<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اردو ادب اور جنس Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88-%D8%A7%D8%AF%D8%A8-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%AC%D9%86%D8%B3/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/اردو-ادب-اور-جنس/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Fri, 31 May 2024 22:13:42 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>اردو ادب اور جنس Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/اردو-ادب-اور-جنس/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پستان-آخری قسط</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a2%d8%ae%d8%b1%db%8c-%d9%82%d8%b3%d8%b7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a2%d8%ae%d8%b1%db%8c-%d9%82%d8%b3%d8%b7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[تصنیف حیدر]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 25 Apr 2017 08:44:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Tasneef Haider]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Erotica]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[urdu novel]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب اور جنس]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ایروٹیکا]]></category>
		<category><![CDATA[اردو فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[تصنیف حیدر]]></category>
		<category><![CDATA[جدید اردو فکشن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=20613</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">تصنیف حیدر: اس بحث نے این پر یہ بات روشن کردی تھی کہ صدر پستانوں کے بارے میں ایک اساطیری قسم کی منطق کا شکار ہوگیا ہے۔وہ اس دنیا میں نہیں رہ رہا ہے، جہاں پستانوں کا جنون دھیرے دھیرے ختم ہورہا ہے، عورت کو عورت تسلیم کیا جارہا ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a2%d8%ae%d8%b1%db%8c-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">پستان-آخری قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urdutext">باب-12<br>
اس ایروٹیکا کی <a href="https://laaltain.pk/category/literature/fiction/pistan/" target="_blank" rel="noopener">مزید اقساط</a> پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">این اور صدر کی جس بات پر علیحدگی ہوئی تھی، وہ ایک ایسی بات تھی، جس پر کم از کم الگ ہوجانے کا تو خیال کسی کو نہیں آنا چاہیے۔لیکن ان دونوں کی ہی فطرت میں شاید محبت کا ویسا خمیر موجود نہ تھا، جس میں کسی ایک شخص کے ساتھ زندگی بھر کے تعلق کی خواہش ہو۔محبتیں بعض اوقات بڑی بے پروا بھی ہوا کرتی ہیں، ضروری نہیں ہے کہ انسان جس سے محبت کرے، اس سے کرتا ہی چلا جائے، محبت تو عین وصل کے درمیان بھی پھوٹتی ہے اور ہجر کے بیچ بھی اگتی ہے۔کسی کا حاصل ہوتا ہوا بدن اور دماغ پر تیرتی ہوئی اس کے جسم کی بھینی یادیں، یہ سب مل کر ایک عجیب و غریب کیفیت پیدا کرتی ہیں۔محبت کا دوامی تصور عام ذہنوں کا پیدا کیا ہوا ہے، ورنہ محبت تو وہ شے ہے، جو ایک وقت کے بعد اگر اپنا اثر نہ کھوئے تو بوجھ بن جائے۔کسی چیونگم میں موجود مٹھاس کی طرح یا پھر پھول میں موجود خوشبو کی طرح محبت کو ایک روز مرنا ہوتا ہے۔ختم ہونا دراصل ہر شے کا انتہائی حسن ہے، اختتام سے زیادہ بہتر بات اور کوئی ہوہی نہیں سکتی۔صدر نے انہی دنوں ایک تصویر بنائی تھی، جب وہ این کے بہت قریب تھا، جس میں ایک مرد اپنے ہاتھوں میں کسی لڑکی کے دو پستان لیے کھڑا تھا، اور دونوں پستان آہستہ آہستہ پگھلتے ہوئے معلوم ہورہے تھے۔این جاننا چاہتی تھی کہ پستانوں کے پگھلنے کا کیا مطلب ہے۔صدر کا موقف تھا کہ پگھلتے ہوئے پستان دراصل لڑکی کے پستانوں کے پنرجنم کی داستان بیان کررہے ہیں۔ہر بار جب ایک نیا تعلق لڑکی کسی سے بناتی ہے تو اس کے پستانوں کا ایک نیا جنم ہوتا ہے، ان کی سختی کا، وہ ایسی مٹھیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں، جن کے اندر بے انتہا شکنیں ایک دوسرے سے لپٹی ہوئی، ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئی موجود ہوں۔جیسے جیسے یہ مٹھیاں صنف مخالف پر کھلتی ہیں ، پگھلتی جاتی ہیں۔ان کی تیزی، چستی اور ایک آسیبی و تیزابی کیفیت میں فرق آتا جاتا ہے۔تو این سوچنے لگی کہ کیا اس مختصر سے عرصے میں اس کے پستان بھی گھل رہے ہیں، پگھل رہے ہیں، کیا اسے اس عمل سے خود کو بچانا چاہیے۔اس نے اضطراری طور پر صدر سے پوچھا، پھر انسان کسی کے فراق میں پاگل کیوں ہوجاتا ہے۔کیا تمہارے نزدیک کسی کی دوری سے پڑنے والے شدیدنفسیاتی اثر کا کوئی وجود ہی نہیں ہے، کیا وہ متھ ہے، یہ گتھی تم کس طرح سلجھائو گے۔صدر کہتا تھا کہ گتھیاں سلجھانے والی چیز نہیں ہیں، وہ تجربے سے خود بخود سلجھنے لگتی ہیں،دنیا کی کوئی ایسی محبت نہیں، جس میں ایک وقت کے بعد بیزاری نہ پیدا ہوجائے۔این کا اصرار اس بات پر تھا کہ یہ ایک سخت گیر قسم کا بیان ہے، جس کا اطلاق تمام زندگیوں اور ذہنوں پر نہیں کیا جاسکتا۔مگر صدر کہتا تھا کہ فطرت ایک ہی چیز کا اطلاق کرتی ہے، اور جب کسی شے پر ایک ہی بات کا اطلاق نہیں ہوپاتا تو پھر اس سے دوسری چیز پیدا ہوجاتی ہے۔عورت، دراصل مرد کی ہی ایک بگڑی ہوئی شکل ہے۔جس کے بگاڑ نے ہی اسے مرد سے علیحدہ کیا ہے، اسی طرح جس طرح دوسرے چرند پرندانسان سے الگ ہیں۔این کو اس لفظ’بگڑنے’ پر شدید اعتراض تھا۔وہ سمجھتی تھی کہ صدر عورت کے معاملے میں کسی ناقد کا سا رویہ اختیار کررہا ہے۔اس نے اس بات پر شور مچانا شروع کردیا۔‘عورت ہی کیوں بگڑی ہوئی شکل ہوگی، مرد بھی تو ہوسکتا ہے، مرد کے پاس ویسے بھی عورت سے زیادہ جنسی کشش کا سامان نہیں ہے، اس حساب سے تو عورت مرد کی ایک ارتقائی شکل ہے، عورت کا پورا بدن ایک جنسی آبجیکٹ کے طور پر ہمارے معاشروں میں قبول کیا جاچکا ہے۔کوئی اوپر سے کتنی بھی شرافت کا اظہار کرے، کھوکھلے بیانات یا اخلاقیات کی فہرست کو سینے پر ٹائی کی طرح ٹانگ کر گھومتا رہے، مگر عورت کے معاملے میں ہر مرد ایک ہی قسم کا ہوتا ہے، اسے بستر پر عورت کے مسکراتے یا چیختے ہوئے پستانوں کا انتظار رہتا ہے۔یہ اس لیے ہے کیونکہ مرد کو اس معاملے میں پوری طرح عورت پر منحصر ہونا پڑتا ہے اور جب وہ عورت پر سے اپنا انحصار ختم کردیتا ہے تو دنیاکے مہذب معاشرے اسے بری نگاہوں سے دیکھتے ہیں، ان تمام باتوں سے یہ ثابت ہی نہیں ہوتا کہ عورت مرد کی ہی کوئی بگڑی ہوئی شکل ہے۔صدر کہتا تھا کہ بگاڑ کا لفظ منفی نہیں ہے۔اسے منفی اس ذہنیت نے بنایا ہے، جس نے تمہیں عورت اور مجھے مرد کا خطاب دیا ہے۔ہم نے لفظوں کو چیزیں کی شناخت کے لیے ایجاد کیا تھا، لیکن پھر ہم ان شناختوں سے گھبرانے لگے۔این نے کہا کہ ظاہر ہے اگر تم مرد کو عورت کی بگڑی ہوئی شکل نہیں کہتے یا اس کی ارتقائی شکل نہیں مانتے ہو تو تم بھی تو اس شناخت سے گھبراہی رہے ہو۔صدر کو اب اپنا مقدمہ دوسری طرح بیان کرنا پڑا۔اس نے بتایا کہ وہ سمجھتا ہے کہ لفظ بگاڑ کی جگہ ہم اسے عورت کا ارتقائی عمل بھی کہہ سکتے ہیں اور پھر مرد بھی تو کسی نہ کسی جانور کی بگڑی ہوئی شکل ہی ہے۔بگڑنا دراصل بننے کا ابتدائی مرحلہ ہے، ایک شے جب دوسرے سے بگڑتی ہے تو وہ بغاوت کرکے اپنا ایک نیا راستہ پیدا کرتی ہے، یہ فطرت کا اصول ہے، میرا نہیں۔ایک ہی وقت میں کئی چیزیں ہمارے آس پاس بگڑ رہی ہوتی ہیں، مگر ہم ان پر دھیان نہیں دیتے۔جیسے کہ ہمارا جنسی عمل ، باقی لوگوں کے جنسی عمل سے جتنا کچھ بھی مختلف ہوا ہے، اس کی بڑی وجہ وہی بگاڑ یا بغاوت ہے جو ہمیں ایک ہی جیسا ہونا یا دوسروں جیسا ہونے سے روکتی ہے۔سو عورت نے بھی کسی ایک وقت میں فطرت کے اسی رویے سے بغاوت کرکے اپنے سینے پر ان دو گنبدوں کو ابھارا ہوگا، سوچو ابتدا میں جب آدمی نے عورت کا سینہ بدلتا ہوا دیکھا ہوگا، جب اسے محسوس ہوا ہوگا کہ کوئی تبدیلی آرہی ہے، یہ تبدیلی کیا ہے اور کیسی ہے، ان سوالوں نے چاہے اسے ڈرایا ہو یا چونکایا ہو، لیکن بعد میں رفتہ رفتہ عورتوں نے اور مردوں نے اس تبدیلی کو نہ صرف قبول کیا بلکہ اسے بطور حسن بھی تسلیم کیا، اندرونی بغاوتیں ہوں یا بیرونی، ظاہری ہوں یا باطنی ، ایک وقت کے بعد اپنے شباب پر آتی ہیں، خود کو منواتی ہیں اور ان کی جدو جہد کا راستہ جتنا کٹھن اور کانٹوں بھرا ہوتا ہے، ان کی خوبصورتی بھی اسی حد تک تسلیم کی جاتی ہے۔مشرقی سماجوں نے پستانوں کو بہت زیادہ اہمیت دی، ان کے ساتھ جنسی عمل کے جتنے طریقے دریافت کیے گئے، اتنے تو عورت کی گلابی یا سیاہ جھلیوں کے ساتھ بھی وجود میں نہ آسکے۔اور پھر جدید اور مہذب قسم کی روایتیں، ان پستانوں سے خوف کھانے لگیں، یعنی وہی پستان جو ایک طویل اور خوفناک قسم کی بغاوت کا نتیجہ تھے اور جن کو حسن کی دو عظیم آماجگاہوں کے طور پر ہمارے ذہنوں نے قبول کیا تھا۔جدید معاشرے نے انہیں بھٹکانے والا، پریشان کردینے والا اور مرد کے لیے خطرناک حد تک مضر ثابت کیا۔یہاں تک کہ عورتوں کو بھی یہ باور کرادیا گیا کہ ان کے سینے ، ان کے ابھار سمیت ، معاشرے کے لیے ایک ایسی لعنت ہیں، جن کا ظاہر ہوجانا خود ان کے لیے بھی سفاک ترین حد تک مصیبت میں ڈالنے والا عمل ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس بحث نے این پر یہ بات روشن کردی تھی کہ صدر پستانوں کے بارے میں ایک اساطیری قسم کی منطق کا شکار ہوگیا ہے۔وہ اس دنیا میں نہیں رہ رہا ہے، جہاں پستانوں کا جنون دھیرے دھیرے ختم ہورہا ہے، عورت کو عورت تسلیم کیا جارہا ہے۔جنس کو وہ بھی اہمیت دیتی تھی ،لیکن لطف لینے کی حد تک، اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس دور میں، اتنے روشن خیال عہد میں جہاں صنفی امتیاز ختم ہوتا جارہا ہے۔عورت اب ایک جنسی آبجیکٹ نہیں رہ گئی ہے،و ہاں صدر کو ایسی پینٹنگز بنانے سے کیسے روکا جائے۔وہ کبھی کبھی سوچتی تھی کہ کیا وہ مکمل طور پر صدر کو غلط قرار دے سکتی ہے، پھر اسے خیال آتا کہ غلط یا صحیح کا پتہ نہیں لیکن اب اسے صدر سے ڈر لگنے لگا تھا، رفتہ رفتہ اس کے اندر سے وہ جنسی ہیجان بھی غائب ہورہا تھا جو پہلے اس سے مختلف قسم کے تجربے کرواتا تھا، انہوں نے اب تک بہت سے مختلف مقامات پر عجیب عجیب طرح سے جنسی عمل کو انجام دیا تھا، کبھی برسات میں بھیگتے ہوئے، کبھی جان بوجھ کر فلیٹ کی سلائڈنگ کھول کر ، وہ پڑوس کے ایک بالکل نوجوان لڑکے کو یہ خوبصورت عمل دکھایا کرتے تھے، وہ کنکھیوں سے اس پورے عمل کو دیکھا کرتا، اس کے اوپری ہونٹ پر جگمگاتے ہوئے بھورے روئیں تن جایا کرتے تھے، انہوں نے اپنے وصال میں بہت سی دوسری قدرتی اور غیرقدرتی چیزوں کو شامل کرلیا تھا، جیسے وہ اکیلے نہ ہوں، جیسے اب وہ دنیا کو ، دیکھنے اور سونگھنے والی صلاحیتوں کو اپنی سسکیاں سنانا چاہتے ہوں۔مگر این سمجھتی تھی کہ صدر کا پستانوں کے ساتھ خاص قسم کا لگائو اسے جنونی بنارہا تھا، وہ این کے داہنے پستان کو منہ میں بھر کر اس پر دانتوں کی تیز ضربیں لگایا کرتا، اپنی مٹھیوں سے انہیں ایسے بھینچتا ، جیسے کوئی طاقت ور دیو ، کسی کلی کو مسل رہا ہو۔تنے ہوئے پستانوں کے ساتھ ساتھ بعض اوقات وہ اس کے جھولتے ہوئے ، نرم اور گدگدے ابھاروں کو بھی نہیں بخشتا تھا، وہ اپنے عضو تناسل کو این کے پستانوں کے درمیان رکھ کر دو ابرقوں میں پیدا کی جانے والی رگڑ کی طرح اسے گھسنے کی کوشش کرتا۔این ہانپنے ہی نہیں، کانپنے بھی لگتی، اس کی بانچھوں سے اففف کی لمبی لکیروں کے جھاگ نکلا کرتے اور فضائیں اس کی چیخوں اور گھٹی ہوئی سسکیوں سے محبوس ہوجاتیں۔مگر وہ نہ مانتا تھا۔آدھے بدن کے اس عجیب بڑھتے ہوئے شور میں اس کی ننھی سی جان دہک دہک کر ہلکان ہوئے جارہی تھی،جب بستر آگ روشن کرتے، سانسیں، پھنکاروں میں بدل جاتیں، لفظ غائب ہوجاتے اور پیروں پر پیروں کے آہنی گرز اپنا بوجھ اتار دیتے تو بمبجوری این کو اپنی جھلیوں میں اپنی ہی انگلی کو اتارنا پڑتا، وہ وہاں سے نکلتی ہوئی دھار میں اپنے چیختے ہوئے وجود کی پتلی سی لکیر کو تر کرتی، کئی بار اس نے کوشش کی کہ صدر کا وجود اس کی شرمگاہ کے غاروں میں بھی اترے، لیکن اول تو وہ ادھر کا رخ بھولتا جارہا تھا، وہ غاروں سے نکل کر چٹانوں کی سیر کرنے میں زیادہ خوشی اور کرب محسوس کرتا، بہت دفعہ ایسا بھی ہوا کہ وہ پستانوں کو کستے کستے رونے لگا، انہیں بھینچتے بھینچتے اس کی سانسیں پھولنے لگیں اور اس کی آنکھوں میں ڈھیروں لعل دھڑ دھڑ کرنے لگے۔مگر ان آتشیں نگاہوں، ان برق رفتار آنسوئوں کی وجہ سے بھی اس کا وجود تھمتا نہیں تھا، وہ جب نڈھال ہوتا تو اکثر اوقات این کی بھوک اپنے شباب پر ہوا کرتی تھی، وہ اس ادھورے عمل سے اکتاتی جارہی تھی اور اسے خوف آنے لگا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ صدر کا جنون اس کی بھوک بڑھادے اور اس کے پستانوں کو ایک روز کھینچ کر اس کے سینے سے علیحدہ کردے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">حالانکہ یہ ڈر بھی اتنا ہی غیر معقول سا تھا جتنی کہ صدر کی پستانوں کے متعلق منطق۔وہ واقعی ایک ایسی متھ تھی، جو اس نے خود گڑھی تھی، وہ اس کتاب میں لکھے ہوئے غیر معروضی قصوں سے بہت آگے بڑھنے لگا تھا، جن کو وہ کچھ عرصے تک خود ہی بے ڈھب اور بے مصرف خیال کرتا تھا۔مگر پستان ، اب اس کے وجود کا حصہ بنتے جارہے تھے ، این نے ایک روز دیکھا کہ بھیانک رات ہے، وہ پلنگ پر اوندھی لیٹی ہے، سامنے سے ایک بھورے بالوں والی ریچھنی پر سوار ہوکر صدر اس کی طرف بڑھ رہا ہے، صدر کے سینے پر دو بہت بڑے بڑے پستان اگ آئے ہیں، وہ ریچھنی کے پستانوں میں اپنے سینے کو انڈیلنے کی کوشش کررہا ہے، یہ سارا منظر اس کی نگاہوں کے سامنے دھندھکتا ہوا موجود تھا، وہ خود بھی تھوڑی دور پر اوندھی لیٹی تھی، مگر وہ وہیں موجود تھی، بالکل عین اس ریچھنی اور صدر کے سامنے۔صدر کے اس پاگل پن کو دیکھتے ہوئے، وہ اچانک اسے روکنے کے لیے اٹھی ، مگر یہ دیکھ کر اس کی گگھی بندھ گئی کہ اس کا سینہ سپاٹ ہے، بالکل سپاٹ۔اس نے ررھیاتے ہوئے صدر کی طرف دیکھا، وہ این کے پستانوں کو ریچھنی کے کولہوں پر باندھ رہا تھا، عجیب سی رنگ برنگی دھجیوں کی مدد سے۔اپنے سپاٹ سینے کو دیکھ کر این بہت دیر تک چیخنے کی کوشش کرتی رہی، مگر ایسا لگتا تھا، جیسے کسی نے اپنے انگوٹھے کے نیچے اس کی حلق کے عین درمیان آواز کو دبایا ہوا ہے، اور جب وہ چیخی تو دیکھا کہ آس پاس کوئی نہیں تھا، نہ صدر، نہ ریچھنی ،دو چمکتے ہوئے پھسلواں گلابی رنگ کے گول گول کٹوروں کے نیچے اس کے پستان محفوظ تھے۔صدر کمرے میں نہیں تھا اور یہ سناٹا بھائیں بھائیں کرکے، اس کی وحشت کو اور بڑھا رہا تھا۔رات کا پتہ نہیں کون سا پہر تھا، وہ اٹھی، اس نے کرتا پہنا اور سلائڈنگ میں جاکر کھڑی ہوگئی، اب وہ شعوری طور پر اپنے ذہن کی آنکھ کھلی رکھ کر اپنے پستانوں کا مستقبل طے کرنے جارہی تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پستان جو اس ہلکے خنک ماحول میں دھڑکنوں کے ہنڈولے میں پڑے خراٹے لے رہے تھے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">نیچے اندھیرا تھا۔شفاف اندھیرا، جس میں سے جھانکتے ہوئے چھدرے کمپائونڈ کی آنکھیں اسے گھور رہی تھیں۔نہ جانے کب تک وہ یونہی کھڑی رہی۔اس کا جی چاہا کہ وہ سگریٹ پیے، مگر اسے ڈھونڈنا پڑتا اور اس وقت وہ ہلنے ڈلنے کے موڈ میں نہیں تھی۔وقت بیتتا رہا، جیسے اس کا تمام بدن اپنے پستانوں کی موجودگی پر خوش ہے اور ہوائیں، اس کی زلفوں، گردن کے روئوں اور پستانوں کو لوریاں سناتی رہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">صدر کی آنکھ کھلی تو این جاچکی تھی۔ایک چھوٹا سا نوٹ فرج کے اوپر لگا ہوا تھا، جس میں لکھا تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">‘میں جارہی ہوں، کیونکہ میں ابھی تک اپنے پستانوں کی موجودگی پر مطمئن ہوں۔بس تم سے اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ تم جس کتاب کو پڑھ کر بہک رہے ہو، اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، وہ سائنس سے زیادہ ایک فکشن کی کتاب ہے۔اور وہ کتاب تمہارے ساتھ ساتھ تمہارے آرٹ کو بھی خود میں ضم کرتی جارہی ہے۔ہوسکے تو اس وہم سے خود کو باہر نکالو۔میں صرف تمہاری اتنی ہی مدد کرسکتی تھی کہ وہ کتاب تمہاری نگاہوں سے دور لے جائوں۔شاید یہی تمہارا علاج ہو۔اب ہم کبھی نہیں ملیں گے۔’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">صدر نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔اسے یاد نہیں آرہا تھا کہ اس نے این کے پستانوں کے ساتھ کوئی وہمی قسم کا سلوک کیا ہو۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a2%d8%ae%d8%b1%db%8c-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">پستان-آخری قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a2%d8%ae%d8%b1%db%8c-%d9%82%d8%b3%d8%b7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کسی صبا رفتار کا بیان</title>
		<link>https://laaltain.pk/%da%a9%d8%b3%db%8c-%d8%b5%d8%a8%d8%a7-%d8%b1%d9%81%d8%aa%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%da%a9%d8%b3%db%8c-%d8%b5%d8%a8%d8%a7-%d8%b1%d9%81%d8%aa%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[تصنیف حیدر]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Sep 2016 04:32:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب اور جنس]]></category>
		<category><![CDATA[اردو فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[تصنیف حیدر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=17892</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">تصنیف حیدر: میں اسے صبا کہوں یا صبا رفتار ۔مگر بات یہی ہے کہ وہ گزری جاتی ہے، نگاہوں کے سامنے سے، ٹھنڈک پہنچاتی ہوئی، کانوں میں سچے شہد کی سی سرگوشیاں گھولتی ہوئی مگر ہم جھونکوں کو محسوس کرنے سے عاری لوگ ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%d8%b3%db%8c-%d8%b5%d8%a8%d8%a7-%d8%b1%d9%81%d8%aa%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86/">کسی صبا رفتار کا بیان</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">آپ نے کبھی صبا کو دیکھا ہے۔وہ ایک نامعلوم ہستی ہے۔ایک ایسی دنیا جس کےرگ و پے میں برق بستی ہو، جس کی آنکھوں سے روشنی برستی ہو۔میں وقت کے دھارے پر چلتا ہوا نہ جانے کہاں پہنچا ہوں کہ اب یہ جس شخص کا خاکہ میں لکھ رہا ہوں، اس کا نام بیان نہیں کرنا چاہتا۔ وہ ایک خیالی انسان ہے۔ایک ایسا انسان جس کا وجود ہے بھی یا نہیں۔اس کا مجھے علم نہیں۔بس میں نے اسے اتنی دیر کے لیے تراش لیا ہے، جتنی دیر کی بورڈ کے کپڑے پر انگلیوں کی سوئیاں پڑتی رہیں اور سل کر تیار کردیں ایک ایسا لباس، جس میں شاید ہی کوئی شخص فٹ ہوسکے، سوائے اس کے، جو ہے اور مجھے ملا نہیں اور جو ہوگا بھی تومجھے نہ ملنے کے لیے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">کتھئی اور سرمئی رنگ کی ملی جلی دھجیوں سے اس کا بدن تیار کیا گیا ہے۔چمکتے ہوئے ریشم کے سے پھسلواں کپڑوں کو اس کی جلد تعبیر کرلیا گیا ہے۔</div>
<div class="urdutext">کتھئی اور سرمئی رنگ کی ملی جلی دھجیوں سے اس کا بدن تیار کیا گیا ہے۔چمکتے ہوئے ریشم کے سے پھسلواں کپڑوں کو اس کی جلد تعبیر کرلیا گیا ہے۔قدرت ایک ایسی ہی غلطی کی نمائش میں غرق ہوئی جارہی ہے، جس میں اس شخص کی بغاوتوں کے سارے اوبڑکھابڑ اور آڑھے ٹیڑھے، ترچھے بانکے طریقے موجود ہیں۔وہ کبھی راجستھان کی گرد میں اٹی ہوئی ہواؤں جیسی معلوم ہوتی ہے تو کبھی کیرالا کے جنگلوں کے سر سبز مناظر میں لپٹی ہوئی۔ ذہانت اس کے روم روم میں ہے، اسی طرح جس طرح معصومیت اس کے چہرے کی ہلکی دھاریوں میں رقص کرتی ہے، گال پر بن جانے والے سانولے اور ہلکے گہرے کنویں، جن میں عاشقوں کے دل ڈول بن کر ڈوبتے جارہے ہیں، خوابوں کی تنی ہوئی رسیوں سمیت۔وقت ایک دہلیز ہے، جس پر کوئی گہرے اور چمکتے ہوئے سیاہ رنگ کا سانپ بیٹھا اس خزانے تک پہنچنے سے عمر کو باز رکھے ہوئے ہے۔وہاں عمر نہیں پہنچ سکتی۔وہاں صرف اتہاس کا حسن اور پھیلے ہوئے مستقل کی تابناکیاں پہنچیں گی، جس قدر وہ پہنچ سکیں اور اس دہلیز کو ایک دن یہ گزرے اور آنے والے کل کی دنیائیں ایک ساتھ اپنی چپیٹ میں لے لیں گی اور وہ سانپ ان کے درمیان پس کر رہ جائے گا۔ قطار میں رکھے ہوئے دیپکوں جیسے اس کے دانت اور ملہار ٹپکاتی اس کی میٹھے اور پھیکے لعاب میں دھنسی ہوئی بولی۔ اس کی پتلی گردن، جس پر پسینے پر بہنے والی کاٹ دار نمکین بوندوں نے تین کٹوریاں سی بنادی ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے بادلوں کی تین انگلیاں کسی روشن سیارے کی دیوار سے بیل کی طرح لپٹی ہوئی ہوں۔ کندھے، جنگ کے میدان پر ٹھکی ہوئی ڈھالوں کی طرح قدم گاڑے ہوئے، چکنے، سخت اور مٹھیوں کی گرفت سے مچھلی کی طرح نکلنے کی صلاحیت رکھنے والے۔گردن سے ذرا نیچے سینے کے شفاف میدان پر تھپا ہوا ایک کالا تل۔جیسے بہت اوپر سے دیکھنے پر کسی خاکی میدان میں تنہا اپنا وجود سنبھالے کھڑی کوئی چٹان نظر آجاتی ہے، ایک گنجی اور ننگی، کالی چٹان۔جس کی تپش سے الجھنے کی نہ جرات ہو، نہ ہر کس و ناکس کو اسے دیکھ سکنے کی توفیق۔سینہ، جیسے کسی نے دو چھوٹے چھوٹے اپلے، اپنی نئی نویلی بدن کی جھگی پر تھوپ دیے ہوں۔ترنگوں جیسے لمبے ہاتھ،امس جیسی پسیجی ہوئی بغلیں، گلوب جیسا گول پیٹ، آواز جیسی مہین کمر، شبد جیسی عظیم شرمگاہ اور اس پر آس پاس بکھری ہوئی تابناک ہلکی سیاہ پتیاں، ان پتیوں سے بہنے والے سفید رنگ کے گاڑھے اور پتلے پانیوں کی دو نہریں، ان نہروں پر جھکا ہوا ایک چلو، اس چلو کی بڑھتی ہوئی پیاس اور اس پیاس کی بھٹکتی ہوئی سانسیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">یہ شخصیت محض خواب کے چھلکوں پر زندہ نہیں رہنا چاہتی، اسے حقیقت کے پھل چاہیئں۔نہ ہوں تو یہ انہیں اگانے، سینچے اور سجانے کا ہنر جانتی ہے۔پھل کے لیے ساری محنت کرنے کے بعد اسے توڑنے سے اسے قدرت نہیں روک سکتی، اگر روکنا چاہے گی تو منہ کی کھائے گی</div>
<div class="urdutext">بدن کی اس آخری اوٹ کے نیچے پھیلی ہوئی اور تنی ہوئی دو ننگی ٹانگیں ہیں۔ان ٹانگوں کا قصہ کسی قصہ گو سے سنیے گاکہ ابھی وقت کی نبض ایک شاعر کے ہاتھ میں ہے، شاعر جو اپنی چھلکتی ہوئی نگاہوں کے ساتھ، دھندلائے ہوئے اس منظر پر، اور سجے ہوئے اک بستر پر اس بدن کو خاک ہوجانے سے روک رہا ہے، اس کے دونوں ہاتھ،اس نامعلوم ہستی کے تنور میں اترے ہوئے ہیں، تھمے ہوئے ہیں، اس طرف مٹی کی ایک بھاری بھرکم سطح ہے اور پر غراتی ہوئی آگ کی لپٹیں، ہاتھ جل رہے ہیں،مگر لپٹوں نے اب ان کو اپنی گول گرفت میں جکڑ لیا ہے ۔سارےپور جھلس گئے ہیں، انسانی تماشے کے اس سب سے گرم اور دہکتے ہوئے تنور میں لگی ہوئی روٹیاں جل کر راکھ ہوئی جارہی ہیں۔ادھر نہروں کا زور بھی جاری ہے۔ بادل، دھوئیں کی شفاف لہروں سمیت گھرر گھرر کرتے ہوئے شاعر کے مساموں میں اتر رہے ہیں اور انہیں میں پھوٹے جارہے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کسی شخصیت کے تذکرے میں شاعر کا ذکر کہاں سے آیا۔محترم قارئین! شاعر اور یہ شخصیت کوئی بہت الگ مخلوق نہیں ہیں۔یہ شاعر کا ہی عکس ہے جو اس کے دونوں اطراف موجود ہے، آئینے کے ادھر بھی اور اُدھر بھی۔لیکن اگر آپ اتنےہی جز بز ہیں تو اسی طرف چلتے ہیں۔پھر ذکر ہورہا تھا اسی شخص کا، جس کے بولنے پر محسوس ہوتا ہے، تتلیاں چٹخارے لے رہی ہوں، پھول کیڑوں کی سونڈوں میں اپنے ہونٹوں کے رس اتار رہے ہوں۔ یہ سب ہوتا ہے، اصل میں، اسی دنیا میں ہوتا ہے، مگر نظر نہیں آتا۔خاص طور پر ان کو، جو ایسے لوگوں کو دیکھنا نہیں چاہتے۔اس شخص کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اسے اپنے ہونے کا علم ہے، ہم میں اور آپ میں کتنے لوگ ہیں، جو یہ جانتے ہیں کہ وہ ہیں صرف اسی لیے تاکہ وہ ہو سکیں اور ہوتے جائیں۔ ان کو اپنے ہونے پر نہ کوئی شرمندگی ہے اور نہ کوئی فخر، وہ بس زندگی کے اس شاندار محل کا پورا چکر لگانا چاہتے ہیں۔ بدن کی دھوپ چھاؤں میں کبھی اعتماد کی رسی تھام کر، کبھی دھوکے اور فریب کی چھڑیاں کھاکر چلتے رہنا چاہتے ہیں۔انہیں گرنا بھی اتنا ہی پسند ہے، جتنا چلنا، انہیں ٹھوکر کھانا بھی اتنا ہی اچھا لگتا ہے، جتنا سنبھل کر دامن جھاڑنا۔ وہ دوسروں پر ہنستے نہیں، کسی کی بھی، کیسی بھی خواہش اور کسی کے بھی کیسے وجود پر سوالیہ نشان نہیں لگاتے۔ وہ بس ہر اس شخص کو اس کی زندگی کی حرارت سمیت قبول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، جس کا پیٹ سانس کی آنکھ مچولی کی وجہ سے پھولنے پچکنے پر مجبور ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">، میں اسے صبا کہوں یا صبا رفتار ۔مگر بات یہی ہے کہ وہ گزری جاتی ہے، نگاہوں کے سامنے سے، ٹھنڈک پہنچاتی ہوئی، کانوں میں سچے شہد کی سی سرگوشیاں گھولتی ہوئی مگر ہم جھونکوں کو محسوس کرنے سے عاری لوگ ہیں۔</div>
<div class="urdutext">یہاں سے اب ایک اور قصہ اس شخصیت کے تعلق سے شروع ہوتا ہے، وہ خسارے میں زندہ رہنے والی شخصیت ہے۔ یعنی کہ ہے بھی اور اپنے آپ کو منوانا بھی نہیں چاہتی۔ وہ خود کا بہت نقصان چاہتی ہے،ذہنی طور پر، جسمانی طور پر، جنسی طور پر اور دوسرے جو بھی طریقے کارآمد ہوسکتے ہیں۔مگر اس شخصیت کو پہچاننا بڑا مشکل ہے۔جیسے کہ سفر کرتے کرتے ایک ہلکے سے موڑ پر اچانک دایاں منظر، بائیں منظر میں تبدیل ہوجاتا ہے، اسی طرح اسے سمجھتے ہوئے فلسفی دماغ کے زاویے بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔یہ شخصیت محض خواب کے چھلکوں پر زندہ نہیں رہنا چاہتی، اسے حقیقت کے پھل چاہیئں۔ نہ ہوں تو یہ انہیں اگانے، سینچے اور سجانے کا ہنر جانتی ہے۔پھل کے لیے ساری محنت کرنے کے بعد اسے توڑنے سے اسے قدرت نہیں روک سکتی، اگر روکنا چاہے گی تو منہ کی کھائے گی، لیکن قدرت اسے کہاں روکتی ہے، وہ تو اس کی ماں کی طرح پرورش کرتی آئی ہے، اس کی باچھوں کو کھلتا ہوا دیکھ کر وہ بھی مسکراتی رہی ہے۔ یہ تو ایک مصنوعی قدرت ہے، جو انسانی ذہن کی بنائی ہوئی، ترشی ہوئی ہے، جو اسے ذلیل کرنے کی فراق میں خود خوار ہوئی جارہی ہے۔ اس نے صرف اس ایک شخصیت کی بے عزتی پر کمرکسی اور خاک پھانکی ہے، مگر اس کا دل نہیں بھرتا۔ اس کے پاس تو شاید دل ہے ہی نہیں۔دل تو اس کے پاس ہوسکتا ہے، جس کے پاس سینہ ہو،اس لیے دو ہلکے گول گلابی دائروں کی اوٹ میں رکھے ہوئے دل کے سورج تک کون پہنچ سکے گا، جو اس کے سینے تک نہیں پہنچنا چاہتا ہے اور پہنچنا چاہتا بھی ہے تو صرف رات میں۔ اس لیے صرف ان کھردری کھالوںمیں لپٹی ہوئی گولائیوں کو چھو کر اس کی انگلیاں لوٹ آتی ہیں، اس کی مٹھیاں،ان چھوٹے بڑے گول پھلوں کو نچوڑ تو لینا چاہتی ہیں، مگر ان کے اندر نہیں اترنا چاہتیں، جیسا کہ وہ اپنے بچپن میں اترا کرتی تھیں۔ اس کی نوک سے منہ لگا کر،اس میں سے پیار کے ساتھ اپنی محبت کا حصہ نکال کر، اس کے دل تک پہنچتے ہوئے، تبھی تو خون میں دودھ کی تاثیر پیدا ہوجاتی تھی۔اب بھی ہوسکتی ہے، مگر اب شاید اس کےپاس وہ منہ نہیں رہا، جو مذکورہ شخصیت کی چھاتیوں کے اندرون تک پہنچ سکے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میں نے اس ہستی کو صبا رفتار کیوں کہا؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ سوال تو بہرحال ہے، میں اسے صبا کہوں یا صبا رفتار ۔مگر بات یہی ہے کہ وہ گزری جاتی ہے، نگاہوں کے سامنے سے، ٹھنڈک پہنچاتی ہوئی، کانوں میں سچے شہد کی سی سرگوشیاں گھولتی ہوئی مگر ہم جھونکوں کو محسوس کرنے سے عاری لوگ ہیں۔وہ بھی گزر جائے گی اوروں کی طرح اور دنیا نہیں سنورے گی، نہیں بدلے گی۔خاک ہوتی رہے گی، خون ہوتی رہے گی۔مگر اپنے تیورنہیں چھوڑے گی، اپنی شکست نہیں تسلیم کرے گی، محبت کی اہمیت نہیں سمجھے گی۔اب ایک دن تو یہی ہونا ہے کہ وہ محسوس بھی نہ ہوگی، نظر تو خیر آہی نہیں سکتی۔</div>
<p>Image: Duy Huynh</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%d8%b3%db%8c-%d8%b5%d8%a8%d8%a7-%d8%b1%d9%81%d8%aa%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86/">کسی صبا رفتار کا بیان</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%da%a9%d8%b3%db%8c-%d8%b5%d8%a8%d8%a7-%d8%b1%d9%81%d8%aa%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%db%8c%d8%a7%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پستان — دوسری قسط</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%8c-%d9%82%d8%b3%d8%b7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%8c-%d9%82%d8%b3%d8%b7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[تصنیف حیدر]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 13 Jul 2016 18:20:20 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Sex and urdu literature]]></category>
		<category><![CDATA[Tasneef Haider]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Erotica]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب اور جنس]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ایروٹیکا]]></category>
		<category><![CDATA[اردو فحش نگاری]]></category>
		<category><![CDATA[تصنیف حیدر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=16606</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">تخلیق کار خدا کا سب سے بڑا رقیب ہوتا ہے، کیونکہ دونوں کی محبوبہ ایک ہی ہے، قدرت!</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%8c-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">پستان — دوسری قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساته یه بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، ‘جسم کے جنگل میں ہر لمحه قیامت ہے مجھے’، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urdutext">باب‑2<br>
اس ایروٹیکا کی <a href="https://laaltain.pk/category/literature/fiction/pistan/" target="_blank" rel="noopener">مزید اقساط</a> پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں۔</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">صدیوں سے لوگ باتوں کے وجود کو ایسے ہی ختم کرتے آرہے ہیں، وہ خدا سے وصال کی بھی یہی صورت نکالتے ہیں، انہوں نے اپنی روحوں کو ایک ایسے جنسی عمل میں ملوث کرلیا ہے، جہاں ہر بات ، ہر سوال کا جواب صرف ایک مثبت’ہوں’ میں دے دیا جاتا ہے۔</div>
<div class="urdutext">کُچ کو صدر کے ساتھ رہتے ہوئے ، ایک مہینے سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا تھا، وہ اس سے بالکل بھی بور نہ ہوا۔ ہر لمحہ جب وہ اسے دیکھتا تو لگتا جیسے کہ وہ اپنے پچھلے دن کی پرت اتار کر کچھ اور تازہ ہوگئی ہے، اس میں سے کچھ اور ایسا نکلا ہے، جو اس سے پہلے اس کے اندر تھا، جیسے وہ ہرروز اپنے بدن کا ایک نیا رنگ اس پر ظاہر کررہی تھی، وہ دونوں زیادہ تر گھر میں ننگے رہا کرتے تھے، جیسے وہ جنت کی مخلوق ہوں۔ کُچ نے اس سے دو تین بار اس دوران ضد کی تھی کہ وہ اس کا ایک پورٹریٹ بنا دے، لیکن صدر صاف انکار کردیتا تھا۔ عین جنسی عمل کے درمیان بھی وہ اس کی اس بات پر ‘ہوں ہوں’ کرتا رہ جاتا۔ کبھی فرط جذبات میں ہاں کہہ بھی دیتا تو اگلے دن اپنی بات سے مکر جاتا۔ اس کا کہنا تھا کہ جنسی عمل کے دوران کہی گئی کسی بات کا اعتبار نہیں ہوتا۔اس دوران اگر میں کسی بات کو مان رہا ہوں تو صرف اس لیے کیونکہ مجھے اس بات کے وجود کو ختم کرنا ہے۔ماننے سے باتیں جلدی ختم ہوجاتی ہیں، ورنہ وہ جنس کی طرح انسان کے ذہن پر مسلط رہتی ہیں، صدیوں سے لوگ باتوں کے وجود کو ایسے ہی ختم کرتے آ رہے ہیں، وہ خدا سے وصال کی بھی یہی صورت نکالتے ہیں، انہوں نے اپنی روحوں کو ایک ایسے جنسی عمل میں ملوث کرلیا ہے، جہاں ہر بات ، ہر سوال کا جواب صرف ایک مثبت’ہوں’ میں دے دیا جاتا ہے۔ جیسے کہ اس سے بس نجات پانی ہو، اور یہ رٹی رٹائی باتیں نشے کی اس حالت میں زیادہ کھلتی ہیں جب انسان جنسی عمل کے دوسرے یا تیسرے مرحلے میں ہو۔جب شباب کھل کر پنڈلیوں کے سینے سہلارہا ہو، جوانی امنڈ امنڈ کر سانسوں کے دریائوں سے نکل رہی ہو۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کُچ کو سمجھ میں آ گیا تھا کہ صدر اس طرح اس کی بات نہیں مانے گا، لیکن کیوں، وہ جو اس سے دوران ہم بستری طرح طرح کی محبتوں کے دعوے کرتا ہے، اس کی بغلوں کی بدہیت لکیروں تک کے کلمے پڑھتا ہے، آخر کس وجہ سے ابال کھائے ہوئے دودھ کی طرح ایک پھونک میں نیچے کی طرف بیٹھ جاتا ہے۔اس نے سوچا تھا کہ وہ آج صدر سے اس بات کا جواب لے کر رہے گی، وہ روئے گی، ہاں، شاید رونے سے مسئلہ آسان ہو۔ لیکن پھر وہ یہ سوچنے لگی کہ آخر ایک پورٹریٹ کی ایسی ضد اسے کیوں ہے؟ صدر بھی تو کہتا ہے کہ وہ خود کو آئینے میں دیکھا کرے، روز، اتنا کہ اسے اپنا بدن حفظ ہو جائے، اس کی تبدیلیاں، اس کے خدو خال کا بڑھنا، پھیلنا دکھائی دے، جس طرح پودے خود کو تناور ہوتا ہوا دیکھتے ہیں۔ ہر دن کے ساتھ، اپنے ننگے بدن کے ساتھ، کبھی دھوپ، کبھی برسات اور کبھی کہرے میں۔ لیکن نہیں، شاید پورٹریٹ ایک یاد ہو، ان چند لمحوں کی جو دوبارہ نہیں آئیں گے، آئینہ تو روز کچھ نہ کچھ بدل دے گا، جسم تو روز ایک پرت اتار دے گا، تو کوئی تو ایسی پرت ہو، جو محفوظ رہ جائے، کوئی ایسی کینچلی جس میں سے اس کا بدن کبھی نہ نکلے، جب تک سیاہی پھیل کر اس کی تصویر کے سارے بدن کو ڈھانپ نہ لے۔ وہ بس چند ایسے ثانیوں کی کھچڑی تیار کرنا چاہتی تھی، جس میں بدن کے سمندر اوراس پر بنائے ہوئے نمک کے کھیتوں کی چبھن موجود رہ جائے۔ کسی ایسے داغ کی طرح جو مٹتا نہیں ہے، جس سے انسان کو رفتہ رفتہ ایک عشق سا ہوجاتا ہے، جو اس کی شناخت بن جایا کرتا ہے اور لوگ کسی کو یاد کرتے ہیں تو سب سے پہلے وہی شناخت، وہی داغ ان کے حافظے میں چھپاکا مار کر ایک دھبہ بناتا ہے اور پھر وہ دھبہ پھیل کر ایک مخصوص انسانی شکل میں ڈھل جاتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">کُچ نے بہرحال یہ فیصلہ کرلیا کہ وہ روئے گی، خوب، اتنا کہ اس کا دکھ، اس کے پورے بدن پر پانی بن کر رینگنے لگے، اس کی آنکھیں ہی نہیں، پستان بھی روتے روتے خشک ہوجائیں</div>
<div class="urdutext">تو کُچ نے بہرحال یہ فیصلہ کرلیا کہ وہ روئے گی، خوب، اتنا کہ اس کا دکھ، اس کے پورے بدن پر پانی بن کر رینگنے لگے، اس کی آنکھیں ہی نہیں، پستان بھی روتے روتے خشک ہوجائیں اور جب رات گئے صدر اس کے سینے کی پتیلی میں منہ ڈالے اور ایک بھوکی بلی کی طرح اسے چاٹنے، کھروچنے لگے تو وہاں سوائے ایک نمکین کھرچن کے اسے اور کچھ نہ ملے۔ تب تو شاید وہ اس کے بدن کی واپسی کا کوئی راستہ نکالے گا، تب شاید وہ اس کی تصویر بنائے گا۔پھر ایسا ہوا، کہ جب صدر کا دھیان اس کی جانب ہوتا ، وہ واقعی رونے لگتی۔صدر نے اس سے وجہ دریافت کی تو اس نے کہہ دیا کہ اسے وجہ نہیں معلوم۔یہ وہ جواب ہے جو دنیا کے ہر مرد کو ہر عمر کی عورت سے سننے کو ملتا ہے اور اس پر وہ سٹپٹا کر سوچنے لگتا ہے کہ آخر ایسا دکھ بھی کیا، جس کی وجہ کا ہی وجود نہ ہو۔لیکن ایسا دکھ ہوتا ہے، عورت تو اپنے بدن کی پھلتی پھولتی کھیتی کو دیکھ کر بھی رو سکتی ہے اورخود کو بانجھ یا بنجر پاکر بھی۔اس کے رونے کے کوئی اصول طے نہیں، جس طرح اس کے دکھ کا کوئی جواز نہیں ہوا کرتا۔عورت جھیل کی طرح نظر آنے والا سمندر ہے، اس کے وجود پر پھیلے ہوئے دو نکیلے جزیرے اور ایک گہرا غار اسے ہر وقت بدن کا شدت سے احساس دلاتے ہیں، اس غار میں جو جھرنا گرتا ہے، اس کی شرر شرر کبھی یونہی بیٹھے بیٹھے آنکھوں میں اتر آتی ہے، جس طرح موت، جنس اور شعر کے اچانک وارد ہوجانے کا کوئی جواز نہیں ہوتا، اسی طرح عورت کے دکھ کا بھی کوئی ایسا جواز نہیں، جو اسے اس کے بدن کے سرسراتے ہوئے احساس سے الگ کردے۔لیکن یہ بات مرد کو کبھی سمجھ میں نہیں آسکتی، کیونکہ مرد کے پاس بدن کا پھیلا ہوا احساس نہیں ہے، وہ اس معاملے میں بالکل سیدھ میں گرنے والے ایک پتھر کی طرح ہے، جس کا ایک عضو جنسی احساس کے عاری ہوتے ہی سخت ہوکر خلا میں بس ڈھلان کی جانب مشینی انداز میں گرنے لگتا ہے اور پھر اچانک سے وہ عورت کی اس جھیل نما سمندر میں دھڑام سے گر کر بے ہوش ہوجایا کرتا ہے، اس کے بعد بدن اس کے لیے صرف ایک خول کی طرح رہ جاتا ہے، جسے وہ اپنے کمزور ذہن اور تھکی ہوئی روح کو چھپانے کا ذریعہ سمجھتا رہا ہے، اور ایک کچھوے کی مانند وہ اس میں اپنا سارا وجود جنسی انتشار کے ختم ہوتے ہی واپس اندر کرلیتا ہے۔ لیکن صدر جیسے مرد پانی میں تیرتے ہوئے کچھوے کی طرح ہوتے ہیں، ان کے پیر، ان کے پر بن جایا کرتے ہیں، وہ اپنے خول سے ہر وقت باہر رہ کر پانی کی نیلی دنیا میں اپنے لیے طرح طرح کی سنہری ریتیں اور سبز گھانسیں تلاش کیا کرتے ہیں، ان کا ذائقہ چکھتے ہیں اور خطروں کے تصور سے آگے نکل کر اپنے وجود کو قبول کرتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">صدر تین چار روز تک تو اس بات کو نظر انداز کرتا رہا لیکن بالآخر جب ایک رات وہ کُچ کے نزدیک آیا تو اس کے پورے بدن سے آنسووں کی بو آ رہی تھی، آنسووں کی بو، ایک ایسی چراند کی طرح اس کے بدن سے اٹھ رہی تھیں کہ جلن کے مارے صدر کی بھی آنکھیں بھر آئیں اور اس نے اپنا سرد ہاتھ کُچ کی جھرنے لٹاتی ہوئی شرمگاہ پر رکھ دیا، وہ روتے روتے’اوووں’ کہہ کر اس کی طرف کروٹ لینے پر مجبور ہوگئی، صدر نے اپنے سیدھے ہاتھ کی درمیانی انگلی کو اس کی شرمگاہ میں آہستگی سے اتار دیا، وہ مکھن کے بیچ بہتی ہوئی چھری کی طرح اندر چلی گئی، آس پاس کی دو لٹکتی ہوئی گلابی جھلیوں میں کچھ لعاب سا تیرنے لگا، صدر نے انگلی کی سانسیں تیز کر دیں، کُچ ہر دو تین سکینڈ میں اس کا نام لے رہی تھی، پھر وہ صدر صدر کہہ کر سرگوشیوں میں چیخنے لگی، صدر نے اس کے پستان کو منہ میں بھر لیا اور اپنے ہونٹوں سے انہیں چبانے کی کوشش کرنے لگا، کُچ کا لہو، اس کے کانوں کی طرف سے بہتا ہوا اس کے گالوں، گردن اور سفید ہڈیوں تک میں بلبلا کر دوڑتا، اچھلتا رہا، اس کے روئیں روئیں کو انگلی کی آگے بڑھتی ہوئی ہر جرات کے ساتھ ایک عجیب سی گھلی ہوئی تکلیف تحفے میں ملتی ، جسے وہ پینے کے لیے بے تاب تھی، غدود جیسا ایک چھوٹا سا لقمہ اس کے گلے میں بار بار اٹکتا اور وہ اسے تھوک سے نگلنے کی کوشش کرتی، کبھی جھلا کر صدر کی پیٹھ نوچتی، کبھی اوہ، آہ کہہ کر اس کی پیٹھ کو کاٹنے کے لیے آگے بڑھتی مگر اپنی دسترس سے اسے کوسوں دور پاکر گردن کو پیچھے کی جانب دھکیل دیتی۔ اس وقت وہ کچھ بھی سوچنے سمجھنے کے لائق نہیں رہ گئی تھی، لیکن میں جو کمرے کے چوکور پستانوں کے پیچھے سے چھپ کر یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا، اس بات پر واقعی حیرت زدہ تھا کہ اس قدر رونے پر بھی اس کے پستان خشک نہیں ہوئے تھے، بلکہ پسینوں کی تتلیاں اڑ اڑ کر صدر کی زبان اور رال کی ڈالیوں پر بیٹھتیں اور جھن جھن کرتی ہوئی اس کے پیٹ میں اتر جاتیں۔یہ کھیل زیادہ دیر جاری رہتا، اگر صدر کاالٹا ہاتھ دھوکے سے کُچ کی آنکھ سے نہ ٹکرا جاتا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">جب ایک رات وہ کُچ کے نزدیک آیا تو اس کے پورے بدن سے آنسووں کی بو آ رہی تھی، آنسووں کی بو، ایک ایسی چراند کی طرح اس کے بدن سے اٹھ رہی تھیں کہ جلن کے مارے صدر کی بھی آنکھیں بھر آئیں</div>
<div class="urdutext">‘دکھاو تو!’ کہہ کر صدر نے اس کی آنکھوں میں پھونکیں مارنی شروع کردیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں اور اب وہاں سے پانی نکل رہا تھا۔کُچ نے کہا’کوئی بات نہیں، میں ٹھنڈے پانی سے آنکھیں دھو کر آتی ہوں۔’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">وہ اٹھ کر چلی گئی، وہ جاتے ہوئے اس کے مٹکتے، گول اور ملائم کولھوں کو دیکھتا رہا، ذرا سے گوشت سے بنے یہ دائرے پھڑکتے ہوئے اس سے دور ہوتے جارہے تھے۔ صدر کی وہ انگلی جو تھوڑی دیر پہلے آبشاروں کے نیچے بنے پتھر پر بیٹھ ناچتے گاتے ہوئے نہارہی تھی، اب دوسری انگلیوں کے ساتھ آہستہ آہستہ، اس کی اپنی شرمگاہ کو سہلانے میں مصروف ہو گئی تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ابھی یہ عمل پورا نہ ہو اتھا کہ کُچ کے بالوں کا احساس اسے اپنے چہرے پر ہوا، وہ صرف اسے دیکھتی رہی، اس نے کچھ نہ کہا، صدر کا مشینی عمل تیز ہوتا گیا، وہ کچ کی سانسوں سے پہلے مدد لیتا رہا، اور مدد کی ضرورت ہوئی تو کچ نے اپنے ہونٹوں کی بھانپ اس کے منہ میں اتاردی۔اس کی زبان، کچ کی زبان سے مل کر ایک نئے قسم کا کیمیکل تیار کرنے لگی، جوش کا کیمیکل، خواب کا کیمیکل اور پھر دھیرے دھیرے جوش اور خواب دونوں ماند ہوگئے، بس ان دونوں کی زبانیں ایک دوسرے میں ضم ہوتی رہیں، پھسلتی اور سنبھلتی ہوئی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">منظر بدل گیا تھا، اب کُچ دونوں ہتھیلیاں اس کے سینے پر پھیلا کر اس پر اپنا منہ رکھے لیٹی ہوئی تھی۔ صدر نے پوچھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">‘کیا بات ہے؟’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">‘آج تمہیں ہر حال میں میری تصویر بنانی ہوگی۔’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پتہ نہیں صدر کے دماغ میں کیا بات آئی کہ اس نے کہا۔ ‘ٹھیک ہے، میں بناتا ہوں۔ ابھی اسی وقت! لیکن ایک شرط ہے۔’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">‘کیسی شرط؟’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">‘تم نہاو، میں نہاتے ہوئے تمہاری تصویر بنانا چاہتا ہوں۔ شاور لیتے ہوئے۔جیسے تم برسات میں بھیگ رہی ہو، ہاں ہاں بارش میں۔ میں اس شور کو پینٹ کرنا چاہتا ہوں ۔تمہارے پستانوں کی چمک کو، تمہارے بدن کی گرج کو، تمہاری شرم گاہ کے آبشار کو۔ لیکن وہ تصویر میں تمہیں نہیں دوں گا۔کیا تمہیں منظور ہے؟’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">جو لوگ بہت تیزی سے تخلیقی عمل کو انجام دیتے ہیں، وہ ریگستان میں بھاگتے ہوئے قدموں کی طرح ہوتے ہیں، جنہیں اپنے نشانوں کی بنتی اور بدلتی ہوئی شکلوں کو دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملتا،</div>
<div class="urdutext">اس نے اثبات میں جواب دیا اور آگے کی کارروائی شروع ہوئی۔ صدر نے کہیں سے اسے ایک کالی نائیٹی ڈھونڈ کر دی، یہ نائیٹی کُچ کی جسامت کے لحاظ سے ذرا پھیلی ہوئی تھی، لیکن صدر کا کہنا تھا کہ وہ اسے پہنے اور اس کی ٹائیاں کھلی رکھے۔اور اسی کے ساتھ شاور لے،لیکن یہ ایک اہم مرحلہ ہوگا کہ اسے کم از کم دو سے تین گھنٹے تک شاور میں ہلے بغیر ایک ہی پوز میں کھڑے رہنا ہوگا، کُچ نے اس بات ہلکا سا اعتراض کیا کہ وہ دوسری تصویریں تو جلد بنالیتا ہے، لیکن بہرحال اسے صدر کی بات ماننی ہی تھی، اتنے دنوں بعد کہیں اس کی یہ مراد بر آئی تھی اور وہ اسے کھونا نہیں چاہتی تھی۔وہ سوچ رہی تھی کہ پتہ نہیں کیسے آج یہ تخلیق کار اچانک راضی ہوگیا۔ تخلیق کار بھی عجیب لوگ ہوا کرتے ہیں، مدتوں کسی بات کو ٹالتے رہیں گے، جیسے کسی خاص لمحے کا انتظار کر رہے ہوں، اپنے آپ کو الگ الگ اور غیر ضروری باتوں میں مصروف رکھیں گے۔ایسے جیسے ان کو اس بات کی کوئی فکر ہی نہ ہو، جسے وہ پیدا کرنا چاہتے ہیں، اس عمل میں اور تولید کے عمل میں اتنا ہی فرق ہے کہ تولید کے لیے ایک معینہ مدت یعنی سات یا نو مہینے طے ہیں، مگر تخلیق کے لیے کبھی کبھی پوری زندگی کم پڑ جاتی ہے۔ یہ لوگ جو لکھنا، بنانا، تخلیق کرنا چاہتے ہیں اس کی جزئیات کو شاید اپنے ذہن کے پیٹ میں پالتے پوستے رہتے ہیں، اس کے ہاتھوں پیروں کو نکلتا ہوا دیکھ کر لطف لیتے ہیں، آنکھیں بند کرکے ذہن کے سکرین پر اس کچی پکی سونوگرافی کا مزہ لیتے رہنا ان کی عادت ہوتا ہے، جو لوگ بہت تیزی سے تخلیقی عمل کو انجام دیتے ہیں، وہ ریگستان میں بھاگتے ہوئے قدموں کی طرح ہوتے ہیں، جنہیں اپنے نشانوں کی بنتی اور بدلتی ہوئی شکلوں کو دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملتا، ان کے لیے پچھلے سارے نشانات صرف نشانات ہوتے ہیں، جبکہ دھیرے دھیرے پیدا ہونے والی ہنر مندی، کسی دوشیزہ کے دھڑکتے ہوئے سینے پر اگنے والی دو پھلیوں کی طرح ہوتی ہے،جن میں وقت کے ساتھ لگتا ہے قدرت ہوا بھر رہی ہے ، بہت آہستگی کے ساتھ، پھر ایک دن جب وہ بھاری بھرکم تنومند پستان میں تبدیل ہوجاتے ہیں تو دنیا کے مختلف ہاتھ ان پر کمہار کی طرح پانی اور ہتھیلی کے کٹاو سے ایک گول یا توتا پری عام جیسی شکلیں تیار کرتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کُچ باتھ روم کی طرف نائیٹی پہن کر جارہی تھی تو اسے صدر نے روک دیا، اس کے پاس ایک پرانا ریکارڈ ر پڑا تھا، وہ اسے ایک ٹیبل کے ساتھ گھسیٹتا ہوا باتھ روم کے سامنے لے گیا اورپھر اس نے اپنا کینوس بھی سامنے ہی لگا لیا، اس نے کُچ کے بدن پر پڑی ہوئی نائیٹی کو آگے بڑھ کر ذرا سا شکن آلود کیا، اس کے کندھے ذرا اور کھول دیے، نائیٹی کو پستانوں کے پاس سے ایسے گزارا جیسے دو کالے کالے ناگ ان خزانوں کی حفاظت پر مامور نظر آسکیں۔پھر اس نے اس پنڈلیوں سے اپنی بانہوں میں بھر کر اٹھایا اور شاورکے نیچے لے جاکر کھڑا کردیا۔اس نے کُچ کی گردن کو ذرا سا پیچھے کیا اور اس کا اوپر والا ہونٹ چوسنے لگا اور اسی دوران اس نے آہستگی سے شاور چلا دیا، کچھ دیر میں کُچ کے لیے جب سانس لینے میں دشواری ہوئی تو اس نے جھٹپٹا کر خود کو صدر سے الگ کیا، وہ مسکراتے ہوئے اس سے الگ ہوا اور ایک بار ٹھیک سے اس کے پورے وجود کو ایک خاص پوز میں فٹ کیا، جیسے کسی سخت سانچے میں مٹی کو ٹھونسا جاتا ہے، اب بات بالکل صحیح تھی، رات شباب پر تھی، دور دور تک خاموشی کے سوا کچھ نہیں برس رہا تھا، شاور کی چھش چھش کرتی ہوئی آواز آرہی تھی اور کُچ اپنے وجود کو اس برسات میں سنبھالے ہوئے بس کھڑی ہوئی تھی، اسی طرح جس طرح وہ پہلی بار صدر کو نظر آئی تھی۔بارش کے اس شور میں گم ہوتی ہوئی، بس فرق اتنا تھا کہ وہ منظر قدرتی تھا اور یہ مصنوعی ، مگر پتہ نہیں کیوں ایسے ہی منظروں کی تابناکی سے جل کر قدرت نے انسان کے لیے شاید موت ایجاد کی ہے۔کیونکہ وہ کسی مشاقی، کسی ہنرمندی کو خود سے آگے نکلتا ہوا نہیں دیکھ سکتی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">تخلیق کار خدا کا سب سے بڑا رقیب ہوتا ہے، کیونکہ دونوں کی محبوبہ ایک ہی ہے، قدرت!</div>
<div class="urdutext">تخلیق کار خدا کا سب سے بڑا رقیب ہوتا ہے، کیونکہ دونوں کی محبوبہ ایک ہی ہے، قدرت! خدا کی قدرتی قدرت اور انسان کی مصنوعی قدرت ، خدا کا حقیقی وجود اور انسان کا مجازی۔لیکن کبھی کبھی مصنوعی قدرتی پر اور مجازی حقیقی پر ایسا بھاری پڑتا ہے کہ لوگ انسان کو بنانے والے ماورائی طاقت کو فراموش کربیٹھتے ہیں اور ایک پل کے لیے لگتا ہے جیسے کسی ایک انسان نے ہی اتنے سارے انسان پیدا کیے ہیں۔جیسے وہ خدا کوئی انسانی شکل کا ہی دیوتا یا دیوی ہوگا، جس کی آرٹ کا تمیز ہم سب کی رگ و پے میں یکساں طور پر بہتا ہے۔ موسیقی ہو یا رقص، پینٹنگ ہو یا شاعری، سب میں ایک انسانی شکل کے خدا کی رمق موجود ہوتی ہے، جو کچھ بناتے وقت فن کار کے وجود میں حلول کر جاتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">صدر نے ایک ریکارڈ لگا کر کانٹا اس پر ٹکا دیا، وہ ایک انگڑائی کے ساتھ بانسری بجاتا ہوا جاگ اٹھا۔بہادر شاہ ظفر کی ایک غز ل کے چار شعر کسی سر پھرے سنگر نے گائے تھے، اور ایک دفعہ بالکل اتفاق سے یہ ریکارڈ اسے کہیں مل گیا تھا، اس کے کانوں میں اسی غزل کا ایک شعر پڑا اور وہ بھاگتا ہوا دوکاندار کے پاس پہنچا۔دوکاندار کو تو شاعر کا نام بھی نہیں پتہ تھا، بس وہ گانے والے کی آواز پر لٹو تھا، اس لیے کبھی کبھی اس غزل کو سنا کرتا تھا، اسے اس کے کچھ لفظ سمجھ میں آتے اور کچھ نہیں۔علاقائی نوعیت سے وہ ایک مراٹھی نوجوان تھا، جسے اردو سے ایک فطری قسم کی محبت تھی۔صدر نے اسے پیسے دیے تو اس نے انکار کردیا، کہنے لگا:</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">نہیں صاحب! یہ وہ گجل ہے، جس کے لیے آج تک کوئی نہیں آیا، میں اسے پچھلے دو برس سے بجا رہا ہوں، ہفتے میں ایک دو بار تو ہر حال میں! لیکن آپ کا مافک کوئی بھی ایسا دوڑ کر نہیں آیا۔’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">وہ واقعی بھاگتا ہوا آیا تھا ، جیسے میلے میں کوئی ماں اپنے گم ہوجانے والے بچے کی آواز پر سرعت سے لپکتی ہوئی آتی ہے، اسے جلدی تھی کہ کہیں یہ غزل ختم نہ ہوجائے، وہ اس کے آخری شعر سے پہلے اسے دبوچ لینا چاہتا تھا، اور ایسا ہی ہوا۔وہ ریکارڈ لے کر وہاں سے چلا آیا۔ اس سنگر نے بہادر شاہ ظفر کی اس انوکھی غزل کے صرف چار شعر ہی گائے تھے، لیکن ایسے کہ جیسے کانوں میں گھنگھرو بجتے ہوں، وہ جب کبھی اس غزل کو ہلکی آواز میں سنا کرتا، اس کے وجود کے سارے تار سنگر کی آواز کے ساتھ سر سے سر ملاکر گانے لگتے، نہ جانے کیسے غیر شعوری طور پر اس غزل کا اس کے تخلیقی کاموں میں بہت حصہ رہنے لگا، وہ جب بھی کوئی پینٹنگ بناتا، ایسی ہی کوئی غزل اپنے سرہانے بجانا شروع کردیتا تھا، مگر آج اسے ایک ماسٹرپیس بنانا تھا۔ایک مضطرب اور پارہ صفت ہرن جیسے زندہ احساس کو بڑی آہستگی اور ملائمت کے ساتھ وقت لیتے ہوئے اس پھیلے ہوئے سفید کاغذ کی گود میں بٹھانا تھا۔اس لیے اپنی دانست میں سب سے جاندار الفاظ کا سہارا لیا، ایک ایسے بادشاہ کے الفاظ ، جس کی ڈوبتی ہوئی جوانی کے شکن آلود بستر پر زینت محل جیسا جوان، کمسن اور شاداب بدن بیٹھا ہوا نشے سے ڈول رہا تھا،اورزینت محل کی ہر نئی سسکی کے ساتھ بستر سے چرمراہٹ کی جگہ لہراتے ہوئے یہ چار شعر نکل رہے تھے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">گر رنگ بھبھوکا آتش ہے اور بینی شعلہ سرکش ہے<br>
تو بجلی سی کوندے ہے پری عارض کی چمک پھر ویسی ہی<br>
نوخیز کچیں دو غنچہ ہیں، ہے نرم شکن اک خرمن گل<br>
باریک کمر جو شاخ گل رکھتی ہے لچک پھر ویسی ہی<br>
ہے ناف کوئی گرداب بلا اور گول سُریں رانیں ہیں صفا<br>
ہے ساق بلوریں شمع ضیا، پائوں کی کفک پھر ویسی ہی<br>
ہر بات پہ ہم سے وہ جو ظفر کرتا ہے لگاوٹ مدت سے<br>
اور اس کی چاہت رکھتے ہیں ہم آج تلک پھر ویسی ہی</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">لفظ فضا میں گونج رہے تھے اور اس کا برش رقص کرتا جارہا تھا، یہ وہ منظر تھا جس میں حسن بھی تھا، موسیقی بھی، شاعری بھی تھی اور بارش کی دھمک بھی۔اور ان سب کو گوندھ کر ایک شخص تصویر کا آمیزہ تیار کررہا تھا۔ آئیے اب آپ کو کینوس کی چادر پر لے چلیں، وہاں کیا ہورہا تھا۔شروع سے آخر تک اس پوری تصویر کے بننے کی داستان سنائیں۔</div>
<p>Image: Female Figure with Head of Flowers, 1937 Art Print by Salvador Dalí</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%8c-%d9%82%d8%b3%d8%b7/">پستان — دوسری قسط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%8c-%d9%82%d8%b3%d8%b7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
