<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>مہران Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/%d9%85%db%81%d8%b1%d8%a7%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/مہران/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Wed, 23 Nov 2016 07:54:10 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>مہران Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/مہران/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>Mercy Killing</title>
		<link>https://laaltain.pk/mercy-killing/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/mercy-killing/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نسرین انجم بھٹی]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 23 Nov 2016 07:39:14 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[indus river]]></category>
		<category><![CDATA[اردو شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[جدید اردو شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[دریائے سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[مہران]]></category>
		<category><![CDATA[نسرین انجم بھٹی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=19412</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">نسرین انجم بھٹی: ماں گنگا نے بتایا!<br />
 شیردل بڑابیٹا تھا۔۔۔مست سندھو<br />
		جو صدیوں کو خاطر میں نہیں لاتا تھا پر اب<br />
		ریت اُس پر چل دوڑی ہے</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/mercy-killing/">Mercy Killing</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">نسرین انجم بھٹی پنجابی اور اردو کی ممتاز شاعرہ ہیں۔ ان کے مطابق ‘میں پیدائیشی طور پر بلوچ، ڈومیسائل کے اعتبار سے سندھی اور شادی کے بعد پنجاب کی ہوئی، میرا تعلق پورے پاکستان سے ہے’۔ آپ کا بچپن کوئٹہ میں گزرا، بعد ازاں وہ پہلے جیکب آباد اور پھر لاہور منتقل ہوئیں۔ آپ کی پنجابی شاعری کی دو کتابیں ‘نیل کرائیاں نیلکاں’ اور ‘اَٹھے پہر تراہ’ شائع ہو چکی ہیں۔ اردو شاعری کی ایک کتاب ‘بن باس’ شائع ہو چکی ہے جبکہ دوسری کتاب ‘تیرا لہجہ بدلنے تک’ اشاعت کے مراحل میں ہے۔ نسرین انجم بھٹی 26 جنوری 2016 کو تہتر برس کی عمر میں وفات پا گئی تھیں۔ یہ نظم ان کی آنے والی کتاب ‘تیرا لہجہ بدلنے تک’ میں شامل ہے اور معروف شاعر <a href="https://laaltain.pk/author/zahid-nabi/" target="_blank">زاہد نبی</a> کے تعاون سے لالٹین پر شائع کی جا رہی ہے۔ ہم زاہد نبی کے ممنون ہیں کہ انہوں نے نسرین انجم بھٹی کی یہ نظم لالٹین قارئین کے لیے عنایت کی۔  </div>
<p>[/blockquote]<br>
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=“”][vc_column width=“2/3”][vc_column_text]</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">Mercy Killing</div>
<div class="urdutext">
        تھوڑی تھوڑی دیر بعد کچھ دھڑکتا ہے<br>
        کچھ مچلتاہے<br>
        بے اعتباری کا خوف، کہ کچھ ہونے والا ہے<br>
        کچھ ایسا جو ہم جان نہ پائیں گے اور ہو جائے گا<br>
        ہم ہوا کی طرف دیکھتے تھے مگر وہاں ہوا نہ تھی<br>
پانی کو سنتے تھے مگر پیاس نے راستہ بدل لیا تھا<br>
        باہر آ کر بیٹھ جانے سے اندر کا دکھ کم نہیں ہوتا<br>
        کنارہ کش کناروں سے دستبردار کیسے ہو<br>
        آنکھوں کے اندر جو پرندے سو گئے ہیں وہ اب جاگتے نہیں<br>
        کہ خوابوں میں سوتے ہیں<br>
        خوابوں میں سوئے ہوئے ایک دوسرے میں سوتے ہیں<br>
        پہرہ دیتی پلکیں ورق الٹتی ہیں<br>
 پچھل پیری ہے پیچھے کو کھینچتی ہے<br>
        دل بکف کون یہاں بیٹھا لکھتا ہی لکھتا ہے کہ<br>
 اُس کے کناروں پر آسمان گرجتا تھا،<br>
 جب میں نے اسے دیکھا<br>
        بہت سینہ زور تھا،<br>
 دہلاتا تھا،<br>
 سمندر کی مثال قبول نہیں کرتا تھا تو<br>
        سات ستیاں اُس پر وار دی جاتی تھیں<br>
        ماں گنگا نے بتایا!<br>
 شیردل بڑابیٹا تھا۔۔۔مست سندھو<br>
        جو صدیوں کو خاطر میں نہیں لاتا تھا پر اب<br>
        ریت اُس پر چل دوڑی ہے<br>
        کشتیاں مری ہوئی مچھلیوں کی طرح کنارے آن لگی ہیں<br>
        بچے لاشوں کا کھیل کھیلتے ہیں<br>
        بڑے ہنس کر منہ دوسری طرف پھیر لیتے ہیں<br>
        درمیانی عمر کے لوگ! کبھی بچوں کو کبھی بڑوں کو دیکھ کر آگے چل دیتے ہیں<br>
        نہ دیکھو کے لوگ کون ہیں<br>
        صرف پاؤں کو دیکھو جو حرکت میں ہیں<br>
        یہ اب مہربان ہے ستاون دروازوں والا بھیڑیا دریا اس میں سے گزرتا ہے تو<br>
        ریت سے صلح کر لیتا ہے کہ چل!اِس بار بھی تو ہی سہی<br>
        تھوڑی تھوڑی دیر بعد جگہ بدلتے ہیں، جیسے آدمی لباس بدلتے ہیں اور آنکھیں منظر<br>
        پیاس آگے بڑھتی چلی آ رہی ہے جیسے آگ کا سیلاب<br>
        شہر پیچھے ہٹتے چلے جاتے ہیں،<br>
 پانیوں کو کیا ہوا؟<br>
 پنچھیوں کو کیا ہوا؟<br>
        منہ زور اپنی قسم توڑتے جاتے ہیں<br>
        بادل ہیں راستے میں رک گیا بے غیرت<br>
        اسے اپنے اوپر ترس آنے لگا ہے کیا؟<br>
        اب اسے گولی مارو یا رگیں نچوڑ لو<br>
        Mercy Killingپر دستخط ضروری نہیں رہے۔
            </div>
<p>Image: Ali Bhutto</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/mercy-killing/">Mercy Killing</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/mercy-killing/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
