مُفتِ خدا
Category: شاعری

مُفتِ خدا
خوابوں کی مُفت گاہ میں
نُظّار کا ہجوم ہے
تاریخ کے نام پر
قدیم جلوہ گاہوں،
نظریوں، عقیدوں اور فلسفوں کی
خرید و فروحت کُھلے بندوں جاری ہے
غلاموں اور کنیزوں کے ریوڑ ہانکے جا رہے ہیں
آقاؤں، پاشاؤں اور ملکاؤں کے ملبوساتی پیکر
ہر ٹی وی چینل کی اسکرین پر چمک رہے ہیں
قباچوں اور عباؤں کے درمیان
دلوں اور روحوں کی برہنگی پر کوئی قدغن نہیں
میں نہ ہوتے ہوئے بھی ہر کسی کو دکھائی دیتا ہوں
پورے لباس میں
میں چرا گاہوں کی گھاس ہوں
نہ بھیڑوں کی اون
میں ہوا کی طرح چلتا ہوں
اور خفیہ کیمروں کی زد میں آئے بغیر گزر جاتا ہوں
تارکول کی سڑکیں میرا کُھرکھوج محفوظ نہیں کرتیں
میرے فنگر پرنٹس وقت کی کسی دستاویز پر ثبت نہیں ہوتے
پھر بھی میرے ہاتھ کاٹ دیے جاتے ہیں
میرے جسم کی دیوار
زمین و آسمان کی حدوں سے تجاوز سمجھ کر گرا دی گئی ہے
میری بھوک کاغذی ہے
جو لفظوں کو دیکھ کر چمک اٹھتی ہے
میں قطار میں کھڑا، مفتِ خدا
میری باری آتے آتے
شاعری کی کھرچن بھی ختم ہو جاتی ہے
مجھے کھانے کا ٹوکن نہیں ملتا
میں آخری خواب سے بھوکا لوٹ آتا ہوں!
نُظّار کا ہجوم ہے
تاریخ کے نام پر
قدیم جلوہ گاہوں،
نظریوں، عقیدوں اور فلسفوں کی
خرید و فروحت کُھلے بندوں جاری ہے
غلاموں اور کنیزوں کے ریوڑ ہانکے جا رہے ہیں
آقاؤں، پاشاؤں اور ملکاؤں کے ملبوساتی پیکر
ہر ٹی وی چینل کی اسکرین پر چمک رہے ہیں
قباچوں اور عباؤں کے درمیان
دلوں اور روحوں کی برہنگی پر کوئی قدغن نہیں
میں نہ ہوتے ہوئے بھی ہر کسی کو دکھائی دیتا ہوں
پورے لباس میں
میں چرا گاہوں کی گھاس ہوں
نہ بھیڑوں کی اون
میں ہوا کی طرح چلتا ہوں
اور خفیہ کیمروں کی زد میں آئے بغیر گزر جاتا ہوں
تارکول کی سڑکیں میرا کُھرکھوج محفوظ نہیں کرتیں
میرے فنگر پرنٹس وقت کی کسی دستاویز پر ثبت نہیں ہوتے
پھر بھی میرے ہاتھ کاٹ دیے جاتے ہیں
میرے جسم کی دیوار
زمین و آسمان کی حدوں سے تجاوز سمجھ کر گرا دی گئی ہے
میری بھوک کاغذی ہے
جو لفظوں کو دیکھ کر چمک اٹھتی ہے
میں قطار میں کھڑا، مفتِ خدا
میری باری آتے آتے
شاعری کی کھرچن بھی ختم ہو جاتی ہے
مجھے کھانے کا ٹوکن نہیں ملتا
میں آخری خواب سے بھوکا لوٹ آتا ہوں!