عقل کے نام ایک خط

میری محبوب عقل!

 

تو نے قدیم دور سے مجھے جدیدیت، اور مابعد جدیدیت کے دور میں لا کھڑا کیا ـ تیری وجہ سے نت نئی سائنسی ایجادات نے دنیا کا نقشہ بدل دیا
میں تمہیں اپنی زندگی کا بنیادی عنصر مانتا ہوں، میں تمہارے سہارے ہی اس کائنات کے تمام اسرار، تمام بھید، سبھی راز آشکار کر رہا ہوںـ میں جانتا ہوں کہ میں پتھروں کے دور کا باسی تھا تو ہی تھی جس سے میں نے صحیح سوچنے کی عادت ڈالی اور تاریک دور سے روشن دور میں داخل ہو گیا، میں خونخوار تھا چیر پھاڑ دینے والے خصائل کے تابع تھا تو ہی تھی جس نے مجھے اس پر سوال اٹھا کر ایسا کرنے سے روک لیا، مجھے معلوم ہے میں ہزارہا بے معنی توہمات میں گِھرا ہوا تھا، تو توُ ہی تھی جو مجھے اس اندبھیارے سے نکال لائی تھی، میں جنگ اور غلامی کے نظام کو واجب سمجھتا تھا تو نے اس کو رفع کرنے میں میری مدد کی، تو نے زرعی نظام کو تشکیل دینے میں اور اس کو کو بہتر بنانے میں معاون کا کردار ادا کیا۔ میں بہت سی راہوں میں الجھتا رہاتو نے مجھے بچایا اور صحیح طور سے جینے کا سلیقہ سیکھاتی رہی ـ

 

تو نے قدیم دور سے مجھے جدیدیت، اور مابعد جدیدیت کے دور میں لا کھڑا کیا ـ تیری وجہ سے نت نئی سائنسی ایجادات نے دنیا کا نقشہ بدل دیا جہاں لاکھوں بچے ایک معمولی بیماری سے معذور اور مارے جاتے تھے تو نے اس کا راستہ بند کردیا، جہاں میری عمر تیس برس ہونا بھی ایک ناممکن سی چیز بن گئی تھی تو نے اس کو بڑھا دینے کا کارنامہ سر انجام دیا، تو نے لوگوں میں حیات بانٹ دی ـ تیری وجہ سے صنعتی انقلاب دیکھنے میں آیا جس نے میرے رہنے سہنے میں نکھار پیدا کردیا مجھے آسائشیں فراہم کیں مجھے یہاں پہنچا دیا کہ اب ایک بچہ بھی ہزار سال پہلے کے بوڑھے سے زیادہ چیزیں جانتا اور سمجھتا ہے ـ میں تیری عظمت کہ اور کتنے گن گاؤں؟ فلسفہ، نفسیات، سائنسی تحقیق کا طریق کار، سماجیات، عمرانیات، معاشیات ان سب کو تو نے جلا بخشی ـ

 

یا میں دو محبت کرنے والے جوڑے سے یہ کہہ دوں کہ محبت کی کوئی حقیقت نہیں یہ صرف ایک جبلی جبر ہے جسے محبت کا جھوٹا نام دے دیا گیا یہ جنسی جذبے کہ سوا کچھ نہیں
لیکن میں اب تھک چکا ہوں، میں اب ہار چکا ہوں ـ میں نہیں چاہتا کہ تجھ سے ذرہ برابر بھی دوری اختیار کروں ـ مجھے معلوم ہے تیرے لیے یہ محبت بھرے جملے کوئی معنی نہیں رکھتے، یہ وصال و فراق تیرے لیے فریب سے زیادہ نہیں، لیکن پھر بھی میں اپنا درد بیان کر رہا ہوں ہاں درد! یہ درد بھی تو بے معنی ہے، یہ بھی تو ایک بے ڈھنگی شئے ہےـ میں یقیناً ہار گیا ہوں۔ مجھے کیا کرنا چاہیے آخر؟ ایک ماں جو اپنے جواں سال بیٹے کی موت پر غمزدہ ہے کیا اس کو کہہ دوں کہ یہ جذبات بے کار ہیں؟ یہ صرف سیروٹنن (Serotonin) کی سطح کم ہونے کا نتیجہ ہے جو درد اس ماں کو محسوس ہورہا ہے وہ محض جسم میں ہونے والے کیمیائی تعاملات کے سوا کچھ نہیں! یا میں دو محبت کرنے والے جوڑے سے یہ کہہ دوں کہ محبت کی کوئی حقیقت نہیں یہ صرف ایک جبلی جبر ہے جسے محبت کا جھوٹا نام دے دیا گیا یہ جنسی جذبے کہ سوا کچھ نہیں! مرد میں Testosterone ہارمون اس کا ذمہ دار ہے اور خواتین میں Estrogen ۔۔۔۔ کیا ایسا نہیں ہے؟ یہ تمام جذبات درد، رنج، خوشی، غصہ، امید سب کے سب ایک ڈرامے سے زیادہ نہیں! اور مجھے کیا کرنا چاہیے؟

 

میں ننھے بچوں کو یہ کیسے کہوں کہ آگے بڑی کٹھن زندگی تمہارا انتظار کر رہی ہے تمہارے بچپن کی کہانیاں فضول ہیں؟ سپر مین جیسی کوئی چیز نہیں؟ چاند پر پریاں نہیں رہتیں، کیا اس کو یہ بھی بتا دوں کہ زندگی ایک جبر ہے اور اس کا کوئی نتیجہ نہیں کیوں کہ تم چاہے جو مرضی کرلو آخر کار موت انتظار کر رہی ہے اور تمہارے ان کارناموں سے کوئی فرق نہیں پڑتا! اور کیا کرنا چاہیے؟ کیا سب کو یہ بتا نہیں دینا چاہیے جس نتیجے پر تو نے مجھے پہنچا چھوڑا ہے کہ زندگی کا کوئی مقصد نہیں! یہ ایک ہیچ اور بکواس شئے ہے؟؟ اور اگر ہے بھی سہی تو آخر میں اسے گزاروں ہی کیوں؟ یہ فالتو کے دکھ درد جھیلوں ہی کیوں؟ اور جب میں یہ مان چکا ہوں تو میرے لیے منطقی طور پر یہ درست ہے کہ میں خودکشی کر لوں! یعنی جب کوئی ایسی چیز ہی نہیں جس کے لیے مجھے زندہ رہنا چاہیے تو مرجانا عقلاً درست ہوا نا! اسی لیے میں ہار چکا ہوں۔ لیکن میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ مجھے تیری ضرورت کس لیے تھی؟ جواب ملتا ہے زندگی گزارنے کے لیے کیونکہ زندگی ہوگی تو تیرا فائدہ بھی ہوگا زندگی کا وجود ہی مفقود ہو جائے تو تیری ضرورت کیا ؟ اب جب تو نے مجھ سے زندگی کی تمام رعنائیاں چھین لی ہیں اور مجھ سے زندگی کو ختم کرا دینے کہ درپے ہے تو خیال آتا ہے کہ مجھے تیری ضرورت زندگی کو جلا بخشنے کے لیے تھی زندگی نا ہو تو تیری ضرورت ہی کیا تھی؟

 

میری پیاری عقل! مجھے معاف کرنا میں تجھ سے زیادہ عقلمند ہوگیا ہوں مجھ کو معاف کرنا!



گونگے لفظ چبانے والو

گونگے لفظ چبانے والو
گونگے لفظ چبانے والو
اندھے حکم سنانے والو
سلوٹ سلوٹ لہجوں پر
قانون کا پالش کیا ہتھوڑا
ٹھک ٹھک ٹھک برسانے والو
لفظ چبائے جا سکتے ہیں
حکم سنائے جا سکتے ہیں
چند زبانیں ظل الہی کے بارے میں
اپنی اپنی ماں بولی میں
نازیبا باتیں کرتی ہیں
ان پر تالے ڈل سکتے ہیں
لب سلوائے جا سکتے ہیں
جن جبڑوں میں اپنی زبانیں روکنے کی طاقت بھی نہیں ہے
ان کو توڑا جا سکتا ہے
ان کے لیے کسی آہن گر سے خاص شکنجے بھی بنوائے جا سکتے ہیں
لیکن پستولوں کو طمنچہ کہہ دینے سے
بولی کو گولی نہیں لگتی
اور آئین کے تختہ سیاہ پر لکھ دینے سے
کوئی زباں نافذ نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔



نظم خدا نہیں

نظم خدا نہیں
نظم جنگل نہیں
لیکن درختوں اور سایوں سے بھری ہوتی ہے
نظم پرندہ نہیں
لیکن چہکاروں سے گونجتی رہتی ہے
نظم محبوبہ نہیں
لیکن محبوبہ جیسی دلربائی رکھتی ہے
نظم بادل نہیں، بارش نہیں
لیکن پَل بھر میں بگھو دیتی ہے
نظم انسان نہیں
لیکن دھڑکتی، سانس لیتی ہے
نظم خدا نہیں
لیکن ہر جگہ موجود ہے!



سوال

پچھلے چند دنوں سے میں اپنی گردن پر رسی کا دباو زیادہ محسوس کر رہا تھا۔ درد میری گردن کی پچھلی سمت سے بڑھتا ہوا میرے کندھوں تک جا پہنچا تھا۔ میں نے غیر ارادی طور پر کھونٹے کے گرد سات چکر مکمل کئے اور تھک کر کھڑا ہو گیا۔ ایسا کرنے سے رسی کی گرہ میری گردن کے گرد مزید سخت ہو گئی۔اب میں بمشکل اپنا سر پنجرے کی آہنی سلاخوں سے ٹکرا سکتا تھا۔ میں امید بھری نظروں سے پنجرے کے درزوں سے باہر کی سمت دیکھنے لگا مگر وہ لوگ میری موجودگی سے بے خبر آتشدان میں لکڑیاں ڈال رہے تھے۔ میری دائیں طرف موجود دیوار سے ہلکا ہلکا پانی رس رہا تھا۔ آج ٹھنڈک بہت زیادہ تھی۔ میں باہر کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ لیکن اُن کی باتوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ کافی دنوں سے باہر شدید برف باری ہو رہی تھی۔ میں نے سردی کو اپنی ہڈیوں میں جاتا محسوس کیا اوراپنی اونی کھال میں گردن تک دُبک کر بیٹھ گیا۔انہوں نے پنجرے کے اندر میرا کھانا پھینکا۔ میں نے کھانے کو عادتاً سونگھا حالانکہ کہ کھانے کے ذائقے میں مجھے کبھی فرق محسوس نہیں ہوا وہ ہمیشہ ہی باسی ہوتا تھا۔میں نے تو کبھی اس کے علاوہ کچھ کھایا ہی نہیں تھا پھر میں اسے باسی کیوں کہہ رہا ہوں اس بارے میں میں واقعی کچھ نہیں جانت۔ا

 

میں ٹھیک سے یاد نہیں کر سکتا تھا کہ مجھے اس آہنی پنجرے میں کب لایا گیا تھا اور کب میری گردن میں رسی ڈال کر مجھے کھونٹے سے باندھ دیا گیا تھا۔
میں ٹھیک سے یاد نہیں کر سکتا تھا کہ مجھے اس آہنی پنجرے میں کب لایا گیا تھا اور کب میری گردن میں رسی ڈال کر مجھے کھونٹے سے باندھ دیا گیا تھا۔ شاید شروع ہی سے میں یہیں تھا۔ اس بارے میں یقینی طور پر کچھ بھی کہنا ناممکن تھا۔ مجھے اس بارے میں بھی قطعی اندازہ نہ تھا کہ مجھے یہاں کیوں لایا گیا۔ مجھے مبہم سا یاد پڑتا تھا کہ پہلے میرے علاوہ یہاں اور بھی تھے یا شاید یہ میرا واہمہ ہی ہو۔ میں اپنی یاداشت پر ہر گز بھروسہ نہیں کرتا۔ کبھی کبھی تو مجھے ایسا لگتا کہ وہ میری موجودگی کو مکمل طور پر فراموش کر چُکے ہیں۔ میں نے اُن لوگوں کو کبھی میرے بارے میں گفتگو کرتے نہیں سنا۔ شاید میں وہ راز تھا جسے وہ سب جانتے تھے پھر بھی ایک دوسرے سے چھپاتے تھے۔ میں ان کی وہ کمزوری تھا جس سے وہ چھٹکارہ نہ پا سکتے تھے۔

 

میری گردن کی رسی اتنی مختصر تھی کہ میں ایک جست بھی نہیں بھر سکتا تھا۔ لیکن اگر وہ رسی نہ بھی ہوتی تو پنجرے کی سلاخیں بہت مضبوط اور اونچی اونچی تھیں۔ ایک بار میں نے سر اونچا کر کے اُس کی بلندی دیکھنے کی کوشش کی تھی پر مجھے یوں لگا کہ میری گردن ٹوٹ جائے گی۔ میں اپنی گردن کی قیمت پر فرار ہر گز نہ چاہتا تھا۔ ایک بار میں نے سلاخوں کے درمیانی راستے سے نکلنے کا سوچا تو میرا سینگ اس خیال میں ایسا الجھا کہ مجھے لگا کہ میرا سانس رُک جائے گا۔ اور میں زور زور سے اپنا سر پیچھے کھنچنے لگا۔ اسی کوشش میں میرا سینگ زخمی ہو گیا۔ کافی دنوں تک مجھے سر کا ایک حصہ خالی خالی محسوس ہوتا۔ اور پہلی دفعہ میں نے اپنی اوپری منزل پر دوئی کو محسوس کیا۔ وہ عموماً مقررہ وقت پر مجھے کھانا دیا کرتے تھے۔ لیکن وہ پنجرے کے اندر کبھی داخل نہ ہوتے بس وہیں سے کھانا اندر پھینک دیتے۔ کبھی کبھی جب وقت پر کھانا نہ آتا تو میں دیکھتا کہ وہ چوری چوری میری سمت دیکھ رہے ہوتے ایسے میں اُن کی آنکھوں میں شرمندگی صاف پڑھی جا سکتی تھی۔ میں اُس لمحے میں بےنیاز ہو کر بیٹھ جاتا اور جُگالی شروع کر دیتا حالانکہ مجھے شدید بھوک محسوس ہو رہی ہوتی۔

 

اب مجھے یاد آرہا ہے کہ اکثر میں خواب دیکھتا تھا کہ وہ مجھے زور زور سے ہنٹر سے پیٹ رہے ہیں جس سے میری سفید کھال لہو لہان ہوتی جا رہی ہے کچھ زخم تو میری کھال سے بہت اندر تک اُتر جاتے ہیں۔
کھانا کھانے کے بعد ہمیشہ ہی میں اپنی اگلی دو ٹانگیں اُٹھا کر سلاخوں کے اوپر رکھتا اور اپنا چہرہ رگڑ رگڑ کر صاف کیا کرتا۔ پھر میں اپنے چہرے کو پچھلی دو ٹانگوں کے درمیان لے جاتا گرم گرم دھار میرے ہونٹوں پر پڑتی اور میرے پورے وجود میں حرارت دوڑ جاتی۔ ایسے میں میرا دل کرتا کہ میں یہ آہنی دیواریں توڑ کر باہر نکل جاوں پر مجھے اُن کے ہاتھ میں ہنٹر دیکھ کر خوف محسوس ہوتا تھا۔ میری یادداشت میں انہوں نے مجھے کبھی ہنٹر سے نہیں مارا تھا لیکن مجھے اپنی کھال پر موجود بہت سے نشان اُسی ہنٹر کے محسوس ہوتے تھے۔ اب مجھے یاد آ رہا ہے کہ اکثر میں خواب دیکھتا تھا کہ وہ مجھے زور زور سے ہنٹر سے پیٹ رہے ہیں جس سے میری سفید کھال لہو لہان ہوتی جا رہی ہے کچھ زخم تو میری کھال سے بہت اندر تک اُتر جاتے ہیں۔ جب زخموں کا درد کم ہو جاتا تو میں انہیں چاٹ چاٹ کر میٹھے میٹھے درد کا اعادہ کرتا۔ مجھے اُن پر ہرگز اعتبار نہیں کرنا چاہے۔ یقینا یہ محض خواب نہیں تھے بلکہ وہ میرے سونے کے بعد اس پنجرے میں داخل ہوتے ہوں گے اور مجھے ہنٹر سے مار لگاتے ہوں گے۔ بس اب میں نے طے کر لیا ہے کہ اب مجھے سونا نہیں ہے۔ لیکن وجود کا کمبل اوڑتے ہی میں پھر سے نیند میں جانے لگتا ہوں۔ مجھے اُن کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں ۔ وہ میرے وجود سے سخت نالاں ہیں اور سوتے میں مجھے قتل کرنے کامنصوبہ بنا رہے ہیں۔ مجھے لگ رہا ہے کہ اب وہ چاقو تیز کر ہے ہیں جس سے وہ میری گردن کو کاٹ دیں گے۔ اب وہ دھیرے دھیرے میرے پنجرے کی طرف آ رہے ہیں ۔ میں ان کے قدموں کی چاپ سُن سکتا ہوں۔ میرا خیال ہے مجھے اُٹھ جانا چاہئے اور ان کو بتا دینا چاہئےکہ میں ان کی مکروہ سازش کو سمجھ چُکا ہوں۔ لیکن یہ کیا کہ مجھے سخت نیند آتی جا رہی ہیں۔ کیا مجھے اس قتل کو خاموشی سے قبول کر لینا چاہئے۔ میرا سینگ ابھی بھی سلامت ہے جسے میں اُن کے پیٹ میں گھونپ سکتا ہوں۔ خاص طور پر وہ موٹے پیٹ والا جو سب سے آگے آگے چل رہا ہے۔ اُسی نے چاقو اپنی قمیص کے اندر چُھپایا ہوا ہے۔میں اُن کے آتشدان کی طرف دیکھتا ہوں وہاں لکڑیاں ختم ہو چکی ہیں۔ میں اپنے سر کو بھی کھال میں چھپانے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہ سب تو سردی سے مر جائیں گے۔ میں اپنا سینگ زور زور سے پنجرے کی سلاخوں سے رگڑتا ہوں۔ اب یہ جلنے لگا ہے۔وہ سب میرے سینگ کے پاس کھڑے ہو جاتے ہیں اور ہاتھ تاپنا شروع کر دیتے ہیں۔

Image: Wookjae Maeng




Solitude: A Necessary Condition of Solidarity

Before television became liberally flattened, and overtly democratized by the Army in power (Musharraf's regime), there were only two or three national channels we had. We didn't have much of freedom of speech, so to speak. Nonetheless, there was something else: lack of euphoria. The televised images of love, therefore, were motionless, sieved by the conservative imagery. But, it was so beautiful, even more so in connection with the nostalgic evocations I have of the images, but just so beautiful with the lovers stilled by their love for each other. Endlessly, standing against the sun, they would gaze at each other, struck by what Blake calls the "lineaments of gratified desire".

Youth of Pakistan started to create very exceptional forms of music, singing about alienation

Of course, it is the ‘90s I am speaking of, which simultaneously wanted to re-imagine a newer cast of national characters, as well as push to desire for a degree of freedom away from the dark images that Gen. Zia had left behind through his Islamization project. Youth of Pakistan started to create very exceptional forms of music, singing about alienation (Milestones/Vital Signs), the need to reconnect with Sufi culture (Junoon), and exhibiting a certain kind of agency amiss otherwise (Jazba/The Trip/Praying Mantis), to name just a few musical bands I grew up listening. Other mature artists, writers, dancers and art directors, who had left the creative scene, came back to reinvent it.

I go back to these images to catch up on lost sleep, which the doctors tell us is a newer form of illness shaped by neo-liberal anxieties. You cannot, scientifically speaking, catch something like sleep; it is lost forever. We only succumb to inward gazing. It is a sedative hypnotic, inward gazing. And, images of stilled love without complexities are therapeutic, an anti-dote to capitalism's perception-distorting machinery that dogmatically churns forms of mindlessness every hour of the clock, as Crary informs us.

Arshad Mahmoud gave music to the many plays I continue to watch, which still my heart many a nights.

Arshad Mahmoud gave music to the many plays I continue to watch, which still my heart many a nights. I am often woken up by a fit of anxiety, pressured by the temptation to work harder, to erase precarity, to clutch a root as I fall in a dream, and then lull myself back to a love-inscribed nebulousness with Mahmoud's pulse-numbing music. So gratified I am that I know the alternative: eternal, still love, shaped like an embrace with the name of "hundred years of solitude".

Solitude is a prescription of resistance, and it is a political tool. Imagine: by way of entering a collective form of solitude, we disappeared, even for a second, from our Facebooks and twitters, en masse; disappeared from the spaces rendered political, which the Occident uses as a form of surveillance to watch us. It would be like disappearing completely from within the walls of hegemonic cultural imperatives, spaces that are schizophrenic and claustrophobic. It would be an uprising of a profound making, salient in that it deconstructs the very programming of social media's imagined power. They tell us, social media is the newer place to "practice" solidarity. We prove them wrong.

Solidarity is not to be practiced, as if it is a religion. Solidarity is to be lived.

Solidarity is not to be practiced, as if it is a religion. Solidarity is to be lived. So, to register our protest we disappear, thereby arriving, in context, at the ontological position from where we create our own "social medium", which lacks transmission of moth-eaten political sound bites, but gains from the palpable realities we live every day. Things we approach, we approach meticulously, in depth and meditation, becoming the anti-thesis of what we ought to become, the degenerates and wretched of the earth.

And, we feel, feel very still, unlike the caricatures of dread-ridden images we have become on those posters, distributed by the philanthropists, of African children gaping away from the vultures, and Muslim women looking for Hellenophilic civilizing. Lastly, we love with a lasting commitment, something we are told is an ancestral sin, and never fail at reciprocating it.

Image: Andrew Bobir




رشتہ خور چوہے

رشتہ خور چوہے
یہ دنیا چوہوں کی آماجگاہ ہے
جو رشتوں کو کترتے رہتے ہیں
چھوٹے اور بڑے چوہے
موٹے ، سفید اور کالے چوہے
ہر رنگ ہر نسل کے
سماجی چوہے، ادبی چوہے
ریشم جیسے رشتے، مخمل جیسی محبتیں،
کتابوں جیسے چہرے
کترتے رہتے ہیں
رشتے چاہے کتنے خوبصورت
کتنے قیمتی کیوں نہ ہوں
چوہوں کو فرق نہیں پڑتا
ان کا کام کترنا ہوتا ہے!

Image: Sophie Dickens




رات کے لیے ایک نظم

رات کے لیے ایک نظم
اے رات!
اے دو آبوں جیسی ٹھنڈی رات!!
تُو آسمان کی طرح گمبھیر ہے
تیری گپھاؤں میں چاند اور ستارے ہیں
تیرے جنگل اور بیلے نظموں کی طرح پُراسرار ہیں
تیری اترائیوں میں نیلی گھاس لہلہاتی ہے
اور ابھاروں جیسے درختوں کی گھنی شاخوں پر
گلابی پروں والے پرندے پھڑپھڑاتے ہیں
تیری گھاٹیوں میں خواہشیں قیام کرتی ہیں،
نارنجی مشعلیں جلتی ہیں
تیرے نشیبوں میں سفید پھول کھلتے ہیں
اور تیرے پانیوں میں کنول تیرتے ہیں
تیرے جھینگروں کی آواز
مخمور نومی سماعتوں میں گونجتی ہے
تیری مقدس سرگوشیوں میں
کسی قدیم گیت کی لَے سنائی دیتی ہے
اور تیری گنگناہٹ
جیسے کائنات آخری ہچکی لے رہی ہو
اے رات!
اے ذائقوں اور نیندوں سے بھری ہوئی رات!
میں تیرے انتم کنارے پر
سورج لیے کھڑا ہوں
مجھے اذنِ باریابی دے
مجھ میں طلوع ہو!!



کسی صبا رفتار کا بیان

آپ نے کبھی صبا کو دیکھا ہے۔وہ ایک نامعلوم ہستی ہے۔ایک ایسی دنیا جس کےرگ و پے میں برق بستی ہو، جس کی آنکھوں سے روشنی برستی ہو۔میں وقت کے دھارے پر چلتا ہوا نہ جانے کہاں پہنچا ہوں کہ اب یہ جس شخص کا خاکہ میں لکھ رہا ہوں، اس کا نام بیان نہیں کرنا چاہتا۔ وہ ایک خیالی انسان ہے۔ایک ایسا انسان جس کا وجود ہے بھی یا نہیں۔اس کا مجھے علم نہیں۔بس میں نے اسے اتنی دیر کے لیے تراش لیا ہے، جتنی دیر کی بورڈ کے کپڑے پر انگلیوں کی سوئیاں پڑتی رہیں اور سل کر تیار کردیں ایک ایسا لباس، جس میں شاید ہی کوئی شخص فٹ ہوسکے، سوائے اس کے، جو ہے اور مجھے ملا نہیں اور جو ہوگا بھی تومجھے نہ ملنے کے لیے۔

 

کتھئی اور سرمئی رنگ کی ملی جلی دھجیوں سے اس کا بدن تیار کیا گیا ہے۔چمکتے ہوئے ریشم کے سے پھسلواں کپڑوں کو اس کی جلد تعبیر کرلیا گیا ہے۔
کتھئی اور سرمئی رنگ کی ملی جلی دھجیوں سے اس کا بدن تیار کیا گیا ہے۔چمکتے ہوئے ریشم کے سے پھسلواں کپڑوں کو اس کی جلد تعبیر کرلیا گیا ہے۔قدرت ایک ایسی ہی غلطی کی نمائش میں غرق ہوئی جارہی ہے، جس میں اس شخص کی بغاوتوں کے سارے اوبڑکھابڑ اور آڑھے ٹیڑھے، ترچھے بانکے طریقے موجود ہیں۔وہ کبھی راجستھان کی گرد میں اٹی ہوئی ہواؤں جیسی معلوم ہوتی ہے تو کبھی کیرالا کے جنگلوں کے سر سبز مناظر میں لپٹی ہوئی۔ ذہانت اس کے روم روم میں ہے، اسی طرح جس طرح معصومیت اس کے چہرے کی ہلکی دھاریوں میں رقص کرتی ہے، گال پر بن جانے والے سانولے اور ہلکے گہرے کنویں، جن میں عاشقوں کے دل ڈول بن کر ڈوبتے جارہے ہیں، خوابوں کی تنی ہوئی رسیوں سمیت۔وقت ایک دہلیز ہے، جس پر کوئی گہرے اور چمکتے ہوئے سیاہ رنگ کا سانپ بیٹھا اس خزانے تک پہنچنے سے عمر کو باز رکھے ہوئے ہے۔وہاں عمر نہیں پہنچ سکتی۔وہاں صرف اتہاس کا حسن اور پھیلے ہوئے مستقل کی تابناکیاں پہنچیں گی، جس قدر وہ پہنچ سکیں اور اس دہلیز کو ایک دن یہ گزرے اور آنے والے کل کی دنیائیں ایک ساتھ اپنی چپیٹ میں لے لیں گی اور وہ سانپ ان کے درمیان پس کر رہ جائے گا۔ قطار میں رکھے ہوئے دیپکوں جیسے اس کے دانت اور ملہار ٹپکاتی اس کی میٹھے اور پھیکے لعاب میں دھنسی ہوئی بولی۔ اس کی پتلی گردن، جس پر پسینے پر بہنے والی کاٹ دار نمکین بوندوں نے تین کٹوریاں سی بنادی ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے بادلوں کی تین انگلیاں کسی روشن سیارے کی دیوار سے بیل کی طرح لپٹی ہوئی ہوں۔ کندھے، جنگ کے میدان پر ٹھکی ہوئی ڈھالوں کی طرح قدم گاڑے ہوئے، چکنے، سخت اور مٹھیوں کی گرفت سے مچھلی کی طرح نکلنے کی صلاحیت رکھنے والے۔گردن سے ذرا نیچے سینے کے شفاف میدان پر تھپا ہوا ایک کالا تل۔جیسے بہت اوپر سے دیکھنے پر کسی خاکی میدان میں تنہا اپنا وجود سنبھالے کھڑی کوئی چٹان نظر آجاتی ہے، ایک گنجی اور ننگی، کالی چٹان۔جس کی تپش سے الجھنے کی نہ جرات ہو، نہ ہر کس و ناکس کو اسے دیکھ سکنے کی توفیق۔سینہ، جیسے کسی نے دو چھوٹے چھوٹے اپلے، اپنی نئی نویلی بدن کی جھگی پر تھوپ دیے ہوں۔ترنگوں جیسے لمبے ہاتھ،امس جیسی پسیجی ہوئی بغلیں، گلوب جیسا گول پیٹ، آواز جیسی مہین کمر، شبد جیسی عظیم شرمگاہ اور اس پر آس پاس بکھری ہوئی تابناک ہلکی سیاہ پتیاں، ان پتیوں سے بہنے والے سفید رنگ کے گاڑھے اور پتلے پانیوں کی دو نہریں، ان نہروں پر جھکا ہوا ایک چلو، اس چلو کی بڑھتی ہوئی پیاس اور اس پیاس کی بھٹکتی ہوئی سانسیں۔

 

یہ شخصیت محض خواب کے چھلکوں پر زندہ نہیں رہنا چاہتی، اسے حقیقت کے پھل چاہیئں۔نہ ہوں تو یہ انہیں اگانے، سینچے اور سجانے کا ہنر جانتی ہے۔پھل کے لیے ساری محنت کرنے کے بعد اسے توڑنے سے اسے قدرت نہیں روک سکتی، اگر روکنا چاہے گی تو منہ کی کھائے گی
بدن کی اس آخری اوٹ کے نیچے پھیلی ہوئی اور تنی ہوئی دو ننگی ٹانگیں ہیں۔ان ٹانگوں کا قصہ کسی قصہ گو سے سنیے گاکہ ابھی وقت کی نبض ایک شاعر کے ہاتھ میں ہے، شاعر جو اپنی چھلکتی ہوئی نگاہوں کے ساتھ، دھندلائے ہوئے اس منظر پر، اور سجے ہوئے اک بستر پر اس بدن کو خاک ہوجانے سے روک رہا ہے، اس کے دونوں ہاتھ،اس نامعلوم ہستی کے تنور میں اترے ہوئے ہیں، تھمے ہوئے ہیں، اس طرف مٹی کی ایک بھاری بھرکم سطح ہے اور پر غراتی ہوئی آگ کی لپٹیں، ہاتھ جل رہے ہیں،مگر لپٹوں نے اب ان کو اپنی گول گرفت میں جکڑ لیا ہے ۔سارےپور جھلس گئے ہیں، انسانی تماشے کے اس سب سے گرم اور دہکتے ہوئے تنور میں لگی ہوئی روٹیاں جل کر راکھ ہوئی جارہی ہیں۔ادھر نہروں کا زور بھی جاری ہے۔ بادل، دھوئیں کی شفاف لہروں سمیت گھرر گھرر کرتے ہوئے شاعر کے مساموں میں اتر رہے ہیں اور انہیں میں پھوٹے جارہے ہیں۔

 

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کسی شخصیت کے تذکرے میں شاعر کا ذکر کہاں سے آیا۔محترم قارئین! شاعر اور یہ شخصیت کوئی بہت الگ مخلوق نہیں ہیں۔یہ شاعر کا ہی عکس ہے جو اس کے دونوں اطراف موجود ہے، آئینے کے ادھر بھی اور اُدھر بھی۔لیکن اگر آپ اتنےہی جز بز ہیں تو اسی طرف چلتے ہیں۔پھر ذکر ہورہا تھا اسی شخص کا، جس کے بولنے پر محسوس ہوتا ہے، تتلیاں چٹخارے لے رہی ہوں، پھول کیڑوں کی سونڈوں میں اپنے ہونٹوں کے رس اتار رہے ہوں۔ یہ سب ہوتا ہے، اصل میں، اسی دنیا میں ہوتا ہے، مگر نظر نہیں آتا۔خاص طور پر ان کو، جو ایسے لوگوں کو دیکھنا نہیں چاہتے۔اس شخص کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اسے اپنے ہونے کا علم ہے، ہم میں اور آپ میں کتنے لوگ ہیں، جو یہ جانتے ہیں کہ وہ ہیں صرف اسی لیے تاکہ وہ ہو سکیں اور ہوتے جائیں۔ ان کو اپنے ہونے پر نہ کوئی شرمندگی ہے اور نہ کوئی فخر، وہ بس زندگی کے اس شاندار محل کا پورا چکر لگانا چاہتے ہیں۔ بدن کی دھوپ چھاؤں میں کبھی اعتماد کی رسی تھام کر، کبھی دھوکے اور فریب کی چھڑیاں کھاکر چلتے رہنا چاہتے ہیں۔انہیں گرنا بھی اتنا ہی پسند ہے، جتنا چلنا، انہیں ٹھوکر کھانا بھی اتنا ہی اچھا لگتا ہے، جتنا سنبھل کر دامن جھاڑنا۔ وہ دوسروں پر ہنستے نہیں، کسی کی بھی، کیسی بھی خواہش اور کسی کے بھی کیسے وجود پر سوالیہ نشان نہیں لگاتے۔ وہ بس ہر اس شخص کو اس کی زندگی کی حرارت سمیت قبول کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، جس کا پیٹ سانس کی آنکھ مچولی کی وجہ سے پھولنے پچکنے پر مجبور ہے۔

 

، میں اسے صبا کہوں یا صبا رفتار ۔مگر بات یہی ہے کہ وہ گزری جاتی ہے، نگاہوں کے سامنے سے، ٹھنڈک پہنچاتی ہوئی، کانوں میں سچے شہد کی سی سرگوشیاں گھولتی ہوئی مگر ہم جھونکوں کو محسوس کرنے سے عاری لوگ ہیں۔
یہاں سے اب ایک اور قصہ اس شخصیت کے تعلق سے شروع ہوتا ہے، وہ خسارے میں زندہ رہنے والی شخصیت ہے۔ یعنی کہ ہے بھی اور اپنے آپ کو منوانا بھی نہیں چاہتی۔ وہ خود کا بہت نقصان چاہتی ہے،ذہنی طور پر، جسمانی طور پر، جنسی طور پر اور دوسرے جو بھی طریقے کارآمد ہوسکتے ہیں۔مگر اس شخصیت کو پہچاننا بڑا مشکل ہے۔جیسے کہ سفر کرتے کرتے ایک ہلکے سے موڑ پر اچانک دایاں منظر، بائیں منظر میں تبدیل ہوجاتا ہے، اسی طرح اسے سمجھتے ہوئے فلسفی دماغ کے زاویے بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔یہ شخصیت محض خواب کے چھلکوں پر زندہ نہیں رہنا چاہتی، اسے حقیقت کے پھل چاہیئں۔ نہ ہوں تو یہ انہیں اگانے، سینچے اور سجانے کا ہنر جانتی ہے۔پھل کے لیے ساری محنت کرنے کے بعد اسے توڑنے سے اسے قدرت نہیں روک سکتی، اگر روکنا چاہے گی تو منہ کی کھائے گی، لیکن قدرت اسے کہاں روکتی ہے، وہ تو اس کی ماں کی طرح پرورش کرتی آئی ہے، اس کی باچھوں کو کھلتا ہوا دیکھ کر وہ بھی مسکراتی رہی ہے۔ یہ تو ایک مصنوعی قدرت ہے، جو انسانی ذہن کی بنائی ہوئی، ترشی ہوئی ہے، جو اسے ذلیل کرنے کی فراق میں خود خوار ہوئی جارہی ہے۔ اس نے صرف اس ایک شخصیت کی بے عزتی پر کمرکسی اور خاک پھانکی ہے، مگر اس کا دل نہیں بھرتا۔ اس کے پاس تو شاید دل ہے ہی نہیں۔دل تو اس کے پاس ہوسکتا ہے، جس کے پاس سینہ ہو،اس لیے دو ہلکے گول گلابی دائروں کی اوٹ میں رکھے ہوئے دل کے سورج تک کون پہنچ سکے گا، جو اس کے سینے تک نہیں پہنچنا چاہتا ہے اور پہنچنا چاہتا بھی ہے تو صرف رات میں۔ اس لیے صرف ان کھردری کھالوںمیں لپٹی ہوئی گولائیوں کو چھو کر اس کی انگلیاں لوٹ آتی ہیں، اس کی مٹھیاں،ان چھوٹے بڑے گول پھلوں کو نچوڑ تو لینا چاہتی ہیں، مگر ان کے اندر نہیں اترنا چاہتیں، جیسا کہ وہ اپنے بچپن میں اترا کرتی تھیں۔ اس کی نوک سے منہ لگا کر،اس میں سے پیار کے ساتھ اپنی محبت کا حصہ نکال کر، اس کے دل تک پہنچتے ہوئے، تبھی تو خون میں دودھ کی تاثیر پیدا ہوجاتی تھی۔اب بھی ہوسکتی ہے، مگر اب شاید اس کےپاس وہ منہ نہیں رہا، جو مذکورہ شخصیت کی چھاتیوں کے اندرون تک پہنچ سکے۔

 

میں نے اس ہستی کو صبا رفتار کیوں کہا؟

 

یہ سوال تو بہرحال ہے، میں اسے صبا کہوں یا صبا رفتار ۔مگر بات یہی ہے کہ وہ گزری جاتی ہے، نگاہوں کے سامنے سے، ٹھنڈک پہنچاتی ہوئی، کانوں میں سچے شہد کی سی سرگوشیاں گھولتی ہوئی مگر ہم جھونکوں کو محسوس کرنے سے عاری لوگ ہیں۔وہ بھی گزر جائے گی اوروں کی طرح اور دنیا نہیں سنورے گی، نہیں بدلے گی۔خاک ہوتی رہے گی، خون ہوتی رہے گی۔مگر اپنے تیورنہیں چھوڑے گی، اپنی شکست نہیں تسلیم کرے گی، محبت کی اہمیت نہیں سمجھے گی۔اب ایک دن تو یہی ہونا ہے کہ وہ محسوس بھی نہ ہوگی، نظر تو خیر آہی نہیں سکتی۔

Image: Duy Huynh




نثری نظم کا تخلیقی جواز

[blockquote style="3"]

نثری نظم اور اس پر بحث اب کوئی نیا موضوع نہیں رہا۔ تمام تر مخالفتوں کے باوجود اب یہ ایک باقاعدہ اور مستحکم صنفِ سخن ہے اور زیادہ تر ادبی جرائد اسے اہتمام سے شائع کرتے ہیں، کچھ "نثری نظم" کے نام سے الگ صنفِ سخن کے تحت اور کچھ اسے "نظم" کے خانے میں رکھتے ہیں یعنی پابند، آزاد اور معریٰ نظم کے ساتھ ۔ لیکن اس کے باوجود کچھ ایسے ادبی رسائل بھی ہیں جن کے مدیران سرے سے اسے تسلیم ہی نہیں کرتے اور نہ اپنے رسائل میں شائع کرتے ہیں۔ گزشتہ چالیس سالوں کے دوران نثری نظم پر بہت بحث ہو چکی ہے، متعدد مضامین، طویل اور جامع مقالہ جات لکھے جا چکے ہیں اور سچی بات تو یہ ہے کہ اب اس موضوع پر کوئی نئی بات کرنا، نئے جوازات تلاش کرنا اور نئے مباحث ابھارنا مشکل ہے۔ اب تو اس کے جواز پر کچھ کہنے کی بجائے اس پر عملی تنقید کی ضرورت ہے۔ البتہ کچھ عرصہ پہلے تک صورتِ حال مختلف تھی اور اردو میں آزاد اور معریٰ نظم کے ہوتے ہوئے نثری نظم کو اپنا جواز فراہم کرنے میں بڑی دشواریاں حائل تھیں۔ راقم نے "تسطیر" جنوری،1998ء میں "نثری نظم کا تخلیقی جواز" کے عنوان سے ایک مختصر مگر جامع اداریہ تحریر کیا تھا۔ اس اداریے پر نہ صرف "تسطیر" کے اگلے کئی شماروں میں طویل بحث ہوئی بلکہ تسطیر سے باہر بھی عرصہ تک اس کی گونج سنائی دیتی رہی اور اس کے حوالے سے دیگر ادبی جرائد میں بھی مضامین لکھے گئے۔ اس بحث میں اردو کے کم و بیش تمام اہم اور مقتدر شاعروں، ادیبوں نے حصہ لیا تھا۔ چند سال پہلے جب اکیڈمی ادبیات نے "ادبیات" کا نثری نظم نمبر شائع کیا تو اس کے لیے راقم کو تسطیر میں نثری نظم پر ہونے والی سارے مباحث کو مرتب کرنے کے لیے کہا گیا۔ ان مباحث کی ضخامت سو سے زائد صفحات تھی۔ افسوس کہ کسی "نامعلوم" وجہ کے باعث وہ یکجا کی گئی ساری بحث شائع نہ ہو سکی اور اکیڈمی کے کارپردازوں نے آج تک اس کا مسودہ بھی واپس نہیں کیا۔ یہاں قارئین کی دلچسپی کے لیے "تسطیر" کا اداریہ، چند معمولی ترامیم کے ساتھ، پیش ہے جو آج بھی نثری نظم سے متعلق بنیادی مباحث سے پوری طرح متعلق ہے۔ تاہم واضح رہے کہ یہ 1998ء میں ایک مدیر کی حیثیت سے لکھا گیا ایک مجموعی صورتِ حال کا جامع اظہاریہ تھا اور اِس کو اسی تناظر میں پڑھا جائے۔۔۔۔ نصیر احمد ناصر

[/blockquote]

نثری نظم کے شجرہ نسب کی جڑیں دنیا کے قدیم ادب سے ملتی ہیں۔ بہت سی دیومالائیں، لوک داستانیں اور قبل مسیح کے طویل رزمیے اپنے شاعرانہ آہنگ، ہیئت اور اسلوب میں نثری نظم کے قریب تر ہیں۔ قدیم ویدوں اور سنسکرت ادب سے بھی اس کے ڈانڈے ملائے جاتے ہیں۔ مغرب میں نثری نظم کا آغاز انیسویں صدی میں ہوا۔ ابتداْ فرانس میں اور بعدہ امریکہ میں اسے بہت فروغ حاصل ہوا۔ اردو میں مختلف ہیئتوں اور ناموں سے نثری نظم کی مثالیں بیسویں صدی کی تیسری دہائی سے ملنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ایک ادبی تحریک کے طور پر اس کا باقاعدہ آغاز ساٹھ کی دہائی سے ہوا۔ لیکن لگ بھگ تین دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی نثری شاعری کا یہ تجربہ اردو شعریات میں کسی واضح قبولیت کے مقام تک نہ پہنچ سکا اور ماسوا چند تخلیق کاروں کی ذاتی کاوشوں کے نثری نظم کا "دورِ اول" بالعموم کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکا۔ اس کی بڑی وجہ غالبْا سکہ بند قسم کی ادبی تحریکوں کے خلاف ردعمل اور اردو کی شعری روایات سے یک دم اور یکسر بغاوت تھی۔ اس کے علاوہ اس دور کے نثری نظم نگاروں کی ضرورت سے زیادہ جدت و تجردپسندی، مغرب پرستی اور شعری کیفیات و تجربات کو داخلی صاف گری کے عمل سے گزارے بغیر خام شکل میں پیش کر دینے والا تلخ رویہ بھی اس صنف کی ابتدائی ناکامی کا سبب بنا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ، جہاں نثری نظم کو یہاں تک فروغ حاصل ہے کہ بعض یونیورسٹیوں میں ادب کے طلبا کو رائم لکھنے سے منع کیا جاتا ہے، وہاں بھی یہ صنف ابھی تک ردوقبول ہی کے مرحلے میں ہے۔ اس کا اندازہ بعض امریکی جرائد کے اداریوں اور تحریروں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

 

نثری نظم کے شجرہ نسب کی جڑیں دنیا کے قدیم ادب سے ملتی ہیں۔ بہت سی دیومالائیں، لوک داستانیں اور قبل مسیح کے طویل رزمیے اپنے شاعرانہ آہنگ، ہیئت اور اسلوب میں نثری نظم کے قریب تر ہیں۔
گزشتہ دس پندرہ برسوں سے اردو نثری نظم ایک نئے فنامنا سے گزر رہی ہے۔ اسے نثری نظم کا "دورِ ثانی" بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس بار میدانِ قرطاس میں زیادہ تر وہ شعرا ہیں جو جدید تر شعری حسیات اور عصری ادبی شعور رکھنے کے ساتھ ساتھ اردو کی کلاسیکی شعری روایات سے بھی مربوط و منسلک ہیں اور فنِ شعر گوئی یعنی اوزان و بحور پر بھی گرفت رکھتے ہیں۔ نثری نظم نگاروں کی اس کھیپ کی شعری ترجیحات و ترغیبات کسی خاص ادبی تحریک کے تابع یا خلاف نہیں بلکہ ادب کے ان جدید اور پس جدید متنوع تخلیقی رویوں سے عبارت ہیں جو اس صنف میں نت نئے اسالیب اور موضوعات کے اضافے کا باعث ہیں۔ بلاشبہ اس زمرے میں وہ شعرا اور نارسیدہ و ناپختہ کار خامہ فرسا شمار نہیں کیے جا سکتے جو اردو کی شعری و عروضی روایات سے آگاہی حاصل کیے بغیر الٹی سیدھی سطروں میں سطحی اور خام شعری مواد کو نثری نظم یا نظم کے نام سے پیش کر دیتے ہیں۔

 

دراصل احساسات و خیالات کے بہاؤ کو محض شعوری طور پر کسی مخصوص سانچے میں ڈھالنا مشکل ہوتا ہے۔ ایسا کرنے سے تخلیق کی خوبصورتی، بے ساختگی اور بین السطور بہنے والی اداسی اور آگہی کی رو متاثر ہوتی ہے۔ دراصل ہر نظم اپنی ہیئت یا ساخت خود لے کر آتی ہے۔ تخلیق کے بعد اس کی تراش خراش تو کی جا سکتی ہے لیکن تخلیقی عمل کے دوران اسے زبردستی "نظم" یا "نثری نظم" نہیں بنایا جا سکتا۔ نثری نظم کہنا ایسا آسان بھی نہیں جیسا کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں اور نہ نثری نظم کے نام پر شائع ہونے والی چھوٹی بڑی چند سطروں پر مشتمل ہر تخلیق کو نثری نظم کہا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے گہرے تہذیبی شعور، آگہی، عرفان ذات، جدید طرز احساس، عمیق مطالعے، مشاہدے، ریاضت، تخلیقی مزاج کی موزونیت اور علامتوں، استعاروں، تشبیہوں اور پیکروں کے پیچیدہ مگر قابل فہم نظام کے علاوہ نامیاتی وحدت اور پسِ الفاظ اور بین السطور ایک اندرونی آہنگ جیسے لوازمات درکار ہوتے ہیں۔

 

دراصل ہر نظم اپنی ہیئت یا ساخت خود لے کر آتی ہے۔ تخلیق کے بعد اس کی تراش خراش تو کی جا سکتی ہے لیکن تخلیقی عمل کے دوران اسے زبردستی "نظم" یا "نثری نظم" نہیں بنایا جا سکتا۔
اردو نثری نظم پر اب تک کئی مباحثے و مکالمے ہو چکے ہیں اور طویل مضامین رقم کیے گئے ہیں جن میں اس کے نام، پس منظر، مزاج، آہنگ، علامتی و استعاراتی نظام، فنی و فکری جواز اور شناخت پر تفصیل دار بحث کی گئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ایک اہم سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ بعض شعرا اظہار کے مختلف سانچوں مثلاْ غزل، پابند نظم، معری نظم، آزاد نظم اور دیگر اصنافِ سخن پر قدرت رکھتے ہوئے بھی نثری نظم کب اور کیوں کہتے ہیں۔ میرے خیال اور تجربے کے مطابق نثری نظم اس وقت سرزد ہوتی ہے جب تخلیقی اداسی اور آگہی انسانی بس سے باہر ہو کر وجود کی حدیں پار کرنے لگتی ہے اور شاعری کے مروج پیمانے یا سانچے اس کے اظہار کے لئے ناکافی ہو جاتے ہیں۔ شاید انسان کی ازلی و ابدی تنہائی کسی ایسے شعری نظام اور لسانی آہنگ کی متقاضی و متلاشی ہے جسے ابھی تک دریافت نہیں کیا جا سکا۔ شاید نثری نظم اظہار کی اسی بے بسی کا غیر مرئی تخلیقی جواز ہے۔

 

نثری نظم کو پاک و ہند کے مختلف مکاتب فکر نثری نظم، نثر لطیف، نثرین، نثم، نثر پارے، نثرانے، نثمانے، نظم کہانی، نظمیے، امکانات وغیرہ کے نام سے قبول کرتے اور اپنے اپنے رسائل میں شائع کرتے ہیں۔ بیشتر اسے نظم کے خانے ہی میں رکھتے ہیں۔ گویا اس صنف میں اظہار پر تو کوئی اعتراض نہیں لیکن اس کے نام کا مسئلہ درپیش ہے۔ کچھ مکاتب فکر ایسے بھی ہیں جو اپنے افکار و نظریات میں جامد یا بہت زیادہ قدامت پسند ہونے کے باعث اس صنف کو اب تک تسلیم نہیں کرتے۔ یہ رویہ بھی ادبی اعتبار سے قابلِ تحسین نہیں۔ تاہم یہ احتیاط برحق ہے کہ نئی نسل کی شعری تربیت اور نصابی ضرورت کے تحت نثری نظم کو معری اور آزاد نظم سے الگ رکھا جائے۔

 

شعروادب کا ماخذ چاہے کسی بھی زبان سے نسبت رکھتا ہو، حتمی تخلیقی معیار کی قدر و تعین کے لئے اسے با لآخر اسی زبان کے حوالے سے دیکھا اور پرکھا جانا چاہیئے جس میں وہ تخلیق کیا گیا ہو۔
شعروادب کا ماخذ چاہے کسی بھی زبان سے نسبت رکھتا ہو، حتمی تخلیقی معیار کی قدر و تعین کے لئے اسے با لآخر اسی زبان کے حوالے سے دیکھا اور پرکھا جانا چاہیئے جس میں وہ تخلیق کیا گیا ہو۔ چنانچہ اردو نثری نظم کو بھی سنسکرت، ہندی، فرانسیسی اور انگریزی زبان و ادب کی کسوٹی پر پرکھنے کی بجائے، اردو زبان کی کٹھالی میں پگھلا کر، اسے اپنے سانچوں میں ڈھال کر دیکھنا ضروری ہے۔ اردو نثری نظم ساٹھ اور ستر کی دہائیوں کے عبوری دورانیے (دورِ اول) سے گزر کر اب اس مقام پر ہے جہاں اس کے ماخذات اور اس میں اولیت جیسے نزاعی معاملات ضمنی نوعیت کے رہ جاتے ہیں اور تخلیقیت زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ با لخصوص بیسویں صدی کی آخری دہائی میں تخلیق ہونے والی اردو نثری نظم اپنی ہیئت، اسلوب، موضوعات، زبان و بیان، لفظیات، کثیر معنویت، حساسیت اور عصر آفرینی کے اعتبار سے ارتقا اور خود مختاری کی روشن دلیل ہے۔ جو لوگ اسے کلیتہْ رد کرتے ہیں وہ دراصل اپنی شعری و ادبی نارسائی کا اظہار کرتے ہیں۔ یقیناْ دیگر اصناف ادب کی طرح اس میں بھی رطب و یابس اور ناشاعری در آئی ہو گی، اہل نقد و نظر کو چاہیئے کہ وہ ژرف نگاہی سے کام لیتے ہوئے اس کی چھان پھٹک کریں اور اس کی صحیح شعرات ترتیب دیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وسیع تر تخلیقی امکانات کی حامل اس صنف سخن پر کوئی سنجیدہ اور متفقہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے، اس کی ارتقائی پیش رفت کو تسلیم کرتے ہوئے برسوں پہلے کے عبوری خیالات و نظریات پر نظر ثانی کی جائے اور اسے برزخ کے عالم سے نکالا جائے۔

 

(نصیر احمد ناصر، اداریہ تسطیر، جنوری 1998)



ریفری‎

'م' نامی سڑک کے کنارے پر واقع 'ص' نامی رہائشی پلازے کی پہلی منزل کے نکڑ والے کمرے میں جو اپنے مثلث نما یعنی ٹیڑھے نقشے کی وجہ سے وکٹر ہیوگو کے عظیم ناول کبڑے عاشق کے مرکزی کردار کواسمودو کی یاد دلاتا تھا، میں، کیکاوس، سوموار کی صبح تقریباً ساڑھے چھ بجے پیشاب کرنے کےلئے بستر سے اٹھا اور پیشاب کر کے واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ وہ تو چارپائی پہ سویا ہوا ہے۔ سونے والے نے یعنی اس نے خود ہی سبز رنگ کا ٹراؤزر پہن رکھا تھا جس کی پنڈلی کی باہرلی طرف پیلے اور سیاہ رنگ کی دھاریاں بنی ہوئی تھیں۔ عام طور پر اس طرح کے ڈیزائن دار ٹراؤزر کھلاڑی پہنتے ہیں جن میں سے زیادہ تر کرکٹ اور ہاکی کے ہوتے ہیں۔ اس ٹراؤزر کے اوپر اس نے نیلے رنگ کے کپڑے کی ڈھیلی شرٹ پہن رکھی تھی جس کے ڈیزائن سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ بازار سے کم قیمت کسی ایسے درزی سے سلی ہوئی ہے جو زمانے کی رفتار سے تھک کر بڑھے بوڑھوں کے کپڑے سینے تک محدود ہو چکا ہے۔

 

اگر وہ دوسرے مذہب سے تعلق رکھتا اور جتنا بھی صاف ہوتا تو وہ اس بو کو نہ بھگا سکتا جو صرف ایک غیر مذہب ہی سونگھ سکتا ہے۔
تقریباً پانچ فٹ آٹھ انچ کا بائیس سالہ نوجوان ستتر کلو کی جسامت سے کسی آلو کی بوری کی طرح بستر پہ پڑا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے اسے یعنی خود کو جگانے کی ناکام کوشش کی اور بالآخر دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا۔ اس نے سگریٹ جلائی جو وہ اکثر رات کو دوستوں سے چوری چھپے اپنے بستر کے نیچے رکھ دیا کرتا تھا تاکہ صبح نہار منہ اس کو پی سکے۔ ایک دن کلاس میں اس نے ایک لیکچرر سے سنا تھا کہ سگریٹ دو ہی وقت مزہ دیتی ہے، ایک بستر سے اٹھ کر نہار منہ اور دوسرا رات کو سوتے وقت۔ اگر چہ لیکچرر کے بر خلاف اس نے دو سے زیادہ پینے والی عادت کو نہ چھوڑا مگر اس کے ٹائم ٹیبل کو مان لیا اور اب اس پہ ہی عمل پیرا تھا۔ ایک دو کش لیتے ہی سگریٹ نے اس کے دماغ کے غنودگی زدہ گھوڑے کو جگا دیا جو کہ اکثر نوجوان اور فلسفی سوچتے ہیں اور اس کا رخ اس نوجوان کے چہرے کی طرف مڑ گیا۔ اگر وہ سگریٹ نہ پی رہا ہوتا تو یہ کہا جا سکتا تھا کہ یقینناً اسے بستر پہ اپنے آپ کو پڑے دیکھ کر جھر جھری آ جاتی۔ پتلے بغیر کنگھی کیے ہوئے بال جن کو دھوئے ہوئے نجانے کتنے دن ہو چکے تھے، کھلا منہ اس کے اندر بغیر برش ہوئے پیلے دانت اور بڑھی ہوئی داڑھی اور مونچھیں جو موٹے نقوش پہ اور بھی بھدی لگنے لگتی ہیں۔۔۔۔ بالکل داتا دربار کے باہر فٹ پاتھ پر پڑے کسی ملنگ کی مافک جس کے بالوں سے مٹی نکال دی گئی ہو اور صاف اور مکمل کپڑے پہنا دیے گئے ہوں۔۔۔۔ اسے اس کے دوستوں کے متعلق تشویش ہونے لگی کہ کیا یہ ہم مذہبی تھی جو وہ اسے اس حال میں بھی برداشت کر رہے تھے یعنی اگر وہ دوسرے مذہب سے تعلق رکھتا اور جتنا بھی صاف ہوتا تو وہ اس بو کو نہ بھگا سکتا جو صرف ایک غیر مذہب ہی سونگھ سکتا ہے۔ اس نے گئے دنوں میں اس کے ہاں کام کرنے والے عیسائی جونی سائی کو یاد کیا جس کے برتن اس کے گھر والوں نے باقی مزارعوں کے برعکس علیحدہ رکھے تھے یا وہ نوجوان مارکسسٹ جن کے نزدیک دوسرے انسان سے نفرت صرف طبقاتی تقسیم کے معاملے میں ہوتی ہے جیسا عظیم کامریڈ میکسم گورکی نے کہا تھا کہ لوگ یا تو ہمارے دوست ہیں یا دشمن۔۔۔ تمام محنت کش ہمارے دوست ہیں اور تمام سرمایہ دار و جاگیر دار ہمارے دشمن۔۔۔۔ کیا سب ہاسٹل میں رہنے والے مارکسی نقطہ نظر سے سوچتے ہیں؟ نہیں مگر زیادہ تر!

 

وہ ایسے ہی بہت ساری باتیں سوچ رہا ہوتا مگر اتنے میں اس کے بستر پہ لیٹے نوجوان کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے کسی لمحے کا انتظار کیے بغیر اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے اور اس کے بستر پہ کیا کر رہا ہے؟ اس نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ کوئی بہروپیا ہے جس نے ٹی وی اور تھیٹر کی وجہ سے اپنا اصل کام چھوڑ کر چوری چکاری شروع کر دی ہے اور اب بھی اپنے پرانے فن سے مدد لیتا ہے۔۔۔ مگر اس نے اسے بالکل نظرانداز کر دیا جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہ ہو۔ اس نے اس کے ساتھ والے بستر پہ لیٹے وسیم کو جگانے کی کوشش کی جو اس کی ہی یونیورسٹی میں ماحولیات میں گریجوایشن کر رہا تھا مگر اس نے بھی کوئی جنبش نہ کی۔ تھک ہار کر وہ بیٹھ گیا اور اپنے آپ کو باتھ روم جاتے دیکھا۔ دس پندرہ منٹ بعد وہ باہر نکلا اور کپڑے پہننے لگ گیا۔ اس نے اسے کہا کہ آج حبس اور گرمی بڑھ گئی ہے تو کیا ہی اچھا ہو کہ وہ نہا لے لیکن جواب ندارد اسے رہ رہ کر اس پہ غصہ آ رہا تھا۔۔ تھوڑی دیر کے بعد اس لڑکے نے وسیم کو جگایا کہ دروازہ بند کر لے اور باہر نکل گیا۔

 

اسے لگا کہ اس کا وزن اس کے گناہوں سے بھی زیادہ ہے اور شاید اس کی بخشش صرف اپنا آپ اٹھائے رکھنے سے ہی ہو جائے گی۔
سڑک پر پہنچنے پر اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے دوست کا انتظار کیے بغیر جو گاڑی سے یونیورسٹی جاتا تھا، بس پر جائے گا اور ٹکٹ کاؤنٹر کی طرف بڑھ گیا۔ ٹکٹ لینے کے بعد جب وہ بس کی طرف جانے کے لئے سیڑھیوں کی جانب بڑھا تو دیکھا کہ بجلی نہ ہونے کے سبب وہ بند پڑی ہیں اور پیدل اوپر جانے کے خیال سے اس کا سانس رکنے لگا۔ اسے لگا کہ اس کا وزن اس کے گناہوں سے بھی زیادہ ہے اور شاید اس کی بخشش صرف اپنا آپ اٹھائے رکھنے سے ہی ہو جائے گی۔ وہ اکثر آخرت میں ملنے والی سزا کا دنیا ہی میں ہونے والی معمولی قسم کی چیزوں سے موازنہ کیا کرتا تھا جیسے وہ اپنے ایک دوست بلال کو کہتا تھا کہ وہ آخرت کا عذاب دنیا میں گھٹیا موبائل استعمال کرنے کی صورت میں بھگت رہا ہے۔۔۔۔۔ آخر اس نے ہمت باندھی اور اوپر چڑھنے لگا۔ اوپر پہنچ کر اس نے ٹوکن چیک کروایا اور آگے بڑھ گیا۔ ابھی پلیٹ فارم پہ پہنچا ہی تھا کہ گاڑی آ گئی. دروازہ کھلا اور اندر داخل ہو گیا. کیکاؤس بھی ساتھ ہی تھا مگر کوئی بھی اسے دیکھ یا محسوس نہیں کر رہا تھا۔ گاڑی کے اندر تل دھرنے کی جگہ نہ تھی اور رش کی وجہ سے اے سی بھی کام کرنا چھوڑ چکے تھے۔ یہ تمام بھیڑ جس میں زیادہ تر تعداد داتا صاحب، شاہ عالمی چوک اور اردو بازار میں کام کرنے والوں کی تھی اپنی وضح قطح سے صاف پہچانی جا سکتی تھی۔ ان میں سے زیادہ تر ایسے رنگوں والی شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جن کے بارے آسانی سے بتایا نہیں جا سکتا اکثر دیہاتوں میں اسے سفیانے یا ٹسری رنگ کی طرز کے نام دیے ہوتے ہیں اور پاؤں میں چائنہ کے جوتے، سستی چپلیں اور اکثر کے موبائل نوے کے عشرے کے ہندی گانوں کی ٹیون لیے بج اٹھتے۔ ان میں سے کوئی بھی سارے راستہ نہ اترا اور بالآخر اس کا سٹاپ آ گیا۔ کیکاؤس بھی بھیڑ کو کاٹتے ہوئے باہر نکلا اور خود کے ساتھ ہو لیا۔ نیچے اتر کر اس نے سڑک پار کی۔ بے ہنگم اژدھام کی وجہ سے سڑک پار کرنا اسے فتح کرنے جیسا لگتا تھا اور یونیورسٹی میں داخل ہو گیا۔ داخل ہوتے ہی ایک چوکیدار نے اسے روک لیا اور کارڈ دکھانے کا تقاضہ کیا۔ اس نے کارڈ نکالا اور بغیر کسی تاثر کے چوکیدار کے آگے کر دیا۔ کیکاؤس نے خود کو انتہائی غصہ سے دیکھا اور کہا کہ اسے چوکیدار کو بتانا چاہیے تھا کہ وہ بہت عرصہ سے یہاں سے گزر رہا ہے اور اس کا یوں اس طرح روکے جانا اس کے وجود کی نفی ہے کہ کوئی بھی اس کے بارے میں نہیں سوچتا۔ مگر اسے کوئی جواب نہ دیا گیا۔

 

چوکیدار سے نپٹ کر وہ غسل خانے گیا تاکہ کلاس میں داخل ہونے سے پہلے منہ دھو لے کہ کچھ تازہ لگ سکے اور اس شیشے کے سامنے کھڑا ہو گیا جس کے بارے میں اسے لگتا تھا کہ وہ اسے کافی اچھا دکھاتا ہے۔ وہ شیشوں کی نفسیات اور شکل کے معاملے میں اکثر پریشان رہا کہ اس کا چہرہ کیسا ہے کیا وہ اتنا ہی پیارہ ہے جتنا اس شیشہ میں نظر آتا تھا یا اتنا ہی بھدا جتنا کہ ساتھ والے شیشہ میں۔ منہ دھو کر وہ باہر نکلا اور اس راستے سے کلاس میں جانے لگا جہاں وہ کم سے کم کسی کو نظر آسکے۔ اور کلاس میں چلا گیا۔ کلاس ختم ہونے پر بغیر کوئی لمحہ ضائع کیے وہ باہر نکلا اور صحن میں لگے ہوئے بینچ کے پاس آکر کھڑا ہو گیا جہاں اور بھی لڑکے جمع تھے۔ اس خوف سے کہ کوئی اسے مذاق کا ہدف بنائے اس نے کوشش کی کہ باتوں کو کسی اور موضوع کی طرف موڑ دے اور کامیاب ہو گیا۔

 

چوکیدار سے نپٹ کر وہ غسل خانے گیا تاکہ کلاس میں داخل ہونے سے پہلے منہ دھو لے کہ کچھ تازہ لگ سکے اور اس شیشے کے سامنے کھڑا ہو گیا جس کے بارے میں اسے لگتا تھا کہ وہ اسے کافی اچھا دکھاتا ہے۔
کیکاؤس کا غصہ اب چرچراہٹ میں تبدیل ہونے لگا تھا۔ وہ باقی لڑکوں کو ورغلانے لگا کہ اسے بےعزت کریں، جگتیں لگائیں مگر کوئی بھی اس کی باتوں میں نہ آیا۔ بالآخر وہ ان کے پاس سے اٹھا اور لائبریری چلا گیا اور فلسفہ وجودیت کے اوپر لکھی ایک کتاب پڑھنے لگا۔ وہ بھی اس کے پاس بیٹھ گیا اور اس نظریہ کے اوپر لکھے ناولوں کے ورق کھنگالنے لگا۔ وہ جوں جوں انہیں پڑھتے گیا توں توں اسے ان کے کرداروں سے نفرت ہونے لگی۔ ایک ایک کردار اسے منافقت کا مینار لگ رہا تھا جسے جاننے اور نا جاننے والے سبھی پر شکستہ (رشک اور حسد کے ملے جلے تاثر) نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ اگر وہ سب زندگی سے اتنے تنگ تھے تو مر کیوں نہیں گئے انہوں نے دوسروں کو کیوں ورغلایا کہ زندہ رہنا قابل نفرت ہے۔ آخر دوستوئفسکی اور چیخوف نے ان سے بدتر زندگی گزاری تھی لیکن اس کے باوجود اس سے محبت کی حالانکہ وہ دونوں اپنے سے زیادہ دوسروں سے پیار کرتے تھے۔ اس نے دعا کی کہ اے پروردگار اس لڑکے کو جلدی سے اس سنسان کونے سے اٹھا تاکہ یہ ناامیدی کے اس حصار سے جو ان کتابوں نے کھینچ دیا تھا باہر نکلے۔ وہ یہ دعا مانگ ہی رہا تھا کہ لڑکے نے جیب سے موبائل نکالا۔ اس پہ ایک پیغام آیا ہوا تھا جس میں لکھا تھا کہ نیچے آؤ کھانا کھانے چلتے ہیں۔ اس نے کتاب بند کی اور نیچے دوست کے پاس چلا گیا۔ اس کے پہنچنے پر دو اور لڑکے جمع ہو گئے جو ان کے مشترکہ دوست تھے اور چاروں کینٹین کی طرف چل پڑے۔کینٹین پہنچ کر انہوں نے کھانے کا آرڈر دیا اور کھانے لگے۔ اس سب کے دوران کیکاؤس اپنے آپ کو ایک طرف بیٹھ کے دیکھتا رہا۔ کھانا کھانے کے بعد اس نے باقیوں سے اجازت لی اور اپنی رہائش گاہ پر جانے کے لئے چل پڑا۔

 

رہائش گاہ پر جا کر آرام کرنے کے خیال سے وہ خاصا پرجوش لگ رہا تھا، اس نے دعا مانگی کے بجلی نہ ہو تاکہ سیڑھیاں چڑھنے کے بہانے اس کا کھانا ہضم ہو جائے اور تھک بھی جائےلیکن اب کی بار اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، بجلی ہونے کی وجہ سے وہ ان پر کھڑا ہوا اور یک لخت اوپر پہنچ گیا۔ ٹکٹ کاؤنٹر پہ کوئی مسافر کھڑا نہ ہونے کی وجہ سے اس نے آسانی سے ٹکٹ لی اور بس پہ سوار ہو گیا۔ صبح کے قابل نفرت مسافر اب اتنے باعث نفرت نہیں لگ رہے تھے۔ شاید اسکی وجہ کم رش ہی تھا۔ سٹاپ پر پہنچ کر وہ نیچے اترا اور فلیٹ کی طرف بڑھ گیا۔ فلیٹ کے لالچی چوکیدار نے جو اکثر اس سے سو پچاس مانگ لیا کرتا تھا اسے سلام کیا جس کا جواب اس نے ہاتھ ہلا کر دیا۔

 

کمرے میں پہنچتے ہی اس نے دروازہ بند کیا۔ کنڈی لگائی اور کپڑے اتار کے سو گیا۔ کیکاؤس نے کچھ دیر اس کے سونے کاانتظار کیا اور آنکھ لگتے ہی اس کے جسم میں گھس گیا۔

 

کچھ دیر بعد پورے دن کے حالات کو لے کر ان دونوں کرداروں نے آپس میں باتیں شروع کردیں جیسے فلسفی اوشو اور سوال کرنے والوں کے درمیان ہوتی ہیں۔ اس دوران اس کے جسم نے آخری سوال کیا کہ کب تک ہمیں اس طرح جینا ہو گا؟ یہ بوجھ کب تک اٹھائے رکھنا ہے؟

 

جب تک چار آدمی تمہیں اٹھا کر قبرستان تک نہیں چھوڑ آتے۔ اس نے جواب دیا اور دونوں خاموش ہو گئے۔

Image: Rook Floro




کسی دن چلیں گے کراچی

کسی دن چلیں گے کراچی
کسی دن چلیں گے
کراچی
سمندر میں آنکھیں بہا کر
اُسے دیکھنے کی تمنا کریں گے
جو بچپن میں گھر سے چلا تھا
کہ شپ یارڈ دیکھوں گا
بحری جہازوں میں دنیا کے چکر لگاؤں گا
پیسے بناؤں گا
لیکن فلیٹوں، پلازوں کی دنیا میں
بجری اٹھاتے اٹھاتے
کسی ریت کے ڈھیر میں کھو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
کسی دن چلیں گے
سمندر کنارے
اُسے پھینکنے کے لیے
شہر کے زیرِ تعمیر سارے مکانوں کا کچرا
مِرے دل میں بھرتا چلا جا رہا ہے!

Image: Hanif Shehzad




عشرہ / موج دریا، آر آئی پی

[blockquote style="3"]

عشرہ -- دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
عشرہ / موج دریا، آر آئی پی
تعمیراتی / تخریباتی کام ہمیشہ
پٹواری بٹا، ٹھیکیدار کا جام -- ہمیشہ
چوبرجی اج خطرے میں، اسلام ہمیشہ
ہنستا بستا رہے لاہور کا نام ہمیشہ

 

زندے ہیں اس شہر کے مردے، مردے زندے
سزا جزا سب اپنے کیے کی، یا نہ کیے کی
یہ وہ عوام الناس ہیں جن کو "ان کے" نمائندے،
"ان کی" عدالتیں، "ان کی" فوجیں مارتی ہیں

 

کوئی مارکیٹ نہیں مزار پہ جلتے دیے کی
سرمائے کی نہریں موجیں مارتی ہیں

Image: The Nation




پیار کرنے کے سو آسان طریقے

پیار کرنے کے سو آسان طریقے
میں نے اپنی تمام خواہشوں کو یکجا کیا
اور اخراجات کے کفن میں لپیٹ کے دفن کر دیا
قبر سے چھوٹے چھوٹے نیم سے کڑوے پودے نکل آئے
میں روز پودے کاٹتا ہوں
روز ایک نیا پودا قبر سے نکل آتا ہے
ہر پودے کے کٹتے ہی
میرے بچے کی نئی فرمائش سامنے آتی ہے
کبھی اس بلی کی فرمائش
جس کے گلے میں چوہوں نے گھنٹی باندھی تھی
کبھی الہ دین کے چراغ کی فرمائش
کبھی نیرو کی بانسری
کبھی سنڈریلا کی سینڈل
اور بہت کچھ
اس لیے میں نے وہ تمام کتابیں کتب خانے سے نکال دیں
جن میں دیو مالائی قصوں کا ذخیرہ تھا
الف لیلیٰ کی تمام جلدیں چھپا دیں
اجداد کی رومان پرور داستانیں جلا دیں
خدا جانے کہاں سے اک کتاب ہاتھ آ گئی
پیار کرنے کے سو آسان طریقے
اب میرے بچے کی فرمائش ہے کہ اسے محبوبہ چاہیے



میرواہ کی راتیں- تیسری قسط

رفاقت حیات کے ناول 'میر واہ کی راتیں' کی دیگر اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

اس شب وہ سونے کے لیے محراب دار برآمدے میں چارپائی پر بچھے اپنے بستر پر لیٹا تو اسے محرابوں کی جگہ دو بڑی بڑی آنکھیں دکھائی دینے لگیں۔ کبھی وہ آنکھیں بازو بن کر اس کے وجود کے گرد پھیل جاتیں اور کبھی ہونٹ بن کر اس کی سماعت میں مبہم لیکن مسحور کر دینے والی سرگوشیاں کرنے لگتیں۔ نیند کے دوران خواب میں اس نے ان آنکھوں کو زیرِزمین غلام گردش میں تبدیل ہوتے دیکھا، وہ جس میں داخل ہوا تو پھر اسے وہاں سے نکلنے کا راستہ نہیں مل سکا۔ غلام گردش میں وہ ان آنکھوں کی مالکن کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گیا مگر وہ اسے کہیں دکھائی نہیں دی۔ صبح کو چاچی خیرالنسا نے جب اسے نیند سے جگایا تو وہ ہانپ رہا تھا اور اس کا چہرہ پسینے میں بھیگا ہوا تھا۔

 

وہ آنکھیں اس کے اعصاب پر اتنی بری طرح سوار ہوئیں کہ اگلے کئی روز تک وہ گوٹھ ہاشم جوگی کے پھیرے ہی لگاتا رہا، لیکن اسے معلوم ہی نہیں ہوسکا کہ وہ پردہ نشین کون تھی اور کس کے گھر میں رہتی تھی۔
وہ آنکھیں اس کے اعصاب پر اتنی بری طرح سوار ہوئیں کہ اگلے کئی روز تک وہ گوٹھ ہاشم جوگی کے پھیرے ہی لگاتا رہا، لیکن اسے معلوم ہی نہیں ہوسکا کہ وہ پردہ نشین کون تھی اور کس کے گھر میں رہتی تھی۔ نذیر کبھی پیدل اور کبھی سائیکل پر گوٹھ کے آس پاس منڈلاتا رہا۔ وہ وقفے وقفے سے بہانہ بنا کر دکان سے چھٹی لیتا اور آدھے پون گھنٹے میں چکر لگا کر لوٹ آتا۔ ایک مرتبہ اس نے گوٹھ سے آنے والے راستے پر نگاہ رکھنے کے لیے گنے کے کھیت کو منتخب کیا۔ وہ بہت دیر تک وہاں دبک کر بیٹھا رہا اور گاؤں آنے جانے والوں پر نظر رکھتا رہا، مگر اسے خاطرخواہ کامیابی نہیں مل سکی۔ اس نے گوٹھ ہاشم جوگی آنے جانے والے تمام راستوں کا پتا چلایا اور وہ وہاں بھی پہرہ دیتا رہا، مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔

 

تین مرتبہ اسے برقع پوش عورتوں کو دیکھ کر اس پردہ نشین کا گمان گزرا۔ اس نے تندہی سے ان کا تعاقب کیا۔ ان کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا وہ نہر عبور کر کے قصبے کی طرف نکل آیا اور بازار کے اطراف کی گلیوں میں گھومتا پھرا۔ نذیر کے لیے عورتوں کو ان کی چال کے ذریعے پہچاننا مشکل تھا مگر جب اس نے ایک نظر ان کی آنکھوں میں جھانکا تو اسے فوراً پتا چل گیا کہ وہ برقعے کی وجہ سے دھوکا کھا گیا تھا۔

 

اسے اپنی کوششوں کے رائیگاں چلے جانے پر بے حد افسوس تھا۔ وہ اپنے آپ سے خفا بھی تھا کہ اس معاملے میں وہ کس قدر انہماک سے مبتلا ہو گیا تھا۔ ایک ایسی عورت کے لیے اس کی جستجو اور خواری کے کیا معنی؟ اس کے لیے جس سے ملاقات کرنا ناممکن، جسے دیکھنا شدید دشوار اور جس سے گفتگو کرنا بالکل محال تھا۔ اس نے خود کو ذلیل ترین آدمی تصور کیا۔ اس نے اپنے آپ سے پیمان باندھا کہ وہ آئندہ اس کے بارے میں بالکل نہیں سوچے گا۔ اس نے غصے میں آ کر اپنے آپ سے پیمان تو باندھ لیا مگر وہ اچھی طرح جانتا تھا، اس کی ذات کے پاتال میں پیوست دو آنکھیں اسے بےقراری سے اپنی جانب بلاتی رہیں گی اور ان کے بلاوے پر وہ اپنا پیمان، اپنا غصہ وغیرہ سب فراموش کر دے گا، اور ایک نئے عزم کے ساتھ پردہ نشین کی جستجو میں نکل پڑے گا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ایک دوپہر کو نذیر وڈیرے کریم بخش جلبانی کی حویلی میں سلائی شدہ کپڑے پہنچا کر لوٹ رہا تھا کہ اسے ایک گلی میں وہی پکوڑا فروش اپنے پکوڑوں سے بھرے تھال سمیت نظر آیا۔ اسے دیکھتے ہی اس کے پاؤں ساکت ہو گئے۔

 

پکوڑا فروش ایک دیوار کے سائے میں تھال زمین پر رکھ کر بیٹھا تھا۔ اس کے آس پاس بچوں نے حلقہ بنا رکھا تھا اور شور مچا مچا کر وہ سب اس سے پکوڑے مانگ رہے تھے۔
پکوڑا فروش ایک دیوار کے سائے میں تھال زمین پر رکھ کر بیٹھا تھا۔ اس کے آس پاس بچوں نے حلقہ بنا رکھا تھا اور شور مچا مچا کر وہ سب اس سے پکوڑے مانگ رہے تھے۔ وہ ان کی مانگ پر ہنستا ہوا اخباری کاغذ کے کٹے ہوے ٹکڑوں پر پکوڑے رکھ کر، ان پر مسالہ چھڑک کر بچوں کو تھما دیتا۔ جس بچے کو پکوڑے مل جاتے وہ اسے پیسے تھما کر بھاگ جاتا۔ اس کی چابک دستی کی وجہ سے تھوڑی ہی دیر میں بچوں کی بھیڑچھٹ گئی۔ پکوڑوں سے بھرا تھال تقریباً آدھا فروخت ہو چکا تھا۔ پکوڑافروش اپنی آمدنی کا حساب لگا کر پیسے اپنی جیب میں رکھنے لگا۔ اس دوران اس کی نظر اس سے کچھ فاصلے پر کھڑے نذیر پر جا ٹھہری، جو اس سے بظاہر لاتعلقی ظاہر کرتا، یوں ہی اِدھراْدھر دیکھ رہا تھا۔

 

پکوڑا فروش ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے اسے شک بھری نظر سے دیکھتا اٹھ کھڑا ہوا۔ اپنے کاندھے سے انگوچھا اْتار کر اپنے چہرے کی گرد صاف کرتے ہوے وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔ اس نے کھڑے کھڑے جیب سے پولو فلٹر کا سگریٹ نکال کر سلگایا اور دو تین لمبے کش کھینچے۔ اس کے بعد وہ اپنے تھال کو سر پر رکھ کر وہاں سے چل پڑا۔

 

جانے سے پہلے اس نے ایک بار پھر نذیر کو مشکوک نظروں سے دیکھا مگر وہ دوسری جانب دیکھتا رہا اور اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں۔ پکوڑا فروش کے جانے کے بعد وہ مخمصے میں تھا کہ اس کا پیچھا کرے یا نہ کرے۔ اس دوران معاً اس کا ہاتھ اپنی جیب تک گیا تو وہاں چند نوٹوں کی موجودگی نے اسے مخمصے کے عالم سے نکالا۔ وہ تیزرفتاری سے اس سمت بھاگنے لگا جس طرف وہ گیا تھا۔

 

اگلی گلی کے موڑ پر اسے دور سے پکوڑا فروش جاتا ہوا دکھائی دیا۔ تیز دوڑنے کی وجہ سے، بے حدّت دھوپ کے باوجود، نذیر کی بغلیں سلگنے لگیں اور وہاں سے بہتا پسینہ قمیض سے ہوتا اس کی شلوار میں داخل ہونے لگا۔ اسے لگ رہا تھا کہ جب وہ پکوڑ فروش کے پاس پہنچے گا تو وہ قہقہے لگائے گا اور پوشیدہ بات آشکار ہو جائے گی۔ اپنا پسینہ خشک کرنے کی خاطر وہ دھیرے سے چلتا اس کا تعاقب کرنے لگا۔ آگے چل کر ایک سایہ دار گلی میں اس نے پکوڑافروش کو آواز دی: "پکوڑے والے، رکنا!"

 

وہ اپنے سر سے تھال اْتارے بغیر رک گیا اور پلٹ کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔

 

پکوڑافروش اس کے لہجے کے تحکم سے متاثر ہوا۔ اس کی آنکھوں سے شک کے سبب پیدا ہونے والی درشتی غائب ہو گئی۔ وہ اپنی نظروں سے تھال میں پڑے پکوڑوں کو تولنے لگا
نذیر آہستگی سے چلتا اس کے قریب آیا اور اس سے کھردرے لہجے میں پوچھنے لگا، "تھال میں جو پکوڑے بچ گئے ہیں، وہ کتنے کے بیچو گے؟"

 

پکوڑافروش اس کے لہجے کے تحکم سے متاثر ہوا۔ اس کی آنکھوں سے شک کے سبب پیدا ہونے والی درشتی غائب ہو گئی۔ وہ اپنی نظروں سے تھال میں پڑے پکوڑوں کو تولنے لگا۔ "سائیں وڈا! یہ سارے آپ اکیلے کھا نہیں سکیں گے۔"

 

نذیر گھورتے ہوے بولا، "تمھیں اس سے مطلب؟"

 

"غلطی معاف! پورا تھال چھتیس روپے کا دے دوں گا۔"

 

"مطلب، پکوڑوں کے ساتھ تھال بھی؟" اس نے مسکراتے ہوے پوچھا۔

 

پکوڑافروش عاجزی سے مسکرانے لگا۔ "یہ تو میری روزی کا وسیلہ ہے، سائیں!"

 

"تم کوئی گاڈا یا ٹھیلا کیوں نہیں خرید لیتے؟" وہ اس کے مرعوب ہونے سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔

 

"بوہتار! میں غریب آدمی ہوں، گاڈا خریدنا میرے بس سے باہر ہے،" یہ بات کہتے ہوے اس نے تھال پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔

 

نذیر نے اس کا نام پوچھا تو اس نے بتایا: "نْورل جوگی۔"

 

سارے پکوڑے اخبار میں لپیٹنے کے بعد اس نے اپنے تھال کو فوراً اپنی بغل میں دبا لیا۔ اس نے یہ دیکھ کر خود کو مسکرانے سے بمشکل روکا۔ جب نورل نے اخبار میں لپٹے ہوے پکوڑے اس کی طرف بڑھائے تو نذیر نے پکوڑے لینے سے انکار کر دیا۔

 

۔ نذیر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پچاس کا نوٹ اس کی جیب میں رکھتے ہوے بولا، "نورل، تم بہت اچھے آدمی ہو اور یہ تمھاری خرچی ہے۔"
اس کا انکار نورل جوگی کے لیے غیرمتوقع تھا۔ وہ باربار پلکیں جھپک کر اسے دیکھنے لگا۔ نذیر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پچاس کا نوٹ اس کی جیب میں رکھتے ہوے بولا، "نورل، تم بہت اچھے آدمی ہو اور یہ تمھاری خرچی ہے۔"

 

اس کی بات سن کر وہ ہکابکا رہ گیا، پھر اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور ہاتھ جوڑ کر اس کا شکریہ ادا کیا۔

 

نذیر نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور خوش دلی سے اسے ساتھ چلنے کی پیشکش کرنے لگا۔ "آؤ! چل کر ہوٹل پر چائے پیتے ہیں۔"

 

یہ سن کر نورل کی باچھیں کھل اٹھیں۔ وہ نذیر کو صاحبِ ثروت خیال کرنے لگا۔ وہ تابعداری اور جی حضوری کے جذبات سے سرشار ہو کر اس کے ساتھ چلنے لگا۔ اس نے اپنی حیرت اور پریشانی نذیر پر ظاہر نہیں ہونے دی۔ وہ اندر سے سہما ہوا تھا کیونکہ اس وقت اس کی جیب میں تھوڑی سی چرس پڑی تھی۔ اسے خدشہ تھا کہ یہ نوجوان سخی بابو کسی ایجنسی کا اہلکار نہ ہو اور پچاس روپے اور چائے کی پیشکش کے عوض نورل کو کہیں تین مہینے حوالات میں نہ کاٹنے پڑ جائیں۔ چائے خانے تک پیدل جاتے ہوئے وہ اسے کریدنے کی کوشش میں اس سے الٹے سیدھے سوال پوچھتا رہا۔ نذیر بھی اس کی ذہنی کیفیت کو بھانپ چکا تھا۔ وہ اس کے بے تکے سوالوں کے بے تکے جواب دیتا رہا۔ وہ اس بات سے بھی بے نیاز ہو گیا کہ چھوٹے سے قصبے میں حقیقت کو چھپانا مشکل ہوتا ہے۔ اس نے اپنے آپ کو یہ سوچ کر مطمئن کر لیا تھا کہ اس کا تعلق اس قصبے سے نہیں تھا۔ یہی سوچ کر اس نے دروغ گوئی سے کام لیتے ہوے نورل کے سامنے خود کو وڈیرے کریم بخش جلبانی کے دوست کا بیٹا ظاہر کر دیا۔ نورل نے اس کے جھوٹ پر یقین کر لیا اوراسے اطمینان ہو گیا کہ یہ چھوکرا اسے حوالات میں بند نہیں کروائے گا۔

 

چند چھوٹی بڑی گلیوں سے گزرتے وہ بازار تک پہنچے اور بازار سے گزر کر نہر کے وسیع و عریض بند پر واقع ایک چائے خانے تک۔ یہ میرواہ نہر کا دایاں کنارہ تھا اور آگے اس کنارے پر واقع کئی گوٹھوں کے لیے یہ بند کچی سڑک کا کام بھی دیتا تھا۔ اس سڑک پر گاڑیوں کی آمدورفت براے نام ہوتی تھی۔ اسی کا فائدہ اٹھا کر چائے خانے کے مالک نے سڑک پر کرسیاں بچھا دی تھیں۔ اس چائے خانے کے آس پاس چند خستہ سی دکانیں تھیں۔ کسی دکان میں حجام کام کر رہا تھا تو کسی میں بڑھئی۔ ان دکانوں کے عقبی حصے کے ساتھ مکانوں کی طویل قطار متصل تھی۔ مکانوں کی یہ قطار تھوڑی دور جا کر ختم ہو جاتی تھی۔ سب سے آخر میں محکمہ آبپاشی کا ڈاک بنگلہ واقع تھا جبکہ سامنے، بائیں کنارے پر، کھیتوں کا طویل سلسلہ تھا جس کے درمیان کہیں کہیں چھوٹے بڑے گوٹھ نظر آتے تھے۔

 

اس وقت اس کی جیب میں تھوڑی سی چرس پڑی تھی۔ اسے خدشہ تھا کہ یہ نوجوان سخی بابو کسی ایجنسی کا اہلکار نہ ہو اور پچاس روپے اور چائے کی پیشکش کے عوض نورل کو کہیں تین مہینے حوالات میں نہ کاٹنے پڑ جائیں۔
نذیر بند پر درختوں کے نیچے بچھی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ گیا۔ اس کے چہرے کا رخ گوٹھ ہاشم جوگی کی طرف تھا جہاں اسے متحیر کرنے والی، بے باک اور چمک دار دو آنکھوں کی جوڑی کی مالکن رہتی تھی۔ اس کے دل میں بسی برقع پوش کی یاد کی آگ دھیرے دھیرے آنچ دینے لگی۔ نورل بلاسبب اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کرتا، اپنا تھال اس کے سامنے رکھ کر چائے خانے کے اندر چلا گیا۔

 

نذیر کو اس سے بے حد اہم باتیں پوچھنی تھیں۔ وہ منہ بسورتے ہوے نہر کی طرف دیکھنے لگا۔ نہر میں پانی بہت کم تھا۔ کناروں کے اندر پانی سے زیادہ مٹی نظر آ رہی تھی۔ شیشم کے ٹنڈمنڈ درخت بند پر دور تک قطاروار کھڑے تھے۔

 

نورل جوگی نے واپس آنے میں کچھ زیادہ ہی دیر لگا دی مگر جب وہ آیا تو چائے کی پیالیاں ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے آیا۔ اس کی آنکھیں گہری سرخ ہو رہی تھیں اور اس کا چہرہ سوجا ہوا تھا۔

 

نذیر فوراً بھانپ گیا کہ پکوڑافروش نے اندر ضرور چرس یا بھنگ کا نشہ کیا ہے اسی لیے اس کی یہ درگت بنی ہوئی ہے۔ نذیر نے مسکرا کر اسے دیکھا اور چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے اس سے چرس کا سگریٹ پلانے کی فرمائش کی۔ اس کی فرمائش سن کر پکوڑافروش نے قہقہہ لگایا اور کسی توقف کے بغیر جیب سے سگریٹ نکال کر اسے خالی کرنے لگا۔ اس کے ہاتھ سرعت سے کام کر رہے تھے۔ اس دوران وہ چند لمحوں کے لیے دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوگیا۔ چرس کا سگریٹ بنانے کے بعد اس نے اپنے ایک ہاتھ پر دیاسلائی اور دوسرے پر چرس کا سگریٹ رکھ کر اسے پیش کر دیا۔ نذیرکو چرس پیتے دیکھ کر اس کے ذہن میں بسے تمام شکوک و شبہات ختم ہو گئے۔

 

نذیر پہلی بار چرس کے سگریٹ کو اپنے ہونٹوں سے لگا رہا تھا۔ اس نے جیسے ہی پہلا کش لگایا تو اسے محسوس ہوا جیسے اس کی چھاتی پر کسی نے زوردار مْکّا مار دیا ہو۔ وہ فوراً کھانسنے لگا اور اس کا سر اتنی تیزی سے چکرانے لگا کہ اس کی آنکھوں سے پانی رواں ہو گیا اور حلق میں کڑوا ذائقہ پھیل گیا۔ اس نے اپنے سر کو دو تین بار زور سے جھٹکا اور ایک لمحے کے لیے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ کچھ دیر بعد اس کے سر نے چکرانا بند کر دیا اور گردوپیش کی چیزوں کا گھومنا بھی تھم گیا۔

 

چرس کا سگریٹ بنانے کے بعد اس نے اپنے ایک ہاتھ پر دیاسلائی اور دوسرے پر چرس کا سگریٹ رکھ کر اسے پیش کر دیا۔ نذیرکو چرس پیتے دیکھ کر اس کے ذہن میں بسے تمام شکوک و شبہات ختم ہو گئے۔
نورل بھاگتا ہوا گیا اور پانی سے بھرا گلاس لے آیا۔ اس نے پانی سے بھرا گلاس نذیر کو تھمایا۔ پانی کے چند گھونٹ پی کر اس کے حلق میں پھیلی تلخی ختم ہو گئی۔ اس کے بعد اس نے بے حد اصرار کر کے نورل سے ایک مرتبہ پھر چرس کا سگریٹ لیا اور دو تین کش لگائے۔ اس بار بھی وہ کش کے ذریعے زیادہ دھواں نہیں کھینچ سکا۔

 

نورل اس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر مسکراتے ہوے کہنے لگا، "میرے سائیں، یہ فقیر فقرا کا پسندیدہ نشہ ہے۔ اس کے کش لگا کر آدمی کا ذہن عرش پر پہنچ جاتا ہے۔"

 

نذیر نے اس کی بات سمجھے بغیر اثبات میں سر ہلایا، مگر درحقیقت اس کا دماغ ماؤف ہو چکا تھا۔ اسے نورل جوگی سے بہت کچھ پوچھنا تھا مگر چرس کے چند کش لگا کر وہ اپنی جراتِ اظہار کھو چکا تھا۔ اس کے لیے سوال پوچھنا تو درکنار، بات کرنا بھی سخت دشوار ہو رہا تھا۔ وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا ہوا پکوڑافروش سے بس اتنا ہی کہہ سکا: "نورل، آج سے اپنی دوستی پکی۔ ٹھیک ہے؟"

 

"ہاں، بالکل ٹھیک ہے بوہتار!" اس نے تابعداری سے جواب دیا۔

 

کچھ دیر بعد نذیر نے رخصت لیتے ہوئے اسے خداحافظ کہا اور ڈگمگاتے قدموں سے ڈاک بنگلے کی طرف چل پڑا۔ وہ ایسی حالت میں دکان پر نہیں جانا چاہتا تھا۔ اسے خوف تھا کہ اس کی سرخ آنکھیں دیکھ کرسب لوگوں کو پتا چل جائے گا کہ اس نے نشہ کیا ہوا ہے۔ وہ ڈاک بنگلے کے عقب میں واقع سرسبز قطعہءِ زمین پر نیم کے گھنے پیڑوں کی چھاؤں میں کچھ دیر سستانے کی غرض سے دراز ہو گیا۔ خنک ہوا اور نشے کی وجہ سے اس کی آنکھیں مندنے لگیں اور اس کے اعصاب پر نیند کا خمار چھانے لگا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

نذیر کے بھائی اور والد اسے کبھی شہربدر نہ کرتے اگر وہ میرپور ماتھیلو کے چکلے کی بدنامِ زمانہ رنڈی زوری کی زلفوں کا اسیر نہ ہو جاتا۔
نذیر کو میرپور ماتھیلو سے ٹھری میرواہ آئے ہوے چھ مہینے سے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ اسی لیے یہاں زیادہ لوگوں سے اس کی جان پہچان نہیں تھی۔ وہ اپنے والدین کی آٹھ اولادوں میں چوتھے نمبر پر تھا، اس لیے اس کے حصے میں ماں باپ کا اتنا پیار نہیں آ سکا جتنا اس کے سب سے بڑے بھائی اور سب سے چھوٹے بھائی کے حصے میں آیا تھا۔ اس کا بچپن اور لڑکپن ماں باپ اور بڑے بھائیوں کی گھرکیاں کھاتے ہوئے گزرا۔ پانچ برس کی عمر میں جب اسے اسکول میں داخل کروایا گیا تو پہلے ہی دن ایک لنگڑے استاد نے کسی وجہ کے بغیر اسے تین زوردار تھپڑ رسید کیے۔ اب معلوم نہیں یہ استاد کے تھپڑوں کا اثر تھا یا اس کی طبیعت کا من موجی پن، کہ وہ آٹھویں جماعت سے آگے نہیں پڑھ سکا۔ اسکول کو خداحافظ کہنے کے بعد اس نے آوارہ گردی کا شغل اپنایا۔ وہ صبح سے شام تک میرپور ماتھیلو کے گلی محلوں کی خاک چھانتا پھرتا۔ اپنی والدہ کی ڈانٹ ڈپٹ کو وہ خاطر میں نہیں لاتا تھا، مگر اپنی آوارہ گردیوں کی وجہ سے وہ اکثر اپنے بڑے بھائیوں کے ہاتھوں مار کھاتا۔ اس کے والد میرپور ماتھیلو کے مشہور حلوائی تھے اور وہاں ان کی مٹھائی کی بہت بڑی دکان تھی۔ اس کے تین بڑے بھائی دکان پر والد کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ نذیر کی آوارہ گردیوں سے تنگ آ کر اس کے والد نے اسے بھی دکان پر رکھ لیا۔ اس کی عمر کا یہ وہی دورتھا جب اپنی ہم عمر لڑکیاں بلا کسی سبب اسے اچھی لگنے لگی تھیں۔ راہ چلتے ہوے کسی حسین دوشیزہ کی ایک جھلک ہی اسے راستے سے بھٹکانے کے لیے کافی ہوتی تھی۔ وہ اپنے والد اور بھائیوں کے بتائے ہوے کام فراموش کر کے اس حسین دوشیزہ کو اس کے گھر تک پہنچانے کا فریضہ انجام دینے لگتا تھا۔ بعد میں جب اس کے بھائی اور والد کام میں ہونے والی تاخیر کے متعلق دریافت کرتے تو وہ بغلیں جھانکنے لگتا۔ ایسے میں اس کے بھائیوں اور والد کے طمانچے اس کے چودہ طبق روشن کر دیتے۔ گھر پہنچ کر وہ اپنی ماں کو بھائیوں اور والد کی اس کارگزاری کے بارے میں بتاتا تو وہ دکھ اور افسوس سے اس کے سرخ گالوں پر اپنے نرم ہاتھ رکھ کر انہیں سہلانے لگتی۔

 

نذیر کے بھائی اور والد اسے کبھی شہربدر نہ کرتے اگر وہ میرپور ماتھیلو کے چکلے کی بدنامِ زمانہ رنڈی زوری کی زلفوں کا اسیر نہ ہو جاتا۔ وہاں کا راستہ اسے ایک دوست نے دکھایا، اس کے بعد وہ خود ہی آنے جانے لگا۔ مگر زوری بہت منھ زور تھی۔ اس جیسے کم عمر بالک پر اپنی نظرِ الفت ڈالنا اسے اپنے شایانِ شان نہیں لگتا تھا۔ ہر مرتبہ وہ تھوڑی دیر تک زوری کا دیدار کر کے لوٹ آیا۔ ایک روز اس کے والد نے اسے پچاس ہزار روپے بینک میں جمع کروانے کے لیے دیے، مگر اس کے دل میں نہ جانے کیا سمائی کہ وہ رقم جیب میں لیے چکلے پہنچ گیا۔ وہاں پہنچنے کے بعد جب اس نے زوری کے سامنے نوٹوں کی گڈی نکالی تو وہ اس پر توجہ کرنے پر مجبور ہو گئی۔ مگر وہ بھی ایک گھاگ عورت تھی، نذیر جیسے نوخیز لڑکے کو بہلانا اس کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ وہ شام تک اسے اپنی لچھے دار باتوں سے بہلاتی رہی۔ دوسری طرف دکان پر اس کے واپس نہ آنے پر ڈھنڈیا مچ گئی تھی۔ اس کے بھائیوں نے اس کے دوستوں سے مل کر اور انہیں کرید کر پتا چلا لیا کہ اس وقت وہ کہاں چھپا بیٹھا تھا۔ انھوں نے اپنے والد کی معیت میں چکلے پر چھاپہ مارا تو وہ زوری کے کمرے سے برآمد ہوا۔ اس کے بھائیوں اور والد نے زوری کو دھمکیاں دے کر اس سے سارے پیسے نکلوا لیے اور نذیر کو پیٹتے ہوے وہاں سے لے گئے۔ اس واقعے کے اگلے دن اس کے والد نے اس کی حرکتوں سے نالاں ہو کر اسے اپنے چھوٹے بھائی کے پاس ٹھری میرواہ بھجوا دیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

نذیر دھیرے دھیرے چرس کا عادی ہونے لگا تھا۔ اسے اس نشے میں لطف آنے لگا تھا۔ اس کے چند کش لگانے کے بعد وہ خود کو پردہ نشین کے قرب میں محسوس کرنے لگتا تھا۔
نورل پکوڑافروش سے اگلی دو ملاقاتوں میں بھی نذیر اپنے دل و دماغ میں پیوست آنکھوں کی مالکن کے متعلق اس سے کوئی بات معلوم نہیں کر سکا۔ مگر نورل سے اس کی دوستی مضبوط ہو گئی تھی۔ وہ مطمئن تھا کہ مسحورکن آنکھوں والی کا شجرہ نسب معلوم کرنا اب اس کی دسترس میں تھا۔ مگر اسے یہ احساس بھی شدت سے تھا کہ اس معاملے میں اسے مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ یہی سوچ کر ایک روز نذیر نے شام ڈھلے نورل کو نہر کے کنارے اسی ہوٹل پر بلایا۔ یہ ان کی چوتھی ملاقات تھی۔ نذیر چاہتا تھا کہ اس عورت کے بارے میں آج ساری تفصیلات معلوم کر کے کوئی نہ کوئی حتمی فیصلہ کر لے، کہ اسے اس عورت تک رسائی کے لیے کوشش کرنی چاہیے یا اس کی یاد کو ہمیشہ کے لیے طاقِ نسیاں پر رکھ دینا چاہیے۔ اپنی پہلی غلطی کے خمیازے کے طور پر نذیر کو ہر ملاقات پر اس کے ساتھ چرس کا سگریٹ پینا پڑ رہا تھا۔ اس نے نورل کو خوش کرنے کے لیے اسے بتایا کہ وہ اسے دیکھتے ہی پہچان گیا تھا کہ یہ آدمی ایک موالی ہے، اسی وجہ سے تو اس نے اس کے ساتھ دوستی کی تھی۔ نورل اس کی یہ بات سن کر اپنے آپ پر فخر محسوس کرنے لگا۔ نذیر گزشتہ ملاقاتوں کی طرح اس بار بھی اس سے تفصیلات معلوم کرنے میں ناکام رہا۔ اسے اپنی کم ہمتی پر غصہ آ رہا تھا کہ وہ ایک معمولی سے آدمی کے سامنے کھل کر بات کرنے سے گھبرا رہا ہے۔ اسے دل ہی دل میں یقین تھا کہ وہ جب بھی پکوڑافروش سے اس بابت دریافت کرے گا، وہ اسے کسی ردوکد کے بغیر سب کچھ بتا دے گا۔ مگر چرس کے سگریٹ پینے کے بعد وہ نجانے کیوں گھگھیانے لگتا تھا۔ عام سی باتیں کرتے ہوئے بھی اس کی زبان میں گرہ لگ جاتی تھی۔ اس نے چرس پر تمام الزام رکھ کر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کی۔ مگر وہ بھول رہا تھا کہ ایک مرتبہ بھی نورل نے اسے چرس پینے کی پیشکش نہیں کی تھی بلکہ ہر بار اسی نے اصرار کر کے اس سے چرس پینے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

 

نذیر دھیرے دھیرے چرس کا عادی ہونے لگا تھا۔ اسے اس نشے میں لطف آنے لگا تھا۔ اس کے چند کش لگانے کے بعد وہ خود کو پردہ نشین کے قرب میں محسوس کرنے لگتا تھا۔ وہ اس کے ذہن و دل میں ایستادہ دھیرے دھیرے اپنا نقاب اتارتی تو وہ مبہوت ہو کر اس کے جمال کا مشاہدہ کرنے لگتا تھا۔ اس کا مکمل چہرہ اسے اس کی آنکھوں سے زیادہ تابناک محسوس ہوتا۔ ایسے لمحوں میں اسے یقین ہونے لگتا کہ یہ حسینہ غیرزمینی جمال لے کر اس کرہ ارض پر اتری ہے۔ نذیر ہولے ہولے برقع پوش کی حقیقت سے زیادہ اس کے خیال کی لو سے متاثر ہو رہا تھا۔

 

اسی لیے نذیر پکوڑافروش کے ساتھ ایسی تمام جگہوں پر جانے لگا جہاں موالی اکٹھے ہوتے تھے۔ نورل کے ساتھ اسے ہر جگہ خوش دلی سے قبول کیا جاتا اور ان دونوں کی چرس اور چائے سے خوب آؤبھگت کی جاتی۔

 

چرس کے زیادہ استعمال کی وجہ سے نذیر احساسِ جرم محسوس کرنے لگا۔ اس عرصے میں چاچا اور چاچی نے کئی مرتبہ اس سے اس کی صحت کے بارے میں پوچھا مگر اسے ہر بار جھوٹ بول کر انھیں جھانسا دینا پڑا۔

 

نذیر کے دوست حیدری کو بھی اس گڑبڑ کا احساس ہو گیا تھا۔ نذیر نے ایک دن اس کے پاس جا کر پڈعیدن اسٹیشن سے شروع ہونے والے اس قصے کی مکمل تفصیلات بتا دی تھیں اور اس کے بعد کے معاملات سے بھی اسے باخبر رکھتا رہا تھا۔ حیدری نے ہر مرتبہ اس کی سادہ لوحی کا مذاق اڑایا کیونکہ وہ پکوڑافروش کو اچھی طرح جانتا تھا۔ نذیر نے حیدری کی منت سماجت اور خوشامد کر کے اسے اپنی مدد کرنے پر آمادہ کر لیا۔ حیدری نے اسے مشورہ دیا کہ وہ اسے اپنے ساتھ دکان پر لے آئے۔

 

(جاری ہے)



گمراہ

دیگر بچوں کی سی تیز طراری اس میں نہیں تھی۔۔۔اس کی بیرونی رسائی کا دائرہ نہایت محدود تھا۔

 

وہ امی سے اکثر پوچھتا کہ وہ کب اسکول جائے گا؟ امی اسے کہتیں کہ جب وہ پانچ سال کا ہوگا تب اسے اسکول میں داخل کروایا جائے گا۔ بہن بھائیوں کے علاوہ گھر کے سامنے سے گزرتی سڑک پر اسکول جانے والے بچے بچیوں کے قافلے اس کے ننھے منے ذہن میں اسکول جانے کی خواہش ابھارتے رہتے۔

 

جلد ہی وہ پانچ سال کاہو گیا۔

 

کلاس میں پہلی بار حاضری کے لیے اس کا نام پکارا گیا تو مسرت اس کے رگ و پے میں قلانچیں بھرنے لگی۔

 

پہلی بار نام پکارے جانے کے ساتھ ہی اس کے محلے سے تعلق رکھتے ماسٹر جی نے جو اضافی جملے ادا کیے انھوں نے قلانچیں بھرتی مسرت کودبوچ کر یکدم مفلوج بھی کر دیا۔

 

پہلے پہل کے وہ ہتک آمیز جملے اس کے معصوم لیکن حساس ذہن کے لیے پہلا دھچکا تھے۔کلاس میں موجود دیگر بچوں کی ہنسی نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔

 

گھر جا کر اس نے امی سے پوچھا "امی ہم کون ہیں؟؟"

 

"ہم۔۔۔؟؟"

 

اس کی امی کچھ کچھ کہتے کہتے رک گئیں۔

 

"اچھا مجھے وہ سبق سناؤ ذرا۔۔۔بتاؤ ہمارا رب کون ہے؟"

 

اس کی امی سوال دہرانے لگی اور وہ میکانکی انداز میں امی کے ہر سوال کا جواب دیتا گیا۔

 

"ہم سب کیا ہیں؟؟"

 

"بھائی بھائی!"

 

اس نے امی کے آخری سوال کا جواب دیا۔۔۔دہرائی پورا ہونے پر امی نے اسے ایک روپیہ دیا تھا اور دوڑتا ہوا گھر سے باہر چلا گیا۔

 

وہ مڈل سیکشن کی دہلیز پر کھڑا تھا۔۔۔ وہ ہر روز گٹر میں ڈبویا جاتا۔۔۔ ایک جملہ ایک ڈبکی۔۔۔ ایک اور جملہ۔۔۔ایک اور ڈبکی۔۔۔۔
وہ سر جھکاتا تو قمیض پر بٹنوں کی جگہ اسے لال بیگ دکھائی دیتے۔ ۔۔

 

کراہت کا وہ احساس اس کے حساس ذہن کے لیے ناقابلِ بیان اذیت کا باعث بنتا۔قمیض کے کالر پر اس کی مضبوط گرفت کی تاب نہ لاکر کوئی لال بیگ اس کی گود میں بھی جا گرتا۔ گود میں جب لال بیگ بھی اسے ہنستا ہوادکھائی دیتا تو وہ آنکھیں بند کر لیتا۔۔۔

 

سورج بنا رکے مصروف و مگن رہ کر اسے گیارہویں سال میں لے آیا تھا۔۔۔

 

ایک شام وہ ہانپتا کانپتا گھر میں داخل ہوا۔۔۔امی ابو کو ساری داستان سنائی۔۔۔اس کے قریبی دوست نے کچھ مقدس ہستیوں کے بارے میں ایسے گستاخانہ الفاظ استعمال کیے تھے جنھیں سن کر اس کا بھڑک اٹھنا یقینی تھا۔

 

امی ابو نے وہ سب کچھ سننے کے بعدایک نیا انکشاف کیا تھا۔۔۔ایک نئی شناخت۔۔۔اگرچہ وہ نئی شناخت جوش و خروش کے ساتھ تفاخر کی پلیٹ میں سجا کر پیش کی گئی تھی لیکن اس کے کے باوجود اسے اپنے کپڑوں کے اندر جسم پر ہزاروں لال بیگ رینگتے ہوئے محسوس ہوئے تھے۔۔۔

 

ہر گزرتے دن کے ساتھ امی، ابو اور دوست بھی اسے ماسٹر جی لگنے لگے۔۔۔اس کا دل چاہتاکہ اس کی امی اس سے پھر وہی سبق سنیں جو اسکول جانے سے پہلے پڑھایا کرتی تھیں۔۔۔اس کے دماغ میں سینکڑوں سوالات کلبلاتے۔۔۔ لیکن امی ابو تو ماسٹر جی بن چکے تھے۔۔۔ وہ پوچھتا تو کس سے۔۔۔

 

دن رات کا ادل بدل جاری تھا۔۔۔

 

بظاہر وہ ہزاروں لاکھوں کروڑوں لوگوں کی طرح طے شدہ راستے پر چلا جا رہا تھا۔۔۔

 

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس پر اور اس کے ارد گرد لوگوں پر کوئی نہ کوئی نیا لیبل چسپاں ہوتا رہا۔۔۔

 

امی کا یاد کروایا پہلا سبق ایک کڑی کسوٹی بن کر اس کے دل و دماغ کے دروازے پر مضبوط چٹان کی طرح گڑا ہوا تھا۔۔۔

 

ہر نیا سبق اس کے دل و دماغ کی دہلیز پار کرنے سے پہلے ہی اس چٹان سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتا۔۔۔

 

لیکن ارد گرد کے ٹھوس حقائق سے آنکھیں چرانا بھی اسکے بس میں نہیں تھا۔۔۔وہ سبق بھی اپنی اہمیت کھو رہا تھا۔۔۔

 

چٹان اپنی جگہ چھوڑ رہی تھی۔۔۔

 

اتنی کراہت۔۔۔اس قدر اذیت۔۔۔بلا کا اضطراب۔۔۔

 

یہ کیسی شناختیں تھیں جو اسے بے شناختی کی طرف لیے جا رہی تھیں۔۔۔

 

اس کے اندر جاری ٹوٹ پھوٹ کے لیے شدت کا لفظ اپنی تمام تر صورتوں سمیت بہت ہی چھوٹا تھا۔۔۔

 

اسے منزل کی جگہ کبھی آگ دکھائی دیتی اور کبھی دلکش اور حیات افروز وادیاں۔۔۔

 

اس کے آس پاس ایک دوسرے کو آگ میں دھکیل کر خوشیاں مناتے لوگ تھے۔۔۔

 

اپنی اپنی حرکات و سکنات کی بنا پیندے کی صراحی میں شرابِ طہور کے نظارے لینے والے لوگ۔۔۔

 

کشمکش، اضطراب اورتشکیک کا خوفناک بگولہ بِن رکے اسے گھمائے اور اٹھائے چلا جا رہا تھا۔۔۔

 

اس کے قدم کب کے وہ زمین چھوڑ چکے تھے جس پر اس نے آنکھ کھولی تھی۔۔۔

 

اور جب بگولے نے اسے پٹخا تو اس نے خود کو ایک ایسے راستے کے کنارے پر کھڑاپایا جس پر کروڑوں کی بھیڑ ناک کی سیدھ میں بڑھی چلی جا رہی تھی۔۔۔اس بھیڑ میں اس کے امی،ابو اور بہن بھائی دوست حتیٰ کہ اس کے استاد بھی شامل تھے۔۔۔

 

چھوٹے بڑے کی تفریق اور تخصیص کے بغیر ہر فرد جو بھیڑ کا حصہ تھا اپنی آنکھوں پر بندھی پٹی سے لا علم تھا۔۔۔یا شاید وہ نادیدہ پٹی صرف اسے ہی دکھائی دے رہی تھی۔۔۔

 

اس نے امی ابو کو پکارا۔۔۔

 

اپنے بہن بھائیوں کو۔۔ اپنے دوستوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کی۔۔۔

 

لیکن سب نے اُسے ایسے دیکھا جیسے کسی بھٹکے ہوئے یاگمراہ کو دیکھا جاتا ہے۔۔۔

 

دور کہیں بہت دوراُس مرکزی راستے کا آغاز اُسے صاف دکھائی دے رہا تھا۔۔۔اُس رستے کا آغاز جس پر سب کے سب اندھا دھند ناک کی سیدھ میں بڑھے چلے جا رہے تھے۔۔۔نادیدہ پٹیاں بانٹی جا رہی تھی۔۔۔گروہ در گروہ۔۔۔طبقہ در طبقہ۔۔۔

 

بانٹنے والوں کے مخصوص حلیے اس کی آنکھوں کی ریٹیناپر جیسے جم سے گئے تھے۔۔۔

 

اس نے راستے کے اختتام کی طرف دیکھا اور بے انتہا تپش سے اس کی غیر مرئی نگاہیں تک بھاپ میں تبدیل ہو گئیں۔۔۔
اس نے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔

 

اسے اپنی گردن کے پیچھے کوئی چیز رینگتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔شایدکوئی لال بیگ ابھی باقی تھا۔۔۔

 

آخری لال بیگ نے اس کے بائیں کندھے پر کچھ دیر ٹھہر کر اسے جانی پہچانی لیکن بری نظروں سے دیکھا۔۔ اور اپنے معدے میں خود ساختہ فاضل جکڑ بندیوں کی باقیات چھپائے ایک اڑان بھر کر سامنے راستے پر والدین کی انگلی تھامے ایک بچے کے سر پر جا بیٹھا۔۔۔