<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>farwa shafqat Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/farwa-shafqat/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/farwa-shafqat/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Sun, 04 Aug 2024 04:29:18 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>farwa shafqat Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/farwa-shafqat/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>شانتا راما — باب 24: پڑوسی (ترجمہ: فروا شفقت)</title>
		<link>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-24/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-24/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فروا شفقت]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Apr 2021 16:51:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[aaj]]></category>
		<category><![CDATA[farwa shafqat]]></category>
		<category><![CDATA[آج]]></category>
		<category><![CDATA[شانتا راما]]></category>
		<category><![CDATA[فروا شفقت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=26191</guid>

					<description><![CDATA[<p> مَیں نے کیمرے کی رفتار کا استعمال ایسے کیا تھا کہ ہر سین کے احساسات کی لہریں بھی برابر ابھر کر سامنے آ جائیں۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-24/">شانتا راما — باب 24: پڑوسی (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>“جی۔ یہ لیجیے ساڑھی، جِسے آپ نے خریدنے کے لیے کہا تھا۔” مدراس سے لائی گئی وہ ساڑھی میرے ہاتھ میں دیتے ہوے وِمل نے کہا۔ ایک بار من کر رہا تھا کہ ساڑھی کو جوں کی توں وِمل کو واپس کر دوں اور کہوں کہ تم ہی رکھ لو۔ لیکن جےشری کے نام پر خریدی گئی ساڑھی کو اس طرح رکھ لینا مناسب نہ ہو گا، یہ سوچ کر میں نے ڈرائیور کو ساڑھی جےشری کے گھر پہنچانے کے لیے کہا۔</p>
<p>سٹوڈیو آتے ہی جےشری نے بتایا کہ ساڑھی اسے بہت ہی پسند آئی۔ لمحہ بھر وہ وہیں رُکی سی رہی۔ لیکن میں نے اس کی طرف خاص دھیان نہیں دیا اور سیدھے میوزک ڈیپارٹمنٹ میں چلا گیا۔ میرے پیچھے ماسٹر کرشن راؤ نے ‘پڑوسی’ اور ‘شیجاری’ کے کچھ گیتوں کی دھنیں بنائی تھیں۔ ایک دکھ بھرے سین پر گائے جانے والے گیت کو انھوں نے دکھ بھری دُھن دی تھی۔ میں نے اپنی رائے ظاہر کر دی۔ اس پر انھوں نے اسی دھن کو رونی صورت بنا کر پھر پیش کیا۔ اور پوچھا، “انّا، اب کیسی لگی دُھن؟”</p>
<p>میں نے اپنی جیب سے ایک رومال نکال کر ان کے چہرے پر ڈالا اور ان کا چہرہ ڈھک دیا۔ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ ان کی صورت دیکھے بِنا ان کی دُھن کیا وہی اثر ڈال پاتی ہے، جس کی کہ اس سے امید کی جاتی تھی؟ میں نے انھیں وہی گیت پھر سنانے کے لیے کہا۔ گاتے سمے چہرے پر رکھا رومال لگاتار اُڑ رہا تھا۔ ہم سب لوگوں کو یہ دیکھ کر بڑا مزہ آتا رہا۔ گیت ختم ہوا۔ ماسٹر کرشن راؤ نے چہرے سے وہ رومال پردہ نشین عورت کی ادا سے تھوڑا ہٹا کر نسوانی آواز میں پوچھا، “اب کیسی لگی دُھن؟”</p>
<p>میوزک روم میں جمع سبھی لوگ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گئے۔ اب تو اس دھن کو بدلنے کے علاوہ ماسٹر کرشن راؤ کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا! میرا ہمیشہ کا دستور رہا تھا کہ اپنی فلم کے لیے بنے گیت اور دھنیں سر نیچا کر کے سنوں اور پورے دھیان سے سنوں۔ ایسا کرنے سے سین کے مطابق اثر گیت کی دھن سے برابر ابھرتے ہیں یا نہیں، اس کی صاف تصویر ذہن پر نقش ہو پاتی تھی۔ لیکن اس دن جےشری گا رہی تھی، تب یوں ہی میں نے اوپر دیکھا۔ گاتے سمے وہ بھی اپنی موٹی موٹی کجراری آنکھوں سے مجھے ہی ایک ٹُک دیکھ رہی تھی۔ مجبوراً ہی تیرتے سمے ہوے اس واقعے پر من فوکسڈ ہو گیا۔ وہ سین من کی آنکھوں کے سامنے ایسا ثبت ہو گیا کہ ہٹنے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔ لیکن فوراً ہی میں نے اپنے آپ کو سنبھالا، ہوش میں آیا۔ اپنے آگے جاری کام سے لمحہ بھر ہی سہی، اپنا دھیان ہٹ گیا۔ اس لیے اپنے آپ پر ہی مجھے غصہ آیا۔</p>
<p>شوٹنگ شروع ہو گئی۔ پھر مجھ پر وہی دُھن پوری طرح چھا گئی، جو ‘آدمی’ اور ‘دنیا نہ مانے’ فلم بنانے کے سمے تھی۔ آج تک جیون میں میں نے کبھی کوئی نشہ نہیں کیا۔ لیکن لگتا ہے کہ فلم میکنگ کا نشہ میرے خون میں ہی گُھلا ہے۔ ہر نئی فلم کے ساتھ ایک نیا پاگل پن، ایک نیا لطف چھا جاتا ہے۔</p>
<figure id="attachment_26195" aria-describedby="caption-attachment-26195" style="width: 300px" class="wp-caption alignright"><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2021/04/padosi-1941-laaltain.jpg"><img fetchpriority="high" decoding="async" class="size-full wp-image-26195" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2021/04/padosi-1941-laaltain.jpg" alt width="300" height="400" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2021/04/padosi-1941-laaltain.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2021/04/padosi-1941-laaltain-225x300.jpg 225w" sizes="(max-width: 300px) 100vw, 300px"></a><figcaption id="caption-attachment-26195" class="wp-caption-text">فلم ‘پڑوسی’ کا پوسٹر</figcaption></figure>
<p>اس فلم میں اُن بوڑھے ہندو مسلمان دوستوں کے آپسی محبت کی علامت کے روپ میں دونوں کے ہاتھ میں ہاتھ ساتھ ساتھ چل رہے ہیں، اس سین کا استعمال میں نے کئی جگہوں پر نہایت جذباتی ڈھنگ سے کر لیا۔ بعد میں جب وہ وِلن ٹھیکیدار ان دونوں جانی دوستوں میں غلط فہمی پیدا کرتا ہے، تو دونوں کی دوستی ٹوٹنے لگتی ہے۔ لیکن یہ بات لفظوں میں نے ظاہر نہیں کی، صرف منظروں کے اشاروں سے اس طرح دکھائی کہ دونوں کے ہاتھ میں لیے ہاتھ چھوٹ جاتے ہیں، ایک دوسرے سے دور جاتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں کا فاصلہ بڑھتا جاتا ہے اور بعد میں دونوں پردے پر دکھائی نہیں دیتے۔ دکھائی دیتے ہیں صرف ان کے ایک دوسرے سے دور دور جا رہے ہاتھوں کے پنجے۔ کیمرا پیچھے ہٹتے ہٹتے صرف ان دور جاتے پنجوں کو ہی فلماتا رہتا ہے۔</p>
<p>اُن دونوں پڑوسیوں کو ایک ہی شوق تھا، فرصت کے سمے شطرنج جمانا۔ لیکن بعد میں اختلاف ہونے کے کارن دونوں باہمی مخالف سمت کی طرف منھ پھیرے آنگن میں چپ چاپ بیٹھے رہتے ہیں۔ شطرنج کے مہرے اور بِچھا پٹ (بساط) پیڑ کے نیچے بیکار پڑے رہتے ہیں۔ اُن کے بچوں کو بھلا ان بڑوں کے جھگڑے سے کیا لینا دینا! وہ اپنے پِتا جی کی ادا میں شطرنج بچھا کر اپنی اپنی عقل کے مطابق جیسی بنے، چالیں چلنے لگتے ہیں۔ پیڑ کے نیچے منھ پھیرے بیٹھے دونوں بوڑھوں کا دھیان اُن کے کھیل کی طرف جاتا ہے۔ بچے بیچارے غلط چال چلتے رہتے ہیں۔ دونوں بوڑھے اپنے بچوں کے پیچھے آ بیٹھتے ہیں اور ان کا ہاتھ پکڑ کر خود مہرے چلانے لگتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے کچھ پیادوں کو مارتے ہیں۔ آگے چل کر تو دونوں اس کھیل میں اتنے کھو جاتے ہیں کہ بچوں کی بیکار کی جھنجھٹ ختم کرنے کے لیے انھیں اٹھا کر ایک طرف ایسے رکھ دیتے ہیں، جیسے شطرنج کی گوٹیاں ہوں، اور کھیل میں مست ہو جاتے ہیں۔ پونم کی رات کو گاؤں کے دیوتا کا تہوار ہوتا ہے۔ سبھی گاؤں واسی، مرد عورت گاؤں کے باہر مندر کے پاس جمع ہوتے ہیں اور ہاتھوں میں مشعلیں لیے ایک رقص کرتے ہیں۔ اس رقص کی ریہرسل کرانے کے لیے بنگال کے کالی بوس کو میں نے خاص طور سے بلایا تھا۔ کافی دنوں تک ‘پربھات’ کے سبھی کاریگر اس رقص کی ریہرسل کرتے رہے۔ میں دکھانا چاہتا تھا کہ گاؤں کے سبھی بچے بوڑھے ذات پات کا اختلاف بھلا کر تہوار کے لطف میں خوشی اور جوش سے شامل ہو گئے ہیں۔ کالی بوس کی کوریوگرافی میں زنانہ رقص کے لیے ضروری نزاکت تو تھی، لیکن مردانہ رقص کے لیے ناگزیر جوش لاکھ کوششیں کرنے پر بھی نہیں آ رہا تھا۔ زنانہ اور مردانہ رقصوں میں دکھایا جانے والا فرق برابر آ نہیں رہا تھا۔ آخر مجبوراً ہی میں نے خود مشعلیں ہاتھ میں لیں اور مردانہ رقص کے سبھی قسموں کی ریہرسل کرا لی۔</p>
<p>میری رائے تھی کہ رقص کا سین بہت شاندار لگے اور شروع سے آخر تک وہ ایک روپ دکھائی دے، اس لیے اس میں کٹ شاٹ نہ ہو، لیکن اتنے بڑے گروپ رقص کو ایک ہی شاٹ میں فلمانا ناممکن تھا۔ لہٰذا شوٹنگ میں ایک مکمل نئی تکنیک کا استعمال کی تا کہ دیکھنے والوں کو ایسا لگے کہ ایک سین سے دوسرا سین کُھلتے کُھلتے نکل رہا ہے۔ پہلے شاٹ کے آخر میں رقاصوں کی مشعلیں کیمرے کے بالکل قریب آتی ہیں۔ دوسرے شاٹ کا آغاز مشعلوں پر کیمرا لے کر ہی ہوتا ہے اور بعد میں انھیں ایک طرف یا پیچھے ہٹا کر دوسرے کونے سے لیا گیا شاٹ پردے پر دکھائی دیتا ہے۔ اس تکنیک سے لیے گئے شاٹوں کی ایڈیٹنگ میں نے اتنی خوبی سے کی کہ پہلا شاٹ کہاں ختم ہوا اور دوسرا کہاں سے شروع، اچھے اچھے ٹیکنیشنوں کے بھی دھیان میں نہیں آیا۔</p>
<p>پونم کی اجلی چاندنی میں رقص میں پورا رنگ بھر گیا ہے۔ اچانک چاند بادلوں میں چھپ جاتا ہے۔ سبھی ناچنے والوں پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ انسانوں کی شکلیں ایک دم دھندلی ہو جاتی ہیں اور گانے کی لَے کے ساتھ آگے پیچھے ہلنے والی مشعلیں ہی دکھائی دیتی ہیں۔ پھر چاند نکل آتا ہے اور سب کچھ چاندنی میں نہاتا ہوا صاف دکھائی دینے لگتا ہے۔ چاند چھپ جاتا ہے اور پھر نکل آتا ہے؛ اس سین کے کارن دیکھنے والوں کو نین سکھ تو بہت مل جاتا ہے، لیکن اس میں شامل تخیل کا استعمال کہانی کا مقصد اور بھی زندہ کرنے کے لیے بھی میں نے کر لیا۔ مرزا اور پاٹل نوجوانوں کے رقص کا جلوس ایک طرف کھڑے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ مرزا کا لڑکا نعیم، پاٹل کے ہاتھوں میں مشعل دے جاتا ہے اور اسے رقص میں شامل کر لیتا ہے۔ پاٹل کا لڑکا رایبا بھی اسی طرح مرزا جی کو بھی رقص میں کھینچ لاتا ہے۔</p>
<p>ناچتے ناچتے دونوں بُھولے سے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ جاتے ہیں۔ لگتا ہے اب دونوں کی ناراضی تہوار کے جوش میں دور ہو جائے گی۔ ٹھیک اسی لمحے چاند بادلوں میں چھپ جاتا ہے۔ پاٹل کا جوش غائب ہو جاتا ہے۔ بیچارے مرزا جی بھی نا امیدی سے لوٹتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے ان کے من میں جو میل چھپا تھا، اسی نے رقص کے جوش کا سارا مزہ کرکرا کر دیا ہے۔</p>
<p>پوٹلی کے لڑکے رایبا کو کسی الزام میں پنچایت کے سامنے کھڑا کیا جاتا ہے۔ یہ ساری سازش اس ٹھیکیدار کی ہی ہوتی ہے۔ اس نے اپنے مصاحبوں کی مدد سے رایبا کو ناحق اس میں پھنسا دیا ہے۔ ٹھیکیدار کا ایک مصاحب پاٹل اور مرزا کے بیچ سے ہوتا ہوا حقے کی سلگتی چلم دانی لے جاتا ہے۔ دیہاتوں میں عام رواج ہوتا ہے کہ کسی دو آدمیوں کے بیچ سے ہوتی ہوئی کوئی آگ نکل جائے، تو ان میں ضرور ہی بکھیڑا کھڑا ہو جاتا ہے۔ لہذا اس طرح سلگتی چلمدانی پاٹل اور مرزا جی کے بیچ سے لے جانے کو دوسرا ہی معنی آسانی سے حاصل ہو جاتا ہے۔ پنچایت سبھا کا کام شروع ہوتا ہے۔ بحث اور جرح چل رہی ہے، اور ٹھیکیدار کا وہی مصاحب بیچ بیچ میں چلمدانی کے کوئلوں کو ہوا دیتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ پاٹل اور مرزا کے بیچ دھوئیں کی دیوار سی کھڑی ہو جاتی ہے۔ مرزا کے اس حقے کا استعمال میں نے کئی طرح سے کر لیا۔ غلط فہمی بڑھتی جاتی ہے۔ آثار تو ایسے دکھائی دینے لگتے ہیں کہ ہو نہ ہو من مار کر مرزا رایبا کے خلاف فیصلہ بس دینے ہی جا رہا ہے۔ لیکن اپنے پیارے دوست کے لڑکے کے خلاف پنچایت کا فیصلہ دینا مرزا کے لیے بہت ہی مشکل کا کام ہے۔ پاٹل کے من میں پہلے سے ہی بیٹھی غلط فہمی اس سے اور بھی گہری ہو جائے گی، مرزا جانتا ہے۔ مرزا بڑی الجھن میں پھنسا ہے، کشمکش میں پڑا ہے۔ آخر وہ خدا کو گواہ رکھ کر فیصلہ دیتا ہے۔</p>
<p>ٹھیک یہی اثر ناظرین کے من پر بھی پڑے، اس لیے میں نے ایک ترکیب سے کام لیا۔ مرزا فیصلہ سنانے سے پہلے اوپر آسمان کی طرف دیکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کیمرا بھی اوپر کی طرف جاتا ہے۔ پردے پر دکھائی دیتا ہے وسیع آسمان اور نیچے کے ایک کونے میں مرزا کا چہرہ۔ مرزا کے چہرے کے علاوہ پردے کا سارا فریم خالی دکھائی دیتا ہے۔ اس سے یہ بات برابر ابھر آتی ہے کہ مورت پوجا میں عقیدہ نہ رکھنے والے اسلام کے مذہبی خیالات کے مطابق وہ خالی جگہ ہی اللہ کی علامت ہے اور اللہ کو گواہ رکھ کر ہی مرزا اب اپنا فیصلہ دے رہا ہے۔ فیصلہ سنائے جانے کے سمے کیمرا پھر نیچے دیکھنے لگتا ہے اور مرزا کا کلوز اپ فلما لیتا ہے۔ اس سارے سین کے آخر میں پردے پر پورے واقعے کی علامت کے روپ میں صرف مرزا جی کی وہ چلم دانی ہی دکھائی دیتی ہے۔ چلم دانی سے چنگاریاں نکلتی ہیں اور اس کے بعد آگے کے سین میں دکھائی دینے والا پاٹل کا پریشان چہرہ دھیرے دھیرے اسی چلم دانی پر ابھر آتا ہے۔</p>
<p>اس کے بعد دونوں میں زور کا جھگڑا ہو جاتا ہے اور مرزا پڑوس چھوڑ کر جانا طے کر لیتا ہے۔ وہ ایک بیل گاڑی بلواتا ہے۔ گھر کا سارا سامان اس پر رکھواتا ہے۔ بیوی اور بال بچوں کو بھی گاڑی میں بٹھاتا ہے۔ مرغیوں کی جھلیاں بھر دیتا ہے اور بھیڑ بکریوں کو بھی گاڑی سے باندھ کر جانے لگتا ہے۔ پردے پر دکھائی دیتا ہے اس کا دور دور جاتا ہوا گھر، گاڑی میں بیٹھ کر پاٹل کے بچوں سے دور جانے والے مرزا کے بچے! مرزا کی مرغیاں اور بھیڑ بکریاں پاٹل کے گھر کے چھجے پر کھڑی ان کی مرغیوں اور بکریوں کو مسکینی سے دیکھ رہی ہیں، دور چلی جا رہی ہیں۔ آخر میں مرزا کی بیل گاڑی دور چلی جاتی ہے اور ادھر پاٹل کا گھر بھی دور ہو جاتا ہے۔ اس طرح دونوں جانی دوست ایک دوسرے سے بچھڑتے ہیں اور اسی دل کو چھو لینے والا سین پر انٹرویل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>اس پوری فلم میں مَیں نے کیمرے کی رفتار کا استعمال ایسے کیا تھا کہ ہر سین کے احساسات کی ذرا سی لہریں بھی برابر ابھر کر سامنے آ جائیں۔ میری کوشش تھی کہ کیمرا سین فلمانے کی ایک مشین بن کر ہی نہ رہ جائے، بلکہ یہ ثابت کر دے کہ وہ انسانی من کی طرح ایک حساس من بھی ہے۔ اسی لیے ‘پڑوسی’ کا سنیریو لکھتے سمے میں مختلف شاٹوں کو صرف تکنیکی تقسیم نہیں کرتا تھا، ہر سین کا سنیریو لکھتے سمے میں اس کے احساسات کے ساتھ پوری طرح سے ایک روپ ہو جاتا تھا۔ خاص طور سے آخر میں باندھ ٹوٹ جانے کے سین کا سنیریو لکھتے سمے تو اس کے ساتھ اتنی وابستگی ہو گئی تھی کہ جذبات کے تسلسل کو روک نہ سکا۔ آنکھوں سے گرتے ٹپ ٹپ آنسو سنیریو کی کاپی کو چھو رہے تھے اور وچاروں کی کڑی ٹوٹنے نہ پائے، اس لیے آنسو پونچھ کر سنیریو لکھتا گیا۔ آخری سین لکھا اور کرسی کی پیٹھ پر ماتھا رکھ کر میں خوب رویا۔ میری سسکیاں سن کر وِمل بھی جاگ گئی۔ گھبرائی، ہڑبڑائی سی بڑی ہی بےچینی سے پوچھنے لگی کہ بات کیا ہے۔ میرے منھ سے لفظ نہیں پھوٹ رہا تھا۔ میں نے صرف سنیریو کی کاپی کی طرف اشارہ کر دیا۔</p>
<p>دوسرے دن میرے زیر کام کرنے والے شاعر آٹھولے نے سنیریو کی وہ کاپی دیکھی اور سہمے سہمے سے پوچھا، “بات کیا ہے انّا؟ لکھتے سمے آپ اتنے جذباتی ہو گئے تھے؟”</p>
<p>“کیوں؟ یہ آپ کیسے کہتے ہیں؟”</p>
<p>انھوں نے سنیریو کی کاپی پر آنسوؤں کے نشان مجھے دکھائے۔ وہ اس سے زیادہ کچھ بھی نہ بول سکے۔</p>
<p>فلم کا آخری سین باندھ ٹوٹنے کا تھا۔ وہ پردے پر دکھائی دینے لگا۔ باندھ پر سرنگیں بچھانے کے کارن وہ ٹوٹ جاتا ہے، تباہ ہو جاتا ہے۔ دکھ سے چُور پاٹل بہکے بہکے سے، کھوئے کھوئے سے بددل ہو کر باندھ پر بیٹھے ہیں۔ چاروں طرف بڑی بڑی چٹانوں کے ٹوٹے ٹکڑے اُڑ رہے ہیں۔ اپنے روایتی متر کی جان بچانے کے لیے اپنی جان کی پروا کیے بنا ہی مرزا باندھ پر دوڑ کر آتے ہیں۔ دونوں جب لوٹنے لگتے ہیں تب ایک بڑا بھاری دھماکہ ہونے سے لوٹنے کا راستہ تباہ ہو جاتا ہے، ٹوٹ جاتا ہے۔ بڑی کھائی پڑ جاتی ہے۔ اب تو موت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہ جاتا۔ دونوں متر ہاتھ میں ہاتھ تھامے وہیں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تبھی ایک اور سرنگ کا دھماکہ ہوتا ہے اور باندھ کا وہ حصہ بھی جس پر یہ دونوں کھڑے ہوتے ہیں، ٹوٹ کر گر جاتا ہے۔ ہاتھ میں ہاتھ تھامے ہی دونوں موت کا استقبال کرتے ہیں۔ دوسرے دن جب باڑھ اتر جاتی ہے، دونوں متر مرے پائے جاتے ہیں۔ لیکن اس آخری لمحے بھی دونوں کے ہاتھ اسی مضبوطی سے گتھے ہوے ہیں جیسے انھوں نے زندہ حالت میں تھامے تھے۔ ان دو ہاتھوں کی مضبوط پکڑ کے اوپر سے پانی کی دھارا بہتی جاتی ہے۔</p>
<p><iframe title="YouTube video player" src="https://www.youtube.com/embed/G1iG0QOMI40" width="560" height="315" frameborder="0" allowfullscreen="allowfullscreen"></iframe></p>
<p>اس پورے سین میں احساسات اور تکنیک کا خوبصورت میل رکھا گیا تھا۔ مضبوط دوستی، محبت کا یہ سین دیکھ کر ایک مسلمان ناظر نے دل کھول کر کہا، “آج دل کا میل نکل گیا!”</p>
<p>سبھی اخباروں کے کالم ‘پڑوسی’ اور ‘شیجاری’ فلم کی تعریف سے کھِل اٹھے۔ استثنیٰ تھی صرف اترے جی کا ‘نویگ’۔ اس ہفتہ وار میگزین نے اپنا راگ الگ ہی الاپا تھا۔ اترے جی نے اپنے اس ہفتہ وار میں لکھا: ”تنتر تو ہے، پر منتر غائب”۔ ‘پڑوسی’ پر انھوں نے یہ طعنہ زنی کی تھی۔ پہلے بھی بِنا کارن ہی انھوں نے ‘دنیا نہ مانے اور ‘کن کو’ کے بارے میں اسی طرح اول جلول ذکر اپنے ‘پراچا کاؤلا’ (بات کا بتنگڑ) ناٹک میں کیا تھا۔ اس سمے میں نے بھی انھیں کافی تیز تڑاخ جواب دیا تھا، ”تماشائیوں کی طرف سے نذر کی گئی قلم سے ‘دنیا نہ مانے’ کی بےکار کی مخالفت کو دنیا نہیں مانے گی۔” میں نے ہمت کے جذبے سے ان کی طرف کی گئی تنقید کو قبول کیا تھا۔ انھیں بھی چاہیے تھا کہ اسی جذبے سے اس بات پر ہمیشہ کے لیے پردہ ڈال دیتے۔ لیکن ان کے جیسے قلم کے دھنی لیکھک نے ‘پڑوسی’ پر اعتراض، مخالفت کرنے میں ہی اپنی قلم چلائی۔ ‘نویگ’ میں اترے جی نے ‘شیجاری’ پر بالترتیب پانچ کالم لکھے۔ لیکن کوئی بھی اچھی بات، صرف اس لیے کہ کسی عقلمند آدمی نے اسے بُرا کہا ہے، بُری ثابت نہیں ہو جاتی!</p>
<p>‘پڑوسی’ فلم بِہار کے بھاگلپور میں ریلیز ہوئی، تب وہاں ہندوؤں مسلمانوں میں دنگا بھبھک اٹھا تھا۔ لکھنے میں مجھے بےحد فخر ہوتا ہے کہ اس فلم کے کارن وہاں کا دنگا بند ہو گیا۔ دونوں فریقوں کے لوگوں نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ لوگ باگ کہنے لگے، جو بات بڑے بڑے سیاست دانوں کے بھاشنوں سے بھی نہ ہو پائی تھی، اسے ‘پڑوسی’ اور ‘شیجاری’ فلم نے کر دکھایا ہے! میں شکر گزار ہو گیا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-24/">شانتا راما — باب 24: پڑوسی (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-24/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>شانتا راما — باب 23: امرت ورشا (ترجمہ: فروا شفقت)</title>
		<link>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-23/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-23/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فروا شفقت]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Apr 2021 17:19:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[farwa shafqat]]></category>
		<category><![CDATA[آج]]></category>
		<category><![CDATA[شانتا رام]]></category>
		<category><![CDATA[فروا شفقت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=26165</guid>

					<description><![CDATA[<p>آپ کی فلموں کو باربار دیکھ کر ہی تو ہم نے فلم کلا کی کئی باریکیاں اکٹھی کی ہیں۔ آپ کا چرن چھونا ہماری خوش قسمتی ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-23/">شانتا راما — باب 23: امرت ورشا (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔<br>
…………………..<br>
“مدھرا وٹیا بڑی سہانی، گھنگھرالے بال لگے سیانی، آنکھیں موٹی ناک سے نکٹی، دیکھ دیکھ کر ہے مسکانی۔۔۔”</p>
<p>دو سال کی گھنگھرالے بالوں والی گول مٹول مدھُرا کو گود میں لے کر بےسری آواز میں میری شاعری چالو تھی۔ موٹر تیزی سے جنگل کا راستہ کاٹتی دوڑتی جا رہی تھی۔ کچھ دیر بعد وِمل نے کندھے سے مجھے ہلاتے ہوئے کہا، “اجی —”</p>
<p>میں نے اس کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں خوف و فکر دکھائی دی۔ اس کے اس طرح ‘اجی’ کہہ کر شاعری کی غنودگی سے مجھے جگانے کا معنی میری سمجھ میں فوراً آ گیا۔ میں اپنی ہنسی روک نہ سکا۔ وِمل سے کہا، “تم کیا سمجھ رہی ہو، میں پاگل واگل ہو گیا ہوں؟ بالکل نہیں۔ میں تو ایک دم مزے میں ہوں، مست ہوں۔ اس سفر میں پورا آرام کرنے والا ہوں، ساری جھنجھٹوں کو بُھلا بسرا کر، سمجھی؟”</p>
<p>وِمل نے صرف سر ہلایا اور وہ بھی میرے ساتھ ہنسنے لگی۔ کار کی کھڑکی سے آس پاس کی ہریالی کو جی بھر کر دیکھتے ہوئے، مدھُرا کے گھنگھریالے بالوں پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے شاعری پھر زوروشور سے شروع ہو گئی۔</p>
<p>ڈاکٹر بھڑکمکر نے میرے روگ کی جو تشخیص کی تھی، اسے سُن کر سبھی لوگ گھبرا گئے تھے۔ وِمل نے جیون میں پہلی بار ضد کی تھی کہ کسی شانت جگہ پر آرام کے لیے جایا جائے۔ اسی لیے ہم سب لوگ یعنی وِمل، پربھات کمار، سروج اور دو سال کی مدھُرا اور میں، گرسپپا کا بھدبھدا (آبشار) دیکھنے کے لیے کار سے جا رہے تھے۔</p>
<p>شام ہو رہی تھی۔ ڈرائیور نے اچانک کار روک دی۔ میں نے کارن جاننا چاہا۔ اس نے سامنے کی طرف اشارہ کیا: ایک لمبا پیلے رنگ کا ناگ رپٹیلی چال سے چلا جا رہا تھا۔ غروب کے سمے کی سورج کی کرنوں سے اس کی چکنی کایا چمک رہی تھی۔ اس نے راستہ پار کر لیا اور ہمارے ڈرائیور نے کار پھر چالو کی۔ دھیرے دھیرے اندھیرا چھانے لگا۔ کچھ ہی سمے بعد گاڑی رکی۔ سامنے ہی ایک ڈاک بنگلہ تھا۔ برآمدے میں رکھی ایک آرام کرسی پر میں بیٹھ گیا۔ گِرسپپا کے بھدبھدا کی گہری گمبھیر آواز سنائی پڑ رہی تھی۔</p>
<p>سویرے اٹھتے ہی دھیرے دھیرے جا کر وہاں سے سامنے ہی واقع بھدبھدا میں نے دیکھا۔ اس پرچنڈ جلودھ (جھرنے) کو دیکھ کر میرے من کی ساری تھکان جاتی رہی۔ میں جذباتی ہو گیا۔ بھدبھدا! اس کے چاروں جانب چھائی ہریالی بھری جنگلی املاک کا حسن ایک بےصبر پیاسے کی طرح میں جی بھر کر پینے لگا۔ من میں شدت کا اشتعال دھیرے دھیرے کم ہوتا جا رہا تھا۔ سُدھ بدھ کھو کر میں وہاں پتہ نہیں کتنی دیر بیٹھا رہا!</p>
<p>دوچار دن میں ہی میرے وہاں آرام کے لیے آنے کی خبر پاس پڑوس میں پھیل گئی۔ کچھ چاہنے والوں نے میرے لیے ایک خاص پروگرام کا انعقاد کیا۔ پونم آ رہی تھی۔ کچھ لوگ پہاڑی پر چڑھ گئے اور وہاں سے انھوں نے بڑی بڑی لکڑیاں سُلگا کر بھدبھدے کے پانی میں چھوڑیں۔ وہ جلتے ہوئے کندے (بلاک) خوفناک رفتار سے بھدبھدے کے ساتھ نیچے کودتے اور پانی میں ڈوبتے ابھرتے آگے چلے جاتے۔ آگ اور پانی کا ایسا حسین اور ناقابل بیان ملن میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ غیرمعمولی حُسن من میں سنجوتے جی نہیں اکتاتا تھا۔</p>
<p>پُونا واپس آیا تو تن من میں نیا جوش اور امنگ آ گئی تھی۔ گِرسپپا کے آس پاس کی گھنی ہری ہری جنگلی املاک کے کارن میری صحت بہت جلدی ٹھیک ہو گئی۔ سٹوڈیو میں قدم رکھا ہی تھا کہ ‘پربھات’ کے مینیجر پتروں کا ڈھیر لے کر میرے آفس میں آ گئے۔ ان کے چہرے پر خوشیاں ناچ رہی تھیں۔ اس ڈھیر کو میری میز پر رکھتے ہوئے انھوں نے کہا، ”یہ لیجیے ’’آدمی‘‘ اور ‘مانوس’ کے لیے حاصل بدھائیوں کی چٹھیاں!”</p>
<p>اب میں ان سبھی پتروں کو جوش سے دیکھنے لگا۔ ہر ڈائریکٹر کی اپنی اپنی رائے تھی۔ کسی نے ‘آدمی’ جیسی فلم بنا کر ‘دیوداس’ میں موجود مایوسی کا کرارا جواب دینے پر دلی بدھائیاں دی تھیں، تو کسی دوسرے لیکھک نے لکھا تھا: “آپ کے کاروباری بھائی بندوں کی بنائی فلم کی اس طرح کھِلّی اڑانا آپ کے لیے زیب نہیں دیتا!”</p>
<p>کسی کو فلم کا اختتام پسند نہیں آیا تھا۔ ایک مہاشے نے تو ہم سے صاف صاف جاننا چاہا تھا کہ آخر میں آپ ہیرو اور ہیروئین کا بیاہ رچا دیتے، تو آپ کا کیا جاتا؟ لہٰذا ہم لوگوں کو دو دن تک بھوجن بھی راس نہیں آیا! اب کوئی اس پتر لیکھک کو جواب دے بھی تو کیا دے؟</p>
<p>ایک جذباتی ناظر نےلکھا تھا:</p>
<p>اب کبھی بمبئی کے فارس روڈ سے جانے کا سین آ بھی جائے تو، آپ کی ‘آدمی’ دیکھی ہونے کے کارن ہم لوگوں کو چِقوں کے پیچھے کھڑی ویشیاؤں کو دیکھ کر پہلے جیسی نفرت نہیں ہو گی بلکہ یہ محسوس ہو گا کہ ہر چِق کے پیچھے ایک گہرا دردِ دل چھپا ہے!”</p>
<p>اس فلم کے بارے میں ابھی حال کا ایک تجربہ تو بہت ہی انوکھا ہے: میں پہلی بار بیلگاؤں گیا تھا۔ وہاں کے لوگوں نے فطری ڈھنگ سے، بڑے پیار سے میرا سمان کرنے کا انتظام کیا۔ بیلگاؤں کے پاس پڑوس کے دس بارہ ضلعوں کے محکمہ جاتی کمشنر رام چندرن اس انتظام کے صدر تھے۔ سبھی مقررین کے بھاشن ہو چکنے کے بعد رام چندرن بولنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ سبھا کا انتظام چونکہ میرے اعزاز میں کیا گیا تھا، میں سوچ ہی رہا تھا کہ اب یہ مہاشے بھی میری تعریف کے پُل باندھیں گے۔ اسی لیے ان کی تقریر کی طرف میرا کوئی خاص دھیان نہیں تھا۔ لیکن رام چندرن نے ‘آدمی’ کے بارے میں ایک بہت ہی دل چھو لینے والی یاد دلائی:</p>
<p>“آج آپ مجھے یہاں زندہ اور چلتا پھرتا دیکھ رہے ہیں، اس کا سارا کریڈٹ اس فلم کو جاتا ہے۔ پینتیس برس پہلے کی بات ہے۔ اس سمے میری عمر اٹھارہ برس کی ہو گی۔ کئی خاندانی مصیبتیں میرے سامنے منھ کھولے کھڑی تھیں۔ انھیں سلجھانے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ روز بہ روز میں مایوسی کے گہرے گڑھے میں دھنستا جا رہا تھا۔ خودکشی کا وچار بھی من میں اٹھنے لگا تھا۔ لگتا تھا کہ خودکشی کر کے ان سبھی الجھنوں سے ہمیشہ کے لیے آزادی پا جاؤں۔ سوچ وچار کر کہیے یا بغیر سوچے سے، خود کشی کا ارادہ آہستہ آہستہ پکا ہونے لگا۔ لگ بھگ انہی دنوں میرے گاؤں میں وی شانتارام کی ‘آدمی’ فلم ریلیز ہوئی۔ شانتارام جی کی فلمیں مجھے ہمیشہ بہت ہی راس آتی تھیں۔ من کی اس ڈولتی حالت میں ہی میں ‘آدمی’ دیکھنے گیا۔ فلم دیکھ کر باہر آیا تو خود کشی کا وچار رفوچکر ہو چکا تھا۔ جیون جینے کا ایک نیا نظریہ مجھے مل گیا تھا۔ مشکلوں اور مصیبتوں سے جوجھتے جوجھتے جینے کا ہی نام جیون ہے۔ جیون جینے کے لیے ہوتا ہے۔ ‘لائف از فار لِونگ’ کا اصول ہی جیسے وی شانتارام کی اس فلم نے میرے کانوں میں پھونک دیا!</p>
<p>“اس کے بعد مصیبتوں کے پہاڑ سامنے آئے، پھر بھی میں ہارا نہیں، ٹوٹا نہیں۔ بلکہ ان کے ‘آدمی’ کے ہیرو کی طرح جیون کی راہ دھیرج سے طے کرتا ہوا آج میں ڈویژنل کمشنر بن گیا ہوں، اور یہ سب آپ کے سامنے قبول کرنے میں فخر محسوس کر رہا ہوں!”</p>
<p>اُن مہاشے کی آپ بیتی سن کر میں واقعی میں جذباتی ہو گیا۔ اس لمحے تو ضرور ہی لگا کہ میری تخلیق کامیاب ہو گئی ہے۔ لیکن عام طور پر دیکھا جائے، تو ‘آدمی’ پربھات کی دیگر فلموں کے مقابلے میں کم ہی چلی۔ بارہ ہفتے بعد ہی اسے بمبئی کے سینٹرل سینما سے ہٹانا پڑا۔ شاید چندرموہن نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ، ”یہ فلم بیس برس آگے کی ہے!”</p>
<p>بیسویں صدی کی چوتھی دہائی ختم ہونے کو تھی۔ دیش میں ہر جگہ بولتی فلموں کی مقبولیت کافی بڑھ چکی تھی۔ وہ اب ایک انڈسٹری کا روپ لینے لگی تھی۔ پربھات کی فلموں کے کاروباری معاملات کی دیکھ بھال کا کام میرے ہی ذمے تھا۔ جیسے جیسے یہ کاروبار بڑھتا گیا، اس پر نگرانی رکھنے کے لیے میں نے ‘پربھات سینٹرل ایکسچینج’ نامی ایک نیا ڈیپارٹمنٹ شروع کیا، ایک ٹیلنٹڈ مینیجر کو مقرر کیا۔ پربھات کی فلمیں سارے دیس میں بہت ہی مقبول تھیں۔ لہٰذا سینما گھروں کے مالکوں میں ان فلموں کو اپنے یہاں ریلیز کرنے کی ایک طرح سے ہُڑک سی لگی رہتی تھی۔ ہمارے ڈسٹری بیوٹرز کی رکھی گئی سبھی شرطوں کو وہ بِنا کسی جھجھک کے قبول کرتے اور پربھات کی فلم اپنے سنیما گھر میں ریلیز کرنے کو مل گئی، اسی میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتے تھے۔</p>
<p>اس سینٹرل ایکسچینج ڈپارٹمنٹ کی طرف سے ہر ماہ میرے پاس پوری تفصیل آتی تھی۔ اس کا باریکی سے مطالعہ کرنے پر میں نے دیکھا کہ ہمارے صوبائی ڈسٹریبیوشن سسٹم میں سدھار کیا جائے تو آمدنی اور بھی بڑھ سکتی ہے۔ اس نظر سے میں نے سوچا کہ سبھی ڈسٹری بیوٹرز کا ایک سمپوزیم بلایا جائے اور انھیں آپس میں کاروبار کے مختلف سسٹمز اور کٹھنائیوں وغیرہ پر کھل کر تبادلہ خیال کرنے کا موقع دیا جائے تو ڈسٹریبیوشن سسٹم میں سدھار بھی ہو گا اور اسے نئی سمت بھی حاصل ہو گی۔ فوراً ہی میں نے ہندوستان کے ہمارے سبھی ڈسٹری بیوٹرز کی ایک کانفرنس پُونا میں مدعو کی اور سبھی کو دعوت نامہ بھجوا دیا۔</p>
<p>اس کانفرنس میں سبھی ڈسٹری بیوٹرز کے سامنے میں نے پربھات کی آئندہ فلموں کے بنانے کا پروگرام اور اس پر آنے والے متوقع خرچ کا خاکہ پیش کیا۔ فلم میکنگ کے لیے یہ ضروری رقم ڈسٹریبیوشن کے ذریعے تکمیل کے لیے اخلاقی امداد ڈسٹری بیوٹر برادران دیں، ایسی مانگ بھی میں نے کی۔ اسے میں نے قانونی امداد نہ کہہ کر اخلاقی امداد کہا۔ اس کا کارن یہ تھا کہ قانونی بندھن آنے پر آدمی گھبرا جاتا ہے اور آسانی سے اسے قبول نہیں کرتا۔ پھر اخلاقی امداد کے کارن اپنی فلم میکنگ کا پروگرام سمے پر پورا کرنا ہمارے لیے بھی ممکن ہو جائے گا۔ نتیجتاً پربھات کی آمدنی تو بڑھے گی ہی، آپ سب لوگوں کو بھی زیادہ کمیشن حاصل ہو گا۔ میری دلیل سبھی نے قبول کی۔ مکمل پروگرام کے جائزہ لینے کے لیے آئندہ سال بھی اسی طرح کی بیٹھک منعقد کرنا متفقہ طور پر طے کیا گیا۔</p>
<p>اس کانفرنس کے فیصلے کے مطابق ہمارے سبھی ڈسٹری بیوٹرز نے آئندہ سال میں اخلاقی امداد کی رقم پوری کر دی۔ لیکن اس کو پورا کے لیے انھوں نے ہر سنیما مالک سے اس کے گاؤں کے چھوٹے بڑے ہونے کے حساب سے، تھوڑی زیادہ ہی امدادی رقم لے کر ہماری فلمیں ریلیز کیں۔ یہ بات دوسری ہے کہ ہماری فلموں کی مقبولیت پوری طرح روشن ہونے کے کارن ریلیز کرنے والوں کو اس میں کوئی نقصان نہیں اٹھانا پڑا، لیکن دیگر پروڈیوسرز نے بھی ہماری دیکھادیکھی اسی طرح سے امدادی رقم مانگنا شروع کی۔ اس میں کچھ کو تو اچھی آمدنی ہوئی، لیکن زیادہ تر فلم ریلیز کرنے والوں کو گھاٹا اٹھانا پڑا۔ کئی ریلیز کرنے والوں نے اس بات کی شکایت مجھے پتر لکھ کر کی۔ وہ بیچارے ایک دم مایوس ہو گئے تھے۔</p>
<p>اگلے برس کی ڈسٹری بیوٹرز کانفرنس میں میں نے ایک تجویز رکھی: “میری رائے ہے کہ آپ لوگ ہماری فلم کے لیے ریلیز کرنے والوں سے جو امدادی رقم لیتے ہیں، اسے نہ لیں۔ آپ کو اس سے زیادہ رقم فیصدی میں ملتی ہے۔ ہماری فلم پر اس طرح امدادی رقم لینے کی شرط آپ لوگوں نے واپس لے لی، تو ریلیز کرنے والے دیگر ڈسٹری بیوٹرز سے بھی ہمت کر یہ کہہ سکیں گے کہ ‘پربھات’ جیسی جانی مانی کمپنی بھی ہم سے امدادی رقم نہیں لیتی، لہٰذا آپ کو بھی اسے نہیں مانگنا چاہیے۔ نتیجتاً انھیں ممکنہ گھاٹا نہیں ہو گا۔”</p>
<p>سبھی لوگ ایک دم چپ بیٹھے تھے میری تجویز کا کیا جواب دیں، کسی کو سمجھ میں شاید نہیں آ رہا تھا۔ وہ لوگ آپس میں کھل کر باتیں کر سکیں، اس لیے ہم سبھی حصہ دار کچھ دیر کے لیے بیٹھک سے باہر آ گئے۔ پھر ہم لوگ بیٹھک میں پہنچے تو بابوراؤ پینڈھارکر نے کہا، “آپ کے اس سجھاؤ پر اچھی طرح سے سوچ وچار کر کے ہم لوگ اپنا فیصلہ آپ کو کل بتائیں گے۔” دوسرے دن صبح دس بجے ہم لوگ پھر اکٹھے ہوئے۔ اتر پردیش، پنجاب اور کشمیر کے ڈسٹری بیوٹر دل سکھ پانچولی نے کہا، “آپ کا فیصلہ اگر ایسا ہے کہ ہم لوگ آپ کی فلموں پر ریلیز کرنے والوں سے گارنٹی نہ لیں، تو آپ بھی ہم سے اخلاقی امداد کے روپ میں پیشگی رقم لینا بند کریں۔ اس ذمہ داری سے آپ ہمیں آزاد کرتے ہیں، تو ہم بھی ریلیز کرنے والوں پر امدادی رقم کی شرط نہیں تھوپیں گے۔”</p>
<p>اب چپ رہنے کی باری میری تھی۔ ڈسٹری بیوٹرز نے مجھے ہی الجھن میں ڈالا تھا۔ سب کا دھیان میری طرف تھا۔ دیکھنا چاہتے تھے وہ کہ میں اپنے لفظ واپس لیتا ہوں یا نہیں۔ ریلیز کرنے والوں کی میرے پاس بھیجی گئی شکایت ایک دم صحیح تھی اور مناسب بھی۔ ان پر امدادی رقم جمع کرنے کا دباؤ ہٹا لیا، تو ڈسٹری بیوٹرز کی دی گئی ترپ چال کے مطابق ہمیں اپنی آئندہ فلموں کے لیے ضروری رقم کھڑی کرنے میں دقت آنے والی تھی۔ لیکن ریلیز کرنے والوں کا یہ جو استحصال ہو رہا تھا، اسے تو کسی بھی حالت میں روکنا ضروری ہو گیا تھا۔ کل اگر سارے سنیماگھر بند ہو جائیں، تو ہم لوگ اپنی فلموں کو کہاں ریلیز کر پائیں گے؟ ریلیز کرنے والا ختم ہو گیا، تو پوری فلم انڈسٹری دم توڑ دے گی۔ اپنی معاشی کٹھنائیوں کے لیے کم از کم امدادی رقم لینے کا یہ رواج مقامی شکل میں مقبول کر دیا، تو فلم انڈسٹری کی سرحدیں روز بہ روز سکڑتی جائیں گی۔ میں نے فیصلہ کر لیا: “میں آپ سب کو اخلاقی امدادی رقم کی ذمہ داری سے آزاد کرتا ہوں۔”</p>
<p>اس پر بنگال، بہار، آسام اور اڑیسہ کے ہمارے ڈسٹری بیوٹر کپور چند نے کہا، “یہ تو ٹھیک ہی ہے، لیکن آگے چل کر آپ کو فلم بنانےکے لیے پیسے کم پڑ جائیں، تو اس کے ذمہ دارہم نہیں ہوں گے۔”</p>
<p>“میں نہیں سوچتا کہ ویسی نوبت آئے گی۔ انسان کے بھلے مانس ہونے پر مجھے بھروسہ ہے۔ ساتھ ہی یہ اعتماد بھی ہے کہ امدادی رقم بھرنے سے راحت ملنے پر ریلیز کرنے والے ہماری فلم کے لیے پہلے جیسی ہی، حقیقت میں اس سے تھوڑی زیادہ ہی آمدنی ہو اس لیے اشتہار وغیرہ پر تھوڑا زیادہ خرچ خود کریں گے۔ آپ لوگ نئی فلموں کے کانٹریکٹ کرتے سمے ریلیز کرنے والوں سے درخواست کریں کہ ‘پربھات’ کی فلموں کو ریلیز کرتے سمے ان کی بے فکری کے نتیجے میں آمدنی کم ہو گئی، تو ہم لوگ امدادی رقم لینے کے رواج کو پھر پہلے جیسا چالو کریں گے۔”</p>
<p>اس کے بعد ایک سال بیت گیا۔ ڈسٹری بیوٹرز کی کانفرنس کے شروع میں ہی سبھی ڈسٹری بیوٹرز نے مجھے دل سے سراہا۔ کہنے لگے: “شانتارام بابو، مان گئے ہم آپ کو۔ بیتے برس آپ نے جو باہمت فیصلہ کیا اس کے لیے پھر آپ کو دلی مبارک باد۔ پچھلے سال ہماری اوسط آمدنی میں لگ بھگ بیس فی صد کی بڑھوتری ہوئی۔” میں نے حیرانی جتاتے ہوئے پوچھا، “لیکن یہ کیسے ممکن ہو سکا؟” ہمارے جنوبی صوبوں کے ڈسٹری بیوٹر جینتی لال ٹھاکُر نے جواب دیا، “کیسے ممکن ہو سکا، یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے؟ امدادی رقم کا رواج بند کرنے کے کارن ریلیز کرنے والے بہت ہی خوش ہو گئے۔ یہ رواج پھر چالو کرنے کی بات آپ کے من میں بھی نہ آئے، اس لیے انھوں نے ہر فلم کو اچھی طرح چلانے کی پوری کوشش کی۔ ہولڈ اوور فگر (یعنی فلم کی کم از کم ہفتہ وار آمدنی کا ہندسہ، جس کے نیچے آمدنی چلی جائے تو فلم ہٹا لی جاتی ہے) سے کم آمدنی ہونے لگی پھر بھی انھوں نے دو دو، تین تین ہفتے فلم کو زیادہ چلایا۔ اسی سب کے نتیجے میں آمدنی میں یہ بیس فیصد کی بڑھوتری ہو سکی ہے۔ واقعی میں آپ نہ صرف ڈائریکشن میں، بلکہ بزنس میں بھی ماہر ہیں۔”</p>
<p>“میں؟ اور کاروبار میں بھی ماہر!” اتنا کہہ کر میں چُپ ہو گیا۔ بندھی مٹھی لاکھ کی!</p>
<p>اس کے بعد میرے من میں وچار آیا کہ کیوں نہ ہماری ‘پربھات’ کی اپنی ایک ڈسٹریبیوشن آرگنائزیشن ہو؟ صوبے صوبے میں اس کی شاخیں ہوں۔ وہ ہماری فلموں کے ساتھ ہی دیگر اچھے پروڈیوسرز کی فلمیں بھی ڈسٹری بیوشن کے لیے قبول کرے۔ اس طرح ایک مکمل بھارتی ڈسٹری بیوشن آرگنائزیشن بنانے کا اہم خیال میرے من میں شکل لینے لگا۔ لیکن اپنے کام کے گورکھ دھندھے سے سمے نکال کر یہ نیا کام بھی دیکھوں، اس کے لیے میرے پاس سمے نہیں تھا۔ میں کسی ماہر ڈسٹری بیوٹر کے بارے میں سوچنے لگا۔ بمبئی کے ہمارے ڈسٹری بیوٹر بابوراؤ پینڈھارکر کا نام سامنے آیا۔ لیکن سوال یہ تھا کہ کیا بابوراؤ ان کی اپنی ‘فیمس پکچرز’ آرگنائزیشن بند کر ‘اکھل بھارتی ڈسٹرییوسن آرگنائزیشن’ کا کاروبار سنبھالنے کو راضی ہو جائیں گے؟ اس میں انھیں کیا فائدہ ہو گا؟ اس پر وچار آیا کہ کیوں نہ انھیں بِنا کوئی رقم لیے ‘پربھات’ کا پانچواں حصہ دار بنا لیا جائے اور ان کی ‘فیمس پکچرز’ کو پربھات کی نیشنل ڈسٹری بیوشن آرگنائزیشن کے روپ میں بدل دیا جائے۔ شاید بابوراؤ اس کے لیے ضرور ہی تیار ہو جائیں گے۔ ‘پربھات’ کی بالکل پہلی فلم سے وہ ہمارے ساتھ جو تھے! لیکن بابوراؤ پینڈھارکر کے بارے میں داملے، فتےلال کی رائے خاص اچھی نہیں تھی۔ ان کی رائے تھی کہ بابوراؤ مہا حکمتی آدمی ہے، اپنا فائدہ ہر حالت میں ممکن کر کے ہی رہے گا! لہٰذا انھوں نے میرے سجھاؤ کی مخالفت کی۔ لیکن ان دونوں کو میں نے یقین دلایا کہ میں خود بابوراؤ پینڈھارکر کی ہرحرکت پر کڑی نظر رکھوں گا۔ ‘پربھات’ کو گڑھے میں ڈالنے والا کوئی کام وہ نہیں کریں گے، اس کی احتیاط برتوں گا۔ تب جا کر کہیں میرے حصے داروں نے میرا سجھاؤ مان لیا۔ بابوراؤ پینڈھارکر کیشوراؤ دھایبر کی جگہ پر پربھات کے پانچویں حصےدار بن کر آ گئے۔</p>
<p>اس کے کچھ دن بعد کمپنی میں ایک الگ ہی بات چل پڑی۔ کہا جانے لگا کہ ‘گوپال کرشن’، ‘تُکارام’ فلم کے مقابلے میں ‘آدمی’ اور ‘مانوس’ آمدنی کے خیال سے کم پُراثر ثابت ہوئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ میرے علاوہ کمپنی کے دیگر مالکوں نے ایک وچار رکھنا شروع کر دیا کہ “اس طرح کم آمدنی دینے والی فلمیں ‘پربھات’ جیسی کمپنی آخر بنائے ہی کس لیے؟ فلم میکنگ بھی آخر اپنے آپ میں ایک دھندا ہے۔ لہٰذا دھندے کا تقاضا تو یہی ہونا چاہیے کہ ایسی ہی فلمیں بنائی جائیں جن سے زیادہ آمدنی ہو”۔ اپنی بنائی ‘گوپال کرشن’ اور’تکارام’ کی آمدنی کے ہندسوں کا مقابلہ’ آدمی’ اور ‘دنیا نہ مانے’ کی آمدنی سے کرتے رہنا، داملے، فتے لال جی کا ایک نٹھلا شوق بن گیا۔ ان کے پاس نٹھلےپن کے لیے سمے بھی کافی رہتا تھا! لیکن ان دونوں نے اس بات کو آرام سے بھُلا دیا تھا کہ ‘گوپال کرشن’ اور ‘تکارام’ دونوں فلموں کے بننے میں میرا کردار کتنا رہا تھا!</p>
<p>میں نے جان بوجھ کر ان کے اس وچار کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا اور داملے جی، فتے لال جی کے لیے ایک نئی فلم کی تیاریاں شروع کر دیں۔ سکرین پلے کے لیے ایک سیدھا سادہ، سب لوگوں کو راس آنے والا موضوع چُنا: ‘سنت گیانیشور’! ان یتیم بھائیوں کی کہانی سب کے دلوں کو چُھو جانے والی، گہری بیٹھ جانے والی کہانی تھی۔ میں نے ‘تکارام’ اور ‘گوپال کرشن’ کے سکرین پلے تیار کرنے والے لیکھک شِورام واشیکر کو اس فلم کی کہانی لکھنے کو کہہ دیا۔ میں نے خود بھی گیانیشور کی آپ بیتی پڑھ ڈالی۔ گیانیشوری کا بھی تھوڑا بہت مطالعہ کیا۔ سکرین پلے کے موضوع کو لے کر وشیکرن جی میرے ساتھ چرچا کرنے لگے۔ بیچ بیچ میں داملے جی فتےلال جی بھی اس میں حصہ لیتے اور اپنی رائے ظاہر کرتے تھے۔ سکرین پلے تیار ہو گیا۔ فلم کی شوٹنگ کا انتظام بھی ہو گیا۔ ہم سب لوگ نئے جوش خروش سے کام میں جٹ گئے۔ کہنا نہ ہوگا کہ اس فلم کی ڈائریکشن کی ذمہ داری داملے جی اور فتے لال جی پر تھی۔</p>
<p>‘سنت گیانیشور’ کے لیے سنگیت دینے کا کام کیشوراؤ بھولے کو سونپا تھا۔ ‘پربھات’ میں شروع میں بطور ایکٹر کام کر چکے وسنت دیسائی کو میوزک ڈیپارٹمنٹ میں ان کے زیر کام کرنے کے لیے کہا۔ اسے ہدایات دی تھیں کہ جو بھی کام کرنا پڑے، کرے اور خالی سمے میں مختلف آلات کو بجانا بھی سیکھ لے۔ اسے جب چاہے آلات بجانے کی ریہرسل کرنے کی چُھوٹ دے دی تھی۔ ‘سنت گیانیشور’ میں ایک گاڑی بان کا گانا اس نے گایا اور گاڑی بان کا کام بھی اسی نے کیا۔ اس فلم کے بیک گراونڈ میوزک کا کام جاری تھا، تب وسنت دیسائی خود آگے آ کر بھولے کی مدد کرتا تھا، لیکن اس بھلے آدمی نے تعریف میں کبھی ایک لفظ بھی نہیں کہا، نہ ہی اس کا حوصلہ بڑھایا اور نہ ہی کبھی ایسا کام کیا جس سے وسنت دیسائی کی کوشش ہمارے بھی دھیان میں لائی جاتی۔ نتیجتاً ویسنت دیسائی کئی بار ناامید ہو جاتا تھا۔ یہ بات میری نظر سے بچ نہ سکی۔ میں نے اسے سمجھایا بجھایا، “دیکھو وسنت، تم تو اسی میں اطمینان مانو کہ تمھیں آخر کام کرنے کا موقع تو مل رہا ہے۔ خوب ڈٹ کر کام کرو، محنت کرو، مطالعہ کرو، میرا پورا دھیان تمھاری طرف ہے۔” دیسائی ویسے ہی بہت محنتی تھا۔ اسے میری باتوں سے جوش ملا اور وہ اور بھی زیادہ جوش سے من لگا کر کام کرنے لگا۔</p>
<p>اس بیچ ‘سنت گیانیشور’ کی شوٹنگ کے سمے داملے جی اور فتے لال جی میں ڈائریکشن کے کئی پہلوؤں پر ٹکراؤ ہونے لگے۔ کئی بار فتے لال جی کی ہدایات اعلیٰ فنکارانہ ہوتی تھیں، لیکن داملے جی اور ان کا معاون راجہ نے نے ان کے اچھے اچھے سجھاؤوں کو بھی نامنظور کر دیتے۔ پھر فتے لال جی اپنا خیال مجھے آ کر بتاتے اور پھر میں انھیں جا کر داملے جی کے گلے اتارتا تھا۔</p>
<p>‘تکارام’ اور ‘گوپال کرشن’ کی ڈائریکشن کرنے کے بعد بھی ان دونوں نے فلم میں کس شاٹ کی لمبائی کتنی ہو اور اس کے لیے کتنی فلم خرچ کی جانی چاہیے، اس کا کوئی مطالعہ نہیں کیا تھا۔ ایڈیٹنگ شروع کی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جو سین فلم میں مشکل سے پچاس ہی فیٹ رہنے والا ہے، اس کی شوٹنگ کے لیے ہزار دو ہزار فیٹ فلم ضائع کر دی گئی ہے۔ ایک ایک سین کی اتنی لمبی شوٹنگ حیرانی کی بات تھی۔ اس معاملے میں زیادہ احتیاط برتی جائے، اس احساس سے میں نے ان دونوں کو ایڈیٹنگ روم میں بلوا لیا اور براہ راست شوٹنگ کے نمونے دکھا کر بات کو سمجھاتے ہوئے کہا، “دیکھیے، ان ہزاروں فیٹ فلموں میں مناسب شاٹ کھوج نکالتے نکالتے میری تو ناک میں دم آ گیا! ‘تکارام’، ‘گوپال کرشن’ کی ڈائریکشن کر چکنے کے بعد بھی شوٹنگ کا ایک موٹا اندازہ بھی آپ نہیں لگا پائے، اس کی واقعی مجھے بہت ہی حیرانی ہوتی ہے!”</p>
<p>لیکن میں نے دیکھا کہ ان دونوں کو میری یہ بات پسند نہیں آئی۔ ایڈیٹنگ کرتے سمے فلم کے سکرین پلے میں رہ گئی ایک خرابی میرے دھیان میں آ گئی: گیانیشور جب بچہ تھا، ایک ننھی سی بچی اس سے محبت کرتی ہے۔ گیانیشور برہمچاری! لہٰذا اس بچی کا وہ کردار ایک دم اَدھر میں لٹکتا سا معلوم ہوتا تھا۔ اس اچھی بچی کے ناسمجھ پیار کو کہیں نہ کہیں یقین دلانا نہایت ضروری تھا۔ میں نے ایڈیٹنگ روک دی۔</p>
<p>سوچتے سوچتے ایک بہت ہی کومل اور اعلیٰ خیال من میں آیا۔ میں داملے جی، فتے لال جی کو ڈھونڈنے شوٹنگ ڈیپارٹمنٹ میں گیا۔ وہاں وہ دونوں پنت دھرم ادھکاری ساتھ نہ جانے کیا باتیں کر رہے تھے، مجھے آیا دیکھ کر چپ ہو گئے۔ میں نے انھیں ایڈیٹنگ کرتے سمے پیدا ہوا خدشہ بتایا اور کیا کرنا چاہیئے، بڑی اپنائیت سے میں بتانے لگا۔</p>
<p>ان دونوں نے میری بات سکون سے سن لی۔ اس کے بعد میرے اس نئے خیال پر داملے جی نے گھڑا بھر پانی ڈال دیا۔ انھوں نے کہا، “دیکھیے، سکرین پلے کے نقطۂ نظر سے مجھے نہیں لگتا کہ آپ جس بےکار کے سین کا ذکر کیے جا رہے ہیں، اس کی کوئی ضرورت ہے!”<br>
بات کا بتنگڑ نہ ہو، اس لیے میں نے بھی ان کی ‘ہاں’ میں ‘ہاں’ ملا دی۔</p>
<p>اس دن ایڈیٹنگ وہیں ادھوری چھوڑ کر میں پہلی منزل پر اپنے آفس کے باہر چھجے پر کہنیاں ٹیکے کھڑا آج کے واقعے پر غور کر رہا تھا۔ شام ہو رہی تھی۔ تبھی نیچے سے کسی کے بولنے کی آواز سنائی دی، “آج شانتارام بابو کو کیسی کھری کھری سنا دی!”</p>
<p>میں نے جھک کر دیکھا۔ داملے جی، فتے لال جی گپیں لڑاتے لڑاتے کمپنی کے احاطے میں بنے جلترن تالاب کی طرف چہل قدمی کرنےکے لیے جا رہے تھے۔ دونوں اپنی ہی باتوں میں ڈوبے ہونے کے کارن اوپر کی طرف ان کا قطعی دھیان نہیں تھا۔ داملےجی کہہ رہے تھے، “کیا ہی لاجواب کر دیا میں نے انھیں!” فتے لال جی بولے “ٹھیک ہی تو ہے! ورنہ اپنے ضدی سوبھاؤ کے کارن وہ اس سین کو اپنی خواہش کے مطابق پھر فلمانے پر اُتر ہی آتے!”</p>
<p>“اور بعد میں اسے بھی قینچی لگانی ہی پڑتی۔ تب کیا فلم ضائع نہ ہوتی؟ شانتارام بابو کا سوچنے کا ڈھنگ ہی کچھ ایسا ہے کہ وہ جو کریں گے یا کہیں گے وہ ایک دم درست اور صحیح اور باقی لوگ ہمیشہ غلط! عقل بٹتے سمے وہ اکیلے ہی جیسے بھگوان کے سامنے حاضر تھے!”</p>
<p>باتیں کرتے کرتے وہ دونوں آگے نکل گئے لیکن مجھے ان کی باتیں سن کر ایسا لگا جیسے کسی نے ابلتا ہوا ٹنکچر میرے کانوں میں ڈال دیا ہے۔ میں نے جو سین انھیں سمجھایا تھا اس کی کلپنا کا صحیح صحیح اندازہ دونوں نہیں کر پائے تھے۔ شاید ان کی ویسی اوقات بھی نہیں تھی۔ لیکن ان کے من میں میرے لیے جو زہریلے وچار تھے، انھیں سن کر میرا ماتھا بےحد ٹھنکا۔ سُن سا میں وہیں پتہ نہیں کب تک کھڑا رہا۔</p>
<p>وِمل نے مجھے ہلا کر اس غنودگی سے جگایا۔ چاروں طرف گھنا اندھیرا چھا چکا تھا۔ وِمل میرے پاس کھڑی تھی۔ آفس میں بتی جل رہی تھی۔ وِمل نے کہا، “پتہ ہے، آپ سوچ میں ڈوبے رہنے پر کتنے بھلے لگتے ہیں؟ لیکن دو نوالے بھوجن کرنے کے بعد سوچنے بیٹھیں گے نا، تو اور بھی اچھے دِکھیں گے!” ومل اس طرح مجھے کبھی چھیڑا نہیں کرتی تھی۔ لیکن اس لمحے تو اس کی ٹھٹھولی سن کر میری طبیعت کافی ہلکی ہو گئی۔ من کا غبار اتر گیا۔ ہم دونوں گھر کی طرف چل پڑے۔</p>
<p>دوسرے دن سویرے میں کمپنی میں ایک نیا فیصلہ کر کے ہی آیا۔ میرا سُجھایا گیا وہ سین فلم کی نظر سے فضول نہیں بلکہ نہایت ضروری ہے، یہ بات میں انھیں بتا دینا چاہتا تھا۔ میں ان دونوں کے کمرے میں گیا۔ وہ سین فلما کر فلم میں شامل کرنے کی درخواست کرنے لگا۔ تھوڑی سی ضد بھی کی۔ آخرکار مجبور ہو کر ہی وہ راضی ہو گئے۔ لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ، “آپ جس سین کی بات کر رہے ہیں اسے کیسے فلمایا جائے، ہماری تو سمجھ میں قطعی نہیں آیا ہے۔ لہٰذا اس کی شوٹنگ بھی آپ ہی کریں۔”</p>
<p>ایکٹنگ ڈیپارٹمنٹ میں حال ہی کام پر آئی مُتی گپتے کو میں نے فوراً ہی اس نوجوان لڑکی کا کام کرنے کے لیے تیار ہو آنے کے لیے کہا۔ ہمیشہ کے برعکس اس بار تو اس سین کا سنیریو بھی میں تیار کر کے نہیں لایا تھا۔ بس من میں جو سوچ اور خیالات آئے تھے انھیں کے مطابق میں دھڑلے کے ساتھ لگاتار شاٹس لیتا گیا اور وہ سین ایک ہی دن میں فلما کر پورا کر لیا۔</p>
<p>‘سنت گیانیشور’ تیار ہو گئی۔ بمبئی کے سینٹرل سنیما میں اسے ریلیزکیا گیا۔ فلم میں اچھا خاصا رنگ بھرتا جا رہا تھا۔ میں نے ضد کر کے فلم میں جو سین شامل کیا تھا، وہ پردے پر دکھائی دینے لگا۔ داملے جی، فتے لال جی میں کچھ کھسرپھسر شروع ہو گئی۔ لیکن میرا دھیان ان کی باتوں پر قطعی نہیں تھا۔ ناظرین کے اس سین کے بارے کیا تاثرات ہوتے ہیں، یہ جاننے کے لیے میں بےحد بےچین ہو اٹھا تھا۔</p>
<p>بچے گیانیشور سے دل ہی دل میں محبت کرنے والی وہ بچی اب جوان ہو گئی ہے۔ ندی کے گھاٹ پر ایک مندر کی اوٹ سے ندی میں نہا رہے پھرتیلے نوجوان گیانیشور کو وہ بڑی جذباتی عقیدت سے دیکھ رہی ہے۔۔۔ جوانی کی سرزمین میں ابھی ابھی قدم رکھ چکی وہ خوبصورت لڑکی کچھ زیادہ جھک کر گیانیشور کو نہارنے لگی ہے۔ اس کے من کی بےصبری اس کی نظر سے صاف ظاہر ہو رہی ہے۔ گیانیشور کا غسل ہو گیا ہے۔ وہ بھیگی کفنی سے ہی گھاٹ کی سیڑھیاں چڑھ جاتا ہے، مندر کی طرف چلا جاتا ہے۔ گھاٹ کی سیڑھیوں پر اس کے بھیگے نقشِ پا ابھر آتے ہیں۔ وہ لڑکی مندر کی اوٹ سے باہر آتی ہے۔ جلدی جلدی سامنے آ کر ان بھیگے نقشِ پا پر پھول چڑھاتی ہے اور بھکتی کے جذبے سے انھیں پرنام کرتی ہے۔</p>
<p>ناظرین نے اس پر تالیوں کی گڑگڑاہٹ کی۔ پاس ہی بیٹھے داملے جی، فتے لال جی کی طرف میں نے فاتحانہ انداز سے دیکھا۔ بےکار ہی لگا کہ شاید وہ بھی داد دیں گے۔ لیکن انھوں نے ویسا کچھ بھی نہیں کیا۔ لاتعلق انداز سے وہ فلم دیکھتے رہے!</p>
<p>پہلا شو ختم ہوا۔ کافی ناظرین اور ناقدین نے داملے جی فتے، لال جی کو دلی مبارکباد دی۔ دو ایک نقاد اس بھیڑ میں بھی مجھے کھوج کر ایک طرف لے گئے اور صاف صاف پوچھ ہی بیٹھے، “اس نوجوان لڑکی کا گیانیشور کے لیے بھکتی کے احساس سے بھری محبت اتنے علامتی انداز کے ساتھ فلمانے کرنے کا تخیل آپ کا ہی تو ہے نا؟ اس سین کو اتنی نزاکت کے ساتھ پیش کرنے کی مہارت آپ کے سوائے اور کون دکھا سکتا ہے!” من ہی من میں نے ان ناقدین کی تیز نظر کی داد دی۔ ان کی چالاکی کا لوہا مان لیا۔ لیکن اوپر سے ویسا کچھ بھی نہ جتاتے ہوئے فوراً کہا، “یہ تخیل شِورام واشیکر جی کا ہی ہے اور اس سین کو داملے، فتے لال جی نے فلمایا ہے۔” ان دونوں ناقدین نے سطحی طور پر میری بات مان لی اور ایک اچھی خوبیوں سے بھرپور فلم کے لیے مجھے بھی مبارکباد دے کر وہ چلے گئے۔</p>
<p>یہ مکالمہ چل رہا تھا تب پتہ نہیں کب واشیکر جی میرے پیچھے آ کر کھڑے ہو گئے، مجھے تو پتہ ہی نہ چلا۔ لیکن انھوں نے ہماری باتیں سن لی تھیں۔ جذباتی ہو کر میرا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں کس کر تھام کر وہ خاموش کھڑے رہے۔ ان کی آنکھوں میں جذباتیت چھلکنے لگی تھی۔ میں نے حیرانی سے پوچھا، “واشیکر جی، کیا بات ہے؟” رندھی آواز میں انہوں نے کہا، “فلم میں بھیگے نقش پا پر پھول چڑھانے والی اس لڑکی کا ایک خاموش سین— ویسا ہی اِسے بھی ایک اور خاموش سین جانیے!”</p>
<p>‘سنت گیانیشور’ کی ریلیز کے بعد پُونا واپس آنے پر ایک لیکھک وشرام بیڑیکر مجھ سے ملنے کے لیے تشریف لائے، ولایت جا کر وہ فلمنگ کی تربیت لے کر حال ہی وطن لوٹے تھے۔ ان کا لکھا ایک ناول ‘رنانگن’ میں اس سے پہلے ہی پڑھ چکا تھا اور تبھی سے ان کے ٹیلنٹ کا قائل ہو گیا تھا۔</p>
<p>اُن دنوں مہاتما گاندھی کی قیادت میں پورے بھارت میں آزادی کی جدوجہد کافی شدت کے ساتھ چل رہی تھی۔ انگریزی حکومت نے ‘پھوٹ ڈالو اور راج کرو’ والی کامیاب سیاست کے مطابق ہندوؤں اور مسلمانوں میں مذہبی منافرت ابھار کر بھارت پر اپنی طاقت کا شکنجہ کس لیا تھا۔ سبھی اخباروں میں ہندو مسلمانوں کے دنگوں کی خبریں سرخیوں کے ساتھ چھپتی تھیں۔ ان خبروں کو پڑھ کر میں بہت بےچین ہو اٹھتا تھا۔ سارے ملک میں آتش فشاں کی طرح سلگ رہے اس سوال پر آئندہ فلم بنانے کی ہمت کرنا میں نے طے کیا۔ وشرام بیڑیکر جیسا نئی سوچ کا باصلاحیت، ہنرمند لیکھک میرے خیالات کو لفظ دینے کے لیے تیار تھا۔</p>
<p>اس فلم کے لیے مجھے ایک نئی ہیروئین کی تلاش تھی۔ شانتا آپٹے ‘پربھات’ چھوڑ کر کبھی کی جا چکی تھی۔ ‘آدمی’ میں ہیروئن کا کام کر چکی شانتا ہُبلیکر اب کچھ اَدھیڑ سی ہو چلی تھی۔ ‘پربھات’ چھوڑ کر جانے کی اس کی منشا میرے کان پر آئی تھی۔ چونکہ آئندہ فلم کے لیے اس کا خاص استعمال ہونے والا نہیں تھا، ہم نے اسے کانٹریکٹ سے آزاد کر دیا۔</p>
<p>ایک دن سویرے ہی ممبئی کی نشنل گراموفون کمپنی کے ساؤنڈ ریکارڈنگ ہیڈ بابوراؤ مالپیکر ایک اچھی خوبصورت نوجوان لڑکی کو میرے آفس میں لے آئے اور اسے سیدھے میرے سامنے کھڑا کیا۔ میں نے اسے کیمرے کی نظر سے غور سے دیکھا۔ اس کا ناک نقشہ، ہونٹ، دیکھنے کی ادا، ٹھوڑی، بہت سڈول تو نہیں تھے، لیکن اس کی موٹی موٹی، کجراری، کچھ کچھ کٹاری سی آنکھیں بہت ہی متجسس، چمک دار اور نہایت پر کشش تھیں۔ نین بڑے چنچل تھے۔ میں نے اس سے اس کا نام پوچھا۔ اس نے کچھ جھجک کر بتایا، “ج۔۔۔ جےشری کامُلکر”۔ اس کی آواز مدھر تھی۔ سہج بھاؤ سے میں نے پوچھا کہ گانا وانا جانتی ہو؟ جواب بابوراؤ مالپیکر نے دیا، “اسے کلاسیکی موسیقی کی خاص جانکاری نہیں ہے، لیکن لائٹ میوزک، سینٹیمنٹل اور فلمی گیت اچھی طرح گا لیتی ہے۔ اس نے اس سے پہلے جن فلموں میں کام کیا، ان میں اپنے گیت خود گائے ہیں۔” میں نے ماسٹر کرشن راؤ کو بلا کر اس کا گانا سننے کے لیے کہا۔ سن کر انھوں نے اس کی آواز کے بارے میں اپنی پسند ظاہر کی۔ میں نے مینیجر کو بلوا کر اسے تین سال کے لیے کانٹریکٹ دینے کو کہا۔</p>
<p>دوسرے دن ‘پربھات’ کے منیجر جےشری کے کانٹریکٹ کا کچا چٹھا لےکر میرے پاس آئے۔ میں اسے پڑھ رہا تھا تو بولے، “انا، یہ جےشری کہتے ہیں کہ منحوس ہے۔”<br>
“منحوس؟ کیا مطلب؟”</p>
<p>“اس نے جس کسی فلم کمپنی میں کام کیا ہے، وہ بند ہو گئی۔ اس کا دِوالا پٹ گیا۔ ساؤنڈ سٹوڈیو، کیشوراؤ دھایبر کی کمپنی، سرسوتی سنےٹون، کتنے نام گناؤں؟ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ یہ سبھی فلم کمپنیاں بند ہو چکی ہیں!”</p>
<p>”دیکھیے، منحوس، جیوتش، ان سب باتوں کو میں قطعی نہیں مانتا۔ فلم خراب بناؤ تو کمپنی ضرور بند ہو گی۔ اس میں جےشری کا کیا قصور ہے؟ ‘پربھات’ ایسی منحوس وغیرہ بری باتوں کو پچا کر آگے ہی بڑھتی جائے گی! جائیے، آج ہی اس کانٹریکٹ کو پکا کیجیے اور اس پر جےشری کے دستخط کروا لیجیے!”</p>
<p>کمپنی کے رولز کے مطابق جےشری ہر دن سویرے نو بجے کام پر آ جاتی تھی۔ اپنی مدھر اور اچھی اچھی باتوں کے کارن وہ بہت ہی تھوڑے سمے میں سب کے ساتھ ہِل مل گئی۔ چھوٹے بڑے سب کو اس نے اپنا بنا لیا۔</p>
<p>بیڑیکرجی نے کہانی کا موٹا خاکہ بنا لیا۔ نئی فلم کے لیے میرا سُجھایا گیا موضوع ویسے کسی بھی لیکھک کے لیے ذرا مشکل ہی تھا۔ پھر انگریزوں کے سنسر کی قینچی کا بھی ڈر تھا، فلم میں دو بنیادی کردار، دونوں بوڑھے اور پڑوسی متر۔ ایک ہندو دوسرا مسلمان۔ انگریز حاکموں کے خیالات کی نمائندگی کرنے والا ایک ولن بھی بنایا۔ یہ سرمایہ دار ہوتا ہے، اپنے فائدے کے لیے وہ ندی پر ایک باندھ بنوانے کا پروگرام بناتا ہے۔ باندھ کے کارن کافی غریب کسانوں کی زمین پانی میں ڈوبنے والی ہوتی ہے۔ اس سرمایہ دار کو اس کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ وہ ان سب کی زمینیں خرید لینے کی ٹھان لیتا ہے۔ پہلے تو کوئی زمین بیچنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ پھر انگریزوں کی Distinction policy کا سہارا لے کر وہ سرمایہ دار گاؤں والوں میں پھوٹ ڈالتا ہے، اختلافات پیدا کرتا ہے اور اپنا الو سیدھا کر لیتا ہے۔ اسی چکر میں ان دو بوڑھے متروں میں بھی اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں اور دونوں کے خاندان دھیرے دھیرے تنہا سا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ایک دوسرے سے دور ہونے لگتے ہیں۔</p>
<p>— موٹے طور پر کہانی کا فارمولا یہی رکھنے کا فیصلہ کیا۔ سماجیت اور سیاست کا توازن برابر سنبھالنا تار پر کسرت کرنے کے جیسا تھا، لیکن ویسا کرنا ضروری بھی تھا۔ سنسر کی تیز نظر سے فلم کو پاس جو کرانا تھا!</p>
<p>دو بوڑھوں کے کرداروں پر مبنی یہ کہانی لوگوں کو بےجان اور روکھی معلوم ہوتی، لہٰذا لوگوں کی دلچسپی کے لیے ایک محبت کرنے والا نوجوان جوڑا بھی سکرین پلے میں شامل کیا۔ دو بنیادی بوڑھوں میں سے ایک ہندو بوڑھے کا نوجوان لڑکے اور اس سرمایہ دار کی لڑکی کے کچھ لَو سین کا فلمانا اس فلم میں جان بوجھ کر شامل کیا۔ حقیقت میں یہ لَو سین اس صاف ستھری کہانی میں تھگلی لگانے کے برابر ہی تھے۔ میں نے اپنے آدرشی اور فنکارانہ من کو سمجھایا اور فلم میں ان کرداروں اور منظروں کا وجود مجبوراً قبول کیا۔ اس فیصلے کے پیچھے صرف یہی احساس تھا کہ ہماری آدرشی فلم زیادہ سے زیادہ لوگ دیکھیں۔ لیکن جب جب میں اس فلم کو دیکھتا، ہر بار جی کرتا کہ ان سارے لَو سینز کو کاٹ کر الگ کر دوں۔ نئی فلم کا نام ہندی میں ‘پڑوسی’ اور مراٹھی میں ‘شیجاری’ رکھا۔</p>
<p>میں نہیں چاہتا تھا کہ اس فلم کے کارن ہندو یا مسلمان کسی کے من کو ٹھیس لگے اور ان میں بےکار ہی پرائےپن کا احساس پیدا ہو۔ لہٰذا میں نے کافی سوچ وچار کے بعد ایک فیصلہ کیا ‘پڑوسی’ میں بوڑھے مسلمان متر کا کردار گجانن جاگیردار نامی ہندو اداکار اور ہندو متر کا کردار مظہر خان نامی مسلمان اداکار کرے۔ مراٹھی ورژن میں بوڑھے ہندو متر کی اداکاری کیشوراؤ داتے کرے۔ مکمل ریہرسلز شروع ہو گئیں۔ گجانن جاگیردار اور مظہر خان جیسے ماہر اداکار بھی میری بتائی اداکاری کی باریکیوں کو خوب من لگا کر دیکھتے اور پورا مطامعہ کر ان کو ٹھیک ٹھیک اپنی اداکاری میں اتارتے۔</p>
<p>وہ گرمیوں کے دن تھے۔ کمپنی کی ایک طرف ہم لوگوں نے جنگل کے سین کو فلمانے کے لیے کچھ پیڑ پودے منصوبے سے لگائے تھے۔ اس جھنکاڑ کے پار تیراکی کے لیے ایک تالاب بھی بنایا تھا۔ میں کئی بار گھر کے لوگوں کے ساتھ شام کو وہاں تیرنے جایا کرتا تھا۔ ایک اتوار کو جےشری کو پتہ چل گیا کہ میں تیرنے جانے والا ہوں۔ اس نے بھی تیرنے کے لیے آنے کی اجازت چاہی۔ دوسرے دن ہم سب لوگ تالاب میں کافی ڈوبتے ابھرتے رہے تھے۔ کمار اور سروج بھی تھوڑا تھوڑا تیرنا سیکھ چکے تھے۔ وِمل تو بس صرف چند ہاتھ پاؤں پانی میں آزما لیتی تھی۔ میں نے اس کے پیٹ کے نیچے سہارا دے کر اسے کچھ تیرنا سکھایا۔ مدھو کو پیٹھ پر بٹھا کر تالاب کا ایک چکر میں نے پورا کیا۔ جےشری اچھا تیر رہی تھی۔ کچھ دیر بعد وِمل اور بچوں کو کم گہرے پانی میں ہی ڈوبنے ابھرنے کی ہدایت دے کر میں تیزی کے ساتھ پانی کاٹتا ہوا جلترن کا مزہ لینے لگا۔ تالاب کے دو تین چکر لگا لیے پھر میں پانی کی سطح کے نیچے غوطے لگانے لگا۔ میرا ہاتھ کسی کی پنڈلی سے لگا! پانی کی سطح پر آ کر دیکھا وہ جےشری تھی! میرا دم بھر گیا تھا! میں وہیں پاس کا چھجا پکڑ کر سانس لینے کے لیے رکا۔ اسی سمے میری پیٹھ پر کسی کے ہاتھ کا احساس لگا! میں نے مڑ کر دیکھا، جےشری میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی!</p>
<p>میں نے پھرتی سے پانی کے اندر غوطہ لگایا اور سطح کے نیچے سے ہی تیرتا ہوا اس سے کافی دور نکل گیا۔ اس کے بعد کافی دیر تک میں اتنا تیرا کہ تھکنے تک تیرتا ہی رہا۔ تبھی وِمل کی آواز سنائی دی، “اجی، اب بس بھی کریے۔ کب تک ڈوبتے ابھرتے رہیں گے؟”</p>
<p>تھوڑی دیر بعد ہم سبھی گھر لوٹنے کے لیے نکلے۔ جےشری بھی ہمارے پیچھے پیچھے چلی آ رہی تھی۔ کمپنی کے پھاٹک کے پاس پہنچنے پر اس نے اپنا جلوہ مجھ پر گرا کر پوچھا، “اب میں جاؤں؟”<br>
میں نے کچھ روکھے پن سے کہہ دیا، “جاؤ۔”</p>
<p>ہماری فلم کے مدراس میں ڈسٹری بیوٹر نے مدراس میں ‘پربھات’ نامی سنیماگھر بنوایا۔ اس کا افتتاح میرے ہاتھوں ہونا تھا۔ چار پانچ دن بعد میں اور وِمل اس تقریب کے لیے جانے کے لیے مدراس میل میں بیٹھے۔ اس یاترا کی خبر دینے کے لیے دو تین اخباروں کے انٹرویو لینے والے بھی ہمارے ساتھ تھے۔ حقیقت میں مَیں تھا لوگوں کی تفریح کرنے والا فلم ڈائریکٹر، کوئی سیاست دان تو نہیں تھا۔ پرچار، پبلسٹی، انٹرویوئرز کا اس طرح ساتھ ہونا، یہ باتیں مجھے ایک دم پاکھنڈ سی لگتی تھیں۔</p>
<p>پُونا سے میل چل پڑی۔ رات بیت گئی۔ جنوبی بھارت کی طرف میل تیزرفتار سے دوڑی جا رہی تھی۔ بیچ میں کسی سٹیشن پر گاڑی رکی۔ مدراس میل اس سٹیشن پر رکتی نہیں تھی۔ عوام کے خاص اصرار پر گاڑی وہاں روکی گئی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کی بھیڑ میرے ڈبے میں پھول مالائیں لے کر گھسی۔ انھوں نے ہار مجھے پہنا دیے۔ پھولوں کے گلدستے ہاتھوں میں تھما دیے۔ پل بھر تو میں بھونچکا رہ گیا۔ ماجرا آخر ہے کیا، کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ لگا کہ ہو نہ ہو، ان سب کو شاید کچھ غلط فہمی ہو گئی ہے۔ وہ مجھے کوئی لیڈر سمجھ بیٹھے ہیں۔ لیکن ان کی جنوبی بھاشا میں بھی میں اپنا نام اور اپنی فلموں کا ذکر صاف سن رہا تھا، سمجھ بھی پا رہا تھا۔</p>
<p>میرے ساتھ آئے انٹرویوئرز میں ایک تمل بھاشی تھا۔ میں نے اس سے جاننا چاہا کہ آخر یہ لوگ اس طرح میری اتنی آؤبھگت کس لیے کر رہے ہیں۔ اس نے کہا، “یہ لوگ آپ کے قائل ہیں، کہہ رہے ہیں کہ وی شانتارام صرف رنگین فلم ہی نہیں بناتے، سماجی حالات کے لیے بیدار رہ کر فلم بنانے والا آج یہی واحد ڈائریکٹر ہے، اور اسی لیے وہ ہمارے لیے پوجنے لائق ہے!”</p>
<p>“لیکن ان سب کو یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ میں اسی گاڑی سے جا رہا ہوں؟” میرے اس بچگانے سوال پر وہ انٹرویو لینے والا قہقہے لگا کر کہنے لگا، “لو، یہ تو آپ نے کمال کر دیا! اجی، آپ کے اس سفر کی خبر اخباروں میں جو چھپ چکی ہے، اسی لیے تو آپ کا یہ پُرجوش استقبال ہو رہا ہے۔” اس کے بعد مدراس پہنچنے تک ہر سٹیشن پر اسی طرح کی استقبالیہ تقریب کم وبیش ہوتی رہی۔</p>
<p>آخر گاڑی مدراس پہنچی۔ سٹیشن پر بھاری بھیڑ جمع ہو گئی تھی۔ جیسے ہی میں اپنے ڈبے کے دروازے پر آیا، لوگوں نے جوش سے ہاتھ ہلا کر میری جے جےکار کی۔ سٹیشن تو دکھائی ہی نہیں دے رہا تھا۔ جدھر دیکھو، آدمی ہی آدمی نظر آ رہے تھے۔ جیسے اتھاہ انسانی ساگر ہی وہاں ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ لگ بھگ ایک گھنٹے تک میرے گلے میں پھولوں کے ہار پڑتے رہے۔ انھیں نکال نکال کر میں پیچھے کھڑی وِمل کو دیتا گیا۔ وِمل ان مالاؤں کو ہم دونوں کے بیچ رکھتی گئی۔ بیچ ہی میں میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا، وِمل کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ تبھی اسی کی آواز سنائی دی، “اجی۔۔۔۔” شاید وہ پھول مالاؤں کے ڈھیر سے ڈھک گئی تھی۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر اسے اس ڈھیر کے آگے لانگھ کر آنے میں مدد کی۔ سٹیشن پر اتنے لوگ اکٹھے ہو گئے تھے کہ بھیڑ میں سے راہ نکالنا ٹیڑھی کھیر بن گیا تھا۔ آخر ہمارے ڈبے کے پیچھے کی طرف سے ایک پولیس دستہ آ پہنچا اور اس نے ہمیں دوسری طرف سے باہر جانے میں مدد کی۔ دوسرے راستے سے وہ ہمیں باہر لے گئے۔ باہر سٹیشن کے کورٹ یارڈ میں بھی بھاری بھیڑ جمع تھی۔ ان میں کچھ جوشیلے نوجوان مجھے میرے نام سے پکار پکار کر ہاتھ ہلا رہے تھے۔ میں ان سبھی محبت کرنے والوں کو کبھی ہاتھ جوڑ کر، کبھی ہاتھ ہلا کر سلام کر رہا تھا۔ راستے کی دونوں طرف لوگ صرف مجھے دیکھنے کے لیے کھڑے تھے۔ آخر مدراس میں ہمارے میزبان کے گھر کے پاس ہم لوگ آ پہنچے۔ گھر کے پاس بھی بھاری بھیڑجمع تھی۔ کچھ پیار کرنے تو گھر کی چھت پر چڑھ کر وہیں سے مجھے زور زور سے آواز دے رہے تھے۔ میں نے وِمل کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما اور پریم کی اس پھُنکارتی باڑھ سے راستہ نکالتے ہوئے جیسے تیسے میزبان کے گھر میں داخل ہو گیا۔</p>
<p>مدراس میں ہمارے میزبان تھے ہمارے ڈسٹری بیوٹر جینتی لال ٹھاکر۔ حال ہی میں وہ ایک جان لیوا حادثے سے بال بال بچ گئے تھے۔ ان کے گھر میں، پتہ نہیں کیسے، آگ لگ گئی تھی۔ اس میں وہ کافی جھلس گئے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی وہ بستر سے اٹھے اور مجھے گلے لگا لیا۔ جذباتی ہو کر بولے، “میں بچ گیا، زندہ رہ گیا! لیکن سٹیشن پر نہ آسکا۔ آپ کا گرینڈ استقبال دیکھنا میری قسمت میں نہیں تھا! لیکن سارا حال مجھے یہاں بستر پر پڑے پڑے معلوم ہو گیا!” اتنا کہہ کر وہ ادھیڑ عمر کا آدمی پاگل جیسا رونے لگا۔ میں نے انھیں سمجھایا بُجھایا اور تسلی دی۔ اس آدمی کا میرے لیے اور ہماری ‘پربھات’ کے لیے دلی پیار تھا!</p>
<p>مدراس کے اپنے دورے میں نے ‘پربھات تھئیٹر’ کا افتتاح کیا۔ وہاں کی سماجی اور فلم انڈسٹری سے جڑی انجمنوں کی طرف سے ہمارے احترام میں کئی استقبالیہ تقریریں منعقد کی گئیں۔ ان تقریبوں میں مختلف لوگوں سے میل ملاقاتیں ہوئیں، ان لوگوں میں تمل، تیلگو، ملیالم، کنڑ بھاشا بھاشی سبھی فنکار، پروڈیوسر اور ڈائریکٹر شامل تھے۔ ان میں سے کئیوں نے تو میرے چرن چھو کر مجھے پرنام کیا۔ ایسی حرکتیں میں پسند نہیں کرتا تھا۔ مخالفت کرتا، تو چرن چھونے والا بڑے ہی ادب سے کہتا، “آپ ہمارے گرو ہیں!”</p>
<p>“میں آپ کا گرو؟ وہ کیسے؟” میں پوچھتا۔</p>
<p>تو سامنےوالا جذباتی جواب دیتا، “آپ کی فلموں کو باربار دیکھ کر ہی تو ہم نے فلم کلا کی کئی باریکیاں اکٹھی کی ہیں۔ آپ کا چرن چھونا ہماری خوش قسمتی ہے۔ اس کارن ہمیں اپنے کام میں بڑی طاقت حاصل ہو گی!”</p>
<p>اپنے لیے اتنی عقیدت، اتنا احترام، اتنا پیار آج تک میں نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ ایسے موقع پر بولتا بھی، تو کیا؟ کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ میں جہاں بھی جاتا، وِمل بھی میرے ساتھ ہوتی۔ اس سماج کی عورتیں اس کا استقبال بھی پورے جذبے سے کرتیں۔ اپنے لیے اتنا پیار دیکھ کر وِمل من ہی من میاں مٹھو بن رہی تھی۔ فلم کلا کے شعبے میں وِمل کو کوئی خاص علم تو نہیں تھا، نہ ہی اس سے اس کی امید کرنا مناسب تھا۔ لیکن میرے سکھ میں ہی اپنا سکھ، اور میرے دکھ میں ہی اپنا بھی دکھ مانتی آئی سادی، بھولی وِمل پتی کے اتنے شاندار استقبال اور تعریف سے سیر ہو گئی تھی۔ وہ سیری اس کی آنکھوں میں صاف جھلکتی تھی۔ اس بات پر ہو رہا سکون اس نے میرے پاس کبھی ظاہر نہیں کیا۔ لیکن آج بھی مجھے اس بات کا دلی اطمینان ہے کہ میرے افتحار کی بڑھوتری میں وِمل بھی برابری کی حصےدار تھی۔</p>
<p>مدراس میں ہم لوگ دس دن رہے۔ وہ دس دن پتہ نہیں کب بیت گئے۔ بچوں کے لیے کچھ سِلے سِلائے کپڑے اور وِمل کے لیے جنوبی ڈھنگ کی کچھ ساڑھیاں خریدنے کے ارادے سے ہم کپڑے کی ایک دکان پر گئے۔ وِمل نے کچھ ساڑھیاں پسند کیں۔ میں نے اسے ایک اور ساڑھی خریدنے کے لیے کہا۔ اس نے سہج بھاؤ سے پوچھا، “کس کے لیے؟” میں نے زیادہ کچھ بھی نہ بتاتے ہوئے اتنا ہی کہا، “کمپنی میں وہ جےشری آئی ہے نا، اس کے لیے!”</p>
<p>وِمل جےشری کے لیے ساڑھی پسند کرنے لگی۔ وچار کرتے کرتے میرا ارادہ بدل گیا۔ ساڑھی مت خریدنا، کہنے کے لیے میں وِمل کی طرف مڑا ہی تھا کہ اس نے اپنی پسند کی ایک ساڑھی میرے سامنے رکھی۔ میں نے صرف سر ہلا دیا۔</p>
<p>مدراس سے پُونا واپس آنے کے لیے ہم نکلے۔ سٹیشن پر پھر بےحد بھیڑ امڈ پڑی تھی۔ سب سے وداع لیتے ہوئے میں اور وِمل ڈبے کے دروازے پر کھڑے تھے۔ گاڑی چلی۔ میرا من سحرزدہ ہو گیا تھا۔عوام کا یہ بےپناہ پیار دیکھ کر میری آنکھیں بھر آئیں۔ گاڑی نے رفتار پکڑی۔ ڈبے کے ایک کونے میں مَیں چپ چاپ بیٹھا رہا۔ کسی سے باتیں کرنے کو جی ہی نہیں کر رہا تھا۔ میرے چاہنے والوں نے جو عقیدت ظاہر کی، جو پیار مجھے دیا، یہ سب اسی لیے کہ میں نے سماجی فلمیں بنائی ہیں۔ لہٰذا آگے چل کر بھی ہر حالت میں مجھے سستی مقبولیت کے چکر میں نہ پڑتے ہوئے سماج میں ظاہر مسائل کو آواز دینے والے ایک سے ایک بڑھ کر درجے فلم بناتے رہنا چاہیے، یہی وچار میرے من میں دوبارہ پختہ ہوتا گیا۔ واپسی یاترا میں بھی وہی حال رہا، جو مدراس جاتے سمے رہا تھا۔ ہر سٹیشن پر ہار اور گلدستہ لیے لوگ دلی وداعی دیتے تھے۔ ایک بار تو آدھی رات کسی سٹیشن پر لوگوں نے ریل کی پٹریوں پر کھڑے ہو کر ہماری گاڑی کو زبردستی رکوا لیا۔ ہمارے ڈبے کی کھڑکیوں اور دروازے پر زور سے دستکیں دے دے کر ہمیں جگایا اور ہم سے وداع لی۔</p>
<p>مقبولیت کی اس بےمثال امرت ورشا (رس کی برسات) میں بھیگتے نہاتے ہم دونوں واپس پونا آ گئے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-23/">شانتا راما — باب 23: امرت ورشا (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-23/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>شانتا راما — باب 22: نئے خیالات کی لہر (ترجمہ: فروا شفقت)</title>
		<link>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-22/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-22/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فروا شفقت]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 13 Jan 2021 17:54:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Aadmi]]></category>
		<category><![CDATA[aaj]]></category>
		<category><![CDATA[ajmal kamal]]></category>
		<category><![CDATA[farwa shafqat]]></category>
		<category><![CDATA[shantarama]]></category>
		<category><![CDATA[آدمی]]></category>
		<category><![CDATA[فروا شفقت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25975</guid>

					<description><![CDATA[<p>پُونا کے ڈاکٹر بھڑکمکر نے میری صحت کی جانچ کی اور تشخیص بتائی: 'نروس بریک ڈاؤن'!</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-22/">شانتا راما — باب 22: نئے خیالات کی لہر (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>دن نکل آیا، مجھے کافی ہلکا ہلکا محسوس ہونے لگا۔ جلدی تیار ہو کر کمپنی میں گیا اور ایک آزاد ذہن سے ‘آدمی’ کی میکنگ کے کام میں اپنے آپ کو جھونک دیا۔ دن بھر شوٹنگ کرنے کے بعد رات میں یا تڑکے اٹھ کر میں سنیریو لکھنے بیٹھا کرتا تھا۔ دن رات مجھ پر تو بس یہی ایک دُھن سوار رہتی کہ کیسے فلم کا ہر سین پُراثر ہو گا، کیسے ہر سین ناظرین کے ذہن پر انمٹ چھاپ چھوڑ جائے گا۔ ہر سین لینے سے پہلے ہی اُس کے کرداروں اور کیمرے کی چھوٹی سے چھوٹی ہلچل کیسی ہو، اس کا مکمل خاکہ میرے من میں تیار رہتا تھا، ایک دم صاف اور واضح۔</p>
<p>چکلہ بستی میں گھومتے پھرتے سمے آخر میں ہماری ملاقات جس ویشیا سے ہوئی تھی اس نے زور دے کر کہا تھا کہ ہم لوگ اگرچہ جسم بیچتے ہیں، ہر دن صبح بھگوان کی پوجا کیے بنا پانی تک نہیں پیتے۔ اس کی بات سن کر تب ہم لوگ کافی دنگ رہ گئے تھے۔ میں چاہتا تھا کہ مہذب سماج کی نظروں میں گری ہوئی اور بدنام ہو چکی ان عورتوں کی جو مذہبی ذہنیت ہے، ناظرین کے سامنے بِنا کہے آ جائے۔ لہٰذا ایک چُھپا ہوا مزاحیہ سین میں نے سکرین پلے میں جوڑ دیا : ہیروئین والی چال میں ہی دو ویشیائیں سویرے پوجا کرتے کرتے بیچ ہی میں اپنے کوٹھوں کے دروازوں پر آ کر کل رات آئے کسی گاہک کے بارے میں زوروں سے جھگڑا کرتی رہتی ہیں۔ ان میں سے ایک کو اتنا طیش آ جاتا ہے کہ پوجا کا خیال بُھلا کر آرتی کا دِیا ہاتھ میں لیے ہی وہ دروازے پر آ کر پتہ نہیں کیا کیا بڑبڑاتی رہتی ہے اور پھر اندر چلی جاتی ہے۔ اس کے جواب میں جھگڑے میں الجھی دوسری ویشیا بھی پوجا کی گھنٹی ہاتھ میں لیے اپنے دروازے پر آ کر پہلی ویشیا کو کافی بھلا برا کہہ کر پھر اندر چلی جاتی ہے اور پوجا کرنے لگ جاتی ہے۔ یہ سلسلہ کچھ دیر یوں ہی میں نے جاری رکھا۔</p>
<p>ویشیاؤں کے کوٹھوں پر مختلف مذاہب اور جاتیوں کے لوگ جایا کرتے ہیں۔ اس ویشیا کے کوٹھے پر گاہکوں کو ہوٹل سے چائے لا کر دینے والے چھوکرے کے منہ سے یوں ہی مذاق میں ایک بے معانی بکواس گیت گوایا تارے۔۔ نا۔۔ نانو۔۔ نانو۔۔</p>
<p>کیسر اپنے کوٹھے پر آئے مختلف صوبوں کے شوقین گاہکوں کے سامنے ‘اب کس لیے کل کی بات’ گانا گاتی ہے۔ سبھی رسیا گاہک خوش ہو کر اس پر پیسوں کی برسات کرتے ہیں۔ وہ سب لوگ کوٹھے پر سے چلے گئے ہیں، یہ سین دِکھتا ہی نہیں۔ دکھائی دیتی ہے صرف ان کی کیسر پر کی گئی پیسوں کی برسات۔ اس سے تو کتنی ہی باتیں بِنا کہے اشارے سے ہی من پرنقش ہو جاتی ہیں؛ جیسے ابھی کچھ ہی لمحے پہلے وہاں جمی محفل میں آئے کیسر کے چہیتے اس کی اپنی نگاہ میں صرف چند چاندی کے سکے ہیں، زندگی چلانے کے محض ذرائع ہیں، اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ تھکی ماندی کیسر غیر متغیر من اور چہرے سے دھیرے دھیرے ان سِکّوں کو بٹورتی دکھائی گئی ہے، وغیرہ وغیرہ۔</p>
<p>گنپت کیسر کو دھندا چھوڑ دینے کے لیے کہتا ہے اور اسے پہلے کے برعکس کچھ مزید مہذب بستی کی ایک چال میں لے آتا ہے۔ گنپت ایک معمولی آدمی ہے۔ اسے لگتا ہے یہ بھی اس نے کوئی بہت بڑا کام کر لیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس کے من میں یہ ڈر بھی سمایا ہوا ہے کہ اس عورت کے ساتھ کسی پہچان والے نے اپنے کو دیکھ لیا تو بہت درگت بن جائے گی۔ اسے نئے کمرے میں پہنچا کر، گنپت یہ کہتا ہوا چلا جاتا ہے کہ ”شام کو اندھیرا ہونے کے بعد آؤں گا۔” یہاں ‘شام’ کے ساتھ ہی ‘اندھیرا ہونے کے بعد’ یہ لفظ رکھنے کے کارن گنپت کے من میں چھپا وہ ڈر بھی اپنے آپ ظاہر ہو گیا کہ وہ چاہتا ہے، اسے وہاں آتے کوئی دیکھ نہ لے۔ کیسر شام ہونے تک اس کی راہ تکتے تکتے اوب جاتی ہے۔ یوں ہی وہ کمرے میں جلائی موم بتی کی موم کی بوندوں سے’ ٢٥٥’ کا ہندسہ زمین پر بناتی ہے۔ یہ گنپت کے پولیس بیج کا نمبر ہوتا ہے۔ اندھیرا ہونے کے بعد گنپت اس کے کمرے کی طرف جانے کی ہمت بٹورتا ہے۔ لیکن پاس ہی کے کمرے میں گنپت کا کوئی دور کا رشتےدار گاؤں سے آ کر ٹھہرا ہوا ہوتا ہے۔ برآمدے میں اپنا بستر بچھانے کی تیاری کر رہے اس رشتےدار کو دیکھتے ہی گنپت کی ساری ہمت پست ہو جاتی ہے۔ وہ اس بوڑھے رشتےدار سے منھ دیکھا حال احوال پوچھ کر کیسر سے ملے بِنا ہی واپس چلا جاتا ہے۔</p>
<p>کئی بار ذہن کی الجھی ہوئی گتھی اشارتاً سین میں ہی زیادہ پُراثر معلوم ہوتی ہے۔ گنپت کو اس طرح لوٹتا دیکھ کر کیسر مایوس ہو کر اپنے پرانے کمرے میں چلی آتی ہے اور مجبور ہو کر اپنا پہلا دھندا پھر شروع کرتی ہے۔ گنپت اس کے کوٹھے پر آتا ہے۔ اس سمے وہاں دو گاہک بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ کیسر کی اُن کے لیے منگوائی گئی چائے میں بڑی اکڑ کے ساتھ روپے کا سکہ ڈالتے ہیں اور کیسر سے کہتے ہیں، اپنے ہاتھوں چائے پلاؤ۔ کیسر ہنستے ہنستے ایک بانہہ ان کے گلے میں ڈال کر انھیں چائے پلاتی ہے اور پیالی میں ڈالا روپیہ نکال لیتی ہے۔ تبھی اس کی نظر دروازے پر کھڑے گنپت کی طرف جاتی ہے۔ وہ اسے بھی پوچھتی ہے، “چائے لو گے؟” گنپت ‘ہاں’ کرتا ہے۔ کیسر چائے کی پیالی اس کے سامنے لے کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ گنپت پیالی میں ایک سکہ ڈال کر وہ گرم چائے غصے میں کیسر کے منھ پر دے مارتا ہے اور تمتما کر وہاں سے لوٹ جاتا ہے۔ اب کیسر کو بھی غصہ آتا ہے۔ وہ تنتناتی ہوئی اس کے پیچھے پیچھے جاتی ہے اور اس کی اس حرکت کا جواب مانگتی ہے۔ گنپت آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور اپنے ڈنڈے میں جو چمڑے کا پٹا لگا ہوتا ہے اس کا ایک کوڑا کیسر کی جانگھ پر جما دیتا ہے۔ کیسر بھی غصے میں سڑک پر پڑا ایک بورڈ اٹھا لیتی ہے اور گنپت کو مارنے کے لیے اٹھاتی ہے لیکن وہ اسے مار نہیں سکتی۔ اور سڑک کے ایک کھمبے پر ہی اپنا غصہ اتارتی ہے۔ اس بورڈ کو وہیں پھینک کر وہ تنکتی ہوئی چلی جاتی ہے۔</p>
<p>گنپت اس کی طرف دیکھتا رہتا ہے اور اپنی ہی جانگھ پر اسی پٹے کا ایک کوڑا کس کر جما لیتا ہے۔ محسوس کرنا چاہتا ہے خود کہ کیسر کو کتنے زور سے لگا ہو گا وہ کوڑا۔ پھر اس سمت کی طرف دیکھتا رہتا ہے جدھر کیسر گئی ہے، اور جانگھ ملتا جاتا ہے۔</p>
<p>دھیرے دھیرے گنپت آگے بڑھتا ہے۔ راہ میں ایک مکان کی دیوار پر اس نے کیسر سے ملاقات کرنے کے بعد ایک ایک لکیر کھینچی ہے۔ ان لکیروں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دونوں کتنی بار ملے تھے۔ وہاں پہنچنے پر گنپت پھر ایک بار کیسر جدھر چلی گئی تھی، ادھر دیکھتا ہے اور اپنے ہاتھ کے ڈنڈے سے اس دیوار پر ایک اور لکیر بنا دیتا ہے۔ ویسے دیکھا جائے تو اس بار ہوئی ملاقات آپسی جھگڑے والی تھی۔ گنپت کے اس فعل سے اس کے من کی گہرائی میں کیسر کے لیے کتنی محبت ہے یہی بات ابھر کر آتی ہے۔ اس طرح غصہ اور موہ سے پرے نا قابل بیان اعلیٰ جذبات کا ملا جلا احساس واضح ہو جاتا ہے اور علامتی تخیل اپنے کلائمکس تک پہنچ جاتا ہے۔</p>
<p>گنپت اپنے گاؤں میں اپنے کھیت پر جانے کو تیار ہوتا ہے۔ کیسر بھی اس کے پیچھے پیچھے جاتی ہے۔ دونوں ایک جھونپڑی میں رات بھر کے لیے قیام کرتے ہیں۔</p>
<figure id="attachment_25977" aria-describedby="caption-attachment-25977" style="width: 350px" class="wp-caption alignleft"><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2021/01/Adami-laaltain.jpg"><img decoding="async" class="size-full wp-image-25977" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2021/01/Adami-laaltain.jpg" alt width="350" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2021/01/Adami-laaltain.jpg 350w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2021/01/Adami-laaltain-210x300.jpg 210w" sizes="(max-width: 350px) 100vw, 350px"></a><figcaption id="caption-attachment-25977" class="wp-caption-text">فلم ‘آدمی’ کا پوسٹر</figcaption></figure>
<p>وہاں پھیلی خاموش تنہائی کے کارن کیسر سوچتی ہے کہ گنپت اب اسے اپنی بانہوں میں بھر کر پاس سلائے گا۔ وہ جھونپڑی کے اندر سے بے کار ہی کچھ بولنے کی کوشش کرتی ہے۔ جھونپڑی کے اندر اکیلی کو بڑا ڈر لگ رہا ہے، ایسا بہانہ بھی بناتی ہے۔ لیکن کچھ دیر بعد یہ دیکھ کر کہ باہر سے گنپت کا کچھ بھی جواب نہیں آیا، وہ یہ دیکھنے کے لیے کہ آخر گنپت اکیلا باہر کر کیا رہا ہے، جھونپڑی کے دروازے پر آتی ہے۔ دیکھتی ہے، گنپت تو ایک کمبل اوڑھ کر گھوڑے بیچ کر سو گیا ہے۔ اس سیدھے سادے ضدی گنپت کی طرف سراہنا بھری نظر سے دیکھتے دیکھتے کیسر جھونپڑی کی دہلیز پر بیٹھ جاتی ہے۔</p>
<p>ضبط کے سلیقے کا پران ہوتا ہے۔ اس لَو سین کو ٹالنے کے کارن ساری فلم کو ہی ایک غیرمتوقع موڑ مل جاتا ہے۔ گنپت کی بھولی بھالی شخصیت اور بازاری کیسر کو مرد کے بارے میں جیون میں پہلی بار دیکھنے کو ملا یہ ایک دم نرالا پہلو، دونوں نتائج اس لَو سین کے کارن برابر حاصل ہو گئے۔ فلم میں ایک بھی سین مستحکم نہیں رہتا۔ ہر منٹ نوے فٹ یا ہر سیکنڈ چوبیس تصویروں کی رفتار سے ساری پٹی آنکھوں کے سامنے سے گزرتی رہتی ہے۔ اتنے محدود سمے میں کرداروں کے سوبھاؤ کی نزاکت بھری باریکیوں کو پیش کرنے والے سین کی رچنا کرنا ضروری ہوتا ہے۔</p>
<p>کبھی کبھی تضاد پیدا کر کے بھی ایک دم صحیح نتیجہ حاصل کیا جاتا ہے۔ جیسے: گنپت محسوس کرتا ہے کہ وہ کیسر سے پیار کرنے لگا ہے۔ وہ اپنے دوست بابا صاحب سے پوچھتا ہے، “کیا تم اپنی پتنی سے پیار کرتے ہو؟” وہ دوست بھی پرانے دھرے کا آدمی ہوتا ہے۔ کہہ دیتا ہے، “دھت، میں کیا جانوں پیار وار کیا ہوتا ہے؟” اور فوراً ہی وہ اپنی پتنی کو ڈھونڈھنے لگتا ہے۔ اس کی پتنی پچھواڑے میں کپڑے دھو رہی ہے۔ وہ غصے میں وہاں جاتا ہے اور پتنی کے ہاتھوں سے دھونے کے سارے کپڑے چھین کر پھینک دیتا ہے اور اسے لگ بھگ کھینچتا ہوا زبردستی کمرے میں لے جا کر سلاتا ہے۔ کہتا ہے، “کل سے اسے بخار ہے۔ کہا تھا پڑی رہو، تو جا کر کپڑے دھونے بیٹھ گئی۔ ایسی پتنی سے بھی بھلا کہیں پیار کیا جاتا ہے؟” پتنی کو اچھی طرح سے کھٹیا پر لٹا کر پیار سے کمبل اوڑھا دیتا ہے اور پھر کہتا ہے، “میں تو اس سے پیار ویار قطعی نہیں کرتا!” قول و فعل میں باہمی تضاد دکھا کر مزاح پیدا تو ہوتا ہی ہے، ساتھ ہی ڈائریکٹر جس بات پر زور دینا چاہتا ہے ناظرین کے من میں برابر بیٹھ جاتی ہے۔</p>
<p>کچھ سین اُن کی شوٹنگ کے ڈھنگ کے کارن کمال کے دل چھو لینے والے ہو جاتے ہیں:</p>
<p>کیسر کے ساتھ شادی کرنے کا فیصلہ کر گنپت اسے اپنی ماں کے پاس لے آتا ہے۔ ماں بچاری بہت ہی سیدھی سادی، بھولی بھالی ہے۔ دیکھتے ہی اسے کیسر پسند آ جاتی ہے۔ وہ اپنی کلسوامنی بھوانی (دیوی) سے فیصلہ مانگتی ہے۔ بھوانی کی مورت پر دونوں طرف ایک ایک پھول رکھا جاتا ہے۔ دائیں جانب کا پھول گرا تو بھوانی کو بہو پسند اور بائیں جانب کا گرا تو ناپسند۔ پھر گنپت کی ماں اپنا اِکتارا اٹھاتی ہے اور آنکھیں بند کر ‘جگدمب، جگدمب’ نام پکارنا شروع کرتی ہے۔ گنپت اور کیسر آنکھیں پھاڑ کر بےصبری سے دیکھتے ہیں کہ بھوانی کیا فیصلہ دیتی ہے۔ بھوانی کے بائیں جانب کا پھول تھوڑا سا ہلتا ہے۔ گنپت کا دھیرج ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ اپنے من مطابق فیصلہ حاصل کرنے کے لیے دائیں جانب کے پھول کو پھونک مار کر ہوا دیتا ہے۔ زور کی پھونک لگنے کے کارن دائیں جانب کا وہ پھول نیچے گرتا ہے۔ بھوانی نے دایاں پھول گرا کر بہو کو پسند کیا، یہ دیکھ کر گنپت کی ماں کو بہت خوشی ہوتی ہے۔</p>
<p>اس کے بعد گنپت رات کی باری کے لیے کام پر چلا جاتا ہے۔ گنپت کی ماں کیسر کو یہ مان کر کہ وہ جیسے ابھی سے اس کی بہو ہو چکی ہے، گنپت کو کھانے پینے کا کیا کیا اور کن کن باتوں کا شوق ہے بڑی ممتا سے سمجھانے لگتی ہے۔ ماتا جی کو بولتے بولتے نیند آنے لگ جاتی ہے۔ لیکن کیسر سو نہیں پاتی۔ گنپت نے کس طرح زبردستی اور جھوٹے پن سے بھوانی کا دایاں فیصلہ حاصل کیا، اسے کھائے جاتا ہے۔ وہ کروٹ بدلتی ہے تو اس کا ہاتھ اچانک پاس رکھے اِکتارے پر پڑتا ہے۔ اِکتارے کی آواز سے کیسر بےحد چونک جاتی ہے۔ دودھ کے دھوئے، بے داغ ذہن کی اس بڑھیا کو دھوکا دینے کا خیال بھی کیسر کے لیے نا قابل برداشت ہو اٹھتا ہے اور وہ آدھی رات ہی گنپت کے گھر سے اکیلی نکل جاتی ہے۔</p>
<p>بعد میں گنپت باؤلا بنا اسے کھوجتا پھرتا ہے۔ وہ اس کی پرانی چال پہنچ جاتا ہے۔ وہاں ساری چال کی سفیدی کا کام جاری ہے۔ گنپت کیسر کے کمرے میں جاتا ہے۔ وہاں کیسر نے پہلے کبھی اس کی یاد میں اسکا ٢٥٥ نمبر دیوار پر لکھ رکھا تھا، اسے دیکھتا ہے۔ تبھی رنگ ساز کا برش اس ہندسے پر سے پھرتا ہے۔ وہ ٢٥٥ کا ہندسہ مٹ جاتا ہے۔ اس ایک ‘ٹچ’ نے ان کے کارن درد ناک احساسات ظاہر کر دیے۔</p>
<p>گنپت وہاں سے تیزی سے نکل جاتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ جیون میں اس کا پیار ہی جیسے کسی نے مٹا دیا ہے۔ مایوسی اسے خود کشی کے لیے مائل کرتی ہے۔ گنپت کی تیز قدمی، دکھ بھری نظر میں دکھائی دینے والے ارادے، اور پاس ہی تیزی سے بہتی جانے والی ندی کی دھارا کے الگ الگ کونوں سے لیے گئے کلوز اپ تیز رفتار سے پردے پر دکھائی دیتے ہیں۔ نتیجتاً اس سارے سین کی شدت بہت ہی بڑھ جاتی ہے۔ قابل جگہوں پر قابل علامتوں کا استعمال کرنے سے منظر بے حد دل کو چھو جاتا ہے۔ ناظرین بھی یہی مانتے ہیں کہ اب گنپت خود کشی کرے گا۔ وہ اپنے دلوں کو تھام لیتے ہیں۔ تبھی اس کا پولیس والا دوست اسے روکتا ہے اور خود کشی کے وچار سے اسے نکالتا ہے۔ وہاں سے وہ دونوں شراب کے اڈے پر جاتے ہیں۔ اپنا غم ہلکا کرنے کے لیے گنپت ایک بوتل اٹھا لیتا ہے۔</p>
<p>میں جب جرمنی میں تھا، اس سمے کی بات یاد آئی۔ وہاں میں اکیلا تھا اور اسی طرح گہری مایوسی میں ڈوبا تھا۔ تب میں نے بھی اسی طرح شراب کی بوتل منگوائی تھی۔ اس سمے من میں وچاروں کا جو طوفان کھڑا ہوا تھا، وہ جوں کا توں میں نے گنپت کے متر کے مکالمے کے روپ میں دے دیا۔ آخر گنپت شراب کی بوتل زمین پر دے مارتا ہے، توڑ دیتا ہے اور زندگی کا سامنا کرنے کے لیے سچے معنوں میں تیار ہو جاتا ہے۔</p>
<p><iframe src="https://www.youtube.com/embed/9-xhAtRe6sw" width="560" height="315" frameborder="0" allowfullscreen="allowfullscreen"></iframe></p>
<p>اس بیچ کیسر ہمیشہ پیسہ اینٹھنے والے اپنے شرابی ماما کو قتل کر ڈالتی ہے۔ بدقسمتی سے وہ گنپت کے ہاتھوں ہی پکڑی جاتی ہے۔ اس پر قتل کے الزام میں مقدمہ دائر کیا جاتا ہے۔ مقدمے کی کارروائی کا سین، وکیلوں کے دلائل، گواہوں کے بیان، زبان دانی اور مکالموں سے یہ بھرپور تھا۔ اسے ویسا ہی فلمایا جاتا تو بھاشن ہی بھاشن ہو جاتے۔ لہٰذا میں نے اس سین کا شوٹنگ لکیر سے ہٹ کر عدالت کی کانچ کی بند کھڑکیوں کے باہر سے کیا۔ نتیجتاً عدالت کے اندر جاری سبھی کرداروں کی سرگرمیاں تو برابر دکھائی دیں لیکن لفظوں کے جنجال سے فلم بچ گئی۔ بولتی فلم کا دور شروع ہونے کے بعد خاموش فلم سا لگنے والا یہ سین پہلی ہی بار فلمایا گیا تھا۔ چاہتا تو تھا کہ اسے ایسا ہی رہنے دوں۔ لیکن سوچا کہ کہیں ناظرین یہ نہ سوچ لیں کہ سنیما گھر کا ساؤنڈ سسٹم ہی فیل ہو گیا ہے، اور وہ ‘آواز آواز’ کی چیخ و پکار سے واویلا نہ کھڑا کریں، اس سین کو میں نے ماحول کے مطابق آرٹسٹک بیک گراونڈ میوزک سے جوڑ دیا۔</p>
<p>لیکن ابھی فلم کا بنیادی مقصد کامیاب نہیں ہوا تھا۔ محبت کی ناکامی کے کارن مایوس ہو کرغم کو ہلکا کرنے کے لیے شراب کا عادی ہو جانا یا خودکشی کے لیے راضی ہونا آدمی کی بزدلی کی نشانی ہے، یہ بتانے تک تو میرا مقصد کامیاب ہو گیا تھا۔ لیکن اس سے بھی آگے جا کر میں یہ بتانا چاہتا تھا کہ محبت کی ناکامی کے کارن دل ٹوٹ بھی گیا، تو بھی اس محبت کی یاد کو دل کے کسی کونے میں سنجو کر آدمی کو اپنا فرض ادا کرتے رہنا چاہیے اور جیون بِتاتے رہنا چاہیے۔ یہ انمول پیغام میں کسی بھاشن یا لیکچر کے ذریعے نہیں دینا چاہتا تھا، ورنہ سارا گُڑ گوبر ہو جاتا۔ کافی سوچا، لیکن کوئی راہ دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ رات رات جاگتا رہا۔ لیکن من میں آیا ایک بھی خیال آخر ٹھیک سے جچا نہیں۔ ایک بار تو ساری رات کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی گزار دی۔ صبح ہوتے ہوتے تھوڑی سی آنکھ جھپکی اور جاگا تو فلم کے آخری سین کا پورا آئیڈیا لے کر ہی:</p>
<p>پولیس پریڈ جاری ہے۔ کیمرے میں دکھائی دے رہا ہے کہ گنپت سخت اور کٹھور چہرے سے دیگر پولیس سپاہیوں کے ساتھ پریڈ کر رہا ہے۔ چلتے چلتے وہ نیچے دیکھتا ہے۔ کیمرا بھی نیچے دیکھتا ہے۔ کیمرے میں گنپت کے ڈسپلن میں تیزی سے پریڈ کرتے جا رہے قدم دکھائی دیتے ہیں، اس کی چپلیں دکھائی دیتی ہیں۔ کسی گذشتہ سین میں یہ چپلیں ٹوٹی ہوئی ہوتی ہیں اور کیسر خود انہیں ٹھیک کر کے لائی ہے، اس کی یاد میں گنپت کے چہرے پر احساسات ابھر آتے ہیں۔ چپلوں پر سے نظر ہٹا کر وہ پھر سامنے دیکھ کر سینہ تان کر پریڈ کرنے لگتا ہے۔ اس کے بعد گنپت کے آگے پیچھے ہلنے والے ہاتھ ہی اہم مقصد دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اس یونیفارم پر کانسٹیبل کے جو فیتے لگے ہوتے ہیں، وہ بدل کر حوالدار کے اور پھر جمعدار کے ہو جاتے ہیں۔ بِنا ایک بھی شبد کے سارا ارادہ صرف اشارے دیتے سین اور علامتوں کی مدد سے بتانے کی میری کوشش ہوتی کامیاب ہو گئی۔ یہ آخری سین اس فلم کا انتہائی نقطہ ہو گیا۔</p>
<p>اس فلم کی ایڈیٹنگ میں بھی نئے طریقے اپنانا طے کیا۔ لمبائی ناپ کر فوٹو کاٹنے کا پرانا طریقہ تیاگ دیا۔ سین میں موجود احساسات اور ان کے مطابق ضروری رفتار کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر ہی میں فلم بھی کاٹنے لگا۔ شاٹ فلم گھر میں جتنی رفتار سے دکھایا جانے والا ہے، اسی رفتار سے میں اسے اپنے ہاتھوں کے اوپر سرکاتا جاتا اور جہاں ایسا لگتا کہ بس یہ شاٹ اتنا ہی ہونا چاہیئے، وہیں اسے کاٹ کر اگلے شاٹ کو جوڑ دیتا۔ اس طریقے کے کارن ایڈیٹ سین پہلے کے مکینیکل طریقہ کار سے ایڈیٹڈ منظروں کے برعکس نتیجہ خیز اور پُراثر معلوم ہوتے تھے۔</p>
<p>ایڈیٹنگ کا کام پوری رفتار سے چل رہا تھا۔ تبھی بمبئی سے بابوراؤ پینڈھارکر جلدی میں پُونا آئے۔ سینٹرل سینما میں اس سمے جاری فلم کی آمدنی یکایک کم ہو گئی تھی۔ وہاں دوسری فلم لگانا ضروری ہو گیا تھا۔ وہاں کسی دوسری کمپنی کی فلم لگاتے تو ہم لوگوں کو تب تک انتظار کرنا پڑتا، جب تک کہ وہ فلم وہاں سے ہٹا نہیں لی جاتی۔ آئندہ فلم ریلیز کرنے کی اعلانیہ تاریخ ابھی پورے تین ہفتے بعد کی تھی۔ ابھی ‘آدمی’ کی ایڈیٹنگ، بیک گراونڈ سنگیت وغیرہ کئی کام باقی تھے۔</p>
<p>میں نے فیصلہ کیا اور بابوراؤ پینڈھارکر سے کہا، “تھئیٹر کو ہاتھ سے جانے مت دیجیے۔ آپ نے جو تاریخ طے کی ہے، اس دن آپ کو نئی فلم ریلیز کرنے کے لیے ضرور مل جائے گی۔”</p>
<p>بابوراؤ میرے فیصلے سے مطمئن ہو کر فوراً ممبئی لوٹ گئے۔</p>
<p>اس رات میں نے ہمیشہ کی طرح دس بجے کام بند نہیں کیا۔ ایڈیٹنگ مشین پر بیٹھا تھا، اٹھتے اٹھتے سویرا ہو گیا۔ اٹھتے سمے اپنے معاون کو ہدایت بھی دے دی کہ ٹھیک ایک گھنٹے بعد کام پھر شروع کرنا ہے۔ تب تک وہ سب کاموں سے فارغ ہو لیں۔ میں خود تو آدھے گھنٹے بعد ہی پھر کام پر آ گیا۔ اس کے بعد سورج کئی بار اُگتا گیا، ڈوبتا گیا۔ راتیں ہوتی گئیں، بیتتی گئیں۔ مجھے دیگر کسی بات کا ہوش ہی نہ تھا۔ بس دُھن ایسی سوار ہو گئی تھی کہ طے سمے پر فلم کے سارے کام پورے کرنے ہیں، دیگر کوئی بات نہ تو سوجھتی، نہ سہاتی تھی۔ بھوک، پیاس، نیند، سب کہیں کھو گئے۔</p>
<p>کہیں میری یہ غنودگی ٹوٹ نہ جائے، یہ سوچ کر میرے سبھی معاون سمے کا دھیان مجھے کبھی نہیں دلاتے تھے اور بھوکھے پیاسے رہ کر میرے ساتھ برابر کام کیے جا رہے تھے۔ کام کی اس مدہوشی میں، اپنے انڈر کام کرنے والے لوگوں کو دو روٹیاں سمے پر کھانے کو ملیں، اس لیے جیون میں پہلی بار میں نے رِسٹ واچ باندھنا شروع کیا۔ فلم کو تیزی سے آگے پیچھے سِرکاتے سمے کبھی کبھار اس پر میری نظر پڑ گئی اور شام کو چار پانچ بجے کے بجائے ان لوگوں کو دوپہر دو ڈھائی بجے بھوجن کی بریک ملنے لگی۔ ایڈیٹنگ کرتے سمے دماغ میں پوری فلم کے فارمولے ہوتے تھے۔ ہر سین کی رچنا، اس کی رفتار وغیرہ کے بارے میں مسلسل وچار جاری رہتا تھا۔ نتیجتاً نیند تو مجھے کبھی نہیں آتی تھی۔ لیکن میرے بیچارے معاون فلم جوڑنے کے لیے ہی دن رات میرے پاس کھڑے رہتے تھے۔ دو تین بار تو ایسا ہوا کہ وہ کھڑے کھڑے ہی نیند آ جانے کے کارن گر پڑے۔ تب سے میں نے ان کی دو شفٹیں کر دیں، اور ان کے لیے آٹھ آٹھ گھنٹوں کی باری باندھ دی۔ ایک کام کرتا تب دوسرا سو لیتا تھا۔ میں دیگر کام دھرم اور کھانے وغیرہ کے لیے آدھا پونا گھنٹہ نکالتا اور باقی سمے اپنے کام میں کھو جاتا تھا۔</p>
<p>پھر بھی سارا کام سمے پر پورا ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ کیلینڈر پر لال کراس لگا رکھی تاریخ ہر روز دیکھ کر ہی میں سارے کاموں کو نبٹاتا جا رہا تھا۔ ایک ہفتہ گیا۔۔۔ ریلیز کی تاریخ چار دن پر آ گئی۔ اس بیچ جاری کی ہوئی دو باریوں کا سسٹم بھی بند کرنا پڑا۔ ہر ڈیپارٹمنٹ کے لوگ اپنے اپنے کام ذرا بھی نہ سستاتے ہوئے دن رات کرنے میں جٹے ہوئے تھے۔ ہرسین کی آخری ایڈیٹنگ ہو چکی تھا۔ بغل کے کمرے میں نگیٹووں کو کاٹ کاٹ کر گراریوں پر چڑھانے کا کام جاری تھا۔ تیار گراریوں پر بیک گراونڈ میوزک کے نقش کرنے کا کام ماسٹر کرشن راؤ اور وسنت دیسائی من لگا کر کر رہے تھے۔ پل میں ایڈیٹنگ روم میں، تو دوسرے ہی لمحے بیک گراونڈ میوزک کے ساوئنڈ ریکارڈنگ ڈیپارٹمنٹ میں میری بھاگ دوڑ جاری تھی۔ آخری چھ سات دنوں میں سبھی کاریگروں اور کام گاروں نے بڑی لگن اور عقیدت سے کام کیا۔ ان کی دلی تعاون کو میں کبھی بُھلا نہیں سکتا۔</p>
<p>‘آدمی’ کو ریلیز کرنے کی تاریخ آ گئی، تب بھی اس کی پوری کاپی تیار نہیں ہو پائی تھی۔ پھر بھی میں نے بمبئی فون کیا اور بابوراؤ پینڈھارکر سے ٹھاٹھ سے کہہ دیا کہ دوسرے دن صبح دس بجے فلم سنسر کے پاس ضرور پہنچ جائے گی۔</p>
<p>پُونا کے ‘پربھات’ تھئیٹر میں رات کا شو ختم ہونے کے بعد میرے سبھی ساتھی مددگار، کلاکار، کاریگر، ‘آدمی’ کی ٹرائل ریلیز دیکھنے کے لیے پُرجوش انتظار کر رہے تھے۔ میں سویرے پانچ بجے ہماری لیب سے فلم کی پہلی پانچ چھ گراریاں لے کر تھئیٹر پہنچا۔ آگے کی گراریوں پر کیمیکل روم میں عمل جاری تھا۔ جیسے جیسے پوری ہو جائیں، انھیں تھئیٹر پر لے آنے کی ہدایت دیے کر میں چلا آیا تھا۔</p>
<p>ٹرائل ریلیز فوراً شروع کی۔ میرا دھیان لگاتار گھومتی جا رہی گھڑی کی سوئیوں پر تھا۔ سمے ہو چلا، تو میں نے آگے کی گراریوں کی راہ دیکھے بنا ہی دیکھ چُکی پہلی پانچ چھ گراریوں کو ساتھ لے کر بمبئی جانا طے کیا۔ میں کار سے بمبئی کو لے روانہ ہوا۔ آگے کی گراریوں کو لے کر فوراً بمبئی چلے آنے کی اطلاع میں نے بھاسکرراؤ کو دے دی۔</p>
<p>کار میں فلم کے ڈبے رکھ دیے، اور میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ ڈرائیور کو ہدایت دی کہ کار تیز رفتار سے چلائے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چہرے پر آنے لگی۔ لگاتار تین ہفتے سختی سے روکی گئی نیند کب مجھ پر حاوی ہو گئی، پتہ ہی نہ چلا۔</p>
<p>گاڑی رکی اور میں جاگا۔ گاڑی سینٹرل سینما کے گیٹ پر کھڑی تھی۔ بابوراؤ پہلے تو میری طرف دیکھتے ہی رہ گئے۔ میری داڑھی بڑھی ہوئی تھی اور مسلسل جاگتے رہنے کے کارن چہرہ تھک کر چور ہو گیا تھا۔ میں نے انہیں فلم کے پانچ چھ ڈبے تھما دیے۔ بابوراؤ انہیں لے کر سیدھے سنسر بورڈ گئے۔</p>
<p>کہیں سنسر نے کچھ شاٹس نکال دینے کے لیے کہا تو؟ سینٹرل سینما میں بیٹھے بیٹھے میں گھبرا رہا تھا۔ پہلا شو ساڑھے تین بجے کا تھا۔ تین پچیس ہو گئے۔ تھئیٹر ناظرین سے کھچا کھچ بھر گیا تھا۔ سینٹرل سینما کے مالک عابد علی اور ان کے ساتھی کے۔ مودی، تھئیٹر کے منیجر اور دیگر سبھی ملازم فلم کے ڈبوں کا پرجوش انتظار کر رہے تھے اور اپنے اپنے کمرے کے دروازے پر ہی کھڑے تھے۔</p>
<p>تبھی انٹرویل تک کی فلم کی گراریاں آ پہنچیں۔ میں پروجیکٹر کمرے میں ایک بے یارومددگار آدمی جیسا بیٹھا تھا۔ عابد علی نے درخواست کی کہ میں تھئیٹر میں بیٹھ کر فلم دیکھوں۔ لیکن ناظرین میں بیٹھ کر یہ فلم دیکھنے کی مجھ میں ہمت نہیں تھی۔ ڈر لگ رہا تھا۔</p>
<p>فلم کی پہلی گراری شروع ہو گئی۔ پروجیکٹر کے بغل میں ہی ایک اور جھروکا تھا۔ میں اس میں سے جھانک کر دیکھنے لگا۔ پردے پر پربھات’ کا ٹریڈ مارک دکھائی دیا۔ بھیری کے سُر سنائی دیے، اور ساتھ ہی ناظرین کی تالیوں کی گونج بھی سنائی دی۔ ناظرین بڑی امید سے آئے تھے۔</p>
<p>پردے پر ایک عورت اور ایک مرد کے پاؤں چلتے ہوئے دکھائی دیے۔ ان کے نقشِ پا سے کیچڑ پر ابھرے حروف ‘آدمی’ پردے پر دکھائی دیتے ہی کریڈٹ دکھانے کا یہ نیا خیال لوگوں کو پسند آ گیا، انہوں نے پھر تالیوں کی گڑگڑاہٹ کی۔ اب تو میرا دل اور بھی دھڑکنے لگا۔ پردے پر ڈائریکٹر کا نام دکھائی دیتے ہی ناظرین نے تالیوں سے اتنی زوردار داد دی کہ سن کر میرے ہاتھ پاؤں کی ساری طاقت جاتی رہی۔ میں دھرم سے پاس رکھے مونڈھے پر بیٹھ گیا۔ میرے آنسو بہہ نکلے۔ پروجیکٹر آپریٹر نے مجھے آنکھیں پونچھتے دیکھ لیا اور فوراً ہی کولڈ ڈرنک کا گلاس تھما دیا۔ لیکن مجھے تو کولڈ ڈرنک پینے تک کی بھی ہوش نہیں تھی۔ میرے تھکے ماندے من میں ایک ہی سوال الٹا سیدھا ناچ رہا تھا: ‘کیا ناظرین کی امیدوں کو میں پورا کر سکوں گا؟’ نظر زمین پر گڑی تھی۔ کوئی میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ وہ بابوراؤ پینڈھارکر تھے۔ فلم کے آگے کے سارے حصے وہ سنسر کو دکھا کر لے آئے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی انہوں نے فخر سے سینہ تان کر مجھے سلام کیا اور کہنے لگے، “شانتارام بابو، پتہ نہیں کن الفاظ میں آپ کو مبارکیں دوں؟”</p>
<p>میں نے ایک دم معصوم بچے کی طرح ان سے پوچھا، “سچ؟ سچ مچ اتنی پسند آئی آپ کو ‘آدمی’ ؟”</p>
<p>“جی! جی ہاں! جی ہاں!!” انہوں نے زور دے کر کہا۔</p>
<p>ان کی بات پر یقین نہیں ہو رہا تھا مجھے۔ ہو سکتا ہے وہ محض مجھے سمجھا بجھا رہے ہوں۔ غیر یقینی کا یہ احساس میری آنکھوں میں انہوں نے بھی شاید دیکھ لیا اور سمجھاتے ہوئے بولے، “چلیے، اٹھیے۔ اب آپ یہاں نہ بیٹھیے۔” پروجیکٹر کمرے کے پاس ہی ایک کمرا تھا، اس میں وہ مجھے لے گئے۔ میرے سامنے کھانے پینے کی کچھ چیزیں رکھ کر بولے، “لگتا ہے آپ نے کل سے کچھ بھی کھایا پیا نہیں ہے۔ پہلے آپ اطمینان سے کھا لیجیے۔ تب تک فلم کو ناظرین کیسی کیسی داد دے رہے ہیں، میں دیکھ آتا ہوں۔”</p>
<p>کمرے میں میں اکیلا تھا۔ میں نے ان کھانے پینے کی طرف صرف دیکھ لیا۔</p>
<p>فلم ختم ہونے کے بعد بابوراؤ پینڈھارکر میرے پاس آئے۔ انہوں نے مجھے کس کر گلے لگا لیا اور رندھی آواز میں کہنے لگے، “شانتارام بابو، فلم دیکھ کر باہر آئے سارے ایگزیمینرز ایک آواز سے کہہ رہے ہیں کہ اس موضوع پر ایسی فلم کا بنانا صرف اکیلا شانتارام ہی کر سکتا ہے!”</p>
<p>پھر کیا تھا! اب تک بڑی کوشش کر تھام رکھے آنسو پھر بہہ نکلے۔ میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر بابوراؤ نے کہا، “اب آپ یہاں اس طرح آنسو بہاتے نہ بیٹھیے، چلیے، میرے ساتھ باہر آئیے۔ کافی لوگ آپ سے ملنے کے لیے باہر انتظار کر رہے ہیں۔”</p>
<p>“اجی، لیکن اس شکل و صورت میں؟ کل سے میں نہایا تک نہیں۔۔۔”</p>
<p>باہر جانے کے لیے میں آنا کانی کر رہا تھا۔ تبھی کیشوراؤ داتے کمرے میں آئے۔</p>
<p>میری پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے بولے، “بھئی واہ! کیا کمال کا فن پارہ بنا یا ہے آپ نے!”</p>
<p>میں نے ان کی طرف بھی اسی سوالیہ نظر سے دیکھا۔</p>
<p>“اجی شانتارام، اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں آپ؟ چلیے، باہر چلیے۔”</p>
<p>وہ دونوں مجھے لگ بھگ کھینچتے ہوئے باہر لے گئے۔ مجھے دیکھتے ہی سامنے ہی کھڑے چندر موہن نے دوڑ کر مجھے عملی طور پر کندھوں پر اٹھا لیا اور نہایت خوشی سے وہ پاگل سا ناچنے لگا : “یہ ہیں ہمارے انّا! میرے گرو! انّاصاحب یہ پِکچر بیس سال آگے کی ہے۔”</p>
<p>اس کے بعد کافی ناظرین اور ناقدین بھی ملے۔ تھوڑے بہت فرق سے سبھی نے یہی رائے ظاہر کی۔ سبھی لوگ کافی پُرجوش ہو گئے تھے۔ لیکن مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں بہت بیمار ہو گیا ہوں، کوئی طاقت نہیں رہی ہے۔ میں نے بابوراؤ کو بتایا، “میرے ہاتھ پاؤں میں کپکپی چھوٹ رہی ہے۔ مجھے گھر پہنچائیے۔۔۔ میں سونا چاہتا ہوں۔۔۔”</p>
<p>میں گھر گیا اور ایسے سو گیا کہ دوسرے دن سویرے گیارہ بجے ہی جاگا۔ بابوراؤ میرے جاگنے کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ بعد کے شو کے سمے ہوئی کئی مزیدار باتیں وہ بتانے لگے : پہلے دن کے آخری شو کے لیے بامبے ٹاکیز کے مالک ہمانشو رائے اور دیوکا رانی آئے تھے۔ انٹرویل کے سمے ہمانشو رائے یہ چِلّاتے ہوئے ہی باہر آئے کہ “کہاں ہے وہ چُنی لال کا بچہ؟” بامبے ٹاکیز کے منیجر سر رائے بہادر چنی لال انٹر ویل ہونے سے پہلے کچھ دیر تک ان کے ساتھ بیٹھ کر ‘آدمی’ دیکھ رہے تھے۔ بعد میں نہ جانے کہاں غائب ہو گئے تھے۔ یہ دیکھ کر کہ ہمانشو رائے چنی لال جی کو اتنی بے چینی سے کھوج رہے ہیں، بابوراؤ پینڈھارکر لپک کر آگے بڑھے اور پوچھا، “کیوں، آخر بات کیا ہے؟” اس پر ہمانشو جھنجھلا کر برس پڑے، ” دیٹ رائے بہادر کا بچہ ہیڈ ٹیلیفونڈ می آفٹر سینگ فرسٹ شو سیئنگ ‘آدمی’ از ہمبگ۔ آئی وانٹ ٹو تھریش دیٹ فیلو فار سیئنگ بکواس ٹو سچ اے ماسٹر پیس !”</p>
<p>(That Rai Bahadur ka Bachha had telephoned me after seeing first show saying ‘Admi’ is humbug. I want to thrash that fellow for saying bakwas to such a masterpiece.)</p>
<p>لیکن ڈر کے مارے کہیں دبکے بیٹھے چنی لال جی ہمانشو رائے کو آخر تک کہیں بھی نہیں ملے! اتنا کہہ کر بابوراؤ قہقہہ مار کر ہنسنے لگے۔ میں بھی ان کی ہنسی میں شامل ہو گیا۔ میرا خیال ہے، شاید پچھلے ایک مہینے میں پہلی بار میں من سے کھل کر ہنس پایا تھا۔</p>
<p>بابوراؤ نے کہا، “اب چلیے، اٹھیے پہلے داڑھی بنا لیجیے۔ ذرا آئینے میں دیکھیے تو سہی، کتنی بڑھ چکی ہے داڑھی۔”</p>
<p>میں نے اپنا عکس دیکھنے کے لیے آئینہ دیکھا۔ آئینے سے کوئی اجنبی سنیاسی ترانٹ اور لال سرخ آنکھوں سے مجھے گھور رہا تھا۔ پل بھر تو میں اپنے آپ کو پہچان بھی نہ سکا۔ پھر تیزی سے داڑھی بنانے میں لگ گیا۔ تھوڑی دیر بعد فون ٹھنکا۔ بابوراؤ نے فون اٹھایا۔ ان کی بات میں نے سن لی۔ کہہ رہے تھے، “ذرا رکیے، شانتارام بابو یہاں ہیں۔ آپ انہی سے بات کر لیجیے۔” رسیور میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے بابوراؤ نے بتایا، “پولیس داروغہ رانے۔”</p>
<p>میں نے فورا رسیور پر ہاتھ رکھ کر چونک کر پوچھا، “پولیس داروغہ؟ کیوں؟” کچھ ڈرتے ڈرتے ہی میں نے فون کان سے لگایا اور ذرا سی ناخوشی سے ہی “ہیلو” کیا۔ اس طرف سے زور سے پُرجوش آواز آئی، “کانگریچلیشنس!” مجھے اپنے کانوں پر بھروسہ نہیں ہو رہا تھا۔ میں نے پھر پوچھا، “جی، کیا فرمایا آپ نے؟”</p>
<p>“اجی، ‘آدمی’ کے لیے آپ کو بدھائیاں! سب لوگ ہم پولیس والوں کو بے حیا اور انسانیت نہ رکھنے والے راکھشس مانتے ہیں۔ لیکن آپ نے اپنے اس ‘آدمی’ کے ذریعے دنیا کو دکھا دیا کہ ہم لوگ بھی آدمی ہی ہیں! ہم سبھی پولیس والوں کی طرف سے دلی شکریہ!” کہتے کہتے ان کا گلا رندھ گیا۔ بھاری آواز میں انہوں نے کہا، “گاڈ بلیس یو!” اور انہوں نے فون بند کر دیا۔ ایسے ایسے غیر متوقع لوگوں سے اتنی دلی مبارکباد پا کر میں تو سُن پڑ گیا۔ کافی دیر تک کرسی پر ویسا ہی بیٹھا رہا۔ داڑھی آدھی بنی تھی اور آدھے حصے پر لگا صابن سوکھتا جا رہا تھا۔</p>
<p>بمبئی کے سبھی اخباروں نے ‘آدمی’ کی تعریف میں اپنے کالم بھر دیے تھے۔ بابوراؤ نے ان سبھی اخباروں کو میرے سامنے پھیلا کر رکھا اور بڑی خوشی سے کہنے لگے، “پڑھ کر دیکھیے بھی، اخباروں نے کیا کیا لکھا ہے؟”</p>
<p>کیا کہہ رہے ہیں اخبار والے؟”</p>
<p>اجی، ایسے ٹھنڈے پن سے کیا پوچھ رہے ہیں آپ؟ ‘آدمی’ کی تعریف کے لیے لفظ نہیں مل رہے ہیں انہیں!”</p>
<p>میری آنکھیں بھر آئیں۔</p>
<p>“کسی نے کچھ تو تنقید کی ہوگی نا؟”</p>
<p>“بالکل نہیں۔ سب نے ایک مت سے رائے ظاہر کی ہے، فیصلہ دیا ہے : بہت ہی ایکسیلنٹ!”</p>
<p>میں نے ان سبھی اخباروں کو ایک طرف ہٹاتے ہوئے کہا، “تب تو کیا پڑھنا!”</p>
<p>“اجی، آپ ذرا صحت مند ہو جانے کے بعد پڑھیے۔ اس تنقید کو پڑھنے کے بعد آپ کو پتہ چلے گا، آپ نے ‘آدمی’ میں کیا کیا، کِیا ہے!”</p>
<p>ان کی بات صحیح تھی۔ ‘آدمی’ میں میں نے کیا کیا کِیا ہے میں بُھلا بیٹھا تھا۔ میرا دماغ سُن سا ہو گیا تھا۔ جسم میں کوئی خوشی، جوش نہیں رہا تھا۔ ‘آدمی’ کے بارے میں کسی نے دو لفظ کہے نہیں کہ میرے آنسو بہہ نکلتے تھے۔ اتنا جذباتی ہو گیا تھا میں!</p>
<p>آخر میں پُونا آ گیا۔ پُونا کے ڈاکٹر بھڑکمکر نے میری صحت کی جانچ کی اور تشخیص بتائی: ‘نروس بریک ڈاؤن’!</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-22/">شانتا راما — باب 22: نئے خیالات کی لہر (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-22/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>شانتا راما باب 21: آدمی (ترجمہ: فروا شفقت)</title>
		<link>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-21/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-21/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فروا شفقت]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 10 Dec 2020 19:25:23 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[aaj]]></category>
		<category><![CDATA[ajmal kamal]]></category>
		<category><![CDATA[farwa shafqat]]></category>
		<category><![CDATA[shantarama]]></category>
		<category><![CDATA[آج]]></category>
		<category><![CDATA[اجمل کمال]]></category>
		<category><![CDATA[شانتا راما]]></category>
		<category><![CDATA[فروا شفقت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25952</guid>

					<description><![CDATA[<p>'آدمی' کا ہیرو عام آدمی جیسا ہو، اس کے اندر وہ سبھی خامیاں اور خوبیاں ہوں جو عام آدمی میں پائی جاتی ہیں، یعنی وہ ایک دم 'اینٹی ہیرو' ہو</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-21/">شانتا راما باب 21: آدمی (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>بیتی باتوں سے من کھٹا ضرور ہوا تھا۔ پھر بھی سڑک پر گشت لگانے والا پولیس حوالدار اور لال روشنی میں بھیگی وہ ویشیا من میں گہرے بیٹھ چکے تھے۔ وہ دونوں مجھ سے باتیں کرتے تھے۔ کئی بار تو میں اپنے ہی وچاروں میں اس طرح کھو جاتا کہ اور کسی بات کا ہوش حواس تک نہ رہتا۔ بھاسکرراؤ کے ساتھ میری کئی بیٹھکیں ہونے لگیں اور ‘آدمی’ روپ لینے لگی۔</p>
<p>آج تک کی سبھی فلموں کے ہیرو سے ‘آدمی’ کا ہیرو مکمل نرالا بنانا طے کیا۔ عام فلموں کا ہیرو ہمیشہ تمام خوبیوں کا پتلا، دِکھنے میں سُندر، بہت بہادر اور نہ جانے کیا کیا نہیں ہوتا تھا۔ ان سبھی پرانے خیالات کی لیک سے ہٹ کر ‘آدمی’ کا ہیرو عام آدمی جیسا ہو، اس کے اندر وہ سبھی خامیاں اور خوبیاں ہوں جو عام آدمی میں پائی جاتی ہیں، یعنی وہ ایک دم ‘اینٹی ہیرو’ ہو، اِس طرح اُس کی تخلیق کرنا میں چاہتا تھا۔</p>
<p>ہیروئین تھی ایک ویشیا، مجبوری کے کارن اس پیشے میں پڑی۔ جیون میں بہت سی تھپیڑیں کھا چکنے کے کارن پتھرائی سی، کچھ چالو، خود غرض، لیکن پھر بھی اتنی ہی بھولی بھالی اور دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنے والی، کسی خاندانی عورت کی طرح جیون بِتانے کے سپنوں میں کھونے والی اس طرح کے باہمی مخالف رنگوں میں رنگی ہوئی ہیروئین کو میں نے بیان کیا۔</p>
<p>بھاسکرراؤ امیمبل نے میرے اس بیانیہ پر مبنی دونوں اہم شخصیتوں کو تحریر کیا اور پورا سکرین پلے تیار کیا۔ کہانی بہت ہی چست، چھوٹی، پھر بھی چُھو جانے والی بن پڑی۔ ان دنوں اپنے ترقی پسند وچاروں کے لیے مشہور لیکھک اننت کانیکر نے مراٹھی ورژن کے مکالمے لکھے اور ہندی کے لیے وہ کام منشی عزیز نے کیا۔ سنگیت سنوارنے کا کام ماسٹرکرشن راؤ کو سونپ دیا گیا۔</p>
<p>میں چاہتا تھا کہ اس فلم کی ساری تکنیک ہی ایک دم نئی ہو۔ لیکن ٹھیک ٹھیک کیسی ہو، اس کی کوئی واضح سوچ بن نہیں پا رہی تھی۔ فلم کی ریہرسل شروع ہو گئی۔ عام طور پر میرا رواج یہی تھا کہ ریہرسل سے پہلے ہر سین کا تخیل، اسے کیسے کیسے آگے بڑھانا ہے، اس سے کیا اثر متوقع ہے، کیسے اس میں رنگ اور رس بھرنے ہیں، اس کا واضح خاکہ من میں تیار کر لوں۔ لیکن اس بار میں خود بہت ہی تذبذب میں تھا۔ آخر میں یہی سوچ کر کہ ریہرسل کرتے کراتے ہی فلم کے مختلف منظروں کا تانا بانا من میں برابر بن جائے گا، میں نے بڑی محنت سے ریہرسل کرانا شروع کر دی۔ کسی ایک ہی سین کو الگ الگ ڈھنگ سے بنانے کی کوشش کرنے لگا۔ اور مجھے نت نئے خیالات سوجھنے لگے۔ فتے لال بھی سیٹ کی تصویریں بنانے میں لگ گئے۔ جانداری اور حقیقت لانے کے لیے مَیں فتے لال جی کو ساتھ لیے چکلہ بستیوں کی ہر گلی چھاننے لگا۔ پولیس والوں کی ہر بستی میں ہم لوگ ہو آئے۔ اس کے بعد انہوں نے سیٹ لگوانا شروع کیا۔ بمبئی کی بھونڈی، بھدی بستیوں کی چال، پولیس کی بیرکیں یا داروغہ کا تھانہ، سب کو میں اتنا اصلی بنانا چاہتا تھا کہ ناظرین کو ایسا لگے کہ ہم لوگوں نے ان موقعوں پر وہاں جا جا کر ہی شوٹنگ کی ہے۔</p>
<p>جیسے جیسے ریہرسلز ہونے لگیں، سین کی شوٹنگ کے مختلف آئیڈیاز اور استعمال میں لانے لائق علامتوں کی جیسے جھڑی سی لگ گئی۔ ان میں سے کِسے لینا، کِسے چھوڑنا، اس کی کنفیوژن ہونے لگی۔ دل و دماغ پر بس ایک ہی دھن سوار ہو گئی کہ کیسے ‘آدمی’ کو انتہائی حقیقی بنایا جائے۔</p>
<p>شوٹنگ شروع ہوئی اور ہم سب پر فلم میکنگ کا نشہ سا سوار ہو گیا۔ اس میں کتنا لطف آتا تھا، لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ہم لوگ کام میں اتنے مست ہو جاتے تھے کہ دن ڈوب بھی گیا تب بھی لگتا تھا کہ شوٹنگ کبھی رکے ہی نہیں، بس چلتی ہی رہے۔ فلم کا ہیرو گنپت اپنے سینئر ساتھیوں کے ساتھ جوۓ کے کسی اڈے پر چھاپہ مارتا ہے۔ وہاں وہ ایک ویشیا کو جس کا نام کیسر ہوتا ہے، پکڑ لیتا ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ وہ اسی حقارت سے باتیں کرتا ہے جیسی کسی مجرم کے ساتھ کی جاتی ہیں۔ وہ اس کے سبھی سوالات کا لا پرواہی سے جواب دیتی تو ہے، لیکن اس کے جوابوں سے اس کے من میں مہذب سماج کے لیے جو کڑواہٹ کوٹ کوٹ کر بھری ہے، صاف ابھر آتی ہے۔ انجانے میں اُس کا درد اُس کٹھور پولیس سپاہی کے من کو چھو جاتا ہے۔ اس سین میں اس سخت پولیس جوان کے منہ میں کوئی مکالمے ڈالے جاتے تو ایک دم بے تکے سے لگتے۔ کیسر اور گنپت جب سڑک پر چلتے رہتے ہیں، تو ادھر سے کسی دوسرے پولیس سپاہی کی سیٹی سنائی دیتی ہے۔ قدموں کی آہٹ سے لگتا ہے کہ سیٹی بجانے والا وہ دوسرا پولیس والا ان دونوں کے پاس آتا جا رہا ہے۔ گنپت فوراً کیسر کو کسی اوٹ میں دھکیلتا ہے اور اپنا اوور کوٹ اس پر پھینکتا ہے، تاکہ کیسر اُس دوسرے پولیس والے کو دکھائی نہ دے۔ وہ پوری طرح سے کوٹ کے پیچھے چھپ جاتی ہے، بچ جاتی ہے۔ اِس چھوٹے سے عمل کے ذریعے گنپت ناظرین کو یہ محسوس کراتا ہے کہ اس کے من میں کیسر کے لیے ہمدردی جاگتی ہے۔ اس سین کا جو اثر اس واقعہ کے کارن ممکن کیا گیا، وہ ہزار لفظوں سے بھی کبھی نہ ہو پاتا۔</p>
<p>ایک بار فلم کی ہیروئین کیسر کے کوٹھے کے ایک سیٹ پر شوٹنگ جاری تھی۔ سین کافی نزاکت بھرا تھا۔ ہم لوگ اس میں رنگ گئے تھے۔ تبھی شانتا آپٹے کے بھائی بابوراؤ بڑی جلدی جلدی سیٹ پرآئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر منت بھری آواز میں کہنے لگے، “شانتارام بابو، پہلے میرے ساتھ آئیے! دیکھیے بھی ادھر امی کیا کیا کر رہی ہے! (بابوراؤ اپنی بہن کو امی کہا کرتے تھے) وہ کواڑ اندر سے بند کر بیٹھی ہے۔ میں نے اسے آواز دی تو پاس پڑا پیپرویٹ اس نے کھڑکی سے مجھ پر پھینکا۔ آپ پہلے چلیے!”</p>
<p>وہ مجھے لگ بھگ کھینچ کر ہی وہاں سے لے گئے۔</p>
<p>زینہ چڑھ کر میں شانتا آپٹے کے کمرے کی طرف گیا۔ بابوراؤ مجھے کھینچ کر کھڑکی کے پاس لے گئے۔ میں نے اندر جھانک کر دیکھا، تو وہاں ایک عجیب حال تھا؛ شانتا آپٹے ایک کرسی پر لاش جیسی جڑوت بیٹھی تھیں۔ بابوراؤ نے بتایا کہ فتے لال جی نے اسے ڈانٹا اور غصے میں آ کر اسے پیٹنے کے لیے اپنی چھتری بھی اٹھائی۔ ان کی باتیں سننے کے لیے میں وہاں رُک ہی نہ پایا۔ دندناتا ہوا زینہ اتر کر فتے لال جی کے کمرے کی طرف چل پڑا۔</p>
<p>‘دنیا نہ مانے’ فلم کے بعد شانتا آپٹے کافی مشہور ہو چکی تھیں۔ کافی دنوں کے لیے وہ جنوب میں سیر کرنے گئی تھیں۔ ادھر کے جذباتی لوگوں نے اس کا کافی پیارو محبت سے استقبال کیا تھا۔ عوام کے اس پیار، استقبال اور مہمان نوازی کی وجہ اسے اور بابوراؤ کو بے حد خوشی ہوئی تھی، جیسے آسمان ہاتھ آ گیا ہو۔ شانتا آپٹے جنوب کا دورہ کر واپس لوٹی تو اس کی ساری Paid leaves کے دن ختم ہو چکے تھے اور اوپر کچھ زیادہ ہی دن بیت چکے تھے۔ اُن دنوں دستور یہ تھا کہ ہماری کمپنی کے بڑے سے بڑے کلاکار کو یا تکنیکی ماہر کو بھی کام پر آتے ہی برابر attendance sheetپر دستخط کرنے پڑتے۔ paid چھٹی سے زیادہ دن غیر حاضر رہنے پر ان اضافی دنوں کی تنخواہ کاٹ لی جاتی تھی۔ لہذا اصول کے مطابق شانتا کی تنخواہ بھی کاٹی گئی اور باقی رقم اسے دی گئی۔ اس نے پیسے لینے اور attendance sheet پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ سب واقعہ ہوا تب میں تو ‘آدمی’ کی شوٹنگ میں مصروف تھا۔ لہذا اکاؤنٹنٹ نے معاملہ فتے لال جی کو سنایا۔ وہ شانتا کے کمرے میں جا کر اسے سمجھانے لگے تو وہ ایک دم جھنجھلا اٹھی اور سب کو کمرے سے باہر کر اس نے کواڑ اندر سے بند کر دیے۔</p>
<p>شانتا آپٹے کے اس طرح ادھم مچانے پر مجھے غصہ آیا۔ میں پھر تمتماتا ہوا سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آیا اور کھڑکی کے پاس جا کر اسے ڈانٹ کر بولا، “شانتا بائی، اٹھو!” میری آواز سنتے ہی وہ تڑاخ سے کھڑی ہو گئی۔ میں نے پھر حکم دیا، “دروازے کی کنڈی کھولو!” کسی کٹھ پتلی کی طرح اٹھ کر اس نے دروازہ کھولا۔</p>
<p>میں کمرے میں پہنچا۔ وہ ڈبڈبائی آنکھوں سے پتہ نہیں کہاں کسی خلا میں دیکھ رہی تھیں۔ میں نے پہلے جیسے ہی ڈانٹ بھری آواز میں کہا، “کرسی پر بیٹھو!” وہ میری نظر سے نظر ملانے سے ڈر رہی تھیں۔ میں نے بابوراؤ کی طرف مڑ کر انہیں سے کہا، “نیچے جائیے اور ایک کپ کافی لے آئیے۔” بابوراؤ گئے اور کافی لے کر آ گئے۔ میں نے شانتا بائی سے کہا، “یہ کافی پی لو!” اس نے وہ گرم کافی پانی جیسے ایک ہی سانس میں پی ڈالی۔ تب میں نے کہا، “اب آپ بابوراؤ کے ساتھ گھر جائیے!” وہ کسی مشین کے طرح چل کر کمرے کے باہر جانے لگی۔ بابوراؤ بھی اس کے پیچھے پیچھے ہو لیے۔</p>
<p>شانتا بائی کو سنائی دے اتنی آواز چڑھا کر میں نے بابوراؤ سے کہا، “کل صبح شانتا بائی کو لے کر کمپنی میں آئیے۔ صاحب ماما سے بات کر ساری غلط فہمی دور کر لیں گے۔ ”</p>
<p>دھت۔۔۔ ماں کی! شوٹنگ کتنی رنگ پر آئی تھی اور یہ بےکار کی جھنجھٹ نہ جانے کہاں سے آ کھڑی ہوئی۔ اس کے کارن میں کافی پریشان رہا۔ قدم اپنے آپ اپنے آفس کی طرف مڑے۔ وہاں تھوڑی دیر میں اکیلا ہی بیٹھا رہا۔ شوٹنگ رکی پڑی تھی۔ نہیں، ایسا کرنے سے کام کیسے چل سکتا ہے؟ جو بھی ہو، آج کی شوٹنگ تو پوری کرنی ہی پڑے گی۔ شانتا آپٹے کے اس واقعہ سے من ہٹا کر میں پھر سے آج کی شوٹنگ پر مرکوز کرنے لگا۔ ناخوشگوار وچار آہستہ آہستہ چھنٹتے گئے۔ میں پھر شانت من سے شوٹنگ کرنے کے لیے سٹوڈیو کی طرف مڑا۔</p>
<p>دوسرے دن سویرے پونے نو بجے میں سٹوڈیو میں آ گیا۔ پہرے دار نے مجھے دیکھ کر ہمیشہ کی طرح سلام کیا۔ میں نے بھی عادت کے مطابق اپنا ہاتھ اونچا اٹھا کر سلام قبول کیا۔ چپڑاسی سے آنکھیں چار ہوتے ہی اس نے head attendance کے برآمدے کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے بھی اُدھر دیکھا۔ ایک بینچ پر شانتا آپٹے سوئی پڑی تھی۔ بابوراؤ بھی وہاں کھڑے کھڑے میری طرف دیکھ رہے تھے۔ میں نے ان کے پاس جا کر حیرانی سے پوچھا، “آخر یہ سب ماجرا کیا ہے؟”</p>
<p>انہوں نے کہا، “کل کمپنی میں جو واقعہ ہوا، اس کے کارن امی اپنے آپ کو بہت ہی بےعزت محسوس کر رہی ہے اور اسی لیے اس نے یہاں بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔” شانتا بائی کے پاس جا کر میں نے اسے آواز دی، سنتے ہی اس نے آنکھوں پر کس کر رکھا ہاتھ کچھ ہٹایا اور مجھے دیکھا اس کی آنکھیں بھر آئی تھیں۔ پھر فوراً ہی اس نے اپنی آنکھوں کو کس کر ڈھانپ لیا۔</p>
<p>“شانتا بائی، یہ کیا پاگل پن لگا رکھا ہے! میں نہیں سوچتا صاحب ماما جان بوجھ کر تمہیں بےعزت کریں گے۔ لیکن مان لو بھولے میں انہوں نے ویسا کیا بھی، تو میں تمہیں پھر بتاتا ہوں، ہم لوگ آپس میں بیٹھ کر ساری غلط فہمیاں دور کر لیں گے۔”</p>
<p>شانتا بائی اپنا رونا روک کر لیکن منہ پر سے ہاتھ نہ ہٹاتے ہوئے بولی، “اب اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا! آپ تو انہیں کی باتوں کو سچ مانیں گے۔ پھر اب آپ کو میری ضرورت بھی تو نہیں رہی۔ ‘آدمی’ کی ہیروئین کا کردار میں نے کتنی بار آپ سے مانگا، پھر بھی آپ نے وہ مجھے نہیں دیا!”</p>
<p>یہ سچ ہے کہ اس نے وہ کردار لینے کی ضد کی تھی، لیکن میں نے تب بھی اسے سجھا بجھا کر کہا تھا، “یہ کردار تو عمر میں کچھ بڑی، ادھیڑ عمر کی طرف بڑھتی عورت کو ہی پھبے گا۔ تم اس کام کے لائق نہیں ہو۔ پھر اس طرح کا رول کرنا تمہارے لیے مشکل بھی ہو گا۔ اگر اس کردار کو اچھی طرح نہیں نبھایا، تو ‘دنیا نہ مانے’ کے کارن تمہاری جو شہرت پھیلی ہے، دھندلی ہو جائی گی۔”</p>
<p>لیکن عورت ہٹ ایک ایسی چیز ہے کہ اس کے سامنے دنیا کی ساری دلیل بیکار ہو جاتی ہے۔ کم سے کم اس سمے تو اسے شانت کرنے کے لیے میں نے کہا، “میں آپ کو آئندہ فلم میں بہت اچھا کام دوں گا، جس سے تمہارا نام اور پھیلے گا۔” میرا اندازہ تھا، یہ سن کر وہ کچھ خوش ہو جائے گی اور بھوک ہڑتال کا یہ تماشا بند کر دے گی۔ لیکن وہ ہونے سے رہا۔ وہ بولی، “مجھے اب ‘پربھات’ کے فلم میں کام نہیں کرنا ہے۔ آپ مجھے کانٹریکٹ سے آزاد کر دیجیے!”</p>
<p>کانٹریکٹ سے آزاد کرنے کی بات اس کے منہ سے سنتے ہی میں آپے سے باہر ہو گیا۔ میں نے بھی آواز چڑھا کر کہا، “کانٹریکٹ سے آزاد ہونے کے لیے ہی تم نے یہ بھوک ہڑتال کی ہو تو کان کھول کر سن لو، ‘پربھات’ کے ساتھ کیے گئے کانٹریکٹ سے تمہں ہرگز آزاد نہیں کیا جا سکتا۔ ‘پربھات’ نے تمہیں اتنا نام دیا، شہرت دلائی، اسی کی عزت ایسے ناٹک رچ کر تم کم کرنے جا رہی ہو۔ اس طرح کا طرز عمل کرنے والے کسی شخص کے بھی لیے میرے من میں کوئی عزت نہیں ہے— چاہے وہ شخص کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ تمہیں آخری بار وارننگ دیتا ہوں: بھوک ہڑتال کا یہ بےکار کا جھنجھٹ چھوڑ دو، سٹوڈیو میں چلو۔ بیکار کا تماشا کھڑا نہ کرو!”</p>
<p>میں نے اتنا سمجھایا، پھر بھی شانتا بائی نے کہا “میں آپ کے سٹوڈیو میں اب قدم بھی رکھنا نہیں چاہتی۔ جب تک آپ کانٹریکٹ سے آزاد نہیں کرتے، میں یہاں سے ہٹوں گی نہیں!” اب میری قوت برداشت کا باندھ ٹوٹ گیا۔ میں نے اس سے صاف کہہ دیا، “اس کے بعد میں تمہیں سمجھانے کے لیے بھی نہیں آؤں گا۔ اس بھوک ہڑتال کے کارن تمہیں کچھ ہو گیا، تب بھی ادھر جھانکوں گا نہیں۔”</p>
<p>شانتا آپٹے کے اندر جو کلاگن ( فنی خوبیاں) تھے، گائیکی میں جو ہنر تھا اور اپنی اداکاری سدھارنے کے لیے اس نے جو کڑی محنت کی تھی، اس کے کارن اُس کے لیے میرے من میں کاروباری ستائش کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ ایک بار تو اس نے ایسی ہمت دکھائی تھی کہ اس کے کارن میرے من کے کسی کونے میں اپنے لیے تھوڑی سی جگہ بھی بنا لی تھی۔ بمبئی کے فلم انڈیا ماہنامہ میگزین کے ایڈیٹر نے شرارت سے اس کے بارے میں کچھ بدنامی کرنے والا مواد چھاپا تھا۔ تب شانتا بائی بینت کی چھڑی لے کر اس میگزین کے ایڈیٹر بابوراؤ پٹیل کے آفس میں گئی تھیں اور اس کی ایسی پٹائی کی تھی کہ پوچھیے نہیں۔ اس کے بعد وہ فوراً پونا آئیں اور سارا قصہ مجھے بتا دیا۔ اس کے اس کارنامے پر ناراض نہ ہو جاؤں اس لیے وہ زنانہ رویے کے کارن خود ہی رونے لگی تھیں۔ میں نے اس کو تسلی دی تھی۔ میرا خیال ہے کہ کسی نٹ کھٹ ایڈیٹر کو بینتیں جما کر سبق سکھانے والی شاید شانتا آپٹے پہلی سینما ایکٹر تھی۔</p>
<p>آج بھی اس معاملے کے خلاف جسے وہ اپنے ساتھ کی گئی ناانصافی مانتی ہے، بھوک ہڑتال کرنےکی ہمت اس نے دکھائی تھی۔ یہ بھی ایک لحاظ سے میرے من میں ستائش کا ہی موضوع تھا۔ لیکن، جس ‘پربھات’ نے اس کے اندر کے کلاگنوں کو آسمان پر لا کر اسے شہرت کی چوٹی پر پہنچایا تھا، اسی ‘پربھات’ کے نام پر اس طرح بھوک ہڑتال کے ذریعے کیچڑ اچھالنے کی اس کی یہ کوشش مجھے قطعی پسند نہیں تھی۔ میں نے من ہی من فیصلہ کیا کہ پہریدار کے جس کمرے میں وہ مزاحمت کرنے بیٹھی ہے، اس راستے اس کے وہاں بیٹھی رہنے تک آنا جانا بند رکھوں گا۔ وہاں سے میں سیدھے سٹوڈیو گیا۔ بڑھئی کو بلوایا اور اسے ہدایت دی کہ کمپنی کے احاطے کی دوسری طرف جو باڑ لگی ہے اسے ہٹوا کر وہ وہاں سے آنے جانے کا راستہ فوراً تیار کرے۔ تبھی داملے جی، فتے لال جی بھی کمپنی میں آ گئے۔ میں نے انہیں شانتا بائی اور میرے بیچ ہوئی ساری باتیں بتا دیں۔ تبھی کسی نے ہڑبڑاہٹ میں آ کر بتایا کہ “گیٹ پر بابوراؤ ہاتھ میں بندوق لیے شانتا بائی پر پہرہ دے رہے ہیں!”</p>
<p>یہ سوچ کر کہ ان بہن بھائی کے عجیب و غریب طرز عمل پر کوئی دھیان نہ دیا جائے، میں سیٹ پر چلا گیا۔ من کو یکسو کرتے ہوئے کام کرنا شروع کیا۔ دھیرے دھیرے کام نے ہمیشہ کی طرح رفتار پکڑی۔ تبھی پہلے والی خبر دینے والے اسی آدمی کو پھر سیٹ پر آتے میں نے دیکھا۔ اسے پاس بلا کر پوچھا تو اس نے بتایا کہ، “انّا، بابوراؤ کی پلاننگ پر کچھ رپورٹر آئے ہیں اور وہ شانتا بائی سے انٹرویو کر رہے ہیں۔”</p>
<p>میرے غصے کا ٹھکانا نہ رہا۔ میں نے اس آدمی کو بتا دیا، “انہیں جو جی میں آئے، کرنے دو، مجھے تو اپنا کام کرنا ہے!” کیمرا مین کی طرف مڑ کر میں نے پوچھا، “اودھوت، تم تیار ہو نا؟”</p>
<p>“جی ہاں، انّا۔”</p>
<p>“ٹھیک ہے، چلیے سب لوگ تیار۔ شاٹ لینا ہے۔ ٹیک۔”</p>
<p>‘ٹیک’ کہتے ہی پربھات کے پورے خاندان میں ‘خاموش’ رہنے کا اعلان دینے والے بھومپو بج اٹھے۔ اس دن میں ایک کے بعد ایک لگاتار شاٹس لیتا گیا۔ میں بھی ضد پر اتر آیا تھا اس لیے یا میرے غصے سے ڈر کر سبھی لوگ پورا دھیان لگا اپنا اپنا کام کیے جا رہے تھے۔ اس لیے میری شوٹنگ کا کام زیادہ تیزی سے ہونے لگا تھا۔ ہر شاٹ کے شروع کے سمے پربھات احاطہ بھونپوؤں کی آواز سے لگاتار دندنا جاتا تھا۔ وجہ یہی تھی کہ شانتا بائی اچھی طرح سمجھ لے کہ اس کی بھوک ہڑتال کے کارن میں ذرا بھی متاثر نہیں ہوا ہوں۔</p>
<p>شام ہو گئی۔ بڑھئی نےجو نئی راہ بنائی تھی، اسی سے میں سٹوڈیو کے باہر گیا۔ یہ سوچ کر کہ دن بھر بھوکے پیاسے رہنے کے کارن ممکنہ طور بھائی بہن کی عقل ٹھکانے آ گئی ہو گی، وِمل کو میں نے ان دونوں کے لیے بھوجن کا ڈبہ اور دو تھالیاں نوکر کے ہاتھ بھجوا دینے کے لیے کہا۔ ساتھ میں ان کے لیے پیغام بھی بھجوا دیا، “کھانا کھا لو۔ بھوکے مت رہو۔” لیکن وہ ڈبہ جیسا کا تیسا لوٹا دیا گیا۔ دوسرے دن اخباروں میں شانتا بائی کی بھوک ہڑتال کی خبر بڑی موٹی سرخیوں کے ساتھ چھپی۔ وہ زمانہ مہاتما گاندھی کی ستیاگرہ تحریک کا تھا۔ نتیجتاً ایک مقبول اداکارہ کی بھوک ہڑتال کی خبر ‘ٹائمز آف انڈیا’ جیسے وزن دار اخبار میں بھی ‘کرنٹ ٹاپکس’ میں بڑے چاؤ سے چھپ گئی۔ چھپے الزامات کی تردید کرنےکی ضرورت میں نے محسوس نہیں کی۔ لیکن ایک ڈر سا ضرور لگ رہا تھا کہ اس ہٹ دھرمی کے کارن کہیں شانتا بائی کو کچھ ہو نہ جائے!</p>
<p>اپنا ڈر میں نے داملے جی کو بھی سنا دیا۔ تو وہ ایک دم ٹھنڈی آواز میں کہنے لگے، “وہ کبھی مرنے والی نہیں ہے! شانتا بائی جہاں ستیاگرہ کر رہی ہیں، اس کے پیچھے ہی ہماری کنٹین کا ایک دروازہ ہے۔ اس کی دراڑوں میں سے ٹوہ لیتے رہنے کے لیے میں نے ایک آدمی کو تعینات کیا ہے۔ وہ کہہ رہا تھا کہ اس کے پاس پانی کا جو لوٹا رکھا ہے اس میں پانی نہیں، دودھ ہے اور بابوراؤ تھوڑے تھوڑے سمے بعد اسے وہ دیتے رہتے ہیں۔”</p>
<p>اور ایک دن ایسے میں ہی بیت گیا۔ بیچ میں بابوراؤ جا کر کسی ڈاکٹر کو لے آئے۔ اس ڈاکٹر نے دونوں کو گمبھیر وارننگ دی کہ بھوک ہڑتال اور ایک دن جاری رکھی تو اس کا شانتا بائی کی آواز پر برا اثر ہو جائے گا۔ ممکن ہے ان کے گلے کے vocal cords ہمیشہ کے لیے بے کار ہو جائیں۔</p>
<p>دوسرے دن ہمیشہ کی طرح شوٹنگ شروع کی۔ کام کرتے کرتے بیچ ہی میں شانتا بائی کی بھوک ہڑتال کا خیال من میں آتا اور من بے چین ہو اٹھتا۔ لیکن میں اپنے آپ کو سمجھاتا تھا کہ کچھ بھی ہو، اپنے کام میں کسی بھی طرح کی ڈھیل نہیں آنے دینی ہے۔ یہی سوچ کر میں نے اس دن کی شوٹنگ پوری کر لی۔</p>
<p>ہمیشہ کی طرح رات میں مَیں دوسرے دن کی شوٹنگ کا سنیریو لکھنے بیٹھا تھا۔ ساڑھے گیارہ بج رہے تھے۔ تبھی دروازے پر کسی نے گھنٹی بجائی۔ نوکر نے دروازہ کھولا۔ تھوڑی ہی دیر میں سنیریو لکھنے کی میری کاپی پر سامنے کی طرف سے دو پرچھائیاں پڑیں۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا: ‘دینک گیان پرکاش’ کے ایڈیٹر کاکا صاحب لِمیے اور ان کے ساتھ پ۔کے۔اترے سامنے کھڑے تھے۔ میں نے لپک کر ان کا استقبال کیا اور تشریف رکھنے کے لیے درخواست کی۔ لیکن انہوں نے کھڑے کھڑے ہی کہا، “شانتا آپٹے بھوک ہڑتال توڑ کر گھر جانے کے لیے تیار ہیں، بشرطےکہ آپ خود جا کر اسے ویسا کہیں۔ پھر وہ کمپنی کے دروازے پر دیا گیا دھرنا اٹھا کر چلی جائےگی۔” میں بھی اپنی ضد پر اڑا تھا۔ میں نے ان دونوں سجنوں کو بتایا، “اجی، یہی بات میں نے پہلے ہی دن اس سے زیادہ اچھی طرح سے سمجھائی تھی۔ لیکن شانتا نے میری ایک نہ سنی۔ الٹے، رپورٹرز کو انٹرویوز دے دے کر اس نے میری ‘پربھات’ کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ میں ہرگز نہیں آؤں گا اب اسے منانے کے لیے!”</p>
<p>میری بات سن کر لِمیے جی مجھے سمجھانے لگے، “شانتارام بابو، آپ اپنا غصہ اب تو چھوڑیے، مالک مزدور، یا ڈائریکٹر کلاکار کے طور آپ نہ سوچیے۔ صرف انسانیت کی نظر سے دیکھیے۔ ہماری راۓ میں آپ ایک بار خود جا کر اسے گھر چلی جانے کے لیے صرف کہہ دیں۔ صرف انسانیت کے احساس کے نقطہ نظر سے سوچیے۔”</p>
<p>حالانکہ میں چاہتا تو نہیں تھا، لیکن اپنی خواہش کے خلاف ان دونوں کے ساتھ میں سٹوڈیو گیا۔ شانتا بائی attendance headکے بیٹھنے کی جگہ پر نیچے فرش پر سوئی تھیں۔ اس کے پاس جا کر میں نے بہت ہی بے رخی سے کہا، “شانتا بائی اٹھو، اور اپنے گھر چلی جاؤ۔”</p>
<p>میری آواز سنتے ہی اس نے آنکھیں کھولیں اور روہانسی آواز میں بولی، “میری تنخواہ تو گھر بھجوا دیں گے نا؟” سوچا، کہاں تو یہ اپنےعزت نفس کو ٹھیس لگنے کے کارن ایک اصول کے لیے ستیاگرہ کرنے بیٹھی تھیں، اور کہاں اب صرف تنخواہ کے لیے اپنا ستیاگرہ واپس لینے کو تیار ہو گئی ہیں! اور اس کے لیے میرے من میں رہی سہی ہمدردی بھی جاتی رہی۔</p>
<p>میں نے نہایت روکھے پن سے جواب دیا، “ہاں!”</p>
<p>وہ فوراً جانے کے لیے اٹھ کر کھڑی ہونے لگی۔ لیکن اپنا توازن کھونے کی ادا سے ایک دم مجھ پر گری۔ پل بھر میں نے سوچا، کہیں اس کا بھائی دنیا بھر میں یہ نہ کہتا پھرے کہ میں نے ہی اسے دھکا دیا۔ لہذا میں نے لپک کر اسے سہارا دیا اور یہ سوچ کر کہ ایک بار یہ بلا یہاں سے ٹلے، میں نے اسے ہاتھوں میں اٹھا لیا اور سامنے ہی کھڑی اس کی گاڑی میں لے جا کر دھر دیا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں یہ پھر سے یہیں ٹھیا جما کر بیٹھ نہ جائے۔ لیکن جیسے ہی میں نے اسے اس کی کار میں رکھا، اس نے فوراً اپنی بانہیں میرے گلے میں ڈالیں اور کس کر مجھ سے لپٹ کر رونے لگی۔ میں پس وپیش میں پڑ گیا۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں؟ ڈر یہ بھی تھا کہ پاس ہی کھڑے لِمیے، اترے، گیٹ پر تعینات پہریدار اور دیگر لوگ اس کا کچھ اور ہی مطلب نکالیں گے۔ لہذا میں نے اپنے ہاتھ ہٹا لیے۔ پریشان تو میں اتنا تھا کہ میرے ہاتھ چیچھڑوں کی طرح لٹکنے لگے۔ دبی آواز میں مَیں اس سے منتیں کرنے لگا، ”شانتا بائی، چھوڑو مجھے۔” لیکن وہ ماننے سے رہیں۔ اس کے آنسو میرے گالوں پر جھر رہے تھے۔ وہ اپنے گال میرے گالوں پر اور ہونٹ میرے ہونٹوں کے ساتھ مسلسل بار بار گھمانے لگی۔ اس کے اس پاگل پن کے کارن مجھے بہت ہی شرم محسوس ہونے لگی۔ غنیمت تھی کہ دیگر سب کی طرف میری پیٹھ تھی اور ادھر جاری لَو سین کسی کو دکھائی نہیں پڑ رہا تھا! سارا معاملہ ایک دم ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تھا۔ کاش! چِلّا پاتا! اُف! کیسی گھٹن پیدا کرنے والی مجبوری تھی! میں نے بہت ہی دبی آواز میں اسے مجھے چھوڑ دینے کے لیے کہا۔ تب جا کر کہیں اس نے اپنا شکنجہ ڈھیلا کیا!</p>
<p>میں چھٹتے ہی پیچھے ہٹا اور کار کا دروازہ دھڑام سےبند کر دیا۔ راحت کی سانس لی ہی تھی کہ اس کے بھائی نے مجھے کار کے پیچھے لے جا کر کس کر بھینچ لیا۔ اپنی بانہوں میں وہ بڑبڑانے لگا، “امی کی جان آپ نے ہی بچائی ہے۔ شانتا کو آپ نے۔۔۔” چھوڑنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ لو، پھر آ گئی آفت! کہیں اس نے بھی اپنی بہن جیسا ہی سلسلہ شروع کر دیا، میں بے طرح گھبرا گیا۔ بابوراؤ کے چنگل سے رہائی پانے کے خیال سے میں نے اُن سے کہا، “اب آپ فوراً اپنے گھر جائیے۔ شانتا بائی کو پہلے کچھ کھانے کو دیجیے، ورنہ ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔”</p>
<p>“جی ہاں، جی ہاں،” کہتے ہوئے بابوراؤ نے اپنی بھینچ سے مجھے رہا کر دیا اور وہ لپک کر کار میں جا بیٹھے۔ کار کا انجن تو کبھی کا سٹارٹ تھا۔ میں نے سڑک کے ٹریفک کنڑول کرنے والے پولیس سپاہی کی ادا سے ڈرائیور کو تیزی سے ہاتھ ہلا کر اشارہ کیا۔ شانتا بائی کو لے کر وہ کار تیزی سے کمپنی کے احاطے سے باہر نکل گئی۔</p>
<p>گھر لوٹا تو داملے جی فتے لال جی میری راہ دیکھ رہے تھے۔ شانتا آپٹے آخر گھر لوٹ گئیں، یہ سننے کے بعد انہوں نے بھی راحت کی سانس لی۔ سچ کہا جائے تو اس جھمیلے کے کارن وہ دونوں کافی سٹپٹا گئے تھے۔ وِمل کو بھی اس کے چلے جانے کی بات سن کر کافی اچھا لگا۔</p>
<p>کچھ سمے پہلے سکرین پلے اور سنیریو کی کھلی پڑی کاپی بڑی بے چینی سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ میں فوراً سنیریو لکھنے بیٹھ گیا اور وہ کام پورا کر کے ہی میں نے چین کی سانس لی۔ صبح صادق ہو چکی تھی۔ کچھ آرام کر لینے کے وچار سے میں بستر پر لیٹ گیا۔ نیند آنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ من میں وچاروں کا طوفان اٹھا تھا۔</p>
<p>شانتا آپٹے نے اس طرح کا سلوک کیوں کیا؟ پیچھے بھی دو ایک بار اُس نے مجھے پیار میں پھنسانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن میں نے تو اپنی طرف سے اُسے کسی بھی طرح سے کوئی بڑھاوا نہیں دیا تھا۔ یہ ٹھیک ہے کہ ایک ڈائریکٹر کے طور پر میں نے اچھی اداکاری یا اچھی گائیکی کے لیے اس کی تعریف کی تھی، اسے شاباشی بھی دی تھی۔ لیکن میں اس پر فریفتہ کبھی نہیں ہوا تھا۔ پھر وہ کیوں اس طرح میرے گلے پڑی؟ موہ (پیار) کے ایسے لمحے میرے جیون میں بار بار کیوں آتے ہیں؟ میں رہا ایک معمولی سیدھا سادہ آدمی! میں عمر بھر برہم چاریہ کا پالن کرنے کا عہد کر بیٹھا کوئی رِشی مُنی تو نہ تھا۔ پھر کیوں بھگوان اس طرح بار بار میرا امتحان لیتے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ مجھے اس کسوٹی پر پرکھنا چاہتے ہیں کہ میں اپنی کلا کے لیے ہمیشہ وقف رہ پاؤں گا یا نہیں؟</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-21/">شانتا راما باب 21: آدمی (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-21/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مری شاعری پڑھنے والوں کے لیے وضاحت اور دیگر نظمیں (شاعر: نزار قبانی، مترجم: فاطمہ مہرو)</title>
		<link>https://laaltain.pk/meri-shairi-parrhnay-walon-k-liay-wazahat-and-other-poems/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/meri-shairi-parrhnay-walon-k-liay-wazahat-and-other-poems/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فاطمہ مہرو]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 08 Dec 2020 07:12:58 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[Christian Schole]]></category>
		<category><![CDATA[farwa shafqat]]></category>
		<category><![CDATA[Fatima Mehru]]></category>
		<category><![CDATA[Nizar Qabbani]]></category>
		<category><![CDATA[فاطمہ مہرو]]></category>
		<category><![CDATA[فروا شفقت]]></category>
		<category><![CDATA[نزار قبانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25943</guid>

					<description><![CDATA[<p>اگر میں تمہیں اتنا عزیر ہوں<br />
تو تھام لو میرا ہاتھ</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/meri-shairi-parrhnay-walon-k-liay-wazahat-and-other-poems/">مری شاعری پڑھنے والوں کے لیے وضاحت اور دیگر نظمیں (شاعر: نزار قبانی، مترجم: فاطمہ مہرو)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>شاعر: نزار قبانی<br>
ترجمہ: فاطمہ مہرو<br>
نظرثانی: فرواشفقت</p>
<p>[divider]مری شاعری پڑھنے والوں کے لیے وضاحت[/divider]</p>
<p>احمق مرے بارے کہتے ہیں:<br>
میں نے عورتوں میں ٹھکانہ ڈھونڈا<br>
اور کبھی باہر نہیں نکلا۔<br>
وہ مری پھانسی کا مطالبہ کرتے ہیں<br>
کیونکہ اپنے محبوب کی ہر نسبت کو<br>
مَیں شاعری بنا لیتا ہوں<br>
میں نے کبھی تجارت نہیں کی<br>
دوسروں کی طرح<br>
حشیش کی۔<br>
کبھی چوری نہیں کی۔<br>
کبھی کسی کا قتل نہیں کیا۔<br>
میں نے تو دن کے اجالے محبت کی۔<br>
کیا مَیں نے گناہ کیا؟</p>
<p>اور مرے بارے احمق کہتے ہیں:<br>
اپنی شاعری سے<br>
مَیں نے الوہی قوانین توڑ ڈالے۔<br>
کس نے کہا<br>
محبت نے<br>
آسمان کو بدنام کیا؟<br>
آسمان تو مرا ہمراز ہے<br>
یہ روتا ہے جب میں روؤں<br>
ہنستا ہے جب میں ہنسوں<br>
اور اس کے ستارے<br>
اپنی تابناکی بڑھا لیتے ہیں۔<br>
اگر<br>
ایک دن مَیں محبت میں مبتلا ہوتا ہوں<br>
تو کیا ہے اگر<br>
اپنے محبوب کے نام پر میَں گیت گنگناتا ہوں<br>
اور شاہِ بلوط کی طرح<br>
ہر دارالحکومت میں، اُس کی پنیری لگاتا ہوں<br>
محبت مری ادائے بندگی رہے گی<br>
سب پیغمبروں کی طرح۔<br>
اور یونہی بچپنا، معصومیت<br>
اور بے گناہی۔<br>
مَیں اپنے محبوب کی ہر چیز کو شاعری میں<br>
ڈھالتا رہوں گا<br>
یہاں تک کہ اُس کی سنہری زلفوں کو پگھلا کر<br>
آسمان کی دھوپ بنا دوں۔<br>
مَیں ہوں ایسا<br>
اور اُمید ہے مَیں بدلوں گا نہیں،<br>
بالکل بچہ<br>
ستاروں سی دیواروں کو اپنی لکیروں سے بَھرتا ہوا<br>
اُسی طرح، جیسے وہ چاہتا ہو<br>
جب تک کہ محبت کی قدر<br>
میرے وطن میں<br>
ہوَا جتنی نہ ہو جاۓ<br>
اور محبت کے متلاشیوں کے لیے مَیں نہ ہو جاؤں<br>
ایک فرہنگ<br>
اور ان کے لبوں پہ جاری نہ ہو جاؤں<br>
کسی حروفِ تہجی<br>
الف ب ج کی طرح ۔</p>
<p>Clarification To My Poetry-Readers</p>
<p>[divider]ماں کے لیے پانچ خطوط (2)[/divider]</p>
<p>میں تنہا ہوں۔<br>
میرے سگرٹ کا کش بے کیف ہو گیا ہے،<br>
حتٰی کہ مجھ سے میری نشست بھی۔<br>
اڑتے پرندوں کے غول کی مانند مرے دکھ غلے کے کھیت تلاش رہے ہیں<br>
میں نے یورپی حسیناؤں سے آشنائی کی<br>
میں نے چھانے چٹیل اور بیلے بھی<br>
ان کی تھکی ماندی تہذیب بھی<br>
میں نے کی ہند و چین کی سیاحی<br>
اور تمام مشرق کی!<br>
اور مجھے کہیں نہیں ملی<br>
ایک عورت جو میرے سنہری بال سنوارتی<br>
ایک عورت جو میرے لیے اپنے بٹوے میں مصری کی ڈلی چھپاتی<br>
ایک عورت جو مجھے کپڑے پہناتی جب میں برہنہ ہوتا<br>
اور مجھے اٹھا لیتی جب مَیں گِر جاتا۔<br>
ماں! مَیں وہ لڑکا ہوں جس نے بحری سفر کیے<br>
اور آج بھی اُسے مصری کی ڈلی کی خواہش ہے<br>
تو کیونکر اور کیسے مَیں، ماں!<br>
ایک باپ بن گیا ہوں اور کبھی بڑا نہیں ہوتا۔</p>
<p>Five Letters To My Mother (2)</p>
<p>[divider]لَو، لالٹین سے زیادہ معنی خیز ہے[/divider]</p>
<p>لَو، لالٹین سے زیادہ معنی خیز ہے<br>
نظم، بیاض سے بڑھ کر<br>
اور بوسہ، ہونٹوں سے ۔<br>
میرے، تمہارے لیے محبت نامے<br>
بیش تر اور ہم دونوں سے بڑھ کر ہیں۔<br>
یہ وہ واحد دستاویزی ثبوت ہیں<br>
جن سے لوگ دریافت کر سکیں گے<br>
تمہارا حُسن<br>
اور مری دیوانگی ۔</p>
<p>Light is More Important Than The Lantern</p>
<p>[divider]رَگوں میں دوڑتی عورت[/divider]</p>
<p>جس کسی نے مرے کافی کپ کو پڑھ رکھا ہے<br>
پہچان لیتا ہے تم مری محبت ہو<br>
جس کسی نے مری ہتھیلی کی لکیروں کو پڑھا<br>
جان لیتا ہے تمہارے نام کے چار حروف،<br>
ہر شے سے انکار ممکن ہے<br>
سواۓ اپنی محبوب عورت کی خوشبو سے،<br>
ہر چیز چھپائی جا سکتی ہے<br>
مگر رَگوں میں دوڑتی عورت کے قدموں کے نشان،<br>
ہر چیز پر بحث کی جا سکتی ہے<br>
سواۓ تمہاری نسوانیت کے۔</p>
<p>مَیں تمہیں کہاں چُھپاؤں، مری جاں؟<br>
کہ ہم دو آگ میں بھڑکتے ہوۓ جنگل ہیں<br>
اور تمام ٹیلی ویژن کیمروں کی توجہ ہماری طرف ہے<br>
مَیں تمہیں کہاں چھپاؤں گا مری جان؟<br>
کہ جب یہ تمام صحافی تمہیں<br>
سَرورق کی زینت بنانا چاہتے ہیں<br>
اور مجھے کوئی یونانی سورما بنا کر<br>
کوئی عوامی قصہِ رسوائی ۔</p>
<p>مَیں تمہیں کہاں لے جاوں گا؟<br>
تم مجھے کہاں لے کر جاؤ گی<br>
جب کہ تمام قہوہ خانوں کو ہمارے چہرے اَزبر ہو چکے ہیں<br>
اور تمام ریستورانوں میں ہمارے نام کے کھاتے موجود ہیں<br>
اور ہر فٹ پاتھ کو ہمارے قدموں کی تال کی پہچان ہے؟<br>
ہم دنیا پر سمندر کی طرف کھلنے والی بالکنی کی طرح عیاں ہو چکے ہیں<br>
بالکل دو سنہری مچھلیوں کی مانند<br>
آشکارہ۔</p>
<p>جو بھی تمہارے لیے لکھی مری نظمیں پڑھتا ہے<br>
مری پریرنا تک پہنچ جاتا ہے<br>
جس کسی نے مری کتابوں کا سفر باندھا<br>
سلامتی سے تمہاری آنکھوں کی بندرگاہ پہ اتر جاتا ہے<br>
جس کسی کو مرے گھر کا پتہ ملتا ہے<br>
تمہارے لبوں کی سمت پا لیتا ہے<br>
جس کسی نے مری درازیں کھول کر دیکھی ہیں<br>
تمہیں تتلی کی طرح وہاں سویا ہوا پایا ہے<br>
جس کسی نے مرے کاغذات پھولے ہیں<br>
تمہاری زندگی کا پس منظر جان لیتا ہے۔</p>
<p>مجھے سکھاؤ<br>
کیسے تمہیں محدود باندھوں التاء المربوطة میں<br>
اور مخرج سے روک لوں<br>
بتاؤ کیسے تمہارے پستان کے گِرد کھینچوں<br>
ایک دائرہ ارغوانی کھریے سے<br>
اور اسے غائب ہونے سے روک لوں<br>
مجھے بتاؤ کیسے تمہیں کسی فقرے کے آخر میں ختمے کی مانند قید رکھا جاۓ،<br>
بتاؤ کیسے مَیں تمہاری آنکھوں کی برسات میں بغیر بھیگے چلتا رہوں،<br>
کیسے بِنا مدہوش ہوۓ، تمہارے ہندوستانی مصالحوں سے بگَھارے جسم کی خوشبو کی باس لیے جاؤں<br>
اور تمہاری چھاتیوں کی مرعوب کُن رعب دار اونچائیوں سے<br>
بنا بکھرے لوٹ آؤں۔</p>
<p>دُور رہو میری چھوٹی چھوٹی عادتوں سے<br>
میری چھوٹی چھوٹی املاک سے<br>
وہ قلم جسے مَیں تحریر کے لیے استعمال کرتا ہوں<br>
وہ صفحات جن پر میں بَدخطی کرتا ہوں<br>
وہ چابیوں کا چَّھلا جسے مَیں اٹھاۓ پھرتا ہوں<br>
وہ کافی جس کے مَیں گھونٹ بھرتا ہوں<br>
وہ ٹائیاں جنہیں مَیں خریدتا ہوں،<br>
میری تحاریر کو ہاتھ بھی مَت لگانا<br>
کیونکہ یہ نامعقول لگے گا کہ مَیں تمہاری انگلیوں سے لکھتا ہوں<br>
اور تمہارے پھیپھڑوں سے سانس لیتا ہوں،<br>
یہ بھی غیر معقول بات ہے کہ میں تمہارے ہونٹوں سے ہنستا ہوں<br>
اور یہ کہ تم میری آنکھوں سے روتی ہو۔<br>
تھوڑی دیر مرے ساتھ بیٹھو<br>
کہ غور کر سکوں<br>
فاتح مغلوں کی سی بے رحمی<br>
اور عورت کی خود غرضی سے کِھنچے محبت کے ایسے نقشے پر، جو آدمی سے کہتی ہے<br>
” ہو جا۔۔اور وہ ہو جاتا ہے”<br>
مجھ سے جمہوری انداز سے بات کرو<br>
کہ مرے ملک میں قبائلی لوگ<br>
سیاسی جبر کے کھیل پہ دسترس پا چکے<br>
سو مَیں نہیں چاہتا کہ تم بھی مرے ساتھ<br>
جذباتی جبر کا کھیل کھیلو۔</p>
<p>یہیں بیٹھ جاؤ کہ ہم دیکھ سکیں<br>
تمہاری آنکھوں کی سرحدیں کہاں تک پھیلی ہیں،<br>
مرے دُکھوں کی حد کہاں تک ہے،<br>
تمہارے علاقے کے دریا کہاں سے شروع ہوتے ہیں،<br>
اور مری زندگی کہاں ختم ہونی ہے؟<br>
بیٹھو کہ ہم متفق ہوسکیں<br>
کہ مرے بدن کے کس حصے پر<br>
تمہاری فتوحات مکمل ہو جائیں گی<br>
اور کس رات<br>
یہ سلسلہ شروع ہوگا؟</p>
<p>زرا دیر مرے ساتھ بیٹھو<br>
کہ ہم محبت کے کسی ایک انداز پر متفق ہو سکیں<br>
جہاں تم مری ہو خدمتگار<br>
اور نہ میں تمہاری جاگیر کی فہرست میں سے<br>
کوئی چھوٹی سی بَستی<br>
جو ___سترہ صدیوں سے ____ ابھی تک تلاش کر رہی ہے<br>
تمہاری چھاتیوں سے نجات،<br>
جو کوئی جواب نہیں دیتیں<br>
کوئی بھی نہیں ۔</p>
<p>A Woman Moving Within Me</p>
<p>[divider]سمندر کی تہہ سے خط[/divider]</p>
<p>اگر تم مرے دوست ہو<br>
تو مری مدد کرو ۔۔۔ تمہیں چھوڑ دینے میں<br>
اور اگر تم مرے محبوب ہو<br>
تو مری مدد کرو ۔۔۔ کہ مجھے تمہارے غم سے شفا ملے<br>
اگر میں جانتا ۔۔۔<br>
سمندر بہت گہرا ہے ۔ ۔ ۔ تو میں کبھی نہ تیرتا<br>
اگر میں جانتا ۔۔۔ مرا انجام کیا ہوگا<br>
میں کبھی آغاز نہ کرتا</p>
<p>مجھے تمہاری چاہ ہے ۔ ۔ ۔ سو مجھے سکھاؤ کیسے نہ چاہوں<br>
مجھے سکھاؤ ۔۔۔<br>
کیسے تمہارے پیار کی جڑوں کو پاتال سے الگ کیا جاۓ<br>
مجھے سکھاؤ ۔۔۔<br>
آنسو آنکھ میں کیسے سُکھاۓ جائیں<br>
اور محبت کیسے خودکشی کر لے</p>
<p>اگر تم کوئی پیغمبر ہو<br>
تو مجھے اس سحر کی نحوست سے پاک کرو<br>
مجھے دہریت سے نکال باہر کرو۔۔۔<br>
تمہاری محبت بھی دہریت کی مانند ہے۔۔۔ سو مجھے اس الحاد سے پاکباز بنا دو</p>
<p>اگر تم میں طاقت ہے<br>
تو مجھے اس سمندر سے بچا لو<br>
کیونکہ میں تیرنا نہیں جانتا<br>
یہ ان نیلگوں لہروں میں۔۔۔ جو تمہاری آنکھوں میں ہیں<br>
جو مجھے کھینچتی ہیں۔۔۔اور گہرائی کی طرف<br>
نیلی۔۔۔<br>
نیلی۔۔۔<br>
کچھ اور نہیں صرف نیل<br>
اور میرے پاس تو تجربہ بھی نہیں<br>
محبت کا۔۔۔اور نہ ہی کوئی کشتی</p>
<p>اگر میں تمہیں اتنا عزیر ہوں<br>
تو تھام لو میرا ہاتھ<br>
کہ میں چاہت سے بھرا ہوا ہوں<br>
سر سے پاؤں تک</p>
<p>میں پانی کے نیچے سانس لے رہا ہوں!<br>
میں ڈوب رہا ہوں۔۔۔<br>
ڈوب رہا ہوں۔۔۔<br>
ڈوب رہا ہوں۔۔۔</p>
<p>Letter from Under the Sea by</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/meri-shairi-parrhnay-walon-k-liay-wazahat-and-other-poems/">مری شاعری پڑھنے والوں کے لیے وضاحت اور دیگر نظمیں (شاعر: نزار قبانی، مترجم: فاطمہ مہرو)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/meri-shairi-parrhnay-walon-k-liay-wazahat-and-other-poems/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>باب 20 شانتا راما: چکلہ بستی میں (ترجمہ: فروا شفقت)</title>
		<link>https://laaltain.pk/shanta-ram-ch-20/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/shanta-ram-ch-20/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فروا شفقت]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 16 Nov 2020 15:11:23 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[ajmal kamal]]></category>
		<category><![CDATA[farwa shafqat]]></category>
		<category><![CDATA[Parbhat]]></category>
		<category><![CDATA[آج]]></category>
		<category><![CDATA[اجمل کمال]]></category>
		<category><![CDATA[بالی وڈ]]></category>
		<category><![CDATA[پربھات]]></category>
		<category><![CDATA[فروا شفقت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25917</guid>

					<description><![CDATA[<p>نئی فلمیں بنانا ہی میرا کام ہے! یہ کام ہی جیون ہے! جیون جینے کے لیے ہے! اسے اصل میں جینا چاہیئے! میری سوچ اس طرح پختہ ہوتی جا رہی تھی۔ اور اُسی سمے یاس پسندی کو اجاگر کرنے والی ایک فلم ‘دیوداس’ لوگوں کو بہت متاثر کر رہی تھی۔ کلکتہ کی نیو تھئیٹرز فلم [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-ram-ch-20/">باب 20 شانتا راما: چکلہ بستی میں (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>نئی فلمیں بنانا ہی میرا کام ہے! یہ کام ہی جیون ہے! جیون جینے کے لیے ہے! اسے اصل میں جینا چاہیئے! میری سوچ اس طرح پختہ ہوتی جا رہی تھی۔</p>
<p>اور اُسی سمے یاس پسندی کو اجاگر کرنے والی ایک فلم ‘دیوداس’ لوگوں کو بہت متاثر کر رہی تھی۔ کلکتہ کی نیو تھئیٹرز فلم کمپنی کی بنائی اس فلم کے ڈائرکٹر تھے پرمتھیش بروا۔ ایک فلم کے روپ سے وہ بہت ہی سُندر تھی۔ اس میں سہگل کا گایا ایک گیت ”دکھ کے اب دن بیتت ناہیں” بہت ہی سُندر تھا۔ آج بھی وہ گیت مجھے بہت پسند ہے، لیکن یہ یاس پسند فلم نوجوان نسل کے من میں ایک طرح کی مایوسی پیدا کرتی جا رہی تھی۔ دیوداس شراب کا عادی ہو جاتا ہے، ویشیا کے یہاں جانے لگتا ہے اور آخر میں پیار کی خاطر اپنے آپ کو شراب میں پورا ڈبو دیتا ہے۔ اُسی میں اس کا انت ہو جاتا ہے۔ اس فلم کو دیکھتے سمے جوان لوگ رونے لگتے تھے۔ سچے پریم کے لیے مر جانا چاہیئے، خود کشی بھی کر لینی چاہیئے، یہ کھوکھلا آدرش جوان نسل کے من پر حاوی ہونے لگا تھا۔ لیکن ہمارے سماج کو اس طرح ناامید، غیر فعال نوجوانوں کی ضرورت نہیں تھی۔ اِسے تو چاہیئے تھے ایسے نوجوان لوگ جو دکھ میں بھی راستہ نکالتے ہوے سورماؤں کی طرح جیون کی راہ پر امنگ اور خوشی کے ساتھ چلتے ہی رہیں۔ پیار کی ناکامی کے کارن دکھ سے چُور ہو کر مر جانے کا نام جیون نہیں۔ جیون تو اِسی کو کہتے ہیں جو اپنے پیار کی یاد کو من میں سنجو کر فرض کی ادائیگی موت تک کرتا ہے۔ جوانوں کو اِس نتیجے پر پہنچانے والی مقصدی اور اُمید پرست فلم بنانے کا میں نے فیصلہ کیا۔ ‘دیوداس’ کے کارن نا امیدی کی جو لہر اٹھی تھی، اس کو روکنا سماجی مفاد کے لیے بے حد ضروری تھا۔</p>
<p>اسی سوچ سے میں نے اپنے معاون بھاسکرراؤ امینبل کو سارا خیال بتا دیا اور اس پر ایک کہانی کا موٹا خاکہ بنا کر لانے کو کہا۔ اس خاکے کے مطابق نئی فلم کے بارے میں ہمارے خیالات دھیرے دھیرے واضح ہوتے گئے۔ ‘دیوداس’ کی اصل کتھا مشہور بنگالی لیکھک شری چندر چٹرجی کی تھی۔ وہ بہت ہی مضبوط قلم کے دھنی تھے۔ ان کی یاس پسند فکر کو کرارا جواب دینے والی کہانی تیار کرنے کے چیلنج کو میں نے خود پہل کر قبول کیا۔</p>
<p>ظاہر ہے کہ محض بذلہ سنجی اور محاوروں سے بھرے مکالمے ایسے اثر کی تخلیق نہیں کر سکتے تھے، کہانی تو ایسے آدمیوں کی ہونی چاہیئے جو بالکل ہی سادہ اور عام جیون جیتے ہیں۔ وہ لوگ چھوٹے ہوتے ہیں۔ ان کا سکھ دکھ بھی عام ہوتا ہے۔ اپنے خوف، ہمت، خوبی، خامی وغیرہ کے کارن ہی وہ لوگ آدمی کہلاتے ہیں، آدمی لگتے بھی ہیں۔ ہماری کوشش تھی کہ ان کے جیون پر مبنی کہانی ہو۔ اس طرح جانے انجانے میں ہی نئی فلم کا نام ‘آدمی’ طے ہو گیا۔</p>
<p>سوچا کہ ‘آدمی’ کا ہیرو راستے پر گشت لگاتا ایک معمولی پولیس والا ہو۔ پولیس کو ڈیوٹی کرنے کے لیے کسی بھی محلے میں جانا پڑتا ہے۔ اس کام میں اس کا شہر کے مختلف طبقے کے لوگوں سے رابطہ ہوتا ہے۔ اِسی چکر میں ایک دن جوے کے ایک اڈے پر چھاپہ مارتے سمے اس معمولی پولیس والے یعنی ہمارے ‘آدمی’ کے ہیرو کی ملاقات ایک ویشیا سے ہو جاتی ہے۔ اس کے من میں اس ویشیا کے لیے ہمدردی جاگتی ہے۔ دونوں میں آگے چل کر میل جول بڑھتا جاتا ہے یہ تھا اِس سکرین پلے کا آغاز۔</p>
<p>اِس کے لیے ہم لوگوں نے پولیس والوں کا گھریلو جیون، ان کے مکانوں کی حالت اور پریڈ جا کر دیکھی۔</p>
<p>اب باری تھی ویشیاؤں کے جیون کو غور سے دیکھنے کی! اِس کے بارے میں ہم نے کئی کہانیاں سنی تھیں۔ لیکن صرف سنی سنائی باتوں پر کہانی لکھتے تو وہ حقیقت سے دور رہ جاتی۔ اس لیے ویشیاؤں کے چکلوں میں جا کر اُن کے جیون، رہن سہن، اُن کی کٹھنائیاں اور سوال وغیرہ کا خود معائنہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، یہ جان کر میں اور بھاسکرراؤ بمبئی گئے۔ بابوراؤ پینڈھارکر کے ایک واقف کار دتارام کو ہم نے پکڑا۔ اُس کی مدد سے ہم ہر رات چکلہ بستی میں جانے لگے۔ میں تو کبھی پان تک نہیں کھاتا تھا۔ لیکن یہ جتانے کے لیے کہ میں اِس بستی میں روز کا آنے والا ہوں، میں دو تین پان چبا کر ہونٹ لال کر لیتا، بِنا ٹوپی کے گھومتا، اور شکل ایسی بنا لیتا کہ کچھ نہ پوچھیے۔ بال بکھرے ہوے، کپڑے مٹ میلے اور سلوٹیں پڑے ہوے، منہ میں پان، رنگیلے ہونٹ۔۔۔ ایسے جاتا تھا میں اس بستی میں۔ سب سے آگے ہوتا تھا ہمارا رہبر دتارام، اس کے پیچھے میں، میرے پیچھے پیچھے بابوراؤ پینڈھارکر اور سب سے آخر میں پسینے پسینے ہو رہے بھاسکرراؤ، ایسی ہوتی تھی ہماری پلٹن کی تیاری۔</p>
<p>ہمارا رہبر دتارام دھندا کرنے والا یا ویشیاؤں کا کوئی بھڑوا نہیں تھا۔ یقیناً وہ ایک سماج سیوک تھا۔ اسے سب طرح کی چکلہ بستیوں کی جانکاری تھی۔</p>
<p>شروع میں ہم لوگ نچلے طبقے کی چکلہ بستی میں گئے۔ وہاں کا ماحول دیکھ کر مجھے تو گِھن سی آ گئی۔ ایک کمرے میں رسی باندھ کر اُس پر پرانے کپڑے پردے جیسے ڈالے گئے تھے اور ان کے پیچھے ایک جوڑے کے سونے کا انتظام کیا گیا تھا۔ اس طرح سے چار پانچ ‘بیڈ’ اسی کمرے میں بنائے گئے تھے۔ باہر صحن میں ایک لڑکی بالوں میں کافی تیل ڈالے، چہرے پر پوڈر پوت کر ہونٹوں پر بھڑکیلی لپ سٹک لگائے کسی گاہک کے ساتھ بڑے پیار سے اِٹھلا رہی تھی۔ تبھی اندر سے شراب کے نشہ میں دھت ایک شخص اپنے کپڑوں کو سنوارتا ہوا باہر آیا۔ اس کے پیچھے پیچھے اُسی طرح سے تڑک بھڑک کاسٹیوم پہنے ہوئی ایک لڑکی بھی باہر آئی۔ وہ کھلکھلا کر ہنستی ہوئی اس آدمی کے کپڑوں کو کھینچنے لگی۔ صحن میں کھڑی وہ لڑکی فوراً ہی اپنے گاہک کو ہاتھ پکڑ کر اس مٹ میلے پردے کی اوٹ میں لے گئی۔</p>
<p>من گِھن سے بھر گیا تھا۔ لیکن چہرے پر اس کا ذرا بھی احساس نہ دکھاتے ہوے ہم وہیں بے شرمی سے ہنستے ہوے کھڑے رہے۔ ایک بڑھیا ہمارے پاس آئی۔ اس کا پہناوا بھی چمک دمک والا تھا اور رنگ روغن بھڑکیلا۔ اپنی عمر سے سیدھی بے میل شوخی اور ادا سے عاشقانہ ادا پھینک کر اس نے ہنستے ہوے کہا، “تھوڑا صبر کیجئے۔ ابھی ایک ایک لڑکی خالی ہوئی جاتی ہے۔ پھر وہ آپ لوگوں کو اندر لے جائیں گی۔۔۔ آپ کو بہت ہی جلدی ہو، تو میں جو حاضر ہوں!”</p>
<p>میں نے اُس بڑھیا کا اپنی فلم میں کہیں نہ کہیں کچھ استعمال کرنا طے کیا۔</p>
<p>لوگوں کی اتنی آمد ورفت میں ویشیا جیون اور ان کے کاروبار کے بارے میں کچھ اور جانکاری حاصل کرنا ناممکن ہی تھا۔ وہاں تو بیٹھنے تک کے لیے جگہ نہیں تھی۔</p>
<p>دوسرے دن ہم نے کچھ اونچے طبقے والی چکلہ بستی میں جانا طے کیا۔ کینیڈی برِج پر ایک گووا والی رہتی تھی۔ اس کے یہاں جانا تھا۔ لیکن ہمارے کتھا لیکھک بھاسکرراؤ وہاں آنے کو تیار نہیں ہو رہے تھے۔ اُن کے بڑے بھائی وہیں کہیں آس پاس رہتے تھے۔ کسی نے اُس بائی کے کوٹھے پر جاتے دیکھ لیا تو خیر نہیں، یہ خوف انہیں وہاں جانے سے روک رہا تھا۔ وہ کافی ٹال مٹول کرتے رہے، لیکن میں نے انہیں چھوڑا نہیں۔ آنکھیں بند کر چوری سے دودھ پینے والی بلی کی طرح بھاسکرراؤ بِنا اِدھر اُدھر دیکھے، سر جھکائے سیدھے اس بائی کے کوٹھے میں گھس گئے۔</p>
<p>بائی کے گھر کی سجاوٹ عام مڈل کلاس کے لوگوں کے گھروں جیسی تھی۔ بائی نے ہمارے لیے پان بنوائے اور بڑی نشیلی ادا سے دیکھتے ہوے ہمیں دے دیے۔ اس نے ایک گانا بھی سنایا۔ اس کا گانا ایک دم معمولی تھا۔ اُس کے من کی بات جاننے کے لیے ہم نے اس سے باتیں شروع کیں۔ لیکن اس کی باتوں سے ہم ایک بات جان گئے: ویشیا کے یہاں آنے والے لوگ صرف لطف لینے کے لیے ہی آتے ہیں، لہذا انہیں اپنی بھلی بُری آپ بیتی سنا کر دکھی کرنا کہاں تک مناسب ہے؟ اسی بھاونا سے وہ اپنے من کی ذرا بھی گہرائی پانے نہیں دے رہی تھی۔ اس کے رویے میں اتنی فارملیٹی تھی کہ ہمیں وہ ذہنیت وہاں مل پانا لگ بھگ ناممکن لگنے لگا تھا، جس کی کہ ہمیں تلاش تھی۔ ہم نے اسے سو روپے دے دیے، اور فوراً وہاں سے کھسک آئے۔ کل کی طرح آج کا دن بھی اس طرح بے کار گیا تھا۔</p>
<p>میں ‘آدمی’ کی ہیروئین کی تلاش میں تھا، لیکن قِسم قِسم کے چکلوں کے زینے چڑھنے اترنے کے باوجود وہ مجھے مل نہیں رہی تھی۔ ایک رات دتارام ہمیں ایک ایسی جگہ پر لے گیا جہاں ایک ٹھیک ٹھاک چہرے والی ادھیڑ گوری عورت نے ہمارے سامنے اپنی پسند چننے کے لیے سات آٹھ جوان لڑکیوں کو کھڑا کر دیا۔ سب نے مجھے دیکھا۔ میں بھی کسی پرانے کھلاڑی کی نظر سے انہیں دیکھنے لگا۔ شاید ابھی ابھی اس کاروبار میں آئی لڑکی اپنا درد دل بتلا دے گی، یہ سوچ کر میں نے ان میں سے ایک خوبصورت لڑکی کو پسند کیا۔ اوپری منزل کے ایک کمرے میں وہ مجھے لے گئی۔ اس کمرے میں لکڑی کی ایک پارٹیشن لگی تھی۔ اس چھوٹے سے کمرے میں ایک پلنگ اور ایک کرسی جیسے تیسے جمع کر رکھی تھی۔ نیچے دیوان خانے میں دتارام، بابوراؤ پینڈھارکر اور بھاسکرراؤ میری راہ دیکھ رہے تھے۔</p>
<p>کوئی آدھ گھنٹے کے بعد میں نیچے آیا۔ وہ سب لوگ شرارت سے مسکرا رہے تھے۔ ہم سب لوگ وہاں سے چلنے کو تیار ہوے۔ زینے کی سیڑھیاں اترنے ہی لگے تھے کہ اس ادھیڑ کُٹنی نے میرے گھنگھرالے بال پکڑ کر کھینچے اور اپنی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی، “اجی، یہ بھی اچھا خاصا تجربے کار مال ہے!” میں نے اپنے بالوں کو جھٹکا دے کر چھڑا لیا اور تیزی سے سیڑھیاں اتر آیا۔</p>
<p>دوسرے دن شام ہو جانے کے بعد چکلہ بستی میں گھومنے کے لیے ہم نے ایک وکٹوریہ کرائے پر لیا۔ وکٹوریہ میں بیٹھتے ہی دتارام نے میرے چرن چھو لیے اور کہنے لگا، “آپ واقعی دیوتا ہیں!”</p>
<p>میں نے اسے کندھے پکڑ کر اٹھا لیا۔</p>
<p>بھاسکرراؤ نے پوچھا، “دیوتا؟”</p>
<p>“اور نہیں تو؟ اجی کل آپ اس جوان چھوکری کو لے کر اوپر گئے اور ویسے ہی سوکھے رہ کر نیچے چلے آئے۔ لیکن اِن کے اس طرح سب سے نیارے طرز عمل کے کارن آج مجھے کافی کچھ بھلا بُرا سننا پڑا۔”</p>
<p>بابوراؤ اور بھاسکرراؤ دونوں میرا منھ تاکتے رہ گئے۔</p>
<p>بابوراؤ نے دتارام سے پوچھا، “کیوں، اور کیا ہو گئی بات؟”</p>
<p>“ہونا جانا کیا تھا؟ چکلے کی اس کٹنی نے آج مجھے بلا بھیجا اور پھٹکارتی ہوئی بولی کل تم نے جس آدمی کو لایا تھا، وہ چھوکری کو لے کر اوپر گیا۔ وہ چھوکری اس کے سامنے ننگی ہو گئی لیکن وہ سُسرا اس کے سنگ سویا ہی نہیں۔ بےکار کی پوچھ تاچھ کرتا رہا۔ لگتا ہے شی۔آئی۔ڈی C.I.D)) کا آدمی ہوے گا۔ پھر کبھی ایسے شی۔ آئی۔ڈی والے کو اِہاں لائے تو میری جوتی ہو گی اور تیرا سر، سمجھے؟”</p>
<p>بابوراؤ سے رہا نہیں گیا۔ انہوں نے حیرانی سے پوچھا، “یعنی شانتارام بابو۔ پھر آپ اوپر جا کر آخر کیا کر آئے؟”</p>
<p>“کچھ بھی تو نہیں۔ اوپر گیا۔ جاتے ہی وہ بائی پلنگ پر لیٹ گئی اور ”چلو! آؤ!! بیٹھو!!!” کہہ کر مجھے اپنے پاس سونے کی درخواست کرنے لگی۔ میں نے اُس سے کہا، “اری، ایسی بھی کیا جلدی پڑی ہے؟ آؤ، پہلے کچھ باتیں کر لیں۔” ــ سچ تو یہ تھا کہ میں اس سے پہلے کے اس کے جیون کے بارے میں کچھ باتیں جاننا چاہتا تھا۔ اسے تھوڑا پچکار کر، سہلا سہلا کر سہج بھاؤ سے اس سے ساری باتیں نکلوانی چاہیئے تھیں۔ لیکن ایسے موقع کے لیے میں بھی تو ایک دم اناڑی تھا۔ اس لیے میں نے اسے سیدھے رنگیلے ڈھنگ سے پوچھا، ”تم کس گاؤں سے آئی ہو؟‘‘ اس پر وہ جَھلّا کر بولی، “تم کو کیا کرنا ہے؟ آؤ، بیٹھو!”</p>
<p>“میں تو کرسی سے مانو چپک کر ہی بیٹھا تھا۔ میں نے اس سے کہا، “اری! یہ بیٹھو، بیٹھو، کیا لگا رکھا ہے؟ پہلے کچھ باتیں ہو جائیں۔ اچھا بتاؤ، تم اپنی خوشی سے یہاں آئی ہو کیا؟ یا کوئی تمہیں ورغلا کر، دھوکا دے کر یہاں پھنسا گیا ہے؟”</p>
<p>“اس چھوکری کو میری اِن باتوں پر کافی غصہ آیا۔ پاس ہی والے پارٹشن کی طرف منہ کیے وہ زور زور سے بڑبڑانے لگی۔ وہ کنڑ بھاشا میں بول رہی تھی۔ پارٹشن کے اُس پار سے بول رہی عورت نے اسے چیتاونی دی کہ مجھے کوئی بھی جانکاری نہ دے۔ کنڑ میں تھوڑی سمجھ لیتا تھا، اسی لیے میں یہ بات جان سکا۔”</p>
<p>“اس کے بعد کافی دیر تک اس کا ‘آؤ، بیٹھو’ جاری تھا۔ میں نے لاکھ کوششیں کیں کہ اس کا نجی جیون معلوم کر لوں، لیکن کچھ بھی ہاتھ نہ لگا۔ اس کا ریٹ دو روپے تھا۔ میں نے اس کے ہاتھ پر پانچ پانچ کے پانچ نوٹ رکھ دیے اور چلنے کو تیار ہوا۔ اس نے مجھے روکا اور بولی، “تو ہم پر بیٹھا نہیں اور پیسہ کیوں دیتا ہے؟ ہم کو نئ (نہیں) چییے پھوکٹ (چاہیے مفت) کا پیسہ!”</p>
<p>“ایک ویشیا کے منہ سے ایسے معتبر خیالات سن کر مجھے کافی حیرانی ہوئی۔ میں نے اس کے ہاتھوں میں ان نوٹوں کو زبردستی ٹھونس دیا اور کمرے سے باہر چلا آیا۔” یہ سارا قصہ سن کر سبھی لوگ حیرت میں پڑ گئے۔</p>
<p>اس کے بعد اور پانچ چھ دن ہم لوگ مختلف چکلوں پر گئے، لیکن ہمیں ایسی ویشیا نہیں ملی جو اپنی صحیح کہانی دل کھول کر ہمیں بتاتی۔ ہوا اتنا ہی کہ ہمیں الگ الگ ڈھنگ کا ماحول، طرح طرح کی شخصیت اور ان کے جذبات وغیرہ دیکھنے کو ملے۔ اِدھر اُدھر کی تھوڑی بہت جانکاری بھی ملی، لیکن ہیروئین کی شخصیت کی اچھی کہانی کہیں نہیں مل رہی تھی۔ ہر روز ان غیر مہذب بستیوں میں بے کار ہی جانے سے ہم لوگ اوب چکے تھے۔</p>
<p>رات ہو گئی۔ روز کی منڈلی چالو ہو گئی۔ آج جہاں گئے، وہاں دو ادھیڑ عورتیں ملیں۔ کمرا اچھا خاصا بڑا تھا۔ اسی کمرے میں ایک کونے میں پردہ لگوا کر اوٹ تیار کی گئی تھی۔ ان دونوں عورتوں میں ایک بہت ہی باتونی تھی۔ دتارام کو دیکھتے ہی اس نے کہا، “ارے، اتنے دن کہاں چھپا بیٹھا تھا؟” بعد میں فوراً ہماری جانب مڑ کر بولی، “آئیے، آئیے۔ بیٹھیے۔ چائے لیں گے نا آپ؟” کہتی ہوئی ہمارا جواب جاننے سے پہلے ہی میرے بدن پر جھکتی ہوئی کھڑکی سے نیچے دیکھ کر زور سے آواز لگائی، “اے چائے والا، چار چائے بھیجنا۔”</p>
<p>نیچے سے لوٹتی آواز میں سوال آیا، “سنگل یا ڈبل”</p>
<p>”ڈبل!” اس نے جواب دیا اور ہماری طرف ہنس کر دیکھتے ہوے آنکھ مارتی ہوئی شوخی سے کہنے لگی، “کیا پوچھتا ہے گدھا کہیں کا؟ اِہاں سب ڈبل ہی لگت (لگتا) ہے!”</p>
<p>اپنے اس فحش مذاق پر خوش ہو کر وہ خود ہی کھی کھی کھی کر ہنسنے لگی۔ ہم بھی اس کی ہنسی میں شامل ہو گئے۔ ‘ڈبل’ کہنے کی اس کی ادا مجھے اچھی طرح یاد رہی۔ وہ بائی ان پڑھ تھی۔ اس کی بول چال دیہاتی شہراتی کھچڑی تھی۔ اس کی بولی میں کنڑ، پنجابی، گجراتی وغیرہ کئی بھاشاؤں کی ملاوٹ تھی۔</p>
<p>میں نے سہج بھاؤ سے اس سے کہا، “تمہارے اس کاروبار کے کارن تمہیں شاید ناٹک، سنیما دیکھنے کا سمے نہیں ملتا ہوگا، ہے نا؟”</p>
<p>اس پر وہ دھڑلے سے کہنے لگی، “کیوں، اِہاں ہم لوگ کیا جیل میں بیٹھے ہیں؟ تین کا شو ہم تھئیٹر میں دیکھتے ہیں۔ دیکھتے دیکھتے اپنا گاہک بھی ڈھونڈ لیوت ہیں۔ پھر چلے آوت ہیں وہ لوگ ہمرے پیچھے پیچھے!” لیکن فوراً ہی وہ سٹپٹا گئی اور بولی، “لیکن وہ ہمرا راجہ بنت ہے خالی گھڑی دو گھڑی کو!”</p>
<p>باتیں کرتے کرتے اب وہ کافی کھلتی جا رہی تھی۔ اس سے اور زیادہ کہلوانے کے لیے میں نے کہا، “حال میں کون سا سنیما دیکھا تم نے؟”</p>
<p>“دو چار دن پہلے دیکھا وہ ‘دنیا نہ مانے’ بہوت بڑھیا تھا! کچھ بھی کہیو، وہ شانتارام سالا سنیما بہوت بڑھیا بناوت ہے!”</p>
<p>میرے نام پر اس نے جو گالی جوڑ دی، سن کر ہم سبھی کو بڑی ہنسی آئی۔ پھر ہم لوگوں نے اس کے منہ سے ‘دنیا نہ مانے’ کی کہانی سنی۔ لیکن کہانی سناتے سناتے اس نے اس میں اپنے من سے اتنی تبدیلی کر دی، کہ میں خود تذبذب میں پڑ گیا کہ میری ڈائرکٹ کی ‘دنیا نہ مانے’ یہی تھی یا کوئی اور۔ تبھی وہ چائے والا چھوکرا چائے لے کر آیا۔ اس کی وہ میلی کچیلی پلیٹیں، گھسے پٹے کپ، لال کالی چائے وغیرہ دیکھ کر اس چائے کو پی پانا میرے لیے مشکل سا لگ رہا تھا۔ لیکن بے کار ہی اپنے بارے میں کوئی شک کھڑا نہ ہو، اس وچار سے میں نے وہ چائے جیسے تیسے پی لی۔</p>
<p>چائے پان کے بعد وہ اور بھی کُھل گئی۔ اپنے جسم کے چھپے انگوں کے بارے میں وہ کھلم کھلا اس ڈھنگ سے بولے جا رہی تھی کہ ایسا لگتا تھا، وہ اپنے آپ کو ایک زندہ ناری نہ مان کر مردوں کی ہوس مطمئن کرنے کی ایک مشین سمجھ رہی ہے۔ باتیں کرتے کرتے وہ اچانک سیدھے میری گود میں آ کر بیٹھ گئی اور بولی، “چاہیں تو آپ خود پڑتال کر دیکھ لیجیے!”</p>
<p>میں پس و پیش میں پڑ گیا۔ اتنی کوشش کرنے کے بعد ایک ویشیا ملی جو کھل کر باتیں کر رہی تھی۔ اب میرے دقیانوسی رویے سے کہیں اس کے من میں شُبہ جاگا تو سارا گُڑ گوبر ہو جائےگا! میں اسی حالت میں بیٹھا رہا۔ لیکن اس بار دتارام نے میری مدد کی۔ وہ لپک کر آگے آیا اور اس نے اسے اٹھا کر ایک طرف ہٹایا۔ میں نے راحت کی سانس لی۔ نظر اٹھا کر سامنے دیکھا، تو وہاں بھگوان کی تصویر ٹنگی دیکھی۔ تصویر پر چڑھائے گئے پھول تازہ تھے۔ میں نے جان بوجھ کر کھسیانے کے لیے اس بائی سے پوچھا، “کی ماں کو، یہاں تم ایسا گندہ بولتی ہو اور وہاں بھگوان کی تصویر لٹکا کر اس پر پھول بھی چڑھاتی ہو!”</p>
<p>جیسی کہ مجھے امید تھی، وہ ایک دم جھلّا اٹھی۔ میری بات کو بیچ میں ہی کاٹ کر بولی، “اے صاب! تم ہم کو کیا سمجھتا ہے؟ ہر روز سویرے اٹھ کر بھگوان کی پوجا کیے بِنا ہم منہ میں پانی تک ناہیں ڈالت ہیں، سمجھا؟”</p>
<p>میں دنگ رہ گیا۔</p>
<p>“تم کو کیسے پتہ ہوے گا، ہم موئی یہ دھندا کیوں کرت ہیں؟ ہم کو اچھا لگت ہے اس لیے؟ صاب، ہمری پیڑھا ہم ہی جانت ہیں! کبھی کبھی ایسا بھی ہووے ہے کہ کوئی گاہک آتا ہی نہیں۔ پھر تو گھر کا برتن بھانڈا گروی رکھ کر چولھا جلانا پڑت ہے! اور تب بھی منہ پِچکا کر ہنس کر نئے گاہک کی باٹ جوہنا (انتظار کرنا) پڑت ہے! کچھ پھوکٹ والے موالی شراب پی کر آوے ہیں۔ ان کو بھی ناراض کیسے کر پاوے؟ تو ان کی آگ میں بھی اِی شریر (جسم) جھونکنا پڑے ہے۔ کمرے کا کرایہ لینے کے لیے مکان مالک کا نوکر آوت ہے، تو اس کو بھی خوش کرنا ہی پڑے ہے! زندگی ایک دم نرک بن گئی ہے نرک!”</p>
<p>“کبھی کوئی بڑا آدمی بنا آوت ہے۔ ہمرے ادھار (نجات) کی یا نہ جانے کاہے کاہے کی، لمبی چوڑی ڈینگیں ہانکت ہے اور خود رات ما ہمرے سنگ رنگ رلی اڑا کے منھ اندھیرا ما چور کی نائی (چور کی طرح) منھ چھپائے بھاگ جاوت ہے!”</p>
<p>“صاب، کبھی کبھی لاگے ہے، اِی گندا کام چھوڑ چھاڑ کے چنگی زندگی جیوے، پر دو جون کھانے کو کون دیوے گا؟ اُدھر ہمرے گاؤں میں ماں باپ ہیں، چھوٹے بھائی بہن ہیں، سبھی کو لالے پڑ جاویں گے نا۔۔۔ صاب، اِہاں کوئی نوکری ڈھونڈنے آئی ہتی میں، پر کون دیوے ہے نوکری؟ تو بس سہیلی کے سنگ لگ گئی اسی دھندے ما۔۔۔”</p>
<p>اس کا درد پھوٹ پھوٹ کر سامنے آنے لگا تھا۔</p>
<p>بیچ میں وہ چپ ہو گئی۔ پھر یکایک بولی، “صاب تم لوگ ایہاں مزہ لوٹن کے واسطے آئے اور میں موئی اپنی کرم کہانی سنان لگی۔ چھما (معاف) کرو صاب!”</p>
<p>سچ پوچھو تو مجھے اس کی باتوں سے کوئی تکلیف نہیں ہو رہی تھی۔ میں نے اسے ویسا بتا بھی دیا۔ پھر ساری رات وہ ہمیں اپنے جیون کے ایک سے زیادہ واقعات جی کھول کر سناتی رہی۔ اس کا من اتنا دو ٹوک ہو گیا تھا کہ جیون میں بیتی اور ہر دن دن بیت رہیں گندی گھناؤنی باتیں وہ بے شرمی کے ساتھ کھلے عام کہتی جا رہی تھی۔ اس کی بھاشا بہت ہی بھدی اور فحش تھی۔ جذبات میں تو اتنی مسخ تھی کہ وہ جو کچھ بتا کر دکھا رہی تھی، اس کا دس فی صد بھی میں اپنے فلم میں لا نہیں سکتا تھا۔ اور لاتا بھی، تو یقینی ہی سنسر اسے ہرگز پاس نہیں کرتا۔ اس کے درد اور تکلیف نے میرے دل کو ہلا دیا۔ ‘آدمی’ کی ہیروئین اپنی تمام بے عزتی اور قابل رحم درد دل کے ساتھ زندہ ہو کر میرے سامنے کھڑی تھی۔</p>
<p>بمبئی سے لوٹا تو معلوم ہوا کہ داملے جی اور فتے لال ‘گوپال کرشن’ کے باہری شوٹنگ کے لیے بمبئی کے پاس ہی ڈونبِولی گئے ہیں۔ پندرہ دن ہو گئے شوٹنگ کے لیے گئے ان کے گروپ کے واپس آنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیے۔ کام بھی کوئی خاص زیادہ تو تھا ہی نہیں۔ میں سوچ میں پڑ گیا۔ تبھی بابوراؤ پینڈھارکر کا فون آیا کہ ”آپ خود یہاں آ کر ایک بار شوٹنگ کے کام کو دیکھ جائیں۔” میں ڈونبِولی گیا۔ شوٹنگ کافی دھیمی رفتار سے چل رہی تھی۔ فوراً شوٹنگ کی ساری ذمہ داری میں نے اپنے ہاتھ میں لی اور چار پانچ دن میں وہاں کا سارا کام پورا کر پُونا واپس لوٹ آیا۔ پُونا لوٹتے ہی سٹوڈیو کے کھلے احاطے میں ایک سیٹ کھڑا کیا اور اس پر بھی شوٹنگ شروع کر دی۔</p>
<p>ایک دن دیکھا کہ داملے جی، فتے لال شوٹنگ کا کام بیچ ہی میں روک کر آرام سے بیٹھ گئے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا تو کہنے لگے — “شوٹنگ کرتے سمے ہمیں غش کھا کر گرنے جیسا لگا، یہ چلچلاتی دھوپ ایک دم ناقابل برداشت ہو رہی ہے۔”</p>
<p>میں نے ان سے کہا، “کوئی بات نہیں۔ آپ یہیں آرام کریں، شوٹنگ میں کیے دیتا ہوں۔“میں فوراً باہر آیا اور وہاں کی ساری شوٹنگ پوری کر لی۔</p>
<p>کنس کے سینا پتی (سپاہ سالار) کیشی نے کرشن کو اپنے کیمپ میں قیدی بنا لیا ہے۔ اسے رہا کرانے کے لیے کرشن کے گوپ گوالے ساتھی گایوں اور بیلوں کا گروہ لے کر کیشی کے کیمپ پر دھاوا بول دیتے ہیں۔ کیشی اور اس کے سپاہیوں کی ناک میں دم کر دیتے ہیں۔ یہ سین شوٹنگ کے نقطہ نظر سے بے حد کٹھن تھا۔ اس میں براہ راست گائے بیلوں اور ان کی ‘ڈمیز’ کا استعمال ناممکن تھا۔ سین کو انتہائی پراثر بنانا ضروری تھا۔ اس سین کا پورا آوٹ ڈور شوٹ بھی داملے جی فتے لال جی کے کہنے پر مجھے ہی کرنا پڑا۔</p>
<p>‘گوپال کرشن’ کی ایڈیٹنگ کا کام شروع ہوا۔ لیکن اس کے ڈائرکٹر داملے جی اور فتے لال بھولے سے بھی ایڈیٹنگ روم کے پاس نہیں آئے، نہ ہی انہوں نے کبھی یہ بھی پوچھا کہ ایڈیٹنگ کا کام کہاں تک آیا ہے۔ کبھی کبھی تو ایسا لگتا جیسے انہیں اس ‘گوپال کرشن’ سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے۔</p>
<p>‘گوپال کرشن’ ریلیز ہو گئی۔ اس نے بڑی شہرت حاصل کی۔ اس میوزیکل فلم کے گیت لوگوں کو بہت ہی پسند آئے۔ اس میں کھیل کھیل کے جو سین ڈالے ان کو تو ناظرین نے سر پر اٹھا لیا۔ ‘گوپال کرشن’ کے ریلیز ہونے کے دوسرے دن اس کے سکرین پلے لیکھک شِورام واشیکر، بابوراؤ پینڈھارکر آفس میں مجھ سے ملنے آ گئے۔ دیکھتے ہی انہوں نے کہا، “شانتارام بابو، ‘گوپال کرشن’ کی کہانی کا کریڈٹ لینے میں مجھے بڑی ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔</p>
<p>“اجی وشیکرن جی، آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟”</p>
<p>“سچ ہی تو کہہ رہا ہوں۔ اس کے خاص سین، اس کی بذلہ سنجی کے ساتھ میں نے ویسے کے ویسے اتار لیے جیسے آپ نے بتائے تھے۔ آپ بتاتے گئے، میں لکھتا گیا۔ لہذا اس کا سارا کریڈٹ اصل میں آپ کو جانا چاہیے، آپ کی محنت کو ملنا چاہیے۔ میری یہی پکی سوچ ہے، اور پریس کانفرنس بلا کر میں اس کا اعلان بھی کرنے جا رہا ہوں۔”</p>
<p>“نہیں، نہیں۔ ویسا آپ کچھ بھی نہیں کریں گے۔ آپ کا کرِئیر اس میں مات کھا جائے گا۔ آپ کو جو لگتا ہے اسے آپ ایمانداری سے قبول کرتے ہیں، یہی کافی ہے۔ مجھ سے پوچھیں تو کہوں گا کہ یہ احساس ہی آپ کی مستقبل میں ترقی کا اشارہ ہے۔”</p>
<p>‘گوپال کرشن’ کی ریلیز کے سمے ہم سبھی لوگ بمبئی گئے تھے۔ وہاں بابوراؤ پینڈھارکر نے ہمیں ایک بہت ہی اچھی خبر سنائی کہ بمبئی کا پوتھے سنیما (آج کل اس کا نام سوستک سنیما ہو گیا ہے) بیچا جانے والا ہے۔</p>
<p>‘پوتھے’ سنیما میں گیلری وغیرہ کچھ بھی نہیں تھی، اسی لیے مجھے وہ بہت پسند تھا۔ بمبئی میں ‘پربھات’ کی فلم کی ریلیز کے لیے اس سنیما گھر کو خرید لینے کی رائے سب نے ظاہر کی۔ اس سے پہلے پُونا کا ‘پربھات تھئیٹر’ بھی ہم لوگوں نے لیا تھا اور اس کا کامیاب استعمال ہم کر رہے تھے۔ ہم نے بابوراؤ پینڈھارکر کو ‘پوتھے’ کے مالک سے فوراً ملنے کو کہا اور اس سے باتیں کر کے ضروری دستاویز اور کانٹریکٹ وغیرہ بنوا لینے کے بھی ہدایات دیں۔ داملے جی پُونا گئے۔ میں اور فتے لال جی دو دن بمبئی میں ہی رہے۔ ہم دونوں ‘پوتھے’ سنیما دیکھنے کے لیے گئے۔ فتے لال جی بڑے چاؤ سے مجھے سمجھا رہے تھے کہ ایک فلم کی نظر سے اس تھئیٹر میں کیا کیا تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔ میں بھی تکنیکی نظر سے اس تھئیٹر کا ٹھیک ٹھیک معائنہ کر رہا تھا۔ بابوراؤ ہمارے ساتھ ہی تھے۔ اپنی ہمیشہ کے اتاولے پن سے میں نے ان سے کہا، “آج ہی سودا پکا کر سیل پتر تیار کروا لیجیے۔”</p>
<p>بابوراؤ نے کہا، “میں نے کل ہی انہیں ایک لاکھ چالیس ہزار روپے کی پیشکش کی ہے۔ کل تک راہ دیکھتے ہیں۔ دوسری صورت میں ان کی مانگ کے مطابق ڈیڑھ لاکھ روپے میں سودا طے کیے لیتے ہیں۔” میری بہت دنوں کی چاہ تھی کہ ‘پربھات’ کی بنائی فلم ریلیز کرنے کے لیے ملک بھر میں سنیما گھروں کی ایک سیریز ہو۔ اب اپنا وہ سپنا کچھ کچھ سچ ہوتا دیکھ کر میرا من کافی پرجوش ہو اٹھا۔</p>
<p>پُونا لوٹنے کے بعد دوسرے دن سویرے کمپنی کا اخبار دیکھ رہا تھا کہ داملے جی، فتے لال جی اور سیتارام پنت کلکرنی میرے آفس میں آئے۔ انہیں دیکھتے ہی میں نے کافی جوش سے پوچھا، “سیتارام بابو کو ‘پوتھے’ کے بارے میں وہ خوش خبری دی نہ آپ نے؟”</p>
<p>انہوں نے ‘ہاں’ کہا۔ لیکن سب کے چہرے بہت ہی گمبھیر دکھائی دے رہے تھے۔ داملے جی نے پوچھا، “کیا ‘پیسے’ کا قرارنامہ ہو گیا ہے؟”</p>
<p>“نہیں، لیکن بابوراؤ سے اسے فائنل کرنے کے لیے ہم کہہ آئے ہیں۔ ممکنہ آج ہو جائے گا۔”</p>
<p>داملے جی نے گمبھیر ہو کر کہا، “میری راۓ میں ہمیں وہ تھئیٹر نہیں خریدنا چاہیئے!”</p>
<p>داملے جی کی وہ بات سن کر مجھے دھچکا لگا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا، داملے جی نے ہی آگے کہا، “پیسے کی زمین تھئیٹر کے مالک کے پاس لمبی لیز پر ہے۔”</p>
<p>“جی ہاں، اسی لیے تو وہ تھئیٹر ہمیں اتنی کم قیمت پر مل رہا ہے۔”</p>
<p>اُس جگہ کا ماہانہ کرایہ تین ہزار روپے ہے۔ اتنے بھاری خرچ کا بوجھ ہم اپنے اوپر لیں، یہ ہمیں پسند نہیں!” میرا اپنا ماننا تھا کہ کاروبار اور ‘پربھات’ کی شہرت کی نظر سے تھئیٹر کو خریدنا بہت اہم ہے۔ میں دلیل کرنے لگا، “اجی، پُونا کا ‘پربھات’ سنیما گھر بھی لیز پر ہی تو ہے۔”</p>
<p>“لیکن اس کا کرایہ اتنا زبردست نہیں ہے۔ میری رائے میں ہر ماہ تین ہزار روپے کا بوجھ ہمیں ہرگز نہیں اٹھانا چاہیے!”</p>
<p>“آپ ایک بات دھیان میں رکھیں۔ ‘سینٹرل’ اور ‘کرشن’ سنیما گھروں کے مالک بھی لیز کا بھاری کرایہ دیتے ہیں اور وہاں ہمارے ‘پربھات’ کی فلم ریلیز کر وہ ہر سال پچاس پچاس ہزار روپے کا منافع کما لیتے ہیں۔ پھر ہم ہی اس بات سے کیوں ڈریں؟ یہ بھی تو سوچئے کہ دیگر شہروں میں اس طرح ‘پربھات’ کے اپنے سنیما گھر ہوں تو ہر بار سنیما گھر کرائے پر لینے میں ہمارا جو پیسہ خرچ ہو جاتا ہے، اس میں کتنی بچت ہو گی؟”</p>
<p>میرے ان بیوپاری اور کاروباری دلائل کا بھی داملے جی پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ میں مایوس ہو گیا۔ آخر میں نے آج تک ‘پربھات’ کے زمانے میں بھی کبھی استعمال میں نہ لایا گیا ایک پینترا چلنے کا طے کیا۔ ہمارے حصہ داری کانٹریکٹ میں ایک دفعہ تھی کہ ‘پربھات’ کا سارا کاروبار ہمیشہ اکثریت سے چلایا جائے۔ اب اس دفعہ کا استعمال کرنے کا سمے آ گیا تھا! کل ہی میں اور فتے لال جی ‘پوتھے’ کی عمارت میں کھڑے کھڑے پتہ نہیں کیا کیا خیالی پلاؤ بنا چکے تھے۔ اس لیے میں نے سوچا کہ فتے لال جی ضرور ہی میری سائیڈ لیں گے۔ سیتارام بابو پشتینی بیوپاری ہیں، میری کاروباری بات انہیں بھی پسند آ ہی جائے گی مجھے امید تھی۔ لہذا من ہی من مجھے یقین ہو گیا کہ اکثریت میرے حق میں ہو گی۔ اپنا غصہ دبا کر ہنستے ہنستے میں نےکہا، “اکثریت سے جو طے رہے گا، اسے ہی مان لیتے ہیں۔”</p>
<p>“مجھے کوئی اعتراض نہیں۔” داملے جی نے کہا۔</p>
<p>میں نے سب سے پہلے سیتارام بابو سے پوچھا۔ ان کا جواب میں دھیان سے سن رہا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا، “میرا خیال ہے، داملے جی کی بات میں کافی وزن ہے!” میں سن کر ٹھنڈا پڑ گیا۔ پھر بھی لگاتار مسکرا کر میں نے فتے لال جی کی طرف دیکھا۔ فتےلال جی نے کہا، “داملے جی کی بات صحیح ہے!” سامنے ہی بیٹھے داملے جی کے چہرے پر جیت کی مسکراہٹ چمکنے لگی۔ انہوں نے مجھ سے کہا، “تو پھر شانتارام بابو، بمبئی فون کر بابوراؤ پینڈھارکر سے کہیں گے نا آپ کہ سنیما گھر کے بارے میں آگے بات چیت نہ چلائیں؟”</p>
<p>میں مجبور تھا۔ بھاری من سے میں نے فون اٹھایا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-ram-ch-20/">باب 20 شانتا راما: چکلہ بستی میں (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/shanta-ram-ch-20/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>شانتا راما باب 19: رپٹیلی راہیں (ترجمہ: فروا شفقت)</title>
		<link>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-19/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-19/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فروا شفقت]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 03 Nov 2020 18:56:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[farwa shafqat]]></category>
		<category><![CDATA[شانتا راما]]></category>
		<category><![CDATA[فروا شفقت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25914</guid>

					<description><![CDATA[<p>مکڑی کے جال سی اٹھی اِن باتوں کو من سے نکال کر میں نے 'گوپال کرشن' کا سکرین پلے واشیکرن سے تیزی سے پورا لکھوا لیا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-19/">شانتا راما باب 19: رپٹیلی راہیں (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>حیرت کی بات تھی کہ دادا صاحب فالکے جی نے مجھے بُلا بھیجا تھا۔ اب تک اُن سے ملنے کی خوش بختی مجھے حاصل نہیں ہوئی تھی۔ وہ لڑکا آگے کہنے لگا، “انہوں نے کہا ہے کہ آپ کو جب فرصت ملے آ جائیے۔ اُن کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ بیمار پڑے ہیں، ورنہ وہ خود ہی آپ سے ملنے آنے والے تھے۔”</p>
<p>“نہیں، نہیں، وہ کیوں تکلیف کریں گے یہاں آنے کی؟ مجھے خود جانا چاہیئے اُن سے ملنے۔ تم تھوڑا رُکو، میں ابھی آتا ہوں تمہارے ساتھ ہی۔” آخر فالکے جی جیسے بڑے آدمی کا میرے سے کیا کام ہو سکتا ہے، سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔</p>
<p>میں اُسی لمحے اس کے ساتھ ہو لیا۔ ہم لوگ پُونا کی گنجان آبادی والے علاقے میں پہنچے۔ کئی گلی کوچوں کو پار کرنے پر فالکے جی کا مکان تھا۔ وہ پرانا گھر آ گیا۔</p>
<p>ایک چھوٹا سا کمرا۔ زمین پر بچھا پھٹا پرانا گدا، دادا صاحب فالکے اس پر سوئے تھے۔ ہر چیز سے گھر کی غریبی اور تنگ دستی صاف نظر آتی تھی۔ کمرے کے اندرونی دروازے کے پاس کوئی عورت اور کچھ بچے کھڑے تھے۔ یقیناً وہ فالکے جی کی دھرم پتنی (بیوی) ہوں گی۔</p>
<p>قدموں کی آہٹ پاتے ہی دادا صاحب نے آنکھیں کھولیں۔ مجھے دیکھ کر وہ مسکرائے۔ میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کچھ دیر مجھے صرف دیکھتے ہی رہے۔ من میں جذبات کی گھٹا سی امڈنے لگی تھی۔ اتنا مہان آدمی جس کی کھڑی کی گئی فلم انڈسٹری کے کارن آج ہمارے ملک میں ہزاروں لوگوں کی زندگی چل رہی ہے، آج اِس مخدوش حالت میں پڑا ہے۔ یہ دیکھ کر من اداسی سے اتنا بے چین ہو اٹھا کہ منہ سے ایک لفظ بھی نکل پانا مشکل ہو گیا۔</p>
<p>کچھ لمحوں بعد دادا صاحب دھیرے دھیرے بولنے لگے۔ انہیں دوا دارو اور گھر گرہستی کے لیے کچھ رقم کی ضرورت تھی۔ بہت لاچار ہو کر وہ لگ بھگ گڑگڑا سے رہے تھے کہ صحت حاصل کرنے تک ہر ماہ انہیں باقاعدگی سے کچھ مدد بھیجی جائے تو بڑا احسان ہو۔</p>
<p>ان کی یہ حالت دیکھ کر میں بہت ہی دکھی ہوا۔ میں نے فوراً ان کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھا اور انہیں آگے بولنے سے روکا اور کہا، “دادا صاحب، اس میں احسان کی کیا بات ہے؟ آج ہم سب لوگ آپ ہی کی چھتر چھایا میں کھڑے ہیں۔ ہمارے پیسوں پر آپ کا حق ہے۔ آپ ذرا بھی فکر نہ کریں، میں آپ کو باقاعدگی سے رقم بھیجتا رہوں گا۔”<br>
انہوں نے جوش میں میرا ہاتھ کس کر تھام لیا۔ انہیں تیز بخار تھا۔ کچھ دیر بعد اُن سے اجازت لے کر میں بلانے آئے اُس لڑکے کو ساتھ لے کر واپس آیا۔ اس لڑکے کے ساتھ میں نے دادا صاحب کو کچھ رقم فوراً بھجوا دی۔ اس کے بعد کافی عرصے تک میں ایک طے شدہ رقم دادا صاحب کو ہر ماہ پہنچاتا رہا۔</p>
<p>کچھ دنوں بعد رنجیت سٹوڈیو کے مالک چندو لال شاہ کی صدارت میں بھارتی فلمی دنیا کا سلور جوبلی فیسٹول بمبئی میں منایا گیا۔ اس تقریب کے لیے انہوں نے دادا صاحب فالکے جی کو مدعو کیا تھا۔ لیکن ان سے سٹیج پر آنے کی درخواست انہوں نے نہیں کی۔ اصل میں وہ اس احترام کے حق دار تھے۔ لیکن اس کے باوجود انہیں یہ احترام نہیں دیا گیا تھا۔ لہذا میں نے اس معاملے میں پہل کی اور انہیں اصرار کر اسٹیج پر لے گیا۔ فیسٹول کے آخری دن میں نے سبھی فلم پروڈیوسرز سے درخواست کی۔ اپیل کی کہ “ہم سب لوگ مل کر دادا صاحب فالکے کے لیے ان کے اپنے شہر ناسک میں ایک چھوٹا مکان بنوا دیں۔”</p>
<p>لیکن کہتے ہوے شرم آتی ہے کہ صرف دو تین پروڈیوسرز نے ہی اس کام کے لیے چھوٹی چھوٹی رقمیں دیں۔ ہمارے کاروبار کے لوگوں کی اتنی چھوٹی ذہنیت دیکھ کر من اداس ہو گیا۔ جو کچھ تھوڑا پیسہ اس طرح آیا تھا، اس میں ‘پربھات’ کی طرف سے کافی بڑی رقم جوڑ کر ہم نے وہ راشی ناسک میں دادا صاحب فالکے جی کو بھجوا دی۔</p>
<p>اُس کے بعد فالکے جی کی دھرم پتنی سرسوتی بائی کا ایک پترملا۔ لکھا تھا۔۔۔۔</p>
<p>شریمان (محترم) شانتارام بابو، ڈائریکٹر پربھات فلم کمپنی، پُونا کی خدمت میں پُرخلوص پرنام۔<br>
پتر اِسی لیے لکھ رہی ہوں کہ ہماری مصیبت کے دنوں میں آپ نے ہمارے پورے خاندان کو جو سمے سمے پر مدد پہنچائی ہے، اس کے لیے اپنے بال بچوں کی طرف سے آپ کو شکریہ کہوں۔ آپ نے جو احسان کیا ہے اس کو پورا کر پانا نا ممکن ہے۔ پرماتما کے چرنوں میں میری یہی دعا ہے کہ وہ آپ کو لمبی عمر دے اور ہمیشہ مکمل سُکھ میں رکھے۔<br>
آپ نے فنڈ کولیکشن کا خیال چلا کر ہمارے لیے جو پانچ ہزار روپے اکٹھا کر بھیجے، اس کے کارن ہم ایک بہت بڑی مصیبت سے آزاد ہو گئے۔ اس احسان کو میں اور میرے بچے ہمیشہ یاد کریں گے۔ ہمارے گھر والوں کا رویہ کچھ غصیلا اور کچھ عجیب سا ہے۔ نتیجتاً آپ جیسے بھلے لوگوں کو بھی کبھی کبھی تکلیف پہنچتی ہے، میں اچھی طرح جانتی ہوں۔ آپ کو خود اس طرح کوئی تکلیف پہنچی ہو، تو میرے بال بچوں کی طرف دیکھ کر مہربانی کر کے اسے بُھلا دیں اور ہم پر اِسی طرح کی نظر کرم بنائے رکھیں۔<br>
تاریخ 27: مئی 1939۔<br>
سرسوتی بائی فالکے۔</p>
<p>کچھ دنوں بعد دادا صاحب فالکے کا بھی ایک پتر آیا ۔۔۔</p>
<p>بلسارا بلڈنگ اسپتال کے پاس ناسک،<br>
تاریخ: 25–8‑39<br>
شریمان شانتارام بابو پربھات سنیٹون، پُونا۔<br>
سپریم نمسکار (محبت بھرا سلام)، بمبئی جا کر بابوراؤ پینڈھارکر سے مل آیا ہوں۔ سارا حال آپ پر واضح ہو ہی چکا ہے۔ جو بھی مل رہا ہے، اُس سے میں ہر حالت میں مطمئن ہوں۔<br>
گت وجیادشمی (ہندو تہوار) کے مبارک موقع پر آپ نے مجھ پر جو مہربانی کی ویسی خوش قسمتی کے لمحے اور ویسے کامیاب ہاتھ اپنی ساری زندگی میں مَیں نے کبھی محسوس نہیں کیے تھے۔ ورنہ وجیادشمی کا وہ دن شاید ہم لوگوں نے کسی گندی، کیچڑ بھری جگہ میں بیمار حالت میں ہی گزارا ہوتا۔ لیکن اسی دن سے ہم لوگوں کے لیے روز بہ روز زیادہ سے زیادہ سُکھ بھرے دن لوٹ آنے لگے ہیں۔<br>
آج تک اپنی عقل کے کرتب سے میں نے ساٹھ ستر لاکھ روپوں کا کام کیا ہو گا۔ لیکن اسی سمے اندرونی گُھن لگا۔ میرا گھر بار، زمین وغیرہ سب راکھ ہو گئے اور میں پوری طرح سے گہرے گڑھے میں جا گرا۔<br>
ماں کھانا نہیں دیتی اور باپ بھیک مانگنے نہیں دیتا، ایسی حالت ہوگئی تھی میری۔ گُھٹن ہو رہی تھی۔ اوپر سے لاتیں اور مکوں کی مار پڑ رہی ہو لیکن رونے کی بھی مناہی تھی۔ اسی حالت میں فلمی دنیا کو لگاتار دیکھتے رہنے کے بعد شاید پرماتما نے ہی مجھے آپ کو ساری داستان سنانے کی inspiration دی۔ ‘فالکے خاندان’ ہی دنیا سے مٹ گیا ہوتا۔ مجھے پتہ ہے، آپ اس طرح کی زبان سننا پسند نہیں کرتے۔ لیکن میں نے جو کچھ کہا، میرے اندر سے اٹھتے احساسات ہیں۔ انہیں روکنے کا کوئی حل نہیں ہے۔ پرماتما نے اور کچھ سمے تک زندہ رکھا، تو مجھے پوری امید ہے کہ آپ کے چرنوں میں میری پھر قسمت یاوری ضرور ہو گی۔<br>
آپ بُرا نہ مانیں تو ایک درخواست اور کروں؟ میرے ہاتھ آ سکے اس نقطہ نظر سے آپ اگلی وجیادشمی کو مجھے صرف پانچ روپے بھیج دیں؟ میں انہیں اپنے پوجا گھر میں آنے والے سال کی مبارک امانت کے روپ میں رکھ کر پوجنا چاہتا ہوں۔<br>
مہربانی بنی رہے۔<br>
مخلص<br>
(ڈی۔ جی۔ فالکے)</p>
<p>فالکے جی کے اس پتر کا میں نے جواب دیا۔۔۔</p>
<p>شریمان دادا صاحب، پیار بھرا نمسکار، آپ کی چِٹھی ملی۔ اندر سے نکلتے آپ کے احساسات کو میں اپنے لیے آپ جیسے تپسوی کی blessings مانتا ہوں۔<br>
آپ کے دلی احساسات سے میں جذباتی ہو گیا ہوں۔ بہت اطمینان محسوس کر رہا ہوں۔ یہ سچ ہے کہ مجھے اپنے بارے میں ایسا لکھا جانا قطعی بھاتا نہیں لیکن آپ کے احساسات کی گہرائی دیکھ کر شائستگی سے قبول کرتا ہوں کہ ایسے بامعنی لفظوں کی ضرورت آدمی کو زندگی میں ضرور محسوس ہوتی ہے۔ آپ کے لفظوں نے مجھے وہ اطمینان فراہم کیا ہے، جو لاکھوں روپے خرچ کرنے پر بھی نہیں مل پاتا۔<br>
اس سمے میں بہت جلدی میں ہوں۔ نئی فلم بنانے کی دوڑ دھوپ کررہا ہوں۔ ابھی ابھی آج کا کام مکمل کر تھکا ماندہ اوپر آیا اور میز پر رکھا آپ کا پتر کھول کر پڑھا۔ بہت اچھا لگا۔<br>
لیکن آپ کو وجیادشمی کے دن ملے، ایسا انتظام کر آپ کو پانچ روپے بھیجنے اور انہیں پوجا گھر میں رکھ کر پوجنے کی جو بات آپ نے لکھی ہے مجھے کچھ عجیب و غریب لگی۔ آپ کو پانچ روپے بھیجوں یا نہ بھیجوں یہ کشمکش بھی من میں جاگ گئی۔ لیکن آپ کے احساسات کا احترام کرنے کے لیے میں نے طے کیا ہے کہ آپ کو وہ پانچ روپے (اور ساتھ ہی کچھ اور رقم بھی) بھیجوں گا۔ پھر بھی آپ سے درخواست ہے کہ آپ اسے پوجا گھر میں رکھ کر پوجا کا احترام نہ دیں۔ ہاں، آپ نے اپنے پتر میں میرے لیے جو احساسات ظاہر کیے ہیں، میں انہیں حاصل ہوے آشیرواد کے روپ میں اپنے پوجا گھر میں ضرور رکھ رہا ہوں۔<br>
(وی۔ شانتارام)</p>
<p>کچھ عرصے سے میں زیادہ پڑھنے میں لگ گیا تھا۔ آج سینما کی تکنیکی کتابیں، تو کل نفسیات کی اور پرسوں فلسفہ، عمرانیات کی۔ اس طرح میں نے کافی سنجیدہ کتابیں پڑھ ڈالی تھیں۔ ان میں لکھی کئی باتیں شروع شروع میں ٹھیک سے سمجھ میں نہیں آتی تھیں، لیکن میں بار بار پڑھ کر ان کے معانی سمجھنے کی کوشش کرتا رہا۔</p>
<p>لیکن اس طرح گہرے سنجیدہ موضوعات کی کتابیں پڑھتے رہنے کے کارن کہانی کے لیے ضروری لطیف ادب پڑھنے کے لیے سمے نہیں مل رہا تھا۔ اس لیے میں نے ایک آدمی کو صرف اسی کام کے لیے کمپنی میں نوکری پر رکھ لیا۔ دن میں وہ انگریزی اور مراٹھی کہانیاں اور ناول پڑھتا اور ہر رات آٹھ ساڑھے آٹھ بجے ان کا خلاصہ مجھے سناتا تھا۔ کبھی کبھار کوئی کہانی مجھے بہت ہی اچھی لگتی، تو میں وہ کتاب منگوا کر خود پڑھ لیتا تھا۔ پھر ہم لوگ اس پر دل کھول کر بحث کرتے۔ یہ سلسلہ کئی برسوں تک میں نے جاری رکھا تھا۔ نتیجتاً ہمارے گھر میں رات کے ڈیڑھ دو بجے تک بتی گُل نہیں ہوتی تھی۔</p>
<p>ایک دن سویرے کمپنی کا الیکٹریشن یادَھو آیا اور ڈرتے سہمتے کہنے لگا کہ، “سبھی مالکوں کے بنگلوں پر کتنی بجلی خرچ ہوتی ہے، یہ معلوم کرنے کے لیے الیکٹرسٹی کے میٹر فِٹ کرنے ہیں۔”</p>
<p>مَیں جَھّلا اٹھا۔ اس سے پوچھا، “کس نے دیا ہے یہ حکم؟”</p>
<p>“داملے ماما نے۔”</p>
<p>“تبھی تو! تم ایسا کرو، یہ میٹر صرف میرے ہی بنگلے پر فِٹ کرنا باقی سب کے گھروں کی بتیاں رات نو دس بجے تک بند ہو ہی جاتی ہیں، تو دیگر مالکوں کے بنگلوں پر میٹر لگوانے کا خرچ کمپنی بے کار میں کیوں اٹھائے؟”</p>
<p>میرا وہ غصیلا روپ دیکھ کر یادَھو پل بھر بھی میرے سامنے ٹکا نہیں۔ وہ بھاگ کھڑا ہوا۔ بعد میں کسی کے بھی بنگلے پر میٹر نہیں لگا۔</p>
<p>اس طرح ناراضی پیدا کرنے والے چھوٹے موٹے واقعات لگ بھگ روز ہونے لگے تھے۔ پھر بھی ‘پربھات’ کی روشن روایت میں چار چاند لگانے والی نئی مثالی فلم بنانے کے اپنے فیصلہ پر میں ڈٹا رہا۔ اس کے علاوہ یہ بھی من ہی من طے کر لیا کہ داملے جی، فتے لال جی کی بھی اُن کے کاموں میں دلی مدد کروں گا اوران کی فلم کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ساری محنت انتہائی ایمانداری سے اور کبھی کبھار تھوڑی بے عزتی سہتے ہوے بھی کروں گا۔</p>
<p>مکڑی کے جال سی اٹھی اِن باتوں کو من سے نکال کر میں نے ‘گوپال کرشن’ کا سکرین پلے واشیکرن سے تیزی سے پورا لکھوا لیا۔ اب وہ سکرین پلے لکھنے میں کافی ترقی کر چکے تھے۔ پھر بھی لکیر سے ہٹ کر کچھ کرنے کا حوصلہ ابھی ان میں نہیں آیا تھا۔ ہماری اوریجنل خاموش فلم ‘گوپال کرشن’ کے برعکس اس فلم میں مَیں نے ایک سے زیادہ نئے سین رکھے۔ ایک سین تھا: رادھا کا پتی انیہ کرشن پر بہت ناراض ہو جاتا ہے اور اس کی مرلی کی آواز بند کرنے کے لیے اسے پتھر سے توڑ کر چُور چُور کر دیتا ہے۔ لیکن مرلی کے ایک ایک ٹکڑے میں جان آ جاتی ہے۔ سبھی ٹکڑے زندہ ہو کر الگ الگ سُر بجانے لگتے ہیں، ناچنے لگتے ہیں۔ اس طرح کے دیگر سین اس فلم میں رکھے اور آخر اس کی شوٹنگ شروع کر دی۔</p>
<p>داملے فتے لال کے لیے راجہ نے نے کو معاون مقرر کیا گیا تھا۔ لیکن خاص نازک اور پیچیدہ سین کی شوٹنگ کے سمے میں خود سیٹ پر موجود رہتا تھا۔ کبھی کبھی تو شوٹنگ کے دوران میں داملے جی، فتے لال جی کو بھی کچھ ہدایات دے دیتا۔ لیکن ایسا کرتے وقت بڑے پن سے انہیں کچھ سکھانے کا احساس کبھی ظاہر نہ ہو، اِس کی پوری احتیاط ضرور برتتا۔ اپنے آپ کو ان کا معاون مان کر صلاح دیتا۔ “داملے ماما، ذرا دیکھیے تو اس شاٹ کو اس طرح سے لیں تو کیسا رہےگا؟” ‘گوپال کرشن’ کی شوٹنگ باقاعدہ ڈھنگ سے چالو ہو گئی اور پھر سے میرا من نئے موضوع کی کھوج میں لگ گیا۔</p>
<p>لگ بھگ اسی سمے ہمارے خاندان پر ایک بڑی مصیبت آ پڑی:</p>
<p>میرے ایک چھوٹے بھائی رام کرشن کو ٹائفائیڈ ہو گیا۔ اس زمانے میں ٹائفائیڈ ایک لاعلاج روگ مانا جاتا تھا۔ رام کرشن کا علاج ہم پُونا کے سب سے بہترین ڈاکٹر سے کرا رہے تھے۔ لیکن اس کا بخار قابو میں نہیں آرہا تھا۔ وہ بے ہوش ہو گیا۔ آنکھیں پھاڑ کر بڑبڑانے لگا، جیسے سامنے کسی کو دیکھ رہا ہو۔ اس کی آنکھیں جھپکتیں تک نہیں تھیں۔ اُسے ایسی حالت میں دیکھ کر کلیجہ پھٹنے لگا۔ سارا منظر ناقابل برداشت ہو اٹھا۔ ڈاکٹر نے ساری امیدیں چھوڑ دیں۔ ماں ہمیشہ ہم پانچوں بھائیوں کو ‘پانچ پانڈو’ کہا کرتی تھیں۔ ان میں سے ایک اب نہیں رہے گا، یہ خیال بھی ہمارے لیے ناقابل برداشت ہو رہا تھا۔ اپنا دکھ سب سے چھپانے کے لیے مَیں اکیلا پچھواڑے میں آ کر آنکھیں پونچھتے کھڑا رہا۔ وہیں ماں بھی ایک کونے میں منہ چُھپا کر اپنا سینہ پیٹتی ہوئی رو رہی تھیں۔ اپنا رونا کسی کو بھی سنائی نہ دے، اِس لیے اُس نے ساڑھی کا پلو منھ میں ٹھونس رکھا تھا۔ اتنا نوجوان اور طاقتور بیٹا دیکھتے ہی دیکھتے اس دنیا سے سدا کے لیے جا رہا تھا۔۔۔ ماں کے دکھ کی حد نہ تھی۔ ایسے سمے میں اپنی ماں کی ماں بنا۔ اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور سہلا کر سمجھانے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔</p>
<p>رام کرشن کی جان بچانے کی ساری کوششیں بےکار رہیں۔ وہ ہم سب کو چھوڑ کر سدھار گیا۔ انتہائی دکھ سے میں رونے لگا۔ اب ماں میرے پاس آئی۔ مجھے دلاسہ دینے لگیں۔ رام کرشن موت کے وقت صرف بتیس سال کا تھا۔ وہ اپنے پیچھے تین بیٹیاں اور حاملہ بیوی چھوڑ گیا۔</p>
<p>رام کرشن شانت اور نرم فطرت کا آدمی تھا۔ وہ بس اپنے کام میں مست رہتا تھا۔ نا کسی سے لینا، نا کسی کا دینا۔ شروع میں ‘پربھات’ کے کیمیکل روم میں کام کرتا تھا۔ بعد میں پُونا آنے پر وہ اسی ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ ہو گیا تھا۔ کام میں وہ کمال کا ہنرمند تھا۔</p>
<p>اس کی موت کے فوراً بعد اور ایک دُکھی واقعہ ہو گیا۔ رام کرشن کی انتییشٹی (Funeral) سے لوٹتے سمے وِمل کے بھائی رام چندر کو بخار ہو گیا۔ وہ رام کرشن کے ڈیپارٹمنٹ میں ہی معاون تھا۔ تھا تو وہ وِمل کا بھائی، لیکن وِمل جب سسرال آئی تو یہ یتیم بچہ بھی اس کے ساتھ ہی ہمارے خاندان میں آ گیا تھا۔ اب تو ہمارے خاندان کا ہی ایک فرد بن گیا تھا۔ اُس سمے وہ صرف نو دس سال کا تھا۔ کبھی سوچتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں کہ کتنے انسانیت پرست تھے میرے ماں اور باپو! اُن دنوں اُن کی معاشی حالت کیسی تھی! اور پھر بھی یہ سوچ کر کہ اپنی بہو کا بھائی یتیم رہ جائے گا، انہوں نے اُسے پیار سے قبول کر لیا تھا! یہی نہیں، اُسے کولہاپور کے اسکول میں بھی داخل کرا دیا تھا۔ آگے چل کر بڑا ہونے پر اسے میں نے ‘پربھات’ کے کیمیکل روم میں فلم پرنٹنگ کے کام پر رکھ لیا۔ اپنے کام میں وہ بہت ماہر تھا۔ اس کی شادی بھی میں نے اپنی موسیری (خالہ زاد) بہن کی لڑکی لِیلا سے کرا دی۔</p>
<p>رام کرشن کی انتییشٹی ختم کر لوٹتے سمے ہی رام کو جو تیز بخار چڑھا، اس کی تشخیص ڈاکٹروں نے ‘گردن توڑ بخار’ کی۔ اسے تپِ دق کی بیماری ہے۔ اِس دوران اُس کا بھی پتہ چل گیا۔ اسے فوراً ہی مِرج کے ‘مشنری ٹی۔ بی۔ اسپتال’ میں بھرتی کرایا گیا۔ اس کی پتنی لیلا اُس کی دیکھ بھال کے لیے اسپتال میں رہی۔ اس کی حالت بہت ہی گمبھیر ہونے کی خبر ملتے ہی میں اسے دیکھنے کے لیے مِرج گیا۔</p>
<p>رام بے ہوشی میں بھی ویسے ہی ہاتھ چلا رہا تھا جیسے پرنٹنگ مشین میں فلم بھرتے سمے چلاتا تھا۔ کم سے کم اِس رام کو تو بچا ہی لیا جائے، اس کے لیے کافی کوشش کی گئی۔ خوب خرچ کیا، لیکن اُسے بچایا نہ جا سکا۔</p>
<p>اکلوتا بھائی گزر جانے کے کارن وِمل کو بہت ہی دکھ ہوا۔</p>
<p>رام کرشن کی اچانک موت، اس پر وِمل کے بھائی کی وہ لمبی بیماری اور آخر میں موت کے کارن ہمارے پورے خاندان پر ڈیپریشن کے بادل چھا گئے۔ میں بھی اس سے اَچھوتا نہ رہ سکا۔</p>
<p>لیکن اس بار بھی دھیرج کے ساتھ مَیں پھر کھڑا ہو گیا۔ سخت رپٹیلی (پھسلن بھری) راہوں پر چلتے ہی رہنے، لگاتار آگے ہی بڑھتے رہنے کی اکھڑ فطرت کے کارن میں پھر جیون راہ پر رواں دواں ہو گیا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-19/">شانتا راما باب 19: رپٹیلی راہیں (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-19/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>شانتاراما باب 17: شرط جیتی، مگر (ترجمہ: فروا شفقت)</title>
		<link>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-17/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-17/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فروا شفقت]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 03 Oct 2020 18:55:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[ajmal kamal]]></category>
		<category><![CDATA[Bollywood]]></category>
		<category><![CDATA[farwa shafqat]]></category>
		<category><![CDATA[shantarama]]></category>
		<category><![CDATA[اجمل کمال]]></category>
		<category><![CDATA[شانتا راما]]></category>
		<category><![CDATA[فروا شفقت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25853</guid>

					<description><![CDATA[<p>رات کے تیسرے شو کے لیے ہم لوگ تھئیٹر پر پہنچے۔ تھئیٹر میں بہت ہی کم لوگ تھے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-17/">شانتاراما باب 17: شرط جیتی، مگر (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>ہمیشہ کی نسبت کچھ جلدی جاگ کر میں تڑکے ہی اخبار پھینکنے والے لڑکے کے انتظار میں بیٹھا تھا۔۔۔</p>
<p>‘تُکارام’ کل ہی ہمارے نئے ‘پربھات’ تھئیٹر، پُونا میں ریلیز ہو چکی تھی۔ اس دن کمپنی میں کچھ غیر ملکی مہمان آنے والے تھے۔ اس لیے ‘تُکارام’ کے پہلے شو میں مَیں تھئیٹر جا نہیں پایا تھا۔ مہمانوں کے چلے جانے تک تو پہلا شو ختم ہو چکا تھا۔ میں اپنے آفس سے نیچے آ گیا۔</p>
<p>سامنے والی بینچ پر داملے جی اور فتے لال مایوس ہو کر بیٹھے تھے۔ میرا کلیجہ کانپ اٹھا۔ جلدی جلدی ان کے پاس پہنچ کر میں نے پوچھا، “کیا حال ہیں ‘تُکارام’ کے؟”</p>
<p>“کچھ مت پوچھیے!” فتے لال جی نے کہا۔</p>
<p>“کیا مطلب؟”</p>
<p>“مطلب یہی کہ ‘تُکارام’ کے لیے لوگوں میں قطعی کوئی جوش نظر نہیں آرہا ہے۔ ہماری پربھات کی نئی فلم کے پہلے شو کے لیے آج تک جو بے شمار بھیڑ اُمڈ آیا کرتی تھی، وہ اس سمے نہ جانےکہاں غائب ہو گئی تھی۔ تھئیٹر آدھے سے زیادہ خالی پڑا تھا۔”</p>
<p>“کیا کہہ رہے ہیں آپ؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔ ایسا ہونا نہیں چاہیئے۔ آج رات کا شو میں خود لوگوں میں بیٹھ کر دیکھتا ہوں۔ آپ بھی چلیے ساتھ میں۔”</p>
<p>رات کے تیسرے شو کے لیے ہم لوگ تھئیٹر پر پہنچے۔ تھئیٹر میں بہت ہی کم لوگ تھے۔ فلم شروع ہو گئی۔ جو اِکّا دُکّا ناظرین بیٹھے تھے، وہ میری توقع کے مطابق جگہ جگہ پر فلم کے سبھی حصوں کی برابر داد دے رہے تھے۔ چونکہ ناظرین کی تعداد ہی بہت کم تھی، ناظرین کی یہ داد بھی کافی کمزور لگتی تھی، لیکن تھی ضرور۔ میرا من اُتھل پُتھل ہونے لگا۔</p>
<p>پچھلے مہینے لوناؤلا میں بابوراؤ پینڈھارکر کے ساتھ ہوئی وہ بات یاد آئی۔</p>
<p>‘تُکارام’ فلم نہ چلی تو ڈائریکٹ کرنا ہمیشہ کے لیے چھوڑ دینے کا عہد میں نے کیا تھا۔ میرا وہ عہد سن کر بابوراؤ پینڈھارکر کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔ میرے ضدی سوبھاؤ سے وہ اچھی طرح واقف تھے۔ مجھے سمجھانے بُجھانے کی انہوں نے کافی کوشش کی، “اجی شانتارام بابو، ایک آدھ فلم کبھی کبھار نہیں چلتی۔ لیکن اس کے لیے اپنی ساری ڈائریکشن ہی داؤ پر لگانے کا کھیل بے کار ہی کیوں کھیل رہے ہیں آپ؟”</p>
<p>اپنے غصے پر قابو پاتے ہوے میں نے کہا، “بابوراؤ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں کبھی جُوا نہیں کھیلتا! میں ان لوگوں میں سے ہرگز نہیں ہوں، جو ہاتھ کے پانسے زمین پر پھینک کر اپنے لیے مناسب دان کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں۔ صرف شرط لگانے یا مقابلے میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کے جذبہ سے میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں۔ اس فلم کے بارے میں مجھے پورا یقین ہے اور اس کے باوجود اگر یہ نہیں چلتی، تو اس کا سیدھا مطلب تو یہی ہونا چاہیے کہ اس موضوع پر اب مجھے کوئی گیان ویان نہیں رہا ہے۔ تب تو یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ فلم میکنگ اور ڈائریکشن کرنا میرے بس کے باہر کی بات ہے!”</p>
<p>“آپ کی ان باتوں سے میں قطعی متفق نہیں ہوں۔ آپ پہلے اپنا وہ خوفناک عہد واپس لیجیے بھلا!” بابوراؤ نے کافی مِنت بھری التجا کی۔</p>
<p><iframe src="https://www.youtube.com/embed/8RIcdA5PK78" width="560" height="315" frameborder="0" allowfullscreen="allowfullscreen"></iframe></p>
<p>“نہیں، یہ ایک دم ناممکن ہے۔ میں نے محض عہد برائے عہد نہیں کیا ہے، اس کے پیچھے خیالات کی ایک یقینی سمت ہے۔” میں انہیں وِچاروں میں کھویا تھا کہ ناظرین نے دل سے داد دی۔ سامنے پردے پر تُکارام اور جِجاؤ کا وہ برگد کے پیڑ کی چھایا والا سین آیا تھا۔ جو چند ناظرین اس سمے فلم دیکھ رہے تھے، انہیں وہ سین بہت پسند آیا۔ اس کے بعد تو فلم میں زیادہ سے زیادہ رنگ بھرتا گیا۔ ناظرین اس کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے گئے۔</p>
<p>فلم ختم ہوئی۔ میں لمبے لمبے ڈاگ بھرتا ہوا اپنی کار میں جا بیٹھا۔ داملے جی اور فتے لال بھی ساتھ ہو لیے۔ میں نے انہیں بتایا، “پکچر بہت اچھی چلنے والی ہے۔ لوگ چمتکاروں سے بھرپور سنت فلموں سے اوب گئے ہیں۔ شاید یہی سوچ کر کہ ‘تُکارام’ بھی اسی کیٹیگری کی ایک فلم ہو گی، انہوں نے شروع میں بھیڑ نہیں کی۔ ایک بار انہیں معلوم ہو گیا کہ ‘تُکارام’ کچھ نرالی ہی سنت فلم ہے، آپ دیکھیں گے لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس کی طرف متوجہ ہوں گے۔”</p>
<p>بولتے بولتے میں چپ ہو گیا۔ من میں سوال اٹھا تھا لوگوں کو کس طرح متوجہ کیا جائے؟ فلم کا گراف کم ہونے سے پہلے کچھ نہ کچھ کرنا ہی پڑے گا!</p>
<p>ہم لوگ گھر پہنچے، میں نے ڈرائیور کو ہدایت دی کہ ہماری فلموں کے پرچارک اور ایڈورٹائزنگ کا کام دیکھنے والے داتار جی کو فوراً لے آؤ۔</p>
<p>بیچارے داتار صاحب، اس تذبذب میں کہ اتنی رات بیتے انہیں کیوں بلایا گیا ہے، آنکھیں ملتے ملتے آ پہنچے۔ انہوں نے گھر میں قدم رکھا ہی تھا کہ میں نے ان سے کہا، “داتار، کل سویرے کے ‘گیان پرکاش’ میں پہلے صفحے پر اشتہار چھپ کر آنا چاہیئے اور اس اشتہار پر بولڈ عنوان چاہیئے: ‘تُکارام اور جِجاؤ کا برگد کے نیچے ‘لَوسین’ سمجھے؟”</p>
<p>“کیا؟” داتار حیرت کے کارن لگ بھگ چیخ پڑے۔ ان کی نیند رفو چکر ہو گئی۔ بیچارے مجھے ہی سمجھانے لگے، “لیکن شانتارام بابو، اس طرح کے اشتہار میں ایک بہت بڑا خطرہ بھی ہے۔”</p>
<p>“وہ خطرہ اٹھانے کے لیے میں تیار ہوں! آپ فوراً ہی اشتہار چھپوانے کا انتظام کریں!”</p>
<p>داتار ‘گیان پرکاش’ نامی مقبول روزنامے کے منتظم تھے اور اسی لیے میں یہ کام کرانے کے لیے ان پر دباؤ ڈال رہا تھا۔</p>
<p>میں دروازے پر کھڑا تھا۔ سامنے سے اخبار ڈالنے والا چھوکرا آتا دکھائی دیا۔ میں نے اس کے ہاتھوں سے ‘گیان پرکاش’ کا تازہ شمارہ لگ بھگ چھین ہی لیا۔ پہلے ہی صفحے پر اشتہار تُکارام جِجاؤ کے لَو سین والے عنوان کے ساتھ چھپا تھا۔ یہ سوچ کر کہ پُونا کے مذہب پرست لوگوں میں اس اشتہار کےکارن کیا ہی سنسنی مچ جائےگی، میں من ہی من خوش ہو رہا تھا۔</p>
<p>شام کے چھ بجے میرے آفس میں فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ فون پر فتے لال جی بات کر رہے تھے۔ بڑے جوش سے کہہ رہے تھے، “تُکارام کا دوپہر والا شو کل کی نسبت کافی اچھا رہا۔ ابھی چھ بجے والے شو میں تو اس سے بھی زیادہ لوگ آئے ہیں۔”</p>
<p>میں نے پُرجوش ہو کر پوچھا، “تُکارام دیکھ کر لوٹتے سمے لوگ کیا کیا باتیں کرتے ہیں؟”</p>
<p>“فلم کے بارے میں تو لوگ اچھا بول رہے ہیں۔ آپ کے اس اشتہار نے کافی مدد کر دی ہے!”</p>
<p>“ہیلو، لوگ اس اشتہار کے بارے میں کیا بولتے ہیں؟” میں نے پُرامیدی سے پوچھا۔</p>
<p>“کئی لوگ تو اشتہار میں ‘لَوسین’ لفظ پر اعتراض اٹھا رہے تھے۔ لیکن اب کھیل ختم ہونے پر لوگ اس اشتہار کی سوجھ بوجھ کے لیے داتار کی تعریف کر رہے ہیں!”</p>
<p>تو اس کا مطلب یہ رہا کہ میرا تیر ٹھیک نشانے پر جا لگا تھا!</p>
<p>روز بہ روز’ تُکارام’ دیکھنے کے لیے آنے والوں کی بھیڑ بڑھتی ہی جا رہی تھی۔</p>
<p>پُونا میں ‘تُکارام’ کو ریلیز ہوے ابھی ایک ہفتہ ہی ہوا تھا کہ بمبئی کے ‘سینٹرل’ سینما کے مالک کے۔کے۔ مودی اور عبدل علی مجھ سے ملنے پُونا میں میرے گھر پر آ پہنچے۔ چُھوٹتے ہی انہوں نے مجھ سے پوچھا، “شانتارام، ‘تُکارام’ کے لیے سینٹرل سینما میں کتنے ہفتے رکھ چھوڑوں؟”</p>
<p>“آپ ایسا سوال کیوں کر رہے ہیں؟”</p>
<p>وہ گول مول جواب دینے لگے، “نہیں نہیں، ویسی تو کوئی بات نہیں ہے، لیکن بابوراؤ پینڈھارکر نے ہمیں بتایا کہ پہلے آپ سے پوچھ لینے کے بعد ہی فائنل کیا جائے۔”</p>
<p>“یعنی بابوراؤ پینڈھارکر کو بھی ‘تُکارام’ کی کامیابی پر شُبہ ہے۔ تو ویسا صاف صاف کیوں نہیں کہتے؟ میں آپ سے کہتا ہوں، ‘پربھات’ کی کسی بھی کامیاب فلم کے لیے آپ جتنے ہفتے رکھتے ہیں، اتنے ہی ہفتے اس فلم کے لیے بھی بِنا کسی اگر مگر کے آپ رکھ چھوڑیں۔” یہ بات میں نے تھوڑا ڈپٹ کر سختی سے کہی۔</p>
<p>دونوں انہی قدم واپس لوٹ گئے۔ آخر بات میری ہی سچ نکلی۔ بمبئی، پُونا میں ‘تُکارام’ کو چلے پچیس ہفتے پورے ہو رہے تھے۔ تب ‘تُکارام’ کے سلور جوبلی فیسٹول اشتہار میں بطور ڈائریکٹر کے داملے جی اور فتے لال جی کے فوٹو چھپوانے کا انتظام میں نے کرا دیا۔ میری پکی رائےتھی کہ فلم کے اشتہار میں ڈائریکٹر کا صرف نام اور کلاکاروں کے فوٹو ہونے چاہیئں۔ اسی لیے میری ڈائریکٹ کی گئی کسی بھی فلم کے اشتہار میں اپنی فوٹو بطور ڈائریکٹر کے دینا میں برابر ٹالتا آیا تھا۔ لیکن اس سمے میں نے اپنی رائےکو چُھپایا۔ کارن یہ تھا کہ داملے جی، فتے لال جی کو ‘تُکارام’ بنانے کی inspiration میں نے دی تھی۔ اس میں میرا بنیادی مقصد یہی تھا کہ ان کے ناموں کا بھی اچھا پرچار ہو اور میرے لیے ان کے دل میں کہیں حسد یا جلن ہو، تو دور ہو جائے۔</p>
<p>بمبئی کے سینٹرل سینما میں ‘تُکارام’ فلم نے آج تک کی ریلیز ہوئی سبھی فلموں کے ریکارڈ توڑ دیے۔ سینٹرل سینما میں تو وہ پورے ستاون ہفتے تک چلتی رہی۔</p>
<p>‘تُکارام’ کی اس بے مثال کامیابی کی خوشی داملے جی، فتے لال جی کی نسبت مجھے ہی زیادہ ہوئی۔ ‘تُکارام’ کے پچاسویں ہفتے کے سمے بابوراؤ پینڈھارکر میرے یہاں آئے اور خود کہنے لگے، “آپ نے شرط جیت لی۔ کمال کاحوصلہ اور خود اعتمادی ہے آپ میں۔ بھئی مان گئے۔ آپ کومبارک باد دوں تو کیسے؟ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔”</p>
<p>لگ بھگ اسی سمے ‘امر جیوتی’ فلم وینس میں انٹرنیشنل فلم فیسٹول کے لیے بھیجی گئی تھی، اس طرح کی انٹرنیشل فلم ریلیز میں بھیجی گئی وہ پہلی بھارتی فلم تھی۔ وہاں اسے عزت ملی۔ Appreciation letter بھی ملا۔ بھارت میں بھی’ امر جیوتی’ کو ایک سے زیادہ مشہور اداروں کی طرف سے گولڈ میڈل دیے گئے۔</p>
<p>اس کے بعد کے برس میں ‘تُکارام’ کو بھی وینس فلم فیسٹول کے لیے بھیجا گیا۔ اس کو بھی ‘آنریبل مینشن’ کا رتبہ حاصل ہوا۔ اس کا شمار معزز فلموں میں کیا گیا۔</p>
<p>اس بیچ ہم نے ایک اور فلم بنائی ‘وہاں’۔ ویدک زمانے میں آریاؤں اور غیرآریاؤں کےبیچ جدوجہد پر وہ مبنی تھی۔ آریہ لوگ بھارت میں فاتح ویروں کی طرح آئے اور بھارت کے مقامی غیر آریوں کے ساتھ انہوں نے غلاموں جیسا برتاؤ کیا۔ اُس وجودیت کی جدوجہد پر مکمل کہانی تخلیق کی گئی تھی۔ باصلاحیت فتے لال جی کو نیا موضوع مل گیا۔ انہوں نے اس زمانے کے معقول کاسٹیوم، کپڑے لتے وغیرہ بنوا لیے۔ مین کریکٹر کے لیے ‘پربھات’ میں نووارد اداکارا الہاس کو چُنا گیا۔ الہاس بہت ہی سڈول اور پُرکشش شخصیت تھا۔ڈائریکٹر تھے، کے۔ نارائن کالے۔</p>
<p>اصل میں کے۔ نارائن کالے کا فرق ایک نقاد کا تھا۔ وہ لیکھک اور اداکار بھی تھے۔ لیکن ان کے اندر کا نقاد فلم میں بھی انہیں ہربات میں بال کی کھال نکالنے میں مدد کرتا تھا۔ ایک دن الہاس کے کسی سین کی شوٹنگ چل رہی تھی۔ اوپر کی گیلری میں کھڑے ہو کر میں بھی شوٹنگ دیکھ رہا تھا۔ کے۔ نارائن کالے الہاس سے کہہ رہے تھے، “دیکھو الہاس، اس سین میں تمہیں پچاس فیصد دکھ اور پچاس فیصد غصےکی اداکاری کرنی ہے، سمجھے؟”</p>
<p>الہاس بالکل ہی نیا تھا۔ اس نے سڑی بولی میں کالے جی سے کہہ دیا،” آپ کا یہ پچاس فیصد کا حساب اپنی تو سمجھ میں نہیں آتا۔ آپ آخر مجھ سے چاہتے کیا ہیں؟ انّا صاحب بتاتے ہیں، اسی ڈھنگ سے بتائیے۔”</p>
<p>کالے ویسے تُنک مزاج ہی آدمی تھے۔ وہ ماتھا ٹھوکتے ہوے پاس رکھی ایک کرسی پر دھم سے بیٹھ گئے۔ الہاس بھی بیچارہ چکرا گیا۔ کام رُک گیا۔ میں فوراً نیچے آیا۔ الہاس کو سارا سین ٹھیک سے سمجھا کر بتایا، اسے اچھے موڈ میں لایا۔ کالے جی بھی تھوڑے موڈ میں آ گئے۔ شاٹ پورا ہوا۔ وہ ٹھیک ویسے ہی آیا تھا جیسا کہ کالے جی چاہ رہے تھے۔</p>
<p>شام کو میں نے کالے جی کو اپنے آفس میں بلوایا اور ہنستے ہنستے کہا، “کالے جی، آپ کی وہ پرسینٹیج والی ڈائریکشن مہربانی کر کے بند کیجئے بھئی۔ آدمی کے احساسات کی بھی کیا کبھی پرسینٹیج ہوتی ہے؟ میرے خیال سے تو آپ کلاکاروں کو سین میں موجود احساسات کا معنی سمجھا کر بتا دیں اور باقی سب کچھ کلاکاروں پر چھوڑ دیں، تو اچھا رہے گا۔ کبھی کبھار ضرورت پڑ جائے تو آپ انہیں خود اداکاری کر کے دکھا دیں۔ ایسا کرنے سے آپ اپنے کلاکاروں سے جیسی چاہیں اداکاری کروا سکتے ہیں۔ کبھی کبھی تو انہیں جھوٹی ترغیب دیجیے۔ آپ توجانتے ہیں میں کتنا غصیل آدمی ہوں، لیکن آپ نے مجھے سیٹ پر کبھی کسی پر غصہ کرتے دیکھا ہے؟”</p>
<p>“انّا، یہ سب تار پر چلنے کی کسرت کرنا آپ ہی جانتے ہیں۔”</p>
<p>“اجی، آپ بھی کر لیں گے۔ کوشش کر کے تو دیکھیے نا؟”</p>
<p>“ٹھیک ہے، دیکھتا ہوں کوشش کر کے!” کالے جی نے ہنستے ہنستےکہا۔</p>
<p>وہ فلم تھی تو اچھی، لیکن ناظرین کو وہ خاص پسند نہیں آئی۔ کالے جی نے اس فلم کو جو ٹریٹمینٹ دیا وہ کچھ ذہین تھا۔ پھر بھی اس فلم نے ہمیں پیسہ کافی دیا۔</p>
<p>فلمی دنیا میں ہمیں لگاتار کامیابیاں ملتی گئیں۔ نتیجہ یہ رہا کہ اس دنیا کے کچھ ذلیل دماغ والے لوگ ہماری فلم کے بارے میں کہنے لگے کہ، “پربھات کی فلم تو اس میں استعمال میں لائےجانے والے عالیشان سین کے کارن ہی چلتی ہیں، ویسے باقی ان میں ہوتا ہی کیا ہے!” لہذا اس بار میں نے اس چنوتی کو قبول کرنا طے کیا ۔ من ہی من ٹھان لیا کہ آئندہ فلم کا موضوع ایسا چنوں گا کہ اس میں عالیشان سین، پُرکشش کاسٹیوم وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی!</p>
<p>نئی کہانی کے بارے میں سوچنے لگا، کئی دنوں سے من میں محفوظ لیکن پورا نہ ہو پایا ایک سپنا تھا کہ ایک خالصتاً سماجی فلم بناؤں۔ اسے اب پورا کرنےکا فیصلہ کیا۔ میری شوقیہ خواہش تھی کہ کہانی ایسی ہو جو مڈل کلاس لوگوں کےجیون کو چُھو لے اور اس میں کسی ایسی مشکل کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے جو دیکھنے والے ہر شخص کو اس کی اپنی مشکل معلوم ہو۔ کے۔ نارائن کالے نے سجھاؤ دیا کہ نارائن ہری آپٹے کے ناول ‘نہ پٹناری گوشٹ’ (دنیا نہ مانے) پر آئندہ فلم بنائی جائے۔ سن کر میں ایک دم اُچھل پڑا۔ اس ناول کی کہانی مجھ پر برسوں سے حاوی تھی۔</p>
<p>میں نے اس ناول کے لیکھک کو پُونا بلا لیا۔ ناول کے کاپی رائٹس کے بارے میں لین دین کا سودا پورا کیا۔ سکرین پلے میں ناول کی کن کن باتوں کو میں چھوڑنے والا ہوں، اس کی انہیں معلومات دیں۔ کسی زمانے میں سماج میں کھلبلی مچا دینے والے اپنے اس ناول پر اب فلم بننےجارہی ہے، اس کی خوشی میں ہی وہ اپنے گاؤں لوٹ گئے۔ اس ناول پر ایک تجرباتی فلم بنانا میں نے طے کیا۔ سکرین پلےکو زیادہ سے زیادہ پُراثر کیسے بنایا جائے، اسی وِچار میں مَیں تھا کہ ایک غیرمتوقع خبر کےکارن ہم سبھی ہکے بکے رہ گئے۔ کیشوراؤ دھایبر نے ہم سب کے نام ایک نوٹس بھیجا تھا کہ انہیں ‘پربھات’ کی حصہ داری سے آزاد کیا جائے۔</p>
<p>کیشوراؤ دھایبر ویسے تھے تو بہت ہی محنتی۔ لیکن خود مختار روپ سے فلم بنانا ان کی اوقات کے باہر کی بات تھی۔ وہ تو میری درخواست تھی کہ وہ پربھات کےحصے داربنیں۔ لہذاحصہ داری چھوڑنے کے ان کے نوٹس کو پڑھ کر مجھے بہت ہی دکھ ہوا۔ کمپنی چھوڑ کر باہر جانے میں انہی کا نقصان کتنا ہے، یہ میں نے انہیں کافی واضح روپ سے سمجھایا تھا۔ لیکن وہ مانتے ہی نہیں تھے۔ پھر یہ بات بھی میں نے ان کے دھیان میں لائی کہ پارٹنرشپ لیٹر کے اصولوں کے مطابق کوئی حصہ دار ‘پربھات’ چھوڑ کر جا نہیں سکتا۔ لیکن اپنی ضد پر اڑے تھے۔ آخر مجبور ہو کر انہیں کانٹریکٹ سے آزاد کرنا ہی پڑا۔</p>
<p>لگ بھگ اسی سمے ہمارے ہمدرد نارائن ہری آپٹے کا مجھے ایک پتر ملا۔ پتر اس طرح تھا:</p>
<p>تاریخ: 21–1‑1937<br>
مسٹر شانتارام بابو کی خدمت میں، پیار بھرا نمسکار۔ اِدھر سب کچھ ٹھیک ہے۔ اُدھر آپ بھی ٹھیک ہوں گے۔ ایسی خواہش کرتا ہوں۔</p>
<p>کسی اہم وجہ سے یہ خط نہیں لکھ رہا ہوں۔ لیکن لکھے بِنا رہا نہیں جا رہا تھا، اس لیے لکھ رہا ہوں۔ شری کیشوراؤ دھایبر کمپنی چھوڑ کر جانے والے ہیں، اس کا اشارہ مجھے پہلے ہی مل چکا تھا۔ لیکن بھروسہ نہیں ہو رہا تھا۔ کسی جھمیلے کے بارے میں چرچا نہ کرنا میرا دستور رہا ہے، اور نہ ہی ایسے معاملوں میں اپنی ناک گُھساتا ہوں، جس سے کچھ بھی تعلق نہ ہو۔ اِس دستور کو میں نے ہر جگہ نبھایا ہے۔ ‘پربھات’ میں بھی اِسے توڑا نہیں ہے۔</p>
<p>لیکن اخباروں میں جب اس خبر کی چرچا پڑھی، من کو دکھ ہوا۔ دوسری کسی بات میں من لگانا ناممکن ہو گیا۔ سوچا، یہ کیا سے کیا ہو گیا ہے! آپسی میل جول کو برابر بنائے رکھنا ہم ہندو لوگوں کو کیا آتا ہی نہیں؟ ‘پربھات’ کےلگ بھگ سبھی اہم لوگوں سے میرا تعلق رہا ہے۔ آپ سےخاص رہا۔ آپ کےسوبھاؤ کو میں اچھی طرح سے جانتا ہوں اور اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ آپ کو بھی اس بات سے کافی دکھ ضرور ہی ہو رہا ہو گا۔ یہ ٹھیک ہے کہ بہادر اور فرض شناس شخص دل توڑنے والے واقعات پر آنسو نہیں بہاتے۔ لیکن میرا اپنا اندازہ تو یہ ہے کہ چونکہ اس کے کومل احساسات ختم نہیں ہوتے، بلکہ اوروں کی نسبت زیادہ سلجھے ہوتے ہیں، اس لیے ایسی باتوں سے من ہی من دکھی ہوے بنا نہیں رہتا۔ اسی لیے کیشوراؤ کے اس خیال پر کافی افسوس ہو رہا ہے۔</p>
<p>اب مجھے بیتی باتیں یاد آ رہی ہیں۔ سن ١٩٣٢ء میں آپ نے مجھے ‘امرت منتھن’ کے لیے بلایا تھا۔ خط لکھا تو آپ نے تھا۔ لیکن اس کا جواب کیشوراؤ دھایبر کے نام منگوایا تھا ۔یعنی آپ کیشوراؤ کو بڑا پن عطا کرنا چاہ رہے تھے۔ آگے چل کر بھی کئی بار میں نے دیکھا کہ کہانی کی چرچا ہو، مکالمہ لکھنا یا سننا ہو، ہر موقع پر آپ نے کیشوراؤ کے ساتھ بڑے بھائی کا سا برتاؤ کیا اور انہیں برابر عزت دی۔ ہر بات میں آپ ان کی عزت کرتے تھے۔ آپ کی شرافت سے میں پہلے سے ہی واقف تھا، لیکن آپ کی سمجھداری اور زندہ دلی ایسے موقعوں پر میں نے پہلی بار محسوس کی۔ میں کتنا خوش تھا، بیان نہیں کر سکتا۔ تب سے میں بڑے فخر کے ساتھ کہتا آیا ھوں کہ ‘پربھات’ مہاراشٹر کا ایک آدرشی ادارہ ہے۔ شہرت اور شان و شوکت دن دوگنی رات چوگنی بڑھنے والی ہے۔ اس بات کے لیے میں من ہی من آپ پانچوں (حصے داروں) کو دعا بھی دیتا رہا ہوں۔ لیکن اچنبھا اس بات کا ہےکہ سن ١٩٣٥ء میں یہ سارا منظر بدل گیا۔ ‘راجپوت رمنی’ کی کہانی میں نےجیسے تیسے لکھ تو دی، لیکن من کا اطمینان جاتا رہا۔ اُس سمے بھی میں نے آپ کو لکھا ہی تھا۔</p>
<p>تبھی سے مجھے لگ رہا تھا کہ ‘پربھات’ میں ‘کالی’ گُھسا ہے۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہو گا، کبھی سوچا نہ تھا۔ خیر! کرم گتی ٹارے ناہیں ٹرے ( قسمت میں لکھی کو کون ٹال سکتا ہے)۔ بےکار افسوس کرنے سے کیا ہونے والا ہے۔ لیکن من ہی تو ہے، بے چین ہو ہی جاتا ہے۔</p>
<p>اور ایک بات من میں آ گئی ہے، اسے بھی لکھ ہی دیتا ہوں۔ تب میں ‘نہ پٹناری گوشٹ’ (دنیا نہ مانے) کے لیے آیا تھا۔ دوسرے دن فتے لال جی کے گھر دعوت تھی۔ ہم لوگ چرچا پوری کر نیچے آئے تھے۔ کار آنے والی تھی۔ سامنے والی بینچ پر سیتارام بابو، داملے ماما، صاحب ماما بیٹھے تھے۔ میں کار میں بیٹھا اور آپ ان تینوں کے پاس گئے۔ تبھی من میں خیال آیا کہ ارے، کیشوراؤ کہاں ہیں؟ اور تبھی مجھے معلوم ہوا کہ وہ کمپنی چھوڑنے کا سوچ رہے ہیں۔ یہ بات سن کر میں حیران رہ گیا۔ سوچا —‘کیا خوب!’ کیشو کا ہیرا جڑاؤ سے کیسے گِر گیا۔ میں کچھ تو ضرور جانتا ہوں۔ اس میں کہیں نہ کہیں ایک ناری ہے! کبھی فرگیوسن کالج میں بحث چھڑی تھی کہ کیا عورت مرد کی راہ میں روڑا ہے؟ کیشو راؤ کے کریکٹر کو دیکھتے ہوے کہنا پڑے گا کہ عورت نہ صرف مرد کی ترقی کی راہ میں روڑا ہے، بلکہ اُسے جَل سمادھی (water grave) دلانے والی ایک خوفناک چٹان ہے! مرد عام طور پر بہت قصور وار یا ہوس ناک نہیں ہوتا، لیکن ایک ناری کے چکر میں آنے پر وہ کتنا نادان بن سکتا ہے، اس کی کیا یہ جیتی جاگتی مثال نہیں؟ کیشوراؤ ایک دم گھناؤنے تو نہیں ہیں، استعفٰی دینے کے لائق بھی کہاں ہیں؟ لیکن کیا چمتکار ہوگیا دیکھیے، بےچارہ کام سے جاتا رہا! دنیاداری کی حالت کیا ہے، اور ایک یہ مہاشے ہیں کہ میٹھے بھوجن کی تھالی کو لات مار کر چلے جانے کی نادانی کر رہے ہیں!</p>
<p>کون کِسے کیا کہہ سکتا ہے! ہر ایک اپنا اپنا سوچنے پر قادر ہے۔ پھر بھی مجھے من ہی من ضرور لگتا ہے کہ کیشوراؤ اپنے ہاتھوں اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی چلا رہے ہیں۔ ہر سمجھدار آدمی یہی کہےگا۔</p>
<p>سارا قصہ یاد آتے ہی بہت تکلیف ہوتی ہے۔</p>
<p>کل کیشوراؤ اپنی کوئی فلم بنانےکی کوشش کریں گے۔ اس میں کوئی شُبہ نہیں۔ بطور ایک لیکھک کے وہ مجھے مدعو کریں گے اور دھندھے کی بات مان کر میں اسے شاید قبول بھی کر لوں گا۔ لیکن من کبھی خوشی محسوس نہیں کرے گا!</p>
<p>جو من میں آیا، صرف اپنے پن کے احساس سے آپ کو لکھ دیا۔ اس سمے آپ شاید کافی دوڑ بھاگ میں ہوں گے۔ اس میں ایک اور پریشانی کھڑی کرنا نہیں چاہ رہا تھا، لیکن لکھے بِنا رہا بھی تو نہیں جا رہا۔</p>
<p>یہاں لگتا ہے ایک خطرے کی اطلاع آپ کو دے ہی دوں۔</p>
<p>مجھے پکا شُبہ ہے کہ پربھات کمپنی کے بارے میں، اس کی فلموں کے بارے میں جو بھی بھونڈا مذاق یا تنقید کی جاتی ہے، زیادہ تر کمپنی کا نمک کھانے والوں میں سے ہی کسی کے دماغ کی اپج ہوتی ہے۔ میں کسی کا نام لینا نہیں چاہتا، لیکن کئی بار تو اپنی آستین میں ہی سانپ ہوتا ہے۔ ہر گروہ میں کالی بکری ضرور ہوتی ہے۔ کانا پُھوسی کرنا، اِدھر کی اُدھر لگا دینا، ہر بار اپنی ہی اہمیت بڑھانے کا جتن کرنا، فائدے کی ہی فکر کرنا، منہ دکھاوے کی میٹھی باتیں کرنا، گھر میں لالے پڑتے ہیں لیکن باہر بڑی پوشیدگی بگھارنا وغیرہ، حرکتوں سے باز نہ آنے والا کوئی نہ کوئی آپ کے آس پاس ضرور رہتا ہے۔ وہی آپ کی مذمت کے رخنے ڈالتا رہتا ہے۔ لہذا خبردار ہوں، احتیاط سے رہیےگا اور ہرآدمی کو اس کی اہلیت کے لائق جگہ پر ہی رکھیےگا۔ یہ میں نے آپ کو ہدایت دینے کے لیے نہیں لکھا ہے، نہ ہی کسی کی چغلی کھانے کے لیے۔ صرف آپسی محبت کےکارن ہی صاف لکھا ہے۔ آپ کی ‘پربھات’ کی ہمیشہ جیت ہو، یہی د لی خواہش کرتا ہوں۔ مہربانی کر کے اس پتر کو اپنے لیٹربکس میں نہ رکھیں۔ ضرورت ہو تو۔۔۔ منع تو نہیں کرتا، لیکن!</p>
<p>مخلص</p>
<p>ن۔ہ۔آپٹے</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-17/">شانتاراما باب 17: شرط جیتی، مگر (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-17/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>شانتا راما — باب 16: ڈائریکشن داو پر (ترجمہ: فروا شفقت)</title>
		<link>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-16/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-16/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فروا شفقت]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 21 Aug 2020 11:52:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Bollywood]]></category>
		<category><![CDATA[farwa shafqat]]></category>
		<category><![CDATA[shantarama]]></category>
		<category><![CDATA[بولی وڈ]]></category>
		<category><![CDATA[شانتاراما]]></category>
		<category><![CDATA[فروا شفقت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25700</guid>

					<description><![CDATA[<p>فلم چلے گی، لوگ اسے پسند کریں گے، اس میں مجھے شبہ نہیں۔ مجھے پورا یقین بھی ہے! اور اگر یہ فلم نہ چلی توآپ یقین جانیے، میں ڈائرکشن کرنا ہمیشہ کے لیے چھوڑ دوں گا!</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-16/">شانتا راما — باب 16: ڈائریکشن داو پر (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولہاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>[divider]باب 16: ڈائریکشن داؤ پر[/divider]</p>
<p>&nbsp;</p>
<p>“اپنی اس فلم کو ‘مہاتما’ نام دےکر مہاتما گاندھی کے نام کا کاروباری فائدے کے لیے استعمال کیا ہے!” مشہور لکھاری اور بیرسٹر کنہیالال منشی نے جلتا ہوا طعنہ مارتے ہوئے کہا۔</p>
<p>‘مہاتما’ فلم کو سنسر کی قینچی سے صحیح سلامت آزاد کیا جائےاورسنسر بورڈ کی طرف سے ہم لوگوں کے ساتھ جو ناانصافی کی گئی ہے اسے دور کیا جائے، ایسی مانگ کرنے کے لیے میں ان سے ملنے گیا تھا۔ لیکن پہلی سلامی میں ہی انہوں نے مجھے پورا چِت کر دیا۔ میرا خون کھول اٹھا۔ پھر بھی اپنے آپ کو قابو میں رکھتے ہوئے میں نے کہا، “مہان کام کرنے والے سبھی قدیم اورجدید آتماؤں (لیڈروں) کو مہاتما خطاب دیا جا سکتا ہے۔ ویسا ان کا حق بھی ہوتا ہے۔ تین سو برس قبل مہاراشٹر میں چھوت چھات کے خاتمے کا کام کرنے والے سنت ایکناتھ کو ہم نے مہاتما کہا تو کون سا غلط کام کیا؟ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ گاندھی جی کے سوا اور کسی کو مہاتما نہیں کہنا چاہیے؟”</p>
<p>میری یہ ایک دم تیکھی بات شاید منشی جی کو پسند نہیں آئی۔ ‘مہاتما’ فلم پر لگی پابندی ہٹانے کے لیے انھوں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ میں بہت بےچین ہو گیا۔ کبھی لگتا کہ اتنی لگن سے بنائی ہوئی یہ فلم، اس میں کاٹ پیٹ کرنے کے بجاے ویسے ہی ڈبے میں بند کر رکھ دوں۔ لیکن سبھی نقطۂ نظر سے وِچار کرنے پر آخر سوچا کہ بال گندھرو جیسے کلاکار نے صرف قرض سے آزاد ہونے کے لیے فلم میں کام کرنا قبول کیا ہے، تو کیا میرے اس فیصلے سے ان کا مقصد ناکام نہیں ہو جائے گا؟ سنت ایکناتھ یا چھوت چھات جیسے متنازعہ موضوع کا انتخاب ہم نے کیا تھا۔ فلم کے موضوع اور اس کے بنانے کے بارے میں بال گندھرو نے مجھ پر پورا بھروسا کیا تھا۔ ایکناتھ کی اداکاری بھی انھوں نے من لگا کر کی تھی۔ ایسی حالت میں غصے میں ہوش کھو کر میں ‘مہاتما’ کو ریلیز کرنا منسوخ کر دیتا ہوں تو معاشی کٹھنائیوں میں گھِرے اس مہان اداکار کے لیے کیا یہ بھروسا توڑنا نہیں ہو گا؟</p>
<p>من مسوس کر میں نے بابوراؤ پینڈھارکر کو فون کیا اور بتایا،“اس عقل مند اور مذہبی سنسر کے بچے کی مرضی کے مطابق ‘مہاتما’ میں جو بھی کانٹ چھانٹ کرنی ہو، کر لیجیے اور کسی طرح اسے پاس کروا لیجیے۔ لیکن اسے یہ بھی صاف صاف بتا دیجیے کہ ایکناتھ ایک مہار کے گھر بھوجن کرنے جاتے ہیں، اس سین کو جوں کا توں رکھنا ہی پڑے گا۔ وہ ایک تاریخی سچ ہے اور اس کو سنسر بھی نظرانداز نہیں کر سکتا۔ یہ بات اپنی طرف سے پورے زور سے کہیے گا اور پھر بھی وہ نہیں مانتے ہیں تو انھیں دھمکی دیجیے گا کہ شانتارام نے کہا ہے کہ اس سین کو آپ نے ذرا بھی چھوا تو میں خود بمبئی آ کرعام جلسہ کروں گا، اخباروں میں آواز اٹھاؤں گا اوراس معاملے کے خلاف عوامی تحریک چھیڑوں گا۔ آپ لوگ مجھے گرفتارکرا لو گے تو بھی پرواہ نہیں۔”</p>
<p><iframe src="https://www.youtube.com/embed/_fwKOLA5ISA" width="560" height="315" frameborder="0" allowfullscreen="allowfullscreen"></iframe></p>
<p>بمبئی میں ‘مہاتما’ ریلیز تو ہوئی، لیکن اس کا نام ‘دھرماتما’ کر دیا گیا۔ سماج بدلنے والوں اورناظرین نے اسے بہت پراثر اور چھو لینے والی فلم کے روپ میں عزت دی۔ اس کے بعد یہی فلم بمبئی صوبے سے باہر پہلے والے ‘مہاتما’ کے ہی نام سے ریلیز کی گئی اور مزے کی بات تو یہ رہی کہ اس کا ایک بھی سین نہ تو سنسر نے کاٹا، نہ ہی کسی سین کو انھوں نے چھوا۔ ان دنوں بھارت میں مختلف صوبوں کے لیے الگ الگ سنسر بورڈ تھے۔ کتنی شرم کی بات ہے کہ مہاراشٹر میں جنمے ایک مہان سماج سُدھارک سنت کے جیون پربنی فلم پر مہاراشٹر کے ہی سنسر بورڈ کی طرف سے پابندی لگائی گئی اور ہریجن سیوک مہاتما گاندھی کے پیروکار کہلانے والے لوگوں کے کنٹرول میں چل رہی ممبئی سرکار نے اس معاملے میں ہماری کوئی مدد نہیں کی!</p>
<p>کچھ مذہبی لوگوں کی مخالفت کے باوجود یہ فلم مہاراشٹر میں بہت ہی اچھی چلی۔ یہی نہیں، پنجاب، کلکتہ، مدراس وغیرہ صوبوں میں بھی ناظرین نے اس کو کافی سراہا۔ ‘مہاتما’ کا سارا خرچ وصول ہونے میں کوئی خاص دیر نہیں لگی۔ بعد میں سارا منافع ہی منافع رہا۔ معاہدے کے مطابق بال گندھرو کو آدھا منافع دے دیا گیا۔ کامیابی سے وہ قرض سے آزاد ہو گئے اور ہمیں بھی اطمینان ملا کہ ہم نے اپنی ایک اخلاقی ذمےداری کو پورا کر دیا۔</p>
<p>معاہدے کے مطابق بال گندھرو کو اہم کردار دے کر ہم نے ایک اور فلم بنانے کا وِچار کیا۔ ان کی بےانتہا نرم فطرت کے لائق کسی کہانی کی میں کھوج کرنے لگا۔ فتےلال جی کا کہنا تھا کہ بال گندھرو کے لیے کسی اور سنت کے جیون پر ہی اور ایک فلم بنائی جائے۔ سنتوں کے جذبات کو وہ نہایت خوبی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ فتے لال جی کی بات سے میں بھی اتفاق کرتا تھا۔ سنت تُکارام کے جیون پر مبنی فلم بنائی جائے اور اس میں تُکارام کا کردار بال گندھرو کو دیا جائے، ایسا میں سوچنے لگا۔</p>
<p>لیکن تبھی ایک دن بال گندھرو میرے پاس آئے اور کہنے لگے، “انّا، لوگ کہہ رہے ہیں کہ میں رہا زنانہ کردار کرنے والا اداکار، لہذا مردانہ کردار میں دیکھ کر انھیں بہت اَٹ پٹا سا لگا۔ کم سے کم اب اگلی فلم میں مجھےعورت کا کرداردیا جائے، ایسا ان تمام محبت کرنے والوں کی درخواست ہے۔”</p>
<p>بال گندھرو کی یہ بات سن کر میں تو ٹھنڈا پڑ گیا۔ سمجھ نہیں پایا کہ ان کے کان بھرنے والے ان کے نام نہاد بھکتوں کی اس عقل پر ہنسوں یا ترس کھاؤں! فلم کے ذریعے سے کلاکار کی مورتی کئی گنا بڑی ہوکر پردے پر تصویر ہوا کرتی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی کلاکار کتنا ہی بہترین ہو، ایک عورت جیسی جذباتی اداکاری کرنے کی وہ کتنی ہی کوشش کرے، ایک عورت جیسا دکھائی دینا اس کے لیے ناممکن ہی ہے۔ مجھے تو بال گندھرو کا یہ خیال قطعی پسند نہیں تھا۔ میں نے انھیں سمجھانے کی کافی کوشش کی۔ “آپ اپنے مشیروں کے کہنے میں نہ آئیے۔ اسٹیج اور فلم میں بہت فرق ہے۔ فلم میں آپ کا زنانہ پارٹ اچھا نہیں دکھائی دے گا۔ لوگ اسے پسند نہیں کریں گے۔”</p>
<p>میری صاف گوئی بال گندھرو کو راس نہیں آئی۔ بگڑ کر بولے، “بھگون، اپنے مِتروں کی رائے سے میں بھی متفق ہوں۔ آپ اگلی فلم میں مجھے زنانہ کردار دینے کے قابل نہیں ہیں تو اچھا ہو کہ آپ مجھے دوسری فلم کے معاہدے سے آزاد کر دیں۔”</p>
<p>اپنے ساتھیوں سے اس موضوع پر بحث کر، میں نے بال گندھرو کو ہمارے معاہدے سے آزاد کر دیا۔ بعد میں کانوں کان خبر ملی کہ کولہاپور کے رائل ٹاکیز کے مالک نے بال گندھرو کو زنانہ کردار دے کر ایک مقبول ناٹک پر مبنی فلم بنا لی ہے۔ سب سے حیرت اور دھکا اس بات سے لگا کہ ہمارے گرو بابوراؤ پینٹر نے اس فلم کو ڈائریکٹ کیا ہے۔ طریقہ کار میں کیسی irony تھی کہ جس بابوراؤ پینٹر نے سن ١٩١٨ء میں اپنی پہلی فلم ‘سیرندھری’ میں عورتوں کا کام عورتوں سے ہی کرایا تھا، وہی فنکار آج ایک مرد کو زنانہ کردار دینے کا سیدھا سادہ غیرفنکارانہ کام کر بیٹھا تھا! مجھے اس پر کافی رنج ہوا۔</p>
<p>بال گندھرو اور بابوراؤ پینٹر جیسے دو دو کلاکاروں کے اکٹھ سے بنائی گئی وہ فلم لوگوں کو قطعی نہیں بھائی اور بری طرح فیل ہو گئی۔</p>
<p>’امرت منتھن’ اور ‘دھرماتما’ فلم کو ملی بھاری کامیابی کے کارن ‘پربھات’ کے ساتھ ہی میرے نام کا بھی ڈنکا بجنے لگا تھا۔ ناظرین مجھے ترقی پسند ڈائرکٹر کے طور پر پہچاننے لگے تھے۔ اس کے علاوہ کمپنی کے لین دین کا سارا کاروبار میں ہی دیکھا کرتا تھا۔ کمپنی میں کاروبار کی خاطر آنے والے سبھی کلاکار، لیکھک، غیرملکی کمپنیوں کے نمائندے میرے دیگر ساتھیوں کے پاس نہ جا کر سیدھے میرے ہی پاس آتے تھے۔ میں اپنے سبھی ساتھیوں سے اُن وزیٹرز، جینٹلمینوں کا تعارف کرا دینے سے کبھی نہیں چُوکتا تھا۔ اس بات کے لیے میں بہت ہی احتیاط برتتا کہ ساتھیوں کو کسی بھی صورت میں حقارت محسوس نہ ہو۔ لیکن کئی بار وہ خود ہی پیچھے رہنا پسند کرتے تھے۔ میری مقبولیت اپنے ساتھیوں کو شاید کہیں نہ کہیں چبھنے لگی ہے، اس کو میں کبھی کبھار محسوس کرنے لگا تھا۔ میرے پیچھے شاید وہ لوگ اس پر بات بھی کرنے لگے تھے: “جسے بھی دیکھو، سیدھا شانتارام بابو کے پاس ہی جاتا ہے۔ اور بابو بھی ہم سب کو ٹال کر اپنی ہی اہمیت بڑھانے کے جذبے سے پیش آتے ہیں۔ فلم کا موضوع، کرداروں کا انتخاب وغیرہ ساری باتیں وہ خود ہی کرتے ہیں۔ یہی کیوں، شوٹنگ کے سمے کیمرا کہاں رکھنا ہے، شاٹ کیسے لینا ہے، اس کے بارے میں بھی وہ ہدایات دیتے ہیں۔” فتے لال جی نے یہ سب باتیں مجھے سنائی تھیں۔</p>
<p>ایک دن جب ہم سب لوگ فرصت میں اکٹھے ہو گئے تھے، تب یہ غلط فہمی دور کرنے کے لیے میں نے اسی موضوع کو اٹھایا۔ میں نے کہا، “دیکھیے، خود آگے ہو کر میں اپنی مشہوری کبھی نہیں کیا کرتا۔ اخبار میں دیے جانے والے اشتہاروں میں بھی بطور ڈائرکٹر اپنی فوٹو چھاپنے کو میں نے ہی منع کر رکھا ہے۔ تھوڑی بہت انگریزی بول لیتا ہوں، اس لیے ہمارے کاروبار سے جُڑے غیرملکی یا دوسرے صوبوں کے لوگ مجھ سے مل لیتے ہیں۔ کئی بار تو آپ ہی لوگ انہیں میرے پاس بھیجتے رہے ہیں۔ کاروبار کی باتیں یا خط و کتابت آپ میں سے کوئی دیکھتا نہیں، اس لیے مجھے دیکھنا پڑتا ہے۔ اچھا ہو کہ آپ میں سے کوئی اس کام کو اپنے ذمے لے لے۔ پھر فلم بنانے پر اپنا دھیان زیادہ فوکس کرنا میرے لیے ممکن ہو جائے گا۔”</p>
<p>میری ویسے تو بہت ہی سیدھی معلوم ہونے والی لیکن صاف باتیں سن کر سب لوگ چپ بیٹھے رہے، لیکن اس کام کی ذمےداری لینے کے لیے ایک بھی آگے نہیں آیا۔ اس کے بعد میں نے بات چھیڑی شوٹنگ کے سمے فوٹوگرافر کو میری طرف سے جانے والی ہدایات کی۔ میں نے ان سب سے بِنا ہچکچاہٹ کے پوچھا، “کیا آپ میں سےکوئی بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ سیٹ پر کام کرتے، کسی سین کے لیے مجھے ضروری معلوم ہونے والے کون کس طرح کے ہوں، یہ بتاتے سمے میں آپ میں سے کسی کے بھی ساتھ سختی سے پیش آیا ہوں؟ یا آپ کو بےعزت کرنے کے لیے کبھی کچھ بولا ہوں؟” سب کا جواب ‘نہیں’ میں ہی آنا تھا، سو آ گیا۔ تب میں نے انہیں بتایا، “فلم کی شوٹنگ میں سیٹ پر سب سے اہم ڈائرکٹر ہی ہوا کرتا ہے۔ اس کے دماغ میں فلم کے سبھی فارمولے ہوتے ہیں۔ اس لیے اس کی ہدایات کے مطابق شوٹنگ ہو، تبھی فلم اچھی بن پائے گی۔”</p>
<p>اسی بیٹھک میں میں نے آگے چل کر تجویز رکھی کہ اگلی ڈائرکشن ہم میں سے کوئی اور شخص کرے۔ اس کے تحت کام کرنے کے لیے میں نے اپنی مرضی بھی ظاہر کر دی۔ سب کی رائے رہی کہ اگلی فلم کی ڈائرکشن دھایبرجی کریں۔ مجھے یہ فیصلہ بہت اچھا لگا۔</p>
<p>دوسرے دن فتےلال جی نے دھایبرجی کا ایک پیغام سنایا کہ، “میں جب ڈائرکشن کروں، شانتارام بابو سیٹ پر نہ آئیں، ان کی موجودگی میں میں سہما سہما سا محسوس کروں گا۔”</p>
<p>دھایبرجی کے اس پیغام کے کارن مجھے کچھ برا تو لگا، لیکن اپنے آپ کو جیسے تیسے سنبھال کر میں نے کہا، “ٹھیک ہے، میں سیٹ پر نہیں آؤں گا۔ اتنی ہی فرصت مل جائے گی، جب میں کافی کچھ پڑھ لوں گا۔ پھر اگلی فلم کی کہانی اور سکرین پلے بھی تو لکھنا ہے، وہی کر لوں گا۔”</p>
<p>اُن دنوں میں کافی بےچین سا محسوس کرنے لگا تھا۔ سوچتا، آخر دھایبرجی نے مجھے ٹالا کیوں؟ اور دوسرے ساتھیوں نے بھی انہیں کی بات مان لی! کیوں؟ کیا میری صاف گوئی سے ان کے دل کو ٹھیس لگی؟ ہو سکتا ہے کہ میرے سوبھاؤ میں جو ہٹ دھرمی ہے، ایک طرح کا اتاؤلاپن ہے، کچھ تُنک مزاجی ہے، ایک بار کیے گئے فیصلے پر فوراً عمل کرنے کی جو فطرت ہے، پتا نہیں یہ خوبیاں ہیں یا خامیاں۔۔۔ انھیں کے کارن شاید ایسا ہو رہا ہو۔ مجھ سے کچھ ایسی باتیں ہو گئی ہوں، جن کے کارن میرے ساتھیوں کو ٹھیس لگی ہے۔ لیکن میں نے جان بوجھ کر تو ویسا ہرگز نہیں کیا۔ اور مان لو کیا بھی ہو، تو سواے ‘پربھات’ کے لیے اندرونی لگاؤ کے، کوئی کارن ان کے لیے نہیں ہو سکتا۔ کہیں ایسا تو نہیں۔۔۔ من میں خدشہ جاگا۔۔۔ ‘پربھات’ کے قیام کے وقت ہم لوگوں نے جس آپسی حسد اور جلن کو دفنا کر ہی پربھات کی عمارت کھڑی کی تھی، وہی حسد اور جلن اب پھل پھول کا کھاد پانی پاتے ہی اُگ گئی ہے اور وہ پودا سر اٹھانے لگا ہے؟</p>
<p>اس خدشے کو دور کرنے کا ایک ہی حل تھا۔ ان سب لوگوں کو کافی مقبولیت ملنی چاہیئے۔ کیشوراؤ دھایبر ‘راجپوت رمنی’ بنا ہی رہے تھے۔ ان کی طرح داملے، فتےلال جی کو بھی کسی فلم کی ڈائرکشن سونپنی چاہیے۔ انھیں بھی ‘پربھات’ فلم ڈائرکٹرکے روپ میں عزت ملنی چاہیے۔</p>
<p>کچھ ہی دنوں میں ‘راجپوت رمنی’ ریلیز ہو گئی۔ لیکن وہ لوگوں کو راس نہیں آئی۔ دھایبرجی کی اس ناکامی کے کارن داملے اور فتےلال جی خودمختارروپ سے ڈائرکشن کرنے کے لیے تیار نہیں ہو رہے تھے۔ لیکن میں نے ہی زور دے کر کہا، “آپ کس بات سے ڈرتے ہیں؟ آپ کی خواہش ہو تو میں آپ کی مدد کروں گا۔”</p>
<p>میری اس یقین دہانی کے کارن انہیں کافی دھیرج بندھا۔ انھوں نے ڈائرکشن کی ذمےداری قبول کی۔ ہم سب لوگ ایک ایسے موضوع کی تلاش کرنے لگے جو ان دونوں کو پسند آئے اور ان سے سنبھلے بھی۔</p>
<p>کبھی فتےلال جی نے ہی سُجھایا تھا کہ بال گندھرو کی اہم کردار والی دوسری فلم سنت تُکارام کے جیون پر بنائی جائے۔ لہذا میں نے وہی موضوع فلم کے لیے لینے کا سجھاؤ رکھا۔ ان دونوں نے میرا سجھاؤ ایک دم مان لیا۔ داملے جی کے مِتر شری شِورام واشیکر کو ہم نے فوراً ہی کمپنی میں بلا لیا۔ انھیں سنت تُکارام کا سکرین پلے لکھنے کو کہا۔</p>
<p>لگ بھگ اسی سمے میری آئندہ فلم کی کہانی پوری ہونے جا رہی تھی۔ عورت کو خودمختاری ملے، عورت اور مرد کا سماج میں برابری کا مقام ہو، اس وِچار کی زوردار حمایت کرنے والی ایک غیرمعمولی اور مزے کی کہانی اس بار میں نے چُنی تھی۔</p>
<p>وہ ١٩٣٥ء کا زمانہ تھا۔ کئی عورتیں ڈاکٹر، پروفیسر، وکیل جیسے پیشوں میں اہلیت سے شرکت کر رہی تھیں۔ سروجنی نائیڈو، کملا نہرو جیسی عورتیں سیاست میں بھی دھڑلے سے حصہ لے رہی تھیں۔ پھربھی عورت کی لا محدود آزادی (Women’s Lib) کے خیالات ان دنوں سماج کے گلے اترنے والے نہیں تھے۔ ایسی صورت میں عورت کو مرد کی غلامی سے آزاد کرنے کے انتہائی جدید اصول پر مبنی فلم کو کامیاب بنانا بہت ٹیڑھی کھیر تھا۔ اسی لیے میں نے پوری فلم کا پس منظر کسی خاص مقام اور وقت سے جڑے نہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ایسا کرنے میں بھلے ہی کہانی نہایت من گھڑت لگے، لیکن ہو میرعملی مقصد ثابت کرنے والی۔ یہ سوچ کر میں نے سمندری ڈاکوؤں کے دریائی جیون پرہی اس کہانی کی تخلیق کی۔ نتیجتاً منظرووں کی شوٹنگ کرتے وقت میں بھی اپنے کافی نئے خیالات کا استعمال کر سکتا تھا۔ یہ مخصوص پس منظر اصلی معلوم ہو،اس لیے میں نے اس فلم کو صرف ہندی زبان میں ہی بنانا طے کیا۔</p>
<p>موضوع کی جدّت کے کارن فتےلال جی کی تخیلاتی طاقت کے پَر نکل آئے۔ مختلف منظروں کے سکیچیز میں ان کا ٹیلنٹ ایسا روپ لیتا کہ کئی بار میں بھی دنگ رہ جاتا تھا۔ عورت کی خودمختاری کے آدرش سے بھری ہیروئن سودامنی کا جوشیلا کام کرنے کے لیے بہت دنوں بعد پھر دُرگا کھوٹے کو مدعو کیا گیا۔ شانتا آپٹے اور واسنتی کو سودامنی کی اہم داسیوں کے رول دیے گئے۔</p>
<p>اس فلم میں تمام عورت جاتی سے نفرت کرنے والے وزیر کی ایک اثردار شخصیت تھی۔ چندرموہن سے کیے گئے معاہدے کی مدت بھی اب ختم ہونے کو تھی۔ کمپنی سے وداع ہونے سے پہلے ایک اچھا، زبردست کردار دینے کا وعدہ میں نے اسے کر رکھا تھا۔ اسی کے مطابق میں نے عورت سے نفرت کرنے والے لنگڑے وزیر کا کام اسے دیا۔ یہ کام بھی ویسے مشکل ہی تھا۔ بیساکھیاں لے کر میں نے اسے سکھایا کہ اس کام کو کس طرح کرنا چاہیے۔</p>
<p>سین تیار کیے جانے لگے۔ اداکاراؤں کے کپڑے وغیرہ سیے جانے لگے۔ دُرگا کھوٹے، شانتا آپٹے اور واسنتی کے لیے فتے لال جی نے پشاوری شلوار اور اوپر تنگ جیکٹ، ایسا مردانہ ٹھاٹ باٹ کا لیکن کافی مدہوش کرنے والا لباس بنوانے کے لیے کہا تھا۔</p>
<p>ایک دن شانتا آپٹے کی میک اپ میں مدد کرنے والی عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی، “شانتا بائی نے نئے کپڑے پہن لیے ہیں اور دیکھنے کے لیے آپ کو بلایا ہے۔‘‘ میں شانتا بائی کے کمرے میں گیا۔ وہ میری طرف پیٹھ کیے کھڑی تھی۔ میری آہٹ سنائی پڑتے ہی وہ پلٹی اور منہ پُھلا کر بولی، “دیکھیے نا، آپ کےدرزی نے یہ جیکٹ کیسی سی رکھی ہے!” اتنا کہہ کر اس نے اپنے ہاتھوں میں کس کر تھامے جیکٹ کے دونوں کنارے کھلے چھوڑ دیے، واقعی میں جیکٹ کی سلائی میں بہت ہی گڑبڑ ہو گئی تھی۔ سامنے کے دونوں حصوں میں کافی فاصلہ رہ جاتا تھا۔ اس میں سے اس کے دونوں پستان صاف کھلے نظر آتے تھے۔ لیکن شانتا بائی میری طرف مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔ اس کی ڈھٹائی سے میں حیران رہ گیا اور بولا، “آپ کی جو مددگار ہے، اُس کے ہاتھوں اس جیکٹ کو واپس سلائی ڈپارٹمنٹ میں بھجوا دیجیے اور درزی کو کہلوا بھیجیے کہ آپ کا ناپ ٹھیک سے لے اور اس کے مطابق جیکٹ کو پھر سی کر لائے۔” اور زیادہ کچھ کہے بنا ہی میں اس کمرے سے فورا باہر نکل آیا۔</p>
<p>دوسرے دن شانتا آپٹے میرے کمرے میں آئی اور چٹکی لیتے شوخی سے پوچھنے لگی، “آپ کل اتنے گھبرا کیوں گئے تھے؟”</p>
<p>کل ہوے اس واقعے کے کارن میں ابھی غصے میں ہی تھا، اس لیے میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اپنی آپ بیتی کا رونا رونے لگی۔ اس کا بڑا بھائی اس کا سرپرست، رکھوالا، استاد، سب کچھ تھا۔ بالکل ہی معمولی بہانے پر وہ بات بات میں اسے بینتوں سے پیٹتا تھا۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ کہتے کہتے اس نے ایک دم سہج انداز سے اپنی ساڑی اوپر اٹھائی اور اپنی کھلی جانگھ پرپڑے بینت کے کالے نیلے نشان مجھ کو دکھانے لگی۔</p>
<p>اتنی ملائم جگہ پر انگلی کی موٹائی کے مار کے نشان دیکھ کر میں بھی متاثر ہو گیا اور اس سے پوچھا، “آپ یہ سب برداشت کیوں کر لیتی ہیں؟”</p>
<p>مختلف نظر سے مجھے دیکھتے ہوے اس نے کہا، “کسی ممتا بھرے مرد کا سہارا مل گیا، تو میں گھر چھوڑ دوں گی!”</p>
<p>اس پر کیا کہوں، سمجھ میں نہیں آیا۔ یوں ہی کچھ گول مول سا جواب دیا، “اجی، نہیں نہیں! آپ کا بھائی آپ کی بھلائی کی خاطر ہی شاید دوڑدھوپ کرتا ہو گا۔ اس کے من میں کسی طرح کی دُوری نہیں ہو گی، یہ بھی تو ممکن ہے۔۔۔” اور کسی کام کے بہانے میں اسے آفس میں ہی چھوڑ کر باہر کھسک گیا۔</p>
<p>اس واقعے کے بعد میں شانتا آپٹے کے ساتھ ایک فاصلہ رکھ کر ہی پیش آتا۔ کام کے علاوہ الگ کہیں پر بھی اس سے ملاقات نہ ہو، اس کی احتیاط برتتا گیا۔ پھر بھی ‘میک اپ والے نے اچھا میک اپ نہیں کیا’ جیسے کئی بہانے بنا کر وہ مجھے اپنے کمرے میں بلاتی رہی۔</p>
<p>اسی طرح ایک دن اس کے بلا بھیجنے پر اس کے کمرے میں گیا تو یہ مہامایا صرف ایک کچھا پہنے ہی میرے سامنے کھڑی ہو گئی۔ پاس ہی پڑا گاؤن اس کی کایا پر پھینک کر میں نے اسے اچھی خاصی ڈانٹ پلائی، “شانتابائی، آئندہ آپ نے پھر کبھی ایسی حرکت کی تو ‘پربھات’ کے ساتھ آپ نےجو معاہدہ کیا ہے اس کی ذرا بھی پروا نہ کرتے ہوئے میں آپ کو ہماری کسی فلم میں کوئی کام نہیں دوں گا۔”</p>
<p>میری ‘امرجیوتی’ فلم کی رچنا پوری ہو چکی تھی۔ اسی سمے شِورام واشیکر ‘سنت تُکارام’ کا سکرین پلے بھی پورا لکھ کر لے آئے۔ میں نے اس کہانی کو سنا۔ انھوں نے سنت فلموں کی عام دھارا کی طرح اس میں چمتکاروں پر کافی زور دیا تھا۔ بات یہ تھی کہ اس طرح کی چمتکاروں سے بھری سنت فلموں سے عوام اب اوب چکی تھی۔ میں نے واشیکرجی سے کہا کہ اس سکرین پلے کو وہ ایک اور رخ دیں اور تکارام کے جیون پر مبنی نئے سرے سے ایک ایسی کہانی لکھنے کی کوشش کریں جس میں تُکارام ایک آدمی کے روپ میں زیادہ ابھر کر سامنے آ سکیں۔ تکارام کی رحم دل شخصیت، ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری انسانیت وغیرہ خوبیوں کو اہمیت کے ساتھ ظاہر کرنے والی خاندانی محبت اور ممتابھرے منظروں کو لے کر ایک دل چھونے والی کہانی تُکارام کے جیون پر لکھنے کا میرا وچار بہت پہلے سے تھا۔</p>
<p>لہٰذا میں نے تُکارام کا کردار اور ان کے ابھنگوں (قدیم مراٹھی ادب میں گیتوں کی ایک صنف) کی داستان خرید لی۔ دن میں ‘امر جیوتی’ کی شوٹنگ کر لوٹنے کے بعد رات میں دو ایک بجے تک جاگ کر میں نے تُکارام کا جیون اوران کے ادبی ذخیرے کا مطالعہ کیا۔ واشیکرجی کو پھر بلا کر ان کے ساتھ اس پر کافی بحث کی۔ آہستہ آہستہ سیدھی سادی لیکن پراثرکہانی معلوم ہونے لگی۔</p>
<p>اس کے بعد سب سے اہم سوال آ کھڑا ہوا کہ تُکارام اور ان کی پتنی جِجاؤ کے کام کے لیے لائق شخص کہاں سے ڈھونڈے جائیں۔</p>
<p>کبھی ناٹک کہانیوں میں زنانہ کردار کرنے والے وِشنو پنت پاگنیس اب بمبئی میں کسی کیرتن منڈلی کے ساتھ بھجن گایا کرتے تھے۔ کسی سے سُن رکھا تھا کہ وہ بھجن بہت ہی رسیلے ڈھنگ سے گاتے ہیں۔ میں نے وِشنوپنت کو پُونا بلا لیا۔</p>
<p>یہ آدمی بھجن گاتے سمے اتنا مگن ہو جاتا تھا کہ سننے والوں کے احساسات بھی بھکتی رس میں شرابور ہو جاتے تھے۔ مجھے لگا، تُکارام کا کام کرنے کے لیے وِشنو پنت پاگنیس ہی سب سے اہل شخص ہیں۔ داملےجی اور فتےلال کی رائے اس کے الٹ تھی۔ انھوں نے وِشنو پنت کے ناٹکوں میں کیے گئے زنانہ کردار دیکھے تھے اور ان کا خیال تھا کہ تُکارام کا مردانہ کرداران سے کرا لینا بہت مشکل کام ہو گا۔ چونکہ داملےجی اور فتےلال اس فلم کے ڈائریکٹر تھے، ان کی رائے کو مان کر ہم نے چند اور آدمیوں کو بھی پرکھا۔ لیکن ان میں سے ایک بھی میری نظر میں اہل ثابت نہیں ہوا۔ آخر میں وِشنو پنت پاگنیس کو ہی تُکارام کا کام دینے کی درخواست میں نے کی۔</p>
<p>تُکارام کی پتنی ٹھیٹھ دیہاتی تھی، اس لیے ہمارے آرٹسٹ ڈیپارٹمنٹ میں مستقل نوکری کرنے والی اَن پڑھ تانی بائی کو اس کردار کے لیے ہم نے چنا۔ اوپر سے بہت ہی منھ پھٹ اورجھگڑالو، لیکن اندرسے بےحد ممتا بھری رنگیلی دیہاتی عورت کے کردار کے لیے وہ عام شکل و صورت والی دیہاتی عورت مجھے پوری طرح اہل معلوم ہوئی۔</p>
<p>اس فلم کا میوزک ڈائرکٹ کرنے کی ذمےداری کیشوراؤ بھولے کو سونپی گئی۔ اس فلم میں ایک سین کے معقول بولوں والے کسی ابھنگ کی مجھے تلاش تھی: تُکارام ایک کھیت میں رکھوالے کا کام کر رہا ہے۔ فصل کی رکھوالی کرتے سمے وہ ایک ابھنگ گاتا ہے۔ لیکن تُکارام کے بارے لکھی کہانی میں ہمیں اس ارادے کو پیش کرنے والا ایک بھی ابھنگ نہیں ملا۔ لہذا ہار کر میں نے ‘امرت منتھن’ کے سمے ہماری کمپنی میں آئے شاعر شانتارام آٹھولے سے اس سین کے لیے معقول ابھنگ کی تخلیق کرنے کو کہا۔ ان کے لکھے ابھنگ کے بول تھے:</p>
<p>آدھی بیج ایکلے۔<br>
بیج انکرلے روپ واڑھلے<br>
ایکا بیجاپوٹی ترو کوٹی کوٹی۔<br>
پری انتی برہم ایکلے۔۔۔<br>
(معنی: آغاز میں بیج اکیلا ہی ہوتا ہے۔ اس کے پودے پھوٹتے ہیں، پودے بڑھتے ہیں، لمبے لمبے درخت کی شکل لیتے ہیں، لیکن بیج ہوتا تو ایک ہی ہے۔ اسی طرح مخلوقات عالم کو جاری و ساری کر مختلف روپ اختیار کرنے کے بعد بھی وہ پرماتما ایک ہی ہوتا ہے۔)</p>
<p>میں نے ابھنگ پڑھا اور فوراً کہہ دیا، “یہ گیت ایک دم مقبول ہو گا!”</p>
<p>وِشنو پنت پاگنیس نے اس کو آواز دی۔ ان کی طرف سے اس ابھنگ کو دی گئی دھن بڑی رسیلی تھی۔ میں نے سنتے ہی اسے قبول کر لیا۔ کیشوراؤ بھولے سے نہ بنوانے کے کارن وہ بہت زیادہ ناراض تو نہیں ہوئے، لیکن اس میں شبہ نہیں کہ بات انoیں بُری ضرور لگی۔</p>
<p>آگے چل کر ایسے ہی ایک سین پر آخری ابھنگ کی دھنیں کیشوراؤ بھولے اور وِشنوپنت پاگنیس دونوں نے الگ الگ دیں۔ داملے فتےلال طے نہیں کر پا رہے تھے کہ دونوں میں سے کس کی دھن زیادہ اچھی ہے۔ آخر انہوں نے فیصلہ مجھ پر چھوڑا۔ میں نے دونوں دھنیں دھیان سے سن لیں۔ بھولے کی بنائی گئی دھن ویسے تھی تو اچھی، لیکن پاگنیس جی کی بنائی گئی دھن یقیناً ہی زیادہ اچھی تھی، مدھر بھی تھی۔ پھر بھی اپنے میوزک ڈائرکٹرکا وقار بنائے رکھنے کے خیال سے میں نے اپنی رائے کے خلاف فیصلہ دیا، “کیشوراؤ کی دھن اچھی ہے۔”</p>
<p>‘تُکارام’ کی بنیادی تیاری پوری ہو گئی۔ داملےجی اور فتےلال جی ‘تُکارام’ کی مکمل ریہرسل کرانی شروع کی۔ اور اس بیچ کچھ دھیما پڑا اپنی ‘امر جیوتی’ فلم کا کام میں نے تیزی سے شروع کر دیا۔</p>
<p>‘امر جیوتی’ کی ہیروئن سودامنی عورت کی آزادی کے لیے اپنی کوششوں کے عروج پر ہے۔ نہ صرف عورت کو مرد کی غلامی سے آزاد کرنے، بلکہ مرد کو عورت کی غلامی میں باندھنے کا آدرش سامنے رکھ کر وہ اس کی تکمیل کے لیے ایڑی چوٹی کا پسینہ بہاتی رہتی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سودامنی اپنے تمام زنانہ احساسات کو مار کر ایک طرح کی مصنوعی دنیا میں گھومتی رہتی ہے۔ یہ سین کچھ تو غیرفطری اور کچھ نفسیاتی تھے۔ ان کی شوٹنگ کرتے سمے میں نے کئی شاٹس ایک دم غیرمعمولی طریقہ کار سے لیے۔ خصوصا کیمرے کے متنوع کونوں اور اس کی رفتار کا استعمال میں نے نفسیاتی ڈھنگ سے کیا۔</p>
<p>فلم کے دوران کسی کردار کا کوئی مکالمہ سہج نہ ہوتا تو کیمرا گھڑی کے ‘پینڈولم’ جیسا ٹیڑھا ہو جاتا۔ نتیجتاً پردے پر وہ شخص اپنے پاگل پن کا عکاس بن کر ناظرین کو ترچھا دکھائی دیتا تھا۔ جیسے جیسے اس کے وِچار سلجھتے جاتے، پردے پر وہ شخص پھر سیدھا اور نارمل نظر آتا۔ آج اس طرح کے شاٹ لینے کے سسٹم کو ‘پینڈولم شاٹ’ یا ‘لنگر سین’ سسٹم کہا جاتا ہے۔ اس سسٹم کا کامیاب استعمال میں نے سن ١٩٣٦ء میں کیا تھا۔ اس زمانے کے جانکار ناظرین نے اس سسٹم میں موجود ارادے کو دل سے سراہا تھا۔</p>
<p><iframe src="https://www.youtube.com/embed/6-X5O40wgxE" width="560" height="315" frameborder="0" allowfullscreen="allowfullscreen"></iframe></p>
<p>فلم کے آخری سین میں مایوس سودامنی ایک جہاز پر سوار ہو کر ساگر میں کہیں دور جاتی دکھائی دیتی ہے۔ وہ جہاز کی پتوار سے ٹک کر کھڑی ہے۔ آنکھوں میں زمانے بھر کی ناامیدی ہے۔ سامنے ساگر کی لہریں ہلکورے لے رہی ہیں، چٹان پر جا کر ٹوٹ رہی ہیں، بکھر رہی ہیں۔ انھیں دیکھ کر سودامنی کہتی ہے، “لہریں کتنی تیزی سے آ رہی ہیں۔۔۔۔ جا رہی ہیں۔۔۔ آ رہی ہیں۔۔۔ جا رہی ہیں۔۔ کیا یہی میری زندگی ہے؟”</p>
<p>اس کے پاس ہی ایک کونے میں بیٹھا اس کا فلسفی ساتھی شیکھر سودامنی سے کہتا ہے، “نہیں سودامنی، لہر آئی، پتھروں سے ٹکرائی، اترائی اور لوٹ گئی، یہ درست ہے۔ لیکن اس کے برابر آنے اور ٹکرانے سے پتھر ذراذرا گھستا ہوا ختم ہوئے بنا نہیں رہے گا۔”</p>
<p>“لیکن، یہ کام تو نہ جانے کتنے برسوں میں پورا ہو گا! پھر آدمی کو اپنے مقصد کی کامیابی پر کیسے اطمینان ہو گا؟ اس کی بےاطمینانی کیسے دور ہو گی؟”</p>
<p>“اس کی بےاطمینانی کا اطمینان اس کی لگاتار کوشش میں ہے۔ اجالے کو قائم رکھنے کے لیے دیے سے دیا جلایا جاتا ہے۔ اسی طرح تم نے اپنا کام نندنی کو سونپ دیا ہے۔ اسی میں تمہارے جیون کی کامیابی ہے۔۔”</p>
<p>دامنی کے چہرے پر اطمینان کا احساس چمکنے لگتا ہے۔ کیمرا دھیرے دھیرے دور جاتا ہے۔ دامنی کے جسم سے ایک ننھی سی روشنی نکلتی ہے۔ وہ دوسرے دیپک کو جلاتی ہے اوربجھ جاتی ہے۔ اسی طرح ایک روشنی سے دوسری روشن جلانے کی ایک لڑی ہی شروع ہو جاتی ہے، اس سین کے پس منظر میں ایک معمولی دھن میں گیت سنائی دیتا رہتا ہے:</p>
<p>کارج کی جیوتی سدا ہی جرے<br>
اک جن جائے، دوجا آئے، پھر بھی جیوتی جرے<br>
جیوتن کی اس لگاتارمیں<br>
کرتا ہی وِہرے۔۔۔<br>
(کاموں کی جیوتی سدا جلتی ہی ریتی ہے/ کاموں کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔<br>
ایک جاتا ہے دوسرا آجاتا ہے۔ دنیا کے کام دھندھے کبھی نہیں رکتے، کرنے والے بدلتے رہتے ہیں۔)</p>
<p>دیپک کی اس علامت کو دکھا کر ہی ‘امر جیوتی’ فلم شروع ہوتی ہے : پہلے ایک قدیم ڈھنگ کا دیپک کیمرے کی نظر میں آتا ہے، وہ دوسرے دیے کو روشن کرتا ہے۔ اس طرح ایک کے بعد ایک دیگر دیپ روشن ہوتے جاتے ہیں۔ ان کی روشنی سے ہی فلم کا نام ‘امر جیوتی’ پردے پر دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>‘امر جیوتی’ کی ایڈیٹنگ کا کام تیزی سے چل رہا تھا کہ ایک دن داملےجی اور فتےلال جی ایڈیٹنگ روم میں آئے۔ وہ کافی پریشان دکھائی دے رہے تھے۔ انھوں نے کہا، “پاگنیس اور تانی بائی سے ہم کافی دنوں سے ریہرسل کرا رہے ہیں، لیکن ہمیں نہیں لگتا کہ ان دونوں سے اپنے اپنے کردار بن پائیں گے۔ اچھا ہو کہ آپ ایڈیٹنگ کا یہ کام کچھ دن کے لیے ملتوی رکھیں اور ریہرسل ڈپارٹمنٹ میں آ کر ایک بار دیکھ تو لیں۔ آپ چاہیں تو خود ریہرسل لے سکتے ہیں۔ اس کے بعد ہی طے کریں کہ ان دونوں کو یہ اہم کردار دینے ہیں یا نہیں۔”</p>
<p>میں نے ‘امرجیوتی’ کی ایڈیٹنگ کا کام فوراً روک دیا اور پہلے ریہرسل ڈپارٹمنٹ میں گیا۔ وِشنوپنت اور تانی بائی دونوں سے ریہرسل کرانا میں نے شروع کیا۔ داملےجی اور فتےلال جی کی بات صحیح تھی۔ ان دونوں سے کام برابر بن ہی نہیں پا رہا تھا۔ میں نے دونوں کو اداکاری کر کے دکھائی۔ وہ دونوں میرے بتائے مطابق اداکاری کرنے کی کوشش کرنے لگے۔</p>
<p>ایک دن ریہرسل سے پہلے وِشنو پنت پاگنیس میرے کمرے میں آئے اور بڑی منتیں کرتے ہوئے کہنے لگے، “انّا، یہ کام مجھ سے کبھی نہیں ہو گا۔ آپ تکارام کے رول کے لیے کوئی اور آدمی کھوجیں۔”</p>
<p>پاگنیس ہار گئے تھے، لیکن میں نہیں ہارا تھا۔ ان کا حوصلہ بڑھانے اور پھر خوداعتمادی جگانے کے لیے میں نے جھوٹ کہہ دیا، “کل میں نے آپ کا کام دیکھا اور مجھے یقین ہو گیا کہ آپ اس کام کو ضرور ہی اچھی طرح کر لیں گے۔ آپ صرف ایک کام کریں، تُکارام کی چال ڈھال کی، چلنے پھرنے کی، اٹھنے بیٹھنے اور بولنے چالنے کی حرکت میں کر کے دکھاؤں، ہوبہو نقل کرنے کی کوشش کریں۔”</p>
<p>میرے کہنے کے کارن ان میں ضرور ہی کہیں اعتماد جاگا ہو گا۔ دوسرے ہی دن سے وہ من لگا کر کام کرنے لگے۔</p>
<p>پہلے دن تو ان سے کام کچھ ٹھیک سے بن نہیں پا رہا تھا۔ لیکن ان کا جوش بڑھانے کے لیے میں ہر روز کہتا، ’’آج آپ کا کام کل سے زیادہ اچھا بن پڑا ہے۔‘‘ انہیں اس طرح میں برابر ترغیب دیتا گیا۔</p>
<p>ایک ہفتہ بیت گیا۔ پھر ایک بار ناامید ہو کر پاگنیس نے کہا، “نہیں جی انّا، آپ جیسا کام مجھ سے نہیں بن سکتا!”</p>
<p>سچ کہا جائے تو میں بھی کچھ کچھ ناامید ہو چلا تھا۔ لیکن پاگنیس کی بہت ہی مدھر آواز، رسیلی گائیکی سٹائل اور اٹوٹ گائیکی میں جھلکنے والی شیرینی ان کے فریق کو مضبوط کیے ہوئے تھی۔ میں نے پھر کمر کسی اور انہیں حقیقت میں اپنے آپ کو دھیرج دلاتے ہوئے کہا، “آپ تو بیکار ہی نا امید ہوئے جا رہے ہیں۔ آپ کے کام میں ہر روز برابر ترقی دکھائی دے رہی ہے۔ چلیے آج میں آپ کو پھر اداکاری کر کے دکھاتا ہوں۔ باریکی سے دھیان دیجیے۔ اس پر غور کیجیے۔ رات میں ویسا ہی کر کے دیکھیے۔ میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں، کل آپ اس سین کو ایک دم مکمل ڈھنگ سے کرنے والے ہیں!”</p>
<p>دوسرا دن آیا۔ کل کر کے دکھائے گئے سین کی ریہرسل کرنے کا سمے آ گیا۔ پاگنیس اس سین میں ایک دم سو فیصد نہ سہی، لیکن اپنا کام کافی سدھے ڈھنگ سے کر رہے تھے۔ میں نے انہیں دلی شاباشی دی۔</p>
<p>شروع شروع میں تکارام کی پتنی کا کام کرتے سمے بوکھلا جانے والی تانی بائی کو بھی اداکاری سکھانے میں میں نے کافی محنت کی۔ مشق سے انھیں بھی اپنا کام اتنے سدھے ہوئے ڈھنگ سے کرنا آ گیا کہ ان کی جاندار ایکٹنگ سے کئی بار داملےجی اور فتےلال جی بھی دھنگ رہ گئے۔</p>
<p>تُکارام کی شوٹنگ شروع کرنے کے ایک دن پہلے پاگنیس میرے پاس آئے اور پوچھنے لگے، انّا، کل آپ شوٹنگ کے سمے موجود تو رہیں گے نا؟“میں نے کہا، “اجی وِشنوپنت، اب تو آپ کی اداکاری ایک دم سیدھی سی ہونے لگی ہے۔ پھر بھی آپ سے کس طرح کام کرا لینا چاہیے، داملےجی اور فتح لال جی کو اچھی طرح معلوم ہو گیا ہے۔ اب شوٹنگ کے سمے آپ کو قطعی دقت آنے والی نہیں۔‘‘</p>
<p>“وہ تو سب ٹھیک ہی ہے، لیکن کم سے کم میرے کام کے سین کے سمے تو آپ ضرور ہی موجود رہا کیجیے گا۔ میرا کام اتنا ہی اچھا بن پڑے گا۔” یہ سوچ کر کہ داملےجی اور فتےلال جی کو میرا موجود رہنا ممکنہ طور پر پسند نہیں آئے گا، میں نے اس ذمےداری کو ٹالنا چاہا، لیکن پاگنیس جی کی درخواست کے سامنے میری ایک نہ چلی۔</p>
<p>ایک بار تو پاگنیس نے مجھے اچھی خاصی مصیبت میں ڈال دیا۔ ایک اہم سین کی شوٹنگ جاری تھی۔ کام کرتے سمے پاگنیس اچھی طرح کھو گئے تھے۔ میں نے ان سے کہا، “واہ، وِشنوپنت، بہت ہی کمال کر دیا آپ نے!”</p>
<p>اس پر وہ سہج انداز سے کہہ گئے، “انّا، آخر اس ناچیز کی ہستی ہی کیا ہے، آپ کے بنا؟ آپ نے سکھایا ویسا ہی میں نے کر دکھایا۔ آپ میرے گرو ہیں!” یہ کہہ کر پاگنیس نے میری حالت اور بھی مشکل بنا دی۔ بھگوان جانے اسے سن کر داملےجی اور فتےلال جی نے کیا کیا نہیں سوچا ہو گا! میں سیٹ پر پھر لمحہ بھر بھی نہیں ٹھہرا۔</p>
<p>‘امر جیوتی’ فلم بمبئی میں ریلیز ہوئی۔ شروع میں دیپ کی روشنی سے بننے والی فلم کے کریڈٹ نام والے کارڈ دیکھ کر ناظرین اتنے جذباتی ہو جاتے تھے کہ ‘ڈائرکشن وی شانتا رام’ کا رڈ دکھائی دیتے ہی تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے سینما ہال گونج اٹھتا۔</p>
<p>اس فلم میں ماسٹر کرشن راؤ کا دیا گیا سنگیت بہت ہی مقبول ہو گیا۔ خاص کر شانتا آپٹے کے گائے گئے ‘سنو سنو اے ون کے پرانی’ (سنو اے بن کے باسی) گیت کے اسی ہزار فونوگراف ہاتھوں ہاتھ بک گئے۔ اس گیت نے گراموفون ریکارڈ کی بِکری کا ریکارڈ قائم کیا۔</p>
<p>چندرموہن کو کچھ برس قبل دیے گئے قول کے مطابق، اس فلم میں اس کی لنگڑے وِلن کے کردار کے کارن وہ پھر مقبولیت کی چوٹی پر پہنچ گیا۔ فلم ناقدین نے دُرگا کھوٹے کی بہت ہی سلجھی ہوئی ایکٹنگ کی بھی تعریف کی۔ ‘امرجیوتی’ دیکھنےکے بعد ناظرین اتنے جذباتی ہوجاتےتھےکہ میں تھیٹرمیں ہوتا تو مجھے ڈھونڈ لیتے اور مجھے دلی مبارکباد دیتے۔ ساتھ ہی سبھی پوچھتے، “آپ کی اگلی فلم کون سی ہے؟”</p>
<p>ان سبھی انتہائی پُرجوش شائقین کو میں ایک ہی جواب دیتا، “اجی، ابھی ابھی تو اس فلم کی ذمےداری کا بوجھا ڈھو کر آپ کے سامنے رکھا ہے۔ اب ذرا کھلی ہوا میں سانس تو لینے دیجیے۔ اس کے بعد اگلی فلم کے بارے میں اپنی خواہشات کا بوجھ آپ خوشی سے میرے سر پر ڈالیے گا!”</p>
<p>‘امر جیوتی’ کا ڈنکا سارے دیس میں بجنے لگا۔ ادھر پُونا میں تُکارام’ فلم کے ایک نہایت مدھر اور ممتابھرے فیملی سین کی شوٹنگ چالو تھی:</p>
<p>سورج ماتھے پر آ چکا ہے۔ تُکارام کی پتنی ان کے لیے دوپہر کا کھانا سر پر لیے پہاڑی چڑھ کر اس برگد کے پیڑ کے نیچے آ بیٹھتی ہے جہاں تُکارام بھگوان کا دھیان لگا کر بیٹھا ہوتا ہے۔ تُکارام کچھ حیرت کے انداز سے پوچھتا ہے:</p>
<p>“تمہیں کیسے پتا چلا کہ میں یہاں بیٹھا ہوں؟”</p>
<p>بھولی بھالی جِجاؤ شرما کر جواب دیتی ہے، “مردوں کو بھلا یہ باتیں کاہے کو سمجھ میں آویں؟ اس کے لیے تو انھیں بھی ہم جیسی عورت ہی بننا پڑے ہے!”</p>
<p>اس کے بعد وہ بڑے پیار سے تُکارام کو جوار کی روٹی کا سوکھا کھانا پروس کر کھانے کی درخواست کرتی ہے۔ اس کا پیار دیکھ کر تُکارام گدگدا جاتا ہے اور کہتا ہے، “اسے کہتے ہیں نا سچا پیار! یہی ہے سچی بھکتی! اس بھکتی کے زور پر جیسے تم نے مجھے کھوج کر پا لیا، اسی طرح میں بھی اپنے پانڈورنگ (وِشنو کا ایک اوتار) کو کھوج کر پا سکوں گا!”</p>
<p>جِجاؤ پانڈورنگ کا نام سن کر جھنجھلا اٹھتی ہے اور ایک روٹی پروستی ہے۔ تُکارام روٹی کا پہلا ٹکڑا توڑتا ہے اور جِجاؤ کو بھی اپنے ساتھ کھانے کی کافی درخواست کرتا ہے۔ وہ شرما کر ‘نا نا’ کہتی رہتی ہے۔ تُکارام روٹی کا نوالہ جِجاؤ کے منھ کے پاس لے جاتا ہے۔ جِجاؤ لجّا کے مارے گڑی جاتی ہے اور بہت ہی حیا کے انداز سے اس غیرآباد بَن میں آس پاس یہ دیکھ لیتی ہے کہ کہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا، اور بعد میں فوراً ہی تُکارام کے ہاتھ کا وہ نوالہ اپنے منھ میں ڈال لیتی ہے۔</p>
<p>تُکارام کے ہاتھ سے نوالہ کھاتے کھاتے وہ کسی انوکھے جذبے کی دنیا میں کھو جاتی ہے۔ اسی کیفیت میں اپنے سے ہی بڑبڑاتی ہے، “بہت میٹھا، بہت میٹھا لاگے ہے!”</p>
<p>اس کا وہ پیار دیکھ تکارام اپنے آپ کو خوش قسمت مانتا ہوا کہتا ہے، “واقعی یہ میرا اچھا نصیب ہے کہ تم نے مجھے ایسی پتنی دی، ہے پانڈورنگا!”</p>
<p>“پانڈیا نے دی؟ اجی وہ خوب دے گا! میرے باپو نے دی ہے تم کو۔ پانڈیا لاکھ کہے گا مجھے اپنی بیٹی۔ نام نہ لیجا اس موے کلموہے کا میرے سامنے۔۔ ” جِجاؤ ایک دم غصہ ہو کر بولنے لگتی ہے۔</p>
<p>تُکارام پوچھتا ہے، “جِجاؤ، کیا سچ مچ تم میرے وِٹّھل کی بھکتی نہیں کرتی ہو؟”</p>
<p>“دھت، وِٹھل ہوئے گا تمرا دیوتا۔ ہوئے گا تمرے واسطے بہت بڑا، پر میرا دیوتا تو تمرے وِٹھل سے بھی بڑا ہے گا۔”</p>
<p>“اچھا؟ نام کیا ہے تمھارے دیوتا کا؟”</p>
<p>“میرے دیوتا کا نام؟ (شرما کر غصے کی اداکاری کرتے ہوئے) اب روٹی کھاؤ بھی چپ چاپ۔ (تُکارام کو پیار سے دیکھتی ہے) میرا دیوتا اِہاں بیٹھو ہے گا میرے سامنے، روٹی کھا رہو ہے۔ تمرا دیوتا کھاتا ہے روٹی تمرے سنگ؟” تُکارام لاجواب ہو کر جِجاؤ کو دیکھتا رہتا ہے۔</p>
<p>’تکارام’ فلم کے بارے میں فتےلال جی کے گھرایک بار بحث چل رہی تھی اور میں اس سین میں پورا رنگ گیا تھا۔ اوپر لکھے لفظ بولتا جا رہا تھا اور واشیکر بیٹھے اسے لکھتے جا رہے تھے۔</p>
<p>شوٹنگ کے سمے اس جذباتی سین کا شاٹ داملے فتےلال سے ویسا نہیں بن پا رہا تھا جیسا کہ بننا چاہیے تھا۔ اس سین کے لیے ضروری مدھرتا اور سہج، سچے، اور نرمل پیار کی اداکاری وِشنو پنت اور گوری (تانی بائی کا فلمی نام) سے امید کے مطابق نہیں ہو پا رہی تھی۔ کافی کوشش کرنے کے باوجود یہ حال تھا۔ آخر داملے فتے لال کی خواہش کے مطابق میں نے اس شاٹ کی شوٹنگ کی۔ فلم کا یہی بنیادی نقطہ ثابت ہو گیا۔</p>
<p>‘تُکارام’ فلم کے ڈائرکٹر تھے تو داملے فتےلال، لیکن مجھ پر تو یہی دھن سوار ہو گئی تھی کہ یہ فلم میری اپنی ہے۔ اس لیے اس کے چھوٹے سے چھوٹے سین پر بھی میں باریکی سے دھیان دیتا تھا۔ اسی وچار سے ایک سے ایک نئے نئے خیالات سوجھتے تھے۔ ان سبھی خیالات کو میں کھلے طور پر داملےجی اور فتے لال کے سامنے پیش کرتا تھا۔ یہ سب میں گہرے تعلق کے جذبے سے ہی کر رہا تھا۔<br>
اس فلم کا ایک سین:</p>
<p>چھترپتی شواجی مہاراج وِٹّھل مندر میں تُکارام کے گائے جا رہے ابھنگوں کو سننے میں مگن ہو گئے ہیں۔ تبھی شِواجی کو پکڑنے کے لیے مسلمان سپاہی مندر پر دھاوا بول دیتے ہیں۔ لیکن مندرمیں بیٹھا ہر شخص انھیں شِواجی معلوم ہوتا ہے۔ اس احساس کے کارن سپاہی تذبذب میں پڑ جاتے ہیں اور ‘توبہ توبہ’ کہتے ہوئے گھبرا کر لوٹ جاتے ہیں۔ نام سنکیرتن کے رنگ میں رنگے شِواجی کا تحفظ اپنے وِٹھو رائے نے ہی کیا ہے، ایسا مان کر تُکارام کی خوشی کا ٹھکانا نہیں رہتا۔ اسی لطف میں وہ گانے ناچنے لگتا ہے:<br>
“وانو کتی رے سدیا، وٹھورایا، دن وتسلا۔۔۔” (بھجن)</p>
<p>تُکارام کی یہ میٹھی خوشی موجود سارے لوگوں پر چھا جاتی ہے۔ دیوالئے (مندر) اسی خوشی میں شرابور ہو جاتا ہے، باغ باغ ہو اٹھتا ہے۔ اسی آنند کی انتہا ہوتی ہے۔ سچدانند، یونی پرماتما، وہ پرماتما (پرماتما کے نام ) وہ سانولا سلونا وِٹھورایا بھی اس لطف میں مجسم ظاہر ہو کر تُکارام کی گائیکی کی لَے اور تال پر ڈولنے لگتا ہے، ناچنے لگتا ہے۔ اس سرخوشی کے منظر کا یہ شاٹ اس سین کا کلائمکس تھا۔ لیکن سب لوگوں کے ساتھ وِٹھوبا بھی خوشی سے چُور ہوکر ناچے، یہ خیال داملے فتےلال کو پسند نہیں تھا۔ لیکن میں نے اس سین کو اسی ڈھنگ سے فلمانے کی ضد کر لی۔ میں نے ایسا بھی کہہ دیا کہ ناظرین کو پسند نہ آیا تو اس شاٹ کو ہم لوگ بعد میں فلم سے نکال دیں گے۔ میں اپنی ضد پر اڑا رہا اور اپنے بیٹے پربھات کمار کو، جو وِٹھوبا کی مورتی کے جیسا ہی بونا، سانولا اور بڑی بڑی آنکھوں والا تھا، وِٹھوبا کا لباس پہنا کر اس سین کو فلما ہی لیا کہ وِٹھوبا کی پتھر مورتی زندہ ہو اٹھی ہے اور تُکارام کے گانے کے ساتھ ناچنے لگی ہے۔</p>
<p>تکارام کی شوٹنگ مکمل ہونے آئی تھی۔ اب ایک دم آخری سین کی شوٹنگ کی تیاریاں ہو رہی تھیں جس میں تُکارام بینکٹھ (آسمان) چلے جاتے ہیں۔ اس سمے کسی ضروری کام سے میں ممبئی گیا تھا۔ اچانک پُونا سے فون آیا۔ فون پرملی خبر سے میرا کلیجہ دھک سے رہ گیا۔ سٹوڈیو میں بنایا گیا جہاز، اسے اوپر کی طرف کھینچنے والے رسے ٹوٹ جانے کے کارن وِشنو پنت پاگنیس اور دوسرے کلاکاروں اور ٹیکنیشنوں کے ساتھ نیچے گر پڑا تھا۔ بمبئی کا کام ادھورا چھوڑ کر میں پہلی گاڑی سے پُونا لوٹ گیا۔ وِشنو پنت کو کوئی خاص چوٹ ووٹ نہیں آئی ہے، یہ بات مجھے اسٹیشن پر ہی معلوم ہو گئی۔ میں نے راحت کی سانس لی۔ جلدی جلدی میں سیدھا سٹوڈیو جا پہنچا۔</p>
<p>وِشنوپنت سٹوڈیو کے ایک کمرے میں آرام کر رہے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی اٹھے اور میرے گلے لگ کر جذباتی ہو کر بولے، “انّا، میں بال بال بچ گیا! آپ یہاں ہوتے تو جہاز ہرگز نہ گرتا! میں داملےجی اور فتے لال جی سے کہہ ہی رہا تھا کہ انّا کے بمبئی سے لوٹ آنے کے بعد ہم لوگ اس سین کو لیں لیکن انھوں نے میری بات مانی نہیں!”</p>
<p>وِشنو پنت بہت ہی گھبرائے ہوئے تھے۔ میں نے انھیں حوصلہ دیا، “دیکھیے، وِشنو پنت، آخر یہ تو ایک حادثہ ہے۔ کسی کے یہاں رہنے یا نہ رہنے سے وہ ہوا، ایسی بات نہیں ہے۔ آپ بالکل گھبرائیے نہیں۔ ڈبل رسا باندھنے کا انتظام کرتے ہیں۔ تب تو بنے گی نا بات؟”</p>
<p>کچھ دنوں بعد، سب کچھ منظم کر لیا گیا اور پھر اسی سین کو پوری احتیاط سے فلما لیا گیا۔ ‘تکارام’ کی ایڈیٹنگ پوری ہوئی۔ پرنٹ تیار ہو گئے۔ شہر کے ‘پربھات’ تھئیٹر میں ہم لوگوں نے رات کے بارہ بجے ‘تُکارام’ دیکھا۔ پہلے ٹرائل کے بعد میں نے کچھ منظروں کو تھوڑا آگے پیچھے کیا۔ کچھ منظروں کو کاٹا چھانٹا۔ اس سمے ہی بابوراؤ پینڈھارکر ‘تکارام’ دیکھنے کے لیے ہی پُونا آئے تھے۔ وہ فیملی کے ساتھ کچھ دن کے لیے لوناولا گئے۔ مجھے بھی انہوں نے کچھ دن آرام کے لیے لوناؤلا آنے کا دعوت نامہ دیا تھا۔</p>
<p>‘تُکارام’ کا سارا کام ختم ہونے کے بعد بابوراؤ پینڈھارکر کی اس دعوت کو قبول کر میں لوناؤلا گیا۔</p>
<p>یہ توقدرتی ہی تھا کہ حال ہی میں پوری کی گئی ‘تُکارام’ فلم کے بارے میں وہاں بات چیت چھڑ جاتی۔ ٹرائل ریلیز کے بعد ‘تُکارام’ کے بارے میں کیشوراؤ دھایبر نے بابوراؤ پینڈھارکر کے پاس جو وِچار ظاہر کیے تھے، بابوراؤ نے مجھے بتا دیے:</p>
<p>“جھانجھ منجیرا کوٹتے رہنے والے سنتوں کی فلموں کے دن کبھی کے لد چکے ہیں۔ ایسی حالت میں داملے جی، فتےلال جی کو شانتارام باپو نے ناحق سنت فلم بنانے کے جھمیلے میں ڈال دیا! لیکن یہ شانتارام جی نے جان بوجھ کر کیا ہے۔ اس وجہ سے کہ داملےجی فتےلال جی کو انہیں نیچے گرانا تھا! اس لیے کہ وہ دنیا کو دکھانا چاہتے تھے کہ داملے فتےلال جی کو کچھ بھی آتا واتا نہیں! وہ اپنی خدائی قائم کرنا چاہتے ہیں، اس لیے! ہمیشہ وہ ہی بادشاہ بنے رہیں، اس لیے! آپ دیکھتے جائیے، یہ فلم ایک دم بری طرح فیل ہونے جا رہی ہے!”</p>
<p>ویسے تو مجھے کچھ کچھ بھنک مل چکی تھی کہ ‘راجپوت رمنی’ کی ناکامی کے بعد میرے بارے میں یہ افواہ جان بوجھ کر پھیلائی جا رہی ہے۔ لیکن میرے پیچھے اس طرح کے الزام لگائے جانے سے میں جل بھن گیا۔ اپنے بارے میں اس طرح کے اوچھے وچار سن کر میرا تو خون کھولنے لگا۔ میں نے آپے سے باہر ہو کر کہا:</p>
<p>“بابوراؤ، تب تو آپ ضرور دیکھیں گے اورسبھی دیکھیں گے، فلم چلے گی، لوگ اسے پسند کریں گے، اس میں مجھے شبہ نہیں۔ مجھے پورا یقین بھی ہے! اور اگر یہ فلم نہ چلی توآپ یقین جانیے، میں ڈائرکشن کرنا ہمیشہ کے لیے چھوڑ دوں گا!”</p>
<p>اس پر بابوراؤ پینڈھارکر بھونچکے سے میرا منھ تاکتے ہی رہ گئے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-16/">شانتا راما — باب 16: ڈائریکشن داو پر (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-16/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>شانتا راما — باب 15: امرت منتھن (ترجمہ: فروا شفقت)</title>
		<link>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-15/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-15/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فروا شفقت]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 12 Aug 2020 18:43:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[farwa shafqat]]></category>
		<category><![CDATA[shantarama]]></category>
		<category><![CDATA[آج]]></category>
		<category><![CDATA[امرت منتھن]]></category>
		<category><![CDATA[شانتا راما]]></category>
		<category><![CDATA[فروا شفقت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25645</guid>

					<description><![CDATA[<p>بھارت کی پہلی کارٹون فلم بنانے کا کریڈٹ ‘پربھات’ کو ملا تو، لیکن اس کا استقبال اتنا ٹھنڈا رہا کہ ہمارے سارے جوش پر پانی پھر گیا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-15/">شانتا راما — باب 15: امرت منتھن (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>رات کے ڈھائی بجے ہوں گے۔ دور اُفق پر بمبئی بندرگاہ کی بتیاں ٹمٹماتی نظر آنے لگی تھیں۔ میں انہیں بڑی امیدبھری نظر سے دیکھ رہا تھا۔من میں آیا کہ جہاز کو ایک زور کا دھکا ماروں تاکہ وہ فوراً کنارے لگ جائے۔ جہاز سویرے ساگرکنارے پر لگنے والا تھا، لیکن میں اتنا بےصبر ہو گیا تھا کہ رات بارہ بجے ہی اٹھا اور نہا دھو کر اکیلا ہی ڈیک پر چہل قدمی کرنے لگا تھا، کسی پاگل کی طرح۔</p>
<p>سویرے جہاز کنارے پر لگنے لگا۔ جرمنی جاتے سمے مجھے اکیلا چھوڑ گئے لوگ اب پھر پاس آتے دکھائی دیے۔ سب سے پہلے وِمل دکھائی دی، جو کمار اور سروج کو ساتھ لیے بھیڑ میں مجھے کھوجتی نظر آئی۔ ایک الجھا سا خیال من کو چھو کر گیا کہ شاید وِنائک اور بابوراؤ پینڈھارکر کم سے کم میرا استقبال کرنے کے لیے تو بندرگاہ پر آئے ہوں گے، اس لیے میں انہیں بھی بھیڑ میں کھوجنے لگا۔ میری امید بےسود رہی۔</p>
<p>تبھی بابوراؤ پینڈھارکر وغیرہ لوگ جہاز پر آتے دکھائی دیے۔ اُن کے ساتھ وِمل بھی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی وہ دوڑ کر آئی اور آس پاس کے لوگوں کا ذرا بھی لحاظ یا لجا کیے بنا ہی سیدھے آ کر مجھ سے کس کر لپٹ گئی۔ میں حیران رہ گیا۔</p>
<p>ایک پبلک مقام پر سدھ بدھ کھو کر اس کا میرا اس طرح سواگت کیا جانا مجھے من ہی من اچھا لگا۔ میں نے بھی اسے سینے سے لگا لیا۔ کچھ لمحوں بعد وہ خود مجھ سے دور ہو گئی۔ میں نے اس کی طرف دیکھا۔ شرم کے مارے اب وہ گڑی جا رہی تھی۔ ہمارے جیون میں سب لوگوں کے سامنے اس طرح گلے لگنے کا یہ اکلوتا منظر تھا!</p>
<p>بعد میں، رات کی تنہائی میں، میں نے اسے میٹھی شکایت کرتے ہوئے کہا، “تم تو ایسے لگ رہی تھیں کہ میں نہیں، تم ہی پردیس جا کر آئی ہو!”</p>
<p>“وہ کیسے؟”</p>
<p>“جہاز کے ڈیک پر کسی اینگلو لڑکی کی طرح مجھ سے کس کر لپٹ جو گئی تھیں!”</p>
<p>“پتا ہے؟ آپ جرمنی میں تھے، تب یہاں سب لوگ مجھے چِڑھا رہے تھے کہ لوٹتے سمے آپ ایک گوری میڈم ساتھ لانے والے ہو! آپ کو جہاز پر دیکھا، آپ کے ساتھ کوئی بھی تو نہیں آیا تھا اور پھر کیا ہوا مجھےخود ہی ہوش نہیں رہا۔”</p>
<p>”چھوڑو! پگلی کہیں کی!” محض کچھ کہنا ہے اس لیے کہہ تو گیا، لیکن من کہنے لگا: ”جینی میرے ساتھ بھارت آتی تو؟”</p>
<p>وطن پر پاؤں رکھتے ہی ایک بری خبر ملی۔ ہماری ‘سیرندھری’ رنگین فلم ناظرین کو قطعی نہیں بھائی تھی۔ اس کی رنگین کاپی پہلی بار جرمنی میں دیکھی تھی، تبھی فلم کی کامیابی کے لیے میرے من میں شبہ جاگا تھا، جو اب میری سوچ سے بھی کہیں زیادہ صحیح ثابت ہوا۔ اتنی ساری محنت، پریشانیاں، سب بےسود ہو گئے تھے!</p>
<p>بابوراؤ پینڈھارکر اور وِنائک نے کولہاپور دربار کی قائم کردہ ‘راجا رام مووی ٹون’ نامی نئی کمپنی میں زیادہ تنخواہ پر نوکری قبول کر لی تھی۔ یہ جان کر کہ انہوں نے صرف زیادہ تنخواہ پانے کے لیے ‘پربھات’ تیاگ دیا تھا، مجھے اور بھی برا لگا۔ اتنی تنخواہ تو انہیں ‘پربھات’ میں بھی مل سکتی تھی اور سب کی محنت سے ‘پربھات’ کو حاصل وقار کا بھی فائدہ انہیں ملتا، وہ الگ۔ اسی حوالے سے بابوراؤ پینڈھارکر نے مجھے بمبئی کے ایک اخبار میں چھپی خبر دکھائی۔ اس کی سرخی تھی: ‘پربھات کے بنیادی ستون ڈھے گئے! پربھات گر گئی۔’ اس خبر کو پڑھتے ہی میں نے یقین سے کہا، “پربھات کے سچے ستون ہیں سب کی محنت، مسلسل عمل اور ایمانداری۔ جب تک یہ سلامت ہیں، ‘پربھات’ سبھی کٹھنائیوں کو پار کرتی ہوئی کندن سی تپ کر نکھرےگی!”</p>
<p>میں پُونا آ گیا۔ ماں، باپو، میرے تینوں چھوٹے بھائی اور ان کے علاوہ کچھ عام کلاکار اور ٹیکنیشن کولہاپور چھوڑ کر پُونا رہنے کے لیے آ گئے تھے۔</p>
<p>پُونا پہنچتے ہی پہلے میں اپنے گھر گیا۔ باپو کافی تھک چکے تھے۔ ان دنوں سارے پُونا شہر میں جاڑے کے بخار کی وبا سی پھیلی ہوئی تھی۔ باپو بھی اس کی لپیٹ میں آ گئے تھے۔ انہیں جوش دلانے اور جلدی صحت مندی کی امید جگانے کے لیے میں نے کہا، “باپو، آئندہ سات آٹھ مہینوں میں آپ کے لیے اپنا مکان بن کر تیار ہونے جا رہا ہے، آپ جلدی اچھے ہو جائیے۔”</p>
<p>پردیس سے میرے سلامت لوٹ آنے سے ہی ان کی آدھی بیماری ٹھیک ہو گئی تھی۔ میرے منھ سے گھر کے بارے میں یہ باتیں سن کر اس حالت میں بھی ان کا حوصلہ اور بڑھا۔ لیکن پھر بھی کچھ ناامید سے ہو کر باپو نے کہا، “ارے، تب تک میں زندہ رہوں تب نا!”</p>
<p>میں نے فوراً کہا، “باپو، آپ نہ صرف اس بنگلے کے بننے تک، بلکہ اس کے بعد بھی کئی سال تک زندہ رہنے والے ہیں اور ایک دم صحت مند!” یہ سن کر باپو نے میرے سر پر ممتا سے ہاتھ رکھ کر آشیرواد دیا۔ میری بات جیسے پیشین گوئی ثابت ہوئی۔ ماں اور باپو اس بنگلے میں تیس برس سے بھی زیادہ سمے تک سکون سے رہے۔</p>
<p>میں فوراً نیا سٹوڈیو دیکھنے کے لیے کمپنی کےمقام پر گیا۔ سٹوڈیو کی تعمیر پوری ہو چکی تھی۔ فلم میکنگ کے مختلف کاموں کے لیے الگ کمرے بنائے گئے تھے، ان میں اس ڈپارٹمنٹ کی ضروریات کو دھیان میں رکھ کر مختلف قسم کی سہولتوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ سبھی تعمیری کاموں میں داملےجی کی ہنرمند دیکھ ریکھ اور سوجھ بوجھ جگہ جگہ جھلک رہی تھی۔ میں داملےجی کے اس کام سے اتنا جذباتی ہو گیا کہ میں یہ بھول ہی گیا کہ وہ بزرگ ہیں اور میں نے ان کی پیٹھ تھپتھپا کر شاباشی دے دی۔</p>
<p>کمپنی کے کئی ماہرین کولہاپور چھوڑ کر پُونا نہیں آئے تھے۔ نتیجتاً ہم نے ان کے کاموں کی ذمےداری اب ہم پانچوں ساجھےداروں کے ان رشتےداروں کو سونپنے کا فیصلہ کیا جو آج تک کمپنی میں ہرفن مولا بن کر جو بھی کام نظر آتا، کرتے چلے آ رہے تھے۔</p>
<p>آہستہ آہستہ میں نے اپنے ساتھیوں کو جرمنی میں ہوئی ساری باتیں بتا دیں۔ میری غیرموجودگی میں ہوئے واقعات کے کارن میرے ساتھی ہمت کھوتے جا رہے تھے۔ ان کی ہمت پست ہو چلی تھی، لیکن میرے پختہ ارادے سے انہیں کافی دھیرج بندھ گئی۔ نئی فلم کی کہانی اور خیال میں نے سب کے سامنے رکھا۔ قرون وسطیٰ کے راج کے پس منظر میں اس فلم کے کہانی بنانے کا ہم نے فیصلہ کیا۔ فلم کا نام جرمنی میں ہی میں نے طے کر رکھا تھا: ‘امرت منتھن’۔ اس کے راج گرو کی آنکھوں کا بڑا کلوزاَپ لینے کے لیے لایا گیا ٹیلی فوٹو لینز میں نے سب کو دکھایا۔</p>
<p>فتےلال جی کی فنکارانہ پنسل بجلی کی رفتار سے پوشاک اور منظروں کی لکیریں کھینچنے لگی۔ ‘امرت منتھن’ ہم نے ہندی اور مراٹھی دونوں زبانوں میں بنانا طے کیا۔ بنیادی کہانی لکھنے کے لیے میرے عزیز ناول نگار ہری نارائن آپٹے کو میں نے پُونا بلا لیا۔ ان کے ساتھ کہانی پر بحث شروع کی۔ اس بحث سے ‘امرت منتھن‘ کا سکرپٹ اچھی طرح شکل لینے لگا۔</p>
<p>قرون وسطیٰ کا راجہ اور اس کی بیٹی دونوں کافی ترقی پسند خیالات کے ہوتے ہیں۔اس کے برعکس ان کا راج گرو دھرم اور قدامت کا کٹر اور سخت حامی ہوتا ہے۔ دھرم اور قدامت شکنی کرنے والے کو بےرحمی کے ساتھ اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے وداع کر دیتا ہے۔ نہ صرف راج خاندان کے سب لوگوں کو، بلکہ دیگر بھولے بھالے لوگوں کو بھی اپنی آنکھوں کی دھاک میں رکھتا ہے۔ ایک طرف راجہ اور اس کی لڑکی کے نئے وِچار اور دوسری طرف دقیانوسی راج گرو کی قدامت پرستی، ان کی کشمکش پر ‘امرت منتھن’ کی کہانی تیار ہوئی۔ اس فلم کے ہندی مکالمے اور گیت لکھنے کے لیے اتّر ہندوستان کے ایک لیکھک محمد پوری ‘ویر’ کو بلا لیا۔</p>
<p>اب ہمیں مراٹھی اور ہندی دونوں فلموں میں راج گرو کی اداکاری کر سکنے والے اچھے اداکار کی تلاش تھی۔ اس کے علاوہ ایک نئے میوزک ڈائرکٹر کی بھی ضرورت تھی۔ اتفاق کی بات ہے کہ یہ سب لوگ مجھے اچانک مل گئے۔ مہاراشٹر میں ‘ناٹیہ منونتر’ نامی ایک نیا ناٹک ادارہ بنا تھا۔ اس نے’آندھلیانچی شالا’ ( نابینا سکول) ناٹک سٹیج کیا تھا۔ میں اسے دیکھنے گیا تھا۔ اس ناٹک میں میں نے اسٹیج کے مشہور اداکار کیشوراؤ داتے کی اداکاری پہلی بار دیکھی۔ میں اس سے بہت ہی متاثر ہو گیا۔ اس کے علاوہ اس ناٹک کے گیت اور بیک گراؤنڈ میوزک بھی مجھے مدھر اور نئے ڈھنگ کے لگے۔ اس کے میوزک ڈائرکٹر تھے کیشوراؤ بھولے۔ دوسرے دن میں نے ان دونوں کو ‘پربھات’ میں بلا لیا اور ان کے ساتھ معاہدہ بھی کر لیا۔ اسی سمے دلّی سے چندر موہن ووٹل نامی ایک نوجوان میرے سامنےآ کر کھڑا ہو گیا۔ کچھ سال پہلے اس سے ایک بار ملاقات ہوئی تھی۔ دلّی کی کسی فلم ڈسٹری بیوٹنگ کمپنی کی طرف سے وہ کولہاپور میں کسی کام سے آیا تھا۔ اس کمپنی میں وہ ایک معمولی کلرک تھا۔ اس کی آنکھیں بہت متجسس اور آواز بہت ہی کسی ہوئی اور رعب دار تھی۔</p>
<figure id="attachment_25650" aria-describedby="caption-attachment-25650" style="width: 600px" class="wp-caption aligncenter"><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/chandar0mohan-laaltain.jpg"><img decoding="async" class="size-full wp-image-25650" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/chandar0mohan-laaltain.jpg" alt width="600" height="400" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/chandar0mohan-laaltain.jpg 600w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/chandar0mohan-laaltain-300x200.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/chandar0mohan-laaltain-360x240.jpg 360w" sizes="(max-width: 600px) 100vw, 600px"></a><figcaption id="caption-attachment-25650" class="wp-caption-text">چندر موہن نے اپنی فلمی کیریئر کا آغاز امرت منتھن میں ولن کے کردار سے کیا</figcaption></figure>
<p>دونوں باتوں کا مجھ پر کافی اچھا اثر پڑا تھا۔ میں نے اسے اسی سمے کہا تھا، “اس کلرکی میں کہاں پڑے ہو، اس میں رکّھا ہی کیا ہے؟ ایک مکمل اداکار کے لیے ضروری سبھی باتیں تم میں ہیں۔ تم ہمارے ساتھ آ جاؤ۔ یقین دلاتا ہوں، ایک اچھے اداکار کا نام کماؤ گے!”</p>
<p>اُس وقت اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ لیکن آج وہی چندرموہن میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا تھا۔ اسے براہ راست سامنے کھڑا پا کر مجھے تو ایسا لگا جیسے میری فلم کا ‘راج گرو’ ہی سامنے آ گیا ہے۔ ہم نے اس کے ساتھ کچھ سالوں کے لیے معاہدہ کر لیا۔ میں نے ‘امرت منتھن’ کے مراٹھی ورژن میں کیشوراؤ داتے اور ہندی میں چندرموہن کو راج گرو کا کردار دینے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>اس فلم کےوِلن راج گرو کو بہت ہی نرالی ادا میں پیش کرنا تھا۔ آج تک کی سبھی فلموں کے ولن کے لیے غصہ، کراہت کے جذبات ہی ناظرین کے من میں جاگتے تھے۔ لیکن میں نے طے کیا کہ کہانی کو میں اس طرح موڑ دوں گا کہ ‘امرت منتھن’ کے اس راج گرو کے لیے ناظرین آخر میں ایک احترام کا جذبہ لے کر جا ئیں گے، اگرچہ وہ ایک ولن ہے۔ لیکن یہ کہنا آسان تھا، کرنا بہت کٹھن۔ اسے کس طرح کیا جائے، کچھ سوجھ نہیں رہا تھا۔ نارائن راؤ آپٹے کے ساتھ میں نے اس پر کافی بحث کی۔ آخر میں مجھے ایک خیال سوجھا۔ لیکن میں نے کسی کو نہیں بتایا، اپنے تک ہی اسے محدود رکھا۔ ایسا کرنے کے بھی کچھ کارن تھے۔</p>
<p>اس نئی کہانی کا کام چالو تھا، تب ہم نے اپنے نئے سٹوڈیو کے لیے آڈیو ریکارڈنگ کی جدید مشینری اور کیمرا خرید لیا۔ آج تک ہم کیمیائی عمل پرانےطریقۂ کار کے مطابق کیا کرتے تھے۔ اس کی جگہ پر ہاتھ لگائے بنا ہی سارا عمل کرنے والے اور بجلی سے چلنے والے آلات ہم نے پُونا میں ہی بنوا لیے۔ صرف نیگیٹو پرنٹ بنانے والا جدید پرنٹر ہم نے غیرملکی درآمد کیا۔</p>
<figure id="attachment_25649" aria-describedby="caption-attachment-25649" style="width: 600px" class="wp-caption aligncenter"><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/amrit-manthan-laaltain.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-full wp-image-25649" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/amrit-manthan-laaltain.jpg" alt width="600" height="400" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/amrit-manthan-laaltain.jpg 600w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/amrit-manthan-laaltain-300x200.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/amrit-manthan-laaltain-360x240.jpg 360w" sizes="(max-width: 600px) 100vw, 600px"></a><figcaption id="caption-attachment-25649" class="wp-caption-text">امرت منتھن کا ایک پوسٹر</figcaption></figure>
<p>فطری طور اس وجہ سے فلم میکنگ کا کام شروع ہونے میں کچھ دیری ہو جاتی، لہٰذا ‘پربھات’ میں اس سمے آخر کیا چل رہا ہے اور ہماری نئی فلم ‘امرت منتھن’ کتنی محنت سے بنائی جا رہی ہے، اس کی جھلک لوگوں کو دکھانے کے لیے ایک شارٹ فلم بنانے کا خیال میرے من میں آیا۔ شارٹ فلم بھی ایسی بنانی تھی جسے دیکھ کر ناظرین کی دلچسپی برابر بڑھتی ہی رہے۔ ایسی شارٹ فلم ہم نے بنائی اور اسےگاؤں گاؤں میں پیش کیا۔</p>
<p>لوگ اب ہماری ‘امرت منتھن’ کا بڑی بےتابی سے انتظار کرنے لگے۔</p>
<p>‘امرت منتھن’ کا سکرین پلے اور مکالمے تیار ہوتے ہی میں نے سبھی کلاکاروں سے مکمل ریہرسل کرانی شروع کی۔ یہ ریہرسل ہر روز ہونے لگی۔ فلم کے گیتوں کی دھنیں بننے لگیں۔ ان دھنوں کے مطابق ‘ویر’ نے ہندی گیت لکھ دیے۔ مراٹھی فلم رائٹنگ کے لیے نارائن راؤ آپٹے کی سفارش پر ایک نوجوان شاعر شانتارام آٹھولے پربھات میں شامل ہو گیا۔</p>
<p>میوزک ڈائرکٹر کیشوراؤ بھولے کے پاس ہندی اور مراٹھی کے چنندہ گیتوں کے گراموفون ریکارڈز کی اچھی کولیکشن تھی۔ عام طور پر وہ انہیں ریکارڈز سے کہانی کے سین کے مطابق دھنیں تیار کر لیتے اور پھر ان دھنوں کے مطابق بول لکھواتے تھے۔ کبھی میں انہیں کسی گیت کو ایک آدھ نئی دھن دینے کے لیے کہتا تو وہ مجھے دوسرا گراموفون ریکارڈ سنواتے اور دھن پسند کرنے کے لیے کہتے۔ میوزک ڈائرکشن کا یہ سسٹم مجھے خاص پسند نہیں تھا۔ لیکن میرا ہمیشہ کا ایک دستور تھا کہ ایک بار کسی کو ساتھ لے لیا تو اس کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی کر اس کی قابلیت کے مطابق اس سے زیادہ سے زیادہ اچھا کام کروا لینا۔ اسی لیے میں نے انہیں وقت وقت پر حوصلہ دیا اور کہانی کا جاندار سنگیت بنوا لیا۔ لیکن کہنا پڑےگا کہ فلم کے گیتوں اور آرکسٹرا کی مناسب ایڈجسمنٹ کے فن کی مکمل اپچ کیشو راؤ کے اپنے بنیادی ٹیلنٹ کا کمال تھا۔ اس کے علاوہ سین کے مطابق اس کے جذبات کو نقطۂ عروج تک لے جانے کے لیے کس انسڑومنٹ یا ساز کا استعمال کہاں کتنا کرنا چاہیے، اس کا فیصلہ کرنے والے وہ ایک ماہر میوزک ڈائرکٹر تھے۔</p>
<p>ایک دن بابوراؤ پینڈھارکر پُونا آئے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ کسی سمے میرے زیر کام کرنے والےگجانن جاگیردار نے ’امرت منتھن’ کی تھیم پر ‘سنہاسن’ نامی ایک فلم جھٹ پٹ بنا لی اور اسے ریلیز بھی کر ڈالا ہے۔ اس خبر سے میں ذرا بھی سٹپٹایا نہیں، کیونکہ یہ کہانی میں کس ڈھنگ اور طریقے سے فلمانے جا رہا ہوں، اس کا راز سوا میرے کوئی نہیں جانتا تھا۔ کہانی کا آخر تو میں نے ایک راز کے روپ میں صرف اپنے ہی پاس سنجو رکھا تھا: راج گرو کی بدسلوکی سے تنگ لوگ اسے جان سے مار ڈالنے کے لیے مندر کی طرف آتے ہیں۔ ان کی قیادت کرتا ہے راج گرو کا ذاتی بھروسہ مند، لیکن اصل میں راجہ کے لیے وفادار، سردار وشواس۔ خنجر تان کر اسے اپنی طرف آتے دیکھ کر لمحہ بھر کو تو راج گرو چونک جاتا ہے، لیکن اسے ڈرا دھمکا کر پوچھتا ہے، “کون؟ وشواس، تم؟” سب کو قابو میں اور اپنی دھاک میں رکھتی آئی راج گرو کی وہ نظر وشواس کو سونگھتی نِہارتی ہے۔ پردے پر اس کی آنکھوں کی پُتلیوں میں وشواس کا عکس صاف ابھر آتا ہے۔ عکس میں اتنا ہی صاف دکھائی دیتا ہے: وشواس کا من ڈانواڈول ہو گیا ہے، خنجر تانے اس کا ہاتھ کچھ نیچےکی طرف آتا جا رہا ہے۔۔۔ پھر اس کی وفاداری جاگتی ہے۔ پھر خنجر تان کر وہ آگے آتا ہے اور اسے راج گرو کی آنکھوں میں گھونپ دیتا ہے، پوری ملامت کے ساتھ! راج گرو چیخ کر کچھ پیچھے ہٹ جاتا ہے اور اپنے ہاتھوں سے اپنی آنکھیں ڈھک لیتا ہے۔۔۔ راج گرو کی نظر میں ہمیشہ زندہ رہی دھاک ختم ہو جاتی ہے! اس کے بعد راج گرو لڑکھڑاتا ہوا اپنے نجی مندر کی طرف جاتا ہے۔ دروازہ بند کر لیتا ہے اور دیوی کے سامنے کھڑا ہو کر کہتا ہے، “ہے بھگوَتی، آج تک میں نے جو کچھ کیا اس میں میرا اپنا کوئی مفاد نہیں تھا۔ یہ سب کچھ میں نے صرف تمہارے لیے، دھرم کی حفاظت کے لیے ہی کیا تھا۔ پھر بھی میں تمہیں خوش نہیں کر سکا۔ اس لیے اب میں اپنی بَلی چڑھاتا ہوں۔ اس بلیدان سے تم خوش ہوؤ اور دھرم کی حفاظت کرو!”</p>
<p>مندر کے باہر ستائے ہوے لوگ مندر کا دروازہ توڑ کر اندر گھس آتے ہیں۔ سامنے کا منظر دیکھ کر وہ سب بھی خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ راج گرو کا سر کٹا دھڑ بھگوتی کے سامنے پڑا ہے اور اس کے ہاتھ کٹے ہوئے سر کو بھگوتی کے چرنوں پر چڑھا رہے ہیں۔ اس کے بعد وہ بےجان، شانت ہو جاتا ہے۔</p>
<p>مجھے یقین تھا کہ راج گرو اپنی سوچ پر کتنا اٹل، کٹّر تھا، ناظرین کے من پر اس کے اس بلیدان کی وجہ سے یہ انمٹ روپ سے نقش ہو جائے گا۔اس سین کی شوٹنگ میں نے ایک دم آخر میں کی۔ اس کے مراٹھی مکالمے میں نے خود اُس دن سویرے لکّھے اور اس کا ہندی ورژن چندرموہن سے کروا لیا۔</p>
<p>ہمیشہ کی طرح کمپنی میں نئی فلم کے آخری کام تیزی سے چل رہے تھے۔ جانچ کے لیے کمپنی میں ہی ‘امرت منتھن’ کی پہلی ریلیز دیکھی تو مجھے خاص اطمینان نہیں ہوا، لہٰذا اس میں پھر کچھ جوڑتوڑ کر، خرابیوں کو کم کرتے ہوئے فلم کی رفتار کو اور بڑھانے کے لیے میں پھر ایڈیٹنگ کرنے بیٹھ گیا۔ ویسے تو فلم جیسی ہے ویسی ہی ناظرین کو پسند آئے گی، اس کا نرالاپن اثردار ثابت ہو گا اور ‘پربھات’ کا فخر بڑھانے میں مددگار ہو گا، اس میں مجھے شبہ نہیں تھا، لیکن ہمارے سبھی ساتھیوں کو اس کی کامیابی کے بارے میں بھاری شبہ تھا۔</p>
<p>ستھِر فلم ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ پنت دھرم ادھِکاری نے بھی ٹیسٹ ریلیز کے وقت ‘امرت منتھن’ دیکھی تھی۔ وہ اور داملےجی گہرے دوست تھے۔ انہوں نے داملےجی سے صاف لفظوں میں کہہ دیا، “مجھے ‘امرت منتھن’ قطعی پسند نہیں آئی ہے!”</p>
<p>داملےجی نے کہا، “شانتارام بابو اس میں کچھ کانٹ چھانٹ کر رہے ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ فلم زیادہ اثردار ہو گی۔”</p>
<p>“اجی چھوڑیے ان باتوں کو۔ کچھ بھی کریں، گدھے کا گھوڑا تھوڑے ہی بن جائےگا،”</p>
<p>پنت دھرم ادھِکاری نے ذلت آمیز لہجے میں کہا۔</p>
<p>اس دن شام کو داملےجی نے پنت دھرم ادھکاری کی باتیں انہیں کے لفظوں میں مجھے بتا دیں۔ سن کر میں قہقہہ مار کر ہنسا اور داملےجی سے میں نے کہا، “پنت جی کو اندھی عقیدت اور رجعت پسندوں پر حملہ کرنے والی یہ فلم پسند آ ہی نہیں سکتی۔ لیکن ان کے جیسے مذہبی براہمن کو وہ بھائی نہیں، اسی میں فلم کی ترقی پسندیت کی جیت ہے!”</p>
<p>‘امرت منتھن’ بمبئی میں پہلے ہندی میں ریلیز کی گئی۔ ٹکٹ کھڑکی پر ناظرین کی بےحد بھیڑ تھی۔ تینوں شو کے لیے تھئیٹر کے اندر اور باہر بےشمار بھیڑ جمع ہوتی اور پھر بھی ہزاروں لوگ ٹکٹ نہ ملنے کے کارن ناامید ہو کر لوٹ جاتے۔</p>
<p>‘امرت متھن’ کا آخری سین لوگوں کے دلوں کو چھو جاتا تھا۔ میرا اندازہ بالکل صحیح نکلا۔ ایک سیدھے سادھے نئے ڈھنگ کے ولن کی پُراثر تصویر پہلی بار فلم میں ابھر آئی تھی۔ چونکہ چندرموہن کی یہ پہلی ہی فلم تھی، اس کے کام میں کچھ نوسِکھیاپن ضرور معلوم ہوتا تھا، لیکن اس کی متجسس اور کُھبنے والی آنکھیں، آنکھوں کے بڑے بڑے کلوزاَپ اور اس کی وزن دار آواز کی انمٹ چھاپ ناظرین کے من پر نقش ہو گئی۔ چندرموہن ایک ہی رات میں شہرت کی چوٹی پر پہنچ گیا۔ چندرموہن کی طرح شانتا آپٹے بھی اس فلم کے کارن بےحد مقبول ہو گئی۔ اس فلم میں اس کے گانے اور اداکاری دونوں کو ناظرین نے سراہا۔ ‘شیام سندر’ میں اس کی بےجان اداکاری دیکھنے کے بعد لوگوں کو اس سے زیادہ امید نہیں تھی۔ اننت ہری گدرے نے تو اس کے کام کی تعریف کرتے سمے کمال کر دیا۔ اپنے ادبی میگزین ‘نربھیڈ’ میں انہوں نے ‘امرت منتھن’ کا پورے صفحے کا جائزہ لکھا۔ اس پر موٹی سرخی تھی:</p>
<p>“شانتا میں بھی ڈالے رام<br>
واقعی میں ہیں شانتارام۔”</p>
<p>یہ منچلی سرخی مجھے قطعی پسند نہیں آئی۔ آگے چل کر ایک بار اُن سے ملاقات ہو گئی، تو اس سرخی پر میں نےاعتراض بھی اٹھایا۔ لیکن گدرےجی الٹے مجھ سے ہی اسی مدعے کو لے کر جھگڑا کرنے لگے، “آپ بھی خوب ہیں، آخراس سرخی میں غلط یا برا کیا ہے؟ ‘شیام سندر’ میں اس کے کام میں کوئی رام نہیں تھا اور اس فلم میں آپ کی ڈائرکشن کے کارن اس کے کام میں ہمیں وہ رام دکھائی دیا، اور اسی لیے ایک دم خالص جذبے سے ہی ہم نے ویسا لکھا!”</p>
<p>اب اس Correspondent کے سامنے کوئی کیا کہے؟ اپنا سر!</p>
<p>سارے دیس میں ‘امرت منتھن’ نے دھوم مچا دی۔ بمبئی میں تو وہ پورے تیس ہفتے چلی۔ ہر ہفتے کو فلم کے جیون کا ایک سال مان کر پچیسویں ہفتے میں ہمارے ڈسٹری بیوٹر بابوراؤ پینڈھارکر نے ‘امرت منتھن’ کی سلور جوبلی منائی اور زبردست پرچار کیا۔ سلور جوبلی کو پار کر اور کچھ ہفتے چلنے والی وہ پہلی ہندی فلم تھی۔</p>
<p>‘امرت منتھن’ نے پھر ایک بار ‘پربھات’ کا نام چوٹی پر پہنچا دیا۔ کچھ اہم لوگوں کے ‘پربھات’ چھوڑ کر چلے جانے کے کارن پربھات کے مستقبل کے بارے میں خدشے کے شکار لوگوں کو اس فلم نے منھ توڑ جواب دیا۔</p>
<p>اس کے بعد من میں پھر ایک بار اچھی سماجی فلم بنانے کا خیال آنے لگا۔ پہلے بھی کبھی یہ خیال آیا تھا لیکن ادھورا ہی چھوڑ دیا گیا تھا، لیکن اس بار فتےلال جی نے ضد کی کہ خاموش فلموں کے زمانے میں بنائی ‘چندر سینا’ پر ایک بولتی فلم بنائی جائے۔ اس کہانی کے لیے انہوں نے کافی نئے نئے خیالات پر مبنی سین، پوشاکیں، زیور وغیرہ کا ایک کچا چٹھا بنا لیا تھا۔ اہِراون اور مہِراون کی پاتال نگری کو اثرانگیز بنانے کے لیے انہوں نے اپنی پنسل، سنکھ سیپیوں اور موتیوں کی مدد سے ایک نرالی ہی دنیا بنا لی تھی۔ وہ فینٹسی واقعی غیرمعمولی اور دلکش تھی۔ ہم سب لوگ کافی خوشی سے ‘چندر سینا’ فلم بنانے میں لگ گئے۔ میں نے بھی سوچا کہ اس فلم کی قدیم کہانی کو اپنے سماجی وچاروں کے مطابق نیا رنگ دوں۔ خاموش فلم چندرسینا کی طرح بولتی فلم چندر سینا میں بھی موجود پیغام یہی تھا کہ لوگوں کو شراب پینے کے برے نتیجے سے بالواسطہ طریقے سے آگاہ کیا جائے۔ جنوب کے ہمارے ڈسٹری بیوٹرز کی مانگ پر ہم نے بولتی فلم ‘چندرسینا’ کے مراٹھی اور ہندی ورژنوں کےساتھ ہی تمِل ورژن بھی بنانا طےکیا۔ تمل فلم میں کام کرنے کے لیے کلاکاروں کو مدراس سے پربھات میں لایا گیا۔ ان کے ساتھ کچھ ٹیکنیشین بھی اس امید سے آئے کہ انہیں بھی کچھ نئی باتیں سیکھنے کو مل جائیں گی۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے تو ‘پربھات’ میں اپنے قیام کے دوران فلمی فن کی اتنی باتیں سیکھیں کہ انہوں نے مدراس لوٹ کر کافی شہرت کمائی۔ رام ناتھ اور شیکھر جیسے کچھ ٹیکنیشینوں اور کہانی کاروں نے بی ریڈّی کے ساتھ مل کر ‘واہونی فلم کمپنی’، کے لیے ‘سمنگلی’ جیسی فلم بنائی۔ اس فلم کے کارن جنوب کی فلم انڈسڑی کو فنکارانہ طول و عرض اور سمت مل گئی۔</p>
<p>اہراؤن مہراؤن کی پاتال نگری کے محل کا سین سٹوڈیو میں بنایا گیا تھا۔ چندرموہن اہراؤن کا کام کر رہا تھا۔ شوٹنگ شروع ہوئےآٹھ دس دن ہو چکے تھے۔ ایک دن سویرے ہم لوگ اس دن کی شوٹنگ کی تیاری کر رہےتھے۔ سبھی کلاکار ٹھیک سوا نو بجے میک اپ کر سٹوڈیو میں حاضر ہوئے۔ سین کو سمجھا کر بتانے کے لیے میں نے چندرموہن کو آواز دی۔ میرے معاون راجہ نے نے ڈرتے ڈرتے بتانے لگا، “چندرموہن آج ابھی تک کام پر آیا نہیں ہے۔”</p>
<p>میں غصے میں چلّایا، “کیوں نہیں آیا؟”</p>
<p>تبھی ہمارے منیجر آئے اور انہوں نے مجھے رجسٹرڈ ڈاک سے آیا ایک لفافہ تھما دیا۔ وہ چندرموہن کی طرف سے ہمیں دیا گیا نوٹس تھا۔ وہ ہمارے ساتھ کیے گئے معاہدے سے آزاد ہونا چاہتا تھا۔</p>
<p>نوٹس پڑھ کر مجھے بہت ہی غصہ آیا۔ پھر بھی میں نے پاٹھک جی سے کہا، “آپ چندرموہن کے گھر جائیے اور اسے کام پر آنے کو کہیے۔ لیکن اس نے ہمارے منیجر کو یہ کہہ کر لوٹا دیا کہ “میں اب کام پر نہیں آؤں گا۔ مجھے بمبئی کے ایک بڑے پروڈیوسر نے کافی اچھی تنخواہ پر بلوا لیا ہے۔”</p>
<p>پاٹھک جی واپس آئے۔ سر جھکا کر انہوں نے چندرموہن کا پیغام سنایا۔</p>
<p>اب میں آپے سے باہر ہو گیا۔ کمپنی کے ایکٹنگ ڈپارٹمنٹ میں مستقل نوکری کر رہے ایک اداکار کو میں نے فوراً چندرموہن کے کردار کے لیے ضروری میک اپ کر آنے کو کہا۔ کسی کے بنا پربھات کا کوئی کام نہ رک پائے، اس کا تو میں نےعہد کر رکھا تھا۔ لہٰذا میں نے اسی وقت پہلے آٹھ دس دن کی شوٹنگ رد کرنے کا فیصلہ کیا اور وکیل کی معرفت چندرموہن کے نوٹس کا جواب بھجوا دیا: “تم اس طرح پربھات کے ساتھ کیے گئے معاہدے سے آزاد نہیں ہو سکتے۔ قانوناً تمہیں آئندہ فلم کے لیے کی گئی تمہاری آٹھ دس دن کی شوٹنگ کا ہرجانہ دینا پڑے گا، کیونکہ اب وہ ساری شوٹنگ رد کرنی پڑی ہے۔”</p>
<p>چندرموہن ہمارا جوابی نوٹس پڑھ کر کافی ہڑبڑا گیا۔ اس نے فوراً پیغام بھیجا کہ ”معاہدے سے آزاد ہونے کے لیے میں اپنے نزدیک کے رشتےدار سر تیج بہادر سپرو کی مدد لوں گا۔” یہ بیرسٹر سپرو صاحب اُس زمانے کی کافی بڑی ہستی تھے۔</p>
<p>لیکن میں نے چندرموہن کی دھمکی کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ میں تو اس بات پر تُلا ہوا تھا کہ چندرموہن کی طرف سے ڈالی جا رہی اس ضرررساں روایت کو جڑ سے اکھاڑ دوں۔ کسی کلاکار کا اس طرح پیش آنا کمپنی کے لیے کافی خطرناک تھا۔</p>
<p>‘چندرسینا’ تیار ہو گئی۔ ٹرائل ریلیز سب نے دیکھی۔ کاپی میں کافی غلطیاں تھیں۔ فلم کا سنسر اور عام ریلیز نزدیک آ گئی تھی۔ دو تین دن ہی باقی تھے۔ دھایبر اس فلم کے فوٹوگرافر تھے۔ انہوں نے جلدی جلدی نیاپرنٹ بنایا اور بنا ٹیسٹ کیے سنسر اور ریلیز کے لیے بمبئی بھیج دیا۔</p>
<p>بمبئی میں ‘کرشن’ سنیما میں اس وقت ’امرت منتھن’ خوب چل رہی تھی، اس لیے ‘چندرسینا’ کا پردرش مِنروا میں کیا گیا۔ ریلیز کے وقت میں بمبئی نہیں گیا تھا۔ بمبئی سے بابوراؤ پینڈھارکر کا فون آیا کہ ”فلم کے گیت اور مکالمے ٹھیک سے سنائی نہیں دیتے۔ لگاتار ایک طرح کی گھرررر کی آواز سنائی دیتی رہتی ہے۔”</p>
<p>میں فوراً بمبئی گیا اور ‘چندرسینا’ کا پرنٹ اچھی طرح سے جانچا پرکھا۔ فلم کی کاپی پر ساؤنڈ ریکارڈنگ کی لکیریں بہت ہی دھندلی نقش ہوئی تھیں۔ دھایبرجی نے شاید کسی غلط فہمی کےکارن ساؤنڈ پٹی اتنی گہری اور کالی نہیں رکھی تھی جتنی کہ رکھنی چاہیے تھی۔ اسی کارن یہ سب جھمیلا ہو گیا تھا۔ مکالمے اور سنگیت ناظرین تک پہنچ ہی نہیں پا رہے تھے۔ اس کے علاوہ خاموش فلم ’چندر سینا‘ کی یاد ناظرین میں ابھی تازہ تھی، اس لیے کہانی میں انہیں کچھ بھی نیاپن شاید معلوم نہیں ہو رہا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سین اور پوشاک وغیرہ میں کافی فینٹسی ہونے کے باوجود لوگوں کو یہ فلم قطعی پسند نہیں آئی۔ ہم سب کا اندازہ ایک دم غلط ہو گیا۔ ساؤنڈ پٹی کو ٹھیک کر ’چندر سینا‘ کا ایک نیا پرنٹ ہم نے دو تین دن میں ہی بمبئی بھیج تو دیا، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا اور ہماری یہ فلم بری طرح فیل ہو گئی۔</p>
<figure id="attachment_25653" aria-describedby="caption-attachment-25653" style="width: 600px" class="wp-caption aligncenter"><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/chandarsena-laaltain.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-full wp-image-25653" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/chandarsena-laaltain.jpg" alt width="600" height="400" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/chandarsena-laaltain.jpg 600w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/chandarsena-laaltain-300x200.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/chandarsena-laaltain-360x240.jpg 360w" sizes="(max-width: 600px) 100vw, 600px"></a><figcaption id="caption-attachment-25653" class="wp-caption-text">فلم چندرسینا کا پوسٹر</figcaption></figure>
<p>میرے ambitious سوبھاؤ کے کارن ہمیں ایک اور دردناک واقعے کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بھی ایک جرأت آمیز نئے خیال سے بنی کہانی کا المناک نتیجہ تھا۔ برلن سے میں نے کارٹون فلموں کے لیے خاص مشینری خرید کر بھجوائی تھی۔ والٹ ڈِزنی کے ‘مکی ماؤس’ کے ڈھنگ کا ایک کارٹون بنانے کے ارادے سے خریدی گئی وہ مشینری اب ہمارے پاس پہنچ گئی تھی۔ کارٹون فلم کے لیے میں نے ایک تخلیقی ٹیکنیشین کا انتخاب کر طرح طرح کے تجربے کرنے شروع کیے۔ ‘مکی ماؤس’ کی طرح ہی کسی مزیدار جانور کو چن کر اس پر کارٹون بنانے کی سوچی۔ لومڑ بہت چالاک جانور مانا جاتا ہے، اس لیے ہم نے طے کیا کہ ایک فلم بنائی جائے، جس کا نام ہو ‘جمبو کاکا’۔ اس کے لیے ایک مناسب چھوٹی کہانی تیار کی۔ کہانی کی ضرورت کے مطابق کلاکاروں سے جمبو کاکا اور دیگر کرداروں کی ہلچلوں کے کئی سٹِل فوٹو سیلولائڈ پر بنوا لیے۔ شوٹنگ کے لیے لائے گئے خاص کیمرے کے ذریعے ہم نے ان سب تصویروں کو فلما لیا اور نو سو فٹ کی ایک فلم (اینیمیشن) تیار کی۔ اس پر بہت مناسب بیک گراؤنڈ میوزک کو بھی ریکارڈ کر لیا۔ اس فلم کو ٹرائل ریلیز میں پہلی بار دیکھا تو مکی ماؤس کے مقابلے میں وہ بالکل ہی نارمل معلوم ہوا، لیکن ہمارا وہ پہلا تجربہ تھا اور اس لیے تسلی بخش لگا۔</p>
<p>ہم نے اس ‘جمبو کاکا’ کارٹون کو بمبئی اور دوسرے شہروں میں ریلیز کیا۔ لیکن چونکہ مخصوص معزز لوگوں کے علاوہ ایسے کارٹون دیکھنےکی عادت عام ناظرین میں نہیں تھی، مخصوص ناظرین کے تاثرات ہمیں معلوم نہ ہو سکے۔</p>
<p>یہ فلم اگرچہ چھوٹی سی تھی، پر اس کے بنانے پر پیسہ خرچ ہوا تھا، لہٰذا ہم نے اپنی فلم دکھانے والوں سے اس فلم کی ریلیز کے لیے کُل آمدنی کا پانچ فیصد زیادہ دینے کی مانگ کی۔ لیکن ہمارے فلم دکھانے والوں نے ہمیں جوابی ڈاک سے جواب دیا کہ، ’’ناظرین آپ کی بنیادی فلموں کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ اس کارٹون فلم میں انہیں کوئی مزہ نہیں آتا۔ لہٰذا مہربانی کر کے ایسی کارٹون فلم دکھانے کے لیے نہ بھیجیں۔‘‘ ہم نے کارٹون فلموں کا کام کچھ وقت کے لیے ملتوی کر دیا اور کارٹون فلم کے ٹیکنیشنوں کو اس سسٹم کا مزید مطالعہ کر والٹ ڈزنی کی بنائی فلموں جیسے صاف کارٹون بنانے کی کوشش جاری رکھنے کو کہا۔ بھارت کی پہلی کارٹون فلم بنانے کا کریڈٹ ‘پربھات’ کو ملا تو، لیکن اس کا استقبال اتنا ٹھنڈا رہا کہ ہمارے سارے جوش پر پانی پھر گیا۔</p>
<p>لیکن انہیں دنوں ‘امرت منتھن’ نے عوامی ذہن پر ایسا جادوکر رکھا تھا کہ ’چندر سینا’ اور ‘جمبو کاکا’ کی ناکامی پر کسی نے دھیان نہیں دیا۔ یہی نہیں، دَھن کا جو بہاؤ ہمارے پاس چلا آ رہا تھا، اس میں ذرا بھی فرق نہیں آیا۔</p>
<p>ماں باپو کے لیے ایک چھوٹا سا بنگلہ بن کر تیار ہو گیا۔ تعمیر کے بعد وہ دونوں جب اس میں رہنے کے لیے گئے، تب ان کے چہرے خوشی سے کھِل اٹھےتھے۔ ان کی خوشی دیکھ کر میں بھی شادکام تھا اس کے ساتھ ہی پربھات سٹوڈیو کے سامنے والی کھلی جگہ میں ہم پانچوں ساجھےداروں کے بھی پانچ الگ بنگلے بنائے گئے۔کولہاپور چھوڑ کر ہمارے ساتھ پُونا رہنے کے لیے آئے کام کرنے والے کاریگروں کے لیے اسی احاطے میں ایک دومنزلہ مکان بنوایا گیا۔</p>
<p>اس طرح پربھات نگر بسانے کا میرا سپنا پورا ہو چلا تھا۔ میں نے لوہے کی گول گول شکل کی کئی طشتریاں بنوا لیں۔ ہر طشتری پر پربھات کا لوگو نقش کرا لیا۔ اس پر ‘پربھات نگر’ حروف بھی سرخیوں میں لکھوا لیے۔ پیچھے ایک تیر بھی پرنٹ کیا، جس کی نوک پربھات نگر کی طرف جانے والی سمت کا اشارہ کرتی تھی۔ پُونا کے لکڑی پل سے لے کر ہمارے سٹوڈیو تک راستے کے ہر بجلی کے کھمبے پر یہ طشتریاں میں نے فِٹ کروا دیں۔ اس راستے آتے جاتے وقت ان طشتریوں کو دیکھ کر میں ایک بچے کی طرح خوش ہو جاتا تھا۔</p>
<p>ہمارے ‘پربھات’ کی روشنی اب پورے دیش میں پھیل چکی تھی۔ ہمارا جدید سٹوڈیو دیکھنے کے لیے دوردور سے لوگ آنے لگے تھے۔ ملک کے کونے کونے سے آنے والے ان لوگوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی کہ ہمارے کام میں مشکل پیدا ہونےلگی۔ آخر ہم نے اعلان کیا کہ ہمارا سٹوڈیو عوام کے دیکھنے کے لیے ہر بدھوار کو صبح کھلا رہے گا۔</p>
<p>انہیں دنوں اخبار میں پڑھا کہ “سبھی مراٹھی لوگوں کے پیارے گائیک اداکار نارائن راؤ راج ہنس عرف بال گندھرو نے بھاری قرض کے کارن اپنی گندھرو ناٹک منڈلی بند کر دی ہے۔”</p>
<p>کچھ معزز لوگوں نے ہمیں سجھاؤ دیا کہ کیوں نہ ہم بال گندھرو کو اہم کردار دے کر دو ایک فلمیں بنائیں۔ سجھاؤ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ایسی فلم پر ہوئے خرچ کے بھگتان کے بعد بچے منافعے میں ‘پربھات’ اور بال گندھرو کا آدھا آدھا ساجھا ہو۔ سچ پوچھا جائے تو ہمیں اتنے جھنجھٹ میں پڑ کر فلم بنانےکی ضرورت نہیں تھی، لیکن بال گندھرو جیسا ایک مہان کلاکار معاشی کٹھنائیوں میں پھنسا ہو، اس کی مدد کرنا اپنا فرض مان کر ہم نے بال گندھرو کے ساتھ دو فلموں کا معاہدہ کر لیا۔</p>
<p>بال گندھرو ناٹکوں میں عورت کا کردار کرتے رہے تھے۔ لیکن اب تو فلموں میں عورتوں کے کردار عورتیں ہی کرنے لگی تھیں۔ ایسی صورت میں انہیں عورت کردار میں پردے پر دکھانا بڑا عجیب سا لگتا۔ وہ نہ عورت، نہ مرد معلوم ہوتے تھے، لہٰذا انہیں زنانہ کردار دے کر کوئی فلم کامیاب نہیں ہو گی، اسے میں من ہی من اچھی طرح سے جان گیا تھا۔ وہ قرض سے آزاد ہونے کے لیے فلم میں کام کرنا چاہ رہے تھے۔ اس کے لیے فلم کا کاروباری نظر میں کامیاب ہونا نہایت ضروری تھا، دوسری صورت میں وہ مقصد ہی دھرا کا دھرا رہ جاتا۔ میں نے یہ بات نارائن راؤ کو اچھی طرح سے سمجھائی۔</p>
<figure id="attachment_25651" aria-describedby="caption-attachment-25651" style="width: 300px" class="wp-caption alignright"><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/bal-gandharva-laaltain.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-full wp-image-25651" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/bal-gandharva-laaltain.jpg" alt width="300" height="400" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/bal-gandharva-laaltain.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2020/08/bal-gandharva-laaltain-225x300.jpg 225w" sizes="(max-width: 300px) 100vw, 300px"></a><figcaption id="caption-attachment-25651" class="wp-caption-text">بال گندھرو فلموں میں عورتوں کے کردار نبھاتے تھے، شانتا راما نے انہیں ایک اصلاح پسند مذہبی رہنما کے طور پر متعارف کرایا</figcaption></figure>
<p>بال گندھرو کا رنگ روپ، سوبھاؤ، سب کچھ بہت ہی شانت اور ماتحت کام کرنے والوں کے ساتھ سلوک انتہائی محبت بھرا تھا۔ میں کھوجنے لگا ان کے اسی سوبھاؤ کے مطابق اور ‘پربھات’ کی روایت کے مطابق ایک کہانی، جس میں انہیں کردار دیا جا سکے۔ کافی دنوں پہلے میرے من میں چھوت چھات کی روک تھام کے موضوع کو لےکر ایک فلم بنانے کی بات آئی تھی۔ فلم کے ذریعے سے اس مصیبت کی طرف میں سماج کا دھیان مرکوز کرانا چاہتا تھا۔کولہاپور کے راجہ شاہُو مہاراج نے اپنی ریاست میں چھوت چھات پر کافی کام کیا تھا۔ ان کے اس کام کا میرےذہن پر عجیب اثر پڑا تھا۔ اِدھر مہاتما گاندھی بھی سارے ملک میں اسی کام کے لیے عوامی بیداری کی مہم چلا رہے تھے۔</p>
<p>کے نارائن کالے نے اس ضمن میں میرے سامنے ایک مشورہ رکھا کہ ’’جات پات پر نہیں کوئی، ہری کو بھجے سو ہری کا کوئی(ذات پات کی بنیاد پرکوئی نہیں برتری نہیں ہے جو ہری کا جاپ کرتا ہے، ہری ہمیشہ اس کے ساتھ ہوتا ہے)، اس یقین کے ساتھ جیون بتانے والے مہاراشٹر کے سنت ایکناتھ کے جیون پر فلم بنائی جا سکتی ہے۔ سنت ایکناتھ تین سو سال پہلے اسی چھوت چھات کو مٹانے میں لگے تھے۔ ان کا یقین اور سیکھ یہی تھی کہ آدمی صرف اس لیے نیچا نہیں ہو جاتا کہ اس کا جنم مہار یا ماتنگ سماج میں ہوا ہے۔ یہی ثابت کرنے کے لیے سنت ایکناتھ ایک مہار کے گھر بھوجن کرنے گئے تھے۔ مہاراشٹر کے وہ اولین سماجی مصلح تھے۔ بات کچھ مجھے جچ گئی۔ کالےجی کا مشورہ مان لیا گیا۔ میں نے سنت ایکناتھ کے بھجن، بھاروڈ (روایتی موضوعات پر تاثراتی ڈھنگ سے رچا لوک گیت) وغیرہ لٹریچر منگوا کر پڑھ لیا اور اسی کی بنیاد پر میں نے اور کالے جی نے بیٹھ کر ایک کہانی تیار کی۔</p>
<p>سٹیج پر ہمیشہ ساڑھی پہن کر ہی کام کرنے والے بال گندھرو کو دھوتی اور کرتا پہنایا گیا۔ مونچھیں لگوا دی گئیں۔ سر پر چوٹی رکھ کر باقی سارا سر ان دنوں کے پنڈتوں کے ڈھنگ سے منڈوا دیا گیا۔ اوپر سے پگڑی بھی پہنا دی گئی۔ کیشوراؤ دھایبر کے سالے وِنائک راؤ گھورپڑے کی ایک بہت ہی سندر اور چلبلی لڑکی تھی، وَسنتی۔ اس کو ایک مہار کی لڑکی کا کردار دیا گیا۔</p>
<p>میں نے نئے میوزک ڈائرکٹر کی کھوج شروع کی۔ ہمارے میوزک ڈائرکٹر کیشوراؤ بھولے زیادہ تر پرانے مشہور گانوں کی دھنوں پر ہی نئی دھنیں بناتے تھے اور کلاسیکی موسیقی کی راگداری پر مبنی دھن بنانا تو ان کے بس کے باہر کی بات تھی۔</p>
<p>بال گندھرو جیسا رسیلا گایک اور سنت ایکناتھ مہاراج پر بنیادی لٹریچر لکھنا درکار ہو، تب تو میوزک ڈائرکٹر ایسا ہونا ہی چاہیے تھا جو بال گندھرو کی گائیکی مہارت کے ساتھ انصاف کر سکے۔ اس کے لیے یہ بھی ضروری تھا کہ فلم کا سنگیت بھی ایک دم اعلیٰ درجے کا ہو۔ یہی سب سوچ کر میں نے مشہور گایک اور میوزک ڈائرکٹر ماسٹر کرشن راؤ کو اس فلم کا سنگیت سنوارنے کا کام سونپا۔ اس کے علاوہ مشہور طبلہ استاد احمد جان تِھرکوا کو، جو ناٹکوں اور محفلوں میں بال گندھرو کی سنگت کرتے رہے تھے، ہماری کمپنی کے میوزک ڈپارٹمنٹ میں کام پر رکھ لیا۔</p>
<p>ماسٹر کرشن راؤ اصل میں نئی تخلیق کرنے والے میوزک ڈائرکٹر تھے۔ جب تک بال گندھرو اور میں مطمئن نہ ہو جائیں، وہ ایک ہی گیت کو ایک سے زائد دھنوں میں سنایا کرتے تھے۔</p>
<p>اس فلم کا ٹائٹل ہم نےرکھا ‘مہاتما’۔ اس کی ریہرسل تیزی سے ہونے لگی۔ بال گندھرو اتنے آزادخیال تھے اپنا بڑا ہونا بُھلا کے نئے اداکاروں کی طرح ساری باتیں مجھ سے سمجھ لیتے تھے۔ ان کے جیون میں مرد کردار کا کام کرنے کا یہ پہلا ہی موقع تھا۔ فطری طور پر ان کی چال ڈھال میں زنانہ پن آ گیا تھا، اسے دور کرنے کے لیے مجھے کافی محنت کرنی اور کروانی پڑی۔ پوری فلم میں سنت ایکناتھ کی جذباتی وقار اور عقل کے ساتھ ایک روپ ہو کر کام کرنے کی وہ بھرپور کوشش کرتے تھے۔ لیکن کبھی کسی سین کی ایکٹنگ ٹھیک سے نہ ہو پاتی، تو وہ خود مجھ سے وہ اداکاری کر دکھانےکو کہہ دیتے تھے۔</p>
<p>ایک دن ایک بہت ہی جذباتی سین کی ریہرسل پورے رنگ پر آ چکی تھی۔ میں نے بال گندھرو کو ایکناتھ کی اداکاری کر کے دکھائی اور دوسرے ہی لمحے ننھی وسنتی کو مہار لڑکی کی اداکاری بھی کر کے دکھائی۔ بال گندھرو میرے پاس آئے میری پیٹھ تھپتھپا کر شاباشی دیتے ہوئے انہوں نے کہا، “انا، واہ واہ! کیا کمال ہے۔ پل میں آپ ایکناتھ بن جاتے ہو، اور دوسرے ہی پل ننھا سا بالک بھی!”</p>
<p>بال گندھرو جیسے مہان کلاکار سے اس طرح شاباشی ملنے پر مجھے بہت اچھا لگا۔ کمپنی کے دیگر سبھی کاریگر اور کلاکار مجھے عزت سے ‘انا’ مخاطب کرتے تھے۔ لیکن بال گندھرو کے منھ سے بھی وہی خطاب سن کر میں بہت ہی مشکل میں پڑ گیا۔ میں نے شائستگی سے ان سے کہا، “میں گندھرو ناٹک منڈلی میں نوکری کرتا تھا، تب تو آپ مجھے ‘شانتا’ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ آج بھی آپ مجھے اسی طرح شانتا بلایا کریں، وہی اچھا لگے گا! وہ آپ کے چرنوں میں بیٹھ کر میں جو کچھ سیکھ پایا، اس کا اس انڈسٹری میں کافی استعمال ہو رہا ہے۔ آپ کےاس احسان کو جب میں دل سے قبول کرتا ہوں، آپ مجھے ‘انا’ کہیں، یہ ٹھیک نہیں!”</p>
<p>بال گندھرو کو میری بات قطعی منظور نہیں تھی۔ انہوں نے کہا، “بھگوَن، اس سمے آپ ‘شانتا’ تھے۔ آج آپ اپنے بل بوتے پر اور کارکردگی دکھا کر بڑے ہو گئے ہیں۔ ریہرسل کراتے سمے آپ جس طرح کھو جاتے ہیں، اسے دیکھ کر مجھے آسانی سے لگا کہ آپ کو ‘انا’ کہہ کر ہی مخاطب کروں!”</p>
<p>ان کی دلیل لاجواب تھی! اس پر کیا کہوں، سمجھ میں نہیں آیا۔</p>
<p>‘مہاتما’ کی شوٹنگ شروع ہوئی اور ایک دن اچانک ہمارے گرو بابوراؤ پینٹر سٹوڈیو میں آئے۔ ہم سب نےان کا دلی استقبال کیا۔ جل پان ہوا۔ وہ بال گندھرو سے اچھی طرح واقف تھے۔ بال گندھرو کے ‘دروپدی’ ناٹک کے سین بابوراؤ پینٹر نے تیار کیے تھے۔ بابوراؤ کی اس بےمثال ملاقات کی یاد میں ہم نے ایک فوٹو کھنچوا لیا، جس میں ان کے لیے اپنا احترام ظاہر کرنے کے لیے ان کے ساتھ کرسی پر نہ بیٹھتے ہوئے باقی سب لوگ پیچھے کھڑے رہے اور میں سامنے زمین پر ہی بیٹھ گیا تھا۔</p>
<p>اپنے سبھی ساتھیوں کی آنکھوں میں ایک ہی سوال ناچتا ہوا میں نے پایا۔ آخر بابوراؤ پینٹر کے اس طرح اچانک ہمارے یہاں آ دھمکنے کا کارن کیا ہو سکتا ہے؟ راز کیا ہے؟ ہم سب لوگ امید کر رہے تھے کہ سیٹھ پربھات فلم کمپنی، وہاں کی مشینری، کمپنی کا احاطہ، ہماری بنائی فلموں وغیرہ کے بارے میں کچھ تو رائے ظاہر کریں گے، ہماری حوصلہ افزائی کریں گے، لیکن ویسا کچھ بھی نہیں ہوا۔</p>
<p>کچھ سمے بعد وہ جانے کو تیار ہوئے۔ انہوں نے مجھے ایک طرف بلا کر کہا، “مجھے دس ایک ہزار روپے کی ضرورت ہے۔”</p>
<p>وہ یہ رقم فوراً چاہتے تھے۔ رقم لینے کے لیے کل آؤں گا، کہہ کر وہ چلےگئے۔ اس کے بعد میں نے ساتھیوں کو بابوراؤ کی گئی رقم کی مانگ کے بارے میں بتا دیا۔ ہم سب کو ان کا یہ طریقہ عجیب و غریب لگا۔</p>
<p>دوسرے دن وہ پُونا سٹوڈیو میں آئے۔ میں نے ایک لفافے میں وہ رقم انہیں دے دی۔ سیٹھ نے لفافہ جیب میں ڈالا اور بنا کسی سے کچھ بولے وہ جیسے آئے تھے ویسے ہی چلے گئے۔۔۔</p>
<p>‘مہاتما’ کے سکرین پلے میں میں نے ایک ڈھونگی سادھو بابا کا کردار تخلیق کیا۔ اس سادھو بابا کے کچھ کارنامے میں نے خود دیکھے تھے، اسی طرح کے ڈھکوسلاباز سادھو باباؤں کے طریقے کو جوں کا توں لے لیا تھا۔ پچھلے دنوں ایک بار دادا مہاراج کے ساتھ بیتے اس واقعے کے بعد ایک امیر بیوپاری کسی باباجی کو ہمارے یہاں لے آیا تھا۔ ان کے ساتھ ان کے چیلے چپاٹے بھی تھے۔ اس سمے کا ایک بہت ہی بھونڈا سین یاد بن کر رہ گیا تھا: اس باباجی کی مہمان نوازی کرنے کے لیے اس کے سامنےکچھ پھل ول رکھے تھے۔ انہوں نے ایک کیلا لیا، تھوڑاسا کھایا، اور بعد میں بچا ہوا کیلا پاس ہی کھڑے ایک چیلے کو دے دیا۔ اس نے اس جوٹھے کیلے کو باباجی کا پرساد مان کر ماتھے سے لگایا اور کچھ حصہ اپنے دانتوں سے کاٹ کر باقی کیلا دوسرے چیلےکو تھما دیا۔ یہی سلسلہ جاری رہا۔ وہ کیلا گھومتا ہوا آخر میرے پاس کھڑے ایک سجن کو دیا گیا۔ تب اس میں کیلا بہت کم اور چھلکا کافی زیادہ رہ گیا تھا۔ مجھے اس بھونڈے رواج پر بہت ہی گھن آ گئی۔ متلی سی آنے لگی۔ یہ دیکھ کر کہ سادھو باباجی کا وہ پرساد کھانے کی نوبت اب مجھ پر بھی آنے جا رہی ہے، کسی کام کے بہانے میں وہاں سے چپ چاپ کھسکا۔</p>
<p>اس گھناؤنے سین کو جوں کا توں ‘مہاتما’ میں فلمانا میں نے طے کیا۔ مراٹھی ‘مہاتما’ میں اس بھوندو سادھو کا کام میں نے اداکار کیلکر کو دیا اور ہندی ورژن میں چندرموہن کو، جی ہاں، چندرموہن کو!</p>
<p>’چندر سینا’ کی شوٹنگ ختم ہونے کے بعد ایک دن چندرموہن سویرے ہی میرے گھر پر آیا اور نم آنکھوں سے اس نے ایک دم میرے چرن چھو لیے۔ اپنےغلط رویے کی اس نے مجھ سے معافی مانگی۔ چندرموہن میرا بنایا ہوا کلاکار تھا۔ میں نے ہی اسے گھڑا تھا۔ وہ میرا اپنا تھا۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے اسے اوپر اٹھایا اور کہا، “تم نے مجھ سے دلی معافی مانگی ہے، اب میرا سارا غصہ اتر گیا ہے۔”</p>
<p>کچھ لمحے تو چندرموہن کی سمجھ میں میری بات نہیں آئی۔ کہیں سپنا تو نہیں، یہ تاثر اس کی آنکھوں میں دکھائی دیا۔ لیکن میں نے اسے یقین دلایا، یقین دہانی کرائی۔</p>
<p>“معاہدے کے مطابق ‘پربھات’ کی آخری فلم کا کام پورا کر تم باہر کی فلمی دنیا میں قدم رکھو گے تو تمہارا نام یقینی ہی مقبولیت کی چوٹی پر چمکے، اسی طرح کا کردار میں تمہیں دوں گا!”</p>
<p>اسے دیا گیا وہ وعدہ آگے چل کر ‘امر جیوتی’ فلم میں میں نے پورا کیا۔</p>
<p>‘مہاتما’ فلم پُراثر بنے، اس وجہ سے میں نے اسے اپنے خاص ڈائرکشن سٹائل سے من لگا کر سجایا سنوارا تھا۔ ایک سین تھا: پیٹھن گاؤں کے مہار کی ایک لڑکی جائی کے گھر کھانے پر جانا ایکناتھ قبول کر لیتے ہیں۔ مہاراج کے دعوت نامہ قبول کر لینے کے کارن جائی تو خوشی کے مارے پاگل ہوئی جاتی ہے۔ وہ سارے گاؤں کی گلیوں سے ناچتی گاتی جاتی ہے اور راستے میں ملنے والے ہر آدمی کو بہت خوش ہو کر بتاتی پھرتی ہے، “کل آویں گے ناتھ ہمارے گھر پر، بھوجن پر۔” جائی کی ان خوشیوں کے کارن سب لوگ متاثر ہو جاتے ہیں، ان کی آنکھیں بھر آتی ہیں، خوشی کے آنسو بہنے لگتے ہیں اور خوشی کےاس نزدیکی موقعے پر ہی ‘انٹرویل’ ہوتا ہے۔</p>
<p>انٹرویل کےبعد فلم آگے بڑھتی ہے۔ مہار ٹولا خوشی سے مست ہو گیا ہے۔ گھر کا ہر پھٹا پرانا چیتھڑا مہار لوگ دھو دھو کر صاف کرنے میں لگے ہیں۔ عورتیں اپنی اپنی جھگی جھونپڑی کے سامنے کا گھر آنگن لیپ پوت کر چمکانے میں جٹی ہیں۔ جھاڑ پونچھ جاری ہے۔ مہار ٹولےکا بچہ بچہ کسی نالے تالاب میں نہا نہا کر صاف بننے کی کوشش میں ہے۔ جدھر دیکھو، خوشی ہی خوشی ہے۔ ایک امنگ بھرا سماں بنتا جا رہا ہے۔ یہ دونوں سین بےشمار خوشی سے بھرے تھے۔ ‘مہاتما’ کا ایک اور دل چھونے والا سین تھا:</p>
<p>ایکناتھ مہاراج کے گھر پر شرادھ (ختم) ہے، لیکن سبھی براہمنوں نے ان کا بائیکاٹ کر دیا ہے، اس لیے دوپہر بیت جاتی ہے، غروب سمے ٹل جاتا ہے، دیپ جلانے کا وقت آ جاتا ہے، تب بھی ایکناتھ کے پُرکھوں کی آتما کو احترام دینے کے لیے کوئی بھی براہمن کے گھر شرادھ کے لیے آتا نہیں۔ سبھی براہمن لوگ اسی اکڑ میں بیٹھے رہتے ہیں کہ بےعزتی کا مارا ایکناتھ ہاتھ جوڑ کر چرنوں میں آ گرے گا اور گڑگڑا کر منتیں کرے گا۔ ادھر ایکناتھ کے باڑے کے باہر مہار اور ماتنگ لوگ اس امید سے راہ دیکھ رہے ہیں کہ کب براہمنوں کا بھوجن ہو، اور کب انہیں جوٹھی مٹھائی وغیرہ کھانے کو ملے۔ آخر ایکناتھ مہاراج ان سب لوگوں کو اپنے باڑے میں بلاتے ہیں اور اس پرجوش جنتا کو قطاروں میں بٹھا کر پورا کھانا پروستے ہیں، جس میں ایکناتھ کی خوش اخلاق بیوی اور نوکر شریکھنڈ بھی ہاتھ بٹاتے ہیں۔</p>
<p>اس سین کی شوٹنگ جاری تھی، تبھی اچانک مجھے ایک اور محبت بھرا سین ڈالنے کا خیال سوجھا۔ بھوجن جاری ہے۔ بوندی کے لڈو پروسے جا رہے ہیں۔ کھانے میں بڑوں کے ساتھ دو بچے بھی شامل ہیں۔ ایک بچہ لڈو اٹھا کر منھ میں بھرتا ہے اور اسے توڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ لڈو کچھ سخت بنے ہیں۔ بچہ اسے توڑ نہیں پاتا، اس کے پاس ہی بیٹھا دوسرا کچھ بڑا سا بچہ اس کا لڈو لے لیتا ہے اور اپنے منھ میں ڈال کر توڑتا ہے۔ اس کے ٹوٹتے ہی لڈو کا ایک ٹکڑا اس کے منھ میں آتا ہے۔ سب کو لگتا ہے کہ اب یہ بچہ پورا لڈو صاف کر جائےگا۔ تبھی وہ بچہ بڑی ممتا اور محبت سے لڈو کا وہ ٹکڑا چھوٹے بچے کے منھ میں ڈالتا ہے اور اسی طرح اس کو کھلاتا جاتا ہے۔</p>
<p>شبدوں کے سبھی طول و عرض کو پار کرتا ہوا ڈائرکٹر کہیں خاموش سین کو بھی بےحد پُراثر بنا سکتا ہے، اس سوچ پر میرا عقیدہ ایسےسین کی شوٹنگ کےکارن ہی روز بہ روز بڑھتا گیا۔ ساتھ ہی یہ بھی میں محسوس کرنے لگا کہ کچھ سین کو علامتی روپ دینے سے وہ بہت ہی بامعنی بن جاتے ہیں۔ ‘مہاتما’ فلم میں آخر میں ایک سین ہے کہ سنت ایکناتھ اور ان کے دیو صفت پنڈت بیٹے میں ایک مذہبی مناظرہ ہوتا ہے۔</p>
<p>ایکناتھ کے دیو شاستر( دینیات) میں کامیاب بیٹے کا خیال ہوتا ہےکہ اپنے قدامت شکن باپ کا منھ دیکھنے سے وہ بھرشٹ ہو جائے گا، اس لیے بحث کے وقت وہ بیچ میں ایک پردہ لگوا لیتا ہے۔ ایکناتھ روشنی کی طرف ہوتے ہیں، اس لیے ان کی پرچھائیں سامنے پڑتی ہے اور اس پرچھائیں میں سے ان کا لڑکا اپنی پنڈتائی بگھارتا دکھائی دیتا ہے۔ بھید، چاتر ورنیہ، پرانیوں میں ویاپت اچنیچتا وغیرہ (مذہبی) موضوعات پر دونوں میں کافی دھواں دھار شاستر ارتھ (مناظرہ) ہوتا ہے۔ اس منظر کے فلمانے میں یہ دکھانا چاہتا تھا کہ وہ لڑکا کتنا ہی مہان پنڈت کیوں نہ ہو، وہ اس دنیا میں اس انسان پرست مہاتما کی پرچھائیں سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔ میرے من کے اس ارادے کے اضافی اور بھی کئی معنی اس منظر سے نکالے جائیں گے، لیکن کیا کبھی کوئی تخلیقی انسان اپنی کسی سرشت کے سبھی طول و عرض کو الفاظ دے پاتا ہے؟</p>
<p>فلم پوری ہو گئی۔</p>
<p>اسے سنسر کے لیے میں خود بمبئی لے گیا۔ سنسر کے ایک ممبر نے ‘مہاتما’ دیکھی۔ اس نے فیصلہ دیا: ”چونکہ یہ فلم ذات پات جیسے متنازعہ سوال پر بنی ہے، میں اکیلا اس کو پاس کرنےکی ذمےداری نہیں لیتا۔ سنسربورڈ کے سبھی ارکان کو فلم دکھانی ہو گی۔” ممبر کا وہ فیصلہ سن کر تو میرے پیٹ میں بل پڑنے لگے۔ ‘سوراجیاچے تورن’ فلم کے سمے ہوا سارا گھٹناچکر پھر ایک بار آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا۔ من میں خدشہ جاگ اٹھا کہ کہیں پھر ویسا ہی نہ ہو جائے۔</p>
<p>اور آخر میں میرا خدشہ صحیح ثابت ہوا! سنسر کے سبھی ممبروں نے فلم دیکھی اور اپنی رائے دی: اس فلم کےکارن اونچی ذاتوں کے ہندوؤں میں غصہ پھوٹ پڑےگا، ذات پرستی بڑھےگی، ملک میں بےاطمینانی پھیلےگی اور نتیجتاً امن و امان خطرے میں پڑ جائے گا! اس لیے سنسر بورڈ کا فیصلہ ہے: ‘مہاتما’ فلم پر مکمل پابندی!’<br>
)جاری ہے(</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-15/">شانتا راما — باب 15: امرت منتھن (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-15/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
