میں رات ہوں

میں رات ہوں
میں دن ہوں
جس میں اندھیروں کے سوا
کچھ نہیں

میں رات ہوں
جس میں لڑکیاں
رازوں کے سویٹر بُنتی ہیں

میں کتاب ہوں
جس میں ہیرا منڈی کی
درپردہ ثقافت لکھی ہے

میں قلم ہوں
جس سے بے گناہ قیدی کی
پھانسی لکھی گئی ہے

میں دیوار ہوں
جس پر 'نفرت ہمارا منشور'
نعرہ درج ہے

میں کریلے کی بیل ہوں
جو انجانے میں بوڑھے نیم پر
چڑھ گئی تھی

میں تلوار ہوں
جو بادشاہ کی کمر سے لٹکی
فیصلے کرتی ہے

میں 'خود کشی کا دعوت نامہ ہوں'
جسے ڈاکیے نے چپکے سے کھول کر پڑھا
اور مر گیا