<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>افتخار حیدر, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/iftikhar-haider/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Wed, 27 Nov 2024 15:18:21 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>افتخار حیدر, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>استاد خبطی خیر آبادی (خیالی شخصی خاکہ)</title>
		<link>https://laaltain.pk/khabti-khairabadi/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/khabti-khairabadi/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[افتخار حیدر]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 27 Nov 2024 14:32:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=32869</guid>

					<description><![CDATA[<p>خبطی خیر آبادی ہمارے قریبی دوست اور کرم فرما ہیں، خبطی خیر آبادی کا خیر&#160; سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا ریاض خیر آبادی کا شراب سے. ریاض کے بارے جوش ملیح آبادی نے یادوں کی برات میں جو کہا تھا وہ قابل بیان نہیں ہے البتہ استاد خبطی خیر آبادی کی شان یہ ہے [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/khabti-khairabadi/">استاد خبطی خیر آبادی (خیالی شخصی خاکہ)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>خبطی خیر آبادی ہمارے قریبی دوست اور کرم فرما ہیں، خبطی خیر آبادی کا خیر&nbsp; سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا ریاض خیر آبادی کا شراب سے. ریاض کے بارے جوش ملیح آبادی نے یادوں کی برات میں جو کہا تھا وہ قابل بیان نہیں ہے البتہ استاد خبطی خیر آبادی کی شان یہ ہے کہ وہ رج کے سڑیل اور دل کے&nbsp; تنگ ہیں. ڈیڑھ ہوشیار بنتے ہیں لیکن ہیں وہی جو ریاض کے بارے چوش نے کہا تھا.</p>
<p>فیس بک کی خواتین پہ رال ٹپکاتے ٹپکاتے گال پچک کر جبڑوں میں گھس چکے ہیں.</p>
<p>جس شاعر&nbsp; سے ملیں بہت محبت سے ملتے ہیں اور اس کے اٹھتے ہی سامنے والے کو مخاطب کر کے کہتے ہیں</p>
<p>“ایہ وی پین.….. کوئی شاعر اے ؟”</p>
<p>کسی شاعر&nbsp; کو انٹرنیشنل مشاعرہ مل جائے یا کل پاکستان یا فیس‌بک پہ غزل پہ داد ان کا کام ہے جلنا جلنا مدام جلنا.</p>
<p>بات بات پہ کہیں گہ میں تو سرے سے شاعر ہی نہیں لیکن&nbsp; یہی بات ایک دن میں نے کہہ دی تو سات آٹھ دن ان کے غضب کے خوف سے گھر سے نہیں نکل پایا .</p>
<p>ایک دن بوکھلائے ہوئے ملے کہنے لگے یار لوک پین.….&nbsp; بڑے منافق نیں</p>
<p>عرض کی&nbsp; ” کیہ ہویا استاد”</p>
<p>“یار میں غزل پوسٹ کیتی ٹوٹل ست کمنٹ تے یاراں لائیک ”</p>
<p>عرض کی خیر ہے استاد دنیا ہے چلتا ہے اور پھر ہوسکتا ہے آپ کی غزل میں ہی کوئی مسئلہ ہو.</p>
<p>کہنے لگے یار پھر کیا ہوا&nbsp; میں بھی تو صبح سے شام تک ستر خراب&nbsp; شاعرات اور تیس خراب شاعروں کو داد دے چکا ہوں.</p>
<p>ایک دن ایک شاعر کو نئے سوٹ میں دیکھ لیا چار پانچ دن پوچھتے رہے یار اس کا ذریعہ آمدن کیا ہے؟؟</p>
<p>کوئی نوجوان شاعر اچھی غزل سنادے تو&nbsp; بگلے کی طرح گردن سے دستبردار ہوکر بیٹھے رہتے ہیں اور اس کے جانے کے بعد سانپ کی طرح پھن پھلا کر پھنکارنے لگتے ہیں</p>
<p>“ممکن ہی نہیں، اس کی یہ عمر ہی نہیں اس کو ضرور کوئی لکھ کے دیتا ہے، یار میری ساری عمر شاعری میں گزر گئی میں ابھی تک ایسے شعر نہیں لکھ پایا”</p>
<p>ڈرتے ڈرتے عرض کی استاد اس میں اس بچے کا کیا قصور ہے، ہتھے سے اکھڑ گئے، مزاج بگڑ گیا اور سانس بے ترتیب ہو گئی ازاں بعد یہ سب&nbsp; گولڈ لیف کی پوری پانچ سو&nbsp; والی ڈبی&nbsp; اور ملائی مارکے دودھ پتی سے بحال کیا گیا.</p>
<p>عمر کے اس حصے میں بھی اتنے پکے ٹھرکی ہیں کہ گھر میں چائے ناشتہ صرف چھوٹی بہو کے ہاتھ کا قبولتے ہیں اگر کبھی غلطی سے بڑا بیٹا حصول سعادت کی غرض سے یہ فریضہ انجام دینے کی کوشش کرے تو اس کی مرحومہ ماں کو جی بھر کے یاد فرماتے ہیں.</p>
<p>یو ٹیوب کی وہ وڈیوز جن کے کیپشن میں لکھا ہوتا ہے</p>
<p>آخر تک لازمی دیکھیں</p>
<p>بندِ قباء کھلنے کی آس میں دیکھ دیکھ کر پھاوے ہوجاتے ہیں.</p>
<p>نوجوان بچیوں کی بھونڈی نثر کو نظم کا ارتقاء قرار دے کر ان میں سے حالات حاضرہ کے مسائل، گہرے سماجی شعور سے لیکر سیر و سلوک تک کی منزلیں دریافت کرلیتے ہیں.</p>
<p>بین السطور کے راستے &nbsp;بین الستور تک جاتے جاتے نصف شب کب کی گزر چکی ہوتی ہے اور فجر کا تارا کہہ رہا ہوتا ہے</p>
<p>” بابا کچھ شرم کرلے”</p>
<p>عرق النساء سے کہیں زیادہ ٹھرک النساء کے درد میں مبتلا ہیں شنید ہے کہ سرائیکی علاقے کا کوئی گل محمد سپنا گل بن کے ایک زمانہ جذباتی اور مالی استحصال کرتا رہا ہے</p>
<p>لیکن یہ بات مانتے نہیں ہیں.</p>
<p>خواتین کے ساتھ ساتھ خوبرو لڑکوں پہ شفقت فرمانے کا بھی اچھا خاصا شوق ہے، کہنے لگے یہ ہمارے وطن مالوف خیرآباد سے ہمارے اسلاف کی روش ہے جو صلب در صلب ہم تک پہنچی ہے&nbsp; اس کے&nbsp; ہم امین ہیں اور اس میں مرتے دم تک خیانت یرگز نہ فرماویں گے گوکہ کراچی کی مرطوب آب و ہوا اس شوق کے لیے قطعی موزوں نہیں ہے.</p>
<p>تیسرا شوق جس کے لیے قتل ہوبھی سکتے ہیں اور کر بھی سکتے ہیں وہ زبان دانی کا ہے، اپنے علاوہ کسی کو اہل زبان کم ہی گردانتے ہیں لہذا بات بے بات پنجاب اور پنجاب کے اردو شعراء کو کوسنا مرغوب و محبوب مشغلہ ہے. ایک دن کہنے لگے فیض سے اچھی اردو تو کٹی پہاڑی کی چوٹی پہ رہنے والے پٹھان بول لیتے ہیں میں فیض اور مجید امجد جیسے درجنوں شاعر اورنگی ٹاؤن، لانڈھی اور ملیر کے گلی کوچوں سے درآمد کرسکتا ہوں، عرض کی استاد&nbsp; خدارا انھیں کسی طرح در آمد کرکے کھوکھر اہار کے راستے انڈیا برآمد کرکے بدلے میں آلو لے لو.</p>
<p>بھڑک اٹھے گال&nbsp; تمتمانے لگے بولے آگئے نا پنجابی پن پہ آلو لے لو، سالے آلو گوبھی، آلو مٹر، آلو پالک، آلو بینگن، آلو بھنڈی آلو دال، آلو گوشت کھا کھا کے رج نئیں ہوا کہ اب شعراء کرام کے بدلے بھی آلو ہی چاہئیں.</p>
<p>عرض کی استاد ہمارے پنجاب کا پانی ہاضم ہے لہذا آلو بکثرت استعمال ہوتے ہیں کہنے لگے آلو کا تو علم نہیں البتہ تمھارے پنجاب کا پانی واقعی ہاضم ہے اس لیے</p>
<p>پورا پاکستان کھا گئے ہو۔</p>
<p>شعر میں حروف علت کے گرانے سے اخلاقی گراوٹ کو بدرجہا بہتر سمجھتے ہیں، محسوس کیا جاسکتا ہے کہ بڑی ے کے گرنے کے دکھ کو یتیمی کے دکھ سے بڑا سمجھتے ہیں</p>
<p>ایطائے خفی پہ شور جلی تو اکثر ان کی پوری گلی سنتی ہے .</p>
<p>شعری نشستوں میں شرکت کو کسر شان سمجھتے ہیں البتہ اگر کسی نشست کا علم ہوجائے تو اس کے منتظم کی ماں بہن کے ناکردہ گناہوں&nbsp; کو طشت ازبام کرکے&nbsp; کم از&nbsp; ہفتہ عشرہ سیاپا فرماتے ہیں کہ</p>
<p>سالے کو پورے شہر کے چپڑ قناتی یاد ہیں سوائے میرے.</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/khabti-khairabadi/">استاد خبطی خیر آبادی (خیالی شخصی خاکہ)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/khabti-khairabadi/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کلیشے</title>
		<link>https://laaltain.pk/%da%a9%d9%84%db%8c%d8%b4%db%92/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%da%a9%d9%84%db%8c%d8%b4%db%92/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[افتخار حیدر]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 09 Jul 2014 10:23:13 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[افتخار حیدر]]></category>
		<category><![CDATA[کلیشے]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=6309</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">
چار سو مرے پھیلی<br />
زندگی کلیشے ہے</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%d9%84%db%8c%d8%b4%db%92/">کلیشے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">آپ ٹھیک کہتے ہیں<br>
میں جو روز لکھتا ہوں<br>
یہ ادب کلیشے ہے<br>
سب کا سب کلیشے ہے<br>
یہ گھسے پٹے مضمون<br>
یہ سنی ہوئی سطریں<br>
سب کہی ہوئی باتیں<br>
لیکن اے مرے نقاد<br>
مسئلہ کچھ ایسا ہے<br>
عشق پہلے جیسا ہے<br>
حسن پہلے جیسا ہے<br>
اور تڑپ بھی پہلی سی<br>
آج کا مرا محبوب<br>
خال و خد میں صورت میں<br>
سر سے پا کلیشے ہے<br>
ہر ادا کلیشے ہے<br>
وصل بھی کلیشے ہے<br>
ہجر بھی کلیشے ہے<br>
حسن کی طلب مجھ میں<br>
یہ طلب کلیشے ہے<br>
آگ ہے مرے اندر<br>
آگ بھی کلیشے ہے<br>
رات رات سنا ٹا<br>
شام شام تنہائی<br>
دل پہ جو گزرتا ہے<br>
سب کا سب کلیشے ہے<br>
سب کا سب بدل دیجے<br>
میں جدید لکھوں گا<br>
چار سو مرے پھیلی<br>
زندگی کلیشے ہے<br>
ظلم بھی کلیشے ہے<br>
بھوک بھی کلیشے ہے<br>
حکمراں رعایا کا جیسے خون پیتے ہیں<br>
اہل ۔ زر غریبوں پر جو ستم گراتے ہیں<br>
یہ سبھی کلیشے ہے<br>
یہ سبھی بدل دیجے<br>
زندگی بدل دیجے<br>
میں جدید لکھو ں گا
</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%d9%84%db%8c%d8%b4%db%92/">کلیشے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%da%a9%d9%84%db%8c%d8%b4%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سائیں کے نام</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b3%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b3%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[افتخار حیدر]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 13 Mar 2014 10:21:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=3975</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">سائیں بلاول،<br />
اک دن تو نے<br />
موہنجو دڑو کی مری ہوئی تہذیب کے اوپر<br />
زندہ لوگوں کے جھرمٹ میں
</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b3%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85/">سائیں کے نام</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<figure id="attachment_3977" aria-describedby="caption-attachment-3977" style="width: 650px" class="wp-caption aligncenter"><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2014/03/tharparkar-inner-featured-2.jpg"><img fetchpriority="high" decoding="async" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2014/03/tharparkar-inner-featured-2.jpg" alt="©   Mobeen Ansari" width="650" height="319" class="size-full wp-image-3977" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2014/03/tharparkar-inner-featured-2.jpg 650w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2014/03/tharparkar-inner-featured-2-300x147.jpg 300w" sizes="(max-width: 650px) 100vw, 650px"></a><figcaption id="caption-attachment-3977" class="wp-caption-text">©  <a href="https://www.facebook.com/mobeenart/photos/a.144279275591121.22061.120106494675066/749605248391851/?type=1&amp;theater"> Mobeen Ansari</a></figcaption></figure>
<div class="urdutext">سائیں بلاول،<br>
اک دن تو نے<br>
موہنجو دڑو کی مری ہوئی تہذیب کے اوپر<br>
زندہ لوگوں کے جھرمٹ میں<br>
کتنی اچھی بات کہی تھی؛ تو نے کہا تھا<br>
دین کے نام پہ دہشت گردی کرتے والوں کو بتلا دو<br>
تم کیا جانو دین کی حرمت تم انسانوں کے قاتل ہو<br>
تم وحشی ہو، تم ہو درندے<br>
عورتوں بچوں کے قاتل سفاک درندے۔۔<br>
کتنی اچھی، کتنی سچی بات تھی سائیں<br>
جی کرتا تھا جا کر تیرا ماتھا چوموں</div>
<p>
ــ</p>
<p></p><div class="urdutext">سائیں، میرے پیارے سائیں<br>
سندھ زمین کے آقا سائیں<br>
تیری دھرتی کے اک ٹکڑے تھر کے اوپر<br>
بھوکے انسانوں کی لاشیں<br>
کتے بلے نوچ رہے ہیں۔۔
</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b3%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85/">سائیں کے نام</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b3%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>5</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
