<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>جدید اردو ناول Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/%d8%ac%d8%af%db%8c%d8%af-%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d9%86%d8%a7%d9%88%d9%84/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/جدید-اردو-ناول/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Sat, 01 Jun 2024 01:58:58 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>جدید اردو ناول Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/جدید-اردو-ناول/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>تقسیم کی تفہیم اور علی اکبر ناطق</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%aa%d9%82%d8%b3%db%8c%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%81%db%81%db%8c%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d8%a7%da%a9%d8%a8%d8%b1-%d9%86%d8%a7%d8%b7%d9%82/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%aa%d9%82%d8%b3%db%8c%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%81%db%81%db%8c%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d8%a7%da%a9%d8%a8%d8%b1-%d9%86%d8%a7%d8%b7%d9%82/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[منیب حسن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Feb 2018 12:05:26 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ناول]]></category>
		<category><![CDATA[تقسیم]]></category>
		<category><![CDATA[جدید اردو ناول]]></category>
		<category><![CDATA[علی اکبر ناطق]]></category>
		<category><![CDATA[منیب حسن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23066</guid>

					<description><![CDATA[<p>منیب حسن:  علی اکبر ناطق نے تقسیم کو نہ ہی ہندو سمجھا نہ ہی مسلمان بلکہ پنجاب کے چٹیل میدانوں سے لے کر سرکاری دفاتر تک انسانی رویوں کا گویا ایک انسائیکلوپیڈیا مرتب کیا ہے جس کا سرغنہ ایک انگریز ہے</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%aa%d9%82%d8%b3%db%8c%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%81%db%81%db%8c%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d8%a7%da%a9%d8%a8%d8%b1-%d9%86%d8%a7%d8%b7%d9%82/">تقسیم کی تفہیم اور علی اکبر ناطق</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>خدا لمبی حیاتی دے ڈاکٹر تنظیم الفردوس کو، داستان گوئی کی کلاس میں دنیا کی اولین اور مختصر ترین کہانی سنائی تو اردو ناول کے بارے میں بصیرت افروز خیالات کا اظہار بھی فرمایا اور کہا کہ ! میاں ناول لکھنے کے لئے سانس برقرار رکھنا پڑتی ہے اور کرداروں کی بنت زمانی ترتیب سے جڑی ہوتی ہے ۔ الغرض ان کے اسی فقرے کو ذہن میں نقش کیا اور مطالعے کا سفر اردو ادب سے ہوتا ہوا مغربی دریچوں میں پہنچا تو کا ڈویل کی جرات پسندی اور ایلیٹ کی انفرادری صلاحیت سے واسطہ پڑا لیکن اردو ادب میں جو اثرات تقسیم کے سانحے نے مرتب کیے، ان کا اظہار آج تک یا تو سرحد کے اس طرف کے نظریے کے تحت ہوا یا اپنی مقامی صف کے تحت، البتہ حالیہ دنوں میں تقسیم کا ایک نیا زاویہ دیکھنے کو ملا جس نے کئی بند گوشوں پر دستک دی اور<br>
لا تعداد سوالیہ در وا ہوئے۔</p>
<p>جاگیر دارانہ نظام کے تحت اگر لوگوں کے حقوق سلب ہوئے تو تقسیم کے وقت ہونے والی لوٹ مار نے کئی حقداروں کوسفید پوشی کی چادر سے بھی محروم کر دیا لیکن یہ سب بتانے کا مقصد صرف یہی ہے کہ علی اکبر ناطق نے اپنے اولین (آخر ترین ہر گز نہیں) ناول میں جو Localeبنانے کی کوشش کی ہے (عہدہ بر کتنا ہو ئے ہیں یہ تو نظریا تی نقاد ہی بتائیں گے)۔ وہ پنجاب کی سرزمین سے کتنا قریب ہے، مولوی کرامت ہو یا ولیم،ان تمام کا سر چشمہ نو آ با دیا تی دور کی یا دگا ر ہے ۔ یہ تمام ہی کردار نو آبادیاتی دور کی غلامی و محرومی کی فضا میں سانس لیتے نظر آتے ہیں۔</p>
<p>اردو ادب میں گرچہ تقسیم کو برتنے کا جو معیاری انداز کارفرما تھا، اسے بام عروج پر پہنچا نے میں کئی لکھاریوں نے اہم کردار ادا کیا لیکن علی اکبر ناطق کا مرکزی کردار انگریز تقسیم کو اپنی نظر سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہے اور بقول D.H Lawrence ناول کیونکہ پورے انسان کی زندگی کے تمام پہلوؤں کا بیان ہوتا ہے لہذ ااس انگریز کا ہر پہلو قا بل دید ہے بلکہ ناول کے آخر میں تو اس کی افسردگی اور موت کا منظر رابرٹ فراسٹ کی تخلیق کردہ کسی نظم کی طرح محسوس ہوتا ہے۔</p>
<p>علی اکبر ناطق نے تقسیم کو نہ ہی ہندو سمجھا نہ ہی مسلمان بلکہ پنجاب کے چٹیل میدانوں سے لے کر سرکاری دفاتر تک انسانی رویوں کا گویا ایک انسائیکلوپیڈیا مرتب کیا ہے جس کا سر غنہ ایک انگریز ہے گرچہ اس میں تار یخی تسلسل تو موجود ہے لیکن مسلم لیگ کی سیاست کا جو نمونہ دکھایا گیا وہ قابل گرفت ہے۔</p>
<p>عہد حا ضر میں جو ناول لکھے جا رہے ہیں،ان پر مغربی اثرات نمایاں نظر آ تے ہیں اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ اردو ناول بلکہ اردو فکشن کو پروان چڑ ھانے میں مغربی ادب کا خا صہ کردار نظر آ تا ہے مگر علی اکبر نا طق نے جہا ں مغربی دریچوں میں جھا نکا ہے وہیں مقامی صنف کو بھی نطر انداز نہیں کیا اور کہیں کہیں ان کی منظر کشی اردو مر اثی کا سا ما حو ل بنا تی ہے کیونکہ خود علی اکبر ناطق کا خمیر بھی پنجاب کی مردم خیز زمین سے اٹھا ہے ۔</p>
<p>درج بالا تمام گزارشات کا مقدمہ صرف یہ تھا کہ تقسیم برصیغر ایک ایسا سانحہ یا حادثہ تھا جس کے اثرات پورے خطے کے عوام تادم قیامت محسوس کرتے رہیں گےاور اب تو تقسیم کے وقت پیدا ہونے والی نسلیں بھی چیزوں کو دیکھنے کا وہ زاویہ بھولتی جا رہی ہیں جو ان کے آبا و اجداد کے پاس تھا پھر بھی اس وقت کی ما بعد الطبعیات کو جھٹلانا ممکن نہیں لیکن اگر تقسیم کا ایک انوکھا نقطہ نظر میسر آئے تو اسے پڑھے اور سراہے جانے کی اشد ضرورت ہے کہ یہی حالات حاضرہ کا بھی تقاضہ ہے اور ہم سب کا دعویٰ بھی۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%aa%d9%82%d8%b3%db%8c%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%81%db%81%db%8c%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d8%a7%da%a9%d8%a8%d8%b1-%d9%86%d8%a7%d8%b7%d9%82/">تقسیم کی تفہیم اور علی اکبر ناطق</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%aa%d9%82%d8%b3%db%8c%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%81%db%81%db%8c%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d8%a7%da%a9%d8%a8%d8%b1-%d9%86%d8%a7%d8%b7%d9%82/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نعمت خانہ — اٹھائیسویں قسط</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a7%d9%b9%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a7%d9%b9%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[خالد جاوید]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 10 Dec 2017 12:15:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Khalid javed]]></category>
		<category><![CDATA[urdu novel]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ناول]]></category>
		<category><![CDATA[جدید اردو ناول]]></category>
		<category><![CDATA[خالد جاوید]]></category>
		<category><![CDATA[نعمت خانہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22749</guid>

					<description><![CDATA[<p>خالد جاوید: اگرچہ دنیا ختم نہ ہوگی۔ دنیا کے ختم نہ ہونے کا شعور ایک بھیک مانگتے اور گھگیاتے ہوئے، بچّے کی قابلِ رحم آواز میں بھی موجود رہ سکتا ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a7%d9%b9%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">نعمت خانہ — اٹھائیسویں قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urduexcerpt">اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے <a href="https://laaltain.pk/category/literature/fiction/nemat-khana/" target="_blank" rel="noopener">کلک</a> کیجیے۔</div>
<p>اُن دنوں بھی شاید دسمبر کی کالی ہوا چل رہی تھی۔ آج بھی وہی کالی ہوا چل رہی ہے۔ انسانوں کو اس دوسری دنیا کے نادیدہ کنارے پر اُڑا کر لے جاتی ہوئی،ڈ ھکیلتی ہوئی، یہ کالی ہوا دنیا کوکالا کیے دیتی ہے۔ یہ دنیا جس کی اصل روحانی تاریخ ایک ایسی زبان میں لکھی گئی ہے جسے اب مجھے کچھ کچھ پڑھنا آگیا ہے۔ مگر اُن دنوں میں یہ سب کہاں جانتا تھا؟ ہاں! اُن دنوں میں یہ سب کہاںجانتا تھا، کہ دنیا محض انسانوں کے حواسِ خمسہ کو مطمئن کرنے کے لیے چل رہی تھی، وہ خواہش، وہ پاگل، وہ سنکی، وہ شہوت کے ذائقے میں لپٹا سرخ پھل، جما جماکر جس کو کترتے ہوئے دنیا کے دانت سفید، چمکدار اور مضبوط ہوتے گئے۔ اور پھر—؟</p>
<p>پھر ایک دن وہ دانت، ایک گندی سی بدرنگ موری میں گر کر، گل گل کر بہہ گئے۔ یہی اُن کا نروان تھا۔ خواہش ایک دن ختم ہوئی۔ جسم پر خوبصورت جھرّیاں پڑیں، جسم بوڑھا ہوا، اگلا پچھلا سارا حساب چکتا کردیا گیا۔</p>
<p>وہ جو ایکسیڈینٹ میں مارے گئے۔ جو عین جوانی میں شہید ہوئے۔ وہ جو کسی ناگہانی بیماری کے باعث، عمر طبعی پوری کرنے سے پہلے ہی مر گئے۔ انھوں نے زندگی کو اپنی عظیم اور دہشت خیز وسعت کے پس منظر میں کہاں دیکھا۔ انھوں نے کہاں دیکھا، ایک کمزور ڈبّے کو آہستہ آہستہ خالی ہوتے ہوئے، اپنا بوجھ، اپنی کنکریاں، اپنا گندا مٹّیالا تیل گراتے ہوئے اور دُکھ، سکھ دونوں سے بے نیاز ہوتے ہوئے، آزادی کے ایک عظیم الشان اونچے ٹیلے پر اپنی پاک کی گئی دھوئی گئی، روح کی نیلی قمیص کے لہلہانے کی خوبصورت آواز۔</p>
<p>اگرچہ دنیا ختم نہ ہوگی۔ دنیا کے ختم نہ ہونے کا شعور ایک بھیک مانگتے اور گھگیاتے ہوئے، بچّے کی قابلِ رحم آواز میں بھی موجود رہ سکتا ہے۔ شعور کی اس ڈھلان پر سب کچھ ممکن ہے۔ زندگی اور موت دونوں یہاں معمولی ذرّوں کی مانند پھسلتے جاتے ہیں۔ انسان کو ان حقیر ذرّات سے ماورا ہوکر کچھ سوچنا چاہئیے تھا۔ مگر ہیہات! انسان انھیں میں اُلجھ کر رہ گیا۔ اس کا سر اُنہیں دھول بھرے معمولی، روز مرہ کے ذرّات سے بھر کر رہ گیا۔ انسان یہی خاک سر میں ڈالے گھوما، پھر ڈاکو اور رِشی بنا اور حافظے کے تیل میں ملے اس میل، اس دھول اور خاک سے اُس کے سر کے بال بالکل چیِکٹ ہوکر ہی رہ گئے۔ (خودمیرا مقدّر بھی یہی ہے)</p>
<p>کیسا انوکھا دن ہوگا، جب وہ اپنی دوا لینا بھول جائے گا۔ وہ بھول جائے گا کہ اُس نے کھانا کھایا بھی تھا یا نہیں؟<br>
خواب منطقی شعور پر حاوی ہوں گے۔ خوابوںکے سرمئی دھوئیں میں بچپن اور جوانی کی چند محرومیوں کے، چند گلے شکوؤں کے سڑے گلے ٹکڑوںکے سوا سب کچھ ایک پاکیزہ ہوا میں اُڑ رہا ہوگا۔ آزادی—! آزادی!<br>
حافظے کی ایسی کی تیسی!</p>
<p>بڑے ماموں اب اکثر اپنی دوا کھانا بھول جاتے۔ وہ یہ بھی بھول جاتے کہ پیٹ بھر کر وہ اپنا کھانا کھاچکے ہیں۔ وہ ہمیشہ جھٹلا دیتے کہ اُنہوں نے کھانا کھالیا ہے۔ اُن کے دماغ کے ریشے اور خلیے گل رہے تھے اور آنتوں اور معدے کے پیغام وصول کرنے سے قاصر تھے۔ وہ لوگوں کا نام بھول جاتے، اشیا کو غلط ناموں سے پکارتے۔ ’’رئیس میاں— اور ئیس میاں۔‘‘ وہ زور سے چلّاتے۔</p>
<p>رئیس میاں نام کا کوئی شخص گھر میں نہیں تھا۔ دراصل وہ مجھے پکار رہے تھے۔ میں سمجھ گیاا اوراُن کے پلنگ کی پائنتی جاکر کھڑا ہوگیا۔<br>
’’رات میں لوٹتے وقت کچھ کھانے کو لیتے آنا۔‘‘ انھوں نے اجنبی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔</p>
<p>’’کیا؟‘‘ میں نے پوچھا۔<br>
’’کوئی بھی میٹھی چیز۔‘‘<br>
’’مگر میٹھا تمھیں منع ہے، بڑے ماموں۔‘‘<br>
’’تیری ماں کا منع۔۔۔‘‘ وہ گرجے اور اُن کی سانس بری طرح چلنے لگی۔</p>
<p>’’سن، تِل بُگہ لیتے آنا چار آنے کا۔‘‘ وہ ہانپتے ہانپتے بولے۔ ادھر آکر انھوں نے یہ معمول بنا لیا تھا،جہاں میں گھر سے نکلتا اور وہ واپسی میں کوئی میٹھی چیز لانے کی فرمائش کرتے۔ گھر والوں کی مخالفت کے باوجود، وہ لڑ جھگڑ کر میٹھا کھاتے اور تھوڑی ہی دیر میں یہ بھول جاتے کہ اُنہوں نے کیا کھایا ہے۔ اگر کوئی اُنہیں یاد دلاتا تو وہ اُسے گندی گندی گالیوں سے نوازتے۔ حالانکہ اپنی تمام عمر کم از کم گھر میں، میں نے اُنہیں گالی بکتے نہیں سنا تھا۔<br>
میرا بارہویں کلاس کا بورڈ کا امتحان سر پر تھا۔ میں رات رات بھر جاگ کر تیاری کرتا تھا۔ اس لیے مجھے یہ علم بھی ہوگیا کہ بڑے ماموں کو اب رات بھر بڑبڑانے کی عادت بھی ہوگئی ہے۔ اسی بڑبڑاہٹ میں شاید صرف ایک بار میں نے اُن کے منھ سے ’’ثروت‘‘ نکلتے سنا تھا۔ ممکن ہے کہ یہ میرا دھوکہ ہی رہا ہو۔</p>
<p>مگر اُن کی حالت ویسی ہی نہیں رہی۔ ان میں لگاتار تبدیلی آتی رہی۔ ایک روز وہ اُٹھ کرڈگمگاتے قدموں سے جلدی سے باورچی خانے کی طرف لپکے۔<br>
’’کیا ہے، کیا ہے۔‘‘ ریحانہ پھوپھی اور کنیز خالہ اُن کو پکڑنے کے لیے پیچھے پیچھے آئیں۔<br>
’’کچھ نہیں، پیشاب کروں گا۔ ‘‘ بڑے ماموں نے اُنہیں اپنی پیلی آنکھوں سے گھورا۔<br>
’’تو یہاں کہاں— یہ باورچی خانہ ہے۔‘‘ وہ حیرت اور خوف سے چلّائیں۔</p>
<p>’’یہ سالا کب سے باورچی خانہ ہوگیا۔ باورچی خانہ تو وہاں ہے۔‘‘انھوں نے آسمان کی طرف انگلی اُٹھائی، جہاں ایک چیل کوئی اوجھڑی چونچ میں دبائے چلی جارہی تھی۔<br>
اُنہیں بڑی مشکل سے تھام کر پیشاب کرانے کے لیے پاخانے کی طرف لایا گیا۔</p>
<p>کچھ عرصے بعد انھوں نے پیشاب پاخانے کے لیے پلنگ سے اُٹھنا چھوڑ دیا، ان کی آنکھیں بند رہتیں اور منھ کھلا رہتا۔ اس کھلے ہوئے منھ پر اکثر مکّھیاں بھنبھناتیں کیونکہ رات کو کھائے گئے میٹھے کے ذرّات اُن کی کھوکھلی داڑھوں اور زبان پر چپکے ہوتے۔ وہ زیادہ تر غنودگی کے عالم میں ہوتے۔</p>
<p>مگر اُس دن یہ غنودگی بے ہوشی میں بدل گئی جب دوپہر میں اُرد کی دال کی کھچڑی پکی تھی (اور جسے کھاتے وقت ہوا میرے کانوں میں بُدبُدائی تھی اورمیرا دل گھبرانے لگا تھا) اُن کا پیٹ پھولا پھولا اور بہت سخت محسوس ہوا۔ ڈاکٹر کو گھر پر بلایا گیا۔ اُس نے معائنہ کیا اوربتایا کہ اُن کا پیشاب بند ہوچکا ہے۔ گردوں نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔ بے ہوشی کی وجہ خون میں آلودگی کا بڑھنا ہے۔ گندا یا زہریلا خون آہستہ آہستہ دماغ کو اپنی چپیٹ میں لے رہاہے۔</p>
<p>’’بڑے ماموں، بڑے ماموں۔‘‘ میں اُن کے کان کے پاس منھ لے جاکر زورسے چیخا۔ اُن کی آنکھوں کے پپوٹوں میں خفیف سی جنبش ہوئی اوربس۔<br>
شام ہوتے ہوتے اُن کے کھلے ہوئے منھ سے زور زور کے خرّاٹے بلند ہونے لگے۔ میں اُن خرّاٹوں کو کبھی نہیں بھول سکتا۔ وہ بہت وحشت انگیزتھے۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ایسے کوئی درندہ بہت گہری سانس لے رہا ہو اور کبھی ایسا لگتا جیسے باورچی خانے کے کواڑ باربار کھل رہے ہوں یا بند ہورہے ہوں۔ باورچی خانے کے کواڑ اینٹھ گئے تھے اور اُن کو کھولنے بند کر دینے پر ایسی ہی آواز آتی تھی۔</p>
<p>مغرب کی اذان ہوئی۔ اُن کے یہ وحشت ناک خرّاٹے رُک گئے۔ میں نے اُن کی ہچکی کو نہ سنا۔ نہ دیکھا مگر ریحانہ پھوپھی نے دیکھا بھی اور سنا بھی۔<br>
میں نے تو لالٹین کی روشنی میں اُن کا پھولا ہوا سخت پتھّر جیسا پیٹ دیکھا۔ میں نے اُن کی آنکھیں بنددیکھیں۔ میں نے اُنہیں ایک گہری نیند میں ڈوبا ہوا دیکھا۔ میں نے اب اُن کا کھلا منھ نہیں بلکہ بند منھ دیکھا — اور اس طرح میں نے موت کا ’منھ‘ دیکھا۔ محلے کی ایک بڑی بوڑھی نے باورچی خانے میں جاکر دن کی بچی ہوئی اُرد کی دال کی کالی کھچڑی اور دودھ اُٹھاکر باہر سڑک پر پھینک دیے۔</p>
<p>اس کے بعد اگر کچھ یاد رہ گیا ہے تو بس وہی دسمبر کی کالی ہوا ہے جس نے شاید آج تک میرا پیچھا نہیں چھوڑا ہے۔</p>
<p>اِدھر اُدھر کی اور رشتہ دار عورتیں سر کو دوپٹّے سے ڈھک کر، کلام پاک پڑھتی رہیں۔ بیچ بیچ میں کہیں سے رونے کی بھی کوئی کمزور آواز اُبھر آتی تھی، جیسے موسیقی سے بھٹکا ہوا ایک اکیلا سُر۔</p>
<p>اُن کے پلنگ کے نیچے لوبان سلگادیا گیا۔ تیز ہوا کے جھونکوں نے اِس لوبان کی پرُاسرار اور شاید موت جیسی خوشبو کو گھر کے ہر کونے میں پھیلا دیا۔<br>
کوئی عورت (جس کا نام اور شکل آج میرے ذہن سے محو ہوگئی ہے)اُٹھی، باورچی خانے کا دروازہ کھولا اور چولہے پر حلوہ پکانے لگی۔ اُس دن مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ حلوے کا مرُدوں سے کتنا گہرا تعلق ہے۔</p>
<p>ساری رات آنگن میں جنازہ رکھا رہا۔ میں ایک کونے میں دُبکا، دور سے میّت کے پلنگ کو دیکھتا رہا۔ مجھے بھوک لگ رہی تھی، مگر آج باورچی خانے کا چولہا ٹھنڈا تھا۔ اور وہ حلوہ؟؟<br>
حلوہ گھر والوں کے لیے نہیں تھا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a7%d9%b9%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">نعمت خانہ — اٹھائیسویں قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a7%d9%b9%da%be%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نعمت خانہ — ستائیسویں قسط</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[خالد جاوید]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 29 Nov 2017 11:06:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Khalid javed]]></category>
		<category><![CDATA[urdu novel]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ناول]]></category>
		<category><![CDATA[جدید اردو ناول]]></category>
		<category><![CDATA[خالد جاوید]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22683</guid>

					<description><![CDATA[<p>خالد جاوید:بہت دنوں سے بڑے ماموں کا وزن گھٹتا جارہا تھا۔ ان کا بھاری بھرکم چہرہ سُت کر رہ گیا تھا اور آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے بن گئے تھے۔ پہلے اُن کی اچھی خاصی توند تھی مگر اب اُن کا پیٹ پچکا ہوا نظر آتا تھا۔ ان کے سارے کپڑے ڈھیلے ہوگئے تھے۔ </p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">نعمت خانہ — ستائیسویں قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urduexcerpt">اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے <a href="https://laaltain.pk/category/literature/fiction/nemat-khana/" target="_blank" rel="noopener">کلک</a> کیجیے۔</div>
<p>پھر یوں ہوا کہ پاخانے میں چیونٹے نظر آنے لگے۔ شروع شروع میں تو کسی نے اس طرف دھیان نہیں دیا، ویسے بھی پرانے زمانے کا بڑے بڑے اور اونچے اونچے قدمچوں والا پاخانہ تھا اور قدمچوں کی اینٹوں کی دراڑوں میں کیڑے مکوڑے تو رہتے ہی تھے۔ چھپکلیاں اور سانپ کے چھوٹے چھوٹے بچّے اکثر وہاں آتے تھے اور اُس زمانے میں یہ کوئی خطرناک یا غیر معمولی بات بھی نہیں سمجھی جاتی تھی۔ اگلے وقتوں کے لوگ ان چیزوں کے عادی تھے۔</p>
<p>مگر جب وہاں کالے کالے اور بڑے سے چیونٹوں کی تعداد میں لگاتار اضافہ ہوتا ہی گیا اور قدمچوں پر سکون سے بیٹھنا مشکل ہوگیا تو سب کو فکر لاحق ہوئی۔ دشواری یہ بھی تھی کہ چیونٹوں کو مار ڈالنے یا مسل ڈالنے پر بھی پابندی تھی۔ تب ایک دن بڑے ماموں نے بتایا کہ اُن کے پیشاب پر تو چیونٹے بری طرح یلغار کر دیتے ہیں۔</p>
<p>خودمیں نے بھی کئی بار محسوس کیا تھا کہ بڑے ماموں کے پاخانے سے واپس آنے کے بعد، خاص طور پر، وہاں بے شمار چیونٹے فرش اور موری میں رینگتے ہوئے یا چپکے ہوئے نظر آتے تھے۔</p>
<p>بہت دنوں سے بڑے ماموں کا وزن گھٹتا جارہا تھا۔ ان کا بھاری بھرکم چہرہ سُت کر رہ گیا تھا اور آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے بن گئے تھے۔ پہلے اُن کی اچھی خاصی توند تھی مگر اب اُن کا پیٹ پچکا ہوا نظر آتا تھا۔ ان کے سارے کپڑے ڈھیلے ہوگئے تھے۔</p>
<p>آخر جب اُنہیں بہت زیادہ کمزوری محسوس ہونے لگی تو وہ اپنے خاندانی حکیم کے پاس گئے اور اس طرح پاخانے میں چیونٹوں کی فوج ہونے کا بھید کھُل گیا۔</p>
<p>بڑے ماموں کے پیشاب میں نہ جانے کب سے شکر آرہی تھی اور وہ بھی تھوڑی بہت نہیں، بہت زیادہ۔<br>
اُنہیں خطرناک اور شدید قسم کی ذیابیطس ہوگئی تھی۔ اُن کے لبلبے نے تقریباً کام کرنا بند ہی کر دیا تھا۔<br>
حکیم نے پتہ نہیں کون کون سی جڑی بوٹیوں سے اُن کا علاج شروع کر دیا اور کھانے میں میٹھا بالکل بند کر دیا۔</p>
<p>بڑے ماموں کو میٹھابہت پسند تھا۔ ان سے روکھا سوکھا کھانا نگلا تک نہ جاتا تھا۔ اُن کے لیے پرہیز کا کھانا پکتا تھا جس کو وہ اکثر غصّے میں اُٹھا کر پھینک دیتے تھے۔ اگر کبھی اُن کوباورچی خانے سے کوئی اشتہا انگیز خوشبو آجاتی تو وہ بچوںکی طرح رونے لگتے۔ گھر کے باقی افراد اُن سے چھپ چھپ کر کھانا کھانے لگے۔</p>
<p>ایک دن بڑے ماموں نے اپنی گردن کی بائیں طرف ایک چھوٹی سی پھنسی دکھائی۔<br>
’’ذرا دیکھنا،گڈّو میاں، یہاں کیا ہے؟‘‘ اُنہوں نے پھنسی پر اپنی خشک انگلی پھیری۔<br>
میں نے غور سے دیکھا، ایک بہت چھوٹی سی، سرخ رنگ کی پھنسی تھی۔<br>
’’کچھ نہیں ذرا سا دانہ ہے۔‘‘ میں نے کہا۔</p>
<p>’’ہاں مگر بہت تنّا رہاہے۔۔۔ لاؤ ذرا آئینہ تو لے کر آؤ۔‘‘<br>
میں بھاگ کر دالان میں کارنس پر رکھا آئینہ اُٹھا لایا۔<br>
’’لاؤ مجھے دکھاؤ۔‘‘</p>
<p>میں نے آئینہ میں اُنہیں گردن پر نکلا وہ چھوٹا اور معمولی سا دانہ دکھایا۔ وہ مطمئن ہوگئے مگر یہ لگاتار کہتے رہے کہ دانہ دردبہت کر رہا ہے۔ پھر اُنہوں نے خود کو یہ کہہ کر بھی تسلّی دی کہ چونکہ یہ دانہ گردن کی بالکل رگ پر ہے۔ شاید اس لیے اتنی تکلیف کر رہا ہے۔</p>
<p>مگر دوسرے دن اُس دانے میں پیلے رنگ کا مواد پیدا ہوگیا۔ اور وہ خاصا پھول بھی گیا۔</p>
<p>حکیم نے دانے پر پان کے ساتھ کسی مرہم کا لیپ لگانے کے لیے دیا، مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔بلکہ دانے میں تکلیف اور جلن اتنی بڑھ گئی کہ بڑے ماموں رات بھر کراہتے رہے۔<br>
صبح ہوتے ہوتے اُن کی گردن پر ایک بڑا سا پھوڑا موجود تھا اور وہ بخار سے جل رہے تھے۔<br>
اب خاندانی حکیم سے کام چلنے والا نہیں تھا۔ بڑے ماموں کو اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اُن کا معائنہ کیا اوراس پھوڑے کی وجہ خون میں شکر کی حد سے بڑھی مقدار تجویز کی۔ مگر ڈاکٹروں نے پھوڑے کا آپریشن اُس وقت تک ملتوی کر دیا جب تک کہ شکر نارمل نہ ہوجائے۔<br>
بڑے ماموں کے پیروں میں بھی چھوٹے چھوٹے سے زخم تھے۔</p>
<p>انھیں انسولین کے انجکشن دیے جانے لگے۔ وہ بات بات پر رونے لگتے اور میں اپنی چھٹی حس سے یہ بتا سکتا ہوں کہ وہ موت سے گھبرا کرنہیں روتے تھے۔ موت تو شاید، ان کی دانست میں کسی غیر معین عرصے کے لیے ملتوی کر دی گئی تھی (جیسا کہ ہر شخص سوچتا ہے کہ دوسرے مریں تو مرتے پھریں، شاید اُن کی اپنی موت ہمیشہ کے لیے ملتوی ہی رہے۔ لوگ زندگی کی کتاب میں اپنا اِندراج کرانے کے لیے ہمیشہ قطار میں کھڑے رہتے ہیں۔ افسوس کہ اس عرصے میں کب اُن کا نام نادیدہ ہواؤں میں اُڑ کر موت کی کتاب میں، ایک زیادہ سیاہ روشنائی میں درج ہوجاتا ہے اُنہیں اس کی ہوا تک نہیں لگتی۔)</p>
<p>بہرحال میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہ اسی وجہ سے پریشان ہوکر اور گھبرا کر روتے تھے کہ انھیں کھانے میں وہ اشیاء نہیں مل رہی تھیں جو اُنہیں بہت مرغوب تھیں اور اُن کی نظر میں خدا کی نعمتیں تھیں جن سے وہ محروم ہوگئے تھے۔</p>
<p>وہ دن باورچی خانے پر بڑے سخت گزر رہے تھے۔ اگر کبھی چھپ کر قورمہ یا بریانی پکائے جاتے تو اُس کے ساتھ ساتھ چولہے کے آنولے پر مولیوں کی بجھیا یا گوبھی بھی چڑھا دی جاتی تاکہ مولی اور گوبھی کی ناک سڑا دینے والی بو میں بریانی کی مہک دب کر رہ جائے۔ یعنی باورچی خانہ اُس وقت بالکل دنیا کے مماثل بن گیا تھا جہاں ہر نفیس شے کوکیچڑ سے پوت دینے کا عمل ابتدائے آفرینش سے ہی جاری ہے۔</p>
<p>مسئلہ صرف جمعرات کا ہوتا جب گھر میں مولی یا گوبھی یا کسی بھی ایسی چیزکا پکنا ممنوع تھا جس پر فاتحہ ہوسکتی تھی۔ جمعرات کو اوّل تو دال کبھی پکتی ہی نہیں اور اگر پکتی بھی تو اُس میں لہسن پیاز کا بگھار لگنے کا تو سوال ہی نہ تھا۔</p>
<p>جمعرات کو، سہ پہر ہی سے بڑے ماموں اپنے باندوں کے پلنگ پر بیٹھ کر باورچی خانے کی طرف بے حد چوکنّے ہوکر دیکھتے رہتے تھے۔ اور باربار ناک کے نتھنے سکوڑ کر، وہاں سے آنے والی خوشبوؤں کی تاک میں رہتے۔</p>
<p>دونوں وقت ملنے سے پہلے، سینی میں لگاکر جب کھانے پر فاتحہ دی جاتی تو وہ دُور بیٹھے دیکھتے رہتے اور پھر بچّوں کی طرح رونے لگتے۔ روتے وقت اُن کی گردن کا پھوڑا اور بھی زیادہ بڑا اور پھولا ہوا نظر آتا تھا۔ پھوڑے کے آس پاس کی سرخی ساری گردن پر پھیل جاتی۔ گردن کی ساری رگیں پھول جاتیں اورایسا لگتا جیسے یہ پھوڑا ابھی ابھی پھوٹ جائے گا اور اِس کا سارا کچ لہو اور مواد باہر نکل جائے گا۔</p>
<p>کچھ دنوں تک تو گھر کا ہر فرد بریانی اور قورمہ کھاکر اپنے آپ کو مجرم سمجھتا رہا۔ مگر یہ کب تک چلتا؟</p>
<p>آخر سب کی اپنی اپنی آنتیں تھیں اور اپنے اپنے دانت، اپنے اپنے وجود کے نہاں خانوں میں وہ سب قید تھے۔آہستہ آہستہ بڑے ماموںکا رونا روزمرّہ کے معمول میں شامل ہوگیا اور گھر کے افراد نے اُن کے رونے پیٹنے سے متاثر ہونا چھوڑ دیا۔ بڑے ماموں اُس بلّی کی مانند نظر انداز کیے جانے لگے جو باورچی خانے کے سامنے بیٹھ کر مسکین اندازمیں، منھ بنابناکے اور پلکیں جھپکا جھپکاکے کھانا پکتے یا انسانوں کو کھانا کھاتے دیکھتی رہتی ہے۔ اور کسی پر کوئی اثرنہیں ہوتا۔</p>
<p>کئی ماہ گزر گئے اور تب یہ کرشمہ نمودار ہوا۔</p>
<p>بڑے ماموں کی گردن کا پھوڑا آہستہ آہستہ دبنے اور سکڑنے لگا۔ اس کے اندر کا مواد سوکھنے لگا اور آس پاس پھیلی ہوئی سرخی کم ہونے لگی۔ دیکھتے دیکھتے کچھ ہی دنوں میں وہاں بس ایک چنے کی دال کے دانے برابر ایک گلابی سی گانٹھ ہی رہ گئی۔ یہ ایک عجیب کرشمہ تھا جو ڈاکٹروںکی سمجھ میں بھی نہ آیا۔ جیسے چندعناصر سے دنیا کی تشکیل ہوتی ہے۔ اس کا حجم بڑھتا ہے، وہ ارتقا کے سفر کی طرف گامزن ہوتی ہے۔ پھر ایک دن وہ سکڑنے لگتی ہے۔ واپس اپنے عناصر کی جانب لوٹتی ہے اور پھر یہ عناصر خلا میں اِدھر اُدھر بہت دور کہیں بکھر کر رہ جاتے ہیں۔ بڑے ماموں کا پھوڑا دراصل اُن کی گردن پر ایک کائنات کا بننا اور بگڑنا تھا (نمودار ہوکر معدوم ہوگئی(کائنات)) مگر پھوڑے کے دبنے کے بعد وہ بہت بوڑھے نظر آنے لگے۔وہ ہر وقت کھانستے رہتے اور اُن کی سانس دھونکنی کی طرح چلتی رہتی۔ اُن کی یادداشت نے تقریباً کام کرنا بند ہی کر دیا۔ آنکھوں میں ایک عجیب سی اجنبیت آکر بیٹھ گئی۔ اور کسی نے تو نہیں مگر مجھے اُن کی آنکھوںکی رنگت بھی بدلی بدلی لگی۔ مجھے اُن کی آنکھیں پیلی پیلی بھی نظر آنے لگیں۔ ممکن ہے کہ یہ میرا دھوکہ ہو کیونکہ پیلا پن تو ہمیشہ ہی میرے اعصاب پر سوار رہتا ہے۔</p>
<p>تھوڑے عرصے بعد سننے میں آیا کہ بڑے ماموں کے گردے خراب ہورہے ہیں۔ ان کا ہلنا پھرنا تقریباً بند ہوتا گیا۔ ذیابیطس کی وجہ سے اُن کے پاؤں میں پہلے ہی سے زخم تھے، اُن کے منھ اور پیروں پر سوجن بھی آگئی۔ اُس زمانے میں، مجھے بہت سی باتوں کی تمیز نہیں تھی۔ مگر اب جبکہ میں خود پکّی عمر کو پہنچ چُکا ہوں اور یہیاد داشتیں لکھ رہا ہوں تومیری سمجھ میں یہ بات آگئی ہے کہ اُن کی سب سے بڑی بیماری تو بڑھاپا تھی۔ ان کی عمر ہوگئی تھی۔ بُڑھاپے اور بیماری میں جسم تقریباً غیر حاضر رہتا ہے۔ سارے کام بُڑھاپا اور بیماری ہی نپٹاتے ہیں۔</p>
<p>مجھے یاد نہیں کتنا عرصہ گزر گیا۔ اُن کی بیماری اوراُن کی عمر طویل ہوتی گئی۔ شاید پھر سے سردی آگئی تھی۔ مجھے آج بھی اپنی پرانی بچپن کی رضائی یاد ہے۔ وہ رضائی جس کے اندر کی روئی دُھند کے ٹکڑے بن کر فضا کی مبہم پہنائیوں میں معدوم ہو گئی۔ مگر میرے بچپن کے جسم کے اند ربھرے خون کی ایک مٹھّی بھر حرارت اُس روئی کے اندر کہیں پھنسی رہ گئی ہے۔</p>
<p>موسم کو بدلتے کیا دیر لگتی ہے۔ وہ انسانوں سے بھی زیادہ تغیر پذیر ہے۔ انسانوں کو، بے چارے عام انسانوں کو بدلتے بدلتے بہرحال بہت وقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آدمی کو اس کنارے سے اُس کنارے کے قریب پہنچتے پہنچتے تاریک پانیوں میں ڈوب کر اوپر آنا پڑتا ہے اور تب جاکر کہیں وہ اِس قابل ہوتا ہے کہ اعتماد کے ساتھ اپنی یادداشت، اپنے حافظے کو فراموش کر سکے۔ اپنی آنکھوں کی رنگت کو بدل سکے۔ لوگوں کے نام بھلا سکے یا اُنہیں غلط طریقے سے پکار سکے۔ اب اُس کے پھیپھڑے، اطمینان کے ساتھ اپنی پھولتی ہوئی سانسوں پر شادماں ہوسکتے ہیں۔ اپنی کھانسی پر فخر کا اظہار کرسکتے ہیں۔ اب وہ آدھی رات کو میٹھا کھانے کے لیے کسی سے کچھ فرمائش کرنے پر جھجک نہیں محسوس کرتے۔</p>
<p>یہ تغیر، یہ تبدیلی اُس کی انا سے ایک مستقل نجات کا نام ہے۔ بیماری میں ایک بوڑھا، سنکی، کمزور اور تقریباً ہر منظرنامے سے غیر حاضر جسم ہی دراصل ایک مکمل انسان ہے۔ مکمل طور پر اخلاقی، ریاضی کے ’اکائی‘ کے ہندسے کی مانند اپنی ہی روشنی میں چمکتا ہوا، گزرے اور پچھلے وقتوں کے گناہوں کو، نفرتوں کو، محبتوں اور رفاقتوں کو، سب کو کچلتا ہوا، دربدر کرتا ہوا، ساری خواہشوں کو ساری شہوتوں کو، بس ایک ’خواہش‘ کے سفید پردے جیسے کفن سے ڈھکتے ہوئے۔</p>
<p>بس ایک ’’خواہش‘‘، میٹھا کھانے، مٹھائی کھانے کی عظیم خواہش کے سفید اُجلے بے داغ پردے کو ہر جذبے پر ڈال کر ڈھانپتے ہوئے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">نعمت خانہ — ستائیسویں قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نعمت خانہ — چھبیسویں قسط</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%da%86%da%be%d8%a8%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%da%86%da%be%d8%a8%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[خالد جاوید]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 03 Nov 2017 09:42:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Khalid javed]]></category>
		<category><![CDATA[Modern Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Modern urdu novel]]></category>
		<category><![CDATA[urdu novel]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ناول]]></category>
		<category><![CDATA[جدید اردو ناول]]></category>
		<category><![CDATA[خالد جاوید]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22549</guid>

					<description><![CDATA[<p>خالد جاوید: موت کیا ہوتی ہے، اس کا چہرہ کیسا ہوتا ہے، وہ کس طرح چلتی ہے، کسی طرح آتی ہے؟ ان میں سے کسی بات سے میں آشنا نہ تھا۔ مگر جلد ہی وہ وقت بھی آنے والا تھا اگرچہ مجھے اس کا ذرا سا احساس تک نہ ہوا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%da%86%da%be%d8%a8%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">نعمت خانہ — چھبیسویں قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urduexcerpt">اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے <a href="https://laaltain.pk/category/literature/fiction/nemat-khana/" target="_blank" rel="noopener">کلک</a> کیجیے۔</div>
<p>آخر رمضان کا مہینہ آگیا۔ مجھے چھوڑ کر گھر کے تمام افراد پابندی سے روزے رکھتے تھے۔ میں بس دو روزے رکھا کرتا تھا۔ ایک تو منجھلا روزہ اور دوسرا الوداع کا۔ کیونکہ مجھے لگاتار روزے رکھنے کی عادت نہیں تھی۔ اِس لیے روزہ رکھ کر میں بہت چوکنّا رہتا تھا کہ کہیں غلطی سے منھ سے حلق میں تھوک نہ نگل جاؤں۔ اس لیے میں تقریباً ہر وقت تھوکتا رہتا تھا۔ یقینا یہ ایک گھناؤنی عادت تھی۔ تھوک تھوک کر میں زمین پاٹ دیا کرتا تھا۔</p>
<p>ہمارے گھر سحری کے وقت بہت اہتمام کیا جاتا۔ دودھ، ڈبل روٹی، پھینی، کھجلا، پراٹھا، کباب اور تازہ سالن بھی۔ بغیر گوشت کا سالن پکنا، رمضان میں شاید ممنوع تھا۔ سحری کھانے کا وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے آکر اس طرح ٹھہر جاتا ہے جیسے ایک چلتی ہوئی فلم اچانک رُک جائے۔ اور اندھیرے سنیما ہال میں ایک سین، بس ایک سین، پردے پر مُردہ ہوکر چپک جائے۔ دیوار پر چپکی ہوئی مردہ چھپکلی کی کھانکڑ کی طرح۔</p>
<p>وہ منظر بہت عجیب ہوتا۔</p>
<p>وہ رات کا اندھیرا نہ ہوتا، وہ صبح کا اندھیرا ہوتا جب گھر کے تمام افراد نیند سے اُٹھ کر ادھ مچی اور کیچڑ زدہ آنکھوں کے ساتھ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے باورچی خانے میں داخل ہوتے اور اپنی اپنی پٹلیوں پر بیٹھ جاتے۔</p>
<p>سوتے وقت، دانتوں کے درمیان زبان آکر کٹ جانے کے باعث اُن سب کے منھ سے خون نکل رہا ہوتا مگر وہ کلّی نہیں کرتے، کیونکہ اُنہیں سحری کھانے کے بعد ایک طویل کلّی کرنا ہی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک سنک ہو مگر سنک تو ہر جاندار، چاہے وہ انسان ہو یا حیوان سب کا مقدّر ہے (میرا وہ کن کٹا خرگوش بھی سنکی تھا) چولہا روشن ہوتا، کھانا گرم کیا جاتا، پھر تام چینوں کی رکابیاں سب کے سامنے سجا دی جاتیں۔ وہ سب کھانا شروع کر دیتے، وہ ڈبل روٹی کا ایک بڑا ٹکڑاکاٹ کر لقمہ بناتے اور وہ لقمہ اُن کے ہونٹ اور تھوری سے بہتے ہوئے وحشت ناک خون سے سن کرلال ہوجاتا۔</p>
<p>سحری کھاکر وہ سب باورچی خانے کے سامنے لگے نل پر کلّی کرتے، تھوڑا پانی پیتے، پھر وضو کرتے۔ فجر کی اذان ہوتی۔ مرد نماز پڑھنے کے لیے مسجد چلے جاتے اور خواتین گھر میں ہی جانماز بچھاکر نماز ادا کرنے میں مصروف ہو جاتیں۔ اُس کے بعد، جب ہلکا ہلکا سا اُجالا پھیل جاتاتو سب خاموشی کے ساتھ اپنے اپنے بستروں پر چلے جاتے۔ یہ نہیں معلوم کہ وہ سو جاتے تھے یا یونہی لیٹے رہتے تھے مگر اتنا پتہ ہے کہ جب وہ بستروں سے اُٹھ کر اپنے روزمرّہ کے کاموں میں مشغول ہوتے تو دن کافی چڑھ آتا۔</p>
<p>اُن دنوں ہر گھر کا یہی رواج تھا اور ممکن ہے کہ اب بھی ہو۔</p>
<p>افطار سے مجھے زیادہ دلچسپی نہیں رہی کیونکہ وہ باورچی خانے میں نہیں کیا جاتا تھا۔ باہری دالان میں، فرش پر ایک دری اور چاندنی بچھا دی جاتی اور طرح طرح کے لوازمات چُن دیے جاتے مگراُن میں سب سے نمایاں شے تو پکوڑیاں ہی تھیں اور وہی مجھے یاد رہ گئی ہیں۔ اب سوچتاہوں تو دل ہی دل میں مسکرا بھی اُٹھتا ہوں کہ افطار کے وقت پکوڑیاں ہونا اتنا ناگزیر تھا کہ جس کے بغیر جیسے افطار ہی شرعاً حرام یا مکروہ ہو جاتا۔ ہندوستان کے پکوڑے، پکوڑیاں، اس معاملے میں اور ان لمحات میں عرب کی کھجوروں کے شانہ بشانہ تھے۔<br>
سحری کے بعد مجھے نیند نہیں آتی تھی۔ جب صبح ہوجاتی اور خوب اُجالا پھیل جاتا تو میں اکثر انجم آپا کے گھر چلا جایا کرتا۔ انجم آپا کے باپ بھی سحری کھاکر سو جاتے اور دوپہر بارہ بجے کے بعد ہی اُٹھتے۔ مگر انجم آپا، ہر وقت اپنی بے نور آنکھوں کے ساتھ مجھے باورچی خانے میں ہی بیٹھی نظر آتیں۔</p>
<p>اُس روز بھی، جب دن چڑھ آیا اور دھوپ منڈیروں سے اُتر کر آنگن میں چلی آئی تو میں نے انجم آپا کے گھر کی راہ لی۔<br>
صبح صبح، راستے میں پڑنے والی قبریں بھی اونگھ رہی تھیں۔ اُن پر کوئی بچّہ مجھے کھیلتا ہوا نظر نہیں آیا۔ قبرستان اس وقت کچھ زیادہ ہی خاموش اور سنسان تھا۔ میں بھی بہت احتیاط سے کام لیتا ہوا، قبروں سے بچ بچ کر گزرتا رہا۔</p>
<p>جب میں انجم آپا کے گھر پہنچا تو دروازے پر ہی ٹھٹک کر رہ گیا۔ اندر کوئی زور زور سے گالیاں بک رہا تھا۔ اس بوسیدہ دروازے کے بالکل سامنے باورچی خانہ تھا، آوازیں باورچی خانے سے ہی آرہی تھیں۔</p>
<p>میں دروازے میں ایک کونے میں چھپ کر اور سمٹ کر کھڑا ہو گیا۔ یہاں سے آدھا باورچی خانہ صاف نظر آتا تھا۔ انجم آپا کے باورچی خانے میں کِواڑ نہیں تھے۔</p>
<p>میں نے ایک شخص کو دیکھا، جس کی آنکھیں بھوری اور بے رحم تھیں اور دہانہ کسی ہیبت ناک کتّے سے ملتا تھا۔ وہ ایک داغ دار اور تشدّد آمیز سفید رنگت کا آدمی تھا۔ اس کے ہونٹوں میں ایک نفرت انگیز سگریٹ دبا ہوا تھا۔ میں نے اس آدمی کو، اور ایسی کریہہ، ناگوار بُو والی سگریٹ کو پہلے کہاں دیکھا تھا؟؟ میں نے، دماغ پر زور دیا اور پھر مجھے یاد آیا، مجھے سب کچھ یاد آگیا۔</p>
<p>وہ شراب کے نشے میں لڑکھڑا رہا تھا اور متواتر انجم آپا کو گالیاں دے رہا تھا۔ اور تب مجھے وہ بھی نظر آگئیں۔<br>
انجم آپا فرش پر اکڑوں بیٹھی تھیں، مجھے اُن کا چہرہ صاف نہیں دکھائی دیا۔<br>
’’رنڈی— چھنال۔ نکال پیسے جو تونے دبا کر رکھے ہیں۔‘‘<br>
انجم آپا یونہی بغیر ہلے جلے اکڑوں بیٹھی رہیں۔</p>
<p>’’نکال، ورنہ اس بار تیری ناک کاٹ کر چیل کوّؤں کو کھلا دوں گا۔ اندھی ہوکر بھی تیری عقل ٹھکانے نہیں آئی؟‘‘<br>
’’میرے پاس نہیں ہیں۔‘‘</p>
<p>’’تیری ماں کی۔۔۔ تیرے اُس بھڑوے باپ کے پاس تو ہیں۔‘‘<br>
’’میں اُن سے نہیں لوں گی۔‘‘</p>
<p>’’تو یہ لے۔‘‘ ایک وزنی، ہاتھی جیسا بدہیئت پیر خلا میں اوپر اُٹھتا ہے اور انجم آپا کے ماتھے پر ایک زبردست ٹھوکر مارتا ہے، میں انجم آپا کو فرش پر لڑھکتے ہوئے اور درد سے دوہری ہوتے، چیخیں مارتے ہوئے دیکھتا ہوں۔</p>
<p>’’اس بار لات تیرے پیٹ پر پڑے گی۔ یہ جو بچّہ لیے گھوم رہی ہے نا، ابھی ٹانگوں کے بیچ سے نکل جائے گا، پہلے کی طرح۔‘‘<br>
’’نہیں۔‘‘ انجم آپا کی یہ ہذیانی چیخ ہے۔</p>
<p>میں ایک چاقو کڑکڑاہٹ کے ساتھ کھلتا ہوا دیکھتا ہوں۔ چاقو کے پھل کی فحش چمک میں انجم آپا کا چہرہ پہلی بار مجھے صاف نظر آتا ہے۔ خوف اور نفرت کی انتہا، کو پہنچا، ایک بالکل سیاہ پڑ گیا چہرہ۔</p>
<p>’’لا— میں تیری ناک کاٹوں— اِدھر آ۔‘‘</p>
<p>ایک بھیانک، کوڑھ زدہ سفید مٹھی میں انجم آپا کے کالے بالوں کو دبا ہوا دیکھتا ہوں۔ مٹّھی اوپر اُٹھتی ہے۔ انجم آپا کا چہرہ سیدھا ہوتا ہے۔ پھر پیچھے دیوار کی جانب جھکنے لگتا ہے۔ یہ وہی دیوار ہے جو بہت پہلے، باڑھ کے زمانے میں ایک بار گرگئی تھی۔ مگر اِس بار یہ دیوار نہیں گری، انجم آپا گریں۔ اور ایک تیزدھار والا چاقو اُن کی ناک پر جاکر ٹھہر گیا۔</p>
<p>’’ہا ہا ہا ہا۔‘‘ میں شیطان کو قہقہہ لگاتے ہوئے سنتا ہوں۔ اور مجھے پہلی بار اس امر کا عرفان ہوتا ہے کہ انسانوں کی دنیا خرابے میں تبدیل ہوچُکی۔</p>
<p>’’ابا‘‘ ایک بے معنی اور بے بس چیخ اُس ٹوٹے پھوٹے ویران مکان میں گونج کر رہ جاتی ہے۔</p>
<p>ایک پل کو میں اُن بدہیئت، ہاتھی جیسے پیروں کو لڑکھڑاتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ وہ پیر شراب کی مستی میں چولہے سے ٹکراتے ہیں۔ فحش بے رحم چاقو، ایک نامرد سی آواز کے ساتھ فرش پر گرتا ہے۔</p>
<p>انجم آپا تیزی سے اُٹھتی ہیں، وہ بھاگتی ہوئی باورچی خانے سے باہر دروازے میں آتی ہیں۔ جہاں ایک کونے میں، دبکا ہوا میں خاموش کھڑا ہوں۔</p>
<p>وہ حواس باختہ، بغیر دوپٹے کے گھر سے باہر بھاگتی چلی جاتی ہیں۔ وہ مجھے نہیں دیکھتیں، مگر میں اُن کو دیکھتا ہوں۔ اُن کو بھاگتے، روتے، چیختے دور قبروں کی آڑ میں گم ہوتے ہوئے دیکھتا ہوں اور میں۔۔۔</p>
<p>میں تو اُن کی ناک اور چہرے پر سے خون ٹپکتا ہوا بھی دیکھ لیتا ہوں۔ انجم آپا کے قبروں کے عقب میں غائب ہو جانے کے بعد بھی، اُن کا چہرہ، ان کی ناک اور خون میری آنکھوں کے سامنے ایک ساکت وجامد منظر کی مانند موجود رہتے ہیں۔ اور مجھے یہ راز معلوم ہے کہ جہاں جہاں لال رنگ ہوتا ہے، وہاں وہاں ایک کالا رنگ بھی ہمیشہ آگے پیچھے موجود ہوتا ہے۔ اور یقیناً وہاں، اُس خون کے ساتھ بھی ایک کالا رنگ رینگ رہا تھا۔</p>
<p>مجھے اچھی طرح عِلم تھا کہ وہ کالا رنگ کہاں سے نکل نکل کر باہر آرہا تھا۔</p>
<p>میں نے اپنے ہاتھوں میں ایک عجیب سی بے چینی محسوس کی۔ میرا پورا جسم اِس طرح اکڑگیا جیسے اپنے اندر سے کوئی شے باہر نکال دینے کے لیے تیار ہورہا ہو۔ شاید میری سانس تک رُک گئی تھی۔</p>
<p>اسی عالم میں، دروازے میں کھڑے کھڑے مجھے صدیاں بیت جانے کا واہمہ ہوا۔</p>
<p>مجھے ہوش اُس وقت آیا جب باورچی خانے سے اسٹوو جلنے کی ایک پرُہول آواز آئی۔ جیسے ایک دل گھبرا دینے والی بارش ہورہی ہو۔ اس آواز میں انجم آپا کا گھر ایک نادیدہ بارش میں بھیگنے لگا۔</p>
<p>اور ٹھیک اسی وقت میں نے اپنے اندر سے ایک تاریک طویل القامت سائے کو باورچی خانے کی طرف جھپٹتے ہوئے دیکھا۔<br>
میں نے اپنے سائے کا تعاقب کیا۔</p>
<p>باورچی خانے کی دہلیز پر پہنچ کر میں چپ چاپ کھڑا ہوگیا۔</p>
<p>وہ فرش پراکڑوں بیٹھا ہوا اسٹوو پر بے شرمی کے ساتھ چائے بنا رہا تھا۔ اس کی بھی میری طرف سے پیٹھ تھی۔ اسے شاید نہیں معلوم تھا کہ غصّے کے پاگل تاریک ساؤں کی طرف سے پیٹھ کرکے بیٹھنا کتنا خطرناک اور مہلک ثابت ہوسکتا تھا۔</p>
<p>المونیم کی ایک چھوٹی سی، گندی دیگچی میں چائے کا کتھئی رنگ اُبل رہا تھا۔ اور میں نے اُسے بھی پہچان لیا۔</p>
<p>اسے یعنی کاکروچ کو۔ کسی کو یقین ہو یا نہیں مگر یہ بالکل سچ ہے کہ وہی پرانا کاکروچ حیر ت انگیز طور پر یہاں بھی چلا آیا تھا۔ وہ اسٹوو کے قریب رکھے تام چینی کے ایک پیالے کے اوپر بیٹھا ہوا مجھے گھور رہا تھا۔ کچھ دیر بعد شاید وہ کاکروچ پہلے کی طرح مجھ پر ہنسنے والا بھی تھا۔</p>
<p>مجھے لگا جیسے میں ایک پرانی فلم کا چربہ دیکھ رہا ہوں مگر تب ہی میری نظر دیگچی میں اُبلتی ہوئی چائے پر دوبارہ پڑی۔ ابھی اُس میں دودھ نہیں ڈالا گیا تھا۔ چائے اچانک اُبلتے ہوئے خون میں بدل گئی۔ خون جس میں جھاگ اور بلبلے اُٹھ رہے تھے۔</p>
<p>اسٹوو کے ٹھیک اوپر، ایک کارنس پر چند معمولی برتنوں کے ساتھ مٹّی کے تیل کی ایک بوتل رکھی تھی۔ شیشے کی بوتل جس کے منھ پر ایک گندا سا کپڑا ٹھونسا ہوا تھا۔</p>
<p>اسٹوو کی وحشت ناک آواز میرا ساتھ دے رہی تھی۔اس نے میری کوئی آہٹ نہیں محسوس کی۔ اس کا سر نشے میں آہستہ آہستہ ادھر اُدھر ڈول رہا تھا۔</p>
<p>میں اس کی پیٹھ کے بالکل پیچھے جاکر کھڑا ہو گیا۔ اس نے میل سے چیکٹ چارخانے کی ایک قمیص پہن رکھی تھی۔ وہ تہبند باندھے ہوا تھا۔ جو آدھا کھل کر فرش پر اِدھر اُدھر پھڑپھڑا رہا تھا۔</p>
<p>میں نے اپنی ایڑیاں اچکائیں، دم سادھا اور اس کے ہلتے ڈلتے سر کے اوپر سے، اپنا دایاں ہاتھ بڑھایا، میرا بایاں ہاتھ، نیکر کی جیب میں پڑے پڑے دائیں ہاتھ کے ارادے کا ساتھ دے رہا تھا۔</p>
<p>کمالِ خوبی سے ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ، میں نے مٹّی کے تیل کو کارنس سے نیچے گرا دیا۔</p>
<p>بوتل، جلتے اور شور مچاتے ہوئے اسٹوو کے اوپر گری۔ میں اُلٹے پاؤں تیزی کے ساتھ دروازے کی طرف واپس بھاگا۔ میں نے بمشکل دروازے کی چوکھٹ پار ہی کی ہوگی کہ اپنے پیچھے ایک دِل دہلا دینے والا دھماکہ سنا۔ جس میں اس کی ہذیانی چیخیں بھی شامل تھیں۔</p>
<p>میں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ میں دوڑتا ہوا ایک قبر کے پیچھے جاکر چھپ گیا۔ میں نے دیکھا کہ سارا محلہ انجم آپا کے گھر کی طرف بھاگا چلا جارہا تھا۔</p>
<p>کوئی زور زور سے کہہ رہا تھا۔<br>
’’اسٹوو پھٹ گیا، آگ لگ گئی۔‘‘</p>
<p>مجھے اپنے پیروں میں ہلکی سی کپکپاہٹ کا احساس ہوا۔ میں اُس قبر کے اوپر ہی پاؤں لٹکا کر بیٹھ گیا جس کی آڑ میں، میں چھپا ہوا تھا۔ میں نے دور، بوسیدہ گھروں کے پیچھے دھوئیں کا کالا بادل اُٹھتے دیکھا۔</p>
<p>تھوڑی دیر بعد شاید آگ پر قابو پا لیا گیا تھا مگرلوگوں کا شور تھمنے کا نام نہیں لے رہاتھا۔ پھر اسی شور اور مجمع میں، میں نے رکشہ پر لاد کر لے جاتی ہوئی ایک کالی لاش کو دیکھا۔ شاید لاش میں ابھی کوئی شے زندہ تھی ورنہ اُسے اسپتال لے جانے کا کیا مطلب تھا؟مگر کالا دھواں ہوا کے دوش پر پھیلتا جارہا تھا۔ دھوئیں کے اس بادل میں مجھے لوگوں کی شکلیں صاف نہیں نظر آرہی تھیں۔ رکشہ اور مجمع کے پیچھے پیچھے دھوئیں کا یہ بادل چلتا رہا۔ پھر وہ قبروں پر بھی آکر منڈلانے لگا۔ آسمان کا ایک ٹکڑا دھوئیں سے کالا ہوگیا۔</p>
<p>مجمع کم ہوگیا، کچھ لوگ اِدھر اُدھر کھڑے باتیں کر رہے تھے اور محلے کی عورتیں اپنے اپنے دروازوں پر کھڑی چہ میگوئیاں کر رہی تھیں۔<br>
کچھ دیر بعد، میرے نیکر اور پنڈلیوں پر قبر سے نکل کر چیونٹیاں چڑھنے لگیں تو میں بہت اطمینان کے ساتھ اُٹھ کر اپنی ہی ہوا میں جھومتا ٹہلتا ہوا اپنے گھر کی جانب چل پڑا۔</p>
<p>اِس بار مجھے کچھ بھی نہیں ہوا، نہ کوئی گھبراہٹ، نہ کوئی اندیشہ، نہ کوئی خوف اور نہ کوئی احساسِ جرم۔<br>
کیا میں ایک پیشہ ور قاتل میں تبدیل ہو چکا تھا؟؟</p>
<p>’’گڈّو میاں آگئے۔۔۔۔ گڈّو میاں آگئے۔۔۔۔ ‘‘ جیسے ہی گھر میں داخل ہوا، طوطا بولا۔</p>
<p>گھر پہنچ کر، دوپہر میں،میں آرام سے سو گیا۔ ہاں بس اتنا ضرورایک بار دل میں خیال آیا کہ اگر اس وقت انجم آپا کے باورچی خانے میں چائے نہ بنتی تو صورت حال کچھ اور بھی ہوسکتی تھی۔ اس وقت وہاں چائے کا اُبلنا ایک اچھا شگون نہ تھا۔ مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ اس بار، ایک بدشگونی نے پہلے سے مجھے کوئی اشارہ نہیں کیا تھا یا پھر یہ بھی ممکن ہے کہ وہاں میری پانچوں حِسیں کچھ دیر کے لیے اتنی طاقتور ہوگئی تھیں کہ چھٹی حس کی بیداری اُن کے بوجھ تلے دب کر رہ گئی ہو۔</p>
<p>اس بار نہ مجھے یرقان ہوا، نہ سردی لگی، نہ بخار آیا اور نہ ہی اُلٹیاں ہوئیں۔میں اپنے وجود میں پلتے رہنے والے اُس تاریک سائے، اس کالے سانپ سے مکمل طور پر مفاہمت کر چکا تھا۔</p>
<p>دوسرے دن ریحانہ پھوپھی نے مجھے بتایا کہ انجم آپا کا میاں اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی مر گیا تھا۔ آگ اتنی زبردست لگی تھی کہ پورا باورچی خانہ جل کر راکھ ہو گیا۔ اگر وقت پر محلے والے مل کر آگ نہ بجھاتے تو سارا گھر ہی نذرِ آتش ہوگیا ہوتا۔ انجم آپا کے باپ باورچی خانے سے بہت دور، دور والی کوٹھری میں سونے کے باعث بس بال بال بچ گئے تھے۔ جہاں تک انجم آپا کا سوال ہے تو وہ تو بہت دیر پہلے محلے کے ایک گھر میں جاکر بیٹھ گئی تھیں، کیونکہ اُن کے شوہر نے اُنہیں صبح صبح ہی جان سے مار ڈالنے کی کوشش کی تھی اور اُن کی ناک پر چاقو سے وار کیا تھا۔</p>
<p>’’پولیس نہیں آئی۔‘‘ میں نے پوچھا۔</p>
<p>’’آئی تھی مگر کیا کرتی، حادثہ تو حادثہ ہے۔ ویسے بھی خدا کی لاٹھی بے آواز ہے۔‘‘ ریحانہ پھوپھی پیاز چھیلتے چھیلتے بولیں۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے جو یقینا پیاز چھیلنے کے باعث ہی آئے ہوں گے۔</p>
<p>اس کے بعد میں انجم آپا کے گھر جانے کی ہمت کبھی نہ کر سکا۔ ایک زمانے تک میں نے اُنہیں نہیں دیکھا۔ نہ وہ کبھی ہمارے گھر آئیں۔ بہت بعد میں یہ بھی سننے میں آیا کہ اُن کے باپ نے اُن کا دوسرا نکاح پڑھا دیا ہے۔ کسی بہت شریف اور نیک شخص کے ساتھ جس کی پہلی بیوی فوت ہو چکی تھی اور اُس کے کئی بچّے بھی تھے۔ انجم آپا کا نیا شوہر خاصا مالدار بھی تھا اور اُس کی اعلیٰ نفسی کا ثبوت تو یہی تھا کہ اس نے ایک بیوہ اور اندھی عورت کو سہارا دیا تھا۔</p>
<p>بہرحال میں نے انجم آپا کو نہیں دیکھا اور جب دیکھا تو زمانہ قیامت کی چال چل چکا تھا۔ وہ بھی قیمتی زیورات سے لدی ہوئی تھیں۔ بہت موٹی ہوگئی تھیں بلکہ اُن کی خاصی توند بھی نکل آئی تھی۔ اُن کے آگے پیچھے کئی چھوٹے بڑے بچّے شور مچاتے ہوئے گھوم رہے تھے۔ مگر یہ بہت بعد کی، ایک الگ اور لرزہ خیز داستان ہے۔</p>
<p>وقت گزرتا گیا، گزرتا گیا۔ میں بڑا ہوگیا۔ داڑھی مونچھوں سے میرا چہرہ بھر کر رہ گیا۔ میں روزانہ شیو کرنے لگا۔ لوگوںکی نظروں میں، میں اب ایک نوجوان لڑکا تھا مگر خود میں، یہ محسوس کرتا تھا کہ میری جوانی بیت چکی ہے۔ بچپن یا لڑکپن کی وہ یادیں ایک بھیانک خواب بن کرمجھ سے میری جوانی چھین لے گئی تھیں۔ میں ان بھیانک خوابوں سے پیچھا چھڑانا چاہتا تھا مگر یہ ممکن نہ تھا۔ وہ یادیں اُس کالے سیلاب کی مانند تھیں جو آگے اور آگے بڑھتا ہی جاتا تھا، جو میرے ماضی کو بہا لے جانے کے بعد میرے حال اور میرے مستقبل کو بھی غرق کر دینے کے درپے تھا۔</p>
<p>میں اگر جوان ہوگیا تھا تو گھر کے باقی افراد بوڑھے ہونے کے بالکل قریب پہنچ گئے تھے۔ سنبل، میرا طوطا تک بوڑھا ہوگیا تھا اور بیمار رہنے لگا تھا۔ اُسے ہری مرچ کھانے میں دلچسپی بہت کم رہ گئی تھی۔ یہاں تک کہ وہ کن کٹا خرگوش تک کاہل اور سست ہو گیا تھا۔ جہاں پڑ جاتا، پڑا ہی رہتا اور اپنی لال لال آنکھوں سے گھر کے مکینوں اور در ودیوار کو گھورتا رہتا۔</p>
<p>گھر میں زیادہ تر لوگ بیمار بیمار سے رہنے لگے۔ وہ ہر وقت کھانستے، بلغم تھوکتے اور ذرا سا چل لینے پر برسوں کے تھکے ہوئے نظر آتے۔ اُن کے پیٹ زیادہ تر خراب رہتے۔ جس کی وجہ سے وہ بات بات پر ایک دوسرے کو کھانے کو دوڑتے۔ وہ کٹکھنے کتّے بن گئے تھے اورباورچی خانہ ہی اُن کی آپسی تکرار کا باعث تھا۔ وہ بہت اونچا سننے لگے تھے۔ انھیں چیزیں بہت کم نظر آتی تھیں۔ کیڑے مکوڑے اور چیونٹیاں دیکھنے سے بوڑھی بے نور آنکھیں قاصر تھیں۔ اُن کی آنتیں کوئی مرغّن یا ثقیل غذا برداشت نہ کر پاتی تھی۔ دراصل بوڑھی زبانوں میں اب کوئی ذائقہ نہ تھا۔ان کی قوتِ ذائقہ، قوتِ شامّہ، قوتِ لامسہ اور سماعت و بصارت سب کے حواس ٹوٹ ٹوٹ کر ہوا میں بکھر رہے تھے یا پھر مٹّی میں مل رہے تھے۔ اُسی ہوا اور اُس مٹّی میں جہاں سے زندہ اور جوان یہ حواس خمسہ نکل کر کبھی سینہ تانے باہر آئے تھے۔ اب وہ صرف پانی کا ذائقہ محسوس کرتے تھے۔ گرمیوں میں ٹھنڈے پانی کی تلاش میں اُن کی زبانیں ہانپتے ہوئے کتّوں کی طرح باہر لٹکی رہتی تھیں۔<br>
وہ سب ایک پرانے درخت پر لگے بوڑھے پتّے تھے۔ جو ذرا سی ہوا برداشت نہ کرکے چڑچڑا جاتے تھے۔</p>
<p>نورجہاں خالہ کا پاگل پن اتنا بڑھ گیا تھا کہ اُنہیں محلّے والوں اور رشتہ داروں نے مل کر اُن کے ہاتھ پاؤں رسّی سے باندھ کر ایک دن پاگل خانے میں پہنچا دیا تھا۔ جب سے وہ پاگل خانے میں بھرتی ہوئی تھیں مجھے یاد نہیں کہ کوئی اُنہیں کبھی وہاں دیکھنے یا ملنے گیا ہو۔<br>
اور یہ ٹھیک بھی تھا، گھر میں جھاڑو لگانے کے بعد، کوڑا کرکٹ اور سڑا ہوا کھانا یا پیاز، لہسن اور ترکاریوں کے چھلکوں کو اکٹھا کرکے، جب باہر نکال دیا جاتا ہے تو انھیں دیکھنے کوڑے دان میں جھانکنے، موریوں اور نالیوں میں ہاتھ ڈال ڈال کرٹٹولنے بھلا کون جاتا ہے۔</p>
<p>جہاں تک اچھّن دادی کا سوال تھا تو وہ تو اب بالکل ہڈّیوں کے ایک ڈھانچے میں بدل گئی تھیں، افسوس کہ ہڈّیوں کے اس ڈھانچے میں ابھی جھلّی نما گوشت اور کھال موجود تھے، جہاں زخم سڑ رہے تھے اور اُن میں کیڑے پڑ گئے تھے۔</p>
<p>میں سوچتا ہوں کہ اگر وہ بغیر کھال اور گوشت کے خالص ہڈیوں کا ڈھانچہ بن جاتیں تو ایک نئے حسن سے مالامال ہوجاتیں آخر، ہڈّیاں کے ڈھانچے کی اپنی خوبصورتی ہے۔ اپنا تناسب۔ اپنی چمک اپنی گولائیاں، خطوط اور زاویے۔</p>
<p>مگر عام طور پر انسان حسن اور خوبصورتی کے بارے میں بہت محدود بلکہ متعصّبانہ نظریات رکھتے ہیں۔</p>
<p>جب میں بظاہر ایک کڑیل جوان میں تبدیل ہو گیا تو گھر میں زیادہ تر جلے ہوئے یا سڑے ہوئے کھانے کی بو پھیلنے لگی۔ اب باورچی خانے میں اکثر ہانڈی جل جاتی یا پھر رکھّے رکھّے کھانا سڑ جاتا اور کسی کو کوئی بدبو نہ آتی۔ روٹیاں پک جل کر سیاہ ہو جاتیں۔ اُنھیں پروا نہ ہوتی، وہ جلے اور سڑے کھانے کھاتے رہنے کے عادی ہو گئے تھے۔ جسے وہ بدمزہ کھاناکہہ کہہ کر اُس میں ڈھیر سا نمک مرچ ڈال ڈال کر کھاتے اور ایک دوسرے کو اِس بدمزگی کا ذمے دار ٹھہراتے۔ گھر کی عورتیں باورچی خانے میں ایک دوسرے سے لڑا کرتیں۔ اُن میں کبھی کبھی ہاتھا پائی تک کی نوبت آجاتی۔ باورچی خانہ اب صحیح معنوں میں کُشتی کا اکھاڑہ بن گیا تھا۔</p>
<p>اور یہ سب کمزور جسموں اور معذور ذہنوں میں لگاتار بڑھتی ہوئی عمر کا کرشمہ تھا۔ وہ بوڑھے ہوتے جاتے تھے اور تمام گزری ہوئی باتوں کو بھولتے جاتے تھے۔ماضی کا ایک بہت بڑا ٹکڑا کٹ کر اُن کی یادداشت سے دور جا گرا تھا۔ اگر اُنہیںکچھ یاد رہ گیا تھا تو وہ صرف گزرے زمانے کے کھائے ہوئے کھانوں کے نام اور اُن کے ذائقے تھے۔ وہ ذائقے جن کو گرفت میں لینے والے اُن کی زبانوں کے خلیے، سڑ گل کر کب کے ختم ہو چکے تھے۔ اب یہاں ایک ضروری اعتراف کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اور وہ یہ کہ، اگرچہ میں ایک خطرناک قاتل تھا، میں نے بے حد ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ ایک نہیں بلکہ دو دو قتل کیے تھے، کسی کو مجھ پر رتی برابر بھی شک نہیں ہو سکتا تھا، میں دو دو قتل کرکے صاف بچ نکلاتھا۔ مگر پھر بھی اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا تھا کہ میں ایک بچّہ تھا۔ جب میں نے وہ قتل کیے تھے تو میں نیکر پہنتا تھا۔</p>
<p>اس لیے اہم اور غور کرنے لائق نکتہ یہ تھا کہ دو دو قتل کرنے کے باوجود میں نے کسی کی موت نہیں دیکھی تھی۔ موت میرے لیے ایک اجنبی شے تھی۔ قتل اور موت دو الگ الگ باتیں ہیں۔ میں نے اپنی ماہیت میں قتل کا حلیہ دیکھا ہے بلکہ وہ حلیہ میں نے ہی اپنے ہاتھوںسے تیار کیا تھا۔ قتل کا لباس بھی خود میں نے اپنے ہاتھوں سے سوئی دھاگہ پکڑ کر سِیا تھا مگر میں موت سے واقف نہیں تھا۔</p>
<p>موت کیا ہوتی ہے، اس کا چہرہ کیسا ہوتا ہے، وہ کس طرح چلتی ہے، کسی طرح آتی ہے؟ ان میں سے کسی بات سے میں آشنا نہ تھا۔<br>
مگر جلد ہی وہ وقت بھی آنے والا تھا اگرچہ مجھے اس کا ذرا سا احساس تک نہ ہوا۔</p>
<p>تجربے کار لوگ، موت کی آہٹ کو بہت پہلے سے پہچان لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ کتّے اور بلّیاں تک۔ مگر میں اُن دنوں ا س معاملے میں قابل رحم حد تک ناتجربہ کار بلکہ احمق تھا۔ میری وہ چھٹی حس جس پر مجھے بہت ناز تھا، مجھے یہ توبتا سکتی تھی کہ کچھ برُا یا خراب ہونے کا امکان ہے، مگر وہ برُا کیا ہے؟ وہ بدشگونی موت تو نہیں اور اگر موت ہے تو پھر اس موت کی شکل کیسی ہے؟ یہ چاروں ہاتھ پیروں سے چلتی ہے یا کہ گھٹنوں کے بل؟؟ چھٹی حس کو اس کا علم نہیں تھا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%da%86%da%be%d8%a8%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">نعمت خانہ — چھبیسویں قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%da%86%da%be%d8%a8%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نعمت خانہ — تئیسویں قسط</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%aa%d8%a6%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%aa%d8%a6%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[خالد جاوید]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 07 Oct 2017 04:29:29 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[جدید اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[جدید اردو ناول]]></category>
		<category><![CDATA[خالد جاوید]]></category>
		<category><![CDATA[نعمت خانہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22308</guid>

					<description><![CDATA[<p>خالد جاوید: میں ہوش سا کھونے لگا۔ مجھے لگا کہ میں باہر سڑک پر پڑا ہوا ہوں۔ اور میرے اوپر چیل کوّے اُڑ رہے ہیں۔ مری یادداشت بخار کے بھبکوں میں پرزے پرزے ہوکر ہوا میں اُڑ رہی تھی۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%aa%d8%a6%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">نعمت خانہ — تئیسویں قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urduexcerpt">اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے <a href="https://laaltain.pk/category/literature/fiction/nemat-khana/" target="_blank" rel="noopener">کلک</a> کیجیے۔</div>
<p>آخر وہ گلی آگئی جس کے بائیں موڑ پر میرا گھر تھا۔<br>
وہاں ایک جم غفیر تھا۔</p>
<p>نیلی بتّی والی، پولیس کی ایک گاڑی گلی کے موڑ پر کھڑی تھی۔ میں ہمت سے کام لیتے ہوئے آگے بڑھتا گیا۔ اب میرا خوف ہی میرا حوصلہ اور میرا سہارا تھا اور پیروں کی کپکپاہٹ ہی میرے چلنے کی طاقت تھی۔ یہ نہ ہوتی تو شاید میرے پیر پتھّر کے ہوجاتے۔</p>
<p>گھر خاکی وردی والوں سے بھرا ہوا تھا۔ حالانکہ لاش پوسٹ مارٹم کے لیے لے جائی جاچکی تھی۔ پولیس والے ایک ایک کا بیان لے رہے تھے۔ نورجہاں خالہ اور اچھّن دادی تک کا بیان لیا گیا، جب میری باری آئی تو میں نے کہہ دیا کہ صبح سے اسکول میں تھا۔ اورابھی آیا ہوں۔ پولیس کو میرے اوپر کوئی شک نہیں ہوا۔ ورنہ اسکول سے یہ معلوم کیا جاسکتا تھا کہ میں آج اسکول نہیں پہنچا تھا، مگر قسمت نے میرا ساتھ دیا۔<br>
بعد میں،پولیس کے چلے جانے کے بعد بڑے ماموں نے مجھ سے یہ بازپرس ضرور کی کہ میں نے اُن کا کہا کیوں نہیں مانا۔ مگر وہ صرف ایک باز پرس نہیں تھی کیونکہ بعد میں انھوں نے گہری سانس لے کر یہ بھی کہا تھا کہ اچھا ہی ہوا کہ میں اسکول گیا ہوا تھا۔ شاید اُنہیں یہ اندیشہ ہوا ہو کہ اگر میں گھر پر ہوتا تومیری جان بھی خطرے میں پڑسکتی تھی۔</p>
<p>’’یہ ضرور کنپٹی مار کا کام ہے۔‘‘چھوٹی خالہ نے کہا۔</p>
<p>اُن دنوں ایک مجرم جو نفسیاتی مریض تھا، لوگوں کے گھروں میں گھستا پھرتا اور کسی ہتھیار کے ذریعہ کسی بھی تنہا شخص کا قتل کرکے چلتا بنتا۔ پولیس کو ابھی تک اُسے گرفتار کرنے میں کامیابی نہیں ملی تھی۔</p>
<p>کچھ دیر بعد ایک پولیس انسپکٹر کچھ سپاہیوں کے ساتھ دوبارہ آیا تھا۔</p>
<p>’’ہو سکتا ہے کہ یہ اس کنپٹی مار کا کام ہو۔ مگر اُس کے قتل کرنے کا طریقہ بالکل الگ ہے۔ وہ اپنے عجیب و غریب ہتھیار سے ہی آدمی کی جان لیتا آیا ہے۔ مگر ممکن ہے کہ وہ ہتھیار اُس سے کہیں گر گیا ہو یا چھوٹ گیا ہو۔ اس لیے ہم نے تو گھر کی تلاشی لے ہی لی مگر آپ لوگ بھی اپنے طور پر اس امکان کو نظرانداز نہ کریں اور اُس ہتھیار کو تلاش کرنے کی کوشش کریں۔‘‘</p>
<p>پولیس والے چلے گئے تھے مگر ہمارا گھر رشتہ داروں سے اور محلے والوں سے بھر گیاتھا۔</p>
<p>تھوڑی دیر بعد مجھے بہت زور کی سردی لگنے لگی۔ میرے دانت بجنے لگے۔ میرے اوپر لحاف ڈال دیا گیا۔ میں نے کسی کو کہتے سنا۔ ’’بچّہ ہے— بری طرح ڈر گیا ہے، اسے بخار آرہا ہے۔‘‘</p>
<p>اور یقینا وہ آرہا تھا۔ میں نے بخارکے قدموں کی دھمک کو اپنے کانوں کے ٹھیک قریب سنا۔ میری کنپٹیاں تپتی ہوئی سلاخوں جیسی ہوگئیں۔ ماتھا اس طرح جل رہا تھا کہ اُس پر چنے بھونے جاسکتے تھے۔ میں جس بستر پر لیٹا تھا اس کی چادر اتنی گرم ہوگئی تھی کہ لگتا تھا تھوڑی دیر میں دھواں دے کر سلگنے لگے گی۔</p>
<p>میں ہوش سا کھونے لگا۔ مجھے لگا کہ میں باہر سڑک پر پڑا ہوا ہوں۔ اور میرے اوپر چیل کوّے اُڑ رہے ہیں۔ مری یادداشت بخار کے بھبکوں میں پرزے پرزے ہوکر ہوا میں اُڑ رہی تھی۔</p>
<p>کیا میرے دماغ پر بھی فالج گر گیاہے۔ کیا یہ فالج کی بارش ہے؟ ایک گرم تپتی جلتی ہوئی بارش؟ میں نے ہوش کھوتے ہوئے سوچا۔ اس کے بعد صرف کچھ آوازیں تھیں جو میں سنتا تھا۔ اور ا نہیں آوازوں سے مجھے اپنے زندہ ہونے کا گمان گزرتا تھا۔</p>
<p>’’ایک سو پانچ اعشاریہ سات۔‘‘<br>
’’ایک سو چھ۔‘‘</p>
<p>باربار کوئی میرے منھ اور بغل میں کوئی لجلجی سی سلائی لگا دیتا تھا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%aa%d8%a6%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">نعمت خانہ — تئیسویں قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%aa%d8%a6%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نولکھی کوٹھی — تیتیسویں قسط</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%86%d9%88%d9%84%da%a9%da%be%db%8c-%da%a9%d9%88%d9%b9%da%be%db%8c-%d8%aa%db%8c%d8%aa%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%86%d9%88%d9%84%da%a9%da%be%db%8c-%da%a9%d9%88%d9%b9%da%be%db%8c-%d8%aa%db%8c%d8%aa%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[علی اکبر ناطق]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 02 Oct 2017 08:50:44 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ناول]]></category>
		<category><![CDATA[برطانوی دور]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[تقسیم ہند]]></category>
		<category><![CDATA[جدید اردو ناول]]></category>
		<category><![CDATA[علی اکبر ناطق]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22258</guid>

					<description><![CDATA[<p>علی اکبر ناطق: سب سے بڑھ کر یہ کہ مَیں اس ملک میں اِتنا اجنبی ہوں کہ میری پُرسش کو اِس وقت ایک چیونٹی تک نہیں آئے گی۔ پھر آپ یہ پولیس کس لیے لائے تھے؟ </p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d9%88%d9%84%da%a9%da%be%db%8c-%da%a9%d9%88%d9%b9%da%be%db%8c-%d8%aa%db%8c%d8%aa%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">نولکھی کوٹھی — تیتیسویں قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urduexcerpt"><a href="https://laaltain.pk/category/literature/fiction/nau-lakhi-kotthi/" target="_blank" rel="noopener">نولکھی کوٹھی</a> کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<p>(۵۵)<br>
دسمبر کا آغاز ہو چکا تھا۔ جاڑے نے دُھند اور کُہر کے پر پھیلا کر ہر شے اپنے حصار میں لے لی۔ خاص کر نہروں کے درمیانی خطے میں یہ کُہر اتنا زیادہ تھا کہ کبھی تمام دن نکل جاتا،مگرسورج کو ایک لمحے کے لیے بھی منہ دکھانے کو راستہ نہ ملتا۔ بس دُھند کے غبار تھے،جو اُتر رہے تھے اور چڑھ رہے تھے اور انسانوں کی آنکھیں گویا سائبیریامیں جا پہنچیں تھیں،جو سفید سایوں کے سوا کچھ نہیں دیکھ سکتی تھیں۔ ولیم ایسی حالت میں زیادہ سے زیادہ یہ کرتا کہ کمرے سے نکل کر کچھ دیر کے لیے کوٹھی کے صحن میں آجاتا،جو ایک ایکڑ تک پھیلا ہوا تھا۔ کبھی آموں کے باغ کا بھی ایک آدھ چکر لگا لیتا۔ یہ باغ اُسے اِتنی دھند میں نظرتو نہیں آتا لیکن محسوس ضرور ہوتاتھا۔ اِس کے علاوہ اُس کی آمدو رفت ہر جگہ بند ہو چکی تھی۔ آج دُھند تو موجود تھی لیکن اُس میں اتنی شدت نہیں تھی اور یہ پورے پندرہ دن بعد ہوا تھا۔ ولیم نے کمرے سے نکل کردیکھا،سورج سر پر آچکا تھا اور مدھم دھوپ ٹھنڈی گھاس کو ہلکے ہلکے تھپتھپا رہی تھی۔ لیکن گھاس ابھی گیلی تھی۔ ولیم اپنی کرسی صحن میں لگا کر بیٹھ گیا اور اُس اَندھی دھوپ کو غنیمت جان کر سینکنے لگا۔ کچھ عرصے سے اُس کے ہاتھ میں بید کی بجائے عصا آچکا تھا۔ اُس نے وہ عصا ایک طرف بینچ کے ساتھ لگا دیا۔ سر پر اُون کی ٹوپی جو اَب کافی میلی ہو چکی تھی،کے اُوپر چوڑے کناروں کا ہیٹ اچھی طرح سے جما لیا تھا۔ کرسی پر بیٹھ کر ولیم نے،جہاں تک نظر جا سکتی تھی،اِس دُھندلائے ہوئے منظر کو دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔ اُس کی نظر پہلے سے کہیں زیادہ کمزور تھی اور عینک کے شیشے بھی اِتنے پرانے ہوگئے تھے کہ اُن کو صاف کرکر کے گھسا دیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے واضح اور صاف دکھائی نہ دیتا تھا۔ پھر بھی اُسے بہت ساری چیزیں ویسی ہی نظر آ رہی تھی،جیسی اُس کے بچپن میں تھیں۔ کچھ بھی تو نہ بدلا تھا،وہی آموں کے باغ،وہی کوٹھی،وہی نہریں اور وہی دور تک آلو،مکئی اور کماد کے کھیتوں کا سلسلہ تھا۔ کوٹھی کے صحن کے ایک کنارے پر کھڑا پیپل کا درخت بھی ویسا ہی تروتازہ تھا،آلووں کی فصلیں اور بیلیں سخت دُھند سے بہت حد تک سڑ گئی تھیں۔ مگر یہ واقعہ بھی ہر سال اُسی طرح سے ہوتا تھا۔ اگر پورے منظر میں کوئی شے بدلی تھی تو وہ خود ولیم تھا۔ وہ مسلسل اورمزید تیزی سے بدل رہا تھا۔ نہ صرف یہ کہ بدل رہا تھا،بلکہ جیسے جیسے وقت آگے بڑھ رہا تھا،وہ اپنی ذات سے بے نیاز بھی ہوتا جارہا۔ حتیٰ کہ مقامی لوگوں کے ساتھ بات چیت اور قصہ خوانی کی محفلیں بھی ایک عرصہ ہواچھوڑ دیں تھیں۔ اِس حالت میں تمام نوکر بھی ایک ایک کر کے رخصت ہوچکے تھے۔ شاید اُنہوں نے اندازہ لگا لیا تھا،ولیم کی نقد پونجی اب اِس قابل نہیں رہ گئی کہ اُس پر مزید بوجھ ڈالا جائے۔ کیونکہ ذرائع آمدن تو کبھی کے ختم ہو چکے تھے۔ جب ذرائع نہ رہیں،تو دولت کے کنویں بھی ساتھ نہیں دیتے۔ یہی وجہ تھی،اُس کوٹھی کے صحن میں بڑی بڑی گھاس اور کمروں میں چیزیں گردسے اٹی جا رہی تھیں،جن کو صاف کرنے والا شاید اب کبھی نہیں آنا تھا۔ اِن چیزوں کے علاوہ ولیم نے بولنا اور بات کرنا بھی کم کردیا۔ پچھلے چھ مہینے سے مسلسل خاموشی نے اُسے اپنی ذات میں اِتنا داخل کر دیا کہ سب کی پروا کرنا چھوڑ دی۔ حتیٰ کہ اپنے جسم کی خارجی ہیئت کو بھی نظر انداز کر دیا۔ کئی کئی دن کپڑے نہ بدلتا۔ کئی کپڑے تو اب پانچ پانچ سال پُرانے ہو گئے تھے۔ یہ پرانے کپڑے پہلے دھوبی کے ہاں سے باقاعدہ دُھل کے آتے تھے مگر اب یہ تکلف بھی جاتا رہا تھا اور وہی میلے کچیلے کپڑے پہن کر ادھر اُدھر پھرتا رہتا۔ کبھی تو سارا سارا دن باہر ہی گزار دیتا اور آدھی رات کے وقت جاکر کوٹھی میں داخل ہوتا۔</p>
<p>اوکاڑہ شہر میں،رینالہ شہر اور اسی طرح دوسرے چھوٹے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں پھرتا رہتا۔ ولیم کی اِس آوارہ گردی سے اِن علاقوں کا قریب قریب ہر شخص جان گیا تھا کہ یہ کون ہے۔ اِسی آوارگی میں ولیم کے کئی دوست بھی بن چکے تھے،جو اُسے چائے پلا دیتے،اگر رات رہنے کی کہیں ضرورت ہوتی،تو وہ چارپائی اور کھانے کا بندوبست بھی کر دیتے۔ اگر دور نکل جاتا تو وہ کئی دن کوٹھی پر واپس نہ آتا۔ مگر یہ باتیں گرمیوں کی تھیں۔ سردیوں میں عمر کے اِس حصے میں وہ یہ سب کچھ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیے پچھلے ایک مہینے سے کلیانہ اسٹیٹ اور شہر سے باہر نہ نکلا کیونکہ بڑھاپا،نزلے،بخار اور دوسری چھوٹی موٹی بیماریوں کے ذریعے اپنے اثرات بھی دکھانے لگا تھا۔ پچھلی سردیوں کی بات ہے نمونیے سے مرتے مرتے بچا تھا۔ ناشتا اور کھانااکثر اوقات ولیم کے ایک پُرانے نوکر کے ہاں سے پک کر آجاتا،جو اَب اُس کا نو کر تو نہ رہا تھا لیکن مروت کا پُرانا رشتہ ابھی بھی قائم تھا اورولیم کی کوٹھی کے پچھواڑے ہی میں رہتا تھا۔ اُس نے کر کرا کے اپنی تین ایکڑ زمین بنا لی تھی اور کچھ زمین برگیڈئر صاحب کے منشی سے راہکی پر لے کر کاشت کرتا تھا۔ وہ اُس میں سبزیاں وغیرہ اُگاتا،پھر اُنہیں شہرمیں بیچ کر گھر کا گزارہ چلا رہاتھا۔</p>
<p>ولیم کُرسی پر کافی دیر اُسی طرح بیٹھا،اِس نکمی دھوپ میں اپنے آپ کو ٹھٹھراتا رہا کیونکہ مسلسل کمروں میں بند رہنے سے اُسے آج گھبراہٹ ہو گئی تھی۔ تھوڑی دیر بعد اُٹھ کر دو چار قدم تک چہل قدمی بھی کرلیتا۔ ولیم کو اس حالت میں دو گھنٹے ہوگئے۔ حتیٰ کہ سورج پھر دُھند کی دبیز تہوں میں دب گیا اور اندھیر سا چھا گیا۔ اب ولیم اُٹھ کر کوٹھی کے پچھواڑے فارم کی طرف چلا گیا،جو کبھی اُس کا اپنا تھا۔ اب اُس کا مالک ایک ریٹائرڈ برگیڈیئر تھا،جو خود تو وہاں نہ رہتا تھا۔ لیکن اُس کے مزارعوں کے گھر موجود تھے۔ اُن کے ولیم کے ساتھ اچھے مراسم بھی تھے،جن میں اُس کا وہی پُرانا ملازم بھی تھا۔ ولیم کو دیکھ کر ایک لڑکا بھاگ کر آگے بڑھا اور لکڑیاں اکٹھی کر کے آگ جلانے لگا۔ دوسرے آدمی نے ایک چار پائی اُٹھا کر اُس آگ کے پاس رکھ دی۔ جب آگ کا الاؤ روشن ہو گیا تو ولیم چارپائی پر بیٹھ گیا اور جلتی ہوئی آگ سے ہاتھ تاپنے لگا۔ چند لمحوں بعد وہی آدمی چائے اور روٹی اور روکھا سوکھا سالن،جو آلوؤں کی بُھجیاپر مشتمل تھا،لے کر آ گیا۔ ولیم نے عین پنجابیوں کی طرح چارپائی پر چوکڑی مار کر کھانا شروع کر دیا۔ اِس طرح کھانا کھلانے یا چائے پلانے میں اب مقامی لوگوں کے اندر لالچ کا کوئی مادہ نہیں تھا اور نہ کوئی احسان کا جذبہ کار فرما تھا۔ بلکہ یہ ایسی خدمت تھی،جس کا معاوضہ صرف شکریے پر ختم ہوجاتا،جو ولیم نے کبھی زبانی نہیں کیا تھا۔ شاید دل میں اُس کی گواہی موجود ہو۔ بعض اوقات ولیم کے لیے کئی گھروں سے اکٹھا چائے اور کھانا آجاتا،جسے وہ کبھی واپس نہ کرتا اور اُس وقت کے لیے ذخیرہ کر رکھتا جب کہیں سے نہ آتا۔ کیونکہ اِس طر ح کے مواقع اکثر پیش آ جاتے تھے۔ جب ہفتہ ہفتہ کسی کے گھر سے کچھ نہ آتا۔ کھانا کھا کر اور چائے پی کر ولیم بہت دیر تک وہیں بیٹھا آگ تاپتا رہا۔ اُسے یہ آگ اِتنا سکون دے رہی تھی،جیسے ولیم کی زندگی کی آخری اور پہلی خواہش یہی تھی،جو پوری ہو گئی تھی۔ پاس تین چار آدمی اور بھی بیٹھے آگ جلاتے رہے اور تاپتے رہے۔ اِس دوران وہ بہت سی باتیں فصلوں کے متعلق،اپنے کام کے متعلق،اپنی رشتہ داریوں کے متعلق،کچھ جگ بیتی غرض بہت کچھ کہتے رہے،جنہیں ولیم سنتا تو رہا لیکن بولا ایک لفظ بھی نہیں۔ ولیم کو اِن بے معنی اورمعصوم باتوں کے سننے کی عادت سی ہو گئی تھی،جن کا نہ اُسے کچھ فائدہ تھا اور نہ نقصان۔ ہاں اِن باتوں کے ذریعے سے اُن لوگوں کے گھریلو جھگڑے،شادی،غمی اور معاشی حالات سے بخوبی واقف ہوگیا تھا۔ ولیم کو اِسی حالت میں رات کے دس بج گئے اور وہ اُٹھ کر کوٹھی میں چلا گیا۔</p>
<p>اگلے دن ولیم ابھی اپنے بستر میں ہی تھا کہ باہر سے کچھ شور شرابے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ یہ آوازیں بالکل قریب کوٹھی کے صحن سے آتی محسوس ہو رہی تھیں۔ ولیم حیران تھا کہ یہ کیا ہے؟رات جب وہ بستر پر گیا تھا،تو کوٹھی کے صحن کے سب دروازوں کو اُس نے اپنے ہاتھوں سے تالے لگائے تھے۔ پھر صبح سویرے صحن میں یہ کیا ہڑبونگ مچ رہا تھا۔ اُس نے جلدی سے اپنی چھڑی پکڑی،سر پر اُونی ٹوپی جمائی اور بغیر چادر اوڑھے صحن میں آ گیا۔ دیکھا تو کئی آدمی ایک ٹریکڑٹرالی سے نیچے اُتر کر صحن میں گھوم رہے تھے۔ ارد گرد سے کوٹھی کا جائزہ لے رہے تھے اور شور شرابہ کر رہے تھے۔ پولیس کی ایک گاڑی میں چھ سات سپاہی بھی آئے تھے۔ ان کے علاوہ ایک دو کاریں تھیں لیکن اب تمام لوگ گاڑیوں سے باہر نکل کر صحن میں آگئے تھے۔ ولیم نزدیک پہنچا تو ایک شخص آہستہ رفتار سے آگے ہو کر اُس کی طرف بڑھا اور ایک فائل ولیم کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا،ولیم صاحب،میں یہاں کا علاقہ مجسٹریٹ ہوں،آپ اِن کاغذات پر دستخط کر دیں کہ یہ کوٹھی آپ ابھی خالی کر رہے ہیں۔ گورنمنٹ پنجاب نے یہ کوٹھی جناب سید شمس الحق گیلانی کے نام الاٹ کر دی ہے۔ آپ اپنا جو کچھ سامان اُٹھا کر لے جانا چاہتے ہیں،اُس کی اجازت ہے۔</p>
<p>اُس شخص کے یہ الفاظ سن کر ولیم کے اوسان گویا بالکل جاتے رہے اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔ جیسے کسی نے سر پر ایک زور دار ضرب لگائی ہو۔ اگرچہ اِن پہلے جملوں کے بعد بھی اُس نے ولیم کو دوچار باتیں کیں لیکن وہ اُس نے بالکل نہیں سنیں،بس مجسٹریٹ کے ہونٹ ہلتے دکھائی دے رہے تھے۔ ولیم پر یہ سکتہ کچھ ہی لمحوں تک جاری رہا۔ وہ فوراً اُس کیفیت میں داخل ہو گیا،جہاں ہر چیز نہ چاہتے ہوئے بھی سمجھ میں آ جاتی ہے۔</p>
<p>ولیم کے اوسان جب پہلے جھٹکے سے بحال ہوئے تواُس نے مجسٹریٹ کی آنکھوں میں بغور دیکھتے ہوئے سوال کیا،کیا ایسا ہو سکتا ہے مجھے کچھ دِنوں کی مہلت دے دی جائے۔؟</p>
<p>سوری ولیم،وہ دوبارہ بولا،میری معلومات کے مطابق آپ کو تین بار اِس کے متعلق اطلاع دی جا چکی ہے۔ اِس لیے اب وقت نہیں۔<br>
ولیم بخوبی سمجھ رہا تھا،یہ سراسر جھوٹ ہے۔ اُسے اس معاملے میں مکمل بے خبر رکھا گیا تھا۔ اگر اس وقت مجسٹریٹ تین مرتبہ کے نوٹس کی بات کر رہا تھا تو کاغذات میں یہ خانہ پُری ضرور کر لی گئی ہو گی۔ اِس لیے اب اُس سے مزید تکرا ر بھی فضول تھی۔ اِدھر سردی اور کُہر کے ساتھ ہوا بھی چلنے لگی تھی۔ جس کی وجہ سے ولیم کا اِس حالت میں گرم چادر کے بغیر کھڑے رہنا خود کشی کے مترادف تھا۔ اُس نے جلدی سے ایک اور سوال کیا،میرا بہت سا سامان اِس وقت یہاں موجود ہے،جسے میں ابھی اُٹھانے سے قاصر ہوں۔ آپ اگر آج کا دن رُک جائیں یا فی الحال میرا سامان ان سردیوں تک یہیں پڑا رہنے دیں یا مجھے ایک بار شمس الحق سے ملاقات کر لینے دیں،پھر آپ جو کارروائی چاہیں، کریں۔</p>
<p>سردی کی شدت،ولیم کا بڑھاپا اور سب سے بڑھ کر بُرد باری سے پیش کی گئی زبانی درخواست نے مجسٹریٹ کو انتہائی متاثر کیا۔ اُسے توقع تھی،ولیم اِس حکم کو سنتے ہی آپے سے باہر ہو جائے گا۔ چیخ وپکار کے ساتھ واویلا شروع کر دے گا اور دیواروں سے لپٹ جائے گا۔ اُنہیں گالیاں دے گا۔ پنجاب حکومت،بیوروکرسی،سیاست دان اور پاکستانی عوام کو بُرا بھلا کہے گا۔ جس کی وجہ سے وہاں دیر تک بدمزگی پیدا ہو گی۔ نتیجے میں اُسے زبردستی اُٹھا کر باہر پھینکنا پڑے گا۔ لیکن جب یہ سب کچھ نہ ہوا تو مجسٹریٹ نے سب لوگوں کو حکم دیا،وہ کچھ دیر کے لیے باہر چلے جائیں۔ سب نکل کر سڑک پر کھڑے ہو گئے تو مجسٹریٹ ولیم کو کاندھے سے پکڑکر کوٹھی کے دالان کی طرف لے گیا۔ وہاں انتہائی بوسیدہ کرسیوں میں سے ایک پر ولیم کو بیٹھنے کے لیے کہا اور دوسری پر خود بیٹھ گیا۔ پھر کچھ لمحے خموشی سے گزر گئے۔ اِس کے بعد مجسٹریٹ بولا،ولیم صاحب ایک بات طے ہے،اب کوٹھی آپ کو چھوڑنا پڑے گی۔ اِس بارے میں دو رائے نہیں رہیں۔ رہا آپ کو وقت دینے کا معاملہ،وہ مَیں اپنی طرف سے آپ کی شرافت کی وجہ سے دودن کا دے سکتا ہوں۔ اُس کے بعد مَیں بے بس ہوں۔ میرا مشورہ یہ ہے،اپنے سامان کو اُٹھا کر کسی دوسری جگہ ٹھکانے لگانے کی کوشش کریں۔ کوٹھی نہ آپ سے اب بچ سکے گی،نہ آپ اِس میں وقت ضائع کریں۔ ابھی آپ ٹھنڈے دل سے اپنے گرم بستر میں جائیں،کچھ دیر لیٹ کر یہ سوچیں،آپ کو کہاں منتقل ہونا ہے اور سامان کہاں رکھنا ہے؟ مَیں جا رہا ہوں اور جمعہ کے روز بارہ بجے آؤں گا۔ اِتنا کہا کر مجسٹریٹ اُٹھ کھڑا ہوا اور جیسے ہی چلا،ولیم کی آواز سنائی دی،مسٹر سنیے۔<br>
جی،مجسٹریٹ نے ولیم کی طرف دیکھ کر کہا۔</p>
<p>آپ دیکھ رہے ہیں،مَیں اتنا بوڑھا ہو گیا ہوں کہ اِس لکڑی کے بغیر چلنے میں میرے گھٹنے درد کر تے ہیں۔ کاندھے پر چادر پھیلانے کے لیے ہاتھ اُٹھاؤں تو بازؤوں کے سِرے کانپ اُٹھتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مَیں اس ملک میں اِتنا اجنبی ہوں کہ میری پُرسش کو اِس وقت ایک چیونٹی تک نہیں آئے گی۔ پھر آپ یہ پولیس کس لیے لائے تھے؟</p>
<p>مجسٹریٹ ولیم کے اِس چبھتے ہوئے سوال پر لرز کے رہ گیا۔ بڈھے نے کتنی کڑواہٹ کے ساتھ اُس کی توہین کی تھی۔ اُ س کی سمجھ میں نہ آیا،وہ اس سوال کا کیا جواب دے۔ وہ تھوڑا سا آگے بڑھا اور ولیم کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا،ولیم آپ بہت معقول آدمی ہو۔ سول سروس میں رہے ہو۔ اگر میں آپ کے اس سوال کا جواب نہ بھی دوں تو مجھے معاف کرنا۔ یہ کہہ مجسٹریٹ جلدی سے باہر نکل گیا۔ اُس کے بعد تمام گاڑیاں اور لوگ رخصت ہونے لگے۔ سب کے بعد ٹریکٹر سٹارٹ ہوا،جس کی آواز نے دور تک ولیم کا پیچھا کیا۔ آج پہلی بار اُس نے محسوس کیا،کٹریکٹر کی آواز انتہائی کرخت اور شور پیدا کرنے والی ہے۔ وہ حیران تھا،اِس سے پہلے اُسے اس مشینری کی آواز اتنی بیہودہ کیوں نہیں لگی؟</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d9%88%d9%84%da%a9%da%be%db%8c-%da%a9%d9%88%d9%b9%da%be%db%8c-%d8%aa%db%8c%d8%aa%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">نولکھی کوٹھی — تیتیسویں قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%86%d9%88%d9%84%da%a9%da%be%db%8c-%da%a9%d9%88%d9%b9%da%be%db%8c-%d8%aa%db%8c%d8%aa%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نعمت خانہ — بائیسویں قسط</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[خالد جاوید]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 27 Sep 2017 17:35:31 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ناول]]></category>
		<category><![CDATA[جدید اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[جدید اردو ناول]]></category>
		<category><![CDATA[خالد جاوید]]></category>
		<category><![CDATA[نعمت خانہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22198</guid>

					<description><![CDATA[<p>خالد جاوید: وہ پاگل اور مخبوط الحواس چوہا اُسے دیکھ کر مایوس، واپس آٹے کے کنستر کے پیچھے چھپ گیا۔ اس کی یادداشت کام نہیں کر رہی تھی، وہ فیرینی کوپہچان نہ سکا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">نعمت خانہ — بائیسویں قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urduexcerpt">اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے <a href="https://laaltain.pk/category/literature/fiction/nemat-khana/" target="_blank" rel="noopener">کلک</a> کیجیے۔</div>
<p>دوسرے دن صبح صبح گھر کی کنڈی بجی۔ صبح صبح گھر کی کنڈی کا بجنا اُس زمانے میں کسی کی موت کی خبر آنا تھا اور وہی ہوا۔ معلوم ہوا کہ گاؤں میں عصمت چچّا ممّا ریل سے کٹ کر مر گئے۔ اُنہوں نے خودکشی نہیں کی تھی۔ وہ تو رساول کی ہانڈی لے کر کسی رشتے دار کے گھر جارہے تھے، مگر جس کو وہ سڑک یا پگڈنڈی سمجھ کر چلتے جارہے تھے، وہ دراصل گاؤں کے قریب سے نکلنے والی ریل کی پٹری تھی۔</p>
<p>عصمت چچّا ممّا کا کمزور اور تقریباً بوڑھا ہوچلا جسم، چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹ گیا اور رساول کی ہانڈی پرزے پرزے ہوکر واپس مٹّی کی جون میں آگئی۔</p>
<p>یہ خبر سنتے ہی گھر کے تمام افراد پریشانی اور عجلت میں گاؤں کی طرف روانہ ہوگئے۔ صرف نورجہاں خالہ اور اچھّن دادی رہ گئیں۔ اچھّن دادی تو کولہے کی ہڈی ٹوٹ جانے کے باعث بالکل معذور ہوچکی تھیں اور بستر سے اُٹھ کر چلنے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔</p>
<p>وہ بستر پر ہی حوائج ضروریہ سے فارغ ہوتی تھیں اور اب اُن کے جسم پرجگہ جگہ زخم بھی پڑ گئے تھے، کیونکہ وہ کروٹ بھی نہیں لے پاتی تھیں۔ اُن کے کھانے پینے کی اشیاء اُن کے سرہانے ہی رکھی ہوتیں، جنھیں جب اُن کی طبیعت چاہتی، ہاتھ اُٹھاکر منھ میں ڈال لیتیں۔ باقاعدہ کھانا کھانا تو نہ جانے کب کا چھوٹ گیا تھا، مگر بہرحال اُن کے پیٹ میں ابھی آنتیں زندہ تھیں اور اسی لیے اُن کے بستر کے قریب پہنچتے ہی بدبو کا ایک زبردست بھبکا ناک میں جاتا تھا۔ اِس لیے میں اُن کے پاس جانے سے ہمیشہ کتراتا تھا۔<br>
نورجہاں خالہ ہمیشہ کی طرح زیادہ تر وقت نہانے یا نہانے کی کوشش میں ہی گزارتی تھیں۔ کبھی کبھی آنگن میں ہی کپڑے اُتار کر نہانا شروع کر دیتیں اور اُنہیں بڑی مشکل سے قابومیں کیا جاتا۔ باورچی خانے کو غسل خانہ سمجھتی تھیں اور غسل خانے کو باورچی خانہ۔ نورجہاں خالہ نے گھر کے سب لوگوںکی زندگی اجیرن کر رکھی تھی۔<br>
عصمت چچّا ممّا کے کٹ کر مرنے کی خبر سنتے ہی وہ فوراً اپنا جمپر اُتارتے ہوئے باورچی خانے میں نہانے کے لیے بھاگیں۔ اُنہیں آہستہ آہستہ اپنے ننگے ہونے کا احساس بھی ہونا تقریباً بند ہو گیا تھا۔ آخر گھر والوں کو اُنہیں تقریباً زبردستی گود میں اُٹھا کر غسل خانے لے جانا پڑا، جہاں انھوں نے لوٹا بھر بھر کر نہانا شروع کردیا۔</p>
<p>’’گڈّو میاں تم گھر رہنا۔ آج اسکول کی چھٹی کر لو۔‘‘ بڑے ماموں نے چلتے چلتے کہا تھا۔<br>
گھر خالی ہوگیا مگر میرا دل نہیں گھبرایا بلکہ مجھے ایک آزادی کا احساس ہوا۔ ایک خطرناک بیکراں آزادی۔ وجود کے اندر پھیلتا ہوا ایک وسیع تر سفید صحرا جس میں کالے سائے اپنی اصل شکل و صورت اور خدوخال کے ساتھ بھٹکتے پھرتے ہیں۔ اچانک کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے اندر سے کنڈی لگا رکھی تھی، جاکر دروازہ کھولا۔</p>
<p>سامنے آفتاب بھائی کھڑے تھے۔ اپنی بھوری بے رحم رنگت اور آنکھوں کے ساتھ۔ منھ میں وہی گھٹیا اور بدبو دار سگریٹ تھا۔<br>
آفتاب بھائی اندر آگئے۔<br>
’’کیا ہوا؟ گھر میں کوئی نہیں ہے کیا؟‘‘<br>
’’نہیں۔‘‘<br>
’’کہاں گئے ہیں؟‘‘<br>
’’عصمت چچّا ممّا مر گئے۔‘‘<br>
’’ہوں— اچھا! دیکھو یار گڈّو میاں باورچی خانے میں کچھ کھانے کو ہے؟ میں نے ناشتہ نہیں کیا۔ بڑی بھوک لگی ہے۔‘‘</p>
<p>وہ شاید اپنی بیوی (یا جو بھی ہو) سے لڑکر آرہے تھے۔ وہ آنگن سے باورچی خانے کی طرف بڑھنے لگے۔میں اُن کے پیچھے پیچھے چل رہاتھا، مگر میرے پاؤں کی ہڈیاں نفرت کے بھیانک بوجھ سے کڑکڑا رہی تھیں۔ اور گھٹنوں کی پیالیوں نے جیسے گھومنا بند کر دیا تھا۔ آفتاب بھائی نے برتن اور ہانڈیاں کھکوڑنا شروع کر دیں۔ میں چپ چاپ باورچی خانے کی چوکھٹ سے لگا کھڑا تھا۔</p>
<p>آخر اُنہیں ایک ہانڈی میں رات کی پکی فیرینی مل ہی گئی۔ وہ فرش پر اُکڑوں بیٹھ گئے اور ایک چمچہ ہانڈی میں ڈال کر جلدی جلدی فیرینی کھانے لگے۔ میری طرف سے اُن کی پیٹھ تھی۔</p>
<p>’’گڈّو میاں پانی لاؤ۔‘‘ اُنہوں نے بغیر گردن موڑے ہوئے کہا۔</p>
<p>میں اپنی جگہ سے ہلا بھی نہیں۔ میرے پیروں کے پاس مسالہ پیسنے کی پتھّر کی وزنی سل رکھی ہوئی تھی۔ اور میرا کن کٹا خرگوش اُس سل پر اُچھل کود کر رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ پاگل چوہا جس کے دماغ پرفالج گر گیا تھا اور جو صرف رات میں ہی اپنے بِل میں سے باہر نکلتا تھا۔ آج دن کی روشنی میں بھی، اپنا سر ایک طرف کو ڈھلکائے ہوئے آٹے کے کنستر کے پیچھے سے چلتا ہوا چولہے کی طر ف جارہا تھا۔</p>
<p>میں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ برتنوں کے پیچھے دُبکے ہوئے کاکروچ بھی باہر آکر فرش پر رینگنے لگے ہیں۔</p>
<p>اچانک میرے اندر پلنے والا وہ تاریک، طویل القامت سایہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ میرے دونوں ہاتھوں میں منتقل ہوگیا۔ میرے ہاتھ ایک عفریت کے ہاتھوں میں تبدیل ہوگئے۔</p>
<p>اب اِن ہاتھوں کی اپنی الگ دنیا تھی، الگ ذہن اور الگ شخصیت اور الگ اعصابی نظام۔ یہ ہاتھ میرے باقی جسم اور میرے دماغ کے تئیں مکمل اجنبی تھے۔</p>
<p>ہاتھوں نے مجھے جھکنے کے لیے کہا۔ میں جھکا اور میرے ہاتھوں نے پتھّر کی اُس وزنی سل کو اِس طرح اُٹھا لیا جیسے کوئی زمین پر پڑا ایک سوکھا ہوا زرد پھول اُٹھا لیتا ہے۔ سل پر ہلدی کا رنگ جم گیا تھا۔</p>
<p>آفتاب بھائی اُسی طرح اُکڑوں بیٹھے بیٹھے، ہانڈی میں سے فیرینی کھارہے تھے۔ میں اُنھیں منھ چلاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ مگر اُن کی پیٹھ باربار ایک فحش انداز میں جنبش کرتی نظر آتی تھی۔ میں نے اِس فحش منظر کو شاید پہلے بھی کہیں دیکھا ہو، یا محسوس کیا ہو۔</p>
<p>پتھّر کی سِل کو اپنے دونوں ہاتھوں میں اونچا اُٹھائے اُٹھائے، میں ننگے پیر بہت آہستگی کے ساتھ آفتاب بھائی کی طرف بڑھنے لگا۔ میں اُن کے سر پر پہنچ گیا۔ اُبٹن اور خون کی ملی جلی بو نے میری ناک کے نتھنوں کو چھو لیا۔</p>
<p>اپنی سانس روک کر، تمام طاقت کے ساتھ پتھّر کی سِل کو تھوڑا اوراونچا اُٹھائے ہوئے، میں نے اُسے آفتاب بھائی کے سر پر دے مارا۔ اُن کے منھ سے ایک آواز نکلی جیسے کوئی زور سے ڈکار لیتا ہے۔ مگر یہ چیخ ہرگز نہ تھی۔ انھیں چیخنے کی بھی مہلت نہ ملی۔</p>
<p>اُکڑوں بیٹھے بیٹھے اُن کا سر فرش پر جاکر لڑھک گیا۔ وہ سر جو پوری طرح کچل گیا تھا۔<br>
میرے ہاتھوں سے سل چھوٹ کر نیچے گر گئی۔ سِل پر آفتاب بھائی کے بھیجے کے ریشے اور خون کے چھیچھڑے چپک کر رہ گئے۔</p>
<p>کھیر کی ہانڈی اپنی جگہ ویسی کی ویسی ہی رکھی تھی۔ مگر آفتاب بھائی کے منھ، حلق اور آنتوں تک میں پھنسی ہوئی سفید فیرینی باہر آکر کھرنجے کے فرش پر پھیل گئی۔</p>
<p>وہ پاگل اور مخبوط الحواس چوہا اُسے دیکھ کر مایوس، واپس آٹے کے کنستر کے پیچھے چھپ گیا۔ اس کی یادداشت کام نہیں کر رہی تھی، وہ فیرینی کوپہچان نہ سکا۔</p>
<p>مگر میں نے صاف صاف اور واضح طو رپر دیکھا اس میں مجھے رتّی بھر بھی شبہ نہیں ہے۔ ایک کاکروچ فیرینی کی ہانڈی کے پاس بیٹھا مجھے گھور رہا تھا۔ پھر شاید وہ ہنسا بھی تھا۔</p>
<p>میں نہ جانے کب تک وہاں اسی حالت میں کھڑا رہا۔ باورچی خانے کے فرش پر گاڑھے گاڑھے خون کی ایک لکیر آگے بڑھتی جاتی تھی۔</p>
<p>غسل خانے میں سے لگاتار، نورجہاں خالہ کے لوٹے بھربھر کے جسم پر پانی ڈالنے کی وحشت انگیز آوازیںآرہی تھیں۔ وہ دنیا مافیہا سے بے خبر نہانے میں گم تھیں۔<br>
تب آفتاب بھائی کی لاش کے قریب کھڑے کھڑے، اچانک جیسے مجھے ہوش آیا، میری سمجھ میں آگیا کہ میں نے آفتاب بھائی کا قتل کر دیا ہے۔ ان کی سفید قمیص اور بھوری پتلون ہی اس قتل کا حلیہ تھی۔</p>
<p>دوپہر ہونے کو آئی تھی۔ سورج کا رُخ ٹھیک باورچی خانے کی طرف تھا۔ وہاں تیز چمک اور روشنی پھیل گئی۔ اور میرے دماغ میں بھی۔</p>
<p>میں وہاں سے اُلٹے پاؤں بھاگا اور اندر والے دالان میں جاکر جلدی جلدی اسکول کی یونیفارم کی خاکی پتلون پہنی۔ سفید قمیص تو پہلے سے ہی پہن رکھی تھی۔ کرمچ کے سفید پی ٹی جوتے پہنے اور پھر اپنے اسکول کا بستہ اُٹھایا۔ اسے گلے میں ڈالا اور سب کچھ ایسے ہی چھوڑ کر گھرسے باہر نکل آیا۔ باورچی خانے میں آفتاب بھائی کی لاش کو چھوڑ کر اور غسل خانے میں نورجہاں خالہ کو نہاتا چھوڑ کر اور وہاں سے گرتے ہوئے پانی کی آوازوں کو چھوڑ کر، میں گھر سے دور، شاہراہ پر آکر ایک چھوٹی سی پُلیا پر بیٹھ گیا۔ اسی راستے پر تھوڑا آگے چل کر میرا اسکول تھا اور اسکول کی چھٹی ہونے میں ابھی کم از کم دو گھنٹے ضرور تھے۔ پھر پُلیا سے نیچے اُتر کر میں نے پانی میں اپنے ہاتھ دھوئے۔ مجھے دھوکہ ہوا اب کچھ چھوٹی مچھلیاں میرے ہاتھوں کی طرف لپکی تھیں۔ مگر ہاتھوں پر خون کا کوئی نشان نہ تھا۔ وہاں خون کی کوئی بو نہ تھی۔</p>
<p>میں پُلیا کے نیچے بہتے پانی میں اپنا چہرہ دیکھنے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔ چہرہ پانی میں اُگے ہوئے سیوار میں پھنس گیا تھا۔</p>
<p>تیسرے پہر جب اسکول کی چھٹی ہوئی اور بچّے باہر نکلنے لگے، تب میں بھی اُنھیں میں شامل ہوکر گھر کی طرف واپس چلنے لگا۔</p>
<p>مجھے خنکی سی محسوس ہوئی۔ ہوا میں ٹھنڈک تھی۔ اب اتنی دیر بعد، پہلی بار مجھے اپنے پیروں میں ہلکی سی کپکپاہٹ اور جسم میں جھرجھری کا احساس ہوا۔<br>
جیسے جیسے گھر پاس آتا جارہا تھا، میرے پیر من من بھر کے ہوتے جاتے تھے۔ میرا سر گھومنے لگا۔ میں گھروں کی دیواروں کا سہارا لے کر چلا۔</p>
<p>میرا بستہ میرے گلے میں اول جلول ڈھنگ سے اِدھر اُدھر ڈول رہا تھا، اور میں اسے سنبھال پانے میں ناکام تھا۔</p>
<p>میرے کندھے جھک رہے تھے۔ بستے کا بوجھ اچانک اتنا بڑھ گیا کہ مجھے لگا میری کمر ٹوٹ جائے گی۔ گلا بہت خشک ہوگیا۔ میں نے تھوک نگلنے کی کوشش کی مگر تھوک ندارد تھا۔ مجھے یہ خیال بھی آیا کہ ناجانے کب سے میں نے پیشاب نہیں کیا ہے۔ شاید میرے گردوں میں پیشاب کی ایک بوند بھی نہ تھی۔ میرے سارے وجو دمیں ایک خوفناک خشکی پھیلنے لگی۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">نعمت خانہ — بائیسویں قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نعمت خانہ — اکیسویں قسط</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a7%da%a9%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a7%da%a9%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[خالد جاوید]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 13 Sep 2017 18:44:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Khalid javed]]></category>
		<category><![CDATA[Modern urdu novel]]></category>
		<category><![CDATA[urdu novel]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ناول]]></category>
		<category><![CDATA[جدید اردو ناول]]></category>
		<category><![CDATA[خالد جاوید]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22146</guid>

					<description><![CDATA[<p>خالد جاوید: غصّے کا وہ تاریک سایہ، وہ میرا ساتھی، اچانک طویل القامت ہوگیا۔ وہ میرے قد سے بہت اونچا اورلمبا ہوگیا۔ وہ مجھ سے باہر آنا چاہتا تھا۔ اور میں اپنے ٹھگنے قد کے ساتھ مکمل طور پر اُس کی دسترس میں آتا جارہا تھا۔ وہ اب میرا ساتھی نہ ہوکر میرا آقا بنتا جارہا تھا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a7%da%a9%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">نعمت خانہ — اکیسویں قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urduexcerpt">اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے <a href="https://laaltain.pk/category/literature/fiction/nemat-khana/" target="_blank" rel="noopener">کلک</a> کیجیے۔</div>
<p>نورجہاں خالہ کو نہانے کا مِراق ہو گیا۔ چھ چھ گھنٹے نہاتی تھیں۔ غسل خانے سے باہر ہی نہیں نکلتی تھیں۔ یہاں تک تو خیر برداشت کر لیا گیا مگر کچھ عرصے بعد وہ صابن، تولیہ اور بالٹی میں پانی بھر کر باورچی خانے کے اند رجانے لگیں۔ وہ باورچی خانے میں نہانے کی کوشش کرنے لگیں جہاں سے اُنہیں بڑی مشکل سے کھنچ تان کر باہر نکالا جاتا، مگر دو تین بار وہ اس کوشش میںکامیاب بھی ہو چکی تھیں۔ دماغی بیماریوں کے معالج کو دکھایا گیا۔ اس نے اُن کے دماغ کے ایک خاص حصّے پر فالج کا اثر بتایا۔ کچھ دوائیں دے کر اُس نے یہ دلاسا دیا کہ کچھ عرصے بعد وہ بالکل ٹھیک ہو جائیں گی۔<br>
وہ دماغوں پر فالج گر نے کا زمانہ تھا۔ جس کو دیکھو اُس کے دماغ پرفالج گر رہا تھا۔ یہاں تک کہ عصمت چچّا ممّا (وہ ایک طرف سے رشتے میں چچا ہوتے تھے اور دوسری طرف سے ماموں اس لیے میں اُنہیں چچّا ممّا کہتا تھا) گاؤں سے، جو ہمارے گھر سے دس کوس دور تھا، ہمیشہ کی طرح اس سال بھی جب رساول کی ہانڈی لے کر آئے تو گھر کی چوکھٹ تک پہنچتے پہنچتے اُن کے دماغ پر فالج گر چکا تھا۔ وہ رساول کی ہانڈی لیے باربار پاخانے کی طرف دوڑتے تھے۔ جب اُن کو پکڑ کر قابو میں کیا گیا تو وہ زور زور سے چیختے۔۔۔ ’’میں رکھوں گا، باورچی خانے میں، اپنے ہاتھ سے رساول کی ہانڈی رکھوں گا۔‘‘<br>
گویا ایک وبا پھیلی ہوئی تھی، عجیب و غریب وبا، کہیں نہ کہیں سے کسی کے اس وبا کے شکار ہونے کی خبر آتی ہی رہتی۔<br>
حد تو یہ ہے کہ خود میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک پاگل چوہا رات گئے باورچی خانے میں گھومتا پھرتا تھا اور کسی طرح بھی چوہے دان میں نہ پھنستا تھا۔ اس کا سر ایک طرف کو لڑھکا رہتا تھا، یقینا چوہے کے دماغ پر بھی فالج گر گیا تھا اور اُ س کی یادداشت ٹھیک سے کام نہیں کر رہی تھی۔ شاید وہ باورچی خانے کو چوہے دان سمجھتا تھا۔ جس سے نکلنے کے لیے وہ رات کے سنّاٹے میں بے تُکی اُچھل کود کرتا رہتاتھا اور وہیں ایک کونے میں روٹی کے ٹکڑے سمیت لگے ہوئے چوہے دان کو باورچی خانہ سمجھتا تھا جہاں تک پہنچ پانا اُس کی دانست میں ممکن ہی نہ تھا۔<br>
مجھے تو یہ بھی وہم ہے کہ شاید چیونٹیاں بھی اپنا ذہنی توازن کھو چکی تھیں، کیونکہ اُن دنوں وہ قطار بنا کر چلنے میںناکام تھیں۔<br>
ریحانہ پھوپھی اس وبا کی ذمہ دار دیوالی کی جادو کی ہانڈی کو سمجھتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بار دیوالی کی ہانڈی نے کئی بار، رات میںمسلمانوں کی بستی کے اوپر گشت لگایا تھا۔ جادو کی ہانڈی میں دیا جلتا ہوا اُنھوں نے صاف دیکھا تھا اور ہانڈی سے نکلتی بھیانک زنّاٹے دار آواز کو بھی سنا تھا۔ مجھے صحیح علم تو نہیں مگر اتنا ضرور ہے کہ دماغ پرفالج گرنے کی جتنی خبریں ہمارے گھر آئی تھیں، وہ مسلمانوں کی ہی تھیں۔ اب سوچتا ہوں کہ وہ کچھ موسم کا اثر بھی ہوسکتا تھا۔</p>
<p>فروری کے آخری دن تھے۔ سردی اور گرمی دونوں آپس میں اونچا نیچا یا چور چھپّا کے کھیل رہے تھے۔ سردی گرمی جب ایک ساتھ ہوتیں ہیں تو بڑی عجیب اور ناقابل فہم بیماریاں پھیلتی ہیں۔</p>
<p>اُدھر باورچی خانے میں کاکروچ بڑھتے جاتے تھے۔ دن میں وہ برتنوںکے پیچھے چھپے رہتے تھے اور رات میں جب کھانا سمیٹ دیا جاتا تھا تو آرام کے ساتھ فرش پر اِدھر اُدھر دوڑ لگاتے پھرتے تھے۔ میں تو چونکہ رات میں بھی، ایک آدھ بار باورچی خانے میں شکر پھانکنے کے لیے ضرور جاتا تھا، اس لیے پاگل چوہے اور کاکروچوں کے بارے میں مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جان سکتا۔</p>
<p>عجیب زمانہ تھا، ہر طرف دماغی فالج زدہ لوگ بک بک کرتے اورا ُلٹی سیدھی حرکتیں کرتے نظر آتے۔ ان کی جھک اور بکواس نے چاروں طرف ایک شور مچا رکھا تھا اور میں اس شور میں ہر وقت ہانڈیوں کے ڈھکّن اُٹھا اُٹھا کر کھانوں کے رنگ دیکھتا رہتا تھا۔ سرخ رنگ کا کھانا، ہرے رنگ کا کھانا، پیلے اور نارنگی رنگ کا کھانا، بینگنی رنگ یہاں تک کہ سفید اور سیاہی مائل کھانا بھی مگر نیلے رنگ کا کھانا مجھے آج تک نہیں ملا۔</p>
<p>آخر نیلے رنگ کا کھانا کیوں نہیں؟میںسوچا کرتا۔ شاید اس لیے کہ نیلے رنگ کا کھانا یا تو آسمان سے اُترتے ہوئے فرشتوں کا ہوسکتا تھا یا پھر شیطانوں کا۔ ایک زہریلا کھانا۔ اس لیے اچھا ہی تھا کہ نیلے رنگ کے کھانے کا وجود نہیں تھا کیونکہ انسان کو آج تک فرشتے اور شیطان میں فرق محسوس کرنے کی تمیز پیدا نہیں ہوسکی۔</p>
<p>پھر ایک دن ریڈیو پر یہ خبر آئی کہ دماغی فالج کی وجہ آنتوں میں پائے جانے والے کچھ جراثیم ہیں۔ پیٹ اور آنت کی بیماریوں کی وجہ سے ہی لوگ دماغی طور پر غیر متوازن ہورہے ہیں۔ اور ایک خاص قوم، مذہب، نسل اور خطّے کے لوگ پیٹ اور آنتوں کی بیماریوں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔</p>
<p>پتہ نہیں اس میں کتنی سچائی تھا، ممکن ہے کہ یہ ایک جھوٹ اور پروپیگنڈہ ہی ہو۔ مگر لوٹ پھر کر پھر وہی آنتیں، پھر وہی معدہ، پھر وہی بھوک اور بدنیتی، پھر وہی کھانا، پھر وہی آگ اورپھر وہی باورچی خانہ۔</p>
<p>باورچی خانہ— جو گھر کے سب سے مخدوش مقام کا نام ہے۔</p>
<p>بارہ وفات آگئی، گھر گھر میں موم بتّیاں جلا جلاکر روشنیاں کی گئیں۔ میں نے گھر کی ہر اندھیری کوٹھری، ہر تاریک گوشے اور ہر طاق میں موم بتی روشن کی۔ بارہ وفات کا جلوس نکلا۔ نیاز ونذر کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ہمارے گھر میں مٹّی کے پیالوں میں فیرینی جمائی گئی۔ جب میں، رات کو آنگن میں بیٹھا فیرینی کھارہا تھا تو اچانک مجھے انجم باجی کے ہاتھ کی پکائی ہوئی فیرینی کی یاد تازہ ہوگئی۔ وہ فیرینی پر چاندی کا ورق اتنے سلیقے اور نزاکت کے ساتھ لگاتی تھیں کہ مٹّی کا پیالہ جگمگا اُٹھتا تھا۔ جیسے وہاں سے چاند طلوع ہو رہا ہو۔</p>
<p>مگر اِس وقت میرے اندر چاند نہیں بلکہ اندھیرا طلوع ہورہا تھا۔ غصّے کا وہ تاریک سایہ، وہ میرا ساتھی، اچانک طویل القامت ہوگیا۔ وہ میرے قد سے بہت اونچا اورلمبا ہوگیا۔ وہ مجھ سے باہر آنا چاہتا تھا۔ اور میں اپنے ٹھگنے قد کے ساتھ مکمل طور پر اُس کی دسترس میں آتا جارہا تھا۔ وہ اب میرا ساتھی نہ ہوکر میرا آقا بنتا جارہا تھا۔</p>
<p>’’آج فیرینی نہیں پکنی چاہئیے تھی۔ زردہ ٹھیک رہتا۔‘‘ میرے کان کو میری ہی منحوس، لمبی اور کالی زبان نے چاٹا۔ میں نے آسمان کی جانب دیکھا، لال چمکدار کاغذ سے منڈھا ہوا ہوا کے ساتھ روشن ایک قندیل سست روی کے ساتھ اندھیرے میں اُڑتا چلاجارہا تھا۔<br>
’’میں بھی ایک دن قندیل کی مانند، ہوا کے ساتھ اس تاریک آسمان میں اُڑوں گا۔ میں نے سوچا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a7%da%a9%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">نعمت خانہ — اکیسویں قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a7%da%a9%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نعمت خانہ — بیسویں قسط</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a8%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a8%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[خالد جاوید]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 24 Aug 2017 10:14:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Khalid javed]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ناول]]></category>
		<category><![CDATA[جدید اردو ناول]]></category>
		<category><![CDATA[خالد جاوید]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22004</guid>

					<description><![CDATA[<p>خالد جاوید: مجھے اُس وقت یہ علم نہیں تھا کہ چہرے واپس آتے ہیں۔ لوگ واپس آتے ہیں، بھلے ہی اُن کے رویے، اُن کے جسم اور اُن کی روحیں بدلی ہوئی ہوں۔ انسانوں کا یہی مقدّر ہے۔ ازل سے اور ابد تک یہی رہے گا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a8%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">نعمت خانہ — بیسویں قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urduexcerpt">اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے <a href="https://laaltain.pk/category/literature/fiction/nemat-khana/" target="_blank" rel="noopener">کلک</a> کیجیے۔</div>
<p>مجھے نہیں یاد— اب مجھے یاد نہیں۔ انجم باجی کی شادی کی کوئی اور تفصیل مجھے نہیں یاد سوائے اس کے کہ سرخ جوڑے میں ملبوس ایک بے حد دُبلی پتلی دلہن روتی سسکتی گھر سے رخصت ہو گئی اور میںگھر کی چوکھٹ پر کھڑا،خاموش اس کی پالکی کو جاتا دیکھتا رہا۔</p>
<p>بہت دنوں بعد، شاید تین سال بعد جب انجم باجی اپنے شوہر کے ساتھ سعودی عرب سے واپس آئیں تو میں اُنہیںپہچان نہ سکا۔ وہ بہت موٹی اور گول مٹول سی ہوگئی تھیں۔ جس کی وجہ سے ان کا قد ٹھگنا سا محسوس ہوتا تھا۔ ان کا پورا جسم قیمتی زیورات سے لدا ہواتھا، مگر وہ ایک الگ داستان ہے جسے میںکسی اور وقت کے لیے اُٹھا رکھتا ہوں۔</p>
<p>انجم باجی کی شادی کے بعد مجھے اتنا اکیلاپن نہیں محسوس ہوا جس کی مجھے توقع تھی۔ اس کا سبب شاید میرے اندر پلتے رہنے والا ایک خطرناک اورپُراسرار غصّہ تھا۔ میں نے اپنے وجود کے نہاں خانوں میں پوشیدہ اس غصّے کے ساتھ جینا سیکھ لیا تھا۔ یہ ایک لال پیلا غصہ نہ ہوکر ایک سیاہ غصہ تھا جس میں مجھے کچھ نظر نہ آتھا اور یہی بات میرے سکون کا باعث تھی۔ غصّے کے اس سیاہ سائے سے میںہمیشہ بغل گیر رہتا تھا۔اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے ساتھی کو جکڑے رہتا تھا۔ کئی ماہ گزر گئے۔میںاپنی پڑھائی بھی دل لگاکر کرتا رہا۔ آفتاب بھائی، اُسی ڈاکٹر کے یہاں ایک کمرے میں رہنے لگے، جہاں وہ کمپاؤنڈری کرتے تھے۔ ہفتوں مہینوں میں کبھی گھر آتے اور وہی نفرت انگیز سگریٹ پھونکتے رہتے۔ جس کی بُو میں ہزاروں میں پہچان سکتا تھا۔ اُڑتے اُڑتے یہ خبر بھی آئی کہ اُنھوں نے چھپ کر شادی کر لی ہے۔ پتہ نہیں، میں تو اُن کے پاس جاتا بھی نہیں تھا جبکہ اُنھوں نے مجھے کئی بار بلایا بھی تھا۔ میں آفتاب بھائی سے اِس لیے نہیں ملتا تھا کہ ایک دن تو مجھے اُن سے ملنا ہی تھا۔ میں اپنے وجود میں پلنے والے تاریک غصّے کے حکم کی تعمیل کرتا تھا اور آفتاب بھائی سے ملنے کے لیے مجھے اُس کے اشارے کا انتظار تھا۔</p>
<p>انجم آپا کے گھر ہفتے میں دو تین بار ضرور جاتا تھا مگر اب ہم جاسوسی ناولوں کی باتیں نہیں کرتے تھے، خود میری دلچسپی بھی جاسوسی ناولوں میں کم ہو گئی تھی۔ میں غیر ملکی ادب کے تراجم پڑھنے لگا تھا۔ خاص طور پر روسی ادب کے شاہکار ناولوں کے تراجم۔</p>
<p>انجم آپا کو اِن چیزوں سے نہ تو کوئی دلچسپی تھی ا ور نہ ہی اُن میں اتنی صلاحیت تھی کہ وہ اُنہیں سمجھ سکتیں۔ جہاں تک میرا سوال تھا تو میں چار پانچ ماہ میں ہی بہت بڑا ہوگیا تھا۔ میری شکل و صورت یا قد میں کوئی واضح تبدیلی آئی ہو یا نہیں مگر میرے جسم کے اندر رہنے والی روح کی عمرمیری جسمانی عمر سے بہت زیادہ ہو گئی تھی۔ اتنی زیادہ کہ کبھی کبھی میری روح کے پیر میرے جسم کی چادر سے باہرنکلنے لگتے تھے اور میں گھبرا کر اپنے غصّے کا کالا،بھیانک ہاتھ تھام لیا کرتا تھا۔ ایسے وقتوں میں وہی مجھے سہارا دیتا تھا۔</p>
<p>مگر انجم آپا سے مجھے اُنسیت ہمیشہ سے تھی اور بارہا میں نے یہ بھی سوچا ہے کہ شاید وہ مجھے بہت چاہتی تھیں۔ انجم باجی سے بھی زیادہ۔ لیکن اس کا اظہار وہ کبھی نہ کرسکیں۔ اس کی کچھ وجوہات رہی ہوں گی جن کا علم مجھے تب ہرگز نہ تھا، البتہ اب میں کچھ اندازہ لگا سکتا ہوں۔ بہرحال ان باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے انجم آپا سے اُنسیت تھی یا اُنسیت کا التباس تھا کیونکہ شاید میں خود اس بات کے لیے تڑپ رہا تھا کہ کوئی مجھے چاہے، کوئی۔۔۔ یعنی کوئی لڑکی۔ اپنی ماں کے فوت ہوجانے کے بعد سے انجم آپا بہت پریشان، بدحال اورافسردہ سی رہنے لگی تھیں۔ اور اُن کے والد جلد ہی اُن کا بیاہ کر دینے کے لیے سرگرداں تھے۔</p>
<p>میں اکثر سوچتا کہ انجم آپا کو کچھ لطیفے سناکر ہنسنے ہنسانے پر مجبور کر دوں مگر یہ مجھ سے کبھی ممکن نہ ہو سکا کیونکہ اوّل تو مجھے لطیفے یا دہی نہیں رہتے تھے اور اگرکوئی لطیفہ یاد کرکے میں سنانا بھی چاہتا تو میرا ساتھی، اُن دنوں کا وہ کالا،پُراسرار غصہ مجھ سے اپنی بانھیں چھڑانے لگتا۔</p>
<p>نہیں، ہرگز نہیں! میں کسی بھی قیمت پر اپنے غصّے سے جدا نہیں ہوسکتا تھا۔ میرے لیے گلا پھاڑ کر ہنسنا حرام تھا، اسی لیے میں انجم آپا کو کبھی خوش نہ کر سکا مگر اُن کی خالی اور اُداس آنکھوں میں اپنے لیے پیار کی ایک ایسی چمک ہمیشہ دیکھتا رہا جو جگنو کی چمک سے مماثل تھی۔ جلتی بجھتی— پھر جلتی پھر بجھ جاتی۔</p>
<p>مگر یہ سلسلہ آگے نہ چل سکا۔ آخر ایک دن بہت خاموشی اور سادگی کے ساتھ انجم آپا کا نکاح پڑھا دیا گیا اور اِس طرح وہ گول، چپاتی کی مانند، چیچک زدہ چہرہ جو مجھے بہت اپنا اپنا سا لگتا تھا میری دنیا سے دور ہوگیا۔ وہ چہرہ جس کو دیکھ کر ہمیشہ مجھے بھوک لگنے لگتی تھی اور میری آنتیں کڑکڑانے لگتی تھیں۔ اُسی منحوس لال گھونگھٹ میں چھپ کر پالکی میں گم ہو گیا جس طرح انجم باجی کا چہرہ ایک دن گم ہو گیا تھا۔</p>
<p>مگر مجھے اُس وقت یہ علم نہیں تھا کہ چہرے واپس آتے ہیں۔ لوگ واپس آتے ہیں، بھلے ہی اُن کے رویے، اُن کے جسم اور اُن کی روحیں بدلی ہوئی ہوں۔</p>
<p>انسانوں کا یہی مقدّر ہے۔ ازل سے اور ابد تک یہی رہے گا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a8%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">نعمت خانہ — بیسویں قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a8%db%8c%d8%b3%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نعمت خانہ — اٹھارہویں قسط</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a7%d9%b9%da%be%d8%a7%d8%b1%db%81%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a7%d9%b9%da%be%d8%a7%d8%b1%db%81%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[خالد جاوید]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 12 Aug 2017 03:11:32 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Khalid javed]]></category>
		<category><![CDATA[urdu novel]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[جدید اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[جدید اردو ناول]]></category>
		<category><![CDATA[خالد جاوید]]></category>
		<category><![CDATA[ناول]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=21863</guid>

					<description><![CDATA[<p>خالد جاوید: مجھے اُس وقت تک کچھ پتہ نہ تھا کہ دسمبر میری زندگی کو ہمیشہ کے لیے ایک ایسی ریل گاڑی بناکر رکھ دے گا جو ایک سنسان، چھوٹے اسٹیشن پر اس لیے رُکی کھڑی رہے گی کہ کہرے میں اُسے کوئی سگنل نہ نظر آتا تھا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a7%d9%b9%da%be%d8%a7%d8%b1%db%81%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">نعمت خانہ — اٹھارہویں قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urduexcerpt">اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے <a href="https://laaltain.pk/category/literature/fiction/nemat-khana/" target="_blank" rel="noopener">کلک</a> کیجیے۔</div>
<p>دسمبر کا مہینہ آپہنچا۔ ایک شاندار مہینہ جس میں کہرے سے لدی راتیں کالی پلٹن کی طرح سڑکوں پرمارچ کرتی ہیں اور سڑکوں کا کلیجہ کانپنے لگتا ہے۔ یہ ایک باوقار مہینہ ہے۔ اُداسی اسے اور بھی زیادہ وقار اور تمکنت بخشتی ہے۔ رات کو تیز، سرد ہواؤںکے پاگل جھکّڑوں میں انسان کا مقدّر اپنی خطرناک تاریخ لکھتا ہے۔ دسمبر میں صبح کی دھوپ ایک ٹھٹھری ہوئی دھوپ ہے۔ دھوپ کو بہت وقت لگتا ہے، بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔ اپنی گرمی اور تپش کو واپس لانے میں اور جب تک سورج دوبارہ، دسمبر کے قہر سے کمزور ہوکر مغرب کی خندق میں لڑھکنے لگتا ہے۔</p>
<p>گھر کے آنگن تک میں کہرا جیسے اپنے پیروں پر چلنے لگا ہے۔ کہرے کے پیر نکل آئے تھے۔ اندھیرا کہرے سے اپنی بازی ہار گیا۔ وہ روشنی کا اتنا مقابلہ نہ کر سکتا تھا۔</p>
<p>کالی سردی کے لوتھڑے چاروں طرف گر رہے ہیں۔ ذرا سی حرارت بھی نہیں اور اگر ہے بھی تو، سردی کی اِس کالی راکھ میں، ایک تنہا انگارے کی مانند، دبی چھپی پڑی ہے۔ آسمان کہرے کی دُھند سے غائب ہے۔ اُس کا نیلا رنگ کہیں نہیں ہے۔ یہ ایک ادھورا آسمان ہے، بغیر ہاتھ پیروں کا۔ ایک کٹا پھٹا آسمان، ایک کمزور اور معذور فلک۔</p>
<p>انجم باجی کی شادی اِن خطرناک، مگر شاندار سردیوں میں ہوگی، ایک طرح سے اُن کے شایانِ شان مگر میرے لیے؟</p>
<p>مجھے اُس وقت تک کچھ پتہ نہ تھا کہ دسمبر میری زندگی کو ہمیشہ کے لیے ایک ایسی ریل گاڑی بناکر رکھ دے گا جو ایک سنسان، چھوٹے اسٹیشن پر اس لیے رُکی کھڑی رہے گی کہ کہرے میں اُسے کوئی سگنل نہ نظر آتا تھا۔ نہ ہرا، نہ لال۔ ریل گاڑی کی دھواں اُگلتی ہوئی سیٹیاں، اس کے گلے میں ہی پھنس کر رہ جائیں گی۔</p>
<p>انجم باجی کی شادی کا دن اور تاریخ طے ہوگئے۔ گھر میں ہر طرف چہل پہل ہونے لگی۔ دور کے رشتہ دار بھی آکر ہمارے گھر رہنے لگے۔ مگر اِس کے باوجود ایک گہرا سناٹا مجھے ہر وقت محسوس ہوتا تھا۔ ممکن ہے کہ اس کی ایک وجہ سخت سردیاں اور دِن رات چھائے رہنے والا کہرا ہو۔ اس ٹھنڈ میں ہڈّیاں گلا کر رکھ دینے والی ہوا میں، رات کے وقت کوئی آنگن میں نہیں اُٹھتا بیٹھتا تھا۔ مگر باورچی خانے میں رات گئے تک رونق رہتی۔ رشتہ دار لڑکیاں، شادی شدہ عورتیں اور بوڑھی خواتین بھی چولہے کی گرم راکھ کے آگے باتوں کی محفل سجائے رکھتیں۔ صرف قہقہے ہی گونجتے رہتے اگرچہ کبھی کبھی مجھے کچھ کانا پھوسیوں کا بھی شبہ ہوا۔ میں ایک بھوت کی طرح باورچی خانے کے آس پاس منڈلاتا رہتا۔</p>
<p>دن میں نسبتاً سناٹا ہوتا، کیونکہ زیادہ تر لوگ شادی کی تیاری اور لباس اور زیورات خریدنے کے سلسلے میں بازار گئے ہوتے۔ مگر دن میں کبھی کبھی آفتاب بھائی آتے، سگریٹ منھ میں دبائے اور اُن کی بے رحم اور بھوری آنکھیں، کینہ اور بغض سے چمکتی نظر آتیں۔ اُن کا بلڈاگ جیسا دہانہ کچھ اور نیچے کو لٹک جاتا تھا۔ وہ مجھے بہت قابل نفرت نظر آنے لگے، پہلے سے بھی زیادہ۔ وہ بہت عجیب دن تھے۔<br>
ایک طرف آفتاب بھائی کی پُراسرار اور خطرناک تانکا جھانکی میرے لیے ناقابل برداشت ہوگئی تھی اور دوسری طرف انجم باجی سے بھی مجھے ایک ایسی خاموش مگر بھیانک شکایت پیدا ہوگئی تھی جسے میں آج تک کوئی نام نہیں دے سکا۔اور نہ ہی اس کی کوئی وجہ تلاش کر سکا۔ ظاہر ہے کہ وجہ بچکانہ رہی ہوگی، مگر اِس بچکانے پن کی بھی تو کوئی وجہ ہوگی؟</p>
<p>میں پریشان اور اُلجھا اُلجھا نظر آنے لگا۔ میں نے گھرکے افراد سے بولنا چالنا تقریباً چھوڑ دیا۔ مجھے باربار پیشاب کی حاجت ہوتی۔ مجھے رُک رُک کر پیشاب آتا اور ہر وقت سانس سی پھولی محسوس ہوتی۔ میں ایک ناقابل فہم قسم کی بے چینی سے دوچار رہنے لگا۔ انجم باجی بھی کبھی کبھی اپنی پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ مجھے دیکھتیں۔ وہ اُن دنوں بہت اُداس نظر آتیں۔ مجھے اُن کی اُداسی پر غصہ آتا، اور میں جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہوکر اپنے خیالوں میں اُنہیں بے لباس کرنے کی کوشش کرنے لگتا۔ اگرچہ اس گھناؤنے فعل میں مجھے کبھی کامیابی نہ حاصل ہوسکی۔</p>
<p>اب میں سوچتا ہوں کہ اگر انجم باجی مجھے اُن دنوں اُداس اور افسردہ نہ نظر آتیں تو میری زندگی کا رُخ کُچھ اور ہی ہوتا۔ اگر انجم باجی، آفتاب بھائی کے لیے مغموم اور غمگین نہ ہوکر اپنے ہو نے والے دولہا کے خوابوں میں، مسرت اور آرزو سے بھری ہوئی مگن رہتیں تو پھر یہ کرّہ ارض اپنی گردش کا انداز بدل دیتا۔</p>
<p>آفتاب بھائی میرے لیے نفرت کا ایک آفاقی تصوّرتھے۔ ایک گھناؤنی اور باسی خراب مچھلیوں سے آتی ہوئی سڑاندھ۔ اِس نفرت کی بُو گھر کے ہر گوشے میں رینگتی پھرتی تھی۔</p>
<p>ایسا کیوں تھا؟</p>
<p>مجھے نہیں پتہ۔ واقعی مجھے نہیں پتہ۔ انسانوں کا سب سے بڑا المیہ تو یہی ہے (اورکم از کم میرا المیہ تو واقعتا یہی ہے) کہ انھیں جو معلوم ہونا چاہئیے وہ آخری سانس تک نہیں معلوم ہو پاتا اور ایک بھید، ایک اسرار ہی بنا رہتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک مُردہ آدمی جس سے بڑا اسرار کائنات میں اور کوئی نہیں ہے۔ انسان کی لاعلمی اور اُس کی لاش مترادف ہیں۔ ایک راز دوسرے راز سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ پھر اِسی دنیا کی کالی سردی اور کہرے میں گم ہو جاتا ہے۔</p>
<p>مگر وہ — جس کا علم نہیں ہونا چاہئیے، وہ انسانوں کی احمق کھوپڑیوں پر لاسے کی طرح لٹکا رہتا ہے اور جس پر دنیا بھر کی سازشیں، محبتیں، نفرتیں اور خواہشیں اِسی طرح آکر چپکتی، گرتی اور پھنستی رہتی ہیں جیسے آسمان میں اُڑنے والے کبوتر لاسے پر۔<br>
ایک دن میرا غصہ اپنی حدوں کو پار کرگیا۔ میں نے اپنے سرکے بال نوچ ڈالے اور اپنے ہاتھوں کے ناخنوں کو باورچی خانے کی دیوار پر زور زور سے رگڑا۔ میں نے خاموشی، تنہائی میں اپنے پیروں کو زور زور سے زمین پر مارا، کیونکہ میں نے انجم باجی کو سسکیاں لے کر روتے ہوئے دیکھا تھا۔ اور وہ بھی ایک کونے میں آفتاب بھائی کے شانے پر سر رکھ کر۔</p>
<p>یہ کتنا گھناؤنا اور کریہہ منظر تھا۔ اس کا کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا تھا۔<br>
ناک سڑا دینے والی نفرت کے کاندھے پر ایک پاکیزہ خوشبو کا قالب۔</p>
<p>میں برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ ایک پاکیزہ، پیلی سفیدی کو ایسی سفیدی میں مدغم ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا جس میں لال رنگ چھپا ہو —لال رنگ۔ جسم میں خون کی زیادتی جسم میں زیادہ خون ہونا، بھدّا تھا اور ہوس کی نشانی بھی۔<br>
ہاں ہوس کی نشانی—!</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a7%d9%b9%da%be%d8%a7%d8%b1%db%81%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">نعمت خانہ — اٹھارہویں قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d9%85%d8%aa-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%81-%d8%a7%d9%b9%da%be%d8%a7%d8%b1%db%81%d9%88%db%8c%da%ba-%d9%82%d8%b3%d8%b7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
