<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>گلگت بلتستان Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/%DA%AF%D9%84%DA%AF%D8%AA-%D8%A8%D9%84%D8%AA%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/گلگت-بلتستان/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Fri, 31 May 2024 20:01:42 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>گلگت بلتستان Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/گلگت-بلتستان/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>گلگت بلتستان کی قاتل سڑکیں — مدیر کے نام خط</title>
		<link>https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%82%d8%a7%d8%aa%d9%84-%d8%b3%da%91%da%a9%db%8c%da%ba/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%82%d8%a7%d8%aa%d9%84-%d8%b3%da%91%da%a9%db%8c%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نور اکبر گوہر]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 14 Oct 2016 12:07:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[ٹریفک حادثات]]></category>
		<category><![CDATA[ٹریفک وارڈن]]></category>
		<category><![CDATA[گلگت بلتستان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=18790</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">نور اکبر: جان لیوا حادثات کے وقوع پزیر ہونے میں جہاں شہریوں کی مجرمانہ غفلت اور غیر ذمہ دارانہ رویہ کارفرما ہے وہیں  حکومت اور متعلقہ اداروں کو  بھی بری الزمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%82%d8%a7%d8%aa%d9%84-%d8%b3%da%91%da%a9%db%8c%da%ba/">گلگت بلتستان کی قاتل سڑکیں — مدیر کے نام خط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">اکیس سالہ نوجوان محفوظ خان کا تعلق پونیال کے خوبصورت وادی گیچ سے تھا۔ وہ کراچی کے ایک کالج میں بارہویں جماعت کا طالب علم تھا۔ وہ ایک مہینے قبل گلگت آیا تھا۔ محفوظ خان کو قریبی گاؤں گوہرآباد میں پیچھے سے آنے والی تیز رفتار کار نے اُس وقت ٹکر ماری جب وہ موٹر سائیکل پر سوار تھا۔ انہیں زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ٹریفک حادثے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں جس میں کسی نوجوان کو جان سےہاتھ دھونا پڑا۔ آج کل گلگت بلتستان میں مشکل سے ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہے جب کوئی خوفناک ٹریفک حادثہ رونما نہ ہوتا ہو۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ٹریفک حادثات کی ایک اہم وجہ غیر تجربہ کار اور ڈرائیونگ کے اصولوں سے نابلد ڈرائیور حضرات ہیں۔ صرف گاڑی کا سٹیرنگ ہاتھ میں لے کر لائن سیدھی کرنے سے کوئی ڈرائیور نہیں بن جاتا۔ ہمارے معاشرے میں یہ چلن عام ہے کہ آج جس نے گاڑی یا بائیک خرید لی، وہ اگلےدن اسے لے کر روڈ پرنکل آتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">جان لیوا حادثات کے وقوع پزیر ہونے میں جہاں شہریوں کی مجرمانہ غفلت اور غیر ذمہ دارانہ رویہ کارفرما ہے وہیں حکومت اور متعلقہ اداروں کو بھی بری الزمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔</div>
<div class="urdutext">گاڑی کی سیٹ پر براجمان بیشتر حضرات کو یہ تک نہیں معلوم ہوتا کہ کب انڈیکیٹرز کا استعمال کیا جائے اورکب لائٹ ڈم کی جائے، اہم موڑوں اور آبادی والی جگہوں پر کیوں کر گاڑی کی رفتار کم کی جائے۔ کیسے اور کس وقت اگلی گاڑی کو اوور ٹیک کیا جائے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اسی طرح کئی حضرات گاڑی چلاتے ہوئے سگریٹ نوشی اور موبائل پر باتیں کرتے ہیں جبکہ لمبے سفر پر چلنے والی گاڑیوں اور بسوں کے ڈرائیور حضرات ضروری آرام اور نیند پوری کئے بغیر ڈرائیونگ کرتے ہیں۔ بہت سے تو نشے کی حالت میں گاڑی چلاتے ہیں اور کچھ خود کو جہاز کا پائلٹ سمجھ کرخوفناک حد تک تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ان جان لیوا حادثات کے وقوع پزیر ہونے میں جہاں شہریوں کی مجرمانہ غفلت اور غیر ذمہ دارانہ رویہ کارفرما ہے وہیں حکومت اور متعلقہ اداروں کو بری الزمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے لئے محفوظ اور موثر ذرائع آمدورفت کی فراہمی یقینی بنائے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکومت کا رویہ اس حوالے سے قابل مذمت اور شرمناک ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">گلگت بلتستان میں سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ لینڈسلائیڈنگ، سیلاب، بارشوں اور دریائی کٹاؤ کی شکار سڑکوں کی سالوں مرمت نہیں کی جاتی۔ یہ الگ بات ہے کہ سڑکوں پر پڑے ملبے کی صفائی اور ان کی مرمت اُس وقت ضرور کی جاتی ہے جب کسی اہم حکومتی شخصیت کا یہاں سے گزرنا ہوتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">گلگت بلتستان میں سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ لینڈسلائیڈنگ، سیلاب، بارشوں اور دریائی کٹاؤ کی شکار سڑکوں کی سالوں مرمت نہیں کی جاتی۔</div>
<div class="urdutext">ٹریفک کی محفوظ روانی کو یقینی بنانے میں ٹریفک پولیس کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے تاہم گلگت بلتستان میں ٹریفک پولیس کا کردار علامتی ہے۔ ٹریفک وارڈن انہی سڑکوں اور مقامات پر فعال نظر آتے ہیں جہاں فوجی، بیوروکریٹ اور اہم حکومتی شخصیات کا آنا جانا ہوتا ہے۔ عوامی گزرگاہوں پر ٹریفک پولیس اہلکار جھُرمٹ کی شکل میں شہروں میں کہیں کہیں بغیر ہیلمٹ پہنے موٹرسائیکل سواروں کو جرمانے کرتے نظر آئیں گے۔ وہ شاذ و نادر ہی ڈرائیور حضرات اور موٹرسائیکل سواروں کا لائسنس چیک کرتے ہیں۔ ان موٹر سائیکل سواروں میں سے بہت سے کم عمر لڑکے ہوتے ہیں جو قانوناً گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے کے اہل نہیں ہوتے لیکن ٹریفک وارڈنز کی توجہ اس اہم مسئلے کی جانب نہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان قاتل سڑکوں کو کیسے محفوظ بنایا جائے۔ ایسے کیا اقدامات اُٹھائے جاسکتے ہیں جن سے ٹریفک حادثات میں کمی لائی جا سکے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">راقم کی نظر میں سرکاری سطح پر ڈرائیونگ کے تربیتی مراکز کا قیام عمل میں لایا جائے۔ ان مراکز میں ڈرائیونگ سیکھنے والے خواتین و حضرات کو گاڑی چلانے کے ساتھ ٹریفک کے اصول و قواعد کے حوالے سے بھی تربیت دی جائے اور صرف اُن خواتین و حضرات کو لائسنس جاری کیے جائیں جو رجسٹرڈ تربیتی مراکز سے تربیت یافتہ ہوں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ٹریفک حادثات میں اُس وقت تک کمی نہیں لائی جاسکتی جب تک سڑکوں کو محفوظ نہیں بنایا جاتا۔ اس لئے ضروری ہے کہ سیلاب، زلزلے اور بارشوں سے متاثرہ سڑکوں کی بروقت مرمت کی جائے جبکہ تنگ سڑکوں کو کھلا کیا جائے تاکہ وہ ٹرانسپورٹ کے لئے محفوظ اور موثر بنائی جا سکیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ٹریفک پولیس کا کردار موثر بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ انہیں صرف وی آئی پی مقامات پر ہی نہیں بلکہ ایسے تمام مقامات پر تعینات کیا جانا چاہیئے جہاں ٹریفک کا دباو زیادہ ہوتا ہے اور جہاں ٹریفک حادثات روز کا معمول ہیں۔ ٹریفک پولیس کی ذمہ داری ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے۔ اسی طرح اسکولوں، مساجد اور ہسپتالوں سمیت آبادی والی جگہوں پر محفوظ سپیڈ بریکرز بنائے جائیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">ٹریفک پولیس کا کردار موثر بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ انہیں صرف وی آئی پی مقامات پر ہی نہیں بلکہ ایسے تمام مقامات پر تعینات کیا جانا چاہیئے جہاں ٹریفک کا دباو زیادہ ہوتا ہے اور جہاں ٹریفک حادثات روز کا معمول ہیں۔</div>
<div class="urdutext">وہ گاڑیاں جو صحیح حالت میں نہیں ہیں ان کے چالان کیے جائیں۔ صرف ایسی گاڑیوں کو روڈ پرمٹ دیا جائے جو صحیح حالت میں ہیں اورسفر کے لئے محفوظ ہوں۔ اس حوالے سے ملک کے باقی علاقوں میں کلئیرینس سرٹیفیکیٹ دیا جاتا ہے جبکہ گلگت بلتستان میں اس نطام کی عدم موجودگی کی وجہ سے عوام گئی گزری پبلک اور پرائیویٹ گاڑیوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ مسافر گاڑیوں پر گنجائش سے زیادہ سواریاں اور وزن رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی حادثہ وقوع پذیر ہو سکتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مسافر اور مال بردار گاڑیوں پر گنجائش سے زیادہ وزن نہ ڈالا جائے جبکہ اس حوالے سے غفلت برتنے والے ڈرائیور حضرات کا لائسنس منسوخ کیا جائے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس تمام صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے، کیا حکومت، متعلقہ ادارے اور معاشرہ بحیثیت مجموعی اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لئے تیار ہیں؟ یا ہمیں مزید نوجوانوں کے اپنی جان سے جانے، خواتین کے بیوہ ہونے، بچوں کے یتیم ہونے اور غریب والدین کے اپنے سہاروں سے محروم ہونے کا انتظار ہے؟</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%82%d8%a7%d8%aa%d9%84-%d8%b3%da%91%da%a9%db%8c%da%ba/">گلگت بلتستان کی قاتل سڑکیں — مدیر کے نام خط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%82%d8%a7%d8%aa%d9%84-%d8%b3%da%91%da%a9%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جامعہ کراچی میں پہلا ‘غیر سیاسی’ یوم ثقافت گلگت بلتستان</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c%d8%9b-%d9%be%db%81%d9%84%d8%a7-%db%8c%d9%88%d9%85-%d8%ab%d9%82%d8%a7%d9%81%d8%aa-%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c%d8%9b-%d9%be%db%81%d9%84%d8%a7-%db%8c%d9%88%d9%85-%d8%ab%d9%82%d8%a7%d9%81%d8%aa-%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[آفاق بلاور]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 03 Oct 2016 06:33:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[عکس و صدا]]></category>
		<category><![CDATA[جامعہ کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[گلگت بلتستان]]></category>
		<category><![CDATA[گلگت بلتستان کی ثقافت]]></category>
		<category><![CDATA[یوم ثقافت]]></category>
		<category><![CDATA[یوم ثقافت گلگت بلتستان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=18378</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt"> گلگت بلتستان کی ثقافت سے طلبہ کو متعارف کرانے کے لیے گلگت بلتستان کی موسیقی، رقص اور پکوان تقریبات کا حصہ تھے۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c%d8%9b-%d9%be%db%81%d9%84%d8%a7-%db%8c%d9%88%d9%85-%d8%ab%d9%82%d8%a7%d9%81%d8%aa-%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa/">جامعہ کراچی میں پہلا ‘غیر سیاسی’ یوم ثقافت گلگت بلتستان</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">29 ستمبر 2016 کو جامعہ کراچی میں پہلی مرتبہ گلگت بلتستان کی ثقافت کا دن منایا گیا۔ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے طالب علم آفاق بلاو کا کہنا تھا کہ اس دن کے سلسلے میں منائی گئی تقریبات کی خاص بات ان کا ‘غیر سیاسی ہونا تھا، ان کے مطابق ان تقریبات کا کسی بھی طلبہ تنظیم سے کوئی تعلق نہیں۔’ آفاق بلاور کے مطابق اس سے قبل یہ دن مختلف طلبہ تنظیمیں اپنے طور پر مناتی تھیں۔ گلگت بلتستان کی ثقافت سے طلبہ کو متعارف کرانے کے لیے گلگت بلتستان کی موسیقی، رقص اور پکوان تقریبات کا حصہ تھے۔ اس موقع پر گلگلت بلتستان کے سیاسی حالات کی جھلک بھی دکھائی دی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تصاویر اور رپورٹ: آفاق بلاور</div>
<p><img fetchpriority="high" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-18379" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/1-1.jpg" alt="1" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/1-1.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/1-1-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/1-1-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<p><img decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-18380" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/2-1.jpg" alt="2" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/2-1.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/2-1-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/2-1-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<p><img decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-18381" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/3-1.jpg" alt="3" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/3-1.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/3-1-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/3-1-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-18382" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/4-1.jpg" alt="4" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/4-1.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/4-1-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/4-1-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-18383" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/5-1.jpg" alt="5" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/5-1.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/5-1-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/5-1-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-18384" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/6-1.jpg" alt="6" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/6-1.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/6-1-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/6-1-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-18385" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/7-1.jpg" alt="7" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/7-1.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/7-1-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/7-1-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-18386" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/8-1.jpg" alt="8" width="500" height="700" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/8-1.jpg 500w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/8-1-214x300.jpg 214w" sizes="(max-width: 500px) 100vw, 500px"></p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-18387" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/9-1.jpg" alt="9" width="500" height="700" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/9-1.jpg 500w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/9-1-214x300.jpg 214w" sizes="(max-width: 500px) 100vw, 500px"></p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-18388" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/10-1.jpg" alt="10" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/10-1.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/10-1-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/10-1-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c%d8%9b-%d9%be%db%81%d9%84%d8%a7-%db%8c%d9%88%d9%85-%d8%ab%d9%82%d8%a7%d9%81%d8%aa-%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa/">جامعہ کراچی میں پہلا ‘غیر سیاسی’ یوم ثقافت گلگت بلتستان</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ac%d8%a7%d9%85%d8%b9%db%81-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c%d8%9b-%d9%be%db%81%d9%84%d8%a7-%db%8c%d9%88%d9%85-%d8%ab%d9%82%d8%a7%d9%81%d8%aa-%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گلگلت بلتستان کی ترجمانی؛ رپورٹر ٹائمز کے فیس بک صفحات ہیک کر لیے گئے۔ مدیر کے نام خط</title>
		<link>https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d9%84%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b1%d8%ac%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%9b-%d8%b1%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9%d8%b1-%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d9%85/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d9%84%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b1%d8%ac%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%9b-%d8%b1%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9%d8%b1-%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d9%85/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[علی احمد جان]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 06 Sep 2016 07:07:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Gilgit Baltistan]]></category>
		<category><![CDATA[politics in gilgit baltistan]]></category>
		<category><![CDATA[reporter times]]></category>
		<category><![CDATA[آزادی صحافت]]></category>
		<category><![CDATA[رپورٹر ٹائمز]]></category>
		<category><![CDATA[سی پیک اور گلگت بلتستان]]></category>
		<category><![CDATA[صحافت پر حملہ]]></category>
		<category><![CDATA[گلگت بلتستان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=17793</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">علی احمد جان: حال ہی میں ہمارے بلاگ سے منسلک دو فیس بک صفحات "ساڈا اپنا بہاولپور" نامی کسی ہیکر کی جانب سے ہیک کر لیے گئے ہیں اور ان کی جانب سے ہمیں دھمکی آمیز پیغامات بھی وصول ہو رہے ہیں۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d9%84%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b1%d8%ac%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%9b-%d8%b1%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9%d8%b1-%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d9%85/">گلگلت بلتستان کی ترجمانی؛ رپورٹر ٹائمز کے فیس بک صفحات ہیک کر لیے گئے۔ مدیر کے نام خط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-medium wp-image-3211" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/12/Letter-to-Editor-300x126.png" alt="Letter-to-Editor" width="300" height="126" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/12/Letter-to-Editor-300x126.png 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/12/Letter-to-Editor.png 600w" sizes="(max-width: 300px) 100vw, 300px"></p>
<div class="urdutext">محترم مدیر!</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><a href="https://reportertimes.wordpress.com/" target="_blank" rel="noopener">رپورٹر ٹائمز</a> گلگت بلتستان کی خبریں عوام الناس تک پہنچانے کا ایک آن لائن ذریعہ ہے۔ یہ بلاگ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ابلاغ عامہ اور صحافت کے طالب علموں کی جانب سے شروع کیا گیا تھا۔ ہماری کوشش یہی رہی ہے کہ ہم گلگت بلتستان کی حقیقی صورت حال عام پاکستانیوں تک پہنچائیں جن تک محض ریاستی پروپیگنڈا پہنچ پاتا ہے۔ یہ بلاگ اور اس سے منسلک فیس بک صفحات گلگت بلتستان کے عوام کے مسائل سامنے لانے کے لیے وقف رہے ہیں اور ہم نے کوشش کی ہے کہ لوگوں کو سچائی سے آگاہ کیا جائے۔ گلگت بلتستان اس وقت عالمی توجہ کا مرکز ہے اور اقتصادی راہداری کی گزرگاہ ہونے کی وجہ سے یہاں ریاست کی جانب سے شہری آزادیوں اور سیاسی جدوجہد پر غیراعلانیہ پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ اس صورت حال میں مقامی آبادی کے مطالبات، مسائل اور شکایات باقی پاکستان تک پہنچانے کا عمل متاثر ہوا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ایک جانب ذرائع ابلاغ عامہ پر ریاستی پروپیگنڈا جاری ہے اور دوسری جانب رپورٹر ٹائمز جیسے معمولی آن لائن پلیٹ فارم نوجوانوں اور مقامی کارکنوں کو اپنی آواز اٹھانے اور حقائق سامنے لانے کا موقع فراہم کر رہے تھے۔ کیوں کہ ہمارا نصب العین ہی یہ ہے “Media can’t be free, but Journalist can” اور اسی نصب العین کے تحت ہم نے اقتصادی راہداری، عوامی ایکشن کمیٹی کے عہدیداران کی گرفتاریاں اور دیگر موضوعات پر خبریں اور تجزیے شائع کرنا شروع کیے۔ ہماری یہ جرات اظہار بعض حلقوں کو پسند نہیں آئی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_17795" aria-describedby="caption-attachment-17795" style="width: 900px" class="wp-caption aligncenter"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-large wp-image-17795" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/09/RT-PTV-1024x558.jpg" alt="رپورٹر ٹائمز کے فیس بک صفحات ہیک کر کے ان کے نام تبدیل کر دیے گئے ہیں" width="900" height="490" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/09/RT-PTV-1024x558.jpg 1024w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/09/RT-PTV-300x163.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/09/RT-PTV-768x418.jpg 768w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/09/RT-PTV.jpg 1037w" sizes="(max-width: 900px) 100vw, 900px"><figcaption id="caption-attachment-17795" class="wp-caption-text">رپورٹر ٹائمز کے فیس بک صفحات ہیک کر کے ان کے نام تبدیل کر دیے گئے ہیں</figcaption></figure>
<div class="urdutext">حال ہی میں ہمارے بلاگ سے منسلک دو فیس بک صفحات “ساڈا اپنا بہاولپور” نامی کسی ہیکر کی جانب سے ہیک کر لیے گئے ہیں اور ان کی جانب سے ہمیں دھمکی آمیز پیغامات بھی وصول ہو رہے ہیں۔ ہیکرز کی شناخت اور مقاصد واضح نہیں تاہم ان کے انداز اور دھمکیوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ ہماری شائع کردہ خبروں سے ناخوش ہیں اور ہماری آواز دبانا چاہتے ہیں۔ ہمارے فیس بک کے پیجز کے نام بھی بدل دئیے گئے ہیں تاہم پیجز پر موجود رپورٹر ٹائمز کا مواد اب بھی موجود ہے۔ ہمارے اور گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے لیے یہ صورت حال تشویش ناک ہے۔ یہ صحافت اور آزادی اظہار رائے پر حملہ ہے اور گلگت بلتستان کے عوام کی مشکلات سامنے لانے والوں کے لیے ایک طرح کی دھمکی بھی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">آپ کے جریدے کی توسط سے ہم اپنے قارئین اور تمام پاکستانیوں تک یہ پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ ہمارے قارئین ہماری خبروں اور دیگر مواد تک ہمارے <a href="https://www.facebook.com/ReporterTimes1/?__mref=message_bubble" target="_blank" rel="noopener">نئے فیس بکصفحے</a> کے ذریعے رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ امید ہے سچ اور جرات اظہار کا یہ سفر جاری رہے گا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">فقط<br>
علی احمد جان<br>
مدیر رپورٹر ٹائمز</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d9%84%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b1%d8%ac%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%9b-%d8%b1%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9%d8%b1-%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d9%85/">گلگلت بلتستان کی ترجمانی؛ رپورٹر ٹائمز کے فیس بک صفحات ہیک کر لیے گئے۔ مدیر کے نام خط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d9%84%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b1%d8%ac%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%9b-%d8%b1%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9%d8%b1-%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خالصہ سرکار؛ تاریخی حقائق اور حکومتی تعبیر-مدیر کے نام خط</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ae%d8%a7%d9%84%d8%b5%db%81-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%9b-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa%db%8c-%d8%aa/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ae%d8%a7%d9%84%d8%b5%db%81-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%9b-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa%db%8c-%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[شیر علی انجم]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 22 Aug 2016 06:19:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی اراضی اور گلگت بلتستان]]></category>
		<category><![CDATA[کشمیر اور گلگت بلتستان]]></category>
		<category><![CDATA[گلگت بلتستان]]></category>
		<category><![CDATA[گلگت بلتستان کی تاریخ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=17474</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">شیر علی انجم: ہمارے علاقے ہمارے وسائل کی وجہ سے پاکستانی کہلاتے ہیں مگر یہاں قانون کی عملداری اسلام آباد کے مزجپر منحصر ہے۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ae%d8%a7%d9%84%d8%b5%db%81-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%9b-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa%db%8c-%d8%aa/">خالصہ سرکار؛ تاریخی حقائق اور حکومتی تعبیر-مدیر کے نام خط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-medium wp-image-3207" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/12/Letter-to-Editor-300x233.jpg" alt="Letter-to-Editor" width="300" height="233" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/12/Letter-to-Editor-300x233.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/12/Letter-to-Editor.jpg 600w" sizes="(max-width: 300px) 100vw, 300px"></p>
<div class="urdutext">خالصہ سرکار کی تشریح ہمارے خطے میں ایک قومی مسئلہ ہے لیکن اس اہم مسئلے کی طرف آج تک کسی سیاسی، سماجی اور مذہبی تنظیم نے توجہ نہیں دی۔ ہمارے ہاں خالصہ سرکار سے مراد وہ اراضی ہے جو بنجر ہے یا قابل کاشت، کسی کے زیر استعمال ہے یا خالی پڑی ہے لیکن کسی فرد واحدکی ملکیت میں نہیں بلکہ خالصہ سرکار کے نام سے قدیم بندوبستی کاغذات میں رجسٹر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف ہمارے خطے میں ایسی زمین کو سرکاری ملکیت تصور کیا جاتا ہے اور ضرورت پڑنے پر عوامی ملکیتی اراضیوں کو بغیر کسی معاوضے کے حکومت اپنی تحویل میں لے کر ضرورت کے لئے استعمال کرتی ہے۔ ہمارے عوام کے ذہنوں میں شروع دن سے ایک ہی بات ڈالی گئی ہے کہ خالصہ سرکار سے مراد سرکاری زمین ہے جس پر صرف سرکار کو حق ملکیت حاصل ہے یوں اس جھوٹی اور من گھڑت تعریف اور تشریح کی وجہ سے ہمارے عوام کو اکثر اوقات اپنے زیر استعمال زمینوں سے بغیر کسی معاوضے کے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ عوام نے کچھ نہ بولنے کی قسم کھائی ہوئی ہے اس وجہ سے ہم آج بھی بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">ضرورت پڑنے پر عوامی ملکیتی اراضیوں کو بغیر کسی معاوضے کے حکومت اپنی تحویل میں لے کر ضرورت کے لئے استعمال کرتی ہے۔</div>
<div class="urdutext">یہاں یہ بات بھی بتانا ضروری ہے کہ تقسیم ہند کے وقت گلگت بلتستان سابق ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھا اور تقسیم برصغیر کے وقت ہم مہاراجہ کشمیر کے زیرِ نگیں تھے۔ اس حوالے سے مزید بحث کرنے سے پہلے یہ بھی معلوم ہونا ضروری ہے کہ اگر ہم تاریخ کے اوراق کو پلٹیں توپتا چلتا ہے کہ ڈوگروں سے پہلے سکھ سلطنت برصغیر میں ایک اہم طاقت تھی جو مہاراجہ رنجیت سنگھ کی قیادت میں ابھری۔ سکھوں نے 1799ء میں لاہور پر قبضہ کر لیا اور پنجاب کے ارد گرد کے علاقوں پر سلطنت قائم کی اور یہ سلطنت 1799ء سے 1849ء تک قائم رہی۔ اس وقت ہندوستان میں کئی سکھ سیاسی تنظیمیں خالصہ ریاست کی بحالی کے لئے باقاعدہ سیاسی جدوجہد کر رہی ہیں۔ اس ریاست کا نام خالصہ سرکاریا سکھ پنجابی بادشاہت تھا جو امرتسر اور لاہور سے ابھر کر پنجاب و گرد و نواح پر قابض ہوئی۔ یہ ریاست ایک وقت میں برصغیر ہند وپاک کی ایک اہم طاقت تھی، جس کے اثرات اس وقت گلگت بلتستان اور گردو نواح تک بھی پہنچے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ خالصہ سرکار حکومت 1799 سے 1849 تک رہی اور اس کے بعد پنجاب میں لڑی جانے والی انگریز سکھ جنگوں میں یہ سلطنت تباہ و برباد ہو گئی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">رنجیت سنگھ نے پنجاب میں پھیلی نیم خود مختار سکھ مسلوں یا راجدھانیوں کو منظم کر کے خالصہ سرکار یا سکھا شاہی حکومت کی بنیاد ڈالی۔ اپنے عروج پر یہ سلطنت خیبر پاس سے لے کر تبت کے وسط تک اور مٹھی کوٹ کشمیر تک پھیل چکی تھی۔ زور آور سنگھ کشمیر میں سکھوں کے گورنر جموں، گلاب سنگھ کا وزیر تھا جو وہاں سے آگے سکھا شاہی کے قیام کے لئے بڑھا۔ اس نے لداخ کو 1840 میں فتح کیا۔ وزیر سنگھ نے اسی سال سکردو کو بھی فتح کیا۔ فتح کے بعد اس نے بلتی سپاہ کو اپنی فوج میں شامل کیا اور پھر تبت پر بھی حملہ آور ہوا۔ دوسری طرف سکھ فوج کا ہی کرنل نتھو شاہ، گلگت پر حملہ آور ہوا اور پہلی مرتبہ راجہ گوہر امان کو شکست دے کر اس نے گلگت میں قدم جما لئے۔ وہ 1848 میں، نو مل کے قریب جنگ میں ہلاک ہوا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">تمام تر تاریخی تناظر میں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ڈوگروں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی یہاں کے باشندے آئینی اور قانونی طور پر مملکت پاکستان کے شہری قرار نہیں دیے جا سکے</div>
<div class="urdutext">خالصہ سرکار کے وقت میں ان کے چار صوبے تھے۔ لاہور، ملتان، پشاور اور کشمیر۔ کرنل زور آور سنگھ گلگلت پر سرینگر کی جانب سے حملہ آور ہوا تھا اور سرینگر کے حکمران کو ہی جواب دہ تھا۔ 16 مارچ 1840 کو معاہدہ امرتسر کے تحت انگریزوں نے گلگت اور لداخ بشمول بلتستان کی وزارتیں، جموں کے ڈوگرہ راجے کے حوالے کیں۔ کرنل نتھو شاہ، حکمران تبدیل ہونے پر پریشان ہو کر سرینگر گیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ اسے اب تنخواہ اور مراعات کون دے گا۔ ڈوگرہ نے اسے اپنی گلگت عملداری جاری رکھنے کو کہا۔ بالآخر 1860 میں کرنل نرائن سنگھ گلگت پر پوری طرح سے قابض ہو گیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سیاسی حوالے سے بھی یہ تاریخ اہم ہے۔ سکھ دور سے لے کر ڈوگرہ دور تک کا موازنہ سامنے رکھتے ہوئے اگر چھبیس اکتوبر1947 کو مہاراجہ کی طرف سے ہندوستان سے الحاق کی داستان دیکھی جائے تو مقامی لوگوں کے حقوق غصب کیے جانے کا ایک نیا دور شروع ہوتا نظر آتا ہے۔ ڈوگرہ دور سے نکل کر ہندوستان کا حصہ بننے اور یکم نومبر کو مقامی جدوجہد کے ذریعے ہندوستان سے آزادی کے بعد جس طرح سے مقامی آبادی کو پاکستان میں شامل کیا گیا اس کا جائزہ بھی اہم ہے۔ اس تمام تر تاریخی تناظر میں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ڈوگروں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی یہاں کے باشندے آئینی اور قانونی طور پر مملکت پاکستان کے شہری قرار نہیں دیے جا سکے لیکن جب ہمارے وسائل کی بات آتی ہے تو یہی کہا جاتا ہے کہ یہاں کے لوگ پاکستان کا اثاثہ اور پہچان ہیں۔ عوامی حقوق کے لئے جب کبھی گلگت بلتستان کے عوام نے آواز بلند کرنے کی کوشش کی تو اس خطے میں مذہبی منافرت کو ہوا دی گئی یوں لوگ اصل مسائل سے ہٹ کر آپس میں الجھتے رہے۔ لہٰذا ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیئے کہ انقلاب گلگت کی ناکامی کے بعد جب پاکستان اور آزاد کشمیر کے رہنماوں نے مل کر اس خطے کو دوبارہ کشمیر کی رسی سے باندھ لیا ہے تو جو حقوق سابق ریاست کے باقی خطوں کو حاصل ہیں وہی حقوق گلگت بلتستان کو بھی ملنے چاہیئں لیکن ہمارے مقامی سیاست دانوں کی مجبوری یہ رہی کہ وہ پاکستان سے ایسا کچھ بھی منوانے میں ناکام رہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">ہمارے علاقے ہمارے وسائل کی وجہ سے پاکستانی کہلاتے ہیں مگر یہاں قانون کی عملداری اسلام آباد کے مزجپر منحصر ہے۔</div>
<div class="urdutext">ہمارے علاقے ہمارے وسائل کی وجہ سے پاکستانی کہلاتے ہیں مگر یہاں قانون کی عملداری اسلام آباد کے مزجپر منحصر ہے۔ یہاں تب بھی احتجاج نہیں ہوا جب 1927 کا سٹیٹ سبجیکٹ رول ختم کیا گیا۔ آج کشمیرکے رہنما کس منہ سے ہماری دھرتی کے دعوے دار ہیں سمجھ سے بالاتر ہے۔ موجودہ حالات اور تاریخی حقائق کی روشنی میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کے خلاف ورزیوں کو روکنا یہاں کے بیس لاکھ عوام کا قانونی حق ہے۔ تاریخ کے آئینے میں اگر دیکھیں تو اس وقت گلگت بلتستان میں خالصہ سرکار کے حوالے سے جو حکومتی اصطلاحی تعریف ہے وہ پانچویں صوبے کے نعرے سے مماثل ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ الحاق بھارت سے بغاوت کرکے ڈوگروں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے لے کر اب تک یہ خطہ آئینی اور قانونی طور پر کسی ملک کا حصہ نہیں لہٰذا جب تک مسئلہ کشمیر کے حل کی کوئی پیش رفت نہیں ہوتی یہاں کی تمام زمینیں قانونی طور پر عوامی ملیکت ہیں اور غیر ریاستی عناصر یا اداروں کو اس خطے کی زمینوں کو الاٹ کرنے کا مقامی حکومت کو کوئی اختیار نہیں۔ اس حوالے کچھ مہینے پہلے قانون ساز اسمبلی میں حزبِ اختلاف نے ایک بل بھی جمع کرایا تھا لیکن تادم تحریر اس حوالے سے بحث کی کوئی اطلاع نہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">وفاق پاکستان کو چاہیئے کہ اس خطے کے عوام کی حُب الوطنی کا مزید امتحان نہ لیا جائے اور یہاں وسائل اور زمینوں پر اس خطے کے عوام کو جو قانونی حق حاصل ہے اسے تسلیم کر کے عوام کو حق ملکیت دیا جائے۔ اس وقت اگر کوئی مقامی باشندہ اپنے زیرِ استعمال اراضی کے اپنے نام انتقال ملکیت کی درخواست دے تو سرکاری اہلکار یہ کہتے ہیں کہ اُنیس سو بیانوے سے قانون انتقال معطل ہے لیکن حکومت کی مرضی سے کئی سو کنال اراضی پچھلے دنوں ریاستی اداروں کے نام نجانے کس قانون کے تحت منتقل کی گئی ہے۔ عوام اتنا جانتے ہیں کہ یہاں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس والا معاملہ ہے لیکن یہ روش اب ختم ہونی چاہیئے کیوں کہ دنیا بدلتی جارہی ہے، نئی نسل باشعور ہے جو شدت سے اس بات کو محسوس کرتی ہے کہ انہیں پاکستان کی جانب سے دھوکہ دیا جا رہا ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ae%d8%a7%d9%84%d8%b5%db%81-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%9b-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa%db%8c-%d8%aa/">خالصہ سرکار؛ تاریخی حقائق اور حکومتی تعبیر-مدیر کے نام خط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ae%d8%a7%d9%84%d8%b5%db%81-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%9b-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%82-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa%db%8c-%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گلگت بلتستان؛ جبر کا نظام کب تک؟</title>
		<link>https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%9b-%d8%ac%d8%a8%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%a8-%d8%aa%da%a9%d8%9f/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%9b-%d8%ac%d8%a8%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%a8-%d8%aa%da%a9%d8%9f/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[شیر علی انجم]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 06 Mar 2016 10:28:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[CPEC and Gilgit Baltistan]]></category>
		<category><![CDATA[Gilgit Baltistan]]></category>
		<category><![CDATA[Gilgit Baltistan Politics]]></category>
		<category><![CDATA[اقتصادی راہداری اور گلگت بلتستان]]></category>
		<category><![CDATA[گلگت بلتستان]]></category>
		<category><![CDATA[گلگت بلتستان کی سیاست]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=15561</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">قانون کے رکھوالوں کا سیاسی انتقام لینے کے لیے عوام کو ہراساں کرنے کا یہ سلسلہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہاں تو گاوں گاوں، قریہ قریہ پولیس کا سپاہی خود کو محلے کا حکمران سمجھتا ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%9b-%d8%ac%d8%a8%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%a8-%d8%aa%da%a9%d8%9f/">گلگت بلتستان؛ جبر کا نظام کب تک؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-medium wp-image-5780" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2014/05/youth-yell-300x133.jpg" alt="youth-yell" width="300" height="133"></p>
<div class="leftpullquote">قانون کے رکھوالوں کا سیاسی انتقام لینے کے لیے عوام کو ہراساں کرنے کا یہ سلسلہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہاں تو گاوں گاوں، قریہ قریہ پولیس کا سپاہی خود کو محلے کا حکمران سمجھتا ہے۔</div>
<div class="urdutext">ایسا کیوں ہے کہ ہمارے خطے میں ایوان ا قتدار کے مکینوں کو سب اچھا ہے کے علاوہ کچھ سنائی نہیں دیتا؟ کیا وجہ ہے کہ خود کو عوامی نمائندہ کہلوانے والوں کو زمینی حقائق کا ادراک نہیں۔ گلگت بلتستان کے حکمرانوں کو دیکھ کر کہا یہی جا سکتا ہے کہ کرسی کا نشہ اوراقتدار کا مزہ اسی بات میں ہے کہ آنکھ بند کرکے “سب اچھا ہے” کا نعرہ لگاتے ہوئے تاریخ کو مسخ کرو۔ کامابی یہی ہے کہ اقتدار ہاتھ میں آتے ہی جھوٹ کو سچ اور فریب کو حقیقت بنا کر عوام کے سامنے پیش کرو، سادہ لوح عوام کو قومی حقوق کی اہمیت اور ضرورت سے بے خبر رکھ کر پانچ سال مل کرو اور پھر اگلے انتخابات میں نئے وعدے کرو۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے خطے کو اس وقت انتظامی حوالے سے جو مسائل درپیش ہیں وہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں کیونکہ جب سیاست دان اقتدار اور مراعات کو ہی سب کچھ سمجھیں تو ان کے ماتحت اداروں سے خیر کی توقع کیوں کرکی جا سکتی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ڈوگروں سے آزادی حاصل کیے دہائیاں گزر چکی ہیں لیکن ہمارے عوام کو معلوم ہی نہیں کہ ہماری سیاسی اہمیت اور تاریخی و جعرافیائی حیثیت کیا ہے کیونکہ مراعات یافتہ طبقے نے حقائق عوام سے پوشیدہ رکھے ہیں۔ جمہور کو اس سوال کا جواب آج تک نہیں دیا گیا کہ اگر الحاق کے حوالے سے کوئی قانونی اور آئینی جواز موجود ہیں تو پھر یہ سب ماجرا کیا ہے؟ یہاں پر قانون پر عمل درآمد کیوں نہیں ہو رہا؟ قانون کے رکھوالوں نے قانون کو گھر کی لونڈی کیوں بنایا ہوا ہے؟ قانون کے لمبے ہاتھ صرف حقوق کا مطالبہ کرنے اور خطے میں قانون کی بالادستی کے لئے جدوجہد کرنے والوں کے گریبان تک ہی کیوں دراز ہیں؟ قانون کے نام پر نئی نسل کو دہشت گرد قرار دینے کا یہ سلسلہ آخر کب رُکے گا؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">اقتصادی راہداری کا عظیم منصوبہ جو گلگت بلتستان کا سینہ چیر کر پاکستان کی آئینی حدود میں داخل ہو گا، اس منصوبے سے متعلق گلگت نلتستان کےحقوق پر بات کرنے کو کوئی تیار نظر نہیں آتا۔</div>
<div class="urdutext">قانون کے رکھوالوں کا سیاسی انتقام لینے کے لیے عوام کو ہراساں کرنے کا یہ سلسلہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہاں تو گاوں گاوں، قریہ قریہ پولیس کا سپاہی خود کو محلے کا حکمران سمجھتا ہے۔ پولیس گردی گلگت بلتستان کی تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں بلکہ صاحب اقتدار طبقے کی طرف سے مخالفین کو زدوکوب کرنے کا بہترین ہتھیار پولیس کا ادارہ ہی ہے۔ مقامی پولیس عوام کو تحفظ دینے کی بجائے حکمرانوں کی منشاء اور مرضی مقدم جانتی ہے۔یہ توداریل سے تعلق رکھنے والے زوہیب اللہ کی خوش قسمتی تھی کہ اُسے بے گناہی ثابت کرنے کے لئے پرنٹ میڈیا، سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کا سہارا حاصل تھا۔ اسے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے مقتدر طبقے کی منت سماجت کی بجائے اپنے موقف کی سچائی ثابت کرنے اور قانون کے سامنے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا موقع ملا، ورنہ یہاں تو نہ جانے کتنے زوہیب اللہ ہوں گے جو شب وروز پولیس گردی کا نشانہ بنتے ہیں اور کوئی ان کے مقدمات کی پیروی کرنے والا نہیں۔ زوہیب اللہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے لے کر اسے اشہتاری قرار دے کر عدالت میں پیش کرنے تک کے ہر مرحلے میں دیامرپولیس کا مکروہ چہرہ بُری طرح بے نقاب ہوا ہے۔ دیامر پولیس اہلکار ترقی کے لیے دہشت گرد عناصر سے مذاکرات کرنے اور پھر انہیں عدالت میں پیش کر کے سرکاری انعامی رقم ان دہشت گردوں کے مقدمات کی پیروی کے لیے استعمال کرنے جیسے گھناونے جرم میں ملوث ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ محکمہ پولیس گلگت بلتستان کو اس حوالے سے تفتیش کرنے کی ضرورت ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مقامی معاشی ضروریات پر وفاق پاکستان کا رویہ بھی مقامی آبادی کو نظرانداز کرنے کا ہے۔ اقتصادی راہداری کا عظیم منصوبہ جو گلگت بلتستان کا سینہ چیر کر پاکستان کی آئینی حدود میں داخل ہو گا، اس منصوبے سے متعلق گلگت نلتستان کےحقوق پر بات کرنے کو کوئی تیار نظر نہیں آتا۔ مقامی مراعات یافتہ حکمران طبقہ اس بات کی رٹ لگائے بیٹھا ہے کہ ہمیں بھی فائدہ ہو گا۔ اس اہم منصوبے سے متعلق بھی اسی فریب دہی سے کام لیا جا رہا ہے جو بغیر معاہدے کے الحاق کے بعد سے مقامی آبادی سے روا رکھی گئی ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل تک ہمیں اس خوش فہمی میں مبتلا رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہمیں کسی حوالے سے نظرانداز نہیں کیا جارہا ہے لیکن بدقسمتی سے حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کے چاروں صوبوں کو باقاعدہ روڈ میپ کے ذریعے اس عظیم منصوبے سے متعلق اعتماد میں لے کر اس منصوبے پر کام کو آگے بڑھایا جا رہا ہے مگر باشندگانِ گلگت بلتستان کو اعتماد میں لینا تو دور کی بات مقامی نمائندوں کو اس ضمن میں ہونے والے سرکاری اجلاسوں میں بھی نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اس اہم قومی مسئلے پر گلگت بلتستان کی قیادت کا خاموش رہنا مجرمانہ ہے اور عوام کے لیے گمراہ کن بھی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">اس وقت گلگت بلتستان میں جو لوگ نجی سطح پر بالخصوص شنگریلا بلتستان پر جو لوگ بغیر کسی رائلٹی اور ٹیکس کے قابض ہیں ان سے یہ سیاحتی مقام واپس لے کر محکمہ سیاحت گلگت بلتستان کے سپرد کر کے اس کی رائلٹی اور آمدنی عوام پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔</div>
<div class="urdutext">ہمارے مطالبات کے باوجود یہ بات اب روز روشن کی طرح عیاں ہوچُکی ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنی خارجہ حکمت عملی تبدیل نہیں کرے گا۔ پاکستان گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیرکے حل تک آئینی طور پاکستان میں شامل کرنے کے لئے تیار نہیں۔ یعنی اس وقت گلگت بلتستان آئینی اور قانونی طور پر کسی ملک کا حصہ نہیں اور اٹھائیس ہزار مربع میل پر مشتمل یہ خطہ انتظامی حوالے سے پاکستان کے زیر انتظام ہے۔ یہ خطہ اکثر پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے اس لئے یہاں کھیتی باڑی اور رہائش کے قابل زمین نہ ہونے کے برابر ہے۔ کہا یہ جارہا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم کے بننے کے بعد تقریباً پورا دیامر زیر آب آئے گا، اسی طرح بونجی ڈیم، سکردو ڈیم، استور حرچو ڈیم کے بننے کے بعد جو زمینیں رہائش اور کاشت کے قابل ہیں وہ بھی تقریباً ختم ہو جائیں گی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومت خالصہ ءِ سرکار یا عوامی تنازعات کو بہانہ بنا کر زبردستی لوگوں کی ملکیتی زمینوں پر قابض ہوتی جا رہی ہے۔ یہاں یہ بات بھی بتاتا چلوں کہ ہمارے عوام مہدی شاہ دور حکومت میں اس بات پر شکوہ کناں رہے کہ اُنہوں نے سرکاری فنڈز کی بندر بانٹ کی لیکن نون لیگ کی حکومت میں تو عوامی املاک کی بندر بانٹ ہو رہی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اقوام متحدہ کی قرادادوں کے مطابق اس خطے کی مستقبل کے حوالے سے فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے لہٰذاگلگت بلتستان کی سرزمین باشندگان ریاست کی ذاتی ملکیت ہے قانونی اور آئینی طور پر یہاں کے زمینوں کا ایک ٹکرا بھی خالصہ ءِ سرکار نہیں کیونکہ پاکستان کے ساتھ تمام تر محبت، خلوص اور جذبوں کے باوجود گلگت بلتستان آج بھی آئینی اور قانونی طور پرپاکستان کا حصہ نہیں بلکہ ڈوگرہ سرکار کے متاثرین میں سے ہےلہٰذا اس خطے کی مستقبل کا فیصلہ کئے بغیر یہاں خالصہ سرکار کے نام پر عوامی املاک پر قبضہ کرنے کا یہ سلسلہ اب بند ہوجانا چاہئے۔ اس وقت گلگت بلتستان میں جو لوگ نجی سطح پر بالخصوص شنگریلا بلتستان پر جو لوگ بغیر کسی رائلٹی اور ٹیکس کے قابض ہیں ان سے یہ سیاحتی مقام واپس لے کر محکمہ سیاحت گلگت بلتستان کے سپرد کر کے اس کی رائلٹی اور آمدنی عوام پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ شنگریلا انتظامیہ اس وقت مقامی افراد سے بھی اس مقام پر داخلے کے لئے نامناسب فیس وصول کرتی ہے جو گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔ٓ متنازعہ حیثیت کے باوجود یہاں کے عوام کی ہمدردیاں پاکستان کے ساتھ ہیں لہٰذا متازعہ خطے میں کوئی بھی نظام لاگو کرنے سے پہلے اس خطے کی آئینی اور قانونی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ضروری ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%9b-%d8%ac%d8%a8%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%a8-%d8%aa%da%a9%d8%9f/">گلگت بلتستان؛ جبر کا نظام کب تک؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%9b-%d8%ac%d8%a8%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%a8-%d8%aa%da%a9%d8%9f/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بلتستان؛ تاریخ کے آئینے میں</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%9b-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%93%d8%a6%db%8c%d9%86%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%9b-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%93%d8%a6%db%8c%d9%86%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[شیر علی انجم]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 03 Feb 2016 13:05:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Art and Cultrure of Gilgit Baltistan]]></category>
		<category><![CDATA[Gilgit Baltistan]]></category>
		<category><![CDATA[History of Gilgit Baltistan]]></category>
		<category><![CDATA[بلتی زبان]]></category>
		<category><![CDATA[گلگت بلتستان]]></category>
		<category><![CDATA[گلگت بلتستان کی تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[گلگت بلتستان کی ثقافت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=14765</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">بلتستان کے زیادہ تر مقامی لوگ منگول قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو جسمانی خصائص کے اعتبار سے تبتی نسل کے مقامیوں سے قدرے مختلف ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%9b-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%93%d8%a6%db%8c%d9%86%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba/">بلتستان؛ تاریخ کے آئینے میں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">دو پہاڑی سلسلوں کوہ قراقرم اور ہمالیہ کے دامن میں 9968 مربع میل پر محیط بلتستان جسے آٹھویں صدی عیسوی تک پلولو کے نام سے جانا جاتا تھا آج سرزمین بے آئین ہے اور متنازع سمجھا جاتا ہے۔ تبت اور لداخ والے اس پورے علاقے کو بلتی اور یہاں کے باشندوں کو بلتی پا کے نام سے پُکارتے تھے۔ دوسری صدی عیسوی کے محقیقین اس علاقے کا بالتی کے نام سے ذکر کرتے تھے۔ تاریخی حوالے سے بلتستان کے 91فیصد پاشندے تبتی نژاد ہیں اور تبت والے زمانہ قدیم میں بلتستان کو نانگ گونگ کے نام سے پُکارتے تھے۔ کشمیری اس علاقے کو بوٹن سوری بوٹن یعنی خوبانیوں کا شہر پکارتے تھے۔ ایسی روایات بھی موجود ہیں کہ پولو اس خطے کا قدیمی کھیل رہا ہے اور زمانہ قدیم میں اس علاقے کے لوگوں کو ‘پولولو’ کے نام سے پکارا جاتا تھا یہی سبب ہے کہ آج بھی گلگت کے بعض باشندے بلتستان والوں کو اسی نام سے پُکارتے ہیں۔ لیکن آج یہ علاقہ بلتستان کے نام سے جانا جاتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">نام کی تبدیلی کے ساتھ یہاں کے لوگوں نے بلتی رسم الخط کو بھی ترک کر دیا اور بلتی زبان کو فارسی اور عربی رسم الخط میں لکھا جانے لگا۔</div>
<div class="urdutext">بلتستان فارسی کا لفظ ہے۔ اس خطے میں اسلام کی تبلیغ کے لیے ایرانی مبلغین کا بڑا عمل دخل رہا جس کے سبب اس پورے خطے میں بولی جانے والی زبانوں پر فارسی کی گہری چھاپ ہے۔ نام کی تبدیلی کے ساتھ یہاں کے لوگوں نے بلتی رسم الخط کو بھی ترک کر دیا اور بلتی زبان کو فارسی اور عربی رسم الخط میں لکھا جانے لگا۔ حالانکہ بلتی زبان جسے ‘اگے’ کہا جاتا ہے،کا اپنا طرز تحریر اور رسم الخط آج بھی بلتستان کے بعض تاریخی مقامات پر اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ بلتی زبان کی ترویج اور اسے ذریعہ تعلیم بنانے کے لیے بہت سے لوگ عملی کوشش کر رہے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بلتی ایک قدیم زبان ہے اور تبت میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان رہی ہے۔ اس زبان کا تعلق سائنو تبتین زبانوں کی تبت برمن شاخ سے ہے۔ تبت، لداخ، بھوٹان اور شمالی نیپال میں اس زبان کی مختلف صورتیں آج بھی رائج ہیں۔ بلتستان اور اُن تمام خطوں کا جہاں یہ زبانیں بولی جاتی ہیں اگر آج موازنہ کیا جائے تو کہیں سے نہیں لگتا کہ زمانہ قدیم میں یہ تمام خطے ایک ہی مشترک ثقافت رکھتے تھے۔ اس کی چند اہم وجوہ میں سیاسی حالات میں تبدیلی اور بلتستان کے علاقے میں اسلام کی اشاعت ہے۔ 842ء میں تبت کے بادشاہ لانگ درما قتل ہوئے اور بلتستان کو تبت سے الگ ہونا پڑا۔ چودہویں صدی کے وسط میں مبلغ اسلام سید علی ہمدانی کے ہاتھوں اس علاقے کے لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع کیا۔ سہولیویں صدی کے اوائل تک یہاں کی تقریباً تمام آبادی اسلام قبول کر چکی تھی اور اس طرح بلتستان کا تبت کے ساتھ روحانی اور معاشرتی رابطہ منقطع ہو گیا۔ اشاعت اسلام کے بعد بلتی زبان میں بدھ مت کی مذہبی اصطلاحات کی جگہ عربی اور فارسی اصطلاحات نے لے لی اور بلتی میں عربی اور فارسی کے لفظ بھی بڑے پیمانے پر شامل ہوئے۔ اس تبدیلی نے بلتی زبان میں بعض نئے لہجوں کو جنم دیا جنہیں آج بھی بلتستان کے مختلف علاقوں میں سنا جا سکتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">قبول اسلام کے بعد جہاں بلتیوں کا تبت سے روحانی، سیاسی اور معاشرتی رابطہ منقطع ہوا اسی طرح بلتی زبان بھی تبتی سے علیحدہ ہوئی۔ اس تبدیلی کے باعث بلتی کا درجہ ایک ایسی زبان سے جس میں ادب تخلیق کیا جا رہا تھا سے گھٹ کر ایک مقامی بولی کا سا ہو گیا۔ لیکن بلتستان کی جعرافیائی تنہائی نے بلتی زبان کا ماضی سے رشتہ ختم نہیں ہونے دیا یہی سبب ہے کہ آج بھی تبتی اور بلتی زبان میں مشترک الفاظ موجود ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے بلتی زبان کی باقاعدہ تعلیم کی جانب بہت تاخیر سے توجہ دی گئی۔ بلتی زبان کی ترویج کے لیے پہلی مرتبہ 1973 میں خپلو سے تعلق رکھنے والے مولوی عبدالرحمن نے بلتی قاعدہ اور کھرمنگ غاسنگ سے تعلق رکھنے والے مرحوم فدا حسین صاحب نے بلتی گرائمر اور بول چال جیسی بنیادی کتب مرتب کیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">بلتی زبان کی ترویج کے لیے پہلی مرتبہ 1973 میں خپلو سے تعلق رکھنے والے مولوی عبدالرحمن نے بلتی قاعدہ اور کھرمنگ غاسنگ سے تعلق رکھنے والے مرحوم فدا حسین صاحب نے بلتی گرائمر اور بول چال جیسی بنیادی کتب مرتب کیں۔</div>
<div class="urdutext">بلتستان کے زیادہ تر مقامی لوگ منگول قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو جسمانی خصائص کے اعتبار سے تبتی نسل کے مقامیوں سے قدرے مختلف ہیں۔ اشاعت اسلام کے دور میں کشمیر سے سید گھرانوں نے بھی بلتستان کا رخ کیا، سادات کے یہی خانوادے یہاں اسلام کی ترویج میں پیش پیش رہے۔ سادات کی نسلیں آج بھی یہاں مقیم ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بلتی شاعری کو بلتی تہذیب و ثقافت میں بے حد اہمیت حاصل ہے۔ ابتدا میں بلتی منظوم کلام کو ‘خلو’ کہا جاتا تھا۔ اس زمانے میں رگیانگ خلو، رزونگ خلو، یود خلو بلتی شاعری کے اہم موضوع ہوا کرتے تھے۔ بلتستان کے بہت سے علاقوں میں یہ منظوم کلام اج بھی سنا اور سنایا جاتا ہے اور آنے والے نسلوں کو ان کے تہذیبی ورثے کی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ زمانہ قدیم میں ‘رگیانگ خلو’ خفیہ پیغام رسانی کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا تھا لیکن آج یہ تاریخ سے اگاہی کے لیے ایک نئے ڈھنگ سے ادبی نشستوں کا موضوع ہے۔ اسی طرح رزونگ جسے آج کی زبان میں ڈرامہ کہا جاتا ہے، موسم سرما کی لمبی راتوں میں سُنانے کا رواج عام تھا، اور موسم کی سختیوں کے باعث جب یہ علاقہ باقی دنیا سے کٹ جاتا تھا تو راتیں کاٹنے کا ایک عمدہ ذریعہ تھا۔ اشاعت اسلام کے بعد بلتی زبان و ادب کو نئے موضوعات ملے، اور بلتی میں قصیدہ گوئی، مرثیہ گوئی اور نعت گوئی نے خُلو کی جگہ لے لی اور خُلو چند حلقوں تک محدود ہو گیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بلتی کی مقامی رسوم، تہوار اور میلے جدید تہذیب اور معاشرت کے اثرونفوذ کے باوجود کئی مقامات پر آج بھی بڑی شان کے ساتھ منائے جاتے ہیں، بعض جشن تو پورے بلتستان کی سطح پر اجتماعی طور پر منائے جاتے ہیں، ان میں جشن مے فنگ اورعید نوروز قابل ذکر ہیں۔ مے فنگ بلتیوں کا قدیم تہوار ہے جو کافی عرصے سے منایا جا رہا ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں کے بُزرگ لوگ اس تہوار کی تشریح سے قاصر ہیں کہ یہ کیوں منایا جاتا ہے۔ پھر بھی ہر سال 21دسمبر کی رات کو پورے بلتستان کی سطح پر مے فنگ بڑے جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔ اس شام کو بلتستان میں خصوصی تقریبات اور لذیذ کھانوں کا اہتمام کیا جاتا ہے اور اپنے عزیزوں کواس دن دعوت دینا یہاں کی ثقافت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح عید نوروز بلتستان کا ایک اور اہم تہوار ہے جو ایران کا قومی تہوار بھی ہے۔ ایک روایت کے مطابق یہ دن تاج پوشی امام علی علیہ السلام کا دن بھی ہے اور اسے جشن آمدِ بہار کا دن بھی کہا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اسے عرش سے فرش بچھانے کا دن بھی کہتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہاں کے باشندے زمانہ قدیم سے ہی صلح پسند، امن دوست، خوش اخلاق، مہمان نواز اور فن و ادب کے دلدادہ رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے اس علاقے پر بھی شدت پسندی کے مہیب سائے پھیلنے لگے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پولو بلتستان کا قدیمی اور قومی کھیل ہے۔ پولو کا کھیل دراصل بلتستان سے ہی دنیا میں متعارف ہوا۔ پولو بلتی زبان کا لٖفظ ہے جس کے معنی گول چیز کے ہیں۔ یہ کھیل بلتستان میں آج بھی شاہی کھیل کے طور پر کھیلا جاتا ہے۔ بلتستان کو زمانہ قدیم سے ہی اس علاقے کی بڑی تجارتی گزرگاہ کے طور پر استعمال کیاجاتا رہا ہے۔ یہاں سے تبت، کاشغر، لداخ، کشمیر، ہند اور یارقند کے ساتھ تجارتی لین دین قائم تھا، لیکن جعرافیائی اور سیاسی تبدیلیوں کے باعث آج اس علاقے کا یہ تابناک ماضی تاریخ کا ایک خواب نظر آتا ہے۔ بلتستان کی معیشت دستکاریوں سے جڑی تھی لیکن اب سیاحت کی صنعت اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ یہاں کی دیسی صنعتوں میں بارچہ بافی جسے بلتی زبان میں (چھرا) اور اونی چادر جسے (قار)کہا جاتا ہے کی تیاری کی صنعتیں بے حد اہم رہی ہیں لیکن یہ صنعتیں اور ان کے کاریگر اب معدوم ہو گئے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">بلتستان کے زیادہ تر مقامی لوگ منگول قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو جسمانی خصائص کے اعتبار سے تبتی نسل کے مقامیوں سے قدرے مختلف ہیں۔</div>
<div class="urdutext">بلتستان کے لوگ گھریلو ضرروریات کی چیزیں بھی مقامی طور پر دیسی طریقے سے بنایا کرتے تھے اور خطے کی ضرورت پوری کرنے کے علاوہ ہند، کشمیر اور تبت کو برآمد بھی کرتے تھے۔ لیکن بلتستان کی یہ تمام گھریلو صنعتیں اب سکردو اور گلگت میں قائم آثار قدیمہ کی دکانوں کی سجاوٹ بن کر رہ گئی ہیں۔ لکڑی سے بنائے جانے والی اشیا جن میں حُقہ، تیر کمان، تلوار اوربیلچہ شامل ہیں، یہاں کی صنعت کا ایک اہم حصہ تھیں لیکن یہ صنعتیں بھی اب ناپید ہو چکی ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بلتستان پر مقبون،اماچہ اور یبگو خاندان نے عرصہ دراز تک حکمرانی کی لیکن تاریخ بلتستان میں مقپون حکومت کے علاوہ دوسرے خاندانوں کے بارے میں اب تک کوئی خاص معلومات اکٹھی نہیں کی جا سکیں۔ بلتستان میں موجود شاہی محلوں اور تاریخی عمارتوں سے البتہ متعدد حکمران خاندانوں کا پتہ چلتا ہے لیکن ان تین خاندانوں کے عرصہ حکمرانی کا کوئی مستند اور مفصل احوال موجود نہیں۔ ان خاندانوں کے تعمیر کردہ محل، قلعے اور پُل البتہ موجود ہیں۔ مقپون پُل، میندوق کھر سکردو، نہر گنگوپی، خپلو، شگر اور کھرمنگ کے شاہی محلات یہ پتہ دیتے ہیں کہ بلتستان میں کئی خاندان برسر اقتدار رہے۔ کھرپوچو کا عسکری قلعہ بلتستان کی عظیم عسکری تاریخ کا منہ بُولتا ثبوت ہے۔ اپنے عروج کے زمانے میں بلتستان کے حکمرانوں نے لداخ سے ہنزہ تک حکمرانی کی، ہنزہ میں آج بھی ایک بلتت کھر یعنی(بلتی کا محل) موجود ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">حوالہ: تاریخ بلتستان-<br>
مصنف: یوسف حسین آبادی</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%9b-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%93%d8%a6%db%8c%d9%86%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba/">بلتستان؛ تاریخ کے آئینے میں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%9b-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%93%d8%a6%db%8c%d9%86%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گلگت بلتستان کی تقسیم؛ ایک غیر دانشمندانہ تجویز</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%aa%d9%82%d8%b3%db%8c%d9%85-%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d8%a7%d8%b2%d8%b4/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%aa%d9%82%d8%b3%db%8c%d9%85-%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d8%a7%d8%b2%d8%b4/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[شیر علی انجم]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 14 Jan 2016 12:33:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Division of Gilgit Baltistan]]></category>
		<category><![CDATA[Gilgit Baltistan]]></category>
		<category><![CDATA[گلگت بلتستان]]></category>
		<category><![CDATA[گلگت بلتستان کی تقسیم]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=14526</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">تقسیم گلگت  بلتستان کسی بھی طرح نہ پاکستان کے مفاد میں ہے اور نہ ہی یہاں کے سیاسی مسائل کا درست آئینی حل۔ ایسے ہی غیر سنجیدہ اقدامات کی وجہ سے پاکستان ماضی میں مشرقی پاکستان میں علیحدگی کے بیج بو چکا ہے، کیا اب مقامی آبادی کو بھی بلوچوں کی طرح مسلح مزاحمت کے ذریعے اپنی بات وفاق تک پہنچانا ہو گی؟</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%aa%d9%82%d8%b3%db%8c%d9%85-%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d8%a7%d8%b2%d8%b4/">گلگت بلتستان کی تقسیم؛ ایک غیر دانشمندانہ تجویز</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><img loading="lazy" decoding="async" class="alignleft size-full wp-image-1786" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/07/youth-yell-featured1.png" alt="youth-yell-featured" width="250" height="150"></p>
<div class="urdutext">قوموں کی زندگی میں اُتار چڑھاو کا آنا کوئی بڑی بات نہیں لیکن کوئی قوم غافل رہے، اپنے حقوق کی جدوجہد کو علاقائی امن اور معاشرے کے لیے نقصان دہ سمجھ کر خاموش رہے اور کوئی آ کر اس قوم کو دو لخت کرنے کی سازش شروع کر دے تو یقیناً وہ قوم اپنی تاریخ، شناخت اور اہمیت سے ناواقف اور بے بہرہ ہے۔ گلگت بلتستان کی تاریخ کا اگر انقلاب گلگت بلتستان سے لے کر آج تک کے دور کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم تاریخی شعور سے محروم ہونے کے باعث ہی آج تک اپنی شناخت اور حقوق سے محروم رہے ہیں۔ یہی لاعلمی ہے جس کی وجہ سے ہم آج تک اپنی جدوجہد کے ثمرات حاصل نہیں کر سکے۔ ہمارے قومی ہیرو کرنل مرزا حسن خان مرحوم کو کئی بار سلاخوں کے پیچھے صرف اس لیے دھکیلا گیا کیوں کہ اُنہوں نے عوام کوان کے حقوق سے آگاہ کرنے کی کوشش کی۔ آج بھی ہمارے ہاں یوم آزادیِ گلگت بلتستان سرکاری طور پر منایا جاتا ہے جو کرنل مزرا حسن خان اور ان کے ساتھیوں کی عظیم قربانیوں کے لیے ایک خراج تحسین ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">جو نظام اس وقت گلگت بلتستان میں نافذ ہے پاکستان کے وفاقی اور آئینی بندوبست میں اس نظام کی کوئی حیثیت نہیں، کیونکہ دستور پاکستان میں اس نظام کو کوئی تحفظ حاصل نہیں۔ گلگت بلتستان کا سیاسی ڈھانچہ ایک صدارتی حکم نامے کے سہارے کھڑا ہے۔</div>
<div class="urdutext">افسوس گزشتہ اڑسٹھ سالوں سے حسن خان کی سرزمین کو آئین اور قانون کے دھارے سے باہر رکھ کر ہمارے رہنما اور عوام اس بات کی رٹ لگائے رکھتے ہیں کہ ہم نے الحاق کیا تھا۔ یہ مغالطہ عام ہے کہ ہمارے آباواجداد نے قربانیاں دے کر اس خطے کو پاکستان میں شامل کرایا تھا۔ یہ تاریخی غلطی کہ ہم اپنے خطے کا ماضی کرنل حسن خان کی بجائے سردار عالم اور میجر بروان سے جوڑ رہے ہیں، ہماری اس خوش فہمی کی بنیاد ہے کہ کبھی نہ کبھی ہم گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی صوبہ بننے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ہماری تمام تر خوش فہمیوں کے برعکس پاکستان میں ایک طرف تو اس معاملے کو کشمیر کے ساتھ نتھی کر دیا گیا اور دوسری طرف اس علاقے کی جغرافیائی حدود میں تبدیلی کی حمایت بھی شروع کر دی گئی ہے۔ گلگت بلتستان کی تقسیم کا معاملہ اس علاقے کی جغرافیائی، دفاعی اور تجارتی اہمیت میں مزید سنگین شکل اختیار کرلیتا ہے۔ وفاق اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ یہاں کے حکمران اس قابل نہیں کہ وہ اس فیصلے کے خلاف کوئی بھرپور ردعمل پیش کر سکیں۔ اگر دیانت دارانہ تجزیہ کیا جائے تو جو نظام اس وقت گلگت بلتستان میں نافذ ہے پاکستان کے وفاقی اور آئینی بندوبست میں اس نظام کی کوئی حیثیت نہیں، کیونکہ دستور پاکستان میں اس نظام کو کوئی تحفظ حاصل نہیں۔ گلگت بلتستان کا سیاسی ڈھانچہ ایک صدارتی حکم نامے کے سہارے کھڑا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">آئین کا حصہ نہ ہونے کی وجہ سے وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے نظام میں کسی بھی قسم کی ترمیم کرنے کے لیے وفاق ان ترامیم کی منظوری کے لیے سینٹ اور قومی اسمبلی کا محتاج نہیں۔ وفاق جب بھی محسوس کرتا ہے کہ اس کے مفادات کو زد پہنچنے کا خدشہ ہے تو مرکزی حکومت گلگت بلتستان کے معاملے پر فوراً اپنا موقف تبدیل کر لیتی ہے۔ اقتصادی راہداری کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے اس مسئلے کو حل کرنے کی بجائے اس علاقے کو ہی تقسیم کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔ گلگت بلتستان کو قانونی حیثیت دینا ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے لیکن اس ضمن میں یہ امر بھی ملحوظ خاطر رہے کہ ہندوستان بھی اس علاقے کو اپنا حصہ سمجھتا ہے۔ اس بات کا اندازہ اُس وقت ہوا جب ہم نے گلگت بلتستان کے حوالے سے ہندوستان کے ایک مشہور چینل پر پرائم ٹائم پروگرام دیکھا۔ پروگرام میں میزبان اور مہمان یہ بتانے کی کوشش کر رہے تھے کہ بھارت گلگت بلتستان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور گلگت بلتستان کو جو حقوق پاکستان نے نہیں دیئے، بھارت دینے کے لیے تیار ہے۔ پروگرام میں شریک پاکستانی تجزیہ نگاروں کا گلگت بلتستان کے حوالے سے لاعلمی اور خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس صورت حال میں پاکستان کے حکمرانوں کو سوچنے سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ گلگت بلتستان کے عوام اپنے خطے کی غیر آئینی حیثیت کے باوجود بھی پاکستان میں شامل ہونے کے خواہاں ہیں۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ پاکستان اس خطے کے حوالے سے ہمیشہ پس و پیش سے کام لیتا آیا ہے۔ درحقیقت وفاقی حکومت کی انتظامی مشینری پر ایک ہی صوبے کا غلبہ ہے جو اس خطے کو کشمیر کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے کا قائل ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">تقسیم گلگت بلتستان کسی بھی طرح نہ پاکستان کے مفاد میں ہے اور نہ ہی یہاں کے سیاسی مسائل کا درست آئینی حل۔ ایسے ہی غیر سنجیدہ اقدامات کی وجہ سے پاکستان ماضی میں مشرقی پاکستان میں علیحدگی کے بیج بو چکا ہے، کیا اب مقامی آبادی کو بھی بلوچوں کی طرح مسلح مزاحمت کے ذریعے اپنی بات وفاق تک پہنچانا ہو گی؟</div>
<div class="urdutext">گلگت بلتستان کی موجودہ حکومت میں ہمارے وزیراعلیٰ سے لے کر ان کی کابینہ کے کسی رکن تک کو گلگت بلتستان کی تقسیم کی مبینہ تجویز کی سنگینی کا اندازہ تک نہیں۔ قاری حفیظ اپنے کئی ٹی وی انٹرویوز میں اس بات کی طرف اشارہ کر چُکے ہیں کہ خطے کومسلکی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے لیے عوامی مطالبات موجود ہیں۔ استور کے ایک مولوی صاحب کے افشاء کرنے پر یہ ہانڈی بیچ چوراہے پھوٹی ہے وگرنہ تو اس حوالے سے عوام یا ان کے منتخب نمائندوں کو اعتماد میں لینے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ اس خبر کے دوسرے دن سپیکر اعلان کرتے ہیں کہ اگر ایسا ہوا تو ہم برداشت نہیں کریں گے۔ قاری حفیظ نے گلگت بلتستان کے کچھ حصے یعنی ہنزہ، نگر، گلگت اور یاسین کو ماضی میں ان علاقوں کے کشمیری راجاوں سے نام نہاد الحاق کی بنیاد پر بلتستان ریجن اور استور کو کشمیر میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ گلگت بلتستان کے علاقوں کو کشمیر میں شامل کرنے کے حوالے سے عوام کو باشعور بنانے کی ضرورت ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اب دیکھنا یہ ہے کہ بلتستان سے تعلق رکھنے والے تمام اراکیں قانون ساز اسمبلی قاری حفیظ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لاتے ہیں یا قانون ساز اسمبلی اسے استعفیٰ دے کر ریاست کے جعرافیے کو بچانے اور اقتصادی راہدری میں مناسب حقوق دلانے کے لیے عوام کوسڑکوں پر لے کر آتے ہیں۔ گلگت بلتستان کی تقسیم کی بات کرنے والا وزیراعلیٰ یقیناً اپنے لوگوں اور اپنے خطے کا غدار ہے۔ گلگت بلتستان ایک اکائی ہے اور یہاں کے لوگ اس علاقے کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔ تقسیم گلگت بلتستان کسی بھی طرح نہ پاکستان کے مفاد میں ہے اور نہ ہی یہاں کے سیاسی مسائل کا درست آئینی حل۔ ایسے ہی غیر سنجیدہ اقدامات کی وجہ سے پاکستان ماضی میں مشرقی پاکستان میں علیحدگی کے بیج بو چکا ہے، کیا اب مقامی آبادی کو بھی بلوچوں کی طرح مسلح مزاحمت کے ذریعے اپنی بات وفاق تک پہنچانا ہو گی؟</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%aa%d9%82%d8%b3%db%8c%d9%85-%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d8%a7%d8%b2%d8%b4/">گلگت بلتستان کی تقسیم؛ ایک غیر دانشمندانہ تجویز</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%aa%d9%82%d8%b3%db%8c%d9%85-%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d8%a7%d8%b2%d8%b4/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گلگت بلتستان؛ دہشت گردی کے اسباب اور عوامل</title>
		<link>https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%9b-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d9%88/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%9b-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d9%88/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[شیر علی انجم]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 05 Dec 2015 11:14:13 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Gilgit Baltistan]]></category>
		<category><![CDATA[Terrorism in Gilgit Baltistan]]></category>
		<category><![CDATA[گلگت بلتستان]]></category>
		<category><![CDATA[گلگت بلتستان میں دہشت گردی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=13870</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کی وجوہ انیس سوستاسی میں ہونے والی سیاسی پیش رفت سے جڑی ہوئی ہیں۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%9b-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d9%88/">گلگت بلتستان؛ دہشت گردی کے اسباب اور عوامل</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">دیامر ‘باب گلگت بلتستان’ یعنی ہمارے گھر کے مرکزی دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔ میرے حلقہ احباب میں دیامر سے تعلق رکھنے والی کئی ایسی شخصیات موجود ہیں جن سے سیاسی اور نظریاتی اختلافات کے باجود کبھی محبت اور خلوص میں کمی نہیں آئی۔ ایسے بھی دوست ہیں جن سے سوشل میڈیا کے ذریعے گپ شب ہوتی ہے، ہم ایک دوسرے پر شدید تنقید بھی کرتے ہیں مگر باہمی عزت اور احترام کا دامن کبھی نہیں چھوڑتے، اور ہونا بھی ایسا ہی چاہیئے۔ لیکن مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کی اس نگری میں ریاست اور معاشرے نے ہماری تربیت اس طرح سے کی ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے ماضی میں دہشت گردی کے دلخراش واقعات نے ہمارے درمیان سے اعتبار کا لفظ ہی غائب کر دیا ہے، ہم ایک دوسرے سے کھل کر بات کرنے، تنقید کرنے یا اختلاف کرنے سے گریز کرنے لگے ہیں اور یہ شدت پسندوں کی شاید سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یہ درست ہے کہ ہم میں سے ہی لوگ دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہوئے ہیں، ان کے سہولت کار بنے ہیں اور ان سے ہمدردی بھی رکھتے ہیں لیکن ان کی وجہ سے عام لوگوں کے مابین غلط فہمیوں کا در آنا اور خوف پیدا ہونا بے حد تشویش ناک ہے۔ ایسے لوگوں کی وجہ سے عام آدمی کے درمیان ایسی دوریاں پیدا ہوگئی ہیں جنہیں کم کرنے کے لیے کوئی بھی کچھ بھی کرنے کو تیار نہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">ضیاء الحق کے مشورے سے مذہبی منافرت پھیلانے والوں کو تقویت ملی اور انہوں نے حکومتی ایماء پر اٖفغان مجاہدین کے ساتھ مل کر 1988 میں گلگت بلتستان پر چڑھائی شروع کی جس کے نتیجے میں کئی سو لوگ مارے گئے، کئی درجن گھر اور مال مویشی زندہ جلائے گئے لیکن مقامی حکومت نے اس جلتی آگ کو بجھانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔</div>
<div class="urdutext">میرا خیال ہے جہاں دہشت گردی کے اس ناسور کی وجہ شدت پسند مذہبی سیاسی فکر ہے وہیں ہمارے ریاستی ادارے، پڑے لکھے صاحب الرائے لوگ اور عوامی ووٹ لے کر قانون ساز اسمبلی تک پہنچنے والے اراکین بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ ہم جمہوریت اور تعلیم کے مبلغ ہونے کے باوجود انحراف، اختلاف اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ سیاست دان مسائل کو سلجھانے کی کوشش کرنے کی بجائے جلتی پر تیل چھڑکتے ہیں، اُنہیں معلوم ہی نہیں کہ ان کے اس غیر جمہوری رویے کی وجہ سے معاشرہ کس طرح غلط سمت کی طرف جاسکتا ہے۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا پر بھی ہر سیاسی مسئلے کو مسلک کی بنیاد پر متنازع بنا کر مخالف مکتبہ فکر کے خلاف پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرنے کا رواج عام ہو چُکا ہے۔ اس وجہ سے جہاں معاشرے میں عدم برداشت بڑھتی ہے تو دوسری طرف جھوٹ کو سچ سمجھ کر یقین کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">گزشتہ کئی ماہ سے دیامر داریل تانگیر کے علاقے میں پائے جانے والی کشیدگی کو بھی ایسے ہی رحجانات کی وجہ سے ہوا ملی ہے۔ گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کی وجوہ انیس سوستاسی میں ہونے والی سیاسی پیش رفت سے جڑی ہوئی ہیں۔ انیس ستاسی کے انتخابات میں جب گلگت میں قوم پرستوں کے انتخابات جیتنے کے امکانات سامنے آئے تو اُس وقت گلگت شہر کے دیوراوں پر نامعلوم افراد نے راتوں رات فرقہ وارانہ وال چاکنگ کی اور قوم پرست سیاستدانوں کو دیوار سے لگانے کے لیے فرقے کی بنیاد پر منافرت پھیلائی گئی۔ صدیوں پر محیط بین المسالک ہم آہنگی کے خاتمے سے شدت پسندی کی جو آگ بھڑکی وہ آج بھی بجھنے کا نام نہیں لے رہی۔ دہشت گردی کے ان اسباب کو تاریخ کے آئینے میں دیکھیں توپاک فضائیہ کے سابق سربراہ ائر مارشل ریٹائرڈ محمد اصغر خان اپنی کتاب ‘تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا، سیاست اور افواج پاکستان میں جہاد اور امریکہ’ میں لکھتے ہیں کہ ضیاء دور اقتدار میں کوہستان کے کچھ لوگوں نے جنرل ضیاء سے خصوصی ملاقات کرکے یہ شکایت کی کہ کوہستان سے ملحقہ علاقوں میں گلگت اور بلتستان سے کچھ لوگ ‘تبلیغ’ کے لیے آرہے ہیں، تو جنرل ضیاء نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اس مسئلے سے خود نمٹیں۔ اگر وہ کارروائی کرتے ہیں تو حکومت مداخلت نہیں کرے گی۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ضیاء الحق کے اس مشورے سے مذہبی منافرت پھیلانے والوں کو تقویت ملی اور انہوں نے حکومتی ایماء پر اٖفغان مجاہدین کے ساتھ مل کر 1988 میں گلگت بلتستان پر چڑھائی شروع کی جس کے نتیجے میں کئی سو لوگ مارے گئے، کئی درجن گھر اور مال مویشی زندہ جلائے گئے لیکن مقامی حکومت نے اس جلتی آگ کو بجھانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ صورت حال نازک ہوئی تو اُس وقت کے اہم سیاسی رہنما شیخ غلام محمد مرحوم نے ضیاالحق کو براہ راست فون کرکے تنبیہ کی کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو محاذ پر موجود این ایل آئی کے جوانوں کو گلگت بلتستان کے تحفظ کے لیے واپس آنے کا حکم بھی جاری کرسکتے ہیں۔ یہ دھمکی کارگر ثابت ہوئی یہی وجہ تھی کہ ضیاالحق گٹھنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئے اور نام نہاد مجاہدین کو ‘شکست’ کھانا پڑی۔ لیکن آج وہی شکست خوردہ عناصر گلگت بلتستان کے عوام کو زیر کرنے کے لیے دہشت گردی کو ہوا دے رہے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">ہمیں سمجھنا چاہیئے ہمارا مسئلہ یہ نہیں کہ کون کس عقیدے سے تعلق رکھتا ہے بلکہ ہم ایک باغ کے کئی پھولوں کی مانند ہیں جو ایک ساتھ کھلتے ہیں اور خوب صورت لگتے ہیں۔</div>
<div class="urdutext">ماضی کے تلخ تجربات مستقبل کے لیے لائحہ عمل طے کرنے کے لیے رہنمائی کر سکتے ہیں۔ ہمیں سمجھنا چاہیئے ہمارا مسئلہ یہ نہیں کہ کون کس عقیدے سے تعلق رکھتا ہے بلکہ ہم ایک باغ کے کئی پھولوں کی مانند ہیں جو ایک ساتھ کھلتے ہیں اور خوب صورت لگتے ہیں۔ لیکن اس باغ کی باغبانی ہم نے بدقسمتی سے دوسروں کے ہاتھ میں دی ہوئی ہے جو اس رنگا رنگی کو بدرنگی میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے یہ ‘باغبان’ سیاسی مسائل کو بھی دینی اور مذہبی رنگ دے کر متنازع اور ناقابل حل بنا دیتے ہیں۔ ہم سب کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ گلگت بلتستان کی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی مزاحمت کیسے کی جا سکتی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">حال ہی میں کوہستان سے بازیاب کرائے گئے دو انجینئرز کا واقعہ گلگت بلتستان پرمنڈلاتے دہشت کے مہیب سایوں کی عکاسی کرتا ہے۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سابق اسپیکر گلگت بلتستان قانون ساز کونسل ملک مسکین کی مداخلت سے دونوں مغوی انجینرز کو کوہستان سے بازیاب کرایا گیا جو اپنی جگہ ایک قابل تشویش امر ہے۔ اگر یہ کوئی سیاسی مسئلہ نہیں تھا تو اغواء کاروں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ داریل سے اغواء ہونے والے کوہستان کیسے پہنچے؟ اور دہشت گردوں کے ساتھ ان حضرات کا تعلق کس نوعیت کا ہے؟ جب ان لوگوں نے اپنا اثرورسوخ استعمال کرنا تھا توتمام سیکیورٹی فورسز کو دیامر کی طرف بھیجنے کا کیا مقصد تھا؟ مگر افسوس کسی کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں مگر عوام جواب منتظرہیں۔ اگر وفاق گلگت بلتستان میں امن دیکھنا چاہتا ہے تو کوہستان اور گلگت بلتستان کے مابین زمینی راستوں پر نفری بڑھانا ضروری ہے اور اگر ریاستی اداروں نے اپنی کارکردگی بہتر نہ بنائی تو دیامیر بھاشا ڈیم اور اقتصادی راہداری جیسے منصوبے بھی شدت پسندوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%9b-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d9%88/">گلگت بلتستان؛ دہشت گردی کے اسباب اور عوامل</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%9b-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وفاق سے ایک مطالبہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82-%d8%b3%db%92-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%85%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8%db%81/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82-%d8%b3%db%92-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%85%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[شیر علی انجم]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 17 Nov 2015 09:14:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Gilgit Baltistan]]></category>
		<category><![CDATA[kashmir dispute]]></category>
		<category><![CDATA[Sardar Ibrahim]]></category>
		<category><![CDATA[Self Determination]]></category>
		<category><![CDATA[حق خود ارادیت]]></category>
		<category><![CDATA[سردار ابراہیم]]></category>
		<category><![CDATA[گلگت بلتستان]]></category>
		<category><![CDATA[مسئلہ کشمیر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=13611</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">اقوام متحدہ نے قرار داد منظور کی تھی کہ مسئلہ کشمیر کے حل تک پاکستان گلگت اور مظفر آباد میں خود مختار حکومت قائم کرے اور انتظامی معاملات مقامی حکومت کے حوالے کرے لیکن اس قرارداد پر پوری طرح عمل نہیں ہوسکا۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82-%d8%b3%db%92-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%85%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8%db%81/">وفاق سے ایک مطالبہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">جیو ٹی وی کے پروگرام جرگہ میں مولانا فضل الرحمان نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کشمیر تنازعہ کا حصہ ہے اور کشمیر کو متنازعہ علاقہ قراردینا پاکستان کا اصولی موقف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان نے کشمیر پر اپنا تسلط قائم کیا ہے جس کی وجہ سےپاکستان نہ آگے بڑھ سکتا ہے اور نہ پیچھے ہٹ سکتا ہے کیوں کہ ایسا کرنا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق انڈیا اور پاکستان کسی بھی متنازعہ خطے کو اپنا آئینی حصہ نہیں بناسکتے۔ حق خودارادیت کشمیر اور اس تنازعہ کے شکار لوگوں کا حق ہے جس کی بنیاد پر ہی یہ فیصلہ ہو سکتا ہے کہ وہ کس ملک کا ساتھ دیتے ہیں۔ جغرافیائی مطابقت اور سماجی عوامل کی بناء پر ہمیں اطمینان ہے کہ جب بھی حق خودارادیت استعمال ہوگا تو کشمیر کے لوگ مملکت پاکستان کے حق میں فیصلہ دیں گے۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ کوئی بھی ملک متنازعہ علاقے کو اپنا آئینی صوبہ نہیں بناسکتا اور اسی وجہ سے پاکستان نے اپنے اصولی موقف کی بنیاد پر کشمیر کو آزاد حکومت اور گلگت بلتستان کو صوبے کی حیثیت دی ہے صوبہ ‘ہونے’ اور ‘حیثیت دینے’ میں بڑافرق ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مولانا ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور کشمیر کمیٹی کی سربراہی بھی کرتے رہے ہیں۔ ان کے اس بیان کے جواب میں بس اتنا ہی عرض کرنا چاہوں گا کہ شاید گلگت بلتستان کی تاریخی حیثیت کے حوالے سے ان کا علم محدود ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ گلگت بلتستان کی سیاست میں مولانا کی جماعت کا سیاسی وجود نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ تو علامہ راجہ ناصر جعفری اور علامہ ساجد نقوی صاحب کا آپ پر احسان ہے کہ اُن کے درمیان اختلافات کی وجہ سے آپ کی جماعت کو قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی نشست مل گئی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ گلگت بلتستان کی تاریخ کو مسخ کر کے پیش کریں۔ یکم نومبر گلگت بلتستان کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے اور گلگت بلتستان کے عوام نے ہر برس کی طرح اس مرتبہ بھی اپنا یوم آزادی منایا ہے جو مولانا کے اس بیان کا موثر ترین جواب ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">اقوام متحدہ نے قرار داد منظور کی تھی کہ مسئلہ کشمیر کے حل تک پاکستان گلگت اور مظفر آباد میں خود مختار حکومت قائم کرے اور انتظامی معاملات مقامی حکومت کے حوالے کرے لیکن اس قرارداد پر پوری طرح عمل نہیں ہوسکا۔</div>
<div class="urdutext">مولانا کو معلوم ہونا چاہیئے کہ اپنی آزادی کی جنگ گلگت بلتستان کے مقامی لوگوں نے بغیر کسی غیر ریاستی امداد کے جیتی تھی لیکن آزاد کشمیر ‘فتح’ کرنے کے لیے مقامی کشمیریوں کی بجائے پاکستان کے قبائلی علاقوں کے لشکر بھیجے گئےتھے۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ اُس جنگ کے بعد فاتح گلگت کرنل مرزا حسن خان نے ایک عبوری کابینہ تشکیل دی تھی تاکہ ایک آزاد اور خود مختار ریاست کی حیثیت سے آئندہ لائحہ عمل طے کیا جا سکے ۔ مولانا اگر تاریخ کے اوراق پلٹیں تو انہیں بھی شائد معلوم ہوجائے کہ اُس وقت چونکہ کئی علاقے ایسے تھے جہاں ‘باغی’ فوج نے رِٹ قائم کرنا تھی یہی وجہ تھی کہ کرنل حسن خان نے انتظامی معاملات عبوری کابینہ کے سپرد کرتے ہوئے اگلے محاذ پر فوج کی کمان سنبھال لی۔ بدقسمتی سے اُس وقت گلگت میں مقیم برطانوی میجر براون جو کرنل حسن خان سے ذاتی اختلافات رکھتے تھے، نے اپنے حواریوں سے مل کر آزادریاست گلگت بلتستان کے مستقبل کا سودا کیا۔ گلگت کا نظم و نسق سنبھالنے کے لیے ایک بیوروکریٹ سردار ابراہیم تشریف لائے اور انہوں نے آتے ہی ریاستی ذمہ داران سے صلاح مشورہ کیے بغیرایف سی آر نافذ کردیا۔ ان صاحب نے تحریری معاہدے کے بغیر ریاست کا نظم و نسق سنبھال لیا اور بعد میں اس عارضی بندوبست کو الحاق کا نام دے دیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">معاہدہ کراچی میں گلگت بلتستان کا آئینی مستقبل مقامی عوام کی بجائے وفاق کے ہاتھ میں دے دیا گیا اور عوام سے رائے لیے بغیر اس معاہدے کے ذریعے ریاست کے باشندوں کو پاکستان کے ساتھ نتھی کر دیا گیا۔ اس تمام صورت حال کو دیکھ کر بھارت نے جب قوام متحدہ سے رجوع کیا تو اقوام متحدہ نے قرار داد منظور کی تھی کہ مسئلہ کشمیر کے حل تک پاکستان گلگت اور مظفر آباد میں خود مختار حکومت قائم کرے اور انتظامی معاملات مقامی حکومت کے حوالے کرے لیکن اس قرارداد پر پوری طرح عمل نہیں ہوسکا۔ پاکستان گلگت بلتستان کے معاملے میں دوہرا موقف رکھتا ہے، اپنے مفادات کی خاطر اس علاقے کی اپنی مرضی کی آئینی حیثیت مقرر کرتا ہے۔ آگے چل کر گلگت بلتستان سے سٹیٹ سبجیکٹ رول بھی ختم کر دیا گیا۔ اسی طرح ضیاء الحق کے دور میں آزاد کشمیر کے برعکس یہاں مارشل لاء نافذ کیا گیا لیکن اُس وقت کسی نے گلگت بلتستان کو متازعہ کشمیر کا حصہ قرار نہیں دیا۔ آج پاکستان نہ تو گلگت بلتستان کو خودمختار علاقہ قرار دیتا ہے اور نہ ہی یہاں کے بیس لاکھ عوام کے اندر بڑھتے ہوئے احساس محرومی کو ختم کرنے کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہے۔ آخر آپ کا ایجنڈا کیا ہے؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">ہم وفاق پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کے ممکنہ حل تک اس خطے کو یکم نومبر 1947کی خود مختار حیثیت پر بحال کر دے اور یہاں کے عوام کو مکمل داخلی خود مختاری دے</div>
<div class="urdutext">گلگت بلتستان کے عوام سیاسی شناخت کے بغیر اپنا وجود نامکمل سمجھتے ہیں۔ گلگت بلتستان آئینی طور پر پاکستان کا حصہ نہیں اور اسے آئینی بندوبست کا حصہ بنانے میں اقوام متحدہ کی قراداد اور مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف حائل ہیں۔ لیکن یہاں کے عوام کے مسائل حل کرنے، اوران کا احساس محرومی ختم کرنے میں ایسی کوئی روکاوٹ نہیں۔ یہاں کے عوام کا احساس محرومی ختم کرنے کے لیے گلگت بلتستان کی تاریخی، قانونی حیثیت اور انقلابِ گلگت بلتستان کی حقیقت اور اُس وقت کے غلط فیصلوں کو سامنے رکھتے ہوئے مثبت فیصلے کرنے ہوں گے۔ جغرافیائی اور سماجی رشتوں کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تواس خطے کو پاکستان سے الگ کرنا گلگت بلتستان اور پاکستان دونوں کے مفاد میں نہیں، لیکن افسوس پاکستانی ریاست اور مولانا فضل ارحمان یہاں کے لوگوں پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں۔ مولانا ایک صاحب بصیرت اور دور اندیش سیاست دان کے طور پر جانے جاتے ہیں لیکن گلگت بلتستان کے حوالے سے ان کا نقطہ نظر خاصا غیر دانشمندانہ ہے۔ یہاں کے عوام آپ سے توقع رکھتے تھے کہ آپ وفاق سے گلگت بلتستان کے عوام کا احساس محرومی ختم کرنے کا مطالبہ کریں گے، ہمیں امید تھی کہ آپ گلگت بلتستان کو مکمل سیاسی شناخت کی ضمانت فراہم کریں گے لیکن آپ کا حالیہ انٹرویو مایوس کن ہے۔ ہم وفاق پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کے ممکنہ حل تک اس خطے کو یکم نومبر 1947 کی خود مختار حیثیت پر بحال کر دے اور یہاں کے عوام کو مکمل داخلی خود مختاری دے کر یہاں سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی یقینی بنائیں۔ اب یہ ضروری ہے کہ گلگت بلتستان کے تمام تجارتی راستے کھول دیئے جائیں خاص طور پر سکردو کارگل روڈ کو آمدورفت کے لیے کھول کر منقسم خاندانوں کو ایک دوسرے ملنے کی اجازت دی جائے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82-%d8%b3%db%92-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%85%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8%db%81/">وفاق سے ایک مطالبہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82-%d8%b3%db%92-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%85%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گلگت بلتستان؛ سیاسی قیدیوں کی رہائی ضروری ہے</title>
		<link>https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%9b-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d9%82%db%8c%d8%af%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b1%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%b6%d8%b1/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%9b-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d9%82%db%8c%d8%af%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b1%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%b6%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[آفاق بلاور]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 04 Nov 2015 12:15:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی]]></category>
		<category><![CDATA[عوام]]></category>
		<category><![CDATA[گلگت بلتستان]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=13349</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">گلگت بلتستان کے عوام جب بھی اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں تو انہیں نظرانداز کیا جاتا ہے، ان سےناروا سلوک کیا جاتا ہےاور ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔  ہماری تنظیم بالاورستان فرنٹ ہمیشہ سے گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کی فراہمی اور مسائل کے حل کے لیے کوشاں رہی ہے۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%9b-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d9%82%db%8c%d8%af%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b1%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%b6%d8%b1/">گلگت بلتستان؛ سیاسی قیدیوں کی رہائی ضروری ہے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2014/04/letters-to-the-editor-full-featured1.png"><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-4547" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2014/04/letters-to-the-editor-full-featured1.png" alt="letters-to-the-editor-full-featured1" width="600" height="138" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2014/04/letters-to-the-editor-full-featured1.png 600w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2014/04/letters-to-the-editor-full-featured1-300x69.png 300w" sizes="(max-width: 600px) 100vw, 600px"></a></p>
<div class="urdutext">محترم مدیر<br>
گلگت بلتستان کے عوام جب بھی اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں تو انہیں نظرانداز کیا جاتا ہے، ان سے ناروا سلوک کیا جاتا ہےاور ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہماری تنظیم بالاورستان فرنٹ ہمیشہ سے گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کی فراہمی اور مسائل کے حل کے لیے کوشاں رہی ہے۔ آپ کے موقر جریدے کے ذریعے ہم عوام الناس کو مطلع کرنا چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر سے وابستہ گلگت بلتستان کے عوام جب بھی اپنی آزادی، خودمختاری اور آئینی حقوق کی بات کرتے ہیں تو انہیں وفاقی حکومت کے نمائندے اورگلگت بلتستان میں موجود ان کے مقامی گماشتے ہمیں خاموش کرانے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے اور ریاستی طاقت استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے کئی سیاسی کارکن اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے ساتھی ریاستی اداروں کی حراست میں ہیں۔ نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ اپنے حقوق کی بات کرنے کی پاداش میں سینکٹروں سیاسی کارکن اور رہنما پچھلے 5 ماہ سے گلگت بلتستان کی مختلف جیلوں میں پابند سلاسل ہیں۔</div>
<div class="leftpullquote">وابستہ گلگت بلتستان کے عوام جب بھی اپنی آزادی، خودمختاری اور آئینی حقوق کی بات کرتے ہیں تو انہیں وفاقی حکومت کے نمائندے اور گلگت بلتستان میں موجود ان کے مقامی گماشتے ہمیں خاموش کرانے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے اور ریاستی طاقت استعمال کرتے ہیں۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تفصیلات کے مطابق 7 جون 2015 کو جب فاتح گلگت بلتستان کرنل مرزا حسن خان (مرحوم) کے فرزند کرنل ریٹائرڈ نادر حسن خان، بالاورستان کے اہم رہنما صفدر علی، افتخار حسین، مدثر، وسیم، افتخار پالے اور دیگر کارکنان پاک چین اقتصادی راہداری پراپنے تحفظات کا اظہار کرنے کے لیے گلگت میں یونائیٹڈ نیشن ملٹری گروپ برائے انڈیا اینڈ پاکستان کے ذیلی دفتر جوٹیال گلگت پہنچے۔ یہ افراد اس اقتصادی منصوبے پر اپنے تحفظات عالمی اداروں تک پہنچانا چاہتے تھے لیکن انہیں ریاستی اداروں نے روک کر زدوکوب کیااور گرفتار کر لیا۔ اپنا آئینی، قانونی اور سیاسی حق استعمال کرنے والے یہ سیاسی کارکن تاحال جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ ان سیاسی کارکنوں کو قانونی معاونت بھی فراہم نہیں کی جارہی جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ان کا حق ہے۔پچھلے پانچ ماہ کے دوران نہ تو انہیں کسی عدالت سے ضمانت حاصل کرنے دی گئی ہے اور نہ ہی کوئی واضح مقدمہ قائم کیا جارہا ہے ۔ لہٰذا اس سلسلے میں ہم پاکستانی حکمرانوں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ عالمی اداروں سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ گلگت بلتستان میں اسیر سیاسی رہنماوں کو فی الفور رہائی کے لیے اقدامات کریں۔ ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ان پر لگائے گئے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات سے انہیں بری الزمہ قرار دیا جائے۔ ہم اس حوالے سے حکمرانوں کو انتباہ کرتے ہیں وہ گلگت بلتستان کے سیاسی اسیران کے حوالے سے نوٹس لے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کے بیس لاکھ مظلوم و محکوم عوام اپنے حقوق کے لیے پوری قوت سے اٹھ کھڑے ہوں گے جنہیں سنبھالنا موجودہ حکومت کے لیے مشکل ہو جائے گا۔<br>
فقط<br>
اراکین بالاورستان نیشنل فرنٹ</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%9b-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d9%82%db%8c%d8%af%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b1%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%b6%d8%b1/">گلگت بلتستان؛ سیاسی قیدیوں کی رہائی ضروری ہے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%9b-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d9%82%db%8c%d8%af%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b1%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%b6%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
