<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پاکستان اور اسلام Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/پاکستان-اور-اسلام/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Fri, 31 May 2024 20:08:42 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>پاکستان اور اسلام Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/پاکستان-اور-اسلام/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>غلامی کی نماز</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ba%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ba%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[وقاص عالم]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 17 Oct 2016 05:39:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام اور سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان اور اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[خلافتِ عثمانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست اور مذہب]]></category>
		<category><![CDATA[مصطفی کمال]]></category>
		<category><![CDATA[وقاص عالم]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=18843</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">وقاص عالم: سیاست سے لے کر معاشرت تک تمام شعبہ ہائے زبدگی زوال پذیر ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود ہم محض "اللہ ہو" کے ورد اور "اللہ اکبر" کے نعروں پر اکتفا کیے ہوئے ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ba%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2/">غلامی کی نماز</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><img decoding="async" class="aligncenter size-medium wp-image-5780" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2014/05/youth-yell-300x133.jpg" alt="youth-yell" width="300" height="133"></p>
<div class="urdutext">آج کی دنیا کے دو اہم اور بڑے مسائل جن کا تعلق انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی دونوں سے ہے، وہ ہیں مذہب و سیاست۔ گو کہ ان دونوں کا تعلق بہت گہرا ہے مگر ان کے درمیان تضادات نے ہی دنیا کی تقدیر کا فیصلہ بھی کیا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اگر سیاسی حوالہ سے غور کیا جائے تو دیکھا جا سکتا ہے کہ اسلام کا دنیا کی سیاسی سرگرمیوں میں ایک اہم حصہ ہے۔ عیسائی پاپائیت کے ختم ہونے کے بعد دنیا کے سیاسی نظام پر مسلمان پادریوں نے قبضہ کرنے کے لیے کافی ہاتھ پیر چلائے، مگر اپنی ناقص سیاسی حکمتِ عملی کی وجہ سے وہ ناکام ہوگئے۔ انہوں نے لوگوں کو شعوری ترقی سے روک دیا۔ آج اس کا اثر ہم شدت کے ساتھ مسلمانوں میں محسوس کر رہے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">انقلابِ فرانس دنیا کو ایک نئی سمت کی طرف لے گیا۔ یہ وہ وقت تھا، جب مسلمانوں کی آخری اور سب سے طاقتور سمجھی جانے والی سلطنت “دولت عثمانیہ” اپنے نقطہ عروج کو چھونے کے بعد اب زوال کی جانب رواں تھی</div>
<div class="urdutext">40ہجری میں اسلام کی پہلی مطلق العنان حکومت کی بنیاد پڑی جو بنو امیہ کا دور کہلایا۔ اس دور سے لے کر انقلابِ فرانس (1789ء) تک اسلامی دنیا میں سیاست و مذہب کو الگ چیزوں کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ سیاست کو اجتماعی اور مذہب کو انفرادی معاملے کے طور پہ دیکھتے تھے۔ انقلابِ فرانس دنیا کو ایک نئی سمت کی طرف لے گیا۔ یہ وہ وقت تھا، جب مسلمانوں کی آخری اور سب سے طاقتور سمجھی جانے والی سلطنت “دولت عثمانیہ” اپنے نقطہ عروج کو چھونے کے بعد اب زوال کی جانب رواں تھی (مغل سلطنت کے تو پہلے ہی پرخچے اڑ چکے تھے) یہی وہ دور تھا جب دولتِ عثمانیہ نے اپنی سلطنت بچانے اور انقلابات کے اثر کو خود سے دور رکھنے کے لیے کئی نئے نعرے ایجاد کیے۔ اس اثنا میں ان کا ساتھ ان کے مذہبی مشیروں نے دیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس کے اثر کو روکنے کے لیے لوگوں کو جدید تعلیم سے روکا گیا (نامق کمال نامی شخص کو اس وجہ سے جلا وطن کر دیا گیا کہ اس نے چھاپہ خانہ کی بنیاد رکھی) اور ملوکیت کے فوائد یا غلامی کے سبز باغ دکھائے۔ قرآن و حدیث سے یہ ثابت کرنے کی کوشش ہوتی رہی کہ ملوکیت اسلام کا جز ہے یا عین اسلام ہے جو اسلام کی ایک نہایت غلط تعبیر تھی۔ لیکن ان کی یہ کوششیں سرے سے ناکام رہیں اور پہلی عالمی جنگ میں 800 سال تک 3 براعظموں پر حکومت کرنے والی سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہوگیا۔آج وہاں آزاد و خود مختار جمہوری ریاست “ترکی” ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مصطفی کمال اتاترک جو ترکی کے امیر انقلاب تھے، فوراً یہ بھانپ گئے کہ ترک قوم باقی دنیا سے 50 سال پیچھے ہے اور اس کی وجہ ترکی کے لوگوں کا قدیم و بوسیدہ رسوم و رواج کو اپنائے رکھنا اور جدیدیت کے تصور سے نا آشنائی ہے۔ انہوں نے برسرِ اقتدار آتے ہی پہلا کام جو کیا، وہ نہایت دل چسپ تھا۔انہوں نے ترکی زبان کو عربی رسم الخط سے تبدیل کر کے لاطینی رسم الخط میں ڈھال دیا کیوں کہ تمام جدید علوم کا خزانہ لاطینی زبان میں موجود تھا۔ درس گاہوں کے مضامین دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق ترتیب دیے گئے۔ ترکی کے نوجوانوں کو یورپ کی بڑی یونیورسٹیوں کے لیے وظائف دیئے گئے اور عورتوں کو معاشرے میں مردوں کے برابررتبہ دیا گیا۔اس طرح ترکی ایک پسماندہ خطے سے اٹھ کر یورپ کے مدمقابل کھڑا ہوگیا۔ آج اس کی معیشت، سیاسی استحکام و معاشرتی طرز کی مثالیں دی جاتی ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">جب ترکی ترقی کی منزل بہ منزل سیڑھیاں چڑھ رہا تھا، تب باقی اسلامی دنیا خصوصاً بر صغیر کے مسلمان سیاسی رہنماوں کو اپنی سیاسی ابتری میں بہتری سے زیادہ “دولتِ عثمانیہ” کی فکر لاحق تھی۔</div>
<div class="urdutext">جب ترکی ترقی کی منزل بہ منزل سیڑھیاں چڑھ رہا تھا، تب باقی اسلامی دنیا خصوصاً بر صغیر کے مسلمان سیاسی رہنماوں کو اپنی سیاسی ابتری میں بہتری سے زیادہ “دولتِ عثمانیہ” کی فکر لاحق تھی۔ 1919ءتا 1922ءکے دوران مولانا ظفر علی جوہر کی زیر قیادت چلنے والی “تحریکِ خلافت” اس کی ایک ایک مثال ہے۔ یہ تحریک اپنی موت آپ مر گئی، جب عثمانی سلطنت کا تختہ الٹ گیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">عرب خطہ میں سیاسی اتا چڑھاو اور آلِ سعود کی حکمرانی کی ابتدا بھی سلطنتِ عثمانیہ کے سیاسی عدم استحکام کا نتیجہ ہے۔ لارنس آف عریبیہ کی کاوش نے ہی عرب خطے میں مغرب کی سیاسی جڑیں مستحکم کیں، اور اب وقت و حالات یہ بتاتے ہیں کے سعودیہ عرب کی خارجہ پالیسی پر اثرانداز ہوتے ہوئے مغرب انہیں اپنی عطا کی ہوئی کن کن نعمتوں کا ذکر کرواتا ہے، اور پھر اسلامی دنیا کے مرکز کو اپنے تجارتی و معاشی تعلقات کی غرض سے کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سلطنت عثمانیہ کے زوال اور پاکستان کے موجودہ حالات کا موازنہ کیا جائے تو دلچسپ حقائق سامنے آتے ہیں۔ کہنے کو پاکستان کو قائم ہوئے 70 سال ہو چکے ہیں، مگر غلامی کے اثرات آج بھی ہمارے ذہنوں میں گردش کررہے ہیں۔ ہم شروع سے ہی بیوروکریسی، جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور مذہبی ٹھیکیداروں کے غلام رہے ہیں۔ ہم نے ترکی سے کچھ نہیں سیکھا بلکہ ہم آج بھی سعودی عرب کے بادشاہوں کے قصیدے پڑھتے نہیں تھکتے۔ہم اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں بھی “جمہوریت” کو اسلام کا دشمن، سوشلزم کو فتنہ اور جدت کو خطرہ ایمان سمجھتے ہیں۔ ہماری شرح خواندگی سے لے کر ہماری معیشت تک اور ہماری سیاست سے لے کر ہماری معاشرت تک تمام شعبہ ہائے زبدگی زوال پذیر ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود ہم محض “اللہ ہو” کے ورد اور “اللہ اکبر” کے نعروں پر اکتفا کیے ہوئے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">سیاست سے لے کر معاشرت تک تمام شعبہ ہائے زبدگی زوال پذیر ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود ہم محض “اللہ ہو” کے ورد اور “اللہ اکبر” کے نعروں پر اکتفا کیے ہوئے ہیں۔</div>
<div class="urdutext">اگر ہم بھی سیاسی ناکامیوں کو مذہب کا رنگ دیں گے تو وہ دن دور نہیں جب ایک جماعت “بادِ صبا” کی طرح سب اڑا لے جائے۔ مذہبی ٹھیکیداروں کی غلام قومیں آج جس دہانے پر کھڑی ہیں، اس کا احساس ہم سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا۔ہم خواہ خود کو کچھ بھی سمجھیں مگر اس حقیقت سے منہ نہیں موڑ سکتے کہ ہم نسل در نسل ہزار ہا سالوں سے مرضِ غلامی میں جکڑے ہوئے ہیں ،جن کے طوق سے آزاد گردنیں جھکتی ہیں۔غلامی کے ان سجدوں کے لیے ہماری امامت غلاموں کے ہاتھوں میں ہے اور ان کی اقتداء میں ہم غلامی کی نماز یں پڑھ رہے ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ba%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2/">غلامی کی نماز</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ba%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%b2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یہ چار عناصر ہوں تو۔۔</title>
		<link>https://laaltain.pk/yeh-char-anasir-hon-tu/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/yeh-char-anasir-hon-tu/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈاکٹر عبدالمجید عابد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 14 Aug 2016 12:29:20 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[cultural identity]]></category>
		<category><![CDATA[Identity of Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistani nationalism]]></category>
		<category><![CDATA[Religious identity of Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان اور اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان اور پدرسری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان اور فوج]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان کی شناخت کیا ہے]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان کی مذہبی شناخت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی شناخت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانیت]]></category>
		<category><![CDATA[پدرسری معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[حب الوطنی]]></category>
		<category><![CDATA[قومیت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=17306</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">عبدالمجید عابد: یہ شناخت پنجاب اور دیگر صوبوں کے شہری علاقوں میں دیہی علاقوں کی نسبت نمایاں ہے۔ ہمارے لئے فکر کی بات یہ ہے کہ اس شناخت کو بعینہٰ تسلیم کیا جائے یا اسے بدلنے کی سعی کی جائے؟</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/yeh-char-anasir-hon-tu/">یہ چار عناصر ہوں تو۔۔</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">پاکستان میں شناخت کے موضوع پر بحث عرصہ دراز سے جاری ہے۔ تاہم ستر برس کے دوران ایک ایسی شناخت وجود میں آ چکی ہے جو اگرچہ علمی حلقوں میں متنازع ہے مگر اس کے باوجود ہمارے روز مرہ کے معاملات میں اس کی واضح چھاپ موجود ہے۔ عبدالمجید عابد کی یہ تحریر اس سے قبل ‘ہم سب’ پر بھی شائع ہو چکی ہے، مصنف کی اجازت سے اسے لالٹین پر بھی شائع کیا جا رہا ہے۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urdutext">شناخت (Identity) کا قومیت (Nationalism) کی تعمیر میں ایک اہم کردار ہوتا ہے۔ پاکستانیت اور پاکستانی شناخت کے متعلق بحث تقسیم ہند کے بعد سے جاری ہے۔ اس موضوع پر دائیں اور بائیں بازو کے مابین چپقلش کئی دہائیوں سے چل رہی ہے کہ کیا ہماری شناخت مذہبی اور نظریاتی بنیادوں پر قائم ہو گی یاہم جغرافیائی بنیاد پر شناخت کو قومیت کا عنصر بنائیں گے۔ اس سلسلے میں دائیں بازو (اور ریاستی اداروں) کی جانب سے دو قومی نظریہ اور نظریہ ء پاکستان کی اختراع کی گئی۔ بائیں بازو نے سندھ ساگر اور مقامی شناختوں کو بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ ایوب اور یحییٰ دور میں پاکستانیت کے نظریاتی معیار کا چرچا رہا تو بھٹو صاحب کے دور میں ثقافت اور تہذیب کو پروان دی گئی۔ ضیاء دور میں مذہبی شناخت کو حرفِ اول اور حرف آخر کے طور پر متعارف کرایا گیا۔ بعدازاں جمہوری حکومتوں نے اس بحث میں قابل قدر حصہ نہیں ڈالا اور موجودہ دور میں ہم شناخت کے معاملے پر ایک تذبذب (confusion) کا شکار ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">اس موضوع پر دائیں اور بائیں بازو کے مابین چپقلش کئی دہائیوں سے چل رہی ہے کہ کیا ہماری شناخت مذہبی اور نظریاتی بنیادوں پر قائم ہو گی یاہم جغرافیائی بنیاد پر شناخت کو قومیت کا عنصر بنائیں گے۔</div>
<div class="urdutext">ابن انشاء نے سنہ 69 ء میں ’ہمارا ملک‘ نامی فکاہیے میں پوچھاتھا:’یہ کون سا ملک ہے؟ یہ پاکستان ہے، اس میں پاکستانی قوم رہتی ہو گی؟‘ اور جواب میں لکھا:’اس میں سندھی قوم رہتی ہے، اس میں پنجابی قوم رہتی ہے، اس میں بنگالی قوم رہتی ہے، اس میں یہ قوم رہتی ہے، اس میں وہ قوم رہتی ہے‘۔ سبط حسن نے سوال اٹھایا تھا:’تہذیب عبارت ہے کسی قوم کی ہر نوع کی تخلیقات کی نچوڑ سے۔ہماری تہذیبی روایات کیا ہیں، ان کی پہچان کیا ہے، ہمیں اپنے تہذیبی ورثے میں سے کن کن چیزوں کو مسترد کرنا ہے، کن کن کو فروغ دینا ہے، قومی تہذیب اور علاقائی تہذیبوں کا کیا رشتہ ہے اور اس رشتے کو کس طرح اور مضبوط کیا جائے؟ ابھی تک ہم یہ تصفیہ نہیں کر پائے کہ ہماری تہذیب کا نشان امتیاز کیا ہے اور اس کی شناخت کا طریقہ کیا ہے۔’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس موضوع پر تجاویز پیش کرنے سے قبل یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آخر پاکستانی شناخت کیا ہے؟ہماری ناقص رائے میں دانستہ یا غیر دانستہ طور پراب ایک مخصوص پاکستانی شناخت وجود میں آچکی ہے(چاہے ہم اسے پسند کریں یا نہ کریں)۔ اقبال مرحوم سے معذرت کے ساتھ لیکن ہمارے ناقص خیال میں یہ شعر مروجہ پاکستانی شناخت کی نشاندہی کرتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مذہبی، حب الوطن، فوج کا حامی،پدر سری نظام کا پیروکار<br>
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے (پاکستانی) مسلمان</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>1۔ مذہب پسندی-پہلا عنصر</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">مذہب کو ’مکمل ضابطہ حیات‘ سمجھنا اور دنیا کے ہر مسئلے کا حل مذہب میں ڈھونڈنا ’مذہبی‘ ہونے کی علامت ہے۔</div>
<div class="urdutext">مذہبی شناخت رکھنے کا تعلق مذہب کے احکامات پر عمل پیرا ہونے سے نہیں، انسان مذہبی احکامات پر عمل کرتے ہوئے ’غیر مذہبی‘ بھی ہو سکتا ہے (چاہے یہ بات بھائی عامر ہاشم کو سمجھ آئے یا نہ آئے)۔ مذہب کو ’مکمل ضابطہ حیات‘ سمجھنا اور دنیا کے ہر مسئلے کا حل مذہب میں ڈھونڈنا ’مذہبی‘ ہونے کی علامت ہے۔ عقیدے کی حد تک مذہب کی بات سمجھ میں آتی ہے، سیاست، معاشرت اور معیشت کے میدان میں دنیا بہت آگے نکل چکی ہے اور معاشی طور پر خوش حال ممالک میں ان موضوعات کے ماہر ہی ان پر رائے دے سکتے ہیں۔ کسی بھی مذہب کے احکامات پر عمل کرنے کا اختیار انسان کو حاصل ہے (اور ہونا بھی چاہئے)۔ دستور کے مطابق پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے اور اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ آبادی کا بیشتر حصہ مسلمان ہے۔ ان حالات میں غیر مسلموں سے تفریقی رویہ رکھنا اور اپنی حیثیت پر فخر کرنا تکبر کی نشانی ہے۔ پاکستان کا مطلب بنتے وقت تو جانے کیا تھا، اب لا الہ الا اللہ ہو چکا ہے(یا کیا جا چکا ہے)۔جب پہلی سے سولہویں جماعت کی درسی کتب ’پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہے‘ کی گردان کریں گی تو طلبہ اسے ایمان مجمل کی طرح ہی تسلیم کریں گے۔ اس پاکستانی مذہبیت کا ایک پہلو قطعیت بھی ہے، یعنی خود کو ہی درست سمجھنا اور صرف خود کو ہی جنت کا حقدار قرار دینا۔ اس مذہبیت کی بنیاد مذہب سے ایک غیر علمی اور جذباتی تعلق رکھنا ہے۔ پاکستان میں سماجی سطح پر اس مذہبی قطعیت کا اظہار فرقہ وارانہ شکلوں میں بھی عام ہے، جس کی ایک واضح مثال تکفیری دہشت گردی کی صورت میں سامنے آ چکی ہے۔ اسی مذہبی شناخت کے باعث پاکستانی مسلمان دنیا بھر کے جہادیوں سے ہمدردی رکھتے ہیں، عربوں سے زیادہ عرب بننا چاہتے ہیں اور اپنی مقامی ثقافتی روایات کو تکفیر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>2۔ پدرسری-دوسرا عنصر</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پدر سری نظام پاکستان کا خاصہ نہیں بلکہ عورت مخالف رویے دنیا کے بیشتر ممالک میں پنپ رہے ہیں۔ ہمارے ہاں انسانی جان کی قیمت دیگر ممالک کی نسبت ارزاں ہے لہٰذا عورتوں کی جان کی اہمیت اس لحاظ سے کم تر سمجھی جاتی ہے۔ مضحکہ خیز صورت حال یہ ہے کہ اس نظام کی بقا اور استحکام میں عورتیں اور مرد برابر کے شریک ہیں۔ پدرسری نظام تقسیم سے قبل بھی ان علاقوں میں صدیوں سے رائج تھا جو موجود پاکستان میں شامل ہیں۔ پدرسری اقدار اب ریاست کے انتظامی بندوبست میں بھی سرایت کر چکی ہیں۔ گو آئین صنفی امتیاز کے خلاف تحفظ دینے کے عزم کا اظہار کرتا ہے تاہم قانون سازی، انتظامی بندوبست اور سیاسی عمل میں خواتین کی شمولیت اور انہیں شامل کرنے کی خواہش نایاب ہے۔ بہرطور گزشتہ ایک دہائی میں ایسی قانون سازی ہوئی ہے جو پدرسری اقدار کے تحت روا رکھے جانے والے عورت مخالف رویوں کی حوسلہ شکنی کرتی ہے مگر معاشرے اور ریاست کے عملی بندوبست پر اس قانون سازی کے اثرات ابھی نظر نہیں آتے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>3۔ فوج سے محبت- تیسرا عنصر</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">فوج کی حمایت کرنا کوئی جرم نہیں کہ آخر یہ ہماری اپنی فوج ہے، اس فوج کے سپاہی اور افسر ہمارے بھائی، باپ اور بیٹے ہیں۔ ہاں فوج کو ہر سیاسی مسئلے کی دوا سمجھنا اصل مسئلہ ہے۔</div>
<div class="urdutext">فوج کی حمایت کرنا کوئی جرم نہیں کہ آخر یہ ہماری اپنی فوج ہے، اس فوج کے سپاہی اور افسر ہمارے بھائی، باپ اور بیٹے ہیں۔ ہاں فوج کو ہر سیاسی مسئلے کی دوا سمجھنا اصل مسئلہ ہے۔ فوج سے محبت امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے لوگ بھی کرتے ہیں۔ فرق صر ف یہ ہے کہ وہاں کمانڈر انچیف کی رخصتی سے قبل ’ابھی نہ جاؤ چھوڑ کے‘ کے پوسٹر نہیں لگوائے جاتے، اور نہ ہی وہاں ہر دس سال بعد مارشل لاء نافذ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں فوج سے متعلق پائی جانے والی محبت گو تمام صوبوں میں یکساں شدت سے موجود نہیں مگر قومی سیاسی منظر نامے میں سول قیادت عسکری بالادستی کو عملاً قبول کر چکی ہے۔ عوامی سطح پر فوجی سربراہان یا آمروں کے خلاف اگر بعض حلقوں میں نفرت پائی بھی جاتی ہے تو فوج کے ادارے کی عوامی مقبولیت کبھی کم نہیں ہوئی۔ فوج سے عوامی محبت کا یہی جذبہ ہے جس کی وجہ سے آج تک فوج کی ناکامیوں، غیر پیشہ ورانہ طرزعمل اور آئین کی خلاف ورزی پر کبھی کسی آمر کا محاسبہ نہیں ہو سکا۔ اس ضمن میں یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ موجودہ پاکستان کے علاقے تقسیم سے قبل بھی بڑے پیمانے پر فوجی مہیا کرتے تھے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>4۔ حب الوطنی- چوتھا عنصر</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">حب الوطنی بھی کوئی بری بات نہیں اور اپنے وطن سے الفت رکھنا ایک فطری سی بات ہے۔ اس محبت میں ’وہ قرض چکانا جو واجب بھی نہیں تھے‘ قابل تقلید روش نہیں۔ اپنے ملک سے محبت کا مطلب دوسرے ممالک سے نفرت کے مترادف نہیں ہونا چاہئے۔ حب الوطنی کا پاکستانی تصور وطن سے محبت کے ساتھ ساتھ ہندوستان، اسرائیل اور امریکہ سمیت کئی دیگر ممالک سے نفرت کی بنیاد پر استوار ہے۔ اسی طرح حب الوطنی کے تحت غیر حقیقت پسندانہ اور جذباتی طرزعمل جس شدت کے ساتھ پاکستان میں ہے کہیں اور نہیں۔ افغانستان اور بھارت کے شہری بھی ہماری ہی طرح کے انسان ہیں، ان کے خاندان ہیں، نوکریاں ہیں، ضرورتیں ہیں، ان سے صرف اس صفت کی وجہ سے نفرت کرنا کہ وہ فلاں ملک میں پیدا ہوئے، اول درجے کی حماقت ہے۔ دیگر ممالک سے نفرت کو حب الوطنی کا لازمی جزو بنا لینا، اُس جذباتیت، بیمار نرگسیت اور دیگر اقوام سے الگ تھلگ ہونے کے طرزِ عمل کی بھی بنیاد ہے جو ہمیں عالمی تنہائی کا شکار کر رہے ہیں۔ حب الوطنی کا یہی غیر حقیقت پسندانہ تصور ہمارے ہاں پائے جانے والے سازشی مفروضوں کو بھی پروان چڑھاتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>پاکستانی شناخت کا ارتقاء</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">اس شناخت سے انحراف کرنے والوں کو کافر، غدار، باغی، بزدل، بے غیرت، لبرل انتہا پسند اور اس قماش کے القاب سے نوازا جاتا ہے۔</div>
<div class="urdutext">پاکستان جن علاقوں پر مشتمل ہے، وہاں جمہوریت کے ارتقاء کی کہانی موجودہ غیر جمہوری رویوں کی داستان سناتی ہے۔ انگریز راج سے سنہ 1970ء تک ووٹ ڈالنے کا حق ایک مخصوص طبقے کو حاصل تھا جو تعلیم یافتہ، نوکری یافتہ یا زمین داری طبقہ تھا۔ انہی لوگوں کے ووٹوں سے پاکستان بنا۔ عام شہری کے لئے جمہویت، ملک صاحب یا شاہ صاحب کی خاطر مدارت سے زیادہ کچھ نہیں تھی۔ ووٹ کی طاقت حاصل کرنے کے بعد بھی یہ تماشا جاری رہا۔ جمہوریت کے فضائل اگر دینو کمہار کو سکھائے جاتے تو چوہدری صاحب کو ووٹ کون ڈالتا؟ جمہوریت کو ووٹ ڈالنے تک محدود کر دیا گیا اور حقیقی فضائل ہمیشہ اشرافیہ کے حصے میں آئے۔70ء کے انتخابات میں بھٹو صاحب کے ساتھ جو لوگ پہلی دفعہ منتخب ہوئے تھے، وہ اس اشرافیہ کا حصہ بن گئے اور ان میں سے بیشتر 85ء کے غیر جماعتی انتخابات میں امیدوار بنے۔جمہوری رویوں سے اجتناب کا نتیجہ نجی سطح پر پدر سری نظام اور سماجی سطح پر آمریت کی شکل میں نکلتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس شناخت کی تعمیر میں بہت سے عوامل شامل رہے ہیں۔ سیاسی قیادت کی نالائقی، فوجی قیادت کی مہم جوئی(اور خوش فہمی)، ملائیت کو سرکاری تحفظ عنایت کیا جانا، سماجی تحاریک کی ناکامی، ہمسایہ ممالک کے معاملات میں غیر ضروری دخل اندازی، سرکاری موقف کے ذریعے طلباء کی ذہن سازی اور ہر دور حکومت میں ذرائع ابلاغ کی آزادی سلب کئے جانے کا نتیجہ یہی نکلنا تھا۔ اس شناخت سے انحراف کرنے والوں کو کافر، غدار، باغی، بزدل، بے غیرت، لبرل انتہا پسند اور اس قماش کے القاب سے نوازا جاتا ہے۔تقسیم کے دوران بربریت پر آواز اٹھاؤ تو دو قومی نظریے کی دہائی پڑتی ہے، جناح صاحب کے اقدامات پر تنقید کرو تو حب الوطنی مشکوک قرار دی جاتی ہے، کشمیر میں دخل اندازی کی جانب توجہ دلاؤ تو قومی مفاد کی لال جھنڈی لہرائی جاتی ہے، ’اسلامی تشخص‘ پر تبصرہ کرو تو ایمان کی کمزوری کا رونا رویا جاتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ شناخت پنجاب اور دیگر صوبوں کے شہری علاقوں میں دیہی علاقوں کی نسبت نمایاں ہے۔ ہمارے لئے فکر کی بات یہ ہے کہ اس شناخت کو بعینہٰ تسلیم کیا جائے یا اسے بدلنے کی سعی کی جائے؟ کیا ہم اس شناخت کے ساتھ اکیسویں صدی کے تقاضوں کو پورا کر سکتے ہیں؟ کیا ان خصوصیات کے ساتھ ہم دنیا کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں؟ کیا نوع انسانی کے لئے ہماری یہ شناخت تخریب کا باعث بنے گی یا ملی نغمے کے الفاظ میں ’جہاں تک وقت جائے گا، ہمیں آگے ہی پائے گا‘؟ کیا ہم اس شناخت کی موجودگی میں ’محبت، امن اور اس کا پیغام پاکستان‘ بنا سکیں گے؟</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/yeh-char-anasir-hon-tu/">یہ چار عناصر ہوں تو۔۔</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/yeh-char-anasir-hon-tu/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
