زندہ قبریں

زندہ قبریں
ہم اندر ہی اندر
نامعلوم اترائیوں میں پھسلتے جا رہے ہیں
مسلسل فرد ریزی سے
ہمارے جسموں کے پہاڑ آدھے رہ گئے ہیں
اور روحیں چوتھائی سے بھی کم ۔۔۔۔۔

 

منافقت کے جراثیم
ہمارے تولیدی نظام میں سرایت کر چکے ہیں
ہم نسل در نسل سماجی بالشتیے پیدا کرتے ہیں
اور طویل قامتی کے لیے
درآمدی بیساکھیوں کا بیوہار
اور خوشامدی چُوزوں کی
جلد بڑھوتری کے لیے مقوی راتب بناتے ہیں

 

ہم اپنے مُردوں کے انتظار میں کھدی ہوئی
زندہ قبریں ہیں
اور اپنے پُر ہجوم جنازوں کو
دیکھ دیکھ کر خوش ہونے والے
مُردہ وجود!!

Image Robert ParkeHarrison




جنگِ ستمبر اورغلام جیلانی اصغر کے مشاہدات

ستمبر 1965ء کی جنگ، جو ہندوستان کی طرف سے بغیر کسی اعلامیے کے شروع کی گئی، صرف ایک ہی محاذ پر پاکستان پر مسلّط نہ کی گئی بلکہ یکے بعد دیگرے کئی محاذوں پر گھمسان کی لڑائی شروع ہو گئی۔ یہ مشکل اور اچانک فیصلہ کن مرحلہ درپیش تھا جسے فوجی قیادت نبھارہی تھی۔ سترہ روز جاری رہنے والی اس جنگ نے بہت سے سوالات دونوں ملکوں کے عوام کے لیے چھوڑے۔ چونکہ پاکستان کے لیے یہ دفاعی حکمتِ عملی کا امتحان تھا ہماری فوج نے پوری قوت سے اپنے دفاعی مقاصد کو عملی جامہ پہنایا۔ اُردو شاعری کے جنگِ ستمبر کے پسِ منظر میں ابھرنے والی نظموں کا مطالعہ کریں تو نظر آتا ہے کہ یہ صرف فوج تک محدود نہ تھا بلکہ اس دفاعی ردّعمل کا جواب ہمارے شعراء کے ہاں بھی موجود ہے۔ وہ باقاعدہ محاذوں کی تفصیلات سے باخبر تھے اور ان سے وابستہ جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے میں جذباتی پیرائے کی معراج پر ہیں۔

 

اُردو شاعری کے جنگِ ستمبر کے پسِ منظر میں ابھرنے والی نظموں کا مطالعہ کریں تو نظر آتا ہے کہ یہ صرف فوج تک محدود نہ تھا بلکہ اس دفاعی ردّعمل کا جواب ہمارے شعراء کے ہاں بھی موجود ہے
چونکہ اس جنگ نے کشمیر کے مسئلے سے جنم لیا تھا اس لیے یہ سوال بھی دنیا بھر کے دانشوروں کا بنیادی سوال بنتا جا رہا تھا کہ یہ جنگ کیوں ہو رہی ہے اور کشمیر کا فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق کیوں نہیں ہو رہا، ورنہ یہ جنگ طول پکڑتے پکڑتے تیسری دنیا سے نکل کر عالمی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
لارڈ برٹرینڈرسل نے لکھا تھا:

 

"یہ بڑا ضروری ہے کہ اس جنگ سے نزاع کا کوئی مستقل حل نکلے۔ نہ یہ کہ مزید سترہ سال تک یہ ناسور رِستا ہی رہے۔ اگر ایساحل نہیں نکلتا تو پھر لازمی طور پر ایشیا میں کوئی بڑی جنگ ہو گی۔ لہٰذا ضروری ہے کہ استصواب کرادیا جائے کہ کشمیری ہندوستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ یا آزاد رہنا چاہتے ہیں، جس کی ضمانت اقوام متحدہ دے۔ بہرحال یہ حق کشمیریوں کو ملنا چاہیے۔"

 

(برٹر ینڈ رسل، لارڈ: مشمولہ مضمون، بھارت کی جارحیت، نقش "جنگ نمبر"،مدیر: شاہد احمد دہلوی، ص 270)

 

یہاں یہ سوال پہلے جنم لیتا ہے کہ کیا پاکستان پر بھارت کی یہ کھلے عام جارحیت کسی منصوبہ بندی کے بغیر اور بلا اشتعال تھی؟ کیا پاکستان اس سے بالکل بے خبر تھا؟ پاکستان بھارت کا مشترکہ بارڈر طویل ترین سرحد پر مشتمل ہے۔ سب سے پہلے رن آف کچھ کا معرکہ درپیش ہوا۔ یہ مرکز کے علاقوں سے دور افتادہ علاقہ تھا۔ ہفت روزہ ہلال راولپنڈی کے ایک شمارے میں لیفٹیننٹ کرنل غلام جیلانی اصغر نے چند شواہد بتائے ہیں:

 

"مارچ/ اپریل 1965ء میں بھارت کی طرف سے رن آف کچھ میں جارحانہ کارروائی کے بعد اس کے عزائم واضح ہو چکے تھے۔ لیکن مئی 1965ء سے اوائل ستمبر 65ء تک پھیلے ہوئے مندرجہ ذیل واقعات پاکستان کو بھارت کے ارادوں سے باخبر رکھنے کے لیے کافی تھے۔

 

پاکستان بھارت کا مشترکہ بارڈر طویل ترین سرحد پر مشتمل ہے۔ سب سے پہلے رن آف کچھ کا معرکہ درپیش ہوا۔ یہ مرکز کے علاقوں سے دور افتادہ علاقہ تھا۔
1۔ بھارتی وزیر اعظم کی یہ دھمکی کہ وہ اپنی مرضی کا میدانِ جنگ (محاذ) منتخب کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
2۔ مجاہدین کا مقبوضہ کشمیر میں لانچ کیا جانا (آپریشن جبرالٹر)۔
3۔اکھنور پر قبضہ کر کے بھارت کی پانچ ڈویژن فوج کو، کہ جو مقبوضہ کشمیر میں موجود تھی، محصور کرنے اور اس کی مواصلاتی لائن کاٹ ڈالنے کا قصہ (آپریشن گرینڈ اسلام)۔
4۔ 4 ستمبر 1965ء کو بھارتی وزیر اعظم کا پارلیمنٹ میں یہ بیان کہ "پاکستان کے مسلح دستے بین الاقوامی سرحدوں کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔"‘
۵۔ 6؍ ستمبر 1965ء کو پاکستانی جنرل ہیڈ کوارٹرز (ایم او ڈائریکٹوریٹ) کی طرف سے تمام بین الاقوامی سرحدوں پر بڑی ہولڈنگ فارمیشنوں کو یہ سگنل دینا کہ وہ فی الفور ضروری "دفاعی اقدامات" کر لیں۔
اگر مندرجہ بالا صورتِ حال میں بھی کسی کو یہ اصرار ہو کہ بھارت نے 6ستمبر کو پاکستان پر "بے خبری" میں حملہ کر دیا تو وہ انہی صفحات پر اپنے خیالات کا اظہار فرمائے۔ "

 

(غلام جیلانی اصغر: مشمولہ مقالہ، ۶؍ ستمبر ناگہانی حملہ، ہفت روزہ ہلال، راولپنڈی، شمارہ 8 تا 12، جلد 31، ص 161)

 

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان بھارت کے جارحانہ عزائم کی خبر، مشکوک حالت میں ہی سہی ضرور رکھتا تھا۔ رن کچھ کا معرکہ بہت سنگین صورت اختیار کر سکتا تھا۔ بھارت کا ارادہ تھا کہ رن کے علاقے سے گزرتے ہوئے سندھ کے بڑے شہر حیدرآباد پر قبضہ کر کے پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ اس کے جواب میں پاکستان شمالی علاقے خالی کر کے مغربی محاذ پر اپنی توجہ مرکوز کرے گا جس پر سیالکوٹ، لاہور کے محاذ کھولنے آسان ہو جائیں گے۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے مغربی پاکستان بھارت کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گا۔ مگر یہ منصوبہ بندی کامیاب نہ ہو سکی۔



وزیر کوٹ کسی جگہ کا نام نہیں

وزیر کوٹ کسی جگہ کا نام نہیں
وزیر کوٹ کسی جگہ کا نام نہیں
تو پھر وہ کیا ہے؟
کس اٹلس کا علاقہ ہے؟
کون سی نقطہ گاہ ہے؟
جہاں وہ دھرتی کا ابھار بن کر
حالتِ دوام میں لیٹا ہوا
زمانوں کا سکوت نظما رہا ہے

 

وزیر کوٹ، جہاں میں کئی بار گیا ہوں
اور پاپلر کی لمبی قطاروں کے درمیان
ایک مدبر سائے کے ساتھ سیر کرتے ہوئے
کتنی جگہوں اور نا جگہوں سے گزرا ہوں
جہاں کتابوں کے ڈھیر میں بچھے ہوئے
صوفوں پر
لوگوں کے بجائے لفظوں کو
آرام کرتے ہوئے دیکھا
اور بُھنے ہوئے پنیر اور چائے کی تواضع میں
دو چھوٹی چھوٹی آنکھوں کو
آنے والوں کی محبت
اور خوشی سے لبریز پایا

 

وزیر کوٹ کسی جگہ کا نام نہیں
وزیر کوٹ ایک شخص تھا
شخصیت سے اٹا اٹ
سایوں، باتوں اور لفظوں سے بھرا ہوا
جو کسی کو خالی نہیں ہونے دیتا تھا!

 

(وزیر آغا کی یاد میں)



عشرہ/ میں اور کراچی کے حالات کا رخ

[blockquote style="3"]

عشرہ -- دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
میں اور کراچی کے حالات کا رخ
چائے رس کھا کے گھر سے نکلا
بڑے بھائی کے بیان نے راتوں رات حالات کا رخ بدل دیا تھا

 

بوہنی ہونے تک دوسری بیڑی پی گیا تھا میں
تخت لہور سے دھاڑ سنائی دی اور پھر گیا حالات دا منہ ول قبلہ شریف

 

ایک تو سورج سر پر دوسرے دھندا ایک دم سے مندا
کپتان نے تیز سوئنگ سی پھینکی، بال بال بچا حالات کا جبڑا

 

لنچ بریک میں ڈبل چائے پی کڑک، ایمان سے مزا آ گیا
چھوٹے بھائی کی وضاحت نے حالات کا رخ پھر پھیر کے رکھ دیا

 

بمشکل آنکھ لگی، پڑوس میں ٹی وی پر جمے ہوئے تھے سب
حالات کا رخ موڑنے اپنی طرف، اپنی طرف سے



عشرہ / اپنی جنگ احتیاط سے چنیں

[blockquote style="3"]

عشرہ -- دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اپنی جنگ احتیاط سے چنیں!
ناداری سے جنگ
یا رام کی رحیم سے جنگ

 

بیماری سے معرکہ
یا گورے کا کالے پر حملہ

 

استحصال سے لڑائی
یا امریکہ کی چین پر چڑھائی

 

ظلم و جبر سے جھگڑا
یا مرد و زن کا اِٹ کھڑکا

 

جہالت سے جھڑپیں
یا خیالی دوستوں کے ساتھ فرضی دشمنوں کے خلاف غزوات



حقائق نامہ اورنج لائن میٹرو ٹرین پراجیکٹ

[blockquote style="3"]

یہ چشم کشا دستاویز لاہور کے ثقافتی ورثے، آبادی اور شناخت کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے رضاکاروں کی تحقیق اور محنت کا نتیجہ ہے۔ اورنج لائن میٹرو منصوبے کے تباہ کن اثرات سے لاہور کو محفوظ بنانے کے لیے جدوجہد کرنے والے ان رضاکاروں کی جانب سے جاری کیے گئے اس حقائق نامے کو مفاد عامہ کی غرض سے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔ ہم قارئین سے التماس کرتے ہیں کہ ان حقائق کو پڑھیے، سمجھیے اور پھر اورنج لائن میٹرو ٹرین کے حوالے سے کوئی فیصلہ کیجیے۔ لاہور کا مستقبل ہمارے ہاتھوں میں ہے۔

[/blockquote]

حقائق نامہ لاہور ماس ٹرا نزٹ سسٹم

 

2007 میں چار لائنوں کے بنائے اور ڈیزائن کئے گئے منصوبے پر من و عن عمل نہیں کیا گیا ۔
گرین لائن: لمبائی 27 کلو میٹر: یہ منصوبہ دراصل ٹرین کا منصوبہ تھاجسے میٹرو بس منصوبے میں تبدیل کردیا گیا۔ اپنی اصل شکل میں اس منصوبے کو ڈیزائن کے مطابق مال روڈ سے منسلک ہونا تھا۔ میٹرو بس کا تعمیر شدہ منصوبے اصل منصوبے کی نسبت صرف ایک تہائی مسافروں کی سفری ضروریات پوری کرنے کی گنجائش رکھتا ہے اور اپنی بناوٹ کے لحاظ سے تادیر قائم نہیں رہ سکتا اسے بالآخر ٹرین منصوبے میں تبدیل کرنا پڑے گا۔
پرپل لائن: لمبائی 19 کلومیٹر: داتا دربار سے لے کر غازی روڈ تک بشمول لکشمی چوک، پنجاب اسمبلی،آواری ہوٹل،واپڈا ہاؤس، لارنس ہال،گورنر ہاؤس، ایچی سن کالج اور ایئر پورٹ۔
بلیو لائن: لمبائی 24 کلومیٹر: ایڈن ایونیو سے لےکر چوبرجی تک بشمول میانی صاحب قبرستان، لاہور کالج، کنیئرڈ کالج، سروسز ہسپتال،علامہ اقبال میڈیکل کالج،برکت مارکیٹ۔

 

اصل منصوبہ مربوط اور جامع ماس ٹرانزٹ نظام پر مبنی تھا
اصل منصوبہ مربوط اور جامع ماس ٹرانزٹ نظام پر مبنی تھا

حقائق نامہ اورنج لائن میٹرو ٹرین پراجیکٹ:

 

کل لمبائی: 27.1کلومیٹر بشمول 1.7 کلومیٹر جزوی زیر زمین( کٹاؤ+چھت) اور25.4 کلومیٹر بزریعہ پل حالانکہ اصل ڈیزائن میں اندرون شہر کا 7 کلومیٹر کا حصہ زیرزمین بننا تھا۔

 

غلط اور کل لاگت سے کم اعداد و شمار:

 

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق PC-1 منصبے کی لاگت 162 ارب روپے ہے جبکہ منصوبے کے لئے واگزار کرائی گئی زمین کی قیمت 21 ارب 46 کروڑ روپے اور مختلف اداروں کی تنصیبات کی منتقلی اور کام کی غرض سے اخراجات جن میں پی،ٹی،سی،ایل اور ایل ڈی اے کا خرچ9.5 ارب روپے، ٹریفک مینجمنٹ کے لئے2.57 ارب روپے، میڈیا مہم کے لئے 2.57 ارب روپے اور پی،ایح،اے کے لیے 5.15 ارب روپے اور دیگر متفرق اخراجات کے لئے مختص کردہ 1.03 ارب روپے بھی شامل کریں تو اس منصبے کی اصل لاگت دستیاب دستاویزات کے حساب سے 192.2 ارب روپے بن جاتی ہے جبکہ خبروں کے مطابق اس منصوبے کی لاگت 217 ارب روپے ہے ۔

 

اس لاگت میں گھروں کی مسماری،سرمائے کی قیمت سود یا قرض کی صورت میں، ریڑھی پھیری لگانے والوں کے نقصان کا تخمینہ، گلی محلوں اور ورثے کی توڑ پھوڑ اور انہیں کمزور کرنے اور ماحول اور صحت سے متعلقہ مسائل کی قیمت شامل نہیں ہے اس کے باوجود سرکاری طور پر بتائی گئی لاگت سے کہیں زیادہ رقم اس منصوبے پر خرچ کی جائے گی۔ اس منصوبے کے لئے 74 میگا واٹ بجلی کی ضرورت ہو گی جو اس منصوبے کو چلانے کے لیے درکار رقم میں اضافے کے ساتھ ساتھ، لوڈ شیڈنگ میں اضافے کا بھی باعث بنے گی۔

 

کمرشل قرضہ جات کا معاہدہ خفیہ رکھنا:

 

ایگزم بنک چین کے ساتھ تجارتی معاہدے کو بین الحکومتی فریم ورک کی آڑ میں خفیہ رکھا گیا جبکہ 162.6 ارب روپے کے اس قرض میں 92.2 ارب روپے چینی فرموں سے سامان کی خریداری کے لیے استعمال کیا جانا ہے جبکہ اس قرض پر صرف پہلے سال ساڑھے پانچ ارب روپے کا سود ادا کرنا پڑے گا۔

 

چودہ ارب سالانہ سبسڈی:

 

یکطرفہ کرایہ کرایہ بیس روپے وصول کیا جائے گا تو اس کے لیے سالانہ 14 ارب روپے کی سبسڈی دینی پڑے گی جو لاہور کے پانچ بڑے سرکاری ہسپتا لوں( میو، سروسز، جناح، شیخ زید اور جنرل ہسپتال) کے سالانہ بجٹ کے برابر ہے۔ پنجاب کے 16-2015 کے ترقیاتی بجٹ کے مطابق واٹر سپلائی اور سیوریج کا بجٹ 24 ارب روپے ہے جبکہ تعلیم کا بجٹ 55.5 ارب روپے اور صحت کا بجٹ30.7 ارب روپے ہے۔

 

اورنج ٹرین پر دی جانے والی سبسڈی لاہور کے ہسپتالوں کے سالانہ بجٹ کے برابر ہو گی
اورنج ٹرین پر دی جانے والی سبسڈی لاہور کے ہسپتالوں کے سالانہ بجٹ کے برابر ہو گی

کاروباری مراکز اور ذرائع معاش کی توڑُپھوڑ:

 

ملتان روڈ،میکلوڈ روڈ اورجی ٹی روڈ پر ناقص منصوبہ بندی اور عجلت کے سبب 27 کلومیٹر پر تعمیر کی وجہ سے ہزاروں دکانیں/کاروباری مراکز اور سینکڑوں ریڑھی بان،خوانچہ فروش بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور تعمیراتی کام کے پہلے چھ ماہ میں ان کے نقصان کا تخمینہ اندازا 21 ارب روپے ہے۔

 

اس منصوبے کی تعمیر سے اب تک ہونے والا نقصان
اس منصوبے کی تعمیر سے اب تک ہونے والا نقصان

ورثے کی تباہی:

 

نیسپاک منصوبے کے موجودہ ڈیزائن اور راستے کی بدولت قیمتی ورثے کی تباہی کا خدشہ ہے۔ تاریخی ورثہ شمار کیے جانے والے 11 میں سے 5 تاریخی مقامات جن میں دربار بابا موج دریا سرکار، لکشمی بلڈنگ، سینٹ انڈریو چرچ، جی۔ پی۔ او اور سپریم کورٹ رجسٹری کی بلڈنگ اور شالامار ہائیڈرولک ورک شامل ہیں کو جزوی یا مکمل مسمار کیے جانے کا اندیشہ ہے جکہ باقی ماندہ چھ تاریخی مقامات اور عمارات جن میں گلابی باغ، بدھو کا آوا، شالیمار باغ، چوبرجی، جی- پی- او، ایوان اوقاف اور کیتھڈرل چرچ شامل ہیں ہمیشہ کے لیے میٹرو ٹرین کے پیچھے چھپ کر اپنی اصل شان و شوکت کھو بیٹھیں گے۔ اسی طرح انگریز دور کے تعمیر شدہ دیگر اور بہت سے مقامات اور عمارتیں جن میں سینٹ پال چرچ بھی شامل ہے تباہ کیے جا چکے ہیں۔ اس تاریخی نقصان کا ازالہ کسی طرح ممکن نہیں، ان تاریخی مقامات کا کوئی نعم البدل نہیں۔ اس بابت لاہور ہائیکورٹ اوریونیسکو کی واضح ہدایات موجود ہیں کہ ان تاریخی مقامات اور عمارات کی حدود میں 200 فٹ تک تعمیر اور کھدائی نہیں کی جا سکتی۔ ان احکامات کی خلاف ورزی سے لاہور کو مستقل طور پر سیاحتی آمدن سے محروم کرنے کی سازش کی جارہی ہے جبکہ ترکی سالانہ پچیس سے تیس ارب ڈالر صرف سیاحت سے کماتا ہے ۔

 

اورنج میٹرو کا پُل تاریخی عمارات کو پس منظر میں دھکیل دے گا
اورنج میٹرو کا پُل تاریخی عمارات کو پس منظر میں دھکیل دے گا

آبادیوں کی مسماری اور بے دخلی:

 

اورنج میٹرولائن کے لیے جاری تعمیرات کی وجہ سے پورے روٹ پر رہائشی اور کمرشل عمارات منہدم کی گئی ہیں۔ صرف پرانی انارکلی میں واقع کپور تھلہ ہاؤس کی مسماری سے دس ہزارافراد اور دربار موج دریا کے ارد گرد سال ہا سال سے آباد ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ ان آبادیوں میں موجود سکول، مساجد، امام بارگاہیں،ڈاک خانے اور کلینک تک مسمار کر دیے گئے ہیں۔ اسی طرح میکلوڈ روڈ، نکلسن روڈ اور پیرا شوٹ کالونی میں بھی یہی عمل دہرایا جا چکا ہے۔

 

بے گھر کیے گئے افراد کے معاوضے کا معاملہ:

 

بے گھر کیے گئے افراد میں سے صرف انہی افراد کو معاوضے ادا کیے گئے ہیں جن کے پاس ملکیتی کاغذات موجود تھے۔ معاوضے کی ادائیگی کے لیے مختلف مقامات پر مختلف طریق کار اپنائے گئے۔ معاوضے کی شرح بھی بازاری نرخ کے حساب سے بے حد کم ہے۔ بنگالی بلڈنگ میں ستر سال مقیم آٹھ سے دس افراد پر مشتمل کنبوں کو فی خاندان 10 لاکھ کے حساب سے ادائیگی کی گئی ہے، اس رقم میں لاہور میں کسی جگہ چھوٹے سے چھوٹا گھر بھی نہیں خریدا جا سکتا۔ ایسا ہی برتاو مہاراجہ بلڈنگ کے مکینوں کے ساتھ بھی روا رکھا گیا ہے۔

 

قوانین کی خلاف ورزی:

 

اس بات کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں کہ کس طرح سے حکومت نے زمین مالکان کے پاس ہائیکورٹ کا حکم امتناعی موجود ہونے کے باوجود اس منصوبے کے لیے زمین واگزار کروانے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ گھروں کی مسماری کے لئے لوگوں کو ڈرایا اور دھمکایا گیا ہے ۔ ریلوے کالونی کے بہت سے رہئائشیوں کو کسی قسم کا معاوضہ نہیں دیا گیا۔ زمین واگزار کرانے کے قانون کہ مطابق جائیداد کی قیمت کے 115 سے 125 فیصد کے حساب سے ادائیگی کی جانی چاہیئے۔ زمین کی قیمت کے علاوہ کاروبار کے نقصان اور نئی جگہ کی منتقلی کے اخراجات کی ادائیگی بھی حکومت کی ذمہ داری ہے مگر ان قانونی ضوابط پر عمل نہیں کیا گیا۔

 

آئین پاکستان، بین الاقوامی ورثے کے تحفظ سے متعلق کنونشن سمیت متعدد عالمی و ملکی قوانین کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے معلومات تک رسائی کے قانون، عالمی کنونشن برائے اقتصادیات اور سماجی و ثقافتی حقوق سے متعلق عالمی قوانین اور معاہدوں کو بھی پامال کیا گیا ہے۔

 

ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی:

 

اس منصبے کے لئے ماحولیاتی تبدیلیوں کے متعلقہ ادارے ای۔ آئی۔ اے کی مرتب کردہ رپورٹ جعلی تھی اور حقائق کے برعکس تھی۔ EIA کی رپورٹ کے مطابق اورنج ٹرین کے پروجیکٹ کی خاطر620 درخت کا ٹے گئے جبکہ ان کی اصل تعداد 3653 تھی۔

 

مجرمانہ غفلت کی وجہ سے اموات:

 

The Environment Mitigation and Management Plan (EMMP) کے قوانین پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے اس منصوبے کی تعمیر شروع ہونےسے اب تک 30 اموات واقع ہو چکی ہیں۔ ان اموات کے علاوہ معاوضے نہ ملنے اور غیر یقینی صورت حال کے باعث خودکشیوں کے واقعات اور عام شہریوں کی اموات بھی رپورٹ کی گئی ہیں۔ منصوبے پر کام کرنے والے مزدوروں کی تربیت نہ ہونے، حفاظتی تدابیر پر عمل نہ کرنے، تعمیر کی جگہ کو مکمل طور پر نہ ڈھانپنے اور ٹریفک کی روانی کے دوران بھاری مشینری کو گزارنے سے بھی حادثات پیش آئے ہیں۔ مشینری اور سازوسامان لانے والے ڈرائیور بھی تربیت یافتہ نہیں جو سنگین حادثات کا باعث بن سکتا ہے۔

 

لاھورماس ٹرانزٹ سسٹم کی تباہی:

 

اس منصوبے کے اصل ڈیزائن کے مطابق٪17 ٹریفک نے گرین لائن سے اورنج لائن پر منتقل ہونا تھا لیکن ڈیزائن میں تبدیلی کے بعد اب ایسا ہونا ممکن نہیں۔ اس خامی کی وجہ سے اس منصوبے کی تکمیل کے بعد بھی ٹرانسپورٹ کی ضروریات کا پورا ہونا تقریباً ناممکن ہے۔

 

کیا حکومت کے پاس شہریوں کے ان سوالات کے جواب ہیں؟

 

پنجاب اسمبلی میں اتنے بڑے منصبے پر بحث کیوں نہیں ہوئی؟ اور نہ ہی عوامی سطح پر کوئی بحث کی گئی؟
دو سال کی تحقیق کے بعد بنائے گئے منصوبے کے ڈیزائن میں کس نے اور کیوں تبدیلی کی؟
ایک غیر پائیدار اور بے ربط ٹرانسپورٹ منصوبے کو اہل لاہور پر مسلط کیوں کیا جا رہا ہے؟
ماحولیات کے تحفظ کے ادارے کے پاس اس منصوبے سے ماحول کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لینے کی صلاحیت کیوں نہیں ہے۔
محمکہ آثار قدیمہ نے اسپیشل پریمسسز ایکٹ اور محکمہ آثار قدیمہ کی مقرر کردہ 200 فٹ کی حدود میں تعمیر کی ممانعت کے باوجود تعمیر اور کھدائی کی اجازت کیوں اور کس طرح دی؟
اورنج ٹرین کا منصوبہ لاہور کی صرف ٪2 آبادی کی ٹریفک ضرویرت کو پورا کرتا ہے، لاہور اور پنجاب کی باقی ماندہ آبادی کی ٹرانسپورٹ ضروریات کون پوری کرے گا؟

 

قابل عمل متبا دل بذریعہ ٹنل بورنگ ٹیکنالوجی :

 

اورنج ٹرین کا اصل منصوبہ ماحول اور تاریخی ورثے کو سامنے رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا 7.1 کلو میٹر حصہ زیر زمین تھا۔ اگر اس ڈیزائن میں چند کلو میٹر کا مزید اضافہ کر دیا جائے اور اس کے اسٹیشنز کو بھیزمین کی سطح پر تعمیر کرنے کی بجائے زیرزمین تعمیر کیا جائے تو لاہور میں ایک ایسی اورنج ٹرین بن سکتی ہے جو چوبرجی سے شروع ہو کر شالامار باغ تک زیر زمین بن سکتی ہے۔ ایسا کرنے سے نا صرف اندرون شہرگھروں اور دکانوں کو گرانے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی بلکہ کنکریٹ کا استعمال نہ ہونے کے سبب یہ منصوبہ ماحول دوست بھی ہو گا۔ اس منصوبے کی لائنز باہم منسلک ہوں گی جس کی وجہ سے ٹریفک کی ضروریات بہتر انداز میں پوری ہوں گی۔ اس شعبے میں سرمایہ کاری کے ذریعے بسوں کی تعداد میں اضافے سے پیدل چلنے والوں کو بھی آسانی ہو گی۔

Image Courtesy: Lahore, Metro aur Aap, Daily Times, Photo.app.com.pk




گلگلت بلتستان کی ترجمانی؛ رپورٹر ٹائمز کے فیس بک صفحات ہیک کر لیے گئے۔ مدیر کے نام خط

Letter-to-Editor

محترم مدیر!

 

رپورٹر ٹائمز گلگت بلتستان کی خبریں عوام الناس تک پہنچانے کا ایک آن لائن ذریعہ ہے۔ یہ بلاگ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ابلاغ عامہ اور صحافت کے طالب علموں کی جانب سے شروع کیا گیا تھا۔ ہماری کوشش یہی رہی ہے کہ ہم گلگت بلتستان کی حقیقی صورت حال عام پاکستانیوں تک پہنچائیں جن تک محض ریاستی پروپیگنڈا پہنچ پاتا ہے۔ یہ بلاگ اور اس سے منسلک فیس بک صفحات گلگت بلتستان کے عوام کے مسائل سامنے لانے کے لیے وقف رہے ہیں اور ہم نے کوشش کی ہے کہ لوگوں کو سچائی سے آگاہ کیا جائے۔ گلگت بلتستان اس وقت عالمی توجہ کا مرکز ہے اور اقتصادی راہداری کی گزرگاہ ہونے کی وجہ سے یہاں ریاست کی جانب سے شہری آزادیوں اور سیاسی جدوجہد پر غیراعلانیہ پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ اس صورت حال میں مقامی آبادی کے مطالبات، مسائل اور شکایات باقی پاکستان تک پہنچانے کا عمل متاثر ہوا ہے۔

 

ایک جانب ذرائع ابلاغ عامہ پر ریاستی پروپیگنڈا جاری ہے اور دوسری جانب رپورٹر ٹائمز جیسے معمولی آن لائن پلیٹ فارم نوجوانوں اور مقامی کارکنوں کو اپنی آواز اٹھانے اور حقائق سامنے لانے کا موقع فراہم کر رہے تھے۔ کیوں کہ ہمارا نصب العین ہی یہ ہے "Media can't be free, but Journalist can" اور اسی نصب العین کے تحت ہم نے اقتصادی راہداری، عوامی ایکشن کمیٹی کے عہدیداران کی گرفتاریاں اور دیگر موضوعات پر خبریں اور تجزیے شائع کرنا شروع کیے۔ ہماری یہ جرات اظہار بعض حلقوں کو پسند نہیں آئی۔

 

رپورٹر ٹائمز کے فیس بک صفحات ہیک کر کے ان کے نام تبدیل کر دیے گئے ہیں
رپورٹر ٹائمز کے فیس بک صفحات ہیک کر کے ان کے نام تبدیل کر دیے گئے ہیں

حال ہی میں ہمارے بلاگ سے منسلک دو فیس بک صفحات "ساڈا اپنا بہاولپور" نامی کسی ہیکر کی جانب سے ہیک کر لیے گئے ہیں اور ان کی جانب سے ہمیں دھمکی آمیز پیغامات بھی وصول ہو رہے ہیں۔ ہیکرز کی شناخت اور مقاصد واضح نہیں تاہم ان کے انداز اور دھمکیوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ ہماری شائع کردہ خبروں سے ناخوش ہیں اور ہماری آواز دبانا چاہتے ہیں۔ ہمارے فیس بک کے پیجز کے نام بھی بدل دئیے گئے ہیں تاہم پیجز پر موجود رپورٹر ٹائمز کا مواد اب بھی موجود ہے۔ ہمارے اور گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے لیے یہ صورت حال تشویش ناک ہے۔ یہ صحافت اور آزادی اظہار رائے پر حملہ ہے اور گلگت بلتستان کے عوام کی مشکلات سامنے لانے والوں کے لیے ایک طرح کی دھمکی بھی ہے۔

 

آپ کے جریدے کی توسط سے ہم اپنے قارئین اور تمام پاکستانیوں تک یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ ہمارے قارئین ہماری خبروں اور دیگر مواد تک ہمارے نئے فیس بکصفحے کے ذریعے رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ امید ہے سچ اور جرات اظہار کا یہ سفر جاری رہے گا۔

 

فقط
علی احمد جان
مدیر رپورٹر ٹائمز



طبقاتی جدوجہد کیا ہے؟

طبقاتی کشمکش، طبقاتی جدوجہد اور طبقاتی جنگ جیسی اصطلاحات دراصل اُس مخاصمت اور کشیدگی کے اظہار کے لیے مستعمل ہیں جو دو یا دو سے زائد طبقات کے افراد کے درمیان اقتصادی و سماجی مفادات کے حصول کے لیے پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی طبقاتی کشمکش سماج میں بنیاد تبدیلیوں کا سبب بنتی ہے۔ طبقاتی کشمکش سماج میں کئی اقسام کے تصادم کا سبب بن سکتی ہے؛ مثلاً کم اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں اور وسائل کے لئے براہ راست جنگیں، یا غربت، بھوک، بیماری یا غیر محفوظ کام کرنے کے حالات کی وجہ سے ہونے والی اموات جیسا بالواسطہ استحصال بھی طبقاتی کشمکش ہی کی نوعیتیں ہیں۔ دریں اثناء ملازمت کے کھو جانے کا خوف اور سرمایہ داروں کی جانب سے سرمایہ کاری میں مندی کے رجحان جیسے جبر بھی اِسی طبقاتی کشمکش کے زمرے میں آتے ہیں۔ قانونی یا غیر قانونی سیاسی گروہ بندی (LOBBING) کرکے اور حکومتی عہدیداران کو رشوت دے کر لیبر قوانین، ٹیکس قوانین، صارف قوانین، ٹیرف قوانین وغیرہ جیسے قوانین لاگو کروانا یا تبدیل کروانا بھی طبقاتی کشمکش کی سیاسی جہات ہیں۔ اِسی طرح ٹریڈ یونین، طلبہ یونین اور دیگر یونین پہ پابندیاں بھی طبقاتی کشمکش کا سیاسی جبر ہے۔

 

کارل مارکس کے مطابق طبقاتی نظام میں طبقات کے مابین کشمکش ہی تاریخ کی بڑھوتری میں فیصلہ کن اور ناگزیر کردار ادا کرتی ہے۔
مشہور انارکسسٹ "میخائل باکونن" کے مطابق محنت کش طبقے، کسانوں اور غریب طبقے میں حکمران اشرافیہ حکومت کے خاتمے اور آذاد سوشلسٹ سماج کی تخلیق میں شامل ایک سماجی انقلاب کی قیادت کرنے کی صلاحیت ہو سکتی ہے۔ یہ صرف ایک امکان ہے، یعنی طبقاتی جدوجہد ہمیشہ معاشرے میں فیصلہ کن عنصر نہیں ہوتی جبکہ کارل مارکس کے مطابق طبقاتی نظام میں طبقات کے مابین کشمکش ہی تاریخ کی بڑھوتری میں فیصلہ کن اور ناگزیر کردار ادا کرتی ہے۔

 

سماجی پیداوار اور اُس کی تقسیم، سماجی حیثیت و مرتبہ اور دولت کی بنیاد پہ طبقات میں منقسم سماج میں طبقاتی کشمکش کا موجود ہونا ایک ناگزیر امر ہے۔ اِس حوالے سے فریڈرک اینگلز کی کتاب The Peasant War in Germany طبقاتی کشمکش کا بہترین تجزیہ بیان کرتی ہے۔ ایک سرمایہ دارانہ نظام اپنے اندر "طبقاتی کشمکش" کی بہترین مثال ہے، جہاں "طبقاتی کشمکش" بنیادی طور بورژوازی اور پرولتاریہ کے درمیان وقوع پذیر رہتی ہے۔ اِس کشمکش کے بنیاد کام/مزدوری کے اوقات، اجرت کی قدر، منافع کی تقسیم، مصنوعات/پیداوار ی لاگت، کام/مزدوری لینے کے طریقہ کار، پارلیمنٹ یا بیوروکریسی پر کنٹرول اور اقتصادی عدم مساوات پہ ہوتی ہے.

 

ایسا نہیں کہ "طبقاتی جدوجہد یا کشمکش" کی اصطلاح صرف سوشلسٹ یا کیمونسٹ استعمال کرتے ہیں۔ امیر ترین سرمایہ داروں اور حکمران اشرافیہ کو بھی اِس کشمکش کا مکمل ادراک ہے۔ سابق امریکی صدر تھامس جیفرسن کے مطابق: "میں اِس حقیقت کا قائل ہو چکا ہوں کہ وہ معاشرے جہاں عوام کے اوپر کوئی مرکزی حکومت مسلط نہیں ہے اُن معاشروں کی نسبت زیادہ پرسکون اور خوش ہیں جن پہ کوئی حکومت مسلط ہو چکی ہے۔ کیونکہ حکومت کی جانب سے طاقتور قانونی جبر کے تحت عوام بھیڑوں اور بھیڑیوں کے دو طبقات میں تقسیم ہو چکی ہے، جبکہ حکومتی جبر کے بغیر معاشروں میں رائے عامہ ہی قانون اور ضابطوں کی جگہ ہوتی ہے۔ میں مبالغہ آرائی نہیں کر رہا۔"(1)

 

ایک سرمایہ دارانہ نظام اپنے اندر "طبقاتی کشمکش" کی بہترین مثال ہے، جہاں "طبقاتی کشمکش" بنیادی طور بورژوازی اور پرولتاریہ کے درمیان وقوع پذیر رہتی ہے۔
اِسی طرح دنیا کے مشہور ارب پتی "وارن بفٹ" نے سی این این کو انٹرویو کے دوران اعتراف کیا کہ: "میرے طبقے، یعنی امیرترین طبقے، نے دنیا بھر پہ طبقاتی جنگ مسلط کر رکھی ہے۔۔۔۔۔ یہ جنگ امیر طبقہ جیت رہا ہے، حالانکہ ایسا ہونا نہیں چاہیے"۔ (2) جبکہ نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے وارن بفٹ نے کہا کہ: "مجھے طبقاتی جنگ کا ادراک ہے، یہ طبقاتی جنگ ہمارے امیر طبقے کی شروع کی ہوئی ہے اور ہم ہی اِسے جیت رہے ہیں"۔ (3) اِسی طرح وارن بفٹ نے ایک دوسرے انٹرویو میں امیر ترین طبقے کے مفادات کے لیے حکومتی چھتری کا اعتراف کیا۔ (4)

 

طبقاتی کشمکش ہمارے موجودہ عہد میں اپنی تاریخی انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ بظاہر بہت خوش رنگ دِکھائی دینے والی تصاویر کی اصلیت بہت گھناؤنی ہے۔ امریکہ کی مثال بھی ایسے ہی ہے۔ لبرل ازم اور انسانی حقوق کا نام نہاد علمبردار ملک خود ایک بدبودار ریاست ہے۔ مشہور امریکی ماہرِ لسانیات، فلسفی اور سیاسی کارکن "نوم چومسکی" کے مطابق: "طبقاتی جنگ ہر جگہ موجود ہے، مگر امریکہ خاص طور پر کاروباریوں کے ہاتھوں یرغمال ریاست ہے جس میں کاروباری طبقہ اپنی طاقت میں اضافے کے لئے غیرمعمولی جنگ لڑ رہے ہیں اور اپنے مخالفین کو کچل رہے ہیں"۔ اِس ضمن میں نوم چومسکی کی تصنیف OCCUPY: Class War, Rebellion and Solidarity پڑھنے کے قابل ہے۔

 

موجودہ عہد میں طبقاتی کشمکش کی نمایاں ترین مثال "عرب بہار" کے نام سے منسوب عوامی بغاوت ہے۔ عرب ممالک میں اٹھنے والی اِس عوامی بغاوت کی وجوہ کے طور پر مطلق العنان بادشاہت، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، حکومتی کرپشن، اقتصادی تنزلی، بے روزگاری، انتہائی غربت اور آبادیاتی ساخت جیسی بہت سے توجیہات بیان کی جاتی ہیں، مگر آخری تجزیہ میں طبقاتی کشمکش ہی اِس بغاوت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ بلاشبہ پانچ سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ بغاوت نظام کی تبدیلی کا سبب نہیں بن پائی ہے، کیونکہ وہاں کے معروض میں تبدیلی کے ایجنڈے کی حامل کوئی تنظیم موجود نہیں ہے۔ اگر عرب ممالک میں طبقاتی کشمکش کو کم اور بعدازاں یکسر ختم کرنے والی تبدیلیاں کی جاتیں تو سماج میں امن، برداشت اور ترقی کا دور چل نکلتا لیکن ایسا نہیں ہو سکا کیونکہ شمالی افریقہ اور خلیج فارس کے تمام ممالک میں بغاوت کے لئے محرک دہائیوں سے اشرافیہ کے ہاتھوں میں دولت کا ارتکاز اور نوجوانوں کی طرف سے جمود کو قبول کرنے سے انکار نے عطا کیا۔

 

طبقاتی جنگ ہر جگہ موجود ہے، مگر امریکہ خاص طور پر کاروباریوں کے ہاتھوں یرغمال ریاست ہے جس میں کاروباری طبقہ اپنی طاقت میں اضافے کے لئے غیرمعمولی جنگ لڑ رہے ہیں اور اپنے مخالفین کو کچل رہے ہیں
کیمونسٹ مینی فیسٹیو کے مصنفین کتاب میں لکھتے ہیں کہ: "ایک طبقہ اُس وقت قائم ہوتا ہے جب اُس کے اراکین طبقاتی شعور اور یکجہتی حاصل کر لیتے ہیں۔۔۔۔ عموماً یہ اُس وقت ایسا ہوتا ہے جب ایک طبقے کے ارکان کو اُن کے استحصال کا ادراک ہو جاتا ہے اور اپنے طبقے کا استحصال کرنے والے دوسرے طبقے کی پہچان ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ اِس طرح وہ طبقہ اپنے مشترکہ مفادات اور مشترکہ تشخص کا احساس کرنے لگتا ہے." یعنی مارکس اور اینگلز جس نکتے کی نشاندہی کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ ایک طبقے کے تمام اراکین کے باہمی مفادات مشترک ہوتے ہیں۔ یہ مفادات کا تنازعہ ہی طبقاتی کشمکش کا سبب بنتا ہے، جس کے نتیجے میں دو مختلف اقسام کے انفرادی ارکان کے درمیان تنازعہ پیدا ہو جاتا ہے۔ مارکسی طریقِ تجزیہ کے مطابق اِس وقت دنیا میں دو طبقات دستیاب ہیں؛

 

1۔ پرولتاریہ: وہ جن کے پاس زندہ رہنے کیلئے اپنی محنت کو بیچنے کے سوا کوئی راستہ موجود نہیں ہے۔
2۔ بورژوا: وہ جن کی بےپناہ دولت کی وجہ اُن کی محنت نہیں ہوتی بلکہ پرولتاریہ کی محنت سے پیدا ہونے والی بےپناہ پیداوار ہوتی ہے۔

 

انقلاب کے بعد بھی طبقاتی کشمکش جاری رہے گی اور طبقات کا خاتمہ بتدریج خاتمہ ہو گا۔ طبقات کی بتدریج ٹوٹ پھوٹ سے ریاست بھی بتدریج تحلیل ہو گی۔
مارکسی تناظر میں ضروری نہیں کہ ہر طبقاتی جدوجہد کا اظہار ہڑتالوں، احتجاجوں، تالہ بندیوں کی صورت میں پرتشدد ہوگا، بلکہ کارکنوں کے پست حوصلے، معمولی تخریب کاری اور چوری، اور چھوٹے موٹے عہدے داروں کی طرف سے محنت کشوں کے انفرادی غلط استعمال سے بھی طبقاتی کشمکش کا اظہار ہوتا ہے۔ لیکن طبقاتی کشمکش کا شدید ترین اظہار اُس وقت ہوتا ہے جب پرولتاریہ روایتی ٹریڈ یونینوں اور پاپولسٹ سیاسی جماعتوں سے علیحدہ ایک تحریک منظم کرتے ہیں۔ مارکس اِس شعوری عمل کو پرولتاریہ کی جانب سے دنیا بدل دینے کی حامل "پیش رفت" کہتا ہے۔

 

ایک اہم سوال بہت سے ترقی پسند ذہنوں میں بھی ابھرتا ہے کہ سوشلسٹ انقلاب کے بعد کیا ہو گا؟ انقلاب کے بعد بھی طبقاتی کشمکش جاری رہے گی اور طبقات کا خاتمہ بتدریج خاتمہ ہو گا۔ طبقات کی بتدریج ٹوٹ پھوٹ سے ریاست بھی بتدریج تحلیل ہو گی۔ مارکس کے مطابق کسی بھی ریاست کی سرشت میں اپنی بقاء کی خواہش رہتی ہے مگر غیرطبقاتی نظام میں ایک ریاست کی کوئی ضرورت نہیں ہو گی۔ سماجی ارتقاء میں یہی مقام سوشلزم سے کمیونزم کی طرف سفر کا نقطہِ آغاز ہو گا۔

Image: Paweł Kuczyński

  1. Thomas Jefferson, Letter to Edward Carrington - January 16, 1787
  2. Buffett: 'There are lots of loose nukes around the world' CNN.com
  3. Buffett, Warren (Nov 26, 2006). "In Class Warfare, Guess Which Class is Winning". The New York Times.
  4. Buffett, Warren (Nov 2011). "Stop Coddling the Super Rich". The New York Times. Retrieved 16 May 2012



رف رف رفتن

یہ وہ دن تھا جب اس نے کچھ میٹر مزید کپڑا بننے کے بعد باقی دھاگہ سمیٹا اور کپڑے کو کھڈی کی گرفت سے آزاد کیا۔ وہ اس کپڑے پر جو اب ایک نہایت ہی خوبصورت چادر کی شکل اختیار کر چکا تھا بار بار ہاتھ پھیر کر لطف اندوز ہو رہی تھی۔ بادامی رنگ کے سلک کی یہ چادر اس نے کئی راتوں کی محنت کے بعد تیار کی تھی اور اس کے چاروں کونوں پر ہلکے نیلے رنگ کے پھول بھی کاڑھے تھے۔ اس نرم و نفیس سلک پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے دیکھا کہ اس کا ہاتھ مسلسل محنت سے نیلا پڑ چکا تھا۔ چادر طے کرتے ہوئے اس نے دیوار میں لگے شیشے میں جھانکا۔ نیلے ہاتھ سے سر کے بال، جو اس کی موٹی دلکش آنکھوں پر آئے تھے پیچھے ہٹائے۔ اسے اپنا چہرہ، رخسار، جلد سب کے سب سلک کی طرح ملائم نرم اور نیلاہٹ لئے ہوئے لگے۔ قدموں کی آہٹ سن کر اس نے چادر ایک ایسے صندوق میں چھپا دی جس کو شاید ہی کبھی سال دو سال میں ایک بار کھولا جاتا تھا۔

اونچے، بلند پہاڑوں اور درختوں سے گھری یہ بستی آٹھ گھروں پر مشتمل تھی اور ہر گھر ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر تھا۔ پہاڑ کی تراش خراش اور کہیں تنگ اور کہیں کھردرے راستوں کے باعث جہاں کسی کو جگہ مناسب لگی اس نے گھر بنا لیا، کوئی اونچا کوئی نیچا۔ اس بستی میں ابھی تک بجلی نہیں تھی اور رات کو جب ان میں روشنی کا انتظام کیا جاتا تو یہ روشنی دور سے ایک منحنی سی روشن لکیر نظر آتی۔ گھروں کے دروازوں کا رخ اس ندی کی جانب تھا جو ان گھروں سے تقریباً بیس فٹ نیچے بہہ رہی تھی۔ یہ کسی دریا کا حصہ تھی اور چند ایک قدرتی چشمے بھی اس میں گرتے تھے اس لئے وہاں ہر وقت پانی موجود رہتا تھا جو سورج کی روشنی میں ایک پنے کی صورت چمکتا نظر آتا، البتہ رات کی تاریکی اور خاموشی میں پانی کے بہنے کی آواز میں دلفریب موسیقیت تھی۔ آٹھ گھروں کی اس بستی میں ہتھ کھڈیاں تھیں۔ یہاں کے مرد چالیس کوس کا فاصلہ طے کر کے بُنائی کے لئے خام مال خرید کر لاتے اور ان کی عورتیں دھاگہ بنتیں اور حیران کن خوبصورت ڈیزائین کی چادریں، مفلر ٹوپیاں، واسکٹ حتی کہ بستر میں پاوں گرم رکھنے والے موزے بھی تیار کر لیتیں۔ یہی یہاں کی معیشت تھی۔ اگرچہ تمام مال شہروں میں پہنچ کر سستے داموں بکتا تھا تاہم اتنے دام مل جاتے تھے کہ ضروریات زندگی اور خام مال خرید لیا جائے۔ اس دور افتادہ بستی کے مکینوں کی ضروریات ہی کیا تھیں۔ کھانا پینا ان کا بے حد سادہ، سارا سال وہ مکئی ، باجرے پر گذارہ کرتے۔ دودھ کے لئے ہر گھر میں دو چار بکریاں یا ایک گائے تھی۔ عورتیں اور مرد دونوں ہی جفا کش تھے۔ لوگوں کے لئے اعلیٰ لباس تیار کرنے والے خود موٹے جھوٹے پیوند لگے لباس میں عمر گزار دیتے تھے اور سردیوں میں بھی اکثر ننگے پاوں ہی نظر آتے تھے، خاص طور پر عورتیں کہ ان کا تو کہیں آنا جانا ہی بہت کم تھا۔

گھروں کے سامنے والے رخ پر ندی اور گھروں کے درمیان، اونچے درختوں پر پہاڑی کووں کے لا تعداد گھونسلے تھے اور صبح کے وقت ان کا شور سن کر بستی کا ہر فرد بیدار ہونے پر مجبور تھا۔ ان کووں کی کائیں کائیں کے مختلف انداز بستی والوں کے لئے بڑے معنی لئے ہوتے۔ لڑکے بالے اور چھوٹی بچیاں سارا دن بکریوں کے ریوڑ چراتے، لڑکے البتہ کبھی کبھار شہر سے آئی ڈور سے گھر میں بنائی پتنگیں بھی اڑا لیتے۔ بکریاں چراتی بچی میں جونہی جوانی میں قدم رکھنے کی نشانیاں ابھرتیں اسے گھر کی کھڈی پر بٹھا دیا جاتا اور پھر باہر کی دنیا سے گویا ان کا رشتہ ختم ہو جاتا۔ ہاں چوری چھپے وہ گھر کے باہر کھیل لیتیں لیکن اس کا بھی ایک آدھ بار سے زیادہ امکان نہ ہوتا اور وہ جاتی بھی کہاں، ندی کی طرف جانے کی ممانعت تھی اور گھروں کی پچھلی طرف پہاڑوں کی ایک مسلسل دیوار تھی جسے دیکھ کر لڑکیوں کو قید کا سا احساس ہوتا تھا۔

دن تقریباً ختم ہونے والا تھا جب خوش بخت نے آج کا بنائی کا کام مکمل کیا اور کمر سیدھی کرنے کو ذرا لیٹی ہی تھی کہ بوڑھی دادی نے اسے آواز دی اور آج کے کام کا حساب لیا۔ وہ روزانہ اس سے معلوم کرتی کہ اس نے کتنے گولے دھاگے کے استعمال کئے ہیں اور ان سے کیا کیا تیار کیا ہے۔ دادی کا حساب بہت پکا تھا اور سب اس کے دماغ میں بہی کھاتے کی طرح درج ہوتا تھا۔ وہ جوانی میں ان گنت لباس بن چکی تھی اور بستی میں ایک بڑے فنکار کی حیثیت رکھتی تھی۔ اسے حساب کتاب میں کبھی غلطی نہیں لگی تھی لیکن وہ اس لڑکی خوش بخت کا حساب کبھی نہیں سمجھ پائی۔ وہ اسے ہمیشہ اس بات پر ڈانٹتی کہ وہ دھاگہ ضائع کرتی ہے اور اسے دیئے گئے دھاگے سے جتنی چیزیں تیار ہونی چاہئیں اتنی نہیں کر پاتی۔ دادی کی یہ تفتیش اور سرزنش اس وقت کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی تھی جب سے لڑکی نے ایک بہت ہی نفیس مردانہ مفلر مکمل کر نے کے بعد گم کر دیا تھا۔

جس کمرے میں ہاتھ سے چلنے والی کھڈی تھی اس کی پچھلی دیوار کے پیچھے پہاڑ کا طویل سلسلہ تھا۔ اس دیوار کا ایک پتھر کھسکا کر لڑکی نے سوراخ نما کھڑکی بنا رکھی تھی۔ جب وہ بنائی کے کام سے اکتا جاتی تو اس پتھر کو سرکا کر باہرکا نظارہ کرتی۔ باہر سرے سے کوئی نظارہ ہی نہیں تھا۔ سیدھے کھڑے پہاڑ، سورج کی روشنی میں نہائے ہوئے، بے آب و گیاہ، نہ چرند نہ پرند، نہ کوئی رستہ نہ کوئی بندہ بشر۔ پھر بھی کمرے کے ماحول سے یکسر باہر نکلنے کے لئے اس کھڑکی سے باہر جھانکنا گویا قید سے چند لمحوں کی آزادی کا احساس تھا۔ اسی طرح کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے اسے اس دن دور ایک جوان لڑکا نظر آیا۔ وہ بہت مشکل سے ان سنگلاخ پہاڑوں کے ابھرتے پتھروں کو پکڑ پکڑ کر اوپر کی طرف آ رہا تھا۔ اس کا رخ بلا شبہ اسی کھڑکی کی جانب تھا۔ پہلے وہ خوف زدہ ہوئی، پھر حیرت زدہ۔۔۔ یہاں کسی انسان کی آمد کا تصور بھی نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ یہاں سرے سے کوئی راستہ ہی نہیں تھا، حتی کہ یہاں تو کبھی بکریاں چرانے والے بھی نہیں آ پائے تھے۔ وہ اس کا تصور تھا یا کوئی ہیولا۔آہستہ آہستہ وہ قریب آتا گیا تو اس کے خدو خال واضح ہونے لگے۔ لمبا قد، متناسب جسم لیکن جو چیز سب سے نمایاں تھی وہ اس کی پاو پاو بھر موٹی آنکھیں تھیں۔ اور قریب آنے پر اس کے نیم گھنگریالے بال اور ہونٹوں پر بہت ہی ہلکی سنہری روئیں بھی نظر آ رہی تھیں۔ وہ بڑی مشقت کے بعد سوراخ کے قریب پہنچا۔ اس نے اپنی سانس ہموار کی۔ لڑکی اسے اتنا قریب دیکھ کر ششدر رہ گئی۔کون ہے یہ، لباس سے تو اسی علاقے کا معلوم ہوتا ہے لیکن یہ یہاں پہنچا کیسے۔ اجنبی تو اپنی سانس ہموار کر چکا تھا لیکن لڑکی کی سانسوں کا زیر و بم تو گویا پوری دیوار کو ہلائے دے رہا تھا۔ وہ اسے دیکھنے میں بری طرح مگن تھی۔اتفاق سے وہ خوبصورت مفلر اس وقت لڑکی کے گلے میں تھا۔ لڑکے نے ہاتھ بڑھایا تو لڑکی نے پیچھے ہٹنے کی بجائے مفلر سوراخ سے نیچے لٹکا دیا۔ لڑکے نے اتنا خوبصورت مفلر اپنے ہاتھوں سے چھوا تو اسے لڑکی کا لمس بھی محسوس ہوا۔ اس نے مفلر کو ذرا سا جھٹکا دیا تو مفلر لڑکی کے شانے سے نکل گیا اور دور نیچے کی طرف اڑتا ہوا نظروں سے غائب ہو گیا۔ اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ اسے فورا دادی کی غصے بھری آنکھوں کا خیال آیا اور جونہی مفلر اس کی نظروں سے غائب ہوا تو اس نے غصے سے لڑکے کی جانب دیکھا۔ لیکن وہاں تو اب کوئی نہیں تھا۔ ایسے جیسے کبھی کوئی تھا ہی نہیں۔ شام گہری ہونے کو تھی۔ وہ دیر تک کھڑکی کے پار دیکھتی رہی۔ بات اس کی سمجھ سے باہر تھی۔ لڑکے کو پہاڑ سے اوپر آنے میں کوئی پندرہ منٹ تو لگے ہوں گے لیکن غائب ہونے میں صرف پلک جھپکنے کا وقت۔

اس نے کھڈی کی پچھلی ٹیک پر پیر رکھا اور سوراخ کے تقریباً وسظ میں ہو کر دیکھا کہ وہ نوجوان کہیں گر تو نہیں گیا کہ اتنے میں دادی کے قدموں کی اواز آئی۔ اس نے فورا واپس کمرے میں چھلانگ لگائی اور سوراخ کو پتھر سرکا کر بند کر دیا۔ دادی جانتی تھی کہ لڑکی نے پتھر ہٹا کر کھڑکی سی بنا رکھی ہے۔ اس نے اس پر غصے کا اظہار بھی کیا تھا لیکن وہ یہ بھی سمجھتی تھی کہ اس سوراخ سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں۔۔ رات جب دادی نے حساب کتاب کیا تو تیار ہونے والے کل تین مفلر تھے جبکہ چوتھے کا نہ دھاگہ تھا اور نہ ہی مفلر۔ لڑکی کی کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دے۔ نہ جانے کیوں اس نے اس واقعے کو پوشیدہ رکھنے کا سوچا اور بیان دیا کہ چوتھا مفلر ہاتھ میں لئے وہ کھڑکی سے باہر جھانک رہی تھی تو ایک دم تیز ہوا کے جھونکے سے وہ اس کے ہاتھ سے نکل گیا اور کہیں پہاڑوں میں نیچے ہی نیچے چلا گیا۔ دادی نے سخت ترین الفاظ میں ڈانٹ پلائی اور یہ بھی کہا کہ یہ کھڑکی کسی دن تمہیں برباد کر دے گی۔ تھکاوٹ کے باوجود وہ رات کو اپنے کمرے سے نکل کر کھڈی والے کمرے میں آتی رہی۔ اس نے ایک دو بار پتھر سرکا کر دیکھا بھی لیکن انتہا درجے کی تاریکی میں کیا نظر آتا۔ باقی ماندہ رات، شام کو پیش آنے والا واقعہ بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے آتا رہا۔

اگلے روز کھڈی والے کمرے کے باہر نظر آنے والے درختوں میں غالباً کسی جانب سے آئی کوئی پتنگ پھنسی تھی اور کووں کی جان پر بن آئی تھی۔ کچھ تو بے صبری سے اڑان بھرتے دور چلے جاتے اور پھر پلٹ کر آتے اور پتنگ پر حملہ آور ہوتے لیکن ہوا کے زور سے پتنگ کے پھڑپھڑانے کا شور ہوتا تو پھر اڑجاتے۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ان کی پر سکون زندگی میں یہ بلا کہاں سے چلی آئی۔ ایک کوا زور زور سے کائیں کائیں کرتا تو نہ جانے کہاں کہاں سے بیسیوں کوے اور آجاتے اور سب مل کر اجتماعی شور و غوغا کرتے۔ شور سن کر دادی بھی آ گئی۔ اس نے جو کووں کی آوازیں سنی تو سب کو خبردار کیا کہ یہ کوئی اچھا شگون نہیں۔ اس کے تجربے کے مطابق جو آوازیں کوے نکال رہے تھے وہ محض پتنگ کی وجہ سے نہیں تھیں بلکہ یا تو کسی مہمان کی آمد کی خبر تھی یا گھر کے کسی فرد کے سفر پر جانے کی۔ دادی کے دیکھتے ہی دیکھتے آخر ایک جری کوے نے پتنگ کا کاغذ پھاڑ دیا اور باقی کووں نے نہایت خوشی کے عالم میں وہ داد و تحسین بلند کی کہ اہل خانہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر کمروں کے اندر دبک گئے۔

لڑکی کام کے کمرے میں آئی اور غیر ارادی طور پر اس نے کھڑکی کا پتھر سرکا کر باہر جھانکا۔ باہر دھوپ اور ویرانی تھی البتہ کووں کی آواز کہیں دور سے سنائی دے رہی تھی۔ اس نے کھڑکی بند کر دی اور کام پر بیٹھ گئی۔ آج اس کے کام کی رفتار بہت سست تھی۔ ہاتھ کھڈی پر بے دلی سے چل رہے تھے اور دھاگہ اس کے خیالوں کی طرح بار بار الجھ رہا تھا۔ مزید برآں اس نے کام کے دوران کوئی بیسیوں بار پتھر سرکا کر نظریں پھاڑ پھاڑ کر باہر دیکھا لیکن وہاں کچھ ہوتا تو نظر آتا۔ تنگ آ کر اس نے کام میں دھیان لگایا کہ مطلوبہ مقدار میں دھاگے سے کچھ بن پائے اور دادی کی نرم گرم سے بچ جائے۔ دادی اسے بہت اچھا کاریگر بلکہ فنکار سمجھتی تھی لیکن ساتھ ہی ساتھ اسے دھاگے کی دشمن بھی قرار دیتی تھی۔ دادی کو کیا علم کہ روز کچھ نہ کچھ خام مال اس خفیہ چادر کی نظر ہو جاتا تھا جسے وہ بہت محنت اور پیار سے بنا رہی تھی۔ دادی کا خیال آتے ہی اس کے ہاتھوں میں روزانہ کی تیزی لوٹ آئی۔ اس نے شام سے پہلے ہی آج کا کام ختم کیا اور ایک بار پھر چاہا کہ کھڑکی سے پتھر سرکا کر دیکھے کہ اچانک کھڑکی کے باہر پتھر پر کسی جنبش کا احساس ہوا۔ اس کا رنگ فق ہو گیا اور سردی کے موسم میں وہ پسینے میں شرابور ہو گئی۔ جلدی جلدی مکمل کیا کام دادی کو تھمانے کے بعد وہ واپس پتھر کے قریب آئی اور دھڑکتے دل سے اسے ایک طرف سرکایا تو وہ سامنے کھڑا تھا۔ پہاڑ کے ایک نوکیلے پتھر کے سہارے۔ اسے اتنا قریب دیکھ کر ایک بار تو جیسے اس کے دل نے دھڑکنا بند کر دیا ہو لیکن ہمت کر کے اس نے سہمی ہوئی سرگوشی میں پوچھ ہی لیا

" تم۔۔۔۔تم۔۔۔۔کون ہو اور کہاں تھے۔۔۔۔میرا مطلب کہاں سے اس مشکل اور سنگلاخ پہاڑ پر آئے ہو۔۔۔کیسے۔۔۔اتنی نشیبی دیوار۔۔۔۔"

لڑکے نے لڑکی کے تمام سوال غور سے سنے۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی جس سے اس کی مونچھوں کی سنہری روئیں پھیل گئیں اور شفق میں زیادہ سنہری لگنے لگیں۔ اس نے صرف اتنا کہا " تم مجھے پانی پلا سکتی ہو، مجھے بہت پیاس لگی ہے۔۔۔"

کچھ نہ سمجھتے ہوئے، ہونق چہرہ لئے وہ صراحی سے پا نی کا کٹورا بھر کے لائی تو وہ وہیں اسی انداز میں کھڑا تھا۔ اس نے اشارے سے اسے بتایا کہ وہ پانی پینے کے لئے ہاتھ فارغ نہیں کر سکتا۔ لڑکی نے سوراخ میں سے تقریباً نصف جسم باہر نکالتے ہوئے کٹورا اس کے ہونٹوں کے ساتھ لگا دیا اور اس نے گھونٹ گھونٹ کر کے پانی پی لیا۔

" تم کون ہو، اس بستی کے تو نہیں لگتے اور یہاں کیوں آئے ہو، مطلب کیسے آئے ہو ؟ " لڑکی نے اوسان بحال کر کے پوچھا

" ہاں تم ٹھیک کہتے ہو، میں پہاڑ کی دوسری جانب سے ہوں لیکن میں یہاں آتا رہتا ہوں، میں ان گلہریوں کا شکار کرتا ہوں جو یہاں نیچے کثرت سے مل جاتی ہیں اور ان کی کھال۔۔۔۔"

" مگر نیچے سے اوپر آنے کو تو کوئی راستہ نہیں، میں بخوبی جانتی ہوں، آج تک کوئی نہیں آیا، آخر تم۔۔۔" لڑکی نے بات کاٹی، " ہاں یہاں آنے کی ہمت کوئی نہیں کر سکتا۔ بس ایک دن کھڑکی کھلی تھی اور میں نے تمہیں ایک خوبصورت چادر بنتے دیکھا ۔ مجھے تم اور چادر دونوں ہی بے حد پسند آئے۔ میں تمہیں چادر سمیت اپنی بستی میں لے جانا چاہتا ہوں۔۔۔"

دادی کے دیکھتے ہی دیکھتے آخر ایک جری کوے نے پتنگ کا کاغذ پھاڑ دیا اور باقی کووں نے نہایت خوشی کے عالم میں وہ داد و تحسین بلند کی کہ اہل خانہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر کمروں کے اندر دبک گئے۔

لڑکی نے اس قسم کی بات کبھی زندگی میں نہیں سنی تھی۔ وہ جس ماحول کی پیداوار تھی وہاں تو اس قسم کا خیال بھی محال تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہے لیکن یک بیک وہ لڑکا اسے بھر پور طریقے سے اچھا لگنے لگا۔ ابھی اس نے کوئی بات کرنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ دادی کی آواز اس کے کان میں پڑی جو پوچھ رہی تھی کہ کام ختم کر نے کے بعد وہ ابھی تک کمرے میں کیوں تھی۔ دادی کا ڈر اس قدر تھا کہ مشینی انداز میں اس نے پتھر سرکا کر کھڑکی بند کر دی اور دوسرے کمرے میں بھاگ گئی۔

یہ رات اس کے لئے پہلی رات سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھی۔ پہلے تو وہ اسے محض اپنا وہم سمجھتی رہی لیکن آج اس کو اسی مفلر سمیت دیکھا جو خود اس نے اس کے ہاتھ میں دیا تھا اور آج تو اس نے کٹورا بھر پانی بھی پیا تھا اور بات بھی کی تھی۔ رات کروٹیں بدلتے اور یہ سوچتے گزر گئی کہ وہ کوئی انسان تھا یا اس کا خیال کیونکہ کھڑکی کے اس پار تو آج تک بستی کا کوئی بندہ بشر کبھی نظر نہیں آیا تھا اور سب جانتے تھے کہ وہاں آنے جانے کا کوئی راستہ، کوئی پگڈندی، کچھ بھی نہیں ہے۔ اسے دادی کی بات بھی یاد آئی کہ ابھی دو دن پہلے ہی اس نے کووں کی عجیب کائیں کائیں سن کر کہا تھا کہ کوئی مہمان آنے والا ہے۔

بمشکل دن طلوع ہوا تو اسے اس کمرے میں جانے ہی سے ڈر لگنے لگا۔ جہاں وہ پچھلے پانچ سال سے کھڈی چلا رہی تھی۔ وہ دبے پاوں کمرے میں گئی اور دھاگوں کے گولوں کو جو دن چڑھے ہی دادی کھڈی پر رکھ دیتی تھی، گھورنے لگی۔ ہر گولے میں اسے اسی لڑکے کے خدوخال نظر آنے لگے۔ کچھ دیر بعد اسے ماتھے میں درد محسوس ہوا اور بدن کی حرارت بھی تیز لگنے لگی۔ ایک بار تو اس نے سوچا کہ آج دادی سے چھٹی لے لے لیکن آج اس کا ارادہ اس خوبصورت چادر کو مکمل کرنے کا تھا جو اس نے صندوق کے اندر چھپا رکھی تھی۔ اس نے کوئی دس بار کھڑکی کے پتھر کی طرف چور نظروں سے دیکھا لیکن اتنی ہمت نہ ہوئی کہ پتھر سرکا سکے۔ کل والا پانی کا خالی کٹورا بھی قریب ہی پڑا تھا۔ اس نے لپک کر اسے اٹھایا اور کسی پیاسے کی طرح ہونٹوں سے لگا لیا۔ اسے ایک عجیب خوشی اور سکوں کا احساس ہوا۔اب تو اسے یقین ہو چلا تھا کہ نہ یہ خواب ہے نہ خیال، یہ ایک حقیقت ہے مگر وہ پھر گڑبڑا گئی۔ ابھی کل ہی کی بات تھی، اس نے اپنے باپ سے پوچھا تھا کہ اس پہاڑ کی دیوار کے پیچھے کیا کوئی راستہ ہے، کوئی جگہ ہے آنے جانے کی تو اس نے گھور کر اس کی طرف دیکھا اور الٹا سوال کر دیا کہ آیا اسنے اپنی اٹھارہ سالہ کی عمر میں کووں کے علاوہ کسی اور پرندے تک کو بھی اس طرف دیکھا ہے۔ وہ خاموش ہو رہی۔ وہ کیسے بتاتی کہ لڑکا وہاں تھا، اس کے گلے میں مفلر تھا اور اس نے اسکے ہاتھوں پانی پیا تھا۔ اس نے چادر کی تعریف کی تھی اور ۔۔۔ اور۔۔۔۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیا کرے۔ آج کے کام کا آغاز بھی نہیں کر پائی تھی۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ اس اجنبی کے لئے پاگل ہو چکی ہے۔ کل کا واقعہ یاد کر کے اسکا دل زور زور سے دھڑک اٹھتا۔ یکدم کھڈی والا کمرہ اسے قید خانہ لگنے لگا اور کام کرنے کی بجائے وہ پتھر سرکا کر باہر کا نظارہ کرنے اٹھ کھڑی ہوئی۔

آج پھر کووں نے بہت شور مچا رکھا تھا۔ معلوم نہیں اونچے درختوں پر بیٹھے نیچے پہاڑ کی جانب کیا نظر آرہا تھا کہ بار بار نیچے کو اڑان بھرتے اور پھر شور مچا کر اوپر درختوں پر بیٹھ کر واویلا کرتے۔ ان کے اس بے تحاشا اور غیر معمولی شور نے دادی کو بھی مجبور کر دیا کہ وہ دیکھے کہ ان کو آج کیا تکلیف ہے۔ ماتھے پر ناگواری لئے دادی کھڈی والے کمرے کے باہر آ کھڑی ہوئی۔ اس نے کووں کی حرکات میں ایک عجیب سی بے چینی دیکھی۔ اس کے دل میں کسی انہونی کا کھٹکا ہوا۔ اس نے اپنی پوتی سے کچھ کہنے کو مڑ کر کمرے کے اندر جھانکا تو کھڈی پر کوئی نہیں تھا۔ گولے ویسے کے ویسے ہی دھرے تھے۔ پتھر سرکا ہوا تھا اور کمرہ خالی تھا۔ دادی نے سارے گھر میں پوتی کو آوازیں دیں، تلاش کیا لیکن وہ کہیں نہیں تھی۔ گھر کے مرد ندی تک تلاش کر آئے لیکن کوئی سراغ نہ ملا۔ سہ پہر ہونے کو آئی۔ بستی کے لوگوں نے رسوں، لاٹھیوں اور بھالوں کی مدد لی اور دادی کے حکم پرگھر کے پچھواڑے والے عمودی پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش کرنے لگے کہ یہی ایک جگہ تھی جہاں آج تک کسی کی رسائی نہ ہوئی تھی اور نہ ہی کبھی ضرورت پڑی تھی ۔ تین گھنٹوں کی مشقت کے بعد وہ لوگ اس کھڑکی کے قریب پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ لڑکی ایک نہایت خوبصورت سلک کی چادر میں ملبوس پہاڑ کے ایک چوڑے پتھر پر لیٹی تھی اس کے ہاتھ میں ٹوٹا ہوا پانی کا کٹورا تھا، اس کے پاس وہی مفلر پڑا تھا جو سال بھر پہلے کھڑکی سے باہر اڑ گیا تھا۔ اتنی بلندی سے گرنے کی وجہ سے وہ دم توڑ چکی تھی۔




بُو باس کا عالم

بُو باس کا عالم
سرد ٹھٹھرتی گہری شامیں
مسجد مندر اور کلیساؤں
کے در پر
بھاری بھرکم آہنی تالے
مَنت کے دھاگوں میں لپٹے
سوکھے پیڑ اور ان کے
زرد پڑے ہوئے پتے
بھید بھری قبروں کے کتبے
علم و عمل کے خالی بستے
حیرت کی قندیل سے روشن
بے منزل لا یعنی رستے
ممکن ہے
کوئی آدم زاد یہاں سے گزرا ہو
جس کے تلووں کی مٹی سے
بُو باس کا عالم ٹپکا ہو
عمر کا خالی پَن مہکا ہو!!



کالی رات ہے

کالی رات ہے
کالی رات ہے
کالی رات پہ رنگ نہیں چڑھتا ہے کوئی
جھلمل جھلمل کرتے تارے
سرخ اگر ہو جائیں بھی تو
کون خویل کرے گا ان کا
چاند ہی ہوتا
سرخ رنگ اس پر پھبتا بھی۔۔۔۔
کالی رات ہے
کالی رات پہ رنگ نہیں چڑھنے والا ہے
میں نے اپنی نبض کاٹ کر
اپنا لہو برباد کر دیا۔۔۔۔

Image: Rosella Namok




اب میں پوسٹ بکس میں کوئی خط نہیں ڈالوں گی

اب میں پوسٹ بکس میں کوئی خط نہیں ڈالوں گی
اب میں پوسٹ بکس میں کوئی خط نہیں ڈالوں گی
جب جب اس کو خط لکھا
جس تک اپنے دل کاحال بتانا تھا
خط کھویا گیا
پوسٹ بکس پر گرا ہوا ڈھکن
میری چوری پکڑ لیتا ہے
شاید ناراض ہو جاتا ہے
میں کیوں کسی غیر مرد کو پکار رہی ہوں
نا جائز تعلقات کی سراسیمگی
مجھے کہیں بے دستور نا کردے
یہی تو شکایت ہے مجھے خود سے
اگر میری ڈاھڑی ہوتی تو
یہ پوسٹ بکس اتنا با دستور نا ہوتا
اور میں آزاد ہوتی

Image: Nick Bantock




خام خیالی

خام خیالی
جب میں نہیں ہوں گا
تو ہوا
چاروں طرف تنہا پھرے گی
بادل خالی خالی نظروں سے
زمین کی جانب دیکھیں گے
مینہ برسنا،
پھول کھلنا
اور تتلیاں اُڑنا بھول جائیں گی
گملوں میں پودے
کئی کئی دن پانی نہ ملنے پر
سوکھ جائیں گے
میز پر رکھا ہوا کھانا
میرے انتظار میں ٹھنڈا ہوتا رہے گا
نیم وا کھڑکیوں کے پردے
دھوپ، آندھی اور بارش میں
پھڑپھڑاتے
اور کمروں کے دروازے
بے مقصد کھلے اور بجتے رہیں گے
گھر میں فالتو بتیاں
جلتی رہیں گی
اور ہر ماہ
بجلی، گیس اور ٹیلیفون کے بلوں کی
آخری تاریخ گزر جایا کرے گی!!



بائیسویں صدی کا آدمی اور دوسری کہانیاں

مزید مائیکرو فکشن پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

ﺣﺪِ ﺯﻣﺎﮞ

 

ﻣﯿﺮﺍ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﻣﮑﺎﻟﻤﮧ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ
ﺟﺲ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﺣﺪﻭﺩ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﺩﻥ ﺗﯿﺮﺍ ﻭﺟﻮﺩ ﻻ ﯾﻌﻨﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ
ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﺑﺎً ﻭﻗﺖ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ
ﻣﯿﺮﯼ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪﻭﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﺒﮭﯽ ﻻ ﯾﻌﻨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﺒﮭﯽ ﻻﯾﻌﻨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪﻭﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯿﮟ
ﺍﺱ ﭘﻞ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﺍ ﻃﻤﻄﺮﺍﻕ ﺗﮭﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﺎﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﮑﺎﻟﻤﮧ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﯾﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﺣﺪ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻼ ﮨﯽ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔
تب ﻣﯿﮟ حالتِ ﻧﺰﺍﻉ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﻭﺭ ﻭﻗﺖ ﺧﺎﻣﻮش

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

"ابھی کچھ کام باقی تھے"

 

موبائل کی بیل بجی تو اس نے کال ریسیو کی اور فون کان سے لگا لیا ساتھ ہی باپ کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی
"بیٹا میری دوا کی پرچی اٹھا لی؟"
"جی ابا جی" اس نے باپ کو جواب دیا بیگم کا بیگ سنبھالا اور کال پر موجود دوست سے اگلے دن کراچی نکلنے کا پروگرام سیٹ کرتے ہوئے گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھ گیا بیوی بچے پہلے ہی کار میں اسکے منتظر تھے-
جب وہ پارک پہنچے تو پارک میں کافی گہماگہمی تھی انہوں نے ایک طرف چادر بچھائی اور بیٹھ گئے اس نے بچوں سے پوچھا کیا کھانا ہے اور اس وقت ایک زوردار آواز نے اس کے کان بند کر دیے پھر کان میں سیٹی بجنے کا احساس پیدا ہوا اور پھر اسے ایسا لگا جیسے اس کی کمر کسی نے تیز دھار خنجر سے چھید ڈالی ہے سیٹی کی آواز بے ہنگم شور شرابے میں بدل چکی تھی تب اسے احساس ہوا کے وہ گھاس پر اوندھے منہ پڑا ہے لہو اس کے سر سے بہہ کر اس کے کان کے پیچھے سے ہوتا ہوا اس کے گال اور منہ تک آ چکا ہے جب آنکھوں کے آگے اندھیرا بڑھنے لگا تو اسے بیوی بچوں کا خیال آیا پھر اسے دوست کے ساتھ اگلے دن کراچی جانے کا خیال آیا اور اگلے ہی لمحے اسے باپ کی دوا کا خیال آیا ایک زوردار ہچکی کے ساتھ اس کے بدن سے روح اور آنکھ سے ایک آنسو نکلا اور ہری گھاس میں جذب ہو گیا۔۔۔۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

بائیسویں صدی کا آدمی

 

مجھ سے کب پوچھا مجھے کس گھرانے میں پیدا کرے مجھے تو میرے ماں باپ نے بتایا کہ یسوع خدا کا بیٹا ہے خدا ہم سب کو پیدا کرتا ہے اور مقدس روح ہماری حفاظت کرتی ہے اور مجھ سے کہا گیا کہ اجداد کے بنائے گئے مذہب۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوہ معذرت۔۔۔۔۔
اجداد کے بتائے گئے مذہب پر عمل کروں چرچ جاؤں بائبل پڑھوں گناہ کروں تو چرچ جاؤں گناہ کا اعتراف کروں اور گناہ سے نجات پاؤں جنت میں جاؤں۔۔۔۔۔۔۔
مگر کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یہاں تو کچھ بھی میرا اختیار کردہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور جب کچھ بھی میرا اختیار کردہ نہیں تو سزا جزا کیسی؟؟
اور سزا جزا رکھتا ہے تو پھر پہلے دے مجھے اختیار اپنی مرضی سے پیدا ہونے کا ماں باپ چننے کا مذہب اپنانے کا اور اپنی مرضی سے مرنے کا بھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اگر نہیں دے سکتا یہ اختیار مجھے تو پھر میں باغی ہوں تیرا نائب بننے سے۔۔۔۔۔۔
ابھی یہ سوچ میرے دماغ میں پیدا ہی ہوئی تھی کہ میرا پاؤں کسی پتھر سے ٹکرایا اور میں منہ کے بل سڑک پر جا گرا جب آنکھوں کے سامنے سے اندھیرا چھٹا تو مجھے احساس ہوا کہ میرے سامنے کے دو دانت ٹوٹ کر میرے ہونٹ میں پیوست ہو گئے ہیں
بس اگلے ہی لمحے میرے دماغ میں اس سوال نے شدت اختیار کر لی
کہ تجھ سے میری بغاوت ایک پل برداشت نہیں
اور میں تیرا جبر تا عمر جھیلوں۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اور اس پل میرے اندر سے آواز آئی
نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Image: Daniel Arsham




کراچی ہوں

کراچی ہوں!
میں اپنی چاک دامانی کا قصہ خون سے اپنے لکھوں اور کھارے پانی میں
بہا دوں
آنسووں کی بے ثباتی کو
کناروں پر سفینے ڈوبتے دیکھوں
دلا سا دوں تو کیسے دوں مچلتی سرپٹکتی ٹوٹتی بے تاب لہروں کو
کہ میرے حرف پر بندش مری سانسوں پہ پہرے ہیں
مری اس خاک میں پیوست بوٹوں کے نشاں اب اورگہرے ہیں
بھنور ہے ، شور ہے ، اور تندی ء موج ِ ہوا !! جیسے
کہ بالکل بے خبر ہے ظرف سے میرے
کراچی ہوں
مرا سینہ سمندر ہے
میں آنے والوں کو رستہ ، نمک تسکین دیتا ہوں
میں صحراوں ، جزیروں ، جنگلوں ، دریاوں کا داتا
یونہی بھرتا رہوں گا خواب کے کشکول تعبیروں سے روز و شب
کسی سائل کو کیا پروا
اگرزخمی ہوں تنہا ہوں
کراچی ہوں

Image: Hamid S Alavi