تم مجھے پڑھ سکتے ہو
Category: شاعری

زبان
غیر اعلانیہ
قید بامشقت کاٹ رہی ہے
کانوں نے
سنا ان سنا
آنکھوں نے
دیکھا ان دیکھا
کرنے کی عادت ڈال لی ہے
دل نے
ایک تیز چاقو
اپنے اندر دبا رکھا ہے
یہ دن
نظمیں لکھ لکھ کر
کسی کو نہ سنانے کے ہیں
غیر اعلانیہ
قید بامشقت کاٹ رہی ہے
کانوں نے
سنا ان سنا
آنکھوں نے
دیکھا ان دیکھا
کرنے کی عادت ڈال لی ہے
دل نے
ایک تیز چاقو
اپنے اندر دبا رکھا ہے
یہ دن
نظمیں لکھ لکھ کر
کسی کو نہ سنانے کے ہیں
پھر بھی تم
مجھے پڑھ سکتے ہو
جو لکیریں میں کاغذ پر نہیں کھینچ سکتا
میرے جسم پر ابھر آتی ہیں
مجھے پڑھ سکتے ہو
جو لکیریں میں کاغذ پر نہیں کھینچ سکتا
میرے جسم پر ابھر آتی ہیں