA[اردو شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[ذوالفقار عادل]]></category>
		<category><![CDATA[کولاج]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=20700</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">ازورشیرازی: ذوالفقار عادل کی غزل کا موضوعاتی وجود رواں صدی کے سماجی رویوں ،نفسیاتی عوامل،وجودی محرکات،طبیعاتی وحیاتیاتی مسائل اور بے یقینی و لایعنیت کے خمیر سے گندھا ہوا ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b0%d9%88%d8%a7%d9%84%d9%81%d9%82%d8%a7%d8%b1-%d8%b9%d8%a7%d8%af%d9%90%d9%84-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%8f%d8%b1%d8%af%d9%8f%d9%88-%d8%ba%d8%b2%d9%84-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%90%d9%86%d9%81%d8%b1%d8%a7/">ذوالفقار عادِل کی اُردُو غزل کے اِنفرادی خدوخال</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">تحریر: ازور شیرازی<br>
اکیسویں صدی کا اُردُو شعری ماحول اگرچہ اِظہار کی متعدد ہیتوں سے مملو ہے لیکن ابھی تک شعری روایت کے پالن کے لیے غزل سے درخورِ اعتنا نہیں برت سکا؛جس کی وجہ اِس صنفِ سخن کا ثفافتی خدوخال اور مشرقی شعری مزاج سے مضبوط اِنسلاک ہے۔سابقہ تین چار صدیوں سے غزل شناخت کے جن مراحل سے گزری ہے اُس نے اِسے مقبول ترین شعری صنف منوانے کے ساتھ اِس کے ادبی معیارات کو بھی سنگلاخ بنا دیا ہے۔تاہم اِس میدان کے تخلیق کاروں کی بھیڑ میں جونہی کوئی منفرد اور توانا آواز سنائی دیتی ہے تو وہ جلد ہی سنجیدہ قارئین اور ناقدین کے دل کو لُبھا لیتی ہے ؛انہی مختصر اسماء میں سے ایک اہم نام ذوالفقار عادل کا ہے ؛جس کی ابتدائی پہچان بیسویں صدی کی نویں دہائی سے متعدد ادبی رسائل میں متواتر کلام کی اشاعت سے بننا شروع ہوئی ۔بعد ازاں جسے منضبط تشخص جولائی ۲۰۱۶ء میں منظرِ عام پر آنے والے اُن کے اولین شعری مجموعے ” شرق میرے شمال میں “سے حاصل ہوا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ذوالفقار عادل کی غزل کا موضوعاتی وجود رواں صدی کے سماجی رویوں ،نفسیاتی عوامل،وجودی محرکات،طبیعاتی وحیاتیاتی مسائل اور بے یقینی و لایعنیت کے خمیر سے گندھا ہوا ہے۔تبھی وہ اِنسانی روابط کو مضبوط بنانے کے بجائے اپنے داخلی منظر نامے کو بے جان اشیاء سے مربوط کرکے اپنی تنہائی کا ازالہ تلاش کرتا ہے ۔چابی،الماری،میز،دفتر،بینچ،گھراور کمراجیسے کلیدی الفاظ اُس کے شخصی اور تخلیقی رویوں سے ہم آہنگ ہوکر جاندار شعری مضمون کو جنم دیتے ہیں جو موجودہ انسان کی عدم برداشت ،نفسیاتی الجھاؤ اور مبہم افعال کا مشاہداتی محاکمہ پیش کرتا ہے:</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">دیر سے قفل پڑا دروازہ اِک دیوار ہی لگتا تھا<br>
اُس پر ایک کھلے دروازے کی تصویر لگا لی ہے<br>
اپنے آپ کو گالی دے کر گھور رہا ہوں تالے کو<br>
الماری میں بھول گیا ہوں پھر چابی الماری کی<br>
ہر منظر کو مجمع میں سے یوں اُٹھ اُٹھ کر دیکھتے ہیں<br>
ہو سکتا ہے شہرت پالیں ہم اپنی دلچسپی سے<br>
سوچا یہ تھا وقت ملا تو ٹوٹی چیزیں جوڑیں گے<br>
اب کونے میں ڈھیر لگا ہے باقی کمرا خالی ہے<br>
بیٹھے بیٹھے پھینک دیا ہے آتش دان میں کیا کیا کچھ<br>
موسم اتنا سرد نہیں تھا جتنی آگ جلالی ہے</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اُس کی غزل کا دھیما لب و لہجہ نشاط و غم کی معتدل کسک کا زائیدہ ہے ؛اِسی وجہ سے ذوالفقار عادل کے اشعار غیر محسوس طریقے سے قاری پر اپنے اثرات مرتسم کرتے ہیں؛ جن سے رفتہ رفتہ اُنسیت شعر کی تہہ داری اور معاصر قدروقیمت کی گرہیں کھولتی جاتی ہے ۔کیونکہ اُس کے موضوعی ڈھانچے میں دقیق علمی موضوعات کا دخول نہیں بلکہ ذاتی تجربات و مشاہدات کا رس موجود ہے۔ایسے تمام اشعار روایت کے شعور و انجذاب کے باوجود بین المتونیت کے چھان سے کم ہی متحد الخیال معلوم ہوتے ہیں ۔موضوع کا اِنفرادی اور دلکش بیان ہی اُسے جدید غزل کی صف میں سر بر آوردگی عطا کرتا ہے۔نیز وہ روائتی موضوع کو بھی ایسے عمدگی کے ساتھ شعری پیکر میں ڈھالتا ہے کہ اُس کی شمولیت غزل کے باقی اشعار سے ذرا بھی کم صورت معلوم نہیں ہوتی اور نہ ہی اُس میں سپاٹ پن نظر آتا ہے :</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میں آسماں کی طرف دیکھ کر ہنسوں تو یہ لوگ<br>
یہ پوچھتے ہیں کہ اے بھائی کیا دکھائی دیا؟<br>
صاحب تمہیں خبر ہی کہاں تھی کہ ہم بھی ہیں<br>
ویسے تو اب بھی ہیں کوئی مر بھی نہیں گئے</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہجرتیں سب پہ فرض تھیں لیکن<br>
سب سے پہلے مجھے خیال آیا<br>
اک ذرا روشنی میں لاؤ اِسے<br>
دیکھتے ہیں دیا بجھا کیوں ہے<br>
بند کمروں کی خبر لو کہ بہت ممکن ہے<br>
آنے والے ہمیں مہمان سمجھنے لگ جائیں</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ٍعہدِ حاضرکے مادی دھندلکوں نے اُس کے باطنی کینوس سے اولین تشخص کے نقوش مخدوش کردیے ہیں؛جن کی تلاش میں وہ ماحول سے بے اِعتنائی برت کر بچپن بالخصوص ازل کی طرف مراجعت کرنے کی سعی کرتا ہے ۔جہاں اُس کے شعری متن میں بچپنے کی خواہشاتی تصاویر اُبھرتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں وہیں عرفانِ ذات کا کم زور تسلسل بھی پختگی سے آراستہ ہوتا ہوادِکھتا ہے۔وہ اپنے انجام سے آشنا ہونے کے باوجود ابتدا کی کھوج کو مقصدِ حیات گردانتا ہے لیکن اِس سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ وہ ناسٹلجیا کا شکار ہے ؛وہ لمحہ ء موجود کو شاعری کی غذا بنانے کے ساتھ اِس سے ہم رشتگی کے لیے ماضی سے صرف اِستفادہ چاہتا ہے :</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">واپس پلٹ رہے ہیں ازل کی تلاش میں<br>
منسوخ آپ اپنا لکھا کر رہے ہیں ہم<br>
یہ جو بھی لوگ ہیں اِن کشتیوں میں</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">شاخوں کا نام دے کے تماشا بنا دیا<br>
جیسے کسی درخت پہ اُگتے ہوئے درخت</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ذوالفقار عادل کا تخّیلی ظرف شاعری کے ساتھ داستان،افسانہ اور ڈراما کی عملی پیش کش سے بھی مہمیز حاصل کرتا ہے۔یہ عناصر اُس کی ادبی زندگی کے ساتھ سماجی زندگی میں بھی اولین ترجیحات کے حامل ہیں ؛اِنہی وجوہات کے کارن اُس کی غزل میں افسانہ طرازی ،داستانوی ماحول اور تھیٹر کی منظر کشی ظاہری مفاہیم کے ساتھ عصری رویوں میں مضمر جہات کی عقدہ کشائی کرتی ہے:</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سبھی اپنی کہانی کہہ رہے ہیں<br>
الاؤ جل رہا ہے خامشی سی<br>
یہ آدمی مری نظروں میں پست کیسے ہوا<br>
کسے بتاؤں کہ میں سگ پرست کیسے ہوا<br>
ایک کردار کی اُمید میں بیٹھے ہیں یہ لوگ<br>
جو کہانی میں ہنسانے کے لیے آتا ہے<br>
ناٹک کے کرداروں میں کچھ سچے ہیں کچھ جھوٹے ہیں<br>
پردے کے پیچھے کوئی اِن کو سمجھاتا رہتا ہے<br>
ہر کردار کے پیچھے پیچھے چل دیتا ہے قصہ گو<br>
یونہی بیٹھے بیٹھے اپنا کام بڑھاتا رہتا ہے</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اُس کی غزل کا ایک اور اِنفرادی وصف تشکیکی اور اِستفہامی فضا کی تشکیل ہے ۔عموماََ اِس تشکیکی اور اِستفہامی ماحول میں خود کلامی بھی در آتی ہے لیکن ذوالفقار عادل کا یہ دعویٰ ہے کہ خودکلامی کا عمل کیسے ممکن ہو؟ جب ہم اپنی ذات سے ہم کلام ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو جاودانی قوت سے مکالمے کی راہ نکلتی ہے؛ جس سے حقیقتِ انسان کی کھوج کا اِبتدائیہ شروع ہوتا ہے ۔عادل شعری پیرائے میں اُٹھائے گئے سوالات کا جواب ازخود دیتا ہے ؛اِس سے جہاں اُس کی تخلیقی اور مشاہداتی قوت معلوم ہوتی ہے وہیں شعر “مراجعہ” کے قالب میں بھی ڈھل جاتا ہے :</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ کس نے ہاتھ پیشانی پہ رکھا<br>
ہماری نیند پوری ہوگئی ہی<br>
خود سے جو بات بھی کرتے ہیں خدا سنتا ہی<br>
خود کلامی کہاں ممکن ہے کلیمی کہیی<br>
اِک ایسے شہر میں ہیں جہاں کچھ نہیں بچا<br>
لیکن اِک شہر میں کیا کر رہے ہیں ہم<br>
اپنی نہ کہوں تو کیا کہوں میں<br>
ہر بات کی ابتدا میں ہوں میں</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اَسالیبی حوالے سے ذوالفقار عادل کی غزل نوکلاسیکی بانکپن کی وارث ہے؛جو تین طرح کے تحریری خدوخال سے اُسلوبی پرداخت کا سفر مکمل کرکے ایک شناختی طرزِ نگارش میں ڈھلتی ہے۔اِبتدا میں یہ شعری تحریر نثر کے ترتیبی وصف سے مطابقت پیدا کرکے موزونیت کے دھارے میں بہتی ہے ۔دوسری سطح پر یہ اُسلوب قدم کلاسیکی تراکیب کے بناؤ سنگھار سے شروع ہو کر اُن کی عصری معنویت میں منقلب ہو جاتا ہے ۔بعد ازاں ذوالفقار عادل کا تیسرا اِنفرادی اور فی الوقت کا مستقل اُسلوبی رویہ سامنے آتا ہے ؛جس کی شناخت امرِ واقعہ کے مطابق مصرعے کی بُنت اور وقفے کی علامت سے ٹھہراؤ پیدا کرنا ہے تاکہ قاری شعر کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ توقف کے عمل سے شعری لطافت اور موضوعاتی</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">وسعت سمجھنے کا اہل ہو جائے ۔مزید برآں اُس کا اندازِ تحریر زبان کے قدیم ذائقوں سے لفظی تاثیر مستعار لینے کے علاوہ اِس کے ارتقائی سفر سے بھی اِستفادہ کرتا ہے :</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">وہیل چیئر پہ بیٹھ کے چڑھتا ہے کون سیٹرھیاں<br>
آکے مجھے ملے جسے شک ہو مرے کمال میں<br>
باغ اپنی طرف کھینچتا تھا مجھے خواب اپنی طرف<br>
بینچ پر سو رہا ہوں میں دونوں کا جھگڑا چکاتا ہوا<br>
جتنی تنہائی ہے عادل،اتنی ہی گہرائی ہی<br>
بس کہ سطح ِ زندگی پر تیرتا رہتا ہوں میں</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ذوالفقار عادل کی اِستعاری عمارت کشتی ،دل،دریا،باغ اور دیوار پر کھڑی ہے۔اُس نے اِن استعاروں کو ادبی تدبر سے کلاسیکی مطالب سے الگ معنی فراہم کیے ہیں۔جن کا خاصا یہ ہے کہ اِن استعاروں کے برتاؤ میں یکسر اشتراکی دہراؤ نہیں پایا جاتا ۔کشتی کا استعارہ جسے وسیلہ،نجات ،آرام گاہ اور مضبوط سہارے کے طور پر عموماََ استعمال کیا جاتا ہے ۔اِس کی غزل میں ایک غیر محفوظ پناہ گاہ کے سوا کچھ بھی نہیں۔دراصل یہ استعارہ ہر انسان کے احساسِ ذمہ داری کو جِلا بخشنے کے لیے وضع کیا گیا ہے کہ وہ صرف مسیحا کی آس لگائے نہ بیٹھا رہے بلکہ اپنی تفویض کردہ ذمہ داریوں سے احسن انداز میں عہدہ بر آ ہو سکے۔ مزید برآں اِسے سیاسی وڈیروں اور غیر مفید پیر بابوں کی عمومی صورتِ حال پر بھی منطبق کیا جا سکتا ہے ۔یہاں یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ وہ کشتی کوبادی النظر میں ہی غیر مستحکم وسیلہ نہیں سمجھتا بلکہ آزمائش کے بعد کوئی فیصلہ صادر کرتا ہے اگرچہ اِس معاملے میں وہ نتائج سے قبل بھی عدم استحکام کی فکر ضرور کرتا ہے:</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کشتی کو کشتی کہہ دینا ممکن تھا آسان نہ تھا<br>
دریاوں کی خاک اڑائی ملاحوں سے یاری کی<br>
کشتی تو بن گئی مگر<br>
کشتی سے کچھ بنا نہیں<br>
کس کشتی کی عمر ہے کتنی ملاحوں سے پوچھنے دو<br>
تم سے بھی پوچھیں گے اِک دن دریاؤ چھپ ہوجاؤ<br>
ہونٹ ٹکرا رہے ہیں کشتی سی<br>
کون پانی پلا رہا ہے مجھے</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“دیوار” کے استعارے کو زیادہ تر رکاوٹ اور بے حسی کے تناظر میں برتا گیاہے۔ذوالفقار عادل کی شعری دنیا میں دیوار ذی روح ہے جو باہمی رابطے کے فقدان کی وجہ سے اِنسان سے خائف رہتی ہے اور انسان اِس سے روائتی شناخت کے باعث دور ہے جبکہ دیوار گفتگو کرنے کے ساتھ اعلیٰ ظرف رکھنے والا نفس ہے۔تبھی یہ اپنی زبان پر تعلقات کی بحالی قائم رکھنے کی غرض سے حرفِ شکایت تک نہیں لاتی:</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">چیونٹیاں رینگ رہی ہیں کہیں اندر عادل<br>
ہم ہیں دیوار کے مانند بظاہر خاموش<br>
اِک عمر اپنی اپنی جگہ پر کھڑے رہی<br>
اِک دوسرے کے خوف سے دیوار اور میں<br>
گفت گو سے نکل آتے ہیں ہزارواں رستے<br>
ذرا دیوار کی سنیے ذرا اپنی کہیے<br>
جانے کیا باتیں کرتی ہیں دن بھر آپس میں دیواریں<br>
دروازے پر قفل لگا کر ہم تو دفتر آ جاتے ہیں</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“دل “کے استعارے کو ہمیشہ رنج و آلام کا مرکز ،ٹوٹا ہوا یامکمل طور پر تصوف کے نقطہ نظر سے آئینہ قرار دیا گیا ہے جبکہ عادل کی غزل میں دل کئی مفاہیم کی وسعت پذیری کے لیے نمو کا کام سر انجام دیتا ہے ۔یہاں دل مصائب کی آماجگاہ نہیں کیونکہ اِس میں تیر پیوست ہونے کے بعد بھی ترازو یعنی برابری کی شکل اختیار نہیں کرتا ؛جس کی وجہ دل کی</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ظاہری موجودگی کا غیر مناسب ٹھہراؤ ہے۔جب کبھی دل بانجھ پن کا شکار ہو جاتا ہے تو ہم اِسے اپنی ظاہری نمود و نمائش سے زندہ و توانا رکھنے کی منافقانہ سعی کرتے ہیں ۔کبھی یہ محرومیوں ،حسرتوں سے عبارت ہے جسے محبت کی موجودگی متحرک کر دیتی ہے۔ اُس کے نزدیک آئینے کی طرح صفا قلب خود شناسی اور خدا شناسی کا ذریعہ نہیں بلکہ دکھوں اور غموں کی چوٹوں سے لبریز دل معرفتِ خداوندی کے دریچے وا کرتا ہے ؛جن کے حصول میں سماجی عوامل کا عمل دخل شامل ہے نہ کہ فرار کا ؛نیز اِسی معتدل فضاکے باعث دل اطمینان کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے:</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اب تک کوئی بھی تیر ترازو نہیں ہوا<br>
تبدیل اپنے دل کی جگہ کررہے ہیں ہم<br>
روز نکل جاتے ہیں خالی گھر سے خالی دل کو لے کر<br>
اور اپنی خالی تربت پر پھول سجا کر آجاتے ہیں<br>
ہر حسرت پر ایک گرہ سی پڑ جاتی ہے سینے میں<br>
رفتہ رفتہ سب نے مل کر دل سی شکل بنا لی ہی<br>
یہ ایک داغ ہے دل پر کہ ایک روزن ہے<br>
اِسی سے خواب اِسی سے خدا دکھائی دیا<br>
دل میں رہتا ہے کوئی دل ہی کی خاطر خاموش<br>
جیسے تصویر میں بیٹھا ہو مصور خاموش</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">دل کے ساتھ ہی منسلک ہوکر شناخت پانے والا ایک استعارہ” دریا “بھی ہے ؛جس کا ظاہری سکوت اقرار نامے کی سند ہے اور اِس سے نسبت رکھنے والوں کی آنکھیں صحرا میں بھی خشک نہیں ہوتیں ۔اُس کے نزدیک دریا سے پہلے دل سے محبت کی کہانی کا آغاز ہوا تھاکیونکہ دریا تودل سے کہیں بعد میں جا کر دریافت ہوئے ہیں۔ دل و دریا کے تقابلی انداز میں وہ دریا کو غیر مستقل جبکہ دل کو مستقل مزاج گردانتا ہے ۔جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اُس کے ہاں دریا کا استعارہ کبھی ظاہری دریا کبھی محبوب کبھی اِس سے کرداری مناسبت رکھنے والے افراد کی خاطر استعمال ہوا ہے :</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">دریا تو اپنی موج میں جانے کہاں گیا<br>
دل میں جو پھول ہے وہ کناروں پہ عام تھا<br>
دریا تو کہیں بعد میں دریافت ہوئے ہیں<br>
آغاز ہوئی دل سے روانی کی کہانی<br>
صحرا میں بھی آنکھیں خشک نہیں ہوتیں<br>
دریاؤں سے نسبت زندہ رکھتی ہی<br>
یہ جو دریا کی خموشی ہے اِسی<br>
ڈوب جانے کی اجازت سمجھو</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“باغ” کا استعارہ کلاسیکی شاعری میں خصوصاََ میر سے ہوتا ہوا جدید غزل میں کئی اہم شعرا کے علاوہ ثروت حسین ،ادریس بابر اور ذوالفقار عادل کی غزل میں عکس ریز ہوا ہے۔ جس کی معنویت کو اِن مذکورہ شعرا نے انفرادی تشخص کے ساتھ برقرار رکھا ہے ۔ذوالفقار عادل کے ہاں باغ کا استعارہ عصری آشوب سے فرار کی صورت اختیار کرنے کی وقیع علامت ہے جو شاعر کی طبیعت میں بدرجہ اتم حلول ہوکر خوشبو و سرمستی کی پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔اُس کے نزدیک باغ کا متبادل یہ عصری آشوب نہیں صرف اور صرف من چاہی فرار کی دنیا “خواب “ہے:</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سارا باغ الجھ جاتا ہے ایسی بے ترتیبی سے<br>
مجھ میں پھیلنے لگ جاتی ہے خوشبو اپنی مرضی سی<br>
باغ اپنی طرف کھینچتا تھا مجھے خواب اپنی طرف<br>
بینچ پر سو رہا ہوں میں دونوں کا جھگڑا چکاتا ہوا<br>
باغ ایسا اُتر گیا دل میں<br>
پھر وہ کھڑکی نہیں کھلی ہم سے</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اجتماعی طور پر” شرق میرے شمال میں ” نے غزل کے محدود جگالی شدہ موضوعات کے منجمد تالاب میں ارتعاش پیدا کیا ہے ۔اِس کی شعری کائنات یہ ادبی استدلال پیش کرتی ہے کہ غزل کے دائرہ کار میں ابھی کافی تخلیقی امکانات پنہاں ہیں ۔جن کا ادراک روایت کی معرفت ،انتھک مشقِ سخن،الفاظ کے ماہرانہ استعمالات ،تخلیقی قوت اور بے پایاں مشاہدے کا متقاضی ہے ۔یہ شعری مجموعہ اِن اُوصاف سے متصف ہونے کے ساتھ اکیسویں صدی کی شعری حنا بندی میں معیاری دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔یہی اِمتیازات جہاں ” شرق میرے شمال میں ” کو رواں صدی کے اولین ترین کامیاب شعری مجموعوں میں انفرادی شناخت بخشتے ہیں وہیں غزل کے سفر میں “سنگِ میل ” کی ذمہ داریاں بھی تفویض کرتے ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b0%d9%88%d8%a7%d9%84%d9%81%d9%82%d8%a7%d8%b1-%d8%b9%d8%a7%d8%af%d9%90%d9%84-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%8f%d8%b1%d8%af%d9%8f%d9%88-%d8%ba%d8%b2%d9%84-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%90%d9%86%d9%81%d8%b1%d8%a7/">ذوالفقار عادِل کی اُردُو غزل کے اِنفرادی خدوخال</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b0%d9%88%d8%a7%d9%84%d9%81%d9%82%d8%a7%d8%b1-%d8%b9%d8%a7%d8%af%d9%90%d9%84-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%8f%d8%b1%d8%af%d9%8f%d9%88-%d8%ba%d8%b2%d9%84-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%90%d9%86%d9%81%d8%b1%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
