<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>امن و امان, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/aman-o-amaan/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Fri, 31 May 2024 22:05:00 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>امن و امان, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پی ایس ایل 2017 – پاکستان میں کرکٹ کی واپسی</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%be%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%84-2017-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%a7%d9%be%d8%b3%db%8c/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%be%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%84-2017-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%a7%d9%be%d8%b3%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[امن و امان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 05 Mar 2017 09:08:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Cricjet comes home]]></category>
		<category><![CDATA[cricket]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan Cricket]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan Super League]]></category>
		<category><![CDATA[PCB]]></category>
		<category><![CDATA[Pehawar Zalmi]]></category>
		<category><![CDATA[PSL]]></category>
		<category><![CDATA[PSL Final]]></category>
		<category><![CDATA[Quetta Gladiators]]></category>
		<category><![CDATA[پی ایس ایل]]></category>
		<category><![CDATA[پی ایس ایل فائنل]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=20359</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">امن و امان: پہلے ایڈیشن کی طرح پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن میں بھی کافی جوش و خروش اور بہت سے سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملے۔ اس مرتبہ سٹیڈیم آ کر میچ دیکھنے والے تماشائیوں  کی تعداد بھی گزشتہ برس کے مقابلے میں دگنی رہی۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%84-2017-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%a7%d9%be%d8%b3%db%8c/">پی ایس ایل 2017 – پاکستان میں کرکٹ کی واپسی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">پچھلے تین ہفتے سے دبئی اور شارجہ میں جاری پاکستان سوپر لیگ ک دوسرا حصہ اپنے اختتام کو پہنچنے والا ہے۔ آج لاہور میں پی ایس ایل کا فائنل کھیلا جائے گا جس میں پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈیئٹرز کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔ پہلے ایڈیشن کی طرح پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن میں بھی کافی جوش و خروش اور بہت سے سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملے۔ اس مرتبہ سٹیڈیم آ کر میچ دیکھنے والے تماشائیوں کی تعداد بھی گزشتہ برس کے مقابلے میں دگنی رہی۔ تماشائیوں کی دلچسپی اور ڈینی موریسن جیسے کمینٹیٹر کے ہونے سے پی ایس ایل کا مزہ دوبالہ ہوا۔ اس ایڈیشن کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ حسبِ وعدہ اس سال فائنل پاکستان کے شہر لاہور میں کرا رہا ہے ۔ یہ اقدام پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے لئے ایک خوش آئند قدم ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">لاہور میں فائنل منعقد کرانے کےلیے حکومت اور پی سی بی کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اور سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات ابھی باقی ہیں۔ سیاستدانوں کی مخالفت کے باوجود پی سی بی داد کا مستحق ہے کہ ان مشکل حالات میں بھی وہ پاکستانی عوام کےلیے کرکٹ واپس لانے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ امن و امان کی خراب صورتحال کے پیش نظر بہت سے سیاسی رہنما بشمول عمران خان، آصف علی زرداری اور عوام کی قابلِ ذکر تعداد پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں منعقد کروانے کے حق میں نہیں ہیں لیکن اکثریت ان لوگوں کی ہے جو پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں دیکھنا چاہتے ہیں اور اس امید پر پی سی بی کی حمایت کررہے ہیں کہ شاید اس سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی ممکن ہو سکے گی۔ جس تیزی سے فائنل کی ٹکٹیں فروخت ہوئی ہیں اس سے یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستانی عوام کرکٹ دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔ یاد رہے کہ مارچ 2009 میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد صرف زمبابوے اور افغانستان کی ٹیموں نے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ 2012 میں دو ٹی ٹوینٹی میچز کےلیے کچھ بین الاقوامی کرکٹ کھلاڑیوں نے سنتھ جے سوریا کی قیادت میں ورلڈ الیون کے نام سے پاکستان کے شہر کراچی کا دورہ کیا جن میں ساوتھ افریقن فاسٹ باولر اینڈرے نیل اور افغانستان کے بلے باز شہزاد قابل ذکر ہیں۔ کسی بھی دوسرے ملک نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا اور پاکستان اپنی تمام تر ہوم میچز متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں کھیلتا رہا ہے۔ اگر اگلے سال پاکستان کرکٹ بورڈ پی ایس ایل کے کچھ اور میچز پاکستان میں کروانے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور ساتھ ساتھ غیر ملکی کھلاڑیوں کو پاکستان میں کھیلنے پر راضی کرنے میں کامیابی حاصل کرلیتا ہے تو عین ممکن ہے کہ جلد بین الاقوامی ٹیمیں پاکستان کا دورہ کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس سال کی پاکستان سپر لیگ میں بھی کانٹے دار مقابلے دیکھنے کو ملے لیکن لاہورقلندرز کی بدقسمتی نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔کراچی کی کارکردگی گزشہ برس سے بہتر رہی۔ اس سال بھی گروپ میچز میں کوئٹہ اور پشاور کی ٹیمیں پہلے اور دوسرے نمبر پر موجود رہیں جبکہ تیسرے اور چوتھے نمبر پر کراچی اور اسلام آباد کی ٹیمیں موجود تھیں اور لاہور ایک بار پھر پلے آف تک پہنچنے میں ناکام ہوا۔ پلے آف کا پہلا میچ پشاور اور کوئٹہ کے درمیان کھیلا گیا جس میں چھکوں اور چوکوں کی بارش ہوئی اور ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد کوئٹہ نے پچھلے سال کی طرح پشاور کو صرف ایک رن سے شکست دےدی اور پی ایس ایل ٹو کے فائنل میں پہنچنے والی پہلی ٹیم بنی۔ دوسرے پلے آف میں کراچی کا مقابلہ پچھلے سال کی فاتح ٹیم اسلام آباد سے ہوا جس میں کراچی ٹیم کی بہترین بالنگ کی وجہ سے اسلام آباد کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ناک آوٹ میچ میں کراچی اور پشاور کی ٹیموں کا مقابلہ ہوا جس میں کامران اکمل نے پشاور کی طرف سے کھیلتے ہوئے پی ایس ایل کی تاریخ کا دوسرا اور اس ایڈیشن کا پہلا سو اسکور کیا۔ اس سو کی بدولت کامران اکمل اس ایڈیشن میں سب سے زیادہ مجموعی رنز بنانے والا بلے باز بن چکے ہیں۔ پشاور کی جارحانہ بیٹنگ کے جواب میں کراچی کے اننگز کی شروعات بہت ہی سست تھی لیکن بعد میں کرس گیل اور کیرن پولارڈ کی بیٹنگ سے یہ لگتا تھا کہ کراچی کی ٹیم فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہوجائے گی لیکن وہاب ریاض کی بہترین بالنگ کی بدولت کیرن پولارڈ نصف سنچری بنانے سے پہلے ہی آوٹ ہوگئے اور ساتھ ہی کراچی کی تمام امیدیں اپنے ساتھ لے کر پویلین کی طرف لوٹ گئے اور یوں پشاور فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہوا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اگر کوئٹہ اور پشاور کی ٹیموں کا موازنہ کیا جائے تو دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف ایک ایک میچ جیت چکی ہیں ۔ اس سال کا ان کا پہلا میچ بارش کی نذر ہوا۔ دونوں ٹیموں نے چار چار میچوں میں کامیابی حاصل کی اور دونوں کے گروپ اسٹیج میں نو (9) پوائنٹس تھے۔ البتہ پلے آف میں کوئٹہ نے پشاور کو شکست دی جس کی وجہ سے کوئٹہ ٹیم کے حوصلے بلند دکھائی دیتے ہیں۔ مگر کوئٹہ ٹیم کو سب سے بڑا دھچکہ اس وقت لگا جب ان کے تمام غیر ملکی کھلاڑیوں نے لاہور آنے سے انکارکیا۔ کوئٹہ ٹیم کو فائنل تک پہنچانے میں کیون پیٹرسن اور رائلی روسو نے اہم کردار ادا کیا تھا اور کوئٹہ ٹیم کو ان کی شدید کمی محسوس ہوگی۔ کوئٹہ کی ٹیم انگلش گیند باز ٹیمل ملز کی خدمت سے محروم ہوگی جو مخالف ٹیم کے بلے بازوں کو زیر کرنے میں کافی مہارت رکھتے ہیں۔ کوئٹہ ٹیم نے ان کی جگہ پانچ نئے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا ہے لیکن بنگلہ دیش کے انعام الحق، ساوتھ افریقہ کے وین وائیک ، زمبابوے کے الٹن چیگمبورا اور شین اروائن کا موازنہ پیٹرسن، رائٹ، روسو اور ملز سے ہر گز نہیں کیا جاسکتا۔ ان چار نئے کھلاڑیوں میں وین وائیک وہ واحد کھلاڑی ثابت ہو سکتے ہیں جو شاید ایک جارحانہ بلے باز کی حیثیت سے کوئٹہ کو فتح دلا سکیں۔ کوئٹہ کے لیے سب سے اچھی خبر یہ ہے کہ سر ویوین رچرڈز جو ہمیشہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں لاہور میں ٹیم کے ساتھ ہوں گے۔ ویوین رچرڈز کی موجودگی اور سرفراز کی قائدانہ صلاحیت کوئٹہ کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئےاہم ہے۔<br>
پشاور زلمی کو اگر دیکھا جائے تو کامران اکمل، وہاب ریاض، محمد حفیظ جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کے ہونے سے پشاور کو اس سال کا چیمپین بننے میں زیادہ آسانی ہوگی۔ اس سے بھی زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ اب تک کے اطلاعات کے مطابق پشاور ٹیم کے تین غیر ملکی کھلاڑی لاہور آنے کے لئے راضی ہو چکے ہیں جن میں دو ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جیتنے والے ڈیرن سیمی پشاور کی قیادت کریں گے۔ ڈیوڈ مالان اور مارلن سیموئیلز بھی لاہور آنے کے لئے تیار ہوچکے ہیں۔ پشاور کے لئے بری خبر یہ ہے کہ بوم بوم آفریدی زخمی ہونے کی وجہ سے فائنل نہیں کھیل پائیں گے۔ آفریدی شاید میدان میں اتنی بہتر کارکردگی نہ دکھا پاتے مگر ٹیم میں ان کی موجودگی سے نئے کھلاڑیوں کی کافی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور تماشائی بھی آفریدی کو دیکھنے کے لئے کافی زیادہ تعداد میں آتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بحیثیت کوئٹہ کے رہائشی کے میں کوئٹہ گلیڈیئٹرز کی حمایت کررہا ہوں اور یہی چاہتا ہوں کہ اس بار کوئٹہ ہی پی ایس ایل کا چیمپین بنے کیونکہ دونوں ایڈیشن میں تسلسل سے کوئٹہ کی ٹیم بہتر کھیل کا مظاہرہ کررہی ہے مگر پشاور کے ٹیم میں موجود کھلاڑیوں کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ کوئٹہ کو جیتنے کے لئے کافی زیادہ محنت اور قسمت آزمائی کرنی پڑے گی۔ جیت چاہے کسی کے بھی نصیب میں ہو خوشی کی بات یہ ہے کہ کافی عرصے بعد پاکستانی عوام کو پاکستان میں اچھی کرکٹ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ میں اس موقع پر دعا گو ہوں کہ فائنل میچ بغیر کسی سانحے کے کھیلا جائے اور دہشت گردوں کے عزائم ناکام ہوں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%84-2017-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%a7%d9%be%d8%b3%db%8c/">پی ایس ایل 2017 – پاکستان میں کرکٹ کی واپسی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%be%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%84-2017-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%a7%d9%be%d8%b3%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاک بھارت کرکٹ مقابلے</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9-%d9%85%d9%82%d8%a7%d8%a8%d9%84%db%92/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9-%d9%85%d9%82%d8%a7%d8%a8%d9%84%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[امن و امان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 19 Mar 2016 13:02:15 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[2007 t20 final]]></category>
		<category><![CDATA[Indo-pak cricket]]></category>
		<category><![CDATA[T20 cricket]]></category>
		<category><![CDATA[T20 World Cup]]></category>
		<category><![CDATA[پاک بھارت کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ٹی ٹونٹی کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=15824</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">ورلڈ کپ دو ہزار سات کا فائنل میچ نہ صرف ٹی ٹونٹی کی تاریخ کے بہترین میچوں میں سے ایک ہے بلکہ اس میچ کی کامیابی کے بعد ٹی ٹونٹی کا فارمیٹ اتنا مقبول ہوا کہ اس کے بعد آئی پی ایل اور دیگر کرکٹ لیگوں کا آغاز کیا گیا۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9-%d9%85%d9%82%d8%a7%d8%a8%d9%84%db%92/">پاک بھارت کرکٹ مقابلے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">پاک بھارت کرکٹ کی یہ مختصر تاریخ تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ ٹی ٹونٹی مقابلوں کی تاریخ پر مشتمل ہے۔ جب کہ دوسرے اور تیسرے حصے میں پاکستان اور بھارت کے مابین کھیلے گئے ون ڈے اور ٹیسٹ مقابلوں کی تاریخ کا جائزہ پیش کیا جائے گا۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urdutext">پہلا حصہ</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پاکستان بننے کے پانچ سال بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم نے بھارت کا دورہ کیا اور اپنا پہلا بین الاقوامی ٹیسٹ میچ 16 تا 18 اکتوبر 1952 کو کھیلا۔ پاکستانی ٹیم میں عبدالحفیظ کاردار اور عامر الٰہی دو ایسے کھلاڑی تھے جو پہلے بھارت کی طرف سے کھیل چکے تھے، باقی کھلاڑیوں کے لئے یہ ان کا پہلا بین الاقوامی میچ تھا۔ یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان شروع ہونے والی ایک طویل اور نا ختم ہونے والی مسابقت کا آغاز تھا جو اب تک جاری ہے اور آگے بھی جاری رہے گی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">پاکستانی ٹیم میں عبدالحفیظ کاردار اور عامر الٰہی دو ایسے کھلاڑی تھے جو پہلے بھارت کی طرف سے کھیل چکے تھے، باقی کھلاڑیوں کے لئے یہ ان کا پہلا بین الاقوامی میچ تھا۔</div>
<div class="urdutext">یوں تو بین الاقوامی سطح پر بیس اووروں پر مشتمل ٹی ٹونٹی کرکٹ کا آغاز 2005 میں ہی ہو گیا تھا لیکن بہت سے ممالک کرکٹ کے اس فارمیٹ کے بارے میں سنجیدہ نہیں تھے۔ 2007 کے ایک روزہ کرکٹ ورلڈ کپ کی ناکامی کے بعد آئی سی سی نے سب کرکٹ بورڈز کو منا کر پہلا ورلڈ ٹی ٹونٹی منعقد کرایا۔ ٹورنامنٹ کے دسویں میچ میں روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلا ٹی ٹونٹی میچ کھیلا گیا۔ بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے رابن اوتھاپا کے پچاس رنز کی مدد سے 141 کا مجموعی سکور بنایا۔ پاکستان کی طرف سے محمد آصف نے چار اوور میں چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ جواب میں پاکستانی بلے باز یکے بعد دیگرے آؤٹ ہوتے گئے اور 9 اووروں میں پاکستان کا مجموعی سکورصرف 47 تک پہنچ سکا اور اس کے چار کھلاڑی پویلین لوٹ گئے۔ بیچ کے اوورز میں شعیب ملک نے تھوڑی محتاط بلے بازی کرکے سکور آگے بڑھایا مگر وہ بھی جلد آؤٹ ہوگئے اور پھر اٹھارہویں اوور میں جب آفریدی آؤٹ ہوئے تو پاکستان کو 14 گیندوں پر انتالیس رنز درکار تھے۔ میچ پاکستان کے ہاتھوں سے پھسلتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ ایسے میں چار سال بعد بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کرنے والے مصباح الحق نہایت ہی جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے 4 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے آخری اوور کی چوتھی گیند پر سکور برابر کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اب پاکستان کو جیتنے کے لئے دو گیندوں پر صرف ایک رن کی ضرورت تھی۔ پانچویں گیند کو مصباح پوائنٹ کی طرف کھیلنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، آخری اوور کی آخری گیند کو وہ cover کی طرف کھیل کر رن لینے کی کوشش کرتے ہیں مگر بد قسمتی سے گیند سیدھی یوراج کے پاس پہنج جاتی ہے اور یوراج گیند کو سری سانتھ کی طرف پھینک دیتے ہیں جو مصباح کو رن آؤٹ کر دیتا ہے اور اس طرح یہ میچ برابر ہو جاتا ہے۔ بعد میں اس میچ کا فیصلہ بال آؤٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے جس میں پاکستان کو شکست ہو جاتی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پاکستان اور بھارت کا اگلا مقابلہ اسی ٹورنامنٹ کے فائنل میں ہوتا ہے۔ بھارت ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کرتا ہے اور 157 سکور بنا لیتا ہے جس میں گوتم گمبھیر کے 75 رنز کا حصہ سب سے نمایاں تھا۔ پاکستان کی طرف سے عمر گل شاندار گیند بازی کر کے 3 کھلاڑیوں کو اپنا شکار بناتے ہیں۔ جواب میں پاکستان کے بلے باز ایک بار پھر بری طرح ناکام ہوجاتے ہیں۔ سولہویں اوور میں جب پاکستان کی ساتویں وکٹ گر جاتی ہے تو اس وقت پاکستان کا سکور 104 ہوتا ہے اور جیتنے کیلئے 24 گیندوں پر 54 رنز درکار ہوتے ہیں۔ ایک بار پھر پاکستانی ٹیم کی ساکھ بچانے کے لئے مصباح الحق شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ہربھجن سنگھ کے ایک اوور میں تین چھکے لگا کر اسکور کو آگے بڑھا تے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">ایسے میں چار سال بعد بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کرنے والے مصباح الحق نہایت ہی جارحانہ انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے چار چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے آخری اوور کی چوتھی گیند پر سکور برابر کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔</div>
<div class="urdutext">اگلے اوور میں جب سری سانتھ سہیل تنویر کو ایل بی ڈبلیو کرنے کی کوشش میں ان کے پیروں پر گیند کرتے ہیں تو سہیل تنویر لیگ کی طرف دوخوبصورت چھکے لگاتے ہیں۔ سہیل تنویر اور عمر گل کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستان کے پاس صرف ایک وکٹ باقی تھی اور 6 گیندوں پر 13 زنزدرکار تھے۔ آخری اوور کے لئے مہندر سنگھ دھونی گیند جوگیندر شرما کو تھماتے ہیں۔ جوگیندر شرما پہلی گیند وائیڈ کرادیتے ہیں اور انہیں دوبارہ وہی گیند کرنا پڑتی ہے جسے وہ بہتر انداز میں پھینکتے ہیں۔ اوور کی دوسری گیند فل ٹاس ہوتی ہے جس کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے مصباح گیند کو باؤنڈری کے باہر مارنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں. اب4 گیندوں پر صرف 6 رنز درکار ہیں۔ مچ پاکستان کی گرفت میں ہے۔ اگلی گیند کو مصباح فائن لیگ کے اوپر سے باؤنڈری کےباہرمارنے کی کوشش کرتے ہیں مگر گیند کی سست رفتار سے دھوکہ کھا کر گیند کو ہوا میں کھیلتے ہیں جو سیدھی فیلڈر کے ہاتھوں میں آجاتی ہے اور اس طرح پاکستان پہلے ورلڈ ٹی ٹونٹی کا سنسنی خیز فائنل ایک دلچسپ مقابلے کے بعد 5 رنز سے ہار جاتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ میچ نہ صرف ٹی ٹونٹی کی تاریخ کے بہترین میچوں میں سے ایک ہے بلکہ اس میچ کی کامیابی کے بعد ٹی ٹونٹی کا فارمیٹ اتنا مقبول ہو جاتا ہے کہ اس کے بعد آئی پی ایل اور دیگر کرکٹ لیگوں کا آغاز کیا گیا۔ اگر یہ میچ نہ ہوا ہوتا تو شاید کرکٹ میں اتنی تبدیلیاں نہیں آتیں۔ لہٰذا جب بھی کرکٹ کے جدید دور کی تبدیلیوں اور اہمیت کی بات آئے گی اس میچ کا تذکرہ ضرور ہو گا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">ورلڈ کپ دو ہزار سات کا فائنل میچ نہ صرف ٹی ٹونٹی کی تاریخ کے بہترین میچوں میں سے ایک ہے بلکہ اس میچ کی کامیابی کے بعد ٹی ٹونٹی کا فارمیٹ اتنا مقبول ہوا کہ اس کے بعد آئی پی ایل اور دیگر کرکٹ لیگوں کا آغاز کیا گیا۔</div>
<div class="urdutext">پاک بھارت کی ٹیموں کا اگلا ٹکراؤ پانچ سال بعد 2012 کے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے بیسویں میچ میں ہوتا ہے۔ پاکستانی ٹیم ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے اور کپتان محمد حفیظ کی سست رفتار بیٹنگ کی وجہ سے صرف 128 سکور بنا پاتی ہے۔ جواب میں ویرات کوہلی کی شاندار بلے بازی کی مدد سے بھارت سترہ اوور میں سکور پورا کر لیتا ہے۔ ویرات کوہلی نے اس میچ میں 2 چھکوں اور 8 چوکوں کی مدد سے 78 کی شاندار اننگ کھیلی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سیاسی چپقلش اور ملکی صورتحال کی وجہ سے کئی سالوں تک پاکستان بھارت کا دورہ نہیں کر پاتا اور سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد تو دوسرے ملکوں کی ٹیموں نے بھی پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار کر دیا۔ دوسرے ملکوں کی ٹیموں کے ساتھ پاکستان کے مقابلے متحدہ عرب امارات میں ہوتے ہیں لیکن بھارت وہاں کا دورہ کرنے سے بھی انکاری ہے۔ 2012 کے آخری مہینے میں پاکستان دو ٹی ٹونٹی میچوں کی سیریز کھیلنے بھارت جانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ پہلے میچ میں عمر گل کی شاندار گیند بازی اور محمد حفیظ اور شعیب ملک کی جارحانہ بلے بازی کی بدولت پانچ وکٹوں سے میچ جیت لیتا ہے۔ دوسرے میچ میں یوراج سنگھ کی تباہ کن بلے بازی کی وجہ سے بھارت کا سکور 192 تک پہنچ جاتا ہے۔ اس میچ میں عمر گل اور محمد عرفان کے علاوہ تمام پاکستانی باؤلروں کی اچھی خاصی دھلائی ہوئی۔ 192 کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم اچھے آغاز کے بعد ہمیشہ کی طرح اس بار بھی بڑے ہدف کا تعاقب کرنے میں ناکام رہی اور میچ گیارہ رنز سے ہار گئی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">2014 کے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں بھی پاکستان کی ٹیم کو بھارت کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سال کھیلے گئے ایشیا کپ میں جب پاکستان اور بھارت آمنے سامنے آتے ہیں تو پاکستانی بلے بازوں کی غیر ذمہ دارانہ بیٹنگ کی وجہ سے پوری ٹیم صرف 83 کا سکور بنا کر آوٹ ہو جاتی ہے۔ بھارتی اننگز کے آغاز میں محمد عامر بین الاقوامی سطح پر اپنی واپسی کا اعلان شاندار انداز میں کرتے ہیں اور دو اووروں میں ہی بھارت کے پہلے تین بلے بازوں کو آؤٹ کرلیتے ہیں لیکن ویرات کوہلی ایک بار پھر بھارت کی نیّا پار لگانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">اب تک پاکستان اور بھارت کے درمیان سات ٹی ٹونٹی میچ کھیلے جاچکے ہیں جن میں سے صرف ایک میں پاکستان کو کامیابی حاصل ہوئی</div>
<div class="urdutext">اب تک پاکستان اور بھارت کے درمیان سات ٹی ٹونٹی میچ کھیلے جاچکے ہیں جن میں سے صرف ایک میں پاکستان کو کامیابی حاصل ہوئی اور ان سات میچوں میں سے 4 میچ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں کھیلے گئے جن میں پاکستان اب تک بھارت کو شکست نہیں دے سکا ہے۔ بھارت کی طرف سے ویرات کوہلی سب سے کامیاب بلے باز ثابت ہوئے ہیں جنہوں نے 199 رنز سکور کئے ہیں اور ان کا ساتھ دھونی اور یوراج نے دیا ہے۔ پاکستان کی طرف سے محمد حفیظ بھارت کے خلاف بہتر کارکردگی دکھا کر اب تک 151 رنز بنا چکے ہیں۔ باؤلنگ میں بھارت کی طرف سے کسی گیند باز نے کوئی خاص کارکردگی نہیں دکھائی جبکہ پاکستان کی طرف سے عمر گل نے کامیاب باؤلنگ کرتے ہوئے بھارت کے 11 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اگر پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کا موازنہ کیا جائے تو ہر فارمیٹ میں پاکستانی باؤلنگ بھارت سے بہتر رہی ہے جبکہ بیٹنگ کے شعبے میں ہمیشہ بھارت کو پاکستان پر سبقت حاصل رہی ہے۔ آج کا میچ بھی پاکستانی باؤلنگ اور بھارتی بیٹنگ پر منحصر ہے۔ اگر پاکستانی باؤلرز خاص کر محمد عامر ویرات کوہلی، روہیت شرما اور یوراج سنگھ جیسے بلے بازوں کو کم سکور پر آؤٹ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو پاکستان پہلی بار بھارت کو ورلڈکپ ٹی ٹونٹی میں شکست دینے میں کامیاب ہوسکتا ہے بشرطیکہ پاکستانی بلے باز بھی پاکستانی باؤلروں کی مدد کریں۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان عالمی کپ میں بھارت کو پہلی بار ہرانے میں کامیاب ہو پاتا ہے یا ایک بار پھر بھارت پاکستان کو شکست دے کر اپنا ریکارڈ برقرار رکھے گا۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9-%d9%85%d9%82%d8%a7%d8%a8%d9%84%db%92/">پاک بھارت کرکٹ مقابلے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9-%d9%85%d9%82%d8%a7%d8%a8%d9%84%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کرکٹ، حب الوطنی اور عدم برداشت</title>
		<link>https://laaltain.pk/%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9%d8%8c-%d8%ad%d8%a8-%d8%a7%d9%84%d9%88%d8%b7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d8%af%d9%85-%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b4%d8%aa/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9%d8%8c-%d8%ad%d8%a8-%d8%a7%d9%84%d9%88%d8%b7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d8%af%d9%85-%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b4%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[امن و امان]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 15 Mar 2016 15:03:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Cricket for peace]]></category>
		<category><![CDATA[Sportsmanship]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=15766</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">کھیل کے مقابلوں کو وطن پرستی، قومیت اور حب الوطنی کے ساتھ گڈمڈ کرنا کھیلوں کی اصل روح کے منافی ہے۔ آپ اپنے ملک سے محبت کے ساتھ کھیلتے ہیں دوسرے ممالک سے نفرت کے اظہار کے لیے نہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9%d8%8c-%d8%ad%d8%a8-%d8%a7%d9%84%d9%88%d8%b7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d8%af%d9%85-%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b4%d8%aa/">کرکٹ، حب الوطنی اور عدم برداشت</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">2007 میں پہلا ٹی ٹوینٹی کرکٹ ورلڈ کپ کھیلا گیا تھا جس کے فائنل میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان کو انڈیا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اختتامی تقریب میں اُس وقت کے کپتان شعیب ملک نے اپنے بیان میں پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ “دنیا بھر کے مسلمانوں” کا شکریہ ادا کیا اور فائنل ہارنے پر ان سب سے معافی بھی مانگی تو اس وقت کے بعض لبرل اور آزاد خیال حلقوں کو یہ بات بہت ناگوار گزری اور شعیب ملک کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ فائنل رمضان کے مہینے میں کھیلا گیا تھا اور شعیب ملک نے اپنا یہ بیان انگریزی میں دیا تھا جو کہ ان کی پہلی نہیں، دوسری بھی نہیں، تیسری زبان ہے۔ ناقدین نے موقع کی مناسبت کو نہ سمجھتے ہوئے شعیب ملک کو بے جا تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ بحث کی جا سکتی ہے کہ کیا مذہب سے وابستگی کھیل کے عمومی ماحول پر اثرانداز ہوتی ہے یا نہیں لیکن جس تناظر میں شعیب ملک نے یہ بات کہی تھی وہ قابل فہم ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">اگر کسی غیر ملکی کھلاڑی کا پرستار ہونا ملکی سلامتی کے لئے خطرہ ہے تو فٹبال دیکھنے والے سارے پاکستانیوں پر یہ مقدمہ چلنا چاہیئے کیونکہ ان سب کے پسندیدہ کھلاڑی غیر ملکی ہیں۔</div>
<div class="urdutext">2015 کا ایک روزہ کرکٹ ورلڈ کپ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کھیلا گیا تھا۔ اس ورلڈ کپ میں پاکستان سے ہجرت کرنے والے آسٹریلیا میں مقیم ہزارہ برادری کے کچھ افراد پاکستانی ٹیم کی حمایت کے لئے ایڈیلیڈ اور برسبین کرکٹ گراؤنڈ میں گئے تھے اور پاکستان کا جھنڈا لہرا کر پاکستانی کھلاڑیوں کو داد دے رہے تھے۔ ان کی اس حرکت پر اچھے خاصے پڑھے لکھے اور آزاد خیال نظر آنے والے افراد نے ان کا مذاق اڑایا اور ان پر لعن طعن کی کہ پاکستان سے بھاگنے والے پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی حمایت کر رہے ہیں۔ اول تو ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کسی بھی ملک کا سفر کرے اور اس ملک کی شہریت اختیار کرے۔ اور دوئم یہ بات بالکل صحیح ہے کہ پاکستانی ریاست ہزارہ برادری کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اس کی ذمہ داری ہم کرکٹرز پر ڈال دیں۔ اگر حکومت ناکام ہوچکی ہے تو اس میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا کوئی قصور نہیں کیونکہ کرکٹرز کا کام ہوتا ہے کرکٹ کھیلنا اور ہمیں ان سے صرف بہتر کھیل کی ہی توقع رکھنی چاہیئے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">دو مہینے پہلے آسٹریلیا اور ہندوستان کے مابین ٹی ٹوینٹی سیریز کھیلی جارہی تھی جس میں ویرات کوہلی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ ویرات کوہلی کی کارکردگی سے خوش ہوتے ہوئے ان کے ایک پاکستانی پرستار “عمر دراز” نے اپنے مکان پر ہندوستان کا جھنڈا لہرا دیا جس کی پاداش میں انہیں حراست میں لے لیا گیا اور ان پر نقصِ امن (ملکی سلامتی کے خلاف عمل) کا مقدمہ چلایا گیا۔ ایک مہینہ جیل میں رہنے کے بعد جب عمر دراز رہا ہوا تو انہوں نے کہا کہ انہیں جیل میں کافی مار پڑی تھی اسی لئے اب وہ ویرات کوہلی کے پرستار نہیں بلکہ آفریدی کے پرستار ہیں۔ اگر کسی غیر ملکی کھلاڑی کا پرستار ہونا ملکی سلامتی کے لئے خطرہ ہے تو فٹبال دیکھنے والے سارے پاکستانیوں پر یہ مقدمہ چلنا چاہیئے کیونکہ ان سب کے پسندیدہ کھلاڑی غیر ملکی ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے کھیل کو کھیل کی بجائے سیاست کی متعصب عینک سے دیکھنے کی وجہ سے شاید یہ مقدمہ صرف ہندوستانی کھلاڑیوں کے پرستاروں پر چلایا جاتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">کھیل کے مقابلوں کو وطن پرستی، قومیت اور حب الوطنی کے ساتھ گڈمڈ کرنا کھیلوں کی اصل روح کے منافی ہے۔ آپ اپنے ملک سے محبت کے ساتھ کھیلتے ہیں دوسرے ممالک سے نفرت کے اظہار کے لیے نہیں۔</div>
<div class="urdutext">پچھلے کچھ دنوں سے فیس بک پر لوگ 2016 کی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کھیلنے والی اپنی اپنی پسندیدہ ٹیموں کی حمایت کے لئے اپنی پروفائل کی تصویر کو تبدیل کر رہے ہیں۔ کچھ ایسے پاکستانی بھی ہیں جو ہندوستان کی ٹیم کی حمایت کرنے کے لئے بھی اپنی پروفائل تصویر تبدیل کر رہے ہیں۔ ایسے میں حب الوطن پاکستانیوں کا ضمیر جاگ اٹھا ہے اور ان لوگوں کو مختلف القابات سے نواز رہے ہیں۔ ایک صاحب نے تمام حدود پار کرتے ہوئے لکھا کہ ہندوستانی ٹیم کی حمایت کرنے والوں کی مثال ایسی ہے جو اپنے نام کے ساتھ اپنے باپ کا نام نہیں بلکہ اپنے پڑوسی کا نام لگاتے ہیں۔ اب بھلا ان کو کون سمجھائے کہ کسی بھی ٹیم کی حمایت کرنا ان کا حق ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">دو دن پہلے ہندوستان میں پریس کانفرنس کے دوران شاہد آفریدی نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ہندوستان میں بہت سپورٹ ملی ہے اور پاکستان سے زیادہ پیار ملا ہے (تکنیکی اعتبار سے دیکھا جائے تو ان کی بات صحیح ہے :p)۔ اس بیان پر پاکستان کے تنگ نظر حلقوں میں کھلبلی مچ گئی اور انہوں نے آفریدی پر غداری کا الزام لگایا اورایک خبر کے مطابق انہیں حب الوطن پاکستانیوں کی طرف سے قانونی نوٹس بھی بھیج دیا گیا ہے۔ ہمیں پورا حق حاصل ہے کہ آفریدی کے خراب کھیل کی وجہ سے ان پر تنقید کریں لیکن ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ہم ان کے ایک بیان کو توڑ مروڑ کر انہیں غدار ثابت کرنے کی کوشش کریں۔ یہ ایک سفارتی بیان تھا جو ہر ٹیم کسی بھی ملک میں کھیلتے ہوئے دیتی ہے، صحافی، ادیب، فنکار ، کھلاڑی سبھی اپنے ملک کے سفیر ہوتے ہیں اور دوسرے ممالک میں جا کر خیر سگالی کے طور پر ایسی باتیں کرتے ہیں انہیں کھیلوں کے ذریعے سفارت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیئے نا کہ وطن دشمنی اور غداری کے طور پر۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کھیل کے مقابلوں کو وطن پرستی، قومیت اور حب الوطنی کے ساتھ گڈمڈ کرنا کھیلوں کی اصل روح کے منافی ہے۔ آپ اپنے ملک سے محبت کے ساتھ کھیلتے ہیں دوسرے ممالک سے نفرت کے اظہار کے لیے نہیں۔ ہندوستان یا پاکستان کے مابین سیاسی معاملات کسی بھی نہج پر ہوں کھیل کو کھیل کی روح کے مطابق کھیلنا اور دیکھنا چاہیئے۔ نا تو ہندوستان کے کسی کھلاڑی کو پسند کرنا یا ہندوستان کی ٹیم کی حمایت کرنا کسی طرح غداری ہے اور نا ہی خیر سگالی بیانات کی بناء پر کسی کو غدار قرار دیا جا سکتا ہے۔ کرکٹ سمیت تمام کھیلوں کو شدت پسندی، عدم برداشت، مذہبی و ملی جنونیت اور تنگ نظری کی بجائے برداشت، پرامن بقائے باہمی اور خیرسگالی کے جذبات کے تحت ہی کھیلیے تا کہ کھیل کے میدانوں کو جنگ کے میدان بننے سے بچایا جا سکے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9%d8%8c-%d8%ad%d8%a8-%d8%a7%d9%84%d9%88%d8%b7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d8%af%d9%85-%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b4%d8%aa/">کرکٹ، حب الوطنی اور عدم برداشت</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9%d8%8c-%d8%ad%d8%a8-%d8%a7%d9%84%d9%88%d8%b7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d8%af%d9%85-%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b4%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پی ایس ایل؛ پاکستان کرکٹ کا روشن مستقبل</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%be%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%84%d8%9b-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9-%da%a9%d8%a7-%d8%b1%d9%88%d8%b4%d9%86-%d9%85%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8%d9%84/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%be%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%84%d8%9b-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9-%da%a9%d8%a7-%d8%b1%d9%88%d8%b4%d9%86-%d9%85%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8%d9%84/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[امن و امان]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 04 Mar 2016 09:21:14 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan Cricket]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan Super League]]></category>
		<category><![CDATA[PSL]]></category>
		<category><![CDATA[PSL and Pakistan Cricket]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان سوپر لیگ]]></category>
		<category><![CDATA[پی ایس ایل]]></category>
		<category><![CDATA[پی ایس ایل اور پاکستان کرکٹ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=15484</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">پہلے ہی سال میں اس لیگ کے مستقبل کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن یہ کہنا بجا ہوگا کہ اپنے آغاز کے پہلے ہی سال اسے وہ کامیابیاں ملی ہیں جس کی شاید لوگ توقع نہیں کر رہے تھے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%84%d8%9b-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9-%da%a9%d8%a7-%d8%b1%d9%88%d8%b4%d9%86-%d9%85%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8%d9%84/">پی ایس ایل؛ پاکستان کرکٹ کا روشن مستقبل</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">2007 کا ایک روزہ کرکٹ ورلڈ کپ نہ صرف پاکستان کے لئے ایک ڈراؤنہ خواب ثابت ہوا بلکہ اسے ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بُرا ٹورنامنٹ تصور کیا جاتا ہے۔ ورلڈ کپ کے نویں میچ میں پاکستان کو آئرلینڈ کے ہاتھوں بد ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا اور پاکستان ورلڈ کپ کے پانچویں دن ہی ورلڈ کپ سے باہر ہوگیا۔ پاکستانی ابھی تک اس صدمے سے باہر نہیں نکل پائے تھے کہ اگلے ہی دن پاکستان ٹیم کے کوچ باب وولمر کے مرنے کی خبر نے کرکٹ کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ ویسٹ انڈیز میں کھیلا گیا یہ ورلڈ کپ ہر لحاظ سے برا ثابت ہوا۔ گراؤنڈ میں تماشائی نہ ہونے کے برابر تھے اور 45 دنوں پر مبنی اس طویل ٹورنامنٹ کو وہ پذیرائی نہیں ملی جو اس سے پہلے کھیلے گئے ورلڈ کپ کو ملی تھی۔ ورلڈ کپ کا فائنل بھی امپائرز کی نا اہلی کی وجہ سے تنازعہ کا شکار ہوا اور آئی سی سی کے سربراہ (چیف ایکزیگٹیو) میلکم سپیڈ کو تمام شائقین سے معافی مانگنی پڑی۔ آئی سی سی کو اپنے اس غلطی کا ازالہ کرنے کے لئے کسی اچھے اقدام کی ضرورت تھی اور انہوں نے اسی سال ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کرانا کا فیصلہ کر دیا (گو اس سے ایک سال پہلے اس معاملہ پر کافی بحث ہوچکی تھی)۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">اگر اگلے سال بھی لیگ ملک سے باہر کھیلی جاتی ہے تو کم از کم ایک یا دو میچز خصوصاً فائنل کا انعقاد پاکستان میں ہونا چاہیئے</div>
<div class="urdutext">پہلے ورلڈ ٹی ٹوینٹی کپ کو بہت سے ممالک سنجیدگی سے نہیں لے رہے تھے جن میں آسٹریلیا، پاکستان اور انڈیا سرِ فہرست تھے۔ انڈیا نے تو پہلے اس ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا لیکن اس وقت کے آئی سی سی صدر احسان مانی اور چیف ایکزیگٹیو میلکم سپیڈ کی کوششوں سے تمام ٹیمیں اس ٹورنامنٹ کو کھیلنے کے لئے راضی ہوئیں۔ ٹورنامنٹ کا آغاز کرس گیل کے دھماکے دار بیٹنگ سے ہوا جنہوں نے پہلے ہی میچ میں 10 چھکوں کی مدد سے ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل کی پہلی سینچری سکور کی اور ویسٹ انڈیز نے 20 اوورز میں 205 زنز بنائے۔ دوسری جانب جنوبی افریقہ کے ہرشل گبز نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 55 گیندوں پر 90 رنز بنائے اور اپنی ٹیم کو فتح دلادی۔ ٹورنامنٹ کے پہلے ہی میچ سے ٹی ٹونٹی کے بارے میں لوگوں کے خیالات میں تبدیلی آئی اور ٹی ٹونٹی کو کرکٹ کا مستقبل قرار دیا جانے لگا۔ ٹورنامنٹ کے فائنل میں انڈیا اور پاکستان کا کانٹے دار مقابلہ ہوا اور بدقسمتی سے پاکستان کو 5 رنز سے ہارنا پڑا۔ اس ٹورنامنٹ سے آئی سی سی کو اپنی ساکھ بحال کرنے میں کافی مدد ملی اور اس ٹورنامنٹ کی کامیابی کو دورِ جدید کے کرکٹ کا انقلاب کہا جانے لگا جس کے بعد آئی پی ایل، بیگ بیش، کیریبیئن لیگ، چیمپیئنز لیگ اور باقی کرکٹ لیگوں کا آغاز ہوا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یوں تو پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی 2007 کے ورلڈ ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ کے بعد ہی ایک لیگ شروع کرنا کا فیصلہ کرلیا تھا لیکن بورڈ کی اقتصادی زبوں حالی اور ملکی حالات کی وجہ سے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لئے پاکستان کو آٹھ سال انتظار کرنا پڑا۔ بالآخر 4 فروری 2016 کو پاکستان سوپر لیگ کا آغاز ہوا اور اسی مہینے کی 23 تاریخ کو دبئی کرکٹ سٹیڈیم میں پی ایس ایل کا شاندار فائنل کھیلا گیا۔ جس طرح 2007 کے پہلے ورلڈ ٹی ٹونٹی کی کامیابی کے بعد دنیائے کرکٹ میں بہت سی خوشگوار تبدیلیوں کا آغاز ہوا اسی طرح امید کی جارہی ہے کہ پی ایس ایل کی کامیابی سے پاکستان کرکٹ میں بھی اچھی خاصی تبدیلیاں آئیں گی۔ اس سال یہ لیگ ملک سے باہر کھیلی گئی لیکن امید کی جارہی ہے کہ جلد ہی پاکستان سوپر لیگ پاکستان میں کھیلی جائے گی لیکن اس کا دارومدار ملک میں امن و امان کی بحالی پر ہے۔ اگر اگلے سال بھی لیگ ملک سے باہر کھیلی جاتی ہے تو کم از کم ایک یا دو میچز خصوصاً فائنل کا انعقاد پاکستان میں ہونا چاہیئے تاکہ شائقین کو اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو کھیلتے دیکھنے کا موقع مل سکے۔<br>
اس لیگ کے انعقاد سے پہلے بھی اور لیگ کے دوران بھی بہت سے لوگ اس لیگ کا مقابلہ آئی پی ایل اور بگ بیش جیسی لیگوں سے کرنے لگے جو میرے خیال میں سراسر ناانصافی ہے جن کے وجوہات کا ذکر آگے چل کر آئے گا لیکن اس سے پہلے اس لیگ میں کھلاڑیوں اور ٹیموں کی کارکردگی پر کچھ باتیں ضروری ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>بہترین ٹیم</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">میرے خیال میں سب سے بہترین کھلاڑی کہلانے کے حقدار کوئٹہ ٹیم کے محمد نواز ہیں جنہوں نے بلے بازی اور گیند بازی دونوں شعبوں میں متاثر کن کارکردگی دکھائی اور ہمیشہ اپنی ٹیم کو مشکل حالات سے نکلنے میں مدد دی۔</div>
<div class="urdutext">لیگ میں سب سے زیادہ فتوحات کوئٹہ کے نام رہیں لیکن بہترین ٹیم کی حقدار اسلام آباد یونائٹیڈ کی ٹیم ہے کیونکہ انہوں نے نہ صرف لیگ کو اپنے نام کیا بلکہ صحیح وقت پر صحیح کھیل کا مظاہرہ کیا۔ مصباح الحق کی قیادت میں اسلام آباد نے آخری پانچ میچوں میں ناقابلِ شکست کارکردگی دکھائی اور پشاور اور کوئٹہ جیسے بہترین ٹیموں کو آسانی سے زیر کر لیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>بہترین میچ</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">لیگ کا بہترین میچ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی کے درمیان کھیلا گیا جس میں کوئٹہ کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 133 رنز سکور کئے جو بظاہر بہت آسان ہدف تھا۔ وہاب ریاض نے بہترین باؤلنگ کرتے ہوئے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ جواب میں پشاور کی ٹیم محمد نواز، ایلیٹ اور اعزاز چیمہ کی تباہ کن باؤلنگ کی وجہ سے صرف 132 رنز بنا سکی اور اس طرح کوئٹہ کی ٹیم نے یہ میچ صرف 1 رن سے جیت کر فائنل میں جگہ بنالی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>بہترین لمحہ</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پی ایس ایل میں جتنا جوش و جذبہ باؤنڈری لائن کے اندر دیکھنے کو ملتا تھا اتنا ہی باؤنڈری لائن کے باہر بھی دیکھنے کو ملا۔ کوئٹہ ٹیم کی بہترین کارکردگی کا سہرا سر ویوین رچرڈز کے سر جاتا ہے جنہوں نے کوئٹہ ٹیم کے ہر کھلاڑی کی جی جان سے رہنمائی کی اور ہر میچ کے جیتنے پر سب سے زیادہ خوشی کا اظہار کیا۔ کون سوچ سکتا تھا کہ ویسٹ انڈیز کو دو ورلڈ کپ جتوانے والا شخص اس طرح سے جونیئر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ میرے خیال میں پی ایس ایل کا سب سے بہترین لمحہ باؤنڈری کے اندر نہیں بلکہ باؤنڈری کے باہر کھیلا گیا تھا۔ فائنل میں جب کوئٹہ کی ٹیم کے جیتنے کے تمام مواقع ختم ہو چکے تھے تو کیون پیٹرسن نے اردو میں ٹویٹ کرتے ہوئے کوئٹہ ٹیم کے مداحوں سے معذرت کرتے ہوئے اپنے احساسات کا اظہار کیا اور اگلے سال بہتر کھیل دکھانے کا وعدہ کیا۔ کرکٹ کے ایک مداح کے طور پر اس سے بہتر لمحات شاید ہی کبھی دیکھنے کو ملے ہوں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<blockquote class="twitter-tweet" data-lang="en">
<p dir="ltr" lang="hi">Buhat pareshan hun. Aur maafi chahta hun <a href="https://twitter.com/TeamQuetta">@TeamQuetta</a> fans. Aglay saal aur acha khelengey. <img src="https://s.w.org/images/core/emoji/17.0.2/72x72/2764.png" alt="❤" class="wp-smiley" style="height: 1em; max-height: 1em;" />? <a href="https://twitter.com/hashtag/PSLT20?src=hash">#PSLT20</a></p>
<p>— Kevin Pietersen (@KP24) <a href="https://twitter.com/KP24/status/702214620065488897">February 23, 2016</a></p></blockquote>
<p><script async src="//platform.twitter.com/widgets.js" charset="utf-8"></script></p>
<div class="urdutext"><strong>بہترین کھلاڑی</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس لیگ میں بہتر کارکردگی دکھانے والوں میں زیادہ تر تجربہ کار کھلاڑی شامل تھے جنہیں بین الاقوامی کرکٹ کا اچھا خاصہ تجربہ حاصل تھا لیکن میرے خیال میں سب سے بہترین کھلاڑی کہلانے کے حقدار کوئٹہ ٹیم کے محمد نواز ہیں جنہوں نے بلے بازی اور گیند بازی دونوں شعبوں میں متاثر کن کارکردگی دکھائی اور ہمیشہ اپنی ٹیم کو مشکل حالات سے نکلنے میں مدد دی۔ پشاور زلمی کے خلاف پہلے پلے آف میں جب انہوں نے دو مسلسل گیندوں پر محمد حفیظ اور بریڈ ہوج کو بولڈ کیا تو 1992 کے ورلڈ کپ فائنل کے وہ لمحات یاد آئے جب وسیم اکرم نے ایلن لیمب اور کرس لیوس کو مسلسل دوگیندوں پر آوٹ کیا تھا۔ اس کارکردگی کی بنا پر محمد نواز کو اب ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹونٹی کپ کے لئے ٹیم کا حصہ بنادیا گیا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>پی ایس ایل اور دیگر لیگز کا موازنہ</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">پہلے ہی سال میں اس لیگ کے مستقبل کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن یہ کہنا بجا ہوگا کہ اپنے آغاز کے پہلے ہی سال اسے وہ کامیابیاں ملی ہیں جس کی شاید لوگ توقع نہیں کر رہے تھے۔</div>
<div class="urdutext">پاکستان سوپر لیگ کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ کیا یہ دیگر کرکٹ لیگز جیسے انڈین پریمیئر لیگ، بگ بیش لیگ، کیریبئین پریمیئر لیگ حتیٰ کہ بنگلہ دیش پریمئر لیگ سے مقابلہ کر پائے گی۔ اس موازنے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ پاکستان سوپر لیگ کا پہلا سال تھا جبکہ باقی لیگز کو کافی عرصہ ہوچکا ہے جیسا کہ آئی پی ایل کے آغاز کو آٹھ سال ہو چکے ہیں۔ اور ایک بات اور جو قابلِ غور ہے وہ یہ ہے کہ باقی لیگز ان کے اپنے ممالک میں کھیلی جاتی ہیں جبکہ پی ایس ایل پاکستان میں نہیں بلکہ متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی لیکن پھر بھی میدان میں شائقین کی تعداد قابلِ قدر تھی اور فائنل میں تو تمام ٹکٹ فروخت ہوئے حالانکہ فائنل چھٹی کے دن نہیں بلکہ ایک کاروباری دن کو کھیلا گیا تھا، اس امر سے لوگوں کی اس لیگ میں دلچسپی کا پتہ چل جاتا ہے۔ جہاں دبئی میں کافی لوگ اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کو دیکھنے گئے وہیں پاکستان میں بھی سب لوگ ٹی وی پر یا انٹرنیٹ کے ذریعے کرکٹ سے محظوظ ہوتے رہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">جتنا پیسہ آئی پی ایل اور بگ بیش جیسی لیگز کے پاس ہے اتنا پیسہ پی ایس ایل والوں کے پاس نہیں جس کی وجہ سے کھلاڑیوں کو اتنی مراعات اور معاوضے نہیں ملے جتنے آئی پی ایل اور بگ بیش میں ملتے ہیں لیکن پھر بھی غیر ملکی کھلاڑیوں کی شمولیت اور ان کی دلچسپی ایک بہت بڑی بات تھی۔ اس لیگ کی سب سے بڑی خوبی (جس کا ذکر ایک <a href="https://laaltain.pk/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%B3%D9%88%D9%BE%D8%B1-%D9%84%DB%8C%DA%AF-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%DA%A9%D9%88%D8%A6%D9%B9%DB%81-%DA%AF%D9%84%DB%8C%DA%88%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%D9%B9%D8%B1%D8%B2/" target="_blank" rel="noopener">گزشتہ تحریر</a> میں بھی کیا گیا) یہ تھی کہ کھلاڑیوں کا انتخاب باقی لیگوں کی طرح نیلامی سے نہیں ہوا بلکہ ڈرافٹ سے ہوا جس کے باعث تقریباً تمام ٹیمیں متوازن تھیں اور ہر ٹیم کو دو ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کا بھی انتخاب کرنا تھا جس سے نئے ٹیلنٹ کو منظرِ عام پر آنے کا موقع ملا اور آئندہ بھی ملتا رہے گا جو نہایت خوش آئند ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پہلے ہی سال میں اس لیگ کے مستقبل کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن یہ کہنا بجا ہوگا کہ اپنے آغاز کے پہلے ہی سال اسے وہ کامیابیاں ملی ہیں جس کی شاید لوگ توقع نہیں کر رہے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلے سال لیگ کی کارکردگی کیسی ہوگی اور کس قدر جلد اس لیگ کو پاکستان لایا جائے گا۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%84%d8%9b-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9-%da%a9%d8%a7-%d8%b1%d9%88%d8%b4%d9%86-%d9%85%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8%d9%84/">پی ایس ایل؛ پاکستان کرکٹ کا روشن مستقبل</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%be%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%84%d8%9b-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9-%da%a9%d8%a7-%d8%b1%d9%88%d8%b4%d9%86-%d9%85%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نتیجہ کچھ بھی ہو، جیت پاکستان کی ہو گی</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%aa%db%8c%d8%ac%db%81-%da%a9%da%86%da%be-%d8%a8%da%be%db%8c-%db%81%d9%88%d8%8c-%d8%ac%db%8c%d8%aa-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%db%81%d9%88-%da%af%db%8c/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%aa%db%8c%d8%ac%db%81-%da%a9%da%86%da%be-%d8%a8%da%be%db%8c-%db%81%d9%88%d8%8c-%d8%ac%db%8c%d8%aa-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%db%81%d9%88-%da%af%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[امن و امان]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 23 Feb 2016 00:43:29 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan Cricket]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan Super League]]></category>
		<category><![CDATA[PSL]]></category>
		<category><![CDATA[PSL Final]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان سوپر لیگ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پی ایس ایل]]></category>
		<category><![CDATA[پی ایس ایل فائنل]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=15207</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">میرے نزدیک کوئٹہ کی ٹیم یہ فائنل جیتنے کے لیے زیادہ بہتر امیدوار ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ میچ کے نتیجے سے قطع نظر اس فائنل میں جیت صرف پاکستان اور پاکستان کرکٹ کی ہو گی۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%aa%db%8c%d8%ac%db%81-%da%a9%da%86%da%be-%d8%a8%da%be%db%8c-%db%81%d9%88%d8%8c-%d8%ac%db%8c%d8%aa-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%db%81%d9%88-%da%af%db%8c/">نتیجہ کچھ بھی ہو، جیت پاکستان کی ہو گی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">پہلی پاکستان سوپر لیگ نہایت کامیابی سے اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ آج کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور اسلام آباد یونائٹڈ کے درمیان لیگ کا فائنل مقابلہ کھیلا جانے والا ہے۔ پی ایس ایل کے انعقاد سے نہ صرف پاکستانی کرکٹ کے بہت سے مثبت پہلو سامنے آئے ہیں بلکہ شائقین کو بھی اچھی کرکٹ دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ کوئٹہ میں تو کافی عرصے بعد لوگ مسلک اور برادری سے بالاتر ہوکر کوئٹہ کی جیت کے لئے دعا گو ہیں اور سننے میں یہ آیا ہے کہ کوئٹہ کے بگٹی سٹیڈیم میں میچ کی سکریننگ کرنے کا انتظام بھی کیا گیا ہے جو کوئٹہ میں کرکٹ کے فروغ کے لئے سودمند ثابت ہو گا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">کوئٹہ میں تو کافی عرصے بعد لوگ مسلک اور برادری سے بالاتر ہوکر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جیت کے لئے دعا گو ہیں</div>
<div class="urdutext">لیگ کے شروع ہونے سے پہلے کوئٹہ کی ٹیم کو ایک کمزور ٹیم قرار دیا جا رہا تھا لیکن ان کی بہترین کارکردگی اور پشاور کی ٹیم کے لیگ سے باہر ہونے کی وجہ سے فائنل کے لئے کوئٹہ کو ہی فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے (پلے آفز تک گراؤنڈ میں سب سے زیادہ پشاور ٹیم کے مداح اور شائقین موجود ہوتے تھے)۔ لیکن اسلام آباد کی ٹیم بھی مسلسل چار میچ متاثرکن انداز میں جیت چکی ہے جس سے ان کے جیتنے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ ٹی ٹونٹی، محدود اوورز پر مشتمل فارمیٹ ہے اس لیے ایک روزہ مقابلوں اور ٹیسٹ میچز کی نسبت اس میں کھیل کا پانسہ چند گندوں میں بھی پلٹ سکتا ہے، ایک اچھا اوور لمحوں میں میچ کا رخ پلٹ سکتا ہے اسی لئے دونوں ٹیموں کو جیتنے کے لئے میچ کی دونوں اننگز کے پورے چالیس اوورز میں جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ میری تمام تر ہمدردیاں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم کے ساتھ ہیں لیکن مصباح الحق کا مداح ہوتے ہوئے میرے دل میں اسلام آباد یونائٹیڈ کے لئے بھی نیک خواہشات ہیں۔ دونوں ٹیموں کی کارکردگی اور کھلاڑیوں کو نظر میں رکھتے ہوئے یہاں دونوں ٹیموں کا موازنہ کیا جارہا ہے:</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>مصباح الحق بمقابلہ سرفراز</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ٹی ٹونٹی کی مقبولیت کی جب بھی بات آئے گی تو پہلے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے فائنل کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا اور مصباح کا نام بھی یاد رکھا جائے گا۔ ان کی آخری شاٹ دنیائے کرکٹ کے جدید دور کا سب سے معنی خیز لمحہ (مگر پاکسانیوں کے لئے ایک ڈراؤنے خواب کی طرح) ثابت ہوا اور آئی پی ایل کے آغاز کا سبب بنا۔ گو مصباح ایک بہترین کپتان ہوتے ہوئے بھی پاکستان کو ایک روزہ ورلڈ کپ نہیں دلا سکے ہیں لیکن انہوں نے پاکستان ٹیم کی قیادت اس وقت کی جب ٹیم چاروں طرف سے مشکلات کا شکار تھی اور انہوں نے یہ کام بخوبی انجام دیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ اپنی ٹیم کو ٹائٹل دلانے میں کامیاب ہو پاتے ہیں یا نہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پچھلے ایک روزہ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کے جن دو کھلاڑیوں کو سب سے زیادہ سراہا گیا ان میں ایک سرفراز احمد تھے (دوسرا کھلاڑی وہاب ریاض تھا)۔ آج کے دور میں سب سے خوبصورت سویپ شاٹ کھیلنا بھی سرفراز کے کھیل کا حصہ ہے۔ ان کی قیادت کے بارے میں کیون پیٹرسن کہتے ہیں کہ وہ بہت ہی اچھے کپتان ہیں جو دوسری ٹیم کے دیے گئے مواقع اور غلطیوں سے استفادہ کرنا جانتے ہیں اور پوری ٹیم کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ سرفراز اس وقت قومی ٹیم کے نائب کپتان ہیں اور مستقبل میں ایک اچھے کپتان ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ فائنل ایک سابق کپتان اور ایک مستقبل کے کپتان کا مقابلہ ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>وسیم اکرم اور ڈین جونز بمقابلہ ویوین رچرڈز اور معین خان</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">سرفراز اس وقت قومی ٹیم کے نائب کپتان ہیں اور مستقبل میں ایک اچھے کپتان ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ فائنل ایک سابق کپتان اور ایک مستقبل کے کپتان کا مقابلہ ہے۔</div>
<div class="urdutext">وسیم اکرم کو ان کی بہترین باؤلنگ کی وجہ سے سوئنگ کا سلطان بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے دور میں دوسرے گیند بازوں کی رہنمائی کی ہے بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پاکستانی اور غیر ملکی گیند بازوں کو گر سکھانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ محمد سمیع، محمد عرفان اور آندرے رسل جیسے باؤلر ان کی زیر نگرانی حریف بلے بازوں کو مشکلات سے دوچار کرسکتے ہیں۔ ڈین جونز نے ایک روزہ کرکٹ میں تیز رفتار بلے بازی اور تیزی سے رنز کرنے کی روایت ڈالی۔ بطورِ بلے باز انہوں نے ہمیشہ دباو میں ٹیم کے لئے کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کی مثال مدراس(موجودہ چِنائی) میں بھارت کے خلاف ان کی ڈبل سینچری ہے جس میں وہ ڈی ہائڈریشن کا شکار ہوتے ہوئے بھی اعلٰی کارکردگی دکھانے میں کامیاب ہوئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اسلام آباد کے بلے بازوں کی بیٹنگ پر کتنے اثرانداز ہوتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سر ویوین رچرڈز کی تعریف کے لئے اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ وِزڈن (کرکٹ کی بائبل) نے انہیں گزشتہ صدی کے پانچ عظیم ترین کرکٹرز میں شامل کیا تھا۔ ویوین نے پہلے کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل میں تین کھلاڑیوں کو رن آؤٹ کرکے ورلڈ کپ ویسٹ انڈیز کے نام کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور دوسرے ورلڈ کپ کے فائنل میں سینچری سکور کرکے ویسٹ انڈیز کی جیت کو یقینی بنایا۔ سر ویوین رچرڈز کی موجودگی نے کوئٹہ کے کھلاڑیوں کے حوصلے بلند کئے ہیں اور جس طرح ہر جیت کے بعد وہ خوشی مناتے ہیں ایسا لگتا ہے وہ کوئٹہ کی ٹیم کو جتا کر ہی رہیں گے۔ دوسری جانب معین خان بھی ایک اچھے کوچ کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں۔ دنیا میں اگر سرفراز سے بہتر کوئی سویپ شاٹ کھیل سکتا تھا تو وہ معین خان تھے اور اس لحاظ سے انہوں نے نئے بلے بازوں کی کافی مدد کی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>شرجیل خان بمقابلہ احمد شہزاد</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">شرجیل تادم تحریر پی ایس ایل میں سینچری بنانے والے واحد بلے باز ہیں جنہوں نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے پشاور کی ٹیم کو اکیلے ہی لیگ سے باہر کر دیا۔ انہوں نے پچھلے میچ میں ٹیم کے مجموعی سکور کا تقریباً 70 فیصد اکیلے ہی سکور کیا۔ اب تک لیگ میں سب سے زیادہ چھکے بھی انہوں نے ہی لگائے ہیں۔ اگر وہ فائنل میں پچاس تک سکور بنا لیتے ہیں تو وہ لیگ میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ سکور کرنے والے کھلاڑی بن جائیں گے۔ دوسری جانب احمد شہزاد پچھلے کچھ عرصے سے فارم میں نظر نہیں آرہے ہیں لیکن سر ویوین رچرڈز کے باعث اس کا اعتماد دوبارہ بحال ہوا ہے۔ جس رفتار سے وہ بیٹنگ کرتے ہیں اگر وہ پانچ، چھ اوورز تک کریز پر موجود رہے تو کوئٹہ کی ٹیم ایک بڑا سکور کرنے یا ایک بڑے ہدف کے تعاقب میں کامیاب ہو سکتی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>سنگاکارا اور پیٹرسن بمقابلہ ہیڈن اور سمتھ</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">شرجیل تادم تحریر پی ایس ایل میں سینچری بنانے والے واحد بلے باز ہیں جنہوں نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے پشاور کی ٹیم کو اکیلے ہی لیگ سے باہر کر دیا۔</div>
<div class="urdutext">سنگاکارا اور پیٹرسن کی موجودگی سے کوئٹہ کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے لیکن ہیڈین اور سمتھ کی بلے بازی کے اندازِ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ مجھے لگتا ہے کہ فائنل میں کوئٹہ ٹیم کے جیتنے کا دارومدار سنگاکارا اور پیٹرسن کی بیٹنگ پر ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>آندرے رسل اور عمران خالد بمقابلہ گرنٹ ایلیٹ اور محمد نواز</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">محمد نواز نے پی ایس ایل کے پہلے ہی میچ میں مین آف دی میچ جیت کر اپنے موجودگی کا احساس دلا دیا تھا۔ ایلیٹ نے ذوالفقار بابر کی مدد سے ٹی ٹونٹی کی تاریخ میں دسویں وکٹ کی شراکت میں سب سے زیادہ سکور بنائے ہیں۔ سرفراز نے ان دونوں کا بطورِ باؤلر اچھا استعمال کیا ہے اور بیٹنگ میں بھی دونوں فائدہ مند ثابت ہوئے ہیں۔ دوسری جانب عمران خالد اور آندرے رسل بھی جمے ہوئے بلے بازوں کی شراکت توڑنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر آندرے رسل ایک اچھے بلے باز بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>ذوالفقار بابر بمقابلہ سعید اجمل</strong><br>
سعید اجمل اور ذوالفقار بابر دونوں ہی نہایت تجربہ کار کرکٹرز ہیں اور دونوں نے ہمیشہ مل کر پاکستان کو ٹیسٹ میچز جتائے ہیں لیکن آج وہ ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گے۔ باولنگ ایکشن رپورٹ ہونے اور فارم میں نہ ہونے کی وجہ سے سعید اجمل کو پچھلے چند ماہ کرکٹ سے دور رہنا پڑا، پی ایس ایل کے بھی گزشتہ چند میچوں میں نہیں کھلایا گیا ہے لیکن عین ممکن ہے کہ انہیں فائنل میں جگہ مل جائے اور وہ اپنی ٹیم کو جتانے میں کامیاب ہوجائیں لیکن ذوالفقار بابر کی موجودگی بھی اسلام آباد کی ٹیم کے لئے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>محمد سمیع اور محمد عرفان بماابلہ انور علی اور عمر گل</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">میرے نزدیک کوئٹہ کی ٹیم یہ فائنل جیتنے کے لیے زیادہ بہتر امیدوار ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ میچ کے نتیجے سے قطع نظر اس فائنل میں جیت صرف پاکستان اور پاکستان کرکٹ کی ہو گی۔</div>
<div class="urdutext">جن لوگوں نے پاکستان کو ٹی ٹونٹٰی ورلڈ کپ جیتتے ہوئے دیکھا ہے انہیں عمر گل کی شاندار باؤلنگ کا پتہ ہوگا۔ عمر گل ایک اوور میں چھ یارکر کرنے والا شاید دنیا کا واحد باؤلر ہو۔ عمر گل کو پچھلے کچھ میچوں میں نہیں کھلایا گیا ہے مگر میری خواہش ہے کہ اسے فائنل میں موقع دیا جائے تاکہ وہ کوئٹہ کو ٹائٹل جتوانے میں کامیاب ہوجائے۔ انور علی نے بھی شاندار باؤلنگ کی ہے اور حریف ٹیموں کے افتتاحی بلے بازوں کو پریشان کئے رکھاہے۔ دوسری جانب محمد عرفان نے اپنے لمبے قد اور پچ کے باؤنس کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسری ٹیموں کے بلے بازوں کو پریشان کیا ہے۔ اور ساتھ ہی محمد سمیع نے جوکہ کافی عرصے بعد منظرِ عام پرآئے ہیں، اچھی باؤلنگ کی ہے اور کراچی کے خلاف پانچ کھلاڑی پویلین بھیج کر اپنے انتخاب کا حق ادا کیا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>ٹیم بمقابلہ افراد</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پشاور اور اسلام آباد کے میچ کے دوران ٹینس کے مشہور پاکستانی کھلاڑی اعصام الحق نے ٹینس اور کرکٹ کے فرق کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ٹینس میں صرف ایک فرد کی کامیابی ہی لازمی ہوتی ہے جبکہ کرکٹ میں فتح کے لئے پوری ٹیم کو متحد ہوکر کارکردگی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ پی ایس ایل کے فائنل کا فیصلہ بھی اسی بنیاد پر ہوگا۔ انفرادی طور پر اسلام آباد کے کھلاڑی کوئٹہ کے کھلاڑیوں سے بہتر ہے لیکن کوئٹہ کی ٹیم نے بطورِ ٹیم کھیلنے کی کوشش کی ہے اور اسی وجہ سے کامیاب ہوئے ہیں۔ اسلام آباد کے کھلاڑی زیادہ چھکے مارنے، زیادہ سکور کرنے، بہترین باؤلنگ فیگرز میں پیش پیش ہیں لیکن سب سے کم مارجن سے جیتنے اور مجموعی طور پر سب سے زیادہ سکور کرنے والی ٹیم کوئٹہ کی ہے۔ آج کے فائنل میں پتہ چل جائے گا کہ ٹیم جیتے گی یا انفرادی کارکردگی۔ دونوں صورتوں میں ایک دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔ میرے نزدیک کوئٹہ کی ٹیم یہ فائنل جیتنے کے لیے زیادہ بہتر امیدوار ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ میچ کے نتیجے سے قطع نظر اس فائنل میں جیت صرف پاکستان اور پاکستان کرکٹ کی ہو گی۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%aa%db%8c%d8%ac%db%81-%da%a9%da%86%da%be-%d8%a8%da%be%db%8c-%db%81%d9%88%d8%8c-%d8%ac%db%8c%d8%aa-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%db%81%d9%88-%da%af%db%8c/">نتیجہ کچھ بھی ہو، جیت پاکستان کی ہو گی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%aa%db%8c%d8%ac%db%81-%da%a9%da%86%da%be-%d8%a8%da%be%db%8c-%db%81%d9%88%d8%8c-%d8%ac%db%8c%d8%aa-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%db%81%d9%88-%da%af%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان سوپر لیگ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d9%88%d9%be%d8%b1-%d9%84%db%8c%da%af-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%da%af%d9%84%db%8c%da%88%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%b9%d8%b1%d8%b2/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d9%88%d9%be%d8%b1-%d9%84%db%8c%da%af-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%da%af%d9%84%db%8c%da%88%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%b9%d8%b1%d8%b2/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[امن و امان]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 19 Feb 2016 14:08:21 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Cricket in Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistan Super League]]></category>
		<category><![CDATA[PSL]]></category>
		<category><![CDATA[Quetta Gladiators]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان سوپر لیگ]]></category>
		<category><![CDATA[پی ایس ایل]]></category>
		<category><![CDATA[کوئٹہ اور کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[کوئٹہ گلیڈی ایٹرز]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=15120</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">پاکستان سوپر لیگ، انڈین پریمیئر لیگ کی طرح بارونق اور بیگ بیش لیگ کی طرح تماشائیوں سے چکا چک بھری ہوئی نہیں ہے لیکن پھر بھی پاکستان اور پاکستان سے باہر موجود کرکٹ کے شائقین بڑی تعداد میں ان میچوں کو دیکھ رہے ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d9%88%d9%be%d8%b1-%d9%84%db%8c%da%af-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%da%af%d9%84%db%8c%da%88%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%b9%d8%b1%d8%b2/">پاکستان سوپر لیگ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="leftpullquote">آخری بار کوئٹہ شہر میں بین الاقوامی کرکٹ میچ پاکستان اور زمبابوے کے مابین 29 اکتوبر 1996 کو بگٹی سٹیڈیم میں کھیلا گیا تھا جس میں وسیم اکرم ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 300 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے والے پہلے باؤلر بنےتھے۔</div>
<div class="urdutext">پچھلے کئی دنوں سے دبئی اور شارجہ میں جاری پاکستان سوپر لیگ اپنے اختتامی مراحل میں پہنچ چکی ہے۔ اس لیگ کا انعقاد پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے کیا گیا ہے جس میں ملکی اور غیر ملکی کرکٹرز شاندار کھیل کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ اس لیگ میں کل پانچ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ لیگ میچز کے اختتام تک سب سے بہتر اور مستقل کارکردگی کا مظاہرہ جس ٹیم نے کیا ہے وہ ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ہے۔ ٹیم کی حیران کن کارکردگی سے نہ صرف لیگ کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ اس سے کوئٹہ شہر کو بھی پہلی بار اس بڑے پیمانے پر خصوصی توجہ حاصل ہو رہی ہے۔ لیکن کوئٹہ کی ٹیم اور لیگ کو سراہنے والوں کے ساتھ ساتھ ٹیم اور لیگ کو تنقید کا نشانہ بنانے اور اعتراض کرنے والوں کی تعداد بھی کافی زیادہ ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کوئٹہ شہر، پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کا صوبائی دارالحکومت ہے۔ کوئٹہ میں رہنے والوں کا تعلق زیادہ تر پشتون، بلوچ اور ہزارہ برادری سے ہے۔ کوئٹہ بہترین پھلوں کی پیداوار کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے لیکن پچھلی دو دہائیوں سے کوئٹہ صرف اور صرف دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے خبروں کی زینت بن رہا ہے۔ یوں تو کوئٹہ نے کئی مایہ ناز سپوت پیدا کیے ہیں جن میں ابرار حسین باکسر (ایشین گولڈ میڈلسٹ)، کوہ پیما ہدایت اللہ خان درانی، سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل محمد موسیٰ، چیف جسٹس افتخار چوہدری، فلائٹ لیفٹنٹ صمد علی چنگیزی (ستارہ جرات) ناول نگار اور ہدایتکار ہاشم ندیم، شاعر محسن چنگیزی (تمغہِ امتیاز) اور فنکاروں میں جمال شاہ، ایوب کھوسہ، عذرا آفتاب اور حمید شیخ جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ مگر کرکٹ کے کھیل سے اس شہر کا تعلق اتنا گہرا نہیں ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر اب تک کوئی کرکٹر اس شہر سے منظرِ عام پر نہیں آیا ہے۔ آخری بار کوئٹہ شہر میں بین الاقوامی کرکٹ میچ پاکستان اور زمبابوے کے مابین 29 اکتوبر 1996 کو بگٹی سٹیڈیم میں کھیلا گیا تھا جس میں وسیم اکرم ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 300 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے والے پہلے باؤلر بنے تھے۔ اس میچ کو اس لئے بھی یاد رکھا جاتا ہے کہ اس میچ میں دنیا کے سب سے کم عمر (متنازعہ طور پر) کرکٹر حسن رضا نے اپنا پہلا بین الاقوامی میچ کھیلا تھا۔ پاکستان سوپر لیگ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی مسلسل کامیابی کی وجہ سے پچھلے کئی دنوں سے غیر متوقع طور پر کوئٹہ کا نام اچھی اور خوش کن خبروں کے ساتھ ذرائع ابلاغ میں آ رہا ہے۔ پچھلے میچ میں بسم اللہ خان (جن کا تعلق کوئٹہ شہر سے ہے) کی شاندار بلے بازی سے ایسا لگ رہا ہے کہ کوئٹہ میں کرکٹ کی جانب رحجان میں مزید اضافہ ہونے والا ہے جو ایک خوش آئند بات ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">دنیا بھر میں جتنی بھی لیگز موجود ہیں ان میں یہ امر مشترک ہے کہ کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے متعلقہ شہر سے کھلاڑیوں کے انتخاب جیسی جغرافیائی قیود متعین نہیں کی جاتیں۔</div>
<div class="urdutext">پاکستان سوپر لیگ، انڈین پریمیئر لیگ کی طرح بارونق اور بیگ بیش لیگ کی طرح تماشائیوں سے چکا چک بھری ہوئی نہیں ہے لیکن پھر بھی پاکستان اور پاکستان سے باہر موجود کرکٹ کے شائقین بڑی تعداد میں ان میچوں کو دیکھ رہے ہیں۔ لیگ پر سب سے پہلا اعتراض (جس کا نشانہ زیادہ تر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم کو بنایا گیا ہے) یہ ہے کہ ٹیم حقیقی معنوں میں اپنے شہروں کی نمائندگی نہیں کر رہی۔ اس اعتراض کی ایک وجہ میچوں کا اپنے متعلقہ پاکستانی شہروں میں نہ کھیلا جانا ہے جس کی ذمہ داری ملک میں امن وامان کی تشویشناک صورتحال پر عائد ہوتی ہے۔ شائقین کے ساتھ ساتھ کھلاڑی اور منتظمین بھی یہ چاہتے ہیں کہ میچز پاکستان کے شہروں میں ہوں لیکن فی الحال ایسا ہوتاممکن دکھائی نہیں دیتا۔ تاہم چئیرمین پی سی بی اور چیئرمین پی ایس ایل اگلے برس کم از کم ایک سے دو میچ پاکستان میں کرانے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں اور اس سے اگلے برس پی ایس ایل کے تمام میچ پاکستان میں کرانے کی امید بھی ظاہر رک چکے ہیں، ہم دعاگو ہیں کہ ایسا ہی ہو اور پاکستان میں کرکٹ کی رونقیں بحال ہوں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_15123" aria-describedby="caption-attachment-15123" style="width: 890px" class="wp-caption aligncenter"><img fetchpriority="high" decoding="async" class="size-full wp-image-15123" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/02/Ayub-Stadium-Laaltain.jpg" alt="بگٹی سٹیڈیم-کوئٹہ (تصویر: سعادت صبوری)" width="890" height="395" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/02/Ayub-Stadium-Laaltain.jpg 890w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/02/Ayub-Stadium-Laaltain-300x133.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/02/Ayub-Stadium-Laaltain-768x341.jpg 768w" sizes="(max-width: 890px) 100vw, 890px"><figcaption id="caption-attachment-15123" class="wp-caption-text">بگٹی سٹیڈیم-کوئٹہ تصویر: سعادت صبوری</figcaption></figure>
<div class="urdutext">بہت سے معترضین یہ کہہ رہے ہیں کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں کوئٹہ کا صرف ایک ہی کھلاڑی (بسم اللہ خان) ٹیم کا حصہ ہے جس سے لوگ کافی ناخوش ہیں۔ ان لوگوں کی خدمت میں عرض ہے کہ دنیا بھر میں جتنی بھی لیگز موجود ہیں ان میں یہ امر مشترک ہے کہ کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے متعلقہ شہر سے کھلاڑیوں کے انتخاب جیسی جغرافیائی قیود متعین نہیں کی جاتیں۔ اگر دیکھا جائے تو دنیائے فٹبال کے بے تاج بادشاہ لیونل میسی کا تعلق ارجنٹائن سے ہے لیکن ان کی مقبولیت میں ارجنٹائن کی قومی ٹیم سے زیادہ بارسلونا فٹبال کلب نے اہم کردار ادا کیا ہے جو سپین کا ایک کلب ہے۔ اسی طرح رونالڈو کا تعلق بھی پرتگال سے ہیں لیکن ان کی وجہِ شہرت انگلش کلب مانچسٹر یونائٹڈ اور ہسپانوی کلب ریال میڈریڈ ہیں۔ مہیندر سنگھ دھونی بھی آئی پی ایل میں چینائی کی قیادت کرتے رہے ہیں جبکہ ان کا تعلق رانچی، بہار (موجودہ جھاڑکھنڈ) سے ہے۔ لہٰذا یہ اعتراض سراسر غلط ہے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والا ایک اور کھلاڑی محمد اصغر بھی اس لیگ میں شامل ہے اور وہ پشاور زلمی کی طرف سے بہترین گیند بازی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ محمد اصغر نے بلوچستان کے شہر حب سے کرکٹ کھیلنے کا آغاز کیا اور پچھلے کچھ عرصے سے کراچی میں قیام پذیر ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">پاکستان سوپر لیگ کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ دوسری لیگز کے برخلاف کھلاڑیوں کا انتخاب (فروخت) نیلامی یا بولی کے ذریعے نہیں بلکہ ڈرافٹ کے ذریعے ہوا</div>
<div class="urdutext">پاکستان سوپر لیگ کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ دوسری لیگز کے برخلاف کھلاڑیوں کا انتخاب (فروخت) نیلامی یا بولی کے ذریعے نہیں بلکہ ڈرافٹ کے ذریعے ہوا جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ تمام ٹیمیں متوازن طور پر منتخب ہوئی ہیں۔ تمام کھلاڑیوں کو چھ درجوں میں تقسیم کیا گیا تھا جس میں ایک درجہ ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لئے مختص تھا اور ہر ٹیم کے لئے لازم تھا کہ وہ کم از کم دو ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کا انتخاب کرے (میری محدود معلومات کے تحت یہ دنیا کی پہلا لیگ ہے جس میں ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کا انتخاب لازمی قرار دیا گیا ہے)۔ اس سے نہ صرف نئے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوگی بلکہ ڈریسنگ روم میں سر ویوین رچرڈز، کیون پیٹرسن، کماراسنگاکارا، وسیم اکرم، ڈین جونز جیسے کھلاڑیوں سے مل کر ان کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا جو اس سے پہلے پاکستان میں ممکن نہیں تھا جس کا اثر محمد اصغر، محمد نواز، بسم اللہ خان، رومان رئیس اور اسامہ میر جیسے نوجوان کھلاڑی نہایت عمدگی سے دکھا رہے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس بات میں کوئی شک نہیں کہ لیگ میں بہت سی خامیاں ہیں جنہیں دور کرنے کے لئے منتظمین کو بہتر لائحہ عمل بنا کر مزید محنت کرنی ہوگی لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کی موجودہ انتظامیہ مکمل داد کی مستحق ہے جو کئی سالوں سے مشکلات سے دوچارہونے کے باوجود ایک بہتر معیار کی کرکٹ لیگ کے انعقاد میں کامیاب ہوئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کس قدر جلد کرکٹ بورڈ اس لیگ کو پاکستان میں منعقد کرانے میں کامیاب ہو پاتا ہے۔ کرکٹ کے ایک مداح کے طور پر نہ صرف میری بلکہ تمام پاکستانیوں کی یہی خواہش ہے کہ جلد از جلد پاکستان میں کرکٹ کی بحالی ممکن ہوسکے۔ میری تمام تر ہمدردیاں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ساتھ ہیں کیوں کہ وہ اس لیگ کی بہترین ٹیم ہیں۔ میری خواہش یہی ہے کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم اس لیگ کو جیت کر کوئٹہ کے رہنے والوں کو خوش ہونے کا ایک نادرموقع فراہم کرے۔</div>
<p>Image Credit: Saa’dat Sabori</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d9%88%d9%be%d8%b1-%d9%84%db%8c%da%af-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%da%af%d9%84%db%8c%da%88%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%b9%d8%b1%d8%b2/">پاکستان سوپر لیگ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d9%88%d9%be%d8%b1-%d9%84%db%8c%da%af-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%da%af%d9%84%db%8c%da%88%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%b9%d8%b1%d8%b2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستانی فوج اور بوم بوم</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%81%d9%88%d8%ac-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d9%88%d9%85-%d8%a8%d9%88%d9%85/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%81%d9%88%d8%ac-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d9%88%d9%85-%d8%a8%d9%88%d9%85/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[امن و امان]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 29 Dec 2015 14:29:31 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Pak Army]]></category>
		<category><![CDATA[Shahid Afridi]]></category>
		<category><![CDATA[پاک فوج]]></category>
		<category><![CDATA[شاہد آفریدی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=14275</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">سیاسی مسائل کا حل سیاسی اور آئینی اداروں کو ہی نکالنا ہو گا جس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی اور گفت و شنید کے بعد کام کرنے کی ضرورت ہے نا کہ ایک کوتاہ بین کی طرح کسی شاہد آفریدی یا کسی جرنیل سے امیدیں وابستہ کر لینے کی۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%81%d9%88%d8%ac-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d9%88%d9%85-%d8%a8%d9%88%d9%85/">پاکستانی فوج اور بوم بوم</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext"><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/07/youth-yell-featured1.png"><img decoding="async" class="alignleft size-full wp-image-1786" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/07/youth-yell-featured1.png" alt="youth-yell-featured" width="250" height="150"></a>یہ 1953 کی بات ہے۔ کچھ مذہبی تنظیموں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ احمدیوں کو غیر مسلم (اقلیت) قرار دیا جائے۔ جب حکومت نے ان کے مطالبات ماننے سے انکار کردیا تو پنجاب میں فسادات شروع ہوگئے۔ پاکستان کی حکومت ان فسادات کو قابو کرنے میں ناکام رہی۔ حکومت نے حالات کو قابو کرنے ک یلئے فوج کو طلب کیا اور پنجاب میں مارشل لاء کا نفاذ ہوا۔ پھر فوج حالات کو قابو کرنے میں کامیاب ہوئی اوریہ پہلا موقع تھا جب پاکستانی فوج نے پاکستان کی سیاست میں ‘باضابطہ’ طور پر اپنا کردار ادا کیا اور شاید یہی وجہ تھی کہ فوج نے عوام (خاص کر پنجاب کے عوام) میں کافی مقبولیت حاصل کی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">جن لوگوں کو کرکٹ اور سیاست میں دلچسپی ہے انہیں پتہ ہوگا کہ فوج کا کام دفاعی امور کو سنبھالنا اور ایک باؤلر کا کام رنز روک کر دوسرے ٹیم کے بلے بازوں کو آؤٹ کرنا ہوتا ہے۔ ہاں کبھی کبھی ضرورت کے وقت ٹیم کا کپتان کسی بلے باز کو حالات کی نزاکت کی وجہ سے بیٹنگ کرنے بھیج سکتا ہے</div>
<div class="urdutext">1996 میں پاکستان کرکٹ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ہوا یوں کہ جب پاکستانی کرکٹ ٹیم چار ملکی ایک روزہ (ون ڈے انٹرنیشنل) ٹورنامنٹ کھیلنے کے لیے کینیا گئی تو اس وقت پاکستان ٹیم کے کپتان وسیم اکرم تھے جبکہ نائب کپتان سعید انور تھے۔ پاکستان جب اپنا دوسرا میچ کھیل رہا تھا تو وسیم اکرم ٹیم کا حصہ نہیں تھے (شاید وہ زخمی ہوگئے تھے) اور ٹیم کی قیادت سعید انور کر رہے تھے۔ وسیم اکرم کے نہ کھیلنے کی وجہ سے پاکستان کو ایک باؤلر کی ضرورت تھی جس کے لیے ٹیم نے ایک نوجوان باؤلر شاہد آفریدی کو ٹیم کا حصہ بنایا، جنہوں نے کافی اچھی باؤلنگ کی (پہلے میچ میں آفریدی کو بیٹنگ کرنے کا موقع نہیں ملا)۔ اگلے میچ میں جب پاکستان پہلے بیٹنگ کررہا تھا تو 60 کے مجموعی اسکور پر پاکستان کو پہلی وکٹ کا نقصان اٹھانا پڑا۔ پھر وہ ریکارڈ بنا جو ٹوٹ جانے کے باوجود بھی شاید ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ شاہد آفریدی نے جو بطور باؤلر پاکستانی ٹیم میں منتخب ہوئے تھے، میدان میں اترتے ہی چھکوں کی بارش کردی۔ انہوں نے 37 گیندوں پر اس وقت کی تیز ترین سینچری اسکور کی اور اسی میچ کے بعد آفریدی نے پاکستانی عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ دونوں واقعات بہت ہی ملتے جلتے اور اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ ان واقعات سے نہ صرف بحیثیت قوم ہماری پسند، ناپسند کا پتہ چلتا ہے بلکہ یہ بات بھی پتہ چل جاتی ہے کہ ہماری یادداشت کتنی کمزور ہے۔ جن لوگوں کو کرکٹ اور سیاست میں دلچسپی ہے انہیں پتہ ہوگا کہ فوج کا کام دفاعی امور کو سنبھالنا اور ایک باؤلر کا کام رنز روک کر دوسرے ٹیم کے بلے بازوں کو آؤٹ کرنا ہوتا ہے۔ ہاں کبھی کبھی ضرورت کے وقت ٹیم کا کپتان کسی بلے باز کو حالات کی نزاکت کی وجہ سے بیٹنگ کرنے بھیج سکتا ہے (جیسا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں دن کے آخر میں ایک باؤلر کو بطورِ نائٹ واچ مین بھیجا جاتا ہے)۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اسی طرح فوج کو جو ریاست کا بہت ہی اہم ادارہ ہے ضرورت پڑنے پر ملک کا کپتان (سربراہ) ‘نازک حالات’ میں اسے مدد کے لیے طلب کرسکتا ہے۔ لیکن اس بات کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایک باؤلر باؤلنگ پر توجہ ہی نہ دے اور بیٹنگ کی خواہش دل میں لیے میدان میں اترے اور اسی طرح فوج دفاعی امور کو چھوڑ کر دوسرے اداروں میں مداخلت کرنا شروع کردے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">جس طرح شاہد آفریدی ہمیں میچ جیتنے کی امید دلا کر فوراً آوٹ ہو جاتے ہیں اسی طرح پاکستانی جرنیل بھی آتے ہی سارے مسائل کو حل کرنے کی خوش خبری دیتے ہیں لیکن مسائل کو حل کرنے کی بجائے مزید مسائل پیدا کر دیتے ہیں</div>
<div class="urdutext">کرکٹ اور سیاست میں اہلیت کے کچھ معیارات طے کیے گئے ہیں اور ہر کھلاڑی اور ریاستی ستون کا کردار طے کر دیا گیا ہے۔ کرکٹ میں بہترین بلے باز کا اعزاز حاصل کرنے کے لیے کچھ معیارات رکھے گئے ہیں۔ اگر دنیا کے بلے بازوں کی فہرستیں بنائی جائیں تو شاہد آفریدی کا نام صرف دو فہرستوں میں آتا ہے۔ وہ ہے سب سے زیادہ چھکے مارنے والوں کی فہرست اور سب سے تیز رفتاری سے اسکور کرنے والوں کی فہرست۔ لیکن بہترین بلے باز ہونے کے لیے نہ صرف ایک اچھی اوسط کا ہونا لازمی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ایک کھلاڑی کتنے تسلسل سے اپنی کارکردگی دکھاتا ہے بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ بوقتِ ضرورت (خاص کر ورلڈ کپ میں) وہ ٹیم کو کتنا فائدہ پہنچاتا ہے۔ آفریدی کی ایک روزہ بیٹنگ اوسط 23 ہے جو ایک بلے باز کے لیے نہایت ہی بُری ہے اور اس سے بھی بدتر ورلڈ کپ میں ہے۔ ورلڈ کپ کے 27 میچوں میں ان کی اوسط صرف 14 ہے اور ایک بھی سینچری شامل نہیں ہے۔ آفریدی کا شمار دنیا کے ‘خطرناک ترین’ بلے بازوں میں ہوتا ہے جو میچ کی کایہ کبھی بھی پلٹ سکتا ہے لیکن ایسی کارکردگی دکھانے کے لیے وہ برسوں لگا دیتے ہیں۔ اکثر مواقع پر جب وہ میچ جتا سکتے تھے وہ میچ وننگ کارکردگی نہیں دکھا سکے جو کرکٹ شائقین اور ان کے مداحین کے لیے نہایت ہی تکلیف دہ بات ہے۔ مگر ہماری یادداشت اتنی کمزور ہے کہ پچھلے بیسیوں میچوں کی بری کارکردگی کو بُھلا کر ہر بار انہی سے امید لگا بیٹھتے ہیں اور وہ ہر بار ہماری امیدوں پر پانی پھیر دیتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پاکستانی فوج کا شمار بھی دنیا کی ‘بہترین’ افواج میں ہوتا ہے (یہ جملہ میں اس لیے لکھ رہا ہوں تا کہ مجھ پر غدار ہونے کا الزام نہ لگے)۔ پاکستانی فوج نے ہمیشہ ہنگامی حالات میں پاکستانی شہریوں کی دل کھول کر مدد کی ہے۔ چاہے زلزلہ ہو، سیلاب یا دیگر قدرتی آفات، پاکستانی فوج نے ہر اس علاقہ میں امداد پہنچائی ہے جہاں دوسرے ادارے نہیں پہنچ پاتے۔ امن و امان کی بحالی کے لیے بھی پاک فوج ہمیشہ تیار رہی ہے جس کا منہ بولتا ثبوت 2004 میں عاشور کے جلوس پر حملہ ہونے کے بعد کوئٹہ میں لگایا گیا کرفیو ہے۔ اس وقت کے حالات کو صرف پاکستانی فوج ہی قابو کرسکتی تھی جو انہوں نے بخوبی انجام دیا اور یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام فوج کی اتنی دلدادہ ہوگئی ہے کہ ہر مسئلے کے حل کے لیے فوج کو آواز دے دیتی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">سیاسی مسائل کا حل سیاسی اور آئینی اداروں کو ہی نکالنا ہو گا جس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی اور گفت و شنید کے بعد کام کرنے کی ضرورت ہے نا کہ ایک کوتاہ بین کی طرح کسی شاہد آفریدی یا کسی جرنیل سے امیدیں وابستہ کر لینے کی۔</div>
<div class="urdutext">ہماری پیاری فوج کبھی کبھی دعوت پر تو کبھی بن بھلائے مہمان کی طرح نازل ہوجاتی ہے۔ جس طرح شاہد آفریدی ہمیں میچ جیتنے کی امید دلا کر فوراً آوٹ ہو جاتے ہیں اسی طرح پاکستانی جرنیل بھی آتے ہی سارے مسائل کو حل کرنے کی خوش خبری دیتے ہیں لیکن مسائل کو حل کرنے کی بجائے مزید مسائل پیدا کر دیتے ہیں جس کی مثال ایوب خان، ضیاء الحق اور مشرف کے آمرانہ ادوار میں دکھائی دیتی ہے۔ ہندوستان سے پنگا لینے کے لیے آپریشن جبرالٹر کرنا، سیاست کے لیے مذہب کا بے جا استعمال (اسلامائزیشن) کرنا، افغانستان میں دخل اندازی کرنا، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مزید دہشت پھیلانا، امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانا اور بلوچستان کے حالات کو مزید خراب کرنا۔ یہ ایسے ان گنت مسائل ہیں جو پاکستانی آمروں کی دین ہیں لیکن ہم بھی اپنی عادت سے مجبور ہیں اور یہ سب باتیں بھول کر جمہوریت کو گالی گلوچ دیتے رہتے ہیں اور سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کے حل کے لیے ایک ایسے ادارے سے آس لگائے بیٹھے ہیں جس کا کام سیاست کرنا ہے ہی نہیں۔ سیاسی مسائل کا حل سیاسی اور آئینی اداروں کو ہی نکالنا ہو گا جس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی اور گفت و شنید کے بعد کام کرنے کی ضرورت ہے نا کہ ایک کوتاہ بین کی طرح کسی شاہد آفریدی یا کسی جرنیل سے امیدیں وابستہ کر لینے کی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی سیاست دان اچھی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں لیکن کیا یہ سچ نہیں ہے کہ پاکستانی سیاستدانوں کو اپنی کارکردگی دکھانے کا موقع ہی نہیں دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر جتنا بھی برا ہو آپ اپنے مرض کے علاج کے لیے کبھی کسی اینجینئر یا پلمبر کے پاس نہیں جائیں گے، بلکہ کسی بہتر ڈاکٹر کی تلاش کریں گے کیونکہ جس کا کام اسی کو ساجھے۔ اگر ہم نے مختلف آئینی اداروں اور مختلف کھلاڑیوں کے آئینی کردار اور کھیلنے کی صلاحیت کے برعکس ذمہ داریاں دینا جاری رکھا تو ہماری فوج اور کرکٹ کا وہی حال رہے گا جو اس وقت ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%81%d9%88%d8%ac-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d9%88%d9%85-%d8%a8%d9%88%d9%85/">پاکستانی فوج اور بوم بوم</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%81%d9%88%d8%ac-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d9%88%d9%85-%d8%a8%d9%88%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
