ایک تصویر زا نظم کا اسپیکٹروگرام
Category: شاعری

نظم کا اسپیکٹروگرام
دیواریں دروازوں سے باہر نکل آئی ہیں
راستے تنگ ہیں
اور قدموں کے نشان زیادہ
نیم دراز دھوپ کی ڈھلوانوں پر
اپنے ہی سایوں کو پھلانگتے ہوئے
منہ کے بل گر پڑنا
عین سچائی ہے انوکھا پن نہیں
کسی دیرینہ خواب کو دیکھتے ہوئے
آنکھوں کو پتا ہی نہیں چلتا
کہ ان کے سمندروں سے کتنا پانی نکل چکا ہے
دریا عبور کرنا آسان ہے
لیکن کنارے پر پاؤں رکھنا بہت مشکل
بستیوں کے نواح سے گزرتے ہوئے
تاریخ کے راستے
کھیتوں، چراگاہوں، انگور کے باغوں
اور عورتوں کے نشیب و فراز میں غائب ہو جاتے ہیں
نئی فصلیں تیار ہونے تک
موسم ملتوی ہوتے ہیں
فلسفے چند لوگوں کے لیے ہیں
اور موت سب کے لیے
کوئی نظم نہ لکھ سکنا
شاعر کا المیہ نہیں ہوتا
زندگی مرگِ مسلسل سے دوچار ہو
تو موت ایک گھسا پٹا لفظ بن کر رہ جاتی ہے
متروک دنوں کی آبیاری سے
بے دلی کی مشقت کے سوا کچھ نہیں اُگتا
اس سے پہلے کہ ہم حالتِ تنہائی میں
کسی نادیدہ ستارے سے دیکھ لیے جائیں
آؤ، ان کہنہ عمارتوں کے صدر دروازوں سے گزریں
جن پہ استادہ غلام روحیں
گرد و غبار سے اٹے جسموں
اور بھربھری ہڈیوں میں تبدیل ہو چکی ہیں
اور ہاتھ کے ایک اشارے سے
اپنے ہی قدموں میں گر پڑیں گی
بادلوں کے پنچھی
اور بارشوں کا دھواں
موسمیاتی سیارے کی دسترس سے اب زیادہ دُور نہیں!!
راستے تنگ ہیں
اور قدموں کے نشان زیادہ
نیم دراز دھوپ کی ڈھلوانوں پر
اپنے ہی سایوں کو پھلانگتے ہوئے
منہ کے بل گر پڑنا
عین سچائی ہے انوکھا پن نہیں
کسی دیرینہ خواب کو دیکھتے ہوئے
آنکھوں کو پتا ہی نہیں چلتا
کہ ان کے سمندروں سے کتنا پانی نکل چکا ہے
دریا عبور کرنا آسان ہے
لیکن کنارے پر پاؤں رکھنا بہت مشکل
بستیوں کے نواح سے گزرتے ہوئے
تاریخ کے راستے
کھیتوں، چراگاہوں، انگور کے باغوں
اور عورتوں کے نشیب و فراز میں غائب ہو جاتے ہیں
نئی فصلیں تیار ہونے تک
موسم ملتوی ہوتے ہیں
فلسفے چند لوگوں کے لیے ہیں
اور موت سب کے لیے
کوئی نظم نہ لکھ سکنا
شاعر کا المیہ نہیں ہوتا
زندگی مرگِ مسلسل سے دوچار ہو
تو موت ایک گھسا پٹا لفظ بن کر رہ جاتی ہے
متروک دنوں کی آبیاری سے
بے دلی کی مشقت کے سوا کچھ نہیں اُگتا
اس سے پہلے کہ ہم حالتِ تنہائی میں
کسی نادیدہ ستارے سے دیکھ لیے جائیں
آؤ، ان کہنہ عمارتوں کے صدر دروازوں سے گزریں
جن پہ استادہ غلام روحیں
گرد و غبار سے اٹے جسموں
اور بھربھری ہڈیوں میں تبدیل ہو چکی ہیں
اور ہاتھ کے ایک اشارے سے
اپنے ہی قدموں میں گر پڑیں گی
بادلوں کے پنچھی
اور بارشوں کا دھواں
موسمیاتی سیارے کی دسترس سے اب زیادہ دُور نہیں!!