موت کو پڑھنا آسان نہیں

موت کو پڑھنا آسان نہیں!
رات سورج سے پہلے جاگ اٹھی ہے
اور سلیپر پہنے
گھروں سے باہر نکل آئی ہے

 

سمندر کنارے پر پھیلتا جا رہا ہے
یہاں تک کہ اُس کی گہرائی کم ہوتے ہوتے
صفر اعشاریہ ننانوے ملی میٹر رہ گئی ہے
اور مچھلیاں اپنی مادر زاد برہنگی چھپانے کے لیے
لاشوں کی طرح اوپر تلے گر رہی ہیں
آبی اور زمینی مخلوق میں معانی کا فرق بھی نہیں رہا

 

وہ دیکھو متن اور حاشیے کے مابین
موت سایوں کی زبان میں لکھی ہوئی ہے
جسے سمجھنے کے لیے
ماقبل اور مابعد زمانوں کی تنہائی درکار ہے

 

لفظوں اور منظروں کی خود کشی کے بعد
زندگی کو چُپ سی لگ گئی ہے
خوبصورت آنکھوں والے چہروں پر سیاہ چشمے دیکھ کر
بادلوں کا ہنسنا بلکہ ٹھٹا لگانا قدرتی بات ہے

 

متن شناسی کے زعم میں مبتلا
پتلے کانوں والے نقاد
بوڑھے کچھووں کے راگ سُن سُن کر مدہوش ہو رہے ہیں
ایسے میں نظم لکھنا
اور موت کو پڑھنا آسان نہیں!

Image: Joan Miro




صبح کا ستارہ

صبح کا ستارہ
صبح کا ستارہ

 

ننھے بچے کی روشن آنکھ کی طرح
چمک رہا ہے
اور کسی وقت
چھوٹے بادل کے نیچے
چھوٹی سی نیند بھی کر لیتا ہے

 

اور بچہ
ماں کے سینے کے آسمان میں
رینگنے لگتا ہے

 

کیونکہ آسمان
ماں کے سینے جیسا وسیع و عریض نہیں ہو سکتا
اس لیے اک بچے کے
بڑے ہونے کی مسافتوں کو
سال بلکہ صدیاں بھی بیت سکتی ہیں

 

زندگی کے کھلے مرتبان کے اوپر
مکھیاں بھنبھناتی ہیں
مگر لوگ کانٹے دار باڑوں کے اندر
محفوظ ہیں
اور صبح کے پرندے
ماؤں کے ہاتھوں کی دعاوں کو
اپنی چہچہاہٹ کی نغمگی دیتے ہیں

 

جھونپڑیوں کے باہر
مٹی میں لتھڑے کپڑوں کی زندگی میں
کوئی ستارا ٹانکا نہیں ہوا

 

مگر شہر کو جاتی کچی پٹڑیوں کے بیچ
جہاں پاؤں کے نشان
گوبر اور کانٹے بکھرے ہوئے ہوتے ہیں
ایک ننگے بچے کے سفر کے لیے
ایک آسمان ہمیشہ کھلا رہتا ہے



مجھے اپنی غداری پر فخر ہے

مجھے اپنی غداری پر فخر ہے کیوں کہ میری غداری نے ملک نہیں توڑا تھا، ملک آپ کی حب الوطنی نے توڑا ہے۔ میری غداری کے ہاتھوں کوئی مسخ شدہ لاش نہیں ملی، کسی کو جبری طور پر لاپتہ نہیں کیا گیا اور کسی پر غداری کے فتوے نہیں لگائے گئے یہ آپ کی حب الوطنی ہے جو اپنے ہی ملک میں رہنے والوں اور اپنے آئینی حقوق مانگنے والوں کے خلاف عقوبت خانے کھولے بیٹھی ہے۔ میری غداری کے ہاتھوں کبھی کسی منتخب حکومت کا خاتمہ نہیں ہوا، میں نے کبھی ملک کاآئین معطل نہیں کیا اور میں نے کبھی خود کو آئین و قانون سے ماورا نہیں سمجھا۔

 

مجھے اپنی غداری پر فخر ہے کیوں کہ میری غداری آپ کی حب الوطنی کو آئینہ دکھاتی ہے۔ میری غداری اس جبر، استحصال اور بربریت کو بے نقاب کرتی ہے جو آپ اپنی حب لوطنی کے نام پر روا رکھتے ہیں۔ میرے جیسے ہی غدار ہیں جو اس ملک میں آپ جیسے طاقت ور اداروں کے غیر آئینی اقدامات پر چھوٹے موٹے مظاہرے کرتے ہیں، کبھی ان ڈیڑھ سو عورتوں کی شکل میں جو مال روڈ پر آپ کے بنائے غیر انسانی مذہبی قوانین کے خلاف نکلتی ہیں، کبھی اوکاڑہ میں آپ کی دہشت اور بربریت کے خلاف مقدمے برداشت کرنے والے مزارعوں کی شکل میں، کبھی ایم آر ڈی کے بھیس میں، کبھی ماما قدیر بن کر تو کبھی عاصمہ جہانگیر کی شکل میں۔

 

مجھے اپنی غداری پر فخر ہے کیوں کہ ہم غداروں نے اس ملک میں نفرت کی وہ دکانیں نہیں کھولیں جہاں سے دوسرے مذہب کے ماننے والوں، دوسرے ملکوں میں رہنے والوں، دوسرے صوبوں میں رہنے والوں اور وردی کے بغیر سانس لینے والوں سے نفرت کی پڑیاں لپیٹ لپیٹ کر دی جاتی ہیں۔ مجھے اپنی غداری پر فخر ہے کیوں کہ میری غداری کے مطابق احمدی اس ملک کے مساوی شہری ہیں اور انہیں آزادی سے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہے، مجھے اپنی غدری پر فخر ہے کیوں کہ میری غداری کے مطابق بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق بلوچستان میں رہنے والوں کا ہے۔

 

مجھے اپنی غداری پر فخر ہے کیوں کہ میرے غدارانہ افکار کے مطابق فلاح و بہبود سیکیورٹی پر مقدم ہے۔ میں دفاعی اخراجات میں کمی کا حامی ہوں، ہندوستان سے جنگ کا قائل نہیں، عسکری اداروں کی پراکسیز کا خاتمہ چاہتا ہوں، سول بالادستی کا حامی ہوں اور مذہب کو سب کا ذاتی معاملہ خیال کرتا ہوں۔ مجھے فخر ہے کہ میری غداری توہین مذہب کے قوانین کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات کرتی ہے، تحفظِ پاکستان ایکٹ کے تحت کی جانے والی زیادتیوں کی نشاندہی کرتی ہے اور جتھے بنا کر شریعت کے نفاذ کو غلط قرار دیتی ہے۔

 

مجھے اپنی غداری پر فخر ہے کیوں کہ یہ غداری ان کی میراث ہے جو پاکستان بننے کے فوراً بعد غدار قرار پائے، جن کی منتخب حکومتیں معزول کی گئیں، جن کے اخبار ملکی سلامتی کی خاطر بند کیے گئے، جنہیں سرعام کوڑے لگائے گئے، جنہیں لاپتہ کیا گیا اور جنہیں اندھی گولیوں سے چھلنی کر کے پھینکا گیا۔ مجھے فخر ہے کہ میں غدار ہوں آپ کی طرح محبِ وطن نہیں۔۔۔۔



سدِ سکندری (ایک مولوی صاحب کا خاکہ)

[blockquote style="3"]

ذکی نقوی کی یہ تحریر اس سے قبل ہم سب پر بھی شائع ہو چکی ہے۔ مصنف کی اجازت سے اسے لالٹین قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

جب تقسیم کے ہنگاموں سے دریا کے کنارے ہنستا بستا شاکر خان تتاری کا کوٹ اُجڑکر، بلکہ سُکڑ کر ایک چھوٹا سا قصبہ ہی رہ گیا تو کئی لوگوں نے اس کے مضافات سے اپنی رہائشیں ترک کر دیں۔ بستی دولت رام اس قصبے کا سب سے متاثرہ حصہ تھی۔ دادا مرحوم نے یہاں سے چند کلومیٹر مغرب کی جانب ریگستان میں آکر سکونت اختیار کر لی جہاں کی ڈھلوان کے ساتھ بہت زرخیز زرعی زمین تھی۔ یہاں اُن کے ہمراہ ایک اور خاندان قصائیوں کا بھی آیا ۔ اُس خاندان میں سالانہ شرحِ پیدائش کی شاندار صلاحیتوں نے جہاں اس ویرانے کو جلد ہی ایک بستی کی صورت دے دی تو وہاں اسی خانوادے نے گاوں کی پہلی مسجد کی بُنیاد بھی رکھی۔ "مسجدِ شیرِ خُدا" کو ان پڑھ لوگ اپنی آسانی کے لئے اس کے بانی کے نام پر "شیرے قصائی دی مسیت" بھی کہا کرتے تھے۔ میری رسمی تعلیم کا آغاز یہیں سے ہوا۔ شیر محمد قصائی کی تمام اولاد اُس کی طرح بہت خوش عقیدہ سُنی تھے اورمسجد کو آباد رکھنے میں ہمیشہ بہت مخلص رہے ہیں۔

 

گھنی بکھری ہوئی ڈاڑھی، بڑا سا دہانہ اور چھوٹی چھوٹی آنکھیں جس کی وجہ سے سنجیدہ بزرگوں میں تو آپ روایتی 'مولویانہ' فیشن کی شخصیت لگتے تھے لیکن ہم نو عمر لونڈوں کے نزدیک آپ کوئی فکاہیہ کردار تھے۔
نصف صدی کے گُذرنے میں جب یہ بستی کافی بڑا گاوں بن گئی تو سڑک پار ایک جامع مسجد اور مدرسہء اہل سُنت قائم کیا گیا۔ شیرے قصائی والی مسجد میں پڑھنے والے بچے اُس مدرسے میں منتقل ہو گئے لیکن اس مسجد کو اس کے اولین امام صوفی احمد دین نے تاحین حیات آباد رکھا۔

 

مولوی عارف اللہ عارف انہی دنوں میں جامع مسجد و مدرسہ اہلِ سُنت کے اُستاذ اور امام بن کر آئے۔ آپ کا پسِ منظر اتنا ہی معلوم ہے کہ مرحوم شیرے قصائی کے دُور پار کے رشتے داروں میں سے تھے اور کسی معمولی سے مدرسے سے فارغ التحصیل تھے۔ جوان آدمی تھے لیکن ڈاڑھی اور توند کا حجم عمر رسیدہ، جید مولویوں کا سا پایا تھا۔ بلاشبہ اس ہیئت کی وجہ سے بھی اُنہیں گاوں میں اپنا سکہ بٹھانے میں کافی آسانی ہوئی۔ بھاری بھرکم ڈاڑھی اور توند مولوی کے معتبر ہونے کی علامت ہے اور یہ بات میں اپنے گاوں کے لوگوں کے معیارات کو سامنے رکھ کر پوری سنجیدگی سے کہہ رہا ہوں، اس سے مقصد مولوی عارف اللہ عارف صاحب کا مضحکہ اُڑانا ہرگز نہیں۔ لاریب فیہہ کہ مولوی موصوف کا احترام بلا تخصیصِ مسلک، تمام گاوں والے کرتے تھے۔

 

عربی قرات خوب کرتے لیکن فارسی سے کافی حد تک نابلد تھے، یا کم از کم ہمارا یہ اندازہ ہے۔ دین اور فقہہ کا مطالعہ بنظرِ غائر کر رکھا تھا لیکن چہرے مہرے سے گاودی مُلا لگتے تھے۔ گھنی بکھری ہوئی ڈاڑھی، بڑا سا دہانہ اور چھوٹی چھوٹی آنکھیں جس کی وجہ سے سنجیدہ بزرگوں میں تو آپ روایتی 'مولویانہ' فیشن کی شخصیت لگتے تھے لیکن ہم نو عمر لونڈوں کے نزدیک آپ کوئی فکاہیہ کردار تھے۔ ہم نے بچوں کے ایک رسالے میں ملا نصرالدین کے کچھ کارٹون دیکھے تھے جن کی رو سے دُنیا میں مُلا نصرالدین کا واحد ہم شکل مولوی عارف اللہ ہی تھے۔ حقیقی ذندگی میں وہ کوئی فکاہیہ کردار ہرگز نہ تھے لیکن ہنسے ہنسانے کو گناہِ کبیرہ بھی نہ سمجھتے تھے۔ اچھا اخلاق پایا تھا، اگرچہ بات کرنے کے انداز سے سنگ و خشت قسم کے عالمِ دین لگتے تھے، غُصے میں تشیع پر بھی برستے لیکن تب تکفیر کا کلچر عام تھا نہ آپ اس کے قائل تھے۔ اذان کے بعد حضرتِ معین الدین چشتی اجمیری صاحب رحمٗہ اللہ کا مشہور قطعہ پڑھتے لیکن ایک مصرعے میں خوب تحریف فرمائی تھی؛

 

؎ سرداد، نداد دست در دستِ یزید پلید

 

عربی ادب سے بھی دلچسپی تھی اور معلقات کی توضیح پر عبور رکھتے تھے۔اُنہوں نے تمام مسالک اور مکاتبِ فکر کا مطالعہ بالالتزام کیا۔ تشیع کی کتب گاوں کے واحد کتب خانے یعنی ابا جان کے ذخیرہء کتب سے لیتے تھے اور ان پر ابا جان سے بڑے دوستانہ ماحول میں بحث و تمحیص بھی کرتے۔ آپ کے اکثر شاگرد آپ کے مُرید بھی تھے کیونکہ آپ نے تعویذ اور 'دم درود' کا ہُنر بھی پایا تھا۔ سر درد کا 'دم' زود اثر ہوتا تھا۔

 

پاوں کے تلووں کی ایک بیماری ہے، چنبل، اکثر تھل باسیوں کے ننگے پاوں چلنے کی عادت کی وجہ سے لاحق ہو جاتی تھی۔ مولوی عارف اللہ عارف اس کے لئے سرسوں کے تیل پر دم پڑھ کر دیتے تھے جو کہ چہار دانگ میں مشہور تھا۔ ایک دفعہ باورچی صدیق قصائی کی دُکان کے تختے پر بیٹھے چاول تناول فرما رہے تھے جو آپ کا پسندیدہ مشغلہ تھا، ایک دیہاتی سرسوں کے تیل کی بوتل لے کر آیا، "اُستاد جی، گھر میں پاوں چٹخ گیا ہے، ذرا تیل تو دم کر دیں"، دیہاتی کی استدعا پر چاول کی پلیٹ ایک طرف رکھی، تیل کی بوتل کا ڈھکن کھولا اور زیرِ لب کچھ پڑھنا شروع کردیا۔ آپ کی ڈاڑھی کافی دیر تک ہونٹوں کی خموش جنبش سے تھرتھراتی رہی، پھر آپ نے "شُوں شُوں" اور "پُھوں پُھوں" کی آواز سے بوتل میں پھونک ماری، اور ساتھ ہی "تُھوں تُھوں" کی آواز کے ساتھ تھوڑا سا لعاب شریف بھی بوتل میں تھوک دیا۔ ہم پاس بیٹھے تھے، باچھیں کھِلا کر ہنس دیئے۔ بڑے بھیا، جو اُن کے قریب تر کھڑے تھے، کہنے لگے، "اُستاد جی، پُھونک تو ٹھیک ہے، بوتل میں تھُوکتے کیوں ہیں؟" آپ نے سنجیدگی سے بھیا کی طرف دیکھا اور بڑے تقدس مآبانہ انداز میں بولے؛ "تُھوک کی اپنی تاثیر ہوتی ہے بچے!"

 

جب امام باڑے میں اُن کی نمازِ جنازہ ہو چکی تو مدرسہء اہلِ سُنت کی جانب سے مولوی عارف اللہ عارف نے بھی نمازِ جنازہ پڑھائی اور تمام اہلِ تسنن نے ان کی اقتداء کی۔
دادا مرحوم جو کہ علاقے میں ایک موقر شیعہ عالمِ دین اور مناظر تھے، فوت ہوئے تو ایک بڑی تعداد نے جنازے میں شرکت کی۔ جب امام باڑے میں اُن کی نمازِ جنازہ ہو چکی تو مدرسہء اہلِ سُنت کی جانب سے مولوی عارف اللہ عارف نے بھی نمازِ جنازہ پڑھائی اور تمام اہلِ تسنن نے ان کی اقتداء کی۔

 

انہی دنوں علاقے کے تتاری بلوچوں نے جو کہ مسلکاً شیعہ تھے، ہمارے بزرگوں کے ساتھ مل بیٹھ کر فیصلہ کیا کہ گاوں کی شیعہ مسجد جو کہ مسجدِ ضرار کا حُلیہ پیش کر رہی تھی، آباد کی جائے اور اس کے لئے ایک مولوی صاحب کا بندوبست بھی کیا جائے۔ عملدرآمد ہوا تو کسی بڑے مدرسے کے فارغ التحصیل ایک چھوٹے سے، بُوم نُما شیعہ مولوی جی "ہماری" مسجد کو بھی آباد کرنے آ گئے۔

 

آپ کا نام تو آغا غلام الحسنین جواہری تھا لیکن بلوچوں کے لڑکوں نے کچھ اپنی آسانی کے لئے، کچھ آپ کی ہیئت کو مد نظر رکھ کر آپ کا نام مولبی چُونڈی (اُردو ترجمہ: مُلا چُٹکی) رکھ دیا۔ اب ایک بٹوارے کی سی صورتِ حال پیدا ہو گئی۔ کچھ شیعہ گھرانوں کے جو بچے تھے، اُنہوں نے مولوی عارف صاحب کا مدرسہ چھوڑ کر مُلا چُٹکی کے پاس پڑھنا شروع کر دیا۔ ہمارا ایک خوش اندام دوست جس کے گداز رانوں پر ہاتھ پھیر کر اکثر مولوی عارف اُس کے حُسن اور حُسنِ قرات کی داد دیتے تھے، شیعہ باپ اور سُنی ماں کا بیٹا تھا، وہ اس بٹوارے میں مولوی عارف صاحب کے حصے میں ہی آیا جس کا ہمیں سخت غم و غُصہ تھا۔ اگرچہ مُلا چُٹکی اور مولوی عارف کے درمیان باہمی احترام اور رواداری کا تعلق قائم ہوا اور گاوں میں کسی قسم کی تفریق کو ہوا نہ ملی ، ہم اس بٹوارے پر سخت ناخوش تھے۔ ہم نے ایک دفعہ اپنے اُس دوست کو مُلا چُٹکی کے درس میں آنے کی دعوت دی تو وہ آ گیا۔ مُلا چُٹکی اُسے دیکھتے ہی حافظؔ شیرازی کے اس شعر کی مجسم تشریح بن گئے:

 

؎ بہ مکتب می رَوَد طفلِ پری ذاد
مبارک باد مرگِ نَو بہ اُستاد

 

اُنہوں بھی اُس پر کمال شفقت کی۔ اگلے روز ہمارے اُس دوست کی، بوجہ غیر حاضری مولوی عارف اللہ عارف نے خوب درگت بنائی۔ ہمیں پتہ چلا تو ہم نے انتقامی کارروائی کا سوچا۔ منصوبہ بن گیا۔ بڑے بھائی صاحب قبلہ جو دسویں کے طالب علم تھے اور ہماری کسی حرمزدگی میں شریک یا ہمراز نہ ہوتے تھے، اس منصوبے میں رضاکارانہ طور پر ہمارے ساتھ ہو لئے۔ اُسی شام ہم چند کوئلے اُٹھائے، مسجد و مدرسہء اہلِ سُنت کے عقب میں جا پہنچے۔ بڑے بھیا نے ٹھیکری پہرہ لگایا، میں نے محرابِ مسجد پر کوئلے سے مُلا نصرالدین یعنی مولوی عارف اللہ عارف کا کارٹون بنایا اور اسدؔ نے اپنی خوش خط لکھائی میں سُرخی دی "مولوی عارف اللہ ٹوکرا"۔۔۔ پھر ایک ہی اشارے سے ہم بھاگ نکلے۔

 

میں نے محرابِ مسجد پر کوئلے سے مُلا نصرالدین یعنی مولوی عارف اللہ عارف کا کارٹون بنایا اور اسدؔ نے اپنی خوش خط لکھائی میں سُرخی دی "مولوی عارف اللہ ٹوکرا"۔۔۔ پھر ایک ہی اشارے سے ہم بھاگ نکلے۔
رات تو خیر سے گُذر گئی۔ جب اگلے روزظہر کی نماز سے قبل مدرسے کے بچے حوائج ضروریہ و طہارت کے لئے عقبی ٹیلوں اور کیکر کے جھُنڈوں کی طرف گئے تو اُنہوں نے محراب پر ہمارے مزاحمتی آرٹ کا نمونہ دیکھا تو بھاگم بھاگ آئے مولوی عارف اللہ صاحب کے پاس۔

 

اسی شام مولوی صاحب کو اپنے ڈیرے پر بیٹھا دیکھ کر ہمارا ماتھا ٹھنکا۔مولوی صاحب ابا حضور سے باتیں کر رہے تھے، درمیان میں تفسیر کی کوئی کتاب کُھلی تھی۔ اسی اثناء میں ہمارا بُلاوا اگیا۔ بڑے بھائی صاحب تو فوراً درانتی اُٹھا کر چارہ کاٹنے کے بہانے کھسک گئے، میری اور اسدؔ کی پیشی ہوئی۔ مولوی صاحب کے لبوں پہ مسکراہٹ تھی، ابا جان کے ہونٹوں پر تند و ترش سوالات تھے۔اب کے بر عکس بچپن میں اسدؔ کو ہمیشہ سچ بولنے کی عادت تھی، اُس نے فوراً اقبالِ جرم کر لیا۔ چھوٹے چچا نے ہم دونوں کو گدی پر ایک ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کیا تو مولوی عارف صاحب نے ناگواری سے اُن کا ہاتھ روک لیا اور اُنہیں سختی کرنے سے منع کیا۔ ہمیں بہت شفقت سے سمجھایا کہ مسجد کا تقدس بہت مقدم ہے، اس کی دیواروں پہ خاکے بنانا بُری بات ہے۔ پھر ابا نے امام باڑے کے ایک نوحہ خوان کو ہمارے ہمراہ بھیجا کہ مسجد اہل سُنت کی محراب کو اچھی طرح صاف کر کے ہی واپس آئیں۔ نقش گہرے تھے، بیچارہ جعفر ماچھی رات پھیلنے تک محراب پہ سر پٹختا رہا۔

 

مُلا چُٹکی یہاں ذیادہ عرصہ نہ رہ سکے، اور اُن کے بعد ایک دو اور مولوی بھی یہاں کی شیعہ مسجد کی خدمت میں رہے لیکن مولوی عارف اللہ عارف گاوں کے سماجی حلقے میں ایک ہردل عزیز شخصیت کے طور پر مقبول رہے۔

 

یہ سال ایک کرکٹ ورلڈ کپ کے جوش و خروش کا سال تھا اور کرکٹ کا شوق اور حُبُ الوطنی ہمارے دیہاتوں میں بھی عروج پر تھی۔ گاوں میں مولوی عارف صاحب کے کرکٹر بننے کے شوق کا خوب شہرہ ہوا۔ مدرسے کے طلباء کو اور کیا چاہیئے تھا، بڑے خوش ہوئے اور فوراً کرکٹ ٹیم بنا لی۔ آپ کا کھیل دیکھنے لوگ بصد شوق آتے تھے اگرچہ آپ وکٹ پر ایک گیند سے ذیادہ نہ ٹھہر پاتے تھے۔ کچھ معاصر مُلاوں نے اس شنیع و قبیح حرکت پر مولوی عارف صاحب کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا لیکن صدا بصحرا۔۔۔ آپ کے اچھے کرکٹر بننے کی راہ میں آپ خود ایک سدِ راہ تھے، بلکہ چٹان بن گئے تھے جوکہ بلا شبہ بہت بھاری بھرکم تھی اور کرکٹ کے میدان میں نہ لُڑھک سکی لیکن ہم جانتے تھے کہ مولویوں میں آپ چٹان نہیں بلکہ سدِ سکندری تھے جنہوں نے نفرت اور انتہا پسندی سے مُلاوں کی قومِ یاجوج ماجوج کو روک رکھا تھا۔ اُن سے تلمذ حاصل کرنے والے اُن کے شاگردآج کل معمولی پیشوں یا مساجد میں معمولی خدمات سے کسبِ معاش کررہے ہیں اور آج بھی بہت روادار اور متوازن رویوں کے لوگ ہیں۔

 

ہم جانتے تھے کہ مولویوں میں آپ چٹان نہیں بلکہ سدِ سکندری تھے جنہوں نے نفرت اور انتہا پسندی سے مُلاوں کی قومِ یاجوج ماجوج کو روک رکھا تھا۔
یہ 1998ء کا سال تھا غالباً، یا پھر 99ء کا، لیکن تھا موسمِ گرما، جب ایک چلچلاتی دوپہر کو مولوی عارف اللہ عارفؔ صاحب کسی دوسرے گاوں سے آرہے تھے تو راہ میں ایک گدھا گاڑی والے نے اُنہیں احتراماً سواری کی پیشکش کی، آپ شُکریے کے ساتھ سوار ہو لئے۔ گدھا گاڑی یہاں پہنچی تو بستی کے مرکزی تراہے کی چڑھائی چڑھتے ہوئےناتواں گدھے کو کافی زور لگانا پڑ رہا تھا۔ مولوی عارف اللہ عارف 'ریڑھی' پر چاروں شانے چِت لیٹے تھے، بازو پھیلے ہوئے اور ٹانگیں پسارے ہوئے۔ گاڑی بان گدھے کو بے دردی سے پِیٹ رہا تھا۔ دُکانوں، چھابڑیوں اور ریڑھیوں والے متوجہ ہوئے۔ ایک قہقہہ بُلند ہوا۔ ایک ناتواں گدھے کی بے بسی اور مولوی صاحب کے لیٹنے کا انداز ، نادر سا منظر تھا۔ کچھ دیر تک پھبتیاں اور جُملے داغے جاتے رہے جن میں بد تمیزی کا تو نہیں، ٹھٹھے مخول کا عنصر ضرور تھا لیکن پھر اچانک تراہے میں خاموشی چھا گئی۔ گدھا رُک گیاتھا، لوگ بھاگے چلے آئے۔ تختے پہ لیٹے مولوی عارف اللہ عارف صاحب کا جسم اس سخت گرمی میں ٹھنڈا پڑا چکا تھا۔ سب آنکھیں تر ہو گئیں، رنگین چارپائی منگوائی گئی۔ عالمِ دین اپنی آخری سواری سے اُتارے گئے اور اسی رات آہوں، سسکیوں اور آنسووں کے ساتھ، جن میں ہر مسلک والوں کے آنسو اور سسکیاں تھیں ۔۔۔۔۔۔ آنسووں اور سسکیوں کا کوئی مسلک، کوئی مذہب نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔ مدرسے کے پہلو والے قبرستان میں دفن کر دیئے گئے۔

 

اُن کی وفات کے کچھ عرصہ بعد عالمی منظر نامے سے لے کر دیہات کی سطح تک سیکڑوں تبدیلیاں آئیں لیکن کچھ تبدیلیاں ایسی تھیں جو اُن کی زندگی میں ممکن نہ تھیں۔ ایک عجیب سا خواب یاد آ رہا ہے۔ دیکھتا ہوں کہ بڑے بڑے کانوں والے بونے ایک قطار میں اُتر رہے ہیں، اُن کی لمبی لمبی زبانیں ہیں۔۔۔ کون جانے اسی کی تعبیر تھی کہ گاوں کے لوگوں میں فرقہ واریت کی پہلی بیل پُھوٹی، کچھ لڑائیاں ہوئیں، کُفر کے فتوے اور کافر کافر کے نعرے لگے تو ایک شیعہ نے سڑک پہ کھڑے تبرا کر دیا۔ کہیں سے اُس پہ قتل کا فتویٰ آیا، شام کو اُسے چُھرا گھونپ دیا گیا، اگلے روز ایک کالعدم تنظیم کے سربراہ اپنی ڈبل کیبن گاڑیوں کے مسلح کاروان کے ساتھ اس چھوٹے سے گاوں میں آئے، بھڑکاو ہوا، شیعوں نے تلواریں سونت لیں، سپیکروں پہ للکارے مارے، ڈاڑھیوں کو رگیدا مگر پُرانے بزرگوں نے بیچ میں پگڑیاں ڈال دیں اور خُدا جانے کیا کیا تماشے ہوئے!

 

اب مَیں سمجھا ہوں کہ شاید مولوی عارف اللہ عارفؔ جیسے لوگ ہی وہ سدِ سکندری تھےجو ہر طرح کے یاجوج ماجوج کے رستے میں حائل تھے اور اگر مَیں نے یہ بات فرطِ جذبات یا زیبِ داستان کے لئے کہہ دی ہے تو یہ بات تو بالیقین کہہ سکتا ہوں کہ قُدرت کو اُن جیسے باصفا لوگوں کی ذندگی میں یہ تماشے دکھانا منظور نہ تھا، بس اُن کے مرنے کا انتظار گیا۔۔۔



کولاج

کولاج
(سرگودھا یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس کے لیےایک نثری نظم)

 

سرگودھا یونیورسٹی میں گزرے ٧٩٠ دنوں کی طرح
چائے کی پیالی سے میری نظم شروع ہوتی ہے
احمد حسن اپنی محبوبہ کے ساتھ کینٹین سے گزرتا ہے اور ادریس بابر کے شعر سناتا ہوا بائیک پر روانہ ہو جاتا ہے

 

ندیم کوٹ مومن کے سپیرئر کالج میں رائیگانی کی نظم لکھ
کر مجھے میسج کرتا ہے جو مجھ تک نہیں پہنچ پاتی
کنول رت جگوں سے ڈسے گهرے حلقوں کے ساتھ اپنے ندیم کی شبیہہ میرے کانوں پہ ثبت کرتی ہے اور اداسی کی دھند میں غائب ہو جاتی ہے
غضنفر رانجھا آبائی گاؤں سے کچھ نئی پرانی کہانیاں لاتا ہے اور کھو جاتا ہے
غلام محی الدین کا دایاں بازو کاٹ دیا گیا ہے اور وه صرف" بائیں بازو" سے لفظوں کے "تیر" چلاتا ہے

 

شناور خان نے مقابلے میں پڑھنے کے لیے ایک نظم لکھی ہے جو اس کی زندگی کی طرح ابھی ادھوری ہے
حارث بلال کی چمکتی ہوئی آنکھیں کیمسٹری کی تجربہ گاه میں بھیج دی گئیں ہیں جہاں ان سے ما بعد جدید غزلیں تیار کی جائیں گی
ازور شیرازی نے خوابوں کی ایک پینٹنگ تیار کی ہے جسے ہم نصابی فورم کے نوٹس بورڈ پر چسپاں کرنے سے انکار کر دیا گیا ہے
ابوبکر حسب معمول شام کا پروگرام پوچھتا ہے اور شام سے پہلے کی گاڑی سے جھنگ روانہ ہو جاتا ہے
خالق داد دو سالوں میں بارہواں فلیٹ تبدیل کرنے کی اطلاع مجھے میرے ہی دربدری کے شعر سنا کر دیتا ہے اور ایک ٹھنڈی آه بھرتا ہے

 

میرا اولین مقالہ نگار فیصل گلزار ساحر لدھیانوی اور جون میں اذیت پسندی تلاش کرتا ہے اور میرا جی کو بھول جاتا ہے

 

یاسر خان شطرنج کی بساط میرے سامنے رکھتا ہے جسے میں زندگی سمجھ کر ہار جاتا ہوں

 

موبائل کی گھنٹی بجتی ہے اور میں ایک سو چھپن ویں دفعہ ماں کو بتاتا ہوں کہ میری تنخواه نہیں بڑھ سکی
"سر جی، سر جی! شام ہو گئی کرسی چک لییے؟"
اور میں ہر دن کی طرح ١٠٠ روپے ادھار چھوڑ کر اپنے کمرے کے قبرستان میں دفن ہو جاتا ہوں



میرواہ کی راتیں- دوسری قسط

رفاقت حیات کے ناول 'میر واہ کی راتیں' کی دیگر اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
ڈیڑھ مہینہ پہلے کی بات ہے۔ چاچا غفور نے اسے پڈعیدن شہر ایک ضروری کام سے بھیجا۔ وہ فجر کے وقت ٹھری میرواہ سے نکلنے والی پہلی بس پر سوار ہو کر پہلے سیٹھارجہ پہنچا اور وہاں سے ٹرین پکڑ کر تقریباً دس گیارہ بجے پڈعیدن پہنچ گیا۔ اسے کام نمٹاتے نمٹاتے دوپہر ہو گئی۔ پھر ہوٹل میں کھانا کھانے کے بعد وہ سہ پہر کے وقت ریلوے اسٹیشن پہنچا اور ٹرین کا انتظار کرنے لگا جو پون گھنٹے بعد آنے والی تھی۔ بے چینی سے انتظار کرتے ہوے وہ پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگا۔

 

اس کا مشاہدہ تھا کہ عورتیں بھی اس تفریح سے لطف اندوز ہوتی تھیں۔ انھیں اپنے دیکھنے والوں پر اپنی مسکراہٹ، ہنسی اور ادائیں نچھاور کر کے کوئی روحانی مسرت حاصل ہوتی تھی۔
پڈعیدن ریلوے اسٹیشن ایک جنکشن تھا، جہاں سے برسوں پہلے نوشہروفیروز، ٹھاروشاہ، کنڈیارو اور دیگر چھوٹے قصبوں کی طرف ریل جایا کرتی تھی، مگر اب بہت عرصے سے محکمہ ریلوے نے اس راستے پر جانے والی ٹرینوں کومنسوخ کر دیا تھا؛ اب یہاں سے صرف مین لائن ٹرینیں ہی گزرتی تھیں۔ لیکن پڈعیدن ریلوے اسٹیشن کا پھیلاؤ اب بھی پہلے جیسا ہی تھا اور اب بھی اس کے نام کے ساتھ بہت سے اسٹیشنوں کی طرح جنکشن کا دم چھلا لگا ہوا تھا۔ اضافی لائنوں پر اکثر ایک یا دو انجن کھڑے شور مچاتے اور دھواں اگلتے رہتے تھے۔ پڈعیدن شہر ریلوے اسٹیشن کی عمارت کے عین مخالف سمت میں واقع تھا۔ وہ بھی اسی راستے سے پیدل چلتا ہوا یہاں پہنچا تھا۔

 

نذیر کی عادت تھی کہ وہ سفر کرتے ہوے کسی خوبصورت نسوانی چہرے کی تلاش میں رہتا تھا تاکہ اس کی آنکھوں میں جھانک جھانک کر اور اپنی آنکھوں سے اس کے چہرے کو ٹٹول ٹٹول کر بیزارکن اور اکتاہٹ سے بھرے اپنے سفر کو اہم ترین یاد میں تبدیل کیا جا سکے۔ یہ معاملہ ایک ریلوے اسٹیشن سے شروع ہو کر دوسرے پر ختم ہو جاتا تھا مگر اس کی یاد ہمیشہ ذہن میں محفوظ رہتی تھی۔ تین مرتبہ وہ اس معاملے کو طول دینے کی کوشش میں اذیت اور خواری کا تجربہ کر چکا تھا۔

 

اس کا مشاہدہ تھا کہ عورتیں بھی اس تفریح سے لطف اندوز ہوتی تھیں۔ انھیں اپنے دیکھنے والوں پر اپنی مسکراہٹ، ہنسی اور ادائیں نچھاور کر کے کوئی روحانی مسرت حاصل ہوتی تھی۔ بعض عورتیں اپنے سینے کی نمائش کرنے سے بھی نہیں چوکتی تھیں، اسی لیے وہ باربار اپنے ڈوپٹے یا چادر کو درست طریقے سے اوڑھنے کا جتن کرتی رہتی تھیں اور اس طریقے سے مردوں کو لبھانے کی کوشش کرتی تھیں۔ ان خواتین پر اسے حیرانی ہوتی تھی جو مردوں کی گھورتی نظروں سے لاتعلق ہو کر شیرخوار بچوں کو دودھ پلانا شروع کر دیتی تھیں۔ وہ ہمیشہ ریل کے دوسرے درجے کی بوگیوں میں سفر کرتا تھا کیونکہ وہ ہمیشہ لوگوں کے ہجوم سے بھری ہوتی تھیں؛ اس طرح کبھی کبھار اسے کسی نسوانی جسم کو چھونے کا موقع بھی مل جاتا تھا۔ ان بوگیوں میں ہمیشہ نچلے اور نیم متوسط طبقے کی عورتوں کی بھرمار ہوتی تھی۔ نچلے طبقے والی خواتین لباس اور جسم کی صفائی سے بے نیاز ہوتی تھیں اور انھیں دیکھ کر گھن سی آتی تھی، جبکہ نیم متوسط طبقے کی عورتیں رنگین ملبوسات، اپنی پردہ پوشی، زیورات اور خوشبوؤں کے استعمال کی وجہ سے حقیقی نسوانی پیکر دکھائی دیتی تھیں۔ ان کی آنکھیں غمزوں کے ان دیکھے جہان آباد کرتیں۔ ان کے ہاتھوں اور بازوؤں کی سپیدی مردوں کی آنکھوں کو پوشیدہ نظاروں کے لیے تڑپاتی، جن کے دیدار کے نہ کوئی آثار ہوتے اور نہ امکانات۔

 

"استاد!موقع اچھا ہے۔ اسے گرماگرم چائے پلا کر اس کے دل میں گرم جوشی پیدا کرو۔ دودھ پتّی چائے فس کلاس ہو گی اور اسے پلانا میرا کام ہے۔"
پلیٹ فارم پر چہل قدمی کرتے ہوئے اس نے ساری خواتین کو دیکھ لیا۔ اسے مایوسی ہوئی کیونکہ ان میں سے کوئی بھی اس کے معیار پر پوری نہیں اتری۔ اپنی جستجو کو مہمیز دیتے ہوے وہ پرلی طرف والے پلیٹ فارم کی جانب چلا گیا۔ وہاں پر اسے ایک حسین عورت نظر آئی۔ وہ کچھ دیر اسے تکتا رہا، مگر خاتون نے اس میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ نذیر نے محسوس کیا کہ اس عورت کے التفات کی ندی کا رخ کسی اور جانب تھا۔ وہ شخص پتلون اور شرٹ میں ملبوس تھا اور اس نے چشمہ بھی لگا رکھا تھا۔ نذیر اسے دیکھ کر احساسِ کمتری میں مبتلا ہو گیا کیونکہ اس نے کبھی پتلون شرٹ زیب تن نہیں کی تھی۔ وہ وہاں سے آگے بڑھ گیا۔ وہ ایسی پرکشش، حسین اور مقامی نوجوان خاتون کی تلاش میں تھا جو انگریزی لباس پسند نہ کرتی ہو۔

 

پلیٹ فارم کے دونوں سروں کے درمیان چکر لگاتے ہوے اس نے ایک برقع پوش نوجوان خاتون کو منتخب کیا جوایک ادھیڑعمر عورت کے ساتھ پتھر کی نشست پر بیٹھی تھی۔ نذیر نے چائے کے اسٹال کے پاس کھڑے ہو کر انھیں کچھ دیر تاکنے کے بعد اندازہ لگا لیا کہ ان کے ساتھ کوئی مرد نہیں تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ وہ نوجوان پردہ نشین اس کی مسلسل تاکاجھانکی کا برا نہیں مان رہی تھی بلکہ وہ بھی باربار اپنی نظروں کے تیر اس کی طرف پھینک رہی تھی۔ نذیر نے اس کا انتخاب اس لیے نہیں کیا تھا کہ وہ مسلسل اس کی نظروں کا جواب دے رہی تھی بلکہ اسے اس کی گہری سیاہ آنکھیں اور اس کی کمان جیسی بھنویں بیحد پرکشش لگ رہی تھیں۔ نجانے کیوں وہ ان میں اپنے لیے پسندیدگی اور دل چسپی محسوس کر رہا تھا ہو سکتا تھا یہ اس کی خوش فہمی ہو، مگر وہ جس طرح اسے دیکھ رہی تھی، اسے اس کے دیکھنے کا انداز بھا گیا۔ اس کا جوان حْسن اس کی آنکھوں سے آشکار تھا۔ وہ ٹکٹکی لگائے اس کے نازک سفید ہاتھوں، گلکاری والی چپلی میں محفوظ پیروں اور برقعے میں چھپے ہوے اس کے جسم کو دیکھتا رہا اور اس کے پوشیدہ حسن کی کشش کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتا رہا۔ پھر وہ اس کے بازوؤں کا جائزہ لینے لگا۔ اس کی کلائی بہت نازک اندام اور اس کے ہاتھوں کی انگلیاں بہت گداز لگ رہی تھیں۔

 

نذیر چائے کے اسٹال پر کہنی ٹکا کر، اس کے حسن سے مبہوت، اسے تکتا ہی رہا۔ چائے کے اسٹال کا مالک من موجی مگر زیرک شخص تھا۔ وہ اس کی نیت فوراً بھانپ گیا۔ نذیر کے پاس آ کر اس نے اس کے کان میں سرگوشی سے کہا، "استاد!موقع اچھا ہے۔ اسے گرماگرم چائے پلا کر اس کے دل میں گرم جوشی پیدا کرو۔ دودھ پتّی چائے فس کلاس ہو گی اور اسے پلانا میرا کام ہے۔" اس کے منھ سے نسوار کی بْو آ رہی تھی اور وہ ہنستے ہوے اپنے بدنما دانتوں کی نمائش کر رہا تھا۔
اس کی پیشکش سن کر نذیر چونکا۔ اس نے شک بھری نظر سے اس کی طرف دیکھا اور نفی میں سر ہلا دیا۔ اس نے اسے صرف اپنے لیے چائے لانے کے لیے کہا۔

 

پردہ نشین حسینہ کچھ دیر پہلے تک سکون سے بیٹھی اپنے فطری انداز میں آس پاس کی چیزوں کو دیکھ رہی تھی مگر اب اچانک اس کے وجود میں عجیب سی ہلچل نظر آنے لگی تھی۔ وہ بے چینی سے پہلو بدلنے لگی تھی اور باربار اپنے نقاب کو ہلا ہلا کر اس کی شکنیں درست کر رہی تھی۔ وہ بے اختیار ہو کر ذرا ذرا دیر بعد نذیر کو دیکھتی۔ اس کی ساتھی عورت سوگوار سے لہجے میں مسلسل کچھ بول رہی تھی۔ برقع پوش کی توجہ اس کی باتوں پر نہیں تھی، وہ ہوں ہاں کر کے اسے ٹال رہی تھی۔ دھیرے دھیرے اس کی آنکھوں میں فطری نرمی کی جگہ ایک بے قراری لیتی جا رہی تھی۔

 

پلیٹ فارم پر ٹرین کے رکتے ہی لوگوں نے اس پر سوار ہونے کے لیے کوششیں شروع کر دیں کیونکہ ٹرین مسافروں سے کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر بوگی کے دروازے پر لوگ آلتی پالتی مارے ہوئے بیٹھے تھے۔
نذیر اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر کر چائے کے میٹھے پن کو محسوس کر رہا تھا۔ وہ ابھی تک چائے کے اسٹال والے کی پیشکش میں الجھا ہواتھا۔ اسے برقع پوش کی توجہ حاصل ہو چکی تھی۔ اب وہ باربار اپنی گردن موڑ کر اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کی اپنی طرف متوجہ بڑی بڑی آنکھوں کو دیکھتے ہوے نذیر کے خون میں پراسرار سرسراہٹ ہونے لگی تھی، جس کے باعث اس کی کنپٹیوں اور سر کے پچھلے حصے پر پسینہ آنے لگا تھا۔

 

بہت دیر سوچنے کے بعد نذیر نے اسٹال والے کو بلایا اور اسے چائے بنانے کے لیے کہا۔ اس نے طے کر لیا تھا، اب بات کو آگے بڑھانا چاہیے۔

 

برقع پوش کی ساتھی ادھیڑعمر عورت جو بظاہر اب تک ان دونوں کے معاملے سے لاعلم تھی، لگتا تھا شاید اب اسے بھی اس معاملے کی بھنک پڑ گئی تھی۔ وہ وقفے وقفے سے اپنی مسکراتی ہوئی شریر نظروں سے نذیر کی طرف دیکھنے لگی تھی۔
مٹی کے تیل سے جلتے چولھے پر چائے ابلنے لگی تو اسٹال والے نے دھلی ہوئی صاف پیالیوں میں دودھ پتّی چائے انڈیل دی۔ مسکراتے ہوئے اس نے نذیر کو آنکھ ماری مگر وہ اس وقت شدید بے چینی محسوس کر رہا تھا۔ اسے خدشہ تھا کہ کہیں پردہ نشین ناراض ہو کر انکار نہ کر دے یا غصے میں آ کر اسے گالیاں نہ دینے لگے۔ وہ ایسے اندیشوں میں گھرا چائے کے اسٹال سے پرے ہٹ گیا اور ان کی نشست کے بہت پیچھے جا کر ٹہلنے لگا۔ اس نے اپنی کلائی اٹھا کر گھڑی دیکھی تو ریل کے آنے میں اب بھی پندرہ منٹ باقی تھے۔

 

چائے اسٹال والا جھوم کر اپنی چال چلتا ان کے پاس پہنچا اور جھک کر سلام کرتے ہوے اس نے انھیں چائے پیش کی۔
برقع پوش نے ہچکچا کر نفی میں سر ہلایا اور بے اختیاری سے اس طرف دیکھنے لگی جہاں کچھ دیر پہلے وہ کھڑا تھا۔ اسے وہاں نہ پا کر وہ پریشان سی ہوئی۔ اس نے دائیں بائیں دیکھا مگر وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہی رہا۔ اس کی اس کیفیت سے ادھیڑعمر خاتون لطف اندوز ہوتی رہی۔ اس نے معمولی سے ردوکد کے بعد چائے کے اسٹال والے سے پیالیاں لے لیں۔
چند ثانیوں کے بعد نذیر زیرِلب مسکراتا ہوا دوبارہ اپنی جگہ پر آ کھڑا ہوا۔ اسے دیکھ کر برقع پوش کی آنکھوں میں خفگی کی شدید لہر دکھائی دی، جبکہ اس کی ساتھی عورت پہلے والی جگہ پر اس کی دوبارہ موجودگی سے محظوظ ہوتی، چائے کی سْڑکیاں لیتی رہی۔

 

نذیر نے سوچا کہ جو عورتیں ناراض ہو جائیں انھیں منانے کا جتن بہرحال کرنا ہی پڑتا ہے۔ اس نے ارادہ باندھا کہ اگر وہ سیٹھارجہ کے اسٹیشن پر اْتری تو وہ اسے منانے کی خاطراس کے گوٹھ، یا اگر ممکن ہوا تو اس کے گھر تک اسے چھوڑنے ضرور جائے گا۔

 

نذیر نے ممنون نگاہوں سے چائے اسٹال والے کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی جیب سے پیسے نکال کر اس کی طرف بڑھائے۔ پیسے لیتے ہوے اسٹال والے نے اس کے قریب آ کر آہستگی سے کہا، "مرد کی شان ہوتی ہے کہ پسند آنے والی چیز کو اپنی مٹھی میں اچھی طرح کس لے۔ معشوق کے سامنے ڈٹ جائے اور کسی طرح پیچھے نہ ہٹے۔" اس کی بات سن کر نذیر نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

بازار کی دکانیں کولتار سے بنی نئی سڑک کے دونوں طرف واقع تھیں۔ گارے اور سرخ اینٹوں سے بنی دکانیں بہت پرانی اور خستہ حال تھیں۔ نئی سڑک کی وجہ سے ان کی سطح بہت نیچی ہو گئی تھی۔
بہت دور سے ریل کی سیٹی سنائی دی تو پلیٹ فارم پر انتظار سے بے زار اور اونگھتے ہوئے لوگ یک بہ یک ہوشیار ہو کر اس سمت دیکھنے لگے جدھر سے ریل آرہی تھی۔ خوابیدہ اور خاموش پلیٹ فارم پوری طرح بیدار ہو گیا۔ سامنے کی پٹڑیوں سے سنائی دینے والی گڑگڑاہٹ ٹرین کی آمد پر طوفانی گھن گرج میں تبدیل ہو گئی۔ پلیٹ فارم پر ٹرین کے رکتے ہی لوگوں نے اس پر سوار ہونے کے لیے کوششیں شروع کر دیں کیونکہ ٹرین مسافروں سے کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ ہر بوگی کے دروازے پر لوگ آلتی پالتی مارے ہوے بیٹھے تھے۔

 

نذیر کی کوشش تھی کہ جس بوگی پر بھی وہ دونوں عورتیں سوار ہوں، وہ بھی ان کے آس پاس ہی اپنے لیے جگہ تلاش کرے۔ وہ دونوں ٹرین پر سوار ہونے کی تگ و دو میں آخری بوگیوں تک چلی گئیں۔ دروازوں پر قبضہ جمائے ہٹ دھرم لوگ انھیں سوار ہونے کے لیے راستہ دینے پر تیار نہیں تھے۔ نذیر کو ان لوگوں پر غصہ آیا۔ کچھ دیر بعد اس کی برداشت جواب دے گئی تو ایک بوگی کے دروازے پر کھڑے ہو کر اس نے چیخناچلانا شروع کر دیا، تب کہیں جا کر انھیں اور اْسے بہ مشکل سوار ہونے کی جگہ مل سکی۔ نذیر چاہتا تو ہجوم کا فائدہ اْٹھا کر پردہ نشین خاتون کے جسم کو چھو کر ذرا سا محسوس کر سکتا تھا مگر اس نے اپنے آپ کو روکے رکھا اور ایسا کچھ نہیں کیا۔ پلیٹ فارم پر شتابی سے چلتے ہوئے اس بے نام حسینہ کا جسم اسے بہت پرْکشش لگ رہا تھا۔ اس کی کمر نشیب میں واقع کسی سرسبز و شاداب وادی کی طرح طویل مشاہدے کی متقاضی تھی، فی الحال جس کا کوئی موقع اس کے پاس نہیں تھا۔ وہ پرامید تھا کہ آنے والا وقت اس پر ایسے مشاہدات کے بہت سے در وا کرنے والا تھا۔

 

انجن کے ہارن کا شور سنائی دیتے ہی ریل ایک دھکے سے چل پڑی۔ ان کی بوگی لوگوں سے کھچاکھچ بھری تھی۔ گھسٹ گھسٹ کر آگے بڑھتے ہوے انھیں اور اسے آرام سے کھڑے ہونے کے لئے تھوڑی سی جگہ مل گئی۔ وہ ان کے قریب کھڑا ہو گیا۔ ادھیڑعمر عورت اپنی پردہ نشین رفیق کی حفاظت کی خاطر ان دونوں کے درمیان کھڑی ہوگئی۔

 

کچھ فاصلے پر نذیر کو ریلوے کاکنڈکٹرگارڈ دکھائی دیا۔ وہ فوراً اس کے پاس جا کراس سے نشست کے لیے درخواست کرنے لگا مگر وہ اسے روکھا سا جواب دے کر چلتا بنا۔ اس کے بعد اس نے گزرنے والے ایک پولیس کے سپاہی سے مدد چاہی تو اس نے تیس روپے کے عوض ان دونوں خواتین کے لیے نشست کا بندوبست کر دیا۔ جب اس نے ادھیڑعمر عورت کو بتایا تو وہ حیرت سے اس کا منھ تکنے لگی۔ اس نے اپنی ساتھی خاتون کو اس کی کوششوں سے آگاہ کیا۔ اس نے اپنی مشکور نظروں سے نذیر کی طرف دیکھتے ہوے سر کے خفیف اشارے سے اس کا شکریہ ادا کیا، اور کسی ہچکچاہٹ کے بغیر وہ کچھ دور تک اس کے ساتھ چلنے کے بعدوہ جا کر اس نشست پر بیٹھ گئیں۔ وہ اس حسینہ کو اپنا قبلہ بنا کر اس کی طرف رخ کرکے ذرا فاصلے پر کھڑا ہو گیا، جبکہ وہ عورت احسان مندی سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔

 

مختصر سے وقت میں یہ اس کی دوسری کامیابی تھی۔ وہ اس پر مسرور تھا مگر ساتھ ہی وہ یہ بات سوچ کر خوفزدہ بھی تھا کہ معلوم نہیں یہ دونوں کب کون سے اسٹیشن پر اتر جائیں۔وہ یہ سوچ کر بھی لرزہ بر اندام تھا کہ کہیں اسے ان دونوں سے پہلے اپنے اسٹیشن پر اترنا نہ پڑ جائے۔ اس کے لئے یہ صورت بھی ناقابلِ قبول تھی۔ پڈعیدن سے سیٹھارجہ زیادہ دور نہیں تھا۔ درمیان میں صرف چار اسٹیشن پڑتے تھے۔ ہر اسٹیشن پر ریل کی رفتار کم ہونے پر اس کا دل ڈوبنے لگتا تھا اور جب گاڑی وہاں سے نکلنے لگتی تو وہ کچھ مطمئن ہو جاتا تھا۔ یہ عارضی ناامیدی اور عارضی اطمینان اس کے لیے بہت اذیت ناک تھا۔

 

پرانی گول باڈی بس کی کھڑکیوں کے شیشے اور چھت پر لٹکی آرائشی جھالریں ہل ہل کر مسلسل شور مچانے لگیں۔
جب ٹرین محراب پور جنکشن سے نکلی تو وہ ایک مرتبہ پھر پرامید نظروں سے ان کی طرف دیکھنے لگا۔ اسے ان کے چہروں پر بے چینی کے آثار نظر آنے لگے۔ ان کے باربار کھڑکی سے جھانکنے کے عمل سے اس کی ڈھارس بندھ رہی تھی۔ ڈیپارجہ کا گمنام اسٹیشن بھی چپکے سے گزر گیا اور اس کے بعد چھوٹی نہر بھی سرعت سے پیچھے چلی گئی۔ سیٹھارجہ آنے کو ہی تھا۔ ریل کی رفتار ایک بار پھر دھیمی ہونے لگی۔

 

اسے اپنی نظروں پر یقین نہیں آیا جب اس نے دیکھا کہ ان دونوں نے اپنا سامان اٹھا لیا تھا اور برقع پوش اپنے برقعے کو ٹھیک کرنے لگی تھی۔

 

ٹرین کے بریک چرچرائے اور اگلے ہی لمحے وہ تھم گئی۔

 

نذیر دقت سے ہجوم کے درمیان راستہ بناتا ہوا بوگی کے دروازے تک پہنچا اور لکڑی کی سیڑھیوں سے نیچے اْترا۔ وہ نیم پختہ پلیٹ فارم پر سفیدے کے قدآور درخت کے قریب کھڑا ہو گیا۔ اگلے ہی ثانیے اس نے ان دونوں کو بوگی سے اترتے ہوے دیکھا۔ نیچے اْترتے ہی برقع پوش جوان عورت نے بھرپور نظر وں سے اسے دیکھا، آنکھیں گھما کر اسے ایک اشارہ کیا اور سیڑھیوں والے پل کی طرف چل دی۔ پل کے قریب پہنچ کر ان کی نگاہیں کسی کو ڈھونڈنے لگیں۔ ایک دْبلا ساشخص ہانپتا کانپتا ان کے قریب آ کھڑا ہوا اور کِھیسیں نکال نکال کر ان سے باتیں کرنے لگا۔ نذیر اس آدمی کو دیکھ کر اندازہ لگانے کی کوشش کرتا رہا کہ اس کا ان سے آخرکیا تعلق تھا؟ اس کا لباس میلاکچیلا تھا، سر کے بال بکھرے ہوے تھے اور چہرے پر شیو ابھری ہوئی تھی۔ اس نے پکوڑوں کا تھال اٹھایا ہوا تھا۔ وہ اپنی وضع قطع سے ادھیڑعمر خاتون کا شوہر معلوم ہوتا تھا کیونکہ وہ اس سے لہک لہک کر باتیں کر رہی تھی۔ وہ دونوں آپس میں بہت بے تکلف دکھائی دے رہے تھے۔ نذیر کو محسوس ہوا کہ وہ اسے کہیں دیکھ چکا تھا۔ اس نے اپنے ذہن پر بہت زور دیا مگراسے یاد نہیں آ سکا۔

 

گندم کے نوخیز پودوں کی شوخ رنگت بھی شام کے ملگجے پن میں گم ہونے لگی تھی۔ راستے میں پڑنے والے مختلف گوٹھوں کے مکانوں سے اٹھنے والے دھویں کی بو، دھواں چھوڑتی بس کے ڈیزل کی بو سے گھل مل رہی تھی۔
سیٹھارجہ کی آبادی بھی اسٹیشن کی عمارت کے مخالف سمت تھی۔ پل کے ذریعے سے انھوں نے پٹریاں عبور کیں اور آبادی کی طرف جانے والے راستے پر چلنے لگے۔ قصبے کی آبادی کچھ زیادہ نہ تھی۔ دائیں طرف محلے اور گلیاں واقع تھیں جبکہ بائیں طرف کچھ دور جا کر سیٹھارجہ کا بازار شروع ہوتا تھا۔ بازار کی دکانیں کولتار سے بنی نئی سڑک کے دونوں طرف واقع تھیں۔ گارے اور سرخ اینٹوں سے بنی دکانیں بہت پرانی اور خستہ حال تھیں۔ نئی سڑک کی وجہ سے ان کی سطح بہت نیچی ہو گئی تھی۔ شام ڈھلنے والی تھی اس لیے خریداروں کی تعداد براے نام تھی۔ قصبے کے لوگ یوں ہی اِدھراْدھر گھوم رہے تھے۔ کہیں کہیں بعض دکان دار کرسیاں بچھائے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ وقفے وقفے سے کوئی سائیکل، گدھاگاڑی یا موٹرسائیکل سڑک سے گزر جاتی تھی۔

 

وہ پردہ نشین اب چونکہ ایک مرد کی معیت میں تھی اس لیے اس سے نگاہیں ملانا بہت مشکل تھا۔ نذیر سوچ رہا تھا کہ ہو سکتا ہے وہ یہیں رہتی ہو اور اچانک کسی بھی گلی میں موڑ مڑ کر ، اس کی نظروں کے سامنے کسی بھی مکان کے اندر جا کرغائب ہو جائے۔ اگر ایسا ہوا تو اسے کم از کم برقع پوش کا مکان ضرور معلوم ہو جائے گا۔ وہ ان سے کچھ فاصلہ رکھ کر ان کا تعاقب کر رہا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی کو اس پر کسی قسم کا شک گزرے۔ چلتے چلتے اچانک برقع پوش عورت نے اسے مڑ کر دیکھا۔ اس کے مڑ کر دیکھنے کو نذیر نے تعاقب جاری رکھنے کا اشارہ سمجھا۔ اسے اندازہ ہونے لگا تھا کہ وہ یقینی طور پر سیٹھارجہ نامی اس قصبے کی رہنے والی نہیں ۔



محبت کی گمراہ کن تعبیریں

محبت ایک نہایت ہی گھسا پٹا سا لفظ ہے۔ اس کا استعمال ہماری عام زندگیوں میں راشن پانی کے مسائل سے زیادہ ہوتا ہے، اس لفظ کی بہت سی تشریحات اور تعبیرات بھی ہمارے ذہنی دفتروں میں بالکل الگ پائی جاتی ہیں۔
محبت ایک نہایت ہی گھسا پٹا سا لفظ ہے۔اس کا استعمال ہماری عام زندگیوں میں راشن پانی کے مسائل سے زیادہ ہوتا ہے، اس لفظ کی بہت سی تشریحات اور تعبیرات بھی ہمارے ذہنی دفتروں میں بالکل الگ پائی جاتی ہیں۔سماجی و سیاسی سطح پر اس لفظ کے معنی ہیں، اپنے ملک، اپنی زبان، اپنی طرز زندگی اور دوسری تمام باتوں سے ایسی محبت کرنا جو دوسری تہذیبوں، ملکوں اور زبانوں کے تعلق سے نفرت، بیزاری یا ان کی کم مائیگی کا احساس بھی ساتھ ہی ساتھ پیدا کرے۔اگر ایسا نہیں ہے اور آپ کو اپنی اس محبت پر فخر نہیں ہے تو آپ سوسائٹی میں ایک ادھورے اور بے وقوف قسم کے شخص ہیں جو عام لوگوں کی رائے میں جس تھالی میں کھاتے ہوں اسی میں چھید کرنے کے بھی مجرم ہوسکتے ہیں۔گویا کسی اور ملک کی خوبصورتی کی تعریف کرنا، وہاں کے لوگوں اور وہاں کے کاروباری طریقوں، وہاں کی زبانوں اور رہن سہن کے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنا ایک ایسا ناقابل معافی جرم ہے جو آپ کو اپنے پڑوسیوں تک سے دور کرسکتا ہے۔سماجی قسم کے معاملات میں یہ چوٹ ذرا اور گہری ہوجاتی ہے اور آپ ان رسموں، رواجوں، خداوں اور منصبوں کی عزت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جو اس عظیم لفظ 'محبت' کے ثبوت کے طور پر ہماری سوسائٹی میں پیش کیے جاتے ہیں۔

 

یہ ایک بہت ہی عجیب و غریب بات ہے کہ نام تو ہے محبت کا لیکن اجازت ہے صرف اور صرف نفرت کرنے کی۔محبت کی دور تک نہ تو کوئی روشنی نظر آنی چاہیے ۔بعض معاملات میں سیاسی و سماجی قسم کے اصولوں کے تحت کھنچے ہوئے محبت کے دائرے سے ایک قدم باہر رکھتے ہی آپ مشکوک ہوجاتے ہیں۔اب یہ مشکوک ہونا کیا ہے۔یہ شک ہے کہ آپ ان تمام لوگوں کے ذہن میں برسوں کے بعد تیار کی گئی محبت کی ایسی عمارات کے قلعی کھول سکتے ہیں۔تو ثابت ہوا کہ ہمارے سماجوں میں کسی نئے معنی کے ساتھ کی جانے والی محبت کو یا تو برداشت نہیں کیا جاسکتا یا اگر کرنا ہی پڑ جائے تو اسے اچھا نہیں تسلیم کیا جاتا۔یعنی کہ یہ ایک ایسی برائی ہے کہ آپ اسے کرکے ایک عزت دار شخص نہیں رہ سکتے۔ لیکن اس سیاسی و سماجی قسم کی محبت کا ایک اور مسئلہ ہے، یہ صرف انسان کو لڑنا، چیخنا، چلانا اور گالیاں بکنا سکھاتی ہے۔ہاتھ پاوں ہلانے کا کام اس کے بس کا نہیں۔یہ ذمہ داریوں کے نام پر دوسروں کو کوسنے دے سکتی ہے، ان کو طرح طرح کے طعنوں اور تشنوں سے نواز سکتی ہے مگر یہ متواتر اپنے سماجوں کی خامیوں، برائیوں اور کمیوں کو نظر انداز کرنے اور برداشت کرتے رہنے کو ہی عقلمندی سمجھتی ہے، اس کے نزدیک رسموں، رواجوں، ملک اور سماجوں کی طے شدہ کھوکھلی اقدار اور برے اصولوں کو توڑنے کے متعلق بات کرنے کا مطلب ہے، دنیا کے سامنے یہ تسلیم کرنا کہ ہمارے آبا و اجداد، ہمارے سیاسی رہنما، ہمارے قدیم ترین تہذیبی تماشے ، حتیٰ کہ گھر کی بڑی بوڑھیاں بھی بے وقوف تھیں۔

 

اگر آپ کسی بحث یا کسی تنہائی میں ایسے سوالوں کے درمیان گھر گئے ہیں، جہاں آپ کا عقیدہ یا خدا کے مقرب بندوں کی بتائی ہوئی باتیں غلط ثابت ہوں تب وہاں محبت کا یہ تعویذ آپ کے بہت کام آئے گا۔
اسی طرح یہ لفظ محبت مذہبی پیرائے میں بھی بہت عام ہے۔ خدا سے محبت، اس کے پیغمبروں اور بھیجے گئے اوتاروں سے محبت۔لیکن یہ محبت مشروط ہے۔اس کا طوق گلے میں ڈالنے سے پہلے آپ کو دل و جان سے یہ قبول کرنا ہوگا کہ آپ جن خدا کے زمین پر اتارے گئے لوگوں کی باتوں پر ایمان لارہے ہیں، ان کی باتوں کو سنتے ہوئے آپ کو سمجھنے کی بالکل اجازت نہیں ہوگی۔جہاں آپ نے اسے سمجھنا شروع کیا، کھیل خراب ہوجائے گا اور آپ محبت کے اس عظیم ترین منصب سے خود بخود زمین پر پٹخ دیے جائیں گے۔اس میں کسی جواز، کسی سوال یا کسی منطق کی بالکل گنجائش نہیں ہوگی۔ یہ ایک ایسا معاہدہ ہے، جس کی رو سے آپ ان باتوں کو ماننے پرمجبور ہوں گے جن کو بار بار آپ کا دماغ تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہوگا۔
اگر آپ کسی بحث یا کسی تنہائی میں ایسے سوالوں کے درمیان گھر گئے ہیں، جہاں آپ کا عقیدہ یا خدا کے مقرب بندوں کی بتائی ہوئی باتیں غلط ثابت ہوں تب وہاں محبت کا یہ تعویذ آپ کے بہت کام آئے گا۔ اسے چومیے اوراس کے ساتھ ساتھ سوال کے بھاری پتھر کو بھی چوم کر چھوڑ دیجیے۔وجہ یہ ہے کہ آپ محبت کرتے ہیں، خدا سے۔خدا جو آپ کو پسند کرتا ہے، اس لیے اس نے آپ کو ایک ایسی قوم میں پیدا کیا، جسے وہ سب سے زیادہ پسند کرتا تھا۔ آپ کو پہلے ہی جنت کی کنجی تھمادی گئی ہے اور خدا کی محبت کے اس عظیم ترین تحفے کے ملنے کے باوجود اگر آپ ناشکری یا بغاوت کا اعلان کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ آپ کو عتاب بھی جھیلنا پڑے گا، جس کی تفصیل میں جاتے ہی آپ کے رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں اور آپ ڈر کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔یعنی اس محبت میں محبت سے زیادہ ڈر کا عنصر حاوی ہے۔یہ محبت ایک اوڑھی ہوئی مصنوعی قسم کی محبت ہے،جس طرح ہاتھوں میں تھالیاں پکڑنے والا گڈا، چابی بھرنے پر خوش ہو کر انہیں تب تک بجاتا رہتا ہے، جب تک اس میں موجود پوری حرکت بالقویٰ اپنا کام مکمل نہ کرلے اسی طرح آپ کو بھی مسکراتے ہوئے اس نظام محبت پر تالی بجاتے رہنا ہے۔ غور وخوض کرنا بھی ہے تو ایک شرط کے ساتھ، کہ آپ خدا کی بتائی ہوئی، اس کے مقرب بندوں کی بتائی ہوئی انہی باتوں کو نتیجے کے طور پر پہلے سے طے کرلیں جو کہ آپ کے سامنے رکھ دی گئی ہیں، یعنی کہ تجربہ گاہ میں جانے سے پہلے آپ کو بتادیا گیا ہے کہ آپ کو صرف صابن بنانے کی اجازت ہے، اگر آپ غلطی سے اپنا دماغ استعمال کرکے صابن کی جگہ خوشبودار سفوف تیار کرلیتے ہیں تو آپ کو تجربہ گاہ میں ایک لعنتی طالب علم کی حیثیت حاصل ہو گی۔

 

تیسری محبت فرض اور ذمہ داری کا نام ہے۔یہ فرض اور ذمہ داری اگر چار لوگوں کا پیٹ بھرنے تک محدود رہے تو بات الگ ہے، لیکن آپ مجبور ہیں کہ جن والدین نے آپ کو اپنی خوشی سے بستروں پر مکمل لطف حاصل کرتے ہوئے پیدا کرنے کا ارادہ کیا تھا، ان کی اطاعت آپ پر فرض ہے۔اس اطاعت میں بہت سی چیزیں شامل ہیں، جیسے کہ آپ ان کی مرضی سے شادی کریں گے۔ان کی مرضی سے کریئر چنیں گے، ان کے حسب منشا زندگی گزاریں گے، انہی اصولوں پر چلتے ہوئے، جن پر آپ کے خاندان کو ہمیشہ سماج میں فخر و عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔اور اگر کہیں دھوکے سے آپ اس شان خاندان میں بٹہ لگانے کے مجرم یا ملزم پائے جاتے ہیں تو ماں باپ، بھائی بہن آپ کا گھر میں جینا دوبھر کردیں گے اور بہت ممکن ہے کہ اگر آپ کا باپ ایک رئیس شخص ہے تو وہ آپ کو اپنی جائیداد سے بے دخل کردے۔آپ اس محبت کا حق ادا کرتے ہوئے، ایک فرمانبردار انسان بنے رہیں تاکہ آپ کے سامنے جائداد کو کھونے، سماج میں عزت کے گم ہونے یا برادری باہر ہونے کا کوئی بھی خدشہ باقی نہ رہے۔اس طرح کی محبت ایک محبت ہی نہیں، بلکہ آپ کا فرض ہے، کیونکہ آپ کی شخصیت محض آپ کی نہیں، آپ کے گھروالوں، ماں باپ بھائی بہن، سماج ، مذہب، طے کردہ تعلیمی نظام اور باقی چھٹ بھیے اصولوں کی چھوٹی چھوٹی پراپرٹی ہے، اس لیے یہاں تابعداری بری بات نہیں، بلکہ ایک خوبی سمجھی جاتی ہے اور اس سانچے میں ڈھل ڈھلا کر ایک دن آپ ایسے انسان بن جاتے ہیں، جو اس پورے سسٹم کو قبول کرتے ہوئے، اسے جوں کا توں اپنی اولاد پر نافذ کردیتے ہیں۔

 

جب دو لوگ آپسی رضامندی سے سیکس کرتے ہیں ، رومانس کرتے ہیں تو اس میں توقعات کا دفتر نہیں کھلتا، جب کہ محبت ہے ہی توقعات کا دوسرا نام۔
محبت کا جو سب سے کھلا ڈھلا روپ ہے، وہ ہے ایک لڑکا اور لڑکی میں ہونے والی محبت۔اب اس محبت کے بھی کچھ ایسے ادھیائے ہیں، جنہیں پڑھے بغیر آپ اس میں ایک کچے کھلاڑی تسلیم کیے جائیں گے۔انسانی خواہش کا یہ سب سے بڑا مرکز ہوتا ہے، لیکن یہیں انسان کا بیڑہ بھی غرق ہوتا ہے۔اس محبت کی بہت سی اقسام ہیں۔میں اپنی ایک دوست کا واقعہ سنا کر بات شروع کرتا ہوں۔ایک شادی شدہ صاحب ہیں، جو کہ اسی دفتر میں کام کرتے ہیں، جس میں ہماری دوست ملازم ہے۔دونوں میں علیک سلیک ہوئی، بات آگے بڑھی اور پھر کافی اچھی دوستی ہوگئی۔لڑکیوں کی دوستی کو عام طور پر ہمارے یہاں ایک 'فخریہ امتیاز 'حاصل ہے۔ہم اس شخص کو بہت سمارٹ، سمجھدار اور قابل رشک سمجھتے ہیں، جس کی ایک سے زیادہ لڑکیوں سے بات چیت ہو، دوستیاں ہوں اور وہ دوستیاں عام چلتی پھرتی زندگی میں نظر بھی آئیں۔اسی وجہ سے ہمارے یہاں جب کوئی لڑکی، کسی لڑکے سے دوستی کرنا چاہتی ہے تو لڑکا پہلے سے یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار بیٹھا ہوتا ہے کہ لڑکی اسے دل و جان سےچاہنے لگی ہے، اس کے بغیر رہ نہیں سکتی اور اسی وجہ سے اس نے دوستی کا ہاتھ آگے بڑھایا ہے۔اسی سبب سے لڑکیوں کا عدم تحفظ اس درجے کو پہنچا ہوا ہے، جہاں وہ کسی بھی لڑکے سے دوستی یا بات کرنے سے پہلے دس بار سوچتی ہیں۔خیر، ان صاحب نے ایک رات میری دوست سے کہا کہ وہ اس سےقربت چاہتےہیں، اس نے پوچھا کہ قربت کس معنی میں؟انہوں نے کہا کہ جسمانی قربت نہیں، بس ایک دوست کے قریب ہونے کا احساس، لڑکی نے انہیں احساس دلایا کہ وہ شادی شدہ ہیں، تو انہوں نے کہا کہ کیا شادی شدہ لوگوں کی زندگی میں کسی د وست کی قربت کی ضرورت نہیں ہوسکتی، بات جس نکتے پر ختم ہوئی وہ یہ تھی کہ لڑکا ، لڑکی کو ایک دفعہ بہت دیر تک گلے لگائے رکھنا چاہتا تھا۔اس کی نظر میں لڑکی کو گلے لگانا کسی بھی قسم کی جسمانی قربت نہیں تھی، رومانس نہیں تھا، بلکہ صرف دوستی کا ایک احساس تھا۔ ایسی بہت سی تعبیریں ہماری عام زندگیوں میں محبت کے حوالے سے دیکھنے، سننے اور پڑھنے کو مل جاتی ہیں۔ظاہر ہے کہ ہمارے نصاب میں محبت کی وہ تصویریں کبھی دکھائی ہی نہیں جاتیں، جن سے ذہن یہ سمجھیں کہ اصل میں یہ جذبہ ہے کس چیز کا ہے نام۔جسمانی قربت میں کوئی برائی نہیں، لیکن اسے محبت کا نام دینا، ایک مسئلہ ہے، مسئلہ یہ ہے کہ میں خود بھی اس بات کا قائل ہوں کہ جب دو لوگ آپسی رضامندی سے سیکس کرتے ہیں، رومانس کرتے ہیں تو اس میں توقعات کا دفتر نہیں کھلتا، جب کہ محبت ہے ہی توقعات کا دوسرا نام۔یہ اس جذبے سے بالکل الگ چیز ہے، جسے ہم بستری یا جنسی عمل کہا جاتا ہے۔ستر فی صدی سے زیادہ شادیاں ہمارے یہاں جنسی عمل کے کچے پکے راستوں سے ہو کر گزرتی رہتی ہیں، جبکہ ان میں محبت یا تو بالکل کم ہوتی ہے، یا پھر ہوتی ہی نہیں۔دو لوگ ایک دوسرے پر بوجھ بنے اپنی زندگیوں کو صرف اس لیے ڈھوتے رہتے ہیں کیونکہ انہیں سماج، اولاد اور دوسرے بہت سے لوگوں کے سامنے شرمسار ہونے سے بچنا ہوتا ہے۔ان بجھے ہوئے رشتوں میں وہ راتوں کو پنڈلیوں کی رگڑ سے حرارت پیدا کرسکتے ہیں لیکن محبت نہیں۔محبت بالکل برعکس مسئلے کا نام ہے، جس میں انسان کا دماغ پورے طور پر شامل ہوتا ہے۔

 

کیونکہ محبت اقرار کے بجائے انکار سے شروع ہوتی ہے۔ان لدی پھندی زنجیروں کو اتار پھینکنے کی ہمت سے جو دوسروں نے ہم پر کس دی ہیں۔ محبت، اپنے وجود کو تسلیم کرلینے سے شروع ہوتی ہے، جہاں کسی ایک شخص کی اہمیت دوسروں سے بہت زیادہ ہوجاتی ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ محبت ایک وقت میں دو لوگوں سے نہیں ہوسکتی، مگر میں اس کی بھی حمایت نہیں کروں گا کہ محبت ایک وقت میں سو لوگوں سے ہوسکتی ہے۔محبت اداسی کو سہہ پانے کا نام ہے، محبت کسی کو اس قدر ذہن و دل پر حاوی کرنے کا نام ہے، کہ اس سے نفرت کا کسی بھی دور میں سوال ہی پیدا نہ ہو۔بلکہ جب آپ اس قسم کی محبت میں ہوتے ہیں تو آپ کو تمام دوسری چیزیں، دوسرے لوگ، دوسری باتیں سب بھلے معلوم ہوتے ہیں، دنیا میں کچھ برا نہیں لگتا، نقصان آپ کا کچھ بگاڑتا نہیں اور فائدہ آپ کا کچھ بناتا نہیں۔میں نے بہت سے لوگوں کو یہ شکایت کرتے دیکھا ہے کہ انہوں نے فلاں سے محبت کرکے غلطی کی، کبھی کوئی لڑکی یہ کہتی ہے کہ اچھا ہوا میں اس کے چنگل سے نکل آئی، کیونکہ وہ تو ایک دل پھینک لڑکا تھا، کبھی کوئی لڑکا ایک چھوٹے سے بریک اپ کے بعد نفسیاتی مرض کے حملوں کا شکار ہوکر لڑکی پر بہتان کسنے لگتا ہے، اس کا کردار ناپنے لگتا ہے۔یہ سب باتیں، محبت میں ممکن نہیں۔ہاں ان سود و زیاں، نفع و ضرر والے جذبوں میں ضرور ممکن ہیں۔ جن کو ہمارے دوست ٹھرک پن کہہ سکتے ہیں۔

 

اگر کوئی سماج کسی بھی لڑکے یا لڑکی کو محبت کرنے پر بدنام کرتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ اس میں خود کہیں نہ کہیں کوئی بڑا کھوٹ ہے۔
ایک آخری بات یہ کہ لوگوں نے اپنے طے کردہ اخلاقی شذرات میں محبت کرنے والوں کو بدنام اور رسوا سمجھ لیا ہے۔بدنامی کا مطلب ہے کوئی ایسا کام کرنا، جس سے آپ کا نام خراب ہوجائے۔محبت ایک اچھی چیز ہے۔ اس سے نام خراب نہیں ہوسکتا۔اگر کوئی سماج کسی بھی لڑکے یا لڑکی کو محبت کرنے پر بدنام کرتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ اس میں خود کہیں نہ کہیں کوئی بڑا کھوٹ ہے۔ورنہ وہ اس قسم کی سنکی باتیں کبھی نہ کرتا۔مجھے یاد ہے، میں چوتھی یا پانچویں جماعت میں رہا ہوں گا، جب ہم نے سنا کہ ہمارے سکول کی ایک ٹیچر کسی لڑکے ساتھ بھاگ گئی تھیں۔سب انہیں برا بھلا کہہ رہے تھے۔ہم تو خیر اس وقت کچھ سمجھتے نہیں تھے، لیکن اب سوچتے ہیں کہ جس معاشرے سے محبت کرنے والوں کو بھاگنا پڑتا ہے، اس معاشرے میں رہنے والے کون لوگ ہوتے ہیں۔دماغ تو آپ کے پاس بھی ہے، سوچ کر دیکھیے۔

Image: Roberlan




حرامی (پشتو کہانی)

[blockquote style="3"]

یہ تحریر صرف بالغ افراد کے لئے موزوں ہے۔

[/blockquote]

تخلیق: نور البشر نوید
ترجمہ: محمد ارشد سلیم

 

گل نگار نے اپنی ڈائری کے 12 فروری 1997ء کے صفحے پر اپنی زندگی کی یادداشتیں رقم کردیں۔

 

مجھے حمل ضائع کرانے کا خیال کبھی نہیں آیا کیونکہ میرے شوہر نے مجھے محض اس وجہ سے طلاق دی تھی کہ میں بچے پیدا نہیں کرسکتی۔
" آج صبح سویرے درد نے مجھے نڈھال کرکے رکھ دیا۔ میرے پیٹ میں ایک زندہ انسان کی تخلیق مکمل ہوچکی تھی۔ یہ میرا پانچواں ناجائز بچہ ہے۔ اس سے قبل میں تین ناجائز لڑکے اور ایک لڑکی جن چکی ہوں۔ چاروں ناجائز بچوں کے باپ کوئی ایرے غیرے نتھو خیرے لوگ نہیں ہیں۔ عظیم الشان ایوانوں کے سیاسی رہنما، سرکاری افسر اور اونچی پگڑیوں والی نامی گرامی شخصیات ہیں۔ مجھے حمل ضائع کرانے کا خیال کبھی نہیں آیا کیونکہ میرے شوہر نے مجھے محض اس وجہ سے طلاق دی تھی کہ میں بچے پیدا نہیں کرسکتی۔ انہی دنوں ایک پیر صاحب نے میرے لئے تعویذ پر بھی کام شروع کر رکھا تھا۔ جس دن مجھے طلاق ہوئی، اس دن پیر صاحب نے بتایا کہ آج میں بہ نفس نفیس تیرے پیٹ پر تعویذ باندھوں گا۔۔۔۔ میں نے لمحہ بھر کے لئے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا، پھر سینے میں دل گویا دھڑا دھڑ ، دھڑکنے لگا جیسے میری چھاتیوں میں دودھ کی گٹھلیاں ہیں اور دودھ چھلکنے کو ہے۔ جھٹ پٹ میں نے قمیض اوپر کرکے پیٹ سینے تک برہنہ کردیا۔ پیر صاحب نے مجھے لٹایا اور میرے سرہانے بھاری تکیہ رکھ دیا۔ پیر صاحب نے ناف سے سینے تک اپنی چپڑ چپڑ چاٹتی لپلپاتی زبان کے لعاب مبارک سے مجھے تر کر دیا۔ مجھ پر مدہوشی طاری ہو رہی تھی۔ میرے کانوں میں دور کہیں سے بچے کے رونے کی صدا آ رہی تھی اور پھر میں گویا اپنی چھاتی بچے کی طرف بڑھاتی اور دودھ پلانے لگتی ہوں۔ میرے پستانوں کو نچڑ نچر کر چوسا جا رہا تھا۔۔۔۔ ہاں پیر صاحب میرے پستان چوس رہے تھے۔ اور پھر میرے وجود کے اندر ایک حرارت پیدا ہوگئی جیسے بچہ روتے روتے چپ ہوگیا ہو اور اس کی گرم گرم سانسیں میرے رخساروں، کانوں، گردن اور سینے پر رقص کر رہی ہوں۔ تھوڑی دیر بعد پیر صاحب نے میرے پیٹ پر ایک تعویذ باندھ کر مجھے رخصت کر دیا۔

 

گھر جاتے ہوئے میں عجیب سی کیفیت سے گزر رہی تھی مگر جب گھر پہنچی تو حالات پلٹا کھا چکے تھے۔ میرے اور میرے شوہر کے مابین دن بھر تکرار ہوئی اور اسی شام مجھے طلاق مل گئی۔ چند ماہ بعد مجھے حمل کا احساس ہوا۔ میں ایک بار پھر پیر صاحب کے پاس چلی آئی اور بتایا۔

 

" اب میرے پیٹ میں اس بچے کو کسی طرح ضائع کر دو۔"

 

" استغفر اللہ" اس نے اپنی خمار آلود آنکھیں میری طرف گھما کر کہا "یہ گناہ ہے، قتل ہے۔"

 

" لیکن اس کا باپ؟"

 

میرے پیٹ میں مجھے پانچ ناجائز بچوں نے درد کی لذت سے نوازا۔ میں اپنے ہر بچے کی پیدائش کے بعد اس کے ماتھے پر ایک تارہ بنا کر زخم زدہ کر دیتی تاکہ بطور دعویٰ میرے پاس ثبوت موجود ہو۔
میرا سوال ابھی پورا بھی نہیں ہواتھا کہ پیر صاحب نے اپنی جلالی آواز میں جواب دیا "ملنگ لوگوں کے ماں باپ نہیں ہوتے۔ یہ بچہ اس درگاہ کا صدقہ ہوگا۔"

 

یوں میں نے اپنا پہلا ناجائز بچہ پیر صاحب کو بطور صدقہ دے دیا۔ بیٹے کو ودودھ پلاتے ہوئے مجھے عجیب طرح کا سرور ملتا۔ میرے پیٹ میں رہتے ہوئے اس نے مجھے درد کی جس لذت سے آشنا کر دیا تھا، وہی لذت اب میری چاہت اور طلب تھی۔ میرے پیٹ میں مجھے پانچ ناجائز بچوں نے درد کی لذت سے نوازا۔ میں اپنے ہر بچے کی پیدائش کے بعد اس کے ماتھے پر ایک تارہ بنا کر زخم زدہ کر دیتی تاکہ بطور دعویٰ میرے پاس ثبوت موجود ہو۔

 

آج میں نے جس بیٹے کو جنم دیا ہے، اس کی وجہ سے پہلی بار مجھے بچوں سے نفرت پیدا ہوئی ہے۔ اس کے جنم لینے کا طریقہ نرالا تھا۔ اس لیے میں نے اس کے ماتھے پر دو ستارے بنادیئے۔ یہ حرامی جب جنم لے رہا تھا تو میں صبح سے درد و اندوہ میں مبتلا ہوگئی تھی۔ میں سارے انتظامات مکمل کرچکی تھی۔ پیدا ہونے کے دوران سب سے پہلے اس کے پاؤں باہر آئے، میں ڈر گئی۔ پھر دھیرے دھیرے اس کا پورا وجود باہر نکل آیا لیکن گردن سے مصلوب تھا۔ سر ابھی اندر ہی تھا، میں نے جھٹ شہادت کی انگلی اندر داخل کی اور منہ کے نچلے جبڑے کے اندر انگلی رکھ کر ایک ہی جست میں باہر کھینچا۔

 

بچہ نہایت خوبصورت تھا۔ پتا نہیں کیوں اس پر اتنا غصہ آیا تھا، پہلے پہل اسے قتل کرنے کاخیال آیا۔ پھر ایدھی ویلفیئر ٹرسٹ کا جھولا یاد آیا، جس پر لکھا ہوتا ہے "قتل مت کیجئے اس جھولے میں ڈال دیجئے" میں نے اپنا پانچواں ناجائز بچہ ایدھی ٹرسٹ کے ناجائز بچوں والے جھولے میں ڈال دیا اور قسم کھائی کہ آئندہ گناہ کے لوتھڑے پیٹ میں کبھی نہیں آنے دوں گی۔"

 

گل نگار نے اپنی ڈائری کے 13فروری والے صفحے پر لکھا:

 

" آج رات میں نے ایک عجیب و غریب خواب دیکھا۔ تیس چالیس برس کی عمر اسی ایک رات میں بیت گئی۔ میرے پانچوں ناجائز بچے اپنے اپنے شعبے کی جانی پہچانی شخصیات ہیں۔ میرے چاروں بیٹے مجھ سے ذرہ برابر میل نہیں کھاتے مگر بیٹی بالکل میری تصویر ہے۔

 

جس کو تم لوگ پیر کہتے ہو، یہ میرا ناجائز بچہ ہے" میرے منہ پر اس نے اپنے بھاری ہاتھ سے زور دار تھپڑ رسید کیا اور مجھ پر آگرا۔ پھر میرے کپڑے پھاڑ دیئے۔ اس کی وحشت میں مذہبی انتقام بھی تھا اور ہوس بھی۔
میرا پہلا حرامی بچہ پیر صاحب کا گدی نشین ہے۔ وہ قصہ خوانی بازار میں ایک احتجاجی جلسے سے خطاب کر رہا ہے۔ یہ احتجاج ایک فاحشہ میڈم فاخرہ کے خلاف ہے۔ اس نے اپنی تقریب میں فتویٰ صادر کیا کہ اس لڑکی کو سرعام سنگسار کیا جائے کیونکہ یہ بڑے بڑے مذہبی لیڈروں کے اسکینڈل بناتی ہے، یہ فاحشہ ہے، اس کے تو ماں باپ بھی نہیں معلوم؟ میں حیران رہ گئی، دل نے چاہا چیخ چیخ کر بتادوں" پیرصاحب! جس پر تم کیچڑ اچھال رہے ہو وہ تمہاری بہن ہے، تم دونوں کا باپ معلوم نہیں ہے مگر تم دونوں کی ماں میں ہوں، پھر مجھے پتہ بھی نہیں چلا اور میں نے اس کی تقریر کے دور ان چلاتے ہوئے بہت کچھ کہہ ڈالا۔ مجھے پولیس نے پکڑ لیا اور مارتے کھینچتے ہوئے تھانے لے گئے۔ میرے ناجائز بچے نے تقریر مزید تیز کردی، میں بدستور اس کی آواز سن رہی تھی، وہ بول رہا تھا "یہ یہودی لابی ہے جو مذہبی لیڈروں کے خلاف زہر آلود پروپیگنڈا کر رہی ہے، ان کے خلاف جہاد کرنا چاہئے۔"

 

پھر لوگوں نے نعرے بلندکئے "الجہاد الجہاد!!"

 

پولیس انسپکٹر کے خصوصی کمرے میں چند سپاہیوں نے چٹیا سے پکڑ کے مجھے کھینچا۔ انسپکٹر نے انہیں باہر جانے کا اشارہ کیا۔ وہ چلے گئے، دروازہ بند ہوگیا۔ میں نے باآواز بلند کہنا شروع کیا "جس کو تم لوگ پیر کہتے ہو، یہ میرا ناجائز بچہ ہے" میرے منہ پر اس نے اپنے بھاری ہاتھ سے زور دار تھپڑ رسید کیا اور مجھ پر آگرا۔ پھر میرے کپڑے پھاڑ دیئے۔ اس کی وحشت میں مذہبی انتقام بھی تھا اور ہوس بھی۔ غور سے دیکھنے پر مجھے اس کے ماتھے پر تارا نظر آیا۔ میں زقند بھر کر اٹھنا چاہا "نہیں میرے بچے! تم تو میرے بیٹے ہو، تیرے ماتھے پر یہ تارا" میری بات ادھوری رہ گئی۔ بیٹے نے ماں کے ساتھ زنا کا ارتکاب کیا۔ زندگی میں پہلی بار میں زنا کے بعد روپڑی، کیونکہ جس بیٹے کو میں نے پیٹ سے جنم دیا تھا وہ دوربارہ میرے پیٹ میں گھس کر اندر تک آگیا تھا۔ میرے منہ سے غیر ارادی طور پر نکلا "تف۔۔۔ حرامی۔۔۔۔۔۔۔۔" اس نے مجھے لات رسید کی اور اپنی ٹوپی سر پر رکھ لی۔ میں نے انسپکٹر کی ٹوپی پر چاند تارے کو دیکھ کر اپنے آپ سے ایک عجیب سوال کیا۔

 

" تم نے ناجائز بچوں کے ماتھوں پر تارے کیوں بنائے؟" میں چپ رہی۔

 

رات گئے چند ایک سپاہی آئے۔ انہوں نے مجھے نئے اوربیش قیمت کپڑے دیئے اور خوب بنا سنوار کر نہایت عزت و احترام کے ساتھ باہر ایک لمبی موٹر کار تک لے آئی۔ کار پر قومی پرچم لہرارہا تھا۔ میں نے اپنے بچوں کی پیدائش کے وقت ان کے ماتھوں پر جیسا تارہ بنایا تھا، بالکل وہی تارہ جھنڈے پر بھی نظر آیا۔ گاڑی ایک عالی شان کوٹھی کے گیٹ کے اندر داخل ہوئی۔ گاڑی سے اترتے وقت ایک معزز سرکاری افسر نے مجھے آہستگی سے کہا "وزیر صاحب کے ساتھ آپ کی ملاقات ہے" میں جیسے ہی ایک وسیع و عریض کمرے کی طرف بڑھی، دروازہ کھل گیا اور پھر فوراً ہی بند ہو گیا۔ وزیر صاحب کسی کے ساتھ فون پر بات کر رہے تھی۔ مجھے عزت اور احترام کے ساتھ اشارے سے بیٹھنے کے لئے کہا۔ میرے بیٹھنے کے تھوڑی دیر بعد وہ بات چیت سے فارغ ہوئے تو مسکراتے ہوئے میری طرف سست روی سے بڑھے اور تسلی دی" آپ کی ضمانت فون پر میں نے لے لی ہے۔ آپ کی طرح کے باصلاحیت لوگ شخصیات بنانے اور بگاڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں" اس نے جیسے ہی اپنے ہونٹ میری طرف بڑھائے، میں اچھل کرپیچھے گرگئی۔ وزیر صاحب خوب ہنسے پھر پوچھا "کیوں۔۔۔۔۔؟ میرے ہونٹوں میں آگ ہے نہ انگارے"

 

" تیرے ماتھے پر یہ تارا؟" میں نے مجسم سوال بن کر جواب دیا۔

 

" میں پیدائشی حاکم ہوں" اس نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔ میں نے چلا چلا کر کہا "تم میرے بیٹے ہو۔۔۔۔۔۔۔یہ تارا میں نے ہی تمہارے ماتھے پر بنایا تھا۔"

 

میرے ناجائز بچوں نے مجھے اپنے تارے واپس دے دیئے۔ میں نے فیصلہ کیا اگر میرے بطن سے چھٹا ناجائز بچہ پیدا ہوا تواس کے ماتھے پر تارا نہیں بناؤں گی۔
وزیر صاحب کو بہت غصہ آیا اور حاکمیت کے نشہ میں چور ہو کر اپنے ماتھے کا تارا واپس میری جھولی میں ڈال دیا۔ میں تاریک اورلٹی پٹی رات کو ہی کوٹھی سے بھگا دی گئی۔۔۔۔۔۔۔ گھٹا ٹوپ اندھے میں چلتی ہوئی سوچ رہی تھی کہ اچانک اپنا آخری ناجائز بچہ یاد آیا۔ میں نے دل میں کہا جس طرح اس کی پیدائش مختلف تھی، اسی طرح اس کی عادات و اطوار بھی مختلف ہوں گے۔ پھر اس کی پیدائش اور اپنی نفرت یاد آئی۔ اب وہ نفرت محبت میں بدل گئی ہے۔ دل میں بار بار یہی خیال آرہا تھا کہ اگر میرا سامنا چوتھے بیٹے سے ہوا تو میں اس ماتھے بنے ہوئے دونوں تارے چوم کر اسے اپنے ہونٹ چومنے کا موقع نہیں دوں گی۔ میں اپنی عمر رفتہ کے متعلق سوچ رہی تھی۔ یکایک اخبارات اور رسائل، میرے ذہن کے پردے پر سرک آئے۔ ساتھ ہی کہانیاں اور افسانے یاد آئے۔ میں اپنے آپ کو اپنی کہانی سنارہی تھی۔ پھر میں نے اپنے پیچھے کسی کے پاؤں کی آہٹ سنی۔ میں چپ ہوگئی، چلنا بدستور جاری رکھا۔ ایک نوجوان میرے قریب رک گیا اور جلدی جلدی بلا کسی توقف اپنا تعارف کرانا شروع کیا "میں صحافی ہوں۔ یہاں ایک اخبار میں کام کرتا ہوں۔ میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟"

 

فوری طور پر توجہ دینے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ یہ وہی ہے، جس کی مجھے تلاش ہے۔ برابر چلتے ہوئے میں نے صحافی کواپنی کہانی سنانی شروع کی۔ ابتدائی کلمات سننے کے بعد اس نے کہا "ایسی باتیں اطمینان سے بیٹھ کر سننے کی ہیں۔ میں آپ کا ایک تفصیلی انٹرویو لینا چاہتا ہوں۔"

 

میں بغیر کسی تردد کے اس کے گھر میں داخل ہوئی۔ اس نے گرم ٹوپی اتارتے ہوئے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور میری داستان سے قبل اپنی خود داری اور انا کی کہانی سنانی لگا۔ میں نے کہا "میر اانٹرویو؟"

 

وہ کاغذ قلم اٹھا لایا اور میں ستم رسیدگی کے باب وا کرنے لگی۔ قمیض اوپر اٹھانے اورحوا کی بیٹی کے پیٹ کے برہنہ ہونے تک اس کاقلم روانی سے چلتا رہا مگر اسکی متحرک انگلیوں پر اچانک میری نظر پڑی۔ وہ لمحہ بھر ساکت رہنے کے بعد کانپ رہی تھیں۔ وہ میری جانب دیکھ رہا تھا۔ میں آنکھوں کے ایسے ہزار ہا اشارے نگاہوں سے گزار چکی تھی۔میں نے کہانی کا رخ دوسری جانب موڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔ آدم اور حوا کے جذبے کی طرف آئی۔ اس نے قلم رکھ دیا اور پانی کے جگ سے گلاس میں پانی انڈیل کر غٹا غٹ پی گیا۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر میری کرسی کے پیچھے جا کھڑ ہوا اور دونوں ہاتھ میرے کاندھوں پر رکھ دیئے۔ میری نظریں اس کے ماتھے پر جم گئیں۔ اس کے ماتھے پر دو چمکتے تاروں نے میری آنکھیں چندھیادیں۔ اس سے پہلے کہ وہ ہونٹ بڑھا کر میری عزت افزائی کرے، میں فوراً ان دو تاروں کو چومنے کے لئے اپنی جگہ سے اٹھی۔ اس نے میرا اٹھنا شب تنہائی کی دعوت پر محمول کیا اورمیرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر اپنے حرامی پن کی مہر ثبت کردی۔میرا انٹرویو ادھورا رہ گیا۔ میرے ناجائز بچوں نے مجھے اپنے تارے واپس دے دیئے۔ میں نے فیصلہ کیا اگر میرے بطن سے چھٹا ناجائز بچہ پیدا ہوا تواس کے ماتھے پر تارا نہیں بناؤں گی۔



اسد بزمِ تماشا میں تغافل پردہ داری ہے

[blockquote style="3"]

Virtual Textual Practical Criticism "قاری اساس تنقید" کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ "خامہ بدست غالب" غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے 'خامہ بدست غالب' میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

اسدؔ بزمِ تماشا میں تغافل پردہ داری ہے
اگر ڈھانپے تو آنکھیں، ڈھانپ، ہم تصویرِ عریاں ہیں

 

نظم

 

"اسدؔ" خود سے مخاطب تو نہیں اس شعر میں شاید
یہ کوئی اور ہی ہے جو اسے تلقین کرتاہے!
"اسدؔ" خود سے مخاطب ہو بھی سکتا تھا
مگر اک لفظ "ہم" جو مصرعِ ثانی میں آیا ہے
ہمیں گویندہ یا ناطق کی بابت شک میں رکھتا ہے

 

اگر تم حاضر و موجود ہو ’بزمِ تماشا' میں
(وہ کہتا ہے)
تو اس سے بے مروّت ہو نہیں سکتے
تغافل کیش رہنا، بے رخی، غفلت برتنا تو
اک ایسی 'پردہ داری' ہے، کہ جس میں تم
مری بزمِ تماشا سے
تعلق توڑ کر کچھ بھی نہ پاؤ گے!

 

کہ یہ 'بزمِ تماشا' تو
اسی اپنے تماشے میں مگن ہے روزِ اوّل سے
اگر تم ایسے نا اندیش ہو جس نے حقیقت سے
خود اپنے آپ کو یوں سینت کر رکھا ہے
آنکھیں بند کر لی ہیں
کہ اب کچھ بھی نہ دیکھو گے
تو یہ سمجھو، وہ کہتا ہے
"اگر ڈھانپے تو آنکھیں، ڈھانپ۔۔۔۔۔۔ ہم تصویرِ عریاں ہیں"
کہ بند آنکھوں کے پیچھے سے بھی ’ہم‘ کو دیکھ پاؤ گے!

 

تخاطب تو یقناً اپنے شاعر سے ہے، لیکن غور سے دیکھیں
کہ کہنے والا آخر کون ہے، جو "میں" نہ کہہ کر
"ہم" کے اسمِ معرفہ، یعنی۔۔۔۔
ضمیرِ جمع متکلم کی صورت میں ہی اپنا ذکر کرتا ہے؟

 

صریحاً ایک ہے۔۔۔ اللہ
جو اِس شاعرِ غافل کو یہ تلقین کرتا ہے
"اگر ڈھانپے تُو آنکھیں ڈھانپ، ہم تصویرِعریاں ہیں!"



ابھی مجھ کو تجسیم ہونا ہے

ابھی مجھ کو تجسیم ہونا ہے
میں وہ ہوں
ابھی تک جو ظاہر نہیں ہو سکا
میں وہ ہوں
جواپنے ہی اندرکہیں محو ہے
ابھی مجھ کو تجسیم ہونا ہے
'آئندہ' کے بت کدے میں
خواہشوں کے گرانبار ملبے میں خود پر سنبھلتے ہوئے
میں اک سانس لینے کی محدود مدّت میں زندہ ہُوا ہوں
اسی ایک مدت کے پھیلاؤ میں
ایک آواز کی گونج
میرے تعاقب میں کانوں کو چھوتی ہوئی جا رہی ہے
زنگ آلود عہدوں کی مجھ تک خبر لا رہی ہے
میں وہ ہوں
جسے منکشف کرنے کے واسطے
وقت اپنی ریاضت میں مشغول ہے
میں وہ ہوں
کہ جس نے کبھی بھی____
کسی پر بھی____
ظاہر نہیں ہونا ہے

Image: Alterlier




آبائی گھروں کے دکھ

آبائی گھروں کے دکھ
آبائی گھر ایک سے ہوتے ہیں
ڈیوڑھیوں، دالانوں، برآمدوں، کمروں اور رسوئیوں میں بٹے ہوئے
لیکن ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے
آبائی گھروں میں
گِھسی ہوئی سرخ اینٹوں کے فرش
اور چُونا گچ نَم خوردہ دیواریں
بے تحاشا بڑھی ہوئی بیلیں
چھتوں پر اگی ہوئی لمبی گھاس
اور املی اور املتاس کے درخت
ایک دائمی سوگواریت لیے ہوئے
ایک ہی جانب خاموشی سے دیکھتے رہتے ہیں

 

آبائی گھروں کے اندر چیزیں بھی ایک سی ہوتی ہیں
پڑچھتیوں پر پیتل اور تانبے کے برتن
گرد جھاڑنے، قلعی کرنے والے ہاتھوں کا انتظار کرتے ہیں
چنیوٹ کا فرنیچر
اور گجرات کی پیالیاں اور چینکیں
خالی پڑی رہتی ہیں
کھونٹیوں پر لٹکے ہوئے کپڑے اور برساتیاں
اترنے کی منتظر رہتی ہیں
اور چہل قدمی کی چھڑیاں اور کھونڈیاں
سہارا لینے والے ہاتھوں کو ڈھونڈتی ہیں
فرہم کیے ہوئے شجرے،
بلیک اینڈ وائٹ اور سیپیا تصویریں
اور طاقوں میں رکھی ہوئی مقدس کتابیں
اور کامریڈی دور کا مارکسی ادب
سب کچھ اپنی اپنی جگہ پڑا ہوتا ہے

 

آبائی گھروں کے مکین بھی ایک سے ہوتے ہیں
بیرونی دروازوں پر نظریں جمائے، آخری نمبر کا چشمہ لگائے
بینائی سے تقریباْ محروم مائیں
اور رعشہ زدہ ہاتھوں والے باپ
اور اپنے تئیں کسی عظیم مقصد کے لیے جان دینے والوں کی بیوائیں
جو کبھی جوان اور پُر جوش رہی ہوں گی
آبائی گھروں میں لوگ نہیں ساعتیں اور صدیاں بیمار ہوتی ہیں
زمانے کھانستے ہیں
آبائی گھر لَوٹ آنے کے وعدوں پر
باوفا دیہاتی محبوبہ کی طرح سدا اعتبار کرتے ہیں
اور کبھی نہ آنے والوں کے لیے
دل اور دروازے کُھلے رکھتے ہیں

 

شاعروں کے لیے
آبائی گلیوں کی دوپہروں
اور پچھواڑے کے باغوں سے بڑا رومانس کیا ہو سکتا ہے
جہاں تتلیاں پروں کا توازن برقرار نہیں رکھ سکتیں
اور پھولوں اور پتوں پر کریش لینڈنگ کرتی ہیں
اور دھوپ اور بارش کے بغیر
قوسِ قزح جیسی ہنسی بکھرتی ہے
اور نسائم جیسی لڑکیاں سات رنگوں کی گنتی بھول جاتی ہیں
آبائی گھروں میں
وقت بوڑھا نہیں ہوتا
دراصل ہم بچے نہیں رہتے
اور کھلونوں کے بجائے اصلی کاریں چلانے لگتے ہیں
اور کبھی کبھی اصلی گنیں بھی ۔۔۔۔۔۔۔

 

آبائی گھروں کو جانے والے راستے بھی ایک سے ہوتے ہیں
سنسان اور گرد آلود
مسافروں سے تہی
جن پر بگولے اڑتے ہیں
یا میت اٹھائے کبھی کبھی کوئی ایمبولینس گزرتی ہے
پھلاہی اور کیکروں سے ڈھکے آبائی قبرستان
تھوڑی دیر کے لیے آباد ہوتے ہیں
اور پھر دعاؤں اور باتوں کی بھن بھن میں
منظر تتر بتر ہو جاتا ہے
یہاں تک کہ موسم سے اکتائے ہوئے
بادل بھی کسی پہاڑی قصبے کی طرف چلے جاتے ہیں
آبائی راستوں کے دکھ نظمائے نہیں جا سکتے
انہیں یاد کرتے ہوئے رویا بھی نہیں جا سکتا
یہ صرف کسی اپنے جیسے کے ساتھ شیئر کیے جا سکتے ہیں

 

عمریں گزر جاتی ہیں
شہروں میں اور ملکوں میں
لکڑی کے صندوق اور پیٹیاں ہماری جان نہیں چھوڑتیں
گھروں میں کوئی جگہ نہ ہو
تو دلوں اور ذہنوں کے کباڑ خانوں میں رکھی رہتی ہیں
کبھی نہ کُھلنے کے لیے
اور پھر ایک دن ہم خود بند ہو جاتے ہیں
زمین پر آخری دن آنے سے پہلے ہمارے دن پورے ہو جاتے ہیں!!

 

(ابرار احمد کے لیے)



عشرہ/ بنی کشمیر کے عذاب

[blockquote style="3"]

عشرہ -- دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

عشرہ 1: بنی کشمیر کے عذاب

ملا مودی بولتا ہے تو منہ سے لفظ نہیں تیز دروغ آمیز چھرے نکلتے ہیں
جو سیدھے تاریخ کے چہرے پر پڑتے ہیں، جہاں صدیوں نئے گھاو گلتے ہیں

وادی کی سب نر اولادیں لالہ فرعون کے کام کی ہیں
ساری قراردادیں کاغذ کی، ساری صلحیں نام کی ہیں

باپ ہتھیلی پر وہ گولی سجائے بیٹھا ہے جس نے جوان بیٹے کی جان لی
گلاب کے جھنڈ میں لا کر ذبح کیا، شمر نے شبیر کی آخری خواہش مان لی

پہلے ہندو طالبان نے خوب جی بھر کے نہتوں کے خون کی ہولی کھیلی
وائوو! وقت پہ بی بی سی والوں کو دیکھ کے گن کی جگہ غلیل نے لے لی

کشمیریوں کے لیے انڈیا پاکستان دو عارضی، خطرناک جھوٹ ہیں
بھیڑیوں کے مذاکرات، بھیڑوں کی نسل کشی کی کھلی چھوٹ ہیں

عشرہ 2: کشمیر کے حق میں اکھل گاو رکھشک پریشد کی تجاویز

کشمیر کے حالات بہتر بنانے کے لیے بہتر ہو گا کہ کشمیریوں کو چن چن کے مار دیا جائے
ویسے انہیں جیل میں تھانے میں گھر میں عمر قید تو کیا ہی جا سکتا ہے
کشمیریوں کو مستقل بے ہوشی کے ٹیکے لگائے رکھنا بھی کوئی مسئلہ نہیں

ان سب قابلِ عمل منصوبوں پر ہماری مہان سرکار کا روکڑا البتہ کافی اٹھ جائے گا
تھوڑی سی بد نامی اور ہو رہے گی، کتا چینلوں کے آگے مزید اشتہار ڈالنے پڑیں گے

کیوں نہ کشمیریوں کو سرے سے مزے سے بیچ ڈالا جائے
امریکہ روس چین جاپان عرب ایران۔۔۔افغانستان، جو بھی بولی لگا دے

قیمتی زرِمبادلہ سے لانچ کریں گے ہم اکھنڈ بھارت ورش کا جدید ترین راکٹ -- دا گڈ گائے ماتا
جو اسی نوے فیصد تک درست پیش گوئی کر سکے گا ہمارے شدھ کشمیر کے پوتر موسم کی



روہنگیا! ہم کہیں کے نہیں

روہنگیا! ہم کہیں کے نہیں
روہنگیا! ہم کہیں کے نہیں
ہم وہی ہیں جنہیں سات نسلوں سے اذنِ تکلم نہیں مل سکا
ہم ازل کے بھگوڑے
ہمیں سبز خطے سے باہر کسی معتدل منطقے کے تجسس کا گھن کھا گیا
ہم کہیں کے نہیں
سات عشروں کی پہیم اذیت ہمارےبدن سے لپٹ کر بقا پا گئی
اب جو خوں ریز مٹی کا قضیہ اٹھائے پسِ آبرو جی رہے ہیں تو سانسوں کا ہیجان آنکھوں سے بہتے لہو میں دمک پا رہا ہے
تجھے یاد ہوگاکہ اجداد کی بے رخی نے ہمارے سیاہی بھرے ان تنومند جثوں کی تحقیر پر شادیانے بجائے
ہمیں تجھ سے نسبت نہیں تھی
مگر پھر بھی تیرے شب و روز پہنے تری کھیتیوں میں کئی خواب اگائے
کئ ہجر کاٹے
زرا 'زعفرانی کسایا' لپیٹے ہوئے بھیڑیوں سے تو پوچھ
ان کا مصلح زمینی طلب سے ورا کس طلب میں سمادھی جمائے پڑا تھا
چلو ہم تو پھر بھی کہیں کے نہیں



میں پرندوں کی طرح طلوع ہونا چاہتا ہوں

میں پرندوں کی طرح طلوع ہونا چاہتا ہوں
میں جانتا ہوں
میرا سفر ختم ہونے والا ہے
نیند آنکھوں میں پڑاؤ ڈال چکی ہے
اور اندھیرے کی ساکن آواز
کہیں بہت قریب سے سنائی دے رہی ہے
لیکن میں سونا نہیں چاہتا
نظم، کچھ دیر اور میرے ساتھ رہو
مجھ سے باتیں کرو
مجھے تنہا مت چھوڑو
میں اِس رات کی صبح دیکھنا،
اور پرندوں کی طرح
تمھارے ساتھ طلوع ہونا چاہتا ہوں!!

Image: Duy Huynh




ترکی کے نقش قدم پر

[blockquote style="3"]

کنور خلدون شاہد کا یہ مضمون نیوز لائن پر شائع ہو چکا ہے جسے لالٹین کے قارئین کے لیے ترجمہ کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

پندرہ جولائی کی شب ترکی میں شروع ہونے والی فوجی بغاوت میں 300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور 2100 سے زائد زخمی ہوئے، یہ فوجی بغاوت سولہ جولائی کی صبح تک جاری رہی۔ اس بغاوت میں خود کو 'دی پیس ایٹ ہوم کونسل' کہنے والے فوجی دھڑے نے اقتدار پر قبضے کی ناکام کوشش کی۔ ترک پارلیمان پر بمباری کی گئی، انقرہ میں قائم صدارتی محل پر گولہ باری ہوئی اور بحریہ کے درجن بھر جہاز اس عرصے میں لاپتہ رہے۔ باسفورس پل پر چند گھنٹے تک فائرنگ کے تبادلے کے بعد عوام اور پولیس نے بغاوت ناکام بنا دی۔ پلوں کے اوپر فوجی طیاروں کو پہلی مرتبہ رات گیارہ بجے پرواز کرتے دیکھا گیا صبح ساڑھے چھ بجے صدر رجب طیب اردگان نے شہریوں سے خطاب کیا اور فیس ٹائم کے ذریعے اپنے حامیوں کو جوش دلاتے رہے۔

 

ترکی میں فوجی بغاوت پاکستان میں 'موو آن پاکستان' نامی جماعت کی طرف سے لگائے گئے بینرز کے تین روز بعد ہوئی۔
ترکی میں فوجی بغاوت پاکستان میں 'موو آن پاکستان' نامی جماعت کی طرف سے لگائے گئے بینرز کے تین روز بعد ہوئی۔ لاہور، اسلام آباد اور کراچی سمیت مختلف شہروں میں لگائے گئے ان بینرز میں فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو اقتدار سنبھالنے کی دعوت دی گئی تھی۔ ایک جانب جہاں فیصل آباد کی یہ غیر معروف سیاسی جماعت طنزومزاح کا نشانہ بنی رہی وہیں ان کے اس اقدام پر سامنے آنے والا ردعمل صرف پریشانی کے اظہار تک ہی محدود نہیں تھا۔

 

موو آن پاکستان نامی پارٹی نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو اقتدار سنبھالنے کی دعوت دی تھی
موو آن پاکستان نامی پارٹی نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو اقتدار سنبھالنے کی دعوت دی تھی

اگرچہ حکومت اور حزبِ اختلاف کی بیشتر جماعتوں کی جانب سے ترک فوجی بغاوت کی مذمت کی گئی لیکن پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایک انتخابی جلسے میں کہا، "اگر فوج نے ملک کا اقتدار سنبھال لیا توپاکستانی عوام مٹھائیاں بانٹیں گے"۔ پاکستان میں ترکی جیسے فوجی انقلاب کے متصورین کا یہ فوری ردعمل پاکستان اور ترکی کی ریاستوں (درحقیقت پاک ترک افواج) کے مابین پائے جانے والے تاریخی تضادات کے برخلاف ہے۔

 

ایک ایسی ریاست جو دو متواتر جمہوری ادوار مکمل کرنے کے قریب ہے، وہاں سیاسی جماعتوں کا فوجی بغاوتوں سے متعلق چوکنے رہنا فطری امر ہے۔سیاسی حلقوں کی اس فکرمندی کا ایک ایسے وقت میں دوچند ہوجانا فطری ہے جب فوجی بغاوتوں کو بار بار قصہ پارینہ قرار دیا جا رہا ہو۔ سیاسی جماعتوں میں ایسی ہی تشویش تب بھی دیکھنے کو ملی تھی جب مصر میں محمد مرسی کی حکومت گرا کر جنرل عبدالفتح السیسی نے اقتدار سنبھالا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب موجودہ وزیراعظم نوز شریف کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائے ابھی ایک ماہ ہی ہوا تھا۔

 

سیکولر اور اسلام پسند مناقشے کے تناظر میں بظاہر 2013 کی مصری فوجی بغاوت اور حال ہی میں ترک فوج کے ایک دھڑے کی جانب سے اقتدار پر قابض ہونے کی ناکام کوشش میں مماثلت نظر آتی ہے۔ لیکن ترک فوج کے باغی دھڑے کی فتح اللہ گولن سے وابستگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ 'کمال ازم کے رکھوالوں' کی جانب سے اقتدار پر قابض ہونے کی کوشش نہیں تھی۔ ترک فوج سیکولر اقدار کے تحفظ کے لیے 1960، 1971 اور 1980 میں اقتدار پر قبضہ کر چکی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہےکہ1997 میں اسلام پسند ویلفیئر پارٹی کو سیکولرازم کے تحفط کے لیے ہی اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ طیب اردگان ویلفیئر پارٹی کی باقیات سے ہی ابھرے اور اب ان کی جماعت اے کے پارٹی نو گیارہ کے بعد کے ترکی میں حکمران ہے۔

 

مذہب پرست ضیاء الحق اور روشن خیال پرویز مشرف دونوں نے پاکستان بھر میں قائم مدارس کے ذریعے جہاد پسندی کے نظریے کو پھیلانے کی کوشش کی ہے۔
تاہم پاکستان میں اسلام پسندی کی سب سے بڑی داعی خود افواجِ پاکستان رہی ہیں اور پاکستانی فوج اسلام پسندی کو خطے میں طاقت کا توازن اپنے حق میں کرنے کے لیے استعمال بھی کرتی رہی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران فوجی افسران اور عام فوجیوں میں جہاد پسندی کے جزبے کو ہوا دی گئی۔ مذہب پرست ضیاء الحق اور روشن خیال پرویز مشرف دونوں نے پاکستان بھر میں قائم مدارس کے ذریعے جہاد پسندی کے نظریے کو پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ دونوں فوجی آمروں کی اس حکمت عملی کا مقصد عسکریت پسندوں کے ذریعے ہندوستان کے زیرِ انتظاام کشمیر میں اپنا اثرورسوخ قائم رکھنا اور افغانستان کی سرزمین کو تزویراتی گہرائی کے لیے استعمال کرنے کی گنجائش پید کرنا تھا۔

 

یوں پاک ترک سول عسکری حرکیات کا موازنہ ایک ایسے دلچسپ ملغوبے کی شکل میں سامنے آتا ہے جو بظاہر مماثلتوں پر مشتمل ہے مگر جس کی ترکیب تضادات کا مجموعہ ہے۔

 

پاکستان کے برعکس ترک فوج کو اقتدار کے حصول یا کسی بھی قسم کی مداخلت کے لیے کسی غیر آئینی جواز کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ ترک فوج ملکی آئین کے تحت "جمہوریت کی پاسبان" ہے۔ کمال اتاترک نے آئین کی بنیاد جن اصولوں پر رکھی تھی ان کے تحت فوج ملک کے وحدانی اور سیکولر طرزِ ریاست کی محافظ ہے۔ ترکی میں خارجہ حکمت عملی کے تحت بھی حکومت کو معزول کیا جا چکا ہے، جیسا کہ 1997 میں ویلفیئر پارٹی کو مغرب کے ساتھ روایتی صف بندی سے نکلنے کی پاداش میں اقتدار سے علیحدہ ہونے پر مجبور کیا گیا۔ ترکی کے مغرب سے قریبی روابط کی پالیسی مصطفی کمال اتاترک نے وضع کی تھی۔

 

سول عسکری تعلقات کے ضمن میں ترکی اور پاکستان کے مابین ایک اور فرق وہ اتحاد بھی ہے جو ترک سیاستدانوں کے مابین موجود ہے ترک سیاستدان پکستانی سیاست دانوں کے برعکس فوجی نرسریوں میں کاشت نہیں کیے گئے۔ تاریخی اعتبار سے پاکستانی سیاست دان خواہ وہ ذوالفقار علی بھٹو ہوں، نواز شریف یا عمران خان سبھی فوجی آمروں کے زیر سایہ پرورش پاتے رہے ہیں۔ ان سب سیاست دانوں میں فوج کے تانگے پر سوار ہونے کا رحجان رہا ہے، خواہ وہ 1971 سے قبل بنگالی اکثریت کی عددی برتری کا اثر کم کرنے کے لیے ہو یا خود کو سیاسی طور پر اہم اور بارسوخ ثابت کرنے کے لیے۔

 

عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف اور مولانا طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک کے دھرنوں سے متعلق یہ افواہ گرم رہی کہ ان کے پیچھے سابق فوجی سربراہ اشفاق پرویز کیانی کے وفادار فوجی افسران کا ہاتھ ہے۔ یہ افواہ ملک بھر میں خطرے کی گھنٹیاں بجانے کا باعث بنی، یوں محسوس ہوتا تھا گویا فوج کی جانب سے اقتدار پر قبضہ ہوا ہی چاہتا ہے۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بظاہر جنرل راحیل شریف کی قیادت میں فوج اقتدار پر قبضہ کرنے کی خواہاں نہیں تھی۔ تاہم خارجہ حکمتِ عملی کے معاملے میں فوج معاملات میں پس پردہ رہ کر دخل اندازی کرتی رہی ہے۔

 

فوجی دائرہ اختیار میں 'غیر ضروری مداخلت' اور سول حکومتوں کی 'نااہلی' کو دنیا بھر میں فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضے کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
پاکستان اور ترکی دونوں ممالک میں سول عسکری تعلقات کی صورت حال مختلف ہونے کے باوجود خواہ معاملہ 'سیکولرازم کے تحفظ' کا ہو یا 'قومی مفادات کے تحفظ' کا دونوں ملکوں کی افواج میں بغاوتوں کے سہولت کار افسران موجود ہیں۔

 

بالکل ویسے ہی جیسے مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کے نتیجے میں 2014 کے لانگ مارچ برپا ہوئے، اسی طرح ارگینیکون مقدمات نے بھی ترک اسٹیبلشمنٹ کو ناراض کیا ہے۔ ارگینیکون مقدمے میں سینیر فوجی افسران سمیت 275 افراد کو حکومت کے خلاف بغاوت کی منصوبہ بندی کے الزام میں نامزد کیا گیا تھا۔ جس طرح پاکستان میں حکمران جماعت ملم لیگ نواز کے خلاف 2014 کے دھرنے انتخابی دھاندلی اور مالی بدعنوانی کے الزامات کے تحت شروع کیے گئے اسی طرح ترکی میں اے کے پی پارٹی 2013 میں سامنے آنے والے مالی بدعنوانیوں کے سکینڈل کی زد میں ہے۔

 

فوجی دائرہ اختیار میں 'غیر ضروری مداخلت' اور سول حکومتوں کی 'نااہلی' کو دنیا بھر میں فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضے کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان کو ترکی میں برپا ہونے والی حالیہ بغاوت سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی سول حکومت کو اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور خاص کر سول حکومت کی عوام میں پذیرائی کے معاملات پر ترک حکومت سے سبق سیکھنا چاہیئے، کیوں کہ یہی عوامی پذیرائی طیب اردگان کو بچانے کا باعث بنی۔

 

معاشی ترقی کے فوائد عوام تک پہنچانے کے باعث طیب اردگان کو عوام کا اعتماد حاصل ہوا ہے
معاشی ترقی کے فوائد عوام تک پہنچانے کے باعث طیب اردگان کو عوام کا اعتماد حاصل ہوا ہے

ترک صدر کے نو عثمانی عزائم اور اسلام پسند رحجانات کے باوجود فوجی بغاوت کی راہ میں مزاحم ہونے والے عوام مذہبی جتھے نہیں تھے۔ طیب اردگان نے اپنی معاشی حکمت عملی اور ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچا کر عوام کا اعتماد حاصل کیا ہے۔ اگرچہ پاکستان کی معیشت میں استحکام کی تعریف عالمی بنک اور ایشیائی ترقیتی بنک کی جانبس ے کی جا رہی ہے مگر اس ترقی کے فوائد عام آدمی تک نہیں پہنچ پائے۔

 

سول عسکری تعلقات کے لیے مثالی نمونہ وہی ہو گا جس میں فوج طاقتور ہو مگر سول حکومت کے تابع ہو، اور اس مثالی صورت حال کے لیے ایک اہم عامل سول حکومت کے لیے عوامی حمایت کا ہونا ہے۔ سو یہ ممکن ہے کہ مجودہ صورت حال میں عمران خان کا یہ کہنا درست ہو کہ "فوج کے آنے پر عوام مٹھائیاں بانٹیں گے" لیکن اس کا مطلب یہ نہیں عمرن خان یا کوئی بھی اور اس مسئلے کے ایک اہم پہلو کو نظر انداز کر دے۔ معاشی ترقی کے فوائد عام آدمی تک پہنچانے اور سول بالادستی کے قیام کے لیے سول اداروں کو مستحکم اور مجبوط ہونے کے لیے وقت درکار ہے اور ایک اور فوجی مداخلت اس مسئلے کا حل نہیں ہو سکتی۔