<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>صدف فاطمہ, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/sadaf-fatima/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Sat, 01 Jun 2024 02:11:37 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>صدف فاطمہ, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>میں خود سے مایوس ہوں</title>
		<link>https://laaltain.pk/mein-khud-se-mayous-hon/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/mein-khud-se-mayous-hon/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[صدف فاطمہ]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 12 Aug 2018 14:51:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23730</guid>

					<description><![CDATA[<p>صدف فاطمہ: تم وہ ہر حسین منظر تھے<br />
 جس سے کائنات میں دیدہ ور سیراب ہیں </p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/mein-khud-se-mayous-hon/">میں خود سے مایوس ہوں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>میں خود سے مایوس ہوں<br>
جیسے سمندر مایوس ہوتا ہے<br>
 اپنی اتھاہ گہرائی اور جل تھل میں پنہاں تشنگی سے<br>
خود میں اکیرنے کے لئے کچھ بھی نہیں<br>
میں اس حالت سے مطمئن نہیں ہو سکتی<br>
یہ ان ہنستے کھیلتے چہروں کا مقدر نہیں<br>
میں<br>
 جیسے خلاء میں  ٹھہرا ہو مردہ<br>
جس کی سالمیت کسی حنوط کی محتاج نہیں<br>
جس پر صدیوں کی سلیں بھی رکھ دی جائیں تو بھی وہ برقرار رہےگا<br>
  کیونکہ وہ سمئے چکر سے آزاد ہے<br>
 کیا بے کلی زندگی ہے<br>
کیا میں مطمئن ہوں<br>
اگر یہ آسودگی ہے<br>
تو وحشتیں کیسی<br>
سب نے یہ الزام لگایا<br>
کہ یہ تمہارے جانے کی وجہ سے ہے<br>
لیکن تم کبھی گئے ہی نہیں<br>
تم فطرت تھے<br>
 جو ہر جگہ ہے<br>
سبز سایوں کی وہ ٹھنڈک تھے<br>
جس سے آنکھیں تسکین حاصل کرتی تھیں<br>
تم وہ ہر حسین منظر تھے<br>
 جس سے کائنات میں دیدہ ور سیراب ہیں<br>
لیکن اب<br>
 میں تمہیں دیکھنا نہیں چاہتی<br>
 کہ نگاہیں اپنا خراج وصول کر چکیں ہیں<br>
تمہاری حصول کی خواہش سے  میں آزاد ہوں<br>
میں  ہر خوا ہش سے آزاد ہوں<br>
کبھی کبھی ہنس لیا کرتی ہو ں<br>
 مگر اہل دل نے یہ  فرمان سنایا ہے<br>
کہ ہنسنا بے ضمیری کی علامت ہے<br>
ضمیر  کیا ہے<br>
 اس کی شناخت کے لئے وہ بے کلی چھوڑ گئے</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/mein-khud-se-mayous-hon/">میں خود سے مایوس ہوں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/mein-khud-se-mayous-hon/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بوڑھا گوریو</title>
		<link>https://laaltain.pk/borha-gorio/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/borha-gorio/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[صدف فاطمہ]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 14 Apr 2018 18:20:31 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تبصرہ]]></category>
		<category><![CDATA[FATHER GORIOT]]></category>
		<category><![CDATA[HONARE DE BALZAC]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23380</guid>

					<description><![CDATA[<p>صدف فاطمہ: نفسیاتی پیچیدگی کا بیان ہو یا پھر موجودیت اور اختیار کل کی تھیوری، یہ سب ظاہر کرنے کے لئے کافی ہیں کہ ایک فن کار سائنس داں سے کم نہیں ہوتا ہے۔ اس کی ہرچھوٹی تحریر انسانی زندگی کو بہتر بنانے کی طرف ایک بڑا قدم ہوتی ہے،مختصرا ًیہ ناول سائنسی انداز میں لکھا گیا ایک اخلاقی درس ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/borha-gorio/">بوڑھا گوریو</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>میری ذاتی رائے میں ادب کی بنیادی قدر انسان دوستی ہے اور یہی انسان دوستی ہمیں فرانس کے ایک ناول نگار “HONARE DE BALZAC”کے ناول“FATHER GORIOT“میں نظر آتی ہے۔اس فرانسیسی ناول کا ترجمہ اردو میں “بوڑھا گوریو “کے نام سے نسیم ہمدانی نے کیا ہے۔ جس پر محمد حسن عسکری کا مقدمہ بھی ہے۔ جو پڑھنے والے کے لئے فرانس کے کردار اور ماحول سے ہم آہنگ ہونے کے لئے ایک پس منظر تیار کرتا ہے۔ انیسویں صدی میں لکھا گیا یہ ناول ہمارے لئےیہ مسئلہ ہی نہیں پیدا کرتا کہ وہ کس عہد میں کن رجحانات سے متاثر ہو کر لکھا گیا۔وہ عہد رومانوی تھا یا اشتراکی، فرد کا تعین معاشرے کے ساتھ ہوتاتھایا اس کے بغیریا اس عہد کے ادیبوں کا مطمح نظر افادی ادب لکھنا تھا یا کچھ اور۔بالزاک نے اپنے ناولوں کے سلسلے کو“طربیہ انسانی” کا موضوع دے کر مختلف ذیلی عنوانات کے تحت لکھنا شروع کیا، جس کو خانگی زندگی،اضلاع کی زندگی، پیرس کی زندگی، سیاسی، عسکری اور دیہاتی زندگی کے خانوں میں تقسیم کیا گیا۔اس تقسیم کے تحت اس نے انیسویں صدی کے فرانس کی تہذیب اور معاشرت کواپنے ناولوں میں ہلتا ڈلتا دکھایا ہے۔ “بوڑھا گوریو” اس کی اضلاعی زندگی کے سلسلے کی ایک مضبوط کڑی ہے،جس میں وہ نہایت سفاکانہ حقیقت نگاری کامظاہرہ کرتا ہے،اس ناول کو پڑھنے کے بعد قاری پر کسی قسم کا انکشاف نہیں ہوتا اور نا ہی حیرانی ہوتی ہے، بھلے ہی آج ہم اس معاشرے میں نہیں ہیں جس کے متعلق یہ لکھا گیا ہے، لیکن اس ناول میں جن قدروں کا زوال دیکھایا گیا ہے اور جن اصولوں اورقوانین پر کاری ضرب لگائی گئی ہے وہ آج ہمارے لئے اتنے ہی مشکوک اور لا یعنی ہو چکے ہیں جتنے اس عہد میں تھے۔ بالزاک کا ناو ل افادی اور مقصدی اد ب کا اعلی نمونہ ہے۔وہ اپنے ناول کے ذریعہ اشتراکیت کادرس دیتا ہے۔یہ اشتراکیت کارل ماکس کے انداز کی نہیں ہے، بلکہ معاشرے اور فرد کےصالح رشتوں پر مبنی ہے۔“بوڑھا گوریو“کی کہانی اس بوڑھے باپ کی کہانی ہے جو اپنی بیٹیوں سے مجنونانہ قسم کی محبت کرتا ہے۔ ان کی خوشی اور سکون کے لئے اپنے بدن کے خون کے آخری قطرے تک کو نچوڑ سکتا ہے اور ایک متوسط گھرانے کےنوجوان لڑکے راستیناک یوژین کی جو پیرس میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتا ہے لیکن پیرس کے امراء ونوابین اور باہر سے خوبصورت نظر آنے والی پرفریب حسینائیں، ان کی جگمگاتی ہوئی زندگیاں، اسے اپنے جانب کھینچنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ دوتراں اس کہانی میں ایسا کردار ہے جو مصنف کے الفاظ کو دیگر کرداروں کے مقابلے میں زیادہ واضح انداز میں بیان کرتا ہے۔ اس کے یہاں زندگی کے متعلق ایک واضح اور صاف نظریہ موجود ہے۔ جو کشمکش اسے نیکی اور بدی میں نظر آتی ہے اور زراندوزی کے لئے جن ممکنہ تدبیروں کا استعمال اس کے ارد گرد کے لوگ کرتے ہیں وہ اس میں کوئی خامی نہیں دیکھتا،اس کے نزدیک نیکی بدی جیسی کوئی شئے نہیں،اصول اور اخلاقیات کی کوئی حقیقت نہیں،مال و منفعت کے لئے کسی کا خون بہانے سے بھی دریغ نا کرنے پر وہ خود کو کسی طرح کے مغالطے میں نہیں رکھتا ہے۔ اسے اس بات کا اعتراف ہے کہ اس نے کسی کا خون کیا،لیکن انسان کی اس سفاکی کے مقابلے میں جس میں وہ اپنے ہراعمال کا ایک جواز ڈھونڈھ نکالتا ہے وہ اپنے تیئں ایماندار ہے۔کہانی صرف انہیں تین کرداروں کے گرد نہیں گھومتی بلکہ اس کی بیٹیاں ہیں، بورڈنگ ھاؤس کے کرائےدار ہیں،ان عورتوں کے شوہر ہیں، یہ وہ تمام کردار ہیں جس سے مل کر بوڑھا گوریو ایک المناک انجام سے دوچار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی سفاکانہ بے نقابی سے ہمیں کراہیت نہیں ہوتی، کیوں کہ اصل زندگی اتنی ہی سفاکی کے ساتھ انسانوں سے رویے برتتی ہے۔جذبہ کی شدت،تخیل کی گیرائی اور بے لاگ حقیقت ان تینوں شرابوں کو وہ ایک پیالے میں انڈیل کر ایسی شراب تیار کرتا ہے جس سے پینے والے کی نگاہیں اس قدر شفاف اور روشن ہو جاتی ہیں جیسے ایک ایکسرے مشین، جو انسان کے اندرون کی سڑن گلن کو ہماری آنکھوں کے سامنے پیش کر دیتی ہے۔اسی طرح انسان کی روشن نگاہیں بھی معاشرے کی اس سطح کو دیکھ پاتی ہیں جو ہونے کے باوجود اس کی برہنہ آنکھوں سے چھپی ہوئی تھی۔</p>
<p>بالزاک ژورج ساں کو ایک خط میں لکھتا ہے کہ “مجھے غیر معمولی انسانوں سے محبت ہے میں خود بھی ایک غیر معمولی آدمی ہوں،میں چھوٹوں کو بھی بڑا بنا دیتا ہوں،چنانچہ ان کے سارے عیب بھی بڑے نظر آنے لگتے ہیں۔“اد ب کی یہ خصوصیت ہی رہی ہے کہ زندگی میں پیش آنے والے واقعات کا ذکر ہو بہو بیان کرنے کے بجائے کچھ مبالغے سے بیان کیا جائے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بالزاک اپنی اس خوبی کی وجہ سے کرداروں کو لا فانی بنانے میں کس درجہ کامیاب ہوا ہے۔بالزاک کی یہ خصوصیت رہی ہے کہ وہ اپنے کرداروں کی کوتاہیوں سےاوران کے انجام سے بے خبررہتا ہےاور جذبے کو پوری شدومد اور مبالغہ آرائی کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ اس کے کردار ارسطو کے ڈرامائی قواعد کے مطابق اپنے معصوم لیکن حد سے بڑھے ہوئے جذبے کے تحت ایسے المیہ میں گرفتار ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے قاری کےدل میں ان کے لئے ترحم آمیز جزبات پیدا ہوتے ہیں۔ ایک خاص معاشرے کی ترجمانی کرتے ہوئےبھی یہ ناول ہمارے لئے قابل احترام اسی لئے ہیں کہ ان میں ان قدروں کا المیہ بیان کیا گیا ہے جو ہماری نسل کا بھی نوحہ ہے۔ مال ودولت جمع کرنے کی ہوڑ میں کبھی حیوان سے بدتر انسان اور کبھی سوسائٹی کے دباؤ میں پسنے والا معصوم آدمی یا کبھی انسان کے فطری جذبوں کو مادی منفعت کی بھینٹ چڑھا دینے والادرندہ،کیا یہ تمام روپ ہمارے عہد میں موجود نہیں،کیا ہم نے زندگی میں کامیابی کا مطلب محض مادی کامیابی مراد نہیں لیا ہے، کیا سماج کے اونچے اور نچلے طبقے کی تقسیم بتدریج رائج نہیں،کیا آج بھی اونچے طبقہ کی طرف حریصانہ نظروں سے نہیں دیکھا جاتا اور ان تک پہونچنے کے لئے معصوم لوگ نہ جانے اپنے کس کس جذبے کا خون کرتے ہیں۔یہ ناول صرف “بڈھے گوریو” کا المیہ نہیں ہے، اس جیسے آج بھی نہ جانے کتنے ایسے لوگ ہیں جو کسی نا کسی نفسیاتی بیماری کا شکار ہونے کی وجہ سے اس گوریو سے زیادہ قابل رحم ہیں۔ ایک کردار محض اپنی زندگی کی تباہ کاریاں ہی نہیں بیان کرتا،بلکہ اس کے درپردہ اس معاشرے کے رخ سے نقاب الٹتا ہے جو جیتے جی انہیں کسی طورتو سکون نہیں لینے دیتے مرنے کے بعد بھی اس کلمے کو ادا کرنے والے صرف اکا دکا لوگ ہی ہوتے ہیں کہ” مرنے والے میں بڑی خوبیاں تھیں ایسا انسان جو بے غرض اور بے لوث محبت کرے اس کا حاصل کیا آئےگا۔“اس حقیقت سے ہرکوئی بخوبی واقف ہوتا ہے مصنف نے قدم قدم پر انسانی نفسیات کی گتھیوں کی جس انداز سے گرہ کشائی کی ہے وہ قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ کیا انسان واقعی حالات کا مارا ہوتا ہے یا اس سے زیادہ خود غرض اور خود پرست کوئی ہو سکتا ہے۔اس کی دونوں بیٹیاں جو آخری وقت میں اپنے باپ سے نہیں مل سکتیں کیوں کہ انہیں دعوت میں جانا ہوتا ہے یا وہ بورڈنگ ھاؤس کی مالک جسے اس بات کی فکر ستائے جارہی ہے کہ بوڑھا گوریو کمرے کا کرایہ ادا کئے بنا ہی مر گیا ہے اور اس کے تجہیز و تکفین میں جو چادر استعمال کی گئی ہے اس کا پیسہ کون ادا کرےگا اور وہ کلیسا جو محدود پیسوں میں مرنے والے کے لئے بہتر دعا کا انتظام نہیں کر سکتا،کیا یہ سب حالات کے مارے ہوئے لوگ ہیں؟ اگر یہ ان تمام کی شخصی کمینگی نہیں کہلائے گی تو اور کیا ہے مصنف یہ جانتا ہے کہ انسان کے پاس سب سے بڑا ہتھیار اپنے شعوری گناہوں پرتاسف کا وہ احساس ہے جس پر دو چار آنسو بہا کر وہ بری الذمہ ہو جاتا ہے ان کے کردار المیہ ہیں زندگی کا جن سے بیک وقت محبت بھی ہوتی ہے اور نفرت بھی،کیوں کہ ہر کردار اپنے عمل سے واقف ہے،وہ جانتا ہے کہ کیا کر رہا ہے، حتی کہ وہ بوڑھا گوریو بھی، اسے اعتراف ہے کہ پچھلے دس برسوں سے اس کی بیٹیوں کا رویہ اس کی طرف سے بدل گیا ہے، پھر بھی وہ ان سے محبت کرتا ہے۔یہاں ہر کردار اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔کمال کی بات یہ ہے کہ اس تھیوری کو بہت بعد میں جا کر ژاں پال سارتر نے پیش کیا۔ نفسیاتی پیچیدگی کا بیان ہو یا پھر موجودیت اور اختیار کل کی تھیوری، یہ سب ظاہر کرنے کے لئے کافی ہیں کہ ایک فن کار سائنس داں سے کم نہیں ہوتا ہے۔ اس کی ہرچھوٹی تحریر انسانی زندگی کو بہتر بنانے کی طرف ایک بڑا قدم ہوتی ہے،مختصرا ًیہ ناول سائنسی انداز میں لکھا گیا ایک اخلاقی درس ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/borha-gorio/">بوڑھا گوریو</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/borha-gorio/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>صدف فاطمہ کی دو نظمیں</title>
		<link>https://laaltain.pk/sadaf-fatima-ki-2-nazmain/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/sadaf-fatima-ki-2-nazmain/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[صدف فاطمہ]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Feb 2018 09:54:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[Modern Urdu Poetry]]></category>
		<category><![CDATA[Sadaf Fatima]]></category>
		<category><![CDATA[urdu poetry]]></category>
		<category><![CDATA[آزاد نظم]]></category>
		<category><![CDATA[جدید شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[صدف فاطمہ]]></category>
		<category><![CDATA[نثری نظم]]></category>
		<category><![CDATA[نثری نظمیں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23137</guid>

					<description><![CDATA[<p>صدف فاطمہ: تمہارے شکستہ بدن اور اگلی ہوئی روح سے<br />
کنوارے خنجر سے لگنے والے یہ زخم  مندمل نہیں ہو سکتے </p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/sadaf-fatima-ki-2-nazmain/">صدف فاطمہ کی دو نظمیں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align:right;">نظم۔1</div>
<p>تمہارے شکستہ بدن اور اگلی ہوئی روح سے<br>
کنوارے خنجر سے لگنے والے یہ زخم  مندمل نہیں ہو سکتے<br>
نہ ہی چھچھلے نمکین پانی سے پاکی ملے گی<br>
میں ایک سیال ہوں<br>
پاک ہونا ہے،مجھ میں سماؤ<br>
زخموں کو بھرنے کی خاطر نمک ہے<br>
دریا نمک کا ،<br>
آؤ سماؤ<br>
پاکی ملے گی</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align:right;">نظم۔2</div>
<p>رات جھپکی نہیں آنکھ<br>
وحشت سفر کرکے آنکھوں میں اتری ہو ممکن ہے<br>
نوحہ کیا ہو نگاہوں  نے<br>
بجھتی ہوئی ہر نظر کا<br>
آس کی ان مزاروں پہ<br>
بیٹھی ہوئی یہ مجاور ہیں آنکھیں<br>
خواب تھے ہی کہاں<br>
جس کی خاطر نگاہوں پہ پہرہ بٹھاتے<br>
مگر<br>
ایک الھڑ سا دربان ہے<br>
ان بوسیدہ  فصیلوں پہ ٹھہرا ہوا<br>
اس دیے کی حفاظت میں<br>
جس کا ہالہ بنا ہے وفا کی شعاع کا<br>
رخ سیلاب آور دریا کی جانب ہے<br>
اور الھڑ سا دربان بوسیدہ فصیلوں کے ڈھ جانے کے خوف میں<br>
قدموں کو گاڑے ہوئے<br>
ڈھا رہا ہے<br>
Image: Roberto Matta</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/sadaf-fatima-ki-2-nazmain/">صدف فاطمہ کی دو نظمیں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/sadaf-fatima-ki-2-nazmain/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>شکن</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b4%da%a9%d9%86/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b4%da%a9%d9%86/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[صدف فاطمہ]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 05 Feb 2018 13:45:20 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Contemporary Urdu Literature]]></category>
		<category><![CDATA[Sadaf Fatama]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu literature]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[جدید افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[صدف فاطمہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22945</guid>

					<description><![CDATA[<p>صدف فاطمہ: اس نے پاوڈر کی ڈبیا اٹھائی آنسو سے بن جانے والی لکیر کو پوچھا اور ماٹی کے لیے تیار ہونے لگی۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b4%da%a9%d9%86/">شکن</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>جب نورانے ٹیکسی میں اپنے بغل میں بیٹھی ہوئی عورت کی طرف نگاہ ڈالی جو کہ بوڑھی اور دیکھنے میں شکستہ حال تھی،تو نہ جانے کیوں اس کی ساری توجہ اس عورت کے ہاتھوں پر ٹھہر گئی جو کہ کالے بھدے اور بے انتہا سکڑے ہوئے تھے۔ ان ہاتھوں کی کالی رنگت فطری بھی نہیں تھی۔نورا نے جب اس عورت کی ہتھیلیوں پر غور کیا تواسے نظر آیا کہ اس کی ہتھیلیوں میں لکیروں کا ایک جال تھا جو ضرورت سے زیادہ گنجلک معلوم ہوتا تھا۔وہ لکیریں ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئی گزر رہی تھیں۔جن میں نورا کوزندگی اورقسمت کی واضح لکیریں کہیں نظر نہیں آئیں۔ بس لکیریں ہی لکیریں اور کالے دھبے۔ رشک اور موازنہ چونکہ عورت کی فطرت ہے ،لہذا نورافوراً اپنے ہاتھوں کی طرف متوجہ ہوئی، جس نے اس کو یکبارگی مایوسی میں ڈھکیل دیا۔عمر کے اس پڑاؤ میں جب جھریاں چہرے کو اپنا مسکن بناتی ہیں وہ اس کے چہرے سے اتر کر ہاتھوں کو ا پنی گرفت میں لے چکی تھیں،چالیس سالہ نورا جب اٹھارہ سال کی عمر میں ماٹی کی بیوی بنی تو وہ ایک خوبصورت ہاتھوں والی نازک اندام لڑکی تھی ،لیکن چالس برس کی عمر تک اس نے پانچ بچے پیدا کیے اور اپنے ہاتھوں کی روشنی ان کی پرورش کی نذر کر دی۔<br>
“تو کیا ہوا؟ اب عمر بھی تو ہو گئی ہے اور ڈھلکی ہوئی عمر میں جھریاں نہیں پڑیں گی تو اور کیا ہوگا۔”<br>
اسی جملے کو دہرا کر وہ بار بار اپنے اندر کی جاگی ہوئی عورت کوتھپکا کر سلانے کی کوشش کر رہی تھی۔ ”<br>
اور پھر ہاتھوں میں جھریاں آ بھی گیئں تو کیا ؟آخر پانچ بچوں کو پالا پوسا ہے ”<br>
ہزار ہا کوششوں کے باجودخود احتسابی کی نگاہیں اس کی اندھی امید کو جھٹلا رہی تھیں۔ دفعتا اسے یادآ گیا کہ اس کے برابر میں بیٹھنے والی عورت خاصی بوڑھی ہے۔<br>
” یہ بڑھیا ہے اس کے ہاتھ میں یہ منحوس لکیریں ہیں تو ہیں، لیکن میں!”<br>
اور پھر اسے وہ تمام لوگ یاد آنے لگے جو اس کی عمر کو پہونچ کر بھی جوان دکھتے تھے۔ جیسے کے اس کی پڑوسن یا اس کی دور کی رشتہ دار صبیحہ ان کے بارے میں اس کا خیال تھا کہ وہ کچھ غلط کا م کرتی ہیں اور یہ غلط کام کس نوعیت کے تھے۔ یہ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا تھا۔وہ کافی دیر تک اسی پس وپیش میں مبتلا رہی کہ اچانک اسے محسوس ہوا کہ اس کے برابر میں بیٹھی ہوئی بوڑھی عورت کی منزل آ گئی ہے۔پھر کچھ دیر میں اس کی بھی منزل آ گئی:<br>
“دھیولا بازار والے اتر جایئں”<br>
ڈرائیور کی آواز نے اسے ہوشیار کیا۔وہ جلدی سے اتری اور ڈرائیور کوپیسے دیتی ہوئی اپنے گھر کی طرف چل دی۔وہ اس تیزی سے گھر کی طرف جارہی تھی کی ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا جھریوں کے خیال کو ٹیکسی ہی میں جھٹک چکی ہو۔اب اسے یہ خیال ستانے لگا تھا کہ ماٹی اگر گھر آگیا ہوگا تو کھائے گا کیا۔ اس نے گھر سے نکلتے وقت ماٹی کے لیے کچھ پکایا کر نہیں رکھا تھا۔نورا کو ڈر تھا کہ ماٹی اس بات پر ناراض ہوسکتا ہے۔اس کے لئے کیا پکانا چاہیے۔ بےچارہ ماٹی! سارا دن کام کرتا ہے اور بچےبھی تو انتظار کر رہے ہیں ہوں گیں۔بھوکے،پیاسے۔ کیا کھلائے ،کیا پکائے اور ماٹی کے لئے آج کیسے تیار ہو۔انہیں خیالوں کے بیچ اس کا پیدل راستہ ختم ہو چکا تھا اور وہ گھر کے سامنے تھی۔<br>
گھر آتے ہی نورا چولھے کے پاس پہونچ گئی،جلدی جلدی ماٹی کے لئے کھانا تیار کیا اور نہا دھو کر خود کو سنوارنے کے لئے آئینہ کے سامنے کھڑی ہو گئی ،آئینہ کے سامنے پہونچ کر ایک بار پھر سے وہ خالص نورا بن گئی۔ نہ کسی کی ماں اور نہ ہی کسی کی بیوی بس نورا ایک عورت،آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر اسے اپنے چہرے کی شکنیں بھی واضح طور پر نظر آنے لگیں تھیں:<br>
“ایک ،دو ،تین، چار، پانچ، چھ، دس،بارہ،پندرہ ،اتنی ساری میں بوڑھی ہو رہی ہوں کیا ”<br>
ارے پگلی بچوں میں ایسا ہی ہو جاتا ہے آدمی۔ ایک بار اس نے پھر سے خود کو دلاسا دیا۔<br>
“لیکن خود کو دیکھو !تم بوڑھی کہاں ہوگئی ہو،یہ جھریاں تمہیں یاد نہیں۔”<br>
یہ لکھر ماٹی نے دی ہے۔ وہ دیکھو سب تم پر ہنس رہے ہیں تمہارے سسرال والے۔<br>
۔۔۔۔۔“یہ شکن،ماٹی نے جب تمھیں مارا تھا تب کی ہے لیکن وہ تو روز ہی مارتا ہے۔ روز کے حساب سے ایک،دو،تین اور یہ گال پر جو شکن ہےیہ کھانادیر سے پکا تو اس نے پھینک دیا تھا یہ اس کے ماتم میں بنی تمہیں یاد نہیں“اسے یاد ہے سب ہاد ہے، ہاتھوں کی جھریاں ان بچوں کی ہیں۔کیا وی بھی قصور وار ہیں؟<br>
“لیکن میں انھیں معاف کر سکتی ہوں۔”<br>
اس نے خود کو جواب دیا اب وہ خود کا احتساب کرنے لگی تھی۔<br>
“یہ شکن جو ماتھے پر ہے یہ کب کی ہے؟”<br>
وہ ماتھے پر زور دے کر اسے مزید واضح کر کے یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔<br>
آخ تھو! اچانک اس کے چہرے پر کسی نے تھوک دیا، اسے یاد آگیا تھا یہ گہری لکیر اس تھوک کی تھی جو ماٹی نے اس پر تھوکا تھا، اس کے چہرے پر ماٹھی نے تھوکا تھا، وہ بھی پرائی عورت کی باتوں میں آکر۔<br>
“اپنے چیتھڑوں کو نہیں سنبھال سکتی جیسی تو بد صورت ویسے تیرے چیتھڑے بد صورت، کیا لیپا پوتی کرے بیٹھی ہے۔”<br>
تھو!!۔<br>
اس نے پاوڈر کی ڈبیا اٹھائی آنسو سے بن جانے والی لکیر کو پوچھا اور ماٹی کے لیے تیار ہونے لگی۔<br>
Image: Sadaf Fatima</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b4%da%a9%d9%86/">شکن</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b4%da%a9%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نئی اردو شاعری کا استعاراتی نظام</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%b4%d8%a7%d8%b9%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%b4%d8%a7%d8%b9%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[صدف فاطمہ]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 15 Jan 2018 10:57:49 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Sadaf Fatima]]></category>
		<category><![CDATA[urdu poetry]]></category>
		<category><![CDATA[اردو شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[جدید شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[جدید غزل]]></category>
		<category><![CDATA[صدف فاطہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22836</guid>

					<description><![CDATA[<p>صدف فاطمہ: اگر نئی شاعری کا دلجمعی سے مطالعہ کرو تو معلوم ہوتا ہے کے نئی شاعری میں معنیات کی سطح پر بکھرنے کا جذبہ آئے دن بڑھتا چلا جا رہا ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%b4%d8%a7%d8%b9%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85/">نئی اردو شاعری کا استعاراتی نظام</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>گزشتہ ایک صدی سے اردو کی نئی شاعری اپنا رنگ سخن دھیرے دھیرے بدل رہی ہے۔ اردو شاعری کا پرانا مزاج اس کے نئے مزاج سے آہستہ آہستہ بہت دور ہوتا چلا جارہا ہے۔ نئی شاعری میں صرف لفظ، آہنگ، علامت، تشبیہ اور استعارہ ہی وہ عناصر نہیں ہیں جن سے اس کو پرانی شاعری سے ممیز کیا جا سکتا ہے، بلکہ اردو کی نئی شاعری کی فکری اور تہذیبی ترتیب اردو کی پرانی شاعری سے یکسر جدا ہوتی چلی جا رہی ہے۔ لفظ کے بدلنے سے اردو شاعری کا راست اظہار متاثر ہوا ہے اور شاعری کے آہنگ کی تبدیلی سے ہمیں&nbsp; شاعرانہ موسیقیت کی اگلی منزلوں کا سراغ ملا ہے۔ لفظ سے معنی کے نظام نے بھی اپنی ایک الگ دنیا پیدا کی ہے اور اس کے علاوہ شاعری کی من جملہ قواعد کے اطلاقات نے افہام و تفہیم کے نئے گوشے بھی وا کئے ہیں۔پرانی شاعری اور نئی شاعری میں فکری اور تہذیبی ترتیب کو اسی افہام و تفہیم کے عمل سے سمجھا جا سکتا ہے۔ مگر جب ہم اردو کی نئی شعریات اور اس کی مابعد رمزیت پر غور کرتے ہیں تو چند بنیادی سوالات سے ہمارا سامنا ہوتا ہے۔ مثلاً نئی شاعری کی تہذیب کیا ہے؟ اس کے فکری نظام کا سرچشمہ کہاں ہے؟ نیا اظہار ترسیل کے المیے سے کیوں دوچار ہے؟ قدیم استعارے اور علامت کا نئی شاعری میں کیا مقام ہے؟ بیانیہ اور مافوق البیانیہ کا اعادہ کس طور ہوا ہے؟ اسطور کی گمشدگی کیوں کر ہوئی ہے؟ اور بین السطور میں چھپی خاموشیوں کا آہنگ اتنا بلند کیوں ہوتا چلا جا رہا ہے؟یہ تمام سوالات اردو کے جدید ترین Poetic Structureسے جنم لیتے ہیں۔ لہذا نئی شاعری میں ان ہی استفسارات کی بنیاد پر ایک نوع کا خلفشار پیدا ہو گیا ہے۔دراین اثنا Post postmodern Poeticsمیں اظہار کی مرکزیت کے انتشار کے مسئلے نے بھی سر اٹھایا ہے۔ جس کی وجہ سے محمد حسن عسکری کے نشان زد مشاہدات&nbsp; بھی از کار رفتہ معلوم ہونے لگے ہیں۔ ہر لفظ جو کہ بیسویں صدی تک ایک مردہ استعارہ تھا نئی شعریات کی لا مرکزیت نے اس استعارے کو لفظ کے باطن سے دھکیل دیا ہے۔ اس سے نئی شاعری کی صورت حال کچھ اس طرح کی بن گئی ہے کہ اس میں استعمال ہونے والے ہر لفظ نے اپنا ایک شمسی نظام وضع کر لیا ہے۔ لفظ کی مرکزیت نے اپنے اطراف میں استعارے، تشبیہ، کنایہ، علامت، رمز، مجاز،حقیقت اور اصطلاح کا ایک مضبوط جال بن دیا ہے&nbsp; اور وہ بھی ایسا جال جو مستقل گردش میں ہے۔اب ایسی حالت میں شعر کی معنویت کے ادراک کے لئے شعور کا اردو کے استعاراتی نظام سے مکمل طور پر واقف ہونا از حد ضروری ہو جاتا ہے، کیوں کہ ترسیل کے عمل میں دیگر کے بالمقابل استعارہ ہی ایک ایسا حربہ ہے جو نئی شاعری کی ما بعد رمزیت کو پارہ پارہ کر کے شعر&nbsp; کی صداقت تک ہماری رہ نمائی کر سکتا ہے۔</p>
<p>شعر کے متن کے تعلق سے اس بات کا ادراک جنوبی ایشیا کی زبانوں سے متعلق ادیبوں کے بالمقابل مغرب کے تخلیق کاروں کو بہت پہلے ہو چکا تھا کہ شعر میں استعمال ہونے والے تمام الفاظ اپنی اصل میں لفظ نہیں ہوتے۔ شعر میں لفظ کا اطلاق ان الفاظ پر ہوتا ہے جن میں کسی نو ع کی تخئیلیت ہوتی ہے۔اب اردو کے ادیبوں میں بھی گزشتہ چالیس، پچاس برس سے لفظ کی اسی حقیقت کا ادراک روشن ہوا ہے۔ اسی لئے اردو میں لفظ اور معنی کی بحث پر گزشتہ نصف صدی میں ہمارے یہاں جم کر بحثیں ہوئیں۔ البتہ لفظ اور معنی کی اس بحث میں ہم استعارے کو براہ راست شامل کرنا بھول گئے۔ اردو کے ایک نقاد شمس الرحمان فاروقی نے اس طرف کچھ نگاہ کی لہذا انہوں نے انیس کی شاعری میں استعارے کے نظام پر جو مضمون لکھا ہے وہ لفظ کی مرکزیت اور استعارے کی از سر نو بازیافت کے حوالے سے خاصہ اہم ہے۔ فاروقی اس مضمون میں ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:</p>
<p>اچھی شاعری میں استعارے کی کلیدی اہمیت کے بارے میں ہم بہت کچھ جانتے ہیں۔ اسی طرح یہ بات بھی ہم سب پر واضح ہے کہ بڑے شاعر کے کلام کا ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ اس کے یہاں بعض استعارے اور علامتی استعارے کلیدی اور مرکزی اہمیت رکھتے ہیں۔ کلیدی اور مرکزی اہمیت کے ان الفاظ (استعارہ، علامت، پیکروغیرہ) کی پہچان اور ان کی تفہیم گویا اس شعر کی تمام پیدا و پنہاں معنی کی تفہیم اور اس کی بڑائی کے راز کی نشان دہی کا حکم رکھتی ہے۔(1)</p>
<p>یہ کوئی انکشاف نہیں کہ آج سے دوسو برس پرانی شاعری کو بھی دیکھ لیا جائے تو ایسی بہت سی مثالیں مل جائیں گی جس میں ایک شاعر کسی ایک لفظ کو ایک خاص مقصدکے تحت استعمال کرتا ہے اور اپنے استعمال کی مختلف نوعیتوں سے اس لفظ میں استعاراتی اوصاف پھونک دیتا ہے۔مثلاً سامنے کی مثال لے لیجئے کہ خودی کے لفظ سے گزشتہ صدی میں ہم اقبال کو شناخت کر پائے، اقبال کی مثال خود فاروقی نے بھی دی ہے تو ہم ان کے بالمقابل ذوق کی مثال لے لیتے ہیں جن کے انتخاب الفاظ کی وجہ سے آل احمد سرور نے انہیں پنچایتی شاعر کہا تھا،یا پھر حالی، میر، شوق لکھنوی، یقین، جعفر زٹلی اور چرکین کو بھی پیش نظر رکھا جا سکتا ہے۔لفظ کا استعارہ یا علامت بننا اور ایک خاص معنی میں استعمال ہو کر ایک اصطلاح بن جانا اس کی دریافت فاروقی کے عہد تک ہی کرشمہ تھی، فاروقی کا اصل کارنامہ اس اقتباس میں یہ ہے کہ انہوں نے لفظ کی مرکزیت اور اس کے باطن کے حوالے سے خیال کیا۔ اگر وہ یہ بات نہ کہتے کہ لفظ کے باطن میں یہ تمام کے تمام داخل ہو سکتے ہیں یا پائے جاتے ہیں تو فاروقی کی بات کسی طور دوسروں سے مختلف نہ ہوتی، مگر انہوں نے اس امر کو جانا&nbsp; کہ ایک لفظ بیک وقت استعارہ، علامت اور پیکروغیرہ ہو سکتا ہے، جس سے لفظ کے خالی پن تک شعور کی رسائی ہوتی ہے۔ نئی شاعری میں لفظ کے خالی پن اور اس پر استعارے کی تیز روشنی کا جو مرحلہ ہے اس کا ادراک ہمارے گزشتہ ناقدین کو ہو ہی نہیں سکتا تھا۔کیوں کہ گزشتہ صدی میں استعارے سے بڑی حقیقت خواہ کوئی اور رہی ہویا نہ رہی ہو، لفظ کا وہ شمسی نظام وضع نہیں ہوا تھا جو موجودہ صدی میں ہوا ہے۔ میں یہاں نئی شاعری کی ایک مثال دے کر اپنی بات کو مزید واضح کرتی ہوں۔ ذوالفقار عادل کا ایک شعر ہے کہ:</p>
<p>اداسی وزن رکھتی ہے جگہ بھی گھیرتی ہے</p>
<p>ہمیں کمرے کو خالی چھوڑ کر جانا پڑے گا</p>
<p>اس شعر میں کل چار لفظ ہیں، اداسی، وزن،کمرہ، خالی۔اس کے علاوہ کو ئی لفظ اس شعریاتی تفہیم میں لفظ نہیں کہا&nbsp; جا سکتا جس سے نئی شاعری کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اداسی کو شعر سے الگ کیجیے تو اس کی ایک lexical valueآتی ہے، مگر اس شعر میں وہ Symbolical Metaphor کا کام کر رہا ہے،کیوں کہ اردو میں اداسی بطور اسم کیفیت رائج ہے مگر اس شعر میں اس کی معنیاتی ترجیحات بدلتی رہتی ہیں۔ اداسی کو ذوالفقار عادل نے بیک وقت صفت ذاتی، اسم معرفہ، ظرف زماں،تفضیل&nbsp; اور تجنیس کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ اداسی نے اس سے قبل وزن رکھا ہو گا&nbsp; اور لازماً جگہ بھی گھیری ہو گی، مگر ان دونوں اوصاف کے ساتھ اتنی شدت کے ساتھ صفت موصوف نہیں بنی ہوگی جس طرح&nbsp; نئی شاعری نے اسے بنایا ہے۔ اگر شاعر اداسی کے ساتھ وزن کی شرط نہ لگاتا تو شعر میں اتنی معنیاتی گرہیں نہ پڑتیں اور لفظ اداسی&nbsp; استعارے کے قالب میں نہ ڈھلتا اور نہ ہی اس میں کنایہ سے لےکر مجاز مرسل تک کسی وصف کی بوقلمونی پیدا ہوتی۔ چونکہ شاعر گزشتہ تجربات سے گزر کے یہاں تک پہنچا ہے اور اس کی فکری اور تہذیبی ترتیب اس سے اس بات کی متقاضی ہے کہ وہ شعر کی بالیدگی میں اگلوں کی تقلیب کرے اور شعریات کا نیا نظام وضع کرے اس لئے اس نے اداسی کو لفظ کے شمسی نظام کے اس چاک پر اتار دیا جہاں اداسی مسلسل اپنے اوصاف تبدیل کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ صرف استعارہ ہی ایک ایسی شئے ہے جو اداسی لفظ کی تہوں میں اپنی جڑیں پیوست کیا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ نئی شاعری میں استعارے کا کردار دیگر تمام قوائدی اجزا سے زیادہ نظر آتا ہے۔ کیوں کہ اداسی کے ساتھ&nbsp; ساتھ وزن، کمرہ اور خالی میں بھی استعارہ بہت دیر تک Blink کرتا رہتا ہے۔</p>
<p>نجم الغنی نے بحرالفصاحت میں استعارے کی جو تعریف پیش کی ہے استعارہ یقینا اس سے بہت آگے نکل چکا ہے، کیوں کہ ہماری نئی شاعری میں استعارہ صرف ایک جزو نہیں ہے، وہ ہماری معاشرت اور ہمارے اجتماعی لا شعور کا حصہ ہے، استعارہ نئی زندگی کا سب بڑا موضوع ہے کیوں کہ انسان نے جب سے نئی دنیاوں کی کھوج کرنا شروع کی ہے اس کا حقیقت اور مجاز&nbsp; دونوں پر یقین متزلزل ہو گیا ہے، ایسے میں ہم استعارے کے سہارے ہی زندہ ہیں، کیوں کہ اکیسویں صدی میں ہم اپنے اطراف کو اپنے اندرون اور اندرون کو بیرون سے وابستہ نہیں کر پا رہے ہیں، کسی شئے پر انسان کو قدرت کاملہ حاصل نہیں ہے، لہذا وہ اشیا کے درمیان متحیر سا بیٹھا خود کو استعارے کی مدد سے قابو میں&nbsp; رکھے ہوے ہے اور استعارے کی وجہ سے اس کے خود پر قابو پا لینے کی صرف یہ وجہ ہے کہ وہ جانتا ہے کہ استعارہ جتنا مجاز ہے اتنا حقیقت، جتنا سچ ہے اتنا جھوٹ، یہاں سب کچھ ممکن ہے ، خواہ انسان ہوا میں قلابازیاں لگائے، زمین سے سورج نکالے، دریا میں چاندی پھینکے، جسم پر سونا چنے اور آسمانوں پر قلعے تعمیر کرے۔ نئی دنیا اور نئی شاعری بالکل ایک جیسی ہیں۔ اب ایسے میں نجم الغنی کی یہ باتیں کہ:</p>
<p>استعارے میں مشبہ کو بعینیہ مشبہ بہ ٹھہرا لیتے ہیں، یعنی بہادر کو بے یعینیہ شیر سمجھ لیتے ہیں۔(2) یا پھر استعارہ اسے کہتے ہیں کہ تشبیہ میں مبالغے کی غرض&nbsp; سے حقیقت کے معنی کا کسی چیز میں ادعا کرنا اور مشبہ کے ذکر کو لفظا ً یا تقریراً&nbsp; تر ک کر دینا۔(3)</p>
<p>کس حد تک ہمارا ساتھ دے سکتی ہیں۔میں یہ نہیں کہتی کہ یہ باتیں ہر طور غلط ہیں، بس یہ تعریفیں استعارے کی موجودہ صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے از کار رفتہ معلوم ہوتی ہیں۔بحر کیف نئی شاعری کی چند ایک مثالیں اور دیکھئے:</p>
<p>یوں بھی درکار ہے مجھ کو کسی بینائی کا لمس</p>
<p>اب کسی اور کا ہو نا مرا ہونا ہے یہاں</p>
<p>(شارق کیفی)</p>
<p>یہ بھی ممکن ہے کہ تم دور کے لوگ</p>
<p>اس الاو کو ستارہ سمجھو</p>
<p>(ادریس بابر)</p>
<p>ایک وحشت ہے کہ ہو تی ہے اچانک طاری</p>
<p>ایک غم ہے کہ یکایک ہی ابل پڑتا ہے</p>
<p>(عرفان ستار)</p>
<p>حریم دل کہ سر بسر جو روشنی سے بھر گیا</p>
<p>کسے خبر میں کن دیوں کی راہ سے گزر گیا</p>
<p>(علی اکبر ناطق)</p>
<p>میں اپنی دھوپ میں زندہ تو اپنے سائے میں</p>
<p>اس اختلاف سے باقی وجود ہمارا ہے</p>
<p>(تصنیف حیدر)</p>
<p>سطح احساس پہ ٹھہرا نہیں سکتے جس کو</p>
<p>ایک اک خط میں توازن ہے کچھ ایسا اس کا</p>
<p>(سید کاشف رضا)</p>
<p>روشنی میں لفظ کے تحلیل ہو جانے سے قبل</p>
<p>اک خلا پڑتا ہے جس میں گھومتا رہتا ہوں میں</p>
<p>(مہندر کمار ثانی)</p>
<p>اگر ذرا غور سے دیکھئے تو ان تمام اشعار میں آپ کو چند باتیں مشترک نظر آئیں گی۔جس کی بنیاد پر انہیں نئی شاعری کہا جا رہا ہے۔ مثلاً:</p>
<p>1‑کسی بھی شعر میں کسی ایک کہانی یا واقعے پر اکتفا نہیں کیا گیا ہے۔</p>
<p>2‑ہر شعر میں الفاظ کی ایسی شعوری کار کردگی نظر آتی ہے جس سے اشعار کی فضا میں گندھی ہوئی لغات ایک نوع کے ابہام سے وابستہ ہیں۔</p>
<p>3۔ شعر میں زبان اور بیان دونوں کو ایک سطح کا معیار بخشنے کی کوشش کی گئی ہے۔</p>
<p>4۔کوئی بھی شعر اپنی اگلی شاعری کے عین مطابق نہیں ہے۔</p>
<p>5۔ ہر شعر میں وجدان اور الہام کے بالمقابل علمیاتی (Epistemology)تناظرات زیادہ ہیں۔</p>
<p>6۔ہر شعر میں جدید استعاراتی مفاہیم پوشیدہ ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ بھی بہت&nbsp; سی چیز یں ہو سکتی ہیں مگر یہ چند باتیں بہت واضح اور صاف ہیں۔</p>
<p>نئی نئی کی پکار صرف یوں ہی نہیں کہ شاعری میں نیا پن اس وقت تک پیدا ہی نہیں ہو سکتا جب تک کسی شعر میں پرانے سے شعوری طور پر اجتناب نہ برتا گیا ہو۔یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ ہر نیا نیا نہیں ہوتا کسی بھی نئے کے وجودکا ادراک پرانے سے تمیز کرنے کے بات ہی ثابت ہوتا ہے۔ حالی اور میر مہدی مجروح میں مجروح کے بالمقابل حالی نئے تھے، لیکن غالب اور حالی میں حالی کے مقابلے پر غالب زیادہ نیا تھا۔ نئے کا تعلق زمانے سے کم ارادے اور ادراک سے زیادہ ہوتا ہے۔ لہذا اوپر پیش کی ہوئی مثالوں میں نئے کا ارادہ اور ادراک دونوں نظر آتے ہیں اس لئے یہ نئی شاعری ہے۔ حالاں کہ اس شاعری میں بہت سے لوازمات پرانے بھی ہیں مگر اس کے باوجود ان کی مجموعی حیثیت اس نوع کی ہے کہ ان پرانے لوازمات سے نئے کی تشکیل ہوتی ہے۔ اگر نئی شاعری کا دلجمعی سے مطالعہ کرو تو معلوم ہوتا ہے کے نئی شاعری میں معنیات کی سطح پر بکھرنے کا جذبہ آئے دن بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے کم الفاظ میں کئی دنیاوں کے راز چھپانے کی کوشش نظر آتی ہے۔ ان اشعار میں بھی اسی طرح کا شعوری عمل نظر آتا ہے۔ جس میں ہر شاعر نے الفاظ کے نظام کو چیستاں بنا کر ایک کھونٹے سے اس طرح باندھ دیا ہے کہ ڈور کو ذرا سا کھینچتے ہی رنگ و نور کے مختلف جہانوں سے قاری کا تعارف ہو جاتا ہے۔یہ غالب سے آگے کا عہد ہے اور میر سے پہلے کا جس میں خورشید اکرم اور شہرام سرمدی جیسے شعرا پیدا ہو رہے ہیں جن کی تخلیقات کے ماتھے پر غالب کا یہ شعرواضح طور پر چسپاں نظر آتا&nbsp; ہے کہ:</p>
<p>بہ فیض بے دلی،نومیدی جاوید آساں ہے</p>
<p>کشاکش کو ہمارا عقدہ مشکل پسند آیا (4)</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>حواشی:</p>
<p>1‑ص: 429،میر انیس کے ایک مرثیے میں استعارے کا نظام، شمس الرحمان فاروقی،شعر غیر شعر اور نثر</p>
<p>2‑ص:1090، دوسرا باغ:استعارے کے ذکر میں، بحر الفصاحت، نجم الغنی رامپوری</p>
<p>3- ص:1090،مولف:حسن التوصل الی صناعۃ الرسل دوسرا باغ:استعارے کے ذکر میں، بحر الفصاحت، نجم الغنی رامپوری</p>
<p>4۔دیوان غالب اردو</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%b4%d8%a7%d8%b9%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85/">نئی اردو شاعری کا استعاراتی نظام</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d8%b1%d8%af%d9%88-%d8%b4%d8%a7%d8%b9%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عالمی مذاہب میں تصوف کے رجحانات</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d9%85%d8%b0%d8%a7%db%81%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81-%da%a9%db%92-%d8%b1%d8%ac%d8%ad%d8%a7%d9%86%d8%a7%d8%aa/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d9%85%d8%b0%d8%a7%db%81%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81-%da%a9%db%92-%d8%b1%d8%ac%d8%ad%d8%a7%d9%86%d8%a7%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[صدف فاطمہ]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 25 Aug 2017 10:10:21 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Modern Mysticism]]></category>
		<category><![CDATA[Mysticism]]></category>
		<category><![CDATA[Mysticism and Religion]]></category>
		<category><![CDATA[religion]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام اور تصوف]]></category>
		<category><![CDATA[تصوف]]></category>
		<category><![CDATA[جدید تصوف]]></category>
		<category><![CDATA[مذہب]]></category>
		<category><![CDATA[مذہب اور تصوف]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22020</guid>

					<description><![CDATA[<p>صدف فاطمہ: تصوف ابن آدم کی سرشت کا گراں مایہ راز سر بستہ ہے جس کا حصول مادیت اور ظاہری چکا چوند کو شکست دینے کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی سائنس و فلسفہ نہیں ہے جس کی تعبیریں اور مفہوم زمانے نشیب و فراز کے ساتھ بدلتے رہیں۔ </p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d9%85%d8%b0%d8%a7%db%81%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81-%da%a9%db%92-%d8%b1%d8%ac%d8%ad%d8%a7%d9%86%d8%a7%d8%aa/">عالمی مذاہب میں تصوف کے رجحانات</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>روحانیت کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی مذہب کی تاریخ ہے۔ روحانیت کی کوئی حتمی اور متعین تعریف کرنا تو بہت مشکل ہے مگر عام طور پر اس سے مراد مقدس ہستیوں یا تصورات سے وابستگی،عقل اور حواس سے ماوریٰ روحانی تجربات و مشاہدات، مراقبہ، ترک دنیا، زہد و ریاضت اور ضبط نفس پر مبنی زندگی رہی ہے۔ زمانہ قدیم میں روحانیت مذہب اور تصوف کے ملاپ سے وجود میں آتی تھی۔ یہودیت، مسیحیت اور اسلام جیسے آسمانی مذاہب کے علاوہ ہندو مت، بدھ مت اور جین مت جیسے مذاہب میں اس ملاپ سے پیدا ہونے والی روحانیت کی اساس بہت مضبوط رہی ہیں۔ ان مذاہب کے روحانی لوگوں کی مشترکہ اقدار وہی ہوتی تھیں جو اوپر بیان ہوئی ہیں، البتہ اپنے اپنے مذاہب کے زیر اثر مقدس شخصیات، زہد و عبادت کے طریقے اور روحانی تجربات کی نوعیت میں کچھ تبدیلی ہوتی رہتی تھی۔مگر ہر ایک کا مقصود مذہب کے قانونی پہلووں اور ظاہری مراسم سے بلند ہو کر اپنی ذات میں ڈوب کر دل کا سکون تلاش کرنا ہوتا تھا۔تاہم دور جدید میں جب مذہب اور عقیدے کو انسان کی زندگی میں مرکزی مقام حاصل نہیں رہا ہے، روحانیت کی ایک نئی قسم عام ہو چکی ہے جسے غیر مذہبی روحانیت یا Non-Religious Spiritualityکہا جاتا ہے۔ ایک پہلو سے یہ دور جدید کے انسان کا نیا مذہب ہے جو مذہبی عقیدے، ظاہری شناخت، مراسم عبودیت سے ہٹ کر انسانیت کی اعلی اقدار جیسے محبت، ہمدردی، رہم، در گز ر اور باطنی اور ظاہری پہلووں سے انسان کو سکون اور آرام پہنچانے کا نام ہے۔ یہ رنگ و نسل سے بلند ہو کر کائناتی اور آفاقی انسانوں کی تشکیل پر مبنی مذہب ہے۔(1)</p>
<p>باہم رواداری اور مروت کے ساتھ زندہ رہو اور زندہ رہنے دو یہ زندگی کا قانون ہے، یہ سبق میں نے قرآن،انجیل، زند اوستا، اور گیتا سے سیکھا ہے۔(2)</p>
<p>مذہب کے لغوی معنی ہیں راہ یا راستہ جس کو دوسرے لفظوں میں مشرب، طریق، نظریہ اور دین بھی کہا جاتا ہے۔ جب ہم عالمی مذاہب کی بات کرتے ہیں تو اس سے ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ دنیا بھر میں زندگی جینے کے وہ طریقے جو ایک خاص نظریہ کے تحت ہم کو سکھائے گئے ان کا اجتمائی تصور۔عالمی مذاہب میں عام طور پر ہم صرف ایسے چند ایک مشارب کو ہی شمار کرتے ہیں،کیوں کہ پوری دنیا میں عقائد و نظر یات کی جتنی بہتات ہے اس کے پیش نظر اگر دنیا بھر کے مذاہب کا شمار عالمی مذاہب کی فہرست میں کیا جانے لگے تو یہ سلسلہ بہت طول پکڑ جائے گا۔ ان چند ایک میں عام طور سے عیسائیت، اسلام، ہندو ازم، یہودیت، بدھ مت اور جین مت وغیرہ کا شمار ہوتا ہے۔ اس کے بالمقابل یہاں اس بات کا تذکرہ بے محل نہ ہوگا کہ دنیا جہاں میں پائے جانے والے ان عظیم مذاہب کے علاوہ مشارب کو ماننے والوں کی بھی کچھ کمی نہیں ہے۔ امریکہ، افریقہ اور ایشیا میں ہی ایسے سیکڑوں نظریات و عقائد ہیں جن کو مختلف مقامات پر عوام الناس میں کافی مقبولیت نصیب ہے۔ ان چند ایک مذاہب جن کا ذکر میں نے اوپر کیا ان کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ وہ مذاہب ہیں جن سے دنیا بھر کے مذاہب کے عقائد کسی نہ کسی طور جڑے ہوئے ہیں، ساتھ ہی یہ تمام مذاہب اتنےقدیم ہیں کہ ان کی رسومات و رورایات سے دنیا کے مختلف مذاہب نے اکتساب فیض کیا ہے۔ ہندو دھرم، یہودیت اور عیسائیت ان مذاہب کی جڑین دنیا کی قدیم تہذیبوں میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ہندو دھر کی بعض روایات جن میں مورتی پوجا، تصور بھگوان اور مختلف طاقتوں کے Supreme ہونے کا نظریہ وغیرہ اتنے قدیم ہیں کہ مصر، بابل و نینوا وغیرہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔ حالاں کہ یہ بات کسی طور نہیں کہی جا سکتی کہ Egyptian یا Mesopotamianمذاہب نے ہندو دھرم سے کسی طور استفادہ کیا تھا، یہ تصور اس لئے خام ہے کیوں کہ متذکرہ بالا دونوں علاقوں کی مذہبی تاریخ ہندو دھرم سے قدیم ہے، لہذا اس جملے کے معنی یہ ہیں کہ ہندو دھرم میں ان قدیم مذاہب کی رسومات و روایات کی وہ جھلکیاں اب تک محفوظ ہیں جو اب یکسر معدوم ہو چکی ہیں۔ اسی طرح یہودیت اور عیسائیت کا معاملہ ہے کہ اسلام جیسے عظیم مذہب کی تعلیمات ان سے مشتق ہیں۔ یہ اور اسی نوع کی کئی وجوہات ہیں جن کی بنا پر ان مذاہب کو عالمی مذاہب میں شمار کیا جاتا ہے۔</p>
<p>دنیا بھر کے مذاہب میں تصوف یا صوفی ازم کے رجحان کی بات کرنے سے قبل یہ بات بھی جان لینا اشد ضروری ہے کہ آخر کار تصوف سے ہم یہاں کیا کچھ مراد لے رہے ہیں۔ یہ لفظ تصوف جیسے انگریزی میں mysticismیا spiritualism کہتے ہیں اپنے آپ میں اتنا متنازعہ ہے کہ اس کے یک رخی معنی پر اکتفا کر لینا اس کے وسعت کی تحدید کر دینے کے مترادف ہے۔ یہ لفظ یک مذہبی اور یک نظری نہ ہوتے ہوئے کثیر مذہبی اور کثیر مشربی ہے۔ لہذا اس کی تعریف بھی وسعت نظر کی متقاضی ہے۔ اس لفظ کے متعلق کسی ایک مذہب کے ایسے کسی بھی ماننے والے کی کوئی تعریف قابل قبول نہیں ہو سکتی جو اپنے مذہب کے علاوہ دیگر مذاہب کی تعلیمات کو قدر و منزل کی نگاہ سے نہ دیکھتا ہو۔ پھر خواہ وہ اپنے مذہب کی تعلیمات میں کتنا ہی زیادہ ماہر کیوں نہ ہو۔ اس کی تعریف اس مذہب کے ماننے والوں کے لئے تو قابل قبول ہو سکتی ہے،پر بین المذاہبی سطح پر اس کو کچھ خاص اہمیت حاصل نہیں ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر مسلمانوں کے چند علما کا یہ خیال ہے کہ“شریعت محمدی ہی طریقہ تصوف ہے۔ “لہذا اس کو ماننے میں کوئی عذر نہیں پر یہ صرف مسلمانوں کی جماعت کے لئے قابل قبول ہو سکتا ہے نہ کہ عالمی مذاہب میں اس کی قبولیت کو وہ درجہ حاصل ہوگا جو امت مسلمہ کے مابین حاصل ہو سکتا ہے۔ اس کے بر عکس تصوف کی یہ تعریف ملاحظہ کریں :</p>
<p>اقوام عالم کے صوفیانہ ادب اور صوفیوں کے اقوال کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہے کہ اپنی ماہئیت کے اعتبار سے تصوف اس اشتیاق کا نام ہے جو ایک صوفی کے دل و دماغ میں خدا سے ملنے کے لئے اس شدت کے ساتھ موجزن ہوتا ہے کہ اس کی پوری عقلی اور جذباتی زندگی پر غالب آ جاتا ہے، جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ صوفی اسی (خدا) کو اپنا مقصود حیات بنا لیتا ہے، گفتگو کرتا ہے تو اسی کی، خیال کرتا ہے تو اسی کا، یاد کر تا ہے تو اسی کو، کلمہ پڑھتا ہے تو اسی کا، شفق کی سر خی میں، دریا کی روانی میں، پھولوں کی مہک میں، بلبل کی آواز میں، تاروں کی چمک میں، صحرا کی وسعت میں، باغ کی شادابی میں غرض کے تمام مظاہر فطرت اور مناظر قدر میں اسے خدا ہی کا جلوہ نظر آتا ہے۔ (3)</p>
<p>یہ تعریف ایسی ہے جس کو ایک حد تک تمام وہ مذاہب جن میں خدا کا ایک واضح تصور پایا جا تا ہے ان میں قبول عام حاصل ہو سکتی ہے۔لہذا ایسی ہی تعریفات کو عالمی مذاہب میں اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ حالاں کہ تصوف صرف خدا کا اثبات، پندو نصاح، اخلاق و کردار اور خدمت خلق نہیں ہے بلکہ اس کو ایک ایسا لازمہ زندگی قرار دیا جا سکتا ہے جس میں ان تمام امور کو ایک خاص طریقہ حیات کے تحت قبولیت نصیب ہوتی ہے۔ اس لئے تصوف صرف ان میں سے کچھ ایک ہونے کے بجائے ان تمام افعال کا آمیزہ قرار دیا جا سکتا ہے جس کی بنیاد اخلاص پر استوار ہے۔</p>
<p>تصوف کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے اثرات نہایت قدیم ہیں۔ یونانیوں کے یہاں تصوف کا رجحان موجود تھا اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ انگریزی لفظ Mysticismیونانی زبان سے ہی آیا ہے۔ اس کا تذکرہ ڈاکٹر ہریندر چند ر پول نے اپنی کتاب Jalal-ul-deen Roomi and Tasawwufکے Sufism and its Exponentsکے باب کی ابتدا میں کیا ہے۔وہ تصوف کی تعریف بیان کرتے ہوئےpsychology of religious mysticismکے حوالے سے لکھتے ہیں :</p>
<p>The term ‘mysticism’ comes from Greek word which designated those who had been initiated into the esoteric rite of the Greek religion. The following definitions, selected from a large number of the same tenor, indicate that this use of the term is in substantial agreement with the generally accepted understanding of it in Protestantism: ‘Mysticism is deification of man’: it is ‘a merging of the individual with the Universal will’; ‘a consciousness of immediate relation with the Divine’: and an intuitive certainty of contact with the super sensual world’: etc.(4)</p>
<p>باطنیت اور روحانیت سے متعلق نظریات کی ایک لمبی تاریخ ہے،جس زمانے میں یونانی روحانیت کے مختلف النوع نظریات کی اخترا ع کر رہے تھے اس عہد میں مصری تصوف اور چینی تصوف کی جڑیں تقریبان مضبوط ہو چکی تھیں اور بعد کے عہد میں ہندوستان، روم اور عرب میں بھی اس کے اثرات مختلف انداز میں مرتب ہوئے۔ الہیات سے متعلق جتنے نظر یات قدیم دنیا میں پائے جاتے ہیں ان سب میں اگرکوئی ایک مشترک پہلو نظر آتا ہے تو وہ تصوف اور احسان ہی ہے۔ ورنہ ان تمام مذاہب کی رسومات ایک دوسرے سے یکسر جدا ہیں۔بقول پروفیسریوسف سلیم چشتی :</p>
<p>ہر مذہب ہر قوم، ہر ملک اور ہر دور کا تصوف کا طریقہ کار ایک ہی رہا ہے۔یعنی عشق،اگر خدا محبوب ہے اور انسان محب ہے تو لا محالہ محبوب کے حصول کا طریقہ محبت (عشق) ہی قرار پا سکتا ہے۔ دوسرا کوئی طریقہ نہیں ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ (الخ)۔ تصوف کے اصول اور مبادی ہر قوم میں یکساں رہے ہیں۔ ہر صوفی در اصل عاشق ہوتا ہے اس لئے ہر قوم اور ہر ملک کے تصوف کا دار و مدار عشق و محبت ہی پر ہے۔ فرق جو کچھ نظر آتا ہے وہ صرف ظاہری اوضاع و روسوم میں ہے۔ مثلا ً جب عید کے دن کسی شہر کے مسلمان عید گاہ کی طرف جاتے ہیں تو ایک آدمی پیدل عید گاہ جاتا ہے تو دوسرا بیل گاڑی میں،تیسرافٹن میں، چوتھا موٹر میں۔ ان کی وضع ظاہری اور رفتار میں تو فرق نظر آتا ہے مگر منزل مقصود چاروں کی ایک ہی ہے اور جذبہ محرکہ (داعیہ باطنی )ایک ہی ہے۔ (5)</p>
<p>یہاں یہ دو بنیادی سوال قائم ہوتے ہیں کہ آخر یہ عشق کیا ہے ؟ اور ظاہری اوضاع سے عالمی مذاہب کے تناظر میں کیا کچھ مراد لیا جا سکتا ہے۔ اول الذکر کے تعلق سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ عشق سے مراد یہاں دنیا اور مالک دنیا سے ہر طرح کی وابستگی عشق کے مترادف ہے۔ خدمت خلق میں خود کو اس حد تک وقف کر دینا کہ کسی نوع کے اختلاف کی گنجائش باقی نہ رہے اور راہ خدا میں اتنا مگن ہو جانا کہ راہوں کی تفریق کا خیال مٹ جائے یہ دو نوں باتیں عشق کے ذیل میں آتی ہیں۔ ظاہری اوضاع سے مراد وہ تمام ثقافتی علامتیں ہیں جو انسانی تاریخ نے کسی ایک مذہب سے وابستہ کر دی ہیں، جن میں رہنے سہنے، اوڑھنے، پہننے، کھانے پینے اور عبادت کرنے کے طریقوں وغیرہ کا شمار ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں تصوف کے تناظر میں ایسا کوئی اصول نہیں جس سے عشق کے تقاضوں کی تحدید کی جا سکے۔ خدا اور بندہ خدا سے محبت ایک ایسا لازمہ ہے جس پر ایک صوفی کا مشرب قائم ہوتا ہے، لہذا کفر و ایمان کی کوئی بحث اپنے،( جوکہ ہر معاشرے میں اپنے معروف معنوں کے ساتھ رائج ہے) اس کا یہاں کچھ گزر نہیں۔</p>
<p>عالمی مذاہب میں تصوف کی بحث کے تحت ایک سب سے بڑا مسئلہ مقدس کتابوں کے اثبات کا ہے کہ مختلف مذاہب کی جو مقدس کتابیں پوری دنیا کے مختلف النوع مذاہب کے ماننے والوں کے پاس موجود ہیں ان کی حقیقت کو کیوں کر تسلیم کیا جائے۔ ایک صوفی کا یہ تشخص ہے کہ وہ مذہب سے متعلق تمام آسمانی کتب کا اعتراف کرتا ہے اور اس کی تعلیمات کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ کسی ایک مذہب کو ماننا یہ عدم صوفی ہونے کی علامت نہیں ہے،بلکہ کسی بھی مذہب کا انکار کرنا غیر صوفی ہونے کی نشانی ہے۔ مرزا مظہر جان جاناں نے اپنے ایک خط میں ہندو مذہب کی تعلیمات کا جس طور اثبات کیا ہے اس سے اس خیال کو مزید تقویت ملتی ہے۔ بہر کیف عالمی مذاہب میں ایسے بہت سے رجحانات ہے جو تصوف کی سطح پر آ کر ایک ایسا نظام زندگی مرتب کرتے ہیں جہاں دوئی کے جھگڑے کی یکسر تکذیب ہوتی ہے۔میں یہاں چند ایک مقدس کتابوں کے حوالے سے مختلف مذاہب کی تعلیمات کی ایک جھلک پیش کر رہی ہوں، جس سے عالمی مذاہب میں تصوف کے رجحانات کا علم ہوتا ہے کہ کس طرح تصوف کے علمی اور عملی کردار سے کئی ایک پیمانوں پر الگ الگ مذاہب کے ماننے والے ایک سطح پر نظر آتے ہیں۔یہاں اس بات کا تذکرہ بھی کرتی چلوں کہ دنیا بھر کے مذاہب کو عام طور پر دو خانوں میں بانٹا جاتا ہے۔ایک سامی مذاہب اور دوسرا غیر سامی مذاہب۔ سامی مذاہب میں یہودیت، عیسائیت اور اسلام کا شمار ہوتا ہے اور غیر سامی مذاہب میں ہندو دھرم، زرتشتیت، بدھ مت، جین مت اور سکھ مت وغیرہ شامل ہیں۔</p>
<p><strong>غیر سامی مذاہب :</strong></p>
<p>یہ بات اظہر من شمس ہے کہ ہندو دھرم کی مقدس کتابوں میں وید کو بڑی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس مذہب کی بنیادیں ویدوں کی تعلیمات پر ہی استوار ہیں۔ ہر وید کو ہندودھرم کے بڑے گیانیوں، پنڈتوں اور اچاریوں نے بنیادی طور پر تین خانوں میں بانٹا ہے۔ جس کا سب سے آخری حصہ اپنشد کہلاتا ہے۔ اپنشد کو ہندوستان کے قدیم تعلیمی نظام کا ایک بڑا ماخذبھی تصور کیا جاتا ہے، لہذا اس کی تعلیمات سے کوئی وہ شخص صرف نظر نہیں کر سکتا جو قدیم ہندوستانی تاریخ کے مطالعے کا ذوق رکھتا ہو۔ اپنشدوں میں تصوف کی تعلیمات بھری پڑی ہیں، اس کی ایک خاص وجہ یہ بھی نظر آتی ہے کہ یہ اپنشد جس عہد میں ہندوستان میں رقم کئے گئے اس زمانے میں یہاں مذہبی تعلیمات کا بڑا زور تھا اور تصوف چونکہ رواداری اور انکساری کے ساتھ فروغ دین کا کام انجام دیتا ہے اس لئے اس طریق کو گیانیوں، پنڈتوں اور ناتھ پنتھیوں نے ہمیشہ سے بہت اہمیت دی ہے۔ اپنشدوں میں ویسے توبہت سی اور مختلف النوع تعلیمات تصوف ملتی ہیں، لیکن سب سے زیادہ جس قسم کی تعلیمات کا زور اس میں نظر آتا ہے وہ بے ثباتی دہر کی تعلیم ہے۔ دنیا اور آخرت کی تعلیم کا بہت واضح تصور اس میں پیش کیا گیا ہے اور تصوف کی خاص اصطلاحات کے ذریعہ عوام الناس میں تصور تارک الدنیا کو عام کیا گیا ہے۔ لیکن اس کی ایک خاص بات یہ بھی نظر آتی ہے کہ تارک الدنیا ہونے سےاپنشد نے جو مراد لیا ہے وہ اس قوم کے مترادف ہے کہ ” دنیا ایسے کماو کہ ہاتھ تک آئے دل تک نہ پہنچے۔” لہذا اس کی تعلیمات اس حوالے اور زیادہ قابل قبول گردانی گئیں۔ اپنشدوں کو مسلم صوفیہ نے بھی بہت قدر و منزل کی نگاہ سے دیکھا،اس کی ایک واضح دلیل یہ ہے کہ ارونگ زیب کے بڑے بھائی داراشکوہ جنہوں مغل دور حکومت کے عہد عروج میں تصوف کے کار ہائے نمایاں انجام دئے اور سیر الاولیا جیسی تصوف کی معرکۃ آرا کتاب تصنیف کی، انہوں نے 56اپنشدوں کا اس عہد میں فارسی زبان میں ترجمہ کیا اور اس کی تعلیمات کا اثبات کرتے ہوئے اس کی ہر حوالے سے تشہیر کی۔ بہر کیف یہاں میں اپنشدوں کی انہی تعلیمات تصوف میں سےچند ایک کو یہاں پیش کر رہی ہوں، جس سےاپنشدوں کی تعلیمات کے صوفیانہ مزاج کا علم ہوتا ہے۔</p>
<p><strong>اپنشدوں کی صوفیانہ تعلیمات:</strong></p>
<p>1۔ دنیا میں رہو مگر اس سے دل مت لگاو۔ ویرا گ (تبتل یا انقطاع عن ماسو ی اللہ) بہترین طرز حیات ہے۔<br>
2۔ دنیا کی نعمتوں سے تمتع جائز ہے۔ مگر انہیں مقصود حیات بنانا نا جائز ہے، کیوں کہ جو شخص فانی چیزوں سے دل لگاتا ہے وہ خود بھی فنا ہو جاتا ہے۔</p>
<p>3۔ انسان کے حقیقی دشمن باہر نہیں ہیں،بلکہ اندر ہیں اور وہ حسب ذیل ہیں۔<br>
• کام (شہوت)<br>
• کرودھ (غضب)<br>
• موہ (حرص)<br>
• لوبھ (طمع)<br>
• اہنکار(عجب)<br>
4۔ جب تک ان دشمنوں (اور نفس امارہ انہیں کے مجموعے کا نام ہے۔) کو مغلوب نہیں کرو گے۔ عرفان (برہم گیان ) حاصل نہیں ہو سکتا۔<br>
5۔ جب انسان عارف ہو جاتا ہے تو اس میں یہ چار صفات پیدا ہو جاتی ہے۔<br>
• اطمنان<br>
• ہمت<br>
• طاعت<br>
• خدمت خلق<br>
پھر وہ دسروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے جیتا ہے۔<br>
6۔ ایشور صرف انہیں کو در شن دیتا ہے جو اس کے دیدار کے لئے بیتاب ہیں اور اسے حاصل کرنے کے لئے سراپا جستجو ہوں۔ اس کو پانے کی شرائط حسب ذیل ہیں :<br>
• دم (ضبط نفس)<br>
• دان (ایثار)<br>
• دیا (شفقت)<br>
• جاپ(ذکر)<br>
• تپ(مجاہدہ)<br>
• دھیان (مراقبہ)</p>
<p>7۔ فانی سے دل لگانا سب سے بڑی نادانی ہے۔<br>
8۔ حق تعالی متحرک بھی ہے، غیر متحرک بھی ہے۔ چلتا بھی ہے، ساکن بھی ہے، دور بھی ہے، قریب بھی ہے۔ اندر بھی ہے باہر بھی ہے۔(6)</p>
<p>اپنشدو کی مانند ہندو دھرم میں شری مد بھگوت گیتا کو بھی بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ یہ کتاب بھگوان کرشن کے ان احکامات پر مبنی ہے جو انہوں نے ارجن کو دیئے تھے۔ اس میں کل اٹھارہ ادھیائے ہیں اور ان اٹھارہ ادھیاوں میں بھگوان کرشن نے ارجن کو حق و باطل کی جو تعلم دی ہے اس سے تصوف کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ حالاں کہ گیتا ہندو دھرم کی آسمانی کتاب کبھی تصور نہیں گئی اور ویدوں کی طرح ہندودھر کے اعلی تعلیم یافتہ طبقے میں اسے وہ مقام نہیں حاصل جو اپنشدوں کا حاصل ہے، پر یہ کتاب ویدوں سے کہیں زیادہ عوام و خواص میں مقبول رہی ہے۔ اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ البیرونی نے آج سے ایک ہزار برس پہلے جب ہندوستان کا سفر کیا تھا اور اس سفر کی داستان کتاب الہند کے نام سے لکھی تھی تو اس میں انہوں نے گیتا کے حوالے سے یہ جملے رقم کئے تھے کہ” یہاں کے باشندے ایک کتاب کو بہت زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو ان کی مذہبی مقدس کتب میں شمار ہوتی ہے اور اس کتاب کا نام گیتا ہے۔ ” گیتا میری ناقص رائے میں تصوف کی بہت اہم کتاب متصور کی جا سکتی ہے، اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ اس میں زندگی کو جس طرح جینے اور اس کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کا سبق دیا گیا ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ کرشن ایک مرشد کامل کی مانند اپنے مرید کو راہ سلوک کی منازل طے کرنے کا طریق سکھا رہے ہیں۔ اس میں اتنا زیادہ تصوف ہے کہ اس کے کسی ایک ادھیائے کے ایک اقتباس پیش کرنے سے اس کی مکمل عکاسی ممکن نہیں،بہر کیف میں یہاں اس کے دو، ایک اقتباس پیش کر رہی ہوں تاکہ ان تعلیمات کی ایک جھلک نظر آ جائے۔<br>
شری مد بھگوت گیتا میں تصوف:</p>
<p>o بھگوت گیتا جو کہ برہم ودیا یعنی فلسفہ بھی ہے اور یوگ شاستر یونی تصوف بھی ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ حقیقت کیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ انسان اس تک کیسے پہنچ سکتا ہے۔ خدا تک پہنچے کے تین راستے بتائے ہیں :<br>
• جنان مارگ (طریق علم )<br>
• بھگتی مارگ (طرق عشق )<br>
• کرم مارگ (طریق عمل )۔ (الخ)</p>
<p>o گیتا میں ویدانتی تصوف کے تمام اسرار و رموز بالوضاحت بیان کر دئے گئے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے:<br>
خدا کو اپنا مقصود بناو۔</p>
<p>• اس سے محبت کرو تاکہ اسے حاصل کر سکو۔<br>
• خدا اپنے عاشقوں کے دلوں میں رہتا ہے۔<br>
• جو اسے چاہتا ہے وہ اسے ضرور درشن دیتا ہے۔<br>
• ساری زندگی اس کے لئے بسر کرو۔<br>
• نیک اعمال بجا لاو، مگر نیت یہ ہو کہ خدا مجھ سے خوش ہو۔<br>
• سب انسانوں سے محبت کرو۔<br>
• یہ دنیا خدا کی جلوہ گاہ ہے۔ ہر شئے مظہر خدا ہے۔<br>
یہی تصوف کی روح اور یہ ہی گیتا کا اپدیش ہے۔(7)</p>
<p>گوتم بدھ ایک صوفی تھے۔ ایک کامل صوفی۔ جنہوں نے پوری زندگی زہد و تقوی اور عبادت و ریاضت میں گزار دی۔ حالاں کہ ان کے نام سے ساتھ لفظ صوفی استعمال کرنے پر کافی متبازعہ ہوا ہے۔ لیکن اگر ہم بدھ مت کی تعلیمات اور گوتھ بدھ کی زندگی حالات و واقعات کا مطالعہ کریں تو علم ہوتا ہے کہ ان کے لئے لفظ صوفی سے زیادہ بہتر کوئی لفظ نہیں۔ نروان اور ترک دنیا کی تعلیمات جس عہد میں انہوں عام کی اس عہد میں عوا م میں اس کا کوئی واضح تصور موجود نہ تھا۔ صوفی تعلیمات میں بعد کے عہد میں جو کچھ تصرفات ہوئے ان میں گوتم بدھ کی تعلیمات کا خاصہ حصہ پایا جاتا ہے۔ گوتم بدھ کی تیس سالہ زندگی چونکہ عام انسانی زندگی ہے اور بچپن سے لے کر عنفوان شباب تک کے حالات کچھ بہت زیادہ متاثر کن نہیں ہیں۔پھر بھی تیس سال کی عمر کے بعد ان کی ذہنی بیداری کو محسوس کیا جائے تو حیرت ہوتی ہے۔ ان کے متعلق مشہور ہے کہ وہ جس عہد میں پیدا ہوئے تھے، اس عہد کی ایک مشہور بزرگ ہستی نے ان کو دیکھتے ہوئے اس بات کا افسوس ظاہر کیا تھا کہ ان کی پیغمبرانہ اور صوفیانہ تعلیمات سے دنیا بیدار ہوگی لیکن میں اس کو دیکھنے کے لئے زندہ نہ رہوں گا۔ گوتم بدھ کی ذات واحد ایک صوفی نما ہوتے ہوئے کسی کرامت کا مظاہرہ کرتی نظر نہیں آتی ہے۔ ان کی کرامت ان کی اپنی تعلیمات ہیں جس سےدنیا و آخرت کا ادراک حاصل ہوتا ہے۔ان کی صوفیانہ ذات کا اعتراف ان تعلیمات سے ہوتا ہے جو بدھ مت کی مذہبی کتب میں درج ہیں، لہذا اس سے تصوف کی قدامت اور بالا دستی کا احساس بھی قوی ہوتا ہے کہ دنیا کے کتنے عظیم رہ نماوں نے اس طریق کو اپنا کر اس دنیا میں امن و آتشی، انسان دوستی اور خدا ترسی کا سبق عام کیا۔میں یہاں ان کی صوفیانہ تعلیمات کا ایک نمونہ پیش کر رہی ہوں جس سے بدھ مت کی صوفیانہ مزاجی کا علم ہوتا ہے۔<br>
گوتم بدھ کی صوفیانہ تعلیمات:</p>
<p>o اس شخص کی تنہائی کس قدر پر مسرت ہے جو مکمل خوشی ہے بہریاب ہے، جس کو حق کی معرفت حاصل ہو چکی ہے۔ جو حق کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ باعث مسرت ہے۔ بغض و نفرت چھٹکارا پا لینا اور تمام مخلوقات کے سلسلے میں ضبظ نفس کا حامل ہونا باعث خوشی ہے، نفس پروری سے رہائی حاصل کر لیانا، تمام خواہشات کے پار ہو جانا۔ اس تکبر کو “جو میں ہوں “کے تصور سے پیدا ہوتا ہے ایک طرف اٹھا کہ رکھ دینا یہ ہی اعلی ترین مسرت ہے۔</p>
<p>o میں نے تمام دشمنوں پر فتح پا لی ہے۔ میں دانا ترین ہر صورت میں عیب سے پاک ہوں۔ میں ہر چیز کو ترک کر چکا ہوں اور خواہشات کو فنا کر کے نجات حاصل کر چکا ہوں۔ خود اپنی کوشش سے معرفت حاصل کرنے کے بعد۔ اب میں کس کو اپنا استاد کہوں۔ کوئی میرا ہم پلہ انسانوں اور دیوتاوں میں کوئی میرا جنس نہیں۔ اس دنیا میں میں ہی مقدس ترین ہوں۔ میں ہی عظیم ترین استاد ہوں اور اکیلا میں ہی عارف مطلق ہوں۔ میں نے جذبات اور خواہشات کی آگ بجھا کر ٹھنڈک پا لی ہے اور نروان حاصل کر لیا ہے۔(8)</p>
<p>مدھ مت کی طرح جین مت میں بھی تصوف کی تعلیمات کے اثرات بڑے پیمانے پر دیکھنے کو ملتے ہیں :</p>
<p>جین مت میں چونکہ نجات کا دار و مدار کسی غیبی طاقت کے فیصلے یا دیوتاوں کی مر ضی کے بر خلاف سر تا سر انسان کے ذاتی سعی و کوشش پہ مبنی ہیں اس لئے اس مذہب میں ایک بہت تفصیلی لائحہ عمل تجویز کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف نوعیت کے قوانین، اصولوں اور ضابطوں کی متعدد فہرستیں ہیں جو جین مت کے مطابق ہر نجا ت خواہش مند کے لئے لازمی ہیں یہ اصول و ضوابط تعدا د میں اتنے زیادہ اور ہمہ گیر ہیں کہ فرد کی ذاتی و سماجی زندگی کا کوئی گوشہ ان کے دائرے سے باہر نہیں رہ گیا ہے۔ (9)<br>
مندرجہ ذیل اقتباسات جین مت کی صوفیانہ تعلیمات پر مبنی ہیں۔ اس سے جین مت میں تصوف کس نوع سے اپنی شناخت قائم کر تا ہے اس کو بحسن و خوبی محسوس کیا جا سکتا ہے۔<br>
جین دھرم کی تعلیمات تصوف :</p>
<p>o نجات حاصل کرنے کے للائحہ عمل کو جین مت نے تین بڑے حصوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔جو جین مت میں تری رتن (جواہر ثلاثہ کہلاتے ہیں )۔ جین مت کے یہ جواہر ثلاثہ مندرجہ ذیل ہیں :<br>
• سُمیک درشن (صحیح عقیدہ)<br>
• سُمیک گیان(صحیح علم)<br>
• سُمیک چرتر(صحیح عمل)</p>
<p>جین مت کی اخلاقی تعلیمات میں سب سے بنیادی اہمیت ان پانچ ورتوں (واحد : ورت)ہے۔ جن پر ہر جینی کو تا زندگی عمل کرنے کا عہد کرنا پڑتاہے اور وہ بنیادی عہد یہ ہیں :<br>
• اہنسا (عدم تشدد)<br>
• ستیہ (راست گفتاری)<br>
• استیہ (چوری نہ کرنا)<br>
• براہم چریہ(پاک بازی)<br>
• اپری گرہ (دنیا سے بے رغبتی )۔(الخ)</p>
<p>o ان پانچ بنیادی عہدوں کے علاوہ جو کہ تمام جینیوں کے لئے لازم ہیں گرہست جینیوں کو سات مزید فروعی عہد کرنے ہوتے ہیں جوکہ جین مت کے تصور میں ان کو بنیادی عہدوں آنے جانے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ فروعی عہد اس طرح ہیں :</p>
<p>• دگ ورت<br>
• دیش ورت<br>
• انرتھ ڈنڈ ورت<br>
• سامائکا<br>
• پردشادھو پادسا<br>
• اپابھوگ، پری بھوگ،پری مان<br>
• اتی سمو بھاگ</p>
<p>o مندرجہ بالا قوانین اور ان جیسے اور دوسرے اعمال کے علاوہ جو کہ جین مت میں گرہست جینیوں کی روحانی ترقی کے لئے تجویز کئے گئے ہیں۔ گرہست جینیوں کے روحانی ارتقا اور موکش سے ان کی درجہ بدرجہ قربت کو ایک اور اسکیم کے ذریعہ متعین کیا گیا ہے، جو کہ گیارہ پریتمائیں یا روحانی زندگی کے گیارہ مدارج کہلاتے ہیں۔ ان پریتماوں کے ذریعہ گرہست درجہ بدرجہ روحانی ترقی کرتا ہوا وہ ہی فوائد حاصل کر سکتا ہے جو کہ ایک جین سادھو کو اپنے سنیاس کے درجہ کمال میں حاصل ہوتے ہیں۔(10)</p>
<p>زرتشتیت کی مقدس کتاب اوستا مختلف طرح کی تحریرات میں پر مشتمل ہے۔ (الخ)۔ یہ امیشا اسپنٹا (نورانی ابدی ہستیاں )، وہومنا (نیک خیال)، آشا (راستی، الوہی قانون)، خشتر (سلطان الہی )، آرا میتی (عقیدت یا جذبہ الہی)ہور ویتات (کمال اور بے عیبی)، امیریتات (بقائے دوام )ہیں۔ دوسری طرف گاتھاوں میں انسان کے لئے برائی اور بھلائی میں انتخاب کی آزادی کے ساتھ ساتھ اخلاقی ذمہ داری کا تصور بھی بہت پر زور طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔(11)</p>
<p><strong>زرتشیت کی تعلیمات تصوف :</strong></p>
<p>• وہی تجھ سے مل سکتے ہیں اے اہورا جو اپنے اعمال راستی اور نیک خیال کے الفاظ اور زبان کے ذریعہ جس کا کہ تو اولین رہ نما ہے اے مزد تیرے آقا ہونے کا اعتراف کرتے ہیں۔<br>
• محنت کش انسان جس کا عمل انصاف پر مبنی ہوتا ہے۔ جو دانائی اور روحانی حکمت سے بھرا ہوا لیکن خاک سار ہوتا ہے۔ جو بلند کردار پیغمبر کا وفا دار ہے، وہی چستی یعنی اپنی معرفت و حکمت کے سبب دنیا کا بادشاہ ہو جائے گا۔<br>
• کائنات کی بنیادی حقیقت یہ دو ہیں۔ ایک خیر ایک شر کائنات کی حکومت ان دونوں میں تقسیم ہے اور دونوں ایک ازلی لڑائی میں مصروف ہیں۔ ہر انسان کا فرض ہے کہ وہ خدائے خیر کے ساتھ تعاون کریں جس کو بالآخر فتح ہونا ہے۔(12)</p>
<p><strong>سامی مذاہب :</strong></p>
<p><strong>یہودیت، عیسائیت، اسلام اورتصوف :</strong></p>
<p>یہودیت، عیسائیت اور اسلام ان تینوں مذاہب کی چونکہ اساس ایک ہے، اس لئے ان تینوں مذاہب کی صوفیانہ تعلیمات بھی تقریباً ایک جیسی ہیں۔ لیکن خالص مذہبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو علم ہوتا ہے کہ چونکہ ان تینوں مذاہب کا شرعی نظام مختلف ہے اور اس کے ادوارمیں بھی خاصہ بعد ہے اس لئے تعلیمات تصوف میں بھی یک گنا تبدل نظر آتا ہے۔ اسلام میں تصوف کی روایت خود عہد محمد ﷺ سے ایک صدی بعد مستحکم ہونا شروع ہوئی لہذا عیسائیت اور یہودیت میں اس کی جڑیں ویسی کیوں کر نظر آ سکتی ہیں جیسا کہ بعد از اسلام کے تصوف میں نظر آتی ہیں۔ عیسا ئیت میں جس نوع کی صوفیانہ روایت پائی جاتی ہے اس سے ہمارے عہد کے بڑے محققین کو یہ گمان گزرا ہے کہ تصوف کی اصل مذہب عیسوی ہی ہے۔ لیکن یہ خیال خالص مستشرقین کا ہے، جبکہ اگر بہ نظر غائر دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اسلامی اور عیسائی تصوف میں شرعی بعد کی وجہ سے خاصہ فرق پایا جاتا ہے۔ بہر کیف یہ خالص علمی بحث ہے کہ دینے عیسوی میں علم لطائف اور اذکار وظائف، مراقبہ و مشاہدہ اور وجود باری تعالی کے وہ مباحث کیوں کر نظر نہیں آتے جو کہ اسلامی تصوف کے عروج کے بعد زیر بحث آئے۔ خود توحید کی جس بحث کو احمد بن روئم کے عہد میں چھیڑا گیا اور توحید کے نقطہ کمال تک تصوف کے کاملین نےاعلی نوع کے مباحث قائم کئے وہ عیسائیت کے کسی بھی دور میں نظر نہیں آتا۔ عیسائیت میں روح القدس کا تصور ایسا ہے جس کو عیسی ؑ کے ایک سو بچاس برس بعد زیر بحث لایا گیا اور اس پر ان عیسوی علما نے جم کے بحثیں کیں جن کو بعد از اسلام کے صوفیہ سے مشابہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یوحنا کے ترتیب انجیل کے بعد ان مباحث میں مزید اضافہ ہوا۔ بہر کیف یہودیت کا معاملہ اس سے ذرا مختلف ہے۔ مثلا ً زبور اورعہد نامہ قدیم یا توریت کا ظہور جب ہوا اس زمانے میں توحید کے صوفیانہ مباحث کا رواج نہیں تھا۔ اسی طرح تصوف کے وہ زیادہ تر رجحانات اس عہد میں اس مقام پر مفقود تھے جہاں زبور یاتوریت نازل ہوئی۔ پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اذکار و اودار کے پیش نظر زبورکی اچھی خاصی آیات کا مزاج قران سے میل کھاتا ہے۔ سورۃ فاتحہ جس کو اسلامی تصوف کو فروغ دینے والے عظیم صوفیہ نے بڑی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا اور اذکار میں اس کی اہمیت کے بہت فضائل بیان کئے ہیں، اس قسم کی آیات زبور میں بھی نظر آتی ہیں۔ اس سے تصوف کا برائے راست یہ تعلق ہے کہ وہ ایک سالک کے لئے ان راست بازیوں کا سامان مہیا کرتا ہے جس سے سلوک کی منازل طے کرنے میں سالک کو معاونت حاصل ہوتی ہے۔ صراط المستقیم کی خواہش اور اس پر بنے رہنے کے توسط سے سورۃ فاتحہ میں جو کلمات موجود ہیں اس کی شرح سے بعض شارحین نے تصوف کے پورے نظام کا لائحہ عمل ترتیب دیا ہے۔اس میں ایک صوفی کا ذکر نہیں کہ دمشق، روم، ایران، ایراق، اصفہان، شیراز، بخارا، بلخ، چشت، مازندان، عرب، آذر بائجان اور ہندوستان کے بعض قدیم صوفیا تک اس میں شمار ہوتے ہیں۔ میں زبور کی ایک دعا کو یہاں پیش کر رہی ہوں جس سے اس کا علم ہوتا ہے کہ قران اور زبور کی تعلیمات کا مزاج کتنا ملتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ فاتحہ سے مشابہ آیات کا نزول قبل از اسلام بھی ہوتا رہا جس سے یہودیت اور عیسائیت کے نظام معاشرت میں خدا ترسی، راست راہی، اخلاق اورامن وآتشی کی روایت قائم ہوئی۔<br>
اے خدا میرا انصاف کر کیوں کہ میں راستی سے چلتا رہا ہوں۔</p>
<p>اور میں نے خداوند پر بے لغزش تو کل کیا ہے۔<br>
اے خدا وند مجھے جانچ اور آزما۔<br>
میرے دل و دماغ کو پرکھ۔<br>
کیونکہ تیری شفقت میری آنکھوں کے سا منے ہے۔<br>
اور میں تیری سچائی کی راہ پر چلتا رہا ہوں۔<br>
میں بیہودہ لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھا۔<br>
میں ریا کاروں کے ساتھ کہیں نہیں جاوں گا۔<br>
بد کرداروں کی جماعت سے مجھے نفرت ہے۔<br>
میں شریروں کے ساتھ نہیں بیٹھوں گا۔<br>
میں بے گناہی میں اپنے ہاتھ دھووں گا۔<br>
اور اے خداوند ! میں تیرے مذبح کا طواف کروں گا<br>
تاکہ شکر گزاری کی آواز بلند کروں<br>
اور تیرے سب عجیب کا موں کو بیان کروں۔<br>
اے خداوند ! میں تیری سکونت گاہ<br>
اور تیرے جلال کے خیمہ کو عزیز رکھتا ہوں۔<br>
میری جان کو گنہگاروں کے ساتھ<br>
اوری میری زندگی کو خونی آدمیوں کے ساتھ نہ ملا۔(13)</p>
<p>یہ وہ دعا ہے جس میں ایسی صوفیانہ بو قلمونی پائی جاتی ہے جس میں خلوص دل سے اپنے خدا سے وابستگی کا اظہار کیا گیا ہے۔ حالاں کہ براہ راست تو ان دعاوں میں کوئی بڑی بات نظر نہیں آتی مگر علم الطائف اور اذکار و اوراد کی نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اصل اہمیت کیا ہے۔ ایک صوفی جس کی پوری زندگی علم ادراک میں صرف ہوتی ہے اور جس کو دیدار خدا وندی میں تگ ودو کرنا عرفان ذات سے عرفان خدا تک پہنچا سب سے زیادہ معنی خیز معلوم ہوتا ہے وہ صفائے قلب کے لئے ان دعاوں کا کل وقتی ورد کرتے ہیں۔ یہودیت،عیسائیت اور اسلام کی عالمی سطح پر تصوف کے حوالے سے ایک سب سے الگ شناخت یہ بھی ہے کہ اس میں دعاوں کا ایک ایسا نظام ہے جو غیر سامی مباحث میں کہیں نظر نہیں آتا۔ اس کو ہم صوفیانہ ارتقا سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں مثلا قدیم غیر سامی مذاہب کی دعاوں سے اگر ہم یہود و نصاری کی دعاوں کا تقابل کریں تو اس کا علم ہمیں بخوبی ہو جا تا ہے۔ مثلا ً بابل و نینوا کی تہذیب کے قدیم مذاہب میں ایک دعا رائج تھی جو کہ دانت کے درد کی تھی۔ اس دعا کو ملاحظہ کیجیے:</p>
<p>انو نے سب نے پہلے آسمان پیدا کیا<br>
تب آسمان نے زمین کو پیدا کیا<br>
اور زمین نے دریاوں کو پیدا کیا<br>
اور دریاوں نے نہروں کو پیدا کیا<br>
اور نہروں نے دلدل کو پیدا کیا<br>
اور دلدل نے کیڑوں کو پیدا کیا (14)</p>
<p>یہ انو بھگوان کے لئے ہے جو آسمان کا دیوتا تھا۔ اس دعا کو اس عہد میں کچھ بھی اہمیت حاصل رہی ہو پر اس کا اس عہد دانت کے درد سے کوئی وابستہ معلوم نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کا کوئی منطقی جواز نظر آتا ہے، جبکہ زبور کی مندرجہ بالا دعا یا قران کی سورۃ فاتحہ ایسی دعائیں ہیں جن کا منطقی جواز ہزاروں سال سے موجود ہے اور جن کی منطقی تحلیل بھی بہت آسانی سے ہوتی نظر آتی ہے۔ اسی لئے سامی مذاہب کے صوفیہ کے اوراد و وظائف کو غیر سامی مذاہب کے ماننے والوں سے زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔<br>
عیسائیت اور اسلام تک آتے آتے تصوف کی تعلیمات بہت زیادہ واضح اور کثیر ہو تی نظر آتی ہیں۔عیسائی مذہب کی بنیادی کتاب بائبل ہے جبکہ مسلمانوں کا سر چشمہ مذہب قرآن ہے۔ بائبل کی تعلیمات سے تصوف کے جو سوتے تھوٹتے ہیں اس کے تعلق سے کچھ کہنے سے قبل میں یہ بتا دوں کہ بائبل جس کو اردو میں کلام مقدس کہا جاتا ہے کہ بنیادی طور پر دو حصوں پر مشتمل ہے جس میں سے ایک کو عہد نامہ قدیم کہا جاتا ہے اور دوسرے کو عہد نامہ جدید، بائبل کوئی آسمانی لفظ نہیں ہے بلکہ یہ یونانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہوتے ہیں مجموعہ کتب، اس کو اسی لئے بائبل کہا جاتا ہے کیوں کہ یہ بنیادی طور پر کئی کتب کا مجموعہ ہے۔ اس میں عہد نامہ قدیم میں پروٹسٹنٹ کے نزد یک انتالیس کتابیں ہیں اور کیتھولک کے نزدیک جھیالیس کتابیں ہیں،ان میں بھی سات کتب ایسی ہیں جن پر پروٹسٹینٹ اور کیتھولکس میں یہ بحث ہے کہ یہ الہامی ہیں یا الحاقی۔اس کے بر عکس قرآن مکمل الہامی کتاب ہے جس میں تیس پارے ہیں اور اس میں کسی بھی نو ع یہ الہامی یا الحاقی بحث کی کوئی گنجائش نہیں۔</p>
<p>اس مختصر سی معلومات کو یہاں درج کرنے کا مقصد یہ تھا کہ تصوف کی جو تعلیمات بائبل کے حوالے سے ہم تک پہنچتی ہیں ان پر خواہ عالمی مذہبی الہام کے تناظر میں کسی طرح کی بحث ہو مگر قرآن میں احسان کا جو تصور ہے پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا اور ایک خاص زمانی بعد کے لحاظ سے عیسائیت سے زیادہ احسان کا ایک واضح تصور یہاں نظر آتا ہے۔ عیسی ؑ کی زندگی اور ان کی تعلیمات میں ایثار و قر بانی کا جو رویہ نظر آتا ہے وہ تصوف کی بنیادی تعلیم ہے۔ یہ کہنا کچھ غلط نہ ہوگا کہ صوفی ازم کی بہت سے شقیں ایسی ہیں جن کو عیسائی مذہب سے جلا ملی ہے۔ ایک مشہور قول عیسی ؑ جس کی تشہر ہندوستان میں مہاتما گاندھی نے ایک عرصے تک کی وہ یہ ہے کہ” کوئی اگر تمہارے ایک گال پر تمانچہ مارے تو تم اس کے سامنے دوسرا گال پیش کر دو۔ “امن و آتشی، تحمل، عدم تشدد، ایثار اور خداترسی کی ایسی مثال ہے جس کی نظیر دنیا کے کسی بھی مذہب میں ملنا مشکل ہے۔ تصوف کے جو توحیدی مباحث ہے، جن کو اسلامی تصوف نے بہت زیادہ عروج تک پہنچا یا اور وحدت الوجود اور وحدت شہود جیسے مباحث نے یہاں سر ابھارا، اگر ہم ان کو نظر انداز کر دیں تو عیسائیت کی اس نوع کی تعلیمات سے تصوف کو سب سے زیادہ قوی ہوتا پائیں گے۔ تصوف جس طرز اندگی کا نام ہے، اس طرز زندگی میں عیسوی Life style کو ایک مکمل اسلوب زندگی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کی ایک خاص وجہ ان کی عدم تشدد کی تعلیمات ہیں۔ تصوف اگر عیسوی نقطہ نظر سے کہیں مجروح ہوتا دکھائی دیتا ہے تو وہ صر عیسائیت کا وہ نقطہ توحید ہے جو ایک مثلث کے بغیر پورا نہیں ہوتا۔ ذات باری تعالی، حضرت عیسی اور روح القدس کے تصور کو عالمی پیمانے پر جو مقبولیت حاصل ہے اس سے قطع نظر تصوف کا جو ایک توحیدی نظام ہے اور جو سن عیسوی کے بعد ایک نوع کی منطق کے تحت قابل قبول گردانا گیا، اس کے پیش نظر اس تثلیث نے عیسوی تعلیمات تصوف کو مجروح کیا۔</p>
<p>تصوف کے تناظر میں یہ کوئی اتنا غیر اہم مسئلہ نہیں کہ ایثار و قربانی تو زندگی کے ہر شعبہ میں بہت اہم رہی ہے اور جس طرح کی انسانی ترقی نے دنیا کے عظیم معرکوں کو فتح کیا ہے اس میں وحدت میں کثرت اور کثرت میں وحدت جیسے صوفیانہ مباحث کو بہت قدر و منزل کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ بائبل کی وہ تعلیمات جن میں تصوف کے بنیادی مباحث کی جھلکیاں ملتی ہیں وہ اگر اقتباس اند اقتباس یہاں پیش کی جائیں تو ان کا ڈھیر لگ جائے گا۔ کیوں کہ عیسی ؑ کی زندگی کا ہر ہر لمحہ نمونہ تصوف کی بازیافت کرتا نظر آتا ہے۔ لہذا تصوف کے حوالے عیسائی مذہب کا جو کمزور ترین پہلو ہے میں نے اس پر یہاں زور دینا زیادہ اہم سمجھا۔ اس کمزور پہلو کو نئے زمانی نظام کے تحت اسلامی تھیوری سے مزید تقویت اس طرح ملتی ہے کہ ہم توحید کے نقطہ عروج کی ایک جھلک اسلامی تصوف کے تناظر میں دیکھیں، لہذا میں یہاں اس نقطہ توحید کی ایک جھلک کے طور پر اسلامی تصوف سے متعلق ایک بڑے صوفی کا اقتباس پیش کر رہی ہوں، جس سے توحید کے نقطہ عروج کا علم ہوتا ہے۔</p>
<p>توحید کی تعریف:” توحید یہ ہے کہ جس نے توحید کے بارے میں کوئی تصور باندھا،مشاہدہ معانی کیا،علم الاسماء پر عبور حاصل کیا،اسماء الہیٰ کی اللہ کی طرف نسبت کی اور صفات کو اس سے منسوب کیا اس نے تو حید کی بو تک بھی نہیں سونکھی،مگر جس نے یہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی اسے منفی کردیا وہی موحد ہے مگر رسمی طور پر حقیقتاًنہیں۔” (15)</p>
<p>اسلامی تصوف کی یہ ہی وہ خاصیت ہے جس علمی سطح سے بلند ہو کر تصوف علمی مباحث نے اتنا زیادہ عروج حاصل کیا کہ اس سے قبل اس تصور بھی کہیں نظر نہیں آتا تھا۔</p>
<p>اسلامی تصوف کی ابتدا تو رسول اکرم ﷺ سے ہی ہو جاتی ہے، لیکن اس کو مسلم صوفیانہ بنی کے بعد حضرت علی اور ابو بکر صدیق ان دو صحابہ کے حوالے سے زیادہ اعتبار بخشا ہے۔ ان دونوں صحابہ کی صوفیانہ تعلیمات اور طرز زندگی سے استفادہ کرتے ہوئے بعد کے صوفیہ نے اسلامی تصوف کا ایک پختہ لائحہ عمل ترتیب دیا۔ اسلام میں تصوف کی روایت حالاں کہ پندرہ سو سال پرانی ہے، لیکن پہلے صوفی کا اطلا ق ابوہاشم پر ہوتا ہے جو کہ 763 عیسوی میں فوت ہوئے۔ اسی طرح تصوف کی پہلی کتاب ابو نصر سراج علیہ رحمہ کی کتاب اللمع کہی جاتی ہے۔ اسلام میں تصوف کے کئی ایک سلاسل ہیں۔ جن میں قادریہ، چشتیہ، سہروردیہ اور نقشبندیہ وغیرہ کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ان تمام سلاسل کے صوفیہ نے تذکیہ نفس، تذکیہ باطن اور صفائے قلب کی تعلیم کو پوری زندی عام کیا۔امام جنید بغدادی، منصور حلاج، شیخ عبدالقادر جیلانی، خواجہ بہاو الدین نقشبندی، خواجہ معین الدین چشتی، خواجہ نظام الدین اولیا، شیخ احمد سرہندی، عبدالحق محدث دہلوی، شاہ ولی اللہ اور شاہ وارث علی وغیرہ چند ایک مشہور و معروف صوفیہ ہیں۔ اس کے علاوہ بھی صوفیہ کی تعداد ہزاروں میں ہے جن سے دنیا بھر میں سلوک و معرفت کی تعلیمات عام ہوئی ہیں۔<br>
اسلامی تصوف کیا ہے اس کی مثال سب سے بہتر انداز میں اس اقتباس سے سمجھ میں آ جاتی ہے کہ :</p>
<p>تصوف ابن آدم کی سرشت کا گراں مایہ راز سر بستہ ہے جس کا حصول مادیت اور ظاہری چکا چوند کو شکست دینے کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی سائنس و فلسفہ نہیں ہے جس کی تعبیریں اور مفہوم زمانے نشیب و فراز کے ساتھ بدلتے رہیں۔ محسن انسانیت، انسان کامل محمد ﷺ کے عہد مباک میں بھی اس کی وہی تعریف جو آج ہے، وہ ایک مکمل طرز حیات اور نا قابل تردید حقیقت ہے، جس سے ہمارے قول و فعل کا تضاد ختم ہوتا ہے اور ہم جیسے ہوتے ہیں ویسے نظر آتے ہیں۔ وہ سراپا صدق و حقیقت اور سعی و عمل نیز سر تاپا جدوجہد ہے۔(16)</p>
<p>اسلامی تصوف کی اس سے بہتر کوئی تعریف ممکن نہیں۔ واقعتاً یہ انسانی زندگی میں فکر و عمل کے تضاد کو ختم کرنے کے لئے سب سے بہتر طرز عمل ہے۔ جس ہزاروں برس کی مسافت طے کرتا ہوا، اسلامی تعلیمات سے جلا پا کر اس صورت میں ڈھلا ہے۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p><strong>حواشی:</strong><br>
1۔ جدید روحانیت اور اجنبی اسلام، ابو یحیی،انظار ڈاٹ اورگ<br>
2۔ ص: 13، مذہب اور دھرم، مہاتما گاندھی، انجمن ترقی اور، علی گڑھ<br>
3۔ ص: 21، مقدمہ، تاریخ تصوف، پروفیسر یوسف سلیم چشتی، اریب پبلیکیشنز<br>
4.Psychology of religious mysticism (Ref by) P. 102, Harenrdchandr paul, Jalal-ud-deen Roomi and Tasawwuf, M.I.G Housing Estate.<br>
5۔ ص: 29،مقدمہ، تاریخ تصوف، پروفیسر یوسف سلیم چشتی، اریب پبلیکیشنز<br>
6۔ ص:39، 40، 41، 46، اپنشدوں کی تعلیمات، تاریخ تصوف،پروفیسر یوسف سلیم چشتی، اریب پبلیکیشنز<br>
7۔ ص:72، 77، 78، شری مد بھگوت گیتا میں تصوف،تاریخ تصوف،پروفیسر یوسف سلیم چشتی، اریب پبلیکیشنز<br>
8۔ ص : 377، 378، بدھ مذہب کی مقدس کتابوں سے اقتباس،دنیا کے بڑے مذہب، عماد الحسن آزاد فاروقی، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،نئی دہلی<br>
9۔ ص: 132،اخلاقی تعلیمات، جین مت، دنیا کے بڑے مذہب، عماد الحسن آزاد فاروقی، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،نئی دہلی<br>
10۔ ص: 136، 137، 138، اخلاقی تعلیمات، جین مت، دنیا کے بڑے مذہب، عماد الحسن آزاد فاروقی، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،نئی دہلی<br>
11۔ ص: 383،زرتشتیت کی تعلیمات،جین مت، دنیا کے بڑے مذہب، عماد الحسن آزاد فاروقی، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،نئی دہلی<br>
12۔ ص: 384، 385، زرتشتیت کی تعلیمات،جین مت، دنیا کے بڑے مذہب، عماد الحسن آزاد فاروقی، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،نئی دہلی<br>
13۔ زبور، پہلی کتاب، داود کامزمور 26<br>
14۔ ص: 109،سبط حسن، ماضی کے مزار،سہمت پبلیکشنز<br>
15۔ ص: 108،احمد بن رویم،حیات و تعلیمات، العرفان پبلیکیشنز<br>
16۔ ص: 21، موجودہ دور میں تصوف اور خانقاہوں کی ضرورت، پروفیسر مسعود انور علوی، اکیسویں صدی میں تصوف :عالمی بحران کے حل کی تلاش</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d9%85%d8%b0%d8%a7%db%81%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81-%da%a9%db%92-%d8%b1%d8%ac%d8%ad%d8%a7%d9%86%d8%a7%d8%aa/">عالمی مذاہب میں تصوف کے رجحانات</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d9%85%d8%b0%d8%a7%db%81%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%b5%d9%88%d9%81-%da%a9%db%92-%d8%b1%d8%ac%d8%ad%d8%a7%d9%86%d8%a7%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ذائقہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b0%d8%a7%d8%a6%d9%82%db%81/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b0%d8%a7%d8%a6%d9%82%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[صدف فاطمہ]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 18 Aug 2017 02:19:16 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Sadaf Fatima]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[بڑھاپا]]></category>
		<category><![CDATA[جدید اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[صدف فاطمہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=21916</guid>

					<description><![CDATA[<p>صدف فاطمہ: بڑھاپے میں جسم کے سارے تقاضے زبان میں منتقل ہو کر ذائقے میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ رمشہ کی دادی نے بھی سارے تقاضوں کو ذائقوں میں تلاش کرنا شروع کر دیا تھا۔ </p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b0%d8%a7%d8%a6%d9%82%db%81/">ذائقہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>“اے بیٹا قورمے میں ذرا بھی روغن نہیں ہے ، دلہن سے کہنا تو کہ اللہ کا دیا بہت سا ہے ذرا فراوانی سے ڈالا کریں ۔”<br>
“جی دادی۔“رمشہ نے حامی بھری اور چلتی بنی۔</p>
<p>رمشہ کی دادی آزر کی ماں اور انیسہ کی ساس،ابھی چند ہی مہینوں پہلے اپنے بہو، بیٹے کے پاس رہنے آئی تھیں۔ ان کے شوہر زندہ تھے، لیکن اب وہ شہر کے مزے لینا چاہتی تھیں ، دیہات کے روز مرہ سے ان کا دل کچھ اس درجہ اچاٹ ہو چکا تھا کہ اپنے شوہر کو بے یار و مدد گا، اپنے بڑے بیٹے کے پاس چھوڑ کر ، چھوٹے بیٹے کے پاس آ گئی تھیں۔ بڑے بیٹے کے پاس باپ کو چھوڑنا ، بے یار و مدد گار ہی چھوڑنا تھا، کیوں کہ وہ اوران کا پورا کنبہ بوڑھے باپ کی پینشن پر پل رہے تھے۔ ان کا خیال خود عفن میاں رکھ رہے تھے۔ کوئی انہیں کیا سنبھالتا۔</p>
<p>نقل مکانی کسے راس آئی ہے ۔ تبدیلی ہوا نے البتہ امکانات رکھے ہیں ، لیکن اب ان کا اختیار اور ہاتھ دونوں ہی تنگ ہو چکے تھے ، اب انہیں کھانا پروسا جاتا تھا ، وہ خود نہیں پروستی تھیں ۔ انیسہ بہو، ساس کے برابرآکر کھڑی ہوئیں، ساس نے پھر وہ ہی راگ الاپنا شروع کر دیا ، لیکن اس کے سر وہ زیادہ لمبے نہ کھینچ سکیں ۔ آخر اب راج رانی بہو تھیں ، کچھ کہتے کہتے دل مسوس کے رہ گیا۔<br>
بہو ، بیٹے کے پاس آنے کے بعد سے دادی کا یہ معمول بن گیا تھا، کہ وہ رمشہ کے پاس بیٹھ کر اپنے پچھلے وقت کے کھانوں اور ان کے ذائقوں اور ان کے پکانے کی تراکیب پر ہی باتیں کیا کرتی تھیں ۔ کبھی کہتیں ۔ “اے بیٹا قورمہ ایسے تھوڑی نہ بنتا ہے۔“اور کبھی کہتیں کہ “اے بیٹا جب دلہن نہ ہوئیں تو کسی روز ہم پکا کر کھلائیں گے۔” اور کسی روز کے فراق میں وہ لمبی لمبی آہیں بھرتیں۔ اپنے سامنے رکھے کھانے کو پتھرائی ہوئی آنکھوں سے دیکھتیں ، جب کبھی بہو بیگم کے بنے ہاتھ کا کھاناان کی حلق سے اترنا مشکل ہوجاتا تو چپکےسے رمشہ سے شکر منگوا لیتیں اور شکر روٹی سے ان کی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں نمی اتر آتی۔</p>
<p>ان کے اس معمول میں ایک عرصے تک ذرا بھی تبدلی نہیں آئی ۔ کھانے کی شوقین وہ ہمیشہ سے تھیں ۔ جب تک ساس کے عہدے پر بحال رہیں تب تک انہوں نے بہتر سے بہتر پکایا اور کھایا۔ پکانے کے معاملے میں وہ بڑی دلدار تھیں، البتہ کھلانے میں کچھ تنگ دست واقع ہوئی تھیں ۔ان کی تنگ دستی سے سبھی لوگ واقف تھے ، لیکن رمشہ نے اس کے برعکس کبھی کبھی ان کی سخاوت کے نظارے بھی دیکھے تھے۔ وہ روغن اور مال ، میوہ ڈال کر کچھ پکاتیں تو سب سے بچ بچا کر رمشہ کو کھلا دیتیں ، لیکن یہ بات اس وقت کی تھی جب ساس راج تھا، اب بہو رانی تھی۔ ساس محض تماشہ بیں۔</p>
<p>بڑھاپے میں جسم کے سارے تقاضے زبان میں منتقل ہو کر ذائقے میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ رمشہ کی دادی نے بھی سارے تقاضوں کو ذائقوں میں تلاش کرنا شروع کر دیا تھا۔ کبھی رمشہ ان کو کھاتے ہوئے دیکھتی تو اسے یوں محسوس ہوتا کہ وہ زہر مار کر رہی ہوں اور کبھی وہ کھانے کو چھوڑ کر چھت کو تاکنے لگتیں ۔</p>
<p>واپس جا کر بھی انہیں کچھ حاصل نہیں ہونا تھا،کیوں کہ وہ اختیار بڑی دلہن نے لے لیا تھا کہ جو ہے وہ خود پکائے اور کھلائے۔ ذائقہ ان کے لیے بڑی چیز تھی۔ اچھے کھانوں کے سوا ان کے لیے کوئی شئے معتبر نہ تھی۔ خدا کے پاس جاتے ہوئے بھی وہ تندرست ہی نظر آنا چاہتی تھیں۔ اسی لیے صرف ایک ہی مقولہ ہمہ وقت ان کے لبوں پر جاری رہتا۔“اے بیٹاکھایا پیا ہی تو ساتھ جاتا ہے۔“اعمال پر کچھ خاص نظر نہ تھی،البتہ بدن کی چستی تندرستی کو وہ سب سے زیادہ اہم گردانتی تھیں ۔ دلہن کے ہاتھ کا کھانا انہیں کبھی پسند نہیں آیا۔ ایک عرصے تک برداشت کرتی رہیں، مگر ایک روز تھک ہار کر انہوں نے واپسی کا ارادہ کر ہی لیا اور ان کے اس فیصلے کو جلد از جلد پائے تکمیل تک پہنچا دیا گیا۔ انہیں دوبارہ اپنے شوہر کے پاس پہنچا دیا گیا۔ ابھی وہ اپنے شوہر کے یہاں پہنچی ہی تھیں کہ ایک سانحہ یہ پیش آیا کہ عفن میاں میں چل بسے ،عفن میاں کے چند روز بعدہی خود رمشہ کی دادی بھی اس جہان فانی سے کوچ کر گئیں۔ آزر ،انیسہ کے ساتھ رمشہ بھی دادی کی تندرستی کے زوال کو آخری مرتبہ دیکھنے پہنچی،لیکن رمشہ یہ دیکھ کر بھونچکی رہ گئی کہ دادی کے مقام پر صر ف ایک ڈھانچہ رہ گیا تھا۔</p>
<p>مرنے والے کی اچھائیوں کا ذکر چھیڑا جانے لگا، ان میں سے کسی نے کہا، “یہ تو آخر عمر میں پاگل ہو گئی تھیں۔اپنے سارے بال خود ہی نوچ ڈالے۔اسی لیے ان کی بڑی دلہن نے انہیں گنجا کروا دیا تھا اور تو اور یہ تو زمین سےچن چن کر کیڑے مکوڑے اور مٹی کھانے لگی تھیں۔ یہ سنتے ہی رمشہ کو یہ محسوس ہوا کہ جیسے اس کا منہ کیڑوں اور مٹی سے بھر گیا ہو۔ اسے کہیں دور سے یہ آواز آتی محسوس ہوئی۔</p>
<p>“اے بیٹا،میں پاگل تھوڑے ہی نہ تھی، میں ذائقہ ڈھونڈ رہی تھی۔تمہاری ماں کے پاس ذائقہ نہ تھا، بڑی دلہن کے پاس کھانا نہ تھا، اسی لیے ان کیڑوں میں ذائقہ تلاش کر رہی تھی۔ اے بیٹا مزا تو اچھا نہ تھا ، لیکن بھوک بہت لگتی تھی، اسی لیے کھالیا، اے بیٹامیں پاگل تھوڑے ہی نہ تھی،اے بیٹامیں پاگل تھوڑے ہی نہ تھی ، اےبیٹامیں پاگل تھوڑے ہی نہ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔خدا کے پاس تو کھایا پیا ہی جاتا ہے۔ “تقریباً چیخ پکار کی مانند یہ آوازیں اسے جھنجھوڑ رہی تھیں اور وہ پتھرائی ہوئی آنکھوں سے دادی کے گنجے سر اور ہڈیوں کے ڈھانچے کو تکے جا رہی تھی۔</p>
<p>Image: Rina Bhabra</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b0%d8%a7%d8%a6%d9%82%db%81/">ذائقہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b0%d8%a7%d8%a6%d9%82%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
