<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ایمن سلیم, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/aiman-saleem/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Thu, 30 May 2024 16:09:59 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>ایمن سلیم, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>ہم ملالہ کیوں نہیں ہیں؟</title>
		<link>https://laaltain.pk/%db%81%d9%85-%d9%85%d9%84%d8%a7%d9%84%db%81-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%db%81%db%8c%da%ba%d8%9f/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%db%81%d9%85-%d9%85%d9%84%d8%a7%d9%84%db%81-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%db%81%db%8c%da%ba%d8%9f/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ایمن سلیم]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 21 Nov 2015 12:56:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[All Pakistan Private Schools Association]]></category>
		<category><![CDATA[I am Malala]]></category>
		<category><![CDATA[I am not Malala]]></category>
		<category><![CDATA[Malala Yousafzai]]></category>
		<category><![CDATA[ملالہ یوسف زئی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=13681</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">ملالہ ہونا یا ملالہ کے نقطہ نظر سے متفق ہونا کسی بھی طرح پاکستان یا اسلام مخالف ہونا نہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%db%81%d9%85-%d9%85%d9%84%d8%a7%d9%84%db%81-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%db%81%db%8c%da%ba%d8%9f/">ہم ملالہ کیوں نہیں ہیں؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ پاکستان میں تعلیم، خواتین کے حقوق اور انسانی آزادیوں کے لیے جدوجہد کرنے اور تبدیلی لانے کے لیے اپنی زندگی وقف کرنا اور نوبل انعام حاصل کرنا کافی نہیں۔ گزشتہ برس 10 نومبر کو آل پاکستان پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن نے <a href="https://laaltain.pk/%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D9%85-%D8%AA%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%85-%DA%A9%D9%88-%D8%B1%D8%AF-%DA%A9%D8%B1%D8%B1%DB%81%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA/">“میں ملالہ نہیں ہوں” دن منایا تھا</a>۔ اس برس ایسوسی ایشن کی جانب سے “میں ملالہ نہیں ہوں” کتاب شائع کی گئی ہے۔ کتاب کی تقریب رونمائی اسلام آباد میں ہوئی جس میں کتاب کے مصنف اور آل پاکستان پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے سربراہ کاشف عباسی نے اسے ملالہ یوسف زئی کی کتاب “میں ملالہ ہوں” کا جواب قرار دیا۔ ان کے خیال میں یہ کتاب ملالہ یوسف زئی کے ذریعے ‘مسلط کیے جانے والے مغربی ایجنڈے’ کی نقد ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن عطیہ رضوی کے مطابق یہ رویہ عورت مخالف بھی ہے اور رجعت پسند بھی۔ “ملالہ کو تسلیم نہ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارا معاشرہ عورت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور نہ ہی اپنے نظریاتی تضاد سے واقف ہے۔” ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملالہ کو رد کرنا ترقی پسند بیانیے کو رد کرنا ہے اور ہماری خود پسندی اور نرگسیت کو تقویت پہنچانے کے مترادف ہے کیوں کہ ہم “کسی ایسی آزاد اور خود مختار عورت کو جو ہمارے قدامت پسند خول میں دراڑ ڈال سکتی ہو کے خلاف ہو تسلیم نہیں کرنا چاہتے”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">ملالہ کو رد کرنا ترقی پسند بیانیے کو رد کرنا ہے اور ہماری خود پسندی اور نرگسیت کو تقویت پہنچانے کے مترادف ہیں کیوں کہ ہم “کسی ایسی آزاد اور خود مختار عورت کو جو ہمارے قدامت پسند خول میں دراڑ ڈال سکتی ہو کے خلاف ہو تسلیم نہیں کرنا چاہتے”۔</div>
<div class="urdutext">آزاد اور خود مختار عورت کو جو ہمارے قدامت پسند خول میں دراڑ ڈال سکتی ہو کے خلاف ہو تسلیم نہیں کرنا چاہتے”۔<br>
ملالہ یوسف زئی کی یادداشتیں اکتوبر 2013 میںشائع کی گئی تھیں۔ کاشف عباسی کے مطابق “میں ملالہ نہیں ہوں” ان ‘بچوں کا بیانیہ ہے جو سمجھتے ہیں کہ وہ ملالہ نہیں ہیں کیوں کہ وہ ایک پاکستانی اور ایک مسلمان ہیں’۔ کاشف عباسی کے مطابق ملالہ کی یادداشتوں میں ایسا مواد موجود ہے جو پاکستان اور پاکستان کی اسلامی پہچان کے خلاف ہے۔ ماہر تعلیم سلیم سرور اس نقطہ نظر سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ “ملالہ ہونا یا ملالہ کے نقطہ نظر سے متفق ہونا کسی بھی طرح پاکستان یا اسلام مخالف ہونا نہیں۔” ان کے نزدیک “پاکستان یا اسلام مخالف” ہونے کا نقطہ نظر غیر منطقی ہے، “اصل بحث یہ ہے کہ کیا ہم ایک ایسی لڑکی ایک ایسی عورت یا ایک ایسے انسان کو قبول کرنے کو تیار ہیں جو ہماری حالت بدلنے کے لیے ہمیں ہماری خامیوں کا احساس دلا رہا ہے۔”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تعلیمی اداروں میں تعلیم کے لیے کام کرنے والی ملالہ یوسف زئی کے خلاف جذبات کیوں پائے جاتے ہیں، عطیہ رضوی کے مطابق اس کی وجوہ بے حد پیچیدہ ہیں لیکن یہ امر اسی قدر تشویش ناک ہے جس قدر طالبان فکر،“طالبان کی مذمت کی بجائے طالبان کے ظلم کا شکار ہونے والی ملالہ کی مخالفت یہ بتاتی ہے کہ ہمارا معاشرہ ابھی تک طالبان کو اپنے دشمن کے طور پر دیکھنے کو تیار نہیں، جو بے حد خطرناک ہے۔“بچیوں کی تعلیم کے لئے کام کرنے والی ملالہ یوسف زئی کو پاکستان میں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ملالہ کو گزشہ برس نوبل امن انعام کا حقدار قرار دیا گیا تھا تاہم پاکستان میں سرکاری سطح پر ملالہ کے اعزاز میں کوئی تقریب منعقد نہیں کی گئی۔ اس سے قبل آل پاکستان پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن نے اپنے عہدیداران کو ملالہ کی کتاب خریدنے سے روک دیا تھا۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%db%81%d9%85-%d9%85%d9%84%d8%a7%d9%84%db%81-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%db%81%db%8c%da%ba%d8%9f/">ہم ملالہ کیوں نہیں ہیں؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%db%81%d9%85-%d9%85%d9%84%d8%a7%d9%84%db%81-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%db%81%db%8c%da%ba%d8%9f/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان بدل رہا ہے</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a8%d8%af%d9%84-%d8%b1%db%81%d8%a7-%db%81%db%92/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a8%d8%af%d9%84-%d8%b1%db%81%d8%a7-%db%81%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ایمن سلیم]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 11 Feb 2015 13:22:49 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[الطاف حسین]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تبدیلی]]></category>
		<category><![CDATA[متحدہ قومی موومنٹ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=9425</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">پاکستان بدل رہا ہے اور بہت تیزی سے بدل رہا ہے۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a8%d8%af%d9%84-%d8%b1%db%81%d8%a7-%db%81%db%92/">پاکستان بدل رہا ہے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">پاکستان بدل رہا ہے اور بہت تیزی سے بدل رہا ہے۔ ہم نے یہ پہلے کبھی نہیں سوچا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ جیسی سیاسی جماعتوں کے خلاف ذرائع ابلاغ کھلے بندوں خبریں اور تجزیے نشر اور شائع کریں گے۔متحدہ قومی موومنٹ کے قائد کی جانب سے معافی مانگنے کا منظر بھی نیا ہے اور عمران خان سے قبل کبھی کسی نے الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی سیاست کو یوں کھلے بندوں تنقید کا نشانہ نہیں بنایا۔ ہم نے یہ پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا کہ ایک جماعت اسلامی جیسی مذہبی جماعتیں جمہوریت کے دفاع اور عام شہریوں کی بات کریں گی۔ یہ بھی کبھی نہیں ہوا تھا کہ طالبان اور جہادی تنظیموں کے خلاف مظاہرے ہوں اور لوگ کھل کر طالبان کو تنقید کا نشانہ بنائیں۔ مساجد کے باہر مذہبی انتہا پسند تنظیموں کے اور جہادی بیانیے کے خلاف احتجاج آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا خاص طور پر ایک ایسے پاکستان میں جہاں تین دہائیوں سے مذہبی شدت پسندی کو سیاسی اور سماجی تحفظ حاصل ہو۔</div>
<div class="leftpullquote">متحدہ قومی موومنٹ کے قائد کی جانب سے معافی مانگنے کا منظر بھی نیا ہے اور عمران خان سے قبل کبھی کسی نے الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی سیاست کو یوں کھلے بندوں تنقید کا نشانہ نہیں بنایا۔</div>
<div class="urdutext">موجودہ پاکستان ایک ایسی نسل کا پاکستان ہے جو شدت پسندی، معاشی کساد بازاری اور معاشرتی گھٹن کے دوران پل کر بڑی ہوئی اور اب وہ معاملات کو اپنے انداز میں چلانے کے لبے تاب ہے۔ یہ ایک ایسا پاکستان ہے جس کی نوجوان نسل اظہار کے جدید ذرائع سے وابستہ ہے اور اپنی شناخت کے لیے بے چین ہے۔ بے حد جذباتی، توانا مگر صلاحیتوں کے اظہار سے محروم یہ نسل پاکستان کو کیسا دیکھنا چاہتی ہے ایک ایسا سوال ہے جو پاکستان کو مکمل طور پر بدل رہا ہے۔<br>
پاکستان کے سیاسی اور سماجی اشاریے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کے اگلے انتخابات نوجوان نسل کے انتخابات ہوں گے اور نوجوان ووٹرز کے رحجانات ہی پاکستان کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ اس نسل کے پاس یہ ایک ایسا موقع ہے کہ وہ پاکستان کا مستقبل اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے اور اپنے تیئں اس ملک کی سمت کا تعین کر سکتی ہے۔ آج کے نوجوان سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں، ایک جمہوری سیاسی نظام کا حصہ ہے جو اپنے تسلسل کی دوسری معیاد پوری کر رہا ہے اور اپنے مستقبل کے حوالے سے ہمیشہ سے زیادہ پرامید ہے۔ آج انتخاب اور اظہار کی جو آزادی اس نسل کو حاصل ہے شاید ماضی میں اس ملک میں کبھی کسی کو حاصل نہیں ہوئی۔</div>
<div class="leftpullquote">یہ درست ہے کہ پاکستان میں مسائل اور مایوسیوں کی بہتات ہے مگر یہی حالات پاکستان کی نئی نسل کو اپنے طور پر حالات بدلنے کی طرف مائل کررہے ہیں۔</div>
<div class="urdutext">یہ درست ہے کہ پاکستان میں مسائل اور مایوسیوں کی بہتات ہے مگر یہی حالات پاکستان کی نئی نسل کو اپنے طور پر حالات بدلنے کی طرف مائل کررہے ہیں۔ آج کا نوجوان ایک نئی سیاسی قوت تحریک انصاف کی طاقت بن کر اپنے بزرگوں کی نسل سے مختلف فیصلے کرنے کا خواہاں نظر آتا ہے یہی وجہ ہے کہ روایتی سیاسی جماعتیں اپنی مقبولیت کھو رہی ہیں اور ایک متبادل قیادت کا تصور رائج ہو رہا ہے۔ اگرچہ پاکستان کی نوجوان نسل ہندوستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک جتنی باشعور نہیں مگر پاکستان میں جمہوریت کے تسلسل اور شہری آزادیوں کے حصول کی جدوجہد میں تیزی سے اس شعور میں اضافہ ممکن ہے۔<br>
ایک تبدیل ہوتا ہوا پاکستان جو اپنی بقا کی جنگ لڑرہا ہے اسے اپنے لیے نئے اسباب، نئے مواقع اور نئی جہتیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے اور یہ آنے والی نسل ہی طے کرے گی کے پاکستان کا مستقبل کیا ہوگا۔ روایتی سیاست کے طور طریقے بدلنے کے باعث اگلے انتخابات میں نئے چہرے اور نئی قیادت بھی سامنے آئے گی اور نئے لوگوں کو اپنی سوچ کے مطابق پاکستان کو چلانے کا موقع بھی ملے گا۔<br>
شہروں کے پھیلاو اور متوسط طبقے میں ایک نوجوان پڑھی لکھی نسل کے پروان چڑھنے سے پاکستان کے سامنے ایسے معاشی اور سیاسی چیلنجز آ کھڑے ہوئے ہیں جوپہلے کبھی نہیں تھے۔ روزگار اور شہری سہولیات کی فراہمی میں ناکام جماعتیں اور قیادت فرسودہ ہو چکی ہے اور عوامی حمایت کھو چکی ہے۔ اس کی واضح مثال مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں کے طرز حکم رانی پر کی جانے والی تنقید ہے۔ ایک عام نوجوان کے لیے ان جماعتوں کے طرز حکم رانی اور طریق سیاست میں کوئی کشش باقی نہیں رہی اسی لیے وہ ایک متبادل سیاسی قوت کی تلاش میں ہے۔<br>
یہ تحریک انصاف کی سیاست ہی ہے جس نے آج لوگوں کو ایم کیوایم، پیپلز پاڑتی اور مسلم لیگ نواز کے خلاف بولنے اور احتجاج کا حوصلہ دیا ہے۔ یہ نوجوان نسل ہی ہے جس نے عسکریت پسندی سے لاتعلقی اختیار کی ہے اور یہ پاکستان کا تبدیل ہوتا ہوا منظر نامہ ہی ہے جس کے باعث پاکستان میں تعمیراور تبدیلی کا جذبہ ابھر کر سامنے آیا ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a8%d8%af%d9%84-%d8%b1%db%81%d8%a7-%db%81%db%92/">پاکستان بدل رہا ہے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a8%d8%af%d9%84-%d8%b1%db%81%d8%a7-%db%81%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یہ شدت پسندی اور برداشت کے درمیان جنگ ہے</title>
		<link>https://laaltain.pk/%db%8c%db%81-%d8%b4%d8%af%d8%aa-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b4%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d9%86%da%af-%db%81/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%db%8c%db%81-%d8%b4%d8%af%d8%aa-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b4%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d9%86%da%af-%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ایمن سلیم]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 28 Oct 2014 14:58:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=7698</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">جماعت اسلامی کے دباو پر مذہب کے غلط استعمال اور شدت پسندی کے اثرات سے متعلق دہم جماعت کی پشتو کی کتاب سے موجودہ دور کے مسائل کا باب خارج  کیا جا رہا ہے</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%db%8c%db%81-%d8%b4%d8%af%d8%aa-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b4%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d9%86%da%af-%db%81/">یہ شدت پسندی اور برداشت کے درمیان جنگ ہے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">خیبر پختونخواہ میں جماعت اسلامی کے دباو پر نصاب میں تبدیلیوں کا عمل جاری ہے، عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت کے دوران شامل کئے جانے والے ابواب نہ صرف خارج کئے جا رہے ہیں بلکہ جماعت اسلامی اپنے بانی سیدابوالاعلیٰ مودودی اور سابق امیر قاضی حسین احمد سے متعلق اضافی ابواب شامل کرانے کی منظوری بھی حاصل کر چکی ہے۔“جماعت اسلامی کے دباو پر مذہب کے غلط استعمال اور شدت پسندی کے اثرات سے متعلق دہم جماعت کی پشتو کی کتاب سے موجودہ دور کے مسائل کا باب خارج کیا جا رہا ہے۔“پشاور کے ایک ہائی سکول ٹیچر رحمت علی نے لالٹین کو آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک برس میں نصاب میں بہت کچھ بدل دیا گیا ہے،“پچھلی حکومت نے جو سبق شامل کئے تھے ان میں بہت سی تبدیلیاں کی گئی ہیں اور کافی مواد بدلا گیا ہے۔”</div>
<div class="leftpullquote">جماعت اسلامی کے دباو پر مذہب کے غلط استعمال اور شدت پسندی کے اثرات سے متعلق دہم جماعت کی پشتو کی کتاب سے موجودہ دور کے مسائل کا باب خارج کیا جا رہا ہے۔</div>
<div class="urdutext">قومی روزناموں میں چھپنے والی اطلاعات کے مطابق جماعت اسلامی نے مخلوط حکومت کا حصہ بننے سے قبل تعلیم کی وزارت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن تحریک انصاف کی قیادت نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ لالٹین تحقیق کے مطابق جماعت اسلامی کی جانب سے گزشتہ ایک برس کے دوران جماعت اسلامی کی جانب سے نصاب میں تبدیلی کے لئے حکومت پر دباو میں اضافہ ہوا ہے،“جماعت اسلامی کے حکومت میں آنے کے بعد سے اب تک اسلامی جمعیت طلبہ کو مضبوط کرنے کا سلسلہ جاری ہے، اور گزشتہ ماہ ان کے کارکنان نے نصاب میں موجود مواد کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کئے تھے۔ جماعت اسلامی ہمیں پھر ضیاء دور میں دھکیلنا چاہتی ہے۔” پشاور یونیورسٹی میں عوامی نیشنل پارٹی سے وابستہ نوجوان نورولی نے لالٹین سے بات کرتے ہوئے کہا۔ مقامی سطح پر اسلامی جمعیت طلبہ کے رفیق احتشام الحق کا کہنا تھا کہ نصاب سے غیر اسلامی مواد نکالنے اور قرآنی آیات شامل کرنے کے لئے احتجاج کیا گیا ہے،“پچھلی حکومت نے اپنے سیکولر ایجنڈے کو بڑھانے کے لئے نصاب میں غیر اسلامی مواد شامل کیا تھا جسے اب نکالا جا رہا ہے، یہ ہمارے منشور کا حصہ ہے اور اسی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے لوگوں نے ہمیں ووٹ دیے ہیں۔” جماعت اسلامی کے صوبائی امیر پروفیسر ابراہیم کے مطابق نصاب میں تبدیلی کے لئے احتجاج مئی میں شروع کیا گیا تھا اور ستمبر میں اس میں شدت لائی گئی تھی۔<br>
“جس نصاب کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے وہ 2013 میں تیار کیا گیا تھا اور ابھی تک نافذ نہیں کیا گیا لیکن موجودہ حکومت چاہتی ہے کہ وہ اس نصاب کو ازسرنو مرتب کرے ۔” خیبر پختونخواہ کے ڈائریکٹوریٹ برائے نصاب سے وابستہ ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر لالٹین کو بتایا،” اٹھارہویں ترمیم کے بعد نصاب سازی کا کام اب صوبوں کی ذمہ داری ہے تاہم نصاب ابھی بھی وفاق کی ہدایات کی روشنی میں ہی بنایا جاتا ہے اور وفاقی اداروں کی منظوری سے نافذ کیا جاتا ہے۔”</div>
<div style="font-family: nafeesregular; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"><strong>قومی ہیروز کا سوال</strong></div>
<div class="urdutext">عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت میں باچا خان ، غنی خان، غیر مسلم سائنسدانوں اور راجہ داہر سے متعلق مواد کی شمولیت کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن جماعت اسلامی اس کی بجائے سید ابوالاعلیٰ مودودی اور قاضی حسین احمد سمیت اسلامی سپہ سالاروں سے متعلق مواد کی شمولیت کی خواہش مند ہے۔ شدت پسندی سے متاثرہ پاکستان میں قومی ہیروز کا سوال متنازعہ ہے،“قومی ہیرو کون ہوگا کون نہیں اس کا فیصلہ سیاسی قیادت کرتی ہے اور چوں کہ سیاسی قیادت شدت پسندی اور مذہبی انتہا پسندی سے متعلق مختلف نقاط ہائے نظر کی حامل ہے اس لئے یہ معاملہ متنازعہ ہے، حتیٰ کہ قائڈ اعظم اور علامہ اقبال کی زندگی کا کون سا رخ دکھانا ہے یہ بھی ابھی تک طے نہیں کیا جا سکا۔ ” ایک نجی</div>
<div class="leftpullquote">جماعت اسلامی کے حالیہ احتجاج کے دوران نصابی کتب میں دوپٹے کے بغیر نسوانی تصاویر اور انگریزی زبان میں سلام دعا پر بھی اعتراضات کئے گئے ہیں اور حکومت پر دباو ڈالا گیا ہے کہ وہ ایسے مواد کو نصاب سے خار ج کرے۔</div>
<div class="urdutext">یونیورسٹی سے وابستہ لیکچرر رضا رحیم کے مطابق اس وقت ضرورت ہے کہ نصاب سے متعلق نئی ترجیحات طے کی جائیں،” جو نصاب ضیاء دور میں بنایا گیا تھا اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں اب اگر دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو نصاب کو پاکستان کے مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے ترتیب دینا ہوگا۔یہ سوچنا ہو گا کہ ہم آج سے بیس یا پچاس برس بعد کیسا پاکستان چاہتے ہیں۔”</div>
<div style="font-family: nafeesregular; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"><strong>“یہ شدت پسندی اور برداشت کے درمیان جنگ ہے”</strong></div>
<div class="urdutext">ماہر تعلیم سلیم سرور کا کہنا تھاکہ خیبر پختونواہ میں نصاب کی تبدیلی کا معاملہ قومی سطح پر شدت پسندی سےمتعلق بیانیہ کا مسئلہ ہے ،“یہ شدت پسندی سے متعلق قومی سطح کے بیانیہ کا مسئلہ ہے، میرے نزدیک یہ معاملہ شدت پسندی اور برداشت کے درمیان جنگ کا ہےلیکن تعلیمی نصاب کو ایک سیاسی مسئلہ بنانے کے باعث نصاب تعلیم متنازعہ ہو چکا ہے۔“تعلیم سے متعلق ایک نجی این جی او سے وابستہ سلیم سرور کے مطابق نصاب کو غیر سیاسی بنیادوں پر ترتیب دیا جانا چاہئے،“جماعت اسلامی ہمیشہ سے نصاب تبدیل کرنے پرزور دیتی آئی ہے تاکہ وہ اپنے سیاسی ایجنڈا کو آگے بڑھا سکے تو یہ بھی ایک ایسی ہی کوشش ہے، لیکن اگر یہ کوشش کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان کے مستقبل پر بہت گہرے ہوں گے۔”<br>
جماعت اسلامی کے حالیہ احتجاج کے دوران نصابی کتب میں دوپٹے کے بغیر نسوانی تصاویر اور انگریزی زبان میں سلام دعا پر بھی اعتراضات کئے گئے ہیں اور حکومت پر دباو ڈالا گیا ہے کہ وہ ایسے مواد کو نصاب سے خار ج کرے۔ گزشتہ دور حکومت میں شدت پسندی میں کمی کے لئے جہاد سے متعلق مواد کو بھی خارج کیا گیا تھا جسے اب دوبارہ شامل کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں ضیاء دور حکومت کے دوران جماعت اسلامی کی خواہش پر جماعت کے سیاسی ایجندے سے مطابقت رکھنے والال نصاب ہر سطح پر نافذ کای گیا تھا جس سے پاکستان میں معیار تعلیم بری طرح متاثر ہوا ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%db%8c%db%81-%d8%b4%d8%af%d8%aa-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b4%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d9%86%da%af-%db%81/">یہ شدت پسندی اور برداشت کے درمیان جنگ ہے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%db%8c%db%81-%d8%b4%d8%af%d8%aa-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b4%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86-%d8%ac%d9%86%da%af-%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خود کو تقسیم نہ کرنا میرے سارے لوگو</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%af-%da%a9%d9%88-%d8%aa%d9%82%d8%b3%db%8c%d9%85-%d9%86%db%81-%da%a9%d8%b1%d9%86%d8%a7-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%84%d9%88%da%af%d9%88/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%af-%da%a9%d9%88-%d8%aa%d9%82%d8%b3%db%8c%d9%85-%d9%86%db%81-%da%a9%d8%b1%d9%86%d8%a7-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%84%d9%88%da%af%d9%88/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ایمن سلیم]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 27 Oct 2014 11:18:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=7681</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">جلسوں اور دھرنوں کے لئے چندہ اکٹھا کرنے والے کبھی سیلاب زدگان کے لئے امداد اکٹھی کیا کرتے تھے لیکن آج ان کے پاس فرصت نہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%af-%da%a9%d9%88-%d8%aa%d9%82%d8%b3%db%8c%d9%85-%d9%86%db%81-%da%a9%d8%b1%d9%86%d8%a7-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%84%d9%88%da%af%d9%88/">خود کو تقسیم نہ کرنا میرے سارے لوگو</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">دکھ ہے کہ جس جماعت اور قیادت سے مجھ سمیت سبھی نوجوانوں کو تبدیلی کی امید تھی اس نے ہمیں مزید تقسیم کر دیا ہے۔ روایتی سیاست خوہ کتنی ہی بری اور نگ آلود تھی اس میں ان قومی اقدار کا پاس ضرور تھا جن کےتحت کچھ دن، چند تہوار اور بعض مواقع سیاست اور مفادات سے بالاتر تھے، جب سبھی لوگ ایک ہو کر سبھی اختلافات بھلا کر اکٹھے بیٹھتے تھے اور ایک دوسری کی مدد کرتے تھے۔ 14 اگست 2014 پاکستانی تاریخ کا سیاہ ترین یوم آزادی لگنے لگا ہے کیوں کہ اس کے بعد سےحکومت اور حزب اختلاف کی سیاست سے یوں لگتا ہے کہ ہم سب ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور ہم سب کو کسی اور کی کوئی پرواہ نہیں۔ہمیں احساس دلایا جارہا ہے کہ ہماری جماعت اور ہماری رہنما کے سوا سبھی ہیں یا شرپسند ۔ اس برس کے یوم آزادی پر ہونے والے انقلاب اور آزادی مارچ نے 1947 کے اُس جذبے کو متنازعہ بنا دیا ہے جس کے تحت یوم آزادی کے روز قومیتیں، ثقافتیں، برادریاں، مسلک اور فرقے بھلا کر ملی نغمے گائے جا سکتے تھے، جھنڈیاں لگائی جا سکتی تھیں اور یہ سوچے بغیر کے کون کس جماعت یا رہنما کا حامی سب ایک جگہ بیٹھ سکتے تھے۔</div>
<div class="leftpullquote">47 کے فسادات میں مرنے والے کیا دھاندلی سے منتخب ہوئے تھے یا گونواز گو کے نعرے لگا کر سرحد پار کررہے تھے ؟ موجودہ سیاسی قیادت کیا یہ چاہتی ہے کہ عید کی خوشی اور محرم کا سوگ نواز شریف اور عمران خان کے ووٹر علیحدہ علیحدہ منائیں؟</div>
<div class="urdutext">سیلاب کی تباہی ہو یا وزیرستان آپریشن سے بے گھر ہونے والے افرادکا المیہ، دھرنوں اور جلسے جلوسوں نے ہر دکھ اور سکھ متنازعہ بنادیا ہے، ہمارے مشترکہ مسائل کو تقسیم اور ہمیں منتشر کردیاہے۔ ایک چودہ اگست دھرنے اور نئے پاکستان کا تھا اور ایک پرانے پاکستان کا، اس برس پہلی بار سیلاب کا دکھ “گونواز گو“اور “گو عمران گو” والوں کے لئے مختلف ہو چکا تھا، ایک جانب جمہوریت بچانے والوں کی عید تھی تو دوسری جانب جمہوریت گرانے والوں کی۔ کیا حضرت ابراہیم علیہ سلام اور امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی قربانیاں بھی تحریک انصاف ، عوامی تحریک ، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ میں بانٹ کریاد کی جانی چاہئیں تھی؟47 کے فسادات میں مرنے والے کیا دھاندلی سے منتخب ہوئے تھے یا گونواز گو کے نعرے لگا کر سرحد پار کررہے تھے ؟ موجودہ سیاسی قیادت کیا یہ چاہتی ہے کہ عید کی خوشی اور محرم کا سوگ نواز شریف اور عمران خان کے ووٹر علیحدہ علیحدہ منائیں؟ کیا اب اختلاف رائے کا مطلب یہ ہے کہ قومی تہواروں اور قومی اہمیت کے معاملات کو بھی اپنے اپنے مفادات کے تحت دیکھا جائے ؟<br>
گیارہ لاکھ لوگ کھلے آسمان تلے ہیں لیکن اب کیمرے ان کی طرف نہیں ہیں، ہزارہ اور اہل تشیع چن چن کے مارے جارہے ہیں مگر کسی قلم سے ان کی آہ و بکا ٹپکتی سنائی نہیں دے رہی، جن کے گھر چناب کا پانی بہا لے گیا تھا کوئی ہاتھ ان کے لئے آگے نہیں بڑھا۔ دکھ اس بات کا ہے جلسوں اور دھرنوں کے لئے چندہ اکٹھا کرنے والے کبھی سیلاب زدگان کے لئے امداد اکٹھی کیا کرتے تھے لیکن آج ان کے پاس فرصت نہیں۔</div>
<div class="leftpullquote">خداراہمارے دکھ سکھ، ریتی رواج، تہوار اور تقریبات سے سیاست کو باہر رکھئے تاکہ ہم ووٹ ڈالنے، احتجاج کرنے، جلوس نکالنے، تنقید کرنے اور دھرنے دینے کے بعد بھی ایک ہی پاکستان کے شہری رہیں، ایک ساتھ بیٹھ کر زندگی گزار سکیں اور اپنے پاکستانی ہونے پر ایک ساتھ فخر کر سکیں۔</div>
<div class="urdutext">حالیہ احتجاجی سیاسی تحریک اور موجودہ حکومت نے محروم لوگوں کے احساس محرومی میں اضافہ کیا ہے ،پنجاب کی سیاست باقی سبھی صوبوں کی سیاست پر کبھی اس قدر حاوی نہ تھی جتنی آج ہے، چھوٹے صوبوں کے مسائل کو جس طرح نظر انداز کیا گیا ہے وہ وفاق کے لئے دورس خطرات کا باعث بن رہا ہے۔ سندھیوں، مہاجروں، قبائیلیوں، پشتونوں اور سب سے بڑھ کر بلوچوں کی بات کرنے والا کوئی نہیں ہے، نہ حکومت، نہ حزب اختلاف اور نہ ہی احتجاج کرنے والے۔ اس بری طرح سے تمام چھوٹے صوبوں کو نظرانداز کردیا گیا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ پاکستان پنجاب ہے جس کا دالحکومت ڈی چوک ہے۔یہ برس ایسا سیاہ برس ہے جس کے دوران ہر آفت ہر مصیبت اور ہر ظلم محض ایک خبر ہے جس کے لئے ہر رہنما مخالف رہنما کو ذمہ دار قرار دے رہا ہے۔ کیا کشمیریوں کی حمایت کے لئےلندن میں نکالے گئے ملین مارچ میں گو بلاول گو کے نعروں سے ہندوستان پر دباو ڈالا جا چکا ہے کہ وہ اپنے مظالم بند کرے٫ نیویارک میں اقوام متحدہ کے دفاتر کے سامنے گو نواز گو کے نعروں سے پاکستان کی عالمی تنہائی دور ہو چکی ہے؟ کیا سیلاب زدگان کے سامنے دھرنا مخالف تقریروں سے متاثرین کے گھر تعمیر ہو گئے ہیں؟وہ مواقع جب وزیرستان کے بے گھر افراد، سیلاب متاثرین اور کشمیری خبروں میں آنے چاہئے تھے، جب سبھی سیاسی جماعتوں، رہنماوں اور کارکنوں کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر پاکستان کی سالمیت اور وجود کی جنگ لڑنے والی فوج اور بے گھر ہونے والے افراد کے ساتھ کھڑے ہونا تھا تب پہلی بار پاکستان اس قدربے حس اور لاتعلق نظر آیا۔ ہم جو ہر مشکل وقت پر اختلافات بھلا کر ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تھے اب ہمیں کیوں اپنے سوا کسی اور جماعت، رہنما یا شہری کا خیال نہیں رہا۔<br>
کیا عمران خان صاحب بھول گئے ہیں کہ شوکت خانم کے لئے ہر پاکستانی نے چندہ دیا تھا، کیا نوازشریف کو یاد نہیں کہ قرض اتارو ملک سنوارو مہم کے لئے ہر پاکستانی آگے آیا تھا، کیا سوات متاثرین اور کشمیر زلزلہ کے متاثرین کے لئے ہر گلی محلہ سے عطیات اکٹھے نہیں ہوئے تھے؟ پھر کیا وجہ ہے کہ آج ہر کوئی اپنے اپنے کان اور آنکھیں بند کئِے محض حکومت گرانے یا بچانے میں لگا ہوا ہے؟ ان متاثرین اور بے گھرافرادکے لئے، اقلیتوں اور چھوڑے صوبوں کے لئے آج قومی سطح پر نہ مدد کرنے کا جذبہ ہے اور نہ سہارا دینے کا خیال، نہ تو کوئی مرہم رکھنے کو تیار ہے اور نہ ہی کسی کو دکھ سکھ بانٹنے کی فرصت ،پرواہ ہے تو استعفوں کی اور فکر ہے تو اگلے انتخابات کی۔ اس برس کے یوم آزادی سے اب تک تقسیم، انتشار اور تنازعات کے سوا کوئی تبدیلی نہیں آئی، سوائے اس کے کہ وہ مواقع جو اکٹھے مل بیٹھنے کی وجہ بنتے تھے سیاسی مفادات حاصل کرنے کا ذریعہ بن چکے ہیں ہمارے ہاتھ اور کچھ نہیں آیا۔ کوئی انقلاب اس کے علاوہ نہیں آیا کہ اب سبھی کے چہروں پر کالک اور سبھی کے دامن داغدار نظر آنے لگے ہیں، تنقید کا جواب گالی اور اختلاف کے بعد احتجاج سے مسائل حل نہیں ہوئے بڑھے ہیں۔خداراہمارے دکھ سکھ، ریتی رواج، تہوار اور تقریبات سے سیاست کو باہر رکھئے تاکہ ہم ووٹ ڈالنے، احتجاج کرنے، جلوس نکالنے، تنقید کرنے اور دھرنے دینے کے بعد بھی ایک ہی پاکستان کے شہری رہیں، ایک ساتھ بیٹھ کر زندگی گزار سکیں اور اپنے پاکستانی ہونے پر ایک ساتھ فخر کر سکیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%af-%da%a9%d9%88-%d8%aa%d9%82%d8%b3%db%8c%d9%85-%d9%86%db%81-%da%a9%d8%b1%d9%86%d8%a7-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%84%d9%88%da%af%d9%88/">خود کو تقسیم نہ کرنا میرے سارے لوگو</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%af-%da%a9%d9%88-%d8%aa%d9%82%d8%b3%db%8c%d9%85-%d9%86%db%81-%da%a9%d8%b1%d9%86%d8%a7-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%b1%db%92-%d9%84%d9%88%da%af%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آ گئی ہے</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c-%d8%a2-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%81%db%8c%d8%8c-%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c-%d8%a2-%da%af%d8%a6%db%8c-%db%81%db%92/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c-%d8%a2-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%81%db%8c%d8%8c-%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c-%d8%a2-%da%af%d8%a6%db%8c-%db%81%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ایمن سلیم]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 13 Oct 2014 10:32:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=7542</guid>

					<description><![CDATA[<p>ایک ماہ سے زائد عرصہ چلنے والے سیاسی بحران سے معیشت ، جمہوریت اور ریاستی اداروں کو پہنچنے والے نقصان اور ذرائع ابلاغ کے متنازعہ اور تقسیم ہونے جیسی منفی پیش ہائے رفت سے قطع نظر ،عمران خان اور طاہر القادری کی وجہ سے پاکستانی جمہوریت اور سیاست ہمیشہ کے لئے تبدیل ہو چکے ہیں۔ [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c-%d8%a2-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%81%db%8c%d8%8c-%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c-%d8%a2-%da%af%d8%a6%db%8c-%db%81%db%92/">تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آ گئی ہے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">ایک ماہ سے زائد عرصہ چلنے والے سیاسی بحران سے معیشت ، جمہوریت اور ریاستی اداروں کو پہنچنے والے نقصان اور ذرائع ابلاغ کے متنازعہ اور تقسیم ہونے جیسی منفی پیش ہائے رفت سے قطع نظر ،عمران خان اور طاہر القادری کی وجہ سے پاکستانی جمہوریت اور سیاست ہمیشہ کے لئے تبدیل ہو چکے ہیں۔ تبدیلی اور انقلاب کے نعروں کا اثر معاشرے کی ایک بڑی اکثریت نے قبول کیا ہے اور اپنے طور پر اس پر رد عمل کا اظہار بھی کیا ہے، مختلف طبقات کی جانب سے سیاسی اجتماعات میں شرکت کے ذریعہ اپنی سیاسی رائے کا اس قدر کھل کر اظہار کرنا ایک ایسا عمل ہے جو پاکستانی سیاست کو ایک نیا رخ دے چکا ہے۔عمران خان کا یہ کہنا کہ استعفٰی تو نہیں ملا مگر قوم جاگ گئی ہے بہت حد تک درست ہے اور اس بحران کے اثرات میں سب سے مثبت پہلو یہی ہے ۔</div>
<div class="leftpullquote">تبدیلی اور انقلاب کے نعروں کا اثر معاشرے کی ایک بڑی اکثریت نے قبول کیا ہے اور اپنے طور پر اس پر رد عمل کا اظہار بھی کیا ہے، مختلف طبقات کی جانب سے سیاسی اجتماعات میں شرکت کے ذریعہ اپنی سیاسی رائے کا اس قدر کھل کر اظہار کرنا ایک ایسا عمل ہے جو پاکستانی سیاست کو ایک نیا رخ دے چکا ہے۔</div>
<div class="urdutext">حالیہ بحران نے معاشرے کے ان طبقات کو سیاست کی جانب متوجہ کیا ہے جو سیاست سے دور رہتے ہوئے یہ سمجھتے تھے کہ پاکستان کچھ بھی تبدیل نہیں ہو سکتا، جن کے خیال میں ایک عام آدمی کبھی بھی تبدیلی نہیں لا سکتا تھا اور جن کے نزدیک موجودہ جمہوریت محض خاندانی سیاست کرنے والوں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے لئے تھی۔ تحریک انصاف اور طاہر القادری نے ایک عام متوسط طبقہ کے پڑھے لکھے نوجوان کو یہ امید دلائی ہے کہ وہ بھی سیاست میں آ کر تبدیلی کا حصہ بن سکتے ہیں۔ عمران خان اور طاہر القادری تبدیلی لانے یا اگلے انتخابات میں حکومت بنانےمیں کامیاب نہ بھی ہوئے تو وہ سیاست میں ایک ایسے نوجوان طبقہ کو سامنے لانے کا باعث ضرور بنیں گے جو آگے چل کر قیادت سنبھال سکتا ہے۔ یہ طبقہ بلدیاتی انتخابات میں مزید ابھر کر سامنے آسکتا ہے اور اگلے انتخابات میں ان جماعتوں کی جیت میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔<br>
بحران کے نتیجہ میں بے تحاشا امکانات سامنے آئے ہیں جو پاکستان میں حقیقی تبدیلی کی بنیاد بن سکتے ہیں، اور کارکردگی دکھانے والی کوئی بھی جماعت ملک اور اپنا سیاسی مستقبل محفوظ کر سکتی ہے ۔کرپشن، ناہلی اور وی آئی پی کلچر کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت کا لوگوں میں پیدا ہونا ایک ایسی سول سوسائٹی کو جنم دے سکتا ہے جو انسانی حقوق کی فراہمی کے لئے آَئندہ حکومتوں پر دباو ڈالنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ ایسے والدین جو اپنے بچوں کو سیاست سے دور رکھنا چاہتے تھے اب خود اپنے بچوں کے ہمراہ جلسوں اور دھرنوں میں شرکت کر رہے ہیں جس سے لوگوں میں تبدیلی کی خواہش کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔<br>
تحریک انصاف اور عوامی تحریک کا فوج میں موجود بعض عناصر کی پشت پناہی سے پارلیمان کی جانب بڑھنا ایک شرمناک عمل تھا اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اب بھی دونوں رہنما قبل از وقت انتخابات کے لئے عوامی اشتعال کے ذریعہ فوج اور عدلیہ پر مداخلت کے لئےدباو ڈالنا چاہتے ہیں اور کوئی غیر آئینی راستہ اختیار کرنے سے گریز نہیں کریں گے، مگر دونوں جماعتوں نے سیاسی اور جمہوری نظام میں جن خامیوں کی نشاندہی کی ہے ان پر عوامی بحث کا آغاز ایک خوش آئند عمل ہے۔ دھرنوں کے اختتام پر جلسوں کے انعقاد کا سلسلہ نظام سے لوگوں کی مایوسی کا غماز ہے جو اب نظام میں تبدیلی سے زیادہ نظام چلانے والوں اور نظام چلانے کے طریقہ کار میں تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ اس سے قبل خاندانی وابستگیوں کی بنیاد پر ووٹ دینے والاشہری علاقوں کا پڑھا لکھا طبقہ اور دیہی علاقوں کے نوجوان بھی اب اس نظام میں اپنی رائے کے اظہار اور اقتدار میں شراکت کے مواقع طلب کر رہے ہیں ۔ تحریک انصاف کو گزشتہ انتخابات میں ملنے والا ووٹ بنک اور جلسوں میں ملنے والی حمایت پاکستان میں سیاست اور نظام کے ہمیشہ کے لئے بدل جانے کی نشاندہی کر رہے ہیں، لوگ اب ذات، برادری، مسلک اور خاندانی وابستگی کی بجائے خوشحالی اور ترقی کو ووٹ دینا چاہتے ہیں ۔ یہ طبقہ کل کلاں تحریک انصاف کی ناکامی کی صورت میں کسی اور جماعت کو موقع دینے پر بھی تیار ہوگا جو خاندانی اور موروثی سیاست کے خاتمہ کی جانب اس بحران کے نتیجہ میں سامنے آنے والی ایک اہم پیش رفت ہے ۔</div>
<div class="leftpullquote">تحریک انصاف کو گزشتہ انتخابات میں ملنے والا ووٹ بنک اور جلسوں میں ملنے والی حمایت پاکستان میں سیاست اور نظام کے ہمیشہ کے لئے بدل جانے کی نشاندہی کر رہے ہیں، لوگ اب ذات، برادری، مسلک اور خاندانی وابستگی کی بجائے خوشحالی اور ترقی کو ووٹ دینا چاہتے ہیں۔</div>
<div class="urdutext">حالیہ بحران نے پارلیمان کی اہمیت میں بھی اضافہ کیا ہے، گوتحریک انصاف اور عوامی تحریک نے عوام کو پارلیمان اور منتخب حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسایا تھا لیکن عوام کی اکثریت نے ایسے کسی اقدام کی حمایت سے انکار کیا ہے اور کسی بھی غیرآئینی تبدیلی کو ناپسند کیا ہے۔ خصوصاً جاوید ہاشمی کی قربانی نے یہ ثابت کیا ہے کہ اب کوئی بھی جماعت غیرآئینی اقدام کی حمایت کرے گی تو اسے اپنے اندر سے بغاوت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار فوج کے آنے کے تمام راستے مسدود کر دیے ہیں اور منتخب حکومتوں کوآئینی راستے کے ذریعہ تبدیل کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ خصوصاً پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی نے جس طرح پارلیمان کی مضبوطی اور محاذ آرائی کے خاتمہ کے لئے کردار ادا کیا ہے وہ ایک خوش آئند امر ہے۔ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کو یہ واضح پیغام مل چکا ہے کہ نادیدہ ہاتھوں کی بجائے تبدیلی ووٹ سے ہی آئے گی یہی وجہ ہے کہ طاہر القادری صاحب نے بھی انتخابی سیاست کا اعلان کر دیا ہے اور تحریک انصاف بھی 2018 سے قبل انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے، تاہم تمام جماعتوں پر واضح ہو چکا ہے کہ فوج یا عدلیہ کے ذریعہ حکومت کی تبدیلی ممکن نہیں، حکومت کی تبدیلی آئینی حدود میں رہتے ہوئے پارلیمان یا انتخابات کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ گوکہ احتجاجی جماعتیں اس کوشش میں ہیں کہ وہ ایسے حالات پیدا کریں کہ انتخابات کا 2018 سے قبل انعقاد یقینی بنایا جا سکے لیکن ایسے حالات میں بھی مظاہروں اور ہڑتالوں سے تبدیلی لانے کی کوشش کی حمایت دیگر جماعتوں سے ملنا مشکل ہو جائے گا۔ جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کی جانب سے طاقت کے ذریعہ تبدیلی لائے جانے کی مخالفت کے باعث صرف تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے جلسوں کی بنیاد پر انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ مشکل ہو جائے گا۔<br>
مسلم لیگ نواز کی حکومت اور تحریک انصاف کے دوران معاملات افہام و تفہیم کے ذریعہ حل کرانے میں جماعت اسلامی اور سراج الحق صاحب کا کردار قابل ستائش ہے۔ جماعت اسلامی نے اپنے مذہبی نظریات اور ماضی میں فوج کی پشت پناہی کے باوجود پارلیمانی جمہوریت کے دفاع کے لئے جو کردار ادا کیا ہے وہ یقیناً جماعت اسلامی کی سیاست میں ایک جمہوری تبدیلی کا عکاس ہے۔جماعت اسلامی اپنے گزشتہ امیر کے عہد میں ہونے والی رسوائی کے داغ دھونے میں کامیاب ہو چکی ہے اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے زیادہ جمہوری فکر اختیار کر چکی ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی نظریاتی جماعتوں میں یہ تبدیلی آ چکی ہے کہ انہیں اپنے نظریات کے نفاذ کے لئے جمہوری جدوجہد کا راستہ اختیار کرنا ہوگا،اور اقتدار میں آنے کے لئے غیر آئینی تبدیلی کی گنجائش نہیں رہی ۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں روایتی، نظریاتی اور موروثی سیاست کا دور ختم ہو چکا ہے۔ ایک مضبوط متوسط طبقہ کی موجودگی میں نہ اشتراکی انقلاب ممکن ہے اور نہ ہی مسلح جدوجہد یا عسکری آمریت کی گنجائش باقی رہی ہے، تمام جماعتوں کا روایتی ووٹ بنک سکڑچکا ہے اور اب زیادہ تر ووٹر کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ ڈالنے کا رویہ اختیار کر چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے ووٹر بھی اب معاشی کارکردگی اور شہری سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔</div>
<div class="leftpullquote">ایک مضبوط متوسط طبقہ کی موجودگی میں نہ اشتراکی انقلاب ممکن ہے اور نہ ہی مسلح جدوجہد یا عسکری آمریت کی گنجائش باقی رہی ہے، تمام جماعتوں کا روایتی ووٹ بنک سکڑچکا ہے اور اب زیادہ تر ووٹر کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ ڈالنے کا رویہ اختیار کر چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے ووٹر بھی اب معاشی کارکردگی اور شہری سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔</div>
<div class="urdutext">بعض تجزیہ نگاروں کے خیال میں مسلم لیگ نواز کی حکومت اس بحران سے کم زور ہوئی ہے تاہم میرے نزدیک مسلم لیگ نواز کے پاس اس وقت ایک ایسا موقع ہے کہ وہ نظام میں اصلاحات اور عوامی فلاح کے میدان میں اپنی کارکردگی کے ذریعہ اگلے انتخابات میں بھی اپنی حکومت یقینی بنا سکتی ہے۔ دھرنوں کی ناکامی سے ثابت ہوتا ہےکہ انتخابی دھاندلی کا مسئلہ پس منظر میں چلا گیا ہے اور عوام کی محرومیوں کا مسئلہ ابھر کر سامنے آیا ہے جس کے خلاف احتاجج کو عوامی حمایت بھی حاصل ہے۔ تحریک انصاف کے جلسوں میں عوامی شمولیت پی ٹی آئی سے نظریاتی وابستگی کی بجائے بجلی کی لوڈ شیڈنگ، بے روزگاری اور شہری سہولیات کی عدم فراہمی کے اس تسلسل کی وجہ سے ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ حکومت کے پاس موقع ہے کہ وہ وسائل کا رخ سڑکوں اور پلوں سے صحت، تعلیم اور سرمایہ کاری کے لئے سازگار ماحول کی فراہمی کی جانب موڑ سکتی ہے۔ حکومت پر اب کارکردگی دکھانے کا دباو ہے اور اب احتجاجی مظاہروں کی شدت میں کمی لانے کے لئے عوام کو ریلیف دیا جانا ہی واحد راستہ ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c-%d8%a2-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%81%db%8c%d8%8c-%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c-%d8%a2-%da%af%d8%a6%db%8c-%db%81%db%92/">تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آ گئی ہے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c-%d8%a2-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%81%db%8c%d8%8c-%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c-%d8%a2-%da%af%d8%a6%db%8c-%db%81%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
