ہنگامہ ہے کیوں برپا، تھوڑی سی جو پی لی ہے۔۔۔۔!۔

ajmal-jamiسنکی کہیں کے۔۔!! عقل گھاس چرنے چلی گئی ہے ان کی۔۔!! دلوں پر قفل ڈال دئیے گئے ہیں ان منحوسوں کے۔۔!! کہتے ہیں ناظمین کے کمروں سے پستول کی گولیاں اور شراب کی خالی بوتلیں برآمد ہوئی ہیں۔! اور سنو۔۔!! بہتان تراشی کی انتہا دیکھو ذرا۔۔ وہ ذہنی طور پر کھسکا ہوا لبرل سیکولر اور مرتد پروفیسر کہتا ہے کہ سولہ نمبر ہاسٹل کے فلاں فلاں کمرے سے شراب کی بوتلوں اور گولیوں کے علاوہ بھنگ اور تاش کے پتے بھی برآمد ہوئے ہیں۔۔
یہ عقل کا اندھا۔۔ خود اپنی بیوی کے ساتھ جوانی میں تاش کھیلا کرتا تھا اور وہ بھی اسی جامعہ کے سبزہ زاروں میں۔۔
کیا کہا۔۔؟ جمیعت کے کارکنوں نے وحدت روڈ پر بس نذر آتش کر دی؟
استغفراللہ۔!! ابے پروفیسر کے پٹھے تم ہوش میں تو ہو؟ ہم تو دہائیوں سے پیٹ رہے ہیں کہ یہ سب اسلام، پاکستان اور جمیعت کے خلاف یہود و نصاری اور بھارتیوں کی سازش ہے۔ جسکا واحد مقصد صرف اور صرف ہماری نیک نامی کو بدنام کرنا ہے۔ ہم تو جامعہ میں بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ ساتھ بسوں کے بھی محافظ ہیں۔۔الحمداللہ۔۔! مجال ہے جو کوئی بے غیرت کسی کی بہو بیٹی،یا کسی کی بس کو آڑھی ترچھی نظر سے بھی دیکھ پائے۔۔
ایک تو تم صحافی لوگ من گھڑت خبروں کے ساتھ فورا موقف لینے دوڑے آتے ہو۔۔۔ جہالت کی حد ہو گئی یعنی۔۔!!
پرتشدد احتجاج، جلاؤ گھیراؤ، مسافر بس نذر آتش، توڑ پھوڑ، اور سڑکوں کو بلاک کرنے کےالزام میں سو سے زائد طلبا پر دہشت گردی سمیت مختلف دفعات کے تحت تھانہ مسلم ٹاؤن میں چار جبکہ تھانہ نواب ٹاؤن میں ایک مقدمہ درج جب کہ درجنوں گرفتار بھی کر لیے گئے ہیں۔۔ اچھا۔۔؟؟ ہو گئی تمہاری اینکرنگ؟؟ اب ہم بولیں؟؟
ارے میاں۔۔!! یہ سب ناٹک ہے۔۔ اور تم لوگ بغض جمعیت میں فوراً ایسی خبریں شائع کر دیتے ہو۔ تعصب کی عینک ہٹاؤ تو تمہیں پتہ چلے کہ یہ معصوم طالب علم ہیں۔ جو حصول تعلیم کے سچے جذبے کے ساتھ صحراؤں ، تھلوں، دیہاتوں اور گوٹھوں سے جامعہ تک پہنچے ہیں۔۔ تم دیکھنا۔۔ جج صاحب انہیں پہلی پیشی پر ہی رہا کر دیں گے، انشاءاللہ۔۔
لیکن قبلہ۔۔ !! جامعہ کے ترجمان کہتے ہیں کہ ناظم جمیعت کے کمرے سے دہشت گرد برآمد ہو سکتے ہیں تو شراب اور بھنگ کا برآمد ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔ ہاں ناں!! ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہے یہ ترجمان۔۔ بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے۔۔ یہ کونسی کوئی بڑی بات ہے۔۔ ساتھی بھائیوں نے یقینا یہ بوتلیں کسی حرام خور کے کمرے پر چھاپے کے دوران برآمد کی ہوں گی۔۔ اور ریکارڈ کے طور پر ناظم جامعہ کے ہاں رکھوا دی ہوں گی۔۔ کیونکہ بھئی جمعیت میں احتساب کا عمل بہت کڑا ہے۔۔ الحمداللہ ۔
لیکن قبلہ ! ترجمان کہتے ہیں کہ ماضی میں بھی جمعیت کے کارکنان کے کمروں سے منشیات اوردیگر غیر قانونی اور غیر اخلاقی اشیاء برآمد ہوتی رہتی ہیں۔ اور جمعیت کا یہی روپ ہے کہ مذہبی کتابیں الماریوں میں اور شراب وغیرہ کپڑوں کے اندر چھپا کر رکھتے ہیں۔
کیا مطلب۔۔ وٹ ڈو یو مین بائے غیر اخلاقی اشیا۔۔؟؟ صریحا لغو بکتا ہے یہ ترجمان۔۔ دین کی توہین کا مرتکب ہے یہ دہریہ۔۔ یعنی جمعیت کے لٹریچر کو غیر اخلاقی اشیا سے تشبہیہ دینا۔۔ استغفراللہ۔۔!! لا حول ولا قوۃ۔۔
اور تم بھی کان کھول کے سن لو۔۔ ایسے آپریشن اور جمیعت کو جامعہ سے نکال باہر پھینکنے کی سازش کبھی کامیاب نہیں ہو گی۔۔ اور دیکھ لینا۔۔ جمعیت کے یہی 'مجاہد ' 'کامران 'ٹھہریں گے۔
اور جہاں تک تعلق ہے ہاسٹل پر ناجائز قبضے کا۔۔ تو سنو۔۔ یہ طالب علم تو ہاسٹل میں رہتے ہی نہیں۔۔ جامعہ کے سبزہ زاروں میں رہتے ہیں، اپنی تعلیم تیاگ دیتے ہیں، صرف اس چیز پر نظر رکھنے کے لیے کہ گھر سے حصول علم کے لیے نکلنے والا کوئی بچہ کسی بچی کے ساتھ تو وقت ضائع نہیں کر رہا۔۔ یہ تو وہ جوان ہیں جو باقی طالب علموں کی صحت کا اتنا خیال رکھتے ہیں کہ جامعہ کی کینٹین کا کھانا کسی فوڈ انسپکٹر کی طرح مسلسل چیک کرتے رہتے ہیں۔۔ اور چیکنگ بھی اس قدر سخت کہ پیٹ بھر جائے پھر بھی کھاتے رہتے ہیں۔۔ کہ کوئی ایوننگ میں آنے والا طالب علم مضر صحت کھانا نہ کھا لے۔۔
کان کھول کے سنو۔۔ جامعہ کی ہر اینٹ میں جمعیت کے شہدا کا خون ہے، یہ ہماری جاگیر ہے، اماں جہیز میں لائی تھیں۔۔ اور بند کرو یہ شراب کی بوتلوں کا ڈرامہ۔۔ خوامخواہ ہنگامہ برپا کر رکھا ہے تم لوگوں نے۔۔ ابے !! حصول علم کے لیے نکلنا جہاد ہے۔۔ پھر کیا ہوا۔۔ کہ ان مجاہدین نے اس راہ میں "تھوڑی سی جو پی لی ہے۔۔"
اور میں سوچ رہا تھا ٹیپو کی تلوار ۔۔۔۔۔۔۔ خالد کی للکار ۔۔۔۔۔وحدت کا پرچار ۔۔۔۔۔عزم سے مالا مال ۔۔۔۔ ہمت، استقلال ۔۔۔۔۔ جئے ہزاروں سال ۔۔۔۔۔۔ اب فقط۔۔ 'تھوڑی سی جو پی لے ہے' جیسے 'صغیرہ گناہ' میں دھر لی جائے گی؟
نوٹ: (راقم الحروف نے اسی جامعہ سے آنرز اور ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے، یہی نہیں بلکہ فقیر کو چند ہفتوں کے لیے ناظمین ، رفقا اور ساتھیوں کی رفاقت کا شرف بھی حاصل رہا ہے۔ تحریر میں ترش بیانی کو پانی کی سی روانی عطا کرنے کے لیے قبلہ طارق متین کا خصوصی شکریہ)