<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>آئی ڈی پیز Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/tag/%D8%A2%D8%A6%DB%8C-%DA%88%DB%8C-%D9%BE%DB%8C%D8%B2/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/tag/آئی-ڈی-پیز/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Wed, 29 May 2024 23:33:42 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>آئی ڈی پیز Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/tag/آئی-ڈی-پیز/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>فاٹا میں رہنے والوں کو مساوی شہری تسلیم کیا جائے-اداریہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/16730-2/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/16730-2/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 20 Jul 2016 05:11:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اداریہ]]></category>
		<category><![CDATA[FATA]]></category>
		<category><![CDATA[FATA Reforms]]></category>
		<category><![CDATA[IDP camps]]></category>
		<category><![CDATA[IDPs]]></category>
		<category><![CDATA[Security forces and IDPs]]></category>
		<category><![CDATA[آئی ڈی پی کیمپ]]></category>
		<category><![CDATA[آئی ڈی پیز]]></category>
		<category><![CDATA[ایف سی آر]]></category>
		<category><![CDATA[فاٹا]]></category>
		<category><![CDATA[فاٹا اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[قبائلیوں سے امتیازی سلوک]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=16730</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">فاٹا میں رہنے والوں کو اگر اصلاحات کے ذریعے جلد مساوی آئینی اور شہری حیثیت نہ دی گئی تو حالات بہت جلد دوبارہ تشویش ناک ہو سکتے ہیں اور آپریشن ضرب عضب سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کے اثرات زائل ہوسکتے ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/16730-2/">فاٹا میں رہنے والوں کو مساوی شہری تسلیم کیا جائے-اداریہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="leftpullquote">قبائلی علاقوں کے افراد پاکستان کی اس تذویراتی حکمت علمی کے متاثرین ہیں جو افغانستان میں پاکستان دوست حکومت لانے کے لیے اپنائی گئی تھی۔</div>
<div class="urdutext"><a href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/07/160719_north_wazirstan_afghanistan_idps_zh" target="_blank">ایک خبر کے مطابق</a> آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں افغانستان میں پناہ لینے والے ساڑھے سات ہزار پاکستانی خاندانوں میں سے محض اڑھائی ہزار نے وطن واپسی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہی صورت حال پاکستان کے اندر پناہ حاصل کرنے والوں کی واپسی کے ضمن میں بھی نظر آتی ہے۔ وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) سے بے گھر افراد کی ایک بہت بڑی تعداد ابھی بھی پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہے۔ قبائلی افراد کو واپسی کے لیے اپنائے گئے طریق کار پر تحفظات ہیں۔ اپریل 2016 میں فوج کی جانب سے جاری کیے گئے <a href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/04/160403_north_waziristan_operation_update_rh" target="_blank">اعدادوشمار کے مطابق</a> محض 36 فیصد خاندان شمالی وزیرستان واپس جا سکے ہیں۔ قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کر کے پاکستان کے بندوبستی علاقوں میں رہائش اختیار کرنے والے افراد گھر واپسی کے خواہش مند ہونے کے باوجود واپسی کے عمل سے ناخوش ہیں۔ فوجی کارروائی کے بعد وزیرستان کے مختلف علاقوں میں واپس لوٹنے والوں کی تعداد اندازوں سے کم ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں واقع اپنے گھروں سے دوبرس تک دور رہنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد آپریشن کے کامیاب ہو جانے کے باوجود بھی واپس لوٹنے کو تیار کیوں نہیں؟</div>
<p></p>
<div class="urdutext">
قبائلی علاقوں میں رہنے والے پاکستانیوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا امتیازی سلوک اور اس علاقے کو سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے دیکھا جانا اس تذبذب کی اہم وجوہ ہیں۔ قبائلی علاقوں کے افراد پاکستان کی اس تذویراتی حکمت علمی کے متاثرین ہیں جو افغانستان میں پاکستان دوست حکومت لانے کے لیے اپنائی گئی تھی۔ قبائلی علاقوں میں رہنے والے افراد کو ایک ایسی جنگ کا ایندھن بنایا گیا ہے جس کے نہ تو وہ متحارب فریق ہیں اور نہ ہی انہوں نے اس جنگ کا انتخاب کیا تھا لیکن اس کے باوجود اس جنگ کے متحارب ہر دودھڑوں کی جانب سے مسلسل انہیں ہی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ایک جانب جہاں ماضی میں ان کے علاقوں کو ریاستی سرپرستی میں افغان جنگ کے لیے مجاہدین کا مستقر بنایا گیا تو دوسری جانب افغانستان، مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر سے آنے والے مجاہدین نے ان علاقوں میں اپنی جڑیں مضبوط کیں۔ ایک طرف جہاں انہیں ڈرون حملوں اور پاک فوج کی کارروائیوں کے دوران شہری نقصان  (collateral damage) بننا پڑا تو دوسری جانب انہیں عسکریت پسندوں کی انتقامی کارروائیوں کا شکار بھی ہونا پڑا۔ </div>
<p></p>
<div class="leftpullquote">رحقیقت ریاست قبائلی علاقوں کے باشندوں کو اپنا شہری بعد میں اور پہلے قومی سلامتی کے لیے ایک ممکنہ خطرہ تصور کرتی ہے،</div>
<div class="urdutext">
درحقیقت ریاست قبائلی علاقوں کے باشندوں کو اپنا شہری بعد میں اور قومی سلامتی کے لیے ایک ممکنہ خطرہ پہلے تصور کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ فاٹا  اور یہاں کے رہنے والوں کو ہمیشہ سیکیورٹی کے نقطہ نظرسے عسکری بنیادوں پر دیکھا اور سمجھا گیا ہے۔ فاٹا اور یہاں رہنے والوں کے لیے اختیار کی گئی سیاسی اور انتظامی حکمت عملی بھی مقامی ترقی اور خوشحالی کی بجائے ہمیشہ ملکی سلامتی اور سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے مرتب کی گئی ہے۔ مقامی آبادی مساوی شہری حیثیت کے حصول کے لیے متعدد مرتبہ ایف سی آر کے خاتمے اور فاٹا کی آئینی حیثیت کے تعین کا مطالبہ کر چکی ہے۔ لیکن ایک متنازع اور غیر متعین سرحد سے متصل ہونے کے باعث پاکستانی ریاست ان علاقوں کے لوگوں کے لیے قانونی اصلاحات نہیں لا سکی۔ ان علاقوں کا انتظام اب بھی نوآبادیاتی دور کے ضابطہ قانون فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) کے تحت چلایا جاتا ہے۔  </div>
<p></p>
<div class="urdutext">
پاکستانی ریاست، حکومت، سیکیورٹی اداروں، سیاسی جماعتوں اور عام شہریوں کی جانب سے  قبائلی باشندوں کے خلاف امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے۔ یہ امتیازی سلوک انہیں مساوی شہری تسلیم نہ کرنے کا مظہر ہے۔ فاٹا کا رہائشی ہونے کا مطلب پورے ملک میں ہر ناکے، ہر چوکی اور ہر جگہ شک کی نگاہ سے دیکھا جانا ہے۔ بلاشبہ آپریشن ضربِ عضب پاکستانی بقا اور سلامتی کا معاملہ ہے مگر آپریشن ضرب عضب کے متاثرین کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست ان کی فلاح و بہبود اور بحالی کی بجائے ان کی <a href="http://www.tanqeed.org/2016/06/suspect-citizens/" target="_blank">جانچ پڑتال</a> میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ بعض دہشت گرد بھی بے گھر ہونے والے افراد کے ساتھ بندوبستہ علاقوں میں آ چکے ہوں لیکن اس خدشے کے پیشِ نظر حکومت کی جانب سے آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن سے لے کر آباد کاری تک کے معاملات عملاً فوج اور سیکیورٹی اداروں کے سپرد کر دینے سے ان افراد کی مشکلات میں مزیداضافہ ہوا ہے۔ اسی شک کی بنیاد پر سندھ اور پنجاب کی حکومتوں کی جانب سے بے گھر افراد کے آنے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا، سرکاری سطح پر قائم کیمپوں میں رہنے والوں کو تلاشی اور جانچ پڑتال کے بے جا عمل سے گزرنا پڑا اور بدترین حالات میں سیکیورٹی ترجیحات کے تحت رہنا پڑا۔ امداد کے حصول، پناہ گزین کیمپوں میں رہائش  حاصل کرنے اور شہری سہولیات تک رسائی کے لیے نہایت سخت شرائط اور طریق ہائے کار مرتب کیے گئے اوریہی صورت حال ان افراد کی گھر واپسی کے عمل کی بھی ہے۔</div>
<p></p>
<div class="urdutext">
فاٹا کے بے گھر افراد کے مصائب میں مزید اضافے کی وجہ ان لوگوں کی دیکھ بھال اور بحالی کا عمل سیکیورٹی اداروں کے سپرد کر دینا ہے۔ گھر واپسی کا عمل ایسی یقین دہانیوں کے تحت ہو رہا ہے جن پر عملدرآمد  قبائلی افراد کے لیے ناممکن ہے۔ قبائلی فراد کو اپنے علاقوں میں ایک بار پھر ایف سی آر قانون کے تحت دھکیلا جا رہا ہے۔ دو برس کی فوجی کارروائی کے باوجود شدت پسندوں کی نشاندہی کی ذمہ داری قبائل پر عائد کی گئی ہے، اور اس میں ناکامی پر انہیں سزائیں بھی دی جا رہی ہیں۔ جون 2016 کے اواخرمیں پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں پولیٹکل انتظامیہ نے اجتماعی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے اور شدت پسندوں کی نشاندہی نہ کرنے پر دو قبیلوں کی <a href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/06/160627_mohmand_tribal_benefits_zz" target="_blank">تمام مراعات بند کرنے کا فیصلہ کیا</a>۔ تحصیل یکہ غنڈ میں قاسم خیل قبیلے کی دو ذیلی شاخوں کڈو کور اور بھائی کور قبائل کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنانے اور فصلوں کی کاشت اور کٹائی پر بھی پابندی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ کیا سیکیورٹی اداروں سے یہ پوچھا نہیں جانا چاہیئے کہ دو برس کی فوجی کارروائی کے بعد بھی شدت پسندوں ی نشاندہی کی ذمہ داری قبائل پر کیوں عائد کی گئی ہے؟ ریاست سے یہ سوال پوچھا جانا چاہیئے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ریاست دیشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ریاستی ذمہ داری اپنے ہی تباہ حال اور جنگ زدہ شہریوں پر عائد کر رہی ہے؟</div>
<p></p>
<div class="leftpullquote">فاٹا میں رہنے والوں کو اگر اصلاحات کے ذریعے جلد مساوی آئینی اور شہری حیثیت نہ دی گئی تو حالات بہت جلد دوبارہ تشویش ناک ہو سکتے ہیں اور آپریشن ضرب عضب سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کے اثرات زائل ہوسکتے ہیں۔</div>
<div class="urdutext">
قبائلی علاقوں کے لوگ خوفزدہ ہیں اور وہ انتظامیہ پر پھروسہ کرنے کو تیار نہیں، انہیں خدشہ ہے کہ طالبان واپس آ سکتے ہیں یا انتقامی کارروائی کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس برس <a href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/07/160705_mohmand_agency_eid_ban_sh" target="_blank">عیدالاضحیٰ کے میلوں پر بھی پابندی</a> عائد کر دی گئی۔ فاٹا کے موجود مسائل کی ذمہ داری اگر چہ سویلین حکومت پر بھی عائد ہوتی ہے تاہم ان حالات کی خرابی کی اصل ذمہ داری عسکری اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ عسکری اداروں کی جانب سے سول حکومت اور اداروں کو انتظامی معاملات سے بے دخل رکھنے کی وجہ سے وفاقی اور صوبائی حکومتیں تاحال خود کو اس علاقے کو اپنی عملداری میں لینے کا اہل نہیں بناسکیں۔ سرکاری سطح پر اس  صورت حال کا کسی قدر ادراک نظر آتا ہے مگر اصلاحات کا عمل سست رفتار بھی ہے اور قبائلی علاقوں کی نمائندگی کے بغیر سرانجام دیا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے فاٹا کے علاقوں میں رہنے والوں پر بداعتمادی اس قدر زیادہ ہے کہ فاٹا اصلاحات کی کمیٹی میں <a href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/06/160617_tribes_fata_reforms_reservations_zs" target="_blank">مقامی افراد کو نمائندگی نہیں دی گئی</a>۔ </div>
<p></p>
<div class="urdutext">
افغانستان کے غیر یقینی حالات اور پاک افغان کشیدگی کے باعث بھی قبائلی علاقوں میں سیاسی اصلاحات کا عمل تاخیر کا شکار ہے۔  مقامی افراد کی جانب سے اصلاحاتی کمیٹی پر متعدد بار تحفظات کا اظہار کیا جا چکا ہے اور مقامی آبادی میں سیاسی تنہائی خوفناک شرح سے بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ اڑسٹھ برس سے قبائلی علاقوں میں بسنے والے پاکستانی شہریوں کو دوسرے درجے کے شہری بنا کر رکھا گیا ہے، انہیں ملک کے اندر اور باہر ملازمتوں کے حصول، سیاسی نمائندگی، شناختی اور سفری دستاویزات کے حصول اور اعلیٰ عدلیہ تک رسائی کے محدود حقوق حاصل ہیں، یہ کم تر شہری حیثیت ان کی بے چینی کا ایک بڑا سبب ہے۔ ریاست کو جلد از جلد ان علاقوں کے افراد کے خواہشات کو سامنے رکھتے ہوئے اصلاحات کا آغاز کرنا ہو گا۔ اس ضمن میں قانونی پیچیدگیوں کو دور کر کےعلیحدہ صوبے کے قیام، خیبرپختونخوا میں انضمام یا ان علاقوں کا نظم و نسق وفاق کی بجائے خیبرپختونخوا حکومت کے سپرد کرنے (فاٹا کی بجائے پاٹا بنانے) پر ایک ریفرنڈم بھی کرایا جا سکتا ہے۔ فاٹا میں رہنے والوں کو اگر اصلاحات کے ذریعے جلد مساوی آئینی اور شہری حیثیت نہ دی گئی تو حالات بہت جلد دوبارہ تشویش ناک ہو سکتے ہیں اور آپریشن ضرب عضب سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کے اثرات زائل ہوسکتے ہیں۔
</div>
<p>Image: Salim-ur-Rehman Afridi</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/16730-2/">فاٹا میں رہنے والوں کو مساوی شہری تسلیم کیا جائے-اداریہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/16730-2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آئی ڈی پیز کی امداد کے لئے جبری عطیات اور اضافی فیس کی وصولی</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%88%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%ac%d8%a8%d8%b1%db%8c-%d8%b9%d8%b7%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%88%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%ac%d8%a8%d8%b1%db%8c-%d8%b9%d8%b7%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[لالٹین]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 27 Jul 2014 13:58:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[آئی ڈی پیز]]></category>
		<category><![CDATA[ضرب عضب]]></category>
		<category><![CDATA[ملتان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن]]></category>
		<category><![CDATA[وہاڑی پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=6628</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">ملتان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی جانب سے نجی تعلیمی اداروں کو متاثرین ضرب عضب کے لئے عطیات جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%88%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%ac%d8%a8%d8%b1%db%8c-%d8%b9%d8%b7%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88/">آئی ڈی پیز کی امداد کے لئے جبری عطیات اور اضافی فیس کی وصولی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">ملتان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی جانب سے نجی تعلیمی اداروں کو متاثرین ضرب عضب کے لئے عطیات جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ملتان بورڈ سے وابستہ مختلف نجی تعلیمی اداروں کے سربراہوں کو خط اور ایس ایم ایس کے ذریعہ بورڈ کی جانب سے قائم کئے گئے فنڈ میں رقوم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بورڈ کی جانب سے نجی کالجوں کو 10000 جبکہ سکولوں کو 5000روپے جمع کرانے کو کہا گیا ہے، اور عطیات جمع نہ کرانے کی صورت میں جرمانہ عائد کئے جانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔</div>
<div class="leftpullquote">نجی تعلیمی اداروں کے علاوہ سرکاری سکولوں کے ہیڈ ماسٹر وں کو بھی حکومت پنجاب کے متاثرین کے لئے قائم کئے گئے فنڈ میں عطیات جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مڈل سکول کے ہیڈماسٹروں کو 2000 روپے جبکہ پرائمری سکولوں کے ہیڈماسٹروں کو 1000 روپیہ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔</div>
<div class="urdutext">وہاڑی پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے صدر نے پرائیویٹ سکولوں سے جبری عطیات کی وصولی اور جرمانہ عائد کرنے کے فیصلہ پر تنقید کی ہے،“ہم حکومت کی ہدایات کے بغیر بخوشی متاثرین کی مدد کو تیار ہیں لیکن حکومت کی طرف سے کسی قسم کی کاروائی غیر قانونی ہو گی اور اس پر احتجاج کیا جائے گا۔” نجی تعلیمی اداروں کے علاوہ سرکاری سکولوں کے ہیڈ ماسٹر وں کو بھی حکومت پنجاب کے متاثرین کے لئے قائم کئے گئے فنڈ میں عطیات جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مڈل سکول کے ہیڈماسٹروں کو 2000 روپے جبکہ پرائمری سکولوں کے ہیڈماسٹروں کو 1000 روپیہ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔<br>
لالٹین کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق لاہور اور اس کی تحصیلوں میں قائم کالجز کے پرنسپلوں کو بھی وزارت تعلیم اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ایک خط کے ذریعہ متاثرین ضرب عضب کے لئے کرائے جانے والے ایک فلاحی ٹی ٹونٹی میچ میں شرکت اور ٹکٹیں فروخت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ فلاحی میچ قومی کرکٹ ٹیم کے تعاون سے 26 جولائی کو قذافی سٹیڈیم میں کھیلے جائے گا۔ خط کے مطابق کیٹیگری اے کے کالج 100، کیٹیگری بی کے کالج 50 اور کیٹیگری سی کے کالج 20 ٹکٹ خریدنے کے پابند ہیں۔<br>
وزیرستان سے ہجرت کرنے والے افراد کی مدد کے لئے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور بھی نئے تعلیمی سال کے داخلہ فارم کے ساتھ 50 روپے اضافی فیس وصول کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ہر داخلہ فارم کے ساتھ اضافی فیس وصول کرے گی جس سے متاثرین کی امداد کے لئے 25 لاکھ روپے جمع ہونے کی امید ہے۔<br>
طلبہ حلقوں اور اساتذہ تنظیموں نے جبری عطیات اور اضافی فیس وصول کرنے کے اقدامات پر تنقید کی ہے ۔ پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم زبیر عارف کے مطابق حکومت اور عوام قومیت اور حب الوطنی کا عملی مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے ہیں،“سیاسی جماعتیں، حکومت اور عوام وزیرستان کے لوگوں کی اس طرح مدد نہیں کر رہے جیسے ماضی میں زلزلہ اور سیلاب سے متاثر ہونے والوں کی کرتے رہے ہیں۔ اس بار سیاسی جماعتیں اور حکومتیں وزیرستان کے لوگوں کے لئے قومی جذبہ بیدار کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہی ہیں۔” اسلامیہ یونیورسٹی کی طالبہ نیلم عدیل کے مطابق عید اور مہنگائی کے ساتھ تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کی وجہ سے بھی اس بار طلبہ اور اساتذہ میں پہلے جیسا جوش و خروش نہیں،“پہلے ہم سٹوڈنٹ مل کر یونیورسٹی میں Donations اکٹھی کرتے تھے لیکن اب چھٹیاں ہیں اور پھر عید کی وجہ سے لوگوں کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، اس لئے کچھ خاص فلاحی کام نہیں ہو سکا۔”<br>
اعدادوشمار کے مطابق آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں وزیرستان سے سات لاکھ سے زائد قبائلی ہجرت کر چکے ہیں جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے۔ خیبر پختونخواہ کی حکم ران جماعت پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ کی وفاقی حکومت کے درمیان سیاسی اختلافات کے باعث متاثرین کی امداد میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%88%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%ac%d8%a8%d8%b1%db%8c-%d8%b9%d8%b7%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88/">آئی ڈی پیز کی امداد کے لئے جبری عطیات اور اضافی فیس کی وصولی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%88%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%ac%d8%a8%d8%b1%db%8c-%d8%b9%d8%b7%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
