بندوق کے نمازی

بندوق کے نمازی
ان کی بغلوں سے خدا نکلتے ہیں
عورتیں ۔۔۔۔
انہیں گنا ہوں کی طرح پھینک جاتی ہیں
بے نشان سڑکو ں پر
یہ جزا کے پھول نہیں سونگھ سکتے
ان میں سے ہر ایک کے اندر ایک جرگہ ہے
جہاں کلہاڑی کے وار سے لکھا ہوا
"سزائے موت"
آ گے پیچھے کچھ نہیں ہے
کوئی تصویر ان کے چہرے نہیں کھینچ سکتی
ان کی آ نکھیں۔۔۔۔۔
اس جرم سے ملتی ہیں
جو کسی عورت نے پہلی رات کیا تھا !!