<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ہندوستانی اساطیر Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d8%a7%d8%b7%db%8c%d8%b1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/ہندوستانی-اساطیر/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Sat, 01 Jun 2024 01:22:22 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>ہندوستانی اساطیر Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/ہندوستانی-اساطیر/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>ہندوستانی الاصل اساطیر اور علامات</title>
		<link>https://laaltain.pk/%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b5%d9%84-%d8%a7%d8%b3%d8%a7%d8%b7%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b5%d9%84-%d8%a7%d8%b3%d8%a7%d8%b7%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[خوشتر زریں]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Feb 2018 17:26:26 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Indian Mythology]]></category>
		<category><![CDATA[Khushter Zarreen]]></category>
		<category><![CDATA[M. F. Hussain]]></category>
		<category><![CDATA[خوشتر زرین]]></category>
		<category><![CDATA[ہندوستانی اساطیر]]></category>
		<category><![CDATA[ہندوستانی دیومالا]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23033</guid>

					<description><![CDATA[<p>قبل اس کےکہ ہم اردو ادب کی اساطیری بنیادوں اور علامتی لفظیات پر گفتگو کریں مناسب یہ معلوم ہوتا ہےکہ ہم اسطور اور علامت کے مفہوم کو سمجھ لیں ۔ بالعموم اسطور سے ایسی کہانی مراد لی جاتی ہے جو سائنٹیفک مفہوم میں صد فی صد صداقت پر مبنی نہیں ہو تی ہے ۔ اس [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b5%d9%84-%d8%a7%d8%b3%d8%a7%d8%b7%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa/">ہندوستانی الاصل اساطیر اور علامات</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>قبل اس کےکہ ہم اردو ادب کی اساطیری بنیادوں اور علامتی لفظیات پر گفتگو کریں مناسب یہ معلوم ہوتا ہےکہ ہم اسطور اور علامت کے مفہوم کو سمجھ لیں ۔ بالعموم اسطور سے ایسی کہانی مراد لی جاتی ہے جو سائنٹیفک مفہوم میں صد فی صد صداقت پر مبنی نہیں ہو تی ہے ۔ اس میں اشخاص و کردار اور اعمال طبیعی دنیا سے مختلف ہوتے ہیں ، جنہیں غیر فطری یا نا رسائی کو تسلیم کرتے ہوئے مابعد الطبیعی انسان اور مخلوق کا نام دیا جاتا ہے ۔ اسطور کا سروکار ہمیشہ تخلیق سے ہوتا ہےاور یہ شئے کے وجو کی تعبیر پیش کرتا ہے ، اسطور احساس و تصور کا مرکب ہوتا ہے ، بہتیرے اساطیر اور نیم اساطیر طبیعی سر گرمی اور سماوی ، فوق الفطری طاقتوں کی تعبیرات و تشریحات ہیں ۔ Dictionary of Literary term and Literary theoryکے مصنفین نے اس لفظ کے مختلف زبانوں میں الگ الگ مفاہیم کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ فی الوقت اسطور افسانویت کی شناخت کی طرف مائل ہوتا ہے ، ایک ایسی افسانویت کی تر سیل اسطور سے ہوتی ہے جو نفسیاتی حقیقت کی حیثیت رکھتا ہے ۔(1)</p>
<p>اسطور فی الواقع ما بعد الطبیعی دنیا ، کائناتی نیرنگی و بوقلمونی اور انسانی نفسیات کی پیچیدگی کو سمجھنے اور سمجھانے کی تخیلی اور سری کاوش ہے ۔ بعض ناقدین اور مفکرین نے اسطور اور فطرت کو باہم مربوط کر کے دیکھنے کی سعی کی ہے ۔ تاریخی اسطوریت کے متبادل کے طور پر اساطیر کو کائنات اور ہمارے اطراف جاری سر گرمی کی تمثیل خیال کیا جاتا ہے ، اساطیر تاریخ تو نہیں ، البتہ طبیعی تاریخ ضرور ہے ، سارے استعارے قدیم عہد کی طبیعات کی حیثیت رکھتے ہیں ،ہندوستانی صنمیات کا مطالعہ اس نتیجے تک لے جاتا ہے ۔ انسانی گروہ کے اجتماعی لاشعور نے خالق کے عرفان و ادراک کو حاصل کرنے کی جس نوع کی تخیلی سر گر می پر انہیں آمادہ کیا اس سر گرمی نے انہیں دیوی دیوتاوں تک رسائی بخشی ۔ بہتیرے ایسے دیوی اور دیوتا ہیں جو مظاہر فطرت کے الگ الگ مظہر پر فائز ہیں ۔کئی ایسے ہیں جو فلکیات اور نجوم سے وا بستہ ہیں اور ان کا رشتہ سیاروں اور برو جی جھرمٹوں سے مربوط ہے ۔ دھرتی ماتا ، چندر ما ، سوریہ دیوتا وغیرہ کا ہندوستانی سیاق ہو یا پھر یونانی اساطیری علائم ۔ یہ سب فطرت کی تفہیم و تعبیر کی سعی معلوم ہوتے ہیں ۔</p>
<p>انسانی تاریخ میں زندگی وجود ، انسان اور کائنات کے ادراک کے لئے کی جانے والی کوششوں نے جن اساطیر کو جنم دیا ہے ۔ وہ اپنے آپ میں نہ صرف متنوع اور مختلف ہیں بلکہ کائنات میں موجود پیچ کی طرح پیچدار اور گہرائی کی طرح عمیق ہیں ۔ یہ ہماری ذہنی سر گرمی اور تخیلی کار کر دگی کو ایک وسیع علاقہ عطا کرتی ہے ۔ ان علاقوں اور خطوں کی سیر کرنے کے بعد تخیل و حاسہ ، زر خیزی وشادابی کے ساتھ اسرار و رموز کا بیش بہا خزانہ لے کےواپس پلٹتا ہے ۔ زندگی اور موت ، روشنی اور تاریکی اور نور و نار کی کشمکش سے جو تصادم جنم لیتا ہے اور فکرو نظر کی سطح پر جو گھمسان بپا ہوتا ہے ، اساطیر اس وجودی مسئلے کی تفہیم میں تخیل کی رہ نمائی اور رہبری کا فرض بھی انجام دیتے ہیں اور اس طرح وہ غیر منطقی قصے نہ رہ کر عرفان و ادراک ، اسرار رموز اور انکشاف و ذات و کائنات کا بیش قیمت خزینہ اور از حد مفید وسیلہ بن جاتے ہیں ۔ ادب میں اساطیر کا استعمال چاہے وہ تمثیلا ت کی شکل میں یا علامتی پیرائے میں ہوں ، ایک طرف ہماری ذہنی دنیا کو ماضی سے مربوط کر کے اس کی بازیافت کی راہ سجھاتا ہے اور اساطیر کی نئی معنویت و جدید تعبیر کی راہ ہموار کرتا ہے ، تو دوسری طرف معنی کی توسیع کرتے ہوئے انسان کی اجتماعی لا شعور کی سر گرمی اور اس کے تسلسل کو دریافت کرتا ہے ۔</p>
<p>شکیل الرحمان اسطور کی اہمیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں</p>
<p>“فنون میں نفسیاتی تجربو ں کا سفر نہ جانے کب سے جاری ہے تخلیقی فنکاروں نے متھ کےدلکش معنی خیز تجربوں کو نفسیاتی صورتیں دی ہیں ۔رومانیت کے اصول سے آشنا کیا ہے ۔انہیں ڈرامائ پیکروں میں ڈھالا ہے اور اکثر استعاروں میں جلوہ گر کیا ہے ۔اساطیر کا مطالعہ بنیادی طور پر معصوم پراسرار اور حیرت انگیز قدیم اور قدیم تر انسانی تجربوں کی نفسیات کا مطالعہ ہے”</p>
<p>ہندو صنمیات میں خداوں کی تشکیل اس طور پر کی گئی ہے کہ کائنات میں تخریب و تعمیر کا علاحدہ علاحدہ عمل ایک ایک دیوتا سے مخصوص ہے ۔ہندوستانی اساطیر کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ ان میں سےے بیشتر کردار مرتکز ہیں ہر کردار یا تو مظاہر فطرت میں سے کسی مظہر سے وابستہ ہے یا پھر انسانی صفات میں سے کسی ایسی صفت سے متصف ہے جو ناقابل تسخیراور محیر العقول ہے ۔کئی اسطور ایسے ہیں جو حیوانات اور دریاوں سے وابستہ ہیں ۔اردو ادب میں بیانیہ شاعری بالخصوص مثنوی میں اساطیر کا تفصیلی بیان ملتا ہے ۔غزلیہ شاعری میں اساطیر کا استعمال تلمیحات کی صورت میں ہوا ہے ۔اسطور جب تلمیح میں مبدل ہوتا ہے یا علامت کا روپ دھارن کرتا تو اس صور ت میں قاری کی علمیت سے وسعت و گیرائی کا تقاضا کرتا ہے تلمیح میں بسا اوقات اسطور کا کوئی ایک جزء ہی کار آمد ہوتا ہے ۔اس لئےاسطور کی تلمیحی صورت پورے اسطور کو یاد داشت میں محفوظ رکھنے اور اس کے ہر کردار و وقوعے کو ذہن میں مستحضر کرنے کا تقاضا کرتی ہے ۔اردو شاعری میں جو اسطوری تلمیحات استعمال میں لائی گئی ہیں ان میں سے وافر حصہ ان اساطیر کا ہے جو ہندوستانی تہذیب و تاریخ میں پیوست ہیں اور ادب میں ان کے استعمال سے تمدن و تہذیب اور ذہنی و تخیلی سر گرمی کے مختلف اساطیری روپ اپنے خصائص و اعمال سمیت سامنے آگئے ہیں ۔تہذیب و کلچر کی باہمی آویزش کس طرح ہوئ ہماری تخلیقی سرگرمی کا تخییلی گراف کیا رہا ،وہ کن کن جہتوں میں رہ نورد شوق بن کر پھرتا رہا ہے ،دھرتی سے ہمارا کیا تعلق ہے کہ وہ ماتا سمان بن کر دھرتی ماتا کا روپ دھارن کئےہوئے ۔عورت دیویوں کی صورت مختلف روپوں میں کیوں کر جلوہ گر ہے ۔مرد دیوتائوں کے پیرہن میں کیا کیا شکلیں اختیار کئے ہوئے ہے ،ہماری تہذیبی بنت میں شامل اسطوری عناصر کا قوام کہاں اور کیسے تیار ہوا ہے ؟اسطوری تلمیحات ان تمام پہلووں کی نقد کشائی کرتی دکھائی دیتی ہیں ۔</p>
<p>ہندوستانی اساطیر و دیومالا کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ ہماری قدیم تہذیب و تاریخ کا بنیادی متن تصور کئے جاتے ہیں ۔ان سے آستھا وعقائد کی وابستگی ان کو مذہبی حیثیت بھی دیتی ہے ۔مختلف مذہبی رسوم اور تہواروں کا ان اساطیری قصوں سے رشتہ انہیں ایک خاص تہذیبی و ثقافتی سیاق بھی عطا کرتا ہے ۔اس طرح ہمارے قدیم ادب یعنی وید پران رامائن اور گیتا وغیرہ سے ماخوذ اساطیر اپنے سروکاروں کے لحاظ سے مختلف ابعاد کے حامل ہوجاتے ہیں ۔ہماری تخلیقی و تخییلی دنیا نے کس طرح اساطیر سے خود کو منسلک کیا اور اسطوری تلمیحات میں اردو غزل کی حسیات میں ہندوستانی ذہن و تہذیب کو کس انداز سے پیوست کیا اس کا اندازہ درج ذیل مثالوں سے کیا جا سکتا ہے ۔</p>
<p>گرچہ لچھمن ترا ہے رام ولے<br>
اے صنم تو کسی کا رام نہیں<br>
(ولی)</p>
<p>نین راون ہیں ارجن بال<br>
پلکیں بھنویں دھنک بھیم کی<br>
(سراج )</p>
<p>آتش عشق نے راون کو مارا<br>
گرچہ لنکا سا تھا اس دیو کا گھر پانی میں<br>
(میر )</p>
<p>ہر لیا ہے کسی نے سیتا کو<br>
زندگی ہے کہ رام کا بن باس<br>
(فراق)</p>
<p>ہندوستانی صنمیات کے دوسرے کرداروں میں بھی اسطوری تلمیحات کے طور پر غزل کے مصرعوں نے جگہ پائی ہے ۔کرشن جن کا تصور رادھا اور گوپیوں سے بندھا ہوا ہے اور جو وشنو کے آٹھویں اوتار کے روپ میں ہندوستانی اساطیر کا ررومانی کردار ہے،اس کا سانولا پن اور بانسری بجانے کی کلا بھی اس کی ایک خاص شناخت ہے کہ گوپیوں کے اس پر ریجھنے میں بانسری اور سانولے پن کا بھی رول ہے ۔اس کردار کی ایک حیثیت امن دوت کی بھی ہے ۔۔مہادیو جو تباہی و بربادی کا دیوتا ہے اور اسی طرح دوسرے اسطوری کردار جیسے گنیش کالی اوشا،مدن ،کام دیو یہ سارے کردار مابعد الطبیعی دنیا سے وابستہ اور خدائی نظام کے کل پرزے کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ان کا ذکر غزلیہ شاعری میں کس انداز سے ہوا ہے دیکھیں :</p>
<p>ہے خال یوں تمہارے ذقن کے اندر<br>
سانولے تن پہ قبا ہے جو تیرے بھاری ہے<br>
جس روپ ہو کنہیا آب جمن کے اندر<br>
لالہ کہتا ہے چمن میں کہ یہ گردھاری ہے<br>
(امانت )</p>
<p>ع: رادھکا کو چین کیا آوے کنہیا جی بغیر<br>
(انشا)</p>
<p>مہادیو جو اترے کیلاش سے اپنی جٹا کھولے<br>
تو شاید بن سکے اس جوگ کے بیراگ کا جوڑا<br>
(انشاء)</p>
<p>مہ جبیں یہ لگائے کیوں ٹیکا<br>
ماہ میں کام کیا ہے دیوی کا<br>
(ولی)</p>
<p>یہ سینہ کہ سنگیت پچھلے پہر کا<br>
وہ چہرہ کہ اوشا پشیماں پشیماں<br>
(فراق)</p>
<p>مدھ کی کٹوریوں میں وہ امرت گھلا ہوا<br>
جس کا ہے کام دیو بھی پیاسا غضب غضب<br>
(اثر لکھنوی )</p>
<p>اسطوری لفظیات علائم کاروپ دھار کر ہماری جدید نظم میں بھی جلوہ گر ہوئی ہیں ۔یہاں اساطیر فقط اسطورنہ رہ کر ارضیت اورمقامیت کاپہلو اختیار کرگئےہیں۔ان سے وابستہ حسیات فرد کے احساس کی شدت کے طور پر نمایاں ہوئی ہیں۔مختلف تخلیق کار ایک ہی اسطور کو مختلف معانی ومفاہیم عطا کرتے ہیں جس سے اجتماعی لاشعور کے تصورکی شہادتیں فراہم ہوتی ہیں۔اور ایک طرح سے تخلیقی ذہن اپنے ثقافتی ونسلی سرمایے کی طرف مراجعت کرتا ہوامعلوم ہوتاہے۔تخلیقات میں روشن اساطیر کی وضع سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہےکہ یہ ہماری ارضیت میں کس قدر گہرے پیوست ہیں۔اور یہ خاص ماحولیاتی دائرہ کے انسانی وجود کالازمی جزء بن گئے ہیں۔اس بات کی تصدیق چند نظم نگاروں کے نمونوں سے کی جاسکتی ہے۔میرا جی اس طرز کے سرخیل کہے جاسکتے ہیں ۔ان کے یہاں ارضیت کی طرف مراجعت ،دھرتی سے لگاو کی وہ صفات موجودہیں جس کی بناپر وزیر آغا نے ان کی شاعری کو دھرتی پوجاکی مثال کہاہے۔</p>
<p>تو پاربتی میں شوشنکر<br>
لیکن یہ پہلے جنم کی ہیں باتیں ساری<br>
اب تو ہے وہی دیوی لیکن صورت بدلی ،سیرت بدلی<br>
اور بدلی حالت جیون کی<br>
اور میں ہوں ایک پجاری بے بس تنہا مندر سے باہر<br>
اب تجھ میں روپ نہیں پہلا ،اب مجھ میں پریم نہیں پہلا<br>
وہ روپ کہانی تھی بیتی ،وہ پریم فسانہ تھا بھولا<br>
تو اور میں دونوں ایک ہی قدرت کے تھے مظاہر ،اب روپوش ہوئے<br>
دوموسم تھے مل کر گزرتے ،دو نغمے تھے خاموش ہوئے<br>
اب پہلی بات نہیں باقی<br>
میں متوالا تھا تو ساقی<br>
تو پاربتی میں شو شنکر<br>
لیکن افسوس یہ پہلے جنم کی ہیں باتیں ساری<br>
میں شو شنکر تو پاربتی</p>
<p>میرا جی کے اثر سے دوسرے نظم نگاروں نے بھی ہندوستانی اساطیر کو اپنی نطموں کا حصہ بناتے ہوئے تخلیقی کاوشیں پیش کیں ۔اس ذیل میں قیوم نظر کی نظم بہار نو ،شاد امرت سری کی نظم سمے کا دکھ ،سلام مچھلی شہری کی نظم پوجا ،مختارصدیقی کی نظم خیال چھایا ،عرش صدیقی کی نظم اے جادو گر ،قاضی سلیم کی نظم سنجوگ قابل ذکر اور لائق نظر ہیں ۔</p>
<p>اردو کی داستانوں میں ہندوستانی اساطیر کی کارفرمائی نظر آتی ہے ۔مادھو نل کام کندلا ،بیتال پچیسی اور سنگھاسن بتیسی کے متون میں دیو مالائی فضا اور اساطیری ماحول ملتا ہے ۔ان داستانوں میں ویدک عہد کی تہذیب و ثقافت اور علائم و استعارات جا بجا ملتے ہیں ۔رانی کیتکی کی کہانی اور باغ ارم بھی اس حوالہ سے اہم ہیں ۔مذہبی عقائد طلسماتی دنیا اور دیومالائی عناصر کے فنکارانہ استعمال میں ان داستانوں کو پر اسرار جہان معانی میں تبدیل کر دیا ہے ۔چونکہ اساطیرفقط علائم نہیں ہوتے بلکہ کہانی کی شکل میں ہوتے ہیں اور نفسیاتی عوامل و ما فوق الفطرت حقائق کی تعبیر ہوا کرتے ہیں اس لئے داستان ،ناول اور افسانے میں ان کے جوہر زیادہ کھلتے ہیں ۔اس کے بعد مثنوی اور نظم کی دنیا بھی اپنے اندر اساطیر کو سلیقے سے برتنے کا ملکہ و وسعت رکھتی ہے ۔جبکہ غزل کی شاعری اساطیری کرداروں کے خصائص کو جستہ جستہ اور جزوی طور پر بروئے کار لاتی ہے اور پورے اسطور کو ذہن میں متحرک کرتی ہے ۔اس لحاظ سے دیکھیں تو اساطیر کا فنکارانہ اور تخلیقی استعمال افسانوی بیانئیے اور فکشن میں زیادہ بہتر طریقےسے ہو سکتا ہے ۔</p>
<p>جدید افسانہ بھی اس لحاظ سے قابل قدر اور لائق تحسین ہے کہ اس میں بھی ہندوستانی اساطیر اور دیو مالائی علامات کا احیا ہوا وہ تمثیلات کہ جو بالخصوص ہندستانی الاصل اساطیر پر مبنی ہیں ان کے استعمال سے کہانیوں اور قصوں کو نئے معانیاتی جہات میسر ہوئے اور ان اساطیر کو عصری حسیت اور انسلاک مقدر ہوا ،نیز ہم عصر زندگی میں ان کی اہمیت اور سروکاروں کے پہلو روشن ہوئے ۔اسطور کو تخلیقی توانائی میں تبدیل کرنے والوں میں پہلا نام راجیندر سنگھ بیدی کا ہے ۔انہوں نے گرہن اپنے دکھ مجھے دے دو ،بھولا ،اور ایک چادر میلی سی جیسی تخلیقات میں اساطیر کو استعمال کیا ۔ہم عصر زندگی میں اساطیر کی اہمیت اور روز مرہ کے معمولات میں دیو مالائی عناصر کی کارفرمائ کو حسن و خوبی کے ساتھ اجاگر کیا ۔یہاں بیدی کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ افسانہ کردار ،فضا یا پلاٹ کے مختلف گوشوں میں کہیں نہ کہیں اسطور کو اس طرح کھپاتے ہیں کہ وہ لفظ بھر رہتے ہوئے بھی جہان معانی کو اپنے اندر سمیٹ لیتے ہیں ۔ہندوستانی اساطیر کے فنکارانہ استعمال میں کمال مہارت کا مظاہرہ کرنے میں ایک اور نام انتظار حسین کا ہے ۔جنہوں نے بودھی جاتک کتھا اور دیو مالا کے زیر اثر کہانیاں تخلیق کیں ۔اور پرانے عقائد و رسوم کو اپنے ارد گرد عمل پیرا دیکھا ۔بطور مثال ان کا افسانہ مور نامہ کو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کس طرح زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو کر اشوتھاما راوی کا پیچھا کرتا ہے کہ راوی کو مور نامہ لکھنے کا پرسکون لمحہ تک میسر نہیں آتا ۔</p>
<p>قصہ مختصر یہ کہ اردو کے حصے میں ہندوستانی اساطیر و علامات کا وافر ذخیرہ آیا جو تخلیقی بنت میں شامل ہو کر ادراک و عرفان کا وسیلہ بنا۔یہ اساطیر و علائم لفظ واحد کی سطح پر بھی عمل پیرا رہے اور تمثیل و حکایت کی سطح پر بھی ۔لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ ہمارا ادبی مذاق ذہنی مدار اور لفظیاتی تجوری ان اساطیر کو محفوظ اور مستحضر رکھنے میں کامیاب ہے یا نہیں ۔تلفظ ،تحریر اور معنی کی مختلف سطحوں پر ان اساطیر سے ہم عصر نسل کا رویہ کیا ہے ؟ہمارے یہاں قرات و پڑھت کا جو معیار و رفتار ہے اور لفظیا ت کی کھپت کا جو طور ہے اس کی نو عیت کیا ہے ۔لفظیات کو رائج کرنے اور عام محاورے میں انہیں باقی رکھنے کے ذرائع کیا ہیں ۔اساطیر و علائم کی صورت میں ہمارا جو بیش بہا ذخیرہ ہے اسے لفظیاتی سرمائے اور روز مرہ کا حصہ کس طرح بنایا جائے کی زبان سے شناسائی رکھنے والے ان کی ادائیگی اور با معنی ادائیگی پر قادر ہو سکیں ؟یہ ہمارا آج کا اہم سوال ہے ۔</p>
<p>Image: M. F. Hussain</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b5%d9%84-%d8%a7%d8%b3%d8%a7%d8%b7%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa/">ہندوستانی الاصل اساطیر اور علامات</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b5%d9%84-%d8%a7%d8%b3%d8%a7%d8%b7%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%85%d8%a7%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>راجا ہریش چندر</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b1%d8%a7%d8%ac%d8%a7-%db%81%d8%b1%db%8c%d8%b4-%da%86%d9%86%d8%af%d8%b1/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b1%d8%a7%d8%ac%d8%a7-%db%81%d8%b1%db%8c%d8%b4-%da%86%d9%86%d8%af%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 10 May 2016 06:39:26 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Gopi Chand Narang]]></category>
		<category><![CDATA[Indian Mythology]]></category>
		<category><![CDATA[پران کہانیاں]]></category>
		<category><![CDATA[گوپی چند نارنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ہندوستانی اساطیر]]></category>
		<category><![CDATA[ہندوستانی دیومالا]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=16139</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">اس وقت آسمان سے امرت کی بوندیں ٹپکنے لگیں اور روہتاس زندہ ہو اٹھا۔ ہریش چندر اور شِویا کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔ انہوں نے سب دیوتاوں کو پرنام کیا اور روہتاس کو چھاتی سے لگا کر پیار کرنے لگے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b1%d8%a7%d8%ac%d8%a7-%db%81%d8%b1%db%8c%d8%b4-%da%86%d9%86%d8%af%d8%b1/">راجا ہریش چندر</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">پران ہندوستانی دیو مالا اور اساطیر کے قدیم ترین مجموعے ہیں۔ ہندوستانی ذہن و مزاج کی، آریائی اور دراوڑی عقائد اور نظریات کے ادغام کی، اور قدیم ترین قبل تاریخ زمانے کی جیسی ترجمانی پرانوں کے ذریعے ہوتی ہے، کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ یہ الہامی کتابوں سے بھی زیادہ مقبول اور ہر دل عزیز ہیں۔ مشہور رزمیہ نظموں رامائن اور مہابھارت کو بھی لوک کتھاؤں کے مآخذ کے اعتبار سے اسی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان میں اس برصغیر میں نسل انسانی کے ارتقا کی داستان اور اس کے اجتماعی لاشعور کے اولین نقوش کچھ اس طرح محفوظ ہوگئے ہیں کہ ان کو جانے اور سمجھے بغیر ہندوستان کی روح کی گہرائیوں تک پہنچنا مشکل ہے۔<br>
تاریخی اعتبار سے پران ہندو مذہب کے ارتقا کی اس منزل کی ترجمانی کرتے ہیں، جب بدھ مت سے مقابلے کے لیے ہندو مذہب تجدید اور احیا کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس سے پہلے ویدوں کی رسوم پرستی اور برہمنیت کے خلاف ردعمل کے طور پر بدھ مت اپنی سادگی، معاشرتی عدل اور عملی روح کی وجہ سے قبول عام حاصل کرچکا تھا۔ لیکن بدھ مت میں خدا کا تصور نہیں تھا۔ اپنشدوں کا برہمہ (مصدر ہستی)کا تصور بھی انتہائی تجریدی اور فلسفیانہ ہونے کی وجہ سے عوام کی دسترس سے باہر تھا۔ ہندو مذہب نے اس کمی کو اوتاروں کے آسانی سے دل نشین ہونے والے عقیدے سے پورا کیا اور رام اور کرشن جیسے مثالی کرداروں کو پیش کرکے عوام کے دلوں کو کھینچنا شروع کردیا۔ یہ انہیں کی شخصیت کا فیض تھا کہ ہندو مذہب کو پھرسے فروغ حاصل ہوا۔ پران اسی دور تجدید کی یادگار ہیں، اور انہیں نے ایک بار پھر مذہب کو عوام کے دل کی دھڑکنوں کا رازدار بنایا۔<br>
پرانوں کی کہانیوں میں برہما، وشنو، شو، پاروتی، اُما، درگا، لکشمی کے علاوہ دیوی دیوتاؤں اور رشیوں منیوں کے سینکڑوں کردار ایسے ہیں جو بار بار رونما ہوتے ہیں، ورُن، اگنی، اِندر، مارکنڈے، نارد، دُرواسا، سرسوتی، اوشا، ستیہ، ویاس، مارتنڈ، منو، مینکا، اُروشی، کَپِلا، راہو، کیتو،کام، کالندی، دکش، کادمبری، ہوتری، ماروتی، اشونی وغیرہ۔ ان میں سے کچھ تو انسانی کردار ہیں جو ایک بار سامنے آکر ختم ہوجاتے ہیں لیکن کچھ آسمانی کردار ہیں جو وقت کے محور پر ہمیشہ زندہ ہیں، اور جو کسی بھی یُگ یا کلپ میں رونما ہوسکتے ہیں۔ آسمانی اور زمینی کرداروں کے اس باہمی عمل سے ان کہانیوں کا تانا بانا تیار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی تاریخی حیثیت سے سروکار نہیں۔ اصل چیز ان کی معنویت ہے۔ ان کی تکرار سے ان سے منسوب صفات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ ہر کردار رمز ہے، علامت ہے، کسی تصور یا کسی قدر کی، جس کے ذریعے ذہن انسانی اپنے عالم طفولیت میں بدی اور نیکی کی طاقتوں کی حشر خیز کشمکش کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔<br>
(گوپی چند نارنگ)</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urduexcerpt">مزید <a href="https://laaltain.pk/category/literature/hindustani-kahanian/" target="_blank" rel="noopener">ہندوستانی کہانیاں</a> پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پرانے زمانے کی بات ہے اجودھیا میں راجا ہریش چندر راج کرتے تھے۔ وہ سچ بولنے، خیرات دینے اور اپنی رعایا کا خیال رکھنے میں مشہور تھے۔ ان کے راج میں کوئی بھوکا ننگا نہیں تھا اور تمام رعایا سُکھ چین سے رہتی تھی۔ ایک دن دیوتاوں کی محفل میں بڑے بڑے رشی منی جمع تھے۔ اِندر نے پوچھا، آج کل سب سے نیک نام راجا کون ہے؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">ایک دن دیوتاوں کی محفل میں بڑے بڑے رشی منی جمع تھے۔ اِندر نے پوچھا، آج کل سب سے نیک نام راجا کون ہے؟</div>
<div class="urdutext">وِششٹھ جی نے کہا، ‘اس وقت روئے زمین پر ہریش چندر جیسا دان کرنے اور سچ بولنے والا راجا نہیں۔ وِششٹھ جی کی تائید نارد منی اور کئی دوسرے منیوں نے بھی کی مگر وشوا متر خاموش بیٹھے رہے۔ ان میں اور وِششٹھ میں کچھ لگتی تھی۔ کہنے لگے،‘میں ہریش چندر کو خوب جانتا ہوں، وہ نہ تو دان ہی دے سکتا ہے، نہ سچائی کی کسوٹی ہی پر پورا اتر سکتا ہے۔ یقین نہ ہو تو امتحان لے کر دیکھ لو۔’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">چنانچہ وشوا متر نے راجا ہریش چندر کو نیچا دکھانے کی ایک ترکیب سوچی۔ ایک دن شکار کھیلتے کھیلتے ہریش چندر ایک گھنے جنگل میں اکیلے جا نکلے۔ وشوا متر نے برہمن کا بھیس بدلا اور وہاں پہنچ گئے۔ کہنے لگے “مہاراج یہاں پاس ہی بڑا پوتر تیرتھ ہے، اشنان کر کے دان پُن کیجیے۔ میں آپ کو ایودھیا کا راستہ بھی بتا دوں گا۔”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اشنان سے فارغ ہونے کے بعد ہریش چندر نے پوچھا، “برہمن دیوتا جس چیز کی ضرورت ہو مانگ لیجیے۔”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">برہمن نے کہا “میرے بیٹے کی شادی ہے۔ کچھ روپیہ مل جائے تو بڑی عنایت ہو۔”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">برہمن نے ہریش چندر کو اپنے بیٹے اور بہو سے بھی ملایا، اور راجا کی موجودگی میں شادی کی رسم ادا کر دی۔ ہریش چندر دیدی میں بیٹھے تھے جب دان کا وقت آیا تو انہوں نے کہا “آپ جو چاہیں مانگ لیں۔”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس پر برہمن نے کہا “مہاراج اگر آپ میرے بیٹے کو اپنا پورا راج دان کر دیں تو ہم آپ کا احسان کبھی نہیں بھول سکیں گے”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہریش چندر نے بغیر تامل کے اس کا اقرار کر لیا۔ تب برہمن نے کہا، “مہاراج! آپ جیسا سخی راجا اس روئے زمین پر دوسرا نہیں۔ منہ مانگا دان تو آپ نے دے دیا، اب اس کی دکھشنا بھی تو دیجیے۔ جتنا بڑا دان آپ نے دیا ہے، دکھشنا بھی اتنی ہی بڑی ہونی چاہیے۔ دکھشنا کے بغیر تو دان بے کار ہے”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">راجا نے پوچھا “مہربانی کر کے بتائیے، کتنی دکھشنا دینی ہو گی”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">وشوا متر نے کہا “ڈھائی من سونا کافی ہے”۔ راجا نے سر جھکا کر وعدہ کر لیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">یہ سب راج پاٹ آپ کو سونپ رہا ہوں۔ میں آج ہی کہیں اور چلا جاوں گا۔ یہ راج چھوڑنے کے بعد میرے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں۔ حیران ہوں کہ آپ کو ڈھائی من سونا کہاں سے دوں۔</div>
<div class="urdutext">اتنے میں راجا کے سپاہی انہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے جنگل آ نکلے۔ برہمن غائب ہو گیا۔ اب راجا کو دھیان آیا کہ میں نے تو سارا راج پاٹ دان دے دیا۔ ضرور اس برہمن کے سوال کے پیچھے کوئی گہری بات ہے۔ محل پہنچنے پر راجا کو پریشان دیکھ کر رانی شِویا نے وجہ پوچھی۔ راجا نے ساری بات بتا دی۔ سوچتے سوچتے اور کروٹیں بدلتے بدلتے ساری رات گزر گئی۔ صبح پوجا پاٹھ کر کے اٹھے ہی تھے کہ وشوا متر اسی برہمن کے بھیس میں پھر آ پہنچا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">راجا نے کہا “یہ سب راج پاٹ آپ کو سونپ رہا ہوں۔ میں آج ہی کہیں اور چلا جاوں گا۔ یہ راج چھوڑنے کے بعد میرے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں۔ حیران ہوں کہ آپ کو ڈھائی من سونا کہاں سے دوں۔ تھوڑی سی مہلت دیجیے۔ جیسے ہی انتظام ہو جائے گا میں دکھشنا بھی دے دوں گا”۔ یہ کہہ کر ہریش چندر رانی شِویا اور بیٹے روہتاس کے ساتھ محل سے باہر آئے۔ لوگوں کو راجا کے جانے کا بہت دکھ ہوا لیکن وہ کر بھی کیا سکتے تھے۔ اب ہریش چندر گاوں گاوں شہر شہر بھٹکنے لگے۔ جب برہمن کا اصرار بڑھا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ بنارس جا کر خود کو بیچ دیں گے؛ اور اس طرح جو کچھ بھی ملے گا، برہمن کی دکھشنا دیں گے۔ اس پر رانی نے روتے ہوئے کہا:</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“میں آپ کو اپنا آپ کبھی نہ بیچنے دوں گی۔ میں ہزار بار قربان ہونے کو تیار ہوں۔ کیوں نہ آپ مجھے کسی امیر کے ہاتھ بیچ دیں، گھر کے کام کاج کے لیے داسی کی ضرورت سبھی کو ہوتی ہے”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">رانی کی بات سن کر ہریش چندر غش کھا کر گر پڑے۔ جب ہوش میں آئے تو زار زار رونے لگے اور کہنے لگے: “رانی میرے جیتے جی ایسا نہ ہو گا”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کل کے راجا اور رانی اب بھکاریوں کی طرح مارے مارے پھرنے لگے۔ ان کا بیٹا روہتاس بھی کئی دنوں کا بھوکا پیاسا تھا۔ اس بے چارے کو کیا پتا کہ اس کے والدین پر کیا مصیبت ٹوٹی ہے۔ اگلے دن وشوا متر پھر آ نکلے۔ کافی دیر بحث و تکرار ہوتی رہی۔ آخر رانی کے کہنے پر راجا ہریش چندر نے کہا: “اچھا تو ایسا ہی سہی۔ اپنے وعدے کو نبھانے کے لیے وہ کام بھی کروں گا جو ذلیل سے ذلیل آدمی بھی نہیں کر سکتا”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">چناچہ وہ بنارس کے سب سے بارونق چوراہے پر جا کھڑے ہوئے اور رُندھے ہوئے گلے سے اونچی آواز میں کہنے لگے: “لوگو! میں اپنی جان سے بھی پیاری بیوی کو بیچ رہا ہوں۔ گھر کے کام کے لیے جس کو داسی کی ضرورت ہو، جلدی سے اس کے دام لگائے۔ اس مصیبت میں میری جان نکلنے سے پہلے سودا طے کر لو”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">آپ اس بچے کو بھی خرید لیجیے، نہیں تو میرا خریدنا بھی بے کار ہے۔ میں اس کی ماں ہوں، اس کے بغیر نہیں جی سکتی۔</div>
<div class="urdutext">وشوا متر اب ایک بوڑھے شخص کے بھیس میں نمودار ہوئے اور رانی کو چند سونے کی مہروں کے بدلے خرید لیا۔ جب بوڑھا رانی کو گھسیٹ کر لے جانے لگا تو رانی نے کہا “مجھے ایک بار اپنے پیارے بیٹے کو گلے سے لگا لینے دو۔ کون جانے پھر اسے دیکھ بھی سکوں گی یا نہیں”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بیٹا ماں سے لپٹ گیا۔ جب بوڑھے نے دیکھا کہ بیٹا ماں کو چھوڑتا ہی نہیں، تو اس نے معصوم بچے کے منہ پر طمانچہ جڑ دیا اور کھینچ کر ماں سے الگ کر دیا۔ ماں کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے۔ رانی نے بوڑھے سے کہا “آپ اس بچے کو بھی خرید لیجیے، نہیں تو میرا خریدنا بھی بے کار ہے۔ میں اس کی ماں ہوں، اس کے بغیر نہیں جی سکتی۔ آپ کی بڑی مہربانی ہو گی۔ یہ میری آنکھوں کے سامنے رہے گا تو میں آپ کی سیوا اچھی طرح کر سکوں گی”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بوڑھے نے بچے کو بھی خرید لیا۔ رانی نے ہریش چندر کو پرنام کیا اور آنسو بہاتی ہوئی بولی “اے بھگوان، اگر میں نے کبھی غریبوں اور محتاجوں کی کچھ بھی مدد کی ہو، اگر میں نے دنیا میں کوئی بھی نیک کام کیا ہو یا اگر میں نے برہمنوں کی کچھ بھی خدمت کی ہو تو میرا پتی مجھے واپس مل جائے”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہریش چندر اپنی بے بسی پر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ ان کے ہاتھ پاوں جواب دے گئے۔ درخت کی چھاوں اسے چھوڑ کر کہیں نہیں جاتی، پھر رانی انہیں چھوڑ کر کیسے چلی گئی۔ انہیں یقین نہیں آتا تھا کہ کیا ہو رہا ہے، یا انہیں کن برے کرموں کا پھل مل رہا ہے۔ انہیں راج پاٹ اور جلا وطنی کا ذرا بھی افسوس نہ تھا لیکن بیوی اور بچے کی جدائی کو وہ کیسے برداشت کریں گے؟ انہیں وہ منظر کبھی بھی نہیں بھولتا تھا جب رخصت ہوتے وقت رانی اور بچہ مڑ مڑ کر ہریش چندر کی طرف دیکھتے تھے اور بوڑھا انہیں کوڑے مار مار کر آگے کی طرف گھسیٹتا تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تھوڑی دیر میں برہمن اپنی دکھشنا لینے پہنچ گیا۔ ہریش چندر نے اس کے پاوں چھوئے اور جو مہریں بیوی اور بچے کے بیچنے سے ملی تھیں، اسے دے دیں۔ وشوا متر نے کہا، “پہلے یہ بتاو کہ یہ مہریں تم نے کیسے حاصل کیں۔ کیا یہ تمہاری کمائی کی ہیں؟”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہریش چندر بولے “یہ معلوم کر کے آپ کیا کریں گے۔ ان کی کہانی بہت دردناک ہے۔ میں نے اپنی بیوی اور بچے کو بیچ کر یہ مہریں حاصل کی ہیں۔ آپ انہیں قبول کیجیے”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">سورج غروب ہونے سے پہلے ہریش چندر اپنے آپ کو بیچنے کے لیے چوک میں پہنچ گئے اور اپنی بولی لگوانے لگے۔</div>
<div class="urdutext">لیکن وشوا متر اتنی مہروں سے خوش نہ ہوئے اور بولے: “یہ تو بہت کم ہیں۔ مجھے پورا روپیہ چاہیئے اور آج سورج غروب ہونے سے پہلے چاہیے۔ میں اور انتظار نہیں کر سکتا۔ نہیں دے سکتے تو صاف صاف منع کر دو”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہریش چندر بولے “مہاراج، دوں گا اور ضرور دوں گا۔ تھوڑا سا وقت اور دیجیے”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">چنانچہ سورج غروب ہونے سے پہلے ہریش چندر اپنے آپ کو بیچنے کے لیے چوک میں پہنچ گئے اور اپنی بولی لگوانے لگے۔ کچھ دیر میں دھرم راج۔ چنڈال کے بھیس میں وہاں پہنچا۔ کالا رنگ، بڑے بڑے باہر نکلے ہوئے پیلے دانت، بھیانک شکل، سارے جسم سے بدبو آ رہی تھی۔ چنڈال نے کہا:</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“مجھے ایک خدمت گار کی ضرورت ہے۔ میں چنڈال ہوں۔ میرا کام مردے کا کفن لینا ہے۔ یہی تمہیں بھی کرنا ہو گا۔ بولو، منظور ہے؟”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہریش چندر پہلے ہی دکھوں کی مار سے بے حال ہو رہے تھے۔ بھیانک چنڈا کو دیکھ کر ان کی روح تک لرز گئی۔ لیکن کوئی اور خریدار بھی نہیں تھا اور سورج بھی ڈوبنے والا تھا۔ ہریش چندر نے ذرا سی دیر کے لیے سوچا کہ میں سورج بنسی کھتری خاندان سے ہوں، چنڈال کی غلامی کیسے کروں گا؟ لیکن وعدہ خلافی سے تو چنڈال کی غلامی ہی اچھی۔ اتنے میں وشوا متر آ پہنچے۔ ہریش چندر نے چنڈال کے سامنے سر جھکا دیا اور روپیہ لے کر وشوا متر کے قدموں میں رکھ دیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">چنڈال نے شمشان کا کام ہریش چندر کو سونپ دیا اور کہا “خبردار جو شمشان میں بغیر کفن کے کوئی بھی مردہ جلنے دیا۔ دن رات یہیں رہنا ہو گا۔ ذرا بھی غلطی کی تو کھال کھینچ لوں گا”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">جب کافی رات گئے شِویا اکیلی اپنے بیٹے کی لاش کے پاس پہنچی اور زور زور سے بین کرنے لگی تو لوگوں نے سمجھا کہ یہ کوئی بچے مارنے والی ڈائن ہے۔</div>
<div class="urdutext">کاشی کا یہ شمشان بہت خوفناک تھا۔ گنگا کنارے ہونے کی وجہ سے دور دور کے مرنے والوں کی لاشیں یہاں لائی جاتی تھیں۔ ہریش چندر ہر وقت وہیں لٹھ لیے چکر لگاتے رہتے۔ نہ دن کو چین تھا نہ رات کو آرام۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ادھر ایک اور مصیبت ٹوٹی۔ ایک دن روہتاس اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھیلنے کے بعد گھر واپس آ رہا تھا کہ اچانک اسے ایک کالے ناگ نے ڈس لیا۔ بچوں نے آ کر اس کی موت کی خبر اس کی ماں کو سنائی۔ وہ بے ہوش ہو کر گر پڑی۔ ہوش آنے پر اس نے اپنے مالک سے اپنے بیٹے کی لاش لانے کی اجازت مانگی تو اس نے کہا، پہلے گھر کا کام کاج ختم کر لو، پھر جا کر لاش کو دیکھ لینا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">جب کافی رات گئے شِویا اکیلی اپنے بیٹے کی لاش کے پاس پہنچی اور زور زور سے بین کرنے لگی تو لوگوں نے سمجھا کہ یہ کوئی بچے مارنے والی ڈائن ہے۔ لوگ اسے گھسیٹتے ہوئے چنڈال کے پاس لے گئے اور کہا کہ اس بچے مار کر کھانے والی ڈائن کو قتل کر دیا جائے۔ چنڈال نے رسی باندھ کر شویا کو خوب پیٹا پھر ہریش چندر کو بلا کر حکم دیا کہ “تلوار سے اس کا سر اڑا دو”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہریش چندر ایک عورت کے قتل کا کلنک اپنے ماتھے پر نہیں لینا چاہتے تھے، انہوں نے کہا “یہ کام مجھ سے نہیں ہو سکے گا”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">چنڈال نے کہا “ڈرو مت، تلوار نکالو اور اس کا سر الگ کر دو۔ یہ پاپ نہیں پُن ہے”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">رات کے اندھیرے میں نہ ہریش چندر نے شِویا کو پہچانا اور نہ شِویا نے ہریش چندر کو۔ جب شِویا نے نجات کی کوئی صورت نہ دیکھی تو بولی: “میرے ہاتھوں میں میرے ہی بیٹے کی لاش ہے۔ پہلے مجھے اسے جلا لینے دو پھر شوق سے مجھے مار ڈالنا”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اب بھی دونوں ایک دوسرے کو نہیں پہچان سکے۔ لیکن جب شِویا نے روتے روتے روہتاس کا نام لیا تو ہریش چندر پر جیسے بجلی گر پڑی۔ وہ وہرتاس کی لاش کو سینے سے لگا کر زور زور سے رونے لگے۔ لمحے بھر کو شِویا اپنے بیٹے کا صدمہ بھول گئی لیکن ہریش چندر کو چنڈال کا کام کرتے دیکھ کر اس کا کلیجہ پھٹ گیا۔ “اے بھگوان! جو کچھ میں دیکھ رہی ہوں وہ خواب ہے یا حقیقت؟ اگر حقیقت ہے تو دنیا میں دھرم کرم اور نیک کاموں کا پھل کیا ہے؟”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اب بچے کی لاش جلانے کے لیے ہریش چندر نے کہا کہ چنڈال کا حکم ہے کہ بغیر کفن لیے کسی کو بھی مردہ نہ جلانے دیا جائے۔ تمہیں بھی کہیں نہ کہیں سے کفن لانا ہوگا۔ شِویا نے کہا “سوامی اگر آپ چنڈال کے داس ہیں تو میں بھی کسی کی داسی ہوں۔ بیٹا جیسا میرا ہے ویسا ہی آپ کا بھی ہے۔ اس لاش کو جلانا آپ کا فرض ہے۔ میں کفن نہیں دے سکتی یہ آپ کو معلوم ہے۔”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">اس وقت آسمان سے امرت کی بوندیں ٹپکنے لگیں اور روہتاس زندہ ہو اٹھا۔ ہریش چندر اور شِویا کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔</div>
<div class="urdutext">ہریش چندر کا دل غم سے پھٹا جا رہا تھا۔ جس دھرم کو بچانے کے لیے انہوں نے اتنی مصیبتیں اٹھائی تھیں، وہی دھرم ان کے راستے میں روکاوٹ بن رہا تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“کچھ بھی ہو، کہیں سے بھی لاو۔ میں کفن لیے بغیر لاش نہیں جلانے دوں گا”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تب رانی نے اپنی دھوتی کا آدھا حصہ پھاڑ کر کفن کے طور پر دے دیا اور باقی حصے سے جیسے تیسے اپنے بدن کو ڈھانپ لیا۔ جب چِتا جلنے کو تھی تو شِویا نے کہا “اب آپ چاہیں تو اپنے مالک کے حکم کے مطابق میری گردن اڑا دیں”۔<br>
ہریش چندر کی قوت برداشت جواب دے رہی تھی۔ انہوں نے کہا “یہ مجھ سے نہ ہو گا۔ میں بھی اسی چتا میں کود کر خود کشی کر لوں گا”۔ یہ کہتے ہوئے وہ چتا میں کودنے کے لیے آگے بڑھے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ آسمان سے پھولوں کی بارش ہونے لگی، اور سبھی بڑے بڑے دیوتا دھرتی پر اتر آئے۔ دھرم راج بولے “مبارک ہو ہریش چندر! تم ہر آزمائش میں پورے اترے۔ فرض کی ادائیگی اور سچائی میں تم سے کوئی بازی نہیں لے جا سکتا”۔ اِندر نے کہا: “ہریش چندر، سچ کو نہ چھوڑنے سے تم نے تینوں دنیاوں پر فتح پا لی”۔<br>
اس وقت آسمان سے امرت کی بوندیں ٹپکنے لگیں اور روہتاس زندہ ہو اٹھا۔ ہریش چندر اور شِویا کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔ انہوں نے سب دیوتاوں کو پرنام کیا اور روہتاس کو چھاتی سے لگا کر پیار کرنے لگے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ایودھیا لوٹ آنے کے بعد پھر سے راجا ہریش چندر کے نام کا ڈنکا بجنے لگا، اور وہ اپنی رعایا کے دلوں پر راج کرنے لگے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">(ماخوذ از پرانوں کی کہانیاں، مرتبہ گوپی چند نارنگ)</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong><em> لالٹین پر ہندوستانی کہانیوں کا یہ سلسلہ تصنیف حیدر (<a href="http://www.adbiduniya.com/2015" target="_blank" rel="noopener">ادبی دنیا</a>) کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔</em></strong></div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b1%d8%a7%d8%ac%d8%a7-%db%81%d8%b1%db%8c%d8%b4-%da%86%d9%86%d8%af%d8%b1/">راجا ہریش چندر</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b1%d8%a7%d8%ac%d8%a7-%db%81%d8%b1%db%8c%d8%b4-%da%86%d9%86%d8%af%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
