شاعری زمین کا پھول ہے

شاعری زمین کا پھول ہے
شاعری زمین کا پھول ہے
آسمانوں پر رہنے والے
شاعر نہیں ہوتے
آسمانوں میں کیا ہے
نہ ہوا نہ مٹی
نہ دھوپ نہ پانی
آسمانوں کے پاس جو تھوڑی بہت خاک تھی
جب اسے گارا بنایا گیا
اور اس میں روح پھونکی گئی
تو اس پر محبت کے پھول
اور ذائقوں کے پھل آنے لگے
اور وہ بود و باش کے لیے زمین تلاش کرنے لگی
مٹی کو آخر کار مٹی میں پناہ ملتی ہے
آسمان اسے قبول نہیں کرتا
آسمان پر روحیں ہوتی ہیں
جسم نہیں
اور شاعری کے لیے
جسم ضروری ہے
شاعری فرشتوں پر نہیں انسانوں پر اترتی ہے!