اندھیرے کا گیت

اندھیرے کا گیت
اندھیرے کی بارش ہوتی ہے
اور ہم اپنے لئے
ایک روشن خواب کی پناہ مانگتے ہیں
اور نہیں جانتے
کہ مصور کے رنگوں میں اتر کر
رات نیلی کیوں ہو جاتی ہے

 

اندھیرا روشنی کی آہٹ پاتے ہی غائب ہو جاتا ہے
کونوں کھدروں اور سوراخوں میں گُھس جاتا ہے
بعض سوراخ تو روحوں کے آر پار ہوتے ہیں
جن میں سے گزر کر
اندھیرا دوسری جانب جا نکلتا ہے
کیا دوسری جانب بھی اندھیرا ہے
یا وہاں بھی اسی طرح
کسی بڑے چھید کی اتھاہ گہرائی میں
ایک روشنی کا گماں
دوسرے گمان میں گم ہوتا رہتا ہے
کیا وہاں بھی
ایک تاریکی دوسری تاریکی سے
اسی طرح لذت کشید کرتی ہے
جس طرح ہم
اپنی اداسی سے لطف اندوز ہوتے ہیں
اور خود لذتی میں سرشار رہتے ہیں
اور عظیم شاعری کے جال میں الجھ کر
لفظوں کی بچی کھچی پونجی بھی ضائع کر بیٹھتے ہیں

 

روحوں کے چھید
لمحہ بہ لمحہ بڑھتے رہتے ہیں
اور زندگی دن اور رات کے درمیان
رینگتے ، لہراتے سایوں کی طرح
ایک جانب سے دوسری جانب
دوسری سے تیسری ۔۔۔۔۔۔ تیسری سے چوتھی
چوتھی سے پانچویں اور پھر ۔۔۔۔۔۔ شش جہت
اور اسی طرح لامتناہی ابعاد میں
خاموشی سے گھٹنوں کے بل چلتی رہتی ہے
ایک بِل سے دوسرے بِل میں
کائنات کے ایک کونے سے دوسرے کونے کی طرف
یہاں تک کہ روحیں بلبلا اٹھتی ہیں

 

اور اُدھر خدا کے بے ستون آسمانی محلات میں
اندھیرا روشن ستاروں کے آس پاس منڈلاتا رہتا ہے
اور موقع پاتے ہی وار کرتا ہے
اور اُن زمینوں تک جا پہنچتا ہے
جہاں دلوں کی کاشت کاری ہوتی ہے
اور دماغوں کے پھول کھلتے ہیں!!

Image: Zdzislaw Beksinski