Categories
شاعری

مردہ انگلیوں کی وکٹری

سلمیٰ جیلانی: آنکھوں سے اب پانی نہیں 
زر انگار سکوں کی تھیلیاں ہر سمت میں   
برستی ہیں

قبر کی سیاہ تاریکی نے
 دن کی روشنی کو قتل کر دیا  
چوہے بلوں سے نکل کر 
دستاویز  
کے ساتھ وہ قلم بھی 
کتر گئے 
جن سے کبھی سچائی 
سنہرے لفظ لکھتی تھی 
انصاف کی دیوی نے 
مفاد کی چربی اندھی آنکھوں پر باندھی   
تو مردہ انگلیوں نے وکٹری کا نشان بنایا 
انسانیت کی مسخ لاش  سے 
خوں ٹپکنے لگا  
 ماں اور بہنیں چیختی رہیں 
 قصاص !!!
 جواں لہو کا 
مگر باپ نے 
عصمتوں کی دھجیوں کی سلائی 
 کی خاطر 
اسٹامپ پیپر ماتھے پر سجا لیا 
جس پر سونے کی تاروں سے
صلح لکھا تھا 
آنکھوں سے اب پانی نہیں 
زر انگار سکوں کی تھیلیاں ہر سمت میں   
برستی ہیں
دلوں سے کوئی دعا اوپر نہیں اٹھتی 
مایوسی کی کثیف دلدل کی
لجلجی بانہوں میں لپٹی پڑی ہے 
گلی کے بوڑھے برگد نے سورج کو فریاد بھیجی
ہچکیاں لیتے منتظر ہیں 
شائد کبھی اسے جلال آئے 
اور 
گھور اندھیرے کو جلاوطن کر دے

By سلمیٰ جیلانی

سلمیٰ جیلانی کا تعلق کراچی سے ہے، انہوں نے گورنمنٹ کامرس کالج کراچی میں بطور لکچرار آٹھ سال تک خدمات سرانجام دیں۔ 2001ء میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ نیوزی‌لینڈ مقیم ہو گئیں اور وہاں آک‌لینڈ یونیورسٹی سے ایم۔بزنس مکمل کیا۔ وہ وقتا فوقتا مختلف بین‌الاقوامی ثلاثی سطح کے تعلیمی اداروں میں پڑھاتی رہتی ہیں۔ افسانہ نگاری ان کا خاص شوق ہے اور ان کے افسانے معروف ادبی جرائد جیسا کہ فنون، شاعر، ادب لطیف، ثالث، سنگت اور پین‌سلپس میگزین اور بچوں کے میگزینز میں شائع ہوتے رہے ہیں، کیونکہ وہ بچوں کے لیے بھی کہانیاں لکھتی ہیں۔ وہ دنیا بھر سے شعراء کے کلام کو اردو میں ترجمہ کر چکی ہیں، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ترجمہ مختلف ثقافتوں کے درمیان پل ہوتا ہے اور انہیں قریب لے آتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *