<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>فہد اریب, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/fahad-areeb/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Thu, 30 May 2024 00:53:22 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>فہد اریب, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پانچ پاکستانی مغالطے</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%d9%86%da%86-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%85%d8%ba%d8%a7%d9%84%d8%b7%db%92/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%d9%86%da%86-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%85%d8%ba%d8%a7%d9%84%d8%b7%db%92/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فہد اریب]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 24 Sep 2014 11:46:05 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=7381</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">پاکستانیوں کے ہاں ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا اورہرناکامی کے پیچھے خفیہ بیرونی ہاتھ ہوتا ہے۔ ایسی ہی چندازلی صداقتوں کی کشید کاری پیشِ خدمت ہے:   </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%d9%86%da%86-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%85%d8%ba%d8%a7%d9%84%d8%b7%db%92/">پانچ پاکستانی مغالطے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">پاکستانی کرہ ارض کی وہ نادر مخلوق ہیں جو فرعونی، طاغوتی ،یہودا ور نصرانی سازشوں کا شکار ہونے کے باوجودان سازشوں کو نہ صرف بروقت بے نقاب کرتی ہے بلکہ عمرو عیار کی طلسمی زنبیل اورہامون جادوگر کی جادوئی چھڑی کے ذریعے ماضی، حال اور مستقبل کی غیر معمولی حرکات و سکنات کے اسرارورموز سے بھی واقف ہے۔ پاکستانیوں کے ہاں ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا اورہرناکامی کے پیچھے خفیہ بیرونی ہاتھ ہوتا ہے۔ ایسی ہی چندازلی صداقتوں کی کشید کاری پیشِ خدمت ہے:</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong> مغالطہ نمبر 1:جو کرا رہا ہے، امریکہ کرا رہاہے</strong><br>
اس مغالطے کے شکار افراد ہرماورائے عقل شے،واقعے اور حادثے کے تانے بانے امریکہ سے جوڑتےہیں۔مثلاً اگر کسی سازش شناس سے پوچھا جائے کہ 11/9 کس نے کروایا؟تو جواب ملے گا “جی امریکہ نے۔” اور اگر پوچھا جائے کہ کیوں تو پتہ چلے گا تاکہ افغانستان میں طالبان کے زیرتسلط ابھرتی ہوئی معاشی، سیاسی،اقتصادی، معاشرتی، روحانی اور ایمانی طاقت کا قلع قمع کیا جاسکے اور ان علاقوں کے وسائل کو لوٹ کر دنیا پر اپنا قبضہ جمایا جاسکے۔ان مغالطہ آشنا دنشوران کی باتوں سے تو محسوس ہوتا ہے جیسے طالبان دورمیں افغان علاقوں میں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی تھیں،چین و ہند سے عوام الناس اعلٰی تعلیم، علاج اور روزگارکی خاطر کابل جایا کرتے تھے۔ اس زمانے میں افغان قوم ایسے جید سائنس دان، سکالرز، کھلاڑی اور لیڈرز پیدا کررہی تھی جن کے لیے نوبل انعامات اور اولمپک تمغوں کی کمی پڑ گئی تھی اور اقوام متحدہ کے اجلاسوں کے بعد افغانی لیڈرز کے ساتھ تصویر کِھچوانے کے لیے طویل قطار میں لگ کر انتظار کرنا پڑتا تھا۔<br>
سازشیں دریافت کرنے والوں کے نزدیک دہشت گردوں کے خلاف جنگ افغان اور عراق معدنی ذخائر پر قبضہ کی جنگ ہے۔لیکن اگر سوال کیا جائے کہ امریکہ جس کے اپنے تیل کے اربوں بیرل کے ذخائرہیں اورسعودی و خلیجی ریاستوں سے نہایت “برادرانہ ” تعلقات ہیں وہ ایسا کیوں کرے گا؟تو جواب ہوتا ہے ” آپ نہیں سمجھیں گے امریکہ ایسے ہی خفیہ مقاصد کی خاطرعالم اسلام کو پارہ پارہ کرنا چاہتا ہے۔”<br>
2005 کے زلزلہ کے بار ے میں بھی سازشی ماہرین کے مطابق یہ زلزلہ زمین کی پرتوں کے ہلنے کی بجائےامریکی ریاست ایریزونا میں قائم ایک جدید ترین لیبارٹری سے ارتعاش اورہائی فریکوئنسی لہریں پاکستانی علاقوں میں بھیجنے کے قائل ہیں، جن کے نتیجے میں یہاں زلزلے اور سیلاب آتے ہیں۔ اس “سائنسی تحقیق” کا ماخذ علامہ اوریا اور مولانا زید صاحب کی سنڈے میگزین میں چھپنے والی تحقیقی رپورٹیں ہوتی ہیں ۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">سازشی مفروضوں پر یقین کرنے والوں کے مطابق ملالہ کا جرم تھا کہ وہ کم عمر ہے، اسلامی شعائر کا مذاق اڑاتی ہے اور اوبامہ کو اپنا ہیرو گردانتی ہے۔یہ صاحبان یہ بھول گئے کہ ملالہ شال اوڑھ کر پہلی وحی “اقراء” کا نعرہ بلند کرتی ہے اور علم و قلم کو مؤثر ہتھیار قرار دیتی ہے۔</div>
<div class="urdutext"><strong>مغالطہ نمبر 2: ڈرون حملوں کی وجہ سے خودکش حملے ہوتے ہیں</strong><br>
یہ وہ طلسمی دلیل ہے جوہر مدرسہ، منبر، کالم اور سیاسی بیان میں یہ جانے بغیر دہرائی جا چکی ہے کہ پاکستان میں پہلا خود کش حملہ نومبر 1995 میں ہوا تھا جبکہ پہلا ڈرون حملہ اکتوبر 2004 میں۔یہ پہلے انڈہ یا مرغی والا کھیل نہیں بلکہ تلخ حقیقت ہے۔ سازشی مفروضوں کے پیروکاران کے مطابق جب کوئی بندہ اپنوں کو ناحق مرتے دیکھتا ہے تو اس کی رگوں میں انتقامی خون دوڑنا شروع کر دیتا ہے اور وہ مر مٹنے پر اتر آتا ہے جس کی وجہ سے خود کش حملہ شروع ہو جاتے ہیں۔ لیکن خود کش حملوں میں مارے جانے والےمعصوم اور بے گناہ لوگوں کے ورثاء شاید” غیرت مند” نہیں یہی وجہ ہے کہ وہ انتقام کی بجائے دھشت گرد اور شرپسند عناصر کی مذمتاور احتجاج پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔<br>
ڈرون مخالف سازشی پنڈتوں کے مطابق اس گورکھ دھندے میں ہر طالبان مخالف“لبرل فاشسٹ” ڈرون حملوں میں مرنے والے معصوم لوگوں سے ہمدردی نہیں رکھتا جبکہ قومی اور عالمی میڈیا بھی ان حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔لیکن یہ نام نہاد حامیان مذاکرات و طالبان ان حملوں میں مارے جانے والے معصوم افراد کے حق میں کئے جانے والے “لبرل فاشسٹ” احتجاجی مظاہروں کو یکسر فراموش کر دیتے ہیں۔ اگرچہ ڈرون حملے بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے معیارات کی خلاف ورزی قرار دیے جا سکتے ہیں لیکن یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ ڈرون حملوں ہی کی وجہ سے دھشت گردوں کی کمر ٹوٹی ہےاور حکیم اللہ محسود، ولی الرحمان، مولوی نذیر، نیک محمد، بیت اللہ محسود، عمر حقانی جیسےمنکران آئین اور دھشت گردی میں ملوث لا تعداد طالبان لیڈرز اور القائدہ ارکان ڈرون حملوں کی بدولت ہی جہنم واصل ہوئے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>مغالطہ نمبر3: ملالہ فراڈ اوریہود و نصاریٰ کی ایجنٹ ہے</strong><br>
سازشان مشرق کے مطابق ایک بارہ سالہ لڑکی صرف بی بی سی کی ویب سائٹ پر بلاگ لکھ کر اور محض سولہ برس کی عمر میں نوبل انعام کے لئے نامزد ہو کر مقبولیت کے کے۔ٹو۔ کو ایسے سر کرتی ہے کہ امریکہ کا صدر بھی اس سے ملاقات کا شرف حاصل کرنے کے لیے ترستا ہے یہ سب فراڈ نہیں تو کیا ہے۔نجانے کم سن محمد بن قاسم کے برصغیر پر حملہ آور ہونے پر شادیانے بجانے والوں کو ملالہ یوسف زئی کی کم عمری میں دانش اور حکمت بھری باتیں کیوں ہضم نہیں ہوتیں؟</div>
<div class="leftpullquote">یوں تو بیشتر سازشان پاک دامن و پارسا کی نظر میں پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اورہر پاکستانی امت مسلمہ کا ہر اول دستہ ہے لیکن یہ امت “نصابی کتب” اور رکشوں کی ” اشتہاری کمر” کے علاوہ کہاں پائی جاتی ہے اور کیا ہے یہ کوئی نہیں جانتا۔</div>
<div class="urdutext">ملالہ پر حملہ کرنے والوں کی گرفتاری کی خبر آنے تک ملالہ پر طالبان کا حملہ محض فراڈ تھا۔ کسی کو اس کے سر پر بندھی پٹیوں پر اعتراض تھا تو کوئی سوات کے مقامی ہسپتال سے لے کرفوجی اور برطانوی ڈاکٹروں تک کو محض اداکار سمجھ رہا تھا۔میڈیکل رپورٹس سے لے کر ملالہ کی صحت یابی تک الزامات اور شکوک و شبہات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ تھاجیسے کسی دوسرے سیارے کی ہوائی مخلوق یا اڑن طشتریوں کا معاملہ ہو ۔ان لوگوں کے خیال میں حملہ سے لے کر ملالہ کی عالمی پذیرائی تک سب کچھ محض اسلام اور طالبان کو بدنام کرنے کی سازش تھی۔یہود، ہنود اور نصاریٰ سب ہی آپس میں ملے ہوئے تھے اور ملالہ کو اسلام مخالف سرگرمیوں میں استعمال کرنے کی کوشش کررہے تھے۔سازشی مفروضوں پر یقین کرنے والوں کے مطابق ملالہ کا جرم تھا کہ وہ کم عمر ہے، اسلامی شعائر کا مذاق اڑاتی ہے اور اوبامہ کو اپنا ہیرو گردانتی ہے۔یہ صاحبان یہ بھول گئے کہ ملالہ شال اوڑھ کر پہلی وحی “اقراء” کا نعرہ بلند کرتی ہے اور علم و قلم کو مؤثر ہتھیار قرار دیتی ہے۔ملالہ کی جانب سے اوبامہ کی ستائش پر معترض افراد یہ بھی یاد نہیں رکھتے پاکستان میں تحریک انصاف نے اوبامہ کے انتخابی نعرہ “تبدیلی” کو چرایا ہے۔ مگر عمران اور تحریک انصاف پر تنقید جیو کا پروپیگنڈاہے اور میر شکیل الرحمن کا ایجنٹ ہونے کے مترادف ہے۔کیوں کہ “امریکہ کا جو یار ہے، غدار ہے، غدار ہے” اس لئے ملالہ بھی غدار ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>مغالطہ نمبر 4: جمہوریت حرام اور خلافت حلال اور حکم شریعت ہے</strong><br>
جمہوریت چھوڑ خلافت لا جیسے نعروں پر یقن رکھنے والوں کے مطابق جمہوریت دراصل اسلام کے سیاسی اور معاشرتی نظام کو سبوتاژ کرنے کا حربہ ہے اور سرطان کی طرح آہستہ آہستہ مسلم ممالک میں سرایت کرتا جارہا ہے۔ ان کے مطابق جمہوریت کی ناکامی اپنے حقوق کے لئے سڑکوں پر موجودلوگوں سے ہی ظاہر ہے۔مگر یہ اصحاب یہ بتانے میں ناکام ہیں کہ یہ کون سی خلافت کی بات کر رہے ہیں،آیا وہ جو سعودی عرب میں نافذہے یا داعش اور بوکوحرام کی اعلان کردہ ہے۔<br>
اس مغالطہ کو تسلیم کرنے والے اکثر خلافت راشدہ کو اپنانے اور اسلامی فلاحی ریاست کی تشکیل کا مطالبہ کرتے ہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ خلافت راشدہ جیسا مثالی نمونہ تھا آج کے دور میں قابل عمل نہیں رہا۔ اس زمانے کے قبائلی معاشرے کے برعکس آج حکمران کے انتخاب کاآئینی نظام ضروری ہے اور آج کے پیچیدہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی نظام میں سادہ قبائلی روایات کے تحت حکومت نہیں چلائی جا سکتی۔ خلافت کے ملوکیت میں بدل جانے کے باعث مسلمان آج باقی دنیا سے کئی صدی پیچھےہیں۔مگر ان لوگوں کے نزدیک شرعی نظام کا نفاذ ہی تمام مسائل کا حل ہے اور پاکستان بنا ہی اس لئے تھا کہ یہاں اسلام نافذ کیا جائے۔ ایسے تمام افراد جو اسلام کی اس سیاسی تشریح سے اختلاف کریں وہ یقیناً مرتد اور قابل گردن زدنی ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>مغالطہ نمبر5: پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اورہر پاکستانی امت مسلمہ کا بےباک سپاہی ہے</strong><br>
یوں تو بیشتر سازشان پاک دامن و پارسا کی نظر میں پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اورہر پاکستانی امت مسلمہ کا ہر اول دستہ ہے لیکن یہ امت “نصابی کتب” اور رکشوں کی ” اشتہاری کمر” کے علاوہ کہاں پائی جاتی ہے اور کیا ہے یہ کوئی نہیں جانتا۔گو کہ امت کا کوئی ٹھوس وجود نہیں لیکن تمام مسلم ممالک بھائی بھائی ہیں اور “اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے جو کانٹا کابل میں تو ہندوستاں کا ہر زرہ بے تاب ہو جائے” جیسے اشعار کے ذریعہ اسے ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کی جاتی ہے۔ایک دین ، ایک قرآن اور ایک نبی کے باوجود امت و ملت کا ہر داعی سلفی، وہابی،شیعہ،بریلوی اور دیوبندی ہے اور مسلسل ایک دوسرے کے خون سے امت کی وحدت کو ثابت کر رہا ہے۔<br>
عجب تو یہ ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری صرف یورپ، چین اور روس سے آتی ہے، شاہراہیں اور بندرگاہیں “کفریہ ریاست آف چائنہ ” جبکہ امداد “یہود ونصاری اسٹیٹ آف امریکہ” سے ملتی ہے جبکہ کہ امت کے دو دھڑوں کے امام ایران اور سعودی عرب پاکستان میں ان مدارس کی سرپرستی کرتے ہیں جو فرقہ واریت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں۔ مگر مدارس پر تنقید کرنے والا لادین اور مرتد قرار دیے جانے پر کسی فتوے کی زد میں کب آجائے یہ کون جانتا ہے؟</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%d9%86%da%86-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%85%d8%ba%d8%a7%d9%84%d8%b7%db%92/">پانچ پاکستانی مغالطے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%d9%86%da%86-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%85%d8%ba%d8%a7%d9%84%d8%b7%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>5</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>Welcome to the Land of Pure</title>
		<link>https://laaltain.pk/welcome-to-the-land-of-pure/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/welcome-to-the-land-of-pure/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فہد اریب]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 27 Feb 2014 11:56:20 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=3862</guid>

					<description><![CDATA[<p>Location: 786 KM away from Holy Kingdom of Saudi Arabia, amidst Hindu Republic state alias “Bollywood Land”, infidel state of China &#38; brotherly Islamic states of Iran &#38; Afghanistan, lays Banana welfare state of Pakistan aka the Land of Pure. History: Al-Bakistan was founded by an Arab horseman Mohammad Bin Qasim who invaded and conquered [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/welcome-to-the-land-of-pure/">Welcome to the Land of Pure</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div style="font-size: 18px; color: #9e1c20;"><b>Location: </b></div>
<p>786 KM away from Holy Kingdom of Saudi Arabia, amidst Hindu Republic state alias “Bollywood Land”, infidel state of China &amp; brotherly Islamic states of Iran &amp; Afghanistan, lays Banana welfare state of Pakistan aka the Land of Pure.</p>
<div style="font-size: 18px; color: #9e1c20;"><b>History:</b></div>
<p>Al-Bakistan was founded by an Arab horseman Mohammad Bin Qasim who invaded and conquered this Golden Sparrow with his martial skills learned at childhood. With the advent of time, foundations laid down by Bin Qasim were reinforced by concrete bars in its base as more Afghans, Arabs and later British came. One significant mention is of Mahmud Ghazanvi who made 17 attempts to play his part in edifying the Land of Pure.</p>
<div style="font-size: 18px; color: #9e1c20;"><b>Religion:</b></div>
<p>People of this Fortress of Islam are 101% Muslims. Yet each 101% claims to be 102% more Muslim than the other fellow. His claim is further nullified by another claim of 103% and so on. With Islam as identity card, and beard and burqa as national identity symbols, citizens of any country with such distinctions can claim Paki’s nationality. There is a small number of minorities too but they will soon be converted, Insha Allah. Till then all their rights and freedoms are fully protected in this Fortress.</p>
<div style="font-size: 18px; color: #9e1c20;"><b>Foreign Policy:</b></div>
<p>Narrated by first F‑16 of Al-Bakistan:<br>
‘har mulk mulk-maast; kay har mulk khudaye maast’<br>
“Each country belongs to us as it does belongs to our Lord”<br>
All 66666 km² area of the world belongs to the people of the Land of Pure. The primary obligation of the state of Al-Bakistan is towards Ummah. Theoretically connected through holy verses, it is craving to be united again. The golden principle of foreign policy is that the whole of Ummah is like a single body and feels agony and pain as a whole. So, if any unusual act takes place in Ummah, unrest and rage is faced all over the world. Rallies, protests and condemnation are issued quickly. And following that, stylish mirror DP’s are replaced by wavy 4 fingered R4BIA.</p>
<div style="font-size: 18px; color: #9e1c20;"><b>Guardian and Caretaker of the Brotherhood:</b></div>
<p>The land of pure also excels in issuing advices and orders to the rest of the world. Who must rule Syria? Which type of government must be in Turkey? Whether Afghanistan be ruled by Taliban or a democratic setup? How Saudi Arabia can progress in different walks of life? How can Muslims unite themselves to rule the whole globe? These are some of the questions that people of Al-Bakistan feel themselves responsible for.</p>
<div style="font-size: 18px; color: #9e1c20;"><b>Conspiracy Mongering:</b></div>
<p>Conspiracy mongering is one of the chief specialties of Al-Bakistan. From a cat crossing road to earthquake, the mystery is resolved by only one explanation: involvement of foreign hand through agents of CIA, RAW or MOSSAD because these infidels do not want to see Al-Bakistanis as the ruling nation of the world. The foreign agents stoop so low in their conniving plans that through evil devices such as polio vaccination and Mountain Dew, they try to infertile the people of The Land of Pure.</p>
<div style="font-size: 18px; color: #9e1c20;"><b>Culture:</b></div>
<p>The indigenous culture of Al-Bakistan is symbolized by beard and burqa dating back to pre-Arabic times. As early founders of this nation were Arabs so anything from Arab world has to be considered holy and sacred. But some historians, at the behest of foreign powers, are trying to prove that culture of the Land of Pure dates back to 5000 years ago Indus Valley civilization. Naturally this foreign conspiracy is unacceptable and we do not want to hear a word about it.</p>
<div style="font-size: 18px; color: #9e1c20;"><b>Language:</b></div>
<p>National language should have been Arabic but some liberal fascists advised the father of modern Pakistan – The Great Quaid – to instead make Urdu the national language. English, the language of infidels, is unfortunately also the source of official communication in Al-Bakistan. So understandably someone who speaks Urdu or Arabic is more Muslim and patriotic than others.</p>
<div style="font-size: 18px; color: #9e1c20;"><b>Government System:</b></div>
<p>Khilafat must have been the governing system of Al-Bakistan but due to foreign hand, infidel democratic system was gradually introduced. But it is not a complete disappointment either as many Muslim brothers and sisters are running campaigns to bring about Sharia. According to this divine system, the title of PM will be changed to Ameer-ul-Momineen, CJ to Qazi, the paper currency of Rupees will be replaced by Ashrafi and dinar and all the issues of the Land of Pure will be resolved.</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/welcome-to-the-land-of-pure/">Welcome to the Land of Pure</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/welcome-to-the-land-of-pure/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>2</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وقت نے رنگ بہت کچھ بدلے, کیا کیا سیلاب نہیں آئے</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%88%d9%82%d8%aa-%d9%86%db%92-%d8%b1%d9%86%da%af-%d8%a8%db%81%d8%aa-%da%a9%da%86%da%be-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%92-%da%a9%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%b3%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%a8-%d9%86%db%81/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%88%d9%82%d8%aa-%d9%86%db%92-%d8%b1%d9%86%da%af-%d8%a8%db%81%d8%aa-%da%a9%da%86%da%be-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%92-%da%a9%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%b3%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%a8-%d9%86%db%81/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[فہد اریب]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 16 Nov 2013 07:53:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[malala]]></category>
		<category><![CDATA[شدت پسندی]]></category>
		<category><![CDATA[ملالہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=2991</guid>

					<description><![CDATA[<p>محمد فہداریب دھواں چار سو پھیلا ہے۔ کچھ نہیں دکھتا کہ آگے کیا ہورہا ہے اور ہوگا؟ ہماری نگاہ یا بقول اقبال مردمومن والی قلندرانہ نگاہ زائل ہوچکی ہے اورسوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہوچکی ہے۔اس دھندلے منظر میں سکوت طاری ہے حالانکہ نوحہ گاہ میں یا تو شام غریباں منائی جاتی ہے یا پھر [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%88%d9%82%d8%aa-%d9%86%db%92-%d8%b1%d9%86%da%af-%d8%a8%db%81%d8%aa-%da%a9%da%86%da%be-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%92-%da%a9%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%b3%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%a8-%d9%86%db%81/">وقت نے رنگ بہت کچھ بدلے, کیا کیا سیلاب نہیں آئے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div style="font-family: Jameel Noori Nastaleeq; font-size: 18px; direction: rtl; line-height: 30px; text-align: right;">
<p><b>محمد فہداریب</b><img fetchpriority="high" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-2917" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/11/youth-yell-inner1.gif" alt="youth-yell-inner1" width="556" height="285"></p>
<p>دھواں چار سو پھیلا ہے۔ کچھ نہیں دکھتا کہ آگے کیا ہورہا ہے اور ہوگا؟ ہماری نگاہ یا بقول اقبال مردمومن والی قلندرانہ نگاہ زائل ہوچکی ہے اورسوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہوچکی ہے۔اس دھندلے منظر میں سکوت طاری ہے حالانکہ نوحہ گاہ میں یا تو شام غریباں منائی جاتی ہے یا پھر چٹانی حوصلہ اور عزم وہمت سے نئی تاریخ رقم کرنے کی تیاری کی جاتی ہے لیکن یہاں کون ہے جو کسی مرنے والے کا نوحہ پڑھے یا کسی کو بچانے کو علم برداری کرے۔ اب تک تو قرب و جوار میں کوئی حادثہ یا دھماکہ ہوتا تو پورا معاشرہ دکھاوے کو ہی سہی ہمدردی اور اظہار تعزیت کی رسم پوری کرتی مگر اب تو منظر بدل گیا ہے۔ اب جذبہ انسانیت بیمار پڑچکا اور ہمدردی و تعزیت کے سہارے کمزور پڑتے پڑتے معدوم ہو چکے۔ اب صبر کے پیمانے تب ہی لبریز ہوتے ہیں جب کوئی اپنا رشتہ دار یا دلدوز قومی سانحہ رونما ہوتا ہے۔</p>
<p>اول تو اس معاشرے میں کوئی صدائے حق بلند کرنے کی جرات نہیں کرتا اور اگر کوئی بہادر نڈر شخص آگے آتا بھی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ خاموش تماشائی بجائے لب کشائی کے اس آواز کو دبانے اور فتوے لگانے کے لیے چوکس و تیار بیٹھے تھے۔غم منائے زمانے بیت گئے اور خوشی محسوس کیے مدت ہوئی۔ اب اگر کوئی کونے کھدرے سے کوئی خبر حاصل ہوبھی جائے تو اسےشرلاک ہومز کی شکی نگاہوں سےگھورا جاتا ہے۔ سنسان کھیل کے میدانوں سے لے کر اولمپکس کے خالی دستوں تک، کرپشن کی کہانیوں سے لے کر دھشت گردی کی کا رروائیوں تک ہم دنیا میں اپنی پہچان سے واقف ہیں، مگر حیرت ہے کہ کوئی شرمساری نہیں۔</p>
<p>ایک سولہ سالہ بچی جس نے معاشرے میں شدت پسندی کی بجائے امن و بھائی چارہ کی بات کی اور پہلی وحی کو مقصد حیات بنایا ۔ اقوام متحدہ میں کھڑے ہوکر، بے نظیر کی شال اوڑھ کر “تعلیم سب کے لیے” کا نعرہ لگایا اور فنڈ قائم کر کے کڑوروں روپے تعلیم کے لیے مختص کر دیے۔ ہم نے اسے ہی اپنا دشمن گردانا۔ اور اس پر سوالات و اعتراضات کی بوچھاڑ کر دی کیونکہ بقول ہمارے سازشی تھیوریوں کے وہ ایجنٹ ملک و مذہب کا امیج خراب کر رہی ہے۔</p>
<p>اس بے یقینی اور ناآسودگی میں سینکڑوں سوالات، جن کا جواب فقط اتنا ہے کہ “جو کرا رہا ہے امریکہ کر رہا ہے“تمام حقائق کا گلہ گھونٹ چکے ہیں۔ ہم جس شاہراہ پر گامزن ہیں اس پر “غیر ملکی ہاتھ” نے فریبی سائے ہیں جس سے آگے“راستہ عارضی طور پر بند ہے” کا عنوان پیوست ہے۔ جس دن ہم نے اصلیت جانی اور اپنی کمزوریوں کا ٹھندے دل و دماغ سے جائزہ لیا ہم اس زہریلے دھواں کو زائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے وگر نہ کتے کی شہادت اور فتووں کے گورکھ دھندوں میں پھنس کر رہ جایئں گے، جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔</p>
<hr style="width: 640px;" width="640">
<table>
<tbody>
<tr>
<td>
<div style="font-family: Jameel Noori Nastaleeq; font-size: 14px; direction: rtl; line-height: 30px; text-align: right;"><b>انتباہ:</b> مجلس ادارت کا میگزین میں شامل قلمی معاونین کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ مشمولات کی اسناد اور حوالوں میں کمی یا بیشی کا ادارہ ذمہ دار نہ ہو گا۔<br>
<b><a href="https://laaltain.pk/category/youth-yells/">یوتھ یلز</a></b>ایک نیا رنگا رنگ سلسلہ ہے، جس میں نوجوان قلمکار بلا جھجک اپنے ھر طرح کے خیالات کا دوٹوک اظہار کر سکتے ہیں۔۔ آپ کا اسلوب سنجیدہ ہے یا چٹخارے دار۔۔ آپ سماج پر تنقید کا جذبہ لیے ہوئے ہیں یا خود پر ہنسنے کا حوصلہ۔۔۔۔ “لالٹین” آپ کی ہر تحریر کو خوشآمدید کہتا ہے۔</div>
</td>
</tr>
</tbody>
</table>
<hr style="width: 640px;" width="640">
</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%88%d9%82%d8%aa-%d9%86%db%92-%d8%b1%d9%86%da%af-%d8%a8%db%81%d8%aa-%da%a9%da%86%da%be-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%92-%da%a9%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%b3%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%a8-%d9%86%db%81/">وقت نے رنگ بہت کچھ بدلے, کیا کیا سیلاب نہیں آئے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%88%d9%82%d8%aa-%d9%86%db%92-%d8%b1%d9%86%da%af-%d8%a8%db%81%d8%aa-%da%a9%da%86%da%be-%d8%a8%d8%af%d9%84%db%92-%da%a9%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%b3%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%a8-%d9%86%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
