<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>حمزہ حسن شیخ, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/humza-hassan-sheikh/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Sat, 01 Jun 2024 03:11:50 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>حمزہ حسن شیخ, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>انار گلے (حمزہ حسن شیخ)</title>
		<link>https://laaltain.pk/anar-gullay/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/anar-gullay/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[حمزہ حسن شیخ]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 11 May 2019 09:38:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Afghan Jihad]]></category>
		<category><![CDATA[Afghan war]]></category>
		<category><![CDATA[hamza hasan sheikh]]></category>
		<category><![CDATA[woman and afghan war]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[افغان جہاد]]></category>
		<category><![CDATA[حمزہ حسن شیخ]]></category>
		<category><![CDATA[مجاہدین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24578</guid>

					<description><![CDATA[<p>اپنے نام کی طرح ، وہ واقعی انار کی کلی تھی، بہت ہی نازک، خوبصورت اور دل موہ لینے والی۔ یہ اس کا اصل نام تھا یا اسے اس نام سے پکارا جاتا تھا۔ کوئی بھی اس بارے میں نہیں جانتا تھا۔ بچپن سے ہی ، وہ اناروں سے کھیل رہی تھی، اس لیے سب [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/anar-gullay/">انار گلے (حمزہ حسن شیخ)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>اپنے نام کی طرح ، وہ واقعی انار کی کلی تھی، بہت ہی نازک، خوبصورت اور دل موہ لینے والی۔ یہ اس کا اصل نام تھا یا اسے اس نام سے پکارا جاتا تھا۔ کوئی بھی اس بارے میں نہیں جانتا تھا۔ بچپن سے ہی ، وہ اناروں سے کھیل رہی تھی، اس لیے سب نے سوچا کہ قندھاری اناروں کا سرخ رنگ، چمک دمک اور تازگی اس میں سرایت کر گئی تھی اور اس کی شخصیت بھی اس رنگ میں رنگ گئی تھی۔ شاید، اس میں کچھ حقیقت بھی تھی۔ اس کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا تھا کہ وہ قندھار سے ہی تعلق رکھتی ہے اور واقعی اس کے والدین نے اس کی پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے وہاں سے ہجرت کی تھی ۔ اس کا باپ پھلوں کا بیوپاری تھا اور قندھار سے وزیرستان انار درآمد کرتا تھا۔ اگرچہ اس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ یا اس کاروبار کا اجازت نامہ تو نہ تھا مگر ان دنوں کسی کی اجازت کی ضرورت نہ پڑتی تھی۔ اناروں کی بند پیٹیاں قندھار سے خوست لائی جاتیں اور وہاں سے مختلف پہاڑی راستوں سے ان کو وزیرستان سمگل کیا جاتا جہاں راستے میں کوئی سیکیورٹی روکاوٹ نہ تھی۔ یہی ان کا روزگار تھا اور اس کا باپ اس کا کاروبار کا سب سے بڑا تاجر تھا۔ ان کے دن بہت خوشحال اور خوش کن تھے۔ زندگی اتنی ہی تروتازہ تھی جتنی ان پیٹیوں میں بند انار۔ کاروبار پھیلنے کے ساتھ ساتھ ، اس کے باپ نے بھی وزیرستان میں مستقل سکونت اختیار کر لی اور ان کو ہجرت کر کے یہاں بسنے میں کوئی روکاوٹ پیش نہ آئی۔ علاقہ سارا ایک جیسا تھا، سر سبز و شاداب پہاڑوں سے بھرپور ، اونچے اونچے درخت اور موسم سرما میں جب وہاں پر برف باری ہوتی تو سارے پہاڑ برف سے اٹ جاتے۔ وہ انہی اونچے پہاڑوں پر زندگی بسر کر رہے تھے۔ گھر کی کوئی دیوار نہ تھی لیکن دو کمروں پر مشتمل گھر کے سامنے ایک چھوٹا سا صحن تھا جس کے ایک طرف لکڑی کے خالی ڈبے پڑے تھے جن میں انار پیک کر کے ان کو بھیجے جاتے تھے۔</p>
<p>انار گلے کے چہرے پر قندھار کی خوبصورتی چھلکتی تھی۔ وہ کپاس کی طرح نازک تھی۔ اگر اس کی جلد کو چھوا جاتا تو نشان پڑ جاتے ۔ وہ ہمیشہ لمبے لمبے گھاگھرے پہنتی جو مختلف قسم کے سکوں سے سجے ہوتے اور ہر وقت ماحول ان کی جھنکار سے گونجتا رہتا۔ جیسے جیسے وہ بڑی ہوتی گئی، اس نے اپنے اردگرد انار ہی انار پائے۔ وہ ان سے کھیلتی اور رسیلے انار کھاتے کھاتے بڑی ہونے لگی۔ جب وہ سمجھدار ہوئی تو ماں نے اس کو بھی اپنے ساتھ کام میں لگا لیا اور اب وہ والدین کی مدد کے لیے ان کا ہاتھ بٹانے لگی۔ زیادہ تر وہ ہی پیٹیاں کھولتی، پھلوں کو پرکھتی ، ان کو معیار کے مطابق تقسیم کرتی اور دوبارہ ان کو پیک کر کے مختلف شہروں کو بھیجا جاتا۔ انار کی جلد اتنی سخت ہوتی کہ یہ لمبے عرصے تک باسی نہ ہو پاتا لیکن کبھی کبھار ذریعہ آمدورفت کی نقل و حرکت اور لمبے فاصلے کے سفر کی وجہ سے یہ خراب یا ضائع ہو جاتے تاہم ان کٹے پھٹے اناروں کا یہ لوگ رسیلا رس نکال کر پینے کے لیے استعمال کرتے۔ انار گلے کے برف کی طرح سفید ہاتھ اب ان اناروں سے رنگ چکے تھے کیونکہ جب بھی وہ ان کو کاٹتی، صاف کرتی تو یہ اس کے ہاتھوں پر نشان چھوڑ جاتے۔</p>
<p>زندگی اپنی موج میں رواں تھی کہ اچانک روس اور افغانستان کے درمیان جنگ چھڑ گئی اور ساتھ ہی اناروں کی نقل و حرکت بھی بند ہو گئی۔ اس کے باپ نے ہاتھوں میں بندوق پکڑی اور ایک دن ان کو اکیلا چھوڑ کر روس کے خلاف لڑنے نکل گیا۔ ان کو اسے روکنے کا موقعہ تک نہ ملا اور وہ جہاد کرنے کے لیے پہاڑوں کے پیچھے گم ہو گیا۔ زندگی مشکل ہو گئی اور اس کی ماں نے پیٹ بھرنے کے لیے کوئی اور کام شروع کرنے کا سوچ لیا اور وہ سلائی کڑھائی کا کام کرنے لگی تاکہ گھر چلانے کے لیے کچھ پیسوں کا بندوبست ہو سکے جبکہ وہ اسی مقصد کے لیے دھاگے رنگنے کا کام کرنے لگی۔ اس کے ہاتھ دوبارہ کئی رنگوں سے رنگ گئے تھے لیکن ان سے اناروں کی خوش کن بو نہیں آتی تھی اور انار گلے باسی انار کی طرح مرجھا گئی تھی۔ وہ اناروں سے ا تنی مانوس ہو چکی تھی کہ کبھی بھی یہ کاروبار نہ چھوڑتی لیکن اب اور کوئی راستہ بھی نہ تھا۔</p>
<p>ایک سال سے زیادہ عرصہ بیت گیا مگر اس کا باپ واپس نہ آیا اور وہ بالکل مایوس ہو گئے۔ اس کی کوئی خیر خبر نہ تھی اور نہ ہی دوسری طرف کے تاجر نے ان سے رابطہ کیا تھا۔ جنگ زوروں پر تھی اور ان کو توپوں کی گھن گرج اپنے گھر میں صاف سنائی دیتی تھی۔ کبھی کبھار تو ان کو سرحد پار سے، پہاڑوں کے پیچھے سے دھواں بھی اٹھتا دکھائی دیتا۔ وہ سرحد کے ساتھ ہی زندگی گزار رہے تھے اس لیے یہ آوازیں ان کو بآسانی سنائی دیتیں۔ کبھی کبھار تو ان کو اپنے قدموں تلے زمین بھی لرزتی محسوس ہوتی اور زوردار دھماکوں کی وجہ سے کھڑکیاں اور دروازے بھی بجنے اور لرزنے لگتے۔ یہ بہت خوفناک صورت حال تھی اور اکثر رات کو، ایسا دکھائی دیتا جیسے آسمان پر آتش بازی ہو رہی ہو۔ شدید فائرنگ اور بمباری سے ان کی رات کی نیند جاتی رہتی اور وہ کئی کئی راتوں سو نہ پاتے۔ کوئی ایسا گھنٹہ نہ تھا جب دوسری جانب کوئی میزائل نہ گرتا۔ کئی بار وہ پہاڑوں پر چڑھتی تو دوسری طرف کا دھندلا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے ہوتا۔ اگرچہ وہاں سے کئی میلوں کا فاصلہ تھا لیکن شور شرابہ، آگ اور دھواں اس کے منظر کو واضح کر دیتے ۔ وہ ہمیشہ اپنے بابا کو نہ پا کر مایوس ہو کر نیچے اترتی ۔ ان کے کوئی ہمسائے نہ تھے لیکن کچھ فاصلے پر، مختلف چوٹیوں پر کچھ گھر ضرور تھے اور اکثر گھروں کے سامنے لمبے لمبے صحن یا پھلوں کے باغات تھے۔</p>
<p>ابھی جنگ جاری تھی کہ سرحد پار سے لوگ ان کے گائوں میں داخل ہونا شروع ہو گئے جن میں سے خاصی تعداد مجاہدین کی بھی تھی کیونکہ ان کے اجسام ہتھیاروں سے سجے تھے اور ان کے لمبے لمبے بال اور لمبی لمبی دڑاھیاں تھیں۔ سرحد کے اس پار لوگوں نے گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا اور ان کو گاوں کے مہمانوں کے طور پر عزت بخشی گئی اور انہیں خوراک ، رہائش اور تمام سہولیات مہیا کی گئیں۔ اس کا باپ واپس نہ آیا تھا اور انہیں یقین ہو گیا کہ وہ آگ اور جنگ کی تاریک راہوں میں کھو گیا تھا۔ زندگی اپنی سمت تبدیل کرنے لگی اور جیسے جیسے دن گزرتے چلے گئے۔ کوئی کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے ان کے دن غربت میں بدلنے لگے اور ماضی کے سارے حسین سپنے محو ہو گئے ۔ بوڑھی اور غریب حال ماں نے موت سے پہلے اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ اپنی اکلوتی بیٹی کے لیے سہارا چاہتی تھی جس نے ان سنگلاخ چٹانوں میں بغیر کسی کمائی کے ساری زندگی گزارنی تھی۔ اس نے اپنے کچھ رشتہ داروں اور گائوں کے بڑوں سے مشورہ کیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ مہاجرین میں سے کسی نوجوان سے اس کی شادی کر دی جائے۔ چونکہ وہ اکیلی تھی اس لیے اسے ایک سہارا چاہیے تھا جبکہ سرحد پار سے آنے والا شخص بھی بے گھر اور اکیلا تھا اور اس اجنبی کو بھی یہاں ایک ٹھکانہ چاہیے تھا اس لیے دونوں کو ایک دوسرے کے لیے مناسب سمجھا گیا اور انار گلے کی شادی ایک ازبک لڑکے سے کر دی گئی جو بہت خوبصورت اور نفیس تھا لیکن اس کے لمبے بال اور بے ترتیب دڑاھی اس کو خوفناک بناتی تھی۔ دن ہنسی خوشی گزر رہے تھے اور وہ دونوں زبانوں کے فرق کے باوجود ایک دوسرے کو سمجھنے لگے تھے۔ اس کا حسن بے مثال تھا اور وہ ابھی بھی تازہ اور سرخ انار کی طرح تر و تازہ نظر آتی تھی۔ اس کا خاوند اپنے دوستوں کے ساتھ گپ شپ اور گھومنے پھرنے کے علاوہ کچھ نہ کرتا۔ پورے خاندان کے اخراجات ماں بیٹی کی کمائی پر تھے۔ وہ دونوں کام کر کے گھر کے مرد کو بھی پال رہی تھیں۔ دن گزر رہے تھے اور جنگ کے شعلے آہستہ آہستہ کم ہو رہے تھے۔ ایک دہائی تک لڑنے کے بعد، روس ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور جنگ میں شکست کھانے کے بعد واپس اپنے ملک لوٹ گیا۔ ان دنوں مختلف ممالک کے مجاہدین یہاں رہتے تھے اور ان کو دوسرے مجاہدین سرحد پار روس کے خلاف جہاد کے لیے تربیت دیتے تھے۔ انار گلے کا خاوند بھی تربیت دینے والوں میں شامل تھا جو دوبارہ جہاد کرنے نہیں گیا تھا اور یہاں ٹھہر گیا تھا۔ ان میں سے بہت سے جہاد کے لیے واپس افغانستان چلے گئے جبکہ جنہوں نے یہاں شادیاں کر لی تھیں، وہ ہمیشہ کے لیے یہاں بس گئے ۔ جیسے ہی جنگ کی آگ ٹھنڈی ہوئی اور ماحول میں بارود کی بو کم ہونا شروع ہوئی اور مہاجرین کو اپنی جان و مال کا تحفظ محسوس ہوا تو انہوں نے اپنے تباہ شدہ گھروں کو واپس جانا شروع کر دیا۔</p>
<p>انار گلے زیادہ تر اپنے کام میں مصروف رہتی ۔ اس کا خاوند ان دنوں بالکل فارغ تھا کیونکہ اکثر مجاہدین یہیں بس گئے تھے۔ پورے علاقے میں امن تھا اور اب بمباری کا شور شرابہ ان کی سماعتوں میں خلل نہ ڈالتا۔ انہی دنوں، انار گلے جڑوں بیٹوں کی ماں بن گئی جو اس کی طرح خوبصورت بالکل سرخ سرخ اناروں کی طرح تھے۔ وہ بچوں کے ساتھ مصروف ہو گئی جبکہ اس کا خاوند اپنے دوستوں کے ساتھ باہر گھومتا پھرتا ۔ وقت برقی ٹرین کی سی تیزرفتاری سے رواں تھا کہ ایک دن ایک آدمی ان کے گھر پرانے تاجر کا پیغام لیکر آیا جس کے ساتھ وہ اناروں کا کاروبار کر رہے تھے۔ آنے والے نے اس کے باپ کے بارے میں دریافت کیا لیکن اس کی تو کوئی خبر نہ تھی اس لیے اس کی ماں اس شخص کو ملی۔ انار گلے اس شخص کا پیغام سن کر انار کی طرح کھل اٹھی اور سرخ و تر و تازہ انار اس کی آنکھوں کے سامنے جھلکنے لگے۔ وہ دوبارہ یہ کام شروع کرنے پہ رضا مند ہو گئی جبکہ اس کی ماں پریشان و حیران دکھائی دیتی تھی کیونکہ وہ نئے کام میں مصروف ہو چکی تھی لیکن انار گلے یہ کام دوبارہ شروع کرنے پر پرجوش تھی۔ شاید اس کا نام اسے یہ کام کرنے پر اکسا رہا تھا۔ اس نے اپنے خاوند کو راضی کیا اور اس نے بھی وعدہ کیا کہ وہ ضرور اس کی مدد کرے گا۔ اس نے اپنے خاوند کو اس کاروبار کے ماضی کی ساری کہانی سنائی ۔ انہوں نے اس آدمی کو اس یقین دہانی کے ساتھ بھیج دیا کہ وہ ان کے ساتھ کام کریں گے۔ اب سارے راستے اب کھل چکے تھے اور جنگ کے شعلے ٹھنڈے ہو چکے تھے۔ جلد ہی کاروبار دوبارہ شروع ہو گیا اور اس کا خاوند بھی باقاعدگی سے اس میں شامل ہو گیا۔ انار گلے دوبارہ سرخ اناروں میں گھیر گئی جنہوں نے اسے خوبصورت اور تر وتازہ بنا دیا جیسی وہ بچپن میں تھی۔ اگرچہ جنگ ختم ہو چکی تھی لیکن ابھی بھی اس کے خاوند کے کندھے پر بندوق جھولتی رہتی جس پر وہ فخر محسوس کرتا اور یہ عمل اسے سکون دیتا جیسے وہ جنگ کا فاتح ہو۔ زندگی پر سکون راہ پر گامزن ہو گئی اور حکومت ان مہاجرین کی دیکھ بھال میں مصروف ہو گئی لیکن دنیا کے اس کونے کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا اور لوگ یہاں کے شہری بن کر خوش وخرم ہو گئے۔</p>
<p>کاروبار پھلنے پھولنے لگا اور اس کا خاوند اس کا بازو تھا۔ اکثر لوگوں کے ساتھ بات چیت وہ کرتا جو پھلوں سے بھرے بکس لے کر سرحد پار سے آتے۔ ہمیشہ انارگلے ہی ان کی جانچ پڑتال کرتی اور پھر معیار کے مطابق یہ فروخت کے لیے مختلف تاجروں کے پاس بھیجے جاتے۔ سال گزرے اور اب ان کے بچے بھی بڑے ہو گئے تھے جو کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانے لگے ۔ زندگی اپنی دھن میں رواں دواں تھی کہ سرحد پار ملک پر ایک بار پھر سے حملہ ہو گیا لیکن اس بار حملہ آور مختلف تھا۔ سرحد پار سے ایک بار پھر مہاجرین کی تعداد بڑھنے لگی اور کاروبار دوبارہ ٹھپ ہو گیا۔ اس کا خاوند بھی بندوق لے کر غائب ہو گیا جس طرح برسوں پہلے اس کا باپ ہوا تھا۔ زندگی مفلسی کا شکار ہو گئی اور اسے یقین تھا کہ وہ بھی اس کے باپ کی طرح کبھی واپس نہیں آئے گا جو ان کوہمیشہ کے لیے اکیلا چھوڑ گیا تھا۔ لیکن اس کا یہ وہم حقیقت میں نہ بدلا اور اس کی توقعات کے برعکس وہ واپس آ گیا۔ آتے ہی اس نے انار گلے کو بتایا کہ اب وہ کاروبار کی دیکھ بھال کرے گااور اس کے بیٹے اس کی مدد کریں گے۔ اگرچہ اس کا دل کبھی بھی اس کاروبار سے دور رہنے پر تیار نہ تھا لیکن خاوند کی خواہش پر، اس نے خود کو کاروبار سے علیحدہ کر لیا اور گھر کے معاملات میں مصروف ہو گئی۔ جنگ ابھی جاری تھی کہ کاروبار دوبارہ شروع ہو گیا اور اس کا خاوند اس میں مصروف ہو گیا۔ خاوند کے ساتھ کیے گئے وعدے کے مطابق اس نے کبھی بھی کاروبار میں کوئی مداخلت نہ کی لیکن اب تاجروں کے بجائے زیادہ تر مجاہدین ان کے گھر آتے جاتے اور ماحول میں ان کے قہقہے گونجتے ۔ جنگ کے شعلے کئی زندگیاں نگل رہے تھے اور اس کا خادند نئے مجاہدین کی تربیت میں مصروف رہتا اور ساتھ ساتھ اس نے کاروبار پر بھی اپنا تسلط قائم کر لیا تھا۔ گھر میں مہمانوں کی اتنی آمد رہتی کہ اسے کچن سے ہی فرصت نہ ملتی۔ زیادہ تر وقت وہ کھانا پکانے اور دوسرے گھریلو معاملات میں مصروف رہتی کہ اسے اناروں کی خوشبو تک بھول گئی۔ کبھی کبھار تاجر ان کی طرف چکر لگاتا لیکن یہ پہلے والا نہیں تھا جس کے ساتھ وہ کاروبار کر رہی تھی۔ ایک دفعہ اس نے اپنے خاوند سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ پرانا تاجر اب کاروبار جاری نہیں رکھنا چاہتا تھا اس لیے سرحد پار تاجر کو تبدیل کرنا پڑا۔یہ سادہ سا جواب اس کی تسلی کے لیے کافی تھا۔ جنگ کے دوران، کئی لوگوں نے سرحد پار کی اور مختلف پہاڑوں پر بس گئے جبکہ مجاہدین کے گرووں نے بھی سرحد پار جنگ لڑنے کے لیے سرحد عبور کی۔ کئی دفعہ گشتی جیٹ طیارے گائوں کے اوپر چکر لگاتے رہتے۔ اس صورت حال نے انار گلے کا ذہن بالکل تبدیل کر دیا اور وہ زیادہ تر وقت لوگوں کی دیکھ بھال میں لگی رہتی جو ان کے گھر ٹھہرتے یا ان غریبوں کی مدد کرتی جن کو اس کی ضرورت ہوتی ۔ اس کا صاف اور مہربان دل بھی سرخ انار کی طرح ، ہر کسی کی پیاس بجھانا چاہتا تھا۔ لوگوں کی خدمت کرتے کرتے کئی سال بیت گئے اور اس کے بیٹے جوان ہو گئے۔ اب تو وہ اس سے بھی سر نکالنے لگے تھے۔ وہ اپنے بیٹوں سے بے پناہ محبت کرتی تھی اور وہ ہمیشہ فخر محسوس کرتی جب وہ اپنے باپ کا ہاتھ بٹاتے۔ چونکہ گائوں میں کوئی اسکول نہ تھا اس لیے وہ تعلیم حاصل نہ کر سکے اور انہوں نے بھی باپ کی طرح مجاہد بننے کے لیے مجاہدین کے ٹرئینگ کیمپ میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ یہ بات ہمیشہ انار گلے کو کھٹکتی اور اس کے باپ کی یاد یں ہمیشہ اسے ستاتیں جو کبھی نہ لوٹا تھا اور اس کی ماں اس کا انتظار کرتے کرتے مر گئی تھی۔ وہ جب بھی اپنے بیٹوں کے کندھوں پر بندوق دیکھتی تو ان کو ڈانٹ دیتی لیکن وہ سب اس بات پر فخر محسوس کرتے جبکہ باپ بھی ان کی خوب حوصلہ افزائی کرتا۔ اس نے خبر سنی تھی کہ جنگ ختم ہو چکی ہے لیکن ابھی بھی مجاہدین کی تربیت جاری تھی۔ مہاجرین نے سرحد کی دوسری جانب پہاڑوں سے اترنا شروع کر دیا تھا لیکن سارے کیمپ ویسے کے ویسے ہی قائم و دائم رہے۔</p>
<p>وہ مجاہدین کی تربیت پر حیران تھی، اسے کبھی سمجھ نہ آئی کہ آج کل وہ کہاں جہاد کر رہے ہیں۔ اس نے خاوند سے پوچھنے کی کوشش کی لیکن ہمیشہ کی طرح جھڑک دی گئی۔ کاروبار ابھی بھی جاری تھا۔ انار گلے مخمصے میں تھی اور کچھ بھی جاننے سے قاصر کہ اس کے اردگرد کیا ہو رہا ہے۔ گھریلو معاملات نے اس کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا تھا اور اب وہ پہلے والی انار گلے نہ رہی تھی جو کاروباری معاملات میں ماہر تھی۔ اب وہ کچن تک ہی محدود ہو چکی تھی، جیٹ طیارے ایک بار پھر پہاڑوں پر منڈلانے لگے تھے اور اس نے سنا تھا کہ مجاہدین سے لڑنے کے لیے فوج کی پلاٹونوں کا رخ ان پہاڑوں کی طرف ہے۔ اس نے یہ بھی سناکہ یہ مجاہدین سرحد کے اس پار بھی لڑ رہے تھے اور کئی بار انہوں نےعوامی جگہوں پر خود کو اڑایا تھا۔ اس نے ان کہانیوں پر یقین نہ کیا لیکن ایک دن کچھ خواتین اس کو ملنے آئیں اور بتایا کہ ان پہاڑوں سے بہت دور ، بہت سے شہر ہیں اور وہاں پر بسنے والے لوگ اس لڑائی کی وجہ سے زخمی اور مر رہے ہیں اور وہاں لڑنے والوں کو یہی کیمپ ٹرئینگ دے رہے تھے۔ اسے اس صورت حال پر سبکی محسوس ہوئی کہ سب دہشت گردوں کو اس کا خاوند تربیت دے رہا تھا۔ وہ سارا دن اداس رہی اور رات کو اس نے ساری کہانیاں اپنے خاوند کو سنائیں۔ وہ اس کے الفاظ پر متوجہ رہا لیکن اس نے کسی بھی بات کا اقرار نہ کیا۔ جب اس نے حقیقت جاننے کے لیے شور مچایاتو حسب معمول جھڑکیاں ہی اس کا مقدر بنیں۔<br>
ایک دن دوسرے گاوں سے کچھ رشتہ دار اس کو ملنے آئے۔ انہوں نے اسے بتایا کہ اس کا خاوند مختلف شہروں میں کئی دھماکوں کا ماسٹر مائند ہے اور حکومت کو مطلوب ہے۔ حکومت نے اسے گرفتار کرنے یا مارنے کے لیے آپریشن شروع کیا ہے۔ اس خبر نے اس کو لرزا کر رکھ دیا۔ رشتہ دار اس کو بچانا چاہتے تھے، انہوں نے اصرار کیا کہ وہ یہ جگہ چھوڑ دے اور ان کے ساتھ چلے لیکن وہ چیخ پڑی۔ ’’میں یہ جگہ کیسے چھوڑ سکتی ہوں؟ یہ گھر ہے میرا۔ میں اسے کیسے چھوڑ وں؟ میں نے زندگی اس کے ساتھ گزاری ہے، چاہے وہ غیر ملکی ہے لیکن پھر بھی میرا خاوند ہی ہے۔ میں اپنے بچے کیسے چھوڑ سکتی ہوں؟ وہ میرے بیٹے ہیں اور میں ان کی ماں۔ سب کچھ چھوڑ دینا کیسے ممکن ہے؟ــ‘‘ رشتہ داروں نے اسے اپنے ساتھ لے جانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ نہ مانی۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے سرحد پار پھٹنے والے بم اب اس کے گھر میں گر رہے ہوں۔ وہ شرمندہ سی تھی کہ اس کا خاوند ایسے گھناؤنے کاموں میں ملوث ہے۔ رات بھر ، وہ سو نہ سکی۔ ہیلی کاپٹر فضا میں گردش کر رہے تھے جبکہ اندھیری رات میں گولیاں برسنے کی آواز گونج رہی تھی لیکن اب ان گولیوں کی آواز کی سمت تبدیل ہو گئی تھی۔ پہلے یہ سرحد کے اس پار مغرب کی سمت سے آتی تھی لیکن اب ملک کے اندر سے مشرق کی جانب سے آ رہی تھی۔ وہ پشمان تھی کہ اپنے خاوند کو بھی نہ پہچان سکی۔ وہ گھر میں تنہا تھی اور اس کا خاوند اور بیٹے ابھی تک کیمپ سے واپس نہیں لوٹے تھے۔ تازہ دستے پہاڑوں سے اتر رہے تھے جو مختلف قسم کی گاڑیوں پر سوار تھے۔ وہ نعرے سن رہی تھی اور اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ وہ خاوند کی آمد کے لیے بے چین تھی کیونکہ اسے اپنے سوالوں کا جواب چاہیے تھا۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ جس جنگ کے شعلے وہ بچپن میں سرحد پار دیکھا کرتی تھی، وہی شعلے اس کے گھر کی دہلیز پار کر جائیں گے۔ اس کی آنکھیں آنسووں سے تر تھیں، ’’میں نے ایک اجنبی سے شادی کی جو نہ میرے گائوں کا تھا اور نہ ہی میرے قبیلے کا۔ میں نے اپنی زندگی اس کے نام کر دی اور اپنا سارا کاروبار اس کے حوالے کر دیا۔ اس پر اندھا بھروسہ کیا اور اس نے مجھے اس طرح سے دھوکہ دیا۔ وہ ہزاروں افراد کا قاتل ہے اور اب لوگ میری جانب انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ میں نے تو کبھی بھی کسی کے لیے کچھ برا نہیں سوچا اور ہمیشہ اپنے گھر میں مقید رہی، صرف اس کے لیے اور اس نے سب کچھ مجھ سے چھین لیا، یہاں تک کہ میرا کاروبار اور بیٹے بھی۔ اس نے میرے کاروبار کو بھی اپنے وحشی کرتوتوں سے خونی دھندے میں تبدیل کر دیا ہے۔‘‘ اس کے اندر ایک جنگ جاری تھی جس کے شعلوں میں وہ جل رہی تھی۔ اس کی آنکھیں نیند سے عاری تھیں۔ نعرے ابھی بھی گونج رہے تھے لیکن وہ ان سے بے پرواہ تھی۔ وہ خاصی دیر سے چارپائی پر ساکن بیٹھی تھی۔ صبح ہونے والی تھی کہ اس کا خاوند بیٹوں کے ہمراہ گھر میں داخل ہوا۔</p>
<p>’’ابھی تک جاگ رہی ہو۔تم سوئی نہیں۔‘‘ اسے جاگتا دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا۔<br>
’’نہیں۔‘‘<br>
’’کیوں؟‘‘<br>
’’اپنے گھر میں گھسے ایک مجرم کی تفتیش کے لیے۔۔۔۔‘‘<br>
’’کیا بکواس کر رہی ہو۔۔۔؟‘‘ وہ غصے سے بپھر کر بولا۔<br>
’’ہاں، تم ہی میرے گھر میں ایک مجرم ہو۔ مجھے سچ بتائو۔ تم ان دنوں کیا کر رہے ہو؟‘‘ وہ چیخی۔<br>
’’تم پاگل ہو گئی ہو۔‘‘ اس نے سختی سے جواب دیا اور اس کو ایک طرف دھکیل دیا لیکن آج وہ ایک جرات مند انار گلے تھی۔ وہ اپنی جگہ پر ساکن رہی اور اس کی ٹھوکر اسے نہ گرا سکی۔<br>
’’میرے سوال کا جواب دو۔ تم آج کل کون سا کاروبار کر رہے ہو؟‘‘<br>
’’وہی جو تم نے شروع کیا تھا۔۔۔‘‘ اس نے اعتماد سے جواب دیا۔<br>
’’نہیں تم جھوٹے ہو۔۔۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر اناروں کی خوشبو کیوں نہیں آتی؟‘‘ اس نے اسے خونخوار نظروں سے گھورا۔<br>
’’کیونکہ تم پاگل ہو چکی ہو۔۔۔‘‘ اس نے اسے نفرت سے دیکھا۔<br>
’’تم ایک قاتل اور مجرم ہو۔ تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے۔‘‘ وہ دوبارہ چیخی لیکن اس کے پاس اس کے کسی سوال کا جواب نہ تھا۔</p>
<p>’’چپ شہ او بکواس ماکوہ۔ (چپ کرو اور بکواس بند کرو)۔‘‘ وہ غصے سے دھاڑا، اس کو ایک طرف دھکیلا اور اپنے کمرے میں آرام کرنے چلا گیا۔ بچے سب کچھ دیکھتے رہے لیکن کوئی بھی ماں کا سہارا نہ بنا اور ماں بیچاری وہیں پڑی، خاصی دیر روتی رہی۔ بچے اپنے کندھوں پر بندوقوں کی وجہ سے فخر محسوس کرتے تھے اور باپ ان کے لیے مثالی اور پسندیدہ شخصیت تھا۔ ان کا زیادہ تر وقت باپ کے ساتھ گزرتا جبکہ ماں کو انہوں نے زیادہ تر گھریلو کاموں میں ہی مصروف پایا تھا۔ وہ کبھی بھی یہ زندگی نہیں چھوڑنا چاہتے تھے جو اس علاقے کے لوگوں کے لیے مثالی تھی اور لوگ ان کو مجاہد جان کر ان کی بے حد عزت کرتے تھے۔</p>
<p>انار گلے نے زندگی میں پہلی بار خود کو اکیلا محسوس کیا تھا۔ پہلے وہ اس وقت مرجھا گئی تھی جب اس نے اپنا باپ کھویا تھا اور اب وہ اپنا سب کچھ، اپنے ہی گھر میں کھو چکی تھی، جب وہ اپنے خاندان کی زندگیاں بنانے میں مصروف تھی۔ اس نے اپنے دل میں عہد کر لیا، ’’میں بھی پٹھانی ہوں اور اس راز سے ضرور پردہ اٹھائوں گی۔‘‘ دوسرے دن سورج کی کرنوں سے پہلے ہی آپریشن کی خبر گاوں میں پھیلی اور جب انار گلے کی آنکھ کھلی تو گھر میں کوئی بھی نہ تھا۔ وہ اپنے خاوند اور بیٹوں کے کمرے چیک کرنے لگی لیکن وہاں پر کچھ بھی نہ تھا۔ وہ اسٹور روم گئی تو وہاں اسٹور کے باہر لکڑی کے خالی ڈبے اور کچھ گلے سڑے انار بھی پڑے تھے جبکہ اسٹور کو تالا پڑا تھا۔ زندگی میں پہلی بار، اس کو اسٹور روم بند ملا۔ یہ اس کو چونکا دینے والا لمحہ تھا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا تو باہر ایک بڑا پتھر نظر آیا۔ اس نے وہ پتھر اٹھایا، باربار قفل پر ضربیں لگائیں اور آخرکار قفل ٹوٹ گیا۔ وہ اندر داخل ہوئی تو اسٹور روم میں گہرا اندھیرا تھا۔ وہ واپس گھر کی جانب آئی، ایک لالٹین اٹھائی اور دوبارہ اسٹور روم میں جھانکا۔ اسٹور روم لکڑی کے ڈبوں سے پر تھا جو اوپر نیچے ایک ترتیب میں رکھے تھے۔ زمین پر کچھ گلے سڑے انار بکھرے پڑے تھے جبکہ ایک کونے میں ، اناروں کا ڈھیر لگا تھا۔ اس نے ان کو اٹھایا تو اسے محسوس ہوا کہ یہ پلاسٹک کے تھے اور کھلونے انار تھے۔ اس نے لالٹین کی لو ُ اونچی کی اور زمین پر پڑے ایک ڈبے کو اپنی جانب گھسیٹا۔ آدھی سے زیادہ زندگی، اس نے ایسے ڈبوں کو گھسیٹا تھا لیکن یہ اتنا بھاری تھا کہ وہ اس کو ہلا بھی نہ سکی۔ اس نے ہاتھ ڈبے میں ڈالا تو ایک انار سے ٹکرایا اور پہلی بار خوشی کی ایک لہر اس کے چہرے پر دوڑ گئی اور اسے خاوند کو برا بھلا کہنے پہ خود پر غصہ آیا۔ اس نے اسے لالٹین کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کی لیکن اس کا حلیہ واضح نہ تھا۔ وہ اسے باہر روشنی میں لے گئی اور جیسے ہی وہ دروازے میں پہنچی ۔ وہ کانپ اٹھی اور انار اس کے ہاتھ سے گرتے گرتے بچا۔ یہ تھا تو بالکل انار کی طرح لیکن حقیقت میں، یہ انار نہ تھا۔ یہ لوہے کا انار تھا جس کے سر پر ایک پن لگی تھی۔ وہ اپنی جگہ پر ٹھٹک کر رہ گئی اور اسے یوں محسوس ہوا جیسے سارے انار، جو اس نے اپنی زندگی میں چھوئے تھے، اس کے سر پر گرنا شروع ہو گئے ہوں۔ اس نے پورے کمرے میں روشنی پھیر کر دیکھی تو سارے ڈبے ان سے بھرے تھے جبکہ کچھ ڈبوں میں کچھ اور ہتھیار بھی تھے۔ دیوار پر جیکٹیں بھی لٹکی ہوئی تھیں جو انہی اناروں سے بنی ہوئی تھیں۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی اور بچپن کے سارے رسیلے انار اس کی آنکھوں کے سامنے جھلکے۔ وہ لڑکھڑاتے قدموں سے واپس صحن میں آئی تو اس کا دماغ پھٹ رہا تھا۔ کس طرح اس کی معصومیت سے کھیلا گیا تھا، اسے اس پر یقین نہ آرہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے زاروقطار آنسو بہہ رہے تھے اور وہ اس بڑے سے کمرے میں چھپ کے بیٹھی تھی جو گھنے درختوں کے پیچھے تھا۔ آج ہیلی کاپٹر بہت نیچی پرواز کے ساتھ گائوں پر چکر کاٹ رہے تھے اور توپوں اور مارٹر گولوں کی آواز بہت قریب سے آ رہی تھی۔ جنگ ان کی دہلیز پر دستک دی چکی تھی۔ لیکن وہ بالکل ساکن تھی۔ باہر انتہا کا شور تھا، چونکہ گھر کا کوئی دروازہ یا دیواریں نہ تھیں۔ اس لیے آنے والے لوگوں نے اونچی آواز میں پردہ کرنے کو بولا۔ اس نے اپنا چہرہ گھونگھٹ کی اوٹ میں کر لیا اور لوگ ایک چارپائی کے ساتھ اس کے صحن میں آن کھڑے ہوئے۔ یہ اس کے بڑے بیٹے کی لاش تھی۔ لوگوں نے بتایا کہ گائوں کے باہر جنگ جاری ہے اور اس کا خاوند اور بیٹے ادھر ہی لڑ رہے ہیں۔ وہ اس منظر پر چیخ اٹھی لیکن کوئی بھی اس کے غم میں شریک ہونے والا نہ تھا۔ اس نے اپنے بیٹے کا ماتھا چوما اور ایک بار پھر اپنے دل میں پشیمانی محسوس کی۔ ابھی وہ بیٹے کی لاش سجا رہی تھی کہ باقی دو بیٹوں کی لاشیں بھی اس کے سامنے رکھ دی گئیں۔ اس نے خون میں لت پت اپنے جگر گوشوں کو دیکھا اور بچپن کی یادیں اس کی آنکھوں کے سامنے سے گزر گئیں۔جب وہ اونچے پہاڑوں کی دوسری جانب سرحد پار دھواں دیکھتی تھی جو اسے کسی فلم کی طرح محسوس ہوتے۔ اسی جنگ نے اس کے سارے خاندان اور زندگی کو نگل لیا تھا۔ آنسو اس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے لیکن وہ بالکل ساکن اور خاموش تھی، نہ کوئی سسکی نہ بین، نہ کوئی چیخ اور نہ کوئی ماتم۔ اس نے ساری لاشوں کو صحن میں چھوڑا اور دوبارہ اسٹور روم میں گئی ۔ زندگی میں پہلی بار، اس نے اپنے گھر کی دہلیز کے باہر قد م رکھا۔ اس کے قدم گائوں سے باہر کی جانب اٹھ رہے تھے جہاں پر جنگ لڑی جا رہی تھی۔ اس نے اپنا جسم اور چہرہ پردے میں چھپایا ہوا تھا۔ وہ برستی آگ اور دھوائیں کے قریب پہنچی تو ایک شخص سے اپنے خاوند کے بارے میں پوچھا۔ اس نے گھور کر اسے دیکھا اور اس کو گھر جانے کی ہدایت کی کیونکہ پورے علاقے میں کسی عورت کو یوں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہ تھی۔ ہر سو گرد اور دھواں تھا اور وہ کچھ بھی دیکھنے کے قابل نہ تھی۔ اس نے اس شخص کی بات کو سنی ان سنی کر دیا اور آگے کی سمت بڑھی۔ اس نے ایک بڑے درخت کے پیچھے پناہ لی اور گہرے دھوئیں اور گرد میں دیکھنے کی کوشش کرنے لگی۔ بچپن کا وہی منظر اس کی آنکھوں کے سامنے آگیا لیکن اب یہ منظر بہت قریب آگیا تھا۔ ابھی وہ کوئی مناسب پناہ ڈھونڈ رہی تھی کہ اس نے اپنے زخمی خاوند کو میدان جنگ سے بھاگتے دیکھا جس کا رخ اب گھر کی جانب تھا۔ اس نے اس کا تعاقب کیا اور گائوں میں داخل ہونے سے پہلے اس کو جا لیا۔ وہ اناروں کی بنی جیکٹ پہنے ہوئے تھی جبکہ ایک اناراس کے ہاتھ میں تھا۔ اس کا خاوند اسے اس حلیے میں دیکھ کر کانپ گیا۔ اس نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن زندگی میں پہلی مرتبہ اس نے اسے گلے لگا لیا۔ اس نے انار اپنے دانتوں سے کاٹا جیسا کہ وہ بچپن میں، رسیلے دانوں کا رس چوسنے کے لیے انار کا چھلکا اتارتی تھی۔ انار ایک دھماکے سے پھٹا اور ساتھ میں جیکٹ میں پروئے ہوئے انار بھی پھٹنے لگے اور وہ بھی انار کے رسیلے دانوں کی طرح تقسیم ہو کر بکھر گئی۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/anar-gullay/">انار گلے (حمزہ حسن شیخ)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/anar-gullay/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خودکشی</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%af%da%a9%d8%b4%db%8c/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%af%da%a9%d8%b4%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[حمزہ حسن شیخ]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 17 Jun 2015 09:43:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=11538</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">تاریک اور پرانے قبرستان کے سب کیڑے روزانہ رات کو ملاقات کرتے۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%af%da%a9%d8%b4%db%8c/">خودکشی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">تاریک اور پرانے قبرستان کے سب کیڑے روزانہ رات کو ملاقات کرتے۔ وہ سارا دن پیش آنے والے واقعات پر بحث کرتے اور ہر مردے کے گوشت کا ذائقہ مزے سے بیان کرتے۔ ہر دن، جب بھی کوئی مردہ قبرستان لایا جاتاتو یہ ان کے لئے خوشی کا لمحہ ہوتا اور پیٹ بھر کھانے کا تصور ان کا موڈ خوشگوار بنا دیتا۔ یہ ان کا معمول تھا اور ان کی زندگی میں کوئی دن ایسا نہ تھا جب قبرستان میں کسی مردے کو نہ لایا گیا ہو۔</div>
<div class="leftpullquote">رات کو سارے کیڑے مکوڑے آپس میں چہ مگوئیاں کرتے اور اندھیری رات میں سارے کیڑے مرکزی درخت تلے جمع ہو جاتے جو کہ دور سے بہت خوفناک نظر آتا تھا</div>
<div class="urdutext">یہ خوفناک اور اندھیری جگہ تھی لیکن وہ وہاں پر خوب لطف اٹھاتے۔ یہ ان کے لئے یادگار جگہ تھی کیونکہ وہ یہاں کے آبائی تھے اور ان کی پیدائش انہی اندھیری جھاڑیوں میں ہوئی تھی جہاں ان کی ساری زندگی بیتی تھی۔ قبرستان بہت تاریک تھا اور کسی بھی زندہ انسان نے کبھی یہاں رات گزارنے کی ہمت نہ کی تھی اور وہ اس غم زدہ اور خوفناک تاریکی میں اپنے سائے سے بھی ڈرتے تھے۔ یہاں زندگی کی کوئی رمق باقی نہ تھی تاہم زندگیاں ختم ہونے کے آثار نمایاں تھے جو اب تاریکی میں کھو چکی تھیں۔ رات کو سارے کیڑے مکوڑے آپس میں چہ مگوئیاں کرتے اور اندھیری رات میں سارے کیڑے مرکزی درخت تلے جمع ہو جاتے جو کہ دور سے بہت خوفناک نظر آتا تھا۔ ہوا کی وجہ سے سائے مزید خوفناک روپ دھارتے اور لہراتی شاخیں مزید خوفناک تصور پیش کرتیں۔<br>
کیڑے بہت خوش تھے اور ان کی خوشی بھری آوازیں فضا میں گونج رہیں تھیں۔ زندگی ان کے لئے خوشگوار تھی اور ان کو ضرورت سے زیادہ کھانے کو مل رہا تھا۔<br>
’’کیسے ہو دوست؟‘‘ ایک کیڑے نے دوسرے سے پوچھا۔<br>
’’زندگی یہاں خوشگوار ہے اور ہمیں آجکل کھانے کے لئے بہت کچھ مل رہا ہے۔‘‘ دوسرے نے جواب دیا۔<br>
’’انسانی گوشت کچھ زیادہ ہی لذیذ ہوتا ہے اور مجھے تو اپنے کیڑے ہونے پر رشک آتا ہے کہ ہمیں یہ نمکین گوشت کھانے کا موقع ملتا ہے۔ ‘‘ پہلے والے نے جواب دیا۔<br>
’’خدا کا شکر ہے کہ انسان ایک دوسرے کو نہیں کھاتے ورنہ ہم تو بھوکوں مرتے۔‘‘<br>
’’یقینا! پھر تو خوراک نہ ہونے کی وجہ ہمیں فاقے کرنے پڑتے۔‘‘</div>
<div class="leftpullquote">کچھ ماہ بعد، بہت ہی عجیب و غریب صورت حال پیش آئی کہ مردے خون میں لت پت ہوتے اور ان کے اجسام سوراخوں سے چھلنی ہوتے ، کیڑوں کو کفن میں داخل ہونے کے لئے راستہ تلاش کرنا پڑتا کیونکہ بعض اوقات وہ مردے کے خون سے رسنے والے خون میں ڈوب جاتے</div>
<div class="urdutext">زندگی خوشیوں سے بھرپور تھی اور وہ خود کو دنیا کی خوش نصیب ترین مخلوق سمجھتے تھے۔ ان کی طرح اور بھی ہزاروں تھے جو کہ روزانہ رات کو اپنے جذبات کا اظہار کرتے اور پیٹ بھر کھانے کے ذکر سے مزے لیتے جو دن بھر ان کو میسر آتا۔ ایسا کوئی دن نہ تھا، جب ان کو خوارک نہ ملی ہو یا وہ بھوکے رہے ہوں۔ ان کی زندگی سہل ترین تھی۔ وہ انسانی گوشت چبا چبا کے اور ہڈیاں نوچ نوچ کے بڑے ہوئے تھے جو بعد میں مٹی کا مقدار بنتیں۔ انہوں نے ہر قسم کا انسانی گوشت چکھا تھا، چاہے بوڑھے کا ہو یا کہ جوان کا۔ گورے کا یا کالے کا۔ لیکن ان کو رنگ و نسل، عمر اور مذہب سے کوئی غرض نہ تھی کیونکہ وہ تو کیڑے تھے، انسان نہیں۔ ان کو ہڈیوں سے گوشت نوچنے کی عادت ضرور تھی لیکن حسد اور بغض کے کینے سے ناآشنا تھے اور ہر قسم کا گوشت ان کے لئے لذیذ تھا۔ اب وہ اس قدر ماہر ہو چکے تھے کہ قبر میں داخل ہونے سے سے پہلے ہی ان کو پتہ چل جاتا کہ مرنے والا مرد ہے، عورت یا کہ بچہ۔ ان کی پسندیدہ خوراک چھوٹے بچوں کا گوشت تھا کیونکہ ان کا گوشت نرم اور تازہ ہوتا، اتنا زود ہضم اور لذیذ کہ بعض اوقات تو وہ اپنا حصہ لینے کے لیے ایک دوسرے پر جھپٹ پڑتے ۔ ان کو صرف بوڑھے مردوں سے خوف آتا تھا کیونکہ ایک تو ان کے جسم پر گوشت بہت کم ہوتا اور دوسرا زیادہ تر ہڈیاں ہی ہوتیں۔ علاوہ ازیں یہ ہضم کرنا بھی سہل نہ تھا۔ لذیذ گوشت ان کو نشے میں مبتلا کر دیتا اور وہ تب تک مردے کو نہ چھوڑتے جب تک اس کی ہڈیاں نمودار نہ ہوجاتیں۔ اندھیری رات آتے ہی سب بڑے درخت کے نیچے جمع ہو گئے جس کی آکٹوپس کی طرح پھیلی شاخوں نے قبرستان کو مزید تاریک بنا دیا۔ ایسے معلوم ہوتا جیسے یہ قبرستا ن کی تمام مخلوق کو پناہ دینا چاہتا ہے۔ سارے کیڑے مکوڑے خوفزادہ دکھائے دیئے کیونکہ مرنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا تھااور وہ تمام مردوں کو کھانے سے قاصر تھے جو روزانہ کسی تاریک قبر میں پناہ گزیں ہوتے۔ اگرچہ انہوں نے خود کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر رکھا تھا تاکہ مردوں کا روزانہ صفایا کر سکیں تاہم وہ پھر بھی گوشت ختم نہ کر پاتے۔ اپنی ضرورت سے زیادہ کھانے کے باوجود بھی گوشت بچ جاتا۔ انہوں نے ساری زندگی کسی مردے کو کھائے بغیر نہیں چھوڑا تھا۔<br>
’’مردوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔‘‘ ایک کیڑے نے دوسرے کو کہا۔<br>
’’ہاں، میں نے بھی پہلے کبھی اتنا نہیں کھایا ہے۔ ‘‘ دوسرے نے جواب دیا۔<br>
’’پہلے ایسا کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔ اب موت کا فرشتہ کچھ زیادہ ظالم ہو گیا ہے۔‘‘ پہلے والے نے جواب دیا۔<br>
’’ہاں، پیٹ بھر کھانے کے بعد بھی۔۔۔۔ہم اس کو ختم نہیں کر پاتے۔‘‘ دوسرے نے جواب دیا۔<br>
’’لیکن مجھے اس صورت حال پہ بہت تشویش ہے، اگر شہر کے سارے انسان مر گئے تو پھر ہم کیا کھائیں گے۔‘‘ پہلے والے نے فکر مندی سے کہا۔<br>
’’ یقینا! ہم تو فاقوں مریں گے۔ خدا ہم پر رحم کرے۔‘‘ انہوں نے عاجزی سے خدا کے حضور دعا کی تاکہ انسانوں کی شرح اموات میں کمی آئے اور ان کو خوراک اچھے اور مناسب طریقے سے ملتی رہے۔ زیادہ لوگوں کے مرنے میں ان کا نقصان تھا اور ان کے لئے خطرے کا نشان بھی۔ دن بدن اموات کی تعداد میں اضافے سے ان کی زندگی مشکل ہوتی جا رہی تھی۔ وہ شہر کے حالات پر فکر مند تھے جہاں موت کے فرشتے کا راج تھا اور روزانہ ہی قبرستان میں لوگوں کا جم غفیر جمع ہوتا۔ ان کو اس ہجوم سے بھی خوف آتا تھا کیونکہ ان کے بہت سے ساتھی انسانوں کے بھاری قدموں تلے کچلے جاتے تھے۔ اس لئے جب بھی وہ لوگوں کا ہجوم دیکھتے تو کہیں نہ کہیں چھپنے کی کوشش کرتے۔<br>
کچھ ماہ بعد، بہت ہی عجیب و غریب صورت حال پیش آئی کہ مردے خون میں لت پت ہوتے اور ان کے اجسام سوراخوں سے چھلنی ہوتے ، کیڑوں کو کفن میں داخل ہونے کے لئے راستہ تلاش کرنا پڑتا کیونکہ بعض اوقات وہ مردے کے خون سے رسنے والے خون میں ڈوب جاتے۔ اب گوشت کھانا ان کے لیے آسان کام نہ تھا۔ ان کے لیے سب سے حیران کن لمحہ وہ تھا جب مردوں میں عجیب وغریب اشیاء نظر آنا شروع ہوئیں۔ مردے لوہے کے راڈ، بیرنگ، سپرنگ، میخوں، کیلوں اور دوسری عجیب و غریب اشیاء سے بھرے ہوئے تھے۔ اب گوشت صاف شفاف نہ رہا تھا اور ان کو بہت احتیاط سے کھانا پڑتا تھا جبکہ گوشت کا ذائقہ بھی آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا تھا۔</div>
<div class="leftpullquote">’’خدا بہتر جانتا ہے ۔ یہاں کیا ہو رہا ہے؟ مجھے لہو سے تتر بتر مردے بالکل پسند نہیں ہیں۔ مجھے تو خشک مردے پسند ہیں کیونکہ ان لہو لہو مردوں میں کوئی ذائقہ نہیں ہوتا</div>
<div class="urdutext">’’شہر میں کیا ہو رہا ہے؟‘‘ ایک کیڑے نے دوسرے سے پوچھا۔<br>
’’کچھ معلوم نہیں! اب انسان روزانہ قبرستان آتے ہیں اور مردوں کی تعداد بھی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔‘‘ دوسرے نے جواب دیا۔<br>
’’کیا تم نے محسوس کیا کہ گوشت بھی بے ذائقہ ہوتا جا رہا ہے۔ اب تو کوئی مزہ ہی نہیں رہا۔‘‘ پہلے والے نے دوبارہ کہا۔<br>
’’اور یہ صاف بھی نہیں ہے ، گوشت لوہے سے بھرا ہوتا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ انسان لوہا کیسے کھاتے ہیں؟‘‘ دوسرے نے جواب دیا۔<br>
’’میں خود حیرا ن ہوں اور کیا تم نے دیکھا؟ یہ مردے خون سے تر بتر ہوتے ہیں۔‘‘ پچھلے دنوں میں تو ایک مردے کے خون میں ڈوبنے والا تھا۔‘‘ پہلے والے نے جواب دیا۔<br>
’’خدا بہتر جانتا ہے ۔ یہاں کیا ہو رہا ہے؟ مجھے لہو سے تتر بتر مردے بالکل پسند نہیں ہیں۔ مجھے تو خشک مردے پسند ہیں کیونکہ ان لہو لہو مردوں میں کوئی ذائقہ نہیں ہوتا۔‘‘ دوسرے نے جواب دیا۔<br>
’’ہاں، کبھی کبھار تو گوشت جلا ہوا ہوتا ہے، بہت ہی سیاہ اور دھویں سے بھرا ہوا۔۔۔۔ خدا معاف کرے! یہ انسان اپنے مردوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔‘‘ پہلے والے نے جواب دیا۔<br>
’’ہاں، میں نے سنا ہے کہ ہمارے بہت سے ساتھی یہ زہریلا گوشت کھانے کی وجہ سے مر گئے ہیں۔ نہیں معلوم کہ ان مردوں میں زہر کہاں سے آیا۔‘‘<br>
’’میں خود بھی ڈرڈرکر کھاتا ہوں۔ حیرت ہے کہ انسانی خون زہریلا ہو چکا ہے۔ ‘‘<br>
’’ وہ خوفزادہ تھے اور یہ سمجھنے سے قاصر کہ ان کے حصے کا گوشت کون کھا رہا ہے۔ اس دفن ہونے والے اکثر مردے چھلنی ہوتے اور ان کے آدھے دھڑ غائب ہوتے جو ان کیلئے فکر انگیز لمحات تھے۔ وہ سارے قبرستان کو جانتے تھے، وہاں پر کوئی ایسا نہ تھا جو ان کے حصے کا گوشت کھا سکے کیونکہ وہ سارے مل جل کر کھانے کے عادی تھے۔ وہاں ہر چیز مل کر کھائی جاتی تھی اور کوئی بھی اکیلے تنہا نہیں کھاتا تھا۔ وہ اس چور کو نہ پکڑ سکے۔ دن گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی پریشانیوں میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ظلم اور تشدد جاری رہا جو نا سمجھ کیڑوں کے علم سے باہر تھا۔<br>
ایک دن ان کی ملاقات دوسرے قبرستان کے چند کیڑوں سے ہوئی تو انہوں نے بھی ایسی ہی کہانیاں سنائیں۔ انہوں نے بھی آدھا مردہ کھایا تھا جبکہ گوشت کے کچھ ٹکڑے انہوں نے سڑک کے ایک کنارے سے نوچ کے کھائے تھے۔ یہ دن ان کے لئے قیامت سے کم نہ تھا۔ ان کے بہت سے ساتھی خون کے تالاب میں ڈوب کر مر گئے تھے جو ایک سڑک کے کنارے بے تحاشا قتل عام کےبعد بن گیا تھا۔ تمام کیڑے یہ کہانیاں سن کے پریشان ہوئے۔ انہیں یقین نہ آیا کہ اب انسانوں نے انسانوں کو کھانا شروع کر دیا ہے۔ اگر انسان ہی انسان کو کھانے لگے تو ان کے لئے کیا بچے گا۔ یہ ان کے لئے اذیت ناک تھا ۔ ان کے دل میں انسانوں کے لئے نفرت پیدا ہو گئی کہ انسان اتنے ظالم ہو چکے ہیں اور وہ ایک دوسرے کے گوشت کے عادی ہو چکے ہیں۔<br>
’’کیا تم نے کہانیوں سنی کہ زمین پر کیا ہو رہا ہے؟‘‘ ایک کیڑے نے خوفزادہ ہو کر دوسرے سے پوچھا۔<br>
’’ ہاں، میں تو یہ جان کر حیران ہوں کہ انسان ایک دوسرے کو کھا رہے ہیں۔‘‘ دوسرے نے جواب دیا۔<br>
’’وہ بہت ظالم ہیں، ایک دوسرے کو لوہے سے نوچ کے کیسے کھاتے ہیں۔ ‘‘ پہلے نے دوسرے کو جواب دیا۔<br>
’’یہ بہت اذیت ناک بات ہے کہ وہ بھی اپنا پیٹ بھرنے کے لئے ہماری جیسی عادات اپناتے جا رہے ہیں۔ پہلے وہ مجھے بہت دیو قامت اور بھاری بھرکم دکھائی دیتے تھے مگر اب اپنے برابر نظر آتے ہیں۔‘‘ پہلے نے جواب دیا۔<br>
’’شاید وہ بھول گئے ہیں کہ وہ انسان ہیں۔‘‘ دوسرے کیڑے نے سرد آہ بھر کر کہا۔<br>
’’اگر انہوں نے یہی سلسلہ جاری رکھا تو مستقبل میں ہم بھوکوں مریں گے۔ ‘‘ پہلے نے فکر مندی سے جواب دیا۔<br>
کیڑوں کی فکر بڑھتی چلی گئی لیکن معمول میں کوئی تبدیلی نہ آئی ۔ مردوں کی تعداد زیادہ ہوتی رہی اور ان سے خون رستا رہا۔ قبرستان کے تمام کیڑوں کے لئے وہ دن اذیت ناک تھا جب انہوں نے ننھے بچے کی آدھ دھڑی لاش دیکھی۔ ننھے بچے کی لاش ٹکڑوں میں تقسیم تھی اور ہر جگہ لوہے کے کیل اور میخیں لگیں تھیں۔ انہوں نے آہ بھری کہ اتنا ننھا بچہ لوہا کیسے کھا سکتا ہے؟ قبرستان کے تمام کیڑوں نے ماتم کیا، آہ و بکا کی اور چھوٹے بچے کی لاش پر سسکیاں بھریں جس کا گوشت ان کی پسندیدہ خوراک تھا۔ انہیں یقین ہو گیا کہ یہ انسانوں کی اپنی کارستانی ہے۔ انہوں نے انسانوں پہ لعنت بھیجی کہ جنہوں نے اپنے بچوں کو کھانا شروع کر دیا تھا۔ یہ ان کے لیے قیامت کا دن تھا۔ زیادہ تر کیڑوں نے قبرستان سے ہجرت کا فیصلہ کر لیا جبکہ کچھ نے ننھی لاش کے کفن میں جمع خون کے تالاب میں ڈوب کر خودکشی کر لی۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%af%da%a9%d8%b4%db%8c/">خودکشی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%af%da%a9%d8%b4%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لنگڑی زندگی</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%84%d9%86%da%af%da%91%db%8c-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af%db%8c/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%84%d9%86%da%af%da%91%db%8c-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[حمزہ حسن شیخ]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 16 May 2015 11:57:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[لنگڑی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=11161</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">اُس نے کھانا کھایا اور تھکاوٹ کی وجہ سے چارپائی پر دراز ہوگئی۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%84%d9%86%da%af%da%91%db%8c-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af%db%8c/">لنگڑی زندگی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/07/youth-yell-featured1.png"><img decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-1786" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/07/youth-yell-featured1.png" alt="youth-yell-featured" width="250" height="150"></a></p>
<div class="urdutext">اُس نے کھانا کھایا اور تھکاوٹ کی وجہ سے چارپائی پر دراز ہوگئی۔ گھر میں زندگی خاموش تھی کیونکہ گھر والے حسب معمول اُس کے کمرے میں جمع تھے، پورے گھر میں یہ واحد کمرہ تھا جس میں روشنی کا انتظام تھااورسارے گھر والے کھانا کھانے اور مطالعہ کرنے کے لیے اِس کمرے میں اکٹھے ہوتے تھے۔ باقی سارا گھر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ بوسیدہ دیواروں سے تحفظ کی اُمید تو نہ تھی مگر کم از کم یہ کسی کو اندر جھانکنے سے روکے ہوئے تھیں۔ اس کا باپ بستر مرگ پر لیٹا صرف دوائیوں کے سہارے جی رہا تھا جبکہ ماں ،سردی کی وجہ سے کھانسی، نزلے اورزکام کا شکار تھی۔ اُس نے اپنے والدین کی طرف دیکھا اور سرد آہ بھری کہ زندگی کے مسائل کا کوئی حل نظر نہ آتا تھا۔ وہ آنے والے دن کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ اُن کے حالات کب بدلیں گے اور کب وہ بھی آرام اور سکون کی زندگی گزارسکیں گے۔ اُس نے سوچا تھا کہ اِس دفعہ وہ کچھ رقم بچائے گی تا کہ گھر کی مرمت کرائی جا سکے۔ اپنے حال اورمستقبل کے بارے میں سوچتے سوچتے اسے نیند آگئی۔</div>
<div class="leftpullquote">اس کے استاد نے اسے ایک دفعہ بتایا تھا قطرے پلانے کی مہم اس لیے شروع کی گئی ہے کہ مستقبل میں یہ بچے والدین بننے کے قابل نہ رہیں اور یہ ایک ایسی قوم کے خاتمے کا زہرآلودہ منصوبہ تھا جو جنت کی حکمرانی کے خواب دیکھتی تھی</div>
<div class="urdutext">وہ قریبی گاؤں کے پرائمری سکول میں اُستانی تھی۔ اُس کی تنخواہ اتنی ہی تھی کہ جس سے بمشکل اس کے گھر والوں کی دال روٹی چل رہی تھی، والد کی دوائی بھی کسی بوجھ سے کم نہ تھی۔ آدھی سے زیادہ تنخواہ ان کی دوائیوں پراٹھ جاتی اور باقی آدھی پیٹ کا دوزخ بھرنے پر۔ ایک اسٹاف ممبر کے مشورے سے اُس نے بھی محکمہ صحت کی مہم میں حصہ لیا تا کہ کچھ مزیدرقم کما سکے۔ اُسے بتایا گیا تھا کہ اس کام کے اسے روزانہ ڈھائی سو روپے ملیں گے۔ وہ خوش تھی کہ اس خالص اور نیک کام سے کچھ پیسے مل جائیں گے جن سے وہ بہن بھائیوں کے لئے کچھ نہ کچھ خرید سکے گی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ بھائی کے لئے گرم جرسی اور بہن کے لئے نئے جوتے خریدے گی کیونکہ سردیاں آنے والی تھیں۔ گذشتہ سال جب اُسے الیکشن ڈیوٹی کے پیسے ملے تھے تو اس نے ماں کے لیے گرم چادر اور باپ کے لئے نئے کپڑے خریدے تھے۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اضافی پیسے ملنے سے پہلے ہی اُن کا فیصلہ ہو چکا تھا۔ اُسے سڑک بہت چمکتی دمکتی محسوس ہوئی، ایک تو تیز دھوپ اوراس پر قیمتی گاڑیوں کی لش پش ، اُس کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ وہ اپنے ارد گرد روشنی میں نہائی زندگی دیکھ کر حیران رہ گئی جبکہ اُس کی زندگی تو ایک اندھیرے گھر میں قید تھی جس کی چھتیں برسات میں ٹپکتی تھیں اور دیواریں بھی اس قدرخستہ گویا اب گریں کہ اب گریں ۔ شام تک ڈیوٹی کرنے کے بعدوہ تھکی ماندی گھر واپس لوٹی، ایک خستہ اوربوسیدہ گھر اپنے شکستہ دل مکینوں کے ساتھ اس کا منتظر تھا کہ وہی تو ان سب کی امیدوں کا مرکز تھی۔<br>
ملاحضرت ایک مقامی مسجد کا مولوی تھا۔ اُس نے اپنے گاؤں میں کبھی صحت کی سہولیات کو پسند نہ کیا تھا اور دوسروں کی سُکھی زندگی اُس کے لئے کبھی آسودگی کا باعث نہ تھی۔ محکمہ صحت پر اُسے کئی اعتراضات تھے کیونکہ اُس کی نظرمیں اس کے کئی منصوبے کسی گناہ سے کم نہ تھے۔ اس کے استاد نے اسے ایک دفعہ بتایا تھا قطرے پلانے کی مہم اس لیے شروع کی گئی ہے کہ مستقبل میں یہ بچے والدین بننے کے قابل نہ رہیں اور یہ ایک ایسی قوم کے خاتمے کا زہرآلودہ منصوبہ تھا جو جنت کی حکمرانی کے خواب دیکھتی تھی۔ استاد کی بات ا س کے ایمان حصہ بن گئی اور اسے اِن لوگوں سے نفرت پر آمادہ کر دیا تھا جو معاشرے میں لوگوں کی اچھی صحت کے لئے کوشاں تھے۔اس نے باقاعدگی سے اپنی تبلیغ اور خطبات میں اس مہم کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا تھا۔ کچھ دنوں میں اُس نے ایسے لوگوں کا ایک گروہ بنا لیا تھا جو اِس مہم کے خلاف اُس کے حامی تھے اور وہ بھی اِس کو غیر ضروری سمجھنے لگے تھے۔اب گلی محلوں میں راہ چلتے لوگ ایک دوسرے کا احوال پوچھنے کے بجائے اس مہم کے حوالے سے زیادہ باتیں کرنے لگے تھے۔ ہر شخص اپنے بچوں کو اس خطرناک مہم سے بچانا چاہتا تھا۔ لوگوں نے آہستہ آہستہ اِس مہم کے خلاف اپنی آواز بلند کرنا شروع کر دی ۔ لوگوں کے ذہن اِس تیزی سے تبدیل ہو رہے تھے جیسے جنگل میں لگی آگ۔ لوگوں کے دلوں میں اِس مہم کے خلاف شدید نفرت پید ا ہو گئی اور اُن لوگوں کے خلاف بھی جو رضا کارانہ طور پر کام کر رہے تھے۔ جہالت کا دور لوٹ آیا تھا اور پولیو زدہ سوچ کے حامل ظالم اور جاہل افراد دوسروں کی زندگی اور قسمت کا فیصلہ کرنے لگے تھے۔ حقیقت سے ناآشنا لوگ فتویٰ دینے لگے تھے اور پڑھے لکھے جاہلوں کی ایک بڑی تعداد اُن فتووں پر عمل درآمد پر تیار ہوگئی تھی۔ ان حالات میں زندگی ایک کونے میں کھڑی مسکرا رہی تھی کہ جہاں جاہل فیصلہ کرنے والے تھے،جہاں مجرم کو تھانوں میں کرسیاں پیش کی جاتی اور شرفاء کو بلاوجہ قیدو بند کی صعبوتیں جھیلنا پڑتیں۔<br>
دوسرے دن وہ صبح سویرے بیدار ہو گئی اور چائے کی پیالی پینے کے بعد اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گئی۔ مرکز صحت سے ویکسین حاصل کرنے کے بعد وہ مرکزی شاہراہ پہنچ گئی۔وہ ایک ایسے پس مانندہ علاقے سے تعلق رکھتی تھی جہاں عورت کا گھر سے باہر کام کرنا کسی گناہ سے کم نہ تھا۔ وہ ہرگزرنے والی گاڑی میں ننھے منے بچوں کی تلاش میں تاک جھانک کر رہی تھی۔ وہ کبھی بھی اِس نوکری کے لیے باہر نہ نکلتی اگر اس کا کوئی بھائی ہوتا اور باپ بیمار نہ ہوتا۔ وہ گھر میں سب سے بڑی تھی، اس لیے گھر کا خرچ چلانا اس کی ذمہ داری تھی اوراس کی غیر تعلیم یافتہ ماں اسکا ہاتھ بٹانے سے قاصر تھی۔ وہ ویکسین بکس اُٹھائے،بچوں کو قطرے پلارہی تھی۔یہ دو قطرے اُن بچوں کی زندگی کے ضامن تھے اور اُنہیں بیماریوں سے محفوظ رکھنے کا سبب بھی۔گاڑیاں سڑک پر دوڑ رہیں تھیں اور وہ ننھے منے بچوں کا مستقبل بچانے کے لیے کوشاں تھی۔ وہ کسی مالی کی طرح اِن پھولوں کی زندگی محفوظ بنانے پربہت خوش تھی۔ صبح سے اب تک کافی وقت گزرنے کے باوجود اُس کا چہرے پر تھکاوٹ کے آثار نہیں تھے۔ننھے منے بچے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پی کر اپنی چمکی دمکتی گاڑیوں میں موجود کھلونوں کے ساتھ کھیلنے میں مگن ہو جاتے جبکہ اُن کے والدین اُس کی طرف دیکھ کر مسکراتے اور آگے بڑھ جاتے، لوگوں کے چہروں پر سجی مسکراہٹ اس کو حوصلہ دیتی اور اس کی تھکاوٹ دور ہو جاتی۔ سارا دن اس کو شکریے کے چند الفاظ اور بچوں کی مسکراہٹ کے علاوہ کچھ نہ ملا۔ وہ کام میں مگن سوچتی رہی کہ آنے والے مہینے کی تنخواہ سے وہ اپنے بھائی کے لئے ایک خوبصورت ٹیڈی بیئر خریدے گی۔ اس کی دلی خواہش تھی کہ اس کے بہن بھائی بھی ایسے ہی خوبصورت کھلونوں سے کھیلیں۔ سارادن وہ پو لیو سے بچاؤ کے قطرے بچوں کو پلاتی اور اردگرد کی زندگی کا موازنہ اندھیری کوٹھڑی کی زندگی سے کر تی رہی۔<br>
جاڑے کی سست رو سہ پہربھی برق رفتاری سے گزر گئی اوراب دن شام کی جانب گامزن تھا۔ اُس کی ڈیوٹی کا تیسرا دن تھا اور ابھی مزیددو دن باقی تھے،اس نے اپنی تنخواہ کا حساب کیا جو کہ1250 روپے بنتی تھی اور اُن ضروریات کو یاد کیا جو اُس نے ابھی پوری کرنا تھیں۔ فہرست بہت لمبی تھی لیکن رقم بہت کم۔ گہری ہوتی سوچوں نے اسے اپنے حصار سے نکلنے نہ دیا ۔ وہ ہر آنے والی گاڑی کے لیے اٹھ کر کھڑی ہوتی تاکہ اگر اُس گاڑی میں کوئی بچہ ہے تو وہ اس کو قطرے پلائے۔ اس اثنا ء میں ایک گاڑی کو آتے دیکھ کر وہ معمول کے مطابق اٹھ کھڑی ہوئی مگراِس گاڑی میں بچے نہیں تین اوباش مرد سوارتھے۔ وہ گاڑی میں کسی بچے کو نہ پا کر پیچھے ہٹی لیکن گاڑی پھر بھی رُک گئی تھی۔ وہ ابھی دیکھ ہی رہی تھی کہ اُس میں سے ایک شخص باہر نکلا ، اس کا جسم اسلحے سے سجا تھا اور اُ س کی بندوق کا نشانہ وہ تھی،گولی چلتے ہی وہ زخمی ہو کر زمیں پر گر گئی۔خواہشوں اور سپنوں کا سلسلہ اس کے بے سدھ ہو جانے کے ساتھ ہی ٹوٹ گیا۔ وہ ہسپتال پہنچا دی گئی مگرزیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے علاج سے پہلے ہی اُس نے دم توڑ دیا۔ اسٹریچر اُس کے خون سے رنگین تھا اور اس کا خون بہہ رہا تھا۔ اُس کی میت کو سرد خانے منتقل کر دیا گیا جبکہ اسٹریچر کو ایک طرف کر دیا گیا۔ہسپتال کی آوارہ اور بھوکی بلیوں نے اس کے خون سے سجے اسٹریچر کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔ بلیا ں اسٹریچر پر بیٹھیں اُس کا خون چاٹ رہی تھیں جبکہ ایک لنگڑی بلی اسٹریچر کے پائیوں میں کھڑی ہو کر اسٹریچر سے رسنے والے خون کو پینے میں مصروف تھی۔ وہ اوپر سے گرنے والے قطرے کے لیے یوں منہ کھولتی جیسے خون کے یہ قطرے اُس کی لنگڑی زندگی کے لئے پولیو کے قطرے ہوں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%84%d9%86%da%af%da%91%db%8c-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af%db%8c/">لنگڑی زندگی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%84%d9%86%da%af%da%91%db%8c-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
