<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>علی رضا رند, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/ali-raza-rind/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Thu, 30 May 2024 16:50:43 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>علی رضا رند, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>بلوچستان میں چہروں کی تبدیلی</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%86%db%81%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%86%db%81%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[علی رضا رند]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 28 Dec 2015 12:20:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Abdul Malik Baloch]]></category>
		<category><![CDATA[Balochistan]]></category>
		<category><![CDATA[Balochistan Assembly]]></category>
		<category><![CDATA[Sana ullah Zehri]]></category>
		<category><![CDATA[بلوچستان]]></category>
		<category><![CDATA[بلوچستان اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[ثناء اللہ زہری]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=14251</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">مری معاہدے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں بلوچستان مسلیم لیگ (ن) کی صوبائی قیادت کی جانب سے بغاوت کرنے اور ڈاکٹر مالک بلوچ کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت اعلیٰ سے محروم کرنے کے اشارے بھی دیئے گئے۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%86%db%81%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c/">بلوچستان میں چہروں کی تبدیلی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">بلوچستان میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی اور ڈاکٹر مالک بلوچ کی جگہ نواب ثناءاللہ زہری کا وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنا چہروں کی تبدیلی کا وہ تسلسل ہے جسے صوبے کے عوام عرصے سے دیکھتے آئے ہیں اس لیے اس تبدیلی کو مخصوص سیاسی حلقوں کے سوا عوامی سطح پر کوئی خاص توجہ نہیں مل سکی۔ صوبے کے حالات میں آنے والی بہتری ان فوجی کارروائیوں کی نذر ہو گئی ہے جن کے دوران اب تک آواران، تربت، خضدار، سبی، بولان، دالبندین، خاران، بیسیمہ، پنجگور، گوادر، مستونگ، قلات اور لسبیلہ کے اضلاع میں متعدد مبینہ مزاحمت کار ہلاک اور گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر مارے جانے والے چھاپوں اور خانہ تلاشیوں کے دوران مکران ڈویژن کے کچھ علاقوں میں گھروں کو بھی جلایا گیاجس کا اثر عام لوگوں کی زندگی پر پڑا ہے۔ ایسی کارروائیوں کے ردعمل میں علیحدگی پسند بلوچ تنظیموں کی جانب سے کرائی جانے والی شٹرڈاﺅن ہڑتالوں کے بعد سیکیورٹی ادارے کھل کر میدان میں آگے ہیں۔ اخبارات میں علیحدگی پسندوں کی جانب سے ہڑتالوں کے اعلانات کی اشاعت کے خلاف سیکیورٹی اینجسیاں بھی بیان بازی کر رہی ہیں۔ اس صورتحال میں صوبے کے تاجر مقامی صحافیوں کی طرح سیکیورٹی اداروں اور علیحدگی پسندوں کے درمیان پس کر رہ گئے ہیں کیونکہ اگر وہ ہڑتال کی اپیل پر دکانیں بند نہ کریں تو علیحدگی پسند تنظیمیوں کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اگر دکانیں بند رکھیں تو سیکیورٹی اداروں کے غیض و غضب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے صوبے کے حالات کو عام لوگوں کے لیے سازگار نہیں کہا جا سکتا کیونکہ بلوچستان میں اب بھی کسی نہ کسی سطح پر سیکیورٹی ایجنسیوں اور مسلح علیحدگی پسندوں میں کشمکش جار ی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">صوبے کے حالات میں آنے والی بہتری کے آثار ان فوجی کارروائیوں کی نذر ہوگئے ہیں جن کے دوران اب تک آواران، تربت، خضدار، سبی، بولان، دالبندین، خاران، بیسیمہ، پنجگور، گوادر، مستونگ، قلات اور لسبیلہ کے اضلاع میں متعدد مبینہ مزاحمت کار ہلاک اور گرفتار کیے جا چکے ہیں۔</div>
<div class="urdutext">مئی 2013 میں الیکشن مہم کے دوران نومنتخب وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری کے قافلے پر خضدار کے علاقے زہری میں ریموٹ کنٹرول بم حملہ کیا گیا تھا جس میں ان کے بیٹے سکندر زہری، بھائی مہراللہ زہری اور بھتیجے میر زیب زہری سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس دھماکے کی ذمہ داری 2002 میں بننے والی بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی۔ بلوچ لبریشن آرمی کے متعلق نواب ثناءاللہ زہری کا دعویٰ ہے کہ اس تنظیم کو مرحوم نواب خیر بخش مری کے لندن میں مقیم صاحبزادے نوابزادہ حیر بیار مری چلا رہے ہیں۔ زہری واقعے کے بعد نواب ثناءاللہ زہری نے بظاہر جذبات میں آکر بلوچستان کے اہم قوم پرست رہنماء نواب خیر بخش مری اور ان کے صاحبزادے حیر بیار مری، سردار عطاء اللہ مینگل اور اس کے صاحبزادوں اختر مینگل اور جا وید مینگل، اور مکران میں سرگرم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کے رہنماء ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔ حال ہی میں نواب ثناءاللہ زہری نے یہ کہہ کر وہ ایف آئی آر خود ہی واپس لے لی کہ ان کی جانب سے قبائلی سطح پر کی جانے والی تحقیقات میں ان افراد کے ملوث ہونے کے ثبوت سامنے نہیں آسکے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">11 مئی 2013 کے انتخابات کے بعد جب بلوچستان حکومت کی تشکیل کا مرحلہ آیا توصوبائی اسمبلی کی سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے صدر کی حیثیت سے نواب ثناءاللہ زہری ہی وزارت اعلیٰ کے مضبوط امیدوار تصور کیے جا رہے تھے، لیکن 2 جون کو سیاحتی مقام مری میں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت صوبائی اسمبلی کی65 میں صرف 8 نشستیں حاصل کرنے والی قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو اڑھائی سال کے لیے وزیراعلیٰ بلوچستان منتخب کیا گیا۔ ڈاکٹر عبدالمالک نے پشتونخواملی عوامی پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حمایت سے مخلوط حکومت بنائی۔ صوبے کے اکثر سیاسی حلقوں نے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے اس فیصلے کو صوبے کی حالات سے ہم آہنگ قرار دیا۔ نواب ثناءاللہ زہری کے دل میں اس وقت انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی اور انہوں نے اپنے خاندان کے افراد کے قتل کی ایف آئی آر صوبے کے اہم قوم پرست رہنماﺅں کے خلاف درج کرا رکھی تھی جس سے کشیدگی میں مزید اضافے کا امکان تھا۔ اس وقت اگر نواب ثناءاللہ زہری کو وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز کیا جاتا تو یہ کشیدگی خون خرابے میں بدل سکتی تھی ۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">مری معاہدے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں بلوچستان مسلیم لیگ (ن) کی صوبائی قیادت کی جانب سے بغاوت کرنے اور ڈاکٹر مالک بلوچ کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت اعلیٰ سے محروم کرنے کے اشارے بھی دیئے گئے۔</div>
<div class="urdutext">ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد کرنا مذکورہ کشیدہ صورتحال میں کمی کا سبب بنا۔ بلوچستان کے وسیع تر مفاد میں انہوں نے اپنے دور میں نواب ثناءاللہ زہری کی مرضی کے خلاف بہت سے فیصلے کیے جس کی شکایت وہ اکثر کرتے رہے۔ ان فیصلوں کی بناء پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی نےنہ صرف بلوچستان اسمبلی کی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا بلکہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف تک شکایت بھی پہنچائی گئی۔ مسلم لیگ نواز کے اراکین اڑھائی برس یہ شکوہ کرتے رہے کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نواز لیگ کے وزراء کو نظر انداز کرکے انہیں بے اختیار بنا رہے ہیں لیکن نواز شریف کی جانب سے کوئی قابل ذکر ردعمل سامنے نہیں آیا جس کے سبب وہ چپ کرکے بیٹھ گئے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مری معاہدے کے بعد فوری طور پر تو اس کی تشہیر نہیں کی گئی لیکن رواں سال ڈاکٹر مالک بلوچ سے نالاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اراکین صوبائی اسمبلی یہ معاہدہ منظر عام پر لے آئے جس کے بعد اس معاہدے کا پول میڈیا کے ذریعے کھلا۔ قوم پرست سیاسی حلقوں نے اس معاہدے کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا اور اسے اسلام آباد کی جانب سے صوبے کی قسمت کا فیصلہ قرار دے کر بلوچستان کی سیاسی قیادت کی توہین بھی قرار دیا۔ مری معاہدے کے تحت وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ کی مدت 4 دسمبر کو ختم ہونی تھی لیکن مقررہ وقت پر پاکستان مسلم لیگ (ن) قیادت کی جانب سے کوئی فیصلہ نہ کرنے پر ان چہ مگوئیوں کو تقویت ملنے لگی کہ شاید ڈاکٹر مالک بلوچ کو توسیع ملے گی۔ <a href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/12/151205_balochistan_cm_politics_sh" target="_blank" rel="noopener">بی بی سی جیسے معتبر ادارے</a> نے نہ بھی اپنے تجزیے میں اس توسیع کا امکان ظاہر کیا۔ 7 دسمبر کو صوبے کے <a href="http://dailyazadiquetta.com/2015/12/07/%D9%85%D8%B1%DB%8C-%D9%85%D8%B9%D8%A7%DB%81%D8%AF%DB%81-%D9%85%D8%B9%D8%B7%D9%84-%D8%8C-%DA%88%D8%A7%DA%A9%D9%B9%D8%B1-%D9%85%D8%A7%D9%84%DA%A9-%D8%A8%D9%84%D9%88%DA%86-%D8%A8%D8%AF%D8%B3%D8%AA%D9%88/" target="_blank" rel="noopener">ایک مقامی روزنامے </a>نے تو مری معاہدے کی معطلی اور میاں نواز شریف کی جانب سے ڈاکٹر مالک بلوچ کو بطور وزیر اعلیٰ برقرار رکھنے کے فیصلے کا دعویٰ اپنی شہ سرخی کے طور پر شائع کیا۔ خبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صوبے میں امن و مان کی صورتحال بہتر بنانے اور مفاہمت کی فضاء تشکیل دے کر جلا وطن بلوچ رہنماﺅں خان قلات اور براہمدغ بگٹی کو مذاکرات پر راضی کرنے کے سبب فوجی اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر مالک بلوچ سے مطمئن ہے۔ اس لیے صوبے میں فعال کردار ادا کرنے والے سابق کورکمانڈر اور موجودہ قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ ڈاکٹر مالک بلوچ کو بطور وزیر اعلیٰ برقرار رکھنے کی کوششوں میں پیش پیش ہیں۔ خبر میں سبکدوشی کے موقع پر کی گئی ناصر جنجوعہ کی تقریر کا بھی حوالہ دیا گیا۔ سابق کور کمانڈر نے دس منٹ تک ڈاکٹر مالک کی صلاحیتوں اور کاکردگی کی تعریف کی۔ لیکن غیر متوقع طور پر دس دسمبرکو وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے اسلام میں صوبے کے متعلق ہونے والی اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد مری معاہدے پر عمل کرتے ہوئے نواب ثناءاللہ زہری کو وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد کر دیا۔ نواب صاحب نے 24 دسمبر کو اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا جس سے ایک روز قبل ڈاکٹر مالک بلوچ مستعفی ہوگئے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مری معاہدے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں بلوچستان مسلیم لیگ (ن) کی صوبائی قیادت کی جانب سے بغاوت کرنے اور ڈاکٹر مالک بلوچ کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزارت اعلیٰ سے محروم کرنے کے اشارے بھی دیئے گئے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو ان کے مشیروں اور قریبی ساتھیوں نے اس خدشے بھی آگاہ کیا تھا کہ اگر مری معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تو بلوچستان میں ان کی پارٹی کا صفایا ہو سکتا ہے۔ پنجاب کے بعد مسلم لیگ نواز کی سب سے زیادہ نمائندگی (بلحاظ تناسب) بلوچستان اسمبلی میں ہی ہے۔ سندھ اور خیبرپختونخوا میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی مقبولیت کے باعث بلوچستان میں مسلم لیگ کی موجودگی نواز شریف کے لیے بے حد اہم ہے اس لیے میاں نواز شریف نے بلوچستان میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کا فیصلہ کیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">بہت سے سیاسی حلقے ابھی تک اس قسم کی تبدیلیوں کو سطحی سمجھتے ہیں جن کا خیال ہے کہ صوبے کی قسمت کا فیصلہ اب بھی اسٹیبلشمنٹ کرتی ہے۔</div>
<div class="urdutext">اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلوچستان میں چہروں کی تبدیلی صوبے کے حالات پر کس قدر اثر انداز ہوگی؟ بہت سے سیاسی حلقے ابھی تک اس قسم کی تبدیلیوں کو سطحی سمجھتے ہیں جن کا خیال ہے کہ صوبے کی قسمت کا فیصلہ اب بھی اسٹیبلشمنٹ کرتی ہے۔ یہ حلقے عام انتخابات کے غیر فطری اور تیز رفتار عمل کی مثال بھی دیتے ہیں جس کے تحت جیت کا اعلان ہونے کے باوجود بہت سے امیدواروں کو ہار کا راستہ دکھایا جاتا ہے اور ہارنے والوں کے سر جیت کا سہرا باندھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان سے گزرنے والی پاک چین اقتصادی راہداری اور صوبے کی معدنی وسائل نے اس کی سیاسی و اقتصادی اہمیت میں اضافہ کر دیا ہے اس لیے اسٹیبلشمنٹ کا صوبے کے معاملات میں عمل دخل بھی زیادہ ہوا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے اثرورسوخ میں اضافے کے نتیجے میں صوبے کی سیاسی حکومتیں محض انتظامی امور تک محدود ہوکر اہم فیصلے کرنے کے اختیار سے محروم تر ہو گئی ہیں۔ صوبے کا وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے بھی ڈاکٹر مالک چاغی میں چینی کمپنی کے زیر انتظام چلنے والے سونے اور تانبے کی پیداوار کے منصوبے سینڈک سے صوبے کو کوئی خاص فائدہ نہ ملنے کی شکایت کھلے عام کرتے رہے ہیں۔ لہٰذا ایسے حالات میں حکومتی سطح پر ہونے والی تبدیلی محض چہروں کی تبدیلی ثابت ہوگی جس سے صوبے کی عوام کی زندگیوں پر کسی بھی قسم کے دیرپا اثرات کی توقع خام خیالی ہے۔ پارلیمانی نظام سے بلوچوں کی بیزاری کی ایک اہم وجہ اختیارات کا سیاسی حکومتوں کی بجائے عسکری اداروں کے ہاتھوں میں سمٹ آنا ہے۔ سیاسی نظام پر سے اکثریت کا اعتماد کو ختم ہو گیا ہے جو انہیں علیحدگی پسندوں کی باتوں پر غور کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ علیحدگی پسندوں کے نزدیک پارلیمنٹ محض ربڑ اسٹیمپ ہے اور صوبے کے مسائل کا واحد حل مسلح مزاحمت کے ذریعے آزادی ہے۔ اب فیصلہ حکمران اشرافیہ کو کرنا ہے کہ وہ بلوچستان کو معاشی اور سیکیورٹی تناظر میں ہی دیکھتے رہیں گے یا سیاسی کھڑکی کھولنے کی کوشش بھی کریں گے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%86%db%81%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c/">بلوچستان میں چہروں کی تبدیلی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%86%db%81%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>4</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بلوچستان؛ صحافیوں کا دکھ کون سمجھے؟</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%9b-%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d9%81%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%af%da%a9%da%be-%da%a9%d9%88%d9%86-%d8%b3%d9%85%d8%ac%da%be%db%92%d8%9f/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%9b-%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d9%81%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%af%da%a9%da%be-%da%a9%d9%88%d9%86-%d8%b3%d9%85%d8%ac%da%be%db%92%d8%9f/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[علی رضا رند]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 16 Sep 2014 14:48:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=7309</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">بلوچستان میں صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ کاحالیہ  سلسلہ 2008 میں شروع ہوا اس سے قبل بلوچستان میں صرف ایک صحافی قتل کیا گیا تھا تاہم 2008 سے اب تک تیس سے زائد صحافیوں کو قتل کرنے کی اطلاعات ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%9b-%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d9%81%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%af%da%a9%da%be-%da%a9%d9%88%d9%86-%d8%b3%d9%85%d8%ac%da%be%db%92%d8%9f/">بلوچستان؛ صحافیوں کا دکھ کون سمجھے؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">بلوچستان میں صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ کاحالیہ سلسلہ 2008 میں شروع ہوا اس سے قبل بلوچستان میں صرف ایک صحافی قتل کیا گیا تھا تاہم 2008 سے اب تک تیس سے زائد صحافیوں کو قتل کرنے کی اطلاعات ہیں۔رواں برس28 اگست کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں خبر رساں ادارے آن لائن کے بیوروچیف ارشاد مستوئی سمیت 3 میڈیاکارکنان کا ان کے دفتر میں قتل بلوچستان کی خوفزدہ صحافی برادری کے لیے ایک اور غیر معمولی تنبیہ تھی۔ کوئٹہ کی معروف شاہراہ جناح روڈ پر واقع کبیر بلڈنگ میں ظلم کی یہ داستان تب رقم ہوئی جب رات کی سیاہی دھیرے دھیرے پھیل رہی تھی۔ کبیر بلڈنگ کے D بلاک میں ایک درجن سیڑھیوں کی تنگ چڑھائی کے بعدراہداری کے مشرقی حصے میں آن لائن کا دفتر کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر کےصحافیوں ، سیاسی وسماجی کارکنان کا معروف ٹھکانہ تھا جہاں لوگ خبریں پہنچانے کے ساتھ ساتھ ا رشاد مستوئی کی پرمزاح اور دلکش گفتگو سننے بھی جاتے تھے۔آن لائن کے دفترمیں ایک روز ارشاد مستوئی کہنے لگے کہ نجانے صحافیوں کے قاتلوں کی ہٹ لسٹ میں ان کا نمبر کب آئے گا۔</div>
<div class="leftpullquote">ارشاد مستوئی کی شہادت سے دو سال قبل خضدار پریس کلب کی تالہ بندی تب ہوئی تھی جب ایک مسلح تنظیم کی جانب سے مقامی صحافیو ں کی ہٹ لسٹ جاری کرنے کے بعدصحافتی فرائج کی ادائیگی پر ایک ایک کر کے 5 صحافیوں سمیت خضدار پریس کلب کےاس وقت کے صدر ندیم گرگناڑی کے دو معصوم بیٹوں کو اسکول سے واپسی پرگولیوں سے بھون دیا گیا۔</div>
<div class="urdutext">جس روز ارشاد مستوئی کو شہید کیا گیااس دن وہاں ان کے کارکنان کےسوا کوئی موجود نہ تھا، قاتلوں نے مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ اپنا کام سرانجام دیا اور آسانی سے فرار ہو گئے۔ چند دیگر خبر رساں اداروں کے دفاتر آن لائن کے دفتر سے چند فرلانگ کے فاصلے پر ہیں جن میں سے ایک نیوز ایجنسی کے بیوروچیف سے جب میں نے پوچھا کہ کیا وقوعے کے وقت وہ اپنے دفتر میں تھے؟ تو ان کا جواب نفی میں تھا لیکن سب سے دلچسپ بات جو انہوں نے مجھے بتائی وہ یہ تھی کہ جب بالائی منزل پر تین نہتے صحافتی کارکن قتل کیے گئے تو نچلی منزل کے بیشتر دکاندار صورتحال سے بے خبر رہے۔ ایک دکاندار کوتو کراچی سے کسی جاننے والے نے فون پر بتایا کہ جس مارکیٹ میں ان کی دکان ہے وہاں تین صحافی قتل کیے جا چکے ہیں۔<br>
صحافیوں کے قتل کے دیگر واقعات کی طرح ارشاد مستوئی کےقاتلوں کا بھی اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا اور وہ قانون کی گرفت سےآزاد ہیں۔ ارشاد مستوئی سمیت تین صحافتی کارکنوں کے قتل کے بعد کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں غم و غصے کی شدید لہر دوڑ گئی جس کے بعد بلوچستان یونین آف جرنلسٹ کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے منعقد کیے جانے والے مظاہرے سے خطاب کے دوران بی یو جے کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ اب تک بلوچستان میں 35 سے زائد صحافی قتل ہوچکے ہیں لیکن پولیس اور دیگر حکومتی ادارے کسی ایک صحافی کے قاتلوں بھی گرفتار نہیں کر سکے۔خضدار پریس کلب کو ایک مرتبہ پھر تالے لگا کر بند کر دیا گیااور مقامی صحافیوں نے اپنی سلامتی کو درپیش سنگین خطرات کے پیش نظر صحافتی امور کی انجام دہی معطل رکھنے میں ہی عافیت سمجھی جو لمحہ فکریہ ہے۔ ارشاد مستوئی کی شہادت سے دو سال قبل خضدار پریس کلب کی تالہ بندی تب ہوئی تھی جب ایک مسلح تنظیم کی جانب سے مقامی صحافیو ں کی ہٹ لسٹ جاری کرنے کے بعدصحافتی فرائج کی ادائیگی پر ایک ایک کر کے 5 صحافیوں سمیت خضدار پریس کلب کےاس وقت کے صدر ندیم گرگناڑی کے دو معصوم بیٹوں کو اسکول سے واپسی پرگولیوں سے بھون دیا گیا۔اسی طرح پنجگور میں بھی مسلح تنظیموں کی توپوں کا رخ میڈیا ورکرز کی جانب بڑھنے لگا تو صحافیوں نے پریس کلب کو تالے لگا کر سرگرمیاں معطل کر دیں ؛ چمن، تربت اور قلات میں بھی متعدد صحافی ریاستی اداروں اور عسکریت پسند تنظیموں کی طرف سے گولی کے حقدار ٹھہرائے گئے۔</div>
<div class="leftpullquote">اگرملکی میڈیا نے ریاستی اداروں اور عسکریت پسند تنظیموں کے جبر سے اپنے کارکنوں کو درپیش خطرات کوسنجیدگی سے نہ لیا تو بلوچستان میں لگنے والی آگ سے وہ بھی محفوظ نہیں رہیں گے جس کی واضح مثال حامد میر پر ہونے والاحملہ ہے۔</div>
<div class="urdutext">ارشاد مستوئی سمیت تین میڈیا ورکرز کا کوئٹہ میں قتل کے ردعمل کے طور پر8 ستمبر کو بلوچستان بھر میں پریس کلبز کو تالے لگا کرصحافتی سرگرمیاں ایک روز کے لئے معطل کر دی گئیں جو اپنی نوعیت کا بلوچستان میں پہلا احتجاج تھا۔ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف کوئٹہ میں احتجاجی کیمپ بھی لگایا جس کا وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے دیگر وزراء کے ہمراہ دورہ کیا اور صحافیوں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ قاتلوں کی گرفتاری کے لیے ہرممکن کوشش کریں گے لیکن بلوچستان کا تلخ ماضی گواہ ہے کہ یہاں قاتلوں کو حاصل غیر رسمی “استثنا” کو ختم کرنا ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے بس کی بات نہیں کیونکہ قاتلوں کو یہ سہولت انتہائی طاقتورحلقوں کی جانب سے حاصل ہے۔ ارشاد مستوئی کے قتل کی مذمت بلوچستان کی تمام قوم پرست، علیحدگی پسند اور مذہبی جماعتوں نے کی ۔ بلوچستان میں صحافیوں کی قتل کے بعد حکام حسب سابق زر تلافی کا اعلان کرکے لاتعلق ہوجاتے ہیں اور قاتل ایک نئی واردات کی منصوبہ بندی میں لگ جاتے ہیں جس کے بعد یہی کہانی بار بار دہرائی جاتی ہے اورہر مرتبہ شہیدوں کی فہرست میں ایک اور نام کا اضافہ ہوجاتا ہے۔<br>
بہت کم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان جیسے حساس علاقے میں آزاد صحافت کو دیوار سے لگانا مستقبل کے لیے نیک شگون نہیں کیونکہ صحافی کے حق کو طشت ازبام کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں، اگر بلوچستان سے اٹھنے والی یہ آوازیں بند ہو گئیں تو پھر شاید دہشت اور بربریت کے اس شورمیں کوئی کسی کی آواز سننے کے قابل نہ رہے۔ پاکستان کے قومی میڈیا کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بلوچستان میں صحافیوں کے خلاف تشدد کسی ایک فرد یا ادارے کا نہیں بلکہ پورے میڈیا کا مسئلہ ہے۔اگرملکی میڈیا نے ریاستی اداروں اور عسکریت پسند تنظیموں کے جبر سے اپنے کارکنوں کو درپیش خطرات کوسنجیدگی سے نہ لیا تو بلوچستان میں لگنے والی آگ سے وہ بھی محفوظ نہیں رہیں گے جس کی واضح مثال حامد میر پر ہونے والاحملہ ہے۔ بلوچستان کے صحافیوں کے دکھ کو سمجھنا اور ان کے دکھوں کے مداوا کے لئے ریاستی اور ادارہ جاتی سطح پرلفظی ہیر پھیر کی بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%9b-%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d9%81%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%af%da%a9%da%be-%da%a9%d9%88%d9%86-%d8%b3%d9%85%d8%ac%da%be%db%92%d8%9f/">بلوچستان؛ صحافیوں کا دکھ کون سمجھے؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%d8%9b-%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d9%81%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%af%da%a9%da%be-%da%a9%d9%88%d9%86-%d8%b3%d9%85%d8%ac%da%be%db%92%d8%9f/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
