میں کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کر سکتا
Category: شاعری

میں کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کر سکتا
بیٹھے بٹھائے
بادلوں اور ہواؤں کے ساتھ چل پڑتا ہوں
اچھی بھلی دھوپ کے ہوتے ہوئے
بارشوں میں بھیگنے لگتا ہوں
بچوں کے ساتھ بچہ بن جاتا ہوں
اور ہنسی کھیل میں
رونے لگتا ہوں
اور سمندر آنکھوں کی بجائے جیبوں میں بھر لیتا ہوں
جانتے بوجھتے
عورتوں سے سچی محبت کرنے لگتا ہوں
دوستوں کے ایک میسج پر
خوامخواہ دروازہ کھول کر بیٹھ جاتا ہوں
دعوتوں میں
وقت سے پہلے پہنچ کر
میزبانوں کا استقبال کرتا ہوں
نئے کپڑوں پر سالن گرا دیتا ہوں
تصویریں بنواتے ہوئے
فوکس سے ہٹ کر ایک طرف بیٹھ رہتا ہوں
یا دوسروں کے لیے جگہ بناتے بناتے
خود فریم سے باہر ہو جاتا ہوں
دھکا پیل سے آگے بڑھنے کے بجائے
قطار میں اپنی باری کا انتطار کرتا ہوں
جو اکثر آئے بغیر گزر جاتی ہے
دورانِ گفتگو
مخاطب کا ایک لفظ سُن کر ساری بات سمجھ جاتا ہوں
اور بات پُوری ہونے سے پہلے بول پڑتا ہوں
چائے کی پیالی سامنے رکھ کر پینا
اور اپنی تعریف کرنے والے کی
تعریف کرنا بھول جاتا ہوں
اور تو اور شیو کرتے ہُوئے
نظم لکھنے لگتا ہوں!
بادلوں اور ہواؤں کے ساتھ چل پڑتا ہوں
اچھی بھلی دھوپ کے ہوتے ہوئے
بارشوں میں بھیگنے لگتا ہوں
بچوں کے ساتھ بچہ بن جاتا ہوں
اور ہنسی کھیل میں
رونے لگتا ہوں
اور سمندر آنکھوں کی بجائے جیبوں میں بھر لیتا ہوں
جانتے بوجھتے
عورتوں سے سچی محبت کرنے لگتا ہوں
دوستوں کے ایک میسج پر
خوامخواہ دروازہ کھول کر بیٹھ جاتا ہوں
دعوتوں میں
وقت سے پہلے پہنچ کر
میزبانوں کا استقبال کرتا ہوں
نئے کپڑوں پر سالن گرا دیتا ہوں
تصویریں بنواتے ہوئے
فوکس سے ہٹ کر ایک طرف بیٹھ رہتا ہوں
یا دوسروں کے لیے جگہ بناتے بناتے
خود فریم سے باہر ہو جاتا ہوں
دھکا پیل سے آگے بڑھنے کے بجائے
قطار میں اپنی باری کا انتطار کرتا ہوں
جو اکثر آئے بغیر گزر جاتی ہے
دورانِ گفتگو
مخاطب کا ایک لفظ سُن کر ساری بات سمجھ جاتا ہوں
اور بات پُوری ہونے سے پہلے بول پڑتا ہوں
چائے کی پیالی سامنے رکھ کر پینا
اور اپنی تعریف کرنے والے کی
تعریف کرنا بھول جاتا ہوں
اور تو اور شیو کرتے ہُوئے
نظم لکھنے لگتا ہوں!
Image: Teun Hocks