مستنصر حسین تارڑ سے ایک شکوہ

مستنصر حسین تارڑ سے شکوہ
یہ وہ دور ہے
صبح دم جس میں بچوں کی خاطر
کوئی چاچا تارڑ ابھی ہست کے باغ میں سانس لیتے ہوئے بھی چہکتا نہیں
صبح "لپ ٹاپ " پہ
جنس آمیز آواز اور، شہوت انگیز ہونٹوں سے بدبخت خبریں سناتی ہوئی لڑکیاں اپنے بستر پہ رکھ کے میں دفتر کی تیاری کرنے لگا
باسِ بارُود کو ایک شاور سے جھاڑا کیا
ڈھانپتے ڈھانپتے اجلی وردی سے اپنا بدن
ناشتے کی طرف ہاتھ مائل کیا ہی تھا کہ
میری بیٹی کے ہونٹوں سے نکلا ہوا اک سوال آ گیا
تین سالہ دماغ سے نکلا ہوا تیر جیسا سوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" بابا جی پھانسی کیا ہے یہ کیوں ہوتی ہے؟"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور میں چائے کے ہمراہ کچھ پھانسیاں جلدی جلدی نگل کر اُٹھا
اُٹھ کے بیٹی کا بوسہ لیا
اور سوچا کیا
کہ
یہ وہ دور ہے
صبح دم جس میں بچوں کی خاطر
کوئی چاچا تارڑ ابھی ہست کے باغ میں سانس لیتے ہوئے بھی چہکتا نہیں

Image: PTV Gallery