سر سید باپ بیٹا والداولاد تاریخ
Category: شاعری
تم پوچھتے ہو کہ میرا باپ کون ہے؟
سر سید میرا باپ ہے
سراج منیر تو غلام نسلوں کی
بغاوتوں کے
آخری لشکروں کا سپاہی تھا
اس سے میرا کوئی واسطہ نہیں ہے
میں اس کی اولاد ضرور ہوں
میں اس کا بیٹا نہیں ہوں
سر سید میرا باپ ہے
سراج منیر تو غلام نسلوں کی
بغاوتوں کے
آخری لشکروں کا سپاہی تھا
اس سے میرا کوئی واسطہ نہیں ہے
میں اس کی اولاد ضرور ہوں
میں اس کا بیٹا نہیں ہوں
گو میری چمڑی
سڑی ہوئی گندم جیسی ہے
مگر سفید فام، موٹے خداؤں کی قسم لے لو
میری روح سفید ہے
میری سوچ سفید ہے
میرا لفظ بھی سفید ہے
مجھے ادھیڑ کر دیکھو
میرا خون بھی سفید ہے
سڑی ہوئی گندم جیسی ہے
مگر سفید فام، موٹے خداؤں کی قسم لے لو
میری روح سفید ہے
میری سوچ سفید ہے
میرا لفظ بھی سفید ہے
مجھے ادھیڑ کر دیکھو
میرا خون بھی سفید ہے
سر سید کی نسل میں سے ہوں
میں چہرے پر چونا مل کر
اپنی تاریخ کو چونا لگا رہا ہوں
میں اپنے والد کی قبر پر کھڑا ہو کر
اپنی اولاد کو زنجیر ڈال رہا ہوں
کل اسی زنجیر کو دیکھ کر لوگ اس کو
سلام کریں گے
اس کی انگریزی سوچوں کے رعب میں آکر
اپنی نیندیں
اور اپنی اولادیں
حرام کریں گے
یہ شہنشاہِ وقت، صاحب بہادر، قبلہ امریکہ
جو یورپ دیوی کا
اور اس کی پانچ چھ صدیوں کی طویل رات کے کرب و اضطراب کا
ناجائز بیٹا ہے
یہ زنجیر مجھے اس نے دی ہے
کہ میں اپنی اولاد کو پہنا کر
اسے آزاد کر سکوں
مجھ سے میری اولاد کی خوشی نہیں دیکھی جاتی
میں چہرے پر چونا مل کر
اپنی تاریخ کو چونا لگا رہا ہوں
میں اپنے والد کی قبر پر کھڑا ہو کر
اپنی اولاد کو زنجیر ڈال رہا ہوں
کل اسی زنجیر کو دیکھ کر لوگ اس کو
سلام کریں گے
اس کی انگریزی سوچوں کے رعب میں آکر
اپنی نیندیں
اور اپنی اولادیں
حرام کریں گے
یہ شہنشاہِ وقت، صاحب بہادر، قبلہ امریکہ
جو یورپ دیوی کا
اور اس کی پانچ چھ صدیوں کی طویل رات کے کرب و اضطراب کا
ناجائز بیٹا ہے
یہ زنجیر مجھے اس نے دی ہے
کہ میں اپنی اولاد کو پہنا کر
اسے آزاد کر سکوں
مجھ سے میری اولاد کی خوشی نہیں دیکھی جاتی
کاش مجھ میں ابراہیمی روح ہوتی
اور خدا کے پاس
مینڈھے ختم ہو جاتے
مگر میں بزدل ہوں
بزدل تو میری اولاد بھی ہے
چھری تو اس کے ہاتھ میں بھی ہے
گردن میری بھی انتظار میں ہے
وہ میری سڑی ہوئی گندمی چمڑی کے پیچھے
میری شرمندہ سفیدی دیکھ رہا ہے
اسکو بھی پتا ہے میں نے
اپنی تاریخ کو خاموشی کے مقدمے میں
لپیٹ کر
اپنے والد کی قبر میں
اسکی سڑی ہوئی روح کے ساتھ
پھینک دیا تھا
میرا والد بہادر آدمی تھا
اس کو اپنی اولاد اور اسکی اولاد کی طرح
کانپنا نہیں آتا تھا
اسی لیے میں نے
ایسا باپ بنایا ہے
جو کانپتا رہا ہمیشہ
اور خدا کے پاس
مینڈھے ختم ہو جاتے
مگر میں بزدل ہوں
بزدل تو میری اولاد بھی ہے
چھری تو اس کے ہاتھ میں بھی ہے
گردن میری بھی انتظار میں ہے
وہ میری سڑی ہوئی گندمی چمڑی کے پیچھے
میری شرمندہ سفیدی دیکھ رہا ہے
اسکو بھی پتا ہے میں نے
اپنی تاریخ کو خاموشی کے مقدمے میں
لپیٹ کر
اپنے والد کی قبر میں
اسکی سڑی ہوئی روح کے ساتھ
پھینک دیا تھا
میرا والد بہادر آدمی تھا
اس کو اپنی اولاد اور اسکی اولاد کی طرح
کانپنا نہیں آتا تھا
اسی لیے میں نے
ایسا باپ بنایا ہے
جو کانپتا رہا ہمیشہ
اب میں
سر سید کے مقبرے پر جا کر
بلکہ ان کے ٹومب پر جا کر
باپ باپ کرتا ہوں
...
سر سید کے مقبرے پر جا کر
بلکہ ان کے ٹومب پر جا کر
باپ باپ کرتا ہوں
...