ایک پاگل شہر میں ہذیانی بڑبڑاہٹ

ایک پاگل شہر میں ہذیانی بڑبڑاہٹ
اُس نے زمین کی انگلیاں گن لیں اور آسمان کی ناف کھود لی
اب اُسے کیکڑے کی آنکھوں پر چشمہ درست کرنا ہے
لیکن اُس کے لمبے نوکیلے ناخن
ٹوٹ کر
تاریک سمندر میں کشتیوں کی طرح تیر رہے ہیں

 

کیکڑوں کی شعلہ بار آنکھوں کے سامنے
وہ زمین سے کچھ انگلیاں ادھار مانگ رہا ہے
مگر زمین کو اپنی کوکھ کے ستر کی فکر ہے
وہ اُسے اپنی کوئی انگلی قرض نہیں دے گی

 

آسمان کی کھدی ہوئی ناف سے سبز شہد
اوربانچھوں سے جمع شدہ رال
سیال آگ کی طرح
ٹپک رہی ہے

 

اُسے عجلت سے کام لینا ہوگا
ورنہ کیکڑے اُسے بھون کر کھا جائیں گے
اور سبز شہد ملی ہوئی رال
سبھی جانگیے جھلسا دے گی

Image: