<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>قاضی علی ابوالحسن, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/qazi-ali-abuul-hassan/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Fri, 18 Jun 2021 16:12:16 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>قاضی علی ابوالحسن, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>اکیس صبحوں کا سفر اور دیگر نظمیں (قاضی علی ابوالحسن)</title>
		<link>https://laaltain.pk/21-subhon-ka-safar/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/21-subhon-ka-safar/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[قاضی علی ابوالحسن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 18 Jun 2021 16:06:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[آزاد نظم]]></category>
		<category><![CDATA[قاضی علی ابوالحسن]]></category>
		<category><![CDATA[نثری نظم]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=26424</guid>

					<description><![CDATA[<p>فرض کرو<br />
تم نہ بچھڑتی تو<br />
میں تمہیں بوڑھا ہوتے دیکھنے کے صدمے سے دو چار ہوتا</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/21-subhon-ka-safar/">اکیس صبحوں کا سفر اور دیگر نظمیں (قاضی علی ابوالحسن)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[divider]اکیس صبحوں کا سفر[/divider]</p>
<p>پہلی صبح میں نے اپنا دل<br>
تمہارے ہاتھوں کے کنول میں دیا<br>
وہ پہلے سے بہتر دھڑکنے لگا<br>
اور میرا چہرہ جگر سے زیادہ سرخ ہو گیا</p>
<p>دوسری صبح سے پہلے<br>
میں تمہارے پیروں کے پو شیدہ راز<br>
جان چکا تھا!<br>
اور تیسری صبح کو<br>
تمہارے ناخن بڑھنے لگے تھے</p>
<p>چوتھی صبح تمہاری نیم مسکراہٹ کا لہجہ<br>
مجھے جگا رہا تھا<br>
پانچویں صبح کے ذرا پرے<br>
میرے سینڈوچ میں<br>
تمہارے بھیگے بالوں سے گرے قطرے<br>
ناچ رہے تھے</p>
<p>چھٹی صبح ہمارے دانتوںمیں<br>
تھل کی ریت کی یاد پس رہی تھی<br>
ساتویں صبح تک<br>
سردیاں آ چکی تھیں<br>
اور آٹھویں صبح کے بعد<br>
میں منزل کی سمت<br>
گھٹنوں کے بل بھاگ رہا تھا</p>
<p>نویں صبح اُوس کے قطرے<br>
تمہارے گالوں پر جم گئے تھے<br>
میرا نام سرِعام پکارا جانے لگا<br>
وہ دسویں صبح کا آغاز تھا</p>
<p>اگلی صبح تم نے اپنی خوشبو کا دوپٹہ<br>
میری آنکھوں پر باندھ دیا</p>
<p>بارہویں صبح کے ساتھ<br>
میں نے اپنے بال کتروا لئے</p>
<p>تیرہویں صبح ہم اپنی فلم کا سکرپٹ بھول کر<br>
زندگی کو عکس بند کرنے میں جُت گئے</p>
<p>چودہویں صبح تمہاری چیخ کی گرج<br>
میرے کانوں کے پردے پھاڑ رہی تھی</p>
<p>تمہاری آنکھوں میں پندرہویں صبح<br>
میرے احساس کے بادل منڈلا رہے تھے</p>
<p>سولہویں صبح کا سورج<br>
تمہاری شرماہٹ سے لال ولال تھا<br>
اور اٹھارہویں صبح ہم جھیل کنارے<br>
جنگل میں بے دار ہوئے تھے</p>
<p>انیسویں صبح ہونے تک<br>
تم اپنے ہاتھوں سے<br>
پالنے کو ایک بچہ<br>
چاند سے اتار لائی تھیں</p>
<p>بیسویں صبح ہم راکھ سے<br>
اک شام نکال لائے اور صبح تک<br>
اُسے کریدتے، ٹٹولتے، پرکھتے رہے<br>
اور اکیسویں صبح وہ رات میں بدل گئی<br>
جس کے بعد_______اگلی صبح کے انتظار میں<br>
ہمیں صدیوں کی شب بیداری کا روزہ رکھنا پڑا</p>
<p>[divider]اخباری لفظوں سے بھری نظم[/divider]</p>
<p>ہم نے کئی جنگیں بیک وقت لڑیں<br>
ایک سے زیادہ محاذوں پر<br>
بہت دشمنوں کے خلاف<br>
اندرونی غداروں کے ساتھ<br>
اپنی معیشت کی مضبوطی کے لئے<br>
اپنے قدم جمانے کے لئے<br>
ہمارے عقائد کی حفاظت کی خاطر<br>
اور اُن کی تشریحات کے پھیلاؤ کے لئے<br>
ہمارے لوگوں کو غلط معنی سے دور رکھنے کے واسطے<br>
اپنی قوتیں<br>
اور نسلیں بڑھانے میں جتے رہے<br>
خیموں سے باہر<br>
خیموں کے اندر<br>
اپنی علاقائی ساکھ بڑھانے کی خاطر<br>
اور اپنی جغرافیائی حدود کی حفاظت میں<br>
قربانی پر قربانی دی<br>
ہم اِن سب جنگوں میں<br>
اپنی قوتوں کو یکجا کئے رکھتے<br>
اپنے اعصاب کو مضبوط کرتے<br>
ڈر، خوف اور پریشانی سے مسلسل گھرے رہنے کے باوجود<br>
ہم جنگیں جیتتے رہے<br>
مگر میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں<br>
ہم نے کئی جنگیں ایک ساتھ لڑیں<br>
میرے دوست_____اور ایک جنگ<br>
میرے ساتھی، ایک جنگ<br>
ہم ایک دوجے سے لڑ رہے ہیں<br>
سالوں سے<br>
اِن جنگوں کے درمیان<br>
میرے ہم نوا<br>
اور یہ جنگ<br>
کوئی نہیں جیت رہا<br>
ہم باقی جنگیں جیت جائیں گے<br>
ہماری صلح کیسے ہو گی؟<br>
کیا ہم میں سے ایک کو ہارنا ہے؟<br>
ہماری نسلیں بٹ جائیں گی۔۔۔<br>
بیرونی قوت اُن پر حاوی ہو جائے گی<br>
ماؤں کی نسلوں کو<br>
ایسے بٹنے نہیں دیتے<br>
راز ہمیشہ راز نہیں رہتے<br>
صلح کا کوئی راستہ نکالو<br>
تم مجھ سے طاقت ور ہو<br>
مگر تمہیں<br>
میری محبت میں گٹھنے ٹیک دینے چاہئیں۔</p>
<p>[divider]آرٹ کے دو رنگ (اک میں،اک تم)[/divider]</p>
<p>گمان جب سے یقیں ہوا ہے<br>
تو اس پہ حیرانی کی ہچکی نے<br>
کچھ ایسا رنگ رنگا ہے<br>
پریشانی سے جو میری<br>
ذرا سا میچ ہوتا ہے</p>
<p>مگر اُس میں اُنتیس اور اٹھائیس کی<br>
اگستی رات جیسا فرق دکھتا ہے<br>
کہ اک میں واضح حیرانی،<br>
دوجا پریشانی</p>
<p>سو!</p>
<p>اُن کے شیڈ میں<br>
جو ایک واحد چیز کامن ہے<br>
اُسے یہ صاف ظاہر ہے<br>
کہ دونوںرنگ<br>
ٰاک ہی رنگ کے رنگوں سے نکلے ہیں<br>
جسے ہم ـ آرٹ کہتے ہیں</p>
<p>[divider]جنت کی یاد میں[/divider]</p>
<p>ہم تصورات میں خوش رہتے<br>
جہاں۔۔۔۔۔<br>
تمہاری انگلیوں کو آٹا نہیں چپکتا تھا<br>
میرے موزوں میں بدبو نہیں ہوتی تھی<br>
نہ خراٹوں کی آوازیں<br>
وہاں وقت اور لمحوں کو<br>
روک لینے کا اختیار تھا<br>
بہاریں اور خزایں تھیں<br>
اور____لال بیگ نہیں تھے</p>
<p>جہاں تمہارے سوالوں کا<br>
جواب دینا ضروری نہیں تھا<br>
اور تمہاری آواز کانوں میں<br>
چبھتی نہیں تھی<br>
جہاں میں دل کھول کر شیرا پیتا تھا<br>
اورہر رات<br>
دودھ پینا ضروری نہیں تھا<br>
وہاں تمہاری سہیلیاں<br>
مجھے اچھی لگتی تھیں<br>
وہ وقت بے وقت ٹپک نہیں پڑتی تھیں<br>
مہمان ہمارے گھر وقت پر آتے تھے<br>
اور<br>
ٹشو خریدنے کا خرچا نہیں تھا</p>
<p>جہاں ہمیں ایک دوسرے کو<br>
اپنے وقت میں نہیں رکھنا پڑتا تھا<br>
پہروں کی تقسیم آسان تھی</p>
<p>جہاں چائے ٹھنڈی نہیں ہوتی تھی<br>
اور گیزر ہمیشہ پانی گرم دیتا تھا</p>
<p>وہ ایسی دنیایں تھی<br>
جہاں بوسے خوشبو سے تر تھے<br>
ہمارے بدن کا نمک کم رہتا تھا<br>
اُن جہانوں میں<br>
قربت کے لمحے کم تھے<br>
اور ہمیں ہانپنے میں دیر لگتی تھی</p>
<p>اُدھر راتوں کی چہل قدمی تھی<br>
صبحوں کو مالی کے انتظار کی دیمک نہیں کھاتی تھی<br>
جہاں شامیں آدھی دال فرائی پر گزر جاتی تھیں<br>
اور<br>
فلم دیکھنے سے پہلے اُس کے منٹ نہیں دیکھے جاتے تھے</p>
<p>ہمیں یہ مان لینا چاہیے<br>
وہ محض ہمارے دشمن نہیں<br>
ہمارے تنے ہوئےا عصابوں کاسامان مہیا کرنے والے</p>
<p>انسان دوست ہیں<br>
جو ہماری بے چینیوں کو کم کرنے کے ٹوٹکے ایجاد کر رہے ہیں</p>
<p>آو اُن دنیاؤں میں لوٹ چلیں<br>
خود کو آزادی دیں<br>
آزادی<br>
جو جنتے ہوئے ہمیں ملی تھی۔</p>
<p>[divider]قسط وار خوابوں میں چھینی گئی ماں[/divider]</p>
<p>میری ماں مر چکی ہے<br>
وہ بار بار میری ماں کو خوابوں میں مارتے ہیں<br>
ایک بار، دو بار ، کئی بار<br>
ہر بار اُس کی موت کی وجہ ہم سے چھپائی جاتی ہے<br>
ہمیں ہر بار بین کرنے اور سسکیاں لینے کو کہا جاتا ہے</p>
<p>ہر نئی موت کے ساتھ<br>
اُس کے جانے کا دکھ کم کیا جانے لگا ہے<br>
ماں کے ساتھ وہ ہمارا دکھ بھی ہم سے چھین رہے ہیں<br>
ہمیں ہر بار اُسے دفنانے نہیں دیا جاتا<br>
وہ اُس کی میت لا پتا کر دیتے ہیں<br>
ایک دفعہ تو اُسے پانیوں پر مار دیا گیا<br>
کبھی اُس کی موت کے بعد<br>
ہمیں زندگی کی بازی پر لگا دیا جاتا ہے</p>
<p>اتنی دفعہ ماں کی موت کو دیکھ کر<br>
میں اُن احساسات کو کھونے لگا ہوں<br>
جو اُس کی موت کے وقت<br>
آخری نشانیاں سمجھ کر محفوظ کئے تھے</p>
<p>میرے صوتیات کے حافظے سے وہ آخری لہجہ جا رہا ہے<br>
جب اُس نے پوچھا تھا ـ’میں یاد تے آساں نا؟‘<br>
پہلے خواب میں اُس کی بے سکونی دیکھ کر<br>
میں وہ اطمینان کھو بیٹھا ہوں<br>
جو اُس نے جاتے جاتے اپنی بھنوئیں اٹھا کر<br>
میرے آنسوؤں کو تسلی کے طور پر دیا تھا</p>
<p>اُس کی میت کے خوابوںمیں گم ہو جانے سے<br>
ٹھنڈے ہوتے جسم کے آخری لمس کو<br>
میرے ہاتھوں سے چھینا جا رہا ہے<br>
جو اُسے قبر میں سلانے کے بعد<br>
میری پوروں میں جذ ب ہوا تھا</p>
<p>وہ اُسے بھوک میں بلکتا دکھا کر<br>
ہمارے سینوں کا بو جھ بڑھانا چاہتے ہیں<br>
وہ ہمیں ظالم ثابت کرنا چاہتے ہیں<br>
تاکہ اُن پر شک نہ کیا جا سکے</p>
<p>ان خوابوں میں زہر آلود سپرے سے<br>
ہمارے نتھنوں کو ماں کی خوشبو<br>
بھلانے پر مجبور کیا جا رہا ہے<br>
ہمارے ہر احتجاج پر<br>
صبح کے الارم بجا دیے جاتے ہیں</p>
<p>ہماری نیند کے رابطوں کو منقطع کیا جاتا ہے<br>
ان خوابوں سے وہ ہمارے<br>
تصورِ موت کو بدلنے کی<br>
سازش کررہے ہیں</p>
<p>[divider]قُلی میں قُلی[/divider]</p>
<p>اپنے سب خوابوں کا بوجھ<br>
ادھڑے پرانے کپڑوںمیں<br>
گٹھری بنا کر<br>
مجھ کو سونپ رہے ہیں<br>
سوچ رہے ہیں<br>
ہانپتے ہانپتے ، گرتے اٹھتے<br>
اُس رستے پر<br>
فنح کا جھنڈا گاڑ آؤں میں</p>
<p>ہر خواہش کی یاد میں آکر<br>
گٹھڑی کا وہ بوجھ بڑھائے جاتے ہیں<br>
اپنی سب ناکام امیدیں<br>
میری ذات سے جوڑ کے اپنا بوجھ وہ ہلکا کرتے ہیں</p>
<p>جتلاتے ہیں<br>
یہ سب تمہارے فائدے کی تو باتیں ہیں</p>
<p>[divider]تمہارے پھول[/divider]</p>
<p>تم راستہ بھول کے بھٹکتی بھٹکتی یہاں آئی تھی<br>
اور بنا پیچھے دیکھے چلتی چلی جا رہی ہو<br>
تم نے راستے میں دو پھول توڑے تھے<br>
ایک مُرجھا چکا ہے،<br>
دوسرا تمہاری بند مٹھی میں ہے<br>
جسے تم کھول کر دیکھنا نہیں چاہتی<br>
تمہیں مرجھائے پھول کی خوشبو چھننے کا خوف ہے<br>
تم اپنا ایک دوست کنویں میں پھینک آئی ہو<br>
تمہارے گلے سے بندھا ڈھول ، پانی تک نہیں پہنچ سکتا<br>
تمہیں تمہاری انا جھکنے نہیں دیتی<br>
کنویں سے اپنے نام کی پکار سُن کر،<br>
تمہارے کانوں نے تمہارے نام کی پہچان کھو دی ہے</p>
<p>تمہیں راستے میں کانٹے چبھے تھے<br>
تم تکلیف سے ڈگمگائی تھی<br>
اپنے ہاتھوں کو زخموں سے بچانے کی خاطر<br>
تم نے کانٹوں کے ساتھ چلنے کی ٹھانی<br>
تمہیں راستے کا ہر مسافر بچپن کا دوست لگتا ہے<br>
نزدیک آنے پر معلوم ہوتا ہے، وہ اجنبی ہے<br>
تم ہر نئے رشتے میں کچھ پرانا ڈھونڈ رہی ہو<br>
تم کبھی اِس راستے میں سب بھول جاتی ہو<br>
کبھی یہ راستہ تمہیں اجنبی لگتا ہے، اور تم<br>
واپس پلٹ جانا چاہتی ہو<br>
جہاں سے تم آئی تھی</p>
<p>تمہاری جیب میں ایک آیئنہ تھا<br>
جو گم گیا ہے<br>
تم خود کو دیکھنے کو ترس رہی ہو<br>
تم سوچتی ہو تمہارا چہرہ بدل گیا ہے<br>
اِس بدلے ہوئے چہرے کو کوئی نہیں جانتا<br>
تمہیں یاد آتا ہے، وہ آیئنہ تم نے خود توڑا تھا<br>
’’نہیں ! نہیں!_______وہ تو اک خواب تھا۔‘‘</p>
<p>تم ایک پھولوں کی وادی تک پہنچ جاتی ہو<br>
جہاں پھول ہر طرف کھِل چکے ہیں<br>
مگر تم، اپنی مٹھی نہیں کھولنا چاہتی<br>
سامنے وہ راستے ہیں _______جن کے لئے تم بھٹکی تھی<br>
تم وہاں کے لئے دوڑنے لگتی ہو<br>
اچانک تمہیں تمہارے پیروں کا خیال آتا ہے<br>
اُن میں کوئی کانٹا نہیں،<br>
تم پھر بھی دوڑنا چھوڑ دیتی ہو</p>
<p>تم منزل کی طرف جا رہی ہو<br>
تمہارے کانوں کی سماعت میں،<br>
واپس وہ نام گونجنے لگتا ہے<br>
وہ تمہیں پکار رہا ہے<br>
تمہیں لگتا ہے نہیں، وہ خود کو پکار رہا ہے<br>
تم سوچ میں پڑ جاتی ہو<br>
’’کنویں میں کہیں میں خود تو نہیں۔۔۔۔؟‘‘</p>
<p>مرجھایا ہوا پھول واپس کھلنے لگتا ہے<br>
تم مٹھی کھولتی ہو<br>
مٹھی میں بند پھول مُرجھا چکا ہے<br>
تمہاری آنکھیں رونے لگتی ہیں<br>
تمہارے لب مسکرا رہے ہیں<br>
تمہاری آنکھیں چمک جاتی ہیں<br>
مرُجھایا ہوا پھول کھِل چکا ہے</p>
<p>[divider]ویچھوڑے کی خوشیاں[/divider]</p>
<p>اچھا ہواتم بچھڑ گئیں<br>
اب زندہ رہو گی۔۔۔سدا مجھ میں<br>
جوان، حسین اور دل کش<br>
نہیں طاری ہو گا تم پر بڑھاپا<br>
تمہاری باریک جلد پر جھریاں نہیں ہوں گی<br>
جب میں نیم مردہ کانپتے ہاتھوں سے<br>
تمہاری گالیں چھو لوں گا<br>
تمہارا بدن سدا تنا رہے گا<br>
اِن کسی طنابوں میں<br>
انگڑائیاں لیتا بیدار ہوتا رہوگا<br>
تمہاری گردن ڈھلک کر باریک نہ ہو پائے گی<br>
اور تمہاری سانسوں کی تعداد کو میں<br>
آسمان کے ستاروں کی طرح گنتے گنتے سو جاؤں گا</p>
<p>فرض کرو<br>
تم نہ بچھڑتی تو<br>
میں تمہیں بوڑھا ہوتے دیکھنے کے صدمے سے دو چار ہوتا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/21-subhon-ka-safar/">اکیس صبحوں کا سفر اور دیگر نظمیں (قاضی علی ابوالحسن)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/21-subhon-ka-safar/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
