عافیت کہاں ہے؟

عافیت کہاں ہے؟
(حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں)
چلو آؤ، لوٹیں
کہ شام اب پچھل پیریوں کی طرح
خون کی پیاس سے چھٹپٹانے لگی ہے
ہوا کا سراپا
کسی خوف کی بھاری زنجیر سے خود کو باندھے ہوئے
لڑکھڑانے لگا ہے
گھروں کو چلیں
رات کا کالا عفریت ماتم گزیدہ ہے۔۔۔
غاروں سے نکلے گا، سڑکوں پہ گھومے گا
اور شہر کے باسیوں کو
جو (شب گرد ہیں) اپنے کالے پروں میں دبوچے گا ۔۔
کھا جائے گا!

 

آؤ، واپس گھروں کی طرف رُخ کریں
بند کمروں میں سیلن ہے، بُو ہے، گھٹن ہے
مگر عافیت ہے!

Image: Magdalena Abakanowicz