قصور میں مسیحی جوڑے کے قتل پر لاہور میں احتجاج
Category: عکس و صدا


جمعرات، 6 نومبر کو لاہور میں مذہب کے نام پر اقلیتوں کے مارے جانے کے خلاف ترقی پسند حلقوں نے پرامن احتجاج کیا۔

یہ احتجاج گزشتہ روز ضلع قصور میں ایک محنت کش مسیحی جوڑے کو زندہ جلا دیے جانے کے ردعمل میں کیا گیا۔

ایک دن قبل قصور کے علاقے کوٹ رادھا کرشن میں بھٹہ مالک یوسف گجر نے مزدور شہزاد مسیح اور اس کی حاملہ بیوی کو تشدد کے بعد اینٹیں پکانے کی آگ میں جھونکوا دیا تھا۔

اس موقع پر عوامی ورکرز پارٹی کے سربراہ اور ممتاز قانون دان عابد حسن منٹو نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی کا مقابلہ پاکستان کی بڑی سیاسی پارٹیوں کی ترجیحات میں نہیں ہے۔

لاہور پریس کلب کے سامنے کیے گئے اس احتجاجی مظاہرے میں بائیں بازو کے کارکنوں کے علاوہ وکلاء، مزدوروں اور سماجی حلقوں کے افراد نے اقلیتوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

مظاہرین نے احتجاج اور علامتی واک کے دوران مذہبی اقلیتوں کے حق میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

پاکستان میں توہین مذہب کے قانون کی وجہ سے پھانسیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں گزشتہ تین عشروں کے دوران تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔