<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>آسیہ بی بی Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/%D8%A2%D8%B3%DB%8C%DB%81-%D8%A8%DB%8C-%D8%A8%DB%8C/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/آسیہ-بی-بی/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Thu, 30 May 2024 17:03:25 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>آسیہ بی بی Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/آسیہ-بی-بی/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>آسیہ بی بی کی بریت؛ قابل تحسین فیصلہ مگر۔۔۔-اداریہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/asia-bibi-acquittal-but/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/asia-bibi-acquittal-but/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 31 Oct 2018 10:52:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اداریہ]]></category>
		<category><![CDATA[295 سی]]></category>
		<category><![CDATA[295-C]]></category>
		<category><![CDATA[Asia Bibi]]></category>
		<category><![CDATA[asif saeed khosa]]></category>
		<category><![CDATA[blasphemy]]></category>
		<category><![CDATA[آسیہ بی بی]]></category>
		<category><![CDATA[توہین مذہب و رسالت]]></category>
		<category><![CDATA[ثاقب نثار]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم کورٹ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23779</guid>

					<description><![CDATA[<p>عدالت عظمیٰ کی جانب سے آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف اپیل کا فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے۔ فیصلے کے مطابق آسیہ بی بی کو ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر، گواہان کے بیانات میں تضاد، ملزمہ کے غیر عدالتی اعتراف جرم پر انحصار اور ماتحت عدالتوں کی جانب سے آسیہ [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/asia-bibi-acquittal-but/">آسیہ بی بی کی بریت؛ قابل تحسین فیصلہ مگر۔۔۔-اداریہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>عدالت عظمیٰ کی جانب سے آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف اپیل کا فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے۔ فیصلے کے مطابق آسیہ بی بی کو ایف آئی آر  کے اندراج میں تاخیر، گواہان کے بیانات میں تضاد، ملزمہ کے غیر عدالتی اعتراف جرم پر انحصار اور ماتحت عدالتوں کی جانب سے آسیہ بی بی پر لگائے جانے والے الزامات کی صحت اور ان کے ماحول کے تناظر کو نظر انداز کرنے کے باعث بری کیا گیا۔  قریب آٹھ برس سے قید آسیہ بی بی اور ان کے اہل خانہ کے لیے یہ دن ہمیشہ جبر کی ایک طویل رات کے خاتمے کا دن ہے۔ مگر ابھی ریاست کو عدالتی فیصلے پر عملدرآمد اور آسیہ اور ان کے خاندان کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔</p>
<p>چیف جسٹس ثاقب نثار، جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل  پر مشتمل بنچ اس فیصلے پر تحسین کا مستحق ہے۔ یہ فیصلہ کئی اعتبار سے تاریخ ساز ہے اور پاکستان میں توہین مذہب و رسالت کے قانون کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے راہ ہموار کر سکتا ہے۔ یقیناً اس فیصلے کے بعد توہین مذہب و رسالت کے سیاہ قانون کے تحت گرفتار اور سزا پانے والے دیگر افراد بشمول جنید حفیظ بھی جلد رہا کیے جائیں گے۔ کیوں کہ یہ فیصلہ اس امر پر سند ہے کہ ہر ملزم کو خواہ وہ توہین مذہب و رسالت کے ارکاب کا ملزم ہی کیوں نہ ہو کو ایک غیر جانبدار عدالت میں اپنے قانونی و عدالتی دفاع کا مکمل حق ہے۔ اور جرم ثابت ہونے تک  توہین مذہب و رسالت کا مرتکب فرد بھی بے گناہ اور بے قصور ہے۔ آسیہ بی بی کے خلاف ٹرائل کورٹ کا فیصلہ توہین مذہب و رسالت کے مقدمات میں انصاف کے تقاضے پورے کیے بغیر سزائے موت جیسی غیر انسانی سزا سانے  کی ایک اور مثال ہے۔</p>
<p>فیصلہ اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ  توہین مذہب و رسالت کے قانون کے تحت سزا کا جواز  تبھی تک ممکن ہے جب اس  جرم کے تحت سزا  کے لیے  تفتیش اور فیصلے کے لیے ایک غیر جانبدار عدالتی نظام کے دائرہ اختیار کو  تسلیم کیا جائے۔  اس جرم کے لیے سزا دینے کا اختیار بھی فرد یا ہجوم کے پاس نہیں ریاست کے پاس ہے۔</p>
<p>یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کیوں کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت اپنے اختیارات سے تجاوز اور سیاسی اور جانبدارانہ طرزعمل  کے باعث اپنی ساکھ خراب کر چکی ہے، اس فیصلے کے ذریعے عدالت خصوصاً چیف جسٹس نے عدالت عظمیٰ کے اصل کردار یعنی آئین اور قانون کے تحت بنیادی حقوق کے تحفظ اورانصاف کی فراہمی کی جانب رجوع کیا ہے۔ عدالت کی جانب سے ماتحت عدلیہ پر برہمی بھی جائز ہے جو شواہد کی عدم موجودگی میں بھی سزائے موت جیسی سنگین سزائیں سنانے کی روش اختیار کیے ہوئے ہیں۔</p>
<p>یہ فیصلہ لائق تحسین ہے مگر اس فیصلے کے باوجود ابھی توہین مذہب و رسالت  کے سیاہ پاکستانی قانون اور الزامات کے تحت جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تدارک میں وقت لگے گا۔ اس قانون کے خاتمے یا اس میں انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں سے ہم آہنگ اصلاحات کے بغیر اس قانون کا غلط استعمال روکنا ممکن نہیں۔ عدالت کے ساتھ ساتھ پارلیمان کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے اور اس سیاہ قانون کے تحت لازمی سزائے موت کے خاتمے اور آزادی اظہار رائے اور انسانی حقوق کو توہین مذہب و رسالت پر مقدم قرار دینے کے لیے قانون سازی کرنی ہے۔</p>
<p>یہ بھی یاد رہے کہ محض آسیہ بی بی کی بریت کافی نہیں، محض اس ایک فیصلے کے ذریعے  توہین مذہب و رسالت کے الزامات کے تحت جاری تشدد کا خاتمہ ممکن نہیں بنا سکتا، اس مقصد کے لیے توہین مذہب و رسالت کو قابل تعزیر اقوال و افعال کی فہرست سے نکالنے کے علاوہ مذہبی اختلافات کو تسلیم کرنے، مذہب اور مذہبی شخصیات پر تنقید، طنز اور استہزاء کے حق کو تسلیم کرنا بھی ضروری ہے۔ یہ تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ مذہب اور مذہبی شخصیات کا تقدس انسانی جان، انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں پر مقدم نہیں۔</p>
<p>آج یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ایک طرف توہین مذہب و رسالت کے الزامات کے تحت 60 سے زائد افراد کو مشتعل ہجوم ماورائے عدالت قتل کر چکا ہے تو دوسری طرف عدالتوں ہی کی جانب سے توہین مذہب و رسالت کے لیے مزید سخت قوانین کے نفاذ اور آن لائن آزادی اظہار کو محدود کرنے کے احکامات بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔ یہ بھی ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ توہین مذہب و رسالت کے نام پر نفرت آمیز تقاریر اور تشدد عام ہے جس کا انسداد آزادی اطہار رائے اور مذہبی اختلاف کو کم کر کے نہیں انہیں تحفط دے کر ہی ممکن ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/asia-bibi-acquittal-but/">آسیہ بی بی کی بریت؛ قابل تحسین فیصلہ مگر۔۔۔-اداریہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/asia-bibi-acquittal-but/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اگر میں ممتاز قادری سے بدلہ لوں؟</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a7%da%af%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d9%85%d8%aa%d8%a7%d8%b2-%d9%82%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c-%d8%b3%db%92-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%81-%d9%84%d9%88%da%ba%d8%9f/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a7%da%af%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d9%85%d8%aa%d8%a7%d8%b2-%d9%82%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c-%d8%b3%db%92-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%81-%d9%84%d9%88%da%ba%d8%9f/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[توصیف احمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 04 Jan 2016 08:01:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Asia Bibi]]></category>
		<category><![CDATA[Blasphemy Law]]></category>
		<category><![CDATA[Mumtaz Qadri]]></category>
		<category><![CDATA[salman taseer]]></category>
		<category><![CDATA[آسیہ بی بی]]></category>
		<category><![CDATA[توہین رسالت]]></category>
		<category><![CDATA[سلمان تاثیر]]></category>
		<category><![CDATA[ممتاز قادری]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=14369</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">اگر میں یہ کہوں کہ ممتاز قادری نے میرے مذہب کی توہین کی ہے، میرے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر ایک شخص کی جان لے کر آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کی ہے اور قتل جیسا جرم کرکے امن و سلامتی کے مذہب اسلام کی توہین کی ہے، تو کیا میں ممتاز قادری کو قتل کرنے کا حق رکھتا ہوں؟ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%da%af%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d9%85%d8%aa%d8%a7%d8%b2-%d9%82%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c-%d8%b3%db%92-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%81-%d9%84%d9%88%da%ba%d8%9f/">اگر میں ممتاز قادری سے بدلہ لوں؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="left2pullquote">اگر میں یہ کہوں کہ ممتاز قادری نے میرے مذہب کی توہین کی ہے، میرے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر ایک شخص کی جان لے کر آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کی ہے اور قتل جیسا جرم کرکے امن و سلامتی کے مذہب اسلام کی توہین کی ہے، تو کیا میں ممتاز قادری کو قتل کرنے کا حق رکھتا ہوں؟</div>
<div class="urdutext">اگر میں یہ کہوں کہ ممتاز قادری سے میں بدلہ لینا چاہتا ہوں کیوں کہ اس نے میرے مذہبی جذبات مجروح کیے ہیں؟ اگر میں یہ کہوں کہ ممتاز قادری نے میرے مذہب کی توہین کی ہے، میرے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر ایک شخص کی جان لے کر آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کی ہے اور قتل جیسا جرم کرکے امن و سلامتی کے مذہب اسلام کی توہین کی ہے، تو کیا میں ممتاز قادری کو قتل کرنے کا حق رکھتا ہوں؟ کیا میں ممتاز قادری کی پیروی کرنے والے وکلاء کو دھمکانے، ڈرانے اور پھر ان کی جان لینے کا حق رکھتا ہوں جیسے راشد رحمان کی جان لی گئی؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اگر میں ایک ایسا پوسٹر چھپواوں جس پر ممتاز قادری اور علم دین جیسے قاتلوں کے لیے مغلظات لکھی ہوں، ان کے خلاف دیواروں پر وال چاکنگ کروں اور ان کی پھانسیوں کے حق میں جلسے جلوس نکالوں تو کیسا ہے؟ فرض کیجیے کہ اگر میں یہ فتوی دوں کہ جو کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر، ان کی ناموس پر، اہل بیت کی ناموس پر، ان کے صحابہ کی ناموس پر قتل کرتا ہے، قتل کرنا چاہتا ہے، قتل کرنے کے فتوے دیتا ہے یا قتل کرنے کی زبانی یا اعلانیہ حمایت کرنا چاہتا ہے وہ سب مرتد، خارج از دائرہ اسلام، ملعون، مطون ،جہنمی اور واجب القتل ہیں تو؟؟؟؟<br>
یہ بھی تو ممکن ہے کہ میں عدالتوں کے باہر جتھے لے کر کھڑا ہو جاوں کہ ممتاز قادری کی پھانسی تک ہم یہاں سے نہیں ٹلیں گے؟یا ڈندے لے کر عاشقان ممتاز قادری کے جلسوں جلوسوں کو تہس نہس کر دوں، یا میں بھی سلمان تاثیر شہید کانفرنس کراوں اور اس کانفرنس میں ببانگ دہل ریاست کو للکاروں کہ اگر توہین رسالت اور توہین مذہب کا قانون نہ بدلا گیا، اگر آسیہ بھی بی، جنید حفیظ اور ان جیسے تمام افراد کو رہا نہ کیا گیا تو ہم لانگ مارچ کریں گے، جانیں دیں گے، جیلیں بھر دیں گے تو کیا ہو گا؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">انسانیت کا مقدمہ نہ تشدد اور ہتھیار کے ساتھ لڑا جا سکتاہے اور نہ جیتا جا سکتا ہے۔ ہماری روشن کی گئی ایک شمع تمہارے جلسے جلوسوں، تمہارے فتووں، تمہارے نعروں تمہاری پھیلائی نفرتوں سے زیادہ روشنی پھیلا سکتی ہے۔</div>
<div class="urdutext">یہ سب ہو سکتا ہے، یہ سب کیا جا سکتا ہے لیکن میں اور ممتاز قادری کو دہشت گرد سمجھنے والے تمام لوگ، وہ خاموش اکثریت جو اسلام کو امن کا مذہب سمجھتی ہے اوروہ سب لوگ جو توہین رسالت کے قوانین کو غیر منصفانہ اور غیر انسانی سمجھتے ہیں وہ کبھی بھی ہتھیار نہیں اٹھائیں گے۔ انسانیت کا مقدمہ نہ تشدد اور ہتھیار کے ساتھ لڑا جا سکتاہے اور نہ جیتا جا سکتا ہے۔ ہماری روشن کی گئی ایک شمع تمہارے جلسے جلوسوں، تمہارے فتووں، تمہارے نعروں تمہاری پھیلائی نفرتوں سے زیادہ روشنی پھیلا سکتی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ چند لوگ جو ہر برس 4 جنوری کو اکٹھے ہوتے ہیں، کسی چوک چوراہے یا پریس کلب کے باہر، چند پلے کارڈ اٹھا کر، چند موم بتیاں جلاتے ہیں یہ تمہارے ہزاروں اور لاکھوں کے مجمعے سے زیادہ طاقتور ہے کیوں کہ یہ حق پر ہے، کیوں کہ یہ ظلم کو ظلم کہنے والے ہیں اور کیوں کہ خدا ان کے ساتھ ہے تمہارے ساتھ نہیں کیوں کہ خدا بہرطور ظلم کرنے والوں، ممتاز قادریوں اور علم دینوں کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔ ہمارا بدلہ، ہمارا انتقام اور ہمارا ردعمل یہی ہے کہ ہم ہمیشہ حق کو حق اور ظلم کو ظلم کہتے رہیں گے، ہم ہمیشہ نفرت پھیلانے والوں کے مقابلے میں نفرت نہ کرنے والوں میں شامل رہیں گے اور ہم ہمیشہ ممتاز قادری کو قاتل اور دہشت گرد قرار دیتے ہیں گے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%da%af%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d9%85%d8%aa%d8%a7%d8%b2-%d9%82%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c-%d8%b3%db%92-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%81-%d9%84%d9%88%da%ba%d8%9f/">اگر میں ممتاز قادری سے بدلہ لوں؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a7%da%af%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d9%85%d8%aa%d8%a7%d8%b2-%d9%82%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c-%d8%b3%db%92-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%81-%d9%84%d9%88%da%ba%d8%9f/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ارباب اختیار کے نام کھلا خط</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%db%8c%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d8%ae%d8%b7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%db%8c%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d8%ae%d8%b7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ناصر شبیر]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 20 Dec 2015 10:26:23 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Asia Bibi]]></category>
		<category><![CDATA[Blasphemy Law]]></category>
		<category><![CDATA[آسیہ بی بی]]></category>
		<category><![CDATA[توہین رسالت کا قانون]]></category>
		<category><![CDATA[توہین رسالت کے مقدمات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=14116</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt"> توہین رسالت کا الزام لگانے والوں کا احتساب کون کرے گا؟ ان گھناونے کرداروں کو بے نقاب کون کرے گا جو اپنے مفادات کے لیے اس قانون کا غلط استعمال کر رہے ہیں، </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%db%8c%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d8%ae%d8%b7/">ارباب اختیار کے نام کھلا خط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">محترم سالار اعظم، محترم وزیر اعظم اور جناب چیف جسٹس صاحب!</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سانحہ پشاور میں شہید طالب علموں کی دکھی ماؤں کو کچھ صبر آہی گیاہوگا جب سانحہ پشاور کے ذمہ داردرندوں اور وحشیوں کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا ہوگا۔ لیکن کلیجہ منہ کو آتا ہے جب ایک گونگی معذور بچی ادھورے اشاروں اور ان سنی آوا ز سے اپنی ماں آسیہ بی بی کے بارے میں پوچھتی ہے جس کو سانحپہ پشاور کے ذمہ داران جیسے جہنم زادوں کے خوف کے باعث جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ کیا اس عیسائی بچی کو اس کی ماں سے جدا کر کے اس لیے سزا دی جارہی ہے کہ اس مسیحی گھر میں کوئی فوجی میڈل، کوئی نشانِ حیدر نہیں ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھرپاکستان میں اقلیتوں کی جان، مال، عزت آبرو کارکھوالا آخر کون ہے؟ ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہوئے ہمارا سماج ان کو چوڑے، چمار، ناپاک، پلید کہہ کر ان کے برتن الگ رکھتا ہے، ان سے مصافحہ کرنے سے قبل لاؤڈ اسپیکر سے فتوے کی آواز پر کان دھرتا ہے ان کو سکول میں باتھ روم استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ سماج کی ایسی ذہنی تربیت کون کرتا ہے۔کون ہے جس نے سمندری کے علاقے میں زاہدہ رانا ہیڈ مسٹرس کی ایسی مذہبی تربیت کی کہ اُس نے ایک8سالہ مسیحی بچی کو کہا کہ تم کوایک“کرسچن چوڑا” ہونے کے ناطے مسلمانوں کا باتھ روم استعمال کرنے کی جرأت کیسے ہوئی؟ زہر پھیلانے والے ان ملاؤں کے سامنے عدلیہ، قانون اور ریاستی ادارے آخر کب تک سر تسلیم خم رکھیں گے؟ کب تک ان کو دین فروشی کے اجازت نامے جاری کریں گے؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">کیا اس عیسائی بچی کو اس کی ماں سے جدا کر کے اس لیے سزا دی جارہی ہے کہ اس مسیحی گھر میں کوئی فوجی میڈل، کوئی نشانِ حیدر نہیں ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھرپاکستان میں اقلیتوں کی جان، مال، عزت آبرو کارکھوالا آخر کون ہے؟</div>
<div class="urdutext">لعنت ہو ہم پر۔ لعنت ہو ہم پر۔ ہم پیغمبر رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کے نام پر لوگوں کو قید کرتے ہیں، زندہ جلاتے ہیں، اینٹیں مارتے ہیں، قتل کرتے ہیں، گلیوں میں گھسیٹتے ہیں، بھٹے میں زندہ جلا دیتے ہیں۔کئی ایسٹر، کئی کرسمس گزر گئے لیکن ایک بے بس اور لاچار بیٹی توہین رسالت کے نام پر اڈیالہ جیل میں قید اپنی ماں سے برسوں سے جداہے۔ مختلف فرقوں کی تکفیری تحریریں سرعام بازاروں میں پڑی ہیں، فتوؤں کی آلائشوں سے لتھڑی کتابیں ہر بڑے کتب فروش کے ہاں بک رہی ہیں، فرقوں کے درمیان لفظی جنگ کے علاوہ بارہا دنگافساد بھی ہوئے ہیں جن میں مذہبی کتب بھی جلائی گئیں لیکن کبھی قانون حرکت میں نہیں آیا۔ کسی دانشور نے کبھی توہین رسالت کے قانون کے نام پر اقلیتوں پر ہونے والے طلم اور ان کے خلاف منافرت پھیلانے پر تنقید نہیں کی جبکہ ہندوستان میں اعزازات واپس کیے جارہے ہیں، لیکن یہاں بلدیاتی انتخابات میں انہی دہشت گردوں کے ساتھ اتحاد کیا جا رہا ہے جن کے سبب یہ ارض پاک اس حال کو پہنچی ہے۔کیا آپ نہیں جانتے ہیں کہ بے بس غیرمسلم پاکستانی اپنے لخت جگر سینوں میں چھپائے ہندوستان جارہے ہیں۔ مسیحی و ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان کیا جا رہاہے۔ غارت گری کے حلف قرآن پر اُٹھائے جارہے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">محترم وزیر اعظم!<br>
ریاست تو اپنے عوام کی محافظ ہے، لیکن ایک مسیحی دکھیاری ماں پر توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگاکر اسے مذہبی شدت پسندوں کے خوف سے پابند سلاسل کر دیا گیاہے۔ مملکت خداد پاکستان کے سنہری قوانین کے تحت توہین مذہب کے قوانین تمام مذاہب اور ان کی محترم ہستیوں کو تحفظ حاصل ہے۔ لیکن احمدیوں، عیسائیوں، ہندووں اور یہودیوں کے خلاف نفرت آمیز مواد سرعام چسپاں کیا جاتا ہے۔ احمدیوں کی عبادت گاہوں، مسیحی بستیوں پر حملوں کے دوران انجیل مقدس اور احمدیوں کی مقدس کتب کے صحیفے بھی جلائے گئے ہیں، احمدیوں کے خلاف نفرت آمیز مواد سرعام دکانوں پر فخر سے لگایا جاتا ہے لیکن ریاست انہیں تحفظ نہیں دیتی۔ مذہبی بنیاد پرستوں کا ایک ٹولہ گرجا گروں کو گرا رہا ہے، مقدس اوراق روند رہا ہے، سرعام نفرت انگیز جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے لیکن ریاست کہاں ہے؟ خدا کے بعد زمین پر ریاست کے سوا اور کوئی نہیں ہے جو ان دہشت گردوں کو لگام دے سکے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">مذہبی بنیاد پرستوں کا ایک ٹولہ گرجا گروں کو گرا رہا ہے، مقدس اوراق روند رہا ہے، سرعام نفرت انگیز جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے لیکن ریاست کہاں ہے؟ خدا کے بعد زمین پر ریاست کے سوا اور کوئی نہیں ہے جو ان دہشت گردوں کو لگام دے سکے۔</div>
<div class="urdutext">محترم چیف جسٹس صاحب!<br>
یہ سچ ہے کہ ایک بے بس اورلاچار مسیحی عورت شاید آئین پاکستان کے تحت مسلمان قرار پانے والوں کی طرح پنج وقتہ نمازی، پرہیزگار اور متقی نہیں، اکثریت کی رگوں میں موجزن دیانت داری اور حب الوطنی کی ایمانی حرارت کے برعکس شاید ہماری دانست میں آسیہ بی بی اس ایمان سے محروم ہے لیکن کیا آپ کی عقل اور ضمیر تسلیم کرتاہے کہ ایک ان پڑھ اور بے بس عورت آسیہ بی بی کو محض الزام اور جھوٹی گواہیوں کی بنیاد پر قید کر دیا جائے؟ ایک استاد جنید حفیظ کو نہ صرف قید رکھا جائے بلکہ اس کے وکیل راشد رحمان کو بھی قتل کر دیا جائے؟ آسیہ بی بی کے حق میں آواز اٹھانے پر سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کو بھی قتل کر دیا جائے۔ دن اور رات کے فرق سے محروم اس قیدی عورت کی بینائی اب ختم ہو رہی ہے جو8x10 کی کال کوٹھڑی میں قید ہے، جس کے ساتھ دونوں قید خانے بھی عورت قیدی نہ ہونے کی وجہ سے خالی اور ویران ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">محترم چیف جسٹس صاحب!<br>
توہین رسالت کا الزام لگانے والوں کا احتساب کون کرے گا؟ ان گھناونے کرداروں کو بے نقاب کون کرے گا جو اپنے مفادات کے لیے اس قانون کا غلط استعمال کر رہے ہیں، ان مظلوموں کو انصاف کون دے گا جو مشتعل ہجوم کے ہاتھوں بے گھر ہوتے ہیں، جان بچاتے پھرتے ہیں؟ ان کے تحفظ کے لیے اور انہیں انصاف دلانے کے لیے جلسے، جلوس اور ریلیاں کیوں نہیں نکالی جاتیں؟ کیاآپ کا ضمیر یہ گواہی دینے کو تیار ہے کہ دنیا کے افضل ترین اور اعلیٰ ترین انسان حضرت محمد مصطفی، احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، عقیدت اور حرمت کے نام پر سفاکیت، بے رحمی اور ایذارسانی جائز ہے؟ کیا ان کے نام پر ایسے گھناؤنے قوانین متعارف کروا کر بے گناہوں کو اذیتیں دینا گناہِ کبیرہ نہیں؟ کیا توہین مذہب اور توہین رسالت کے یہ قوانین غیر انسانی نہیں جو مزاج محمدیہ سے بھی متصادم ہیں؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">کیا شیریں دہن علماء کسی طرح آسیہ بی بی کی معذور بیٹی کو یہ سمجھا سکتے ہیں کہ اس کی ماں پر حرمت رسول صلی اللہ و آلہ وسلم کے نام پر جو ظلم وستم جاری ہے، قید وبند کے جو پہاڑ توڑے جارہے ہیں، جس طرح اسے ایک اندھیری کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے اس سے شان محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟</div>
<div class="urdutext">کیا شیریں دہن علماء کسی طرح آسیہ بی بی کی معذور بیٹی کو یہ سمجھا سکتے ہیں کہ اس کی ماں پر حرمت رسول صلی اللہ و آلہ وسلم کے نام پر جو ظلم وستم جاری ہے، قید وبند کے جو پہاڑ توڑے جارہے ہیں، جس طرح اسے ایک اندھیری کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے اس سے شان محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟ کیا اسی بیٹیوں کو یہ سمجھایا جا سکتا ہے کہ جو زہرقید کی صورت میں تمہاری ماں کی رگوں میں اتار جارہا ہے اس سے سماج کے اندھیرے دور ہورہے ہیں؟ کون ہے جو ان معصوموں کو بتا سکتا ہے کہ اسلام کی خدمت کے لیے ان کی ماں پر توہین رسالت کو مقدمہ قائم کرنا ضروری تھا؟ اس مقدمے کے بعد سے پاکستان میں برکتوں اور رحمتوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ ہر چہرہ نورو ہدایت سے جگمگا رہاہے۔ وظائف و تسبیحات میں مشغول معاشرہ اب صرف قیامت کے انتظار میں بے قرار ہے۔ دین کا خوب بول بالا ہو رہا ہے۔ ہر مدرسے سے رواداری، تحمل اوربرداشت کے چشمے پھوٹ رہے ہیں جو گلی کوچوں سے راستہ بناتے ہوئے پاکستان کی قومی اسمبلی کے پھاٹک پر دستک دے رہے ہیں، جو سیاست دانوں کے لیے بھی رشد و ہدایت کا باعث بن رہے ہیں ۔گویا تمہاری ماں آسیہ بی بی کو سزا دینے کے بعد پاکستان کا ہر کونہ ایمان اوراخلاق کے زیور سے آرستہ ہو چکا ہے۔ محبت، اخوت، بھائی چارے اور امن و سکون کی صدائیں چاروں صوبوں سے بلند ہو رہی ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اے سپہ سالارِ اعظم!<br>
سیاست دان، جج حضرات سب ہی مشکل حالات میں آپ کی طرف دیکھتے ہیں۔ جمہوریت کے غسل کے لیے آپ ہی کے متبرک ہاتھوں کو چوما جاتا ہے۔ اعلیٰ ترین عدالت کے جج بھی آپ جیسے جری اوربہادر سپہ سالاروں کی ایک فون کال پر بحال ہوتے ہیں۔ آپ کے حلال شب خون کے دوران ریڈیو، ٹیلی ویژن کی دیواریں آپ کی ابرو کی ہلکی سی جنبش سے ریت کی طرح بیٹھ جاتی ہیں۔ لہٰذا آپ سے ہی عاجزانہ درخواست ہے کہ ایک لاچار اور بے بس عورت کو قید سے آزاد کرنے کا بندوبست فرمائیں تاکہ ایک معذور بیٹی اپنی ماں سے مل کر اپنی گونگی زبان میں آپ کے لیے اظہار تشکر کے الفاظ دل میں ہی دہرا سکے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">والسلام<br>
ایک خیر اندیش شہری</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%db%8c%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d8%ae%d8%b7/">ارباب اختیار کے نام کھلا خط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%db%8c%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85-%da%a9%da%be%d9%84%d8%a7-%d8%ae%d8%b7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سنی تحریک بھی اب شُکر منائے</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b3%d9%86%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%a7%d8%a8-%d8%b4%d9%8f%da%a9%d8%b1-%d9%85%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%92/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b3%d9%86%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%a7%d8%a8-%d8%b4%d9%8f%da%a9%d8%b1-%d9%85%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[یاسر چٹھہ]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2015 11:01:13 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[آسیہ بی بی]]></category>
		<category><![CDATA[جماعت خانہ]]></category>
		<category><![CDATA[حب الوطنی]]></category>
		<category><![CDATA[غازی ممتاز قادری]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[مذہبی تحریک]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=12962</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt"></div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b3%d9%86%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%a7%d8%a8-%d8%b4%d9%8f%da%a9%d8%b1-%d9%85%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%92/">سنی تحریک بھی اب شُکر منائے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">کتنی ساری باتیں اور خبریں آس پاس آنکھیں پھاڑ پھاڑ دیکھ رہی ہیں۔ سمجھ میں آنا دشوار ہو رہا ہے کہ کس کو بڑی خبر سمجھوں اور لفظوں کے پانی میں مدھانی ڈال دوں، کہ شاید اپنے گھسے پِٹے شعور کی ٹِیسوں کا کچھ تو بوجھ ہلکا ہو جائے۔<br>
اس لمبی خبری قطار میں قندوز میں اسپتال پہ امریکی طیاروں کی بمباری پہ اپنے اثر میں “گونگلوؤں سے مٹی جھاڑ” قسم کی بارک اوبامہ کی معافی؛ بھارت میں مقدس گائے پہ فرضی پھرنے والی چھری کے بعد انسانوں سے ایسا سلوک کہ جو جاں بحق حاجیوں کے جسد ہائے خاکی سےسعودیوں کے “اعلیٰ سلوک” کو بُھلانے باعث بن جائے ؛ این اے 122 لاہور میں چائے کی پیالی میں طوفان؛ کراچی پولیس کی جانب سے گمشدگان کی بازیابی پہ چھپا “افسری معطلی والا اشتہار”، کہ یہ بھی اہم ہے کہ “نا معلوم” کا ایڈیشن 2.0 اشتہاری طور پر ریلیز ہوگیا اور اگر بات گہری ہے تو کتنے ہولے اور ہلکے انداز سے “گہرائی” کھودی گئی؛ اور سپریم کورٹ کا قبلہ غازی ممتاز قادری مدظلہ کی ابدی حیات کے پروانے پہ ایک واضح فیصلہ!</div>
<div class="leftpullquote">حب الوطنی کا بزنس کلاس ٹکٹ تو ایسے ہی ہاتھ آ جائے گا کہ بھارت میں اخلاق احمد کی موت کا ماتم کرتے کرتے بالکل ذکر نہ کروں کہ گوجرہ میں کیا ہوا تھا</div>
<div class="urdutext">بہ روایتِ اردو کالم نگاری، منبر آرائی، عشق کی مفت کی لاٹری اور حب الوطنی کا بزنس کلاس ٹکٹ تو آسانی سے مل سکتا ہے کہ اوبامہ اور امریکہ کی قندوز پہ “زود پشیمان” معافی کے آس پاس اتنی مثالیں جَڑ دوں کہ انسانی حقوق کی امریکی خلاف ورزیاں اور جنگی جرائم ابو غریب جیل کی دیواریں پھلانگ کے گوانتانامو بے جا کے دھوپ سینکیں۔ ایسا ایمان افروز مضمون لکھوں کہ امریکیوں کو یاد آ جائے کہ اونچے ٹاوروں میں لگ بھگ تین ہزار اچھے پیارے انسانوں کی جانیں اپنے ہی ایک وقت کے بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت پالے ہوئے سنپولیوں اور طاقت کی لاشریکیت کی خاطر روح فروشی کی سرمستی میں پالے اژدھوں کے ہاتھوں گئی تھیں۔ پر اسی اژدھے کے نام سے کچھ اور دوسرے رنگوں کی چمڑی والے انسانوں کے “ذیلی نقصان” یا آپ کی اپنی نرم گوئی میں کہیں تو “Collateral Damage” کو آپ نے اپنی اندھی اور کانی حد تک غیر حسابی مساوات کے مطابق دسیوں، سینکڑوں اور ہزاروں سے ضرب دے چکے ہیں۔ اب تو جُھرجُھری سی آنے لگتی ہے کہ کب آئے گا وہ ٹھنڈا موسم کہ آپ کو لاکھوں سے ضرب دئیے بغیر شانتی ہو جائے گی؟<br>
حب الوطنی کا بزنس کلاس ٹکٹ تو ایسے ہی ہاتھ آ جائے گا کہ بھارت میں اخلاق احمد کی موت کا ماتم کرتے کرتے بالکل ذکر نہ کروں کہ گوجرہ میں کیا ہوا تھا، بس اتنا ذہن میں رکھوں کہ لاہور کے بادامی باغ میں صرف بسوں کا اڈا ہی ہوتا ہے اور ہر اڈے کا مینیجر کوئی مجید بٹ ہی ہوتا ہے، باقی وہاں کچھ نہیں ہوا تھا۔ اس پُرخار یاد کو دفع دور کروں کہ گوجرانوالہ میں ماں کے پیٹ میں ہی ماں سمیت بچہ جلا دیا گیا تھا، لاہور میں “جماعت خانہ” کے ساتھ ایمان کی حرارت والوں نے کیا حرکت فرمائی تھی، کوٹ رادھا کشن میں دو انسانوں کے لئے دوزخ کس نے برپا کی تھی۔ آسیہ بی بی کے ساتھ کیا ہوا، رمشا کنول کس گڑیا کا نام ہے؟ حب الوطنی کا بزنس کلاس ٹکٹ جب ہی کہ ملے گا کہ ان معاملات پہ میں اپنے ضمیر اور اپنے گریبان کے نالے نہ سنوں، ایک گُل بن جاؤں، بس ہمہ تن گوش رہوں۔ البتہ شیوسنا کی کرکٹ کی پچوں کو اکھاڑنے، ہمارے فنکاروں کے گائیکی کے پروگراموں کو “ہندو توا” کے بل بل لے جانے کا ڈھنڈورا پیٹوں؛ مودی کے گجرات کی خوفناک فلم کا احمد قریشی چوعرقہ بناؤں! لیکن یہ مانتے ہوئے کہ آپ سائبر سپیس کے قاری ہیں اور دماغ پہ زور دینا گوارا نہیں کرتے، بالواسطہ کہی بات کو مشکل طرز تحریر جان کے ردکرتے ہو تو کھلے بندوں کہے دیتا ہوں کہ میرے اپنا دیس میری اپنی روح اور میرا اپنا جسم ہے۔ مجھے پہلے اس کے رِستے نا سوروں کا ادراک کرنا ہے کہ کبھی تو علاج اور دوا کا بندوبست ہوسکے۔ مجھے کہیں اور کی، آر پار کی غلاظتیں اور بدبو ئیں سونگھ کے اپنے آس پاس کی بدبو اور تعفن کے احساس کو گہری نیند نہیں سلانا!</div>
<div class="leftpullquote">ایک اور مذہبی تحریک جسے جناب ثروت اعجاز قادری چلاتے ہیں اس نے اپنے لیے روزگار ڈھونڈ لیا ہے کہ وہ ممتاز قادری مدظلہ کی شہادت کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لیے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل دائر کرے گی۔ بس اللہ کسی تحریک کو بے روزگار نہ کرے۔</div>
<div class="urdutext">رہی بات منبر آرائی اور “عشق” کی مفت کی لاٹری کی تو جناب قادری کو میں غازی لکھوں، حضرت جانوں، ان کے سائے تک کو زمیں پے نا پڑنے دوں! کہ عاشق کا تو جنازہ بھی دھوم سے نکالنے کے منشور دیئے گئے ہیں۔ پر فوراً غلط ہو جاؤں جو یہ بولوں کہ شہادت اگر ہے مطلوب و مقصود مومن تو پھر یہ ایڈووکیٹ نذیر اختر صاحب اس عاشق بامراد، غازی ممتاز قادری کو گناہوں بھری اس دنیا میں مزید رکھنے پہ مُصر کیوں ہیں؟ کاہے کو اپیلیں دائر کرتے ہیں کہ “سزا” کم کی جائے۔ بھلا یہ خود سے ایک بلاسفیمی نہیں ہے کہ اس “جزا” کو سزا کہا جا رہا ہے؟ بلکہ عرض ہے کہ جو قبلہ ممتاز قادری کو بذریعہ تقاریر جمعہ اس “سعادت” کی طرف لے کے آئے، اور عدالتوں کی پیشی کے دوران پھول کی پتیاں نچھاور کرتے رہے ہیں انہیں بھی ساتھ ہی مطلوب و مقصودِ مومن کی خوبصورت دنیا کی طرف مراجعت کی دعوت دی جائے۔ لیکن ایک اور مذہبی تحریک جسے جناب ثروت اعجاز قادری چلاتے ہیں اس نے اپنے لیے روزگار ڈھونڈ لیا ہے کہ وہ ممتاز قادری مدظلہ کی شہادت کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لیے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل دائر کرے گی۔ بس اللہ کسی تحریک کو بے روزگار نہ کرے۔ اس تحریک کے پاس فراغت تھی باقی تو کچھ افغانستان کے کلمے سیدھے کرانے، کچھ لال قلعے پر جھنڈا لہرانے، کشمیر کو پاکستان بنانے، غزوہ ہند برپا کرنے کے مشن پر مامور ہیں اور کچھ تہران کو عالم مشرق کا جنیوا بنانے کی لیے دن کو رات کئے ہوئے ہیں، کچھ بھارت کو سیکولر اور پاکستان کو عمامہ پہنانے میں ہمہ تن مصروف ہیں اور سر کھجانے کی فرصت نہیں ان کے پاس، اور اب بچی کھچی سنی تحریک کو بھی کام مل گیا ہے۔ اللہ بڑا بے نیاز ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b3%d9%86%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%a7%d8%a8-%d8%b4%d9%8f%da%a9%d8%b1-%d9%85%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%92/">سنی تحریک بھی اب شُکر منائے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b3%d9%86%db%8c-%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%a7%d8%a8-%d8%b4%d9%8f%da%a9%d8%b1-%d9%85%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
