<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ثاقب ملک, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/saqib-malik/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Sep 2024 11:19:21 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>ثاقب ملک, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>شادیوں کے سیزن پر حسن نثار کا پیروڈی کالم</title>
		<link>https://laaltain.pk/shadi-season-hassan-nisar-parody-column/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/shadi-season-hassan-nisar-parody-column/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ثاقب ملک]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 31 Dec 2018 12:20:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23913</guid>

					<description><![CDATA[<p>قارئین، آپ تو مجھے جانتے ہی ہیں. میں تنہائی پسند انسان ہوں. تقریبات سے مجھے چڑ ہے. لیکن یہ مچھندر قوم شادیاں کر کر کے مر جائے گی. اتنی شادیاں تو پورے برس نہیں ہوتیں جتنی دسمبر میں بھگتانی پڑ جاتی ہیں. روز ایک دعوت نامہ میرا اور جمہوریت کا منہ چڑا رہا ہوتا ہے. [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shadi-season-hassan-nisar-parody-column/">شادیوں کے سیزن پر حسن نثار کا پیروڈی کالم</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>قارئین، آپ تو مجھے جانتے ہی ہیں. میں تنہائی پسند انسان ہوں. تقریبات سے مجھے چڑ ہے. لیکن یہ مچھندر قوم شادیاں کر کر کے مر جائے گی. اتنی شادیاں تو پورے برس نہیں ہوتیں جتنی دسمبر میں بھگتانی پڑ جاتی ہیں. روز ایک دعوت نامہ میرا اور جمہوریت کا منہ چڑا رہا ہوتا ہے. جمہوریت کا اس لئے کہ ہماری اکثر شادیاں بھی ہماری لولی لنگڑی، اندھی بہری، بانجھ جمہوریت کی طرح اپنی مدت پوری نہیں کر پاتیں. ساس بہو کی اسٹیبلشمنٹ کا شکار ہوجاتی ہیں. مگر لعنتی لوگ پھر بھی اپنی دموں پر اچھل اچھل کر لاڈلی جمہوریت اور شادیوں کی حمایت کرتے ہیں. اوئے شرم کرو بے غیرتو اگر دسمبر میں نہا دھو نہیں سکتے تو شادیاں کیوں کرتے ہو؟</p>
<p>اگلے دن میرا ننھا منھا دوست اوریا مقبول جان، میری جان، میراثی سا منہ بنا کر میرے گھر پہنچ گیا کہ میری دختر کی شادی ہے، حسن تم نے لازمی آنا ہے. ظاہر ہے انکار ناممکن تھا کہ ایک تو بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں، دوسرا اوریا کے خیالات سے کھربوں نوری میل کی دوری کے باوجود ایک عجیب محبت کا رشتہ ہے. خیر شادی کے روز اپنی عادت سے مجبور ہو کر عین وقت پر منہ اٹھا کر تقریب میں پہنچ گیا. ایک تو راستے میں جگہ جگہ ٹریفک کا کنجر پن جمہوریت کی کرپشن کی طرح ذلیل کرواتا رہا دوسرا اس ننگی جاہل قوم نے فٹ پاتھوں پر قبضے جما رکھے ہیں. خون کھول اٹھتا ہے. کوئی ایٹم بم گرے اور میرے اور میرے پیارے قارئین اور ویورز کے علاوہ اس جہالت کے پلندے کو نیست و نابود کر دے.</p>
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/12/Hassan-Nisar-Laaltain.jpg"><img fetchpriority="high" decoding="async" class="alignleft wp-image-13918 size-full" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/12/Hassan-Nisar-Laaltain.jpg" alt width="890" height="395" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/12/Hassan-Nisar-Laaltain.jpg 890w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/12/Hassan-Nisar-Laaltain-300x133.jpg 300w" sizes="(max-width: 890px) 100vw, 890px"></a></p>
<p>تقریب میں سوائے میزبان اوریا کی بوتھی کے سب نوٹنکی اس مردود قوم کی عادت ثانیہ کی طرح تاخیر کا شکار تھے. ہاں شادی کے بعد بچوں کی فوج پیدا کرنے میں یہ بہت فاسٹ ہیں. میں نے اوریا سے کہا او بھائی کچھ عقل کو ہاتھ مارو. ابھی تمھاری بیٹی کی عمر ہی کیا ہے؟ گندہ غلیظ، ناپاک ملاوٹ زدہ دودھ پی کر وہ باقی بچوں کی طرح جلد جوان ہوگئی ہے ورنہ اسکی شادی کی یہ عمر نہیں. ابھی کل ہی تمہاری مسلم امہ کے کئی ملکوں شام، فلسطین، کشمیر، عراق اور افغانستان میں بے گناہ لوگ جان سے گئے ہیں اور آج تم اپنے گھر شہنائیاں بجا رہے ہو؟ سودی معیشت کے اس ناپاک دور میں شادی کرتے تمہیں موت کیوں نہ آئی؟ خیر اوریا نے کیا جواب دینا بس اسکے سے حلق سے ایک مافوق الفطرت قہقہہ بلند ہوا جو اسکے کالموں میں درج زلزلوں کی پیشگوئیوں کی طرح وقفے وقفے سے خارج ہوتا رہا.</p>
<p>اس سے بہتر تو وہ نام نہاد ڈکٹیٹر تھے جنہیں ہم، آج اسی کے آغاز کردہ پرائیویٹ ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر باندروں کی طرح چیاں چیاں کرکے آمر کہتے ہیں. اس سے پہلے ایک آمر پی ٹی وی کھول گیا تھا. اس دور میں مناسب تعداد میں، وقت پر شادیاں شروع ہوتی تھیں اور وقت پر ختم ہوجاتی تھیں. سوائے اس لعنتی، مکروہ، منافق ضیاء الحق کے مردار دور حکومت کے، جب دیگر سلفی، غلیظ خارش زدہ کلچرز کی طرح دھڑا دھڑ شادیوں کے کریہہ کلچر کا آغاز ہوا.</p>
<p>اس منحوس کلچر کا ایک اور المیہ یہ ہے کہ شادیوں پر رشوت کی طرح نذرانہ یا ٹوکن دینا پڑتا ہے. جو ملک جعلی کلیم کی پیداوار پر پرورش پایا ہو اس سے یہی توقع ہوسکتی ہے. یہ فرض ادا کرکے گھر جو روانہ ہوا تو ڈرائیور بولا دھند بہت ہے. عجیب لعنتی موسم ہیں اس ملک پاکستان اور حقیقتاً نا پاکستان کے. سردی پڑتی ہے تو جان عذاب میں اور گرمی آئے تو مصیبت. ہور چوپو جمہوریت کو. خیر اب عمران سے اتنی امید تو ہے پانامہ پلٹون شریف فیملی اور زر کے پجاری زرداری کی الف ننگی چوری چکاری کی طرح پھپھوندی زدہ، کینسر شدہ حرکتیں تو نہیں کریگا. ہے تو عمران بھی ڈنگر نہ کھانے کی تمیز، نہ بیٹھے کی، نہ کپڑے پہننے کی مگر کمیٹڈ، ڈسپلنڈ ،محنتی اور مالی طور پر دیانت دار آدمی ضرور ہے.</p>
<p>گھر پہنچا تو ڈرائیور دروازہ کھول کر بولا سر کل میرے بیٹے کی شادی ہے. اوئے بے غیرت، بے حیا دعوت دینے کا بھی کوئی طریقہ ہوتا ہے. منہ پر چپیڑ مار کر دعوت دے ماری. لعنت ہو اس قوم پر جسے شادی کی دعوت دینا بھی نہیں آتی.</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shadi-season-hassan-nisar-parody-column/">شادیوں کے سیزن پر حسن نثار کا پیروڈی کالم</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/shadi-season-hassan-nisar-parody-column/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جبلت</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ac%d8%a8%d9%84%d8%aa/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ac%d8%a8%d9%84%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ثاقب ملک]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 18 Aug 2016 07:01:49 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[اردو فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی فطرت]]></category>
		<category><![CDATA[سگمنڈ فرائیڈ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=17426</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">ثاقب ملک: دفعتاً چادر والے شخص کے جسم کے روئیں روئیں سے اس عورت پر قابو پانے کی خواہش ابھرنے لگی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے جھکڑ چل رہے تھے، اسے وہ عورت اپنے پاس آتی نظر آ رہی تھی۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ac%d8%a8%d9%84%d8%aa/">جبلت</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext"><strong>پہلا منظر</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">گہری رات تھی۔ ہو کا عالم تھا۔ وہ دھیمے قدموں کھیتوں کی جانب چلا جا رہا تھا۔ گاؤں کی گلیاں جو ہر قدم کے ساتھ دور ہوتی جا رہیں تھیں، ان سے آوارہ کتوں کے بھونکنے کی آوازیں وقفے وقفے سے آ رہیں تھیں۔ وہ سر جھکائے چادر کی بکل لیے کھیت کے نسبتاً دور اور اندھیرے کونے کی جانب چلا جا رہا تھا۔ آخر کار اپنی پسندیدہ جگہ پہنچ کر اس نے حاجت رفع کی اور واپسی کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ تقریباً پچاس فٹ کے فاصلے پر اسے ایک ہیولا نظر آیا۔ وہ کوئی عورت تھی۔ دفعتاً چادر والے شخص کے جسم کے روئیں روئیں سے اس عورت پر قابو پانے کی خواہش ابھرنے لگی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے جھکڑ چل رہے تھے، اسے وہ عورت اپنے پاس آتی نظر آ رہی تھی۔ جیسے وہ اسے بلا رہی تھی۔ یہ تیز تیز قدموں سے چلتا اس عورت کے سر پر جا پہنچا اور اسے دبوچ لیا۔ ناقابل برداشت اشتہا کی وجہ سے چادر والے شخص کی تمام تر حسیات اپنے شکار پر مرکوز تھیں۔ کسی ہفتے مہینے سے بھوکے انسان کی طرح اس نے عورت کو بھنبھوڑنا شروع کیا اور کچھ ہی دیر میں اپنا قبیح فعل انجام دے دیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>دوسرا منظر</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس کی نگاہیں سامنے ٹکی تھیں۔ موٹاپے کے بدترین مرض کا شکار وہ شخص پرہیزی کھانے کھا کر زندہ تھا مگر آج مارکیٹ میں آ کر کباب اور تکوں کی دکان کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔ اس کا ارادہ ہرگز کھانے کا نہ تھا۔ اس کے فربہ بدن سے پسینہ دھاروں کی طرح بہہ رہا تھا۔ اچانک اس کے جسم میں بھوک نے شیطانی انگڑائی لی۔ اس کے معدے نے جیسے چیخنا شروع کر دیا۔ وہ جنونی انداز میں ہوٹل میں داخل ہوا اور کھانے کا آرڈر دے کر کھانے پر ٹوٹ پڑا۔ کچھ دیر بے دریغ پیٹ پوجا کے بعد اس کے دل کی دھڑکن گھڑی کی سوئیوں کی طرح بجنے لگی۔ اس کا دل کسی الارم کی طرح تیز سے تیز ہوتا جا رہا تھا۔ وہ چند سیکنڈ بعد کرسی پر مردہ پایا گیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>تیسرا منظر</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سامنے ہی ایک احتجاج ہو رہا تھا۔ وہ اپنے اوزار لیے مزدوری کے لیے جا رہا تھا۔ اچانک ایک نعرے نے نجانے کون سا جادو کیا کہ کسی پگھلے سیسے کی طرح وہ احتجاج میں شامل ہوا اور اپنی کدال سے گاڑیوں کے شیشے توڑنا شروع کر دیے۔ خون اس کی آنکھوں سے ابل رہا تھا۔ رگیں اس کے بازوؤں سے باہر نکلنے کو بے تاب تھیں۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے مگر وہ تسکین محسوس کر رہا تھا۔ چند گھنٹے بعد وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>چوتھا منظر</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پاکستان کے بھارت پر قبضے کے بعد بالی وڈ کی تمام ہیروئنز کو مجاہدین کے سامنے پیش کیا جا رہا تھا۔ اس کے سامنے بھی معروف ہیروئنز کھڑی ہوتی ہیں، وہ ان میں سے چند ایک کو پکڑ کر اپنی لونڈی بنا لیتا ہے۔ امریکہ کی تباہی کے بعد اب مسلمانوں کی ساری دنیا پر حکومت ہے اور اسے یورپ کا حکمران بنا دیا گیا ہے، امی کی آواز آتی ہے اور وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتا ہے اور دہی لینے چلا جاتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>پانچواں منظر</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">لاہور کے مال روڈ پر اسکرٹ اور نیکر پہنے لڑکیاں گھوم رہی ہیں۔ لوگوں کے ہاتھوں میں شراب ہے۔ وہ سامنے بنے کلب میں داخل ہوتا ہے۔ اندر تیز موسیقی پر بے ہنگم رقص ہو رہا ہے۔ جسم تھرک رہے ہیں۔ وہ تھرکتے جسموں میں شامل ہوجاتا ہے۔ کچھ دیر پینے اور بہکنے کے بعد اسے لڑکے اور لڑکیاں اٹھا کر اوپر لے جاتے ہیں۔ وہ واپسی پر بہت تسکین محسوس کرتا ہے۔ اچانک ایک ہارن کی آواز اسے چونکا دیتی ہے۔ پچھلی گاڑی والا گالی دیتے ہوئے اسے سگنل کھل جانے کا بتا رہا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>چھٹا منظر</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">وہ دیکھتا ہے کہ اس کے دوست کو کچھ لوگ مار رہے ہیں۔ اس کی کنپٹیاں جلنا شروع ہوجاتی ہیں۔ وہ آگ بگولا ہوجاتا ہے۔ اس کے بدن میں بجلی بھر جاتی ہے۔ وہ اپنے ہاتھ میں بلا پکڑ کر ان لوگوں پر پل پڑتا ہے۔ ایک کے سر سے خون نکلتا دیکھ کر اس کے ہاتھوں میں مزید تیزی آ جاتی ہے۔ اس کا دوست اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ نہیں رکتا۔ کچھ دن بعد قتل کے الزام میں اسے پھانسی کی سزا سنا دی جاتی ہے۔</div>
<p>Image: Taha Malasi</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ac%d8%a8%d9%84%d8%aa/">جبلت</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ac%d8%a8%d9%84%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>انسان جبلتوں کے تعامل کا پیچیدہ شاہکار ہے- ہارون رشید کا فرضی کالم</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d8%a8%d9%84%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%85%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%8c%da%86%db%8c%d8%af%db%81-%d8%b4%d8%a7%db%81%da%a9%d8%a7%d8%b1/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d8%a8%d9%84%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%85%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%8c%da%86%db%8c%d8%af%db%81-%d8%b4%d8%a7%db%81%da%a9%d8%a7%d8%b1/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ثاقب ملک]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 30 Jul 2016 05:25:13 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Haroon Rasheed]]></category>
		<category><![CDATA[parody column haroon rasheed]]></category>
		<category><![CDATA[پیروڈی کالم]]></category>
		<category><![CDATA[ہارون رشید]]></category>
		<category><![CDATA[ہارون رشید فرضی کالم]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=16912</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">
الحذر الحذر!! بھاگ ان بردہ فروشوں سے کہاں کے بھائی؟ بیچ ہی دیویں جو یوسف سا برادر ہووے۔ اب لکھنؤ اور دہلی<br />
کی تہذیب کے وارث نو ٹنکی فنکار ہوں گے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d8%a8%d9%84%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%85%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%8c%da%86%db%8c%d8%af%db%81-%d8%b4%d8%a7%db%81%da%a9%d8%a7%d8%b1/">انسان جبلتوں کے تعامل کا پیچیدہ شاہکار ہے- ہارون رشید کا فرضی کالم</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ثاقب ملک کے اپنے <a href="https://archereye.wordpress.com/2016/01/26/%D8%B1%D8%A7%D8%AD%DB%8C%D9%84-%D8%B4%D8%B1%DB%8C%D9%81-%DA%A9%DB%92-%D8%AA%D9%88%D8%B3%DB%8C%D8%B9-%D9%86%DB%81-%D9%84%DB%8C%D9%86%DB%92-%D9%BE%D8%B1-%DB%81%D8%A7%D8%B1%D9%88%D9%86-%D8%A7%D9%84%D8%B1/" target="_blank" rel="noopener">بلاگ</a> پر بھی شائع ہو چکا ہے، مصنف کی اجازت سے اسے لالٹین کے قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری یا تضحیک قطعاً مقصقد نہیں۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<p><img decoding="async" class="aligncenter size-medium wp-image-5780" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2014/05/youth-yell-300x133.jpg" alt="youth-yell" width="300" height="133"></p>
<div class="urduexcerpt">مزید <a href="https://laaltain.pk/author/saqib-malik/" target="_blank" rel="noopener">فرضی کالم</a> پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<div class="urdutext">الحذر الحذر!! بھاگ ان بردہ فروشوں سے کہاں کے بھائی؟ بیچ ہی دیویں جو یوسف سا برادر ہووے۔ اب لکھنؤ اور دہلی کی تہذیب کے وارث نو ٹنکی فنکار ہوں گے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">خاکی کو اس ٹی وی کے فرعون کی کہانی معلوم ہے۔ آدمی کی روح چیخ اٹھتی ہے۔ کیسے کیسے اجلے لوگ اردو بولنے والوں کے نمائندے تھے۔ اور اب یہ چھچھوندر؟</div>
<div class="urdutext">قرائن نمایاں تھے کہ یہ بے ہودگی کا فرستادہ شخص جو مذہب کی چادر اوڑھے بازاری حرکتیں کرتا رہتا ہے ایم کیو ایم کی باگ ڈور سنبھالے گا اور الیکٹرانک میڈیا میں طوفان بد تمیزی پیدا کرے گا۔ بھاڑے کا ٹٹو جو اپنے آقا کے حکم پر بروئے کار آیا ہے۔ تف ہے ایسے شخص پر۔ خاکی کو اس ٹی وی کے فرعون کی کہانی معلوم ہے۔ آدمی کی روح چیخ اٹھتی ہے۔ کیسے کیسے اجلے لوگ اردو بولنے والوں کے نمائندے تھے۔ اور اب یہ چھچھوندر؟ مکرر عرض کے دنیا سے کوئی شخص نہیں اٹھے گا جب تک اس کا ظاہر و باطن آشکار نہ ہو جائے۔ اس بد زبان کی لگامیں بھی اب کھنچنے کو ہیں۔ افسوس انسان سامنے کی بات پر غور نہیں کرتا اور بھول بھلیوں میں الجھا رہتا ہے۔ بے اختیار دیو مالائی کردار حکمت یار یاد آیا۔ ایسا ایثار کیش کہ دل سے صدا اٹھی پروردگار اس کی وردی کہاں ہے؟ برخوردار بلال الرشید کی کنگھی کر رہا تھا کہ سپہ سالار کا پیغام آیا کہ فوجی مستقر چلے آئیے۔ کنگھی وہیں چھوڑی اور گھوڑے کو ایڑ لگائی یہ جا وہ جا۔ پہنچا تو صابر کیانی نے میرے ہاتھ خالی دیکھے لیکن زبان سے کچھ نہ بولے۔ ماتھے پر ہاتھ دھرا کہ آج کے ٹو سگریٹ کی درجن بھر ڈبیاں لانا یاد ہی نہیں رہا۔ مگر سپہ سالار نے چوں تک نہ کی۔ ایسی بوالعجبی؟ قوم بیچ چوراہے پر سو رہی جو اس صابر انسان سے فائدہ نہ اٹھا سکی؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بارہا لکھ چکا ٹی وی سے دل اچاٹ ہو چکا۔ مگر خوش شکل کامران شاہد نے پیغام بھیجا تو تیار ہوگیا۔ علم تھا یہ بے ہودہ شخص بد زبانی کرے گا۔ وہی ہوا۔ لیکن ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں۔ زندیق کو منہ توڑ جواب ملا تو آپے سے باہر ہوکر ہذیان بکنے لگا۔ زبان سکیڑ کر جملے کسنے لگا۔ باچھوں سے جھاگ اڑنے لگا۔ کوئی جائے اور جا کے اس یاوہ گو کو بتائے کہ اس کا وقت آ گیا۔ تاریخ کا کوڑا دان منتظر یے۔ جلد اپنے انجام کو پہنچے گا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">دل اداس ہوا تو عارف کے پاس جا پہنچا۔ وہی تو ہیں جہاں سکون ملتا ہے۔ تسبیح سے سر اٹھایا اور بولے انسان جبلتوں کے تعامل کا پیچیدہ شاہکار ہے۔</div>
<div class="urdutext">یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ایم کیو ایم ایک فسطائی تنظیم ہے۔ اس پر ایسا واویلا؟ چہ معنی دارد۔ بھاڑے کے ٹٹو جو کراچی کا امن برباد کرنا چاہتے ہیں وہ ناکام ہوں گے۔ ستر فیصد تک جہاں جرائم میں کمی آ چکی۔ کمانڈر اس بار یکسو ہے۔ چوہدری نثار ایسے سیاسی حرکیات سے آشنا شخص کا ساتھ میسر ہے۔ کیڑا؟ نالی کے کیڑے اب گریبان تک آ گئے۔ دنیا کے کیڑے؟ دل اداس ہوا تو عارف کے پاس جا پہنچا۔ وہی تو ہیں جہاں سکون ملتا ہے۔ تسبیح سے سر اٹھایا اور بولے انسان جبلتوں کے تعامل کا پیچیدہ شاہکار ہے۔ یہ فنکار ذہنی مریض یے۔ بچپن نا آسودگی میں گزرا۔ درگزر کرو۔ دل شاد ہوا۔ اسی اثناء میں کپتان کا پیغام آیا کہ بنی گالا پہنچو شیرو کے ساتھ مل کر دیسی مرغی کھاتے ہیں۔ دنوں بعد سیر ہو کر کھایا۔ کوئی ہے جو ایسے یاوہ گوہ کی زبان گدی سے کھینچ لے؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">الحذر الحذر!! بھاگ ان بردہ فروشوں سے کہاں کے بھائی؟ بیچ ہی دیویں جو یوسف سا برادر ہووے۔ اب لکھنؤ اور دہلی<br>
کی تہذیب کے وارث نو ٹنکی فنکار ہوں گے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d8%a8%d9%84%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%85%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%8c%da%86%db%8c%d8%af%db%81-%d8%b4%d8%a7%db%81%da%a9%d8%a7%d8%b1/">انسان جبلتوں کے تعامل کا پیچیدہ شاہکار ہے- ہارون رشید کا فرضی کالم</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d8%a8%d9%84%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d9%85%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%8c%da%86%db%8c%d8%af%db%81-%d8%b4%d8%a7%db%81%da%a9%d8%a7%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پی ایس ایل کے ایک میچ پر چند فرضی تبصرے</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%be%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%84-%da%a9%db%92-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%85%db%8c%da%86-%d9%be%d8%b1-%da%86%d9%86%d8%af-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%d8%aa%d8%a8%d8%b5%d8%b1%db%92/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%be%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%84-%da%a9%db%92-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%85%db%8c%da%86-%d9%be%d8%b1-%da%86%d9%86%d8%af-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%d8%aa%d8%a8%d8%b5%d8%b1%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ثاقب ملک]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 21 Feb 2016 17:58:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan Super League]]></category>
		<category><![CDATA[Parody Columns]]></category>
		<category><![CDATA[PSL]]></category>
		<category><![CDATA[Saqib Malik]]></category>
		<category><![CDATA[اردو طنزومزاح]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان سوپر لیگ]]></category>
		<category><![CDATA[پی ایس ایل]]></category>
		<category><![CDATA[پیروڈی کالم]]></category>
		<category><![CDATA[ثاقب ملک]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=15183</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">کوئٹہ کی ٹیم کی کامیابی کی خاص بات ان کی کٹ کا رنگ ہے۔ یہ رنگ اٹھارہ سو دھاگوں سے مل کر بنا ہے۔ یہ رنگ سب سے پہلے ہنگری کے ایک جاگیردار نے بنوایا تھا۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%84-%da%a9%db%92-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%85%db%8c%da%86-%d9%be%d8%b1-%da%86%d9%86%d8%af-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%d8%aa%d8%a8%d8%b5%d8%b1%db%92/">پی ایس ایل کے ایک میچ پر چند فرضی تبصرے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ثاقب ملک کے اپنے <a href="https://archereye.wordpress.com/2016/02/20/%DA%A9%D9%88%D8%A6%D9%B9%DB%81-%DA%A9%DB%92-%D9%BE%D9%84%DB%92-%D8%A2%D9%81-%D9%85%DB%8C%DA%86-%D8%AC%DB%8C%D8%AA%D9%86%DB%92-%D9%BE%D8%B1-%D8%AD%D8%B3%D9%86-%D9%86%D8%AB%D8%A7%D8%B1%D8%8C%D8%AC/" target="_blank" rel="noopener">بلاگ</a> پر بھی شائع ہو چکا ہے، مصنف کی اجازت سے اسے لالٹین کے قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری یا تضحیک قطعاً مقصقد نہیں۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urduexcerpt">مزید <a href="https://laaltain.pk/author/saqib-malik/" target="_blank" rel="noopener">فرضی کالم</a> پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>رؤف کلاسرا</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">کل رچرڈز جیسے جینیس کو خوشی سے ناچتے دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ دیکھو یہ ہمارے ملک کی ٹیم کے لئے کتنا خوش ہو رہا ہے</div>
<div class="urdutext">میں کل پی ایس ایل کا میچ دیکھ رہا تھا۔ کوئٹہ کی فتح پر میرا بیٹا خوشی سے چھلانگیں مارنے لگا، اس کی خوشی دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے پوچھا ابو کیا ہوا ہے؟ میں نے جواب دیا تمہاری خوشی پر رو رہا ہوں۔ میں اسے کیا بتاتا کہ اس کا باپ کیوں رو رہا ہے؟ مجھے اپنا بچپن یاد آ گیا جب میں بڑے بھائی اور اماں سے چھپ چھپ کر میچز اور فلمیں دیکھنے جاتا تھا۔ وہ دور یاد کر کے مجھ میں عجیب سے خوشی پیدا ہو گئی، مگر یہ بات یاد آئی کہ نہ اب بڑے بھائی ہیں نہ اماں تو آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ کل رچرڈز جیسے جینیس کو خوشی سے ناچتے دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ دیکھو یہ ہمارے ملک کی ٹیم کے لئے کتنا خوش ہو رہا ہے اور ہمارے اپنے کیڑے نکالتے ہیں۔ میں کافی دیر تک روتا رہا آخر کار بلونت سنگھ کا افسانہ پڑھتے ہوئے کچھ سکون ملا۔ لیکن پھر احساس ہوا کہ یہ افسانہ بھی تو ختم ہو جائے گا یہ سوچ کر آنکھیں پھر بھر آئیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>حسن نثار</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">کل ایک شگوفے نے فون کھڑکا دیا کہ کوئٹہ میچ جیتا ہے آپ کو مبارک ہو۔ میں نے کہا جب کوئٹہ والے جیتیں گے تب مبارک دینا۔</div>
<div class="urdutext">اوہ بھائی کون سا میچ، کیسا میچ؟ کل ایک شگوفے نے فون کھڑکا دیا کہ کوئٹہ میچ جیتا ہے آپ کو مبارک ہو۔ میں نے کہا جب کوئٹہ والے جیتیں گے تب مبارک دینا۔ اوہ لعنت ہو ایسی سوچ پر۔ دودھ تمہارا جعلی، دوائیں جعلی، پانی ملاوٹ زدہ، جگہ جگہ گندگی اور غلاظت، اور تم جشن منا رہے ہو؟ لعنت ہو ایسی مکروہ چغلی چغلائی سوچ پر۔ ڈھنگ کا کام کرو۔ دنیا میں کتنی کوئٹہ کی ٹیمیں ہیں؟ پھر تم نے کیوں ٹیم بنا لی؟ اور کیا ٹیم ہے؟ جیتنے پر سرفراز اکیلا جشن منا رہا تھا، پیٹرسن ادھر بھاگ رہا تھا، سنگاکارا ادھر منہ اٹھا کر بھاگ رہا تھا، ویو رچرڈز نے اپنی فلم چلائی ہوئی تھی۔ کیا یہ ہوتی ہے ٹیم؟ تمہاری ایک ٹیم تو متحد ہے نہیں۔ ستر سال ہو گئے پاکستان کو بنے ہوئے، لعنت ہو ایک گلی میں تم اکٹھے نہیں، مسجد ایک نہیں، ازاں ایک نہیں اور گالیاں امریکا کو دیتے ہو۔ بل شٹ خدا کا خوف کرو اب بند کرو یہ بکواس بند کرو اب۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>ہارون الرشید</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">بھاڑے کے ٹٹو کوئٹہ کی فتح پر کہیں گے شکریہ راحیل شریف؟ آدمی کی روح چیخ اٹھتی ہے۔</div>
<div class="urdutext">کتاب کہتی ہے جو جیتا دلیل سے جیتا جو ہارا دلیل سے ہارا۔<br>
بھاڑے کے ٹٹو کوئٹہ کی فتح پر کہیں گے شکریہ راحیل شریف؟ آدمی کی روح چیخ اٹھتی ہے۔ خدا کی پناہ کیسے کیسے اجلے لوگ۔ کل رچرڈز کو دیکھا۔ جب پریشان تھا تو عارف کے پاس آن پہنچا کہ تسبیح چاہئے۔ عارف نے تسبیح کے دانوں سے سر اٹھایا اور بولے اپنا غصہ نکال دو۔ تسبیح لی یہ جا وہ جا۔ عظمت اس پر ٹوٹ کر برسی۔ کپتان سے بہتیرا کہا پشاور کے لئے تسبیح لے جاؤ۔ جواب ندارد۔ خان کے اردگرد سیف اللہ نیازیوں، صداقت عباسیوں، شاہ محمود قریشیوں کا غلبہ ہے۔ میچ دیکھ رہا تھا کہ سپہ سالار نے قاصد بھیجا کہ میچ پر تبصرہ کرنا ہے آپ آ جائیں۔ کپتان کو کہا کہ چلے۔ مگر کپتان اپنی دھن کا ہے۔ اس نے سن کر نہ دی۔ خود ہی گھوڑے کو چابک دی اور فوجی مستقر پر جا رکا۔ سپہ سالار مسکرایا اور بولا جنرل پیٹریاس کہتا تھا پی ایس ایل ناکام ہو گی۔ کامیابی سے سپہ سالار کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ بھاڑے کے ٹٹو کیا جانے اس صابر انسان نے کتنے پہاڑ سے بحرانوں کو اس ملک پر نہ آنے دیا۔ امریکا سے امداد لینے والا چڑیا والا صحافی جو آج پی ایس ایل کو اپنی فتح بنا کر پیش کر رہا ہے وہ جھوٹ ہے۔ یہ خاکی سب داستان جانتا ہے کسی دن بیان کر دی جائے گی۔ کتاب کہتی ہے جو جیتا دلیل سے جیتا جو ہارا دلیل سے ہارا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>جاوید چوہدری</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">کوئٹہ کی ٹیم کی کامیابی کی خاص بات ان کی کٹ کا رنگ ہے۔ یہ رنگ اٹھارہ سو دھاگوں سے مل کر بنا ہے۔</div>
<div class="urdutext">سرفراز نے قہقہہ لگایا اور سٹمپس اڑا دیں اور کوئٹہ پلے آف کا پہلا میچ رات بارہ بج کر تئیس منٹ اور چودہ سیکنڈ پر جیت گیا۔ کوئٹہ کی ٹیم کی کامیابی کی خاص بات ان کی کٹ کا رنگ ہے۔ یہ رنگ اٹھارہ سو دھاگوں سے مل کر بنا ہے۔ یہ رنگ سب سے پہلے ہنگری کے ایک جاگیردار نے بنوایا تھا۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم بھی پاکستان کی ٹیم کا رنگ پرپل کر دیں اس سے ٹیم میں رواداری بھی بڑھے گی اور برداشت بھی پیدا ہو گی۔ میں حکومت کو تجویز دوں گا کہ وہ پاکستان کے ہر کرکٹ کھیلنے والے بچے کے منہ پر پرپل رنگ کر دے یہ رنگ اسے کوئٹہ کی فتح کی یاد دلاتا رہے گا۔ ہمیں پورا پاکستان پرپل کرنا ہو گا کیونکہ یورپ ایسا کر رہا ہے اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ہم لاہور قلندرز کی طرح تاریخ کے اندھے کنویں میں جا گریں گے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%84-%da%a9%db%92-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%85%db%8c%da%86-%d9%be%d8%b1-%da%86%d9%86%d8%af-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%d8%aa%d8%a8%d8%b5%d8%b1%db%92/">پی ایس ایل کے ایک میچ پر چند فرضی تبصرے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%be%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%84-%da%a9%db%92-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%85%db%8c%da%86-%d9%be%d8%b1-%da%86%d9%86%d8%af-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%d8%aa%d8%a8%d8%b5%d8%b1%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ہارون رشید کا ایک فرضی کالم</title>
		<link>https://laaltain.pk/%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%88%d9%86-%d8%b1%d8%b4%db%8c%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%84%d9%85/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%88%d9%86-%d8%b1%d8%b4%db%8c%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%84%d9%85/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ثاقب ملک]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 28 Jan 2016 04:43:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Haroon Rashid]]></category>
		<category><![CDATA[Parody Columns]]></category>
		<category><![CDATA[Saqib Malik]]></category>
		<category><![CDATA[ثاقب ملک]]></category>
		<category><![CDATA[فرضی کالم]]></category>
		<category><![CDATA[ہارون رشید]]></category>
		<category><![CDATA[ہارون رشید کا فرضی کالم]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=14702</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">کتاب کہتی ہے اسے تولا گیا اور وہ ہلکا نکلا .اب بھاڑے کے ٹٹو بولیں گے شکریہ راحیل شریف؟ الحذر الحذر۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%88%d9%86-%d8%b1%d8%b4%db%8c%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%84%d9%85/">ہارون رشید کا ایک فرضی کالم</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ثاقب ملک کے اپنے <a href="https://archereye.wordpress.com/2016/01/26/%D8%B1%D8%A7%D8%AD%DB%8C%D9%84-%D8%B4%D8%B1%DB%8C%D9%81-%DA%A9%DB%92-%D8%AA%D9%88%D8%B3%DB%8C%D8%B9-%D9%86%DB%81-%D9%84%DB%8C%D9%86%DB%92-%D9%BE%D8%B1-%DB%81%D8%A7%D8%B1%D9%88%D9%86-%D8%A7%D9%84%D8%B1/" target="_blank" rel="noopener">بلاگ</a> پر بھی شائع ہو چکا ہے، مصنف کی اجازت سے اسے لالٹین کے قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری یا تضحیک قطعاً مقصقد نہیں۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urduexcerpt">مزید <a href="https://laaltain.pk/author/saqib-malik/" target="_blank" rel="noopener">فرضی کالم</a> پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کتاب کہتی ہے اسے تولا گیا اور وہ ہلکا نکلا۔ اب بھاڑے کے ٹٹو بولیں گے شکریہ راحیل شریف؟ الحذر الحذر۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">جنرل راحیل شریف نے فیصلہ سنا دیا۔ بیچ سمندر میں، ملاح اور بیچ جنگ میں سپہ سالار نہیں بدلا کرتے مگر فسوں خیز جنرل ادنیٰ انسان نہیں ہے۔</div>
<div class="urdutext">جنرل راحیل شریف نے فیصلہ سنا دیا۔ بیچ سمندر میں، ملاح اور بیچ جنگ میں سپہ سالار نہیں بدلا کرتے مگر فسوں خیز جنرل ادنیٰ انسان نہیں ہے۔ ماتھے پر ہاتھ دھرا اپنی دھن میں گھوڑے کو ایڑ لگائی کہ کپتان کا برقی پیغام ملا کہ آن پہنچو۔ بنی گالا پہنچا۔ کپتان پسینے میں شرابور، ورزش کے لیے مخصوص لباس میں ملبوس کسی معصوم جنرل کی طرح لگ رہا تھا۔ اس کے لانبے چہرے سے پسینے کے قطرے گر رہے تھے۔ ایسے سادہ اطوار کا بھانڈ مذاق اڑاتے تھے۔ اللہ کی پناہ ایسے ایسے لوگ، جن کو پیسے سی آئی اے سے ملتے ہوں ان کا اس ملک سے کیا واسطہ؟ کپتان نے مجھے دیکھ کر کہا، ہارون تم کیا کہتے ہو میں بھی جنرل کی طرح، تحریک انصاف کی صدارت کی توسیع نہ لوں؟ برق سی لپکی ذہن میں کہ خان تو تاحیات پارٹی کا چئیرمین ہے مگر ایسا سادہ کہ یہ بھی نہیں معلوم؟ ایسے سادہ لوح کو عوام موقع نہیں دیتی، جو دیسی مرغی کھاتے ہوئے، سالن سے اپنی آستینیں بھگو دے اور شریفوں، زرداریوں، مولانا اور اسفند یار ولیوں کو سر پر بٹھائے رکھتی ہے۔ اسی اثنا میں سفید لبادے میں ملبوس، باوردی ملازم دلکی چال چلتے گھوڑے پر جوس اٹھا لایا، سوچا کپتان نے یہ میزبانی کب سیکھی؟ ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ کپتان نے گلاس لیا اور غٹاغٹ جوس چڑھا گیا۔ کپتان نے پھر سوال داغا۔ بے اختیار پرویز رشید یاد آیا، اللہ اللہ ایسے ایسے لوگ وزیر اعظم نے وزیر رکھ چھوڑے ہیں جن کو کوئی منشی بھی نہ رکھے۔ ایک خواجہ صاحبان ہیں جن کی گھٹی میں فوج سے نفرت ہے۔ الحذر الحذر<br>
خان کا چہرہ یکدم سرخ ہو گیا۔ لگا کہ جواب نہ ملنے پر خفا ہے، اچانک دیکھا تو صلاح الدین ایوبی اس کی پشت سے سفید گھوڑے پر لپکے چلے آتے ہیں۔ وہ پاس آئے گھوڑے کی لگامیں کھینچیں، حکمت یار کا ای میل پتہ مانگا اور یہ جا وہ جا، میں ہکا بکا، درویش یاد آیا وہی ملائم انداز کہ دلوں کو موہ لے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بھاڑے کے ٹٹو کے اب اپنی نفرت آمیز لہجے والی زبانیں سکوڑے بیٹھے ہیں کہ جنرل نے توسیع نہیں لی، پوری داستان اس خاکی اخبار نویس کو معلوم ہے، کسی دن سب بیان کر دی جائے گی۔ برخوردار، بلال الرشید کا زکام صاف کر رہا تھا کہ فسوں خیز، سپہ سالار، صابر کیانی کا مژدہ آیا۔ کوندا سا لپکا کہ دو عشرے ہوتے ہیں، سرخ فوج کو دھول چٹا دینے والے مرد مومن، صلاح الدین ایوبی، ضیاء الحق نے بھی اسی طرح بلا بھیجا تھا صاف انکار کیا۔ ایسا چمکیلی سنہری دھوپ والا دن دیکھتا ہوں کہ ایک ہیلی کاپٹر اڑا چلا آتا ہے، میرے غریب خانے کے سامنے اترتا ہے۔ اندر سے روسیوں کی روح چٹخ دینے والا سادہ مگر چمکیلی آنکھوں والا باوردی جنرل، سفید گھوڑے پر سوار نکلتا ہے۔ سر پٹ دوڑتا گھوڑا میرے سامنے آن رکتا ہے جب جنرل اس کی لگامیں کھینچتا ہے۔ آدمی کی روح چیخ اٹھتی ہے کہ آج اس کا کوئی نام لیوا نہیں ہے؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">ایسے سادہ لوح کو عوام موقع نہیں دیتی، جو دیسی مرغی کھاتے ہوئے، سالن سے اپنی آستینیں بھگو دے اور شریفوں، زرداریوں، مولانا اور اسفند یار ولیوں کو سر پر بٹھائے رکھتی ہے۔</div>
<div class="urdutext">فوجی مستقر پہنچتا ہوں۔ سپہ سالار، کیپسٹن سگریٹ کی ڈبی سے سگریٹ نکالنا چاہتا ہے مگر سگریٹ ندارد، اپنی دھن میں مگن، سوچتی کھوجتی آنکھوں والا، سپہ سالار جس پر بھاڑے کے ٹٹو بہتان لگاتے ہیں وہ جاہل لاعلم ہیں۔ میں نے برخوردار مامون الرشید کو کہا کہ کالے گھوڑے کو ایڑ لگاؤ اور نکڑ والے کھوکھے سے، کیپسٹن سگریٹ کا پیکٹ اٹھا لاؤ۔ سپہ سالار ایک صابر انسان ہے۔ دو لفظوں میں پوری کہانی کہہ دیتا ہے۔ مگر وہ سوچنے والا ہے۔ دشنام طرازی کرنے والوں پر خاموش رہتا ہے۔ بہتیرا کہا کہ اپنی کہانی لکھ دیجیے مگر جواب فقط سحر انگیز خاموشی۔<br>
ہاں کہہ دیں بھاڑے کے ٹٹو،گز گز زبانوں سے کیچڑ اچھالنے والے اور دشنام طرازی کرنے والے شکریہ راحیل شریف کہ اعلیٰ خاندان کے سرخ و سپید فسوں خیز سپہ سالار کو بیچوں بیچ لگامیں نہ کھنچ دینی چاہیے تھیں۔ ابھی ضرب عضب جاری ہے اور جنگ کے درمیان کمانڈر نہیں بدلا کرتے مگر خود دار سپہ سالار توسیع کو لے کر جاری زہریلی تنقید اور دشنام طرازی پر رنجیدہ خاطر تھا۔ دل چاہا کہ جنرل کو گوجر خان عارف کے پاس لے چلوں جس سے روز ہزاروں فیض پاتے ہیں۔ پھر سوچا کہ گنوار ہوں درویش کو کتنی ہی بار مصیبت میں ڈالا۔ اللہ کی پناہ کیسے کیسے گنوار لوگوں کو درویش پناہ دیتا ہے۔ وہی تاریک کمرہ، وہی روشن چہرہ، اس چڑیا والے تجزیہ نگار کی طرح نہیں جو امریکی آشیر باد اور مالی امداد پر چلتا ہے۔ بھاڑے کے ٹٹو۔۔۔ کیسا بدنصیب ہے یہ ملک کہ زرداریوں، شریفوں، چوھدریوں کے نرغے میں پھنس گیا۔ الامان الحفیظ۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کتاب کہتی ہے اسے تولا گیا اور وہ ہلکا نکلا .اب بھاڑے کے ٹٹو بولیں گے شکریہ راحیل شریف؟ الحذر الحذر۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%88%d9%86-%d8%b1%d8%b4%db%8c%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%84%d9%85/">ہارون رشید کا ایک فرضی کالم</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%88%d9%86-%d8%b1%d8%b4%db%8c%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%84%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>شاہد آفریدی کی بلے بازی کی فرضی روداد</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b4%d8%a7%db%81%d8%af-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d9%84%db%92-%d8%a8%d8%a7%d8%b2%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%d8%b1%d9%88%d8%af%d8%a7%d8%af/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b4%d8%a7%db%81%d8%af-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d9%84%db%92-%d8%a8%d8%a7%d8%b2%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%d8%b1%d9%88%d8%af%d8%a7%d8%af/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ثاقب ملک]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 17 Jan 2016 09:02:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Ahmad Shehzad]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan Cricket]]></category>
		<category><![CDATA[Shahid Afridi]]></category>
		<category><![CDATA[Shoaib Malik]]></category>
		<category><![CDATA[Umar Akmal]]></category>
		<category><![CDATA[احمد شہزاد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[شاہد آفریدی]]></category>
		<category><![CDATA[شعیب ملک]]></category>
		<category><![CDATA[عمر اکمل]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=14571</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">کیچ ہو جاتا ہے اور آفریدی، ہزاروں لاکھوں لوگوں کے خدشات کے عین مطابق ہزارویں لاکھویں مرتبہ ایک ہی انداز میں آوٹ ہو کر چل پڑتے ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b4%d8%a7%db%81%d8%af-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d9%84%db%92-%d8%a8%d8%a7%d8%b2%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%d8%b1%d9%88%d8%af%d8%a7%d8%af/">شاہد آفریدی کی بلے بازی کی فرضی روداد</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ثاقب ملک کے اپنے <a href="https://archereye.wordpress.com/2016/01/13/%D8%B4%D8%A7%DB%81%D8%AF-%D8%A2%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%AF%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%DB%8C%D9%B9%D9%86%DA%AF-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%81%D8%B1%D8%B6%DB%8C-%D8%8C%D9%BE%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%88/" target="_blank" rel="noopener">بلاگ</a> پر بھی شائع ہو چکا ہے، مصنف کی اجازت سے اسے لالٹین کے قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی دل آزاری یا تضحیک قطعاً مقصقد نہیں۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urduexcerpt"><a href="https://laaltain.pk/%D8%B2%DB%8C%D8%AF-%D8%AD%D8%A7%D9%85%D8%AF-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%81%D8%B1%D8%B6%DB%8C-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/" target="_blank" rel="noopener">زید حامد</a>، <a href="https://laaltain.pk/%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%AF-%DA%86%D9%88%DB%81%D8%AF%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%81%D8%B1%D8%B6%DB%8C-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/" target="_blank" rel="noopener">جاوید چوہدری</a> اور <a href="https://laaltain.pk/%D8%AD%D8%B3%D9%86-%D9%86%D8%AB%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%81%D8%B1%D8%B6%DB%8C-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/" target="_blank" rel="noopener">حسن نثار</a> کے فرضی کالم پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img decoding="async" class="aligncenter size-medium wp-image-5780" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2014/05/youth-yell-300x133.jpg" alt="youth-yell" width="300" height="133"></p>
<div class="left2pullquote">آفریدی، احمد شہزاد کو بلا کر کہتے ہیں کہ یار، ذرا میری جرابیں لاؤ، میں دو جوڑے پہن کر بیٹنگ کروں گا۔ احمد شہزاد فوراً بھاگ کر ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ شاہد آفریدی صلے کے طور پر احمد شہزاد کے ساتھ ایک سیلفی لیتے ہیں۔</div>
<div class="urdutext">شاہد آفریدی ڈریسنگ روم میں بیٹھے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ ان کی ٹانگیں تیز تیز ہل رہی تھیں۔ آفریدی، احمد شہزاد کو بلا کر کہتے ہیں کہ یار، ذرا میری جرابیں لاؤ، میں دو جوڑے پہن کر بیٹنگ کروں گا۔ احمد شہزاد فوراً بھاگ کر ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ شاہد آفریدی صلے کے طور پر احمد شہزاد کے ساتھ ایک سیلفی لیتے ہیں۔ کریز پر حفیظ اور عمر اکمل بیٹنگ کر رہے ہیں کہ تماشائیوں میں سے کوئی ڈیل سٹین کا نام لیتا ہے اور حفیظ فوراً آوٹ ہو جاتے ہیں۔ اب آفریدی کی باری ہے۔ ڈریسنگ روم میں ایک سنسنی سی دوڑ جاتی ہے۔ آفریدی جلدی سے اپنے سر سے دماغ اتار کر ہیلمٹ پہن لیتے ہیں۔ وہ جب باہر نکلنے لگتے ہیں تو کوچ وقار یونس انہیں کہتے ہیں “ٹیک یور ٹائم”۔ آفریدی اثبات میں سر ہلا کر کہتے ہیں: “وقار بھائی آپ فکر ہی نہ کریں”۔ مصباح الحق اپنی بھاری بھر کم آواز میں آفریدی کو سمجھاتے ہیں کہ ابھی بہت اوورز پڑے ہیں آرام سے کھیلنا۔ اس طرح فرداً فرداً تقریباً ہر اہم کھلاڑی، ٹیم مینجر اور ٹیم کا فزیو تھراپسٹ بھی آفریدی کو اپنے مشوروں سے نوازتا ہے۔ آفریدی سب کے مشورے سن کر ان پر عمل درآمد کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔ آفریدی فیلڈ کی جانب بڑھتے ہیں، پیچھے سے دبی دبی آواز میں ڈریسنگ روم سے کوئی بولتا ہے: “وی سال ہو گئے نے سمجھا سمجھا کے، اینوں عقل نئیں آئی” (بیس سال ہو گئے سمجھاتے ہوئے لیکن اسے عقل نہیں آئی)۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">آفریدی رسی عبور کر کے گراؤنڈ میں قدم رکھتے ہیں تو ان کے ذہن میں کوچ اور کپتان، اور ان کا اپنا بیٹنگ پلان گھوم رہا ہوتا ہے۔ وہ کچھ بولرز کواحتیاط سے کھیلنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، اننگز کے آغاز میں پل شاٹ نہ کھیلنے کا تہیہ کرتے ہیں، پہلی پندرہ بیس گیندیں سنگل ڈبل کرنے کا سوچتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ لیکن جیسے ہی آفریدی گراؤنڈ میں قدم رکھتے ہیں، اسٹیدیم، “بوم بوم” اور “لالہ لالہ” کے نعروں سے گونج اٹھتا ہے۔ ہر کوئی آفریدی کو چھکا مارنے پر اکسا رہا ہوتا ہے۔ کوئی تماشائی کہتا ہے “لالہ اگر پٹھان کا خون ہے تو پہلی بال پر چھکا مارنا ہے”۔ کوئی اور منچلا چلاتا ہے، “بوم بوم بھائی، میں نے اپنے محلے میں شرط لگائی ہے کہ شاہد بھائی پہلی گیند پر ہی چھکا ماریں گے”، ایک نسوانی آواز آتی ہے، “شاہد بھائی آج آپ نے ہی جتانا ہے، عزت کا سوال ہے”۔ آفریدی دل میں کہتے ہیں میں تمہاری ناک نہیں کٹنے دوں گا (چاہے، پاکستان کی ناک کٹ جائے )۔۔۔۔۔ اور تمام منصوبہ بندیاں، تمام نصیحتیں آفریدی کریز پر پہنچنے سے پہلے ہی بھول چکے ہوتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">کریز پر دوبارہ جاتے ہیں اور اگلی بال پر آوٹ ہو جاتے ہیں۔ آوٹ ہونے پر ان کی مایوسی اتنی زیادہ ہوتی ہے جیسے فرشتوں نے ایک سازش کے ذریعے ان کی قسمت میں ردوبدل کر کے انہیں آوٹ کروایا ہے۔</div>
<div class="urdutext">آفریدی کریز پر آتے ہیں تو عمر اکمل ان کے منہ کے اوپر گھس کر کہتا ہے، “شاہد بھائی، یہ باؤلر آپ کو گالی دے رہے تھا، اسے نہیں چھوڑنا”۔ آفریدی کا خون اور کھولنے لگتا ہے۔ سٹرائیک پر عمر اکمل ہوتے ہیں۔ عمر ایک چوکا لگاتے ہیں، سینہ مزید چوڑا کرتے ہیں، آفریدی کے اوپر چڑھ کر گلوز پر گلوز مارتے ہیں، پورے گراؤنڈ میں چاروں طرف فخریہ انداز میں دیکھتے ہیں، جیسے ایک گیند پر ایک ہزار رنز بنا لیے ہوں۔ کریز پر دوبارہ جاتے ہیں اور اگلی بال پر آوٹ ہو جاتے ہیں۔ آوٹ ہونے پر ان کی مایوسی اتنی زیادہ ہوتی ہے جیسے فرشتوں نے ایک سازش کے ذریعے ان کی قسمت میں ردوبدل کر کے انہیں آوٹ کروایا ہے۔ اگلے بلے باز شعیب ملک ہیں۔ ملک آفریدی کے قریب آتے ہیں تو آفریدی انہیں سمجھداری سے بلے بازی کا مشورہ دیتے ہیں (ملک دل ہی دل میں اس ستم ظریفانہ مشورے پر ہنستے ہیں)۔ ملک اپنی دوسری گیند پر خوب صورت چوکا لگاتے ہیں تو آفریدی انہیں کہتے ہیں، “ملک ہیلمٹ اتار”۔ شعیب ملک سوال کرتے ہیں، “کیوں لالہ کیا ہوا ہے؟” آفریدی جواب دیتے ہیں “اتنا پیارا چوکا مارا ہے میں تجھے شاباش دوں گا”۔ ملک ہنستے ہوئے کہتے ہیں، “لالہ جی ایسی باتیں آپ اپنے اشتہارات میں ہی کیا کریں۔” اگلی گیند پر شعیب ملک ایک اور چوکا لگاتے ہیں، آفریدی اس کی پیٹھ تھپتھپاتے ہیں اور شاباش دیتے ہیں۔ ملک کہتا ہے،“شاہد بھائی اتنا پیار تو کبھی ثانیہ نے بھی مجھے نہیں کیا جتنا آج آپ کو مجھ پر آ رہا ہے۔” آفریدی کہتا ہے “ملک میں تیرا بڑا بھائی ہوں، ثانیہ کون سی تیرا بڑا بھائی ہے؟” ملک فورا جواب دیتے ہیں، “لیکن لالہ وہ ڈانٹتی تو بڑے بھائی کی طرح ہی ہے”۔ آفریدی جواب میں ہنس کر کہتے ہیں اس کی بات مانا کر وہ دنیا میں ہر جگہ پرفارم کرتی ہے اور تو صرف ایشیا میں چلتا ہے۔” اس پر ملک آفریدی کو ایک گھوری دیتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اب آفریدی سٹرائیک پر آتے ہیں۔ سٹیڈیم میں موجود تمام تماشائی اور ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے لاکھوں ناظرین متوجہ ہو جاتے۔ توقعات اور خدشات ذہن پر ہتھوڑے کی طرح برسنے لگتے ہیں۔ گیند باز عرفان پٹھان ہیں۔ وہ آفریدی کو ایک باؤنسر کراتے ہیں جو آفریدی کے بلے پر نہیں آتا۔ آفریدی گیند چھوٹ جانے پر دو چار گالیاں اپنے آپ کو اور درجن بھر باولر کو دیتے ہیں۔ عرفان پٹھان کہتے ہیں “لالہ تیری بیٹنگ ختم ہو گئی ہے اب تمہاری کارکردگی پہلے جیسی نہیں ہے”۔ آفریدی جواب دیتے ہیں، “مجھے تم سے ایسی ہی گھٹیا بات کی توقع تھی”۔ عرفان دوبارہ اپنے رن اپ کی جانب چل پڑتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">کیچ ہو جاتا ہے اور آفریدی، ہزاروں لاکھوں لوگوں کے خدشات کے عین مطابق ہزارویں لاکھویں مرتبہ ایک ہی انداز میں آوٹ ہو کر چل پڑتے ہیں۔ وہ تماشائی جو آفریدی کو پہلی ہی گیند پر باؤلر کو اڑا دینے اور چھکے لگانے کی ترغیب دے رہے تھے اب مایوسی کے عالم میں کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اس آفریدی کو بیس سال ہو گئے ہیں بیٹنگ کرنا نہیں آئی۔.</div>
<div class="urdutext">اگلی گیند آفریدی کے منہ کے سامنے پڑتی ہے۔ آفریدی اسے اٹھا کر باونڈری سے باہر تماشائیوں میں پھینک دیتے ہیں۔ آفریدی کودتے پھاندتے شعیب ملک کے پاس جاتے ہیں اور اسے تیز تیز بول کر کچھ سمجھانے لگ جاتے ہیں۔ ملک ساری بات سنتے ہیں اور دل میں کہتے ہیں،” جسے بیس سال میں کبھی کسی کی سمجھ نہیں آئی وہ بھی مجھے سمجھانے پر تُلا ہوا ہے”۔ آفریدی اب اگلی گیند کھیلنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ اب لاکھوں تماشائی، ڈریسنگ روم میں موجود کھلاڑی، کپتان اور کوچز اسی خدشے کا شکار ہوتے ہیں کہ اب آفریدی کہیں گیند آسمان پر نہ چڑھا دے۔ عرفان پٹھان کو بھی خوب معلوم ہوتا ہے کہ اب آفریدی ایک اور چھکے کی کوشش کرے گا۔ عرفان پٹھان ایک نسبتاً آہستہ گیند کراتے ہیں آفریدی کا سر آسمان کی جانب ہوتا ہے اور وہ اپنی پوری توانائی سے بلا گھما دیتے ہیں۔ گیند آسمانوں کی بلندیوں پر چڑھ جاتی ہے اس دوران آفریدی پہلے سے ہی اپنی قسمت بھانپ کر ڈریسنگ روم میں واپسی کے لیے قدم بڑھا دیتے ہیں۔ کیچ ہو جاتا ہے اور آفریدی، ہزاروں لاکھوں لوگوں کے خدشات کے عین مطابق ہزارویں لاکھویں مرتبہ ایک ہی انداز میں آوٹ ہو کر چل پڑتے ہیں۔ وہ تماشائی جو آفریدی کو پہلی ہی گیند پر باؤلر کو اڑا دینے اور چھکے لگانے کی ترغیب دے رہے تھے اب مایوسی کے عالم میں کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اس آفریدی کو بیس سال ہو گئے ہیں بیٹنگ کرنا نہیں آئی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_14573" aria-describedby="caption-attachment-14573" style="width: 768px" class="wp-caption aligncenter"><img decoding="async" class="size-full wp-image-14573" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/01/dinner_with_shahid_afridi_by_nutsackcartoons.jpg" alt="آوٹ ہو جانے کے بعد شاہد آفریدی کا پسندیدہ مشغلہ" width="768" height="642"><figcaption id="caption-attachment-14573" class="wp-caption-text">آوٹ ہو جانے کے بعد شاہد آفریدی کا پسندیدہ مشغلہ</figcaption></figure>
<div class="urdutext">آفریدی، ڈریسنگ روم میں جا کر بیٹھتے ہیں۔ احمد شہزاد بھاگ کر ان کے لیے پانی لاتے ہیں۔ آفریدی پانی کا گلاس ہاتھ میں پکڑتے ہیں۔ سامنے ٹی وی پر محمد یوسف اور شعیب اختر براہ راست تبصرہ کرتے نظر آتے ہیں، اور آفریدی کے آوٹ ہونے اور اس کے آوٹ ہونے کے انداز پر تبصرہ کر رہے ہوتے ہیں۔ آفریدی کے کان میں دو جملے پڑتے ہیں، یوسف کہہ رہے ہوتے ہیں “یہ تو ہے ہی ٹلہ” اور شعیب کہہ رہے ہوتے ہیں “اس کا دماغ جو ماشاللہ ہے، کوپتان۔۔۔۔۔” آفریدی غصے سے کہتے ہیں بند کرو یہ یاجوج ماجوج کے تبصرے۔۔۔۔۔ اتنے میں خشکی ختم کرنے کے مشہور برانڈ کا اشتہار چل پڑتا ہے جس میں آفریدی اپنے بالوں میں انگلیاں پھیرتے دکھائی دیتے ہیں ۔۔۔۔ اور اس کے بعد ایک چیونگم کا جس میں وہ فن کو پھلاتے نظر آتے ہیں ۔۔۔۔اور پھر ایک ہاوسنگ سوسائٹی کا اور پھر ایک ہاضمے دار چورن کا اور پھر ایک کولا مشروب کا۔۔۔۔۔۔اور آفریدی اپنا غصہ کم کرنے کو گیند چبانا شروع کر دیتے ہیں۔</div>
<p>Image: Khaliq Khan</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b4%d8%a7%db%81%d8%af-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d9%84%db%92-%d8%a8%d8%a7%d8%b2%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%d8%b1%d9%88%d8%af%d8%a7%d8%af/">شاہد آفریدی کی بلے بازی کی فرضی روداد</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b4%d8%a7%db%81%d8%af-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d9%84%db%92-%d8%a8%d8%a7%d8%b2%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%d8%b1%d9%88%d8%af%d8%a7%d8%af/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>زید حامد کا ایک فرضی کالم</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b2%db%8c%d8%af-%d8%ad%d8%a7%d9%85%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%84%d9%85/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b2%db%8c%d8%af-%d8%ad%d8%a7%d9%85%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%84%d9%85/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ثاقب ملک]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 18 Dec 2015 11:56:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Conspiracy Theory]]></category>
		<category><![CDATA[Zaid Hamid]]></category>
		<category><![CDATA[زید حامد]]></category>
		<category><![CDATA[زید حامد کا فرضی کالم]]></category>
		<category><![CDATA[سازشی مفروضے]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=14065</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">الحمد اللہ، انشاء اللہ وہ وقت جلد آئے گا جب دلی کے لال قلعے پر ہمارے فوجیوں کی بنیانیں دھو کر سکھائی جائیں گی۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b2%db%8c%d8%af-%d8%ad%d8%a7%d9%85%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%84%d9%85/">زید حامد کا ایک فرضی کالم</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">ثاقب ملک کا یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ان کے <a href="https://archereye.wordpress.com/2015/12/09/%D8%AD%D8%B3%D9%86-%D9%86%D8%AB%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85-%D9%BE%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%88%DB%8C-%D8%8C-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%81%D8%B1%D8%B6%DB%8C-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/" target="_blank" rel="noopener">اپنے بلاگ پر بھی شائع</a> ہو چکا ہے۔ ان کی اجازت سے اسے لالٹین کے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی توہین یا دل آزاری قطعاً مقصود نہیں۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urduexcerpt"><a href="https://laaltain.pk/%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%AF-%DA%86%D9%88%DB%81%D8%AF%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%81%D8%B1%D8%B6%DB%8C-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/" target="_blank" rel="noopener">جاوید چوہدری</a> اور <a href="https://laaltain.pk/%D8%AD%D8%B3%D9%86-%D9%86%D8%AB%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%81%D8%B1%D8%B6%DB%8C-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/" target="_blank" rel="noopener">حسن نثار</a> کے فرضی کالم پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<div class="urdutext">الحمداللہ ہم اپنے شاہی تخت پر برا جمان تھے، کنیزیں ہماری خدمت کر رہی تھیں، ہم نے تھرڈ جنریشن وار سٹریٹیجی کے تحت کنیزوں کواپنی خدمت پر مامور کیا تھا۔ الحمد اللہ کترینہ اور دیپیکا کو ان کے لمبے قد کی وجہ سے پنکھا جھلنے پر متعین کیا گیا ہے، ایشوریا اور کرینہ کو ان کے ہاتھوں کی حدت کی وجہ اپنی ٹانگیں دبانے پر لگایا ہوا ہے، سوناکشی ہمیں ‘چُوری’ کھلا رہی تھی کیونکہ وہ اس کام میں ماہر ہے۔ یہ کنیزیں ہمیں لال قلعہ کی ادھوری فتح کے صلے میں مال غنیمت میں ملی تھیں۔ ہم اس وقت اپنی فتح مبین مکمل نہیں کر سکے تھے کہ ہم نے اپنی اہلیہ کے ساتھ واپس پاکستان آ کر منگل بازار بھی جانا تھا لیکن الحمد اللہ، انشاء اللہ وہ وقت جلد آئے گا جب دلی کے لال قلعے پر ہمارے فوجیوں کی بنیانیں دھو کر سکھائی جائیں گی۔ الحمد اللہ میرے بچو آپ کی مدد سے ہم لال قلعے پر سبز ہلالی پرچم لہرائیں گے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">الحمداللہ ہم اپنے شاہی تخت پر برا جمان تھے، کنیزیں ہماری خدمت کر رہی تھیں، ہم نے تھرڈ جنریشن وار سٹریٹیجی کے تحت کنیزوں کواپنی خدمت پر مامور کیا تھا۔</div>
<div class="urdutext">ہم ابھی اپنے شاہی تخت پر براجمان تھے کہ اچانک ایک سبز ہلالی کبوتر (یاد رہے یہ کبوتر اسی شکل و شباہت کا تھا جو ہندوستان جاسوسی کی غرض سے بھیجا گیا تھا) نے آ کر ہمیں ایک خط دینا چاہا۔ اس نے پاس آنے کی اجازت مانگی، ”عالی جاہ میں آپ کے قریب آنا چاہتا ہوں“ ہم نے فرمایا اجازت ہے۔ اس کبوتر نے خط ہماری جھولی میں ڈالا اور کندھے پر بیٹھ گیا۔ اس سے پہلے کہ ہم اس کی سازش کو سمجھتے وہ ہمارے کندھے پر بیٹ کر کے تیزی سے اڑ گیا۔ اس وقت تک اس کبوتر کی رنگت بھی بدل کر جیو ٹی وی کے لوگو جیسی ہو گئی تھی۔ ہمیں یقین ہو گیا کہ اس ناہنجار کبوتر نے جو حامد میر کی طرح بیٹ کی ہے، یہ صیہونیوں، را، جیو اور سیفما کی سازش ہے۔ ہم نے خادم سے کہا کہ ہمیں خط پڑھ کر سنایا جائے۔ خادم نے با آواز بلندخط پڑھنا شروع کیا۔ خط میں لکھا تھا، اقبال نے کہا ہے:</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“جس نے ماں کو ستایا اس نے رکشہ چلایا ”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">خادم نے خط کا اگلا حصہ بھی پڑھا کہ اقبال نے یہ بھی فرمایا:</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سواری پیچھے کرینہ، کترینا<br>
ڈرائیور آگے پسینہ پسینہ</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہم نے جان لیا کہ یہ صیہونیوں نے شاعر مشرق اقبال، ہماری کنیزوں اور ہمارے رکشے یعنی ‘براق’ پر وار کیا ہے۔ ہم نے اپنی سواری کا نام پاک فوج کے ذرون طیارے کے نام پر براق رکھا ہے۔ اس سیکولر لادین خط پر ہمیں بہت غصہ آیا مگر الحمد اللہ ہمارے مقاصد بہت بلند ہیں۔ اسی اثنا میں ہمیں وائبر پر قسطنطنیہ کے فرماں روا کا پیغام آیا کہ “آپ اپنے لشکر کے ساتھ جلدی سے قسطنطنیہ پہنچیں کہ یہاں پر صیہونی سنڈیوں نے فصلوں پر حملہ کر دیا ہے اور ہمیں تھرڈ جنریشن وارفیئر اور سرد جنگ کے ماہر کی ضرورت ہے”۔ “ہم نے امت مسلمہ کی بھلائی کی خاطر فوراً قسطنطنیہ کا قصد کیا۔ .ہم نے اپنا لشکر یو ایس بی میں ڈالا، اپنے براق کو ایڑ لگائی اور اس پر پر سوار ہو کر قسطنطنیہ کے ساحل پر پہنچ گئے۔ ہم نے بر وقت سنڈیوں کا تہ تیغ کر دیا۔ ان یہودیوں، صیہونی سنڈیوں نے میڈیا کے ذریعے قسطنطنیہ میں عذاب مچا رکھا تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_14068" aria-describedby="caption-attachment-14068" style="width: 300px" class="wp-caption aligncenter"><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/12/Zaid-Hamid-Zionist.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-medium wp-image-14068" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/12/Zaid-Hamid-Zionist-300x240.jpg" alt="زید حامد؛ صیہونی سازش کا شکار ہونے کے بعد" width="300" height="240" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/12/Zaid-Hamid-Zionist-300x240.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/12/Zaid-Hamid-Zionist.jpg 400w" sizes="(max-width: 300px) 100vw, 300px"></a><figcaption id="caption-attachment-14068" class="wp-caption-text">زید حامد؛ صیہونی سازش کا شکار ہونے کے بعد</figcaption></figure>
<div class="urdutext">قسطنطنیہ کے بعد ہم نے بغداد کا قصد کیا۔ بغداد میں ہمیں تھرڈ جنریشن وار سٹریٹیجی پر بغداد کے خلیفہ ابو بکر البغدادی اور شوریٰ کو لیکچر دینا تھا۔ ہم اپنے براق پر بغداد کے ساحل پر اترے۔ میرے نوجوانو، تم ہرگز سیفما اور جیو کے پراپیگینڈے میں نہ آنا اگر وہ کہیں کہ بغداد کا تو ساحل ہی نہیں ہے۔ ساحل ہو یا نہ ہو ہم ہمیشہ ساحل پر ہی اترتے ہیں۔ یہ اللہ رب العزت کا ہم پر خاص کرم ہے۔ ہم نے بغداد کے خلیفہ کو سمجھایا کہ تھرڈ جنریشن وار کا مطلب کیا ہے اور یہ کیسی لڑی جا سکتی ہے؟ ہم نے انہیں تھرڈ جنریشن وار کی عملی مشقیں کر کے دکھلائیں۔ ہم نے کہا کہ خلیفہ صاحب آپ ہمارے لیے تین بندروں کا بندوبست کریں۔ انہوں نے بندر پورے پروٹوکول کے ساتھ ہمارے حوالے کر دیئے۔ ہم نے ان تینوں بندروں کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالا تو ان تینوں بندروں نے خلیفہ اور ہمیں اقبال کے شعرسنائے۔ پہلے بندر نے کہا:</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">میرے نوجوانو، تم ہرگز سیفما اور جیو کے پراپیگینڈے میں نہ آنا اگر وہ کہیں کہ بغداد کا تو ساحل ہی نہیں ہے۔ ساحل ہو یا نہ ہو ہم ہمیشہ ساحل پر ہی اترتے ہیں۔ یہ اللہ رب العزت کا ہم پر خاص کرم ہے۔</div>
<div class="urdutext">مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے<br>
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">دوسرے بندر نے کہا:</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں<br>
کرگس کا جہاں اور ہے، شاہین کاجہاں اور</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تیسرے بندر نے کہا:</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">نہیں تیرا نشمین قصر سلطانی کے گنبد پر<br>
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">فضا اللہ اکبر کے شور سے گونج اٹھی۔ اب تھرڈ جنریشن وار کا سب سے مشکل مرحلہ آن پہنچا کہ پہلے ایک بندر نے ہمارے دائیں گال پر جھانپڑ مارنا تھا، دوسرے نے بائیں گال پر اور تیسرے نے پشت پر چپت لگانی تھی۔ الحمد اللہ امت مسلمہ کی امداد کے لیے ہم نے یہ سب بغداد میں کر دکھایا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">دیبل میں موجود محمد بن قاسم نے ہمیں واٹس ایپ پر میسج کیا کہ آپ کے لیے نیک تمنائیں ہیں۔ ہم نے جواب میں اپنے خادموں کو محمد بن قاسم کو میڈ ان چائنا باربی کنیزیں بھجوانے کا حکم دیا۔</div>
<div class="urdutext">اب ہم نے براق کو ایڑ لگائی اور غرناطہ کا قصد کیا۔ غرناطہ کے ساحل پر پہنچ کر ہم نے مسجد قرطبہ میں نماز پڑھی۔ وہاں سے ہم اندلس کے ساحل پر جا اترے۔ اندلس میں طارق بن زیاد کی یاد میں ہم نے والز میگنم کی ڈنڈیوں سے بنی کشتی جلائی۔ اندلس سے ہم دمشق کے ساحل پر اترے۔ دمشق سے ہم دیبل کے ساحل پر گئے، وہاں سے پھر ہم غرناطہ واپس آ گئے۔ چاشت کی نماز ادا کی۔ غرناطہ میں صیہونیوں نے ہمارے براق میں پٹرول کی بجائے سرسوں کا ‘کوڑا’ تیل ڈال دیا۔ .ہم وہاں براق یعنی رکشے کی خرابی کی وجہ سے کافی دیر تک رکے رہے۔ وہاں سے دیبل میں موجود محمد بن قاسم نے ہمیں واٹس ایپ پر میسج کیا کہ آپ کے لیے نیک تمنائیں ہیں۔ ہم نے جواب میں اپنے خادموں کو محمد بن قاسم کو میڈ ان چائنا باربی کنیزیں بھجوانے کا حکم دیا۔ واپس دمشق آ کر کر ہم نے نناوے بار قسطنطنیہ، قسطنطنیہ کا ورد کیا۔ ہماری سواری جیسے ہی عرب کے صحراوں می٘ں اتری ہمیں سعودی شرطوں نے مولانا طاہر اشرفی جیسے غلیظ اور ناپاک صیہونی ایجنٹ، حامد میر را کے ایجنٹ، ماروی سرمد زنانہ را کی ایجنٹ، نصرت جاوید اسرائیلی موساد کے ایجنٹ، امتیاز عالم ان تمام کے ایجنٹ۔۔۔۔ وغیرہ کی سازش کی وجہ گرفتار کر لیا گیا۔<br>
لیکن گرفتاری کے کچھ ہی عرصے بعد سعودیوں کو ہماری اہمیت کا اندازہ ہو گیا۔ ہمیں سیون سٹار پروٹوکول ملنے لگا .وگر نہ اس سے پہلے تو ایک سعودی تفتیش کار نے ہم سے تفتیش کے دوران یہ گستاخانہ سوال بھی کر ڈالا کہ “قسطنطنیہ لال قلعے کے جنوب میں ہے یا مشرق میں” اور “کیا طارق بن زیاد نے واقعی جبل الطارق پر خطاب سے پہلے ٹائی ٹینک کو آگ لگا دی تھی؟” ہم نے اس گستاخ کا دماغ درست کر دیا کہ ہمارے جغرافیہ اور ہماری تاریخ کا امتحان مت لو۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہماری گرفتاری یقیناً سیفما، جیو، را اور موساد کی سازش ہے۔ گرفتاری کے فوراً بعد یہ فیصلہ بھی ہو گیا تھا کہ ہمیں سو کوڑے قسطنطنیہ کے ساحل پر جا کر لگائے جائیں گے، سو کوڑے دمشق کے ساحل پر، سو کوڑے بغداد کے ساحل پر، سو ،دیبل، سو،غرناطہ، سو اندلس، سو سمرقند اور سو جی ایچ کیو راولپنڈی کے ساحل پر، جس کے بعد دوبارہ قسطنطنیہ کے دوسرے ساحل پر جا کر مزید سو کوڑے لگائے جائیں گے۔ مگر بعد میں جب سعودیوں کو ہماری اہمیت کا احساس ہوا، تو ہمیں سزا دینے کی بجائے ہمیں نہ صرف رہا کیا گیا بلکہ قسطنطنیہ کے ساحل پر اتارا گیا۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b2%db%8c%d8%af-%d8%ad%d8%a7%d9%85%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%84%d9%85/">زید حامد کا ایک فرضی کالم</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b2%db%8c%d8%af-%d8%ad%d8%a7%d9%85%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%84%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>2</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>حسن نثار کا ایک فرضی کالم</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%86%d8%ab%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%84%d9%85/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%86%d8%ab%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%84%d9%85/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ثاقب ملک]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 09 Dec 2015 21:16:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Hassan Nisar]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Satire]]></category>
		<category><![CDATA[حسن نثار]]></category>
		<category><![CDATA[طنزومزاح]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=13917</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">میرا تو دل چاہتا ہے کہ پوری دنیا کو ایٹم بم سے اڑا دوں۔۔۔۔ صرف میں ہوں، میرے ذہین قارئین ہوں، میرے ذہین مخلص دوست ہوں، میرے مہربان اور دوست سیاستدان ہوں، میری انگلی پکڑ کر سمجھانے بجھانے والے سینیئر ہوں اور میرے بچے اور خاندان ہو باقی سب پر لعنت ہو</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%86%d8%ab%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%84%d9%85/">حسن نثار کا ایک فرضی کالم</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">ثاقب ملک کا یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ان کے <a href="https://archereye.wordpress.com/2015/12/09/%D8%AD%D8%B3%D9%86-%D9%86%D8%AB%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85-%D9%BE%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%88%DB%8C-%D8%8C-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%81%D8%B1%D8%B6%DB%8C-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/" target="_blank" rel="noopener">اپنے بلاگ پر بھی شائع</a> ہو چکا ہے۔ ان کی اجازت سے اسے لالٹین کے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی توہین یا دل آزاری قطعاً مقصود نہیں۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urduexcerpt"><a href="https://laaltain.pk/%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%AF-%DA%86%D9%88%DB%81%D8%AF%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%81%D8%B1%D8%B6%DB%8C-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/" target="_blank" rel="noopener">جاوید چوہدری</a> اور <a href="https://laaltain.pk/%D8%B2%DB%8C%D8%AF-%D8%AD%D8%A7%D9%85%D8%AF-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%81%D8%B1%D8%B6%DB%8C-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/" target="_blank" rel="noopener">زید حامد</a> کے فرضی کالم پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<div class="left2pullquote">سارے چمو چمار اپنی تھوتھنیاں لٹکا کر لائن میں لگ گئے .پاکستان میں یہ فرعون کسی قطار میں نہیں لگتے اور یہاں اپنا گند اپنے مکروہ جسم سے نکالنے کے لیے فوراً لائن میں لگ گئے۔ جب ان شودروں کی باری آئی تو کاونٹر پر کھڑی لڑکی نے پوچھا کہ کہاں جانا ہے؟ اس گھامڑ وزیر کو کچھ سمجھ تو نہ آئی بس یہی جواب دیا کہ ٹائلٹ جانا ہے۔</div>
<div class="urdutext">اوئے بل شٹ، چل اوئے، چپ اوئے، ٹکے ٹکے کے جمہوریے جگاڑ یئے کرپٹ سیاستدان، غلیظ اور پلید ناپاک ملاوٹ زدہ دودھ کی جعلی مکروہ پیدوار، مارشل لا کی نرسریوں میں پرورش پانے والے فارمی برائلر لیڈر، تم لوگ مجھے دھمکی دیتے ہو؟ مجھے انارکسٹ کہتے ہو؟ اوئے تم لوگوں نے تو صدیوں سے اصلی خالص دودھ نہیں پیا، تمہاری رگوں میں گندے اور غلیظ پانی کا ناپاک ملاوٹ زدہ دودھ ہے۔ تمہاری اوقات ہی کیا ہے؟ میں تمہاری اوقات بتاتا ہوں۔ تمہارا ایک جمہوری وزیر اپنے جمہوری چماروں، چمچوں، چیلے چانٹوں کے ساتھ ملائشیا گیا۔ وہاں ایک ٹرین سٹیشن پر وزیر محترم کو جمہوری “حاجت” پیش آ گئی اور غسل خانے جانے کی ضرورت پیش آئی۔ اب یہ جاہل گنوار، ٹٹو انگلش سے نابلد تھے۔ مقامی زبان آتی نہ تھی۔ سامنے ہی ٹرین کے ٹکٹ کے لیے لائن لگی ہوئی تھی۔ وزیر نے سوچا کہ ہو نہ ہو یہی ٹوائلٹ ہیں۔ کاونٹر پر لڑکیاں، مسافروں سے ان کی منزل پوچھ کر ٹکٹ دے رہی تھیں۔ اس بندر نما وزیر نے سمجھا کہ یہ پیشاب کرنے کے پیسے لے رہی ہے کیوں کہ اپنے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ وزیر نے ٹائلٹ جانے کا فیصلہ کیا اور اپنے جمہوری چتکبرے چمچوں سے جمہوری فیصلہ مانگا جو انہوں نے اپنی اپنی دمیں ہلا کر اثبات میں دیا کہ یہی ٹائلٹ ہے۔ سارے چمو چمار اپنی تھوتھنیاں لٹکا کر لائن میں لگ گئے .پاکستان میں یہ فرعون کسی قطار میں نہیں لگتے اور یہاں اپنا گند اپنے مکروہ جسم سے نکالنے کے لیے فوراً لائن میں لگ گئے۔ جب ان شودروں کی باری آئی تو کاونٹر پر کھڑی لڑکی نے پوچھا کہ کہاں جانا ہے؟ اس گھامڑ وزیر کو کچھ سمجھ تو نہ آئی بس یہی جواب دیا کہ ٹائلٹ جانا ہے۔ اس پر اس لڑکی نے ہنس ہنس کر اپنا آپ ادھ موا کر لیا۔ زمین پر گر گئی۔ ساتھ کاونٹر پر کھڑی ٹکٹ چیکر لڑکیوں کو جب پتہ چلا تو وہ بھی ہنسنا شروع ہو گئیں۔ اس دوران یہ جمہوری جانور اپنی زبانیں باہر نکال کر شرمندہ شرمندہ سے کھڑے رہے۔ دوبارہ تصدیق کے لیے کاونٹر پر کھڑی لڑکی نے ان سے پوچھا تو اس للو نے وہی جواب دیا۔اس لڑکی پر ہنسی کا پھر دورہ پڑ گیا۔ اس نے ان کی جہالت کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس وزیر کی انگلی پکڑی اور اسے ٹوائلٹ کے سامنے لا کھڑا کیا اور بتایا کہ یہ باتھ روم ہیں۔ جاتے جاتے اس نے واپس مڑ کر پھر اس گنوار مردود کے پاس آ کر اشارہ کر کے بتایا کہ یہ جینٹس ٹوائلٹ ہیں اور یہ لیڈیز۔۔۔ تاکہ کہیں یہ احمق منہ اٹھا کر لیڈیز ٹوائلٹ میں نہ گھس جائیں۔ لعنت ایسے حرام کے جنے جمہوری لیڈروں پر یہ اپنی دموں پر اچھل اچھل کر تنقید کرتے ہیں۔ اوئے لعنت ہو ان کی مردود شکلوں پر۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ان کی ناپاک ملاوٹ زدہ دودھ پر پلی بڑھی جمہوریت پر لعنت، کہ یہ کسی بانجھ عورت کی طرح کچھ ڈیلیور نہیں کر سکی۔ اس کی مثال اس بوڑھی عورت کی طرح ہے، جو لوگوں کو دور سے نہیں پہچان سکتی تھی۔ جس کو ایک گاوں میں اس کے گھر والوں نے اسی کام کے لیے پال رکھا تھا کہ جونہی کوئی ان کی زمینوں پر قدم رکھتا اور ان کے گھر کی جانب قدم بڑھاتا تو وہ بڑھیا بکنا شروع ہو جاتی کہ او تمہاری ماؤں کے دودھ پر شیطان کی لعنت ہو، او تمہاری اولاد کی سات نسلوں کے ‘اُس‘ کے اِس جگہ کیڑے پڑیں، تمہاری بہنوں کے رشتے کسی چوڑے سے ہو جائیں، تمہاری شکلوں پر پھٹکار برسے، تم گلی گلی آوارہ کتے کی طرح پھرو، تمہاری مائیں اندھی ہو کر بھیک مانگیں، تم مرو تو تم پر کتے پیشاب کریں۔ یہ سب کچھ بکتی رہتی اور جب وہ لوگ یا مہمان گھر کے قریب پہنچتے اور یہ بڑھیا ان کو پہچان جاتی تو معافیاں مانگتی کہ معذرت خواہ ہوں، پہچان نہیں سکی،گھر ،والے بھی معذرت کرتے کہ ہماری ماں بوڑھی ہیں پہچان نہیں سکتیں۔ الیکشن جیتنے کے بعد ہمارے سیاستدان اس بڑھیا عورت کی طرح عوام کو گالیاں دیتے ہیں اور جب الیکشن قریب آ جاتے ہیں تو معذرت کرنا، منتیں ترلے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کے کرتوت ہی ایسے مردودوں والے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">تو یہ پلید دودھ والے، نو ٹنکی دانشور جن کی زبانیں، بھونکتی رہتی ہیں یہ بیس سال کے بعد دس سال بیل کی طرح کام کرتے ہیں، پھر اگلے دس برس لومڑی کی طرح سیاستدانوں کی جوتیاں اٹھاتے ہیں، خوشامد کرتے ہیں، اگلے بیس سال کتے کی طرح بھونکتے ہیں۔۔۔۔</div>
<div class="urdutext">یہ نقلی نقلائی چغلی چگلائی، دانش رکھنے والے کبڑے اور نام نہاد دانشور جن کی عقلوں پر بغیر چابی والا تالا پڑا ہوا ہے یہ مجھے انتہا پسند اور جمہوریت دشمن کہتے ہیں؟؟ ان کی مثال ایک کہاوت سے سمجھاتا ہوں۔ کہاوت ہے کہ پہلے پہل اللہ نے ساری مخلوق کی عمر بیس سال رکھی تھی۔ تب بیل بولا کہ اللہ میاں میں نے تمام عمر مزدوری کرنی ہے میں اپنی عمر کے دس سال انسان کو دیتا ہوں۔ لومڑ پاس کھڑا تھا وہ بولا اللہ میاں، میں نے بیس سال جی کر کیا کرنا ہے میں بھی دس سال انسان کو دیتی ہوں۔ اسی طرح کتے نے کہا کہ میں نے تو صرف بھونکنا ہی ہے میں بیس سال تک کیا بھونکوں گا؟ میں بھی دس سال انسان کو بخش دیتا ہوں۔ سانپ نے کہا کہ میں کہاں بیس سال تک ڈنگ مارتا رہوں گا میں بھی دس سال انسان کو دیتا ہوں۔ آخر میں الو نے کہا کہ میں نے تو صرف بیٹھ کر دائیں بائیں دیکھنا ہی ہے میں بھی اپنے دس برس انسان کو دیتا ہوں، تو یہ پلید دودھ والے، نو ٹنکی دانشور جن کی زبانیں، بھونکتی رہتی ہیں یہ بیس سال کے بعد دس سال بیل کی طرح کام کرتے ہیں، پھر اگلے دس برس لومڑی کی طرح سیاستدانوں کی جوتیاں اٹھاتے ہیں، خوشامد کرتے ہیں، اگلے بیس سال کتے کی طرح بھونکتے ہیں۔۔۔۔ ہر آتے جاتے پر بھونکتے ہیں ،جس طرح اب مجھ پر بھونک رہے ہیں، اگلے دس سال سانپ کی طرح ڈنگ مارتے ہیں اور آخری عمر الو کی طرح ادھر ادھر دیکھ کر دانشوری کرتے ہیں۔ یہ ایسے دانشور ہیں جن میں سے کوئی کتے کی عمر جی رہا ہے تو کوئی سانپ کی، کوئی الو کی۔۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ان کی شکلوں اور کرتوتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے جیسے بوتھے ویسی بد شکل حرکتیں اور کارنامے۔۔۔۔ ان کی بھونک پر تو گلی کا آوارہ کتا بھی توجہ نہیں دیتا میں تو پرواہ ہی نہیں کرتا ان کی۔ بل شٹ،گو ٹو ہیل۔<br>
میرا تو دل چاہتا ہے کہ ساری دنیا کو ایٹم بم سے اڑا دوں صرف میں ہوں، میرے ذہین قارئین ہوں، میرے ذہین مخلص دوست ہوں، میرے مہربان اور دوست سیاستدان ہوں، میری انگلی پکڑ کر سمجھانے بجھانے والے سینیئر ہوں اور میرے بچے اور خاندان ہو باقی سب پر لعنت ہو اور لعنت ہو اس نقلی ناکام اور مردود جمہوریت پر اس سے بہتر چنگیز خان کی آمریت ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%86%d8%ab%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%84%d9%85/">حسن نثار کا ایک فرضی کالم</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d9%86%d8%ab%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%84%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جاوید چوہدری کا ایک فرضی کالم</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ac%d8%a7%d9%88%db%8c%d8%af-%da%86%d9%88%db%81%d8%af%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%84%d9%85/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ac%d8%a7%d9%88%db%8c%d8%af-%da%86%d9%88%db%81%d8%af%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%84%d9%85/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ثاقب ملک]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 24 Nov 2015 19:49:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Javed Chaudhary]]></category>
		<category><![CDATA[جاوید چوہدری]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=13732</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">آخر ہم کب تک پکوڑوں پر شہد لگا کر کھاتے رہیں گے ؟ کب تک ہم، پٹرول کی ربڑی بنا کر پیتے رہیں گے ؟ کب تک ہم اپنی مونچھوں سے دیواروں پر تصویریں بناتے رہیں گے؟ ہمیں سکون حاصل کرنا ہو گا ورنہ فرعون کی لاش کی ممیوں کی طرح ہماری بھی ممیاں بن جائیں گی۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ac%d8%a7%d9%88%db%8c%d8%af-%da%86%d9%88%db%81%d8%af%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%84%d9%85/">جاوید چوہدری کا ایک فرضی کالم</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">ادارتی نوٹ: ثاقب ملک کا یہ فکاہیہ مضمون ان کے <a href="https://archereye.wordpress.com/2015/11/21/%D8%AC%D8%A7%D9%88%DB%8C%D8%AF-%DA%86%D9%88%DB%81%D8%AF%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%DB%92-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D9%BE%DB%8C%D8%B1%D9%88%DA%88%DB%8C-%D8%8C%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%81%D8%B1%D8%B6/" target="_blank" rel="noopener">بلاگ</a> پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ ان کی اجازت سے اسے لالٹین کے قارئین کے لیے دوبارہ شائع کیا جارہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی توہین یا دل آزاری قطعاً مقصود نہیں۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urduexcerpt"><a href="https://laaltain.pk/%D8%AD%D8%B3%D9%86-%D9%86%D8%AB%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%81%D8%B1%D8%B6%DB%8C-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/" target="_blank" rel="noopener">حسن نثار</a> اور <a href="https://laaltain.pk/%D8%B2%DB%8C%D8%AF-%D8%AD%D8%A7%D9%85%D8%AF-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%81%D8%B1%D8%B6%DB%8C-%DA%A9%D8%A7%D9%84%D9%85/" target="_blank" rel="noopener">زید حامد</a> کے فرضی کالم پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<div class="urdutext">ایک دن میں پورے آٹھ گھنٹے، چار سو اسی منٹ اور تیس ہزار سیکنڈ سونے کے بعد صبح دس بجے اٹھا۔ اٹھنے کے بعد میں نے قہقہہ لگایا اور کھڑکی کھول کر باہر دیکھنے لگا۔ ٹھنڈی فرحت بخش ہوا، جیسے دیو سائی کے میدانوں سے آ رہی تھی۔ میں نے واپڈا کے کھمبے پر بیٹھا ایک کوا دیکھا۔ کوے نے میری طرف دیکھا، قہقہہ لگایا اور اپنی ٹائیں ٹائیں کرتی زبان میں بولا “جاوید صبح لیٹ اٹھنے والے کبھی ترقی نہیں کر سکتے” میں نے کوے کی یہ بات اپنی گرہ سے باندھ لی۔ وہ دن ہے اور آج کا دن میں صبح چھ بجے اٹھ جاتا ہوں۔ ورزش کرتا ہوں، نہاتا ہوں، نماز پڑھتا ہوں اور اس طرح پورا دن تروتازہ رہتا ہوں۔ میں حکومت کو تجویز دوں گا کہ وہ ہر گھر کے سامنے والے کھمبے پر ایک عدد کوے کا بندوبست کرے تاکہ لوگ اس کی نصیحت سن کر صبح جلدی اٹھ سکیں، اس طرح لوگ مطمئن رہیں گے اور ان میں رواداری اور برداشت بڑھے گی۔</div>
<div class="left2pullquote">میں نے واپڈا کے کھمبے پر بیٹھا ایک کوا دیکھا۔ کوے نے میری طرف دیکھا، قہقہہ لگایا اور اپنی ٹائیں ٹائیں کرتی زبان میں بولا “جاوید صبح لیٹ اٹھنے والے کبھی ترقی نہیں کر سکتے” میں نے کوے کی یہ بات اپنی گرہ سے باندھ لی۔ وہ دن ہے اور آج کا دن میں صبح چھ بجے اٹھ جاتا ہوں۔</div>
<div class="urdutext">میں صبح اٹھنے کے بعد آئینہ بھی دیکھتا ہوں، میں آئینے میں عجیب عجیب شکلیں بنا کر ہنستا ہوں۔ ایک دن میں آئینہ دیکھ رہا تھا کہ دفعتاً میری ریڑھ کی ہڈی میں سردی کا احساس ہوا۔ ایسے لگا جیسے سیاچن گلیشیر کی برف میری پشت سے آن لگی ہو۔ میری رگ و پے میں خنکی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ میں نے اپنے آپ کو روس میں سائبیریا کے برفیلےمیدانوں میں کھڑا محسوس کیا۔ مجھے احساس ہوا کہ دوزخ ٹھنڈا بھی ہو سکتا ہے۔ اچانک پیچھے سے میرے ملازم کی آواز آئی اس نے قہقہہ لگایا اور کہا کہ سر اب برف ہٹا لوں؟ دراصل میں اپنی کمر کی ٹکور کے لیے صبح صبح یہ ٹھنڈی مالش کرواتا ہوں۔ میں حکومت کو تجویز دوں گا کہ وہ ہر گھر میں ایک ایسے ملازم کا بندوبست کرے جو گھر کے ہر فرد کی پشت پر برف کے ٹکڑے سے ٹکور کرے۔ اس سے لوگوں میں برداشت بھی بڑھے گی، لوگ خوش بھی رہیں گے اور رواداری بھی پیدا ہو گی۔ یورپ کے اکثر ممالک میں لوگ صبح اسی طرح کرتے ہیں اسی وجہ سے وہ ترقی کر گئے ہیں اور ہم پیچھے ہیں۔ ہم صبح اٹھ کر نہاریاں، سری پائے، پراٹھے، مکھن اور ملائیاں کھاتے ہیں جب کہ وہ قومیں ڈبل روٹی کا ایک سلائس، کافی اور ایک ٹکڑی برف سے کام چلاتی ہیں۔ ہم نے اگر ترقی کرنی ہے تو ناشتے کے انداز کو بدلنا ہو گا۔ میری حکومت سے استدعا ہے کہ پاکستان میں حلوہ پوری، سری پائے، نان چنے اور پراٹھے سے ناشتے بلکہ سرے سے ناشتے پر ہی پابندی لگا دے اس طرح لوگوں میں بھوک برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا ہو گی اور گھی کی بچت بھی ہو گی۔</div>
<div class="urdutext">میرے غسل خانے کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ اس کا سیمنٹ بالفورس کی ریت سے بنا ہے، ٹائلز اٹلی سے آئی ہیں، صابن اور باڈی واش فرانس سے آئے ہیں، ٹب اسپین کے ہیں، ٹوٹیاں اور نل انگلینڈ کے ہیں ،پانی ہمالیہ کا ہے اور پردے ایران کے۔ .یہ غسل خانہ مجھے زیادہ سے زیادہ وقت غسل خانے میں گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ میں حکومت کو تجویز دوں گا کہ وہ ہر گھر میں ایسے ہی غسل خانے بنا دے اس سے لوگ بری صحبت سے بچ جائیں گے۔</div>
<div class="left2pullquote">میرے غسل خانے کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔ اس کا سیمنٹ بالفورس کی ریت سے بنا ہے، ٹائلز اٹلی سے آئی ہیں، صابن اور باڈی واش فرانس سے آئے ہیں، ٹب اسپین کے ہیں، ٹوٹیاں اور نل انگلینڈ کے ہیں ،پانی ہمالیہ کا ہے اور پردے ایران کے۔</div>
<div class="urdutext">غسل خانے سے باہر نکلا تو میں نے قہقہہ لگایا اور خواجہ صاحب کے گھر پہنچ گیا۔ خواجہ صاحب ایک با کمال انسان ہیں، یہ دلوں کے بھید ٹھیک اڑھائی سیکنڈ میں جان لیتے ہیں، یہ اہل علم بھی ہیں اور اہل نظر بھی۔ میں نے خواجہ صاحب سے پوچھا کہ میں سکون حاصل کرنا چاہتا ہوں مجھے سکون کیسے ملے گا؟ خواجہ صاحب اس وقت سگریٹ کے دھوئیں سے مرغولے بنا بنا کر دیکھ رہے تھے، انہوں نے میری طرف دیکھا، قہقہہ لگایا اور کہا جاوید تم گٹر میں منہ ڈال کر عطر کی خوشبو کی توقع کر رہے ہو، تم منہ میں سٹرا ڈال کر سگریٹ پی رہے ہو، تم ہاتھی کے کانوں کو کبوتر کے پر سمجھ کر چوم رہے ہو، تم اپنے منہ پر لوگوں کی تھوکیں مل کر شیو کر رہے ہو، تمہیں ایسے سکوں نہیں ملے گا۔</div>
<div class="urdutext">میں نے قہقہہ لگایا اور پوچھا تو پھر میں کیا کروں؟ خواجہ صاحب نے میری طرف دیکھا مسکرائے اور کہا تم اپنے تنگ جوتے اتار پھنکو، اپنی تنگ پتلون بھی اتار پھینکو، اب تم سخت گلے والا یہ قمیص بھی اتار پھینکو۔۔۔۔۔ اب تمہیں سکون مل جائے گا۔ میں نے خواجہ صاحب کی طرف دیکھا اور کہا ‘لیکن اس طرح تو میں برہنہ ہو جاؤں گا؟’<br>
‘نہیں’، خواجہ صاحب نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا، ‘اس طرح تم نیچر کے قریب ہو جاؤ گے۔ اب تم باہر نکلو اوردنیا کا سامنا کرو’۔</div>
<div class="left2pullquote">آخر ہم کب تک پکوڑوں پر شہد لگا کر کھاتے رہیں گے ؟ کب تک ہم، پٹرول کی ربڑی بنا کر پیتے رہیں گے ؟ کب تک ہم اپنی مونچھوں سے دیواروں پر تصویریں بناتے رہیں گے؟ ہمیں سکون حاصل کرنا ہو گا ورنہ فرعون کی لاش کی ممیوں کی طرح ہماری بھی ممیاں بن جائیں گی۔</div>
<div class="urdutext">‘لیکن اس طرح تو بھونکتے کتے میرے پیچھے پڑ جائیں گے؟’ میں نے سوال داغا۔<br>
خواجہ صاحب نے سگریٹ کا کش لگایا، پھر دوسرا کش لگایا، پھر قہقہہ لگایا اور بولے جب تم بھونکتے کتوں کی بھونک برداشت کرنا سیکھ جاؤ گے تو تمہیں سکون مل جائے گا۔ میں اس دن سے اس نصیحت پر عمل پیرا ہوں .میری حکومت سے گزارش ہے کہ وہ لوگوں پر بھونکتے کتے چھڑوائے اس طرح لوگوں میں برداشت بھی پیدا ہو گی، ان میں رواداری بھی بڑھے گی، علم اور کلچر کا بھی فائدہ ہو گا۔ آخر ہم کب تک پکوڑوں پر شہد لگا کر کھاتے رہیں گے ؟ کب تک ہم، پٹرول کی ربڑی بنا کر پیتے رہیں گے ؟ کب تک ہم اپنی مونچھوں سے دیواروں پر تصویریں بناتے رہیں گے؟ ہمیں سکون حاصل کرنا ہو گا ورنہ فرعون کی لاش کی ممیوں کی طرح ہماری بھی ممیاں بن جائیں گی۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ac%d8%a7%d9%88%db%8c%d8%af-%da%86%d9%88%db%81%d8%af%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%84%d9%85/">جاوید چوہدری کا ایک فرضی کالم</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ac%d8%a7%d9%88%db%8c%d8%af-%da%86%d9%88%db%81%d8%af%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%81%d8%b1%d8%b6%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%84%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
