نطشے کا خدا

میرا نام پکارو
میں ابھی زندہ ہوں
میرے زخم ابھی نشاں ہیں
خواہش ہستی کے پہلو پہ

 

میرا نام پکارو
میرے سامنے سب
وجود خود سربسجود ہے
اور امید آنکھیں بچھاتی ہے

 

میرا نام پکارو
میں آرزو کے صحرا
کی تپتی ریت پہ برہنہ پا
کھڑا ہوں تمھارے سامنے

 

میرا نام پکارو
کہ میں اکیلا ہوں
یکتائی کے سمندر میں
اور تمہیں کنارے پہ دیکھتا ہوں

 

میرا نام پکارو
میں وہ سچائی ہوں
جسے تمہارا جوش جنوں
غیب میں تلاش کرتا تھک جاتا ہے

 

میرا نام پکارو
نطشے __ میرا نام پکارو
ایک آخری بار مجھ سے بولو
میں تمہاری نظموں کا مضموں ہوں __نطشے