خدا نظموں کی کتاب ہے

خدا نظموں کی کتاب ہے
نظمیں لکھتے ہوئے
میں نے ان گنت کاغذی دیپ جلائے
جگنووں کو لفظوں کی مٹھیوں میں ادھ موا کر دیا
کئی چاند درختوں پر الٹے لٹکا دیے
اور رات بھی اتنی لکھی
کہ پہلی سے آخری سطر تک ہر نظم سیاہی میں لتھڑ گئی
لیکن میں کسی نظم میں ستارہ نہیں لکھ سکا
ستارے خدا کی ملکیت ہیں
اور خدا اپنی جائیداد کسی کو منتقل نہیں کرتا
زمین تو اسے مجبوراً انسان کے حوالے کرنا پڑی
ورنہ انسان جنت کو بھی خود کش دھماکے سے اڑا دیتا
خدا ان پڑھ ہے
نظم لکھ سکتا ہے نہ پڑھ سکتا ہے
لیکن خود اتنی بڑی نظم ہے
کہ انکاری دلوں کو بھی ازبر ہے
خدا نظموں کی کتاب ہے
اور ہر علم کا منبع ہے
خدا نے مجھے کئی بار کہا
چھوڑو شاعری
اور کائنات کی دائمی خاموشی بن جاؤ
نہیں تو
زمین کے ایک حصے پر پھیلی ہوئی رات بن جاؤ
کم از کم نظم کو
اپنے اندر سے طلوع ہوتے تو دیکھ سکو گے
یوں تو خدا کو سب کچھ معلوم ہے
لیکن وہ ایک چھوٹی سی بات کیوں نہیں جانتا
کہ روشنی کے بھوکے لوگ
نظموں سے ستاروں بھری رات چوری کر لیتے ہیں!