نمبر

نمبر
ہر طرف اونچے گریڈوں کا شور ہے
انسان کھوگئے ہیں نمبروں کی دوڑ میں
مر بھی جائیں تو گویا صرف ایک نمبر کی موت ہے
ہزار دو ہزار جو مرتے تو کوئی قابل ذکر بات تھی
بھول گئے وہ پرانا سبق
ایک بھی قتل ناحق
اصل میں تمام انسانیت کا قتل ہے
بس یاد رہ گیا ہے
کروس ملٹی پلیکیشن کا شارٹ کٹ
چاہے وہ چارج شیٹ ہو یا
امتحان کی مارکس شیٹ
یا پھر
بے نام اجتماعی قبروں میں پڑیں لاپتا پیاروں کی باقیات